PDA

View Full Version : میری اپنی بھولی بسری یادیں،!!! میرا بچپن-1


عبدالرحمن سید
28-01-10, 05:17 PM
مجھے دراصل بچپن سے ھی ادب اور آرٹ کا جنون کی حد تک شوقین تھا اور یہ شوق مجھے راولپنڈی کے کینٹ پبلک اسکول، صدر سے شروع ھوا جہاں پر میں نے پرائمری تعلیم حاصل کی تھی اور میں اس اسکول کو کبھی نہیں بھول سکتا ھوں، جہاں میرا یہ شوق پروان چڑھا - یہ1955 سے 1958کا زمانہ تھا-اسکی چند مخصوص وجوھات بھی تھیں کاش کہ ھمارے تمام تعلیمی ادارے بھی ان ھی خصوصیات کے حامل ھوتے

- سب سے پہلے تو مین یہ کہونگا کہ جتنے بھی وھاں استاد اور منتظمین تھے سب کے سب تجربہ کار اور پرخلوص تھے اور انہیں یہ اچھی طرح علم تھا کہ بچوں کی بنیادی تربیت کیسی ھونی چاھئے -

- اس وقت کے لحاظ سے اتنے اعلیٰ ذوق رکھنے والے استاد شاید ھی کہیں خوابوں میں ملیں، یہ احساس مجھے بعد میں بڑی کلاسوں میں جانے کے بعد ھوا ، کیونکہ اس وقت 5 سے 8 سال کی عمر تک کے بچوں کو اتنا شعور کہاں ھوتا ھے، جو اچھے برے میں کوئی تمیز کر سکیں، پھر اتنی عمر کے بچوں کا مستقبل بھی تو صرف استادوں اور والدیں کے ھاتھوں میں ھوتا ھے -

میں یہ بتا رھا تھا بچوں کی ابتدائی تعلیم کے بارے میں اور میری یہ خوش قسمتی تھی کہ میری ابتدائی تعلیم ایک اچھے تعلیمی ادارے سے شروع ھوئی،

کبھی کڑاکے کی سردی اور کبھی شدید گرمیوں کی تپش، میں اس سے بےخبر روزانہ گلے میں بستہ ٹانگے ھاتھ میں لکڑی کی تختی اٹھائے،صبح سویرے ناشتہ کرکے چھوٹی بہن کا ھاتھ پکڑے، اپنے اسکول کی طرف پیدل جانا میرا یہ روز کا معمول تھا - اسکول سے واپسی بھی اسی انداز سے رھتی تھی - اور روز پیدل تقریباً 6 یا 7 کلو میٹر کا آنا جانا رھتا تھا -

گھر پر دوپہر کا کھانا کھا کر کچھ دیر آرام کرنے کے بعد اسکول کے گھر کا کام کیا اور ھم اپنے والد صاحب کا انتظار بہت بےچینی سے کرتے رھتے تھے، کہ وہ ھمیں کب باھر گھومانے لے جائیں کیونکہ وہ ھمیں بلا ناغہ روزانہ دفتر سے واپس آکر کچھ دیر آرام کرنے کے بعد ھمیں پیدل گھومانے ریس کورس گراونڈ میں گھومانے لے جاتے تھےجو کہ گھر سے بہت قریب تھا، اس دوراں والدہ صاحبہ کھانے وغیرہ کی تیاری کرتیں اور ھمیں والد صاحب مغرب کی نماز سے پہلے واپس گھر لےآتے، نماز سے فارغ ھو کر ھمیں کچھ پڑھاتے اور اسکول کا کام دیکھتے -
اسی اثناء مین عشاء کی نماز کا وقت ھو جاتا، والد صاحب تو عشاء کی نماز پڑھنے باھر چلے جاتے اور ھم بہن بھائی کچھ دیر اپتی والدہ کے ساتھ خوب لاڈ پیار کرتے اور والدہ بھی ھمارے ساتھ خوب ہنستی بولتی، کھیلتی رھتیں اور بعد میں جیسے ھی والد صاحب عشاء کی نماز پڑھکر واپس آتے، والدہ فوراً دستر خوان لگاتیں اور کھانے کے بعد والد اور والدہ ھماری ضد کرنے پر روزانہ کہانی سناتے اور ھمیں پتہ ھی نہ چلتا کہ کب ھم سو گئے صبح ھو نے پر والدہ ھمیں اُٹھاتیں اسکول جانے کے لئے، اور روز کی طرح پھر زندگی اسی طرح رواں دواں رھتی -
وہ ماں کا دُولار اور لاڈ پیار جب بھی یاد آتا ھے تو آنکھوں میں آنسو آجاتے ھین، وہ بچپن کی ھماری معصومیت اور ماں کا گلے لگانا، کھیلنا مسکرانا ھمارے پیچھے بھاگنا وہ کیا دن تھے، جب بھی وہ دن یاد آتے ھیں کلیجہ منہ کو آتا ھے،

آج میری والدہ جو اب کافی ضعیف ھیں، وہ کراچی میں اپنے گھر میں مجھ سے چھوٹے اور منجھلے بھائی اور انکے بیوی بچوں کے ساتھ ھیں، اور میں اور سب سے چھوٹا بھائی اپنی فیملی کے ساتھ پردیس میں ھیں، اور اپنی والدہ کی خدمت کیا کریں بس ٹیلیفوں پر گفتگو کر لیتے ھیں، ایک دفعہ عمرے کی سعادت آنہیں حاصل ھوئی، مگر حج وہ نہیں کر سکیں کیونکہ انکا کہنا یہ تھا کہ جب تک آنکی سب سے چھوٹی بیٹی یعنی میرے چھوٹی بہں کی شادی نہیں ھو جاتی، اس وقت تک وہ حج نہیں کر سکتیں-
بہن کی شادی پچھلے سال نومبر میں ھو گئی - اب انشااللٌہ انہیں ھم دونوں بھائی انہیں اس سال حج کرانے کا ارادہ ھے اللٌہ تعالیٰ ھمیں انکی خدمت کا موقع دے، آمین-

اب میں یہ سوچتا ھوں کہ میں کتنے عر صہ سے باھر ھوں، کیا میں نے اپنی ماں کے ساتھ انصاف کیا، ھر سال چھٹی جانے سے یا کچھ پیسے ان کے ھاتھ میں رکھنے کیا میرا فرض پورا ھوگیا، جبکہ والد صاحب کو بھی گزرے ھوئے بھی 17 سال بیت چکے ھیں، اور اتنا بدقسمت ھوں ان کے جنازے کو کاندھا بھی نہ دے سکا کیونکہ میں اس وقت 1990 میں جدہ میں تھا اور مجھے والد کی انتقال کی خبر گھر والوں نے نہیں دی تھی، اور دوسروں کو منع بھی کیا ھوا تھا اس کی ایک وجہ یہ تھی کہ والد صاحب اور میں ایک دوسرے کو بہت چاھتے تھے اور دوسرے 12 دن ھی ھوئے تھے پاکستاں سے آکر اور میرے بچے اس وقت پاکستان میں تھے آج تک مجھے اس بات کا دکھ ھے-

ان تمام باتوں کے باوجود بھی میری والدہ مجھ سمیت تمام بہن بھائیوں اور انکے تمام بچوں سے بہت محبت کرتی ھیں، جب بھی میں اپنی فیملی کے ساتھ چھٹی پاکستان جاتا ھوں، وہ مجھے اور میرے بچوں کو گلے لگا کر خوب روتی ھیں ، میری کوشش یہی ھوتی ھے کہ زیادہ تر وقت ان کے ساتھ گزاروں،
ان کے ساتھ رہ کر مجھے وہ اپنے تمام بچپن کی باتیں یاد آجاتی وہ اُن کا لاڈ کرنا گلے سے لگانا، ھمارے ساتھ گھر میں کھیلنا ھمارے پیچھے پیچھے بھاگنا کبھی ھم میں سے کوئی بیمار ھوجائے تو ساری ساری رات انکا جاگنا، بس یہ سب آنکھیں بند کئے سوچتا رھتا ھوں -

میں بس چھٹیوں میں ان کو دیکھتا ھی رھتا ھوں، ساتھ بچپن کی باتیں اُن سے پوچھتا بھی رھتا اور ساتھ اپنے بچپن کی تصویریں بھی دیکھتا رھتا ھوں جو انہوں نے سنبھال کر رکھی ھوئی ھیں، کئی باتیں میرے بچپن کی مجھے خود انکی زبانی ھی پتہ چلی ھیں اور پھر تمام بچپن کی باتیں ذہن میں ایک فلم کی طرح گھوتی رھتی ھیں
والدین کی خدمت جتنی بھی کی جائے کم ھے یہ احساس ھمیں اس وقت ھوتا ھے کہ جب ھمارے بچے بڑے ھو کر ھماری باتوں کو اور نصیحتوں کو رد کردیتے ھیں -!!!!!!!

بچپن، لڑکپں، جوانی اور بڑھاپا، انسان ان ھی تمام ادوار سے گزرتا ھوا اپنی آخری منزل کی طرف بڑھتا ھے،!!!!

- بچپن گھر کے حوالے
- لڑکپں باھر کے حوالے
- جوانی خود کے حوالے
- بڑھاپا اللٌہ کے حوالے

میری کوشش یہی ھوگی کہ ھر ایک دور کو انکے تمام مثبت اور منفی حقائق سے روشناس کراؤں، جن سے ماضی میں خود دو چار ھوا ھوں -
ویسے یہ بہت مشکل ھے کہ اپنے گزرے ھوئے کل کو سامنے لانا، خاص طور سے منفی پہلو کو -

اکثر ھم اپنی بری عادتوں اور نقصانات سے پردہ نہیں اٹھاتے، جو کہ بالکل غلط ھے کم از کم ھمیں ان اپنی تمام برائیوں اور نقصانات سے لوگوں کے علم میں لانا چاھئے تاکہ جو تکلیفیں آپ نے ان برائیوں اور نقصانات سے اٹھائی ھیں، دوسرے لوگ ان سے بچیں اور خسارہ نہ اٹھائیں -

ھاں تو دوستوں بات ھو رھی تھی بچپن کی معصومیت کی، اس دور میں ھر ایک کا بچپن دوسروں کے رحم و کرم پر ھوتا ھے، چاھے تو اسے بگاڑ دیں چاھے تو سنوار دیں-

ھم سب کا یہ فرض ھے کہ ھر کسی کے بچپن کی معصومیت سے نہ کھیلیں بلکہ اپنا فرض سمجھتے ھوئے ان کی تربیت ایک اچھے ماحول میں ترتیب دے کر ان کے مستقبل کو بہتر سے بہتر بنانے کی کوشش کریں، کیونکہ آج کے یہ معصوم کل کے ھمارے ملک کا روشن مستقبل ھیں،!!!!!!

میں اپنے بچپن کی کچھ یادداشت کے حوالے سے خود پر گزرے ھوئے اصل حقائق کی روشنی میں چند اھم نکات کو پیش کرنے کی کوشش کررھا ھوں - تاکہ پڑھنے والوں کو صحیح حقیقت کا علم ھو اور وہ اپنی سمجھ کے مطابق بہتر سے بہتر کوشش اپنی آنے والی نئی نسلوں کی تربیت کیلئے کرسکیں -

میں نے گذشتہ باب میں اپنے پرائمری اسکول کے بارے میں تحریر کیا تھا، جو ایک واقعی مثالی اسکول تھا وھاں میں نے اپنے بچپن کے تین سال بہت ھی ایک منظم اور صحیح تربیت کے دائرے میں گزارے، جسکا فائدہ مجھے اپنے ھر اچھے برے دور میں ھوا -

وہاں اسلامی تعلیمات کے لیے روزانہ ایک مخصوص پیریڈ ھوا کرتا تھا، جس میں قران کی تعلیم بہت عمدہ طریقے سے بمعہ ترجمہ اور تفسیر کے دی جاتی تھی، جو قرآنی سورتیں مجھے اب تک یاد ھیں یہ وھیں کی عنایت ھے، اس کے علاوہ سیرت نبوی اور تمام اسلامی اصولوں کو اتنے خوبصورت طریقوں سے ھر بچے کے ذہن میں اس طرح بٹھادیا جاتا تھا کہ شاید ھی کوئی بھول سکے-

دوسرے اس اسکول میں پانچویں جماعت تک لکڑی کی تختی پر لکڑی کے قلم سے اردو رسم الخط کی تربیت دیتے تھے - اور ھر کام کالی سلیٹ پر بچے چاک سے لکھا کرتے، اس کے علاوہ انگلش کے لئے چار لائنوں والی کاپی پر پنسل سے پریکٹس کرائی جاتی تھی، وھاں پر پانچویں جماعت تک کوئی فاونٹین پین استعمال کرنے کی اجازت نہیں تھی- اور حساب کے کام کیلئے بھی صرف اور صرف پنسل ھی کی اجازت تھی -

تیسری خصوصیت جو سب سے اچھی یہ تھی کہ روزانہ اسمبلی کے دوران ھر کلاس کے بچوں کے ھاتھ کے ناخونوں، بالوں کو، لباس کو اور جوتے تک بہت سختی سے چیک کئے جاتے تھے، اگر کسی بچے میں کوئی بھی ذرہ سی بھی چیکنگ کے دوران غلطی پائی گئی تو فوراً لائن سے نکال دیا جاتا تھا اور سب کے سامنے اسی وقت غلطی کے مناسبت سے سزا ملتی تھی اور ایسا بہت کم ھوتا تھا، کیونکہ ھر بچہ گھر سے مکمل طور سے تیار ھو کر آتا کرتا اور اس میں والدیں خود بچے کو تمام تیاریوں کے ساتھ بچوں کو صاف ستھرائی کے ساتھ اسکول میں بھیجا کرتے تھے اور بچوں کو بھی فکر رھتی تھی-

چوتھی بات بچوں کی صحت کے اعتبار سے ھر کلاس کا ایک الگ سے پی ٹی کا بھی پیریڈ لازمی تھا، جہاں بچوں کو ورزش کی تربیت دی جاتی تھی، اور سکھانے والے بہترین ماھرین چنے ھوئے تھے، اور بہت سے کھیلوں کی تربیت بھی دی جاتی تھی جن سے بچے بھی خوشی سے سالانہ کھیلوں میں حصہ بھی لیتے تھے-

ایک اور خوبی ان استادوں میں یہ تھی کہ وہ خود بھی باقاعدہ ڈسپلین کی پابندی کرتے تھے میں نے کبھی انھیں آپس میں بیہودہ مذاق یا گالی گلوچ کرتے نہیں پایا اور اس کے علاوہ کبھی اسکول کے احاطے میں یا کلاس روم میں سگریٹ پیتے ھوئے نہیں دیکھا،

اب آپ یہ بتائیے کہ کیا اب ھمارے بچوں کی بنیادی تعلیم کیلئے کیا یہ تمام خصوصیات ھمارے بچوں کے اسکولوں میں موجود ھیں، کیا ھمارے بچون کے اُستاد حضرات ان اصولوں پر گامزن ھیں ؟؟؟؟؟؟؟؟

1958 میں اس اسکول کو مجھے مجبوراً الوداع کہنا پڑا، کیونکہ والد صاحب کا تبادلہ کراچی ھوچکا تھا، اس اسکول کو چھوڑتے وقت مجھے یاد ھے کہ بہت دکھ ھوا تھا، جبکہ میری عمر صرف 8 سال کے لگ بھگ تھی اور آج تک مجھے اس کا بہت ملال ھے، کیونکہ اسکے بعد مجھے ایسے اسکول کا ماحول نہیں مل سکا -

اُس وقت کے دور میں اتنی سہولتیں تو نہیں تھیں لیکن لوگوں کے پاس دوسروں کے لئے وقت تھا اپنی ھر دکھ تکلیف ایک دوسرے کے ساتھ شیئر کرتے تھے، اور ایک دوسرے کے کام آتے تھے-

وہ سادہ سی، قناعت پسند اور پرسکون زندگی جہاں پر ایک محدود اپنی ضروریات تھیں - اور زندگی بہت خوش و خرم سے گزری رھی تھی،!!!!!!
__________________
جاری ھے،!!!!

عبدالرحمن سید
28-01-10, 06:27 PM
1958میں اس اسکول کو مجھے مجبوراً الوداع کہنا پڑا، کیونکہ والد صاحب کا تبادلہ کراچی ھوچکا تھا، اس اسکول کو چھوڑتے وقت مجھے یاد ھے کہ بہت دکھ ھوا تھا، جبکہ میری عمر صرف 8 سال کے لگ بھگ تھی اور آج تک مجھے اس کا بہت ملال ھے، کیونکہ اسکے بعد مجھے ایسے اسکول کا ماحول نہیں مل سکا -

تیزگام اپنی منزل کی طرف تیزی سے رواں دواں تھی اور میں ٹرین کی کھڑکی کے پاس بیٹھا، باھر سامنے کے مناظر کو بہت تیزی کے ساتھ مخالف سمت کی طرف بھاگتے ھوئے بڑے انہماک سے دیکھ رھا تھا، عمر تقریباً آٹھ برس کے لگ بھگ ھوگی، ویسے بھی مجھے، کوئی بھی سواری ھو بس ھو کوئی کار یا ٹیکسی یا پھر کوئی گھوڑا گاڑی ھی کیوں نہ ھو ھمیشہ ایک کنارے بیٹھنے کا شوق رھا ھے، کیونکہ مجھے شروع بچپن سے ھی سفر کے دوران باھر کا منظر دل کو بہت اچھا لگتا تھا اور یہ ھمیشہ خواہش رھی کہ یہ سفر کبھی ختم نہ ھو، جو اب تک قائم ھے، اور اب تک سفر میں ھی ھوں -پہلے تو والدیں سے ضد کرکے ایک کونا پکڑ کر بیٹھا کرتا تھا اور اب درخواست کرکے کونے کی سیٹ لینے کی کوشش کرتا ھوں، کھڑکی کے پاس بیٹھنے کا ایک الگ ھی مزا ھے، کیونکہ اس سے چاھے کوئی بھی سواری ھو، اندر کے ماحول سے نکل کر انسان باھر کی دنیا میں گم ھو جاتا ھے، ایسا لگتا ھے کہ ھم بھی باھر کا ایک حصہ ھیں، شاید سب لوگ بھی میری طرح ایسا ھی سوچتے ھوں گے -

ایک بات کا تو میں یہاں ذکر ضرور کرونگا کہ میری اللٌہ تعالیٰ نےدیر یا سویر لیکن تقریباً تمام خواہشات کو پورا ضرور کیا، اور مجھے اس کا تو مکمل یقین ھے کہ اگر آپ نیک نیتی سے کوئی دل سےخواھش کریں تو اس کی تعبیر حقیقت میں ضرور ملتی ھے -

اس وقت تیزگام سے راولپنڈی سے کراچی کا سفر تقریباً 24 سے 25 گھنٹے میں مکمل ھوتا تھا، والدین کی زبانی مجھے معلوم ھوا کہ ٹرین کا میرا یہ پانچواں سفر ھے، کیونکہ والد صاحب کا ھر دو تین سال بعد تبادلہ ضرور ھوتا رھتا تھا، کراچی اور راولپنڈی کے درمیان، پچھلے سفر کا کچھ کچھ دھندلا سا یاد ھے شاید 5 سال کی عمر ھوگی اور کراچی کا اپنا گھر بھی ھلکا ھلکا ذہن میں خاکہ بھی ھے،!!!!!

خیر بات ھورھی تھی اپنے تیزگام کے سفر کی، ھر سفر میں ھر مختلف موسموں کا لطف اٹھانے کو بھی ملا، سرسبز لہلہاتے کھیت خاص طور سے گندم اور مکئی کے سرسبز شاداب کھیت، تو کبھی پیلے پیلے سرسوں کے لہراتے ھوئے کھیت، کبھی کبھی فصلوں کی کٹائی کے وقت سب مردوں، عورتوں اور بچوں، چھوٹے بڑوں کو دیکھ کر اتنی خوشی ھوتی تھی کہ میں بتا نہیں سکتا، اکثر وہ ٹرین کو دیکھ ھاتھ ہلاتے، تو میں بھی خوشی سے ھلاتا، ایسا لگتا جیسے وہ مجھے الوداع کہہ رھے ھوں اس وعدے پر کہ میں دوبارہ واپس آؤں، وہ سب مجھے اپنے سے لگتے تھے،!!!!!

میں ھمیشہ اسی انتطار ھی میں رھتا تھا کہ دوبارہ ٹرین کا سفر کب ھوگا کیونکہ سرسبز کھیتوں کے علاوہ اور بھی کئی چیزیں مجھے بار بار یاد آتی تھین، موسمبی مالٹے سنگتروں کے باغات جب سامنے سے گزرتے تو دل چاھتا تھا کہ کود جاؤں اور باغوں میں جاکر خوب کھیلوں اور موسمبیوں مالٹوں کو توڑ توڑ کر کھاؤں، اس کے علاوہ دریاؤں اور انکے پلوں پر سے گزرتے ھوئے ایک عجیب سی خوشی محسوس ھوتی تھی اور ٹرین کی ایک مخصوص آواز کھٹ کھٹا کھٹ مختلف جگہاؤں پر اپنی مخصوص آوازوں کے سر بدل دیتی تھی کھیتوں میں ایک الگ آواز، دریاؤں کے پلوں پر کوئی اور طرز، اور شہروں کے بیچ میں سے گزرتی ھوئی ایک نئے سروں میں سیٹی بجاتی شور مچاتی گزر رھی ھوتی تھی - کیا خوبصورت لگتا تھا کبھی کبھی تو ایک خوف سا بھی لگتا تھا جب ھماری ٹرین کسی سرنگ میں سے گزر رھی ھوتی تھی، ایک دم اندھیرا ھو جانا، اور ٹرین کی آواز میں بھی ایک ھلکا سا ڈراونی تاثر، ساتھ ھلکی سی لایٹ بھی کمپارٹمنٹ میں آن ھو جاتی، اور سب کے چہرے ایک عجیب سا ڈرا ڈرا سا ماحول بن جاتے، اور میں پھر بھی اس ماحول میں ھلکے خوف کے ساتھ لطف اندوز بھی ھوتا رہتا -

اس وقت تیزگام صرف بڑے بڑے اسٹیشن پر ھی رکا کرتی تھی، مجھ پر وہاں کے مختلف حاکروں اور قلیوں کی آوازیں بھی ایک خوشی کا تاثر چھوڑتی تھیں، چاھے رات کا وقت ھو یا دن کی روشنی ھو ھر وقت ٹرین کے رکتے رکتے وھی ایک ھی قسم کی آوازیں شروع ھوجاتیں -

کبھی “ چائے گرم “ تو ساتھ ھی “ کھانا گرم“ اور کبھی“ آلو چنے کی چاٹ“ کسی اسٹیشن پر “ملتانی حافظ جی کا سوہن حلوہ“ تو کہیں “حیدراباد کی چوڑیاں“ اور گرمیوں میں “ ٹھنڈی بوتل “ تو کبھی “لسی اور دودھ کی بوتلیں“ بھی لوگ بیچتے نظر آتے، میرا دل تو بہت چاھتا تھا کہ یہ چیزیں خرید کر کھاؤں لیکن والد صاحب کی ڈانٹ کی وجہ سے مجبور تھا، بس وہ ھمیشہ گھر سے ساتھ لائی ھوئی چیزوں پر ھی گزارا کرتے- اور کبھی بھی مجھے اسٹیشن پر اترنے بھی نہیں دیا - مگر یہ سارے شوق بعد میں ضرور پورے کئے جب کچھ بڑ ا ھوا اور دوستوں کے ساتھ ٹرین میں سفر کی اجازت ملی،!!!!!!

گھر کی بنائی ھوئی چیزوں میں زیادہ تر قیمہ، پراٹھے اور اچار یا چٹنی دوپہر یا رات کے کھانے کیلئے اور چھوٹے بہن بھائی کیلئے علیحٰدہ سے دودھ اور ان کے مطلب کی چیزوں کا بھی انتظام ھوتا تھا، اس کے علاوہ جب کبھی میں باھر کی چیزوں کیلئے ضد کرتا یا پھر والد صاحب کی فرمائش پر، کچھ پھل، چیوڑہ دال سیو اور خشک میوہ جات راستہ بھر میں والدہ اپنی ایک ٹوکری سے وقفے وقفے سے نکالتی رھتیں مگر مجھے کبھی بھی باھر کی چیزیں کھانے نہیں دیتے تھے،!!!!!!

تیزگام سندھ کے صحراؤں کو عبور کرتی ھوئی اپنی مخصوص سروں میں سیٹیاں بجاتی ھوئی کھٹ کھٹا کھٹ بہت تیزی کے ساتھ اپنی منزل کی طرف رواں دواں تھی - دوسرے دن کی روشنی چاروں طرف پھیل چکی تھی،
چلتی ٹرین میں منہ ھاتھ دھونا بہت مشکل ھوتا ھے لیکن والد کسی نہ کسی طرح سے منہ ھاتھ دھلوا ھی دیا، پھر ڈبل روٹی اور شاید مکھن یا جام وغیرہ سے ناشتہ کرکے فارغ ھوئے ، کسی اسٹیشن سے والد صاحب نے کیتلی میں چائے بھروا لی تھی، اور شاید دودھ بھی ایک بڑے گلاس میں ٌلے چکے تھے، جو ھم چھوٹے بہن بھائیوں کیلئے تھا -

میں یہ بالکل نہیں چاہتا تھا کہ اس تیزگام کا سفر کبھی ختم ھو، والد صاحب کی زبانی ھی پتہ چلا کہ اب ھم کراچی پہتچنے والے ھیں، کراچی کے کینٹ اسٹیشن کے نزدیک پہنچنے سیے پہلے ٹرین کی رفتار کچھ دھیمی ھو رھی تھی اور والد اور والدہ اپنا سارا سامان سمیٹنے میں مصروف تھے، ھم بہں بھائی ٹرین کی کھڑکی سے باھر دیکھنے میں مگن تھے، اور میں کسی فلاسفر کی ظرح اپنی بہن کو شہر کی باتیں بنا کر اسے مرعوب کرنے کی ناکام کوشش کررھا تھا ،جبکہ مجھے خود کچھ معلوم نہیں تھا، وہ بھی میری کسی بات کو تسلیم ھی نہیں کرتی تھی کیونکہ وہ مجھ سے کہیں زیادہ سقراط کی بھتیجی تھی،!!!!

اکثر ھم دونوں کے درمیان جھگڑا ھی رھتا تھا ھاں اگر کوئی کام پڑ جائے تو خوش آمد کرنے سے نہیں چوکتی تھی، وہ مجھ سے تقریباً دو سال چھوٹی تھی - ویسے ھم دونوں بہن بھائی میں محبت بھی بہت تھی، ساتھ کھیلتے ساتھ لڑتے جھگڑتے پھر ایک دوسرے کو منا بھی لیتے تھے، تیسری تو بہت چھوٹی تھی -

ٹرین پلیٹ فارم پر آہستہ آھستہ رک رھی تھی باھر لوگوں کا ایک ھجوم تھا، قلی اپنے چکروں میں پھر رھے تھے اور کچھ اپنے رشتہ داروں اور جاننے والوں کو لینے آئے تھے، کچھ ھاتھ ھلا رھے تھے کچھ ٹرین میں جھانک رھے تھے کہ شاید جاننے والے پر نظر پڑ جائے، میں بھی سوچ رھا تھا کہ ھمیں بھی کوئی لینے والا آیا ھوگا، لیکن میرا اندازہ غلط نکلا، ابا جی نے کسی کو اطلاع ھی نہیں دی تھی، بہرحال اتنا زیادہ سامان اور صرف دو قلی، جو ھمارا سارا سامان اٹھائے ھوئے تھے، ان کے پیچھے پیچھے ھم سب چلتے ھوئے اسٹیشن کے باھر نکل آئے،!!!!

باھر کا منظر بھی معمول کی طرح لوگوں کا ایک ھجوم اور اس وقت تانگے والے، سائیکل رکشہ والے، گدھا گاڑی والے، آواریں لگا لگا کر اپنے پاس بلا رھے تھے، دو چار تو والد صاحب کے آگے پیچھے بھی منڈلا رھے تھے، مگر والد صاحب بچتے بچاتے ان سے اول فول بکتے ھوئے، ایک گدھا گاڑی کے پاس جاکر رک گئے، قلیوں کو کچھ دے دلا کر فارغ کیا اور بھر گدھا گاڑی والے سے بات کرنے لگے شاید سامان لے جانے کیلئے،!!!!

میری نظریں تو سامنے کھڑی ھوئی ٹراموں پر ٹکی ھوئی تھیں، بالکل ٹرین کی طرح سڑک کے اوپر باری باری پٹری پر ٹن ٹن کرتی ھوئی چل رھی تھیں، مین حیران بھی تھا اور شاید یہ سوچ رھا تھا کہ اگر والد صاحب ا اس ٹرام میں بیٹھ کر گھر جائیں تو کتنا مزا آے، باھر اس کے علاوہ اس وقت کی ٹیکسیاں جو بہت بڑی بڑی تھیں اور کچھ بسیں بھی نظر آرھی تھیں، جن کے آگے پیچھے سے دھواں بھی اٹھ رھا تھا اور پوری بس تھرتھراتی ھوئی کانپ بھی رھی تھی اور جو بسیں خاموش تھیں انکے ڈرائیور شاید بس کو اسٹارٹ کرنے کیلیئے آگےایک سریہ سا ڈال کر بار بار گھمارھے تھے، اس وقت ھر موٹرگاڑی کو اسی طرح اسٹارٹ کیا جاتا تھا،

مگر میری امیدوں پر پانی پھر ھی گیا جب ابٌا حضور نے چلا کر کہا چلو بیٹھو، میں نے گھبرا کر جو مڑ کے دیکھا تو کیا دیکھتا ھوں سارا سامان گدھا گاڑی پر جم چکا تھا اور والدہ اپنا کالا برقعہ سنبھالتی ھوئی اوپر سامان کےاوپر بیٹھنے کی کوشش کررھی تھیں پھر ابٌا جی نے گود میں اٹھا کر ھم بہن بھائی کو اوپر بڑی مشکل سے بٹھایا اور خود گدھا گاڑی چلانے والے کے برابر بیٹھ گئے اور پھر چلاچل گدھا بیچارہ ساری مخلوق بمعہ سامان کو لئے گاڑی بان کے اشارے پر گاڑی کھینچنے کی کوشش کر رھا تھا، بڑی مشکل سے کچھ لوگوں نے گدھا گاڑی کو دھکا لگا کر بےچارے گدھے کو گاڑی کھینچنے میں مدد کی -

بس پھر کیا تھا گدھے نے اپنی چال دکھائی اور آہستہ آہستہ دوڑنا شروع کردیا، گاڑی بان بھی اپنی ایک مخصوص بولی میں گنگناتا ھوا ساتھ ساتھ گدھے کو بھی لگام تھامے ھدایتیں دیتے ھوئے مست تھا، اس وقت اسے مشکل پیش آتی جب کوئی چوراھا سامنے آجاتا، اگر کوئی سپاھی ھماری طرف کا ٹریفک روک کر دوسری طرف کی گاڑیوں کے جانے کا اشارا کرتا، کیونکہ اسے گدھے کو روکنے اور دوبارہ بھگانے میں بہت مشکل درپیش آتی تھی،!!!

اس زمانے میں کوئی بھی الیکٹرونک سگنل نہیں ھوا کرتا تھا ، بس آپ ھر چوراھے پر سفید وردی پہنے ھوئے ایک سپاھی خود ھی ٹریفک کنٹرول کررھا ھوئے ناچ رھا ھوتا تھا - ایک عجیب سا منظر تھا، ھماری گدھا گاڑی روڈ پر دوڑی جارھی تھی اور چاروں طرف بھی ساتھ ساتھ گھوڑا گاڑیاں گدھا گاڑیاں ساتھ اُونٹ گاڑیاں بھی، سائیکل والے، سائیکل رکشہ والے کچھ اس وقت کے ٹرک، بسیں، پوں پوں کرتی کھڑکھڑاتی ھوئی چل رھی تھیں، اس وقت کے سادے لوگ بس دیکھتے اور ھمیں دیکھ کر مسکراتے ھاتھ ہلاتے ھوئے گزر رھے تھے، کبھی کبھی کوئی گڑھا وغیرہ آجاتا تو ھم سب سامان سمیت اوپر اچھل جاتے،اگر آج کل کی نظروں سے دیکھو تو ایسا لگے جیسے کوئی “ٹام اینڈ جیری“ کی کارٹون فلم چل رھی ھو - چھوٹی چھوٹی، ٹوٹی پھوٹی سڑکیں اور ھر قدم پر مختلف قسم کے گڈھے، اس پر یہ خودکار سواریاں !!!!!!!

بڑی مشکل سے یہ شاھی سواری منزل پر پہنچی، حالت خراب ھو چکی تھی سب پرزے ڈھیلے ھو چکے تھے، پہنچنے سے پہلے ھی کچھ بچوں کو گدھا گاڑی کے ساتھ ساتھ بھاگتے دیکھ رھا تھا اور گاڑی کے رکتے ھی کئی لوگ بھی نزدیک آگئے اور سامان اتارنے میں مدد کرنے لگے دو تین عورتیں آئیں اور والدہ کو اور چھوٹی بہنوں کو ساتھ لے گئیں اور گدھاگاڑی کے سامنے ابٌاجی کے پاس لوگوں کو سامان اتارتے دیکھ رھا تھا اور مجھے بھی لوگ پیار سے بلارھے تھے شاید یہ سب والد صاحب کے دوست تھے،!!!!!!

میں بھی بہت تھکا ھوا لگ رھا تھا، شام ھونے والی تھی ابٌاجی میرا ہاتھ تھامے مجھے نئے گھر کی طرف لے جارھے تھے اور میں غنودگی میں ان کے ساتھ بڑی مشکل سے چل رھا تھا، پھر پتہ ھی نہیں چلا کہ کب آنکھ لگ گئی، رات کے نہ جانے کس وقت والدہ نے کھانے کیلئے اُٹھایا دیکھا تو ایک لالٹین جل رھی تھی، شاید لوگوں کے گھروں سے کچھ کھانا آیا ھوا تھا ، سب کھانے میں مصروف تھے اور میں کھانے کے ساتھ ساتھ اپنے اسکول کے بارے میں اور وھاں کے اپنے دوستوں کے بارے میں سوچ رھا تھا جنہیں میں بہت دور چھوڑ آیا تھا - !!!!!
__________________

عبدالرحمن سید
28-01-10, 06:35 PM
میں بھی بہت تھکا ھوا لگ رھا تھا، شام ھونے والی تھی ابٌاجی میرا ہاتھ تھامے مجھے نئے گھر کی طرف لے جارھے تھے اور میں غنودگی میں ان کے ساتھ بڑی مشکل سے چل رھا تھا، پھر پتہ ھی نہیں چلا کہ کب آنکھ لگ گئی، رات کے نہ جانے کس وقت والدہ نے کھانے کیلئے اُٹھایا دیکھا تو ایک لالٹین جل رھی تھی، شاید لوگون کے گھروں سے کچھ کھانا آیا ھوا تھا ، سب کھانے میں مصروف تھے اور میں کھانے کے ساتھ ساتھ اپنے اسکول کے بارے میں اور وھاں کے اپنے دوستوں کے بارے میں سوچ رھا تھا جنہیں میں بہت دور چھوڑ آیا تھا - !!!!!!!!!

تھکان کے وجہ سے صبح اٹھنے میں مجھے بہت مشکل پیش آئی، ورنہ چاھے کچھ بھی ھوجائے صبح جلدی اٹھنے کی ایک عادت تھی، چاھے چھٹی کا دن ھی کیوں نہ ھو، مگر دو دن کی تھکان کی وجہ سے اٹھتے اٹھتے کافی دور ھو چکی تھی، چاروں طرف ساماں بکھرا ھوا تھا، والدہ ھماری کچھ اور محلےکی عورتوں کے ساتھ مل کر ساماں کو ترتیب دے کر قرینے سے رکھ رھی تھیں، اور چند چھوٹے بڑے بچے میرے چاروں طرف مجھے اپنی طرف توجہ دلانے کی کوشش میں لگے ھوئے تھے تاکہ ان کی دوستی کے حلقے کا ممبر بن جاؤں، کچھ بچے دور سے ھی کھڑے مجھے دیکھ کر ہنس رھے تھے، جیسے میں کوئی کسی اور دنیا کی مخلوق ھوں -

مجھے کچھ کچھ تین سال پہلے کی دھندلی سی تصویر نمایاں ھوتی نظر آرھی تھی، جب میں شاید تقریباً پانچ سال کا تھا، اور والدہ اور دوسرے بھی مجھے یاد دلانے کی کوشش میں مصروف تھے، جو مجھے آھستہ آھستہ ذہن کے ایک گوشے میں کچھ بھولے بسری باتیں کروٹ لے رھی تھیں - بہرحال کچھ جاننے کی کوشش میں باھر کی طرف رخ کیا اور اس نئی جگہ کو اپنا پن دینے کے لئے آس پاس کا نظارہ کرنا شروع کیا، کچھ میرے ھم عمر بچے بھی ساتھ رھے، جیسے وہ مجھے گائیڈ بن کر کسی کھنڈرات کی سیر کرارھے ھوں اور ساتھ ساتھ کمنٹری بھی چل رھی تھی،
آٹھ سال کی میری عمر اور نئی جگہ نئے لوگ نئے شہر میں ایک پرانا محلہ، نہ بجلی، نہ پانی کی سہولت، میں تو کچھ پریشان سا ھوگیا،!!!!!
کیونکہ جہاں سے ھم سب آئے تھے وھاں پکے دو کمرے کا سرخ اینٹوں کا بنا ھوا کوارٹر تھا، پانی اور بجلی کا آرام تھا چمنی والی انگیٹھیاں دونوں کمروں میں تھیں، کیونکہ وھاں سردی بہت ھوتی تھی، سردیوں میں ھم سب انگیٹھی کے چاروں طرف بیٹھ کر ٹھنڈ سے بے فکر خوب والدین کے ساتھ لاڈ پیار میں لگے رھتے، کیا سہانا وقت تھا - اب نہ جانے کیوں رھنے کیلئے اس جگہ کو ابا جی نے منتخب کیا، ایک کچی آبادی میں، شاید سرکار سے مکان کا کرایہ وصول کرنے کیلئے انہوں نے اپنے لئے گورنمنٹ کی دیوار کے کنارے ایک مٹی کا کچا سا مکان بنایا تھا - وھاں پر چند اور بھی اسی طرح کے گھر تھے، لیکن سب سہولتوں سے محروم تھے - گلیاں بھی ٹیڑھی میڑھی، کچھ گھروں کی دیواریں ٹوٹی پھوٹی اور اوپر سے شور مچاتے بچے، اس ماحول کا تو میں بالکل عادی نہیں تھا -

اب کرتے کیا نہ کرتے مجبوری تھی جہاں والدین وہاں ھم، میں دو تین دن تک تو پریشان ھی رھا، اور اپنے آپ کو بہلانے کی بھی کوشش کرتا رھا، نہ کوئی مطلب کا دوست تھا، اور نہ دل مانتا تھا کہ کسی سے دوستی کروں، ایک چرچڑا پن محسوس کرنے لگا تھا -

لیکن بعد میں مجھے اس جگہ سے ایسی محبت ھوئی کہ اب جب بھی پاکستان چھٹی جاتا ھوں میں وھاں کا ضرور ایک چکر لگاتا ھوں اور اپنے کھوئے ھوئےمعصوم بچپن سے لیکر جوانی تک کی حسین یادوں کو ڈھونڈنے کی کوشش کرتا ھوں - وہ علاقہ اب بھی گلیوں اور کوچوں کے حساب سے ویسا ھی ھے لیکن کافی بہتری بھی آگئی ھے، پانی بجلی اور سوئی گیس کی سہولت موجود ھے، اور تقریباً تمام مکان پکے سمنٹ کے بن چکے ھیں اور ھمارا مکان اب کسی اور کی ملکیت ھے اس نے بھی اچھا خاصا مکان بنا لیا ھے - کاش کہ وہ مجھے یہ میرا مکان مجھے بیچ دیں، کاش کہ میرے پاس اتنا پیسا ھو کہ اس مکان کو خرید سکوں،!!!!!!

میں جب بھی اس اپنے پرانے محلے کی طرف جاتا ھوں، تو میں اپنے آپ کو چاروں طرف وھی خوشبو سے بھری ھوئی یادوں میں گھرا ھوا پاتا ھوں - یہاں میں نے تقریباً اپنی زندگی کے خوبصورت اور حسین یادوں کے ساتھ دس سال گزارے ھیں، مجھے اس علاقہ کو والدیں کی خواھش کی مطابق 18 سال کی عمر میں چھوڑنا پڑا، لیکن میں اب تک ذہنی طور پر وھیں ھوں -

کاش کہ وہ وقت دوبارہ واپس آجائے کاش !!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!

جاری ھے،!!!!

عبدالرحمن سید
28-01-10, 06:47 PM
میں جب بھی اس اپنے پرانے محلے کی طرف جاتا ھوں، تو میں اپنے آپ کو چاروں طرف وھی خوشبو سے بھری ھوئی یادوں میں گھرا ھوا پاتا ھوں - یہاں میں نے تقریباً اپنی زندگی کے خوبصورت اور حسین یادوں کے ساتھ دس سال گزارے ھیں، مجھے اس علاقہ کو والدیں کی خواھش کی مطابق 18 سال کی عمر میں چھوڑنا پڑا، لیکن میں اب تک ذہنی طور پر وھیں ھوں -
کاش کہ وہ وقت دوبارہ واپس آجائے کاش !!!!!!!!

نئی جگہ نئے محلہ میں آئے ھوئے بھی ایک ھفتہ گزر چکا تھا، لیکن تمام کوششوں کے باوجود دل کا لگانا مشکل نطر آرھا تھا، پنڈی میں پانچویں جماعت کی پڑھائی ادھوری چھوڑکر آنا پڑا تھا، اس لئے والد صاحب میرے داخلے کیلئے بہت پریشان لگتے تھے، روز وہ دفتر سے چھٹی لے کر آتے، جب تک والدہ مجھے تیار کراتیں اور پھر والد صاحب کے ساتھ انکے پیچھے پیچھے کچھ کتابوں اور کاپیوں سے بھرا بستہ گلے میں لٹکائے، چل کیا دیتا بلکہ بھاگنا پڑتا، کیونکہ ان کی رفتار بہت تیز تھی، شاید انہیں واپس دفتر بھی جانا ھوتا تھا،
راستے میں محلٌے کے بچے بھی مجھے دیکھ کر مسکراتے، اور مجھے اپنی طرف راغب کرنے کی کوشش بھی کرتے تاکہ میں بھی انکی “بچہ کمیٹی“ کا ممبر بن جاؤں مگر والد نے تو بہت سختی سے پابندی لگائی تھی کہ خبردار اگر ان بچوں کے ساتھ اگر میں کھیلا تو،!!!! میری ٹانگیں ٹوٹنے کا اندیشہ تھا، مجھے انکے غصہ سے ویسے بھی بہت ڈر بھی لگتا تھا، لیکن آھستہ آھستہ ان بچوں کی حرکتیں بھی مجھے اچھی لگنے لگی تھی اور باوجود والدہ کے منع کرنے پر روزانہ کسی نہ کسی بہانے خاموشی سے کھسک لیتا تھا اور انکے ساتھ اس زمانے کے کھیل کھیلتا رھتا کبھی گلی ڈنڈا کبھی کنچہ کی گولیاں، پٹھو گرم، اور کبھی پتنگ بازی وغیرہ وغیرہ اور جیسے ھی اباجی کو دفتر سے واپس آتا دیکھتا ایسی دوڑ لگاتا کہ شاید اگر اسی طرح کسی ریس میں حصہ لوں تو اوٌل پوزیشن پر رھوں،!!!!

گھر پہنچتے ھی ھاتھ پیر دھوئے اور فوراً کوئی بھی کتاب اٹھا کر اس طرح پڑھنے لگا جیسے میں ھی دنیا کا سب سے بڑا پڑھاکو ھوں ، اباجی جیسے ھی گھر پہنچتے اور مجھے پیار سے دیکھتے ھوئے والدہ سے کہتے دیکھا مین نہ کہتا تھا کہ ھمارا یہ بچہ ھمارا نام ضرور روشن کریگا، والدہ معنی خیز نگاھوں سے مجھے دیکھتیں اور مسکرا کر والد صاحب کی ھاں میں ھاں ملاتیں، جبکہ انہیں پتہ تھا کہ میں ابھی ابھی باھر سے بھاگ کر آیا ھوں،!!!!!
میری والدہ میری ھر شرارتوں کو اباجی سے ھمیشہ چھپا کر مجھے پٹنے سے بچا لیتی تھیں اور ھر دفعہ خبردار بھی کرتی تھیں کہ اگر آئندہ تم نے کوئی شرارت کی یا دوبارہ گندے بچوں کے ساتھ کھیلے تو تمھارے ابا جی سے شکایت لگادوں گی، لیکن میں انکی تمام نصیحتوں کو رد کردیتا کیونکہ مجھے والدہ کی عادت معلوم تھی کہ وہ مجھے ھمیشہ میری تمام حرکتوں کو اباجی سے پوشیدہ رکھتی تھیں-

والدصاحب چاھتے تھے کہ کہیں نزدیک اسکول میں میرا داخلہ ھو جائے، لیکن مشکل یہ تھی کہ ھر اسکول میں تقریباً داخلے بند ھو چکے تھے اور وہ مجھے دور بھیجنا نہیں چاھتے، اسی چکر میں ایک مہینہ گزرچکا تھا اور میرا دل بھی پڑھائی سے آھستہ آھستہ اُچاٹ ھوتا جارھا تھا، کیونکہ اب ایک مہینے کے اندر ھی باھر بچوں کے ساتھ کھیلنے میں زیادہ دلچسپی لینے لگا تھا، دل میں اب یہی خواھش جنم لے رھی تھی کہ داخلہ نہ ھو تو بہتر ھے -

آخر بکرے کی ماں کب تک خیر مناتی ایک دن چھری کے نیچے آنا ھی تھا، اور مجھے ایک گورنمنٹ پرائمری اسکول میں داخلہ مل ھی گیا، اور کھیلنے کودنے کے میرے تمام خواب چکنا چور ھوکر رہ گئے، مجھے دکھ تو بہت ھوا، لیکن مرتا نہ کیا کرتا اسکول میں جانا شروع کردیا لیکن بالکل بے دلی کے ساتھ، وھاں اسکول میں ایک الگ ھی بھیڑچال دیکھنے کو ملی، کوئی بھی ڈھنگ کا بچہ نظر نہیں آیا، اور اس پر سارے استاد بھی سونے پر سھاگہ تھے اور اسکول کی تو نہ ھی پوچھیں کوئی بھی کل سیدھی نہیں تھی، ٹوٹی پھوٹی دیواریں اور جھولتی کھڑکیاں، میز کرسیاں بالکل غائب، کلاسوں میں پھٹی ھوئی دریاں وہ بھی بے ترتیبی سے بچھی ھوئی، باھر کا مین گیٹ سرے سے ھی ندارد، اور کیا کیا تعریف کروں، قسمت میں جو لکھا تھا بھگتنے کو تیار، اب کیا کرتے روز اسکول جانے لگے،!!!!

میں تو اب بُری طرح پھنس چکا تھا، نہ چاھتے ھوئے بھی اسکول جارھا تھا اور وھاں کے شیطاں بچوں سے واسطہ، کلاس میں بیٹھتے ھی ایک ھنگامہ شروع ھوجاتا، کلاس ٹیچر کی تو کیا کہیئے، انھیں کوئی فکر نہیں تھی، آتے ھی حاضری لیتے، پھر کہتے کہ فلاں صفحہ کھولو اور زبانی یاد کرو، بس یہ کہہ کر باھر نکل جاتے اور دوسرے پیریڈ میں ھی واپس آتے، اُس وقت تک کلاس کا حال بےحال ھوجاتا، آتے ھی چھڑی سے سب کو ڈانٹنے لگتے اور ایک دو کو سزا بھی ملتی، کسی کو مرغا بنا دیتے اور کسی کو چھڑی سے ھی دو چار لگادیتے اور ھر دفعہ میں ھی پھنس جاتا تھا، کیونکہ اس پانچویں کلاس کے تمام بچے صحیح منجھے ھوئے فنکار تھے، شرارت کوئی اور کرتا اور ھمیشہ مجھے ھی پھنسا دیتے اور سارے ملے ھوئے تھے کیونکہ سب مل کر میری طرف اشارہ کرکے گواھی بھی دیتے، ماسٹرصاحب کو میں کیا یقیں دلاتا، ان کا شکار میں بن ھی جاتا اور پھر تمام کلاس مجھ پر ھنس رھی ھوتی تھی،!!!!

اگر ایک ایک ان کی حرکتیں لکھنے بیٹھوں تو سب کچھ ان سب کی شرارتوں کے ھی نطر ھوجائے، گھروں سے وہ لوگ ربڑ بینڈ اور چھوٹے چھوٹے پتھر اپنے اپنے بستوں میں بھر کر لاتے تھے اور پھر کلاس روم میں ھی دوسروں کو غلیل کی طرح نشانہ لگا کر خوب وار کرتے، اور زیادہ تر میں ھی نشانہ بنتا بھی اور سزا کیلئے بھی ان ھی لڑکوں کی وجہ سے مجھے کھڑا ھونا پڑتا،!!!!

اکثر لڑکے تو ایک دوسروں کی کاپیاں اور کتابیں بھی چھپا دیتے، میرے ساتھ تو کچھ زیادہ ھی ھوتا تھا اور ایک دن تو ان لڑکوں نے مل کر حد ھی کردی، کہ کلاس ٹیچر نے مجھے کلاس سے یہ کہہ کر نکال دیا کہ اپنے والد کو یہاں لے کر آو تو کلاس میں داخل ھونا ورنہ نہیں،!!!!! کیونکہ میرے پاس وہ مطلوبہ کاپی نہیں تھی، جبکہ مجھے اچھی طرح یاد تھا کہ میں نے تمام ھوم ورک مکمل کرکے اپنے بستے میں ھی رکھی تھی، یقیناً یہ لڑکوں کی ھی شرارت تھی، !!!!!!!!


کہاں لا بٹھایا مجھے یہاں، گھورتے لڑکے شکاری جیسے
کیسی جماعت ھے یہاں، چھیڑتے بچے مکاری جیسے

ھمارے لئے فرشی پیوند دری، اُنھیں عرشی میز کرسی
لگے شاھی دربار کا میلہ، اوپر شاہ نیچے درباری جیسے

ڈنڈا ھاتھوں میں وہ گھماتے، غصٌہ غضب کا وہ دکھاتے
دیکھو لگے وہ دور سے جٌلاد، تلوار لئے دو دھاری جیسے

میری حالت تو خراب ھوگئی، کلاس سے نکل کر ایک قریبی پارک میں بیٹھ کر سوچتا رھا اور روتا رھا، سمجھ میں نہیں آرھا تھا کہ گھر جاکر اباجی سے کیا کہوں گا، ان سے تو مجھے بہت ڈر لگتا تھا،!!!!!!

جاری ھے،!!!
--------------------------------------------------------------------------

عبدالرحمن سید
28-01-10, 06:59 PM
میری حالت تو خراب ھوگئی، کلاس سے نکل کر ایک قریبی پارک میں بیٹھ کر سوچتا رھا اور روتا رھا، سمجھ میں نہیں آرھا تھا کہ گھر جاکر اباجی سے کیا کہوں گا، ان سے تو مجھے بہت ڈر لگتا تھا،!!!!!!

مجھے بچپن سے ھی اردو میں لکھنے کا بہت شوق تھا، جسکی وجہ خاص طور سے میرا وہ راولپنڈی کا اسکول تھا جہاں پر لکڑی کی تختی پر لکڑی کے قلم سے اردو رسم الخط لکھنے کا فن سکھایا گیا اور ساتھ ھی انگلش اور اسلامی تعلیمات بمعہ قران شریف کا مطالعہ اسکے صحیح تلفظ اور تشریح و ترجمہ کے ساتھ جو اوٌل جماعت سے لے کر جماعت پنجم تک باقاعدگی سے درس و تدریب دی جاتی تھی جو کہ ماہرین اساتذہ کی نگرانی میں تربیت دی گئی، جسکا کہ میں اس تعلیمی ادارہ کا تہہ دل سے مشکور ھوں اور دعا کرتا ھوں کہ ھمارے تمام تعلیمی ادارے بھی اسی طرح کے منظم انتظامیہ کے اصولوں کو اپنایں اور ھماری آنے والی نسلوں کا مستقبل روشن کرنے کی کوشش کریں -

آج کل تو پہلی جماعت سے ھی بچوں کو سستے قسم کے کے بال پین پکڑا دئیے جاتے ھیں جس کی وجہ سے اردو کی لکھائی میں خوشخط نہیں ھوتی اور کوئی اسلامی تعلیم بھی صحیح طریقہ سے نہیں دی جاتی، جب ھمارے بچوں کی بنیادی تعلیم ھی مضبوط نہیں ھو گی تو ھمارے بچے مستقبل کے بہترین معمار کیسے بن سکیں گے -

بعض اوقات ایسا بھی ھوتا ھے کہ جیسے میرے ساتھ ھوا کہ اسکول بدلتے وقت یا نئے داخلے کے وقت اس بات کا خیال نہیں رکھا جاتا کہ اس کا معیار انکے بچے کی تعلیم کیلئے کیسا رھے گا اور نہ ھی والدین اسکول جاکر بچے کی پڑھائی کے بارے میں معلومات کرتے ھیں -

اسی وجہ سے میرے پانچویں جماعت کا ایک پورا سال ضائع ھوا، جس کا اثر میری سیکنڈری اسکول کی تمام تعلیم پر بہت خراب پڑا اور جب اگر ایک اچھی عادت بگڑ جائے تو اسکا سدھارنا بہت مشکل ھوتا ھے - اس زمانے میں زیادہ تر سرکاری تعلیمی ادارے بہت اچھے معیار کے تھے لیکن بدقسمتی سے مجھے تمام سرکاری اسکولوں میں جگہ نہ ھونے کی وجہ داخلہ نہ مل سکا اور مجبوراً والد صاحب نے ایک گورنمنٹ کے ٹاؤن کمیٹی کے سب سے نچلے درجے کے اسکول میں داخل کرادیا، ان کا یہ مقصد تھا کہ میرا سال ضائع نہ ھو، مگر اس ایک سال کی وجہ سے مجھے اسکا خمیازہ اپنی زندگی پر ایسا اثرانداز ھوا کہ میں اپنے تعلیمی معیار کو صحیح مقام نہیں دے سکا اور والد صاحب کی خواھش کے مطابق اپنی اعلیٰ تعلیم کو مکمل نہ کرسکا، وہ چاھتے تھے کہ میں چارٹرڈ اکاونٹنٹ بنوں یا اکاونٹس میں ماسٹر کروں، جوکہ نہ ھوسکا، لیکن شکر ھے اس مالک کا کہ اب تک عزٌت کے ساتھ بات بنی ھوئی ھے جبکہ میں واقعی اس قابل نہیں ھوں -

والد صاحب نے ایک تو اس اسکول میں داخل تو کرادیا لیکن پورا سال خبر نہ لی کہ میں اسکول میں کیا کررھا ھوں، اور دوسرے انکا غصٌہ اتنا شدید تھا کہ کچھ کہنے کی ھمت ھی نہیں ھوتی تھی اور میں ان سے جھوٹ پہ جھوٹ بولتا چلا گیا اور جھوٹ کو نبھانے کیلئے مزید لاکھوں جھوٹ اور ساتھ یہی جھوٹ کی عادت چوری کی شکل میں تبدیل ھوگئی اور بہت سی خراب عادتوں نے بھی جنم لے لیا -

ایک بات کا میں اضافہ کرنا چاھوں گا، کہ یہ اللٌہ تعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکر ھے کہ یہ چوری کی عادت گھر تک ھی محدود رھی، مثلاً جھوٹ بول کر والدہ سے کوئی بھی مجبوری بنا کر پیسے اینٹھ لینا یا گھر کا سودا لاتے وقت سودے میں چھوٹی موٹی ھیرا پھیری سے پیسے بچا لینا،

کیونکہ یہ صرف ایک جھوٹ کئی جھوٹ کو جنم لیتا ھے اور پھر آھستہ آھستہ دوسری ھی غلط ضروریات کی طرف لے جاتا ھے جسے پورا کرنے کیلئے انسان غلط وسائل کی طرف راغب ھو جاتا ھے،!!!!!

میرا مقصد ھماری آئندہ آنے والی نسلوں کے والدین کو بس یہی پیغام پہنچانا ھے کہ وہ کچھ اس سے سبق سیکھیں اور اپنے بچوں کا مستقبل تاریک ھونے سے بچائیں،!!!!!!!!!!!!!!!!!!

ھاں تو کہانی وھیں سے شروع کرتا ھوں جہان پہلے ختم کی تھی،!!!!!!

اکثر لڑکے تو ایک دوسروں کی کاپیاں اور کتابیں بھی چھپا دیتے، میرے ساتھ تو کچھ زیادہ ھی ھوتا تھا اور ایک دن تو ان لڑکوں نے مل کر حد ھی کردی، کہ کلاس ٹیچر نے مجھے کلاس سے یہ کہہ کر نکال دیا کہ اپنے والد کو یہاں لے کر آو تو کلاس میں داخل ھونا ورنہ نہیں،!!!!! کیونکہ میرے پاس وہ مطلوبہ کاپی نہیں تھی، جبکہ مجھے اچھی طرح یاد تھا کہ میں نے تمام ھوم ورک مکمل کرکے اپنے بستے میں ھی رکھی تھی، یقیناً یہ لڑکوں کی ھی شرارت تھی، !!!!!!!!

میری حالت تو خراب ھوگئی، کلاس سے نکل کر ایک قریبی پارک میں بیٹھ کر سوچتا رھا اور روتا رھا، سمجھ میں نہیں آرھا تھا کہ گھر جاکر اباجی سے کیا کہوں گا، ان سے تو مجھے بہت ڈر لگتا تھا،!!!!!!

پارک جو گھر اور اسکول کے قریب تھا، وہ ایک بہت بڑے گول سے چوراھے کے درمیان میں بنا ھوا تھا اور چاروں طرف سے موٹرگاڑیاں، تانگے،سائیکل رکشہ وغیرہ یعنی ھر قسم کی سواریاں اپنی مخصوص آوازوں کے ساتھ چکر لگاتی ھوئی اپنی سمت کی طرف چلی جارھی تھیں -

مگر میں تمام گاڑیوں کے شور شرابے سے بےخبر اپنا بستہ سر کے نیچے دبائے، سبز گھاس پر آنے والی مشکل گھڑی کے بارے میں سوچ رھا تھا کہ اب میں گھر پر کیا کہونگا، کلاس ٹیچر نے تو کلاس سے یہ کہہ کر نکال دیا کہ اپنے والد کو بلا کر لاؤ تو اسکول میں داخل ھوسکتے ھو ورنہ نہیں !!!!!!!!!

کوئی حل سمجھ میں نہیں آرھا تھا، والد کا خوف ھی اتنا تھا کہ کچھ سوچنے کی گنجائش ھی نہیں تھی، اگر کلاس ٹیچر کا پیغام سناتا ھوں تو ابا جی پہلے مجھے مارتے اور پھر اسکول کی طرف رخ کرتے، اور واپسی پر بھی میری زبردست پٹائی ھونے کی پیشین گوئی بھی تھی، والدہ کو کہہ کر میں ان کی مزید پریشانیوں میں اضافہ نہیں کرنا چاھتا تھا، پہلے ھی میں نے انہیں بہت پریشاں کیا ھوا تھا -

سوچتے سوچتے میری آنکھ لگ گئی، ایک دم میری آنکھ کھلی جب مالی نے پانی کے چھیٹے میرے منہ پر مارے، نہ جانے وہ کیا سمجھ بیٹھا تھا، میں گھبرا کے آٹھا تو اس کے جان میں جان آئی، اس نے ھاتھ کے اشاروں سے میری خیریت پوچھی اور اپنے کام پر لگ گیا، اور میں نے اپنے کپڑے وغیرہ اچھی طرح جھاڑے، سورج کے رخ سے وقت کا اندازہ لگایا، اپنے بستہ کو کاندھے پر لٹکایا اور گھر کی طرف خراماں خراماں چلنے کی ناکام سی کوشش کی کیونکہ آج تو اپنے قدم بھی ساتھ نہین دے رھے تھے، ساتھ ساتھ منصوبہ کی پلاننگ بھی کرتا جارھا تھا کہ اگلا قدم کیا ھوگا -

گھر پہنچتے ھی والدہ گھبرا گئیں اور مجھ سے کئی سوال ایک دم پوچھ ڈالے، کہ آج اتنی جلدی کیوں آگئے، طبعیت تو ٹھیک ھے کیا ھوا کیا نہیں ھوا، میری پہلے ھی سے مسکین شکل بنی ھوئی تھی اور پھر میرا فوراً ھی شیطانی دماغ کا سوئچ بھی آن ھو گیا، اور پھر جھوٹ کی پٹاری کھل گئی، جواباً عرض کیا کہ کلاس میں سردی لگ رھی تھی اور بخار چڑھ گیا تھا، اور کچھ چہرے پر غصہ کا لبادہ بھی چڑھا لیا، والدہ کے سامنے تو میں شیر بن جاتا تھا اور ابٌاجی کے سامنے تو بالکل بھیگی بلی کی طرح میاؤں، منہ سے آواز نہین نکلتی، والدہ پریشان ھوگئی اور کچھ گھریلو دوائی دی اور کمبل اڑھا کر لٹا دیا،!!!!!!

لیٹ تو گیا لیکن بہت سخت بھوک لگی ھوئی تھی، والدہ نے بڑے اسرار کے بعد ساگودانے کی کھیر بنا کر دی اور پھر بعد میں کڑوا سا جوشاندہ بھی لے آئی، مجبوراً یہ دن بھی دیکھنا پڑا، والدہ ھماری اباجی کا انتظار کرنے لگی کہ وہ آئیں تو ڈاکٹر کے پاس لےجائیں -
اباجی کی آواز آئی تو میری تو جان ھی جیسے نکل گئی، اب کیا کروں، والد صاحب اکثر دوپہر کے تین بجے تک آتے تھے، کھانا کھا کر کچھ دیر کیلئے سوجاتے پھر شام کو دوسری مصروفیات میں مشغول ھو جاتے، جو آگے چل کر تفصیل سے لکھونگا، جس میں میرا بھی بہت بڑا کردار ھے -

اب کیا کروں خاموش ھی رھا، مجھے کچھ احساس ھوا کہ انہوں نے ڈاکٹر کی طرح نبض ٹٹولی اور والدہ سے کہا، کچھ نہیں ھے طبیعت بالکل صحیح ھے، ایسے ھی ڈرامہ کررھا ھے، اسے کھانا دو، ابھی ٹھیک ھوجائےگا، میری کچھ طبعیت بحال ھوئی کیونکہ بہت سخت بھوک لگ رھی تھی، اور شیطانی دماغ کی مکمل پلاننگ ھو چکی تھی کہ اگلا قدم کیا ھونا چاھئے -

کھانا وغیرہ کھایا اور روز کی طرح کتاب کھول کر پڑھنے بیٹھ گیا تاکہ اباجی کو کسی بات کا احساس نہ ھو، اب مکمل پلاننگ تو ھو چکی تھی وہ یہ کہ روز اسکول کیلئے تیار ھو کر جانا تو ھے لیکن اسکول کے بجائے کہیں اور کا چکر لگاؤں اور اسکول کے واپسی کے وقت گھر آجاؤں، شکر اس بات کا یہ تھا کہ میرے اسکول میں اپنے محلے کا کوئی بچہ نہیں پڑھتا تھا، کہ کہیں سے بھی کسی بات کا پتہ چل سکے،

آگے کیا ھوتا ھے وہ کچھ زیادہ ھی ھولناک ھے، کیا آپ سوچ سکتے ھیں کہ میں پورے دس مہینے تک اسکول کے بجائے کہیں اور گل چھرے اڑاتا رھا، اور اتفاق سے والد صاحب نے ایک دن بھی اسکول میں آکر کوئی بھی خبر نہ لی !!!!!!!!!!!

-----------------------------------------------------------------جاری ھے---------

عبدالرحمن سید
28-01-10, 07:11 PM
آگے کیا ھوتا ھے وہ کچھ زیادہ ھی ھولناک ھے، کیا آپ سوچ سکتے ھیں کہ میں پورے دس مہینے تک اسکول کے بجائے کہیں اور گل چھرے اڑاتا رھا، اور اتفاق سے والد صاحب نے ایک دن بھی اسکول میں آکر کوئی بھی خبر نہ لی !!!!!!!!!!!

اس وقت غالباً 1959 میں میری عمر تقریباً نو یا دس سال کے لگ بھگ ھوگی، میں کبھی یہ سوچ بھی نہین سکتا تھا کہ اس طرح کا واقعہ بھی میری اس عمر میں پیش آئے گا، رات بھر میں دوسرے دن کے بارے مین سوچنے لگا کہ کیا کروں اور یہی سوچتے سوچتے سو گیا، سونے سے پہلے میرے کان میں اباجی کچھ باتیں سنائی بھی دیں، جو وہ والدہ سے چپکے چپکے کہہ رھے تھے کہ آج ھمارے لاڈلے کے کچھ رنگ بدلے بدلے سے نظر آتے ھیں، کیونکہ کوئی کسی قسم کی شرارت یا آج کوئی ھنگامہ بھی نہیں ھوا، لگتا ھے کہ نواب صاحب کچھ سدھر گئے ھیں،!!!

انہیں کیا معلوم کے ھم پر کیا قیامت گزر گئی، سدھرنا تو دور کی بات ھے، مجھے اپنی فکر لگ گئی کہ نہ جانے یہ اپنی زندگی کی ڈوبتی ناؤ کہاں تک بہا کر لے جائے گئی، نہ تو کسی کو اپنا رازدار بنایا اور نہ ھی کسی نے مجھ سے پوچھنے کی زحمت گوارہ کی کہ آج بدلے بدلے سے سرکار کیوں نظر آتے ھیں، سب محلے کے بچٌے بھی میرا پوچھ کر چلے گئے آج سارے محلے کےمیرے ھم عمر کے بچے بھی اداس تھے کیونکہ میں ان سب کا لیڈر تھا اور آج پورا دن گھر سے باھر بھی نہیں نکلا تھا اور نہ ھی کسی دوست کے ساتھ بات کی تھی، سب دوست تھک ھار کر اپنے اپنے گھروں میں چلے گئے، گھر پر بھی کچھ کے والدین آئے اور اباجی سے میرے متعلق پوچھا بھی کہ آج میں انہیں نظر نہیں آیا، میں ذرا اپنے ھم عمر کے بچوں میں قدرتی کچھ مقبول تھا کہ وہ میرے بغیر کوئی کھیل کھیلتے نہیں تھے اور نہ ھی کوئی شرارت کا منصوبہ بناتے تھے ، چھوٹا سا محلہ تھا اور سب محلہ کے لوگ ایک دوسرے سے واقف بھی تھے،
جہاں کچھ لوگ میری شرارتوں کی وجہ سے مجھ سے اپنے بچوں کو دور رکھنے کی کوشش کرتے تھے، وھاں کچھ اور ایسی فیملیز بھی تھیں جو مجھے بہت چاھتے بھی تھے، اس زمانے میں مجھے اچھی طرح یاد ھے کہ زیادہ تر لوگ اپنے گھروں کے میں دروازے یا مرکزی دروازے کبھی بھی بند نہیں کرتے تھے، ھم تمام بچے اکثر رات کو آنکھ مچولی جس میں ھمارے ساتھ بڑے بچے بھی شامل ھو جاتے تھے، خوب کھیلتے اور کسی نہ کسی کے گھر میں چھپ جاتے تھے، سب کے گھر کھلے ھوتے تھے، کبھی بھی کسی گھر سے کوئی چیز نہین اٹھائی یا چوری کی خبر کوئی سننے میں آئی اور سب لڑکیاں اور لڑکے مل کر کھیلتے تھے اور کبھی بھی کسی کے دل میں کوئے ایسا ویسا برا خیال نہیں آتا تھا،

سب بڑے بوڑھے الگ میدان میں اپنے اپنے گھروں سے چارپائیاں لاکر بچھاتے اور ساتھ حقہ گڑگڑاتے ھوئے رات گئے تک چوپالوں کی طرح دنیا داری کی باتیں کرتے کبھی سیاست کی اور کبھی اسلام کے موضوع پر بھی بحث شروع ھوجاتی اور عورتیں الگ کسی نہ کسی کے گھر کے صحن میں بیٹھی اپنے معمول کے دکھڑے ایک دوسرے کو سناتی رھتی لیکن یہ ضرور تھا کہ گھر کی بڑی بوڑھی الگ بیٹھی ھوتیں اور ان کی بہویں الگ ساس بہو کے معمول کا رونا دھونا اور ایک دوسرے کی بہوؤں کی شکایات کرتی رھتیں جو ازل سے قائم ھے اور ابد تک رھے گا، دنیا بدل گئی زمانہ کہاں سے کہاں تک پہنچ گیا لیکن ساس بہو کا نازک مسئلہ ابھی تک نہیں بدلا -

اُس وقت لوگوں کے پاس اچھا خاصہ وقت تھا ایک دوسرے کے ھر دکھ درد میں کام آتے تھے، کوئی ناراض ھو جائے تو گھر جاکر ایک دوسرے کی غلط فہمیاں دور کرتے تھے، اور گلے لگاتے تھے اور ایک خاص بات تھی کہ اذان کے ھوتے ھی تمام مرد حضرات جو بھی محلہ میں موجود ھوں، وہاں کی ایک چھوٹی سی مسجد میں چلے جاتے اور ایک ساتھ باجماعت نماز بھی پڑھتے تھے اور پیچھے ھم بچوں کی بھی ایک صف بن جاتی تھی، عورتیں اپنے اپنے گھروں میں اپنی لڑکیوں کو ساتھ لے کر نماز پڑھتیں، اس محلے میں ھر پاکستان کے صوبوں پنجاب، سرحد، بلوچستان اور سندھ کے تقریباً تمام شہروں کے لوگ آباد تھے اور مھاجر بھی تھے، ساتھ ھی کچھ غیر مسلم بھی تھے، لیکن کبھی بھی کسی کا کوئی جھگڑا یا آپس میں اختلاف نہیں دیکھا گیا، سب بہت پیار اور محبت سے رھتے تھے، جو آجکل ایک خواب سا لگتا تھا -

کچھ یکجہتی اور آپس کے خلوص کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ اس زمانے میں کسی کے پاس ریڈیو تک نہیں تھا نہ ھی آج کی طرح کمپیوٹر تھا اور نہ ھی پاکستان میں کوئی ٹیلیویژن اسٹیشن تھا ، اکثر لوگ کبھی کوئی خاص مسلئہ ھو تو ایک نزدیکی ایک ھوٹل میں جاکر کے خبریں سن لیا کرتے تھے، کئی لوگوں کو یہ تک پتہ نہیں تھا کہ مارشل لاء کیا ھوتا ھے (جبکہ ان دنوں جرنل ایوب خان کا مارشل لاء لگا ھوا تھا) - اور کسی کو رات میں کوئی تکلیف یا پریشانی ھو جائے تو سب ایک جگہ جمع ھوکر ایک دوسرے کی مدد کرتے تھے -

‌بات کیا ھو رھی تھی کہاں پہنچ گئی، ھاں تو دوسرے دن حسب معمول اسکول جانے کیلئے والدہ نے اٹھایا، تیار ھو کر ناشتہ وغیرہ سے فارغ ھوا اور بستہ گلے میں لٹکا کر باھر نکلنے سے پہلے والدہ سے اسکول کی فیس جو اس وقت 5 پانچ آنے تھی انہوں نے مجھے 6 چھ آنے ایک رومال میں باندھ کر دئیے، اور کہا سنبھال کر لے جانا گما نہیں دینا، یہ دوسرا مہینہ تھا، پیسے رومال کے ساتھ جیب میں ڈالے اور باھر نکل گیا - والد صاحب تو صبح تڑکے ھی نکل جاتے - ان سے صبح ملاقات نہیں ھوتی تھی ورنہ وہ مجھے پہلے اسکول چھوڑتے، بعد میں دفتر جاتے، جو کہ میرے حق میں بہتر نہ تھا ورنہ ساری پول ھی کھل جاتی-

بہرحال میں بمعہ بستہ، اسکول کی یونیفارم پہنے اسکول کیلئے نکلا، محلے کی چھوٹی چھوٹی گلیوں سے ھوتا ھوا لوگوں سے علیک سلیک کرتا ھوا بڑی سڑک پر آگیا سب دوسرے اسکول کے بچے بھی میرے ساتھ تھے ھر ایک کے مختلف اسکول تھے، میرا اسکول چونکہ کچھ دور تھا، اس لئے میں آخر میں ھی رہ جاتا تھا کیونکہ کوئی بھی ھمارے محلے کا بچہ میرے اسکول میں نہیں پڑھتا تھا، اب کہاں میرا اسکول، وہاں جاتے ھوئے ڈر بھی رہا تھا - کیونکہ ٹیچر نے سختی سے منع کردیا تھا کہ والد کے بغیر اس اسکول میں داخل نہ ھونا ورنہ !!!!!! پتہ نہیں کیا کیا کہا تھا -

اسی ڈر سے فوراً میں نے ایک فیصلہ کرتے ھوئے اپنا راستہ بدل لیا اور ایک چاٹ کے ٹھیلے پر رک گیا، ایک آنے کی اس وقت اسپشل چنے اور دھی بڑے کی چاٹ آتی تھی، آرڈر دیا، اور مزے لے کر کھاتا رھا، آج میں بہت مالدار تھا، کیونکہ میرے پاس چھ 6 آنے تھے، چاٹ کھا کر آگے بس اسٹاپ پر پہنچا وھاں ایک صدر جانے کی بس آئی بس میں چڑھ گیا کنڈکٹر نے ٹکٹ کا پوچھا تو ایک آنہ تھما دیا، اس وقت ایک طرف کا ٹکٹ کم سے کم ایک آنہ تھا یعنی ایک روپے میں 16 مرتبہ آ جا سکتے تھے، ایک جگہ بس رکی جہاں میلہ لگا ھوا تھا، جھولے، سرکس وغیرہ، فوراً بس سے اتر گیا، میں خود حیران تھا کہ یہ میلہ تو شام کو شروع ھوتا ھے آج صبح سے ھی شروع ھوگیا، معلوم ھوا کہ بہت زیادہ رش ھونے کی وجہ سے وقت بڑھا دیا گیا ھے، پہلے تو باھر اسٹیج کے ساتھ کھڑا ناچ گانا دیکھتا رھا، اس سے پہلے بھی والدین کے ساتھ یہاں سرکس دیکھنے آچکا تھا - میرے پاس 4 چار آنے اب بھی بچے ھوئے تھے ، دو 2 آنے کا بچوں کا آدھا ٹکٹ لیا اور سرکس دیکھنے کیلئے اندر ڈرتے ڈرتے گھس گیا ادھر ادھر بھی دیکھ رھا تھا کہ کہیں کوئی جاننے والا تو نہیں ھے، اسی گھبراھٹ میں پورا سرکس دیکھا سب کچھ وھی تھا جو پہلے والدین کے ساتھ دیکھ چکا تھا،

سرکس ختم ھوا تو فوراً میں نے واپسی کا سوچا اسی نمبر کی بس میں واپس ھوا اور اپنے اسٹاپ پر اتر گیا، ایک آنہ اور ختم ھوگیا باقی ایک آنہ اب بھی بچہ ھوا تھا سوچا کہ یہ کل کام آئے گا اور جلدی جلدی گھر کی طرف میں قدم بڑھا رھا تھا، کیونکہ اسکول کا وقت بھی ختم ھونے والا تھا!!!!!!!!!

جاری ھے،!!!!!

عبدالرحمن سید
28-01-10, 07:24 PM
سرکس ختم ھوا تو فوراً میں نے واپسی کا سوچا اسی نمبر کی بس میں واپس ھوا اور اپنے اسٹاپ پر اتر گیا، ایک آنہ اور ختم ھوگیا باقی ایک آنہ اب بھی بچہ ھوا تھا سوچا کہ یہ کل کام آئے گا اور جلدی جلدی گھر کی طرف میں قدم بڑھا رھا تھا، کیونکہ اسکول کا وقت بھی ختم ھونے والا تھا!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!

جلدی جلدی قدم بڑھاتا ھوا گھر پہنچا، اور وقت پر گھر پہنچ کر سکون کا سانس لیا، لیکن میں ایک عجیب کشمکش میں مبتلا تھا کہ آگے کیا ھوگا، کب تک میں اسکول سے بھاگتا رھوں گا، یہ بھی مجھے علم تھا کہ آخر ایک نہ ایک دن تو پکڑا ھی جاؤں گا، مگر کیا کرتا والد کا ڈر دل میں ایسا بیٹھا ھوا تھا کہ ھمت ھی نہیں پڑی کہ ان سے کسی بھی معاملے میں کوئی شکایت یا کوئی رائے دے سکوں -

اسی طرح روز ھی گھر سے بستہ گلے میں ڈال کر نکلتا، سب سے روز کی طرح سلام اور دعائیں لیتا ھوا، اور راستہ ھی میں سوچ کر کسی نہ معلوم منزل کی طرف روانہ ھو جاتا، کبھی سمندر کے کنارے، کبھی بسوں اور ٹراموں میں سفر کرتا ھوا مختلف جگہوں کی سیر کرتا رھا، اس ظرح تقریباً تمام کراچی کی مشہور جگہوں سے بھی واقف ھو چکا تھا، اور ویسے بھی اس وقت کراچی اتنا بڑا نہیں تھا، کئی دفعہ دیر بھی ھوئی، والدہ سے ڈانٹ بھی کھائی، لیکن کوشش یہی رھتی تھی کہ اباجی کے آنے سے پہلے پہلے گھر واپس پہنچ جاؤں -

اب روز بروز فکر بھی لگی رھتی تھی کہ اگر کسی بھی وقت اباجی کو پتہ چل گیا تو قیامت آجائے گی، اسکے علاوہ روز مجھے جھوٹ بول کر والدہ سے کچھ پیسے اینٹھ لیا کرتا تھا کہ آج فلاں فنکشن ھے ٹیچر نے چندہ منگوایا ھے، کبھی پکنک کے بہانے سے، کبھی کتابیں اور کاپیاں کبھی پنسل اور ربڑ کبھی اور ماہانہ فیس میں تو میں نے خود ھی اضافہ بھی کردیا تھا، اسکول کی ضرورتوں کا بہانہ کرکے کچھ نہ کچھ والدہ سے وصول کرلیتا تھا جسکی بعد میں والد صاحب سے رضامندی بھی مل جاتی تھی،کیونکہ والد صاحب یہی سمجھتے تھے کہ میں بہت شوق سے پڑھ رھا ھوں!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!

ایسا لگتا تھا کہ جیسے میں ایک دلدل میں پھنستا چلاجارھا ھوں، ایک دن یا دو دن کی بات تو تھی نہیں، ھر روز جھوٹ پہ جھوٹ کا اضافہ ھوتا جارھا تھا، لکن کمال کی بات تھی کہ میں نے گھر پر کسی کو کسی قسم کا شک بھی نہیں ھونے دیا،اور گھر پر وہی تاثر کہ معمول کے مطابق اسکول کا کام گھر پر کرنا، کتابیں پڑھنا، جس سے والد صاحب کو تسلی رھتی تھی،

یونہی سلسلہ چلتا رھا، اور میں نے اس دوران پورے شھر کو اچھی طرح کھنگال بھی لیا، جسکا مجھے بعد میں مالی فائدہ بھی ھوا، مجھے یہ مکمل طور پر پتہ چل گیا تھا کہ کون سی چیز کہاں ملتی ھے اور کون کون سی مشہور عمارتیں، بازار، اور گھومنے پھرنے کی جگہ کہاں کہاں پر ھیں، اور میری عادت اتنی بگڑ چکی تھی کہ میں تو اب بغیر گھومنے پھرنے کے رہ بھی نہیں سکتا تھا، ایک اور شوق سینما دیکھنے کا بھی لگا لیا تھا، مگر اس کے لئے خاص طور سے کوئی بہانہ کرنا پڑتا تھا، کہ آج اسکول میں فنکشن ھے یا اسکول پکنک پر جارھا ھے وغیرہ وغیرہ !!

اس زمانے میں سنیما کا ٹکٹ چار آنے سے لے کر ایک روپے تک ھوتا تھا اور بلیک اینڈ وہائٹ انڈین اور پاکستانی فلمیں دکھائی جاتیں تھیں اور فلموں کا معیار بھی بہت اچھا تھا، لیکن عموماً بچوں کا فلمیں دیکھنا بہت ھی بُرا سمجھا جاتا تھا، اس وقت عام اوسط طبقہ کی تنخواھیں بھی 50روپے سے لے کر زیادہ سے زیادہ 150روپے ھوا کرتی تھی، اور لوگ بہت خوش تھے اور اچھی طرح گزارہ بھی کرلیتے تھے، ھمارے والد صاحب کی تنخواہ بھی تقریباً 125 روپے تھی، اس میں سے بھی اس وقت کچھ پیسے وغیرہ لوگ جمع ھر مہینے جمع کرلیتے تھے، اس زمانے میں لوگ پوسٹ آفس کے سیونگ اکاونٹ میں پیسہ جمع کراتے تھے، اس کی خاص وجہ ھمارا رھن سہن تھا جو کہ بہت سادہ تھا، عام طور سے لوگ مٹکوں کا پانی پیا کرتے، گھر میں لکڑی کے چولہوں پر اور مٹی کی ھانڈیوں میں کھانا پکتا تھا، پانی ھم لوگ دور سے بھر کر لاتے تھے یا ماشکی کمر کے پیچھے چمڑے کی مشکیزہ اٹھائے چار آنے میں بیچتے تھے - اور جلانے کی لکڑی ٹال والے دو روپے فی من کے حساب سے گھر پہنچا کر جاتے تھے - گرمیوں میں ھاتھوں کے بنے پنکھوں سے اپنا پسینہ خشک کرتے اور صحن میں مچھردانی لگا کر سوتے تھے-

اس بات سے ھم یہ خوب اچھے طرح اندازہ لگا سکتے ھیں کہ اس وقت دودھ کی قیمت 6 آنے سیر ، بڑے گوشت کی قیمت ایک روپے اور چھوٹے گوشت کی قیمت دو سے ڈھائی روپے سیر ھوتی تھی اور چھوٹے بکرے کا گوشت بہت ھی کم کھایا جاتا تھا، مرغی بھی بہت سستی تھی یعن تقریباً شاید دو یا ڈھائی روپے سے زیادہ کی نہیں ھوگی

اسکے علاوہ میرا اسکول کا یونیفارم پانچ روپے سے لیکر زیادہ سے زیادہ دس روپے کا آتا تھا، اور والد صاحب صرف سال میں شاید دو دفعہ سے زیادہ نئے کپڑے نہیں بنائے وہ بھی عید یا بقرعید پر بس، اور سال بھر وھی کپڑے چلتے تھے، اس سے ھم اپنی اس وقت کی سادہ سی پرسکون زندگی کے بارے میں اندازہ لگا سکتے ھیں کہ کم وسائل، کم ضرورتیں، اور محدود خواھشات میں کتنی خوشیاں پوشیدہ تھیں!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!

بات پھر کہاں سے کہاں نکل گئی، معذرت چاھتا ھوں،

میں اس لئے بار بار ساتھ چند ایک ایسے حوالے بھی دیتا ھوں تاکہ لوگ میرے متعلق کوئی غلط رائے نہ قائم کرلیں، جبکہ اس کہانی سے چاھے کوئی بھی ھو منفی انداز میں سوچ سکتا ھے، میرا ایک مقصد یہ بھی ھے کہ ھم اپنی آنے والی نسلوں کی تربیت کیلئے ان تحریروں سے کچھ حاصل کرسکیں -

شاید ھی کوئی اس بات پر یقیں کرے، کہ میرے بچپن کے حالات نے ایسا ایک الگ ھی رُخ موڑا کہ صرف وھی میری یہ حقیقت کو مان سکتے ھیں جو اس وقت میرے ساتھ تھے، اگر وہ اسے پڑھیں تو شاید انہیں یاد بھی آجائے- اس محلے میں اب تک وہ پرانے میرے ساتھ کے چند لوگ اب تک موجود بھی ھیں، جو میری اس حقیقت کو جانتے بھی ھیں اور جب بھی میں وھاں جاتا ھوں تو بہت گرمجوشی سے ملتے ھیں اور ھم پرانی باتوں کو یاد بھی کرتے ھیں، زیادہ تر لوگ اس محلے کو چھوڑ کر یا تو باھر چلے گئے ھیں یا پھر کہیں دوسری جگہ شفٹ ھو گئے ھیں،

لیکن مجھے امید ھے کوئی نہ کوئی تو ضرور پڑھ رھا ھوگا، کچھ رشتہ داروں نے تو پڑھنا بھی شروع کردیا ھے، اور انہیں میرے ان کارناموں پر بہت حیرت بھی ھے، کہ کوئی ایسا بھی دنیا میں موجود ھے جس نے اپنی زندگی کے ھر اچھے اور برے پہلو کو لوگوں کے سامنے ایک کھلی کتاب کی طرح رکھ دیا ھے -

بات ھو رھی تھی کہ میں روز بہ روز ایک جھوٹ کی وجہ سے مشکلات میں دھنستا چلا جارھا تھا، اور اس جھوٹ کو نبھانے کیلئے، مزید جھوٹ پہ جھوٹ بولتا چلا جارھا تھا، والدین بالکل اس بات سے بے خبر مطمئن بیٹھے تھے، اور میں ان کی اس اطمنان ھی کی وجہ سے غلط راستہ اختیار کئے ھوئے تھا، کیونکہ والد کا خوف اتنا تھا کہ یہ سچ کہنے کے قابل نہیں تھا کہ کلاس ٹیچر نے اسکول سے نکال دیا ھے اور بغیر اباجی کے اسکول میں داخل نہیں ھونے دیں گے جبکہ میں بالکل بے قصور تھا یہ سب دوسرے لڑکے جو مجھے نہیں چاھتے تھے، اور ان سب کی یہی کوشش رھی کہ میں بس ٹیچر کا پسندیدہ اسٹوڈنٹ نہ بنوں اور وہ سب مل کر مجھے اپنی کی ھوئی شرارت میرے نام کردیتے تھے اور اس طرح مجھے اسکول سے وہ سب نکالنے میں کامیاب بھی ھوگئے اور یہ بات میں اپنے والد سے بالکل نہیں کہہ سکا اور ان مشکلات میں پھنس گیا -

اب تو روز کی ایک عادت سی ھو گئی تھی، گھر سے اسکول کے لئے نکلنا، کچھ نہ کچھ کوئی نہ کوئی بہانہ کرکے والدہ سے پیسے لےلینا روز کا معمول بن چکا تھا، کیونکہ راستہ کے خرچے جو پورے کرنے تھے، ھر رات دوسرے دن کا منصوبہ تیار کرنا اور صبح ھوتے ھی نئی منزل کی طرف روانہ ھوجاتا تھا، کبھی کبھی تو میرے پاس پیسے بھی نہیں ھوتے تھے مگر یہ شیطانی دماغ کوئی نہ کوئی چکر ضرور چلالیتا، کئی دفعہ بس میں اگر کسی کنڈکٹر نے ٹکٹ کا پوچھتا تو فوراً معصوم شکل بنا کر کہتا کہ لیڈیز میں اماں کے پاس ھے، کئی شریف تو یقین کرلیتے لیکن کچھ تو کیکر کے کانٹے سے بھی زیادہ تیز نکلتے وہ تو فوراً تصدیق کیلئے لیڈیز میں چلے جاتے، میں تو ھر وقت، ھر موقع کیلئے بالکل تیار رہتا، فوراً اس سے پہلے کہ کنڈکٹر واپس آئے میں پچھلے گیٹ سے رفوچکر، بعض دفعہ تو میں چلتی بس سے چھلانگ بھی لگا لیتا تھا اگر بس کی رفتار کم ھوتی جب ورنہ نہیں ، اب تو عادت سی ھوگئی تھی چلتی بس میں چڑھنے اور اترنے کی، کئی دفعہ تو کنڈکٹر کو میں سچ ھی بتا دیتا، کئی شریف ھوتے تو چھوڑ دیتے مگر کئی کیکر کے بیج ھوتے جو بس سے ھی اتار دیتے تھے،

مجھے بھی کافی اندازہ ھوگیا تھا کہ کون سی بس میں کونسا کنڈکٹر ھے اس لئے مین خود بھی احتیاط کرتا تھا کہ کسی خرانٹ کنڈکٹر کے دوبارہ ھتٌے نہ چڑھ جاؤں، ایک دفعہ ایک بس کے کنڈکٹر نے مجھے پکڑ لیا اور ساتھ ایک پولیس والے کے حوالے بھی کردیا یہہ کھ کر کہ یہ لڑکا اسکول سے بھاگا ھوا ھے، بس اپنی تو جان ھی نکل گئی، بڑی منت سماجت کی لیکن اس پولیس والے نے نہیں چھوڑا، مجھے لئے لئے پھرتا رھا اور ٹھیلے والوں سے بھتہ بھی وصول کرتا رھا، اور پھل وغیرہ بھی سمیٹتا رھا، اور مجھے بالکل خاموش رھنے کیلئے کہا، لوگ شاید مجھے اسکا بیٹا سمجھ رھے تھے اور مجھے بھی پیار سے لوگ شاید پولیس والے کے خوف سے یا شاید ترس کھا کر کوئی نہ کوئی چیز کھانے کیلئے دے رھے تھے، میرے تو اور مزے آگئے مگر ساتھ گھبراہٹ بھی تھی کہ اگر یہ واقعی مجھے میرے گھر لے گیا تو میری تو شامت ھی آجائے گی، کافی اس سے جان چھڑانے کی کوشش کی لیکن اس نے تو میرا ھاتھ بہت مضبوطی سے پکڑا ھوا تھا کہ چھڑانا میرے بس کی بات نہیں، اس نے مجھے بھی دھمکی دی تھی کہ ایک روپے کا نوٹ اپنے گھر سے دلادے ورنہ تھانے میں بند کردونگا،!!!!!

ارے بھئی کس مشکل میں جان اٹک گئی، آخر ایک بیت الخلا نظر آیا، مین نے موقع جان کر رفع حاجت کی درخواست کی، اس نے اجازت دے دی اور کہا فوراً جلدی سے فارغ ھوکر آؤ، اور وہ گیٹ پر کھڑا ھوکر وھاں کے خاکروب سے بھی کچھ اینٹھنے کے چکر میں لگ گیا کیونکہ وہاں لوگ کچھ نہ کچھ پیسے خاکروب کو دیتے رہتے تھے، اور خاکروب پولیس والے کو ایک دوسرے کونے مین لے گیا شاید بھتہ دینے کے چکر میں، میں یہ سب اندر راہداری سے سب کچھ دیکھ رہا تھا، موقع کو غنیمت جانا اور چپکے سے نکل لیا اور آگے تھوڑا جاکر سرپٹ دوڑنا شروع کردیا کافی دور جاکر پیچھے دیکھ کر یہ اطمنان کر لیا کہ پولیس والا تو کہیں پیچھے نہیں آرھا، پھر سکون کا سانس لیا اور جب کچھ سانسیں بحال ھوئی تو میں یہ سوچنے لگا کہ یہ پولیس والے تو بھنگیوں کو بھی نہیں بخشتے تو دوسروں کو کہاں چھوڑتے ھونگے !!!!!!!!!!!!!!!

اسکے بعد میں نے اس راستہ پر جانا ھی چھوڑدیا اور ساتھ اپنا بستہ بھی کہیں نہ کہیں چھپا کر جاتا تھا کہ کہیں دوبارہ پھر سے اس پولیس والے سے ٹاکرا ھی نہ ھوجائے اور دوسرا راستہ اختیار کرلیا کہ اس اسٹاپ کے بجائے اب میں نے کینٹ اسٹیشن کی طرف جانا شروع کردیا جو کچھ فاصلہ پر تھا، وہاں بس کے بجائے ٹرام میں سفر کرنے لگا، مگر میں جب بھی کسی پولیس والے کو دیکھتا تھا تو میری جان ھی نکل جاتی کیونکہ تمام پولیس والے مجھے ایک جیسے ھی لگتے تھے!!!!

جاری ھے،!!!!!
--------------------------------------------------------------------------

عبدالرحمن سید
28-01-10, 07:34 PM
اسکے بعد میں نے اس راستہ پر جانا ھی چھوڑدیا اور ساتھ اپنا بستہ بھی کہیں نہ کہیں چھپا کر جاتا تھا کہ کہین دوبارہ پھر سے اس پولیس والے سے ٹاکرا ھی نہ ھوجائے اور دوسرا راستہ اختیار کرلیا کہ اس اسٹاپ کے بجائے اب میں نے کینٹ اسٹیشن کی طرف جانا شروع کردیا جو کچھ فاصلہ پر تھا، وہاں بس کے بجائے ٹرام میں سفر کرنے لگا، مگر میں جب بھی کسی پولیس والے کو دیکھتا تھا تو میری جان ھی نکل جاتی کیونکہ تمام پولیس والے مجھے ایک جیسے ھی لگتے تھے -!!!!!!!

اس وقت اسٹوڈنٹ سفری کارڈ کی سہولت نہیں تھی ورنہ میری سفر کی رینج اور کافی حد تک آگے بڑھ جاتی - اگر میرے پاس اس وقت چار آنے یعنی اُس وقت کے 16 پیسے اور اب کے 25 پیسے ھوتے تھے تو میں پورے کراچی کے شہر کا چکر لگا سکتا تھا اور اگر ایک آنہ مزید ھوتا تو ایک چھوٹا موٹا لنچ کسی بھی تندور والے ڈھابے پر کرسکتا تھا اور اگر لنچ نہ بھی کرتا تو کم از کم اپنے مطلب کی چار چیزیں چاٹ، چورن اور ٹافی وغیرہ ایک پیسے کی ایک، سے گزارا ضرور کر لیتا -

اسکول کے جیب خرچ کے لئے اس وقت ھمیں دو پیسے مشکل سے روزانہ ملتے تھے، اگر ایک آنہ مل جاتا تو ھم خوشی سے پھولے نہیں سماتے تھے اور دوسرے بچوں کو وہ ایک آنہ دکھا کر شو بھگارتے تھے، اور عید بقر عید پر اگر کوئی مہمان اگر عیدی دے تو وہ فی کس دو آنے یا چار آنے سے زیادہ کوئی نہیں دیتا تھا، لیکن وہ بھی والدہ ھم سے واپس لے لیتی تھیں، اسکے بدلے میں صرف ایک آنہ ملتا تھا، اسی میں ھم بچے اس وقت خوش رھتے تھے-

اس وقت کی زندگی میں ایک سکون تھا، ھر کوئی خوش اور مطمئن تھا، کم آمدنی تھی کم خرچہ تھا، پورے سال نئے کپڑے بنے یا نہ بنے لیکن عید کے لئے والدین اپنے بچوں کو نئے کپڑ ے ضرور بنواتے تھے، پورا سال ھم تمام بچے رمضان کی عید اور بقر عید کا بے چینی سے انتظار کرتے تھے، کیونکہ ھم سب بچوں کو نئے کپڑوں کے ساتھ عیدی اور اس کے علاوہ اس دن کچھ آزادی بھی ملتی تھی، اس عید کے دن ھم بچے ایک دوسرے کو اپنے نئے کپڑے دکھاتے پھرتے ھر گھر میں گروپ کی شکل میں بھاگتے پھرتے، بڑے بزرگوں کی دعائیں لیتے، پورا محلہ بچوں کی وجہ سے ایک رونق میلہ کی طرح جگمگا رھا ھوتا، جیسے کسی شادی کا سماں ھو -!!!!

عیدالفطر کے دن ایک دوسرے کے گھروں میں مختلف قسم کی شیرینیاں تقسیم ھوتیں، سیویاں، شیر قورمہ۔ حلوہ جات وغیرہ، اور ساتھ مہمانوں کی ایک دوسرے کے گھر آمد، لوگ مہمانوں کے آنے سے خوش ھوتے تھے اور کافی خاطر مدارات کرتے تھے، اسی طرح بقر عید پر بھی ھوتا تھا فرق صرف اتنا ھوتا کہ مٹھائیوں کے بجائے گوشت گھروں میں تقسیم ھورھا ھوتا، تقریباً ھر محلہ میں جھولے والے، مداری اور دوسرے کھلونے بیچنے والے آجاتے، جس سے محلے کی رونقیں دوبالا ھوجاتیں-!!!!!

ھر گھر میں لوگ اپنے چھوٹے سے صحن میں کیاریاں ضرور لگاتے اور کوئی نہ کوئی جانور یا پرندے پالنے کا بھی بہت شوق تھا ، کچھ تو کبوتربازی کا بھی شوق رکھتے تھے اپنی نازک اور کمزور چھتوں پر اس شوق کو پروان چڑھاتے تھے، ساتھ ڈانٹ بھی پڑ رھی ھوتی تھی -

غرض کہ اس وقت یہ چھوٹی چھوٹی خوشیاں ھم سب کو میسر تھی، اکثر جھگڑا بھی ھوتا تھا کبھی کبھی زیادہ بھی ھوجاتا تھا، گالیوں تک کی نوبت آجاتی تھی لیکن یہ بھی ایک اپنی زندگی کا حصہ تھی، اسکے بغیر بھی زندگی پھیکی لگتی، مگر لوگ فوراً مل جل کر پھر سے ایک دوسرے کو گلے لگاتے اور پھر وھی خوشیاں چہکنے لگتیں، بچے بھی لڑتے شرارتیں کرتیں لیکن بچوں کی وجہ سے والدین یا انکے بڑے کبھی ایک دوسرے سے جھگڑا نہیں کرتے تھے بلکہ اپنے اپنے بچوں کو پیار سے مناتے اور دوسرے بچوں کو بلا کر آپس میں صلح بھی کرادیتے تھے -

میں بھی اسی رونق کا حصہ تھا اور محلے کا ھر فرد دوسرے بچوں کی طرح مجھے بھی پیار بہت کرتے تھے، بلکہ اپنے بچوں کو میری مثال دے کر ڈانٹتے تھے کہ دیکھو وہ بھی تو بچہ ھے اسکول روزانہ جاتا ھے اور کتنے اچھے نمبر لاتا ھے، کیونکہ میں نے ھر ماھانہ ٹیسٹ اور سہہ ماھی، ششماہی امتحانات کو یقینی بنانے کیلئے اپنی طرف سے بازار سے سادہ رزلٹ کارڈ خرید کر ساتھ باھر ھی اپنے ھاتھ سے ھر مضمون میں اچھے نمبر لگاکر اچھی پوزیشن لکھ کر ساتھ ھی اپنی طرف سے کلاس ٹیچر اور ہیڈ ماسٹر کے دستخط کرکے والدہ کو پہلے دکھاتا تو وہ بہت خوش ھوتیں اور پھر والد کو دکھاتیں، میں چھپ کر سنتا کہ کیا بات ھورھی ھے کہیں والد کو شک تو نہیں ھوا مگر کمال ھے اپنی ھنرمندی کی کہ ھر مضمون میں مختلف نمبر لکھتا بلکہ ایک دو مضمون میں نمبر کم بھی کردیتا اور ساتھ لکھتا کہ ( اس مضمون میں سخت محنت کی ضرورت ھے) جسکی ڈانٹ ابا جی سے مجھے پڑتی بھی لیکن اس وعدہ پر جان چھوٹ جاتی کہ اگلی دفعہ اچھے نمبر لاؤنگا اور واقعی اس وعدہ کو پورا بھی کرلیتا اور یہ سب کچھ میرے ھی ھاتھ میں تھا، کیونکہ اسکول بھی میں،!!! اسٹوڈنٹ بھی میں،!!! ھیڈماسٹر بھی میں!!! اور استاد بھی میں،!!!! اور سب سے بڑھ کر استادوں کا استاد بھی میں،!!!!!!

تعجب اس بات کا تھا کہ والد صاحب کو کبھی شک بھی نہیں ھوا کہ اسکول کی مہر کہاں ھے اور لکھائی بھی میری وہ پہچان نہیں سکے، جبکہ وہ یہ کہتے بھی تھے کہ میں تمھارے اسکول تمہارے ٹیچر کا شکریہ ادا کرنے ضرور آؤنگا، مگر میں گھبرا جاتا اور دعا کرتا کہ وہ اسکول کبھی نہ آئیں، یہ سوچ کر میری جان ھی نکل جاتی-

لیکن اس وعدہ پر جان چھوٹ جاتی کہ اگلی دفعہ اچھے نمبر لاؤنگا اور واقعی اس وعدہ کو پورا بھی کرلیتا،!!!!!

میں نے تو اسکول کے بہانے کہیں اور ھی رونق لگائی ھوئی تھی، اور محلے میں کسی کو بھی اس بات کی خبر نہ تھی کہ میں باھر کیا گل کھلا رھا ھوں جبکہ مجھے اس کا انجام کا پتہ تھا کہ جس دن کسی نے دیکھ لیا اور اباجی کو پتہ چل گیا تو میرا حشر کیا وہ کریں گے اس کا اندازہ میں جانتا تھا، مگر بکرے کی ماں کب تک خیر منائے گی، اتفاق یہ دیکھیں کہ جب سالانہ امتحان کے نتیجہ کا وقت آیا تو ابا جی کو شک ھوا اور انہوں نے خاموشی سے جاکر اسکول میں معلومات حاصل کی، انہیں وہاں کیا ملتا، وہاں تو میرا نام و نشان ھی نہ تھا !!!

نہ جانے اسکول کا ایک پورے سال کا پانچویں کلاس کا مکمل سیشن اتنی جلدی کیسے گزر گیا کہ پتہ ھی نہ چلا، اب وہ وقت سامنے تھا کہ کبھی بھی کچھ بھی میرے لئے ایک خطرناک صورتحال پیش آسکتی تھی -
اب تو روز بروز میری پریشانیوں میں اضافہ ھوتا چلا جارھا تھا کہ نہ جانے کس وقت میرا سارا بھانڈا پھوٹ جائے، سالانہ امتحانات ختم ھوچکے تھے، میں نے بھی جعلی طریقوں سے پچھلے سہ ماھی اور ششماھی امتحانات کی طرح یہ سالانہ امتحانات بھی دے چکا تھا، اس وقت امتحانات کے پیپر سائکلواسٹایئل کی مشین سے پرنٹ ھوتے تھے، بس ایک دفعہ سائکلواسٹائل پیپر کو ٹائپ کرکے مشین میں ڈالدیں اور اپنے حساب سے جتنی بھی کاپی چاھئے، نکال سکتے تھے- اور اکثر بک اسٹالز پر پرانے امتحانات کے پیپرز وغیرہ پریکٹس کےلئے ملتے تھے،

اسی کا میں نے فائدہ اٹھایا، اور انہیں مختلف مضامیں کے پیپرز کر خرید کر اسکے پرانے سال کو احتیاط کے ساتھ کالی سیاھی سے نئے سال میں تبدیل کرکے اور لڑکوں سے مکمل امتحانات کا ٹائم ٹیبل پوچھ کر باقائدہ تمام امتحانات ایک پارک میں بیٹھ کردیئے اور ساتھ ھی انکے نمبرز بھی خود دیئے اور بعد میں وھی نمبر بازار سے سادہ کارڈ پر لکھ کر گھر پر دکھاتا رھا، ابا جی نے بھی کوئی شک نہ کیا، جبکہ اگر وہ کسی کو دکھاتے یا تھوڑا سا بھی دماغ پر زور ڈالتے، تو انہیں معلوم ھو جاتا، وہ باقائدہ ان پیپرز کا دوبارہ مجھ سے ھر سوال کا جواب چیک کرتے رھے، جسکی میں پہلے ھی سے تیاری کرلیتا تھا اور مطمئین ھوجاتے، اسکے علاوہ وہ تمام محلے کے لوگوں سے بھی میری بہت تعریف کرتے رھتے، ساتھ ھی انہیں مجھ جیسی اولاد پر فخر بھی تھا، اور دوسری طرف میں انکے بھروسے اور انکے خوابوں کی تعبیر کو چکنا چور کرتا چلاجارھا تھا !!!!!!!!!!!!!!!

آخر وہ دن آھی گیا جس کا ڈر تھا، میرے سالانہ امتحان کے رزلٹ کارڈ بنانے سے پہلے ھی والد صاحب اچانک اسکول پہنچ گئے، وہاں پہنچ کر پانچویں کلاس میں پہلے مجھے ڈھونڈتے رھے، میں ھوتا تو ملتا، کسی کو بھی میرے بارے میں معلوم نہیں تھا، پھر سیدھا ہیڈ ماسٹر کے کمرے میں پہنچ گئے، اور وہ بھی سیدھا دفتر سے اپنی فوجی وردی میں پہنچے، ہیڈ ماسٹر بھی گھبرا گئے کیونکہ اس وقت مارشل لا کا دور چل رھا تھا، یہ ساری تفصیل کا علم مجھے بعد میں اپنے والد کی زبانی ھی معلوم ھوا، وہ جب تک فوج سے ریٹائر نہیں ھوئے اس واقعہ کا ذکر بار بار کرتے رھے، جب تک کہ میرے سدھرنے کا انکو مکمل یقین نہیں ھوگیا -

ھیڈماسٹر نے فوراً کلاس ٹیچر کو اپنے کمرے میں بلوایا اور تمام تفصیل بتائی، تمام رکارڈ پانچویں کلاس کا طلب کیا، تمام تحقیق کے بعد والد صاحب کو بتایا گیا کہ جناب آپ کے صاحبزادے کا تو داخلے کے ایک مہینے بعد ھی غیرحاضری اور نامناسب رویہ کی وجہ سے اسکول سے نام خارج کردیا گیا تھا اور تعجب ھے کہ آج اتنے عرصہ کے بعد اپنے بچے کی خیریت معلوم کرنے آئے ھیں، جبکہ سالانہ امتحان کے نتیجہ کو بھی نکلے ھوئے بھی ایک ہفتہ سے زیادہ گزر چکا ھے، بہت افسوس کی بات ھے اور نہ جانے انہیں کیا کیا کہتے رھے، اور میں نے شاید دو دن کے بعد کا کہا تھا کہ پرسوں تک نتیجہ نکلے گا -
وہ اس وقت ساری روداد ھیڈماسٹر اور کلاس ٹیچر کی زبانی سنتے رھے اور اندر ھی اندر غصہ کو برداشت کرتے رھے، اور ان سے کہا کہ میں اسی وقت اسے ڈھونڈ کر لاتا ھوں اور آپ اسے میرے سامنے یہ تمام تفصیل بتائیے گا، وھاں سے سیدھا وہ گھر پر آئے، اور اتفاق سے میں کچھ ناساز طبیعت کا بہانہ کرکے گھر پر ھی موجود تھا، والد صاحب گھر پر پہنچے اور حسب معمول میں نے کوئی خاص تاثر نہیں لیا کیونکہ کبھی کبھی دفتر سے گھر کسی کام سے آکر واپس چلے جاتے تھے، ویسے میری چھٹی حس مجھے خبردار کررھی تھی کہ بیٹا آج چھری کے نیچے آئے ھی آئے، بہت خیر منالی -

والد صاحب نے واقعی نہ جانے کس طرح اپنے غصٌہ کو قابو میں کیا ھوا تھا، بالکل بھی یہ محسوس نہیں ھونے دیا کہ ان پر کیا بیت رھی ھے، میرے پاس بڑے پیار سے آئے اور کہنے لگے کہ کیوں بیٹا آج اسکول نہیں گئے، میں نے بھی جواباً کہا کہ اباجی آج کچھ طبعیت ٹھیک نہیں ھے اور ویسے بھی آج کل سالانہ رزلٹ کی تیاری کی وجہ سے بھی کوئی پڑھائی نہیں ھو رھی، اباجی نے بڑے اطمناں سے جواب دیا کوئی بات نہیں، چلو ذرا میرے ساتھ بازار، کچھ تمہیں گھر کا سودا دلادوں، پھر میں واپس دفتر چلا جاؤنگا،

میں نے کپڑے تبدیل کئے اور ان کے ساتھ چل پڑا، لیکن راستہ میں یہی سوچ رھا تھا کہ اباجی کی آواز میں کچھ تبدیلی سی لگ رھی تھی اور جو وہ کہہ رھے تھے زبان انکا ساتھ نہیں دے رھی تھی، وہ بالکل خاموش آگے آگے چل رھے تھےاور میں انکے پیچھے، دل نے ویسے گھبرانا شروع بھی کردیا اور مجھے ان کی چال اور خاموشی سے کچھ کچھ یہ یقین ھوتا جارھا تھا کہ آج دال میں کچھ کالا ضرور ھے -

جیسے ھی انہوں نے میرے اسکول کی طرف رخ موڑا، اور میں اس سے پہلے کہ بھاگنے کی کوشش کرتا فوراً انہوں نے مضبوطی سے میرا ھاتھ پکڑ لیا، کہاں میرے نازک ھاتھ اور کہاں انکے فوجی ھاتھ، کوشش کے باوجود چھڑا نہ سکا اور وہ مجھے اپنی تیز رفتاری سے اسکول کے ھیڈماسٹر کے کمرے میں اجازت لیئے بغیر ھی اندر داخل ھو گئے!!!!!!!!،

ھیڈماسٹر کے کمرے سے واپسی کا سفر اپنے گھر تک اور گھر پر میرے والد صاحب کے ہاتھوں سے میرا جو حشر ھوا وہ بہت ھی دردناک اور خوفناک حدکے پار تھا، اور سونے پر سہاگہ یہ کہ تمام محلے والوں کو بلا کر اور میرے تمام محلے کے دوستوں بمعہ انکے پورے خاندان کے، گھر کے صحن کے عین درمیان میں، میں اور اباجی اور چاروں طرف تمام محلے کا مجمع، جیسے کوئی مداری کا تماشہ ھورھا ھو -

مجھے اس وقت اپنی وہ تمام حرکتیں ایک اسکرین کی طرح سامنے یاد آتی جارھی تھیں، جسکی وجہ سے مجھے آج یہ دن دیکھنا پڑرھا تھا؛ اور سب سے زیادہ شرمندگی اس بات کی تھی کہ سب لوگوں کے سامنے میری کیا عزت رہ جائے گی، کتنا محلے والوں کو مجھ پر فخر تھا، اپنے بچوں کو ان کی ھر غلطی پر میری مثالیں دیتے تھے -

آج وھی مثالی بچے کی ساری عزت اترنے والی تھی!!!!!!!!!!!!!!

دس پندرہ منٹ تک سب محلے والوں کا انتظار بھی کیا اور سب کے سامنے میری تمام حرکتوں کے بارے میں تفصیل سے بتایا ساتھ یہ بھی اعلان کیا کہ اگر کوئی بھی میرے بیٹے پر اگر ترس کھا کر اگر بچانے آئے گا تو وہ بھی ساتھ اسکے سزا پائےگا، ساری دنیا خاموش تھی لیکن میری والدہ اور بہنیں زور زور ست چیخ چیخ کر رو رھی تھی، جنہیں اباجی نے گھر میں بند کردیا تھا مگر وہ کھڑکی سے سب کچھ دیکھ رھی تھیں ، اور لوگوں سے رو رو کر یہی کہہ رھی تھی کہ خدارا میرے بچے کو بچاؤ ورنہ وہ مر جائے گا !!!

ماں ماں ھوتی ھے اس کی عظمت کو سلام، میں تو اپنے کئے ھؤے حرکتوں کی سزا بھگتنے کو تیار تھا، لیکن ماں کو اپنے بیٹے کی ایک ذرا سی بھی تکلیف برداشت نہیں تھی!!!!!!!!!

سارے لوگ خاموش تھے اور اس میں سے بھی کئی لوگوں نے کوشش بھی کی مجھے بچانے کیلئے مگر اباجی کا غصہ دیکھ کر واپس پیچھے ھوگے اور تماشہ دیکھنے کو تیار کھڑے ھوگئے ایک دائرہ بنا کر !!!!!!!!!

آج اس وقت بھی میری آنکھوں میں آنسو آرھے ھیں، سارا منظر میری آنکھوں کے سامنے نظر آرھا ھے،

جب ھیڈماسٹر صاحب کے کمرے سے ساری اپنی روداد سن کر نکلے تو اب تو یہ طے تھا کہ جو حشر اپنا ھونا تھا، واپسی پر سارے راستے میں پٹتا ھوا آیا، ساتھ بہت سی بڑی بڑی گالیاں سنائی دیں جو میں نے زندگی میں کبھی نہین سنی تھیں، مگر میں بالکل خاموشی سے پٹتا ھوا گرتے پڑتے جارھا تھا ساتھ اوئی ھائے کی آوازیں بھی منہ سے نکل رھی تھیں، اب تو شکنجہ میں آھی گئے تھے، اور بکری کی ماں کی خیر کا وقت بھی ختم ھوچکا تھا ، کچھ اتنے عرصہ میں ڈھیٹ پنا بھی آچکا تھا، آخر کب تک، ایک نہ ایک دن تو یہ وقت آنا ھی تھا، جس کے لئے میں پوری طرح تیار تھا، بھاگنے کا بھی پروگرام تھا لیکن بھاگ کر کہاں جاتا، اس چھوٹی سی عمر میں بہت مشکل تھا -

بس گھر پہنچتے ھی اباجی نے مجمع لگالیا، جیساکہ میں نے پہلے لکھا تھا اور زندگی میں، میں کبھی بھی اس واقعہ کو بھول نہیں سکتا، شاید ھی کوئی ایسا ھوگا جس کے ساتھ یہ سلوک ھوا ھوگا، بہرحال میں مجمع کے درمیان صحن کے بیچوں بیچ اور اُوپر سے والد صاحب کا شدید ترین غصہ جو شاید ھی میں نے کنھی دیکھا ھو، اور ان کے ھاتھ میں ایک اچانک پتہ نہیں کہاں سے چھڑی ھاتھ لگ گئی، میری تو جان ھی نکل گئی، پھر میرے نزدیک جیسے ھی آئے میری تو چیخ ھی نکل گئی، فوراً ھی میرے کپڑے زبردستی اتاردیئے اور اوپر سے پانی کا چھڑکاؤ کردیا، ساری مٹی کیچڑ میں تبدیل ھوگئی اور پھر انہوں نے آؤ دیکھا نہ تاؤ، چھڑی کی برسات مجھ پر کردی، ساتھ پانی کا چھڑکاؤ بھی جاری رھا اگر میری جگہ کوئی اور ھوتا تو شاید مر ھی جاتا،!!!!!

اتفاقاً باھر سے کوئی دو تین آدمی بھاگتے ھوے آئے اور والد صاحب کو برا بھلا کہتے ھوئے مجھے آن کے ھاتھوں سے چھڑاکر عورتوں کے حوالے کردیا اس وقت میں کیچڑ میں لت پت اور بری طرح سسکیاں لے رھا تھا، ان آدمیوں نے شاید تمام مجمع کو بھی خوب لعن طعن کی اور سب کو بھگا دیا اور وہ والد صاحب کو باھر لے گئے اور مجھے بعد میں پتہ چلا کہ والد صاحب بھی آنسوؤں سے رو رھے تھے، وہ لوگ تو میرے لئے فرشتے نکلے ورنہ تو میرا کام تمام ھو ھی جانا تھا -

مجھے اس وقت تھوڑا سا ھوش آیا جب مجھے چند عورتیں مل کر نہلا رھی تھیں اور پھر مجھے نہلا دھلا کر بستر پر لٹا دیا گیا، والدہ مجھے اپنے گود میں سر رکھ کر بہت رو رھی تھیں ساتھ چند خاص محلے کی عورتیں بھی تھیں اور وہ سب والدہ کو دلاسہ بھی دے رھی تھیں اور اندر کمرے میں آنے کی اجازت کسی کو بھی نہیں تھی جبکہ باھر پورے محلےکا مجمع لگا ھوا تھا، انہیں فرشتہ صفت لوگوں نے فوراً قریبی ڈاکٹر کو بلوایا، اس نے اایک انجکشن لگایا، ساتھ جگہ جگہ دوائی بھی لگائی اور کچھ دوائیاں بھی اسی وقت پلائی،

ڈاکٹر صاحب یہ سمجھے کے شاید میرا کوئی حادثہ وغیرہ ھوگیا ھے، کیونکہ میری حالت ھی کچھ ایسی تھی، آنکھیں سوجی ھوئی، جسم پر ھرطرف چھڑی کے مار کے نشان، منہ بھی سوجا ھوا ایسا لگتا تھا کہ جیسے باکسنگ کے رنگ سے کوئی باکسر ناک آوٹ ھو کر نکلا ھو ، میرا پورا جسم بری طرح درد کررھا تھا، آنکھیں کھل نہیں رھی تھیں، بہرحال ڈاکٹر نے تسٌلی دے دی تھی کہ کوئی خطرے کی بات نہیں ھے -

باھر سب کو مجھ سے ملنے کی بےچینی لگی ھوئی تھی، کسی کو بھی اس بات کا یقین نہیں تھا کہ میں ایسا بھی کر سکتا ھوں، کیونکہ میں ‌تقریباً ھر گھر میں مقبول تھا اور ھر کوئی میرے ساتھ ھی کھیلنا چاھتا تھا، اور میں اس وقت تک سب بچوں کا ایک ھیرو تھا، میں جب ان کے ساتھ نہیں ھوتا تو کوئی منظم کھیل نہیں ھوتا تھا، سب میرے لئے افسردہ تھے -

رات کو والد صاحب میرے پاس آئے اور مجھے گلے سے لگالیا ساتھ انکی آنکھوں میں آنسو بھی تھے، میں بھی انہیں دیکھ کر رو پڑا !!!!!

اس سے پہلے کہ میں اپنی کہانی کو اگلے موڑ میں داخل کروں، میں چاھتا ھوں کہ اس وقت کے چند مختصراً سخت قسم کے رسم و رواج بتاتا چلوں، جو اب اس معاشرے میں بہت ھی کم نظر آتے ھیں!!!!!!!!!!

آج والد صاحب کو ھم سے بچھڑے ھوئے تقریباً 18 سال سے زیادہ ھوچکے ھیں، لیکن ان کی یاد اکثر بہت تڑپاتی ھے، وہ جتنے غصہ والے تھے اتنا ھی وہ دل کے اندر سے نرم تھے، لیکن غصہ کے وقت انہیں کچھ بھی دکھائی نہیں دیتا تھا جو کہ بالکل غلط تھا مگر اس وقت کے لحاظ سے آج کی بنسبت لوگوں کا رجحان اپنے بچوں کی تربیت کےلئے بالکل ھی مختلف تھا، اس وقت ھر خاندان میں جو بھی بزرگ تھے سب انکا بہت احترام کرتے تھے اور ھر کوئی انکے ھر فیصلے پر اپنا سر جھکا دینا ھی اپنی سعادتمندی سمجھتا تھا، چاھے وہ فیصلہ غلط ھی کیوں ھی نہ ھو، یہاں تک کہ خود والد اپنے بچوں یا کسی اور مسلئے میں بھی کوئی فیصلہ نہیں کرسکتا تھا اگر بچوں کے دادا حیات ھوں، اب بھی کئی خاندانوں میں یہی رواج چل رھا ھے،

اسوقت میں نے اپنے بچپن کے دور میں والدہ کو بھی سب کے ساتھ کھانا کھاتے نہیں دیکھا، سب سے پہلے وہ ھم سب بہں بھائیوں اور ساتھ والد کےلئے کھانا لگاتی تھیں اور خود ھاتھ کا پنکھا لئے سب کو اپنے ھاتھوں سے ھر ایک کی پلیٹ میں ضرورت کے مظابق دال یا گوشت کا سالن ڈالتی رھتیں، اور ھم سب ان ھی کی ھدایت پر بہت ھی کفایت شعاری سے کسی بھی سالن کو روٹی یا چاول کے ساتھ استعمال کرتے تھے، وہ ھر ایک کو برابر برابر کھانا تقسیم کرتی تھیں، اور ضرورت سے زیادہ مانگنے پر ڈانٹ بھی پڑتی، مگر میں کچھ زیادہ ھی اسرار کرتا اور اکثر کہہ بھی دیتا “وہ ھانڈی میں سالن بچا ھوا تو ھے وہ مجھے کیوں نہیں دیتیں“ بعض اوقات وہ بھی مجھے اپنی مامتا کی محبت میں وہ ھانڈی بھی صاف کر کے میری پلیٹ میں ڈال دیتیں، مگر میں اس سے بےخبر رھتا کیونکہ وہ سب سے آخر میں سب کو کھانا کھلانے کےبعد اکیلی چولھے کے پاس بیٹھ کر کھانا کھاتیں، اگر کچھ بچ گیا تو ورنہ وہ خالی کل کی باسی سوکھی روٹی ھی، اچار یا چٹنی سے لگا کر کھاتیں، مگر وہ کبھی کسی سے کچھ نہیں کہتی تھیں !!!!!!!!!! اور ھم سب اس سے بےخبر اپنی ھی دھں میں مگن رھتے -
کیا ماں کی ممتا کی عظمت ھے، اسے لاکھوں سلام !!!!

اُس وقت ماں کے اوپر ھی سارے گھر کا دارومدار ھوتا تھا گھر کی ساری صفائی سے لیکر کھانا پکانے اور کھلانے تک، بمعہ شوھر اور بچوں کی ھر ضرورت اور خدمت کو پورا کرنے میں سارا سارا دن وہ مشغول رھتیں، چاھے وہ کتنی ھی تکلیف میں کیوں نہ ھو، ابھی بھی کئی مائیں اپنی اسی پرانی ڈگر پر چل رھی ھیں، جس کی وجہ سے کئی گھروں کا سکون ابتک قائم ھے، ورنہ اجکل کی زیادہ تر عورتیں تو بچوں کے سامنے ھی طلاق کا مطالبہ کرتیں ھیں، دوسری باتیں تو چھوڑیں، انہیں نہ اپنے شوھر سے کوئی غرض ھوتی ھے نہ ھی اپنے بچوں سے جس کے ذمہ دار مرد حضرات بھی ھیں، چاھے غلطی کسی کی بھی ھو -

پہلے ایسا بہت ھی کم ھوتا تھا کہ بچوں کے سامنے کوئی بھی میاں بیوی آپس میں لڑائی جھگڑا کریں، بڑوں کی اگر کوئی بات بھی ھورھی ھو تو ھمیں بھگا دیا جاتا تھا، لیکن میں اکثر اسی فراق میں لگا رھتا تھا کہ کیا بات ھورھی ھے، اکثر یہ بھی دیکھا گیا کہ اگر میاں بیوی کے بڑے بزرگ اگر ساتھ موجود ھوں تو مجال ھے کہ گھر کی بہو ان کے سامنے اپنے شوھر کے ساتھ بیٹھ جائے یا زور زور سے باتیں کرے، بلکہ دیکھا گیا ھے کہ اکثر گھر کی عورتیں بزرگوں کے سامنے بیٹھتی تک نہیں تھیں اور بس ھاتھ کا پنکھا لئے انھیں گرمیوں میں جھلا کرتیں تھیں، اور بچے بالکل ادب سے ان سب کا احترام کرتے اور باھے نکلتے ھی اپنی اوقات میں آجاتے یعنی شور ھنگامہ شروع ھوجاتا،!!!!!

میں یہ تو نہیں کہہ سکتا کہ اُس وقت کے دور میں کوئی خرابی ھی نہیں تھی، کچھ اچھائیاں تھیں تو کچھ یقیناً برائیاں بھی ھونگی، لیکن جو کچھ بھی مجھ پر گزری یا جو کچھ بھی میں نے اس وقت دیکھا اور جو بھی مجھے یاد ھے میں پوری ایمانداری سے اپنی اس تحریر میں منتقل کرتا جارھا ھوں، میں کچھ ماضی کے خوابوں سے جڑے چند یادوں کا مختصر سا تعارفی خاکہ پیش کررھا ھوں، جو آگے تفصیل سے بیان کرونگا -

ایک وقت وہ بھی تھا جب میں نے اپنے ایک دوست کے ساتھ مل کر اس شوق کو اپنے مستقبل کے کیرئیر کی طرف راغب کرلیا تھا، میرے دوستوں میں ایک دوست جو بہتریں اردو اور انگلش کے ھر قسم کے رسم الخط لکھنے میں ماھر تھے، ان کے ساتھ مل کر “حسنی آرٹس اینڈ پینٹرز“ کے نام سے ایک دکان کھولی اور وہ ایک معاش کا بھی ذریعہ بھی بن گیا، جہاں ھمیں دکانوں کے مختلف سائن بورڈ، سینماوں کے فرنٹ اور چھوٹے اشتہاروں کے بورڈ، سینما سلائڈز وغیرہ بنانے کے کافی آرڈر ملتے تھے اور خاص طور سے الیکشن کے زمانے میں تو ھماری چاندی ھوتی تھی، کیونکہ اس وقت ھمیں انکے بڑے چھوٹے بینرز اور پمفلٹ لکھنے کے منہ مانگے دام ملتے تھے،

اس وقت تمام لکھائی زیادہ تر اردو میں ھی ھوتی تھی، اردو لکھائی سے زیادہ تو میں تصویریں بڑے بڑے بورڈز پر اپنے ھاتھ سے ھی پینٹ کیا کرتا تھا، جو کہ بچپن سے ھی مجھے اردو خوشخطی کے ساتھ ساتھ تصویریں بھی بنانے کا بے حد شوق تھا مگر والد صاحب کو میرا یہ شوق پسند نہیں تھا، اس کے ساتھ ایک اور بھی شوق اسٹیج ڈرامے ترتیب دینا اور منعقد کرنا بھی بچپن سے ھی شوق رھا، اس کے علاؤہ کالج کے میگزین میں بھی کوشش رھی کچھ افسانے لکھنے کی، لیکن وہ بھی زیادہ دن نہ چل سکا اور کچھ اخباروں اور دوسرے ادبی اور فلمی رسالوں کی زینت بننے کی بھی کوشش کی اس کے علاوہ ایک آدھ فلم کے اسکرین پلے لکھنے کا موقع بھی ھاتھ لگا وہ بھی والد صاحب کے غصہ کی نذر ھوگیا، یہ بھی ایک لمبی کہانی ھے، جو اپنے تسلسل کے ساتھ ھی منظرعام پر آئے گی- اور ساتھ ھی اپنے پیار اور محبت سے جڑی ایک لمبی داستان جس کے خواب کی تعبیر نہ مل سکی، اس دور سے جب میں گزرونگا تو شاید سب کو اس میں اپنے اپنے خواب بھی نظر آجائیں -

پہلے گلی محلوں میں بچوں کے ساتھ مل کر چھوٹے چھوٹے مزاحیہ خاکوں کی ابتدا کی پھر ساتھ ھی تمام محلے کے بچوں اور بہن بھائیوں کو لے کر ریڈیو پاکستان جاتا رھا، جہاں پہلے ھی سے “انٹری پاس“ لے کر بچوں کے پروگراموں میں حصہ بھی لیتا تھا اور اپنے علاؤہ تمام بچوں کی آواز کا آڈیشن یعنی ٹیسٹ کرواکر پروگرام میں قومی نغمے، حمد اور نعتیں سنانے میں حصہ دلواتا بھی تھا جو براہ راست نشر بھی ھوتے تھے اور تمام محلہ کے لوگ ریڈیو پر ھم سب کو براہ راست سنتے بھی تھے یہاں تک تو اجازت ملی،
لیکن جب بڑے ھوکر ھم سب دوستوں نے مل کر شوقیہ اسٹیج شوز شروع کئے تو بہت ھی مشکل پیش آئی کیونکہ والد صاحب کو یہ قطعی ناپسند تھا -!!!!!

جسے مجبوراً والد صاحب کی تنبیہ پر ھر اپنا ادب آرٹ اور مصوری کو 18 سے 20 سال کی عمر کے درمیان میں خیر باد کہنا پڑا اور انہیں کے پیشے سے منسلک ھوکر رہ گیا اور اب تک اکاونٹس کے پیشے میں ھی ھوں،

کہانی پھر سے وہاں سے شروع کررھا ھوں جہاں سے سلسلہ ٹوٹا تھا،!!!!!!

رات کو والد صاحب میرے پاس آئے اور مجھے گلے سے لگالیا ساتھ انکی آنکھوں میں آنسو بھی تھے، میں بھی انہیں دیکھ کر رو پڑا !!!!!!!!!!!!!

میری اس وقت بھی سسکیاں نکل رھی تھیں، پورے جسم میں بہت درد تھا، لیکن جب اباجی نے گلے لگایا تو اس درد کا احساس کچھ قدرے کم ھوا، انکی آنکھوں میں جو آنسو امڈ رھے تھے اس سے پہلے کبھی میں نے انہیں اس حالت میں نہیں دیکھا،

وہ اپنی گھُٹی ھوئی آواز میں یہی بول رھے تھے کہ “ تو مجھے کیوں تنگ کرتا ھے، مجھے آج سے اپنا دوست سمجھ اور ھر بات مجھے اچھی یا بری بات ضرور بتایا کرو“ اور شاید یہ بھی کہ رھے تھے کہ مجھے معاف کردینا بیٹا،!!!!!

اس دن کے بعد انہوں نے مجھے ڈانٹا ضرور لیکن کبھی ھاتھ نہیں اٹھایا، اسی وجہ سے میرے اندر بھی شاید ایک تبدیلی سی آگئی تھی-!!!!!!!

اب مسلئہ یہ تھا کہ محلے میں مجھے کسی کے گھر جاتے ھوئے بھی ایک شرمندگی محسوس ھوتی تھی - کافی دنون تک اپنے آپ کو گھر میں ھی مقیٌد رکھا آہستہ آہستہ جب کچھ طبعیت سنبھلی، تو والد صاحب بہت پیار سے مجھے اسی پرائمری اسکول میں لے گئے اور پانچویں کلاس میں داخلہ دلادیا - شاید کوئی پھر سے مجبوری رھی ھوگی یا کہیں داخلہ نہ مل سکا ھو -

وھاں جاکر میں نے دیکھا کہ حالات کچھ بدل سے گئے ھیں، شکر ادا کیا جب میں نے ان لڑکوں کو وہاں نہ پایا، کیونکہ سب وہاں سے رخصت ھوگئے تھے یعنی چھٹی کلاس کیلئے انہیں دوسرے سیکنڈری اسکول میں داخلہ لینا پڑا ھوگا، اور یہ دیکھ کر اور بھی زیادہ خوشی ھوئی کہ وہاں کا ماحول بھی بہت بہتر نطر آتا تھا، لیکن بعد میں مجھے کلاس کے مانیٹر شعیب، جو میری پچھلے سال کی کہانی جانتا تھا، اس نے مجھے بہت تسلی دی اور میں اس لڑکے کا شکر گزار ھون کہ اس نے اس کلاس میں میرے علاوہ کسی کے ساتھ بھی زیادتی نہیں ھونے دی اور بعد میں میرا اچھا دوست بن گیا، اس کے علاوہ اور بھی دوست تھے لیکن یہ مجھے سب سے اچھا لگا، بعد میں دو اور دوست حسیب بیگ اور حفیظ اللٌہ بھی بنے تھے جو میرے لئے ایک مشعل راہ ثابت ھوئے اور خوش قسمتی سے انکا ساتھ دوسرے سیکنڈری اسکول میں بھی رھا،

دوبارہ میں نے ایک بالکل نئے جذبے کے ساتھ پڑھائی شروع کی وہاں کے کلاس تیچر شفیع صاحب نے خوب محنت سے پیار سے اور ایک منظم طریقہ کار سے ھمیں پڑھانا شروع کیا جس کےلئے مجھے خود حیرانگی ھورھی تھی کہ کیا یہ وھی اسکول ھے یا کوئی خواب دیکھ رھا ھوں

اللٌہ کا شکر تھا کہ جن سے پہلے میں نظریں چرارھا تھا اب کچھ نظریں ملا کر بات کرنے لگا تھا، لیکن کچھ ایسے بھی تھے کہ مجھ سے اب تک نالاں تھے اور اپنے بچوں کو مجھ سے دور رکھتے تھے، جس کا مجھے بہت دکھ ھوتا تھا، جن بچوں کا میں ھیرو کہلاتا تھا اب میں ان کے لئے بالکل زیرو تھا، وہ اکثر میرا مذاق اڑاتے اور میں اپنی گردن نیچے کئے خاموشی سے انکے سامنے نکل جاتا، میرا دل تو بہت چاھتا تھا کے پھر سے پہلے کی طرح میں ان کے ساتھ کھیلوں، لیکن اب ان کی نظر میں میری وہ عزت نہیں رھی تھی،

یہ اللٌہ تعلیٰ کا لاکھ لاکھ شکر تھا کہ اب پڑھائی بہت اچھی چل رھی تھی اور روزانہ باقاعدگی سے اسکول جارھا تھا اور ساتھ ساتھ ماہانہ ٹیسٹ اور دوسرے سہہ ماھی اور ششماھی امتحانات بھی اچھے نمبروں سے اچھی پوزیشن حاصل کی شاید کلاس مین ساتویں یا آتھویں پوزیشن پر رھا، میرے کلاس کے دوستوں نے بھی میرا بہت اچھا ساتھ دیا، اب تو والد صاحب بھی اسکول کا چکر لگاتے تھے اور کلاس ٹیچر اور ھیڈ ماسٹر صاحب سے ملکر میری طرف سے تسلی پا کر چلے جاتے تھے، اور اکثر ھر دوسرے تیسرے روز گھر پر مجھے وہ پڑھاتے بھی تھے، مگر اب تک محلے میں چند ایک کو میرا اب تک یقیں نہیں آیا تھا کہ واقعی میں اب سدھر گیا ھوں،

چھ مہینے گزرنے کے بعد بھی میں اپنے محلے میں اپنا اعتماد بحال نہیں کرسکا تھا، شام کو میرا دل بہت چاھتا کہ میں سب کے ساتھ کھیلوں اور خوب باتیں کروں جو بھی میرے ساتھ بات بھی کرنے آتے تو سب انکا بھی مذاق اڑانے لگتے، والدیں اس سے بے خبر تھے اور میں نے بھی انہیں کچھ نہیں بتایا تھا اور اب گھر پر پہلے کی طرح کوئی محلے کے بچوں کی رونق نہیں تھی، بہرحال مجھے اس بات کا بہت دکھ تھا، والدہ مجھے کافی وقت دیتی تھیں اور ھمیشہ میرے بجھے ھوئے دل کو بہلانے کی کوشش میں لگی رھتی لگتا تھا کہ میری ماں کو میرے اندرون دل کی حالت پتہ تھی -

اب تو میں کتابوں اور اسکول کی حد تک محدود ھوکر رہ گیا تھا، میں گھر آکر باھر نکلنا بھی چھوڑدیا تھا صرف والد صاحب کے ساتھ ھی باھر سودا وغیرہ لینے نکلتا تھا، کیونکہ ان کے سامنے محلے کے بچے مجھے چھیڑنے سے گریز کرتے تھے، میرے دل میں اہستہ آہستہ ایک بزدلی کا خوف بیٹھتا جارھا تھا، اسکول جاتے وقت اور واپسی پر بھی مین ڈرتا ڈرتا باھر نکلتا تھا اور تیز تیز چلتا تھا تاکہ کوئی مجھے کوئی پیچھے سے آواز نہ کسے یا چھیڑے، اور اس طرح روز بروز بجھے لگتا تھا کہ میں ایک نفسیاتی مریض بنتا جارھا ھوں، سوتے سوتے میں اکثر چیخ مار کر اٹھ جاتا تھا اور والدہ میرے پاس دوڑ کر آتیں اور گود میں میرا سر رکھ کر مجھ پر پڑھ کر دم بھی کرتی تھیں اور پھر میں انکی گود میں سر رکھ کر سوجاتا تھا- پھر مجھے سلا کر چادر اڑھا کر پھر وہ بھی سو جاتی تھیں، بعد مین سب کچھ ٹھیک ھو گیا لیکن وہ خواب میں چیخ کر ڈر کے اٹھنے کی بیماری ابھی تک نہیں گئی -!!!!!

خیر اب تو میں دس سال کی عمر میں داخل ھورھا تھا اور دل اب تک بےچین تھا کئی دفعہ کوشش بھی کی باھر جاؤں لیکن ھمت نہیں پڑتی تھی، والدہ بھی باھر بھیجنے کی کوشش کرتیں لیکن دروازے سے جاکر واپس آجاتا، آخر ایک دن کچھ ھمت پکڑی اور باھر نکلا اور جیسے ھی بڑی گلی میں داخل ھوا تو کچھ نے مجھے دیکھ لیا اور شروع ھوگئے میرا مذاق اڑانے اور ایک نے تو میرے نزدیک آکر کچھ برے الفاظ کہے اور مجھے دھکا دے کر لگا میرے گریبان میں ھاتھ ڈالنے،!!!!!

اس سے پہلے کہ وہ میرے گریبان کو چھوتا ایک لڑکی میرے اور اسکے درمیاں آگئی اور زور کا چانٹا اس لڑکے کے منہ پر دھر دیا اور وہ لڑکا اپنے گال سہلاتا ھوا بھاگ کھڑا ھوا، میں ایک دم گھبرا گیا کہ یہ کون سی ھستی آگئی، پہلے تو یہ چہرہ یہاں کبھی نہیں دیکھا تھا، مجھ سے عمر میں بڑی بھی لگ رھی تھی اور الٹا مجھے ڈانٹنے لگی کہ تم کتنے بزدل ھو اس لڑکے کا مقابلہ نہیں کرسکتے، میں کیا جواب دیتا میں تو پہلے ھی ھکا بکا ھو کر اسے دیکھ رھا تھا کہ اسے مجھ سے ھمدردی کیسے ھو گئی جان نہ پہچان شاید کسی کہ مہمان آئے ھوئے ھوں،

اس سے پہلے کہ میں کچھ اور ذہن پر زور ڈالتا، اس نے فوراً میرا ھاتھ پکڑا اور وہ جیسے ھی مڑی اسکے پہچھے شاید اسکی چھوٹی بہن کھڑی نظر آئی جو دیکھ کر مجھے مسکرارھی تھی، وہ چھوٹی سی مجھے بڑے غور سے اور مسکراتے ھوئے دیکھ رھی تھی اور جسے دیکھ کر ایک عجیب سی میرے دل میں ایک خوشی کی لہر دوڑ گئی، !!!!!!!!!!!!!

وہ بڑی میرا ھاتھ پکڑے آگے آگے چل رھی تھی اور چھوٹی پیچھے پیچھے مسکراتی چل رھی تھی میں حیران پریشان، سوچتا ھوا ان کے ساتھ چل رھا تھا کہ یہ کون ھو سکتی ھیں؟؟؟؟؟

جاری ھے،!!!!

عبدالرحمن سید
28-01-10, 08:13 PM
وہ بڑی میرا ھاتھ پکڑے آگے آگے چل رھی تھی اور چھوٹی پیچھے پیچھے مسکراتی چل رھی تھی میں حیران پریشان، سوچتا ھوا ان کے ساتھ چل رھا تھا کہ یہ کون ھو سکتی ھیں ؟؟؟؟؟؟

میں تو پہلے ڈر ھی گیا کہ کہیں یہ مجھے پکڑ کر میرے گھر میری شکایت کرنے جارھی ھیں، اور واقعی وہ بڑی مجھے پکڑے میرے گھر ھی لے گئی، وہاں ان کی والدہ میری والدہ کے ساتھ بیٹھی باتیں کررھی تھیں اور بڑی تو فوراً تنک کر بولی کہ خالہ اپنے اس لاڈلے بیٹے کو سمجھا دیں کہ گلی میں فالتو لڑکوں کے منہ نہ لگا نہ کرے، چھوٹی تو اپنی اماں کے پاس خاموشی سے بیٹھ گئی اور میں اپنی والدہ کے کہنے پر ھاتھ منہ دھونے اور کپڑے بدلنے چلاگیا کیونکہ اس لڑکے کی مڈبھیڑ کی وجہ سے کچھ حالات خراب ھوگئی تھی -!!!!!

ًمیں بالکل شش وپنج میں تھا کہ یہ آخر ماجرا کیا ھے اور یہ کون ھیں کہاں سے آئی ھیں اور مجھے کیسے جانتی تھیں کہ راستے میں ھی مجھے پکڑ اس لڑکے سے جان چھڑا کر گھر لے آئیں، بعد میں والدہ ھی سے معلوم ھوا کہ جو پچھلے مہینے میں دوسری گلی کے نکڑ والے مکان میں نئی فیملی آئی ھے، یہ وھی لوگ ھیں، میں زیادہ پنچایت میں بھی نہیں گیا، اس وقت مجھے کسی کے تعارف کا بھی کوئی شوق نہیں تھا میں اور کوئی مزید تفصیل میں پڑے بغیر اپنی پڑھائی کی طرف لگ گیا،!!!!!

اب تو بالکل باھر جانے کو دل نہیں کرتا تھا، سب پرانے دوست اب ویسے ھی مجھ سے دور رھتے تھے، حالانکہ میرا دل بہت چاھتا تھا کہ میں دوبارہ سے ان کے ساتھ مل کر کھیلوں اور پہلے کی طرح محلے کی رونق بنوں، والدین میری خاموشی سے بہت پریشان تھے، کیونکہ میرا اب روز کا معمول صرف اسکول جانا، گھر پر کھانا کھانا اور کچھ دیر اپنے ھی بہن بھائیوں کے ساتھ صحن میں کھیل کر اپنی پڑھائی میں لگ جانا، اس کے علاوہ بس اپنے اوپر ایک خاموشی کا لبادہ اوڑھ لیا تھا اور ایک چپ سی لگا لی تھی، بس یہی سوچتا رھتا تھا کہ اب میں سب کی نظروں میں کیوں اتنا گر گیا ھوں، اور روز بروز ایک نفسیاتی مرض کا شکار ھوتا جارھا تھا اور کمزوری بھی محسوس کررھا تھا اکثر سوتے میں ڈر کر اٹھ جانا روز کا معمول بن چکا تھا -!!!!!

اباجی ھمیشہ گھر میں دو تیں بکریاں اور کئی مرغیاں ضرور پالتے تھے، اوراس وقت ھم بچوں نے بکری کا دودھ کثرت سے پیا، ان ھی میں سے جب بکری کے بچے جب بڑے ھوجاتے تو ایک بکرا قربانی کے لئے تیار کرتے تھے، لیکن قربانی کے وقت ھم سب کو رونا آجاتا تھا کیونکہ پورا ایک سال ھم ان بکری کے بچوں سے اتنا مانوس ھوجاتے تھے کہ ان کی کوئی تکلیف دیکھی نہیں جاتی تھی، اسکے علاوہ اباجی خود ھی شام کو بکریاں چرانے چلے جاتے تھے اور کبھی کبھی ھم بچے بھی مل کر ساتھ ھو لیتے تھے،!!!!

لیکن جب سے میں نے خاموشی اختیار کی وہ کچھ زیادہ پریشاں ھوگئے اور بعض اوقات تو میرے ھاتھ پیر ٹھنڈے پڑ جاتے اور میں والدہ کی گود سر رکھ کہتا امی دیکھو مجھے کیا ھورھا ھے، سورہ یاسین پڑھنے کیلئے کہتا کبھی زیادہ طبیعت خراب ھوتی تو ھمارے نئے محلے دار کے یہاں سے بلوالیتی، وھاں سے دونوں لڑکیاں اور ان کی اماں ساتھ کبھی کبھی ان کی نانی اماں بھی لاٹھی ٹیکتی ھوئی پہنچ جاتیں، پھر دیسی ٹوٹکے سے علاج شروع ھوجاتا، ھماری والدہ بھی ان لوگوں کے آنے سے کچھ سکون میں نطر آتیں، اور قدرتی میری طبعیت بھی ٹھیک ھو جاتی،!!!!!

آھستہ آھستہ میں اور ھمارے سب گھر والے اس فیملی سے مانوس ھوتے جارھے تھے اور بالکل ایسا لگنے لگا تھا جیسے آپس میں ھم لوگ کوئی بہت قریبی رشتہ دار ھوں!!!

شاید ایک وجہ یہ بھی رھی ھو کہ والدہ کو ان سے ایک بہت میری طبعیت کے حوالے سے ایک فکر ختم ھوگئی تھی کیونکہ ان کے ساتھ کی وجہ سے میں کچھ بہتر ھوتا جارھا تھا اور زیادہ تر ھمارے گھر پر وقت گزارتیں دوسری وجہ ان کا کوئی بیٹا نھیں تھا اور شاید ان کی والدہ کو میرے روپ میں ایک بیٹا دکھائی دے رھا ھو -

پھر بڑی باجی کے اصرار پر ھم تینوں باھر بھی کھیلنے کیلئے نکلنے لگے لیکں شروع شروع میں مجھے بہت ڈر لگا تھا باھر کے لڑکوں کی وجہ سے اور احساس محرومی کا شکار تھا، لیکن بڑی باجی کی وجہ سے بہت کچھ ھمت آگئی تھی اور دوبارہ میں اس قابل ھوگیا تھا کہ کسی بھی آنکھ میں آنکھ ڈال کر بات کر سکتا تھا، اس طرح میں آھستہ آھستہ مجھ میں خود اعتمادی بھی آگئی تھی اور اب ھمارے گروپ میں اور لڑکے اور لڑکیاں بھی شامل ھو گئے، جو کبھی میرے خلاف چلے گئے تھے، لیکن پھر بھی چند لڑکے اب تک مجھ سے نالاں تھے، مگر انکی ھمت نھیں پڑتی تھی کہ ھمارے گروپ کو پریشان کریں،

یہ مکمل تبدیلی ان دونوں نئی لڑکیوں کی بدولت ھی تھا کیونکہ ان کا رویٌہ بہت اچھا تھا اور وہ بہت ھی سلجھی ھوئی باتیں کرتیں تھیں اس کے علاوہ انہوں نے تمام بچوں میں نئے نئے کھیلوں کا اضافہ کرایا، اس محلے میں اس وقت صرف دو یا تین گھروں میں ریڈیو ھوا کرتا تھا اور ھم سب بچے شام کو کھیل کود کے بعد ان کے گھر ریڈیو سننے جاتے تھے، خاص طور سے اس وقت ھفتہ کی رات کو “اسٹوڈیو نمبر9“ رات کے 9 بجے ھی ریڈیو پاکستاں سے ایک نیا ڈرامہ نشر ھوتا تھا اور ھر منگل کی شب 9 بجے یا ساڑے 9 بجےمختلف مزاحیہ خاکوں پر مبنی ایک پروگرام “دھنک“ آیا کرتا، جس کا نام بعد میں “کہکشاں“ ھوگیا تھا، یہ ھم تمام پروگرام ان کے گھر بیٹھ کر سنتے تھے،

ٹیلیویژن کے بارے میں اس وقت کوئی تصور بھی نہیں تھا، لیکن یہ ضرور بڑے تعجب سے یہ سنا کرتے تھے کے ولایت میں ایک ریڈیو ایسا بھی ھے جس کے سامنے فوٹو بھی نظر آتی ھے، ھماری بڑی باجی تو اب سب کی لیڈر بن چکی تھیں اور انکی زبان سے جو الفاظ نکلتے تھے وہ بہت ھی زیادہ شائستہ اور مودب ھوتے تھے، اس کے علاوہ ان دونوں کے رکھ رکھاؤ اور ان کے نفیس اور صاف ستھرے لباس، جس کی وجہ سے سب بچے ان سے مرعوب بھی تھے، ان کی دوسری پوزیشن میں انکی چھوٹی بہن تھی، وہ بھی باتیں بہت کرتی تھی اور ساتھ وہ بھی اپنی بڑی بہن کی طرح خوش مزاج مگر تھوڑی سی خودار قسم کی یعنی کسی کو زیادہ خاطر میں میں نہیں لاتی تھی،

بہرحال کم از کم اس بات کی تو خوشی تھی کہ ان کی وجہ سے اس محلے کے بچوں کو ایک سدھرنے کا موقعہ مل گیا تھا اور ان کے والدین بھی خوش تھے، اس کے علاوہ وہ بچوں کو بنیادی تعلیم کا بھی درس پڑھاتی بھی رھیں، غرض کہ وہ ھر ایک کو بولنے کا صحیح طریقہ کار اس کے صحیح تلفظ بیانی پر بہت زیادہ زور دیتی تھیں، بچوں کو تفریحی طور پر چھوٹے چھوٹے ڈرامے کھیل اور قومی نغمے کی پریکٹس بھی کراتیں تھیں، جس کی وجہ سے میں نے بچوں کو ریڈیو پاکستان کے بچوں کے پروگراموں میں لےجانا شروع کیا، جہاں پر اس وقت، بڑے بڑے فنکاروں ظفرصدیقی، منی باجی، ارش منیر، عبدالماجد، محمود علی، ظلعت حسین اور دوسروں کے ساتھ بچوں کے پروگراموں مین حصہ بھی لیتے رھے،!!!!!

ھمارے محلے کی رونق بھی کچھ زیادہ بڑھ گئی بچوں کو ایک نئی طرز کے کھیلوں میں دلچسپیاں بڑھ رھی تھیں جس میں معلوماتی باتیں بھی تھیں بہت کم بچے تھے جو ھمارے ساتھ نہیں تھے، ھر عید پر بچوں کا ایک رونق میلہ لگ جاتا اور محلے کے بچوں کی ایک اکثریت سلیقہ شعار اور پڑھنے کی طرف رجحان زیادہ ھوگیا، پھر ھم تینوں ھی مل کر تمام بچوں کی ٹیم کی نگرانی کرتے اور کھیل کے وقت کھیل اور پڑھائی کے وقت پڑھائی کرنا شروع ھوگئے اور محلے والوں کی نظر میں وھی مقام جو پہلے کبھی تھا واپس مجھے مل گیا اور اب تو ھمیں بہت عزت دیتے تھے، لوگ پرانی باتوں کو بھول چکے تھے اور ھم تینوں ھی اس وقت سب کے استاد تھے،!!!!!

اباجی اب بہت مطمئین تھے، والدہ بھی بہت خوش تھیں، اسی دوران والد صاحب نے ایک پرچون کی دکان کھول کر میری ذمہ داری میں ایک اور مزید اضافہ کردیا، جو عین محلے کی درمیان تھی، اسکول بھی ساتھ ساتھ بہت اچھا چل رھا تھا اور ھر چیز اپنے معمول پر آگئی تھی، ایک محلے میں اپنی ایک دکان کا اضافہ ھوگیا تھا اور جس کی وجہ سے میرا اب زیادہ تر وقت دکان پر ھی گزرتا تھا اور کچھ بہت سی نئی کہانیوں نے کئی رخ موڑے جس کا آگے ذکر کرونگا-!!!!!!

جب سے دکان کھلی، شروع میں تو کچھ دنوں تک والد صاحب کے ساتھ ٹریننگ کرتا رھا بعد میں جب ریٹ وغیرہ کا صحیح طور پر اندازہ ھوگیا تو میری ڈیوٹی کا ایک مستقل شیڈول بن گیا روزانہ اسکول سے گھر آتا کھانا وغیرہ کھاکر سیدھا دکان کھولتا، لکڑی کے کھوکے کی طرح دکان تھی، بیٹھتے ھی ھلکے سے جھکولے کھانا شروع کردیتی تھی پہلے دکان کے نیچے کا پلڑا کھولتا تھا جو اپنے دو پایوں پر ٹکتے تھے، پھر اوپر کا پلڑا نیچے والے پلڑے کا اوپر کھڑے ھوکر کھولتا تھا اور پھر نیچے کے پلڑے پر تمام بچوں کی ٹافیاں اور بسکٹ وغیرہ کی برنیاں ترتیب سے سجا دیتا اور ساتھ ھی ایک ترازو جو ایک اسٹینڈ کے ساتھ تھا اسی لکڑی کے پلڑے پر درمیان میں رکھ لیتا اور اندر دکان کے سارے سامان پر ایک دفعہ کپڑا مار کر صفائی بھی کرتا اور جب تک ایک اچھی خاصی بھیڑ لگ جاتی اور ایک شور مچ جاتا، سب اتنی جلدی میں ھوتے کہ ھر ایک یہی کہتا کہ میں پہلے آیا تھا مجھے پہلے دو -!!!!

اس محلے میں یہ ایک ھی پہلی دکان تھی، جو لوگوں کی خواھش پر اباجی نے کھولی تھی، اباجی جب دفتر سے واپس گھر آتے تو سب سے پہلے سیدھا دکاں پر ایک نظر مارتے ھوئے گھر پہنچ جاتے اور گھر جاکر کچھ دیر کیلئے آرام کرتے اور عصر کی نماز پڑھ کر دکان کا رخ کرتے تو جاکر کہیں میری جان چھوٹ جاتی، اس وقت تک اپنی بچوں کی ٹیم میرا انتطار کرتی رھتی اور دکاں کے چاروں طرف منڈالاتی رھتی اس طرح ایک لالچ بھی ان کو دکان کے پاس رکھتی کیونکہ اکثر میں ان میں ٹافیاں اور بسکٹ وغیرہ تقسیم بھی کرتا رھتا، سارا دن ٹوٹے بسکٹ اور ٹافیاں وغیرہ جو ٹوٹ جاتیں میں الگ کرتا جاتا اور ابا جی کو دکھا کر لے جاتا اور ھم سب بچے مل جل کر کھاتے، لیکں تھوڑی ساتھ بےایمانی یہ کرتا کہ خود بھی ھاتھ سے بسکٹ ٹافیاں توڑ لیتا تاکہ تمام دوستوں میں پوری ھوجائے-

عصر اور مغرب کے درمیان خوب کھیلتے اور مغرب کے بعد گھر پہنچ کر ھاتھ منہ دھو کر یا کبھی نماز پڑھ کر سیدھا کتابیں پڑھنے بیٹھ جاتے، محلے میں ایک چھوٹی سی مسجد بھی تھی، جہاں چھوٹے بڑے سب پانچوں وقت کی نمازیں بھی پڑھتے تھے اور رمضان کے مہینے میں تو بہت ھی زیادہ رونق ھوتی تھی، ھر گھر سے کچھ نہ کچھ مسجد میں مغرب سے پہلے ھی مختلف قسم کے پکوان پکوڑے، سموسے، آلو چھولے، دھی بڑے اور روح افزا، نورس، اور لیمن اس کے علاوہ نہ جانے کیا کیا جمع ھو جاتا، اور روزہ کھولتے وقت اور نماز کے بعد بھی ھم سب بچے کھاتے ھی رھتے، پھر کھیل میں لگ جاتے، جب تک عشاء اور تراویح کا وقت ھوجاتا پھر تراویح کے ختم ھوتے ھی فوراً گھر کا رخ کرتے کھا پی کر سو جاتے، صبح سحری میں خاص طور سے اٹھتا تھا کبھی روزہ رکھ لیتا کبھی نہیں مگر افطاری کے وقت بغیر کسی عذر کے پہنچ جاتا، اور سارے دوست بھی وہیں موجود ھوتے، رمضانوں میں دکان کے اوقات ذرا مختلف ھوتے تھے،

دکان میں ابا جی نے ادھار لینے والوں کیلئے ایک الگ رجسٹر کھولا ھوا تھا، مجھے خاص طور سے یہ تاکید تھی کہ کبھی بھی ادھار کسی ایسے کو مت دینا جس کا کہ رجسٹر میں نام نہ ھو، مگر بعض اوقات چھوٹے بچے یا ان کی اماں اکر منت سماجت کرتیں جن کو ادھار دینے سے منع کیا ھوا ھوتا، میں بالکل ان کی باتوں سے مجبور ھوکر ادھار سودا دے تو دیتا لیکن رجسٹر میں نہیں لکھتا تھا، بس اسی طرح اکثر لوگ مجھ سے ناجائز فائدہ اتھاتے، کوئی نہ کوئی دکھڑا سنا کر مجھ سے سودا لے جاتے،

والد صاحب بھی اتنا زیادہ خیال نہیں کرتے تھے شام کو وہ آکر حساب کتاب بھی کرتے اور دن بھر کی جو بھی کمائی ھوتی کچھ ریزگاری چھوڑ کر باقی اپنی جیب میں رکھ لیتے، ایک ادھ دفعہ پکڑا بھی گیا کہ ایک دم وہ آگئے جب میں کسی کو بغیر لکھے ادھار سودا پکڑا رھا تھا، بس پھر دو چار ڈانٹ کھانی اور آیندہ کے لئے محتاط رھنے کے وعدہ پر جان چھوٹ جاتی، وہ بھی اکثر درگزر کردیتے تھے کیونکہ وہ خود بھی کافی لوگوں کی اسی طرح مدد کیا کرتے تھے مگر مجھے یہ ضرور تاکید کرتے کے بیٹا اگر کسی کو بغیر لکھے دیتے ھو تو مجھ سے پوشیدہ مت رکھو، اور کبھی جھوٹ مت بولا کرو -

لیکن میں بھی اکثر نمکین بسکٹ اور کچھ پسندیدہ ٹافیاں چپکے چپکے کھاتا ھی رھتا تھا، اور میرے دکان پر گاھک سے زیادہ مفت خورے موجود ھوتے تھے ، میں بھی انہیں کچھ نہیں کہتا تھا بلکہ مجھے ان پر ترس آتا تھا اور میں ‌ان کی مطلوبہ ضرورت پوری بھی کردیتا تھا، کیونکہ وہاں پر اکثریت کافی غریب لوگوں کی تھی -

ایک دفعہ ایک کباڑی والا میرے پاس آیا اور کہنے لگا کہ “تمھاری اماں نے ترازو منگایا ھے کیونکہ وہ کچھ ردی پیپر بیچنا چاھتی ھیں اور میرے پاس ترازو نہیں ھے میں نے بغیر تصدیق کئے ترازو اسے تھما دیا ادھر سودا تولنے کیلئے مجھے پریشانی ھورھی تھی، جب کافی دیر ھوگئی تو مجھے فکر ھوئی کہ کہیں کچھ گڑبڑ تو نہیں فوراً دکان سے اتر کر کسی دوست کو شاید بٹھا کر گھر بھاگا، اماں سے پوچھا کہ آپ نے ترازو منگایا تھا، انہوں نے کہا کہ نہیں، میری تو جان ھی نکل گئی اس سے پہلے کہ وہ کچھ کہتیں میں سرپٹ دوڑا اور اس کباڑئیے کو دھونڈنے نکل گیا، ایک محلے سے دوسرے محلے کافی دور نکل گیا لیکن اس کا کہیں پتہ نہیں چلا، میں بہت پریشان اب کیا کروں اباجی کو کیا جواب دوں گا، میں اب گھر جانے سے بھی ڈر رھا تھا !!!!!!!!!!!

وھاں اباجی اور دوسرے لوگ پریشان مجھے ڈھونڈتے پھر رھے تھے اور والدہ بےچاری گھر پر میرے لئے رو رھی تھیں !!!!!!!!!!!!!

خوامخواہ ایک نئی مصیبت گلے لگالی، تھک ھار کر واپس اپنے گھر کی طرف واپس نکلا، اس کمبخت کباڑی والے کو ڈھونڈتے ڈھونڈتے جو میرا ترازو دھوکے سے میری دکان سے لے گیا تھا، شام ھونے کو آئی تھی اور میں کافی دور نکل گیا تھا، خیر واپس گھر پہنچتے پہنچتے تقریباً عشاء کا وقت ھوچلا تھا، کچھ تو سمجھے کہ میں ڈر کر شاید چھپ گیا ھوں، جب میں گھر پہنچا تو سب کی جان میں جان آئی، بہرحال والد صاحب کو غصہ تو نہیں آیا، میں تو ڈر ھی گیا تھا کہ کہیں گھر پر جا کر ڈانٹ ھی نہ پڑے، لیکن شکر ھے کہ سب نے گلے لگالیا،
دوسرے دن اباجی نیا ترازو لے آئے، پھر سے وھی رات اور دن معمول کے مطابق گزرنے لگے،روزانہ کی طرح ھر شام کو پھر وھی دوستوں کے ساتھ کھیل میں مشغول ھوگئے، ساتھ گھر پر جو اباجی نے بکریاں پالی ھوئی تھیں، انھیں بھی نزدیکی میدان میں لے جاتا اور ساتھ ھی اپنے دوستوں کے ساتھ کھیلتا بھی رہتا، مغرب ھوتے ھی واپس بکریوں کو لے کر واپس گھر آجاتا -

پانچویں کلاس کے سالانہ امتحاں بھی نزدیک تھے، اور ھم چند دوست جو پانچویں کاامتحان دے رھے تھے اپنی بڑی باجی کی نگرانی میں خوب زور شور سے امتحان کی تیاری میں لگ گئے وہ شاید اس وقت چھٹی کلاس میں تھیں اور چھوٹی شاید پانچویں کلاس میں پڑھ رھی تھی، ھم سب نے اب ایک اپنا کھیلنے اور پڑھنے کا شیڈول بنا لیا تھا، کھیل کا وقت ھم سب نے بہت مختصر کرلیا تھا، اور سب کچھ بڑی کی ھدایت پر ھی ھوتا تھا -

سالانہ امتحان ھوگئے اور اس دفعہ میرے ساتھ ساتھ باقی سب بچے جو پڑھ رھے تھے بہت اچھے نمبروں سے پاس ھوئے اور بہت کم ھی بچے تھے جو ناکام رھے اور انہوں نے ھمارے ساتھ تیاری بھی نہیں کی تھی اور کئی تو بالکل پڑھنے جاتے ھی نہیں تھے، وہ کیا کامیاب ھونگے -

دل میں ایک بہت خوشی تھی کہ اب میں نئے اسکو ل میں جاؤنگا اور والد صاحب بھی میرے اس نتیجہ کی وجہ سے بہت خوش تھے، چھوٹے بہن اور بھائی تو ابھی پرائمری میں چھوٹی کلاسوں میں ھی تھے والد صاحب مجھے سیکنڈری اسکول لے گئے اور وھاں دو تین دن کی تگ و دو کے بعد میرا ٹیسٹ ھوا اور میرا داخلہ چھٹی کلاس میں ھوگیا، مجھے بہت خوشی ھوئی،

1960 کا زمانہ اور10 سال کی عمر، ایک نیا اسکول، نئی کلاس، اور نئے دوست !!!!!! مگر چلو شکر ھوا کہ پرائمری اسکول کا دور ختم ھو گیا،!!!!!!!!
__________________
جاری ھے،!!!!!

عبدالرحمن سید
30-01-10, 09:51 AM
دل میں ایک بہت خوشی تھی کہ اب میں نئے اسکو ل میں جاؤنگا اور والد صاحب بھی میرے اس نتیجہ کی وجہ سے بہت خوش تھے، چھوٹے بہن اور بھائی تو ابھی پرائمری میں چھوٹی کلاسوں میں ھی تھے والد صاحب مجھے سیکنڈری اسکول لے گئے اور وھاں دو تین دن کی تگ و دو کے بعد میرا ٹیسٹ ھوا اور میرا داخلہ چھٹی کلاس میں ھوگیا، مجھے بہت خوشی ھوئی،

1960 کا زمانہ اور10 سال کی عمر، ایک نیا اسکول، نئی کلاس، اور نئے دوست !!!!!!



آج میرا چھٹی کلاس میں ایک نئے سیکنڈری اسکول میں پہلا دن تھا، گھر سے اسکول تو کچھ فاصلے پر تھا، لیکن خوشی میں پیدل آتے ھوئے اتنی جلدی اسکول پہنچ گیا کہ پتہ ھی نہیں چلا، پہنچتے ھی اپنے اسکول کی عمارت کی طرف دیکھا تو مجھے ایک فخر سا محسوس ھورھا تھا، کیونکہ ایک تو بہت بڑی ڈبل اسٹوری بلڈنگ اور دوسرے اس وقت کے لحاظ سے ایک بہت خوبصورت علاقے میں اس کا وجود تھا، ھر طرف خوبصورت بازار اور سجی سجائی دکانیں اور ساتھ ھی ایک سے ایک حسین بنگلے، اور نذدیک ایک ایرکنڈیشنڈ سینما گھر بھی تھا -

نئے سیکنڈری اسکول میں جاکر تو ایک بالکل ھی نیا ماحول پایا، میں نے اپنی کلاس کے دروازے کے اوپر نام ششم (ب) لکھا دیکھا، کیا ایک عجیب سی خوشی تھی، میں خود کو بھی ایک بڑا بڑا محسوس کر رھا تھا، نیا نیا اسکول کا یونیفارم، قمیض کی جیب پر اسکول کا ایک خوبصورت مونوگرام بنا ھوا، نئے چمکتے کالے جوتے، بار بار ان جوتوں پر سے گرد بھی جھاڑتا رھتا، بچپن سے ایک عادت سی تھی اپنے آپ کو صاف ستھرا رکھنے کی، اس میں میری والدہ کا بہت ہاتھ تھا وہ ھمیشہ ھر شام کو میری اسکول کی تیاری مثلاً یونیفارم، جوتے وغیرہ کو اچھی طرح پہلے سے ھی چیک کرلیتی تھیں اور میں بھی ٹایم ٹیبل کے مطابق دوسرے دن کیلئے اپنے اسکول کے بستے کو تیار کرلیتا تھا -

کلاس روم کی کرسیاں اور میزیں بھی ایک ترتیب سے چار لاٰئنوں میں لگی ھوئی تھیں، وہاں اسکول بلڈنگ کے درمیان ایک خوبصورت سرسبز پارک بھی تھا، غرض کہ اسکول کی ھر چیز مجھے اچھی لگی، ایک اچھی بات تھی کہ لڑکوں کے اسکول کا وقت دوپہر ایک بجے سے شروع ھوتا تھا اور لڑکیوں کو صبح صبح سات بجے کے قریب پہنچنا ھوتا تھا - اسکول کی بلڈنگ کے چاروں طرف ایک بہت لمبی چوڑی باونڈری وال تھی، جہاں ایک طرف کافی پھیلا ھوا صاف ستھرا میدان تھا جہاں ھاف ٹائم میں یا پی ٹی کے پیریڈ میں لڑکے مختلف کھیلوں سے لطف اندوز ھوتے تھے،

میں نے اس اسکول میں کافی محنت سے پڑھائی کی یہاں پانچ سال کا عرصہ ایک مستقل مزاجی سے اور خوب محنت کرکے گزارا اور میٹرک سیکنڈ ڈویژن سے پاس کیا، جو میرا ایک رکارڈ رھا تھا کہ ایک ھی اسکول میں خوب دل لگا کر محنت سے 1960 سے لیکر 1965 تک بغیر کسی وقفہ اور کسی مشکل کے، پورے پانچ سال اطمنان سے مکمل کئے، کچھ تھوڑی بہت شرارتوں کا بھی ساتھ رھا لیکن وہ قابل قبول تھا -

ان پانچ سالوں میں 10 سال کی عمر سے لیکر 15 سال کی عمر تک کس طرح میں نے اپنی زندگی کا سفر طے کیا، بچپن سے لڑکپن کی طرف میری زندگی نے کیا کیا دلچسپ موڑ لئے، وہ سب اگے لکھوں گا، مگر ھو سکتا ھے کہ وقت اور تاریخ کا صحیح اندازہ نہ ھو کیونکہ ذہن میں تو سب کچھ اچھی طرح محفوظ ھے، لیکن حالات اور واقعات کا صحیح وقت کا تعین کرنا ذرا مشکل ھوگا، میں اپنی کوشش ضرور کرونگا کہ ایک بہتر اور صحیح تسلسل کو قائم رکھ سکوں !!!!!!!!!!!!!
پوچھتے پوچھتے جب اپنی نئی کلاس میں جیسے ھی اندر داخل ھوا، کیا دیکھتا ھوں کہ آگے کی تمام سیٹوں پر پہلے ھی سے لڑکوں نے قبضہ کیا ھوا تھا اور زیادہ تر بھاری بھرکم، شاید ان کا کھاتے پیتے گھرانے سے تعلق تھا، اس لئے بغیر کچھ شکوہ کئے میں خاموشی سے پیچھے نکل گیا اور ایک مجھ جیسے ھی دبلے پتلے لڑکے کے اشارہ پر اسکے ساتھ بیٹھ گیا، اور وہ ھی وہاں پر میرا پہلا دوست بنا، ایک ایک ڈیسک پر تین لڑکے ایک ساتھ بیٹھنے کی گنجائش تھی، پھر ایک اور معصوم سا لڑکا ھماری ھی طرح چشمہ لگائے کلاس میں داخل ھوا، وہ بھی اگے جگہ نہ پا کر پیچھے ھماری ھی طرف آتا ھوا دکھائی دیا، اسے بھی ھم نے اشارہ کرکے اپنے پاس ھی جگہ دے دی -

مگر افسوس کی بات یہ تھی کہ ھم تینوں کی ڈیسک سب سے پیچھے تھی اور سامنے بلیک بورڈ بھی صحیح طرح نطر بھی نہیں آرھا تھا، جو چشمے والا دوست تھا اسے بھی نظر نہیں آرھا تھا تو ھم دونوں کو کیا نظر آتا، خیر کچھ ھی دیر میں کلاس ٹیچر، جن سے پہلے ھی والد صاحب کے ساتھ ایک چھوٹا سا تعارف بھی ھوچکا تھا، جناب شیخ سعید صاحب ایک گریں سا گؤن پہنے اندر تشریف لے آئے، فوراً تمام کلاس کھڑی ھوگئی، انہون نے بیٹھنے کا اشارہ کیا اور سب سے پہلے انہوں نے حاضری لی او پھر باری باری پوری کلاس کا تعارف لیا ساتھ ھی اپنا بھی مختصراً تعارف کرایا، لمبے سے قد اور سر کے اوپر آگے سے کچھ گنجا پن، مگر لگتے ھنس مکھ تھے کیونکہ انہوں نے جس طرح ہنستے مسکراتے ھوئے اپنا تعارف کرایا ھم سب بہت خوش تھے، وہ کلاس ٹیچر کے ساتھ انگلش کے شعبہ کے انچارج بھی تھے -

ھر ایک گھنٹے کے بعد ایک نئے مضمون کے ٹیچرز آتے گئے اور سب کے ساتھ اپنا بھی تعارف کراتے رھے، ھمیں اپنے حساب سے ایک اردو کے ٹیچر جن کا نام حسبٌر صاحب اور ایک تاریخ کے ٹیچر جنہیں شاہ صاحب کہتے تھے، دونوں بھی کلاس ٹیچر سعید صاحب کے بعد بہت زیادہ پسند آئے، کیونکہ یہ تینوں بہت زیادہ لڑکوں میں گھل مل جاتے اور ہنس ہنس کر باتیں کرتے تھے، باقی کچھ زیادہ تاثر نہ چھوڑ سکے، دو تین تو بالکل خرانٹ لگتے تھے اور کچھ تو بس نہ اچھے لگے اور نہ ھی برے بس درمانے سے تھے،

بیچ میں ایک وقفہ آدھے گھنٹہ کا بھی ھوا، جس میں ھم تینوں دوستوں نے باھر جاکر اپنی اپنی پسند کی چیزیں لیں اور اسکول کے گارڈن میں بیٹھ کر اپنا اپنا تفصیلی تعارف کرانے لگے !!!!!!
---------------------------------
اب تو ھم تینوں بہت خوش تھے، کیونکہ ھم اب ایک ساتھ ایک ھی ڈیسک پر ایک لائن میں ھی بیٹھتے تھے، اور اتفاق سے ھم تینوں ھم عمر بھی تھے، اسکول ساتھ آنا، ساتھ اسکول میں ھی کھیلنا اور ساتھ ھی ھاف ٹائم میں ایک دوسرے کا ساتھ کھانا پینا اور واپسی میں بھی ساتھ ساتھ رھتا تھا، ایک کا نام شاھد لطیف اور دوسرے کا نام انجم عارف تھا، بعد میں ھمارے ساتھ اور بھی اچھے دوستوں کا اضافہ ھوا جن کا نام کنور آفتاب احمد، فخرعالم، پرویز حمایت، حسیب بیگ، شعیب احمد، حفیط اللٌہ، بدرالمغیز، قابل ذکر ھیں، افسوس اس بات کا ھے کہ کچھ نے تو ھمارا ساتھ آٹھویں کلاس میں پہنچنے سے پہلے ھی چھوڑ دیا تھا اور کچھ ویسے ھی نویں کلاس میں اختیاری مضامین کے جوائن کرنے کی وجہ سے بھی کلاسیں الگ الگ ھوگئی، اور جو دو تیں اچھے دوست رہ بھی گئے تھے وہ بھی میٹرک کرنے کے بعد ایسے غائب ھوئے کہ آج تک مجھے ان سے ملنے کا شدید ارمان ھی رھا ھے، کچھ پرانے دوست ملے بھی لیکن بس کچھ شادی کے بعد اتنی کسی کو فرصت ھی نہ ملی کہ ایک دوسرے کی خیریت معلوم کرتے، لیکن آگے کالجوں اور سروس کے بعد دوست بنے بھی اور بجھڑتے بھی رھے، لیکن جب بھی کسی وقت کا کوئی پرانا ساتھی ملتا ھے تو بہت ھی خوشی ھوتی ھے اور قلبی سکون ملتا ھے -

بہرحال اس اسکول میں آخر تک بہت ھی بہتریں دن گزارے، اس اسکول کی خاص بات یہ تھی کہ وہاں کی انتظامیہ بہت بہتر طریقہ سے طالب علموں کو بہتر پڑھائی اور بہتر سے بہتر تفریحات بھی فراھم کرتی تھی، دو چار کے علاؤہ باقی تمام ٹیچرز بہت زیادہ خوش مزاج ساتھ ھی پڑھانے کےبہترین ماھروں میں سے تھے، ان سب کے پڑھانے کا انداز اتنا شاندار ھوتا تھا کہ دل نہیں چاھتا تھا کوئی بھی ان کی کوئی کلاس مس کردیں اور انکا پڑھایا ھوا سبق ھم کبھی نہیں بھولتے تھے -

اور ھر اسلامی تہواروں کے لئے خاص طور سے انتظام کیا جاتا تھا اور عید میلادالنبی کیلئے تو بہت ھی شاندار اور بڑی شان و شوکت سے منایا جاتا تھا، بڑے بڑے عالم اور مشھور نعت خواں کے علاوہ اسکول سے بھی لڑکوں کو پڑھنے کی دعوت دی جاتی تھی اور مہمان خصوصی بھی آکر بہت حوصلہ افزائی کرتے تھے -

اس کے علاوہ اس اسکول کی انتظامیہ تفریحات کا ساتھ ساتھ مختلف مقابلوں میں حصہ لینے کیلئے قابل لڑکوں اور لڑکیوں کی حوصلہ افزائی بھی کرتی تھی اور ھر ضرورت بھی ساتھ پوری کرتے تھے۔ ھر قومی دن پر مارچ پاسٹ کی سلامی کیلئے سب کو تیاری کے ساتھ بھیجا جاتا تھا اسکول کا اپنا بینڈ گروپ بھی تھا، جو مارچ پاسٹ کے وقت سب سے آگے اپنے اسکول کی نمایندگی میوزک کے ساتھ سلامی کے چبوترے کا سامنے سلامی دیتے ھوئے گرر رھا ھوتا تھا، کیا خوبصورت اسپیشل یونیفانم تیار کئے جاتے تھے، لڑکیوں کا گروپ الگ ھی ھوتا تھا، اور اگر کسی باھر ملک سے کوئی سربراہ آتا تھا تو ھمیں مکمل بینڈ کے ساتھ سڑک کے کنارے اپنے ملک کی جھنڈیوں کے ساتھ ساتھ دوسرے ملک کی جھنڈیوں کو تھما کر آنے والے کے استقبال کیلئے کھڑا کردیا جاتا تھا، اور اس وقت تمام سربراہان اوپر سے کھلی لمبی کار میں آتے تھے، اور ھاتھ ہلا ہلا کر سب کو سلامی کا جواب دیتے تھے، بہت خوبصورت اور حسین منظر لگتا تھا، اس وقت مجھے اچھی طرح یاد ھے کہ کھلی کار میں ھم سب نے اپنے سامنے کئی دفعہ صدر فیلڈ مارشل جرنل ایوب خاں کے ساتھ تقریبا ھر ملک کے سربراہان کو دیکھا، کبھی کبھی تو وہ اپنے مہمان کے ساتھ کار رکوا کر ھم سے ھاتھ ملانے اور شکریہ ادا کرنے آجاتے تھے، اس وقت کتنی خوشی ھوتی تھی کہ ایک ملک کا صدر بالکل ھمارے روبرو کھڑے ھو کر ھم سب سے مل رھے ھیں اور ساتھ دوسرے ملک کے سربراہ بھی ساتھ ھوتے تھے،

ھمیں کیا ھر اسکول کو پہلے ھی سے اطلاع دے دی جاتی تھی کہ ھم نے مین روڈ پر استقبال کےلئے جانا ھے کوئی جگہ بھی خالی نہیں رھتی تھی، تمام سڑکوں پر رنگ برنگی جھنڈیاں لئے چھوٹے بڑے اپنے ملک میں آنے والوں کا عظیم الشان استقبال کرتے نظر آتے تھے-
-----------------------------------
اب کچھ تھوڑا ذرا اسکول کے بعد محلے کے یک جہتی اور رھن سہن کے بارے میں کچھ روشنی ڈال لیں تاکہ کچھ تو ھم اس وقت اور اس زمانے کی اچھائیوں سے سبق لے سکیں، اس وقت بھی وہی لوگ تھے اور آج بھی ھم وہی ھیں، ھم کیوں نہیں اچھے بن سکتے ایک دوسرے کے ساتھ مل جل کر کیوں نہیں رہ سکتے، ایک دوسرے کی کیوں مدد نہیں کرسکتے، پہلے تو فقیر بھی ایک دوسرے فقیر کی مدد کیا کرتے تھے جبکہ اس وقت تو اتنے وسائل اور سہولتیں بھی موجود نہیں تھیں -

اُس وقت کہ لحاظ سے یہ بہت بڑی بات تھی کہ ھمارے لئے ایک ذرا سی خوشی بھی بہت معنی رکھتی تھی اگر ایک پل بھی اگر چھوٹی سی خوشی کا مل جائے تو وہ اپنے حصٌہ کی خوشی بھی لوگوں میں بانٹتے پھرتے تھے، ھم تو پورے محلے کو اطلاع دے دیتے تھے کہ کل بڑے مین روڈ سے صبح 10 بجے صدر صاحب فلانے ملک کے بادشاہ کے ساتھ کھلی کار میں گزریں گے اور ھمارا اسکول کا بینڈ، اسکاوٹس اور کیڈٹس کے ساتھ تمام اسکول وھاں پر موجود ھوگا - ھمارے سے پہلے ھی تمام محلے کے بچے اور بڑے یہاں تک کہ ضعیف لوگ بھی سڑک پر بن سنور کر پہنچ جاتے اور بازار سے جھنڈیاں بھی اپنے پاس سے خرید کر پہنچ جاتے، جیسے کے کسی میلے میں جارھے ھوں -

چاھے کہیں میلہ لگا ھو، یا کہیں جشن عید میلاد النبی کی تقریب ھو، یا کہیں پر کوئی کسی قوالیوں کا مقابلہ ھو، یا کوئی جلسہ جلوس ھو، ھر کوئی یہی چاھتا تھا کہ یہ خبر سب سے پہلے محلے میں جاکر ھر گھر میں اعلان کرادے، اور وقت سے پہلے سب لوگ ایک دوسرے کو اکھٹا کرکےجوق در جوق، ھر محلے سے اکثریت میں پہنچ جاتے تھے، اس کے علاوہ عید اور بقرعید پر ھر خوشیاں ایک ساتھ بانٹتے تھے کوئی بھی فرقہ واریت یا تعصبیت کی کوئی وباء نہیں تھی، محرم کے مہینے میں ھر طبقے کے لوگ جوق در جوق جلسے اور جلوسوں میں اکثریت سے احترام اور ادب کے ساتھ شریک ھوتے تھے اور شہر میں بڑی بڑی بلڈنگوں میں رھنےوالے بھی اپنی اپنی چھتیں فیملیوں کے لئے کھول دیتے تھے اور عورتیں اور بچے آرام سے عَلم اور تعزیئے، زولجناح اور سوگواروں کے جلوسوں کو بہت احترام اور عقیدت سے دیکھا کرتے، پورے پورے محلے ان دنوں خالی ھو جایا کرتے تھے،

آپ اگر مساجد میں نمازیوں کی بات کریں تو، میری ذاتی مشاھدات میں جو بات ھے وہ یہ کہ ھمارے محلے کی اس چھوٹی سی مسجد میں تقریباً ھر نماز میں تمام محلے کے تمام مرد حضرات اور ساتھ بچے بھی باجماعت شامل ھوتے تھے اگر کوئی کسی وجہ سے حاضر نہیں ھوتا تھا تو نماز کے بعد لوگ اس کے گھر جاکر اسکی خیریت بھی دریافت کرتے تھے، ھم بچے چھوٹے بڑے سب سے پہلے مسجد جاکر وضو کرکے نماز کےلئے تیار ھوتے تھے، کچھ تو وہیں کے مولوی صاحب سے قران کا درس اور اسلامی تعلیم لیا کرتے تھے فجر کے بعد ھر نماز سے پہلے اور بعد مسجد کے مولانا صاحب بچوں کو شیڈول کے مطابق درس دیا کرتے تھے اور مولوی صاحب کو تمام محلے والے مل کر ایک جگہ ایمانداری سے چندہ جمع کرکے اس میں سے ھر ماہ کچھ نہ کچھ انکے گزارے کیلئے دیا کرتے تھے، جو بچ جاتا تھا وہ مسجد کی اصلاح اور ضرورت کی چیزیں خریدی جاتی تھیں، اس کے علاوہ تینوں وقت کا کھانا کسی نہ کسی گھر سے پہنچ جاتا تھا اور ھر بچوں کے ختم قران کی تقریب اور عید بقر عیدکے موقع پر مولانا صاحب کے لئے کپڑوں‌ کےجوڑے بھی پہنچ جاتے تھے، اس وقت مولانا صاحب کی بہت عزت ھوتی تھی،

محلے کی صفائی اور فلاح و بہبود کے لئے بھی بڑے بڑے بزرگ مل کر تمام فیصلے کرتے تھے، آپس کے جھگڑے وہیں پر ختم کردیتے تھے اور کسی کو بھی ان بزرگوں کے کسی بھی فیصلے پر کوئی اعتراض نہیں ھوتا تھا کیونکہ ھر کوئی تمام بزرگوں کا تہہ دل سے احترام کرتا تھا -

ھمارے گھر کا صحن کچھ بڑا تھا اس لئے اکثر کسی کے ھاں اگر کوئی تقریب ھو تو اسکا اھتمام ھمارے صحن میں ھوتا تھا اور والد صاحب زیادہ تر لوگوں کے ساتھ مل کر ھر تقریب کی رونق بڑھا دیتے تھے، آج تک اس محلے میں جو لوگ ھیں سب والد صاحب کو بہت یاد کرتیے ھیں، یہ سب کچھ ھمارے محلے کا ھی حال نہیں تھا اُس وقت پاکستان کے ھر محلے کی یہی حالت تھی اگر آپ میں سے کوئی بھی اپنے بزرگوں سے پوچھیں تو میرے اس ذکر کو وہ 100٪ صحیح قبول کریں گے،

مہمانداری کے حساب سے اگر دیکھا جائے، تو ھر کسی کا مہمان پورے محلے کا مہمان ھوتا تھا اور کئی کئی دن تک مہمان ٹھرا کرتے لیکن کسی ایک کا بوجھ نہیں بنتے تھے وہ مہمان تقریباً ھر گھر کا ایک یا دو وقت کے کھانے پر مدعو ضرور ھوتا تھا، اور مجھے تو اگر کوئی گھر پر مہمان آئے تو کچھ زیادہ ھی خوشی ھوتی تھی اور والد صاحب تو اکثر کہتے تھے کہ مہمان اللٌہ کی رحمت ھوتا ھے اور مہمان کے آنے سے گھر میں برکت ھوتی ھے، اور یہ بھی ان کی زبانی سنا کرتے تھے کہ کسی بزرگ کے پاس ھر روز کھانے پر کوئی نہ کوئی مہمان ضرور ھوتا تھا کبھی کوئی مہمان ساتھ نہیں ھوتا تو ڈرتے تھے کہ کہیں کوئی رزق میں کمی نہ ھوجائے، یہی حال سب کا اس وقت یھی خواھش ھوتی تھی کہ ان کے ساتھ کھانے پر کوئی نہ کوئی مہمان ضرور ھو اور لوگ بھی مہمانوں کی خاطر مدارات میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے تھے،

اس زمانے میں لوگوں میں فلمیں دیکھنے کا بھی بہت شوق ھوتا تھا اور ھر ملٹری کے علاقے میں ھر ھفتہ کی رات کو 4 آنے فی کس کے حساب سے ایک اردو یا پنجابی فلم ضرور دکھاتے تھے، اُس وقت کی فلمیں بہت ھی سلجھی ھوئی، اور سبق آموز، مگر بلیک اینڈ وہائٹ ھوتی تھیں، اور لوگوں کے پاس ان چیزوں کے علاوہ کوئی اورتفریح بھی نہیں تھی، ٹیلیوژن تو دور کی بات ھے، ریڈیو تک لوگوں کے پاس نہیں ھوتا تھا، کئی لوگ تو اس وقت بھی ریڈیو کے ڈراموں اور فلموں کے بارے میں بہت برا کہتے تھے اور فلمیں دیکھنے اور ریڈیو سننے پر بہت اعتراض بھی کرتے تھے اور حرام قرار دیتے تھے، لیکن دیکھنے والے ضرور دیکھتے تھے اس میں ھماری فیملی بھی شامل تھی اور ھم بھی والدیں کے ساتھ مہینے میں ایک دفعہ ضرور فلم دیکھنے ملٹری کے علاقہ میں جاتے تھے،!!!!!

اس کہانی کے سلسلے میں آپ اپنی اچھی یا بُری جو بھی رائے ھو، بلا جھجک دے سکتے ھیں تاکہ میں اپنی تحریر کو اپنے پڑھنے والوں اور قدردان دوستوں کے مشوروں کے مطابق کچھ کہانی کی ترتیب میں یا کسی درستگی کے لئے کوئی تبدیلی لاسکوں تو مجھے بہت خوشی ھوگی!!!!!!!!!!!!!!

جاری ھے،!!!!!

عبدالرحمن سید
30-01-10, 10:08 AM
اس زمانے میں لوگوں میں فلمیں دیکھنے کا بھی بہت شوق ھوتا تھا اور ھر ملٹری کے علاقے میں ھر ھفتہ کی رات کو 4 آنے فی کس کے حساب سے ایک اردو یا پنجابی فلم ضرور دکھاتے تھے، اُس وقت کی فلمیں بہت ھی سلجھی ھوئی، اور سبق آموز، مگر بلیک اینڈ وہائٹ ھوتی تھیں، اور لوگوں کے پاس ان چیزوں کے علاوہ کوئی اورتفریح بھی نہیں تھی، ٹیلیوژن تو دور کی بات ھے، ریڈیو تک لوگوں کے پاس نہیں ھوتا تھا، کئی لوگ تو اس وقت بھی ریڈیو کے ڈراموں اور فلموں کے بارے میں بہت برا کہتے تھے اور فلمیں دیکھنے اور ریڈیو سننے پر بہت اعتراض بھی کرتے تھے اور حرام قرار دیتے تھے، لیکن دیکھنے والے ضرور دیکھتے تھے اس میں ھماری فیملی بھی شامل تھی اور ھم بھی والدیں کے ساتھ مہینے میں ایک دفعہ ضرور فلم دیکھنے ملٹری کے علاقہ میں جاتے تھے،!!!!!

مجھے بہت ھی زیادہ خوشی ھورھی تھی، جب ایک نئے گورنمنٹ بوائز سیکنڈری اسکول نمبر 2 سے اپنی چھٹی جماعت کا پہلا دن گزار کر آرھا تھا، کافی لمبا راستہ تھا، جلدی جلدی خوشی سے اپنے قدم بڑھا رھا تھا، کچھ دیر تک تو میرے نئے دوستوں نے ساتھ دیا، ایک موڑ پر پہنچ کر ایک دوسرے کو اللٌہ حافظ کہا اور سب اپنے اپنے علاقے کی طرف چل دیئے، میں اپنے گلے میں بستہ ٹانگے ھوئے تیز تیز قدم بڑھاتا ھوا اپنے محلے کی طرف قدم بڑھا رھا تھا، فاصلہ تھا کہ ختم ھی نہیں ھورھا تھا، میں چاھتا تھا کہ گھر پہنچوں اور سب کو اپنے اسکول میں گزارا ھوا آج کے پہلے دن کے بارے میں بتاوں،

جیسے ھی گھر پہنچا شام ھوچکی تھی، ھانپتا ھوا، بغیر یونیفارم بدلے ھوئے شروع ھوگیا، ساری اسکول کی شروع سے روداد سنادی، یہ دیکھے بغیر کے گھر میں کون کون ھے، اور میں اتنا خوش تھا کہ بیان سے باھر ھے، پرائمری کے ایک لمبے سفر سے فارغ ھو کر اب سیکنڈری اسکول میں داخل ھونا بھی میرے لئے ایک فخر کی بات تھی -

وھاں گھر میں والدین اور چھوٹے بہن بھائیوں کے علاوہ بھی ھمارے محلے کی نئی خالہ ابنی دونوں بیٹیوں کے ساتھ موجود تھیں اور اس طرح میرے چہکنے پر ھنس بھی رھی تھیں، میں نے ایک دم خاموش ھوکر سلام کیا اور بھر باھر نکل گیا تاکہ اپنے دوسرے محلے کے دوستوں کو بھی آج کا واقعہ سناوں، سب کو اکھٹا کیا اور کسی کھیل میں حصہ لینے سے پہلے ھی ساری اسکول میں گزری ھوئی کہانی دھرا دی، سارے بچے بھی بہت انہماک سے سن رھے تھے، جیسے میں کوئی بہت بڑے مشن سے واپس آیا ھوں، میں ھی پہلا لڑکا تھا جس نے اس اسکول میں چھٹی کلاس میں داخلہ لیا تھا باقی تمام محلے کے بچے پرائمری اسکول سے ابتک فارغ نہیں ھوئے تھے اگر کوئی پڑھتے بھی تھے تو وہ بہت بڑے لڑکے تھے جو شاید نویں اور دسویں کلاس میں ھونگے اور ویسے بھی وہ ھماری بچہ پارٹی میں نہیں تھے اس لحاظ سے میں سب کا لیڈر بنا ھوا تھا-

والد صاحب نے وہ دکان جو محلے میں کھولی تھی، مجبوراً انہیں بند کرنی پڑی، کیونکہ ایک تو لوگوں نے لیا ھوا پرانا اب تک ادھار چکایا نہیں تھا دوسرے میرے اسکول کے ٹائم ٹیبل کے حساب سے شام کو دکان کھولنا ممکن نہ تھا، کچھ میں نے بھی دکان سے کافی لوگوں کو بغیر لکھے کافی ادھار دیا ھوا تھا اور کچھ چند لوگ زیادہ تر عورتیں اپنے بچوں کے ساتھ مجھے بے وقوف بنا کر یا اپنی دکھ بھری داستان سنا کر مجھ سے ادھار سودا لے جاتیں اور میں اباجی کے ڈر سے رجسٹر میں لکھتا ھی نہیں تھا، اور واقعی بہت سے لوگ بہت ھی زیادہ غریب تھے اور ان میں زیادہ تر کا عیسائی مذہب سے تعلق تھا جنکا ھمارے محلے کے ساتھ ھی مگر ایک الگ سے آبادی تھی، اور ھم سب مسلمان بھی ان سب کا ھر لحاظ سے خیال بھی رکھتے تھے -

بہرحال یہ اچھا ھی ھوا کہ اس سے پہلے کہ کوئی زیادہ نقصان ھوتا اباجی نے مکمل طور سے دکان کو خیرباد کہہ دیا مگر اپنا ادھار وصول کرنے ھر پہلی تاریخ کے آتے ھی رجسٹر اٹھائے ادھار والوں کا دروازہ کھٹکھٹانے ضرور پہنچ جاتے، کچھ لوگوں سے تو ادھار وصول بھی ھوگیا لیکن باقی کا خود اباجی نے بعد میں تنگ آکر میرے خیال میں یا تو معاف کردیا یا شاید بھول ھی گئے اور روزمرہ کے معمول پر آگئے،

اب تو صبح صبح اٹھنے کی اتنی پریشانی نہیں تھی کیونکہ میرے اسکول کا وقت دوپہر کا تھا لیکن ھم سب صبح وقت پر ھی اٹھتے تھے اور والدیں تو فجر کی نماز سے ھی جاگ رھے ھوتے تھے والد صاحب تو قران کی تلاوت میں مصروف رھتے اور کچھ ایک دو حمد و نعت بلند آواز سے پڑھتے تھے اور اڑوس پڑوس کے لوگ بھی بہت شوق سے سنتے تھے بعض تو ان کے سامنے بیٹھ کر بڑے ذوق و شوق سے سنتے، اور ان کا روز کا معمول تھا، فجر کی نماز کے بعد سے دفتر جانے تک، اور انہوں نے اپنی عمر کے آخری وقت تک اپنے اس روز کے معمول کو نہیں چھوڑا اور اکثر گھر کے صحن میں اور مسجد میں بھی میلاد نبی شریف کا باقائدہ اھتمام کراتے تھے اور اس میں تمام محلے کے لوگ شریک ھوتے تھے،اس کے علاوہ عورتیں بھی مل کر ایک الگ سے گھروں میں میلاد شریف کا انتظام کرتی تھیں-

والد صاحب کی ایک نعت ابھی تک میرے کانوں میں گونجتی ھے،

وہ نبیوں میں رحمت لقب پانے والا ٪٪٪ مرادیں غریبوں کی برلانے والا

چھوٹے بہن بھائی صبح کے اسکول میں جاتے تھے، میں چونکہ گھر میں سب سے بڑا تھا اس لئے گھر کے چھوٹے موٹے کام کی ذمہ داری بھی مجھ پر ھی تھی، میرے روز کے معمول میں سے پہلا کام گھر کا سارا پانی بھرنا پڑتا تھا اور پانی کچھ دور کے فاصلے سے لانا پڑتا تھا، محلے کے اور بھی بچے اور بچیاں بھی میری نگرانی میں میرے ساتھ پانی بھرنے جاتے تھے، ایک تو کچھ لوگوں کو مجھ پر بھروسہ بھی تھا اور میں بھی سب کو آوازیں دیتا ھوا نکلتا تھا
اور خالہ کی بڑی بیٹی بھی کبھی کبھار ھمارے ساتھ ھوتی تھیں، جنہیں ھم سب ملکہ باجی کہتے تھے اور ان کی چھوٹی بہن تھی جس کا نام تو شہزادی تھا لیکن ھم سب انہیں زادیہ کے نام سے بلاتے تھے، جب یہ دونوں ھوتی تھیں تو میری اجارہ داری ختم ھوجاتی تھی اور یہ دونوں ھماری لیڈر بن جاتی تھیں - سارے محلے کے بچے ان دونوں سے بہت مرعوب تھے، اور ساتھ میں بھی، میری تو وہ دونوں بالکل ھی نہیں چلنے دیتی تھیں، وہ بڑی تو پورے محلے کی جگ باجی تھیں-

غرض کہ اسکول بھی چلتا رھا اور محلے کی بھی ھم بچوں نے مل کر رونق لگائی ھوئی تھی، میں سب کے ساتھ گھر کا پانی بھی بھرتا اور محلے کے دوسرے گھروں میں بھی جہاں کوئی بچہ موجود نہیں ھوتا تھا ان کا بھی اپنے دوستوں کی مدد سے ان کے گھر کا پانی بھی بھر دیتا،
اس وقت پانی کو لوگ بہت احتیاط سے استعمال کرتے تھے، کیونکہ اس وقت ھمارے محلے میں کوئی آج کی طرح شاور یا نلکے وغیرہ تو نہیں ھوتے تھے، بالٹیوں اور ڈرموں میں پانی بھر کر رکھتے تھے، اور غسل خانہ میں پانی بالٹیوں میں بھر کر رکھتے اور لوٹے یا مگے سے ضرورت کے مطابق پانی کا استعمال کرتے تھے اور پینے کیلئے کچے مٹی کے گھڑوں کو اونچائی پر ڈھک کر رکھا کرتے تھے اس کا پانی ٹھنڈا اور خوب سوندھی سوندھی خوشبو دار ھوتا تھا اور پینے کا صحیح لطف آتا تھا -

آج میں جب یہ سوچتا ھوں کہ جو وقت اتنی جلدی گزر گیا جیسے گزرا ھوا سب کچھ ایک خواب تھا، پلک جھپکتے ھی عمر تمام ھوگئی، کسی نے کیا خوب کہا ھے کہ زندگی ایک پانی کے ایک بلبلے کی ظرح ھے، بلبلہ بنتا ھے اور پل بھر میں ختم ھوجاتا ھے، میں بھی پہلے یہ یقین نہیں کرتا تھا، کبھی کبھی سوچتا تھا کہ یہ ھماری زندگی کا سفر کتنا لمبا ھوگا ، شادی ھوگی بچے ھونگے، وہ بڑے ھونگے، انکی شادی کریں گے، کتنا لمبا عرصہ درکار ھوگا، لیکن آج مجھے یہ احساس ھوتا ھے کہ واقعی زندگی کا سفر لگتا تو بہت طویل ھے، لیکن حقیقت میں دیکھا جائے تو بہت مختصر ھے، !!!!!!!!!!!!!!!!

کبھی کبھی تو میں اپنے آپ کو بہت خوش قسمت انسان سمجھتا ھوں کہ میرے ساتھ زندگی میں کبھی اچھا وقت اور کبھی برا وقت بھی رھا لیکن ان مشکلات سے اللٌہ تعالیٰ نے ھی نجات دلائی اور اور ھمیشہ لوگوں کی نظروں میں ایک عزت بنی رھی، کبھی کبھی میری ھی وجہ سے کچھ غلط فہمیاں پیدا ضرور ھوئی اور بری مصیبتوں میں بھی گھرا رھا، مگر اللٌہ تعالیٰ کا بہت بڑا احسان ھے کہ اس نے مجھے ھر پریشانی سے فوراً چھٹکارا دلایا، یہ سب میری والدہ کی اور بزرگوں کی دعائیں ھی تھیں حالانکہ میں نے شروع میں انکی ممتا کو کئی دفعہ بہت ٹھیس بھی پہنچائی، پھر معافی بھی مانگ کر ان کو گلے لگا کر خوش بھی کرتا رھا اور وہ ھمیشہ میرے لئے روتی ھوئی دعاء کرتی رھیں، وہ سب کچھ شادی سے بہت پہلے کالج کے دور تک، لیکن جب سے پہلی بار نوکری شروع کی اور پہلی تنخواہ ان کے ھاتھ میں رکھی تو مجھے اتنی خوشی اور اتنا سکون ملا کہ میں بیان نہیں کرسکتا، اس کے بعد سے آج تک کبھی بھی ان کا دل دکھانے کی کوشش نہیں کی، چھوٹی موٹی باتیں ضرور ھوئیں ساس اور بہو کے چکر میں، جو ھر گھر میں ھوتا ھے، لیکن زیادہ نہیں !!!! آج بھی جب گھر جاتا ھوں سب سے پہلے ماں کی گود میں اپنا سر رکھ کر روتا ھوں بالکل ایک چھوٹے بچے کی طرح !!!!!!!!!!!!!!!!!

دعاء یہی کرتا ھوں کہ ھر ایک کے ماں باپ کا سایہ ھمیشہ سر پر سلامت رھے !!!!!!!!!!!!!!!!! آمین ٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪

ماں کی دعاء اور ٹھنڈی چھاؤں

عبدالرحمن سید
30-01-10, 10:30 AM
دعاء یہی کرتا ھوں کہ ھر ایک کی ماں کا سایہ ھمیشہ سر پر سلامت رھے !!!!!!!!!!!!!!!!! آمین ٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪

ماں کی دعاء اور ٹھنڈی چھاؤں

ان پرانے سادہ اور سہل طور طریقوں میں اپنا ایک سلیقہ حسن، خوشنمائی اور زندگی کا ایک صحیح لطف تھا جو کہ بہت سستا اور دیرپا قائم رھنے کا حامل بھی تھا، ھم بھی زمانے کے دور کے ساتھ اتنی تیری سے بھاگنے لگے کہ اپنی صحیح قدروں، اصولوں اور اپنی روایتوں کے ساتھ ساتھ اپنی اصل پہچان کو بھی پیچھے چھوڑ آئے ھیں -

صرف ایک پانی کی ھی مثال لے لیں کہ پہلے ھم جو پانی دور دور سے اپنے کندھوں پر اور سر پر رکھ کرلاتے تھے تو ھمیں اسکی قدروقیمت کا اندازہ ھوتا تھا، اسی وجہ سے پانی کو ھم اس وقت بہت سنبھال کر اور بہت احتیاط کے ساتھ استعمال کرتے تھے، آج ھمارے گھروں میں باتھ رومز میں واش بیسن کے ساتھ نہانے کےلئے شاور، فلش کےساتھ دھوتے کے لئے الگ سےشاور، آٹو واشنگ مشینوں اور کچن میں بھی میں سنک کےساتھ دو دو نلکے اور ھر ایک میں ٹھنڈے اور گرم پانی کی دو دو لائنیں، جتنی زیادہ سہولتیں ھیں، اس سے زیادہ اس کا بےقدری اور فضول طریقے سے استعمال کی وجہ سے اس کا بالکل کثرت سے ضیاع ھورھا ھے ،

آج میرے گھر میں بھی اسی طرح پانی کے ساتھ ساتھ دوسری چیزوں کا بھی بےجا استعمال ھے بار بار اسی وجہ سے اکثر میرا اسی بات پر جھگڑا بھی ھوتا رھتا ھے، لیکں نئی نسل ھمیں پرانےخیالات کے لوگ اور بےوقوف سمجھتی ھے وہ کہتے ھیں کہ ھمیں نئی سہولتوں سے فائدہ اٹھانا چاھئے آپ لوگ نہ جانے کس دنیا میں رھتے ھیں، مگر میرا جواب یہی ھوتا ھے کہ ھمیں نئی سہولتوں سے فائدہ ضرور اٹھانا چاھئے لیکن اس میں بھی اگر ھم احتیاط کریں تو فضول خرچ سے بچا جاسکتا ھے،

مثلاً پہلے فرد واحد ایک بالٹی پانی سے آرام سے مکمل طور پر آسانی سے غسل کرلیتا تھا لیکن آج ھم شاور ( چھنٌا) کے نیچے خوب مزے سے گنگناتے ھوئے آرام سے دس گنا پانی غسل کرتے ھوئے ضائع کردیتے ھیں، اسکے علاوہ واش بیسن میں تو ھم منہ ھاتھ اس طرح دھوتے ھیں جیسے اباجی نے گھر میں کسی دریا سے مفت کا کنکشن لیا ھوا ھو، اسکے علاوہ برتن اور کپڑے دھوتے وقت تو خواتین بالکل خیال نہیں رکھتیں، نلکوں کو بغیر کسی بریک کے فل کھولے رکھتی ھیں، تاکہ انھیں بار بار نلکوں کو کھولنا اور بند نہ کرنا پڑے، جبکہ ھم خود جانتے ھیں کہ اگر ھم چاھیں تو ایک تھوڑی سی احتیاط کرکے بھی کافی ھر چیز میں بچت کرسکتے ھیں
جس کے ھم سب بھی خود ذمہ دار ھیں، اور ھر ایک چیز کے ضرورت سے زیادہ استعمال کیلئے بھی ھم اوپر جاکر اس کی سزا بھگتیں گے، جسکا کہ ھم سب کو پتہ ھے، لیکن ھم اپنی آنکھیں بند کرلیتے ھیں جیسے کبوتر اپنی آنکھیں‌ بند کرلیتا ھے جب اس پر کسی کے حملے کا خطرہ ھو، کبوتر یہ سمجھتا ھے کہ جیسے اسے آنکھیں بند کرکے کچھ نظر نہیں آرھا تو شاید حملہ کرنے والے کو بھی یہی محسوس ھورھا ھو،

اس وقت جیسا کہ میں نے پہلے بھی ذکر کیا تھا کہ اس وقت ھماری یا کسی کی بھی والدہ جو زیادہ پڑھی لکھی نہیں تھیں لیکن وہ آج کل کی پڑھی لکھی خواتیں سے کہیں زیادہ سمجھدار تھیں کیونکہ وہ اچھی طرح جانتی تھیں کہ جو بھی محدود آمدنی ھے اس کو کس سلیقے سے خرچ کیا جائے کہ اس میں سے کچھ آئندہ کیلئے کچھ بچت بھی ھوجائے، ایک چھوٹی سی مثال صرف کھانے پینے کے حوالے سے، وہ والد کے مشورے سے صرف خشک چیزیں مصالے،چاول، دالیں، آٹا، وغیرہ ضرورت کے مطابق ایک مہینے کیلئے پہلے ھی ایڈوانس میں منگا کر رکھتی تھیں جو تھوک کے بھاؤ والد صاحب لاتے تھے اور بہت ھی سستا پڑتا تھا، باقی روزانہ صرف اس دن کے پکانے کیلئے تازہ چیزیں اتنا ھی منگاتیں، جتنا کہ ضرورت ھوتی تھی -

اب تو روز کے مختلف گھر کے کاموں کی ذمہ داری بھی میرے ھی اُوپر تھی، کیونکہ میرے اسکول کا وقت اب دوپہر کا تھا، روزانہ پہلے پانی بھرنا، پھر گھر کا سودا لانا پھر اسکول وقت قریب ھوجاتا تھا، اور میں اسکول کی تیاری میں لگ جاتا-

گھر کا سودا لانے میں مجھے تقریباً روزانہ آٹھ آنے سے زیادہ نہیں ملتے تھے، اور میں اس میں سے ایک پاؤ قیمہ یا گوشت وہ بھی گائے یا بھینس کا، جو صرف پانچ آنے کا آتا تھا اور ایک آنے کا مصالہ جس میں دو پیاز ھرا دھنیا، پودینا، دو ھری مرچی اور ایک یا دو ٹماٹر اور باقی دو آنے کی اگر کچھ اور سبزی کی ضرورت ھو تو ورنہ وہ بھی مجھے والدہ کو واپس کرنے پڑتے تھے، اس میں سے مجھے صرف دو پیسے اسکول کیلئے ملتے تھے-

ایک پاؤ گوشت یا قیمہ کے ساتھ سبزی یا دال کے ھم سب کیلئے دو وقت کیلئے کافی ھوتا تھا بلکہ اکثر مہمان بھی ھمارے ساتھ شریک ھوتے تھے اور اس میں بھی کافی برکت ھوتی تھی، ایک فایدہ یہ ھوتا تھا کہ تازی چیزیں ھم کھاتے تھے اور ھمیں والدہ ھر ایک کو ضرورت کے مطابق اپنے ھاتھ سے اندازہ کرکے ھر ایک کے پلیٹ میں ڈالتی تھیں،

اگر آج ھم دیکھیں تو ھم خود اندازہ لگا سکتے ھیں کہ کتنا کھانا روز پکتا ھے اور ضائع ھوتا ھے اسکے علاؤہ ڈیپ فریز کیا ھوا ھم کھاتے ھیں، ھمارے اس وقت بھی پیٹ کی گنجائش وھی تھی اور آج بھی وھی ھے بلکہ لوگوں کی پہلے کے وقت میں کچھ زیادہ ھی خوراک ھوا کرتی تھی اور سب خون سیر ھوکر کھاتے تھے-

قیمتوں کو چھوڑ دیں صرف مقدار کو ھی لے لیں، کیا ھم سوچ سکتے ھیں کہ آج ھم ھر چیز کے استعمال میں کتنا اصراف کرتے ھیں اور کتنا ضائع کرتے ھیں،
کیا ھم جانتے ھیں کہ اس کا حساب کس نے، کہاں اور کیسے دینا ھے ؟؟؟؟؟؟؟؟

-----------------------------------------------------------------
اب تو میں روز کے معمول میں کافی دلچسپی لینے لگا تھا، بہت شوق سے گھر کا سودا لانے لگا تھا، ایک چھوٹا سا بازار تو تھا لیکن کافی فاصلے پر تھا، کبھی کبھی اپنے کسی دوست کو بھی ساتھ لے لیتا تھا اور محلے کی ھماری دو تیں خالائیں بھی مجھ پر ھی بھروسہ کرتیں، جیسے ھی مجھے جب وہ گھر سے نکلتا دیکھتیں تو دروازوں پر آجاتیں ارے بیٹا ذرا سننا تو میرے لئے آج یہ چیزیں لا دو کوئی تو اچھی خاصی لسٹ پکڑا دیتیں اور کوئی زبانی ھی فرمائیش کردیتیں، مجھے سب کی چیزوں اور پیسوں کا حساب کتاب بھی رکھنا پڑتا تھا، ایک اچھی بات تھی کہ میری اس وقت کی یاداشت بہت اچھی تھی اور سب کچھ مجھے زبانی یاد بھی رھتا تھا کہ کس نے کیا منگایا تھا، کس نے کتنے پیسے دیئے تھے اور کس کو کتنے واپس کرنے تھے،

وھاں پر تمام محلے میں سب کا ایک اکلوتا لاڈلہ تھا اس کی وجہ یہ بھی تھی کہ کبھی کسی کے کام کیلئے انکار نہیں کرتا تھا، بعض اوقات تو دوسروں کے چکر میں اپنے گھر کا سودا بھول جاتا تھا، پھر دوبارہ بھاگ کر جاتا اور یاد کرکے سودا لا کر اماں کو دیتا اور اماں ھماری انتطار میں ھی بیٹھی رھتیں کب میں پہنچوں اور وہ کب کھانا پکانا شروع کریں کبھی کبھی دوسروں کی وجہ سے ڈانٹ بھی پڑجاتی تھی اور وہ سیدھا شکایت ھماری ملکہ باجی کو لگا دیتی، بس کیا تھا انہوں نے سیدھا میرا کان پکڑنا اور اپنے گھر لے جاتیں اور خوب ڈانٹتی بھی تھیں، اب تو میری دو امٌائیں ھوگئی تھی -

اب تو بعض اوقات اپنے گھر کے بجائے اپنی منہ بولی باجی سے ھر کام کیلئے اجازت لینی پڑتی تھی، اگر میں نے کوئی ان کی مرضی کے خلاف کام کیا تو میری شامت ھی آجاتی تھی، مگر زادیہ میرے لئے اپنی باجی سے لڑتی تھی اور میری جان بچ جاتی تھی، کبھی تو جیسے ھی میں گھر سے نکلا، پتہ نہیں کہاں سے ان کو پتہ چل جاتا، میں ان کے گھر کے دروازے کے سامنے سے بہت احتیاط کے ساتھ نکلنے کی کوشش بھی کرتا تو فوراً ھی نمودار ھوجاتیں اور بس شروع سوالات پر سوالات کہ کہاں چل دیئے حضور ادھر آئیے بس فوراً انہوں نے میرا کان پکڑا اور گھر کے اندرخوب ڈانٹتیں، اگر میں نے کوئی بہانہ کیا تو وہ اسی وقت تصدیق کرنے مجھے میری اماں کے پاس پہنچ جاتیں، اور اگر میں نے کوئی بہانہ کیا ھوتا تو بس میرے کان اور انکا ھاتھ، وہ اس وقت تک نہیں چھوڑتی تھیں جب تک کہ میں توبہ نہ کرلوں،

اب انہوں نے ھی میرے سدھار کی ذمہ داری لے لی تھی کبھی کبھی تو میں ان کی پابندیوں سے تنگ ھوجاتا تھا اور مشکل یہ تھی کہ ھمارے گھر سے باھر نکلنے کیلئے ان کے گھر کے پاس سے ھو کر جانا پڑتا تھا اور اس کے علاوہ اور کوئی راستہ بھی نہیں تھا، کیا کرتا مجبوراً اس ھٹلر باجی کے بغیر اجازت کے جانا مشکل ھوتا تھا جو میرے کھیل کود کے لئے باھر دوسرے لڑکوں کے ساتھ کھیلنے میں رکاوٹ بنتی تھی، جو بعد میں میرے کیرئیر لئے بہت بہتر ثابت ھوا تھا، لیکن اس وقت مجھے یہ روک ٹوک اچھی نہیں لگتی تھی،

مگر جب مجھے محلے سے کوئی کسی کام کیلئے کہتا تو اسی کام کے بہانے ھی میں باھر بھاگنے کی کوشش کرتا مگر راستے میں جانے کہاں سے وہ کسٹم کی ملکہ مجھے ٹکر جاتی اور بغیر اس کی رضامندی کے مشکل ھوجاتا، اس نے مجھے صرف مجھے چند مخصوص گھروں کے کام کےلئے کبھی منع نہیں کیا جہاں کوئی بڑا لڑکا نہیں تھا، یا اور کوئی مجبوری ھو اور بعض اوقات وہ مجھے ساتھ لےکر بازار جاتی اور میرے ساتھ خریداری میں مدد کراتی، اسی وجہ سے میرے والدیں ملکہ باجی سے بہت خوش تھے کہ اس نے میرا سارا کنٹرول سنبھالا ھوا تھا،

شام کے وقت اسکول سے واپس آکر جب ھاتھ منہ دھو کر تازہ دم ھوجاتا، کچھ دیر کے لئے بہں بھائیوں کو ساتھ لے کر باھر کھیلنے نکلتا، ایک بھائی میرے گود میں بھی ھوتا تھا، میرے باھر نکلتے ھی ھٹلر ملکہ بھی اپنی چھوٹی بہن زادیہ کے ساتھ ھمارا انتظار کررھی ھوتی تھی، اور کچھ بچے بھی اپنے گروپ کے جو ملکہ کی سیلیکشن سے منظور شدہ ھوتے وھی ھمارے گروپ مین شامل ھوسکتے تھے اور ایک بات کی تو داد دینی پڑتی تھی کہ وہ ھم سب کو کھیلوں میں اچھے اور خالص معلوماتی کھیل بھی کھلاتی تھیں اور ھمارے گروپ میں با ادب اور اچھے اخلاق کے بچوں کو ھی داخلہ ملتا تھا، دوسرے گروپ بھی تھا جس میں زیادہ تر شرارتی بچے تھے اور وہ سب ھمارے گروپ سے بہت زیادہ حسد کرتے تھے، لیکن ملکہ باجی کی وجہ سے کوئی بھی نزدیک نہیں آتا تھا، اس لئے تمام بچے ان کے شر سے بچے ھوئے تھے وہ دونوں بھی کسی دوسرے اسکول میں پڑھتی تھیں جس کا وقت میرے اسکول کے مطابق تھا، شاید دونوں چھٹی یا ساتویں کلاس مین ھونگی، مجھے یہ صحیح طرح یاد نہیں،

میری شروع سے فطرت رھی تھی کہ مجھ سے کبھی کسی کے کام کیلئے انکار نہیں ھوتا تھا، جیسے تندور پر سے کسی کیلئے روٹی لگوانی ھی کیوں نہ ھو، اسوقت زیادہ تر تندور کی روٹی زیادہ پسند کرتے تھے، شام کو کھیل کود کے فوراً مغرب کی نماز کے بعد اماں ھماری آٹا گوندھ کر رکھتیں اور ساتھ ایک دو اور جو روٹی پکوانے کیلئے میرے نکلنے سے پہلے ھی آٹا گوندھ کر رھتے تھے، میں اپنے چند مددگار دوستوں کو بھی اس کارخیر میں حصہ لینے کی اجازت دیتا تھا وہ بھی میرے ساتھ تندور کی طرف چل دیتے تھے، اس وقت ملکہ باجی کو باھر جانے کی اجازت نہیں ھوتی تھی، انکا بھی کبھی کبھی آٹا گوندھا ھوا مجھے لے جانا پڑتا تھا، ورنہ اکثر ان کی اماں توئے پر ھی چپاتی بناتی تھیں،

تندور پر جاکر سب آٹے کے تھال کپڑے ڈھکے ھوئے لائن میں لگا کر ھم سب کھیلنے لگ جاتے، تندور کچھ دوری پر تھا اور ھٹلر ملکہ باجی سے بھی دور کسی روک ٹوک کے مزے سے کھیلتے تھے اور واپس ابک آدھ گھنٹے سے پہلے ھم سب روٹی لگوا کر فارغ ھوجاتے تھے-

ایک دفعہ مجھے بہت دکھ ھوا کہ جب تندور سے روٹیاں لگا کرگھر پہنچا تو اپنی روٹیاں گھر صحن کے پاس ایک چبوترے کے پاس رکھ کر کسی کے گھر انکی روٹیاں پہنچانے گیا تو میں نہ جانے کیوں وھیں سے آگے واپس گھر آنے کے کہیں اور نکل گیا اور اماں کو روٹیوں کے تھال کے بارے مین نہیں کہا اور وھاں ایک چبوترے پر روٹیاں پڑی رھیں اور ادھر ایک ھماری ایک بکری کا بچہ جسے اس سال ھم قربانی کیلئے تیار کرھے تھے اس نے وہ چبوترے پر پڑی ساری روٹیاں کھالیں اور جیسے ھی میں پہنچا وہ آخری روٹی کھا رھا تھا میں گھبرا گیا اب کیا کروں فوراً وہ خالی تھال لے کر تندور کی طرف بھاگا اور وھاں سے روٹیاں خریدیں اور جلدی جلدی واپس آیا اور کسی کو بتائے بغیر اماں کو تھال پکڑا دیا، اور باھر چلا گیا-

واپس آیا تو عشاء کے بعد کھانے کیلئے بیٹھے تو اماں نے پوچھا خاموشی سے پوچھا کہ یہ روٹیاں ھماری تو نہیں لگتی اور میں نے بھی حیرانگی سے کہا ھوسکتا ھے کہ تندور والے نے شاید غلطی سے دوسرے کی روٹیاں رکھ دیں ھونگی، لیکں رات کو سوتے وقت مجھے اپنے اوپر اور بکرے کے اوپر بہت غصہ آرھا تھا-

صبح ھوئی تو اباجی اور دو تیں محلے دار لوگوں کی آوازیں آرھی تھیں میں نے غور سے سنا تو وہ کہ رھے تھے کہ رات کو بکرے نے کیا کھایا تھا جس کی وجہ سے اسکی یہ حالت ھوگئی، میں فوراً بستر چھوڑا اور بھاگ کر باھر آیا تو دیکھا وہی بکرا مجھے دیکھ رھا تھا جیسے میری کسی غلطی کی نشاندھی کررھا تھا، اسکے منہ سے جھاگ سا نکل رھا تھا اور سب یہی کہہ رھے تھے کہ اب اس کا بچنا مشکل ھے -

-----------------------------------------------------
میرے والد صاحب ایک فوجی تھے اور ان کے ریٹائرمنٹ تک ھم سب نے ملٹری کے ماحول میں ایک اچھا وقت گزارا تھا، اور ھم سب اس ماحول میں اپنے آپ کو محفوظ اور مضبوط سمجھتے تھے،

جیسے ھی اس سے باھر نکلے تو لوگوں کی نفرت اور حسد کی نذر ھوگئے،،،،،،،،،،،،،،،، اور والد صاحب وقت سے پہلے ھی اپنے خالق حقیقی سے جا ملے،!!!!!!

میں اب بھی کبھی کبھی اپی والدہ کو دیکھتا ھوں کہ وہ والد صاحب کے ملٹری دور میں ملے ھوئے میڈل اور تمغوں کو صاف کر رھی ھوتی ھیں اور میں ان کی آنکھوں میں ایک فخر میں چھپی ھوئی چمکتی ھوئی نمی کی جھلک دیکھتا رھتا ھوں، اور مجھے وہ تمام گزارا ھوا بچپن جو ملٹری کی چار دیواری کے اندر گزرا تھا، وہ مجھے یاد آجاتا ھے، اور جب بھی میں پاکستاں چھٹی جاتا ھوں، تو اس پرانے محلے میں ضرور جاتا ھوں جو اب تک تین طرف سے وھی ملٹری کی ایک مضبوط دیوار اپنے شان و شوکت سے پورے محلے کو اپنے آغوش میں لئے ھوئے ھے،

میں اس محلے میں اب جب بھی جاتا ھوں، اس دیوار کو پیار سے دیکھتا ھوا اسکے ساتھ اپنے ھاتھ سے چھوتا ھوا پورے محلے کا ایک چکر لگاتا ھوں، ساتھ ھی اپنے بچپن کو اس دیوار میں ڈھونڈتا ھوں اور مجھے اپنے بچپن کے وقت کی وہ آوازیں اس محلے کا شور سنائی دینے لگتا، کبھی میری ماں کی آوازیں کبھی والد صاحب کی ڈانٹ کبھی ان کا پیار سے پکارنا، دوستوں کا چہچہانا، میرے بہن بھائی کی آوازیں اور میری زندگی کی حسین خوبصورت یادوں کی وہ گنگناہٹ، یہ سب آوازیں مجھے اس دیوار سے ایک ایکو ساونڈ کی طرح میرے کانوں سے ٹکراتیں، اور یہ سب کچھ ایک عقیدت مند کی طرح محسوس کرتا ھوا، اپنی آنکھوں میں ماضی کی یادوں کو لئے واپس آجاتا ھوں،

وہ ملٹری کی دیوار اب تک ویسی ھی ھے مگر محلے میں کافی تبدیلیاں آگئی ھیں، پکے مکان بن گئے ھیں، بجلی، پانی سوئی گیس، اور ٹیلیفوں کی سہولت بھی تقریباً ھر گھر میں ھے، میر گھر جو پہلے تھا اب وہ بھی پکا ھوگیا ھے، اور ھر سہولت ھے، مگر وہ ملٹری کی دیوار اور اس کے کارنر کی دو دیواریں اب تک اسی طرح کھڑی ھیں جو میرے گھر کو دو طرف سے گھیرے ھوئے ھیں اور کارنر میں ابتک وہ پرانا بجلی کا کھمبا ابھی تک ویسے ھی کھڑا ھے جہاں میں کبھی اسکے ٹمٹماتے بلب کے نیچے چارپائی ڈال کر پڑھتا تھا اور کبھی ھمارے اباجی وھاں اپنے محلے کے دوستوں کے ساتھ اپنی چوپال بھی لگاتے تھے، کبھی وھاں پر محلے کے لوگ میلادالنبی کی چھوٹی سی تقریب یا کسی گھرکی شادی کے سلسلے کی کوئی دعوت تقریب، اس دیوار نے میرا مکمل بچپن اور لڑکپن کا سارا دور کا ایک ایک منظر دیکھا ھے، مار بھی اس کے سامنے کھائی ھے اور بہت پیار اور خلوص بھی اسکے سامنے ملا ھے

آج بھی میں کسی فوجی کو وردی میں اپنے سامنے دیکھتا ھوں تو اس فوجی کو سیلوٹ ضرور کرتا ھوں، جیساکہ میرے والد اپنے سے بڑے آفیسر کو دیکھ کر سیلوٹ کرتے تھے،

مجھے اس بات کا بھی فخر ھے کہ اں کے ریزرو فورس میں آنے کے بعد بھی 1965 اور 1971 کی جنگ کے موقع پر انہیں ھم سب بہں بھائیوں والدہ اور محلے کے لوگوں نے فخریہ انداز میں رخصت کیا تھا جب وہ بڑے خوشی سے وردی پہں کر اپنی مکمل کٹ کے ساتھ واگہہ سیکٹر لاھور کے لئے روانہ ھوئے تھے، فوجی وردی میں وہ کیا خوبرو جوان لگتے تھے، اپنے پاک وطن کی ھر پکار پر انہوں نے لبیک کہا تھا !!!!!!

اس وقت بھی میرے آنکھوں میں آنسو بھر آئے ھیں، میں ان کی مخلص شخصیت کو کبھی نہیں بھول سکتا وہ واقعی ایک پرخلوص اور وطن پرست انسان تھے انہوں نے ھمیشہ ھمیں اپنے پیارے وطن سے محبت کرنے کا سبق دیا، مگر مجھے آج تک اس بات کا افسوس ھے کہ میں اتنا بدقسمت تھا کہ اس عظیم انسان کو اپنےایک کاندھے کا سہارا بھی نہ دے سکا کیونکہ میں ان کے انتقال پر ایک مجبوری کی وجہ سے ان کے پاس نہیں تھا، اسی بدنصیبی پر آج تک میں پچھتاتا ھوں!!!!!!!!!!

-------------------------------------------------------------------------
جاری ھے،!!!!

عبدالرحمن سید
30-01-10, 10:58 AM
اس وقت بھی میرے آنکھوں میں آنسو بھر آئے ھیں، میں ان کی مخلص شخصیت کو کبھی نہیں بھول سکتا وہ واقعی ایک پرخلوص اور وطن پرست انسان تھے انہوں نے ھمیشہ ھمیں اپنے پیارے وطن سے محبت کرنے کا سبق دیا، مگر مجھے آج تک اس بات کا افسوس ھے کہ میں اتنا بدقسمت تھا کہ اس عظیم انسان کو اپنےایک کاندھے کا سہارا بھی نہ دے سکا کیونکہ میں ان کے انتقال پر ایک مجبوری کی وجہ سے ان کے پاس نہیں تھا، اسی بدنصیبی پر آج تک میں پچھتاتا ھوں!!!!!!!!!!
لڑکپن کا دور-4
آج جب میں اپنی یاداشتوں کے ایک منجمد ذخیرے کی طرف اپنے آپ کو ماضی کے تصورات کی دنیا میں لے جاتا ھوں تو قدرتی وہ یادوں کا منجمد ذخیرہ میری تصوراتی ذہن کے سامنے سے پگھلتا ھوا گزرنے لگتا ھے اور میں اسے اپنے خود ان ہاتھوں سے سمیٹتا ھوا ایک تحریر کے روپ میں ڈھالنے کی کوشش کرتا ھوں،

قیمتوں کو چھوڑ دیں صرف مقدار کو ھی لے لیں، کیا ھم سوچ سکتے ھیں کہ آج ھم ھر چیز کے استعمال میں کتنا اصراف کرتے ھیں اور کتنا ضائع کرتے ھیں،
کیا ھم جانتے ھیں کہ اس کا حساب کس نے، کہاں اور کیسے دینا ھے ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟

کبھی کبھی میں یہ سوچتا ھوں کہ اُس وقت جب اتنے وسائل اور ذرائع نہیں تھے، لوگوں کی اتنی محدود آمدنی تھی، اس کے علاوہ لوگوں میں پڑھے لکھوں کا تناسب بہت کم تھا اور نہ کوئی سیاسی سمجھ بوجھ پائی جاتی تھی، اتنے سادہ لوگ تھے کہ جس نے جیسا کہہ دیا ویسے ھی یقین کرلیا لیکن ان تمام کے باوجود سب لوگ ایک دردمندانہ دل رکھتے تھے، ایک دوسرے کے لئے جان چھڑکنے کیلئے تیار رھتے تھے -

اپنے محلے میں کبھی کبھی ایسا بھی ھوتا تھا کہ اگر کسی کا بچہ یا کوئی بڑا اگر کسی تکلیف یا بیماری میں مبتلا ھو جائے یا باھر کوئی کسی قسم کی چوٹ یا کوئی حادثہ ھوجائے، تو یقیں کریں کہ جس کا بھی وہ بچہ یا رشتہ دار ھے، اسے خبر ھی نہیں ھوتی تھی اور وہ کسی نہ کسی کی کوشش اور ھمدردی کی وجہ سے ڈاکٹر یا اسپتال سے فارغ ھوکر گھر پہنچتا تو اسکے گھر والوں کو خبر ھوتی تھی، بلکہ وہ مخلص لوگ تو سب کو خبردار کر جاتے تھے کہ اس زخمی بچے یا بڑے کی خبر اس کے گھر میں نہ ھو، چاھے وہ کوئی غیر مسلم ھی کیوں نہ ھو -

آج بھی مجھے اس محلے کی ھر گلی اور ھر در و دیوار سے بہت پیار ھے، جب بھی میں وہاں جاتا ھوں وہ لوگ میری بہت عزت کرتیے ھیں اور میرا تعارف اتنے پیار اور خلوص کے ساتھ، دوسرے لوگوں سے اس طرح کراتے ھیں کہ میں خود بھی شرمندہ ھوجاتا ھوں، وہاں اب جو بھی اسوقت کے لوگ باقی ھیں، ان کا رھن سہن، اخلاق پیار اور ایک دوسرے سے محبت ابھی تک ویسے کا ویسا ھی ھے، گھر کے نقشے بدل گئے لیکن لوگوں کے دل نہیں بدلے، ابھی بھی وھی ملٹری کی دیواروں کے آغوش میں اپنے اس محلے کو ایک مضبوط قلعے کی طرح پناہ دئیے ھوئے ھے، وہاں کی پہلے کی ایک چھوٹی سی لکڑی کی بنی ھوئی پرانی مسجد اب ایک خوبصورت سنگ مرمر کے فرش اور خوبصورت نقش و نگار سے آویزاں درو دیوار کے روپ میں ڈھل چکی ھے، یہ بھی ایک وہاں کے لوگوں کی پرخلوص کاوشوں کا ایک نتیجہ ھے،

آس پاس کا علاقہ بہت ماڈرن ھوچکا ھے،جگہ بڑی بڑی کئی منزلہ عمارتیں بن چکی ھیں اور سڑکیں جو سنگل تھیں آج ڈبل بن چکی ھیں، ریلوے لاٰئنوں کے اوپر بھی ایک نیا خوبصورت سا بہت بڑا پل بن چکا ھے جو آس پاس کے علاقوں کو آپس میں ملاتا ھے، ھر جہاں نزدیک ھی ایک چوراھے پر ایک پارک تھا، جو کبھی میرے دکھوں اور غموں کا ایک غمگسار تھا، وھاں جاکر اکثر میں اکیلا کبھی کسی مشکل میں ھوتا تو وھاں بیٹھ کر سوچتا تھا کبھی مستقبل کے پروگرام بھی بناتا تھا اور وھیں کبھی کبھی سو بھی جاتا تھا وہ چوراھے پر ایک بہت بڑا پلوں کا “فلائی اور“ بن چکا ھے، اب بھی خاص طور پر وھاں اسکے نیچے جاکر میں اپنے اس چوراھے کے باغیچہ کو تلاش کرنے کی کوشش کرتا ھوں، جس کی بھینی بھینی خوشبو اب بھی مجھے وھاں جاکر محسوس ھوتی ھے !!!!!!!!!!!!!!

اکثر اپنے اس اسکول کی طرف بھی میں جاتا ھوں اور ان ان راستوں پر جہاں جہاں میرے قدم پڑے ھیں، میں چلتا ھوں اور پہچاننے کی کوشش کرتا ھوں، وہ چھوٹا سا ایک بازار جہاں سے کبھی میں گھر کا اور ساتھ اپنے محلے کا سودا لایا کرتا تھا اب وہ جگی بھی ایک نئے بازار کی جگہ لے چکی ھے، کوئی بھی پرانا جاننے والا اب اس بازار میں نظر نہیں آتا ھے -

سب کچھ بدل چکا ھے لیکن میرا محلہ چند سہولتوں کے اضافہ ساتھ بالکل ویسا ھی ھے، جسے چاروں طرف وھی ملٹری کی دیوار اپنے مضبوط اور محفوظ آغوش میں لئے ھوئے ھے، لوگ اب کچھ سہمے ھوئے سے نطر آتے ھیں کہ اگر یہ ملٹری کی دیوار اگر سرکار نے گرادی تو اس محلہ کا کیا ھوگا، اسے بھی گرادیا جائے گا، اور یہ میری آخری یادوں کا سہارا بھی مجھ سے چھوٹ جائے گا، میں اب اکثر یہ سوچتا ھوں !!!!!!!
-------------------------------------
مجھے افسوس بھی ھے کہ مجھے اپنی کہانی کو بڑھانے میں تھوڑی سی کچھ دشواری یوں پیش آرھی ھے کہ بہت سی ایسی نازک ترین یادداشتیں، جو میرے سیکنڈری اسکول کے وقت سے وابستہ اور بہت ھی زیادہ اھم ھیں، ایک تو میں انکا صحیح وقت اور مقام کا اندازہ کر نہیں پا رھا ھوں، کیونکہ اس میں بیک وقت پانچ مختلف کہانیاں ساتھ ھیں اور انہیں مجھے ساتھ لیکر چلتے ھوئے کچھ مسلئے بھی درپیش آرھے ھیں، کچھ کرداروں کو میں سامنے نہیں لانا چاھتا اور جن کو سامنے لانا چاھتا ھوں انکی رسوائیوں سے ڈرتا بھی ھوں،

تیری رسوائیوں سے ڈرتا ھوں، جب تیرے شہر سے گزرتا ھوں،!!!!!

مگر میں آپ سب سے یہ وعدہ کرتا ھوں کہ کسی کو رسوا کئے بغیر یا کسی کی حق تلفی یا ناراض کئے بغیر اپنی کہانی کو نہایت عمدگی سے آگے بڑھانے کی مکمل کوشش کرونگا،

سیکنڈری اسکول میں جب سے مجھے داخل کرایا گیا، تو میں اپنی تمام ماضی میں گزری ھوئی مشکلات اور مصیبتوں‌ کو بھول چکا تھا، کیونکہ اس اسکول میں تقریباً تین سال بعد ایک پڑھنے کا اچھا ماحول ملا تھا، تمام دوست بھی نفیس ترین اور بااخلاق تھے، جیساکہ میں اس سے پہلے بھی تفصیل سے عرض کرچکا ھوں، حالانکہ یہ بھی ایک گورنمنٹ اسکول ھی تھا، لیکن اس کی انتظامیہ کی تعریف بہت دور دور تک تھی اور یہاں داخلہ بھی بہت مشکل سے ملتا تھا، لیکن والد صاحب نے رابطہ کیا ھمارے محلے کے ایک اس اسکول کے سینیئر سابق طالب علم منیر بھائی سے، جو اس وقت کالج میں تھے،اور انکی ھی سفارش پر داخلہ مل گیا تھا ورنہ میرا اپنی قابلیت سے سیلیکشن ھونا بہت ھی مشکل ھی تھا، کیونکہ میرے مارکس کا وہ اسٹینڈرڈ نہیں تھا، جو اس اسکول میں داخلے کیلئے ضروری تھا، اور کچھ ملٹری کے کوٹہ نے بھی اثر دکھایا تھا،

روز کے معمول بہت اچھی طرح چل رھے تھے، ایک طرف اسکول کی پڑھائی اور دوسری طرف محلے کا رھن سہن اور وہاں کا برتاؤ، تیسرے والدین کی عزت، چوتھے محلے کے دوستوں کے ساتھ الگ ایک اپنی محفل اور اللٌہ تعالیٰ کا شکر تھا کہ میں اپنے آپ کو ھر ماحول میں بالکل فٹ پا رھا تھا، یعنی کہ اپنی زندگی کی گاڑی اپنی صحیح رفتار سے دوڑ رھی تھی، اس میں ھماری ملکہ باجی کا بہت زیادہ ھی عمل و دخل تھا وہ سب سے پہلے ھر ایک کو اخلاق کا بہت اچھا سبق دیتیں اور بعد میں دوسری بات کرتی تھیں، اکثر بچے جو کہ گالیاں بہت بکتے تھے اور نازیبا الفاظوں کا استعمال بے شمار کرتے تھے، اب وہ اچھی اور شائستہ زبان بولنے لگے تھے جو لوگ تو تڑاک سے بولتے تھے اب “آپ جناب“ سے بات کرنے لگے تھے، جسے میں پہلے دل میں ھٹلر باجی کہتا تھا اب میرے لئے ایک محترم ھستی کا مقام رکھتی تھیں اور وہ آج تک میرے دل میں انکا وھی مقام ھے،

بچوں میں لڑائی وغیرہ اب بہت کم ھوتی تھی اور اگر ھوتی بھی تو ملکہ باجی کی وجہ سے فوراً ختم ھوجاتی تھی اور محلے کی رونقیں برقرار رھتی ملکہ باجی نے تو محلے میں ایک گھر میں ھی چھوٹا سا محلے کیلئے اپنے ھی گھر میں ایک ویلفیئر سنٹر ھی کھول لیا تھا، اس میں بچوں کو فری بنیادی تعلیم اور مختلف دستکاری بھی بغیر کسی معاوضے کے سکھاتی تھیں اور اکثر بچے اپنے اسکول کا ھوم ورک کرنے کیلئے بھی ان سے مدد لیا کرتے جس میں ھم سب بڑے بچے بھی انکی مدد میں برابر کے شریک ھوتے، اور خاص طور سے عورتوں میں عیدمیلادالنبی saw کا انتظام بھی خود کرتیں اور وہ بہت ھی اچھی حمد اور نعتیں درود و سلام ،خوبصورت آواز میں پڑھتی تھیں، اور ھر ایک کی خواھش پر ھر گھر میں انتظام کراتی بھی تھیں -

اس محلے کی خوشیاں ایک وقت میں بہت عروج پر تھیں، میں تو اب محلے کا ایک پکا لاڈلا بن چکا تھا، کیونکہ اکثر محلے کے کسی بھی گھر کے کام کیلئے میں نے کبھی بھی انکار نہیں کیا تھا، جب بھی اپنے گھر کے اسی بھی کام کیلئے باھر نکلتا تو شاید ھی کوئی ایسا وقت ھوتا کہ مجھے کوئی آواز نہیں دیتا تھا اور جیسے ھی باھر نکلتا تو ساتھ میرے ملکہ باجی ضرور چل دیتیں، انہیں بھی بازار سے کچھ نہ کچھ لینا ھوتا تھا اور شاید میرے ساتھ وہ اپنے آپ کو محفوظ بھی سمجھتی تھیں، ویسے بھی اس وقت کوئی ایسا خطرہ یا کسی چھیڑ چھاڑ کا نام و نشان نہیں تھا اور سب لوگ عورتوں اور لڑکیوں کا دل سے احترام بھی کرتے تھے -

اپنے گھر سے زیادہ اب میں ان کے گھر میں گزارتا تھا یا وہ دونوں میرے گھر پر موجود ھوتیں، اپنے گھر کے کام سے فارغ ھوکر میری والدہ کابھی ھاتھ بٹاتی تھیں، اور میرے چھوٹے بہن بھائیوں کو بھی سنبھالتی تھیں، اس کی وجہ سے وہ ھمارے والدین کے دلوں میں ایک بہت اچھا مقام بنا چکی تھیں، اور ھماری والدہ کا بھی ان دونوں کے بغیر دل نہیں لگتا تھا، اکثر میں نے دیکھا کہ وہ والدہ کے بالوں میں تیل لگانتی اور کنگھی کرتیں، اور جو بھی کام ھوتا بہت خوشی سے کرتی تھیں، اسی طرح وہ دن اتنی تیزی سے بھاگ رھے تھے کہ پتہ ھی نہیں چل رھا تھا،

اسکول کا پہلا سال تو بہت اچھا گزرا، سالانہ امتحان میں اتنے اچھے نمبر تو نہیں بلکہ قابل قبول ضرور تھے 65٪ کے قریب مارکس لے کے جو اس وقت کی سیکنڈ ڈویژن اور آج کا “بی گریڈ“ کہ سکتے ھیں، بہرحال یہ بھی اللٌہ کا شکر تھا، گھر میں کافی خوشیاں منائی گئیں، چلو ایک سال اور اس اسکول کا بیت گیا اور ساتویں کلاس میں پہنچ گئے، دوستوں کا وھی ھمارا پرانا گروپ تھا اور کلاس ٹیچر بھی وھی جنہیں سب پسند کرتے تھے، اسکے علاوہ باقی سب ٹیچر بھی اپنی اپنی جگہ پر بہت اچھے تھے، 1962 کا سال چل رھا تھا میری عمر اب بارویں سال میں داخل ھوچکی تھیں،

دوسری طرف میرے کچھ بچپن کے شوق بھی میری عمر کے ساتھ ساتھ چل رھے تھے، پہلے کبھی مین اپنی کاپیوں کے اخر میں اردو خوشخطی لکھنے کے ساتھ ساتھ کچھ خیالی تصاویر بھی بنایا کرتا تھا، جو کہ آھستہ آھستہ وہ عادت ایک پختہ مہارت کا روپ لینے لگی تھی اب میں نے باقائدہ طور سے اس شوق کا سامان بھی رکھنے لگا تھا، پنسلیں اور برش اسکے علاوہ پرانے کیلنڈروں کےپیپرز کو بھی استعمال میں لاتا تھا، جس پر سب سے پہلے میں نے علامہ اقبال کی پنسل اسکیچ سے تصویر بنائی اور اسکے بعد قائداعظم کی تصویر پر مزید ھنرمندی دکھائی، جسے سب لوگوں نے بہت پسند کیا اور خود والد صاحب بھی بہت خوش ھوئے اور ھماری ملکہ باجی نے کچھ زیادہ نوٹس نہیں لیا، ان کا کہنا یہ تھا کہ پہلے پڑھائی کی طرف توجہ دو پھر جب وقت بچے تو، اس طرف دھیان دیا کرو، مگر مجھے اس کا تو جنون کی حد تک شوق ھوگیا اور پڑھائی کو بھی ساتھ ساتھ لے کر چل رھا تھا -

بعد میں میں نے ایک بہت بڑی ایک البم بنائی اس میں اخباروں سے فلموں کے اشتہار کاٹ کر ان کی نئے سرے سے مختلف ڈیزاین سے تصویریں چپکا کر ایک نیا رنگ دیا اور اپنے ھاتھ سے خوشخط اردو سے نام وغیرہ لکھ کر مزید خوبصورت بنانے کی کوشش کرنے کی کوشش کی بعد میں مشہور فلم اسٹاروں کی تصویروں کو سامنے رکھ کر پنسل اسکیچ سے شاندار تصویریں بنانے لگا، اس کے علاوہ لوگوں کی تصویریں پر بھی کچھ ھاتھ صاف کرنے لگا، اسلامی کتبے اور خانہ کعبہ، گنبد خضریٰ کی تصویریں پہلی بار رنگین کلر سے برش سے بنائی، جسے بہت ھی زیادہ پسند کیا گیا، اب تو لوگ اور دوست بھی فرمائشیں کرنے لگے تھے، لیکن ابھی بھی تھوڑی سی کسر باقی تھی-

میں چاھتا تھا کہ کسی ماھر آرٹسٹ کے پاس جاکر اپنے اس شوق کو لے کر مزید کچھ اور آگے سیکھوں، مگر والد صاحب بھی یہی کہتے تھے کہ پہلے پڑھائی مکمل کرلو، اس کے بعد کسی اچھے آرٹس کے اسکول میں داخلہ لے لینا، میں نے اب مزید پڑھائی کی طرف زور دینا شروع کردیا، اس کے ساتھ ساتھ اپنا شوق بھی پورا کرتا رھا، لیکن یہ واقعی حیرت کی بات تھی کہ چاھے گرمی کا موسم ھو یا سردی کا میں اپنے شوق کے مشن کو لے کر چلتا رھا اور اکثر رات کو اباجی سے چھپ کر بھی لالٹین کی روشنی میں بھی اپنے شوق کی تکمیل کرتا رھا-

اسی شوق اور روزمرہ کی وھی مصروفیات میں بغیر کسی ردوبدل کے اسی تسلسل کے ساتھ ھنسی خوشی سے بھرا ایک سال اور گزر گیا، اور اسی قابل قبول نمبروں سے ساتویں جماعت کو بھی خیرباد کہہ دیا، لیکن کوشش کے باوجود بھی کوئی اچھی پوزیشن نہ لا سکا، اسکی وجہ بھی میرا آرٹ اور ادب کا شوق تھا، ریڈیو پاکستان کے بچوں کے پروگراموں کے علاوہ بھی میں بچوں کے رسالوں بھی کچھ کہانیاں وغیرہ لکھنے کی کوشش کی، لیکن زیادہ نہیں بس کچھ دن کے بعد زیادہ وقت نہ نکال سکا، قلمی دوستی بھی ساتھ ایک نئے شوق کے میرے ساتھ لگ گئی اخباروں میں بھی ایک نئے نام سے پہچانے لگا جس میں میرا نام “ارمان شاھد“ ھوا کرتا تھا،

1963 کا سال چل رھا تھا عمر میں بھی ساتھ ساتھ ایک سال کا مزید اضافہ ھو گیا، تیرویں سال کے ایک رنگین شوق کے دور میں شامل ھوگیا تھا، اس وقت شکر ھے کہ ھمارے گھر میں ریڈیو بھی والد صاحب خرید لائے ایک اور نئی خوشی ھمارے گھر میں آگئی تھی، اور ساتھ ساتھ اپنے اندر بھی ایک بڑکپن کا غرور سا آگیا تھا اور قد میں بھی اچھا خاصہ اضافہ ھوچکا تھا،!!!!!!!!
------------------------------------------------------------
آٹھویں کلاس میں جانے کے بعد کچھ لگتا تھا کہ طبعیت میں کچھ سنجیدگی سی آگئی تھی، اس دفعہ پہلی بار مجھے ریڈیو پاکستان کے مین گیٹ پر ھی بچوں کے پروگرام میں جانے سے روک دیا گیا کیونکہ میری عمر اب اس بات کی اجازت نہیں دے رھی تھی کہ میں بچوں کے ساتھ اس پروگرام میں حصہ لے سکوں، جس کا مجھے اس دن بہت زیادہ افسوس بھی ھوا، حالانکہ پچھلے ہفتہ، منگل کے دن ھی ان بچوں کے ساتھ جاکر وہیں سے آڈیشن ٹیسٹ دے کر ھی اجازت نامے لئے تھے، اس دن باقی بچے جو میرے ساتھ تھے، وہ میرے بغیر اندر جانے سے کچھ شرما رھے تھے، لیکن میں نے انہیں بڑی مشکل سے راضی کیا کہ میں یہیں باھر کھڑا ھوں جیسے ھی پروگرام ختم ھو یہاں گیٹ کے پاس آجانا،

مگر پھر بھی ایک بچہ تو بالکل ھی اڑ گیا، اتوار کا دن تھا اور ساری دکانیں بند تھیں ویسے بھی اتنی صبح صبح کون دکان کھولتا ھے، میں اس بچے کو ساتھ لے کر برابر میں اردو بازار کے میں دروازے کا سامنے فٹ پاتھ پر بیٹھ کر پروگرام کے ختم ھونے کا انتظار کرتا رھا، جہاں سے ریڈیو پاکستاں کے اندر داخلہ کا مین گیٹ بھی نظر آرھا تھا، اسی انتظار میں یہ سوچتا رھا میرے وہ معصوم بچپن کا وہ دور صرف چار دن کے اندر ھی ختم ھوگیا، پچھلے منگل کو مجھے انہیں لوگوں نے اگلے اتوار کے پچوں کے پروگرام کی اجازت دی تھی اور آج مجھے اندر جانے سے منع ھی کردیا کہ میری عمر زیادہ ھے -

پروگرام ختم ھونے کے بعد سب بچوں کو ساتھ لے کر اپنے گھر کی طرف واپس ھوا، تھوڑی دور چلنے کے بعد صدر سے اپنے علاقے کی بس میں سب بچوں کو باری باری بٹھایا اور جب بس روانہ ھوئی تو کنڈکٹر سے تین ٹکٹ لئے ایک اپنا اور چار بچوں کے آدھے ٹکٹ، کچھ دیر میں اپنا اسٹاپ آگیا اور چاروں بچوں کو باری باری بس سے اتارا اور ابنے محلے کی ظرف سب کو ساتھ لئے چل رھا تھا، آج چال میں وہ ہل چل نہیں تھی، بچے بھی کچھ میری وجہ سے خاموشی سے چل رھے تھے، ورنہ ھمیشہ میں ان بچوں کے ساتھ اچھلتا کودتا، شور مچاتا بالکل سرکس کے مزاحیہ جوکر کی طرح مذاق کرتا ھوا چلتا تھا،

اب یہ پہلی بار ریڈیو پاکستاں کے بچوں کے پروگرام میں داخلہ پر پابندی لگی تھی، اور میں گھر جاکر اپنے آپ کو شیشے میں دیکھ رھا تھا کیا میری شکل اب اس قابل نہیں رھی کہ بچوں کی محفلوں میں شریک ھوسکوں، اس دن سے دل کو ایسا دھچکا لگا کہ چہرے پر ایک بےزاری سی کیفیت محسوس ھونے لگی، اس دن تو مجھے کافی رونا آتا رھا، سب لوگ پوچھتے بھی رھے کہ کیا بات ھے آج چہرے پر بارہ کیوں بجے ھیں، لیکن میں نے کسی کا بھی صحیح طریقے سے جواب نہیں دیا-

میری حالت ملکہ باجی بھی دیکھ رھی تھیں، انہوں نے مجھے پیار سے سمجھایا کہ اب تم 13 سال کے ھونے والے ھو ، اور وھاں تو صرف 12 سال تک کے عمر کے بچوں کی اجازت ھے، تمھیں تو خوش ھونا چاھئے کہ 12 سال کے بعد بھی تمہیں کتنی دفعہ اجازت مل چکی ھے، اب تو تمھیں بڑوں کے پروگراموں میں حصہ لینا چاھئے، میں تمھارے ساتھ چلونگی اور تمھیں کسی نہ کسی کے پروگرام میں حصہ دلا کر ھی رھونگی، لیکن اس وقت تو میں نے بالکل انکار کردیا اور ساتھ یہ بھی کہا کہ آیندہ اس طرف کا تو میں رخ بھی نہیں کرونگا، کئی دنوں تک تو اسکا مجھے بہت افسوس رھا اور اس وقت زیادہ ھوتا جب ھر منگل کی صبح صبح کو بچے تیار ھوکر میرے گھر مجھے ریڈیو پاکستان سے اجازت نامہ لینے کیلئے آجاتے، مگر ان سب کو مایوس ھونا پڑتا یہاں میں نے ان کے ساتھ زیادتی کی، میں چاھتا تو انہیں اجازت نامہ دلوا بھی سکتا تھا لیکن صرف اپنی خود غرضی کی وجہ سے میں نے ان کے معصوم خواھشوں کو کچل کر رکھ دیا تھا -

میں اب اور کچھ زیادہ اپنے آپ کو مشغول رکھنے لگا تھا، آٹھویں جماعت کے امتحانات بھی نزدیک تھے، اسکی تیاری کے ساتھ ساتھ کچھ تھوڑا سا وقت اپنے شوق کی طرف بھی دے رھا تھا اور اپنی تصویروں کی البم کے خالی صفحوں پر اخباروں کی کٹنگ سے مختلف رنگوں سے اپنے ہاتھوں سے پینٹنگ کرتا رھا، جو بھی گھر آتا اسے وہ البم ضرور دکھاتا، اور لوگ بہت تعریف بھی کرتے، زیادہ تر فلموں کے ھی اشتہار ھی ھوتے تھے اور ساتھ ھی پنسل اسکیچ سے تصویریں بنانا بھی تہیں چھوڑا تھا اب تو ایک تقریباً ایک گھنٹے کے اندر اندر ایک تصویر مکمل کر لیتا تھا اور رنگوں کی تصویر جو میں برش کے ساتھ پانی کے کلرز سے بناتا تھا اس کیلئے کچھ اور تھوڑا سا وقت مزید درکار ھوتا تھا -

امتحانات کی تیاری میں والد صاحب کے علاوہ ملکہ باجی میرا ساتھ بہت دیتی تھیں، وہ اور انکی بہں زادیہ بھی اب میرے ھی اسکول میں ھی پڑھ رھی تھیں، لیکن وقت الگ ھی تھے اور شاید وہ نویں کلاس میں اور زادیہ میرے ھی ساتھ آٹھویں کلاس میں پڑھ رھی تھی، بہر حال ھم تینوں امتحانات کی تیاریوں میں لگے رھتے اور جب تھک جاتے تو میرے ساتھ وہ دونوں بیٹھ کر مجھے تصویریں بناتا ھوا دیکھتیں، اور کچھ حیران بھی ھوتیں کہ میری بنائی ھوئی تصویروں میں اتنی بہترین اور صاف مشابہت دیکھ کر پریشان ھوجاتیں حلانکہ مجھے ابھی بھی بہت سی خامیاں نظر آرھی تھیں،

بچوں کیلئے اب مجھے وقت نکالنا بہت مشکل ھورھا تھا، پہلے تو کبھی کبھی ریڈیو پاکستان کے علاوہ ھل پارک، چڑیاگھر یا کبھی سمندر کے کنارے کلفٹن بھی لے جایا کرتا تھا، ساتھ اپنے چھوٹے بہن بھائی بھی ھوتے تھے، مگر ملکہ باجی اور زادیہ کو گھر سے اجازت نہیں ملتی تھی لیکن میں ان کی پوری فیملی کے ساتھ ضرور جاتا تھا، اکثر جب بھی وہ سب کسی تقریب یا فلم دیکھنے یا کہیں گھومنے جارھے ھوتے تھے تو مجھے میرے والدیں سے اجازت لے کر اپنے ساتھ ضرور لے جاتے تھے اور میں بھی ان کے ساتھ خوب خوش رھتا تھا -

بچوں کی خوشی کیلئے مجھے ایک اور شوق کو پالنا پڑا کیونکہ بچے مجھے بہت عزیز تھے، اس شوق کیلئے مجھے کچھ زیادہ ھی محنت کرنی پڑی تھی، !!!!!!!!!
--------------------------------------------------------------
جاری ھے،!!!!!

عبدالرحمن سید
30-01-10, 11:37 AM
بچوں کی خوشی کیلئے مجھے ایک اور شوق کو پالنا پڑا کیونکہ بچے مجھے بہت عزیز تھے، اس شوق کیلئے مجھے کچھ زیادہ ھی محنت کرنی پڑی تھی، !!!!!!!!!

جب سے ریڈیو پاکستان کے دروازے مجھ پر بند ھوئے، میں نے بھی بچوں کے ساتھ باھر نکلنا تقریباً ختم کردیا تھا، اور بس زیادہ تر اپنے ھی محلے میں ھی بچوں کے ساتھ کچھ نہ کچھ محفل جما ھی کرلیا کرتا تھا، لیکن بچوں کو تو باھر جانے میں ھی زیادہ خوشی ھوتی تھی، اور لوگ بھی اپنے بچے میرے حوالے کرکے بےفکر ھو جاتے تھے، مگر بچے مجھے باھر لے جانے کی ضد کرتے، لیکں اب میرا دل بالکل نہیں چاھتا تھا، مگر میں نے بچوں کے لئے کچھ اور ھی سوچ رکھا تھا کہ گھر پر ھی کیوں نہ کچھ انکی دلچسپیوں کا ساماں پیدا کیا جائے،

کبھی کبھی ھمارے محلے میں ایک پتلی تماشے والا آتا تھا، جس میں وہ کئی چارپائیوں کو ساتھ جوڑ کر ایک اسٹیج بناتا، اور پیچھے سے وہ مختلف رنگ برنگی پتلیوں کو دھاگوں کی مدد سے اپنی انگلیوں سے نچاتا تھا، ساتھ ساتھ ان پتلیوں کی حرکتوں اور کرداروں کے مطابق اپنے منہ سے آوازیں بھی نکالتا رھتا، کبھی مغل آعظم اور انارکلی، کبھی مُلا دوپیازہ اور بیربل اور کبھی پاٹےخان کے ساتھ بہت سے دوسرے مزاحیہ کھیل مختلف انداز سے پیش کرتا تھا، جسے محلے کے تمام بوڑھے، جوان، بچے، عورتیں اور مرد سب بڑے شوق سے دیکھتے تھے،

اس پتلی تماشہ کو لوگ سامنے سے دیکھتے تھے اور میں پیچھے جاکر اس پتلی والے کو پتلیاں نچاتے ھوئے اسکے ھاتھوں کو دیکھتا تھا، میں نے بھی اسکی دیکھا دیکھی گھر پر ھی گتے سے کاٹ کر اس پر مختلف رنگون کی مدد سے کرداروں کی ایک نئی شکل کی مختلف قسم کی پتلیاں بنائی، سر، ھاتھوں اور پیروں کو پنوں اور تاروں کی مدد سے اس طرح جوڑا کہ وہ اسانی سے ھل جل سکیں، پھر ان میں سوراخ کرکے مضبوط کالے دھاگوں سے باندھ کر پہلے خود ھی پریکٹس کی، پھر ایک چھوٹا سا اسٹیج اسی طرح چارپائیوں کو جوڑ کر بناکر “بیک گراونڈ“ کو اماں کے کالے برقے سے ڈارک کرتا، آگے پیچھے ڈھکنے کےلئے چادروں سے کام لیتا اور پیچھے سے مختلف کالے دھاگوں سے پتلیوں کے ھاتھ پیر اور سروں کو انگلیوں کی مدد سے حرکت دیتا اور منہ میں ایک سیٹی رکھ کر اسی پتلی تماشے والے کی طرح آوازیں نکالتا، جسے بچوں نے کافی تفریح لی اوا بہت خوش ھوتے رھے،

اس میں مجھے کافی حد تک کچھ کامیابی بھی ھوئی، لیکن اتنی مہارت سے پتلیوں کو چلا نہ سکا مگر بس اپنے کھیل اور بچوں کی تفریح کی حد تک بہت ھی زیادہ بہتر تھا اگر کچھ دں مزید پریکٹس کرتا تو شاید “پتلی ماسٹر“ ھونے کے چانس تھے، اس میں سب سے مشکل کام اپنی تمام انگلیوں کو مختلف زاویوں سے اپنی منہ کی آواز کے ساتھ ساتھ چلانا پڑتا ھے اور ھر انگلی دھاگے کی مدد سے پتلیوں سے جڑی ھوتی تھی، واقعی بہت مشکل کام تھا، جس کو زیادہ دن تک برقرار نہ رکھ سکا ایک وجہ یہ تھی کہ گھر کی چادریں اور اماں کے دو برقے میں خراب کرچکا تھا، جس کی ڈانٹ بہت کھانی پڑی اور دوسرے یہ کہ میری پتلیاں گتے اور کاغذ کی ھوتی تھیں، جو ایک دفعہ چلانے کے بعد دوسے وقت کیلئے بالکل ناکارہ ھو جاتیں، اس لئے مجبوراً مجھے اس کھیل کو ختم کرنا پڑا،

میں یہ ساری تفریح محلے کے بچوں کے لئے اور کچھ اپنی واہ واہ کےساتھ ساتھ اپنا شوق کو بھی پورا کرنے کی کوشش کرتا تھا، اس کے علاوہ بچوں سے یا کسی سے بھی اسکا معاوضہ نہیں لیتا تھا، بس اماں ھماری زندہ باد، کسی نہ کسی طرح انہیں منا کر پیسے کھینچ لیتا تھا، یہ سب کچھ صبح سے لیکر دوپہر اسکول جانے سے پہلے کرتا تھا کیونکہ اس دوران اباجی ڈیوٹی پر اور ھماری ملکہ باجی اور زادیہ اسکول میں ھوتی تھیں، اور کسی کا اتنا ڈر بھی نہیں تھا، اپنے چھوٹے بہن بھائی تو مجھ سے ویسے ھی ڈرتے تھے،

اب پتلی تماشے کے بعد کسی اور نئے کھیل کی فکر میں لگ گیا، وہ کھیل کیا تھا، ایک اور نیا ڈرامہ، جس کے لئے کچھ مہنگا ساماں خریدنا پڑا اور اس کے لئے مجھے کافی جتن کرنے پڑے، جسے اب کبھی سوچتا ھوں تو بہت ہنسی آتی ھے، دن کو اکثر اپنے شوق پورے کرتا اور شام کو اسکول سے واپسی پر اپنی پڑھائی کی طرف دھیاں دیتا تھا، اور باقی روزمرہ کے کام کاج اپنے معمول کے مطابق ھی ھورھے تھے، جیساکہ پہلے ھی میں ذکر کرتا رھا ھوں !!!!!!!!!
----------------------------------------------------
اب ایک اور نئے شوق کے چکر میں، تاکہ بچے کسی نہ کسی طرح خوش رھیں، ایک ھمارے محلے میں ایک آدمی اکثر ایک بڑا سا ڈبہ اپنی سائیکل پر رکھ کر آتا تھا، اس میں پانچ یا چھ دوربین کی طرح لیٹربکس جیسے دیکھنے کیلئے لگے ھوتے تھے، اندر ایک طرف ایک سینما کی طرح ایک پردہ ھوتا، دوسری طرف ایک فلم چلانے کی چھوٹی سی ایک مشین لگی ھوتی تھی، جس پر ایک چرخی کے ساتھ فلم کی ریل لپٹی ھوئی ھوتی اور وہ آدمی اس چرخی کو اپنے ھاتھ سے گھماتا ساتھ ایک شیشہ بھی لگا ھوا تھا جس سے وہ سورج کی روشنی کا عکس مشیں کے عدسے پر ڈالتا جہاں سے فلم کی ریل چل رھی ھوتی تھی، اور اس ڈبے کے اندر اس فلم کا عکس پڑتا اور بچوں سے ایک ایک آنہ لے کر شاید دو یا تیں منٹ کی فلم کا کوئی مار دھاڑ یا کوئی رقص کے سین بغیر آواز کے دکھاتا تھا، اور بچے بہت شوق سے یہ بھی دیکھتے تھے -

مجھے بھی ایک اسی طرح کے شوق کا دورہ پڑا کہ میں کیوں نہ بچوں کو بھی اسی طرح کی ایک اور تفریح فراھم کروں، بس اس کام کی دھن میں بازار جاکر روزانہ کوئی نہ کوئی معلومات لیتے کی کوشش کرتا رھا، مگر جب آخری نتیجہ پر پہنچا کہ مجھے اس شوق کیلئے تو میرے حساب سے کافی رقم درکار ھوگی، میرے منصوبے کے مطابق اس میں کم از کم ایک سو روپے کا نسخہ تھا، جو کہ میرے بس کے بالکل باھر تھا، والد صاحب کی تنخواہ ھی 150 روپے ماھانہ تھی اور وہ پورے گھر کے خرچ پر ھر مہینے 100 روپے سے زیادہ خرچ نہیں کرتے تھے، اور میں اپنے اس شوق کیلئے 100 روپے خرچ کروں یہ تو بالکل ناممکن تھا،

اکثر جب بھی میں فلم دیکھنے جاتا تھا تو مجھے یہ تجسس رھتا تھا کہ پردہ پر حرکت کرتی ھوئی فلم کیسے دکھائی دیتی ھے، میں اکثر بالکل سامنے کا ھی ٹکٹ لیتا تھا اور ان لوگوں کو بےوقوف سمجھتا تھا جو بالکل پیچھے اور گیلری میں بیٹھ کر اور زیادہ پیسے خرچ کرکے فلم دیکھتے تھے، جبکہ اس وقت سب سے آگے چار سے چھ آنے، درمیان میں بارہ آنے، سب سے پیچھے ایک روپیہ اور گیلری کا ٹکٹ صرف سوا روپے سے ڈیڑھ روپے تک ھوتا تھا، میں بھی یہ سوچنے لگا کہ اگر میں بھی کسی طرح ایک چھوٹا سا سینما جیسا بنا لوں اور محلے کے بچوں اور بڑوں سے کچھ نہ کچھ ٹکٹ کےعوض لے کر کچھ گھر کی آمدنی میں بھی اضافہ کرسکتا ھوں، اور یہ بس میں اکیلے ھی اپنے شیخ چلٌی کی طرح اپنے خوابوں کو بنتا رھا،

اور شاید آپ یقیں کریں یا نہ کریں میں نے یہ مہنگا شوق بالکل شیخ چلی کے خوابوں کی طرح مگر حقیقت میں ایک مہینے کے اندر اندر مکمل کیا، سب سے پہلے تو میں نے کچھ اپنے جیب خرچ میں سے کچھ بچائے اور کچھ والدہ سے زبردستی رو دھو کر تین روپے اکھٹے کئے، مگر کسی کو بھی خبر نہ ھونے دیا، اور خاموشی سے روزانہ صبح سودا لانے کے وقت ایک چھوٹا سا ایک دھندا بھی پال لیا، جسکے لئے والدہ سے صرف ٹیوشن پڑھنے کے بہانے سے ایک جھوٹ کا سہارا لیا، اس شرط پر کہ وہ اباجی کو بالکل نہیں بتائیں گی، کیونکہ سالانہ امتحان قریب ھیں اور میں اس دفعہ اچھے نمبر لانا چاھتا ھوں -

اب ایک اس سینما کے شوقیہ منصوبے کو پورا کرنے کیلئے کئی اور منصوبے بنانے پڑے اور وہ بھی بغیر کسی کو بتائے اور نہ ھی ساتھ کسی کو شریک کیا، روز کے معمول کی طرح پہلے گھر کا تمام پانی بھرتا، اور پھر سودا لینے کےلئے روزانہ اب بہت جلدی نکل جاتا تھا اور ایک گھر سے بڑی لکڑی کو اٹھاتا اور نکل پڑتا، پہلے دن میں نے ان تین روپے میں سے ایک روپے کے بغیر پھولے ھوئے غباروں کا پیکٹ خریدا جس میں مختلف کلر اور سائزکے تقریباً 100 عدد ھونگے اور باقی دو روپے کے مختلف کھلونے تھوک کے بھاؤ سے ایک ایک درجن لئے اور کسی اور علاقے میں جاکر تاکہ کسی کو پتہ نہ چلے، وہاں پہنچنے سے پہلے تو کچھ غبارے پھلائے اور لکڑی پر ٹانگے اور کچھ کھلونے بھی لکڑی کے ساتھ ھی لٹکائے اور اس علاقے میں پہنچا تو میرے آس پاس بہت ھی زیادہ بچوں کا رش لگ گیا اور اناً فاناً سارے غبارے جو پُھلا سکا بک گئے اور ساتھ ھی کافی کھلونے بھی بچوں نے خرید لئے، پھر واپس جلدی جلدی سودا لے کر، ایک دکان پر وہ لکڑی اور بچے ھوئے غبارے، کھلونے وغیرہ امانتاً رکھوائے، جہاں سے اکثر سودا لیتا تھا، واپس گھر کی طرف، اماں کو سودے کا حساب دیا اور اسکول جانے کی تیاری میں لگ گیا - اس دن میں نے پیسے گنے تو کل چار روپے بنے اور ابھی تو اور بھی غبارے اور کھلونے باقی تھے،

اسی طرح اب روزانہ ھی مجھے مزید پیسے بڑھانے کی عادت سی ھوگئی اور روزانہ معمول کے مطابق جانا اور تقریباً پندرہ دن تک اسی طرح غبارے اور کھلونے تھوک کے بھاؤ خریدکر اور انہیں بیچ کر مشکل سے بیس روپے تک اکھٹے کئے اور میں بہت تھک بھی گیا اس کے علاؤہ ایک اور دھندا بھی شروع کیا، شب برات کے دن نزدیک تھے اس موقع کو غنیمت جانتے ھوئے میں فوراً تھوک بازار گیا جو بس کے ذریعے صرف آنے اور جانے میں صرف آدھے گھنٹہ کا وقت لگتا تھا، وہاں سے مختلف پٹاخے انار جلیبی اور لہسن پٹاخہ، پُھل جھڑیاں اور مختلف پٹاخے جو بھی مل سکے وہ بیس روپے میں خریدے اور اب روزانہ غباروں کو چھوڑ کر اپنے ھی محلے میں ھی بیچنا شروع کیا لیکں ایک دوسرے دوست کی مدد سے تاکہ ایسا لگے کہ وہ بیچ رھا ھے، اسی طرح میں ایک مہینے میں بہت مشکل سے تقریباً 40 روپے تک بنالئے اور یہ پیسے مختلف بس کے کنڈکٹروں سے دس دس روپے کے نوٹوں کی شکل میں بدلوا بھی لئے مگر اپنے نئے مشن کے لئے تو 100 روپے درکار تھے، اب پھر سوچ میں پڑ گیا کہ کس طرح اپنے سینما کے خواب کو پورا کروں ، ایک مہینہ بھی ھونے والا تھا!!!!!!!

ادھر آٹھویں جماعت کے امتحانات بھی نزدیک آرھے تھے اور میں اپنے شوق کی تکمیل کےلئے اونچی اڑان کے چکر میں لگا ھوا تھا، مگر یہ شاید میری، کیا کہیں کہ خوش قسمتی ھی سمجھ لیں کہ جو اچھے یا برے جو بھی شوق پالے تھے، جن کو میں نے بچپن میں کسی نہ کسی طرح اپنے معمولی وسائل کے ذریعے ھی پورا کرنے کی کوشش کی تھی، ان کی حقیقت میں مجھے اس کی صحیح تعبیر بڑے ھوکر ایک پروفیشنل کیرئیر کے روپ میں ملی بھی، اور کافی حد تک کامیاب بھی رھا، لیکن بس جو اللٌہ تعالٰی کو منظور تھا وھی میرے لئے بہتر ثابت ھوا -
کیونکہ چند مجبوریوں اور کچھ اپنے والد صاحب کی ناپسندیدگی وجہ سے میرے اپنے شوق سے اپنائے ھوئے کیرئیر زیادہ پائیدار ثابت نہیں ھوسکے، اور اس طرح مجھے اپنے تمام شوق کو مکمل طور سے خیرباد کہنا پڑا،!!!!!!!!
------------------------------------------------------------------
اس سے مجھے یہ ضرور سبق ملا کہ اگر انسان شیخ چلی کی طرح خوابوں میں رھنے کے بجائے، اگر صدق دل اور اچھے جذبے سے جتنی محنت کرے گا تو اس سے کہیں زیادہ اللٌہ تعالیٰ اس کا صلہ ضرور دیتا ھے، اُس وقت کے دور میں لوگ محنت ضرور کرتے تھے لیکن زیادہ لالچ نہیں کرتے تھے کچھ وقت اپنے لئے ، اپنے بچوں کے لئے اور دوسروں کے لئے بھی نکالتے تھے اس کے علاوہ اپنی اور اہل و عیال کی صحت اور خوراک کی طرف بھی خاص توجہ دیا کرتے تھے، کم اور بہتر تازہ غذا، ورزش، نماز کی مکمل پابندی اسکے علاوہ رات کو عشاء کی نماز کے بعد کچھ چہل قدمی کرکے، اپنے دوست نمازیوں کے ساتھ نماز سے فارغ ھوکر ایک چھوٹی سی چوپال لگاتے، مسئلے مسائل حل کرتے اور کچھ گپ شپ کرتے اور کوشش یہی ھوتی تھی کہ جلد سے جلد سو جائیں کچھ بزرگ تو یاد الہٰی میں رات بھی گزارتے تھے اور تہجد اور نوافل کی نمازوں کے ساتھ اپنی مسجد میں اللۃ کے ذکر کا اہتمام بھی کرتے تھے-

اس وقت زیادہ تر لوگ اپنے وسائل کے اندر ھی رہ کے اپنی ضروریات کو پورا کرنے کی کوشش کرتے تھے یعنی جتنی چادر ھوتی تھی اتنے ھی اپنے پیر پھیلاتے تھے، بلکہ لوگ تو صدقہ خیرات بھی خوب کرتے تھے اور محلے کے ضرورت مندوں کی مدد بھی کرتے تھے، یہی وجہ تھی کہ آللٌہ تعالیٰ ان کے رزق میں برکت بھی دیتا تھا، اور سکون کے ساتھ ساتھ خوشیوں کا بونس بھی ملتا تھا، اس زمانے میں قلیل آمدنی ھونے کے باوجود لوگوں کے دل بہت وسیع تھے،
ایسے بھی مگر بہت کم لوگ دیکھنے میں آتے تھے جو ھمیشہ پریشان رھتے اور قرضہ میں ڈوبے رھتے اس کی وجہ وہی تھی کہ وہ قدرتی قانون کی پیروی نہیں کرتے تھے، اور اچھے اور متقٌی لوگوں سے دور بھاگتے تھے تاکہ وہ نصیحتیں سننے سے بچ جائیں، مگر بعد میں انہیں کے پاس جاکر ھاتھ بھی خود ھی پھیلاتے تھے -

معاف کیجئے گا کہ کچھ نصیحتوں کی طرف میرا رخ ھوگیا تھا، چلئے اب اصل موضوع پر واپس آتے ھیں !!!!!!!!!!

اس وقت 40 روپے بہت ھوتے تھے،میری خوشی کا کوئی ٹھکانا نہیں تھا، مگر میرے پروجیکٹ کا تخمینہ 100 روپے تک تھا، اس کے علاوہ اور کوئی چارا نہیں تھا کہ اب مجھے اسی بجٹ میں اپنے چھوٹے سے سینما کے پروجیکٹ کو مکمل کرنا تھا، جس سے میں بچوں کو ایک نئی تفریح فراھم کر سکوں لیکن کچھ معلوماتی فلم یا کوئی کارٹون ٹائپ کی فلم ھو تو بچوں کیلئے بہتر ھوتا، اگر اس میں کامیابی ھوتی تو میں نے سوچ رکھا تھا کہ اس کو کمائی کا بھی ذریعہ بھی بنا سکتا ھوں،!!!!!!!!!!

اب ان 40 روپے سے اپنے پروجیکٹ کی تکمیل کیسے ھو، یہ سوچ سوچ کر میں بہت پریشان تھا، لیکن یہ بھی ایک مصمم ارادہ کئے ھوئے تھا، کہ کسی نہ کسی طرح اس شوق کو پورا ضرور کرنا ھے، مگر اس کی خبر کسی کو ھونے بھی نہیں دی ورنہ تو مار ھی پڑنی تھی اور اب تو کافی عرصہ بھی ھوگیا تھا، اچھی طرح پٹائی کھائے ھوئے -

ایک دن بس چل دیا کباڑی بازار اور وہاں اپنے پروجیکٹ کا سامان ڈھونڈنے لگا، ایک جگہ مجھے فلم چلانے کی مشین نظر آئی، مکمل چرخی اور ھاتھ کے ہینڈل کے ساتھ اور کچھ فلموں کی ریلیں بھی پڑی ھوئی تھیں، میں نے اس سے پوچھا کہ اس مشین کی کیا قیمت ھوگی اس نے شاید اس وقت ایک سو روپے سے زیادہ کی ھی بتائی تھی، میں خاموش ھی ھوگیا کیونکہ اسی طرح کی مشین دو مہینے پہلے پوچھی تھی تو اس کی قیمت 50 یا 60 روپے تک کی تھی، میں آگے بڑھ گیا اگے بھی بہت سےکباڑی اپنے ھر ٹھیلے پر مختلف نوعیت کے پرانے زمانے کی چیزیں بیچ رھے تھے، اور کافی رش بھی تھا ھر کوئی اپنی پسند کی چیزوں کے چکر میں تھے،

میں بھی کئی مرتبہ اباجی کے ساتھ یہاں آچکا تھا اور بھاؤ تاؤ کرنے کا گُر بھی انہیں سے سیکھا تھا، کہ اگر کوئی 100 روپے قیمت بتائے تو آپ بھی اسے 10 روپے بتاؤ خاص کر کباڑی کی دکان پر، میں جب اپنے کانوں کو ھاتھ لگا کر آگے بڑھا تو انس نے فوراً مجھ سے پوچھا کہ خریدنے آئے ھو یا تفریح کرنے، میں نے فوراً جواب دیا کہ تم کیا سونا بیچ رھے ھو اس کباڑی کی دکان پر، اس نے غصہ سے کہا کہ کیا جیب میں مال ھے، میں نے فوراً جیب سے صرف 20 روپے نکالے اور ھوا میں لہراتے ھوئے اسے نوٹ دکھائے وہ پھر خاموش ھوگیا اور مجھے بلا کر کہا کے کسی کو نہیں بتانا میں تمھیں اپنا بیٹا سمجھ کر آدھی قیمت میں دے دونگا، مین ‌نے مسکراتے ھوئے کہا کہ میرے پاس تو بس یہی 20 روپے ھیں مجھے افسوس ھے کہ میں یہ نہیں خرید سکتا، شکریہ ادا کرتے ھوئے آگے بڑھا ھی تھا تو اس نے دوبارہ آواز دی اور اُسی مشین کی قیمت 50 روپے سے شروع کرتا ھوا اور20 روپے تک بڑی مشکل سے پہنچا اور ساتھ میں میں نے اس سے فلم بھی مانگی تو اس نے اس کی قیمت 5 روپے شاید مانگی لیکن میں نے کہا کہ اس مشین کے ساتھ ھی 20 روپے میں ھی چاھئے، اور میرے پاس کچھ بھی نہیں ‌ھے جبکہ میرے پاس اور 20 روپے ایک الگ جیب میں رکھے تھے،

آخر جب میں اس کے انکار پراس مشین کو چھوڑ کر کافی آگے نکل گیا اور دوسرے ٹھیلے والے سے اسی طرح کی پروجیکٹر مشین دیکھ ھی رھا تھا تو وھی آدمی میرے پاس آیا اور واپس مجھے لے گیا اور بہت ناراض ھوا کہ تم نے ایک تو مشین کے دام اتنے کم لگائے اور اوپر سے اس کے ساتھ فلم بھی مفت مانگ رھے ھو ، میں نے جواب دیا کہ بھائی میرے پاس اتنے ھی پیسے ھیں اگر دینا ھو تو ورنہ میں جارھا ھوں اور مجھے یہ پکا یقین تھا کہ یہ مجھے اسی قیمت پر ھی دے گا، کیونکہ مجھے پہلے بھی والد صاحب کے ساتھ بار بار بازار جاکر کافی تجربہ ھوگیا تھا کہ کہاں پر کس چیز کی کس قیمت پر بحث کرنی چاھئے، کافی اصرار کے بعد بہت مشکل سے وہ اس بات پر راضی ھوگیا، لیکن بیکار سی فلم گھس پٹی بہت سے جوڑ لگے ھوئے، مجھے دینے لگا، پھر میں نے انکار کردیا آکر میں نے ھی اپنی مرضی سے ایک کارٹون فلم اور ایک جنگلی جانوروں کی فلم لی جو شاید مشکل سے 3منٹ کی ھوگی اور پھر وہاں سے واپس گھر بھاگا، جلدی جلدی سودا لیا اسکول کو بھی دیر ھورھی تھی،

گھر پہنچتے ھی بالکل خاموشی سے اس مشین اور فلم کے تھیلے کو ایک خفیہ جگہ پر چھپایا اور اسکے اُوپر کچھ اور چیزیں رکھ کر یہ اطمنان کرلیا کہ کوئی اور یہاں تک نہیں پہنچ سکتا، پھر اماں کے پاس رونی صورت بناتے ھوئے سودا دیا اور یاد نہیں کہ کیا بہانہ کیا تھا، بہرحال کوئی قابل قبول ھی بہانہ تھا جس کی وجہ سے ڈانٹ نہیں پڑی اور میری ماں تو ویسے ھی بہت سادہ طبیعت کی مالک تھی اور ھمیشہ مجھے اباجی سے ڈانٹ اور مار سے بچاتی تھیں، جس کا میں نے بہت فائدہ اُٹھایا، کیونکہ گھر میں سب بہن بھائیوں میں سب سے بڑا تھا اور اپنی ماں کا لاڈلہ بھی تھا -

جلدی جلدی کچھ کھایا پیا اور تیار ھوکر بستہ گلے میں لٹکایا اور اسکول کی طرف بھاگتا ھوا گیا کیونکہ کافی دیر ھوچکی تھی صرف 15 منٹ باقی تھے، اور پہلے ھاف یعنی لڑکیوں کی چھٹی بھی ھوچکی تھی اور گھر پہنچنے والی تھیں اور میں ابھی تک راستہ میں ھی تھا میرے ساتھ کے دوست کب کے اسکول جاچکے تھے، اور میں لڑکیون کے رش سے بچتا بچاتا بھاگ رھا تھا اور ساتھ ان سب کی ہنسی اور مزاحیہ فقرے بازیاں بھی سن رھا تھا، جو مجھے جانتی بھی تھیں،

پہلے بھی ھمیشہ ان سے راستہ میں ضرور ٹکراؤ ھوتا تھا اور میں اپنے دوستوں کے ساتھ ان کا مزاق اڑاتا ھوا جاتا تھا اور وہ بھی ھمیں اسی طرح جواب دیتیں تھیں اور سب ھم ایک دوسرے کو جانتے بھی تھے کیونکہ زیادہ تر ھمارے محلے کی ھی تھیں اور بہت زیادہ فری تھے، لیکن اس وقت کبھی کسی نے کسی غلط نظر سے کسی بھی لڑکی کو نہیں دیکھا، ان میں ھم تمام دوستوں کی بہنیں بھی شامل ھوتیں تھیں کچھ رشتہ دار بھی اور پھر سب سے بڑھ کر ھماری ٹیم کی استاد لیڈر ملکہ باجی اور ساتھ چھوٹی بہن ان کی اسسٹنٹ اور ھم سب کی بہنیں بھی اس اسکول سے واپسی کے قافلے میں شامل ھوتیں تھیں، سب نے نیلے اور سفید رنگ کے یونیفارم پہنے ھوتے تھے اور ھم لڑکوں نےخاکی پتلوں اور سفید قمیض پہنی ھوتی تھی، ایک عجیب سا خوبصورت سا رنگ برنگا ماحول لگتا تھا کہ سامنے نیلے اور سفید یونیفارم میں ملبوس لڑکیاں اور ھم سفید اور خاکی یونیفارم پہنے مدمقابل ھوتے تو مذاق اور فقرے بازیوں کا سلسلہ شروع ھوجاتا تھا اور اسی طرح ایک قافلہ دوسرے قافلے کو ھنستے ھوئے ایک دوسرے کو ھاتھ ھلاتے ھوئے گزر جاتے مگر کوئی بدتمیزی نہیں ھوتی تھی-

خیر بات ھورھی تھی کہ بھاگم بھاگ میں اس دفعہ بالکل اکیلا ان سب کے بیچوں بیچ بھاگتا ھوا جارھا تھا اور ان سب کو بھی موقعہ مل گیا تھا خوب میرا مذاق اُڑایا اور تنگ بھی بہت کیا لیکن میں نے کسی کی ایک نہ سنی اور بھاگتے بھاگتے اپنے دوستوں کے ریوڑ میں شامل ھو ھی گیا اور دوست بھی خوش ھو گئے تھے کیونکہ میں اپنے دوستوں میں ان کا لیڈر تھا، وہ سمجھے کہ شاید آج میں نہ آؤں، ان کا بھی میرے بغیر دل نہیں لگتا تھا -

اور آخر اسکول کی چھٹی کے بعد تھکا ھارا گھر پہنچا اور بستہ رکھ کر فوراً گھر کے ایک کونے میں اس خفیہ جگہ پر پہنچا جہاں پر وہ پروجیکٹر مشیں اور فلموں کی ریل چھپائی تھی، کیا دیکھتا ھوں کے میرے تمام چھوتے بہن بھائی مل کر اس مشیں کے ساتھ کھیل رھے تھے اور فلم کا رول کو پورا ھی کھول دیا تھا پورے کمرے کا کیا حشر نشر ھوا کہ میں کیا بتاؤں میں تو اس وقت سکتے میں ھی آگیا تھا!!!!!!!
------------------------------------------
میری کہانی کے ہر ایک موڑ پر کوئی نہ کوئی پیغام ضرور پوشیدہ ھے، اس وقت 20 روپے بھی بہت حیثیت رکھتے تھے، اب میں یہاں بھی ایک اور لیکچر شروع کررھا ھوں، تھوڑا برداشت کرنا پڑے گا، جو صرف آپ کو ھی نہیں بلکہ تمام پڑھنے والوں کے لئے بھی، مجھے امید ھے کہ آپ سب کچھ خیال نہیں کریں گے -

میں نے اپنی ایک لگن کو سامنے رکھتے ھوئے ایک چھوٹی سی محنت کرکے چالیس روپے جمع کئے اور میں نے اس بچوں کے سینما پروجیکٹ کی تکمیل کیلئے بھی کم سے کم پیسے خرچ کئے اور اس منصوبے میں ایک حد تک میں کامیاب بھی ھوا، جسکا اگلی قسط میں ذکر کرونگا، میں نے یہ نہیں سوچا کہ یہ غبارے بیچنا یا پٹاخے بیچنا کوئی بری بات ھے بلکہ مجھے ڈر اس بات کا تھا کہ میں کسی کے علم میں لائے بغیر ھی کام کررھا تھا، اور اس کے علاوہ والد صاحب کا خوف کہ میں اپنی پڑھائی کے بجائے اس طرف کیوں جارھا ھوں، جبکہ وہ ھمارے لئے اپنی ایک مختصر سی تنخواہ میں ھمیں تمام سہولتیں مہیا کررھے تھے-

اُس وقت کے لوگوں میں معاوضہ سے زیادہ محنت کرنے کی ایک لگن اور اچھے سے اچھا نتیجہ یا یوں کہہ لیں کہ کم سے کم وقت میں، ایک عمدہ کوالیٹی کو ابھارنے کی کوشش میں لگے رھتے تھے، انہیں یہ یقین تھا کہ جتنی ایمانداری اور جستجو سے وہ کام کریں گے اس سے کہیں زیادہ اللٌہ تعالیٰ ان کے رزق میں برکت دے گا -

آجکل ھمارے اندر یقین نام کی کوئی چیز نہیں ھے، اور بھروسہ تو بالکل اٹھ چکا ھے، تو سوچ لیں کہ برکت کیسے ھوگی، آج ھم روپئے اور پیسے ھی کو اپنا سب کچھ مانتے ھیں، کوالیٹی، ایمانداری اور محنت کی طرف تو کسی کا بھی دھیان ھی نہیں ھے، یعنی کہ اب بالکل ھم لوگ اسکے برعکس چل رھے ھیں،

ایک یہ ھمارے ذہن میں تو بالکل ھی ایک کونہ تو بالکل کورا ھو چکا ھے کہ اگر ھم محنت اور ایمانداری سے کام کریں گے تو اس سے ھماری ھی ذات کو اس کا فائدہ نہیں ھوگا بلکہ اس سے ھم اپنے ملک کی ترقی میں حصہ دار کی حیثیت سے ھر ایک سنگ میل کا نیا اضافہ بھی کریں گے، اگر ھر انفرادی قوت مل کر ایک جان ھوجائیں اور مشترکہ طور سے ایک دوسرے کا ہاتھ پٹائیں تو میں نہیں سمجھتا کہ ھم اپنے ملک کو دنیا کے ترقی یافتہ ملکوں کے صف میں کھڑا نہیں کرسکتے، ھمارے سب کے اندر بہت زیادہ قدرت کی پیدا کی ھوئی خدا داد صلاحیتیں کوٹ کوٹ کر بھری ھوئی ھیں-

ایک سب سے بری خامی یہ ھے کہ ھم اپنے ھر پیشہ کو ایک علیحدہ علیحدہ اسٹینڈرڈ کے پیمانے میں رکھ کر تولتے ھیں، جبکہ پہلے وقت میں کوئی بھی شخص کسی بھی پیشہ کو برا نہیں سمجھتا تھا، جس طرح کہ اب بھی باھر کے ملکوں میں گریجویٹ لوگ ھیں لیکن وہ ڈرائیونگ بھی کررھے ھیں کھیتوں میں کام کررھے ھیں، پٹرول پمپ اور کیفے یا ریسٹورنٹ میں ویٹر اور مزدور، صفائی ستھرای کرنے والے بھی اچھے تعلیم یافتہ ھیں، لیکن وہاں کوئی بھی کسی پیشہ کو برا نہیں سمجھتے، کوئی بھی کام ھو وہ لوگ لگن اور محنت سے اور خوشی سے کرتے ھیں اور ان سے منسلک کسی بھی کام میں ایک اچھے سے اچھا میعار لانے کیلئے اپنی ھر ممکن کوشش کرتے ھیں،

ھمارے محلے میں بھی ھر قسم کے پیشے سے رکھنے والے ایک ساتھ مل جل کر رھتے تھے، اس میں بابو لوگ سوٹ بوٹ میں دفتر جاتے تھے، تو ساتھ وہاں معمار، بڑھئی اور لوہار حضرات بھی تھے، رکشہ،اور ٹیکسی ڈرائیور اس کے علاوہ بس کے کنڈکٹر بھی تھے، گدھا گاڑی چلانے، اور خود ٹھیلے پر سبزی، گوشت اور شربت فالودہ بیچنے والے بھی وہیں رھائیش پذیر تھے، فوجی جوان ھو یا کوئی صوبیدار ھو یا پولیس سے تعلق ،موچی، نائی یا دھوبی بھی گاڑی کے مکینک حضرات بھی ساتھ ھی رھتے تھے اس کے علاوہ گھڑی ریڈیو اور گراموفون کے مکینک بھی موجود تھے ، دو تیں ڈاکٹر بھی تھے ساتھ نرس اور دائیاں بھی تھیں، صفائی کرنے والے بھی موجود تھے، اور ایک اچھی بات یہ تھی کہ ھر ایک اپنے محلے کے لئے بلامعاوضہ خدمات انجام دیتے تھے، صرف اگر باہر سے اگر کسی پرزے کی ضرورت نہ ھو تو وہ بھی وہ بالکل سستے میں دلوا بھی دیتے تھے،

غرض کہ ھر پیشہ سے منسلک لوگوں کی ایک اچھی تعداد موجود تھی، اور سب لوگ اپنے اپنے کاموں سے فارغ ھوکر آتے تو سب ملکر اپنے محلے کی مسجد میں اکھٹا ھو کر نماز باجماعت پڑھتے تھے، اگر کوئی موجود نہ ھوتا تو اسکے گھر جاکر ظبعیت کی خبر گیری کرتے، اور بلاناغہ ھر رات کو سب بڑوں کی ایک بیٹھک ھوتی تھی اور گپ شپ کے علاوہ ایک دوسرے کے مسائل کو حل کرنے کیلئے اپنی اپنی ماھرانہ رائے اور خدمات پیش کرتے تھے، شادی بیاہ سے لیکر گھر کی ریپئر وغیرہ تک میں سب لوگ ایک دوسرے کی مدد کرتے تھے، اور کسی کے ھاں اگر کوئی مہمان آجاتا تو وہ پورے محلے کا مہمان ھوتا، حتیٰ کہ محلے کی نالیاں وغیرہ صاف کرنے کےلئے بھی سب ملکر اپنی خدمات پیش کرتے تھے-

ایسی بات نہیں ھے کہ اب ھمارا وہ جذبہ نہیں رھا یا وہ صلاحتیں ختم ھو گئیں، اب بھی ھم سب میں وھی ماہرانہ صلاحیت اور خصوصیات موجود ھیں، جو پہلے کبھی سامنے اپنے ملک میں موجود تھیں، جیساکہ ھم سب جو آجکل بیرونی ممالک میں اپنی ماھرانہ خدمات انجام دے رھے ھیں اور دوسرے ملک ھماری انہی خصوصیات سے فائدہ بھی اٹھا رھے ھیں، یہاں ھم جتنی محنت کرتے ھیں اگر اسی لگن کے ساتھ اس سے آدھی بھی اگر ھم اپنے ملک میں محنت کریں تو ھمارے ساتھ ساتھ ھمارے ملک کو اتنا فائدہ ھو کہ ھم سوچ بھی نہیں سکتے،

لیکن افسوس کہ ھم سب جو باہر ھیں بہت مجبور ھیں کہ ھمیں اپنی صلاحیتوں کو اپنے ھی ملک میں ابھارنے کا موقع نہیں دیا جاتا، ھر جگہ اچھی پوسٹ کیلئے رشوت کا سہارا لیا جاتا ھے، کیڈٹ اور سول سروسز میں عام لوگوں کے بچوں کا جانا ایک معجزے سے کم نہیں ھے، اگر کوئی ایمانداری سے کوئی کاروبار کرنا چاھتا ھے تو وہ اپنے ھی بڑے اداروں کے پلے ھوئے بدمعاشوں کو بھتہ دیئے بغیر ان کے زیر اثر آئے بغیر کوئی کام شروع نہیں کرسکتے-

یہاں تک کہ بھیک مانگنے والوں کو، فٹ پاتھ پر بیچنے والوں کو، بازار میں ٹھیلا لگانے والوں کو بھی ھر جگہ کی مناسبت سے ماھانہ یا روزانہ یا ھفتہ وار ایک اچھی خاصی رقم وھاں کے علاقے کے مقرر کردہ چیرمین کو ادا کرنی پڑتی ھے چاھے کمائی ھو یا نہ ھو، ھر کوئی انکا کھاتہ پورا کرنے کیلئے بے ایمانی کرنے پر مجبور ھے کیونکہ اگر اس نے مقررہ وقت سے پہلے بھتہ کی رقم نہ چکائی تو وہ اس دھندے سے بے دخل ھو سکتا ھے، یہی حال چھوٹے بڑے ھوٹلوں ریسٹورنٹ اور یا کوئی بھی کاروبار ھو بغیر کھلائے پلائے شروع نہیں کرسکتے اور جو کررھے ھیں وہ دوسروں کو بھتہ تو ضرور دیتے ھیں لیکن سرکار کو انکم ٹیکس دینے سے پیچھے بھاگتے ھیں -

ان کے پیچھے کون کون سے کرم فرما سرگرم ھیں، یہ سب جانتے ہیں، لیکن ھر ایک کی زبان پر ایسا تالا لگا ھوا ھے کہ جسکی چابی لگتا ھے کہ کہیں کھو گئی ھے !!!!!!!!
-------------------------------------
جاری ھے،!!!

عبدالرحمن سید
30-01-10, 12:19 PM
ان کے پیچھے کون کون سے کرم فرما سرگرم ھیں، یہ سب جانتے ہیں، لیکن ھر ایک کی زبان پر ایسا تالا لگا ھوا ھے کہ جسکی چابی لگتا ھے کہ کہیں کھو گئی ھے !!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!

معاف کیجئے گا، میں پھر سے اپنے کہانی کے ٹریک سے نیچے اتر گیا تھا، میں پھر دوبارہ وہیں سے سلسلہ جوڑتا ھوں جہاں سے سلسلہ منقطع ھوا تھا،!!!!!

اور آخر اسکول کی چھٹی کے بعد تھکا ھارا گھر پہنچا اور بستہ رکھ کر فوراً گھر کے ایک کونے میں اس خفیہ جگہ پر پہنچا جہاں پر وہ پروجیکٹر مشیں اور فلموں کی ریل چھپائی تھی، کیا دیکھتا ھوں کے میرے تمام چھوتے بہن بھائی مل کر اس مشیں کے ساتھ کھیل رھے تھے اور فلم کا رول کو پورا ھی کھول دیا تھا پورے کمرے کا کیا حشر نشر ھوا کہ میں کیا بتاؤں میں تو اس وقت سکتے میں ھی آگیا تھا!!!!!!!!!!!!!!!!

میں تو یہ دیکھ کر پریشان ھوگیا انہوں نے تومیری ساری محنت پر پانی ھی پھیر دیا تھا، زیادہ زور سے ڈانٹ بھی نہیں سکتا تھا، بڑی مشکل سے پورے فلم کے رول کو سمیٹا اور مشین کے ھینڈل وغیرہ کو اکھٹا کرکے اسی جگہ چھپا دیا اور سب کو خاموشی سے خبردار کیا کہ آئندہ میری کسی بھی چیز کو ھاتھ نہیں لگانا، وہ سب ڈر کر بھاگ تو گئے لیکن مجھے اس بات کا احساس ھوا کہ کہیں یہ سب اباجی سے شکایت نہ لگا دیں، فوراً دوڑا ھوا ان کے پاس پہنچا اور کچھ مکھن لگایا، اور انہیں اس مشین کے بارے میں کسی کو نہ بتانے کا وعدہ لیا،

اس رات تو مجھے بالکل نیند نہیں آئی، بس اپنے اس پروجیکٹ کے بارے میں ھی سوچتا رھا کہ کس طرح اس کو آپریشن میں لایا جائے، صبح ھوتے ھی معمول کے مطابق سب سے پہلے فوراً گھر کا پانی بھرا اور جلدی سے بازار کا سودا خرید لایا، والدہ بھی پریشان کہ آج اسے کیا ھوگیا ھے، اور پھر اپنے پروجیکٹ کی طرف چلا فلم رول کو چرخی پر چڑھایا اور اسے سیٹ کرنے کی جگہ تلاش کی ایک کمرے کا کونے میں ایک میز کے نچلے حصہ کو سینما گھر بنایا، ایک طرف پروجیکٹر مشیں کو ایک چھوٹے سے اسٹول پر رکھا، دوسری طرف سفید دیوار کو اسکرین بنایا، اور میز کے اُوپر ایک بڑی سی چادر ڈال کر کچھ کچھ اندھیرا کرنے میں کامیاب ھوگیا،

پہلے پریمئیر شو پر بہں بھائیوں کو چادر اٹھا کر میز کے نیچے بٹھادیا ایک وقت میں اس میز کے نیچے چھ بچے مشکل ھی سے آسکتے تھے، بہرحال ایک وقت میں چھ بھی کافی تھے، خیر میں نے چرخی گھمائی تو سر پکڑ کر بیٹھ گیا، کیونکہ اسکرین کے اوپر پروجیکٹر کے ذریعے روشنی کیسے پہنچے گی اس کا تو میں نے سرے سے سوچا ھی نہیں تھا اب تو بہن بھائیوں نے تو میرا مذاق اڑانا شروع کردیا، اب کیا کروں اس کا کیا حل نکالوں بجلی کا ایک بلب اندر لگا ھوا تھا، مگر گھر پر تو بجلی تھی ھی نہیں تو بلب کیسے چلتا، ایک کوشش اور کی کہ کھڑکی کھول کر ایک آئینہ سے دھوپ کا عکس پروجیکٹر پر ڈالنے کی ناکام سی کوشش کی، لیکں روشنی کو وھاں تک نہ پہنچا سکا،

دوسرے دن مایوسی سے اپنا لٹکتا ھوا چہرہ لے کر اسی کباڑی کے پاس پہنچا اور ساری کہانی سنائی اس نے جواب دیا کہ ایک صورت ھے کی ایک ٹارچ خریدو اور وہ بھی پاور فل بیٹری والی اسکو تم پروجیکٹر کے ساتھ جوڑ کر اپنا کام چلا سکتے ھو، ھر کباڑی کے پاس ڈھونڈا مگر اس ٹائپ کی ٹارچ نہیں ملی، پھر مجبوراً مجھے نئی ٹارچ خریدنی پڑی اور وہ بیٹری سیل کے ساتھ مجھے 15 روپے کی پڑی،

جلدی جلدی گھر پہنچا اور ٹیبل کے نیچے گُھسا اور کسی کو بتائے بغیر ھی ٹارچ کو مشین کے پیچھے ڈھکن کو کھول کر بیچ میں اس ظرح تاروں سے باندھ کر فکس کیا کہ اسکی روشنی سیدھے مشین کے عدسے پر پڑے اور وہاں سے گزرتی ھوئی فلم کا عکس سامنے کی دیوار پر پڑے، اس میں شکر ھے کہ کامیاب ھوگیا اب دوبارا فلم کے رول کو سیٹ کیا اور ایک سرا چرخی سے لے کر عدسے کے سامنے بنے ھوئے سانچے کے درمیان سے گزارتا ھوا نیچے والی چرخی میں پھنسا دیا اور اب تو خوشی کا ٹھکانا ھی نہ رھا اور فوراً سب بہں بھائیوں کو بلایا جو ابھی اسکول نہیں جاتے تھے دو تو بہنیں اسکول گئی ھوئی تھیں، باقی تین گھر پر ھی ھوتے تھے بہر حال انکو پھر دّعوت دی کہ آجاؤ، اماں کو تو پتہ چل ھی گیا تھا لیکن بےچاری خاموش ھی رھیں ھمیشہ کی طرح، اور سب کو جمع کیا، جس میں دو تین شاید محلے کے بچوں کو بھی شامل کرلیا تھا، کیونکہ وہاں چھ بچوں سے زیادہ کی گنجائش نہیں تھی،

آخر وہ وقت آھی گیا فوراً میں نے ٹارچ کو آن کیا اس کی روشنی جیسے ھی پروجیکٹر سے ھوکر سامنے کی دیوار پر پڑی اور میں نے فوراً ھاتھ سے چرخی کے ھینڈل کو گھمانا شروع کردیا میرا خوشی کے مارے برا حال تھا میرا پروجیکٹ کامیاب ھوگیا تھا سامنے کارٹون فلم حرکت کررھی تھی، لیکں افسوس کہ وہ پردے پر الٹی چل رھی تھی یعنی سر نیچے اور پیر اوپر، پھر میں سر پکڑ کر بیٹھ گیا اور بچوں کا تو پتہ ھی ھے وہ لگے میرا پھر سے مذاق اڑانے، !!!!!!!!!

دیوار کو تو الٹا نہیں کرسکتا تھا، بلکہ پروجیکٹر مشین کو ھی الٹا کردیا، پھر ڈرتے ڈرتے ٹارچ کو آن کیا اور ھینڈل کو گھمایا، پکچر تو سیدھی ھوگئی لیکن ایسا لگ رھا تھا کہ سب کارٹون کے سارے کردار الٹے چل رھے ھوں، ایک اور نئے مسلئے میں پھنس گیا، اور پھر بچوں نے پھر مذاق شروع کردیا، میں نے سب کو ڈانٹ کر بھگادیا، جاتے جاتے تو ایک نے کہا کہ آج تو اباجی سے آپ کی شکایت کریں گے، ایک اور مصیبت، میں مسکین کس کس مورچے کو سنبھالوں، دوبارہ ان سب کو چاکلیٹ کہلانے کے وعدہ پر راضی کرلیا -

دوسرے دن پھر میں اسی کباڑی کے پاس گیا اور غصہ سے سارا ماجرا سنادیا اس نے بھی اسی غصہ کو مجھ پر ھی پلٹا دیا اور کہنے لگا کہ بھائی میرا اس میں کوئی قصور نہیں ھے، الٹی ھو یا سیدھی فلم تو چل رھی ھے نا، اس کو اس کے مکینزم کے بارے میں علم نہیں تھا، کافی بحث کے بعد اس نے آخر میں یہی کہا کہ بھائی خدا کیلئے وہ مشین مجھے واپس لادو، اور اپنے پیسے واپس لے جاؤ، میں وہاں سے مایوسی کی حالت میں نکلا اور سوچا کہ کوئی چھوٹی سی مشکل ھے جو کہ مشیں کو الٹا کرو تو پکچر واپس اپنے ماضی کی ظرف چل پڑتی ھے اور اگر سیدھا رکھو تو پکچر الٹی یعنی سر اُوپر اور پیر نیچے دکھائی دیتے ھیں۔

صدر میں ایک دکان پر ایک کیمرے کی دکان پر ایک چھوٹا سا پروجیکٹر دیکھا تھا، میں نے سوچا کہ شاید وہ دکان والا میری اس گتھی کو سلجا دے، فوراً وہاں پہنچا اور اس سے کہا کہ چچا ایک مشورہ چاھئے، اس نے بھی مزاقاً میری حالت دیکھتے ھوئے کہا کہ یہ شادی کا دفتر نہیں ھے، میں نے ایک دم سے اپنا منہ بنایا اور آگے چل دیا،

پھر اس چچا نے مجھے آواز دی، شاید اسے کچھ میری بے بسی پر رحم آگیا تھا اور مجھ سے معذرت کرتے ھوئے پوچھا بتاؤ کیا مشورہ چاھئے، میں نے ساری کہانی دھرادی، وہ بہت ھنسا اور کہا کہ تھوڑا سا عقل سے کام لو اور کہا کہ فلم کو دوبارا لپیٹو اور اس کے آخری سرے سے فلم کو پروجیکٹر میں لگا کر چلاؤ - اور کہا کہ خیال رکھنا کہ پروجیکٹر میں فلم کو الٹا یعنی سر نیچے اور پیر اوپر کرکے لگاو گے تو پردے پر فلم سیدھی نظر آئے گی -

میں نے دل میں کہا کہ یہ چچا پھر میرے ساتھ مذاق کررھا ھے، بہلا یہ کیسے ھوسکتا ھے کہ فلم کو الٹی ڈالو تو اس کا عکس اسکرین پر سیدھا کیسے نظر آئے گا، اس وقت میرے اس چھوٹے سے دماغ میں تو یہی بات گھسی تھی، بہرحال مجھے اپنا منصوبہ ناکام ھوتا ھی نظر آیا، بس اب یہی سوچنے لگا کہ اب ایک آخری کوشش کرونگا اور پھر بھی کامیاب نہ ھوا تو یہ مشین واپس ھی کردوں گا -!!!!!!!!!!
------------------------------------------------
گھر واپس پھر اس مایوسی کےساتھ آیا اور بغیر مشین کی طرف دیکھے جو میز کے نیچے پڑی میرا مذاق اُڑا رھی تھی، جلدی سے تھوڑا بہت کھانا کھایا اور تیار ھوکر اسکول چلاگیا، وہاں پر بھی بس اپنے اس پروجیکٹ کی ناکامی کے صدمہ سے اداس کلاس روم میں بیٹھا رھا، ہاف ٹائم میں بھی باھر نہیں گیا، گھر واپسی کے وقت بھی میں بہت آہستہ آہستہ واپس گھر کی طرف لوٹ رھا تھا،

دوسرے دن بھی صبح معمول کے مطابق پہلے پانی بھرنے کے بعد سودا لے کر آیا اور بس صرف پروجیکٹر کے ھی بارے میں ھی سوچتا رھا 35 روپے خرچ کر بیٹھا تھا، اور نتیجہ کچھ بھی نہیں، بہرحال میں اکیلا ھی میز کی چادر اٹھا کر مشین کو باھر نکالا اور پھر سوچا کہ کیا حرج ھے اگر چچا کے مذاق کو بھی آزما کر ایک دفعہ دیکھ لیتیے ھیں، فلم کی ریل کو ایک چرخی سے دوسری چرخی کی طرف لپیٹا اور پھر چچا کے کہنے پر ھی اس فلم کی ریل کو الٹی تصویر کے ساتھ ھی پروجیکٹر مشین کے سامنے والے حصے کو کھول کر کھانچے سے گزارتا ھوا ایک سرا نیچے والی چرخی میں پھنسا کر ایک چکر دے کر، ٹارچ کو روشن کیا اور مشین کے ھینڈل کو گھمایا اور سامنے ٹیبل کی طرف دیوار پر دیکھا، تو واقعی حیران رہ گیا، وہی کارٹون فلم بالکل صحیح چل رھی تھی، بس اب تو ھاتھ کے گھمانے پر منحصر تھا، جتنا تیز چلاؤ فلم کے منظر تیز بھگنے لگتے اور آہستہ کرو تو فلم بھی سلوموشن کی طرح دکھائی دیتی -

مگر مجھے یہ منطق اس وقت پھر بھی سمجھ میں نہیں آئی کہ الٹی فلم کے رول سے جب روشنی منعکس ھوکر پردے پر دکھائی دیتی ھے وہ کیسے سیدھی ھو جاتی ھے، میں نے سوچا کہ اب اس منطق کے بارے میں سوچنا کیا، اپنا تو کام ھوگیا، پھر بچوں کو اکھٹا کیا اور جس طرح سینما ھال میں ھوتا ھے، پہلے سب کو گھر کی کھڑکی سے سینما کیلئے ٹکٹ بانٹے، جو میں نے خود اپنے ھاتھ سے ڈیزاین کئے تھے اور پھر کھڑکی کو بند کرکے سب کو کہا کہ دروازے پر لائن میں کھڑے ھوجائیں، میں فوراً دروازے پر پہنچا اور ھر بچے سے ٹکٹ لے کر آدھا پھاڑ کر ھاتھ میں تھمایا اور سب کو میز کے نیچے بٹھا دیا اور پھر میں نے پروجیکٹر کی چرخی کو گھمایا اور ساتھ ھی ٹارچ کو روشن کیا، پھر کیا تھا کارٹون فلم اسٹارٹ، اس وقت بلیک اینڈ وھائٹ فلم ھی ھوا کرتی تھی، تین منٹ کی کی فلم تھی، بچے بڑے خوش ھوئے اس سے زیادہ میں بہت خوش ھوا کہ ایک میری محنت کام آگئی،

بس دوسرے دن سے صبح کے وقت سارے گھر کے کاموں سے فارغ ھوکر بس میں اپنے اس سینما کے پروجیکٹ کو مزید کامیاب بنانے کی دھن میں لگ گیا، شام کے وقت اباجی کا ڈر تھا، اس لئے بس دن کا وقت ھی چُنا تھا، اباجی ڈیوٹی پر اور امآں جی گھر پر، انکو تو پٹانا کوئی مشکل نہیں تھا، مگر وہ روز یہی کہتی تھیں کہ اس فلمی چکر کو بند کردو، ورنہ جس دن تمھارے ابا کو پتہ چل گیا تو تمھاری شامت آجائے گی، مگر انکی اس بات کا مجھے کوئی بھی اثر نہیں ھوتا تھا، اتوار کو ناغہ ھوتا تھا کیونکہ اس دن چھٹی بھی ھوتی تھی،

دن میں روشنی زیادہ ھونے کی وجہ سے مجھے کمرے میں مکمل اندھیرا کرنے کیلئے تمام کھڑکیاں اور دروازوں کو اچھی طرح بند کرنا پڑتا تھا، اب تو روزانہ ھی بڑے شوق سے فلم چلانے کا انتظام کرتا اور بالکل سینماوں کی طرح سینما کے ٹکٹ کی کھڑکی سے ٹکٹ کا بانٹنا، ٹکٹ بھی خود ڈیزاین کرنا اور گیٹ پر جاکر ٹکٹ پھاڑنا اور اندر انھیرے اسی ٹارچ کی روشنی سے بچوں کو انکی جگہ پر بٹھانا اور باقائدہ ایک پوسٹر بھی بنایا تھا جس پر فلم کا ایسے ھی فرضی نام لکھ کر کچھ تصویریں بنا کر لکھ دیتا تھا کہ آج شب کو فلاں سینما میں فلاں فلم دیکھئے اور سینما میں صرف تین منٹ کی ایک ھی کارٹون اور جانوروں کی فلم بار بار دکھاتا رھا اور بچے بھی بور ھوگئے، آخر اس پروجیکٹ کو بھی نظر لگ گئی ایک دوست کو مشین میں کچھ گڑبڑ کی وجہ سے اسے ٹھیک کرانے کو دی اور وہ ساتھ فلم کی ریل بھی دے دی، اس کے بعد اس نے شکل ھی نہیں دکھائی،

اس پروجیکٹ کے بعد پھر سے میں نے تصویریں بنانے کی طرف زیادہ توجہ دینا شروع کردیا، وہ بھی میرا ایک پسندیدہ شوق تھا، مگر ان تمام حرکتوں کی وجہ سے مجھے آٹھویں کلاس کے سالانہ امتحان میں بہت کم نمبر آئے اور ایک مضموں میں فیل بھی ھوگیا، اور مگر مجھے پھر بھی نویں کلاس میں پرموٹ پاس کردیا گیا کیونکہ 33٪ مارکس تھے اور ایک وجہ یہ بھی تھی کہ مجھے سالانہ امتحانات کے دنوں میں ٹائیفایڈ ھوگیا تھا، اور اسی وجہ سے میں والد صاحب کی ڈانٹ سے بچ بھی گیا، لیکن پھر بھی میں نے امتحانات میں بیماری کے باوجود کچھ تھوڑی بہت محنت بھی ضرور کی تھی،

اباجی کو کافی دکھ بھی ھوا تھا لیکن وہ میری حالت دیکھ کر مجھے کافی تسلی دیتے رھے کہ کوئی بات نہیں بیٹا، دل پر مت لینا شکر ھے کہ کم نمبر ھی صحیح لیکن نویں کلاس میں تو پہنچ گیا اور میں بھی کچھ ان دنوں ضرورت سے زیادہ مسکین بن گیا تھا، میں ویسے بھی بچپن سے ھی کچھ ڈرامے بازی کی شوق کی وجہ سے بھی کبھی کبھی ایسا ڈرامہ کھیل جاتا تھا کہ لوگ اسے واقعی حقیقت سمجھتے تھے، کئی دفعہ اپنے اس ڈرامائی حرکتوں کی وجہ سے ھی گھر میں یا باہر کئی دفعہ مشکلوں سے جان بچائی، جن کا ذکر میں پہلے نہ کرسکا کیونکہ کافی ایسی بچپن کی یادداشتیں تھیں، جو میں بھول چکا ھوں، جو مجھے یاد تھیں وہ میں تحریر کرچکا ھوں،

اور ایک بات کا مجھے اب تک تعجب ھے کہ یہ بچپن کے شوق آگے چل کر میرے پروفیشنل کیرئیر میں بھی آئے مگر زیادہ عرصہ میرے ساتھ نہیں رہ سکے، تصویروں کے ساتھ ساتھ میں بچوں کے اخبارات میں بھی چھوٹی چھوٹی نظمیں اور کہانیاں بھی لکھتا تھا، اور قلمی دوستی کا بھی ایک بھوت سوار تھا مگر نام ارمان شاھد تھا، میرے پاس خطوط کا ایک ڈھیر ھوتا تھا اور روزانہ ھر خط کا جواب بھی دینا میرا ایک محبوب مشغلہ تھا اس کے علاؤہ ریڈیو پاکستان سے آڈیشن ٹیسٹ کے لئے دعوت نامہ بھی آیا تھا، مگر افسوس کے اس ٹیسٹ میں پاس نہیں ھوسکا لیکن وہاں کے ریجنل منیجر نے کہا کہ آپ کی آواز میں تھوڑی سی جھجک ھے مگر بول اچھا لیتے ھو، اور ابھی تمھارے عمر بھی کم ھے میں نے جواب دیا کہ سر مجھے اسکرپٹ پڑھتے ھوئے کوئی بھی ڈایلاگ ڈرامائی انداز میں بولنا کچھ مشکل لگتا ھے، مجھے سچویشن بتا دیجئے اور ڈایلاگ دے دیجئے میں یاد کرکے بغیر اسکرپٹ کے بہترین اسکی ادائیگی کرسکتا ھوں، لیکن افسوس کہ انہوں نے کہا کہ بیٹا ریڈیو پاکستان میں مائیک کے سامنے براہ راست بولنا پڑتا ھے یہ کوئی اسٹیج شو نہیں ھے، اور بس یہی جواب دیا کہ آپ کی عمر جب 18 سال کی ھوجائے تو میرے پاس ضرور چلے آنا اگر میں زندہ رھا تو تمھیں ضرور اپنے ڈرامہ میں ضرور ساین کرونگا، ان کا نام شاید زیڈ اے بخاری صاحب تھا، جو بعد میں ریجنل ڈائریکٹر بن گئے تھے -

ریڈیو پاکستان سے تو مایوسی ھوئی لیکن اسکول اور محلے میں چھوٹے چھوٹے ڈرامے اور فنکشن وغیرہ کرکے بھی اپنے شوق میں مزید پختگی لانے کی کوشش میں لگا رھا اور ساتھ ساتھ اخباروں اور بچوں کی دنیا اور نونہال جیسے بچوں کے رسالوں میں کچھ نہ کچھ لکھتا رھا، اس کے علاوہ پینٹنگ اور پنسل اسکیچ اور اخباروں کی کٹنگ سے البم بنانا بھی اپنے شوق کے ساتھ رکھا-

سن 1964 کا نویں کلاس اور تقریباً 14 سال کی عمر ھوگی، اس کلاس میں کافی دوست بھی بچھڑ گئے تھے، کیونکہ کئی دوستوں کو اچھے نمبر لانے کی وجہ سے سائنس میں داخلہ مل گیا تھا اور ھم جیسوں کو کم نمبروں کی وجہ سے آرٹس میں داخلہ مل سکا، غنیمت ھے مل گیا ورنہ تو آٹھویں کلاس میں ھی رھنے کا ڈر تھا !!!!!!!!!!!!!!!!!!

--------------------------------
جاری ھے،!!!!

عبدالرحمن سید
30-01-10, 05:08 PM
سن 1964 کا نویں کلاس اور تقریباً 14 سال کی عمر ھوگی، اس کلاس میں کافی دوست بھی بچھڑ گئے تھے، کیونکہ کئی دوستوں کو اچھے نمبر لانے کی وجہ سے سائنس میں داخلہ مل گیا تھا اور ھم جیسوں کو کم نمبروں کی وجہ سے آرٹس میں داخلہ مل سکا، غنیمت ھے مل گیا ورنہ تو آٹھویں کلاس میں ھی رھنے کا ڈر تھا !!!!!!!!!!!!!!!!!!

مجھ میں ایک بری عادت تھی کہ اگر کسی نئے شوق کو اگر پکڑ لیا تو اسی کے پیچھے پڑ جاتا تھا یا تو اسے مکمل کرکے رھتا یا جب تک وہ کام بگڑ نہ جائے اس وقت تک اسکی جان نہیں چھوڑتا تھا، جس کی وجہ سے میری پڑھائی بہت ھی زیادہ ڈسٹرب رھی، ھر ایک کے والدین تو یہی چاھتے ھیں کہ ان کی اولاد اچھی تعلیم حاصل کرے، لیکن اکثر والدین اپنے بچوں کی سرگرمیوں پر خاص نظر نہیں رکھ پاتے یا ان کو اتنے دباؤ اور غصے کے زیراثر رکھتے ھیں کہ بچے پھر کوئی اور چوری کا راستہ اختیار کرنے پر مجبور ھوجاتے ھیں -

مجھے ماں کی طرف سے بہت زیادہ لاڈ پیار ملا اور وہ ھر وقت مجھے والد صاحب کی ڈانٹ اور غصہ کے عتاب سے بچاتی رھیں، جس کا میں نے بہت ناجائز فائدہ اٹھایا، اور دوسری طرف والد صاحب کا غصہ، حد سے زیادہ سختی کی وجہ اور ڈانٹ کے ڈر سے میں نے غلط طریقوں سے دوسرے کاموں میں اپنے آپ کو الجھا لیا، اور پڑھائی کی طرف سے اپنا دھیان بہت کم کردیا، اور ایسا بھی نہیں تھا کہ والد کے پیار میں کوئی کمی تھی، ھماری تمام ضروریات کا خاص خیال رکھتے اور من پسند کی چیزیں خرید کر دیتے بھی تھے،

بہت سی ایسی باتیں ھیں جو کافی دلچسپ تھیں لیکن یادوں کے دریچوں میں آتے آتے رہ جاتی ھیں، میں چاھتا ھوں کہ ابھی میں اپنے آپ کو آٹھویں جماعت تک ھی رکھوں کیونکہ اس میں بجپن اور لڑکپن کی شرارتیں اور کافی دلچسپ واقعات پوشیدہ ھیں، جن کو میں یاد کرنے کی کوشش کررھا ھوں، جو جو مجھے یاد آتا جائے گا، ویسے ھی تحریر کرنے کی کوشش کروں گا، اورجو کچھ مجھے مختصراً یاد ھے وہ بھی ساتھ ساتھ لکھتا جاونگا، لیکن میں مقررہ وقت اور عمر کا صحیح تعین نہیں کرسکتا،

اپنے ایک اور شوق کے بارے میں بتاتا چلوں، مچھلی کے شکار کا شوق جو مجھے والد صاحب کی ظرف سے ھی ورثہ میں ملا تھا، مجھے اب تک یاد ھے کہ وہ راولپنڈی میں چُھٹی والے دن فجر کی نماز کے فوراً بعد مجھے ساتھ لے کر سواں ندی کے پاس بلاناغہ مچھلی کے شکار پر لے کر جاتے تھے اور میں بھی بہت شوق سے ان کے ساتھ جاتا تھا اور دوپہر تک ھم شکار کرکے واپس آجاتے تھے، اور گھر کے علاوہ محلے والے بھی مچھلی کے ذائقے سے محروم نہیں رھتے تھے، کراچی پہنچ کر ان کا یہ شوق تقریباً ختم ھی ھو گیا تھا، لیکن میں نے انکی یہ گدی سنبھال لی تھی اور اکثر دوستوں کے ساتھ مچھلی پکڑنے نکل جاتا تھا کبھی اجازت لے کر اور کبھی یونہی چوری چھپے -

اسی طرح ایک دفعہ میں اپنے ایک دوست کے ساتھ سمندر کے کنارے گھومنے اور ساتھ مچھلی کے شکار کیلئے نکل گئے، شاید اسکول جانے کے بجائے ھم دونوں نے سمندر کی طرف کا پروگرام بنا لیا، باقی دوستوں کو پہلے سے ھی اطلاع دے چکے تھے،!!! وہاں اس دن سمندر کی لہریں بہت دور تھیں اور تفریح کے ساتھ کچھ مچھلی بھی پکڑنے کا بھی پروگرام تھا ڈور کانٹے اور مچھلی کی خوراک بھی ساتھ مکمل انتظام کے ساتھ گئے تھے، کتابوں کے بستے یاد نہیں کہ کہاں چھپا کر رکھے تھے،

گھر سے میں کچھ دیر پہلے ھی نکل گیا تھا اور باقی دوست پہلے ھی سے مقرر کردہ جگہ پر مل گئے تھے، وہاں سے بس میں بیٹھ کر سمندر کے کنارے پہنچے، اس دفعہ ھم سب نے ایک نئی جگہ کا انتخاب کیا تھا، وہاں پر دور ایک ٹیلہ نطر آیا اور سمندر کی لہریں بھی اس ٹیلے کو چُھو کر واپس جارھی تھیں، ھم نے یہی سوچا کہ اس ٹیلے پر چڑھ کر مچھلی کا شکار کرتے ھیں تاکہ ڈور کو گھما کر سمندر میں دور تک پھینکنے میں آسانی ھو، ٹیلہ کافی فاصلہ پر تھا، کافی دیر لگی وہاں ٹیلے تک پہنچنے میں، خیر ھم سب نے ٹیلے کی دوسری طرف جہاں سمندر تھا وہاں بیٹھ کر جگہ کو کچھ صاف ستھرا کیا اور صحیح طرح بیٹھنے کی جگہ بنائی اور ایک دوست گھر سے دری لایا تھا اسے بجھا کر ھم سب نے شکار کی تیاری شروع کردی، کچھ دیر کے بعد ھم تین دوست ھی بچے تھے، باقی جا چکے تھے،!!!!

ھم تینوں دوستوں نے کچھ گھر سے اور کچھ راستے سے کھانے پینے کا سامان بھی ساتھ لے آئے تھے، سامنے سمندر کا ایک خوبصورت منطر بھی تھا اور دور سے چھوٹی بڑی کشتیاں بھی نظر آرھی تھیں، اسکے علاوہ بڑے بڑے بحری جہازوں کو بھی انکی مخصوص سائرن کی آواز کے ساتھ ھم بخوبی دیکھ سکتے تھے، اور دور سے کراچی کی بندرگاہ بھی نطر آرھی تھی، جہاں بڑے بڑے بحری جہاز لنگر انداز تھے اور بڑی بڑی آسمان کو چھوتی ھوئی کرینیں سامان اتارتی ھوئی نظر آرھی تھیں، اس دفعہ ھمیں بہت اچھی جگہ ملی تھی اور ھم نے یہ فیصلہ بھی کرلیا کہ آئندہ بھی ھم یہیں پر مچھلی کے شکار کے لئے آیا کریں گے، کیونکہ وہاں بیٹھتے ھی ایک دوست نے جیسے ھی گھما کر ڈور پھینکی تو فوراً ھی چند سیکنڈ بعد ایک درمیانے سائز کی مچھلی پھنس گئی تھی،

پیچھے کا منظر ٹیلے کے وجہ سے نظر نہیں آرھا تھا اور ھمیں کچھ پرواہ بھی نہیں تھی کہ پیچھے کیا ھورھا ھے، ھم سب تو مچھلی پکڑنے اور سمندر کے ساحلی منظر سے لطف اندوز ھورھے تھے، کہ اچانک کچھ دیر بعد یہ محسوس ھوا کہ سمندر کا پانی آہستہ آہستہ اُوپر چڑھ رہا ھے کیونکہ پانی اب ھمای دری کے اُوپر تک آگیا تھا اور ھم دری اور ساماں کو اسی رفتار سے اُوپر کی طرف کھسکتے جارھے تھے، اور ھم لوگ اپنے کام میں اتنے مگن رھے کہ پیچھے کی طرف مُڑ کر نہیں دیکھا کہ وھاں کا کیا حال ھوگا -

جب پانی کچھ زیادہ ھی اُوپر آگیا اور ھم اُوپر کی طرف چڑھتے چلے گے تو پیچھے کا منطر نظر آگیا، اور کیا دیکھتے ھیں کہ وہاں بھی سمندر کافی دور تک پھیلتا جارھا تھا، ھم سب کی جان ھی نکل گئی، کسی کو بھی تیرنا نہیں آتا تھا، اسی پریشانی میں شام ھوتی جارھی تھی اور سمندر کا پانی آہستہ آہستہ اُوپر چڑھتا آرھا تھا اور ھم چوٹی تک پہنچ چکے تھے!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!

پانی بہت آہستہ آہستہ اُوپر چڑھ رہا تھا اور وہ ایک چھوٹا سا ٹیلہ تھا، باقی تمام چیزیں تو پانی میں بہہ گئیں، بس ھم تینوں تھر تھر کانپ رھے تھے اور پریشان بھی تھے، شام ھو رھی تھی، اسکول کا وقت بھی ختم ھو رھا تھا، وھاں سے کافی شور بھی کیا، مدد کیلئے لوگوں کو بلانے کی کوشش بھی کی لیکن نہ کوئی دور سمندر میں کشتی والا ھماری آواز سن سکتا تھا اور نہ ھی دوسری طرف دور ساحل کے پار سڑک پر آنے جانے والے کو ھماری آواز پہنچ رھی تھی، بس ایک ھی صرف اُوپر والا ھماری آواز سن سکتا تھا، خوب ھم نے اس وقت اُوپر والے سے گڑگڑا کر معافی مانگی اور ھماری آنکھوں میں آنسو چھلک رھے تھے کیونکہ اب تو کوئی بچنے کا راستہ بھی نہیں تھا، اتنے میں سونے پر سہاگہ یہ ھوا کہ ھلکی ھلکی بارش بھی شروع ھوگئی،

پریشانی میں ایک اور اضافہ، مگر اچانک نیچے دیکھا کہ پانی کی سطح گرتی جاررھی تھی اور ھماری کچھ جان میں جان آئی، جیسے ھی پانی ھمارے گھٹنوں تک پہنچا وھاں سے ھم سرپٹ پانی میں اچھلتے ھوئے بھاگے، لیکن گھر پہنچنے تک مغرب کا وقت ھوچکا تھا سب گھر والے پریشان تھے، مجھے دیکھ کر سب کی جان میں جان آئی، خوب ڈانٹ تو پڑی لیکن مار کھانے سے بچ گیا، اسکی وجہ یہ تھی کہ مجھے سخت بخار چڑھ گیا تھا، مزید اور تین دن کی اسکول سے چھٹی کرنی پڑی، بعد میں یہ بخار ٹائیفایڈ کی شکل اختیار کر گیا تھا، آٹھویں جماعت کے سالآنہ امتحانات سر پر تھے، ٹائم ٹیبل آچکا تھا اور میں بالکل ھی پڑھائی کی ظرف دھیان نہیں دے سکتا تھا والد صاحب نے بھی مجھے تسلی دے دی تھی کہ صحت ھے تو جہان ھے -

اس حادثے کے بعد آئندہ کیلئے توبہ کرلی کے سمندر پر نہیں جائیں گے اگر کہیں جانا بھی ھو تو گھر سے اجازت لے کر جائیں گے!!!!!!
----------------------------------
پہلے بھی ایسے کئی حادثوں کا شکار ھوتے ھوتے اللٌہ تعالیٰ نے بچایا ھے، زیادہ تفصیل سے مجھے یاد تو نہیں ھے لیکن کوشش کرتا ھوں کہ اپنی کچھ بچی کچھی یادوں کو سمیٹ کر آپ کے سامنے پیش کرسکوں،

بچپن میں ھم اسکول سے واپسی پر اکثر کبھی کبھی مین ریلوے لائن کی طرف سے بھی چکر لگا کر آتے تھے، جبکہ وہ راستہ کچھ دور پڑتا تھا اور جب میں شاید چھٹی جماعت میں زیرتعلیم تھا، ھم بچے اس وقت ٹرینوں کو اپنے سامنے سے گزرتے ھوئے دیکھ کر بہت خوش ھوتے تھے اس کے علاوہ اپنے پاس ایک پیسہ کا سکہ ضرور بچا کر رکھتے تھے اگر اس دن ھمیں ریلوے لائن کی ظرف سے جانے کا ارادہ ھو تو!!!!!!!!!!!

یہ گھر والوں کو بھی پتہ نہیں تھا کہ ھم کبھی کبھی ریلوے لائن کی طرف سے بھی آتے ھیں وھاں سے گزرنا ھمارے لئے ویسےتو بالکل منع تھا، کیونکہ ان لائنوں پر بہت اسپیڈ سے ٹرینیں گزرتی تھیں اور کئی حادثے بھی ھوچکے تھے، لیکن ھم بچے اپنی دھن میں مگن کسی چیز کی پرواہ کئے بغیر ایسے ایسے کام کرجاتے تھے کہ اب اگر سوچتا ھوں تو رونگٹے کھڑے ھوجاتے ھیں،

خیر ھم تو تھے من موجی، ٹرینوں کی پٹری کے پاس کھڑے ھوکر پہلے یہ ھم دیکھتے تھے کہ کونسی طرف کا سگنل کُھلا ھے، اسی لائن کی ایک پٹری کے اُوپر ایک لڑکا اپنا ایک سکہ رکھ کر پیچھے ہٹ جاتا تھا اور ٹرین کا انتطار کرتے تھے، اور دور سے ھی سکٌے پر نظر رکھتے تھے جیسے ھی ٹرین سامنے سے اس سکٌے کے اُوپر سے گزرتی، ھم سب فوراً اس سکٌے کو ڈھونڈنے کے لئے بھاگتے، یہ خیال کئے بغیر ھی کہ دوسری لائن پر بھی گاڑی آسکتی ھے، اور اپنے سکٌہ کو ڈھونڈ کر اسےچپٹا دیکھ کر خوش ھو جاتے کہ دونوں طرف سے اس کا نقشہ ھی بگڑ جاتا تھا،

پھر باری باری ھر ایک لڑکا اپنے اپنے سکے اسی طرح ٹرین کی پٹری پر رکھ کر ٹرین گزرنے کے بعد سکے کو پچکا ھوا دیکھتا اور ھم سب مقابلہ کرتے کہ کس کا سکہ کتنا چوڑا ھوگیا کئی دفعہ حادثہ کا شکار ھوتے ھوتے بچے بھی ھیں، لیکن پھر بھی عقل ٹھکانے نہیں آئی تھی،

اور ایک دن جو شاید میری زندگی کا بہت ھی خطرناک دن تھا وہ میں آپ سب کے سامنے پیش کررھا ھوں، اس دن بھی معمول کی طرح ھم لڑکے اپنے سکٌوں کے چوڑا کرنے کے مقابلے کیلئے نکلے ھم سب بہت خوشی خوشی ریلوے لائن کی طرف جارھے تھے، جب ریلوے لائین پر پہنچے تو ھر لڑکا اپنی اپنی باری پر ٹرین کے گزرنے سے پہلے اپنا سکٌہ لائین پر رکھ دیتا اور ٹرین کے گزرنے کے بعد سکٌہ ڈھونڈ کر اٹھا کر ایک طرف مقابلے کے لئے رکھ دیتے مقابلے میں جیتنے والے کے لئے شرظ یہ ھوتی تھی کہ سکٌہ کو گولائی کے ساتھ جتنا زیادہ چوڑا ھونا تھا وھی سکٌہ مقابلے میں اوّل نمبر آتا تھا،

وہاں پر ڈبل لائینیں تھیں دونوں طرف سے ٹرینوں کا آنا جانا لگا رہتا تھا، اور تقریباً ھر پانچ منٹ کے بعد ایک ٹرین ضرور گزرتی تھی، اس میں ایکسپریس ٹرین، لوکل ٹرین اور سامان لے جانے والی گوڈز ٹرین بھی ھوتیں تھیں، اب تک تو ھمیں یہ بھی زبانی معلوم ھوگیا تھا کہ کونسی ٹرین کس وقت ھمارے سامنے سے گزرے گی، اور سگنل کے ڈاؤن ھوتے ھی کبھی کبھی تو بحث ھوجاتی اور ساتھ ھی شرط بھی لگ جاتی تھی کہ ابھی تیزگام گزرے گی یا کراچی ایکسپریس، یا کوئی اور لوکل ٹرین یا پھر لال گڈز ٹرین گزرنے والی ھے اور ھر ایک نے اپنی اپنی ٹرینیں بھی مخصوص بھی کرلیں تھیں مجھے شروع سے ھی تیزگام پسند تھی، اور مجھے اس کے وقت کا بھی پتہ تھا وہ شام کو ھی کراچی کینٹ سے راولپنڈی کے لئے روانہ ھوتی تھی اور ھماری خصوصی جگہ پر بیس یا پچیس منٹ کے بعد گزرتی تھی اور ایک خاص بات تھی کہ میں نے اس وقت تیزگام کو کبھی بھی لیٹ ھوتے نہیں دیکھا تھا، اسے ھم فوجی ٹرین بھی کہتے تھے اور پہلے بچپن میں والدین کے ساتھ بھی میں نے اس ٹرین میں بہت سفر کیا تھا اور بعد میں بھی اسی تیزگام سے ھی سفر کرے پر ترجیح دیتا رھا -

اب میرے باری آئی بلکہ اکثر میری پہلے ھی باری آجاتی تھی کیونکہ ھمارے پہنچتے ھی پہلے ھمارا واسطہ تیزگام سے ھی پڑتا تھا، اسی لئے ھم اسکول سے بھاگ بھاگ کر پہنچتے تھے کہ تیزگام نہ نکل جائے، کبھی کبھی ایسا بھی ھوا کہ ھمارے وہاں پہنچنے سے پہلے ھی تیزگام یا تو ھمارے سامنے سے گزررھی ھوتی تھی یا گزر چکی ھوتی تھی، جسکا مجھے بہت دکھ ھوتا تھا، میں سکٌہ رکھوں یا نہ رکھوں لیکن ھمیشہ اسکول سے واپسی پر اگر دوسرے راستہ پر بھی ھوتا تو اسی وقت تیزگام دور سے بھی سیٹی بجاتی ھوئی نطر آجاتی تھی، اور میں اسے ھاتھ ھلا کر ھمیشہ رخصت کررھا ھوتا تھا، ایسا لگتا تھا کہ وہ سیٹی بجا کر مجھے الوداع کر رھی ھو، مجھے واقعی تیزگام سے بہت محبت تھی، اور آج بھی تیزگام کو بہت چاھتا ھوں، جیسے کہ وہ جیتی جاگتی کوئی میری یادگار شاھکار پری ھو،

جیسے ھی ھم وہاں پہنچے تو پہلے سے ھی تیزگام کا سگنل ڈاون تھا، میں فوراً ھی جلدی سے پٹری کی طرف گیا اور اپنا سکٌہ رکھ کر واپس مڑنے کے بجائے دوسری لائن کی طرف تیزی سے بھاگا کیونکہ تیزگام سامنے سے سیٹی بجاتی ھوئی میری طرف اسپیڈ سے بڑھ رھی تھی،

مگر میری بدقسمتی یہ کہ دوسری لائن پر بھی مخالف سمت کی طرف سے بھی ایک اور ایکسپریس ٹرین دوڑتی ھوئی آرھی تھی ھالانکہ مجھے میرے کسی دوست کی آواز بھی گونجتی ھوئی سنائی دی تھی کہ اُدھر سے بھی ٹرین ‌آرھی ھے واپس آجاؤ اس طرف نہ جاؤ، مگر میرے حواس اتنے بگڑ گئے تھے کہ میں کوئی فیصلہ نہ کرپایا اور دوسری لائین کی طرف ھی دوڑا، جہاں ایک اور ایکسپریس ٹرین تیز رفتار کے ساتھ آرھی تھی، اور میرے حواس گُم تھے !!!!!!!!!!!!!!!!

اسے ایک معجزہ ھی کہہ سکتے ھیں کہ جب میرے حواس ٹھکانے پر آئے تو میں نے اپنے آپ کو دونوں ریلوے لائینوں کے درمیان اکڑوں بیٹھا ھوا کانوں میں انگلیاں دبائے ھوئے پایا اور آس پاس سے دونوں ٹرینیں مخالف سمتوں کی طرف سے اپنی اسپیڈ سے نکل گئیں، باقی کے دوست بھاگے ھوئے آئے اور مجھے پکڑکے سائڈ پر لے گئے، شکر ھے کہ میں اپنے حواس میں تھا اور دوسرے تو یہی سمجھ رھے تھے کہ میں ٹرین کے نیچے آگیا، اس دن کے بعد سے وہاں سے گزرنا ھی چھوڑ دیا -!!!!!!!!
--------------------------------
ایسے کئی واقعے ھیں جن سے میں کئی بار بال بال بچا ھوں، بچپن اور لڑکپن بھی کیا چیز ھے، کسی موسم کا اثر بھی نہیں ھوتا ھے چاھے گرمی ھو سردی ھو بارش ھو، طوفان ھو، بچپن میں بس اپنی ھی نئی نئی شرارتوں میں مگن رھتے ھیں،

بارشوں کے دوراں ھم بچوں کو ایک موقعہ مل جاتا تھا کچھ نہ کچھ گڑبڑ ھنگامہ کرنے کا، ھمارے محلے کے ساتھ ھی ملٹری کے علاقے میں امرود اور آم اور نیمبوں کے باغات تھے، عام دنوں میں تو مالی ھمیشہ ان باغوں کی ڈیوٹی پر معمور رھتا تھا لیکن صرف بارش کا ھی ایک ایسا موسم ھوتا تھا کہ وہ نظر نہیں آتا تھا، جس کی وجہ سے ھم بچے بارشوں کا بہت بےچینی سے انتطار کرتے تھے، جیسے ھی بارشیں شروع ھوئیں ھم سب کی تو جیسے لاٹری ھی نکل آتی تھی، ایک تو اسکول سے چھٹی اور دوسرے باغوں میں بہار آجاتی تھی، خوب اپنی مرضی سے، درختوں پر چڑھ جانا اور کچے آموں اور نیمبووں کو توڑ کر گھروں میں پہچانا اور پکے پکے امرودوں کو مل بیٹھ کر کھانا -

ان باغوں میں مجھے کوئل کی کوک بہت اچھی لگتی تھی، اسکے علاوہ دوسرے پرندوں کی آوازیں جب آپس میں ٹکراتی تھیں تو ایک حسین سا سماں ھوتا تھا لگتا تھا کہ ھم سب واقعی ایک کسی گھنے جنگل میں ھیں، وھاں سے نکلنے کو بھی جی نہیں چاھتا تھا، بارش میں ھم سب بھیگے ھوئے خوب کھیلتے بھی رھتے تھے، جبکہ والدہ بہت غصہ بھی ھوتی تھیں، انکی تو پروا ھی نہیں کرتے بس جیسے ھی ابا جان کے آنے کا وقت قریب ھوتا تو فوراً میں تو گھر کی راہ لیتا، اور گھر جاکر نہا دھو کر کپڑے بدل کے جلدی سے کتاب اٹھا کے پڑھنے بیٹھ جاتا،

ایک دن یہی بارشوں کا سلسلہ تھا، اور ھم تمام دوست بھی انہیں باغوں کے حشر نشر میں لگے ھوئے تھے، میرا ایک دوست اوپر درخت پر چڑھ کر امرود توڑ ٹوڑ کر پھینک رھا تھا اور میں نیچے جھکا ھوا امرود چن رھا تھا، اسی دوران درخت کے اوپر سے ایک بڑا پتھر میری کمر پر گرا اور میں وہیں بیٹھ گیا، چند لمحوں تک تو مجھے کچھ ھوش نہیں رھا، لیکن میں بالکل کھڑا نہیں ھوسکتا تھا، ایسی تکلیف میں نے کبھی بھی محسوس نہیں کی آنکھوں سے پانی جاری تھا، بڑی مشکل سے دو لڑکوں نے مجھے پکڑا اور ڈاکٹر صاحب کے پاس لے گئے جو محلے میں ھی رھتے تھے، وہ صبح کے وقت گورنمنٹ اسپتال میں جاتے تھے اور شام کو محلے سے کچھ ھی فاصلے پر ھی اپنا کلینک کھول کر بیٹھ جاتے تھے بہت اچھے انسان تھے، اس دن شاید بارش کی وجہ سے ھی وہ گھر پر ھی موجود تھے انہوں نے میری کمر پر کچھ دوائی لگائی، ساتھ ایک انجیکشن لگایا اور کچھ گولیاں اور پاوڈر کی پڑیاں بھی دی-

ڈاکٹر صاحب بہت اچھے تھے پیسے بھی نہیں لئے، میں نے ان سے کہا کہ آپ گھر پر مت بتائیے گا، انہوں نے جواباً وعدہ کیا اور کچھ نصیحتیں بارش کے حوالے سے کیں کہ بارشوں میں باھر مت کھیلا کرو اور باغوں میں بھی مت جایا کرو کیونکہ اکثر بارشوں کے موسم میں باغوں میں خطرناک قسم کے سانپ اور بچھو وغیرہ بھی ھوتے ھیں، جس سے کچھ بھی نقصان ھوسکتا ھے، اور بعض وقت تو بھوت وغیرہ بھی چپک جاتے ھیں، اور انہوں نے بہت سے حوالے بھی دیے کہ فلاں لڑکا پاگل ھوگیا تھا اور فلاں لڑکے کو سانپ نے کاٹا تھا اگر وقت پر اسپتال نہیں جاتا تو بچ جاتا اور کسی کو بچھو نے کاٹ لیا تھا، ان کی نصیحتیں سن کر تو اور بھی ھم ڈر گئے، کمر کا بھیانک درد دو تین دن میں ٹھیک تو ھو گیا لیکن بعد میں باغ میں جانے کی ھمت ھی نہیں کی -

کافی عرصہ بعد ایک دفعہ پھر دوسرے دوستوں کے اسرار پر ایسے ھی ایک بارش کے موسم میں پھر دماغ خراب ھوا، پہنچ گئے پھر اسی باغ میں لیکں بہت احتیاط کے ساتھ، ساتھ ڈر بھی لگ رہا تھا اور ڈاکٹر صاحب کی نصیحتیں بار بار کانوں میں گونج بھی رھی تھیں، میں نے دوستوں سے کہا بھی کہ یاد ھے کہ ڈاکٹر صاحب نے کیا کہا تھا لیکن دوستوں نے کہا ھمیں تو اتنا عرصہ ھوگیا آج تک تو کچھ نہیں ھوا کچھ نہیں ھوگا میں تو ڈر ڈر کے ان سب کے پیچھے خوفزدہ ھوکر چل رھا تھا، کچھ تو درختوں میں چڑھ گئے اور کچھ درختوں پر پتھروں کی بوچھاڑ کرکے اپنی قسمت آزمائی کررھے تھے،

میں بس تماشائی بنا بس سب کے تماشے دیکھ رھا تھا اور یہ میں نے کہا بھی کہ بھئی واپس چلو دیر ھوگئی ھے، لیکن کوئی بھی ٹس سے مس نہیں ھورھا تھا، اچانک ایک دم کیا دیکھا کہ باغ کا مالی شور مچاتا ھوا آرھا تھا سارے لڑکے بھاگے ایک لڑکا اس مالی کے ھتے چڑھ گیا اور میں نے ڈر کے خاموشی سے ایک جھاڑی میں چھلانگ لگادی، جہاں میرا ھی استقبال کرنے کیلئے شہد کی مکھیوں کا ایک بہت بڑا جھنڈ موجود تھا، اور پھر کیا تماشا میرے ساتھ ھوا، چیخ بھی نہیں سکتا تھا اور ان شہد کی پیاری سویٹ مکھیوں سے جان بھی چھڑا نہیں سکتا تھا،

میں تھا اور وہ سویٹ شہد کی مکھیاں تھیں، لگتا تھا کہ کیا لگتا تھا کچھ حوش ھوتا تو پتہ لگتا کہ کیا لگ رھا تھا،!!!!!!!!!!!!!!!!‌

ساری شہد کی مکھیاں بار بار مجھ پر ھی حملہ کررھی تھیں، تکلیف کے مارے برا حال تھا سارے منہ پر ٹانگوں میں گردن پر جہاں جہاں انہیں موقع ملا اپنے سارے ڈنگ چبھو دئیے، میں شدید تکلیف کی وجہ سے بہت تڑپ رھا تھا بڑی مشکل سے چھپتا چھپاتا باھر نکلا، بارش بھی تھم چکی تھی، سیدھا گھر پہنچا اور راستے میں بھی کوئی دوست نطر نہیں آیا، سب شاید مالی کے ڈر سے گھروں میں دبک کر بیٹھ گئے تھے اور پتہ نہیں اس لڑکے کا کیا ھوا جو مالی کے قابو میں آگیا تھا،

بہرحال مالی سے جان چھوٹی لاکھوں پائے، لوٹ کے بدھو گھر کو آئے، بدھو گھر تو آگئے، اب گھر میں کیاجواب دوں گا، یہ سوچ کر بہت پریشان تھا منہ پر ھاتھ نہیں لگا سکتا تھا، لگتا تھا کہ چہرے پر آبلے پڑ گئے ھیں،
جیسے ھی گھر میں آئینہ میں اپنی شکل دیکھی تو رونا آگیا پورا چہرا سوج کر ایک عجیب سے ھی نقشہ میں تبدیل ھوگیا تھا، اب اسی تکلیف میں بستر میں گھس کر چادر اوڑھ لی، تاکہ کوئی نہ دیکھ سکے اور تڑپتا رھا آخر اماں نے سمجھ ھی لیا کہ دال میں کچھ کالا ھی ھے، فوراً انہوں نے چادر کھسکائی اور میرا چہرہ دیکھ کر وہ بھی تڑپ گئیں فوراً ھی محلے کے بڑی بوڑھی عورتوں کو بلایا اور انہوں نے پتہ نہیں اپنے کیا کیا دیسی ٹوٹکے استعمال کئے، اسی وقت والد صاحب بھی آگئے اور بہت تلملائے اور والدہ پر خامخواہ ھی غصہ ھوگئے، بہر حال رات گئے تک مجھے ان دیسی ٹوٹکوں سے آرام آھی گیا -!!!!!!!!
-------------------------------------------
جاری ھے،!!!!

عبدالرحمن سید
30-01-10, 05:50 PM
جیسے ھی گھر میں آئینہ میں اپنی شکل دیکھی تو رونا آگیا پورا چہرا سوج کر ایک عجیب سے ھی نقشہ میں تبدیل ھوگیا تھا، اب اسی تکلیف میں بستر میں گھس کر چادر اوڑھ لی، تاکہ کوئی نہ دیکھ سکے اور تڑپتا رھا آخر اماں نے سمجھ ھی لیا کہ دال میں کچھ کالا ھی ھے، فوراً انہوں نے چادر کھسکائی اور میرا چہرہ دیکھ کر وہ بھی تڑپ گئیں فوراً ھی محلے کے بڑی بوڑھی عورتوں کو بلایا اور انہوں نے پتہ نہیں اپنے کیا کیا دیسی ٹوٹکے استعمال کئے، اسی وقت والد صاحب بھی آگئے اور بہت تلملائے اور والدہ پر خامخواہ ھی غصہ ھوگئے، بہر حال رات گئے تک مجھے بھی ان دیسی ٹوٹکوں سے آرام آھی گیا -

بچپن کی شرارتیں اور وہ ساتھ تکلیفیں جو آٹھائیں ان میں بھی ایک الگ ھی مزا اور چاشنی تھی، دل تو چاھتا ھے کہ بچپن کے دور سے بالکل نہ نکلوں اور ساری زندگی بچپن کے ھی دور میں گم رھوں اور ایک واقعہ آپ سب کی نذر کرتا رھوں، لیکن بہت ساری بچپن کی یادیں کچھ ادھوری سی ھیں، جیسے جیسے یاد آتی جائیں گی میں پیش کرتا رھونگا-

ایک اور واقعہ اسکول کا دھندلا دھندلا سا یاد آرھا ھے، ھمارے اس اسکول کی یہ خاص بات ضرور تھی کہ لڑکوں کو اکثر پکنک کیلئے مختلف تفریح گاھوں پر ضرور لے جایا کرتے تھے، اور ھر پکنک کا اپنا ایک الگ مزا ھوا کرتا تھا، مگر ایک پکنک کا سفر مجھ کو تھوڑا تھوڑا یاد آرھا ھے جب ھماری پوری کلاس نے کراچی سے شاید 60 میل کے فاصلہ پر ایک چھوٹے سے علاقہ ٹھٹھہ میں پکنک کا پروگرام بنایا تھا، جہاں پر تھوڑے سے دور کے فاصلے پر ایک بہت بڑے بزرگ کا مزار تھا اور اسکے ساتھ ھی ایک “مکلی کا قبرستان“ کے نام سے ھے، جو کہتے ھیں کہ دنیا کا سب سے بڑا قبرستان ھے جہاں پر محمد بن قاسم کے زمانے کے آثار بھی ھیں اور پرانے مقبرے بھی ھیں،

اگر ھم بذریعہ بس جاتے تو جلدی پہنچ سکتے تھے لیکن ٹیچروں نے ٹریں کے راستہ ھی پروگرام بنایا تھا کیونکہ وہاں سے کوئی ایک بہت بڑی جھیل نزدیک پڑتی تھی، اور اس کے لئے پسنجر ٹرین کا ھی انتخاب کیا تھا، کیونکہ یہ ھی چھوٹے اسٹیشن پر رکتی تھی، تین دن کا پروگرام تھا اسکول سے ھی ھم تمام لڑکے اکھٹے ھوکر الگ الگ بسوں میں بیٹھ کر اسٹیشن پہنچے ھر ٹیچر کے سپرد دس دس لڑکے تھے اور ھم سب اپنے اپنے ٹیچرز کی سربراہی میں ایک پہلے سے ھی ریزرو ڈبے میں بیٹھے اور وہ پسنجر ٹرین کراچی سے آہستہ آہستۃ خراماں خراماں چلی، راستے میں وہ ھر ایک اسٹیشن پر رکتی ھوئی چھک چھک کرتی اپنے مخصوص سیٹی کے ساتھ چلی جا رھی تھی راستہ میں کوئی بڑا اسٹیشں نہیں آیا تھا سارے ھی راستے چھوٹے چھوٹے اسٹیشن نظر آئے، کسی کسی جگہ تو پلیٹ فارم ھی نہیں ھوتا تھا، لوگوں کو اترنے چڑھنے میں بڑی مشکل ھوتی تھی،!!!!!!

اس پسنجر ٹرین کا بھی ایک الگ ھی لطف تھا، گاڑی پلیٹ فارم سے نکلی اور پھر بھی لوگ سوار ھوتے رھے بمعہ سامان کے قلی ان کو دھکا دے کر بٹھاتے بھی رھے اور مزدوری اور ساتھ بھتہ بھی لیکر ھی اترتے رھے جبکہ ٹرین کافی آگے تک نکل گئ تھی -

اس پسنجر ٹرین میں بھی کافی پکنک کا سماں تھا، کچھ مسافر تو ھمارے اسٹوڈنٹ کے ریزرو ڈبے میں بھی آگئے تھے، کافی بحث اور تکرار کے باوجود بھی ان لوگوں نے اترنے کا نام نہیں لیا اور زیادہ تر بغیر ٹکٹ ھی تھے، اور قلیوں نے انہیں بےوقوف بنا کر کچھ پیسوں کے عوض انہیں ھمارے ڈبے میں زبردستی ھی گھُسا دیا تھا اب کیا کرتے مجبوری تھی،

ارے سائیں!! بس تھوڑی دور کی تو بات ھے راستے میں ھم اتر جائے گا، ھم اپکی کرسی پر نہیں بیٹھے گا، ادھر نیچے ھی ٹھیک ھے، سائیں خدا تم کو خوش رکھے نی،!!!!!

ایک نے ذرا التجا کرتے ھوئے کہا تو ھمارے ایک ٹیچر نے بھی جواباً کہا کہ کوئی بات نہیں، سائیں بیٹھ جاؤ،!!! شاید انہوں نے بھی انکی گھنی مونچھوں سے ڈرتے ھوئے ھی کہا تھا!!!!!

ایک دو سائیں تھوڑی تھے وہ تو کوئی آٹھ دس تھے تھے، بمعہ اپنے کنبہ کے ساتھ اور زیادہ تر خانہ بدوش ھی لگتے تھے، سب زیادہ تر گیٹ کے پاس اور کچھ نے تو باتھ روم کے دروازے پر ھی ڈیرہ ڈالا ھوا تھا، کسی کے ساتھ بندروں کو جوڑا تھا، جو ان کے کمر میں رسی سے بندھے ھوئے تھے، اور بار بار اچھل کود کررھے تھے، اور لڑکوں کو بھی چھیڑ چھیڑ کا موقع مل گیا تھا، ایک دوسرے کو بندروں کی طرف اشارہ کرکے رشتہ داری جوڑ رھے تھے، اور سارے ڈبے میں ایک دھما چوکڑی مچی ھوئی تھی،!!!!

کوئی ایک بندر کی طرف اشارہ کرکے کہہ رھا تھا کہ دیکھ جیدی تیرا بھائی تجھے دیکھ کر مسکرا رھا ھے، کوئی بندروں کو اپنی کھانی پینے کی چیزوں میں سے کھلانے کی کوشش کررھا تھا اور کچھ تو خالی مستی ھی کررھے تھے، بار بار بندروں کو انہیں کی چھڑی سے چھیڑ رھے تھے، اس اثنا میں ایک بندر فخرعالم کی چھیڑچھاڑ سے تنگ آکر اسکے کندھے پر شور مچاتا ھوا چڑھ گیا، بڑی مشکل سے اس بندر سے جان چھڑائی چند ایک کھروچ آئی، کچھ بچت ھوگئی، لڑکوں نے اس کا رکارڈ لگانا شروع کردیا، ارے دیکھو بھائی بھائی میں جھگڑا ھوگیا، ٹیچروں نے لڑکوں کو خوب ڈانٹا لیکن لڑکے کہاں سدھرنے والے تھے اور ویسے ٹیچر حضرات بھی ساتھ ساتھ خوب ان باتوں سے تفریح لے رھے تھے،

کسی کے پاس تو چھوٹا سا ریچھ اور اسکے ساتھ بکری بھی تھی، مگر اس کے نزدیک نہ کوئی نہیں گیا بلکہ کسی نے چھیڑا تک نہیں لیکن لڑکے آوازیں وقفہ وقفہ سے آوازیں ضرور کستے رھے ایک لڑکا جسکا نام تو بدرالمغیز تھا لیکن اسے پیار سے بدرو کہتے تھے کچھ تو اس کی شراتوں سے تنگ آکر بدروح بھی کہتے تھے، اس نے تو سب کو تنگ کیا ھوا تھا، ھر کوئی اس سے پریشان رھتا تھا اور اس سے چھپنے کی کوشش کرتا تھا ایک لڑکا پرویز حمایت جو بہت ھی شریف تھا اسکا تو یہ بدرو ھمیشہ پیچھا ھی لئے رھتا تھا،

یہ ٹریں تو ھر جگہ ھی رک جاتی تھی، بعض اوقات تو آدھے آدھے گھنٹے کے لئے رک جاتی تھی شاید کسی ایکسپریس ٹرین کو آگے گزارنے کےلئے مگر کبھی کبھی تو لگتا ھے کہ “سگنل مین“ شاید بھول ھی جاتا ھو کہ اس گاڑی کو بھی آگے جانا، اگے کچھ ایک اور چھوٹے سے اسٹیشن کےدوسرے پلیٹ فارم پر جہاں لاوارث اور فالتو سمجھ کر ٹرینوں اور مال گاڑیوں کو کھڑی کردیتے ھیں، اپنی یہی پسنجر ٹرین کافی دیر تک رکی رھی، آخر سگنل بھی کھل گیا، لیکن ٹرین ٹس سے مس نہیں ھوئی، ایک لڑکا باھر سے خبر لایا، کہ انجن ڈرائیور ھی غائب ھے، اور جب انجن ڈرائیور واپس آیا تو پتہ چلا کہ وہ اپنی فیملی کو لینے کے لئے نزدیکی گاؤں گیا ھوا تھا اور اپنے گھر والوں اور بچوں کو ایک ڈبے میں چڑھا رھا تھا،

اس اسٹیشن پر ایک قلی تھا ایک ھی اسٹیشن ماسٹر تھا وہ ھی ٹکٹ بیچتا تھا ساتھ کسی پسنجر گاڑی کے آنے پر ھی ٹکٹ چیک بھی کرتا تھا اور اس کے علاؤہ وہ ضرورت پڑنے پر سگنل ڈاؤن بھی کرتا تھا اور آنے جانے والی ٹرینوں کو سبز جھنڈی بھی دکھاتا تھا، یعنی کہ وہ پورے اسٹیشن کا اکلوتا ھی اسٹاف تھا، اور شاید جب انکے پاس تنخواہ کا پے رول آتا تھا تو وہ کم از کم 10 اسٹاف کا تو ضرور ھوتا ھوگا، یہ معلومات تو بعد میں مجھے میرے ایک ریلوے کے ملازم دوست سے پتہ چلا کہ یہاں تو ایسا ھی ھوتا ھے ورنہ سوچو کہ اس چھوٹی سی تنخواہ میں گزارا کیسے ھو، اور بھی بہت سے رازوں کا انکشاف بھی کیا تھا، اب خیال آتا ھے ھر دفعہ ریلوے کو خسارہ ھی کیوں برداشت کرنا پڑتا ھے -

ھمیں تو گورنمنٹ کی طرفسے اسٹوڈنٹ کے رعائیتی ٹکٹ ملے تھے اور باقی جو ھمارے ڈبے میں سفر کررھے تھے بغیر ٹکٹ تھے کچھ تو قلیوں نے لوگوں سے پیسے اینٹھ کر کر بٹھا دیا تھا، کچھ ھر اسٹیشن سے وہاں کہ ماسٹر اور ٹرین کے ٹکٹ چیکر اور گارڈ آپس میں ھی معاملہ طے کرکے مسافروں کو کسی نہ کسی ڈبہ میں جگہ ھو یا نہ ھو سامان کے ساتھ دھکا ضرور دے دیتے تھے، بہت ھی ثواب کا کام کرتے تھے ھر مسافر کو کسی نہ کسی طرح اسکی منزل تک پہنچا ھی دیتے تھے، اور آج تک یہ سلسلہ بہت ھی کامیابی سے چل رھا ھے، اگر کراچی یا کسی بھی بڑے اسٹیشن پر آپ اپنی سیٹ رزرو کرانے جائیں تو آپکی خواھش کے مطابق کبھی بھی سیٹ نہیں ملے گی اور اگر آپ وھاں کے قلی سے رابطہ کریں تو فوراً ھی جتنی سیٹیں اور برتھیں آپکو چاھئے اپکے ھاتھ میں موجود مگر اسکی قیمت قلی کے ھاتھ میں تھمانی ضرور پڑتی ھے، کیا بات ھے ھر ریلوئے اسٹیشن کا بادشاہ صرف قلی اور صرف قلی ھی ھوتا ھے-

معاف کیجئے گا میں کچھ اپنی پٹری سے ھی اتر گیا تھا، خیر ھماری ٹرین کو بھی آخر کچھ دھچکا سالگا کچھ ھلچل سی محسوس ھوئی باھر کھڑکی سے جھانک کر دیکھا تو پتہ چلا کہ سارا گاؤں وہ انجن ڈرائیور کی فیملی کو چھوڑنے آیا ھوا تھا اور سب ھاتھ ھلا ھلا کر سب کو الوداع کہہ رھے تھے کچھ تو ھمیں بھی دیکھ کر ھاتھ ھلارھے تھے، کسی نے ایک فقرہ ھی کس دیا کہ کیا وہ تمھاری ماسی یا خالہ ھے، جسے تم لوگ ھاتھ ھلا کر جواب دے رھے ھو، یہ سنتے ھی سب نے شرمندگی سے ھاتھ اندر کرلئے، !!!!!!!!!!!!!!!

خیر بڑی مشکل سے یہ چھک چھک کرتی نازوں کی پلی ھوئی پسنجر ٹرین اپنے مقررہ اسٹیشن پر پہنچی جس کا نام “جنگ شاھی“ تھا، کوئی چھوٹا سا بازار اسٹیشں کے باھر نظر آرھا تھا لیکن نہ کوئی جنگ کے آثار تھے اور نہ ھی کوئی شاھی مقبرہ تھا،

شکر ھے پہنچ تو گئے مگر دوپہر گزرچکی تھی دو بج رھے تھے، سب کو بہت سخت بھوک لگ رھی تھی، صبح سے چلے ھوئے یہ وقت آگیا تھا 5 گھنٹے ھوچکے تھے اگر بس سے آتے تو شاید ایک گھنٹے سے پہلے ھی پہنچ جاتے اور ابھی تو کافی سفر باقی تھا اسٹیشن سے پھر شاید کسی بس میں بیٹھ کر جانا تھا، کچھ موسم اچھا ھی تھا ورنہ تو حالت بہت خراب ھوجاتی-

اسٹیشن پر اتر تو گئے اور سب لڑکوں کو ایک شاھی عالمگیر سرائے میں ھم سب کو لے جایا گیا جہاں ابھی دوپہر کے کھانے پکانے کا انتظام بھی کرنا تھا، جیسے ھی ھم اس شاھی سرائے میں گھسے تو اندر اندھیرا اور چمگادڑوں کا بسیرا، ھمارے اندر گھسنے سے پہلے ھی انہوں نے پھڑپھڑانا اور چیخنا چلانا شروع کردیا ھم سب تو واپس بھاگے اور صحن میں ھی بیٹھ کر دریاں بچھا کر کچھ تو لیٹ گئے کچھ بازار کی طرف نکل لیئے، اور کچھ ٹیچروں کے ساتھ مل کر کھانا پکانے کا انتظام کرنے میں لگ گئے،

باقی بچے ھم تین چار دوست تو کیا کرتے، مل کر اپنی اپنی جیبوں سے پیسے نکال کر کچھ کھانے پینے کی چیزیں خریدنے کے بارے میں سوچنے لگے، کیونکہ بھوک لگ رھی تھی اور جس طرح کھانے پکانے کا بندوبست ھورھا تھا وہ امید تو نہیں تھی کہ شام تک بھی تیار ھو جائے!!!!!!!!!!

جی ہاں تو بات ھورھی تھی “جنگ شاھی“ ریلوے اسٹیشن کی، جہاں ھم تمام اسٹوڈنٹس پکنک منانے اسکول کی طرف سے پہنچے تھے، دوپہر کے دو بج چکے تھے، اور دوپہر کے کھانا پکانے کی تیاری ھورھی تھی اور ھم سب کا بھوک کے مارے برا حال تھا، کھانا پکانے والی ٹیم الگ ھی تشکیل دی ھوئی تھی جنہوں نے کھانا پکانے کا خشک سامان، پہلے سے ھی کراچی سے بندوبست کرکے آئے تھے، اور تازہ ساماں جیسے سبزی، گوشت کا پکنک پوانٹ سے ھی خریدنے کا پروگرام تھا اور ویسے بھی ھر ایک ٹولی کو مختلف کام کی ذمہ داریاں دی گئی تھیں،

وہاں پر اسٹیشن کے ساتھ ھی بازار سے ھی کچھ دیسی تازی مرغیاں کٹوائی گئیں، اس کے علاوہ کچھ تازہ گوشت، ساتھ ھی ھری سلاد دھنیاں پودینہ ھری مرچ وغیرہ بھی وہاں پرھی آسانی سے مل گیا، وہاں پھر شاید بریانی اور قورمے کا پروگرام بن رھا تھا، پکانے والی ٹیم جو کھانا پکانے میں مشہور تھی، اس میں کچھ اسپشل ماھر ٹیچرز بھی تھے جو ھمیشہ ھر پکنک میں اپنے کھانے پکانے کے جوھر ضرور دکھاتے تھے اور وہ ھی پکنک کے تمام پروگرام کو منظم طریقہ سے بڑے شوق سے ترتیب بھی دیتے تھے، جس میں کوئی بھی مداخلت نہیں کرتا تھا، اور واقعی وہ لوگ ھمیشہ بڑے اھتمام سے بہت ھی خوش ذائقہ کھانا تیار کرتے تھے،

ایک ٹیچر کے پاس کیشئیر کی ذمہ داری تھی اور ان کے دو اسسٹنٹ لڑکے ھوتے جن کا کام صرف ضرورت کے وقت باھر کی خریداری اور سارا حساب کتاب انہی ٹیچر کو دینا ھوتا تھا، جن کے پاس اسکول کا فنڈ ھوتا تھا جو تمام پکنک کا تخمینہ لگاکر ایڈوانس میں ھی اندازاً لگا کر اسٹوڈنٹس سے بھی اکھٹا کرتے تھے اور کچھ اسکول کی طرف سے بھی فنڈ شامل کر لیا کرتے تھے اور اس بات کی تو گارنٹی تھی کہ سب کچھ ایمانداری سے ھی ھوتا تھا اور ساتھ ٹیچرز بھی اپنا اپنا حصہ بھی ضرور شامل کیا کرتے تھے، اور اگر کبھی کچھ کمی ھوجاتی تھی تو تمام ٹیچرز مل کر اس کمی کو اپنی جیب سے پورا کرتے تھے، جو اس اسکول کے ٹیچرز کی تمام خصوصیات میں سے ایک منفرد خاصیت تھی -

بہرحال ھمارے گروپ یا ٹولی جو 5 لڑکوں پر مشتمل تھی ضرورت پڑنے پر مختلف کاموں کی ذمہ داری تھی، جیسے لکڑی جلانےکےلئے اور پانی پینے کےلئے اور پکانے کیلئے بندوبست کرنا وغیرہ وغیرہ، جس میں ھم پہلے ھی سے ماسٹر تھے، ھم لڑکوں نے فورآً اپنا کام ضرورت کے مطابق کرکے، اجازت لےکر آگے بازار کی ظرف نکل گئے، کیونکہ بھوک بہت لگ رہی تھی اور ابھی کھانا تیار ھونے میں کافی وقت تھا، بازار کی طرف ایک ھوٹل نظر آیا جہاں ھم نے بیٹھ کر دال اور سبزی کے سالن اور روٹی سے کچھ بھوک کو مٹایا -

واپس آئے تو کچھ ٹیچرز، نزدیک ھی کسی جھیل پر جانے کا پروگرام بنا رھے تھے، وھاں پر ایک ٹریکٹر کے ذریعے کچھ ٹیچرز کی نگرانی میں باقی لڑکوں کو ساتھ لے کر، پکانے والی ٹیم کو چھوڑ کر، بقایا سب نکل پڑے، پہلے تو اس جھیل پر جانے کا پروگرام دوپہر کے کھانا کھانے کے بعد تھا، مگر کھانے میں کچھ تاخیر ھونے کے سبب پروگرام پیں کچھ تبدیلی ھوگئی تھی، اس ٹریکٹر کے پچھلے ٹرالر میں پر ھم بیٹھ تو گئے لیکن جھیل تک پہنچتے پہنچتے جو کچھ کھایا پیا تھا وہ سب کا سب ھضم ھوگیا،

دھوپ کچھ زیادہ تھی، تھوڑا بہت گھومے پھرے کچھ لڑکوں اور ٹیچروں نے تصویریں بھی اتاریں ھم بھی پھوکٹ میں شامل ھوگئے، پھر اسے ٹریکٹر سے ھی واپس آگئے، شام ھورھی تھی ، کھانا آخری دم وخم پر تھا، ایک ٹیم نے فوراً اپنی ذمہ داری کے حساب سے، دری وغیرہ بچھائی اور اوپر پرانے آخبار، جو ساتھ لائے تھے، بچھائے اس ٹیم کا کام کھانا کھلانا تھا، سب نے ہاتھ منہ دھوئے اور بیٹھ گئے اور بس کچھ ھی دیر میں کھانا لگا دیا گیا، اور پھر کیا تھا سب کھانے پر اس بری طرح ٹوٹے کہ کھانا کھلانے والی پارٹی کبھی سالن لاتی تو روٹی ختم ھوجاتی اور کبھی روٹی لاتے تو سالن ختم، پھر بریانی کا دور چلا وہ بھی اس ظرح کہ کھلانے والے بریانی کے تھال بھر بھر کر لاتے رھے ادھر پہلے والے تھال ختم، کھلانے والے بھی بریانی یا قورمے کے تھال لاتے لاتے بیچ میں سے اچھی اچھی بوٹیاں اچک لیتے تھے، کیونکہ انہیں بھی بہت سخت بھوک لگی ھوئی تھی-

یہ دعوت ایسی لگ رھی تھی کہ جیسے کسی شادی میں کھانا کھا رھے ھوں، اس میں چند اس علاقے کےمعزز لوگ بھی شامل ھوگئے تھے، جنہوں نے یہ مغلیہ خاندان کی سرائے بمعہ چمگادڑوں کے بغیر کسی معاوضے کے دے کر ھم پر مہربانی کی تھی، اندر تو کوئی چمگادڑوں کی وجہ سے نہیں گیا بس باھر ھی مغلیہ صحن میں ھی بیٹھ کر کچھ تو اکبر بادشاہ کے روپ دھارے ھوئے لیٹ گئے اور کچھ شاجہاں کی طرح اس سرائے کو تاج محل سمجھ کر ممتاز محل کے گن گانے لگے اور کچھ تو بےچارے اپنی ٹیم کو لیکر مقرر کردہ ذمہ داری کو لےکر برتن دھونے میں لگ گئے مگر وھاں کے کچھ مقامی لوگوں نے بھی کچھ مدد کرکے کھانا کھانے کا اپنا حق ادا کردیا -

کھانا کھاتے ھی سب کو پھر الرٹ کردیا کہ بھئ سب اٹھو، بس آگئی ھے چلو اپنا اپنا سامان سمیٹو اور بس میں بیٹھو، اگلے پوائنٹ پر جانا ھے، اب کھانا کھا کر سب ھی ٹن ھوگئے تھے، بہرحال بڑی مشکل سے جلدی جلدی بس میں گھسے کسی کو بیٹھنے کی جگہ ملی کسی کو نہیں، بڑا بڑا سامان تو چھت پر ھی چڑھا دیا لیکن چھوٹا موٹا سامان بس کے اندر ھی لے گئے، مجھ سمیت کافی لڑکوں کو جگہ تو مل گئی لیکن جو بعد میں بس کی چھت پر سامان رکھ کر چڑھے تو انہیں بیٹھنے کی جگہ نہیں ملی، وہ بس بھی ایسی تھی کہ بندے کو کبڑا بن کر کھڑا ھونا پڑا ، پتہ نہیں آگے کتنا اور سفر تھا، کچھ تو بےچارے چھت پر ھی چڑھ گئے، ایک اور سونے پر سہاگہ یہ کہ کوئی ایک اور پسنجر ٹرین آگئی اور بس والے نے اس کے پسنجر اٹھانے کیلئے بس کو اور مزید کچھ دیر کے لئے روک دیا -

ھم جو بس میں تھے انکا تو مزید حشر نشر ھورھا تھا ایک تو اس بس کے شیشے ایسے تھے کہ کھلنے کا نام ھی نہیں لیتے تھے اور اوپر سے کنڈکٹر نے اور بہت سے مزید اور مسافروں کو بمعہ سازوسامان کے اندر بس میں زبردستی پھنس پھنسا کر گھسیڑ دیا تھا، کیا عالم تھا، کبھی ایسا جم غفیر نہیں دیکھا تھا، پسینہ سر سے پیر تک بہہ رھا تھا، اور لوگوں کے پاس سے تو ایسی مہک آرھی تھی لگتا تھا کہ شاید برسوں ھوگئے ان لوگوں کو نہائے ھوئے، خیر کیا کرتے مجبوری تھی، کچھ بلکہ بہت کچھ سہنا پڑ رھا تھا،

بڑی مشکل سے بس کی گھڑگھڑاہٹ کے کانپنے سے یہ محسوس ھوا کہ اب شاید بس نے اپنے سفر کے آغاز کرنے کی ٹھان لی ھے، خیر ھانپتی کاپتی ھلتی جلتی اچھلتی بس نے آھستہ آھستہ چلنا شروع کیا، کہیں کہیں سے تھوڑی بہت ھوا آرھی تھی، جیسے ھی بس بازار کے حدود سے باھر نکلی، تو اندھیرے کی وجہ سے کچھ بھی نظر نہیں آرھا تھا، خیر میں تو بےچارے اوپر چھت والوں کا اور کھڑے ھوئے دوستوں اور ٹیچروں کا سوچ رھا تھا کہ نہ جانے کیا حال ھورھا ھوگا،

اسی سوچ میں گُم ایک نیند کا جھٹکا مجھے آیا ھی تھا کہ ایک مرغی کڑکڑاتی ھوئی میرے گود میں گری اور میں ایک دم گھبرا گیا اور اپنے دل پر ھاتھ رکھ لیا ایسا لگا کہ جان ھی نکل گئی،ایک تو رش اور اوپر سے کسی کے ٹوکرے میں سے مرغیاں پھڑپھڑاتی ھوئی باھر نکل رھی تھیں، بس کیا تھا بس میں ایک ھنگامہ ھوگیا، میرے پاس جو مرغی گری اسے پکڑ کر بیٹھا تھا کہ کہیں اور نہ نکل جائے کہ اچانک ایک مقامی آدمی کا سر میری شکل کے سامنے الٹا ھی آگیا اور مجھ سے مرغی چھین کر غصہ سے کہا، جو میں بالکل سننے کے موڈ میں نہیں تھا، ایک تو میں نے اس کی مرغی سنبھالی اور اس نے مجھ پر ھی چیخنا شروع کردیا !!!!!

اوئے چھوکرے اس مرغی کے ساتھ اس کا بچہ بھی تھا وہ تم نے کدھر کو گم کردیا !!!!!!!

میں نے ڈرتے ھوئے جواب دیا کہ،،،،،،،،،،،،،

دیکھو سائیں!!! ھم سے آپ قسم لے لو، ھمارے نصیب میں آپکی مرغی ھی آئی تھی، اسکا بچہ ھم نے نہیں دیکھا !!!!!!!!!!!

اس نے اور غصہ سے کہا کہ،!!!!!
ھم کچھ نہیں جانتا ھے، ھم کو تو اس کا بچہ ابھی چاھئے، یہ مرغی تمھارے گود میں تھا تو اس کا بچہ بھی اس کے ساتھ ھی تھا اور کدھر کو جائے گا، ھم تو اس کا پیسہ لے کر چھوڑے گا ورنہ تم کو ادھر ھی ختم !!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!

یہ کس مشکل میں پھنس گیا میرے ساتھ ھی کوئی اور اسکی ظرح ایک مقامی بیٹھا تھا جس نے آدھی سے زیادہ سیٹ گھیرے ھوئے تھی اور میں کھسکتے کھسکتے گرنے ھی والا تھا، اس نے اس مرغی والے کو اپنی زبان میں کچھ شاید میری حمایت میں ھی کہا، جسکی وجہ سے میری جان خلاصی ھوئی، اور میں اسی خوشی میں کھڑا ھوگیا اور اپنی چھوٹی جو جگہ بچی تھی وہ بھی اس کو دے دی کہ بس یہی خوش رھے !!!!!!!!!


مرغی کا بچہ تو چھوڑیں، جو بھی مرغیاں اسکے ٹوکرے میں سے نکلیں تھیں اس میں سے صرف ایک ھی مرغی میرے پاس مل بھی گئی ورنہ باقی میں سے کچھ نے تو کھڑکیوں سے چھلانگ ماردیں تھیں اور کچھ کو تو اندر ھی لوگوں نے اپنے ھی بغل میں دبوچ لیں، جو بعد میں ھی پتہ چلا،

جو مرغیاں نیچے کود گئی تھیں ان کے پیچھے تو اس مرغی والے نے چھلانگ ماردی تھی وہ بھی چلتی بس میں سے اور پیچھے کی طرف منہ کرکے، نہ جانے اس بے چارے کو کتنی چوٹ آئی ھوگی کیونکہ ایک تو خود بھی بھاری بھر کم ، ساتھ خالی ٹوکرا بھی ھاتھ میں اور وہ اترا بھی تو چلتی بس میں پیچھے کی طرف منہ کرکے، اور باھر اندھیرا بھی تھا، ایک آواز تو آئی تھی بڑی زور کی چیخنے کی، لیکں بس ڈرائیور نےاپنی زبان میں اپنے کنڈکٹر سے کچھ پوچھا اور اسکے جواب میں اس نے بس کو اور تیز چلانا شروع کردیا تھا، کسی کے پوچھنے پر اس نے کہا کہ
،،،،،،،،،،، سائیں!!!!! خاموش رھو پیچھے ڈاکو سائیں لوگ آرھا ھے !!!!!

اور بس ڈرائیور نے اندر کی ٹمٹماتی ھوئی بتی بھی بجھا دی تھی اور آگے پیچھے کی لائٹ بھی بالکل بند کردی تھی، اندر تو کچھ بھی دکھائی نہیں دے رھا تھا، اور ھم اسکول کے لڑکوں کو تو یہ پہلا اور آخری تجربہ تھا، ڈر کے مارے جان نکلی جارھی تھی، ٹیچروں کے بھی منہ سے کوئی آواز نکل نہیں رھی تھی، کیونکہ وہاں کے ڈاکوؤں کے بارے میں سنا ضرور تھا لیکن واسطہ آج ھی پڑا تھا!!!!

نہ جانے ڈرائیور بس کو اندھیرے میں کیسے دوڑائے جارھا تھا، بس بھی جھومتی جھامتی، اچھلتی کودتی، اپنی منزل کی طرف رواں دواں تھی، پتہ نہیں چھت پر بیٹھے ھوئے لوگوں کا کیا حال ھوا ھوگا، میں بھی اپنی سیٹ اس مرغی کے بچے کے چکر میں گنوا چکا تھا، اور بس کھڑے کھڑے ٹانگیں بھی شل ھوچکی تھیں، کچھ نیند کا غلبہ بھی تھا اور رات کے شاید 10 بجے کا وقت ھوگا، اچانک بس کے اندر سے ھی ایک مرغے نے اپنی آواز کے جادو سے بس کی کھڑکھڑاتی اور چنگھاڑتی شور شرابے میں ایک نئے سُرؤں کا اضافہ کردیا، میں نے سوچا کہ شاید یہ بھی اسی مرغی والے کا مرغا ھوگا، جاگا بھی تو دیر سے جاگا!!!!!

آخر کو ھماری منزل آھی گئی شاید کنڈکٹر نے “مکلی“ کی آواز لگائی تھی، دور سے کچھ مدھم سے تمٹاتی ھوئی روشنی کی جھلک نظر آرھی تھی اور کچھ رنگ برنگی روشنیوں کے بلب بھی جلتے بجھتے نظر آرھے تھے، شاید وہ مکلی کے ایک بڑے بزرگ کا مزار تھا، بہرحال وھاں آہستہ اہستہ سب اپنی کمر سیدھی کرتے ھوئے اتر گئے، اور سامان وغیرہ بھی اتارا اور سب ٹیموں نے اپنے اپنے ممبروں کو پورا کیا ابھی تو آدھے ممبر بھی پورے نہیں ھوئے تھے، بعد میں پتہ چلا کہ وہ دوسری بس میں آرھے ھیں،

تھکے ھوے تو تھے مزار کے نزدیک سامان لے کر بڑی مشکل سے پہنچے، آگے کافی لوگ سوئے ھوئے تھے، انکو ڈسٹرب کرنا بالکل مناسب نہیں سمجھا، وہاں رات کا اندھیرا تو تھا ھی اور کوئی ھموار جگہ مل نہیں رھی تھی تو اونچے نیچے ٹیلوں اور غیر ھموار جگہ پر ھی غنیمت جان کر سب لڑکوں نے مل کر رات کے اندھیرے میں ھی دریاں اور چادریں الٹی سیدھی کرکے بچھائی، کچھ بھی نطر نہیں آرھا تھا اور سب کے سب تھک کر لیٹ گئے کچھ لڑکے مزار کی طرف حاضری دینے چلے گئے ھم لوگوں میں تو بالکل ھمت نہیں تھی -

صبح ھوکر بھی گزر گئی سورج کی شعائیں منہ پر پڑ رھی تھی اس کے باوجود بھی کسی کی آنکھ کھل نہیں رھی تھی، ایک آواز نے ھم سب کو چونکا دیا اور ھم سب اتنے خوفزدہ ھوئے کہ کانپنے لگے ھر ایک کی حالت خراب تھی چہرے بالکل پیلے پڑچکے تھے وہاں سے سب کچھ چھوڑ کر بھاگے !!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!

ھم سب سخت تھکان کی وجہ سے گہری نیند میں ڈوبے ھوئے تھے جبکہ سورج کی روشنی اچھی خاصی چاروں طرف پھیل چکی تھی، کسی نے میرے کان میں خاموشی سے کہا کہ ھم لوگ تو قبروں کے اوپر سو رھے ھیں، میں فوراً ھی ڈر کے مارے اُٹھ کر بیٹھ گیا اور اِدھر اُدھر کئی لڑکوں کو دیکھا کہ کچھ نے تو قبروں کو اپنا تکیہ بنایا تھا، کچھ لڑکوں ‌نے قبر کو ایسے گود میں لیا ھوا تھا کہ جیسے کوئی بچہ اپنی امٌاں سے لپٹ کر سو رھا ھو اور کچھ تو وقت سے پہلے ھی سے کھلی ھوئی قبروں میں پیر لٹکا کر خرانٹے لے رھے تھے، کچھ ٹیچروں کا بھی یہی ملا جلا حال تھا -

میں بھی اسی طرح کھلی قبر کے بالکل برابر میں ایک قبر کو تکیہ بنائے لیٹا ھوا تھا، جہاں قبر کے اندر کا سارا حصہ صاف نظر آرھا تھا، ارے باپ رے جو ڈر کر ھم سب لڑکے چیخ کر وھاں سے بھاگے اور دور جاکر کھڑے ھوگئے اور کئی تو کانپ بھی رھے تھے اور پھر ھمارے ٹیچروں نے وھیں پر ھم سب لڑکوں کو بلا کر کہا کہ!!!!!!!!!!

دیکھو بچوں !!!!!!!!!!! یہ ڈر اور خوف کچھ بھی نہیں ھے صرف ذہن کا ایک نفسیاتی اثر ھے، جو بھی چیز آپ اپنے دماغ اور تصور میں بٹھا لو گے وھی تمھاری سوچ ایک حقیقت کا روپ لے کر وھم کے وجود کو تسلیم کر لے گی، جو آپکے ڈر اور خوف کا بعث بھی بن سکتی ھے،
اب یہ بتاؤ کہ ساری رات آپ قبروں پر سوتے رھے اور کچھ بھی محسوس نہ کرسکے کیونکہ آپ سب کو اندھیرا ھونے کی وجہ سے یہ معلوم ھی نہیں ھوسکا کہ یہ “مکلی“ کا سب سے بڑا اور پرانا قبرستان اور پرانے کھنڈرات کے اثرات ھیں، اور اگر یہ پہلے پتہ ھوتا تو کیا آپ لوگ اسطرح بے خبر سو سکتے تھے ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟

وہ خوف کا سحر جو دماغ کو ماؤف کرچکا تھا، آھستہ آھستہ اس کا اثر ختم ھوتا جارھا تھا، اور واقعی اس واقعہ کے بعد کم از کم مجھے تو یہ احساس ھوگیا تھا کہ ڈر اور خوف ھمیشہ اللٌہ تعالیٰ کا ھی ھونا چاھئے اور ھمیں اسکے تمام احکامات کی بجاآوری کرکے اپنی عاقبت کو سنوارنے کی فکر کرنی چاھئیے-

بہرحال لگتا تھا کہ ناشتہ کا انتظام ھو رھا تھا، چائے کی دیگچی چڑھی ھوئی نظر آئی اور ایک جگہ کچھ انڈے ابل رھے تھے اور دوسری طرف انڈوں کا املیٹ بھی تیار ھورھا تھا کوئی ہاف فرائی کی فرمائیش کررھا تھا اور کوئی فل فرائی کی، کسی نے آملیٹ کا آرڈر دیا ھوا تھا ایک طرف ڈبل روٹی کے سلائسس کا ڈھیر تھا اسکے ساتھ ھی مکھن کا ایک بڑا پیکٹ ایک پلیٹ میں دو تین چھریوں کے ساتھ نطر آیا، دوسری پلیٹ میں دو تین قسم کے شہد اور جام کی بوتلیں رکھی تھیں اور یہ سب کچھ ایک درخت کے نیچے مہم جاری تھی، اور باقی لڑکے ایک لائن میں پلیٹ اٹھائے باری باری ڈبل روٹی کے سلائس اُٹھاتے ھوئے ساتھ مکھن جام یا شہد اپنی اپنی پلیٹوں میں ضرورت کے مطابق ڈالتے ھوئے جہاں انڈے تلے جارھے تھے وھاں کی ٹرے سے جس قسم کا ہاف فائی، فل فرائی ھو چاھے ابلا ھوا ھو یا آملیٹ ھو، ھر کوئی اپنی پلیٹ میں ڈالتا ھوا آگے بڑھ رھا تھا اور آخر میں چائے کا کپ آٹھاتے ھوئے ایک کسی کونے میں یا کسی دوست کے ساتھ پہلے سے بچھی ھوئی دری پر بیٹھ کر ناشتہ کا صحیح لطف اٹھارھا تھا،

اور یہ کھانے پینے کی تقسیم اور دوسرے تمام پکنک سے متعلق کوئی بھی کام کا ھر نظام اتنے سلیقے اور منظم طریقے سے انجام پا رھا تھا کہ کسی کو بھی کسی قسم کی کوئی تکلیف یا پریشانی نہیں ھورھی تھی اور کسی کو کسی سے کوئی شکایت بھی سننے یا دیکھنے کو نہیں ملی، اور سب مل جل کر اپنی اپنی پہلے سے ھی مقرر کردہ ذمہ داریاں کو نبھا رھے تھے،

ھمیں اس وقت اپنے اسکول پر بہت فخر تھا کہ اس کا ھر لحاظ سے ایک اپنا ایک بہترین اسٹینڈرڈ تھا اور اسی کی وجہ سے اس اسکول میں داخلہ بھی بہت مشکل سے ملتا تھا، اب نہ جانے کیا حال ھے اللٌہ کو ھی معلوم ھے، پڑھائی کے ساتھ ساتھ کھیل کود کے مقابلوں میں بھی ھمیشہ ھمارا اسکول اچھی پوزیشن لیتا تھا، اور کیا کیا تعریف کروں میرے پاس اسکےلئے الفاظ نہیں ھیں، یہ سب کچھ اچھی اور معیاری تنظیم کی وجہ ھی سے بہتر نظام چل رھا تھا -

اس وقت اسکول کے ٹیچروں کی ایک خاص بات ضرور تھی کہ جو بھی سگریٹ پینے کے عادی تھے انہیں میں نے کم از کم اپنے اسٹوڈنٹ کے سامنے کبھی سگریٹ پیتے ھوئے نہیں دیکھا تھا اور اگر کوئی ٹیچر کہیں ایک کونے میں چھپ کر سگریٹ پی رھا ھو اور سامنے سے کوئی طالب علم آجائے تو وہ فوراً سگریٹ بجھا دیتے تھے، اس کے علاوہ میں نے کبھی بھی کسی ٹیچر کو دوسرے ٹیچرز کے ساتھ کسی بھی طالبعلم کے سامنے کسی قسم کا بھی مذاق یا زور سے باتیں کرتے ھوئے بھی نہیں دیکھا تھا -

بہرحال بہتر سُدھار اور اچھی تنظیم کی ضمانت اُسی ادارے کو ھی دی جاسکتی ھے، جہان پر کم از کم اچھے اصول، اخلاق اور بہتریں ڈسپلین کا خیال رکھا جاتا ھو اور یہ کوئی مشکل بھی نہیں ھے صرف اسکے لئے یک جہتی کی ضرورت ھے اور اپنا ایمان مضبوط ھونا چاھئے -!!!!!!!!

ھاں تو بات ھو رھی تھی ناشتے کی، سب نے مل کر خوب زبردست سیر ھوکر ناشتہ کیا، پھر ان بزرگ کے مزار پر جاکر حاضری دی اور فاتحہ پڑھی اور تمام “مکلی کے قبرستان“ کے تمام پرانے آثار کو دیکھا، کہا جاتا ھے کہ یہ دنیا کا سب سے بڑا اور پرانا قبرستان کہلاتا ھے اور محمدبن قاسم اور راجہ داھر کی جنگ میں شہید ھونے والوں کے مقبرات بھی یہیں ھیں، اور اتنا بڑآ قبرستان تھا کہ دوسرا کنارا کہاں ختم ھوتا ھے بلکل نظر نہیں آتا تھا -

وھان سے پھر ھم سب نے اپنا اہنا بوریا بسترا اور سازوسامان کو سمیٹا اور وہاں سے دو یا تیں گروپ کی شکل میں بسوں کے ذریعے بغیر کسی پریشانی کے نزدیکی قصبہ“ ٹھٹھہ“ پہنچ گئے، جو ایک چھوٹا سا مغلیہ دور کا ایک تاریخی شہر بھی ھے وھاں کی ایک مغلیہ دور کی ایک خوبصورت سی کئی گنبدوں والی مسجد بھی دیکھنے کو ملی جہاں کی ایک خاص بات تھی کہ بغیر لاوڈاسپیکر کے قاری صاحب کا خطبہ مسجد کے کسی بھی کونے میں سنا جاسکتا تھا جوکہ خود ھم نے باقاعدہ طور سے باری باری اس کا تجربہ اپنی آواز سے ممبر کے پاس جاکر بھی کیا، اور سب نے ھر کونے میں آواز بھی سنی -

اور بہت سی وہاں کی مشھور جگہیں دیکھیں او پھر ایک جگہ منتخب کر کے وہاں اپنا پڑاو ڈالا اور دوپہر کے کھانے کا انتظام اپنی اپنی ذمہ داریوں کو سامنے رکھتے ھوئے کیا، جس طرح سے کل شام کو جنگ شاھی ریلوے اسٹیشن پر کیا تھا، پکانے والے پکاتے میں مشغول گھومنے والے بازار کے چکر میں اور آرام کرنے والے کچھ دیر کےلئے سو بھی گئے مگر سب نے اپنی اپنی ذمہ داریاں کھانا پکانے سے پہلے ھی ختم کرلیں تھی، کچھ کی ذمہ داریاں کھانا کھانے کے بعد آتی تھیں !!!!!

کھانا کھا کر سب لوگوں نے ایک پارک کے سایہ دار درخت کے نیچے دریاں بچھا کر کچھ دیر تک آرام کیا اور شام تک سب نے واپسی کا ارادہ کرلیا بہتر تو یہی تھا کہ براستہ سڑ ک ھی سفر کیا جائے تاکہ جلد سے جلد گھر پہنچ جائیں، اس تجویز کی منظوری ھوگئی تھی اور پھر یہ فیصلہ کیا گیا کہ ھر گروپ اپنی اپنی ذمہ داریوں کے ساتھ تمام لڑکوں کو انکے گھر تک پہنچائے اور اس پر عمل درآمد شروع ھوگیا، جیسے جیسے بس آتی گئی ایک ایک گروپ گنجائیش کے مطابق بسوں میں سوار ھوتا گیا اور اپنی اپنی منزل کی راہ لی، ھر کوئی بہت تھک چکا تھا، سارے راستے سب بس میں سوتے ھوئے گئے، اور خیریت سے شام تک اپنے اپنے گھر پہنچ گئے -

یہ ھمارے اسکول کی سب سے بہتر اور لمبی پکنک تھی ایک رات اور دو دن تک، بہت ھی اچھا سب نے انجوائے کیا اور کچھ دوستوں نے تصویرں بھی کھینچی تھیں لیکن ملی کسی کو بھی نہیں، دو دن کی تفریح تھی باقی پھر سے وھی اسکول کی گھماگھمی میں گم ھو گئے -

یہ ایک یاد گار تفریح تھی جو کہ آٹھویں کلاس کے وقت کی تھی اور جسے میں شامل نہیں کرسکا تھا، مگر اچانک یاد آگئی تو مجھے کچھ پیچھے جانا پڑا، اور بھی کئی یادیں ھلکی ھلکی ذہن میں کلبلا تو رھی ھیں، لیکن واضع نہیں ھیں، جیسے ھی کوئی دلچسپ واقع ذہن میں مکمل یاد آئے گا تو فوراً لکھوں گا،

اب تو میں بڑی مشکل سے نویں کلاس میں پہنچ چکا تھا، آرٹس کے صرف چار مضامین تھے، جنہیں پاس کرنا تھا، کوشش اس دفعہ ساری کی کہ سارے پیپر کلئیر ھوجائیں، اور بہت امید بھی تھی، مگر پھر بھی کچھ اپنے شوق بھی تھے، لوگوں کی پسند کی تصویریں بنانا اور ان میں تقسیم بھی کرنا اس کے علاوہ قلمی دوستی بھی جاری رھی، لیکن اخباروں اور بچوں کے رسالوں میں بھی لکھنے میں وقت کی تنگی کے باعث بہت زیادہ کمی آگئی تھی،!!!!!!!

جاری ھے،!!!!

عبدالرحمن سید
30-01-10, 06:44 PM
اب تو میں بڑی مشکل سے نویں کلاس میں پہنچ چکا تھا، آرٹس کے صرف چار مضامین تھے، جنہیں پاس کرنا تھا، کوشش اس دفعہ ساری کی کہ سارے پیپر کلئیر ھوجائیں، اور بہت امید بھی تھی، مگر پھر بھی کچھ اپنے شوق بھی تھے، لوگوں کی پسند کی تصویریں بنانا اور ان میں تقسیم بھی کرنا اس کے علاوہ قلمی دوستی بھی جاری رھی، لیکن اخباروں اور بچوں کے رسالوں میں بھی لکھنے میں وقت کی تنگی کے باعث بہت زیادہ کمی آگئی تھی،

ھمارے اسکول کے نزدیک پہلے ایک ائرکنڈیشنڈ سینما بھی ھوا کرتا تھا، اور اکثر اسکول کے لڑکے ہاف ٹائم میں بھاگ کر فلم دیکھنے جاتے تھے، مجھے بھی اسکا ایک شوق پیدا ھوگیا تھا، اس وقت اتوار کو ھی چھٹی ھوا کرتی تھی تو ھم دو تیں دوست بھی کسی نہ کسی طرح ہاف ٹائم کے بعد کوئی نہ کوئی بہانہ بنا کر فلم دیکھنے کیلئے جاتے تھے اس وقت آگے کی کلاس کا ٹکت 4 آنے کا ھوتا تھا اور پورا مہینہ کچھ نہ کچھ خرچی میں سے بچاکر اور سودے میں سے بھی بچا کر باقی کے پیسے جوڑ کر 4 آنے بنا ھی لیتا تھا،

گھر میں کسی کو بھی پتہ نہیں چلتا تھا کہ میں فلم دیکھ کر آرھا ھوں، اس شوق نے اور پڑھائی کی طرف اور بھی توجہ کم کردی اب مہینہ میں ‌‌‌ایک دفعہ کے بجائے دو دفعہ فلم دیکھنے کا چکر پال لیا تھا، ایک دفعہ اسکول سے بھاگ کر کافی لڑکے فلم دیکھنے پہنچ گئے اور شاید اسکول میں کسی مخبری کی وجہ سے یہ بھید کھل گیا، ویسے بھی اس دن ایک ڈراونی سی فلم “خاموش رھو“ لگی ھوئی تھی، فلم کے دوران ھی اسکول کا چھاپہ پڑ گیا وہ بھی والدین کے ساتھ، اندھیرے میں ھی آواز آئی چلئے اپنے اپنے بچوں کو پہچانئے، منہ پر ٹارچ کی روشنی سے والدین اور کلاس ٹیچرز بچوں کو پہچان کر اٹھا رھے تھے اور فلم بھی ساتھ ساتھ چل رھی تھی،

ایک تو فلم ڈراونی اوپر سے اسکول کا چھاپہ سب سے پہلے تو میں نے اپنا اسکول بیگ سیٹ کے نیچے پھینکا اور قمیض اُتار کر الٹی پہن لی یعنی اوپن سائڈ پیچھے گھما دی،اور قمیض کو اوپن ھی رکھا اور بالوں کو بھی خوب بکھیر دیا، قمیض بھی الٹی، ایک ّعجیب ھی شاھکار لگتا اگر اندھیرا نہ ھوتا تو، ایسے وقت میں شیطانی دماغ بھی خوب چلتا ھے، ساتھ والے دوست نے بھی ایسا ھی کیا کیونکہ سامنے کی جیب پر اسکول کا مونوگرام بنا ھوا تھا اس سے پہچاننے میں اور بھی آسانی ھورھی تھی، اسکول کے ٹیچرز اور والدین اسکول کے بچوں کو پہچانتے ھوئے ھماری ظرف ھی بڑھ رھے تھے میں نے فوراً اپنے پیر بھی جوتے اتار کر آوپر رکھ لئے تھے-

جیسے ھی وہ میرے نزدیک پہنچے، مجھ پر ایک ٹارچ کی روشنی سی پڑی، میں تو ایک دم گھبرا سا گیا، لیکن پھر بھی ھمت پکڑی ھوئی تھی، ایک نے فوراً دوسرے سے میری قمیض کی طرف ٹارچ کی روشنی ڈالتے ھوئے کہا کہ یہ اسکول کا لڑکا نہیں لگتا، اور اوپر سے میں نے بھی تھوڑا اپنے منہ کو ٹیڑھا کیا اور ذرا غصہ کا موڈ بناتے ھوئے وہاں کے مکرانی لہجے میں کہا کچھ اسی طرح کہا کہ!!!!!!!!!

!!!!! اڑے تم کو ارو برو نظر نہیں آتا ھے کیا، تم لوک کا دماغ تو خراب نہیں ھوگیا نی، اڑے سامنے سے ھٹو ایسا پنچ مارے گا سارا بتیسی باھر کردیگا، !!!!!!!!!!

وہ دو آدمی تھے اور اسکول کے ٹیچر ھی تھے، پھر بھی انکے ری ایکشن سے ڈر بھی لگ رھا تھا، کہ کہیں پہچاں نہ لیں لیکن جان بچ گئی انہوں نے واقعی میرے ایکشن کا آخر اثر لے ھی لیا اور معذرت کے انداز میں کہا کہ !!!
!! بھئی ذرا معاف کیجئے گا کچھ غلط فہمی ھوگئی تھی!!!

یہ کہتے ھوئے وہ دونوں کچھ آگے بڑھ گئے!!!!!!!!!!

کبھی کبھی شیطانی دماغ بھی کام کرجاتا تھا، اور کئی جگہوں پر میں بال بال بچا بھی ھوں، اور کبھی کبھی شکنجے میں جکڑا بھی گیا ھوں، وہ لوگ جیسے ھی سینما کے دروازے سے باھر نکلے اور ادھر ھم دونوں نے اپنی اپنی قمیضیں سیدھی کیں اور سیٹ کے نیچے سے بستہ نکالا، خاموشی سےپیچھے کے دروازے سے بھاگنے کی کوشش کی، جیسے ھی دروازہ کھولا، جان ھی نکل گئی، آسمان سے گرے کھجور میں اٹکے، کاش کے ھم فلم ختم ھونے کے بعد ھی نکلتے تو بہتر ھوتا !!!!!!!!!

سامنے اپنے کلاس ٹیچر کو پایا، انہوں نے خاموشی سے ایک طرف اشارے سے کھڑے ھونے کو کہہ دیا وہ شاید اس وقت سینما کے منیجر سے ھم لڑکوں کے متعلق ھی کوئی ایک ایکشن پلان بنا رھے تھے، اور اسی دوران انہوں نے ھمیں اپنے پاس بلایا اور ایک ھاتھ سے میرے کان پکڑے اور دوسرے ھاتھ سے دوسرے دوست کے کان پکڑے اور ساتھ ساتھ گھماتے ھوئے مروڑتے رھے، اور اسی طرح دونوں کو سب کے سامنے کان مروڑتے ھوئے اسکول کا رخ کیا اور ساتھ ھی کچھ سوال بھی پوچھتے جارھے تھے، ویسے سارے سوال جواب اب یاد تو نہیں ھیں لیکن ان کا انداز گفتگو اور ھمارے جوابات کا ملا جلا انداز کچھ یوں تھا، اگر جواب میں ھم کچھ دیر کرتے یا جھجکتے تو کانوں پر کچھ اور زیادہ دباؤ پڑ جاتا:

ھاں تو بیٹا بتاؤ تو کیسی فلم تھی؟؟؟
اچھی تھی !!!!!

اس فلم میں کون ھیرو تھا؟؟؟
محمدعلی!!!!!!

ھیروئین کون تھی؟؟؟
نیلو!!!!!!

اسکی اماں کون تھی؟؟؟
مینا شوری!!!!!

اچھا اس کی کچھ کہانی تو سناو،؟؟؟؟
کچھ یاد نہیں ھے پوری فلم ھم نے نہیں دیکھی تھی!!!!!!

چلو آج اسکول کے اندر، میں تم دونوں کو میں پوری فلم کی کہانی سناتا بھی ھوں اور ساتھ دکھاؤں گا بھی !!!!!!!!!!!!!!!!

جتنے تمھارے اچھے نام ھیں اور کرتوت تو سارے شیطانوں کی طرح ھیں!!!!

اسکول پہنچنے تک تو انہوں نے ھمارے کانوں کا تو حشر نشر کر ھی دیا تھا، کان بالکل شل ھوگئے تھے اور ساتھ ھی بہت دکھ رھے تھے، ھمیں تو اس تکلیف کا اتنا احساس تو نہیں تھا لیکن جو آگے سزا ملنے والی تھی اسکی زیادہ فکر لاحق تھی کہ نہ جانے کیا ھونے والا ھے !!!!

جیسے ھی اسکول پہنچے تو کیا دیکھتے ھیں پہلے ھی سے جن بچوں کو پکڑ کر لے گئے تھے، ان سب کو اسکول کے درمیان کے پارک میں مرغا بنایا ھوا تھا اور کوئی اگر بیٹھنے کی کوشش کرتا تو فوراً اسے پیچھے سے ٹھیک ٹھاک ایک ڈنڈے سے ٹھکائی ھوتی، یہ دیکھ کر تو ھماری سٹی ھی گم ھو گئی، آواز تو نکل ھی نہیں رھی تھی!!!!!

مگر اسکول کے اندر گھستے ھی کلاس ٹیچر نے ھمارے کان چھوڑ دئیے اور سیڑھیوں کے پاس ھمیں اپنی کلاس میں جانے کو کہا ھماری کلاس پہلے ھی فلور پر تھی، فوراً ھم دونوں بھاگے اور کلاس روم میں پہنچے تو کوئی بھی نہ تھا، سارے گیلری میں سے نیچے بچوں کو سزا ملتے ھوئے دیکھ رھے تھے، اور ھم دونوں نے بستے اپنی ڈیسک میں رکھے اور باھر گیلری میں آکر دوسروں کے ساتھ نیچے لڑکوں کا حشر دیکھنے لگ گئے، مگر ساتھ ساتھ اپنے اپنے کانوں کو سہلا بھی رھے تھے!!!!!!!

اور ھم دونوں حیران بھی تھے کہ ھمارے ساتھ اتنی مہربانی کیوں ؟؟؟؟

ھماری کلاس سے اس دن صرف ھم دونوں نے ھی آدھے دن کی چھٹی لی تھی اور وہ بھی اپنے کلاس ٹیچر کے کام ھی کی وجہ سے، انہوں نے کچھ ھمیں پیسے دیئے تھے کچھ باسمتی چاول کیلئے، جوکہ ھمارے ملٹری کوٹہ پر اس وقت والد صاحب کو کسی نہ کسی جان پہچان کی وجہ سے رعایتی دام پر اور اچھے قسم کے ملتے تھے، اور میں نے یہ کہہ کر چھٹی لی تھی کہ آج اسٹور جانا ھے اور آپکے لئےچاول لانے ھیں، اگر آپ اجازت دے دیں تو میں اپنے دوست کر لے جاؤں، تاکہ واپسی ہر کرائے کی سائیکل پر شام تک اسکول میں ھم دونوں چاول آپ تک پہنچادیں گے، شاید 10 سیر چاول تھے، اور ویسے بھی والد صاحب ھر ایک کی خدمت اسی طرح ھمیشہ کرتے ھی رھتے تھے، کیونکہ اس زمانے میں تمام راشن، جس میں آٹا، چاول، دالیں اور خاص کر چینی گھر کے ممبران کے مطابق بذریعہ راشن کارڈ ماھانہ کوٹہ کے صرف مخصوص گورنمنٹ کے راشن شاپس پر ھی ملا کرتا تھا اور ھمیں ملٹری کے کوٹہ پر کچھ زیادہ ھی مل جاتا تھا تو والد صاحب اکثر اسی بہانے سے بھی لوگوں کی ضرورتیں پورا کرتے رھتے تھے -

ماسٹر صاحب کے لئے اباجی نے چاول پہلے ھی سے لاکر گھر میں رکھے ھوئے تھے اور مجھے کہہ بھی دیا تھا کہ جب بھی موقعہ ملے تو انہیں پہنچا دینا یا انہیں کہہ دینا کہ گھر آکر خود لے جائیں، اور میں اس موقعہ کو کھونا نہیں چاھتا تھا، لیکن افسوس کہ ذرا سی ایک غلطی سے اس موقعہ کو فلم دیکھنے کے چکر میں وہ بھی نامکمل اور بےعزتی جو الگ ھوئی سو الگ، بے فضول ضائع کردیا، ویسے میری پلاننگ کبھی ضائع بےکار تو نہیں جاتی تھی، لیکن بس اس دفعہ مقدٌر نے ھم سے کچھ رخ ھی پھیر لیا تھا، اور فلم کے پیسے بھی اسی میں سے خرچ کردئے تھے، تاکہ کرائے کی سائیکل کے بجائے دونوں ملکر وہ چاول اٹھاکر اسکول تک پہنچا دیں گے،

اور وہ چاول ایسے تھے کہ اگر صرف جیب رکھ کر لے جاؤ تو جہاں جہاں سے گزرو گے اسکی مہک ساتھ ساتھ خوشبو بکھیرتی چلی جائے گی، اور اگر ایک گھر میں پک رھے ھوں تو پورے محلے میں پتہ چل جاتا تھا کہ آج کسی گھر میں یہ چاول پک رھے ھیں، اور یہ ھمارے ملک کے باسمتی چاول اب تک عام لوگوں کو دیکھنے کو بھی نہیں ملتے، کیا بات ھے میرے سوھنے دیس کی۔!!!!!!!!

فلم دیکھنے ھی کے لئے ھر ھفتے یا پندرہ دن کے اندر کوئی نہ کوئی ھم دونوں بہانہ تلاش کرلیتے تھے، مگر اس دفعہ نشانہ کچھ چُوک ھی گیا تھا، اور دوسری طرف ھمارے کلاس ٹیچر کو اس بات پر فخر بھی تھا کہ ان کی کلاس کے تمام لڑکے بہت ھی زیادہ لائق اور ھونہار ھیں اور پورے اسکول میں یہ بات مشہور تھی، مگر ھم دونوں نے ان کے اعتماد کو آخر ٹھیس پہنچا ھی دی، مگر پھر بھی کسی نہ کسی ظرح انہوں نے اپنے ساتھ ھماری عزت بھی رکھ لی ورنہ تو ھم دونوں بھی دوسرے لڑکوں کی طرح سب کے سامنے مرغے بنے ھوئے سزا پا رھے ھوتے،

بہرحال بڑی شرمندگی ھوئی، ویسے تو کبھی شرمندہ نہیں ھوئے کیونکہ ایسی حرکتوں میں تو ھم نے پہلے سے ھی “پی ایچ ڈی“ کیا ھوا تھا، لیکں اس دفعہ کچھ غیرت جاگی صرف اپنے کلاس ٹیچر کی وجہ سے جو واقعی بہت اچھے اور بہت مہربان بھی تھے، اور انہوں نے پہلے ھی تاکید کردی تھی کہ اپنے بارے میں کسی سے کچھ نہ کہنا، مگر پھر بھی کئی لڑکے، جنہیں اسی سلسلے میں سزا ملی تھی وہ بس اسی فراق میں لگے ھی رھے کہ ھم دونوں بھی تو فلم دیکھنے گئے تھے، ھم کیوں نہیں پکڑے گئے، کئی دفعہ انہوں نے ھمارے کلاس ٹیچر سے شکایت بھی لگانے کی کوشش کی لیکن انہوں نے انکو ڈآنٹ کر ٹال دیا!!!!!!!!!!!!!

اسی دن شام کو کلاس ٹیچر میرے گھر پہنچنے کے فوراً بعد ھی پہنچ گئے، میں ایک دفعہ پھر سہم گیا، اس سے پہلے ھی میں نے والد صاحب کو ان سے لئے ھوئے چاولوں کی قیمت کے پیسے دے چکا تھا، جو پیسے فلم میں خرچ ھوئے تھے، اسے والدہ سے کوئی اور بہانہ کرکے پورے کردئیے تھے، میں اس بات سے ڈر رھا تھا کہ کہیں ایسا نہ ھو کہ کلاس ٹیچر میری والد صاحب سے شکایت ھی نہ کردیں، میں بہت ڈرا ھوا اور سہما ھوا ان دونوں کے بیچ کھڑا تھا، اور کلاس ٹیچر میری والد صاحب سے شکایت کے بجائے تعریف ھی کررھے تھے بہت ھی اچھا محنتی اور لائق لڑکا ھے وغیرہ وغیرہ!!!!!!!!!

اور میں کچھ اور ھی سونچ میں لگ گیا کہ اب فلم دیکھنے کیلئے اور دوسری کونسی صورت اختیار کی جائے، کیونکہ یہ عادت بھی بہت بری طرح چپک گئی تھی !!!!!!!!!!
--------------------------------------------------
آجکل جو سیکنڈری اسکول کے واقعات جو سنا رھا ھوں، مجھے ان کا صحیح وقت اور تاریخ یاد نہیں ھے لیکن یہ1962 سے لےکر 1964 تک کے واقعات میں سے ھی ھیں، جب میں ساتویں اور آٹھویں جماعت میں زیر تعلیم تھا، اور جو جو مجھے واقعات یاد ھیں وھی آپ تک پہنچانے کی کوشش کررھا ھوں اور لازمی بات ھے کہ جہاں میں نے ڈائیلاگ لکھے ھیں وہ اس وقت کے حالات اور واقعات کی روشنی میں لکھے ھیں، کیونکہ مجھے وہ واقعات تو یاد ھیں لیکں ڈائیلاگ کی حقیقی ڈلیوری ایک تسلسل کے ساتھ زبانی یاد نہیں ھیں، مگر اسی طرح کے ملتے جلتے الفاظوں کو اسی وقت کے بالکل قریب ترین واقعات کی روشنی میں ضم کرنے کی کوشش ضرور کی ھے، تاکہ کہانی کا تسلسل اور دلچسپی برقرار رھے،

کہتے ھیں نا کہ شکرخورے کو شکر ضرور مل جاتی ھے، اسی طرح اپنے اس فلموں شوق کیلئے ایک نئے راہ ھموار ھوتی نطر آرھی تھی، کیونکہ اسکول سے بھاگ کر تو اب فلم دیکھنے کا راستہ تو بند ھی ھوگیا تھا، کوئی اب نیا راستہ تلاش تو کرنا ھی تھا!!!!!!!!

والدصاحب اب ریزرو فورس میں تو آگئے تھے، لیکن ان کا بلاوا کبھی بھی آسکتا تھا، اور وہ گھر آکر بہت دُکھی تھے، کہ اب کیا کیا جائے، اب ایک چھوٹی سی پنشن سے کیسے گزارا ھو، وہ اسی فکر میں لگ گئے تھے، دو تیں دن ھوگئے تھے کہ ایک دن اچانک ان کے ملٹری کے زمانے کے دوست گھر پہنچ گئے وہ ھمارے دور کے ایک رشتہ دار بھی تھے، اور ایک کسی بڑی کنسٹرکشن کمپنی میں کسی اچھی پوزیشن میں فائز بھی تھے -

آتے ھی وہ اباجی سے کچھ یوں مخاطب ھوئے ارے سیٌد بھائی تم نے مجھے کیوں نہیں بتایا کہ تم ملٹری سے فارغ ھوگئے ھو، اباجی نے جواباً یہ کہا کہ نہیں نہیں یہ بات نہیں ھے، شاید مجھے کچھ سول کام اسی جگہ پر مل ھی جائے، مگر انکے دوست نے کہا کہ ایسا کرو کہ کل ھماری کمپنی میں کچھ انٹرویوز ھونے والے ھیں، فوراً پہنچ جاؤ، تمہارا کام ھوجائے گا، شاید اکاونٹس کلرک کی جگہ خالی تھی، یہاں ملٹری میں بھی وہ حولدار کلرک کے عہدہ پر ھی فائز تھے -

دوسرے دن والد صاحب وھاں پہنچ گئے، انہوں نے بعد میں آکر بتایا کہ وہاں پر تو بہت رش تھا مشکل ھے کہ سلیکشن ھو جائے، لیکن شام کو وہی دوست جنکا نام غالباً نقوی صاحب ھی تھا، گھر پہنچ گئے، وہ اس کمپنی کے اُس وقت ایڈمن آفیسر تھے، آتے ھی انھوں نے خوشخبری سنائی کہ سیٌد بھائی کل سے ڈیوٹی پر آجانا اور تقرری کا خطابی لیٹر، لفافے سمیت انہیں تھما دیا، جس میں تنخواہ کے ساتھ ساتھ کمپنی کے قواعدوضوابط تحریر کئے ھوئے تھے، تنخواہ شاید اس وقت 175 روپے تھی اور ساتھ ھی اؤرٹائم کا بھی کچھ ذکر خیر تھا -

دیکھئے اللٌہ تعالیٰ کی شان کہ ایک در بند ھوا تو اس نے دوسرا در فوراً کھول دیا، وہ فرشتہ صفت انسان اب اس دنیا میں نہیں ھیں لیکن والد صاحب انکے لئے آخری وقت تک دعائیں کرتے رھے، اور ساری زندگی ان کی خدمت میں بھی گزاردی اسکے علاوہ وہ ایک سگے بھائی سے بھی زیادہ ان کاحق ادا کیا اور اپنا فرض نبھایا، ان کے دوست کہہ لیں یا رشتے میں چچازاد بھائی کہہ لیں، والد صاحب کے لئے تو وہ فرشتہ رحمت ھی بن کر آئے تھے، نقوی صاحب کو کسی اور ذریئے سے معلوم ھوا تھا کہ سید صاحب آج کل فوج سے فارغ ھوگئے ھیں، اور وہ یہ سنتے ھی دوڑے دوڑے گھر چلے آئے، اللٌہ کی شان ھے -

اس دن مجھے اچھی طرح یاد ھے کہ انکی خوشی کا ٹھکانہ نہیں تھا اور سب کو وہ اپنا کمپنی کی طرف سے جاری کردہ تقرری کا خط خوشی خوشی دکھاتے پھر رھے تھے اور بازار سے مٹھائی لاکر سب کو بانٹی بھی تھی، اور کافی اسی سلسلے میں دعوتیں بھی ھوئیں،

اور اب آپ لوگ کہیں گے کہ بات ھورھی تھی شکرخورے کی شکر کی اور یہ دوسرا موضوع کہاں سے آٹپکا، مگر میرے بھی ایک شوق کا راستہ گل ھوا تو ساتھ ھی ایک دوسرا موقعہ ھاتھ لگ گیا، جو اسی واقعہ کے ساتھ ھی کچھ ایسا لنک بناتا ھوا شروع ھوا کہ کافی عرصہ تک چلا اور چلتا ھی چلا گیا،!!!!!!!
----------------------------------------------------------
جنہوں نے اباجی کو نوکری دلا کر ان کی نظر میں جہاں ایک محسن بن گئے وہاں وہ میرے لئے بھی ایک بڑے کرم فرماء ھو گئے، اب ھر اتوار کو صبح چھٹی کے روز مجھے ان انکل کے گھر کچھ نہ کچھ اباجی کی طرف سے تحفہ یا نذرانہ لے کر جانا پڑتا تھا، حالانکہ انہوں نے کئی دفعہ منع بھی کیا لیکن اباجی بضد تھے، اور میرے لئے تو انکی ضد ھی میرے سینما کے شوق میں مزید اضافہ کا باعث بن گئی - ان صاحب نے اباجی کو گھر پر اور دفتر میں بھی کافی ناراضگی سے بھی منع کیا بس والد صاحب کا ایک ھی جواب ھوتا کہ میں تمھارا بڑا بھائی ھوں اور اور یہ میرا فرض ھے، اور یہ بچوں کے لئے ھے بس، وہ بھی گھر آکر اسی طرح تحائف کا تبادلہ بھی کرتے تھے، جو میرے لئے ایک اور ڈبل خوشی کا باعث بن جاتا، والد صاحب کو بھی وہاں ھر ھفتہ والے دن جو ھاف ڈے ھوتا تھا اس دن دفتر میں بھی اچھا خاصہ اورٹائم بھی لگ جاتا تھا اور دیر تک بیٹھنے پر انہیں اس وقت لنچ ڈنر کا خرچ اور ٹیکسی کا کرایہ دفتر سے گھر تک نقد بھی مل جاتا تھا !!!!!!

والد صاحب شاید انہیں پیسوں میں سے جو لنچ، ڈنراور کنوینس کے نقد ملتے تھے، یہ تحفے تحائف چھٹی سے ایک دن پہلے ھی سے لاکر، میری ذمہ داری میں سونپ جاتے یا کبھی کبھی اسی دن مجھے بازار سے دلادیتے تھے، اور پہلی بس میں مجھے سوار کراکے گھر واپس چلے جاتے پہلے دن تو مجھے ان کا گھر ڈھونڈنے میں کچھ تھوڑی سی مشکل پیش آئی، لیکن اس مشکل سے ایک فائدہ یہ ھوا کہ وہاں انکے گھر کے نزدیک ھی ایک سینما ھال سے شناسائی ھوگئی، جہاں ھر ھفتہ ایک نئی فلم لگتی تھی -

بس پھر کیا تھا کہ وقت کی ایسی پلاننگ کی تھی کہ، اتوار کو چھٹی والے صبح دس بجے کے وقت گھر سے نکلتا اور ان انکل کی امانت انکے گھر پہنچا کر جیسے ھی سینما حال کی طرف بھاگتا تو وہاں پرصبح گیارہ بجے کا مارننگ شو کے ٹکٹ کی کھڑکی کھلنے والی ھوتی یا چند منٹ باقی ھوتے، مگر میں تو ھمیشہ بلیک سے ھی بغیر لائن میں لگے ھوئے ٹکٹ خریدتا تھا، کیونکہ اتننا وقت ھوتا نہیں تھا کہ لائن سے ٹکٹ خرید سکوں، اس وقت وھاں پر چھ آنے کا ٹکٹ بلیک میں آٹھ آنے کا آسانی سے مل جاتا تھا،

مجھے والد صاحب راستے کیلئے، بس کا کرایہ اور کھانے پینے کیلئے ھمیشہ ایک روپیہ ضرور دیتے تھے لیکن کبھی حساب کتاب نہیں لیا، وہ بھی خوشی سے مجھے کہتے کہ جو بھی پیسے بچے وہ تمھارے ھوئے، بس کے کرائے میں آنے جانے تک کے کبھی چھ آنے تو کبھی آٹھ آنے لگ جاتے تھے، اور آٹھ آنے کا سینما ٹکٹ اور اگر دو آنے کا کوئی بند کباب خرید کر اپنی بھوک کو مٹاتا تھا ورنہ تو سینما کیلئے بھوک بھی قربان، اور تقریباً دوپہر کے ڈیڑھ بجے تک فلم ختم ھوجاتی، واپسی پر بھاگتا ھوا بس اسٹاپ پر پہنچتا، اور ایسی بس کے روٹ کو پکڑتا کہ مجھے دوسری بس کے روٹ پر پہنچنے میں آسانی ھو، اس طرح میرا آدھا گھنٹہ بج جاتا، ٹھیک دو یا سوا دو بجے تک میں گھر پر ھوتا، گھر آتے ھی ابا جی پوچھتے کھانا کھا لیا، میں جواباً یہی کہتا کہ ھاں کھا لیا، مگر بھوک تو سخت لگ رھی ھوتی، دو آنے کا بندکباب آخر کب تک پیٹ میں رہ سکتا تھا، کبھی کبھی تو وہ بھی پیسوں کی کمی کے سبب کھا بھی نہیں سکتا تھا، لیکن میں کسی نہ کسی طرح اماں سے کہہ کر کوئی نہ کوئی بہانہ کرکے دوپہر کا بچا ھوا کھانا یا بےچاری میری خاطر کچھ نہیں تو انڈا ھی پراٹھے کے ساتھ تل لاتیں تھیں اور ساتھ میرے باقی بہں بھائی بھی شریک ھوجاتے تھے،

حالانکہ انکل اور آنٹی دونوں بہت ضد کرتے کہ کچھ کھا پی لو لیکن میں کہتا کہ بہت مشکل ھے پیٹ بھرا ھوا ھے، ناشتہ بہت زیادہ کرلیا تھا اب گنجائش نہیں ھے، کیونکہ اس وقت مجھے سینما کے تاخیر سے پہنچنے کی فکر زیادہ ستا رھی ھوتی تھی، اس بات کا بھی کسی کو پتہ نہ چل سکا،

مگر سوچنے کی بات یہ تھی کہ اباجی نے اس بات پر کبھی غور کرنے کی کوشش نہیں کی کہ آنے جانے میں چار گھنٹے انکے صاحبزادے کہاں لگاتے تھے؟؟؟؟؟؟؟؟

اس دور کی تمام نئی فلم میری نظروں سے بچ نہیں سکیں اور یہ کافی عرصہ تک چلا جبتکہ ان انکل کا وہاں سے تبادلہ نہیں ھوگیا ان کا تبادلہ کیا ھوا اپنے شوق کا بھی تبادلہ ھوگیا !!!!!!!!!!!!!!
-----------------------------------
فلم دیکھنے اور گھومنے پھرنے کا تو واقعی مجھے جنون کی حد تک شوق تھا، فلموں کا شوق تو آہستہ آہستہ فلموں کے معیار کا پیمانہ گرتے ھی کم ھونا شروع ھوگیا تھا، لیکن گھومنے پھرنے کا شوق اب تک رھا ھے اور وہ بھی اب عمر کے ساتھ ساتھ ختم ھوتا جارھا ھے -

یہی وجہ تھی کے اس وقت پڑھائی کی طرف دھیان بہت کم ھوگیا تھا، اگر میں چاھتا تو کچھ تھوڑا بہت بھی پڑھائی کی طرف راغب ھو کر اچھے نمبروں سے آٹھویں جماعت میں کامیاب ھوسکتا تھا، اور مزید مشکل یہ کہ امتحانات کے دنوں میں مجھے ٹائیفایڈ ھوگیا تھا، جس کی وجہ سے والد صاحب نے میرے اس خراب نتیجہ کی طرف کوئی توجہ نہیں دی، وہ یہی سمجھے کہ اس بیماری کی وجہ سے ھی میں اتنے اچھے نمبر نہ لاسکا،

ویسے اس دفعہ بہت شرمندگی بھی محسوس ھوئی جو میری ملکہ باجی نے خوب شرم دلائی، کیونکہ وہ ایک میری رازداں بھی تھی اور وہ میری تمام اچھی بری عادتوں کو جانتی بھی تھیں، انہوں نے مجھے کافی حد تک سدھارنے میں کافی مدد کی، یہ ھر اتوار کی چھٹی والے دن جو میں چار گھنٹے اپنے کام کے ساتھ فلم بھی دیکھ کر آتا تھا اسکا علم ملکہ باجی کو بھی نہیں تھا لیکن ان کو شک ضرور تھا کہ میں فلم دیکھ کر ھی آتا ھوں،

بہرحال جب نویں کلاس میں پہنچا تو یہ سنڈے بازار کی مہم کا خاتمہ تو ھو ھی چکا تھا، اور کچھ میں بھی تقریباً ایک سال تک یہ ذمہ داری اٹھاتا اٹھاتا تھک بھی چکا تھا، اور اب یہ دل میں ٹھان لیا تھا کہ میں اب پڑھائی کی طرف توجہ زیادہ دو‌ں گا، اور ملکہ باجی سے یہ بھی قسم کھائی تھی کہ اس دفعہ اچھے نمبر لاؤنگا اور انہوں نے بھی اس میں میری کافی مدد کی، فلم دیکھنے کیلئے انہوں نے مہینے میں ایک دفعہ کی اجازت بھی دے دی، اور وہ مجھے اور ان کی چھوٹی بہن زادیہ کے ساتھ مل کر پڑھائی میں کافی مدد کرتی رھیں-

اور روز کے معمولات جیسے گھر کا پانی بھرنا، سودا لانا اور دوپہر سے اسکول وغیرہ، میں کوئی خاص کمی نہ آئی، صرف پڑھائی کی طرف کچھ زیادہ ھی توجہ ھوگئی، اس کے علاوہ کھیلنے میں تو بالکل کمی ھی کردی تھی، اور اس دفعہ نویں جماعت جو بورڈ کےچار پیپر کے ھی امتحانات میں بیٹھنا تھا اور باقی پانچ یا چھ پیپر میٹرک میں دینے تھے اور آرٹس گروپ تھا کوئی اتنا مشکل بھی نہ تھا، دل میں تو گرہ باندھ ھی لی تھی کہ ساری کوششیں اچھے نمبروں کو حاصل کرنے میں لگادی جائیں اور ھم تینوں کے اس طرح پڑھنے سے خاص طور پر والدین بہت خوش تھے کہ چلو اب ھمارا بیٹا کچھ تو محنت کرے گا باقی بہن بھائی بھی اپنی اپنی کلاسوں میں اچھا ھی پڑھ رھے تھے-

آخر وہ امتحانات کے دن بھی سر پر آپہنچے، اس دفعہ چاروں مضامین میں اچھے نمبر لے آیا والد صاحب بہت خوش ھوئے اور اس کا سہرا ھماری باجی کے سر تھا، سب لوگ خوش تھے، اور میں اس محلے کا پہلا لڑکا تھا جو اس سال میٹرک میں پہنچ گیا تھا اور اس وقت تو اپنی بڑی واہ واہ تھی، اور یہی کوشش میں نے میٹرک کے وقت بھی وھی رکھی، اور بلکہ کچھ اور اپنی محنت میں مزید کچھ ضرورت سے زیادہ ھی اضافہ کردیا-

دن تیزی سے گزرتے جارھے تھے اور سارے کا سارا دھیان بالکل پڑھائی کی طرف تھا، بس کبھی کبھی مصوری کا شوق کسی نہ کسی کی تصویر بنانے پر مجبور کردیتا اور جسکی رھنمائی بھی یہ دونوں بہنیں بھی کرتی تھیں، اور اب ھم تینوں نے زیادہ تر وقت پڑھائی کی طرف لگانا شروع کردیا اور میں اور باجی ھی اس وقت میٹرک کا ھی امتحان دے رھے تھے اسکول بھی ایک ھی تھا اور زادیہ نویں کلاس میں تھی، یہ خود اب مجھے تعجب ھورھا ھے جب میں ساتویں میں تھا تو بڑی مجھ سے ایک سال آگے تھی اور چھوٹی ایک سال پیچھے تھی، لیکن تعجب کی یہ بات ھے کہ میٹرک کے سالانہ امتحان باجی اور میں ایک ساتھ دے رھے تھے، صرف زادیہ ھی ایک سال پیچھے تھی کچھ ھوسکتا ھے کہ یادداشت میں فرق ھوگیا ھو ، یا باجی ھی ایک کسی کلاس میں رہ گئی ھوں یا ایک سال ویسے ھی ضائع ھوگیا ھو-

1965 کا زمانہ میٹرک کے امتحانات کے دن، میری 15 سال کی عمر ھوگی، ھم تینوں نے بہت محنت کی اور میں نے تو بالکل شرارتوں کی طرف سے بالکل ھاتھ ھی کھینچ لیا اور سنجیدگی اختیار کرلی، جبھی کوئی اور ایسا واقعہ بھی یاد نہیں آرھا تھا جس کے سنانے سے کوئی دلچسپی ھو اور کہانی آگے بڑھے، بس وہ اتنی جلدی سالانہ امتحانات کے دن بھی آگئے اور واقعی جو محنت کی تھی اس سے امید بھی تھی کہ اچھے نمبر آئیں گے مگر یہ بورڈ کے امتحانات تھے، کچھ ڈر بھی لگ رھا تھا -

امتحانات سے فارغ ھونے کے بعد ھمارے اسکول میں ایک میٹرک کے طلباء کے رخصت ھونے کی الوداعی پارٹی نویں جماعت کے لڑکوں نے دی جو ھمیشہ سے دستور رھا ھے، اور سب دوستوں کو اس اسکول سے جدا ھونے کا بہت دکھ ھورھا تھا، لیکن دوسری طرف کالج میں جانے کی خوشی ھو رھی تھی -

آخر وہ دن بھی آگیا جس کا بےچینی سے انتطار تھا، میں بھی اپنے دوستوں کے ساتھ جو اخبار لئے اپنے اپنے رول نمبر کی تلاش کررھے تھے، سب تو سیکنڈ ڈویژن میں پاس ھوگئے تھے لیکن میرا رول نمبر نظر ھی نہیں آرھا تھا تھرڈ ڈویژن کے کالم میں بھی دیکھا کچھ نظر نہیں آیا میرے دوست بھی پریشان اور میرا تو دماغ خراب ھو گیا کہا کہ یہ تو ھوھی نہیں سکتا اگر سیکنڈ ڈویژن نہ سھی مگر تھرڈ ڈویژن میں تو پاس ھونا ھی چاھئے تھا-

اسی پریشانی میں، میں تو گھر بھی نہیں گیا اور اپنی قسمت کو کوستا ھوا اسی چوراھے کے پارک میں جاکر بیٹھ گیا جو میرا شروع سے اچھے اور برے وقت کا ساتھی رھا ھے!!!!!!!!!!!!!‌

میں پھر ایک نئی پریشانی کا شکار ھوگیا تھا، کہ اس دفعہ اتنی محنت کرنے کے باوجود ایسا کیسے ھوگیا، مجھے ویسے پکا یقین تھا کہ کہیں کوئی غلطی ضرور ھے، میں اسی سوچ میں بیٹھا تھا کہ دیکھا میرا ایک اور دوست سڑک کے دوسری طرف سے مجھے آوازیں دے رھا تھا، میں فوراً اٹھا اور جلدی سے سڑک عبور کرکے اسکے پاس پہنچا، اس نے کہا کہ تم نے اپنا رزلٹ دیکھا میں نے کہا کہ ھاں یار میں تو فیل ھوگیا، کس نے کہا کہ تم فیل ھوگئے دیکھو میرا اور تمھارا دونوں کے رول نمبر ساتھ ساتھ سیکنڈ ڈویژن کے کالم میں چھپے ھوئے ھیں، مبارک ھو، میری تو خوشی کا ٹھکانہ ھی نہ رھا، میں فوراً بھاگتا ھوا گھر پہنچا وھاں پر تمام محلہ ھی اکھٹا ھوا تھا اور سب ھمارے گھر والوں کو مبارکباد دے رھے تھے!!!!!!

میں فوراً مٹھائی لینے بازار بھاگا مگر پہلے ان دوستوں کے پاس دوسرے محلے میں بھاگا اور انہیں پکڑ کر پوچھا کہ تم نے میرا رزلٹ کیسے دیکھا کہ مجھے تو پریشان ھی کردیا، انہوں نے پھر وھی اخبار میں دوبارہ چیک کیا تو دیکھا کہ سیکنڈ ڈویژن کے بقایا نتائج دوسرے صفحے پر تھے، شکر ھے ایک بہت بڑا ایک اور دھچکا لگتے لگتے رہ گیا!!!!!!!

میرا تو خوشی کے مارے برا حال تھا، ملکہ باجی بھی سیکنڈ ڈویژن میں پاس ھوگئی تھیں اور زادیہ تو اب شاید میٹرک میں پہلے ھی پہنچ چکی تھی، ھم سب خوشیوں سے لبریز اچھلتے کودتے پورے محلے میں یہ خوشخبری سناتے پھر رھے تھے!!!!!!!!
-------------------------------------
جاری ھے،!!!!

عبدالرحمن سید
30-01-10, 07:54 PM
میرا تو خوشی کے مارے برا حال تھا، ملکہ باجی بھی سیکنڈ ڈویژن میں پاس ھوگئی تھیں اور زادیہ تو اب شاید میٹرک میں پہلے ھی پہنچ چکی تھی، ھم سب خوشیوں سے لبریز اچھلتے کودتے پورے محلے میں یہ خوشخبری سناتے پھر رھے تھے!!!!!!

ادھر ھمارے سیکنڈری اسکول میں میٹرک کا دور ختم ھوا اور ادھر جنگ کے آثار شروع ھوگئے، والد صاحب کا بھی ملٹری سے بلاوا آگیا، وہ بھی کمپنی سے مختصر چھٹی لے کر چلے گئے، سب نے انہیں بڑی گرم جوشی سے رخصت کیا، بہرحال جنگ ختم ھوئی اور ساتھ ھی والد صاحب بھی واپس آگئے اور پھر سے جنگ کے پعد زندگی معمول پر آگئی،

سیاست اور ملکی معشیت پر کیا اثر پڑا اس کا اس وقت تو اندازہ تو نہیں تھا اور نہ ھی عام لوگوں میں کوئی اتنی سیاست کی سمجھ بوجھ تھی، لیکن عام تاثر یہی تھا کہ 1965 کے بعد ملکی حالات میں کافی تبدیلیاں آئیں، مہنگائی کا دور آہستہ آہستۃ پروان چڑھتا چلا گیا، مگر اس کے تناسب سے آمدنی میں اضافہ نہیں ھوا، جس کی وجہ سے ملک میں کرپشن، رشوت اور بلیک میلنگ کا دور بھی چھوٹے پیمانے سے بڑھ کر بڑے پیمانے میں داخل ھوگیا 1971 کے جنگ کے بعد تو برائیوں کی جڑیں اور بھی مضبوط ھوگئیں، اور اب تک اس طرح جاری ھے، مگر جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ!!!!!!!!!

کسی چیز پر کوئی کنٹرول نہیں رھا، لوگوں کا صبر ختم ھوگیا، حرص اور ھوس، تعصبیت، حسد اور لالچ لوگوں کی نس نس میں گھستی چلی گئی، لاقانونیت بڑھتی چلی گئی، اور نشہ کا زھر شراب، چرس، افیوں کے بعد ھیروین اور دوسرے خطرناک جان لیوا منشیات کا کاروبار سرعام ھونے لگا، اور اب ھر گلی کوچے میں کہیں نہ کہیں یہ زھر پھیلانے کے اڈے بڑے بڑے اثر رسوق کی پشت پناھی اور سرپرستی میں چل رھے ھیں، ان تمام وجوھات کی بناء پر ھماری تین نسلیں اس کا بری طرح شکار ھوئی ھیں، اب ھم خود اس بات سے اندازہ لگا سکتے ھیں کیا کبھی ھماری نوجوان نسلوں کو اس طرح کے حالات میں اپنے پیروں پر کھڑا ھوکر اپنے ملک کا نام روشن کرنے کا موقع ملے گا -

اب بھی ھمارے پاس موقعہ ھے اب ھم اپنی آنے والی چوتھی نسل کو اس سے بالکل بچا سکتے ھیں، یہ ھماری ھی اولاد ھیں ھمارے ھی جگر کا ٹکڑا ھیں، اب بھی ھمیں اپنے چند روپوں کی لالچ میں آکر انکے مستقبل کو برباد کرنے پر تلے ھوئے ھیں، آج آپ صرف یہ سوچ لیں کہ ھم جس لڑکے اور لڑکی کو غلط راستے پر ڈال رھے ھیں، ھوسکتا ھے کہ کل کو آپ کے بیٹے یا بیٹی کو بھی کوئی اسی طرح غلط ماحول سے آشنا کراسکتا ھے،

اور ھم جو اتنی بڑی بڑی معاشرے کی برائیوں کو روکنے کیلئیے تقریریں کرتے ھیں اور بڑے بڑے اجتمعات میں جاتے ھیں، لمبے لمبے مباحثوں میں نیک کاموں کیلئے شریک ھوتے ھیں،
کیا ھم یہ کوششیں اپنی گلی اور محلے میں ان خرافات اور برائیوں کو روکنے کیلئے کوئی مل جل کر قدم اٹھا نہیں سکتے،؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟

کیا ھم یہ کوشش اپنے گھر سے شروع نہیں کرسکتے؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟

ایک واقعہ چند محلے کے معزز حضرات نماز پڑھنے جارھے تھے، اور انہوں نے اپنی گلی میں ھی ایک بچے کو ایک غنڈے سے نہ جانے کس بات پر بری طرح مار کھاتے ھوئے دیکھا اور وہ معزز حضرات بغیر کسی مداخلت کئے ھوئے آگے اپنے آپ کو بچاتے ھوئے مسجد کی طرف بڑھ گئے اور کسی کے پوچھنے پر یہی کہا کہ نماز کو دیر ھورھی ھے اور پھر ھم شریف لوگ ھیں، پولیس کچہری کے چکر میں نہیں پڑتے، محلہ کا بچہ اور محلہ کا ھی غنڈہ، کیا کسی مضلوم کی کی کسی ظالم کے پنجے سے جان چھڑانا ایک جہاد نہیں ھے، اس کا مطلب ھے کہ آپ کو اللٌہ کے آحکامات سے زیادہ آپکے محلے کے اس اکیلے غنڈے سے ڈر لگتا ھے -

کسی نہ کسی محلے اور اسکی گلی میں پان کی دکان ھو یا کوئی چھوٹی سی نکڑ پر دکان ھو کہیں نہ کہیں یہ نشے کی زھر کا سامان کسی نہ کسی شکل میں بکتا ھے اور ھم تمام جو معزز لوگ کہلاتے ھیں، ان کو اس بارے میں پتہ بھی ھے اور ایک کونے میں پولیس کی موبائیل بھی کھڑی ھے، اور ان دکانوں سے کیا؟؟ آپ کے بچے گھروں میں چوریاں کرکے اپنے نشے کی عادت کو پورا نہیں کرتے ھیں،؟؟ اگر گھر میں چوری نہ کرسکیں تو یہی آپکے بچے مجبور ھوکر اسی دکان پر لوگوں کی جیبوں پر ھاتھ صاف کرتے ھیں اور نقدی کے علاوہ موبائیل سیل بھی سب کی نظروں کے سامنے سے اڑا لے جاتے ھیں، یہاں پر وہ جہاد کا فلسفہ کہاں چھپ جاتا ھے، ھر برائی کو ختم کرنا بھی ایک جہاد ھے، مگر ھم سب ملکر سڑکوں پر گھیراؤ اور جلاؤ کرنے تو نکل آتے ھیں، مگر کبھی اکھٹا ھو کر ان برائیوں کو روکنے کیلئے سامنے نہیں آتے، ارے بھائی یہ بھی تو جہاد ھے، چار پانچ آدمی اپنے ھی محلے میں چھوٹی سی برائی کو ختم کرنے کیلئے ایک بدمعاش کا مقابلہ نہیں کرسکتے اور بڑی بڑی باتیں کرتے ھیں اسلام کو بچانے کی، !!!!!!!!

آج کل ھم جیسے لوگ 1965 کے بعد ھی سے اپنے ملک کو چھوڑ کر باھر کا رخ کرنے لگے، پہلے کبھی پاسپورٹ بنانا بہت مشکل تھا، لیکن آنے والی حکومتوں نے پاسپورٹ کا اجراء کچھ آسان کردیا ایجنٹوں کا دھندہ سرعام ایک اور نشہ کی طرح پھیلتا گیا کئ معصوم شریف لوگ ان ایجنٹوں کے چکر میں آکر لاکھوں روپیہ اپنے گھر کے زیورات مکانات اور جو بھی چھوٹی موٹی جائیداد تھی وہ بھی بیچ کر ان کی جیبیں بھریں اور جائز ناجائز طور سے دوسرے ملکوں میں کمانے کی غرض سے داخل ھوئے اور اب تک اسکی سزا بھگت رھیں ھیں، اور پھر بھی کوئی اثر نہیں ھوتا، اب بھی چلے آرھے ھیں اور یہاں بیٹھ کر پچھتا بھی رھے ھیں،!!!!!

معاف کیجئے گا کچھ جذباتی ھوگیا ھوں، نہ ھم اپنے لئے کچھ کرسکے اور نہ ھی اپنے ملک کا کچھ نام کے آگے کوئی اسٹار لگا سکے، بچوں کی فکر میں کہ وہ وھاں کوئی غلط صحبت یا کسی بری لت میں نہ پڑ جائی اور بیویوں کی جدائی بھی برداشت نہ کرتے ھوئے کافی روپیہ مزید خرچ کرکے سب کو یہاں بلوا بھی لیا، اب یہ صورتحال یہ ھے نہ اپنے گھر کے رھے اور نہ گھاٹ کے رھے، نہ کوئی پیسہ بچا سکے جس نے بھی کچھ بھیجنے کی کوشش کی یا ضرورت کے تحت بھیجا بھی تو وہاں کسی اور محسن کے قبضے میں چلا گیا یا کسی کے ساتھ کاروبار میں لگا کر بندہ برباد ھو گیا اور اگر خود گیا تو گھر پر پہنچنے سے پہلے ھی لٹ گیا ورنہ گھر پر ھی ڈاکہ پڑنے کی اخبار میں سرخی لگی ،

اب جب بھی اپنے ملک جاتے ھیں، تو بالکل ایک مہمانوں کیطرح سلوک ھوتا ھے اپنائیت کے بجائے ایک اجنبئیت محسوس ھوتی ھے، اور ڈرتے رھتے ھیں کہ کسی کو اپنے گھر میں ھی پتہ نہ چل جائے کہ ھم لوگ باھر سے آئیں ھیں اور وہاں کے لوگ بھی اب ھم سے اتنا ڈرتے ھیں کہ رات کو ھم کہیں رک نہ جائیں کیونکہ اگر کسی مخبر کو پتہ چل گیا تو کہیں ایسا نہ ھو کہ ڈاکہ بھی پڑے اور اخبار میں تصویروں کے ساتھ لوگوں کا مجمع بھی گھر پر تعزیت کیلئے لگا رھے!!!!!!!!!!!!!!!!!

ھم جیسے کئی ایسے بھی ھیں کہ بڑے ھونے کے ناتے تمام گھر والوں کی ذمہ داریاں اپنا فرض سمجھ کر نبھاتے رھے، جب سب بہن بھائی بڑے ھوگئے اور اپنی اپنی تعلیم پوری کرکے، اپنے اپنے روزگار اور گھروں کے ھوگئے، ملنا تو چھوڑیں، سلام دعاء سے بھی گئے، اور جو کچھ والدیں کا بچا کھچا اثاثہ تھا، خریدوفروخت کرکے یہ کہہ کر ھضم کر گئے کہ آپ کو کیا کرنا ھے آپ تو باھر ھیں آپ کے پاس تو کافی مال ھوگا،

اب ھماری باری آئی ھے کہ اب ھمیں کسی سہارے یا مدد کی ضرورت ھے، تو سب نے اپنے اپنے منہ موڑ لئے، مگر اب بھی ایسے خدا ترس لوگ موجود ھیں، جو واقعی ھم لوگوں کی حالت کو جانتے ھیں وہ اب بھی ھماری ھر لحاظ سے دل کھول کر مدد کرتے ھیں، جبکہ وہ اپنے ملک میں ھیں، اور اب ھمیں اپنے حال پر شرمندگی ھوتی ھے کہ ھم یہاں پر ھوکر بھی اپنے لئے، اپنے بچوں کے لئے کچھ نہیں کرسکے، کئی بچوں کی تعلیم ھی ادھوری رہ گئی، اور جب چھٹی جاتے ھیں اور واپسی پر پھر ایک اور سال بھر کا قرضہ چڑھا کر آجاتے ھیں اور پھر سال بعد جب پہلا قرضہ ختم ھوجاتا ھے تو پھر سے چھٹی جانے کی تیاری کرتے ھیں،

اسی گردش میں اپنی ساری عمر تمام ھوگئی، لیکں پھر بھی اللٌہ کا شکر ھے کہ بات اب تک بنی ھوئی ھے،!!!!!!!!!!!!!!!!!

بس کبھی کبھی دل اداس ھوتا ھے تو دل کی ساری بھڑاس نکال لیتا ھوں، ورنہ ھم لوگ کیا کرسکتے ھیں، ھم نے تو خود اپنے پیروں تلے گڑھے کھود رکھے ھیں، ھم نے اپنے بچوں کا مستقبل خود اپنے ھاتھوں سے ھی تباہ کردیا ھے، یہلی نسل کو تو سوچنے کا موقعہ ھی نہ ملا، دوسری نسل کو برے معاشرے نے ھاتھوں ھاتھ لے لیا جب تیسری نسل سامنے آئی تو وسائل کی کمی کا شکار ھوگئی، جس کا ذمہ دار وہ ھمیں ٹہراتی ھے!!!!!!!!

اب ھم اپنا کیا بتائیں کہ ھم نے بھی ڈر کے مارے اپنے ملک کو اس وقت چھوڑا جس وقت ملک کو ھماری سخت ضرورت تھی، ھمارے ملک کے اچھے اچھے ٹیلنٹڈ ھنر مند لوگوں نے اپنی اپنی ساری ایمانداری اور محنت اپنے ملک میں انجام دینے کے بجائے دوسرے ملکوں میں جاکر ان کو فائدہ پہنچایا اور ساتھ اپنے پورے خاندان در خاندان کو بھی ساتھ لے گئے، ھماری سونا جیسی اگلتی زمینوں کو تقسیم کرکے، کچھ بیچ کر ایسے لوگون کے ھاتھ فروقت کر آئے جنہوں نے اس پر ہل کے بجائے بلڈوزر پھرواکر کالونیاں اور بلند و بالا اسٹینڈرڈ کی سوسائٹیاں بنانے اور جوکچھ بچی تھیں وہ ان معصوم کسانوں سے انہیں کی زمینوں پر ہل جتوا کر انکے پرکھوں کا قرضہ اب تک وصول کررھے ھیں،

پھر بھی ھمارے کے کچھ محنت کش کسان سارا سال محنت کرتے ھیں لیکن ان کی یہاں پھر بھی فاقے ھی فاقے ھیں، ان کی محنت کا اصل سرمایہ تو بڑی بڑی تجوریوں میں بند ھے، بڑے بڑے ذخیرہ اندوزوں کے محلات میں ائرکنڈیشنڈ گوداموں میں بند ھے جو مصنوعی قلت پیدا کرکے مال کو آہستہ آہستہ اپنے گوداموں سے نکال کر بلیک میں بیچتے ھیں یا اسمگل کردیتے ھیں اور صارفین کے ھاتھوں تک پہنچتے پہنچتے ان کی قیمتیں دس، بیس گنا بڑھ جاتی ھیں،

ھمارے ملک میں کھیتوں کے کھیت، اور پھلوں اور سبزیوں کے باغوں کے باغ جن پر کسانوں نے دن رات محنت کرکے فصلوں کو سبزیوں اور پھلوں کو تیار کرتے ھیں وہ صرف چند ھی لمحات میں اور تھوڑی سی رقم کی عوض وہ زبردستی نیلام ھوجاتے ھیں، کسان اپنی مرضی سے اپنے ھی ھاتھوں سے اُگایا ھوا مال اپنے ھاتھوں سے مارکیٹ میں نہیں بیچ سکتا اور نہ ھی تھوک مارکیٹ میں مال لے کر داخل ھوسکتا ھے-

کبھی ھمارے سیاست دانوں نے ان حالات کی ظرف بھی غور فرمایا ھے کہ جس ملک کی معیشیت ھی مکمل طور پر زراعت پر منحصر ھے، وہ کس طرح بے چینی کا شکار ھے ھم اگر اپنے وطن سے ذرا سا بھی مخلص ھوں تو اپوزیشن میں بھی رہ کر اپنے وطن کے تمام مسائل کو بہت اچھی طرح حل کیا جاسکتا ھے، مگر افسوس اس بات کا ھے ھر چاھے کسی بھی اسمبلی کا ممبر ھو یا حکومت کا نمایندہ ھو اپوزیشن میں ھو یا اقتدار میں ھو، جو بھی الیکشن میں جیت کر اپنی اس سیٹ پر بیٹھ کر پورے ملک کے عوام کی ترجمانی کرتا ھے، سب سے پہلے تو وہ یہ سوچتا ھے کہ جتنا مال روپیہ پیسہ الیکشن میں لگایا ھے اسے کم سے کم ڈبل تو کرلیا جائے پھر ملک کے بارے میں سوچیں گے، اسی دوران حکومت ھی ختم ھوجاتی ھے یا اسمبلی ھی ٹوٹ جاتی ھے، ایک بھوکے کا پیٹ بھرتا ھی نہیں تو دوسرا اپنا پیٹ خالی لئے کھڑا ھوتا ھے،

اس سیاست داں سے زیادہ مالدار اور بڑا سورس تو کسی بھی گورنمنٹ کے محکمہ کا چپراسی ھوتا ھے، جو آپکا کام اگر کسی منسٹر سے نہ ھو تو یہ چپراسی کچھ رقم کے بدلے آپکا کام منٹوں میں کراسکتا ھے،

کبھی ھم نے ھمارے پیغمبروں کے دور حکومت کے بارے میں کبھی سوچنے کی زحمت گوارا کی ھے کبھی ایک مسلمان ھونے کے ناتے اس اس دور کے حکمران اور رعایاء سے رشتہ کے تعلقات کو پہچاننے کی کوشش بھی کی ھے،؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟

اگر ھم اپنے آپ کو مسلمان کہتے ھیں، تو ھم کہیں پر بھی، کسی جگہ بھی، کسی مقام پر بھی ھوں، اپنے اپنے فرائض ایمانداری اور نیک نیتی سے انجام دیں تو ھم ھی نہیں بلکہ ھمارے ملک کی ترقی میں بھی حصہ لے سکتے ھیں،!!!!!!!!!!!!!!
----------------------------------
اسی گردش میں اپنی ساری عمر تمام ھوگئی، لیکں پھر بھی اللٌہ کا شکر ھے کہ بات اب تک بنی ھوئی ھے!!!!!!!!!!!!!!!!!

اپنی کہانی کو شروع کرتا ھوں مگر پھر کچھ ایسی تلخیاں سامنے آجاتی ھیں تو لکھے بناء رہا بھی نہیں جاتا کیا کریں مجبوری ھے، بات ھورھی تھی کہ ھم لوگوں نے باھر آکر اپنے لئے اور اپنے ملک کیلئے کیا کچھ کیا، بلکہ یہ سوچیں کہ،!!!!!!


کیا کھویا کیا پایا
جو بھی کمایا لٹایا

بچوں کی پڑھائی تو ویسے ھی برباد کردی، کچھ نے تو اپنے بچوں کو ، کینیڈا، امریکہ اور برطانیہ میں بھی بھیجا وہ تو وہاں جاکر وہیں کے ھوکر رہ گئے، واپس آنے کی ذحمت گوارا ھی نہیں کی، کچھ نے تو وہیں شادی کرکے اپنا ڈیرا مکمل طور سے ڈال لیا، کچھ گوری میموں نے تو بھتہ بھی وصول کرنا شروع کردیا، کئی نے تو بے چارے والدیں کو بلا کر وہیں بیگم کے نیچے ھی نوکرانیوں جیسا سلوک شروع کردیا، اب آپ سچ پوچھیں تو وہاں کا ماڈرن معاشرہ آپکے بچوں کو ڈانٹنے کا بھی حق نہیں دیتا، کبھی کبھی تو والدین اپنے ھی بچوں کی زیادتیوں کی وجہ سے ھی عدالت میں کھڑے اپنی سزا اور جرمانے کے منتظر ھوتے ھیں،

آج جب بھی والدین کسی نہ کسی طرح زبردستی اپنے بچوں کو پاکستان لے کر آتے ھیں تو آپ کو کیا جواب ملتا ھے، سنئے!!!

ممٌا پاپا !!!! اپ ھم کو کدھر کو لایا ادھر کیا ھے بالکل کچرا ھی کچرا ھے، “بیک ورڈ“ لوگ ادھر کو رھتا، یہ ٹھیک نہیں ھے وہ ٹھیک نہیں ھے گرمی بہت ھے، ائر کنڈیشنڈ نہیں ھے ادھر بوڑھا بوڑھا لوگ ھمارا مذاق اُڑاتا ھے، ابھی ھم کل ھی واپس جانے کو مانگتا ھے، وہاں ھمارا دوست “جمٌی یا کمٌی“ ھمارا انتظار کرتا ھوئے گا، اور ھمارا پاسپورٹ واپس کرو ورنہ!!!!!!!!

یہ تو ھے یورپ اور امریکہ میں رھنے والوں کی پوزیشن جن کے بچے انکے اپنے ھی قابو میں نہیں ھیں تو وہ پاکستانی کلچر کو کیسے اپنائیں گے، یہاں شادیاں کرکے اپنے گھر کیسے بسائیں گے، لوگ کوشش تو بہت کرتے ھیں کہ یہاں سے کسی نہ کسی لڑکے یا لڑکے کو خرید کر وہاں لے جائیں اور اپنے بچوں کی طرح انکی زندگی کو بھی ایک عذاب میں ڈال دیں کبھی آپ میں سے کسی نے بھی اپنی بیٹی کی خبر لی بھی ھے جسے بڑی دھوم دھام سے بیاہ تو دیا لیکن وہ وہاں کیسے جی رھی ھے اگر پتہ بھی چل جائے تو کیا کرسکتے ھیں، اگر لڑکے کو وہاں وداع کیا ھے تو اسے تو بالکل بھول ھی جائیں تو بہتر ھی ھے،

اور ھم جیسے والدیں جو برسوں سے یہاں مڈل ایسٹ میں اپنے بچوں کے ساتھ پڑے ھوئے ھیں ان کی کیا زندگی ھے، پاکستاں چھٹی جاتے ھیں تو بچوں کو وہاں کی کوئی چیز اچھی نہیں لگتی کوئی علاقہ اچھا نہیں لگتا، وہ بھی ائرکنڈیشنڈ کی بات کرتے ھیں، کیونکہ گرمیوں میں ھی چھٹیاں ملتی ھیں، یہاں ائرکنڈیشنڈ کی وجہ سے ھی بہت سی بیماریوں میں مبتلا ھوچکے ھیں، دھوپ میں کچھ دیر بھی کھڑے ھونے کی عادت نہیں ھے، ورزش کا یہاں کوئی رواج ھی نہیں ھے، انٹرنٹ کے عادی بن چکے ھیں اب تو ھر بچے کے پاس اس کا اپنا موبائیل، باپ کے پاس گاڑی ھو نہ ھو بیٹوں کے پاس گاڑیاں بھی ھیں اور شکر ھے کہ سعودیہ میں تو عورتوں کو گاڑی چلانے اور بغیر عبایہ کے باھر نکلنے پر پابندی ھے، ورنہ یھاں بھی عورتیں گاڑی دوڑاتی نظر آتیں،

نہ ھم یہاں کے رھے نہ اپنے ملک کے رھے، بس یہاں ایک خوش قسمتی سے عمرہ اور حج کرنے کی سہولت اور روضہ مبارک:saw: کی زیارت تو ممکن ھے جس سے اب تک بہت سے لوگوں کا ایمان اب تک تازہ ضرور ھے، اور کچھ نہیں تو کم از کم زیادہ تر لوگ پانچوں وقت کی نمازیں تو ادا کرتے ھیں،!!!!!!!!!!!

چلئے پھر وہیں سے اپنی یادوں کو سمیٹتا شروع کرتا ھوں، جہاں سے سلسلہ ٹوٹا تھا،!!!!!!

ادھر ھمارا سیکنڈری اسکول میں میٹرک کا دور ختم ھوا اور ادھر جنگ کے آثار شروع ھوگئے، والد صاحب کا بھی بلاوا آگیا، وہ بھی کمپنی سے مختصر چھٹی لے کر چلے گئے، سب نے انہیں بڑی گرم جوشی سے رخصت کیا، بہرحال جنگ ختم ھوئی اور ساتھ ھی والد صاحب بھی واپس آگئے اور پھر سے جنگ کے پعد زندگی معمول پر آگئی،

آج جب میٹرک سے فارغ ھوئے تو ایسا لگا کہ کھلی فضا میں سانس لے رھے ھوں، اس وقت تو میٹرک کرنا ایک بہت بڑی خوش نصیبی سمجھی جاتی تھی، میٹرک پاس کرنے والا تو ایسا مشہور ھوجاتا تھا کہ دور دور سے لوگ اسے مبارکباد دینے چلے آتے تھے، اور آج کل کوئی ماسٹر بھی کرلیتا ھے تو کوئی پوچھتا ھی نہیں!!!!!!

اب کالج میں داخلے کے لئے لوگوں سے مشورے شروع ھوگئے والد صاحب بضد تھے کہ میں کامرس اور اکاونٹس کو لے کر آگے چلوں اور میرا خیال آرٹ، مصوری، اور اردو ادب سے تھا، جس کے لئے میں آرٹس کونسل آف پاکستان میں داخلہ لینا چاھتا تھا، تاکہ اپنے شوق کو پروان چڑھاؤں، لیکن والد صاحب نے میری ایک نہ سنی بلکہ فوراً ھی اسلامیہ کامرس کالج میں صبح کی شفٹ میں داخل کرادیا -

مجبوری تھی ورنہ تو میرا بالکل بھی دل نہیں چاھتا تھا کہ کامرس گروپ لوں، خیر کیا کرتا اباجی کے آرڈر تھے، ماننا پڑا اور چل دئیے دوسرے دن سے اسلامیہ کالج، والد صاحب کو یہ کالج کا نام اچھا لگا، جبکہ اور بھی اچھے اچھے کالج تھے، ویسے اس کالج کی بلڈنگ بہت خوبصورت اور بہت بڑی تھی، اس کالج میں کامرس کے علاؤہ سائنس اور آرٹس گروپ بھی تھے، اور ان کے رخ اور گیٹ بھی الگ الگ تھے، ساتھ ھی مزارِ قائدآعظم چند قدم کے فاصلے پر تھا، اور کالج کے میں گیٹ کے سامنے روڈ پر ایک چوراھے کے بیچ دنیا کا بہت بڑا گول گلوب بنا ھوا تھا، جب چاھو اس کے گرد گھوم کر بغیر ٹکٹ دنیا کی سیر کرلو اور اس سے اسلامیہ کالج کا نظارہ بھی بہت ھی خوبصورت لگتا تھا، ھمارے کالج کے سامنے ایک انجیرنگ کالج بھی تھا جس کا نام شاید داؤد انجینئر کالج تھا،

پہلے دن میں کچھ زیادہ ھی اسکول کی طرح کتابیں اور کاپیاں کا بوجھ لاد کر لے آیا جبکہ دوسرے لڑکے صرف ایک ھی پلاسٹک کی فائیل لے کر آئے تھے، مجھے یہ دیکھ کر تعجب بھی ھوا، بہرحال پہلا دن تھا تعارفاتی پروگرام میں ھی سارا دن گزر گیا، ہاف ٹائم میں بھی بس اکیلا ھی گھومتا رھا، کینٹین گیا ایک شوقیہ طور پر چائے منگوائی، مگر کوئی دوست نہ بنا پایا، اور کوئی بھی میرے اسکول سے یہاں داخلہ لینے نہیں آیا، بس مختصر سی علیک سلیک ھوئی اور کوئی خاص لفٹ نہیں ملی، کلاس میں کرسی سے ھی ایک جڑی ھوئی صرف فائیل رکھنے کی ایک چوڑی سی جگہ بنی ھوئی تھی، اور اسکول کی طرح کوئی ڈیسک وغیرہ نہیں تھی،

دوسرے دن سے باقائدہ طور سے کلاسس شروع ھوگئی تھیں،ایک اور چیز نے پھر مجھے تعجب میں ڈال دیا کہ اسکول میں ھر پیریڈ کے بعد تو ٹیچرز، کلاس روم میں آتے تھے، لیکں یہاں اسٹوڈنٹس کو لیکچرار کے کمرے میں جانا پڑتا تھا، ھر ایک کے پاس ھر کلاس کا ٹائم ٹیبل بھی تھا، یہ بھی میرے لئے ایک نئی چیز تھی، اس کے علاؤہ لڑکیاں بھی ساتھ ھی پڑھتی تھیں مجھے اس بات کی حیرانگی بھی ھوئی کہ پرائمری اسکول میں بھی لڑکیوں کا ساتھ تھا اور پھر کالج میں بھی لڑکیوں کا ساتھ دیکھا لیکن سیکنڈری اسکول میں لڑکیوں کو ایک ساتھ پڑھتے نہیں دیکھا، ھوسکتا ھے کہ اس میں بھی کوئی منطق شامل ھو، ھمیں کیا، ھمیں تو پڑھائی سے ھی غرض رکھنا تھا -

مجھے تو اور بھی زیادہ خوشی ھوئی کہ صرف ایک ھی فائیل لے کر جانا پڑتا تھا، اور سب سے بڑی بات یہ کہ کوئی حاضری بھی نہیں لگتی تھی اسکے علاؤہ بغیر یونیفارم کے، میرا مطلب ھے کہ کوئی بھی ڈریس پہن کر اسکول جاسکتے تھے ، ھر کسی کو دیکھا نئے نئے اسٹائیل کے کپڑے، ہیرو کے اسٹائیل کے بال سیٹ کئے ھوئے، دھوپ کا بلیک چشمہ لگائے جیمز بونڈ کی طرح چلتے ھوئے کالج میں داخل ھوتے تھے، اور لڑکیاں تو ان سے دو ہاتھ آگے تھیں، ان لڑکوں کو زیادہ تر لڑکیوں کے گروپ کے ساتھ یا تو کالج کے کینٹین میں یا کالج کے درمیان کے پارک میں گھومتے پھرتے یا پھر کامن روم میں شور مچاتے ھوئے کیرم بورڈ یا ٹیبل ٹینس کھیلتے ھوئے دیکھا تھا، کبھی کبھی لڑکیوں کے ساتھ بھی کھیلتے ھوئے پایا اور قائد کے مزار پر بھی حاضری دیتے ھوئے دیکھا، وہاں کالج سے زیادہ رش ھوتا تھا، شاید سب قائد کی پیروی کرنے وہاں ان کا اثر لینے جاتے ھونگے -

میں اپنے آپ کو ان سب کے سامنے احساس کمتری میں مبتلا محسوس کر رھا تھا، کیونکہ ایک تو میرے کپڑے اور خاص طور سے میرے بالوں کا اسٹائیل کو تو والد صاحب اپنے فوجی کٹ کے حساب سے ھی رکھواتے تھے، اسکول کی حد تک تو صحیح تھا لیکن کالج میں مجھے بالکل اچھا نہیں لگ رھا تھا، اور یہی وجہ تھی کہ مجھے کچھ وہاں پر لفٹ نہیں مل رھی تھی، گھر پر آکر اباجی کے بجائے اماں سے کہا کہ میں یہ کپڑے پہن کر کالج نہیں جاونگا، مجھے بازار سے اچھے ٹیلر کے پاس سے کپڑے سلوا کر دیں اور ساتھ ایک اچھا سا باٹا ایک کا جوتا، ایک نہیں کم سے کم چار جوڑے تو ھوں، (کیونکہ کالج میں تو ھر روز لڑکے نئے نئے جوڑے ھی پہن کر آتے دیکھتا تھا) اور یہ میرے بال اباجی سے کہیں کہ سولجر کٹ نہ کٹائیں، مجھے اس طرح ان کپڑوں میں کالج جاتے ھوئے شرم بھی آتی ھے، اور اگر اسکا بندوبست نہ ھوا تو میں کل سے کالج نہیں جاونگا، یہ الٹی میٹم اماں کو تو سنا دیا، اور ڈر ڈر کر ابا حضور کا انتطار کرنے لگا -

شام کو جب اباجی دفتر سے گھر پہنچے تو ھماری اماں نے میری یہ شکایت والد صاحب کے حضور رکھ دی، ارے باپ رے والد صاحب بہت گرم ھوئے، انکا فوجی مزاج، کبھی زندگی میں تو کالج گئے نہیں، اور بس انگریزوں کے زمانے میں انہوں نے شاید میٹرک پاس کیا ھوگا، انہیں کیا پتہ کہ کالج میں کیسے پڑھا جاتا ھے، کس طرح رھا جاتا ھے میں بستر پر فوجی کمبل اوڑھے اپنے آپ سے ھی بکتا جارھا تھا،

ایک اور زور کی آواز سنائی دی کہ میرے پاس کوئی قارون کا خزانہ نہیں کہ اس لاٹ صاحب کو یہ نوابی چیزیں خرید کر دوں،!!!!! مارے گئے کچھ ایسے ھی کچھ مکالمات سے انہوں نے آغاز لیا اور اختتام اس جملے سے کیا کہ،!!!! اس نواب صاحب کو کہہ دو کہ اگر کالج میں پڑھنا ھے تو اسی حالت میں جانا ھوگا ورنہ کوئی ضرورت نہیں ھے کالج جانے کی، اس کو میں کسی مکینک کے ساتھ ھی لگادونگا، جہاں کپڑے بھی کالے، منہ بھی کالا!!!


اور میں نے دل میں روتے ھوئے کہا کہ وہاں میکینک کے پاس تو منہ دھونے کی بھی ضرورت نہیں پڑے گی، کیا پتہ لگے گا کہ منہ دھویا بھی ھے یا نہیں، پانی کی بھی بچت ھوجائے گی!!!!!!!!!!!!
---------------------------------------
کچھ دیر بعد خودبخود ھی والد صاحب کا غصہ ٹھنڈا ھوگیا، مجھے کہا کہ، کل کسی طرح گزارلو اور شام کو میرے دفتر آجانا وہاں سے سیدھا بازار چلیں گے اور جو تمھیں پسند ھوں خرید لینا، یہ کہہ کر وہ باھر کہیں چلے گئے اور میرا خوشی کے مارے ٹھکانا ھی نہ رھا، اب کل تک وقت گزارنا بہت مشکل تھا، شام کو ملکہ باجی کو بتایا اور وہ بھی بہت خوش ھوئیں، ان کے بس میں نہیں تھا ورنہ وہ بھی مجھے ایک سے ایک اچھے جوڑے بناکر دیتی، انہوں نے کالج میں تو داخلہ نہیں لیا لیکن پرائیویٹ امتحان دینے کا ارادہ ضرور تھا، وہ بھی مجھے بہت چاھتی تھیں اور ھمیشہ مجھے اپنی پڑھائی کی طرف توجہ دلاتی رھتیں، اور وہ مجھے ھمیشہ والدیں کا حکم ماننے پر بہت نصیحتیں کرتی رھیں -

دوسرے دن میں تیار ھو کر کالج پہنچا لیکن بالکل دل نہیں لگا، کیونکہ وہاں کے لڑکوں کے ساتھ میرا کچھ دل نہیں مان رھا تھا بہت تیز اور طرار تھے اور لگتا تھا کہ زیادہ تر امیر خاندان کے بگڑے ھوئے نواب تھے، کچھ اچھے بھی لڑکے تھے، خیر اب مجبوری تھی کہ اسی کالج میں پڑھنا تھا، دوپہر کو کالج سے واپسی ھوئی اور کھا پی کر فارغ ھوا اور پھر والد صاحب کے دفتر جانے کی تیاری کی اور کچھ اپنی شکل ضرورت کے مظابق ٹھیک ٹھاک کرلی اور دو بسیں بدل کر تقریباً ایک گھنٹہ میں وہاں پہنچا، اب تو میرا قد پہلے سے کافی لمبا ھوگیا تھا مگر دبلا پتلا تھا،!!!!!!

والد کے آفس کافی عرصہ کے بعد گیا تھا، وہاں پر والد کے تمام دوست مجھے اچھی طرح جانتے بھی تھے، مگر وہاں اب ان کے نئے باس تھے، وہ بھی بہت اچھے اور ملنسار طبعیت کے مالک تھے، لیکن کمپنی کے بہت پرانے افسران میں سے تھے والد صاحب میرے پہنچتے ھی مجھے ان کے پاس لے گئے اور انہوں نے مجھے بہت مبارکباد دی اور اچھا پڑھنے کیلئے مجھے کافی ساری معمول کے مطابق نصیحتیں بھی کیں، جس کا کہ میں پہلے ھی سے سننے کا عادی تھا جہاں بھی جاو خیر خیریت کے بعد یہی نصیحتیں ملتی تھیں، شاید لگتا تھا کہ اباجی نے ان سے ھی کوئی ایڈوانس میرے لئے لیا ھوگا -

اباجی کا آفس ساڑے چار بجے ھی بند ھوجاتا تھا، چھٹی ھوتے ھی کمپنی کی گاڑی میں بیٹھے اور مین صدر بازار کے نزدیک اتر گئے ان کے ساتھ ان کے ایک دوست بھی اتر گئے، حالانکہ وہ دفتر کے نزدیک ھی رھتے تھے لیکن وہ والد صاحب کی مدد کیلئے ساتھ آئے تھے اور میرے لئے انہوں نے ریڈی میڈ تین پینٹ قمیض کے جوڑے اور ایک باٹا کے جوتے کا جوڑا بھی دلوایا انہیں کافی تجربہ تھا اسلئے ابا جی انہیں ساتھ لے آئے تھے،!!!!

مجھ سے اپنی خوشی چھپائے چھپ نہیں رھی تھے، زندگی میں پہلی مرتبہ اتنے اچھے اور مہنگے کپڑے دیکھنے کو ملے تھے، والد صاحب کو ان کے دوست نے زبردستی یہ ایک اچھی ریڈی میڈ دکان سے یہ کپڑے دلوائے تھے ورنہ اگر والد صاحب کی پسند ھوتی تو شاید ایسے نہ ھوتے ان کا بھی کیا قصور وہ بھی اپنا ھر کام بجٹ میں ھی رہ کر کرتے تھے لیکن شاید یہ پہلی مرتبہ وہ بجٹ سے باھر آگئے، کچھ پریشان بھی تھے، شاید کچھ پیسے کم پڑنے کی وجہ سے انہیں اپنے دوست سے کچھ قرض بھی لینا پڑا اور شاید یہ انکا پہلا موقع تھا-

گھر آکر تو بس مت پوچھئے کہ کیا حال ھوا، دوسرے بہن بھائیوں کو تو بہت مشکل سے والد صاحب نے سمجھایا کیونکہ وہ بھی نئے کپڑوں کے لئے ضد کررھے تھے، اور پھر رات کو تمام کپڑے گھر کی کوئلے کی استری سے تمام کپڑوں کو استری کئے اور جوتے تو ویسے ھی نئے تھے پھر بھی خوب کپڑے اور برش سے چمکا لئے تھے، اور میں ویسے بھی کپڑے استری کرنے میں اور جوتے چمکانے میں ماسٹر تھا گھر کے سب بہن بھائیوں کے کپڑے بھی میں خود ھی استری کرتا تھا، کیونکہ کوئلے کی استری کو گرم کرنا اور استری کرنا انکے بس کا روگ نہیں تھا-

صبح صبح کچھ جلدی اٹھ گیا اور دوسر بچوں کے ساتھ میں بھی تیار ھو گیا، ائینہ میں اپنی شکل دیکھی تو بالکل اپنے آپ کو بدلا ھوا پایا، اور میں نے آہستہ آہستہ پہلے سے ھی بال بڑھانے شروع کردئیے تھے، جس کیلئے والد صاحب کئی دفعہ بال کٹوانے کو کہہ چکے تھے، مگر میں ھمیشہ چکر ھی دے دیتا، کل ھی کالج سے واپسی پر نائی کی دکان پر جاکر صرف استرے سے سایڈ کی قلمیں ھی بنوا کر بال سیٹ کروا لئے تھے، اور والد صاحب کے سامنے خوب بالوں میں پانی اور تھوڑا سا تیل لگا کر بالوں کو چپکا کر گیا تھا تاکہ وہ کہیں ڈانٹیں نہ، لیکن شکر ھے ان کی نظر میرے بالوں پر گئی نہیں اس لئے انہوں نے کچھ محسوس ھی نہیں کیا،!!!!!

بہرحال جب نیا جوڑا پہنا اس پر نئے چمکتے ھوئے بوٹ چڑھا کر خود کو آئینے کے سامنے دیکھ کر اتراتا ھی رھا، اوپر سے ایک خوبصورت سا گھر کا بنا ھوا نیا سویٹر بھی چڑھا لیا، کیونکہ سردی کا موسم تھا، کالج کی فائیل پکڑی اور جیسے ھی باھر نکلا تو مجھے بہت شرم سی کچھ جھجک سی محسوس ھوئی، جیسے ھی باھر سب کو سلام کرتا ھوا نکلا تو گھر کے بعد فوراً اپنی ملکہ باجی کے پاس گیا وہ خود بھی مجھے دیکھ کر حیران ھوگئیں اور فوراً ماتھے پر پیار کیا اور میری نظر اتاری اور کہا کہ آج تو واقعی لاٹ صاحب لگ رھے ھو، انکی چھوٹی بہن زادیہ، امی اور نانی جان بھی مجھے دیکھ کر بہت خوش ھوئیں،

میں جب اس محلے سے نکل رھا تھا تو ھر کوئی مجھے ایک عجیب ھی طریقے سے دیکھنے لگا، جیسے میں کوئی عجوبہ ھوں اور میں بھی شرماتا ھوا نکل رھا تھا اور بار بار اپننی قمیض اور پینٹ کو راستے میں ٹھیک کرتا جارھا تھا اس کے علاوہ کالج پہنچنے سے پہلے کئی دفعہ اپنے جوتوں کو بس میں ھی، کچھ نہ ملا تو دوسروں کے ھی کپڑوں سے ھی کھڑے کھڑے صاف کرلئے تھے، اور صبح صبح رش میں کسی کو کیا پتہ چلتا، مگر اب جب سوچتا ھوں تو بہت افسوس ھوتا ھے کے کالج کے زمانے میں بھی اپنی حرکتوں سے باز نہیں آئے!!!!!!!!!!

اس وقت کو تو چھوڑیں اب بھی بہت سے ایسے لوگ ھیں جو اپنے بچوں کے تعلیمی اخراجات برداشت ھی نہیں کرسکتے، اور اخراجات صرف کالج کی فیس تک ھی محدود نہیں ھوتی آپ کے بچے کے اسٹینڈرڈ کا بھی خیال رکھنا پڑتا ھے کہ کہیں آپکا بچہ کالج میں اپنے لباس اور رکھ رکھاؤ کے لحاظ سے اپنے آپ کو احساس محرومی یا کمتری کا شکار تو نہیں سمجھ رھا ھے، ھمیں معلوم ھے کہ والد صاحب نے ھم بہن بھائیوں کو بہت کم وسائل میں بھی کتنی محنت اور تکلیفوں سے پڑھایا، ھمارے اسٹینڈرڈ کا بھی خیال رکھا اور کتنے قرض میں ڈوبتے چلے گئے، لیکن ھر ایک کی بس کی بات نہیں ھے، ھمارے ملک کی تعلیمی پالیسی بالکل غریبوں کے حق میں نہیں ھے، اور ناخواندی کا ھمارے ملک میں کیا تناسب ھے یہ سب کو پتہ ھے، کسی بھی غریب کا بچہ میٹرک سے زیادہ تعلیم حاصل ھی نہیں کرسکتا اور ھماری ھر حکومت یہی کہتی ھے کہ ھمیں اپنے مستقبل کے معماروں کے لئے ایک نئی تعلیمی پالیسی مرتب کررھے ھیں جس سے ھر عام شخص بھی فائدہ اٹھا سکے گا -

ھمیں آج تک یہ نہیں پتہ چل سکا کہ وہ عام شخص کون ھے اور سرکاری تعلیمی پالیسی کونسی ھے، افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ھے کہ ھمارے تعلیمی محکمہ سے تعلق رکھنے والے خود معیاری تعلیم کے تعلیم یافتہ نہیں ھیں تو وہ کیا تعلیمی پالیسی بنائیں گے، یہ تو سب جانتے ھیں کہ وہاں پر کیا کیا بدعنوانیاں ھوتی ھیں، خود وہاں کے برسوں سے کرسیوں سے چمٹے ھوئے ذمہ دار اہلکار ھمارے بچوں کے مستقبل کو سنوارنے والے معمار، کیا کبھی آپ نے ان کو اپنی سیٹوں پر بیٹھے کوئی کام کرتے ھوئے دیکھا ھے، کیا کبھی کسی بھی علاقے کے تعلیمی معیار کا انہوں نے سروے بھی کیا ھے، ان سے صرف سروے، اور پلاننگ کا اصل مظلب ھی پوچھ لیں تو انہیں واقعی معلوم نہیں ھوگا اس کے علاؤہ پالیسی کیسے مرتب کی جاتی ھے، شاید ھی کسی کو پتہ ھو،


ھاں یہ بات ضرور ھے کہ یہی تعلیمی محکمے کا ھی نہیں ھر کسی سرکاری محکمے میں زیادہ تر ملازمیں تنخواہ تو سرکار سے لیتے ھیں، مگر نوکری کسی اور کی کرتے ھی!!!!

ھمارے یہاں اسی طرح کے تعلیمی خرچے صرف اعلیٰ افسران ھی برداشت کرسکتے ھیں، جن کے بچوں کے لئے گاڑی سرکار کی، تعلیمی خرچ بھی سرکار کے، لانے لے جانے کیلئے نوکر سرکار کے، گھر کے سارے کام سرکاری کھاتے میں، اور یا جو اوپر سے اتنا پیدا کرلیتے ھیں کہ اگر وہ چاھیں تو پورے محلے کے سارے بچوں کے تعلیمی اخراجات آسانی سے پورے کرسکتے ھیں، اچھے اور معیاری اسکولوں میں اوٌل تو داخلہ نہیں ملتا اور اگر ملتا بھی ھے تو ایک اچھے خاصے چندے کا مطالبہ ھوتا ھے جو ھر ایک کے بس کی بات نہیں ھے، کئی لوگ پھر مجبوری میں ناجائز ذرائع اور وسائل کو استعمال میں لاتے ھیں،

کاش کہ ایسے مخلص لوگ ھماری حکومت یا اپوزیشں میں آئیں، جو خلوص نیٌت سے ملک اور عّوام کی خدمت کرسکیں، کوئی ایسی پالیسی بنا سکیں جو صرف اپنے ملک اور عوام کے مفاد میں ھو نہ کے انکے خود کے مفاد میں، جو وعدے کریں ان پر عمل بھی کرین، سب سے پہلے کرپٹشن کو ختم کریں ان کی جڑوں کو بالکل مٹا دیں، اور یہ سب ھم جانتے ھیں کہ کہاں کہاں بدعنوانیاں ھورھی ھیں -

کچھ نہیں کرسکتے تو کم از کم ان عوام کی خدمات کے سرکاری اداروں کے محنت کش غریب ملازمین کو اتنی مراعات دیں کہ وہ اپنی اور اپنے بچوں کی زندگی کو پرسکون طریقے سے چلاسکیں، اور وہ اپنی زندگی کی مشکلات کے حل کےلئے ناجائز ذرائع اور وسائل کا شکار نہ بنیں!!!!
------------------------------------------
جاری ھے،!!!!

عبدالرحمن سید
30-01-10, 08:07 PM
میں جب اس محلے سے نکل رھا تھا تو ھر کوئی مجھے ایک عجیب ھی طریقے سے دیکھنے لگا، جیسے میں کوئی عجوبہ ھوں اور میں بھی شرماتا ھوا نکل رھا تھا اور بار بار اپننی قمیض اور پینٹ کو راستے میں ٹھیک کرتا جارھا تھا اس کے علاوہ کالج پہنچنے سے پہلے کئی دفعہ اپنے جوتوں کو بس میں ھی، کچھ نہ ملا تو دوسروں کے ھی کپڑوں سے ھی کھڑے کھڑے صاف کرلئے تھے، اور صبح صبح رش میں کسی کو کیا پتہ چلتا، مگر اب جب سوچتا ھوں تو بہت افسوس ھوتا ھے کے کالج کے زمانے میں بھی اپنی حرکتوں سے باز نہیں آئے!!!!!!!!!!

آج کچھ کالج کے لڑکون کے ساتھ میں کچھ تو میچ کر رھا تھا، میں بہت خوش تھا، مگر جوتا بہت تنگ کرنے لگا، شام تک کلاسوں میں گھومتے گھومتے جوتے نے کاٹنا شروع کردیا، تھوڑی سی لنگڑاہٹ پیروں میں آگئی اور ساری اسمارٹنس دھری کی دھری رہ گئی، اسی طرح لنگڑاتے ھوئے گھر پہنچے، جوتے اتارے پیروں میں چھالے پڑچکے تھےَ، خیر مرھم وغیرہ لگاکر چارپائی پر پیر پھیلا کر بیٹھ گئے، جیسے مایوں کی رسم میں دولھا بیٹھا ھو،

ھم غریبوں کو تو کوئی خوشی بھی راس نہیں آتی، اب کل کیسے کالج جائیں، دوسرے دن آرام کیا ایک دن تک جوتوں کو کچھ نرم کرنے کیلئے کچھ قوت آزمائی کی اور تیسرے دن روئی وغیرہ جوتے میں پھنسا کر پیروں کو اس میں ڈال کر خراماں خراماں ایک اور نئے جوڑے کو پہن کر کچھ اتراتے اٹھلاتے گھر سے باھر کالج کیلئے نکلے، اس سے پہلے چمڑے کے جوتے نہیں پہنے تھے ھمیشہ کینویس کے جوتے جنہیں پی ٹی شو کہتے ھیں، اسی کی شروع عادت رھی، خیر کیا کرتے، چال میں تو فرق آنا ھی تھا -

وہ کیا کہتے ھیں کہ کوا چلا ھنس کی چال تو اپنی چال بھی بھول گیا !!!!!!

دو تین دن کے استعمال کے بعد جوتے بھی اپنے ساتھ کچھ مانوس سے ھوگئے، چال بھی کچھ ٹھکانے آگئی، بس ایک مشکل تھی کہ گھر سے بس اسٹاپ تک پہنچتے پہنچتے جوتوں پر اتنی دھول گرد جم جاتی کہ مجبوراً بس سے اترنے سے پہلے ھی بس میں ھی دوسروں کے کپڑوں سے جوتوں کی صفائی کرلیتا، اگر بس میں رش نہ ھو تو، ورنہ پھر ایک چار آنے جیب خرچ میں سے بچاکر کالج پہنچنے سے پہلے ھی اپنے جوتے پالش کرالیتا، اور بڑے احتیاط سے قدم بڑھاتا ھوا کالج میں داخل ھوتا، کہتے ھیں کہ کپڑے کیسے ھی کیوں نہ پہنے ھوں، لیکن انسان کی شخصیت لباس سے زیادہ جوتوں کی چمک سے کچھ زیادہ ھی نکھر آتی ھے -

واقعی نئے نئے لباس چمکتے ھوئے جوتوں نے کمال تو دکھایا، کچھ لڑکے تو نزدیک آگئے اور ھر کلاس میں ساتھ ھی بیٹھنے لگے، اب ھماری بھی کچھ گردن اکڑ گئی، اور ایک اپنے بالوں کے اسٹائیل کے ساتھ ساتھ باتوں کا اسٹائیل بھی کچھ بدل گیا، کچھ فلموں کا اثر تھا اور کچھ نئے دور کے دوستوں کی سنگت نے اپنا کمال کر دکھایا، شروع شروع میں تو ٹانگ پر ٹانگ رکھ کر کینٹین میں جاکر تو اپنے پاس سے چار آنے کی اسپشل چائے کا آرڈر ایسے کرتا تھا جیسے واقعی کوئی بگڑا ھوا نواب ھوں، اور کبھی کبھی ایک آنہ چائے لانے والے لڑکے کو بخشش بھی دے دیتا تھا، اگر جوتے پالش نہ کرائے ھوتے تب،!!!!!!

وہاں ایک بات ضرور تھی کہ لڑکے اپنا اپنا ھی خرچا کرتے تھے، کبھی کبھی کوئی موڈ ھو تو چائے پلا دیتا تھا مگر وہ اسکے ڈبل ھی وصول کرکے چھوڑتا تھا، ایک بات تو بعد میں پتہ چلی کہ لڑکوں کے ٹھاٹ باٹ زیادہ تر لنڈابازار کے خریدے ھوئے کپڑوں سے ھوتی تھی، مگر والد صاحب کو پسند نہیں تھا کیونکہ وہ کہتے تھے کہ سادہ اور سستے ھوں مگر اپنے ھوں، لیکن ایک دو دفعہ میں نے چپکے سے والدہ سے کچھ پیسے لے کر ایک دوست کے ساتھ لنڈابازار جاکر سردیوں کے لئے ایک سوٹ کا بھی بندوبست کرلیا تھا جو اس دکان والے نے دوسرے دن کچھ اپنے سائز کے مطابق فٹ کرکے دیا تھا جو اسی قیمت میں شامل تھا، اور ایک اور براؤن کلر کا جوتا بھی سیکنڈ ھینڈ خرید لیا تھا، گھر میں ایک سویٹر تو تھا ھی، ایک اور خوبصورت س پٹیوں والا وہایٹ اور براؤن رنگ کا سویٹر اور ساتھ دو تین قمیضیں بھی وہیں لائٹ ھاؤس کے پاس لنڈابازار سے خرید لیں وہ دوست ان چیزوں میں ماسٹر تھا اور اس نے مجھ سے سختی سے منع کیا تھا کہ یہ راز کسی کو بھی نہیں ‌بتانا جبکہ سب لڑکے وہیں سے ھی کپڑے وغیرہ خریدتے تھے-

اب تو اس سوٹ نے کمال ھی کر دکھایا، بالکل لگتا ھی نہیں تھا کہ لنڈا بازار کا ھے، اب تو میں سوٹ بوٹ میں گھر سے نکلا کرتا اور اب تو کچھ عادت سی بھی ھو گئی تھی، بے چارے محلے کے لڑکوں کے ساتھ آہستہ آہستہ دوستی بھی ختم ھوتی جارھی تھی، اب زیادہ تر میں باھر ھی وقت گزارتا تھا، شام تک ھی گھر کا رخ کرتا اور بہانہ ٹیوشن کا کرلیتا تھا یا کسی پارٹی کا کہہ کر گھر سے اجازت لے لیتا تھا، مگر اسی دوست کے علاؤہ کسی کو بھی اپنے گھر کا ایڈریس پتہ نہیں تھا، ورنہ ساری پول پٹی کھل جاتی -

اور زیادہ تر رات کو کھانا کھا کر ھماری باجی کے ھاں ریڈیو کے پروگرام سننے چلے جاتا، میرے ساتھ میرے بہن بھائی بھی ھوتے کبھی کبھی میرے والدیں بھی ساتھ رھتے اور ان سے گپ شپ کرکے ریڈیو کے کچھ اھم ڈرامے وغیرہ سنتے، والدیں الگ گپ شپ میں مصروف اور ھم لوگ الگ انکے صحن میں ھی کھیلتے یا باتیں کرکے ٹائم پاس کرتے اور ہفتہ والے دن کافی رات گئے تک وھیں رھتے کیونکہ اب ان دونوں بہنوں پر باھر کھیلنے پر پابندی لگ چکی تھی، شاید وہ کچھ عمر کے ساتھ قد میں بھی بڑی ھورھی تھیں، غرض کہ دونوں فیملیاں آپس میں بہت اچھے تعلقات رکھے ھوئے تھیں اسکے علاوہ ھمارے ساتھ کبھی کبھی دوسری فیملیز بھی شریک ھوجاتیں اور ساتھ ھی ھر ویک اینڈ پر باھر گھومنے کا پروگرام بھی بن جاتا، بہت ھی اچھے دن گزر رھے تھے،

ایک بات بتانا تو بھول ھی گیا اباجی نے بڑی مشکل سے ایک ھاتھ کی سیکنڈ ھینڈ گھڑی 35 روپے کی خرید کر بھی دی تھی، جسے ھر روز چابی بھی دینی پڑتی تھی، اس سے ھماری شان میں ایک اور اضافہ ھوگیا تھا، اب تو ایک سوٹ بوٹ اور اوپر سے گھڑی آستیں سے بار بار جھٹکا دے کر باھر نکالنا اور بالوں کے لئے ایک اسپشل کنگھی بھی خرید لی تھی، جیسے ھی کوئی موقع دیکھتا بالوں میں گھما لیتا، ویسے تھا میں دبلا پتلا لیکن سوٹ پہن کر میں کچھ بھرا بھرا سالگتا تھا، مگر ایک ھی سوٹ آخر کب تک ھماری شان بڑھائے رکھتا ایک اور صرف کوٹ بھی اسی مارکیٹ سے سستا ھی خرید لیا اور مختلف پتلوں کے ساتھ چڑھا لیتا ایک تین چارٹائیاں بھی ساتھ پہلے سے ھی خرید لیں تھیں اور بدل بدل کر میچنگ کے ساتھ چلا رھا تھا-

کیا بات تھی چھوٹے سیٌد صاحب کی، مجھے اکثر باھر اباجی کے دوست چھوٹے سیٌد صاحب ھی کہہ کر بلاتے تھے، اور اباجی بھی میرے روز کا کالج بڑے اھتمام سے جانا اور رکھ رکھاؤ دیکھ کر بہت خوش ھوتے تھے، اور گھر میں بھی ان کو دکھانے کیلئے کتابیں ھاتھ میں لے کر کچھ دیر والد صاحب کو مظمئین بھی کرلیتا، لیکن اب ایک اور عادت پڑ چکی تھی روز ایک آنے کرایہ پر کوئی نہ کوئی “ابن صفی“ کی جاسوسی ناول کی آفریدی یا عمران کی سیریز کی کتاب لے آتا اور رات کو بستر میں سوتے وقت اپنے کالج کی کسی بھی کتاب کے بیچ میں رکھ کر بستر کے کنارے ایک جھولتی ھوئی ٹیبل پر ایک لالٹین کی روشنی میں پڑھتا تھا -

ابا جی پھر ایک دفعہ میرے اپنے ھی بنائے ھوئے دھوکے کے چکر میں آکر بہت خوش تھے، کالج تو باقاعدہ جاتا لیکن بمشکل کوئی کلاس اٹینڈ کرتا بس ھر مہینے فیس ضرور بھرتا تھا اور ھر روز دوسرے دوستوں کے ساتھ یا تو کینٹین میں چائے پی رھا ھوتا یا کبھی کیرم بورڈ کھیلنے میں مشغول رہتا، اس میں میرا کوئی قصور نہیں تھا کالج میں بالکل آزادی تھی، حاضری ھوتی ھی نہیں تھی، اور مجھے ان لیکچرار سے بہت سخت نفرت تھی، صرف اردو کے ٹیچر کے علاؤہ، کیونکہ باقی سارے انگلش کے علاوہ کچھ منہ سے بولتے ھی نہیں تھے جو اپنے بالکل پلے پڑتی ھی نہیں تھی، اور وہ لوگ سوال بہت کرتے تھے اور وہ بھی انگلش میں، اور ھمیشہ میں ھی نشانہ بنتا تھا اور جواب کیا آتا جب سوال ھی نہیں سمجھ سکتا تھا -

یہ انگلش میری بہت بڑی کمزوری تھی اور شروع شروع میں تو اسی طرح جو بھی لیکچرار مجھ سے ایگلش میں سوال کرتا دوسرے دن سے اس کا پیریڈ میں جانا ھی چھوڑ دیتا تھا، صرف اردو اور اکنامکس اینڈ کمرشل جغرافیہ کے پیریڈ ھی اٹینڈ کرتا، کیونکہ ان مضمون کو وہ کم از کم اردو میں تو پڑھاتے تھے، یا ھوسکتا ھے کہ وہ بھی میری طرح انگلش سے دور ھی بھاگتے ھوں،!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!

1967 کے بہار کے موسم میں سال داخل ھورھا تھا، سردیاں بھی آہستہ آہستہ اپنی آخری ھچکیاں لے رھی تھی اور میں اپنی زندگی کے 17 سترویں بہار کے موسم میں ایک خوبصورت موڑ میں داخل ھو رھا تھا، مجھے وہ دن اپنی زندگی کا کبھی نہیں بھولتا، جب شام کا وقت اور آسمان پر بادلوں کی گھٹایں، گھرے ھوئے کسی ظوفانی بارش کے آثار دکھائی دے رھے تھے، جس دن میں نے پہلی بار کسی کی آنکھوں میں میرے اپنے لئے ایک عجیب سی بسنت کی ایک خوبصورت کہکشاں کے رنگ کے ساتھ چمکتی ھوئی شرماتی سی جھلک دیکھی، جو میں خود نہیں سمجھ سکا کہ یہ کیا چیز ھے جو مجھے ایک حسیں خواب کی طرح ایک عجیب سے نشے میں ڈبوئے جارھی تھی، میں خود بخود اسکے نزدیک پہنچا اسے دیکھا، چند لمحے وہ آنکھیں میری آنکھوں کے سامنے تھیں جنہیں میں کبھی بھُلا نہیں سکتا تھا، یا یہ میری نظروں کا دھوکا تھا،!!!!!!!!!!!

اچانک اسے کسی نے آواز دی اور وہ دوڑتی ھوئی واپس اسی آواز کے ساتھ گم ھوگئی اور میں حیران پریشاں گم سم سا اس دیوار کے ساتھ ٹیک لگائے کھڑا رھا اور شام کا وقت ھلکی ھلکی خنکی سی کچھ بارش کی بوندا باندی شروع ھوچکی تھی، پانی کے قظرے میرے بالوں سے اترتے ھوئے میرے چہرے پر ٹپ ٹپ گر رھے تھے اور میں خاموش تھا، یہ کوئی خواب یا کوئی افسانوی ماحول نہیں تھا یہ واقعی زندگی میں پہلی بار مجھے کچھ محسوس ھورھا تھا جسکے بارے میں میں نے کبھی ایسا سوچا بھی نہ تھا‌!!!!!!

وہ دیوار آج بھی اسی جگہ موجود ھے، اور جب بھی میں اسی دیوار کے نزدیک اسی جگہ پر جاتا ھوں تو مجھے وھی حسیں منظر ایک وھی بھینی بھینی بسنت کی خوشبو کے ساتھ وھی پیارا سا خوبصورت حسین معصوم سا چہرہ یاد آجاتا ھے،!!!!!!!!
--------------------------------------
بارش تیز ھوچکی تھی، مجھ سمیت تمام گھر والے کمروں میں بند کھڑکی سے باھر طوفانی بارش کا منظر دیکھ رھے تھے، بادلوں کی گرجنے کی آوازیں بھی اس دفعہ کچھ زیادہ ھی دل کو دھلارھی تھیں، والدہ حسب معمول باورچی خانے میں مصروف تھیں اور والد صاحب بھی شاید بارش کی وجہ سے مسجد نہ جاسکے اور گھر پر ھی مغرب کی نماز پڑھ رھے تھے، میں بھی ایک کنارے روز کی طرح کتاب اٹھائے پڑھ تو نہیں رہا تھا بلکہ یونہی ٹہل رھا تھا کہ بارش کم ھو تو باھر بھاگوں، ویسے بھی میں بہت بےچین تھا کچھ اپنے آپ کو یقین دلانے کیلئے، لیکن ایسی مجبوری تھی کہ والد صاحب گھر سے بالکل نکل ھی نہیں رھے تھے، اور ان کی وجہ سے میں بھی گھر میں قید تھا، ورنہ اگر اباجی گھر پر نہیں ھوتے تو میں تو ویسے بھی بارش ھو طوفان ھو گھر پر ٹکتا ھی نہیں تھا -

آج کی رات مجھ پر کچھ زیادہ ھی بھاری تھی، نہ والد صاحب کہیں ھل رھے تھے اور نہ ھی بارش بند ھورھی تھی، کراچی کا موسم بھی محبوب کے مزاج کی ظرح ھی تھا، کبھی اچانک بے موسم کی طرح بارش ھوجاتی اور کبھی اتنی گرمی کے مت پوچھیں، کبھی ٹھنڈ تو کبھی سردیوں کے موسم میں گرمی اور کبھی گرمیوں میں بھی شام کو موسم ٹھنڈا ھوجاتا تھا، والد صاحب کو بھی بارش کے دنوں میں بھی چین نہیں آتا تھا ذرا سی کہیں سے چھت ٹپکتی تو وہ فوراً ھی چھت پر چڑھ جاتے اور کوئی نہ کوئی چھت کی مرمت میں لگ جاتے تھے اور ھماری ڈیوٹی جہاں جہاں سے چھت ٹپک رھی ھوتی تھی، وھاں پر کوئی ڈرم یا بالٹی لگا کر رکھنے کی ذمہ داری اور ساتھ بارش کے پانی کو باھرخالی کرنے کی بھی ھوتی تھی، بارش کے دوران تو ھماری مت ھی ماری جاتی تھی، گھر کے اندر جمع ھوا پانی کو باھر نکالتے نکالتے کمر بھی دوھری ھوجاتی تھی، لیکں والد صاحب اوپر چھت سے ھی ھماری نگرانی بھی کرتے کہ ھم بہن بھائی کہیں باھر نہ نکل جائیں، خود تو بھیگتے رھتے مگر ھمارے لئے پابندی تھی -

آج تو میں کچھ زیادہ ھی بے چین تھا کہ ذرا سا بھی مجھے موقعہ ملے اور میں باھر بھاگوں، شاید عشاء کے وقت کچھ بارش کا زور ٹوٹا تو کچھ امید نظر آئی، والد صاحب جیسے ھی نماز کےلئے باھر نکلے ادھر میں فورآً منہ ھاتھ دھو کر کچھ آچھے کپڑے پہنے اور آئینہ کی طرف لاٹین کی مدھم ھی روشنی میں رات کو پہلی بار شاید بالوں میں کنگھی کی اور کچھ “تبت ٹالکم پاوڈر“ وغیرہ چھڑکا اور اوپر چہرے پر “تبت سنو کریم لگائی، اس وقت زیادہ تر ھم غریبوں کے پاس یہی چہرہ چمکانے کیلئے تبت کی مصنوعات جو کہ سستی چیزیں ھوتیں تھیں، استعمال کے لئے گھر پر اماں چھپا کر رکھتیں تھیں اور مجھے تو خاص کر ان کی یہ جگہیں چھپی نہیں رھتی تھیں،

باھر نکلنے سے پہلے پھر ایک دو بار پھر اپنا چہرہ آئینہ میں دیکھا، کریم لگانے کے باوجود بھی کچھ اپنے چہرے کا رنگ اتنا صاف نہیں ھوسکا تھا، لیکن اتنا برا بھی نہیں لگ رھا تھا، یعنی گزارا تھا، یہ تو روز صبح کالج جانے سے پہلے اس طرح جوتے چمکانے کے ساتھ ساتھ کچھ چہرے کو بھی ان تبت کے پاوڈر اور کریم سے چمکاھی لیتا تھا، مگر رات کو پہلی مرتبہ وہ بھی مدھم روشنی میں چہرے کو کچھ چمکاتے وقت کچھ عجیب سا لگ رھا تھا -

چپکے سے میں اس دن اکیلا ھی باھر نکلا، جب کہ سب بہن بھائیوں کو اکثر ساتھ لے کر ریڈیو سے رات کے ڈرامے اور مزاحیے خاکوں کے پروگرام سننے کے لئے ملکہ باجی کے گھر ضرور جاتا تھا اور کبھی کبھی والدیں بھی وہاں آجاتے تھے اور اچھی خاصی ایک رونق رھتی تھی اور میرا دل بھی وہیں بہت لگتا تھا، مگر آج یہ اچانک اکیلے اکیلے چمک دمک کر جانے کی کہاں تیاری کرلی، میں ‌خود اپنے آپ سے پوچھ رھا تھا -

جیسے ھی باھر نکلا تو دیکھا باقی بہن بھائی بھی میرے سے پہلے ھی تیار باھر کھڑے نظر آئے، میں نے غصہ سے ان سب کو دیکھا اور کہا کہ بارش ھورھی ھے باہر مت نکلو، ایک نے ڈرتے ھوئے جواب دیا کہ بھائی جان بارش تو رک گئی ھے اور آپ بھی تو جارھے ھیں میں نے فوراً کہا کہ میں وہاں نہیں جارھا ھوں، ادھر سے ھماری اماں باورچی خانے سے ھی چیخیں ارے جاتے جاتے ان سب کو ملکہ باجی کے گھر چھوڑتا ھوا چلا جا، میں بھی کام ختم کرکے تمھارے ابا کے ساتھ وہیں آتی ھوں، مجھے خیال آیا کہ آج تو واقعی کوئی خاص ھی ڈرامہ نشر ھونے کا دن تھا یہ تو بڑی مشکل ھوگئی، اب کیا کیا جائے !!!!!!!!!!!!!!

اب پوری ٹیم کو مجبوراً لے کر نکلنا پڑا، ارے بھیا آج یہ چمک چمکا کر کہاں نکلے ایک بہن نے مجھے ٹوکتے ھوئے کہا اور میں نے فوراً ڈانٹ دیا اور غصہ سے کہا تم سے مطلب، اور یہ کہتے ھوئے انہیں باجی کے گھر باھر دروازے پر چھوڑا اور ان ھی کے عیں گھر کے دروازے کا سامنے وھی ملٹری کی دیوار سے ٹک کر کھڑا ھوکر کچھ خیالات میں گم کچھ سوچنے لگا، جہاں کچھ دیر پہلے ھی بارش کے دوران شاید چند ان لمحات میں ایک کسی خوبصورت شریک سفر کی آنکھوں میں ایک میرے سہانے خواب کی ایک جھلک دیکھی تھی !!!!!!!!!

میں تو وھاں کھڑا انتظار ھی کرتا رھا، کہ شاید ایک اور جھلک کا کوئی معجزہ ھی ھوجائے لیکن وہ تو نہیں بلکہ والد صاحب وارد ھوگئے، پیچھے سے ھاتھ رکھ کر ھاتہوں سے اشارہ کیا کہ کدھر کھوئے ھوئے ھو، اور یہ کہتے ھوئے چلے گئے، جب کافی انتظار کے بعد کچھ اِدھر اُدھر سے آگے پیچھے ھر طرف نظر دوڑائی کہیں بھی وہی چہرہ نظر نہیں آیا، مگر میں اسے گھر جاکر ڈسٹرب کرنا نہیں چاھتا تھا، اور یہ بھی ھوسکتا تھا کہ جو میں اپنے دل میں سوچ رھا تھا وہ خیال بالکل غلط ھو، مگر میرا دل دوسری طرف سے یہ بھی کہتا تھا کہ اس کی نظریں کچھ نہ کچھ تو کہہ رھی تھیں اور میری اندر ایک ھلچل سی مچی ھوئی تھی، اور اتنی ھمت بھی نہیں تھی کہ اس سے جاکر کچھ پوچھ سکوں -

لیکن کچھ ھمت کی اور ان کے گھر میں چلا ھی گیا، وھاں پر ریڈیو پر ڈرامے کا آخری حصہ نشر ھورھا تھا، اور کسی نے بھی میری ظرف دھیان نہیں دیا، سب بہت انہماک سے ڈرامہ سننے میں مشغول تھے، بہں بھائی بھی موجود تھے اور والدہ نہیں تھیں، وہ شاید خالہ کے ساتھ مصروف گفتگو تھیں اور خالو بھی آنکھ میں ایک طرف جھوٹی دوربین لگائے لالٹین کی روشنی میں شاید ایک ھاتھ کی گھڑی کھولے اسے ٹھیک کرنے کی کوشش میں لگے ھوئے تھے، میں ایک کونے میں بیٹھا کسی اور سوچ میں گم تھا،

باجی نے کہا کہ کہاں تھے، اتنا اچھا ڈرامہ تھا، اور تم نے سارا ڈرامہ نکال دیا، میں نے آہستہ سے جواب دیا کہ ادھر میرے ساتھ ھی ڈرامہ ھوگیا تو کیا ڈرامہ سنتا، انہوں نے سنا نہیں اور میں دور سے ھی زادیہ کی ظرف ٹکٹی لگائے دیکھ رھا تھا کہ کوئی اشارا تو مل جائے مگر کوئی ایسے حالات یا کوئی اسکی طرف سے ایسی بات نظر نہیں آئی، بلکہ مجھے دیکھتی ھی بولی آج کیا بات ھے لگتا ھے کچھ تمھارا دماغ کام نہیں کررھا ھے، فوراً میرے پاس آئی اور کہنے لگی شاید وہ بالکل مجھے دیکھ کر سنجیدگی سے بولی کیوں کیا طبعیت خراب ھے، میں نے جواب دیا کہ نہیں !!! مگر تم یہ بتاؤ کہ تم باھر سخت بارش میں کیا کررھی تھی، اس نے جواب دیا کہ واقعی آج تمھارا دماغ چل گیا ھے، میں تو شام سے باھر نکلی ھی نہیں، مگر یہ تو پتاؤ کہ آج یہ چمک چمکا کر کہاں سے آرھے ھو یا جارھے ھو، آج تم نے ڈرامہ بھی پورا نہیں دیکھا -

میں اسے کیا بتاتا، وہ تو کوئی بھی بات سنجیدگی سے لے ھی نہیں رھی تھی، بلکہ مذاق پہ مذاق کئے جارھی تھی اور سب میرا ھی مذاق اڑا رھے تھے، ارر ملکہ باجی بھی کسی اور کام میں مصروف تھیں، آج کوئی بھی میری سننے کو تیار بھی نہیں تھا، جب کسی سے کوئی لفٹ نہیں ملی تو سیدھا خالو کے پاس ھی پہنچ گیا اور انھیں گھڑی بناتے ھوئے دیکھنے لگا وہ مجھے دیکھے بغیر ھی بولے!!!! کیا بات ھے بیٹا !!!!! آج لگتا ھے کہ کوئی بھی تمہیں لفٹ نہیں کرارھا، کیا کسی سے کچھ جھگڑا ھوا ھے، میں نے کہا نہیں تو !!!! بس آج میرے دل کو کچھ بھی اچھا نہیں لگ رھا ھے، اکثر میں ان کے ساتھ بھی کافی فری ھوکر باتیں کرتا تھا اور واقعی جب باجی یا زادیہ سے کسی بھی بات پر جھگڑا ھوجاتا تو بس میں خالو کے پاس پہنچ جاتا وہ نہیں ھوتے تو انکی نانی کے پاس جاکر خوب دونوں کی شکایتیں لگاتا اور یہ بچپن سے ھی ایسا چلا آرھا تھا اور اب ھم سب بڑے بھی ھوگئے تھے لیکن حرکتیں وھی بچپن کی تھیں اور خالہ تو دونوں طرف سے ھی بولتی تھیں غرض کہ وہ پوری فیملی مجھے دل وجان سے چاھتی تھی اور میں بھی ان سب کے بغیر نہیں رہ سکتا تھا -

اگر کالج سے آنے میں یا کہیں اور سے بھی اگر مجھے آنے میں دیر ھوجاتی تو یہ دونوں دروازے پر اپنی نانی یا امی کے ساتھ میرا بےچینی سے انتظار کرتی ھوئی ملتیں، اور باجی تو میرا لحاظ کئے بغیر کان سے پکڑ کر اندر لے جاتیں اور سب کے سامنے مجھے بہت ڈانٹتیں اور اس وعدہ پر کہ آئندہ ایسا نہیں ھوگا مجھے چھوڑ دیتی اور اس وقت یہ ضرور کہتیں !!!!! کہ جاؤ گھر کپڑے بدل کر آؤ آج تمھاری پسند کی ایک چیز بنائی ھے، اگر میں غصہ میں نہیں بھی آتا تو یہ دونوں میرے گھر پر ھی کھانا وغیرہ لے کر پہنچ جاتیں، خیر کے ھماری یہ دونوں فیملیز کے آپس میں بہت اچھے اور گہرے تعلقات تھے، اور میں تو خاص کر زیادہ تر وقت ان کے ھی گھر میں گزارتا تھا،

اب مجھے ایک اور بے چینی کھائے جارھی تھی اور جانے کیوں میرا دل یہ کہتا تھا کہ زادیہ بھی وھی میرے بارے میں تاثرات رکھتی ھے جو میرے دل میں ھے، دوسرے دن کالج بھی بے دلی سے گیا اور فوراً بغیر کسی پیریڈ میں گئے واپس گھر کی طرف پلٹا اور گھر میں آکر کپڑے وغیرہ تبدیل کرکے سیدھا ان کے گھر پہنچا باجی گھر پر ھی تھیں اور زادیہ اسکول گئی ھوئی تھی اس کا بھی یہ سال میٹرک کا ھی تھا، باجی نے مجھے اپنے پاس بلایا اور مجھے خاموشی سے یہ کہا کہ تمھارے اباجی نے کل ھمارے گھر میں ایک بات کہی تھی!!! میں فوراً گھبرا گیا کہ اب یہ کونسی مصیبت آگئی تھی اور باجی کے چہرے پر بھی بہت ھی سنجیدگی کے آثار تھے !!!!!

وہ کہنے لگیں کہ تم اپنی اس بات پر اپنی بالکل دل سے رائے دینا اور کوئی زبردست کی بات نہیں ھے، اگر تمھیں کوئی اعتراض نہ ھو تو کہوں !!!!! میں تو اور ھی پریشانی کا شکار ھوگیا، دماغ پہلے کہیں اور بھٹک رھا تھا اور باجی بھی ایک نئے مسئلے کے ساتھ مجھ سے پہیلیوں میں بات کرھی تھی، میں نے کہا!!!!! ارے کیا بات ھے کیوں مجھے پریشان کررھی ھو فوراً بولو !!!!! مگر وہ بار بار مجھے سسپنس میں ڈال دیتی تھیں اور بالکل سنجیدگی سے بات کررھی تھیں، اور میں تو بس ایک عجیب سی حالت سے دوچار تھا، اور دل میں یہی سوچ رھا تھا کہ کوئی بڑی ھی مصیبت کا شکار ھونے والا ھوں -

آخر کو انہوں نے بھی ایک لمبا سکوت توڑا اور اس وعدہ پر کہ یہ بات میں کسی سے نہ کہوں اور خاص طور سے زادیہ سے بھی نہیں، پھر یہ مجھے کہنے لگی کہ !!!!!!!!!!!!!!

کل تمھارے اباجی نے ھماری امی ابا سے مذاقاً یا سنجیدگی سے یہ کہا کہ میں آپکی چھوٹی بیٹی زادیہ کو اپنی بہو ضرور بناوں گا، میں بالکل ہکابکا ھی رہ گیا، ساتھ ھی مجھ سے پوچھا کہ!!! تمھارا کیا خیال ھے
میں نے کہا کہ باجی میں کیا کہہ سکتا ھوں، ابھی میں تو یہ فیصلہ کرنے کی پوزیشن میں نہیں ھوں، لیکن میں آپکی کسی بھی بات کو ٹال نہیں سکتا، جو بھی آپ کا مشورہ ھوگا میں اس پر عمل کرونگا، مگر کیا زادیہ اس کے لئے راضی بھی ھوگی یا نہیں !!!!!! باجی نے کچھ بھی جواب نہیں دیا !!!!!!!!

میرے تو دل میں بہت خوشی کے لڈو پھوٹ رھے تھے، اور جیسے ھی میں انکے گھر سے باھر نکلا تو وہ اسکول سے واپس آرھی تھی اور مجھے دروازے پر ٹکرائی، ارے آج تم کالج نہیں گئے !!!!! اس نے ذرا غصہ سے پوچھا !!!!ھم دونوں کی عمر میں کوئی خاص فرق نہیں تھا شاید وہ مجھ سے ایک یا دو سال چھوٹی ھوگی اور ھم دونوں زیادہ تر بچپن سے لڑتے ھی رھتے تھے، دل تو چاھا کہ کچھ بولوں موقعہ بھی تھا لیکن ھمت ھی نہیں ھوئی، اسکے غصہ کو دیکھتے ھوئے !!!! اور فوراً چیختی ھوئی اپنے گھر میں داخل ھوئی کہ!!!!!!!!!!

دیکھ باجی آج پھر اس نے کالج کی چھٹی کی ھے یہ کہتے ھوئے اندر چلی گی اور میں نے دل میں یہ سوچا رہ گیا کہ آخر یہ لڑکی کب سنجیدہ ھوگی !!!!!!!!!!!!!!!!!!!!
------------------------------------
جاری ھے،!!!!

عبدالرحمن سید
30-01-10, 08:25 PM
دیکھ باجی آج پھر اس نے کالج کی چھٹی کی ھے یہ کہتے ھوئے اندر چلی گی اور میں نے دل میں یہ سوچا رہ گیا کہ آخر یہ لڑکی کب سنجیدہ ھوگی !!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!

اب گھر کے روزمرٌہ کے کام کاج کی فکر تو تھی ھی نہیں، کیونکہ اب سب چیزوں کی ذمہ داری بس اب چھوٹے بہن بھائی پر آگئی تھی، اور کچھ میری اب کالج کی مصروفیات زیادہ بڑھ گئی تھی، اور کچھ بڑے ھونے کے ناتے اب چھوٹے اس قابل ھوگئے تھے کہ وہ گھر کے کاموں میں ھاتھ بٹا سکیں، بس کبھی کبھی زیادہ راشن لانے اور ماھانہ سودے سلف کیلئے والد صاحب اپنے ساتھ مدد کےلئے تھوک کے بازار ضرور لے جاتے، گھر کے علاؤہ محلے کے لوگوں کا سامان بھی فی سبیل اللٌہ لے کر آتے تھے اور تھوک کے حساب سے ھی تقسیم کرتے تھے، مگر اب نہ جانے مجھے یہ سب کچھ اچھا نہیں لگتا تھا، ایک تو کالج کا اسٹوڈنٹ دوسرے ذرا سوٹ بوٹ پہن کر کچھ ایسی عادت سی ھوگئی تھی کہ اس طرح کمر پر راشن کا اٹھانا اور گدھا گاڑی پر سامان لاد کر، پھر اس کے اُوپر بیٹھ کر سرعام سڑک پر سرپٹ دوڑے چلے آنا، ایسا لگتا تھا کہ میں بھی ان گدھوں کے ساتھ ساتھ، تمام پبلک اور سڑک کے بیچوں بیچ دوڑتا چلا جارھا ھوں،

مجھے اب بہت شرم آتی تھی، پیدل سفر گوارا تھا لیکن گدھا گاڑی پر مجھے اچھا نہیں لگتا تھا، مجھے یہ بھی ڈر لگتا تھا کہ کہیں کالج کے دوست مجھے دیکھ نہ لیں، اور جب بھی کوئی بس گدھا گاڑی کا برابر سے گزرتی میں فوراً ھی گردن جھکا لیتا، کہ میرا چہرہ کوئی دیکھ نہ سکے، راشن شاپ سے جو سودا لانا ھوتا تھا وہ میں ایک کرایہ کی ایک سائیکل لے کر چار پانچ چکر لگا کر سودا گھر پہنچا دیتا تھا اور ایک گھنٹے میں سارا سامان جس میں زیادہ تر چینی، شکر، چاول، اور آٹا وغیرہ شامل ھوتے تھے، اور اسی طرح میں نے سائیکل چلانا بھی سیکھ لی تھی، اور ھفتہ میں ایک دفعہ کرایہ کی سائیکل کسی نہ کسی بہانے سے لے کر خوب گھماتا تھا اور بچوں کو اس پر سیر بھی کراتا تھا -

اب اپنے آپ کو کچھ زیادہ ھی سنوارنے میں لگا رھتا تھا بالوں کے نئے نئے اسٹائیل بنانا، آٹھ آنے میں اس وقت بہتریں بال کٹتے تھے لیکن اگر والد صاحب کے ساتھ جاؤں تو وہ تو بالکل چھوٹے چھوٹے اور پیچھے اور سایڈ سے استرے سے سولجر کٹ بنوادیتے تھے لیکن میں نے جب سے کالج جانا شروع کیا تو اباجی کے ساتھ بال کٹوانا بھی جانا بند کردیا وہ تو وہان پر بھی تھوک کے بھاؤ ایک روپے کے چار کے حساب سے، اپنے سمیت سارے چھوٹے بھائیوں کے بال کٹوالیتے تھے اور ساتھ بال کاٹنے والے سےاسی دوران پوری دنیا کی باتیں بھی کرلیتے تھے، ویسے بھی جہاں جاتے وہ شروع ھوجاتے تھے یہاں تک کہ وہ گدھا گاڑی والے کے ساتھ بھی اپنی راستہ میں ھی رشتہ داری بنا لیتے تھے اور گھر پہنچنے پر اسے چائے پانی تو کم از کم پلا کر ھی چھوڑتے تھے، کبھی کبھی کھانے کا اگر وقت ھوتا تو اس کے ساتھ بیٹھ کر کھانا بھی کھاتے تھے -

اب تو میں اپنے اندر ھی ایک بڑے ھونے کی وجہ سے ھمیشہ ایک ھیرو کی تصوراتی دنیا میں کھویا رہتا تھا اور اس محلے میں ایک میں ھی تھا جو کالج جارھا تھا اس کی وجہ سے بھی کچھ لوگ میری قدر بھی کرتے تھے، جیسے ایک مثال ھے کہ “اندھوں میں کانا راجہ“ اور چھوٹے تو مجھ سے اب مرعوب بھی رھنے لگے تھے، کچھ فلموں کا بھی اثر تھا، اپنے آپ کو اسی فلمون کے ھیرو کے اسٹائیل میں رکھتا تھا، ھر مہینے ایک نئے فیشن کا جوڑا ضرور ابا یا امی سے رو دھو کر ضرور بنوالیتا تھا چاھے وہ لنڈابازار کا پرانا ھی کیوں نہ سلا ھوا ھو، اب تو میں بھی کافی فیشن کا ماسٹر ھوگیا تھا، سیلیکشن ایک سے ایک، پتہ ھی نہیں چلتا تھا کہ یہ پرانا مال ھے، ایک آدھ بلیک چشمہ بھی جیمز بانڈ کی طرح آنکھوں پر چڑھا لیتا تھا، اور ھمیشہ باھر جانے سے پہلے اکیلے میں آینے آپ کو آئینے کے سامنے رکھ کر کافی دیر تک بناتا اور سنوارتا رھتا تھا،

اور ایک چھوٹی کنگھی ضرور اپنی پتلون کی پچھلی جیب میں ضرور رکھتا تھا جہاں موقعہ ملتا کسی سائیکل والے کے شیشے میں یا کسی بھی مکان کے کھڑکی کے شیشے میں دیکھ کر بالوں کو دوبارہ سنوار لیتا اور کبھی کبھی کسی کی کھڑکی کے شیشے میں کنگھی کرتے کرتے پیچھے سے صاحب مکان سے مار بھی کھا لیتا تھا، اگر وہ مجھے جانتا نہ ھو تب، کیونکہ پیچھے سے تو پتہ ھی نہیں چلتا تھا کہ کون ھے بعض اوقات تو لگتا تھا کہ اندر جھانک رھا ھوں، بس ایک خراب عادت سی پڑ گئی تھی اور کیونکہ بالوں کو تو ھمیشہ سیٹ کر کے رکھنا پڑتا تھا، کہ نہ جانے کب، کہاں، کسی سے ملاقات ھوجائے، مگر کسی بھی لڑکی کو دیکھتے ھی اپنی تو سیٹی ھی گم ھو جاتی تھی-

گھر میں اب تو رات کو سونے سے پہلے فلموں کے ڈائیلاگ ضرور یاد کرنے کی کوشش کرتا جسکا کہ سب بہں بھائی میرا مزاق بھی اڑاتے، لیکن میں کسی کی پرواہ نہیں کرتا تھا سوائے اباجی کے، مگر اباجی کا یہ فیصلہ کہ وہ زادیہ کو اپنی بہو بنائیں گے، یہ انہوں نے گھر پر اپنا کبھی کوئی بھی اس قسم کا اظہار نہیں کیا تھا کئی دفعہ اماں سے پوچھنے کی کوشش بھی کی لیکن ھمت جواب دے گئی، ویسے وہ ھمیشہ ان دونوں بہنوں کی تعریف ضرور کرتے تھے وہ دونوں واقعی بہت خوبصورت اور ساتھ ھی خوب سیرت بھی تھیں، مین تو بس ایک دبلا پتلا سا اور بس کیا کہوں کہ گزارا ھی تھا، مجھے ان کے ساتھ اپنے آپ کو اس مناسبت سے رشتہ کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا کیونکہ ان کے رکھ رکھاؤ اور رھن سہن لباس کی نوعیت اور ان کا سیلکشن کا وہ خود بھی اور انکے والد بھی بہت خیال رکھتے تھے اور انکی آمدنی بھی اچھی خاص لگتی تھی، اسکے علاؤہ وہ ان کے والد ان دونوں کا بہت ھی ان کی ھر خواھش کا احترام کرتے تھے، اور سات ساتھ میری بھی کئی خواھشیں ان کے کہنے پر پورا کرتے تھے، اور ویسے بھی مجھے اپنی اولاد کی طرح بہت زیادہ پیار بھی کرتے تھے -

مگر جیسے جیسے دن گذرتے جارھے تھے، میرے دل میں زادیہ کیلئے ایک کونے میں محبت تیزی سے پروان چڑھتی جارھی تھی، روز سوچتا تھا کہ آج اس سے کچھ نہ کچھ کہہ کر ھی رھونگا، لیکن جیسے ھی آمنا سامنا ھوتا سارے ڈائیلاگ ھی بھول جاتا اس کے سامنے نہ جانے کیوں ھمت ھی نہیں پڑتی تھی، ھالانکہ ھم دونوں ایک دوسرے سے بہت زبردست بحث کرتے تھے اور خوب باتیں کرتے تھے کبھی کبھی میں موضوع کو فلموں کی طرف بھی موڑ لیتا تھا اور کسی بھی فلم کی کہانی بھی سنانا شروع کردیتا تھا، تمام فلموں کے ھیرو کے ڈائیلاگ بھی رومانی انداز میں بہت بہترین طریقے سے ادائیگی بھی کرتا اور مجھے اکثر وہ فلم اسٹار کمال سے ملا دیتے، اور یہ بھی کہتے کہ اگر تم تھوڑے سے موٹے ھوجاؤ تو کسی بھی فلمی اداکار سے کم نہیں ھوگے -

کیونکہ میں ڈائیلاگ ڈیلیوری میں شروع سے ھی ماسٹر تھا لیکن جب اصل زندگی میں جب کسی کے سامنے بولنے کا موقعہ ھاتھ آیا تو زبان ھی گنگ ھوگئی، نہ جانے کیوں !!!!!!!!!!!

وقت تیزی سے گزرتا جارھا تھا اور ایک ایک دن مجھ پر بھاری تھا اور مجھے اپنے آپ سے شرم آتی تھی کہ صرف ایک دو لفظ صرف کنفرم کرنے کیلئے اپنی زبان کھول نہیں سکتا تھا، ایک دفعہ تو ھمت کر ھی لی بہت اچھی طرح کچھ ڈائیلاگ یاد کرکے ان کے گھر پہنچ گیا اور ویسے بھی اس گھر کے ایک میں ممبر کی حیثیت سے ھی، زیادہ تر وہیں رہتا تھا، سب سے بہت زیادہ فری تھا خوب مذاق بھی کرتے تھے ایک دوسرے سے جھگڑا بھی کرتے تھے، لیکن جو میں اس سے کہنا چاہتا تھا وہ نہیں کہہ سکتا تھا، اس دن تو سوچ ھی لیا اور میں اس کے پاس بیٹھا ھوا اپنی تمام کوششیں کرڈالیں کہ کچھ کہوں مگر چہرہ سرخ ھوگیا پسینے آگئے مگر وہ ڈائیلاگ منہ سے بالکل نہیں نکلے، اس نے بھی مجھ سے بڑے پیار سے پوچھا کہ “میں نے یہ محسوس کیا ھے کہ تم مجھ سے کچھ کہتے کہتے رک جاتے ھو اور آج بھی تمھاری حالت کچھ ایسی ھی لگ رھی ھے“، مجھ میں کچھ ھمت آئی اور!!!!!

کچھ کہنے کےلئے زبان کھولی ھی تھی کہ اچانک انکی اماں نے آواز دے ڈالی سارے موڈ کا ستیاناس ھوگیا، کچھ انتظار کے بعد پھر وہ بھاگ کر میرے پاس آئی اور پوچھا کہ اب بتاؤ کہ کیا بات ھے، پھر میں نے تھوڑی سی ھمت کی لیکن پھر زبان میرے جذبات کا ساتھ نہیں دے رھی تھی، پھر دوبارہ اس نے مجھ سے کہا دیکھو میں کسی سے کچھ نہیں کہوں گی اور نہ ھی تمہاری کسی بات کا برا مانوں گی، کہو تو سہی، یہ بھی ھوسکتا تھا کہ وہ میرے کہنے سے پہلے ھی سمجھ چکی تھی لیکن وہ مجھ سے ھی کہلوانا چاہ رھی ھو،!!!

جب اس نے بہت ضد کی تو میرے دل نے کہا کہدے اور کہتے کہتے زبان کچھ ڈر کے پھسل گئی، اور کچھ منہ سے جملے نکلتے نکلتے کچھ یوں بدل سے گئے،

“ارے بس کچھ نہیں بس تمھارے بارے میں ایسے ھی سوچ رھا تھا کہ اگر تمھاری شادی ھوجائے گی تو تمھاری مجھے بہت یاد آئیگی“ کچھ تھوڑی سی ھمت اور پکڑی اور کہا کہ “ فرض کرو کہ اگر تمھیں کوئی یہ کہے کہ وہ تم سے شادی کرنا چاھتا ھے تو تمھارا جواب کیا ھوگا“

یہ کہہ تو دیا لیکن میری جان ھی نکل گئی اور میں اس کے جواب کا انتظار ایسے کررھا تھا جیسے میں نے کوئی پہیلی بوجھی ھو اور دماغ خراب سوال بھی تو ایسے ھی کیا تھا اپنے آپ کو اندر ھی اندر برا بھلا کہہ رھا تھا کہ باھر تو بڑا رومانٹک ھیرو بنتا ھے اور ادھر اسکے سامنے بالکل بھیگی بلی کی طرح ھو جاتا ھے -

اس نے ھنستے ھوئے بغیر کسی جھجک کے کچھ اس طرح کے ملے جلے الفاظوں میں کہا کہ “دیکھو بدتمیز!!! اوٌل تو میں شادی کرونگی ھی نہیں، جسکی وجہ سے تمھیں مجھے یاد کرنے کی نوبت آئے اور اگر کسی نالائق نے اگر اس قسم کی حرکت بھی کی اور یہ الفاظ کہنے کی ھمت بھی کی تو تم دیکھنا اس کے گال پر اتنے زور سے تھپڑ ماروں گی کہ وہ زندگی بھر یاد کرے گا اور ساتھ اسکا خاندان بھی ھمیشہ روتا ھی رھے گا“

“ارے باپ رے“ میں نے دل میں‌ کہا اور فورآً اپنے گال پکڑ لئے اور لگا اپنے گال سہلانے، اور رھی سھی جو ھمت پکڑی تھی وہ بھی کھڈے میں ھی چلی گئی !!!!!!!!!!!!!

اور وہاں سے بھاگنے کی ھی سوچ رھا تھا کہ اس نے اپنی باجی کو آواز دے ڈالی اور جو رھی سھی کسر باقی رہ گئی تھی وہ بھی پوری ھونے جارھی تھی، !!!!!!!!!!!!!!
---------------------------------------
اس وقت یہ کیا !!!!! میں نے اپنے ھی گلے میں بلی کی گھنٹی باندھ لی تھی، جیسے ھی اس نے باجی کو آواز دی، ادھر میں نے اس سے کہا کہ دیکھو تم نے مجھ سے وعدہ کیا تھا کہ کسی کو بھی کچھ نہیں کہو گی تو کیوں باجی کو بلا رھی ھو !!!!!!

اتنے میں باجی پہنچ گئی اور زادیہ کو موقعہ مل گیا کہ مجھے تنگ کرنے کا، وہ اکثر کوئی بھی موقعہ ھاتھ سے نہیں جانے نہیں دیتی تھی، بلکہ میں بھی اس کے معاملے میں کسی سے کم نہیں تھا اور ھم دونوں کو اگر کوئی بھی ایک دوسرے کے خلاف کچھ کہنے کا موقعہ مل جائے تو بس سمجھ لیجئے ایک قیامت آجاتی تھی، دونوں بہت لڑتے بھی تھے اور ایک دوسرے کے بغیر رہ بھی نہیں پاتے تھے،!!!!!

باجی جیسے ھی پہنچیں، زادیہ نے کچھ کہنے کو منہ کھولا، اور میں نے کچھ اپنی مسکین سی صورت بنا کر دیکھا، اس نے اس وقت زندگی میں پہلی مرتبہ اپنی بات کو پلٹ دیا اور دوسری طرف اس نے اسکا کوئی اور کچھ کہہ کر رخ موڑ لیا، ورنہ تو مجھے بہت باجی کے سامنے شرمندگی اٹھانی پڑتی، لاکھ لاکھ شکر ھے کہ بال بال بچ گئے !!!!!!!!

آج کل کا تو پتہ نہیں لیکن اس وقت کوئی کتنا ھی کیوں نہ بہادر ھو سخت جان کیوں نہ ھو اور چاھے کتنا ھی بڑا اداکار یا ڈبیٹر ھی کیوں نہ ھو اس میدان میں وہ ھار ھی جاتا تھا، کبھی بھی کسی لڑکی سے خلوصِ دل سے اظہار محبت کردینا، میں سمجھتا ھوں کہ بڑے بڑے سورما حضرات کی بھی جان نکل جاتی ھوگی یہ کوئی اتنا آسان نہیں ھے، یہ واقعی ایک بہت بڑا مشکل مرحلہ ھے !!!!!!! چاھے کوئی بھی اس کو مانے یا نہ مانے ‌؟؟ لیکن شرط یہی ھے کہ خلوص دل سے اعتراف اور نیک نیتی سے اظہار ھو جب !!!!!!!!

اس کے بعد تو کچھ دنوں کے لئے میں ‌نے خاموشی اختیار کرلی، مگر اسے تو مجھے بلیک میل کرنے کا موقعہ ھی مل گیا، مجھے ھر وقت ڈراتی بھی رھتی تھی، میں اس وقت واقعی کچھ ڈرپوک بھی تھا اور اس معاملے میں تو کچھ زیادہ ھی، مگر ایک دن تو میں نے یہ بالکل طے ھی کرلیا کہ آج کے بعد خامخواہ کسی سے ڈرنے کی ضرورت نہیں ھے، کیونکہ اس دن کوئی شاید اسی قسم کی فلم دیکھ کر آیا تھا اور اس کے ھیرو کی طرح میں نے بھی سوچ لیا تھا کہ چاھے کچھ بھی ھو جائے اس دفعہ اس لڑکی سے اقرار کرا کے ھی رھوں گا،!!!!!

دوسرے دن یہ لڑکیوں کے ساتھ ھمارے گھر کے صحن میں کھیل رھی تھی اور اس کے ھاتھ میں ایک گیند تھی، اسکو اپنی طرف متوجہ کرنے کے لئے ایک مجھے ایک شرارت سوجھی اسکے ھاتھ سے گیند چھین کر اِدھر اُدھر بھاگنے لگا اور وہ میرے پیچھے گیند واپس لینے کے چکر میں، اور باقی لڑکیاں بھی اسکو ایک کھیل کی ظرح تفریح لینے لگی، اور ان کا تو کھیل ختم ھوگیا اور ھم دونوں کا کھیل شروع، وہ بھاگتے بھگتے تھک گئی اور دیوار کے ساتھ ھانپتے ھوئے بیٹھ کر اپنا سر گھٹنوں پر رکھ کر زور زور سے اپنی سانسوں کو سمیٹنے لگی،!!!!!

اور جیسے ھی وہ کچھ اپنے آپ کی سانسوں کو درست کر پائی، ویسے ھی پھر وہ تیزی سے اٹھ کر میرے پیچھے بھاگی لیکں میں بھی ایک شاطر تھا، میں نے بھی فوراً گیند کو جیب میں ڈال کر،ایک چھلانگ لگائی کھڑکی کو پکڑ، دیوار کو پھلاندتا ھوا اپنے گھر کی چھت پر جا پہنچا اور وہ مجھے دیکھتی ھی رہ گئی، اور وہ لڑکی ایسی تھی کہ کبھی ھار نہیں مانتی تھی اور اس میں خودی کا جذبہ کوٹ کوٹ کر بھرا ھوا تھا، اور اسکی یہ عادت مجھے بہت پسند بھی تھی اور اسی کی کمزوری سے میں ناجائز تنگ بھی بہت کرتا بھی تھا اور بعد میں اسی کے حق میں دستبردار بھی ھوجاتا تھا، اور وہ بھی اس وقت تک مجھے نہیں چھوڑتی تھی کہ جب تک میں ھار مان نہیں جاتا !!!!!!!

میں چھت پر اور وہ نیچے، وہ بلکل بضد تھی کہ گیند لے کر ھی جائے گی اور میں نے بھی آج ایک اور موقعہ کو ھاتھ میں جکڑ رکھا تھا، باقی ساری اس کی ساتھی لڑکیاں تو تھک ہار کر چلی گئی،لیکن وہ نیچے ٹس سے مس نہیں ھوئی گرمیوں کے دن تھے، دونوں کا برا حال بھی تھا، اس نے کہا کہ دیکھو مجھے تنگ مت کرو اور تمھیں تو پتہ ھے کہ میں بہت ضدی ھوں، گیند تو میں لے کر ھی جاؤں گی، کوشش تو اس نے بہت کی اوپر چھت پر چڑھنے کی، لیکں کامیابی نہیں ھوئی اُدھر میرا ایک دوست اپنی چھت پر پتنگ اڑا تے آڑاتے ھم دونوں کا تماشا بھی دیکھ رھا تھا، اور وہ بھی میری حمایت میں مجھے خوش کررھا تھا،

اسی کشمکش میں کافی دیر ھوچکی تھی آخر کو میں نے ھمت کر کے کہا، ھاں ایک شرط پر گیند واپس کروں گا، !!! اس نے پوجھا کہ، وہ کیا!!!!! میں نے ڈرتے ڈرتے کہا کہ تم ھاں کہو!!!!!!! اس نے غصہ سے کہا کہ کس بات کیلئے!!!! بس تم ھاں کہو، میرا بھی دماغ خراب کہ میں کس بات کیلئے اس سے ھاں کہلوا رھا ھوں، وہ الفاظ تو منہ سے نکلے ھی نہیں اور اتنے میں کچھ کہنے کی ھمت پکڑتا وہ غصہ میں پیر پٹکتی ھوئی اپنے گھر کی طرف چل دی!!!
یہ آج پہلی بار ھوا کہ وہ اپنے مقصد کو پائے بغیر اپنی ضد کو پورا کئے بغیر ھی چلی گئی، جس کا مجھے آج تک افسوس ھے!!!!!

کیونکہ میں ھمیشہ سے اسکی جیت کو اپنی جیت ھی سمجھتا تھا اور اکثر و بیشتر ھم دونوں بہت بحث کرتے تھے اور وہ اپنی بات کو ھمیشہ مجھ سے منوا کر رھتی تھی اور میں آخر ھار جاتا تھا پھر اسکے چہرے پر جو مسکراھٹ آتی تھی وہ میرے لئے ایک کسی نعمت سے کم نہیں ھوتی تھی، بظاھر میں اس سے کتنا ھی کیوں نہ ناراض ھوں لیکن جب میں اسے خوش دیکھتا تھا میرا دل اندر سے جھوم رھا ھوتا تھا، اور پورے محلے میں ھم دونوں کی شرارتیں بہت مشہور تھیں، اور اکثر لڑکے مجھ سے ناراض بھی ھوتے تھے کہ میں اس سے ڈر کر کیوں ھار مان جاتا ھوں، !!!!!!!!!!!!!

ھان تو بات ھورھی تھی کہ اس نے زندگی میں پہلی بار ھار مان کر واپس جارھی تھی، جسکا مجھے بہت دکھ ھوا، میں بھی فوراً چھت سے کودا کچھ چوٹ بھی لگی لیکن چوٹ کی پرواہ کئے بغیر اس کے پیچھے بھاگا مگر جب تک وہ اپنے گھر میں داخل ھوچکی تھی، جیسے ھی میں نے ان کے گھر کے مین دروازے کا پردہ آٹھایا تو کیا دیکھتا ھوں سامنے وہ اپنی باجی کے کان میں کچھ کہہ رھی تھی اور باجی کا تو غصہ سے چہرہ سرخ ھورھا تھا، نہ جانے اس نے باجی کو کیا کہہ دیا تھا میرے تو جیسے پیروں میں دم ھی نہیں رھا، اس سے پہلے کے میں کچھ کہتا باجی نے فوراً میرے کانوں کو پکڑ لیا اور لگی مروڑنے اور میں اوئی ھائے کرنے لگا، نہ جانے ان کو میرے کان اتنی جلدی اور فوراً کیسے قابو میں آجاتے تھے، کہ میں کسی طرح بھی جان چھڑا نہیں سکتا تھا، آج بھی جب باجی کی یاد آتی ھے تو میں اپنے کان ضرور سہلانے لگتا ھوں، !!!!!!!!

وہ میرے کان مروڑتی جارھی تھیں اور ساتھ پوچھتی بھی جارھی تھیں کہ مجھے بھی تو بتاؤ تم نے زادیہ سے کیا کہا، !!!! میں نے بھی نیچے تکلیف میں جھکتے ھوئے کہا کہ کچھ بھی تو نہیں کہا، بس یہ گیند چھپائی ھوئی تھی لو یہ واپس لے لو!!!!!!!! مجھے نہیں چاھئے اس نے اپنے آپ کو مظلوم بناتے ھوئے کہا اور کہتے ھوئے اندر کمرے میں چلی گئی اور مجھے معلوم تھا کہ وہ بہت خوش ھوگی، کیونکہ مجھے سزا جو مل گئی، لیکن میں یہ سوچ سوچ کر پریشان تھا کہ اس نے کیا کہا تھا، میں نے بہت کوشش کی کہ باجی سے پوچھوں لیکن انہوں ‌نے ٹال دیا اور سنجیدہ سی ھوگئیں، بس یہی کہا کہ تم گھما پھرا کر بات نہیں کیا کرو جو بھی ھو صاف صاف کہہ دیا کرو، اس ظرح کوئی بھی بات کا غلط مظلب لے سکتا ھے،

میں سوچتا ھی رہ گیا کہ میں نے کونسی غلط بات کہدی، صرف اتنا ھی کہا تھا کہ “ ایک شرط پر گیند واپس کرونگا اگر تم ھاں کہو گی“ اور کس بات کےلئے ھاں کہو گی وہ تو میں کہہ ھی نہیں سکا، کئی دنوں تک ھم تینوں میں سنجیدگی ھی رھی، میں بھی کافی پریشان سا ھی تھا، مگر پھر آھستہ آھستہ حالت معمول پر آگئے، میں نے معافی بھی مانگی، پھر سے وھی رونقیں بحال ھوگئیں اور ھم تینوں پہلے سے بھی زیادہ ایک جان ھوگئے، مگر میں نے توبہ کرلی کہ اب کبھی بھی ایسا کچھ نہیں کہوں گا جس سے اسے کسی بات کا صدمہ پہنچے، میں بھی تو اتنا بےوقوف اور ڈرپوک تھا کہ میرے منہ سے کوئی ایسے سلجھے ھوئے ھوئے الفاظ نہیں نکل سکتے تھے جس سے کہ وہ مجھ سے مرعوب ھوجائے، جبکہ میں فلموں کے رومانٹک ڈائیلاگ ایسے زبانی اور بالکل ھیرو کی طرح جذباتی انداز میں بولتا تھا کہ سب حیران ھوتے تھے اور وہ بھی ان دونوں کے سامنے لیکن ایسے ھی ڈائیلاگ اپنے دل سے اسے اکیلے میں کہتے ھوئے موت آتی تھی،!!!!!!!

بعد میں ایسی کوئی ھمت تو نہیں پڑی لیکن میں خوش تھا کہ وہ مجھ پر پہلے سے زیادہ بہت مہربان تھی اور بعض اوقات میں نے یہ بھی محسوس کیا کہ وہ میرے بغیر کھانا بھی نہیں کھاتی تھی جبکہ باجی مجھے میرے گھر سے یا باھر کہیں سے بھی زبردستی پکڑکر لاتی پھر ھم تینوں مل کر کھانا کھاتے، اور ھمیشہ اپنی امی سے وہ میرے پسند کے کھانا پکواتیں، اب تو ناشتہ بھی ان کے گھر پر ھونے لگا تھا اگر مجھے کالج جانے کو دیر ھوجائے تو وہ دونوں دروازے پر آجاتیں اور دونوں کے ھاتھ میں الگ الگ ایک ایک ناشتہ کا پراٹھے میں انڈا سے لپٹا ھوا نوالا ھوتا اور دونوں بضد ھوتے کہ پہلے میرے ھاتھ کا نوالا کھاؤ،

کئی دفعہ تو میں دونوں کی ضد کے آگے پریشان بھی ھوجاتا کہ ایک کہتی کہ مجھے دیکھو تو دوسری کہتی کہ نہیں میں بڑی ھوں صرف تم مجھے دیکھو گے، جب کچھ تکرار زیادہ ھوجاتی تو فوراً نانی بول پڑتیں تھیں کہ ارے تم کہیں کسی کو نہیں دیکھو گے بس مجھے دیکھو نانی بیچ میں آجاتیں تھیں، وہ بھی ھم تینوں کو اس طرح ھنستے کھیلتے، ایک دوسرے پر جاں چھڑکتے، دیکھ کر بہت خوش ھوتیں تھیں اور ساتھ انکے والدیں بھی مجھے بہت چاھتے تھے، نانی جان اور ان کی امی تو مجھے ھمیشہ میرے ماتھے پر پیار کرتی رھتی تھیں اور نظر بھی اتارتی تھیں، اور انکے ابا کبھی کبھی ایسا بھی کہتے کہ اتنا بھی پیار نہ کرو کہ اگر یہ نہ ملے تو تم لوگ برداشت نہ کرسکو کیونکہ آخر کو یہ ھماری اولاد تو نہیں ھے، کہیں ان کے والدین کبھی اعتراض نہ کر بیٹھیں اور پھر سب کی آنکھوں میں آنسو آجاتے اور میں ھی کہتا کہ چاھے کچھ بھی ھوجائے میں آپلوگوں کو کبھی نہیں چھوڑوں گا،

اب تو میں اپنے گھر میں سونے ھی جاتا تھا وہ بھی رات گئے تک ان کے ساتھ ھی رھتا، کالج جانا اور واپس آکر اپنے گھر میں کپڑے بدل کر ان کے پاس پہنچ جانا اور بس بہن بھائی کے ذرئیے امی کے بلاؤے پر گھر جانا اور جو بھی کام ھوا اسے پورا کرکے سیدھا پھر ان کے گھر پر پہنچ جاتا اور ھمارے گھر پر بھی کوئی اب تک امی ابا کی ظرفسے کوئی ناراضگی کا کوئی ایسا اظہار تو نہیں ھوا تھا لیکں ھماری امی کبھی کبھی یہ کہتی ضرور تھیں کہ کبھی اپنے گھر میں بھی ٹک جایا کرو، لیکن میں ان کی بات کو ھمیشہ نظر انداز کردیتا تھا، جو میرے لئے کچھ دنوں بعد میں بہتر ثابت نہیں ھوا،

اس کے علاؤہ گھومنے پھرنے اور انکے ساتھ فلمیں بھی دیکھنے جانے لگا اور انکی ھر باھر کی تقریبات اور دعوتوں میں بھی میں ان کے ساتھ ھی رھتا تھا، غرض کہ نہ ان کو میرے بغیر چین اور نہ ھی مجھے، میں کہیں بھی ھوتا تو وہ دونوں مجھے ڈھونڈ نکالتیں ایک دفعہ میں ان کے گھر جانے ھی والا تھا کہ وہ مجھے ڈھونڈتی ھوئی میرے گھر پہنچ گئی، وھاں میں ایک پڑوسی کی لڑکی کے ساتھ باتیں کررھا تھا کہ پیچھے سے یہ زادیہ پہنچ گئی اور کچھ کہے سنے بغیر ھی غصہ میں واپس پلٹ گئی،

اب ایک اور مجھے مشکل سامنے نظر آرھی تھی، میں تو گھبرا گیا کہ اب کوئی ایک اور نئی مصیبت کا سامنا ھونے والا ھے، کیونکہ جس لڑکی سے میں بات کررھا تھا، اس سے زادیہ بہت ھی زیادہ چڑتی تھی اور ھمیشہ مجھے اس سے دور رھنے کے لئے بھی کہتی تھی!!!!!!!!!!!!
-------------------------------------------------
ایسا میرے ساتھ ھی کیوں ھوتا ھے،؟؟ جیسے ھی جتنا حالات کو بہتر بنانے کی کوشش کرتا ھوں‌، کوئی نہ کوئی مسئلہ کھڑا ھو جاتا ھے، خیر اب آنے والے طوفان کا تو مقابلہ کرنا ھوگا،!!!!! سوچو سیدصاحب ورنہ تو موسم حد درجہ خراب ھونے کے امکان ھیں، لڑکیوں کی تو ایک مشکل یہ ھے کہ ذرا ذرا سی بات پر بغیر کچھ سمجھے ھوئے شک کرنے لگتی ھیں، ارے بھئی کسی کو صفائی کا تو موقع دو، مگر کسی کی بھی نہیں سنتی ھیں اور ان کی عدالت بھی ایک طرفہ ٹریفک کی طرح ھی ھوتی ھے!!!!

اب کر بھی کیا سکتے تھے ایک نیا مورچہ سامنے آرھا تھا، چلو اس کو بھی سنبھالتے ھیں، ان کی عدالت میں یعنی ان کے گھر ڈرتے ڈرتے پہنچے، موڈ کچھ ٹھیک نہیں لگ رھا تھا، یا مجھ پر ھی فطری طور پر ھی کچھ نفسیاتی سا اثر ھو گیا تھا، پہنچتے ھی کچھ بات چیت تو نہیں ھوئی میں بھی جاکر سب سے معمول کے مطابق سلام کیا اور ویسے بھی روزانہ آگر نانی جاگ رھی ھوتی تو ان کو جھک کر آداب کرتا اور وہ مجھے دعائیں دیتی ھوئی ماتھے پر پیار کرتیں اور اپنے ھاتھوں سے بلائیں لیتیں، نانی اور خالہ دونوں ھمیشہ مجھے اسی طرح دعائیں دیتیں اور پیار کرتی تھیں اور پھر ان کی دعاؤں سے فارغ ھو کر باجی کی عدالت میں حاضری اور روزمرہ کی رپورٹ انکی خدمت میں پیش کرتا اور پھر چھوٹی کی طرف دیکھنا کہ اس کا کیسا موڈ ھے،

چھوٹی کا موڈ تو ھمیشہ موقع کی شاید تلاش میں ھوتا ھے اور اب تو جناب انہوں نے مجھے اس لڑکی سے بات کرتے دیکھ لیا تھا جسے وہ پسند ھی نہیں کرتی تھی، خیر ھمیں کیا، شکر ھے کہ کسی سے شکایت نہیں کی تھی، ورنہ تو کچھ سنبھالنا مشکل ھوجاتا، ترکیب تو سوچ کر ھی آیا تھا، لیکن ضرورت نہیں پڑی مگر کسی اور طرف اسکا اٹیک ھو ھی گیا !!!!!!!

آج نانی کچھ مجھ سے بہت زیادہ خوش تھیں اور وہ اپنے پیارے انداز میں میری بہت زیادہ تعریف کررھی تھیں، کہ میں بہت فرمانبردار، مودب اور بہت خدمت گزار ھوں اسکے علاوہ کہ جس لڑکی سے بھی اسکی شادی ھوگی وہ بڑی خوش قسمت ھوگی وغیرہ وغیرہ، وہ ھمیشہ ھی میرے لئے ایسے ھی پیارے خطابات سے نوازتی تھیں مگر آج کچھ ضرورت سے زیادہ ھی میری تعریف ھورھی تھی، اوپر والا میرے حال پر کرم کرے، جب مجھ پر کچھ زیادہ ھی مہربانیاں برسنے لگتی ھیں تو مجھے لگتا ھے کہ آج کچھ گڑبڑ ھونے والی ھے ،

نانی تعریف کرتیں تو خالہ اس میں مزید اور اضافہ کرکے تعریفوں کے پُل باندھ دیتی تھیں اور باجی مجھے دیکھتی ھوئی خوشی سے مسکراتی اور مجھے معنی خیز نظروں سے بھی دیکھتی جاتیں، اور آج کل تو میری دلہن کے بارے میں اس موضوع پر ایک مزید بحث کا اضافہ ھوگیا تھا اور جیسے ھی نانی یس موضوع کو چھیڑتیں اور میری ھونے والی دلہن کی خوش قسمتی پر ناز کرتیں تو فوراً چھوٹی کہتی کہ !!!!! کوئی نہیں نانی اس لڑکی کی تو قسمت ھی پھوٹ جائے گی، اپنی شکل دیکھی ھے کبھی آئینے میں ؟؟؟؟؟؟

اور آج تو اسکا ویسے ھی میرے خلاف موڈ تھا، مگر نانی تو آج میری تعریف کے قصیدے پر قصیدے بیان کررھی تھیں، ھمارے والد صاحب بھی ان کو اپنی والدہ کا درجہ دیتے تھے اور شاید پہلے بھی نانی کو کہا بھی تھا کہ یہ چھوٹی کو تو میں اپنی بہو بناؤں گا، اور نانی کو بھی دیکھو اس کا ذکر آج ھی کرنا تھا، جیسے ھی نانی نے زادیہ کو مخاطب کرتے ھوئے میری طرف اشارہ کرتے ھوئے کہا کہ ان کے ابا تمھیں تو اپنے گھر کی بہو بنانا چاھتے ھیں، تمھارا کیا خیال ھے، یہ سنتے ھی چھوٹی بھڑک اٹھی !!!! کیا میں فالتو ھوں اور کبھی اپنی شکل آئینے میں دیکھی ھے، نانی تم نہیں سمجھتی یہ نہ جانے کن کن لڑکیوں کے چکر میں رھتا ھے، اور پتہ نہیں کس کس کو بے وقوف بناتا رھتا ھے !!!!!!اور نہ جانے کیا کیا کہتی رھی، میں نے بھی جواباً تنک کے کہا کہ!!!!! شکر ھے مالک کا جو بھی مجھے دیکھتی ھے فدا ھوجاتی ھے، ایک سے ایک پڑی ھے،!!!!! میرے یہ لفظ سنتے ھی اس نے کہا کہ!!!!! تو تم یہاں کیوں آتے ھو، جاؤ وھیں اپنی لاڈلیوں کے پاس !!!!! بس یہ کہا اور دوسرے کمرے میں یا باورچی خانہ میں اپنی اماں کے پاس جاکر میرے خلاف کھسر پھسر کرنے لگی،

ایک تو وہ ویسے ھی میری وجہ سے غصہ میں تھی اور اُوپر سے میں نے بھی خوامخواہ اس سے بےکار پنگا لے لیا، اب کیا کروں باجی کو پکڑلیا باجی نے کہا کہ،!!!! میں کیا کروں یہ تم دونوں کا معاملہ ھے میں کچھ نہیں کرسکتی،!!!! میں نے اچکتے ھوئے کہا کہ!!!!!! ارے باجی میں نے کچھ نہیں کیا کسی لڑکی سے تو میں کسی بھی طرح اور کسی بھی ظریقے سے جو وہ سمجھ رھی ھے کبھی اس طرح بات ھی نہیں کرتا، کچھ اسے سمجھاؤ !!!!!! باجی نے مسکراتے ھوئے کہا کہ !!!مگر تم نے بھی تو مذاقآً یا حقیقت میں غلط جواب دیا ھے، اب بھگتو !!!!!!

اس کے بعد کچھ دن مجھے لگے حالات کو قابو میں لینے کیلئے اور شکر ھے کہ پھر سے گاڑی لائن پر دوبارہ چل پڑی اور شادی اور دلہن کا موضوع تو اب بالکل ختم کردیا تھا، جب سب راضی ھیں تو کیا غم ھے، بس میں چاھتا تھا کہ وہ کسی ظرح سے اقرار کرلے، مجھ سےاس طرح اس سے اس بات کا اقرار کرنا تو ایسے تھا جیسے لوھے کے چنے چبانا، سب سے بڑی وجہ یہ تھی کہ ھم دونوں کبھی سنجیدہ ھی نہیں ھوئے اور ھمیشہ ھر موضوع پر خوامخواہ کی بحث اور لڑنا جھگڑنا ایک معمول تھا اور دونوں ھی ایک دوسرے سے لڑنے کے بہانے بھی ڈھونڈتے اور ایک دوسرے کے بغیر رہ بھی نہیں سکتے تھے !!!!!

میں نے اب یہ سوچ ھی لیا تھا کہ میں اب اس سے کبھی بھی نہیں لڑونگا اور ایسی بات سے ھمیشہ پرہیز کرونگا جس سے اسے کوئی پریشانی یا صدمہ پہنچے اور اپنی پوری کوشش کرونگا کہ اسکی ساری ھمدردیاں حاصل کرنے کی، اور اب تو حالات معمول پر تھے پھر سے ھم تینوں خوش تھے اور میں بھی اس سے کسی بات پر بحث ھی نہین کررھا تھا اور اس کی ھاں میں ھاں ملا رھا تھا، مگر وہ پریشان ھوگئی اور باجی سے کہا کہ اس سے پوچھو مجھ سے اب تک کیوں ناراض ھے، لے بھیا!!! ایک اور مشکل، میں نے کہا کہ میں کب ناراض ھوں تو اس نے جواب دیا کہ !!!!! تو پھر مجھ سے اب بحث بھی نہیں کرتے ھو اور میری ھر غلط بات پر بھی لڑتے نہیں ھو !!!!!! میں نے پھر غصہ سے کہا کہ !!!!!!تم سے تو پیار سے بات کرو تو مشکل اور لڑو تو بھی مشکل !!!!! اور اسی طرح پھر دونوں میں تکرار اور بحث چل پڑی اور بہت مشکل سے باجی کی مداخلت پر معاملہ ٹھنڈا پڑا !!!!!!

کل تو وہ یہ کہہ رھی تھی کہ!!!! اسے سمجھادو باجی مجھ سے الجھا نہ کرے اور یوں خامخواہ الٹی سیدھی باتیں نہ کیا کریں، ورنہ ورنہ!!!!!! اور آج تو اپنے ھاتھ سے بنایا ھوا گاجر کا حلوہ کھلا رھی تھی جیسے کہ کل کوئی بات ھی نہیں ھوئی، میں بھی خوش بس پھر میں بھی چپ، مگر کیا کریں یہ تو ھم دونوں کے ساتھ ساتھ تھا اور اسکے بغیر بھی گزارا نہیں تھا اور مجھے اسکا یہ موڈ بھی اچھا لگتا تھا اور اپنے آپ کو اسکے سامنے ھرانا اور بھی زیادہ اچھا لگتا تھا، اسکے جیتنے پر اسکے چہرے کی خوشی اور خفا ھونے کی صورت میں اسکا لال سرخ چہرہ، مجھے اسکے دونوں روپ بہت اچھے لگتے تھے !!!!!!

ایک دن جب کالج کے لئے نکلا اور حسب معمول ان کے گھر گیا تو اسے سخت بخار چڑھا ھوا تھا اور سب اسکی تیمارداری میں لگے ھوئے تھے، اور مجھ سے بھی دیکھا نہیں گیا اور میں کالج کے بجائے سیدھا اپنے والد صاحب کی کمپنی کے ڈاکٹر کے پاس گیا اور اسکی حالت بتا کر اسی کے نام سے دوائی لی اور فوراً جلدی جلدی اسکے پاس پہنچا وہ سخت بخار میں تھی اور باجی اور خالہ دونوں اسکے سر پر ٹھنڈی پٹیاں کررھی تھی، مجھے دیکھتے ھی ھانپتے ھوئے کہا کہ !!!!! دیکھو بدتمیز کو کہ جب اس کی طبعیت خراب ھوتی ھے تو میں اسکے بستر کے پاس سے ھٹتی نہیں ھوں اور یہ حضرت صبح سے غائب اور میری کوئی فکر نہیں ھے کہ میری یہاں کیا حالت ھے!!!!!! میں نے دل میں کہا کہ دیکھو اس کو بخار میں بھی چین نہیں ھے !!!!!!!!!!

اس سے پہلے کہ وہ مزید اور کچھ کہتی، میں نے فوراً دوائی کا لفافہ اس کی طرف بڑھا دیا اور کہا کہ!!!! میں تو تمھاری دوائی لینے گیا ھوا تھا !!!!! میرے یہ کہتے ھی دیکھا کہ اسکی آنکھوں میں فوراً آنسو چھلک آئے اور اس نے اپنا منہ دوسری طرف کرلیا، باجی کے بھی ساتھ ھی آنسو نکل پڑے اور خالہ اور نانی نے مجھے باری باری گلے لگایا اور ماتھے پر پیار کیا اور بہت دعائیں دیں !!!!!!!!

آور اس دن میرا دل بھی اندر سے بہت خوش تھا کہ آج زندگی میں شاید پہلی بار زادیہ کو میری کسی حرکت سے اسکی آنکھوں میں جذبات میں ڈوبے ھوئے آنسو امڈ آئے تھے!!!!!!!!!!!!!!!

--------------------------------------------------------------------------------
جاری ھے،!!!!

ام نور العين
30-01-10, 09:09 PM
اس کہانی کے سلسلے میں آپ اپنی اچھی یا بُری جو بھی رائے ھو، بلا جھجک دے سکتے ھیں تاکہ میں اپنی تحریر کو اپنے پڑھنے والوں اور قدردان دوستوں کے مشوروں کے مطابق کچھ کہانی کی ترتیب میں یا کسی درستگی کے لئے کوئی تبدیلی لاسکوں تو مجھے بہت خوشی ھوگی!!!!!!!!!!!!!!

مجھے آپ کی آپ بیتی پڑھنا اچھا لگ رہا ہے ۔مگر ابھی صرف پوسٹ نمبر 9 تک پڑھی ہے ۔

رات کو والد صاحب میرے پاس آئے اور مجھے گلے سے لگالیا ساتھ انکی آنکھوں میں آنسو بھی تھے، میں بھی انہیں دیکھ کر رو پڑا !!!!!!!!!!!!!

میری اس وقت بھی سسکیاں نکل رھی تھیں، پورے جسم میں بہت درد تھا، لیکن جب اباجی نے گلے لگایا تو اس درد کا احساس کچھ قدرے کم ھوا، انکی آنکھوں میں جو آنسو امڈ رھے تھے اس سے پہلے کبھی میں نے انہیں اس حالت میں نہیں دیکھا،

وہ اپنی گھُٹی ھوئی آواز میں یہی بول رھے تھے کہ “ تو مجھے کیوں تنگ کرتا ھے، مجھے آج سے اپنا دوست سمجھ اور ھر بات مجھے اچھی یا بری بات ضرور بتایا کرو“ اور شاید یہ بھی کہ رھے تھے کہ مجھے معاف کردینا بیٹا،!!!!!

یہ حصہ بہت اچھا لگا ، دراصل ہمارے خیر خواہ وہی ہوتے ہیں جو ہمیں ہماری غلطی بتاتے ہیں ، مگر یہ بات بہت سے لوگوں کو بہت دیر سے سمجھ آتی ہے ۔
اور میرے خیال میں والدین، اوراساتذہ کو ہمیشہ اپنے چھوٹوں کا گہرا دوست ہونا چاہئیے ، ورنہ وہ بہت دور نکل سکتے ہیں ۔

عبدالرحمن سید
31-01-10, 10:38 AM
مجھے آپ کی آپ بیتی پڑھنا اچھا لگ رہا ہے ۔مگر ابھی صرف پوسٹ نمبر 9 تک پڑھی ہے ۔



یہ حصہ بہت اچھا لگا ، دراصل ہمارے خیر خواہ وہی ہوتے ہیں جو ہمیں ہماری غلطی بتاتے ہیں ، مگر یہ بات بہت سے لوگوں کو بہت دیر سے سمجھ آتی ہے ۔
اور میرے خیال میں والدین، اوراساتذہ کو ہمیشہ اپنے چھوٹوں کا گہرا دوست ہونا چاہئیے ، ورنہ وہ بہت دور نکل سکتے ہیں ۔

عین جی،!!!!
آپکی حوصلہ افزائی کا بہت بہت شکریہ،
خوش رھیں،!!!

رفی
31-01-10, 10:48 AM
میں نے بھی ابھی مکمل نہیں پڑھا، مگر جہاں تک پڑھا زندگی کی حقیقتوں پر مشتمل پایا، کہیں بے اختیار قہقہے نکلے تو کہیں‌ آنسو امڈ آئے۔ جہاں اس وقت کے ماحول سے شناسائی ہوئی تو دوسری طرف بچوں کی تربیت کے لئے اسے ایک بہترین گائیڈ کے طور پر پایا۔ بہت عمدہ عبدالرحمٰن سید صاحب، مزید تاثرات مکمل پڑھنے کے بعد لکھوں گا۔

عبدالرحمن سید
31-01-10, 11:06 AM
اس سے پہلے کہ وہ مزید اور کچھ کہتی، میں نے فوراً دوائی کا لفافہ اس کی طرف بڑھا دیا اور کہا کہ!!!! میں تو تمھاری دوائی لینے گیا ھوا تھا !!!!! میرے یہ کہتے ھی دیکھا کہ اسکی آنکھوں میں فوراً آنسو چھلک آئے اور اس نے اپنا منہ دوسری طرف کرلیا، باجی کے بھی ساتھ ھی انسو نکل پڑے اور خالہ اور نانی نے مجھے باری باری گلے لگایا اور ماتھے پر پیار کیا اور بہت دعائیں دیں !!!!!!!!

آور اس دن میرا دل بھی اندر سے بہت خوش تھا کہ آج زندگی میں شاید پہلی بار زادیہ کو میری کسی حرکت سے اسکی آنکھوں میں جذبات میں ڈوبے ھوئے آنسو امڈ آئے تھے!!!!!!!!!!!!!!!

آج تو میں بہت ھی زیادہ خوش تھا، یہ خوشی بھی کیسی خوشی تھی کہ کوئی بیمار تھا اور میں خوشی سے ناچ رھا تھا!!!!!!!!!

دوائی کا تو پتہ نہیں کہ اس نے پی تھی یا نہیں لیکن میں نے وھی دوائی کی بوتل کافی عرصہ تک سامنے والے طاق میں رکھی دیکھی، میں بھی روز دیکھتا تھا لیکن میں نے اس دوائی کے بارے میں اس سے کبھی نہیں پوچھا اور نہ ھی اس نے کوئی اس دوائی کے بارے میں بتایا کہ یہ دوائی اب تک کیوں رکھی ھے، اتنا سب کچھ ھوگیا اور یہ بھی دل کو یقین ھوگیا کہ وہ مجھے بہت دل و جان سے چاھتی ھے، لیکن جو میں اس کے منہ سے سننا چاھتا تھا، لاکھ کوشش کرلی مگر نہ میں کچھ کہہ سکا اور نہ اس نے کوئی اپنی زبان کھولی، کئی دفعہ ایسا ماحول بھی پیدا کیا کہ کچھ بول سکوں اور اس نے بھی چاھا کہ میں کچھ اپنے منہ سے کہوں لیکن افسوس کہ اس وقت ھی میری زبان گنگ ھوجاتی تھی، صرف اس ڈر سے کہ کہیں پھر وہ برا نہ مان جائے اور کہیں میں اسے کھو نہ دوں!!!!!!

اور یہ میں تو سب کچھ جانتا بھی تھا کہ کوئی بھی تو ایسا لڑکا نہیں تھا، ان کے جاننے والوں میں یا اور کوئی ھو جسے وہ پسند کرتی ھو، کیونکہ میں تو زیادہ تر وقت انہیں کے ساتھ گزارتا تھا!!!! میں تو بس اسی میں ھی خوش تھا، ادھر کالج کی ُپڑھائی پر بھی کافی اثر ھورھا تھا، اور اب کالج سے بھی جلدی آجانا اور ھم تینوں گھر میں ھی اُدھم بازی کرتے اور جب تک ھماری اماں کا بلاؤا نہیں آتا تھا، میں وہاں سے ہلتا نہیں تھا !!!!!!

ایک دن گھر پر اباجی جلدی آگئے ان کو شاید مجھ سے کچھ کام تھا یا بازار جانا تھا مجھے اپنی بہن کےذریئے بلوایا گیا، لیکن میں نے سنی ان سنی کردی، ابا نے اور زیادہ سختی سے پیغام بھجوایا کہ فوراً آؤ اور جب مجھے پتہ چلا کہ اباجی گھر پر آگئے ھیں، تو فوراً بھاگا وھاں گھر پر ایک دو اور محلے کی فیملیز بیٹھی تھیں اور مجھے دیکھتے ھی وہ لوگ چلے گئے اور میرا ماتھا ٹھنکا اور چھٹی حس نے کھا کہ بیٹا آج کچھ ضرور گڑبڑ ھے گھر میں کچھ سناٹا سا محسوس ھو رھا تھا، میری اندر سے جان نکلی جارھی تھی، والد صاحب کچھ زیادہ ھی غصہ میں لگتے تھے لیکن انہوں نے کچھ برداشت سے کام لیا ھوا تھا اور باقی بہن بھائی بھی ایک کونے میں خاموشی سے دبکے بیٹھے ھوئے تھے اور والدہ اسی وقت اٹھ کر باورچی خانہ میں چلی گئی تھیں،

میں کچھ سمجھ نہیں ‌پا رھا تھا کہ کیا گڑبڑ ھے، ابھی کچھ حالات کا دماغ میں جائزہ ھی لے رھا تھا کہ ابا جی نے سکوت کو توڑتے ھوئے مجھے اپنے پاس بلانے کا اشارہ کیا اور میرے کندھے پر ھاتھ رکھتے ھوئے کچھ یوں اپنے غصہ کے ملے جلے الفاظوں سے یہ کہا کہ “ بیٹا جو میں تم سے بات کہنے جارھا ھوں اسے ذرا غور سے سننا، اب تم بچے نہیں رھے ھو اب تم کافی بڑے ھوگئے ھو، تمہیں اب اپنی ذمہ داریوں کو سمجھنا چاھئے، گھر میں تمھاری ایک ماں ھے اور تمھارے چھوٹے چھوٹے بہن بھائی ھیں، تمھیں ان کے بارے میں بھی سوچنا ھے اور پڑھ لکھ کر ھم سب کا ایک مضبوط سہارا بننا ھے، ایک صرف تم سے درخواست ھے کہ اب تم اپنی ذمہ داریوں کو سمجھتے ھوئے، اپنی تمام تر توجہ اپنی پڑھائی،اور اپنے اور صرف اپنے گھر پر ھی دوگے، اور اب تمھارا پرائی جوان لڑکیوں کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا اچھا نہیں لگتا، اس میں تمھاری اور ھمارے یہ ایک چھوٹے سے کنبے کی بدنامی بھی ھے، میں صرف یہی چاھتا ھوں کہ کل سے تم سیدھا کالج جاؤ گے اور واپسی پر سیدھے اپنے گھر، اور اس کے علاوہ اگر گھر کے کام کے سلسلے میں جانا ھو تو ٹھیک ورنہ تم ان کے گھر اب کبھی نہیں جاؤ گے آج میں یہ تمھیں یہ پیار سے سمجھا رھا ھوں، اور تم میرا غصٌہ جانتے ھو اور اگر آج کے بعد میں نے تمھیں اس گھر کے آس پاس بھی دیکھا تو مجھ سے برا کوئی بھی نہیں ھوگا اور جو میں تمھارا حشر کرونگا پھر سے ایک مرتبہ پھر ساری دنیا دیکھے گی، شاید تمھیں یاد ھو !!!!!!!!

وہ کہتے جارھے تھے اور میرے پیروں کے نیچے سے جیسے زمین نکلتی جارھی تھی، اور میرا دماغ بالکل معاؤف ھوتا جارھا تھا کہ یہ ایک دم اچانک کیسے ھوگیا کچھ بھی سمجھ نہیں آرھا تھا،!!!!!!!
----------------------------------------------
1967 کا زمانہ اور اُس وقت میری عمر جو تقریباً 17 سال کے لگ بھگ تھی، یہ عمر ایک ایسی جذباتی عمر ھوتی ھے کہ کوئی بھی مرضی کے خلاف بات ھو وہ بالکل برداشت نہیں ھوتی، لیکن والد صاحب کا غصہ بھی بالکل بجا تھا، اور میں بھی شاید اپنے طور پر اپنی جگہ بالکل صحیح تھا، !!!!!!!!!

اسی دوران سالانہ امتحانات بھی سر پر تھے، اور حالات ھی کچھ ایسے تھے کہ امتحانات کی تیاری بالکل نہیں کرسکا تھا، روزانہ ایک آدھ پیریڈ کے علاوہ کوئی اور پیریڈ میں جاتا ھی نھیں تھا، ایک تو وہاں کی آزادی اور دوسرے لیکچرار جو انگلش میں اس وقت سوال کرتے تھے اور وہ بھی مجھے ھی نشانہ بناتے تھے، اول تو سوال ھی سمجھ میں نہیں آتا تھا، اگر سمجھ میں آتا تو جواب نہیں آتا تھا، کئی دفعہ اردو میں جواب دینے کی کوشش بھی کی لیکن اسے قبول نہیں کیا گیا، پھر کیا کرتا ایسی ساری مضامین کی کلاسوں میں جانا ھی چھوڑ دیا جہاں پر اردو کا کوئی ذکر نہیں ھوتا تھا، اور مجھے آج تک انگریزی زبان سے اتنا زیادہ لگاؤ بھی نہیں ھے، بعض اوقات مجبوری ھوجاتی ھے!!!!!!!

فرسٹ ائیر کامرس کے امتحان ھوچکے تھے، مگر افسوس کہ میں نے 5 مضامیں میں سے صرف 2 پیپر ھی کلئیر کئے تھے، اور پھر بھی سیکنڈ ائیر میں پہنچ گئے تھے، مگر بس اب کل آٹھ مضامین کے امتحانات کا سوال تھا، لیکن اس کالج میں افسوس اگلی کلاس میں جانے کی نوبت ھی نہیں آئی، کیونکہ اپنے ذاتی مسائل کی الجھنیں کچھ اتنی شدت اختار کرچکی تھیں، کہ اس کالج کی طرف دھیان ھی نہیں گیا،

والد صاحب کو جب پتہ چلا کہ میں نے صرف دو ھی پیبر کلئیر کئیے ھیں تو انکا تو اور بھی پارہ اوُپر چڑھ گیا، اور کچھ ھمارے مہربان لوگوں کو بھی میرے خلاف شکایات کرنے کا موقعہ مل گیا، اب تو میری ھر طرف سے سخت نگرانی کی جانے لگی تھی، میرے پیچھے جاسوس چھوڑدئیے گئے اور کچھ تو اپنی مرضی سے اور کچھ اپنی خوشی سے ھی میرے خلاف جہاد میں شریک ھوگئے اور مجھے بھی ان کا پتہ آسانی سے چل ھی گیا کیونکہ میں جانتا تھا کہ کئی لوگوں کو میرے ان کے یہاں آنے جانے سے بہت تکلیف ھوتی تھی، کچھ تو یوں کہ ان کے گھر سے لفٹ نہیں ملتی تھی اور کچھ ایسے بھی تھے، جو چاھتے تھے کے میں ان کے تعلقات ان سے کرانے میں مدد کروں، جسکا کہ میں نے اس کا سختی سے نوٹس لیا، اور وہ میرے خلاف ھوگئے اور مجھے ان معصوم لوگوں سے دور کرنے کی مھم میں بلا معاوضہ شامل ھوگئے، مگر میں بھی کہاں باز آنے والا تھا،!!!!!!!!!

ادھر والد صاحب نے انکے والد کو اپنے گھر پر یا انہی کے گھر جاکر محلے والوں کی شکایت کی، جسکا مجھے انہیں کی زبانی بعد میں معلوم ھوا کہ انہوں نے کچھ یوں کہا تھا کہ بھائی صاحب دیکھیں ھمیں اسی محلے میں رھنا ھے اور ھمارے آپس کے تعلقات اتنے اچھے اور مضبوط ھیں کہ میں نہیں چاھتا کہ اس میں کوئی دراڑ آئے، آپکی بیٹیاں بھی میری بیٹیوں سے زیادہ عزیز ھیں، اور میں یہ بھی اچھی طرح جانتا ھوں کہ ان میں کوئی بھی خرابی نہیں ھے بہت ھی اچھے کردار کی مالک اور خلوص دل اور عزت کے قابل ھیں، مگر آپ یہ سوچیں کہ اب وہ دونوں جوانی کے دھلیز پر قدم رکھ چکی ھیں اورمیرا بیٹا بھی اور اس کی بھی میں کیا آپ بھی ضمانت دے سکتے ھیں کہ وہ بھی کوئی ایسا غلط قدم اٹھا نہیں سکتا جس سے آپ کے اور میرے درمیان کوئی عزت کا مسئلہ یا بدنامی کا باعث ھو، مجھے اس بات کی بھی خوشی ھے بلکہ میں آپ سب کا ھمیشہ ست احسان مند ھوں کے میرے بچوں کی آپ کی بیٹیوں نے بہت اچھی تعلیم اور تربیت کی اور بہت اچھا خیال رکھا،!!!!

اور یہ کہ اب آپ خود سوچیں کہ محلے والوں کی زبان کو کون پکڑ سکتا ھے آجکل یہ سب میرے بیٹے اور آپکی بیٹیوں کو لے کر اس کے موضوع کو ایک غلط شکل میں ڈھال رھے ھیں، جب یہ بچے چھوٹے تھے تو کوئی بات نہیں تھی اب یہ سب جوانی کی طرف قدم بڑھارھے ھیں، میں یہ نہیں چاھتا کہ کوئی بھی ذرا سی آنچ نہ آپ پر آئے اور نہ مجھ پر، آپ کو پتہ ھے بھائی صاحب آجکل دنیا کسی کے بھلے کا نہیں سوچتی جتنی عزت دیتی ھے تو اتنا ھی اپنے مفاد کی خاطر موقعہ ملے تو ذلیل کرنے سے باز بھی نہیں آتی، اور میں چاھتا ھوں کہ کچھ عرصہ کیلئے اپنے گھر میں سب کو کہہ دیں کہ میرے بیٹے کو آنے سے روک دیں اور ادھر میں اپنی پوری کوشش کرونگا کہ اسے آپ کی طرف نہ جانے دوں،

اور نہ جانے کیا کیا کہا ھوگا، جس کے جواب میں لازمی بات ھے کہ انکے والد نے بھی ھامی بھری ھوگی، اس کے علاوہ انکو بھی محلے کے کچھ عزت دار لوگوں نے بھی اسی طرح کی نصیحتیں کی تھیں کہ یہ سب ھمارے بچوں کی طرح ھیں، لیکن اس طرح کی غلط افواھوں سے بچنے کیلئے اس طرح انکا آزادانہ ملنا جلنا باھر گھومنا پھرنا اچھی بات نہیں ھے !!!!!!!!!!

بس پھر کیا تھا کہ ھمارے اور انکے درمیان میں ایک دراڑ کی لائن پڑ چکی تھی، ادھر میرے والد صاحب نے مجھے سختی سے نوٹس دے دیا اور ادھر ان کے والد نے بھی ان دونوں کو بری ظرح ڈانٹا بھی اور یہ کہا کہ اگر میں نے اس لڑکے کو اس گھر کے اندر یا باھر تم لوگوں سے باتیں کرتے دیکھا یا سنا تو تم لوگوں کی خیر نہیں ھے اور اگر میں نے اسے یہاں دیکھا تو اسکی میں ٹانگیں توڑ دونگا،!!!!!!

ادھر کچھ محلے والے بھی بہت خوش تھے اور میں شعلوں کی ایک اور جنگ کے لپیٹوں میں گھرا ھوا پریشان حال ایک اور مصیبت کے پہاڑ کو اپنے سر سے اتارنے کی سوچ میں لگا ھوا تھا !!!!!!!!!!!!!!
----------------------------------------------------------------
اب تو دن کا چین اور راتوں کی نیندیں حرام ھوچکی تھیں، نہ کوئی اس وقت ٹیلیفون تھا، نہ کوئی موبائیل قسم کی چیز، نہ کوئی انٹرنٹ ٹائپ کی کوئی ایجاد ھوئی تھی، بس ایک دوست جس کو ننھا کے نام سے بلاتے تھے، مجھ سے چھوٹا لیکن بہت پھرتیلا اور چالاک باقی سب دوستوں پر سے تو اعتبار اٹھ چکا تھا، سب کے سب مخالف پارٹی سے مل چکے تھے، اور اسی طرح ان دنوں ملک کی سیاست بھی کچھ یونہی ڈگمگا رھی تھی، خیر ھمیں سیاست سے کیا ھمیں تو اس محلے پر سے اپنی ھی حکومت ختم ھوتی نظر آرھی تھی، اس محلے کا اب وہ معیار نہیں رھا تھا ھر کوئی اب ایک دوسرے سے حسد کرنے لگا تھا اور آھستہ آھستہ اچھے لوگ یہ محلہ چھوڑتے جارھے تھے، اور نئے لوگ بسنا شروع ھوگئے تھے، لیکن ان میں اور پرانے لوگوں میں زمین اور آسمان کا فرق تھا،

اب تو ھر طرف سے مجھ پر نطر رکھی جارھی تھی، جاسوسوں کا بھی کیا منطم گروپ تھا، میرے گھر سے نکلنے سے لیکر بس اسٹاپ، اور جب تک بس میں نہ چڑھ جاؤں، میرا پیچھا ھوتا رھتا، لیکن میں نے بھی یہ کسی کو محسوس نہیں ھونے دیا کہ میں مجھے اپنے پیچھا کرنے والوں کا علم ھے، کبھی کبھی تو وہ میرے ساتھ ھی چلتے رھتے اور پوچھنے پر بتاتے کہ بس ایسے ھی ذرا مارکیٹ جارھا تھا اور کبھی کوئی دوسرا بہانہ، مگر میں بھی انکی چالاکیوں کو جانتا تھا، یہ کل کے بچے آج ھمارے ساتھ مقابلہ کرنے چلے تھے، مگر انہوں نے مجھے بہت تنگ کیا، پیچھے سے آوازیں لگانا، اس کا نام لے کر مجھے برے الفاظوں کے ساتھ چھیڑنا، اس کے علاوہ دیواروں پر چاک سے اور کبھی کوئلے سے میرا اور اس کا نام لکھ کر اس کے ساتھ نازیبا الفاظوں کو لکھنا، جو مجھے بہت تکلیف دیتے تھے، اسے پھر میں اور میرا چھوٹا دوست ننھا مل کر پانی اور برش لے کر صاف بھی کرتے رھتے تھے،

اس کا نام ننھا تو تھا ھی اور عمر میں شاید مجھ سے کچھ چھوٹا ھی تھا، لیکں اس نے ان دنوں میرا بہت ساتھ دیا تھا، اور وھی میرا ایک زبانی واحد پیغام رسانی کا ذریعہ بھی تھا، اور اب وھی میرے ساتھ زیادہ تر رھتا تھا، اس کے پیچھے بھی کافی جاسوس لگے رھتے تھے مگر وہ تو مجھ سے کہیں زیادہ تیز تھا،

اکثر وہ اس ظرح پیغام لیتا کہ برابر والے کو پتہ نہیں لگتا تھا کبھی کبھی ھم اسی دیوار کے ساتھ گولیاں کھیلتے تو ساتھ جاسوس بھی ھمارے ساتھ چپکے رھتے اور ھماری ایک ایک حرکت پر نظر رکھتے تھے، لیکن گولی کھیلتے کھیلتے اسی دیوار کے ساتھ سامنے والے دروازے پر گولی وہ یونہی پھینک دیتا اور جیسے ھی وہ گولی اٹھانے، وہاں پہنچتا تو دروازے کی آڑ میں سے وہ میرے لئے پیغام سن بھی لیتا، وہ دروازہ انہیں کے گھر کا تھا اور وہ دونوں بھی اسی دروازے کی دراڑ میں سے ھمیں کھیلتے ھوئے دیکھتی رھتی تھیں، اور جیسے ھی وہ ننھا اس دروازے کے پاس کسی بھی بہانے سے پہنچتا اسے اپنا پیغام سنادیتی اور سن بھی لیتا اور بس کہتا چلو بھائی اپنا کام ختم،

اس کے علاوہ نزدیکی گھروں سے بھی عورتوں کی جاسوسی چل رھی ھوتی تھی، ان کی نطر صرف مجھ پر ھی ھوتی، مگر میرا ننھا اپنا کام کرجاتا اور کسی کو پتہ ھی نہیں چلتا اور سب کو مایوسی ھوتی اور وہ ننھا واقعی میرا ایک مخلص ساتھی تھا، جس نے مجھے اس وقت سنبھالا، جس وقت میں ٹوٹنے والا تھا، وہ بہت بہادر تھا اور اس میں قدرتی بہت طاقت بھی تھی اس سے میں خود کئی دفعہ مار کٹائی میں ھار چکا تھا، جب کبھی اس سے میری دوستی نہیں تھی اور محلے والے بھی اس کو اچھا نہیں سمجھتے تھے، جب اس نے دیکھا کہ مجھ سے تمام محلے کے لڑکے دور ھوتے جارھے ھیں، اور مجھے تنگ کرنے لگے ھیں تو وہ میرے سامنے آگیا اور پھر اس نے تمام مخالفتوں کے باوجود سب سے گن گن کر بدلا لیا، میں لڑائی سے بہت دور بھاگتا تھا، اور اسے بھی بہت روکتا تھا لیکن وہ میری ایک نہیں سنتا تھا اور ھر ایک سے لڑ پڑتا تھا اکثر لڑکے اس سے گھبراتے بھی تھے، کیونکہ وہ ایک تو پھرتیلا بہت تھا اور دوسرے وہ کسی کا بھی آسرا نہیں کرتا تھا، فوراً اسکے ھاتھ میں جو چیز بھی آجائے اٹھا کر ماردیتا تھا، اس کا نشانہ بھی بہت پکا تھا، ایک دفعہ اس نے تو میرا سر بھی پھاڑ دیا تھا جس وقت میری اور اسکی بات چیت نہیں تھی،

اور اب بھی وہ دونوں میرے لئے اتنی بےچین رھتیں کہ شاید روتی بھی ھونگی اور ان کی والدہ ان دونوں کے لےکر ان کی کسی سہیلی کے گھر پہنچ جاتیں جسکا مجھے ننھے دوست سے پہلے ھی خبر مل چکی ھوتی تھی، اور میں بڑی مشکل سے جاسوسوں کو چکما دے کر آخر وہاں پہنچ ھی جاتا تھا، گھر سے بس اسٹاپ تک میرے ساتھ رھتے تھے اور جیسے ھی میں بس میں بیٹھتا وہ واپس چلے جاتے، جب ننھا میرے ساتھ ھوتا تو کوئی بھی جاسوس میرے پیچھے نہیں ھوتا تھا، مگر افسوس کہ صبح کے وقت ننھا اسکول میں ھونے کی وجہ سے میرے جاسوسوں کو میرا پیچھا کرنے کا موقعہ مل جاتا تھا،

میں بس میں سوار تو ھوجاتا لیکن اگلے اسٹاپ پر اتر کر واپس پیدل دوسرے محلے میں ننھے کے بتائے ھوئے گھر پر پہنچ جاتا، اور بس پھر گپ شپ شروع ھوجاتی، وہاں سب ھوتے اور حالات کا رونا ھی روتے رھتے اس طرح کی ملاقاتیں مجھے خود بھی اچھی نہیں لگتی تھیں، کسی دوسرے کے گھر او ڈر بھی لگا رھتا تھا اور ھم روزانہ اسی ڈر کی وجہ سے گھر بھی بدلتے رھتے تھے، جیسے خانہ بدوشوں کی طرح، آخر کچھ دنوں میں اس سے بھی عاجز آگئے، مگر میرے دوست ننھے نے بڑے بڑے ایسے کام دکھائے کے جاسوسوں کا ناک میں دم کردیا، اور وہ بھی آہستہ آہستہ میری مخالفت سے پیچھے ھٹتے جارھے تھے،

اب میں ان کے گھر پر ھی چھپ چھپا کر جانے لگا، گھر سے نکلنے سے پہلے ھی مجھے ننھے کی طرف سے ایک سیٹی کی صورت میں گرین سگنل مل جاتا اور میں گھر سے دوپہر کے بعد کھانا وغیرہ کھا کر نکلتا اور ننھے کی کو دیوار کے ایک کونے پر کھڑا ھوا پاتا اپنے گھر سے اس دیوار کے کونے تک پہنچتے پہنچتے وہ مجھے ہر خطرہ سے آگاہ کرتا رھتا وہ وہاں کونے پر کھڑا ٹریفک سپاھی کی طرح چاروں طرف سے دیکھتا ھوا مجھے اشارے کرتا رھتا وہ میرے پیچھے بھی دیکھ رھا ھوتا تھا اور دیوار کی دوسری طرف بھی اسکی نطریں ھوتی تھیں اس کے علاؤہ دائیں اور بائیں کی گلیوں کا تو وہ خاص خیال کرتا تھا اور ھمارے کچھ مخصوص کوڈ ورڈ بھی تھے، جسے ھم دونوں ھی سمجھ سکتے تھے، وہ اپنے اشاروں سے ھی مجھے گائیڈ کرتا رھتا اور اپنے گھر کے دروازے سے لیکر دوسرے کونے تک اس کے اشاروں کو سمجھتے ھوئے، بغیر آگے پیچھے دیکھے ھوئے، چلتے ھوئے اس کونے تک پہنچتا اور جیسے ھی ننھے کا اشارہ مثبت میں ھوتا تو میں خاموشی سے ان کے گھر میں ھوتا ورنہ دوسری طرف نکل جاتا،

اس طرح ڈر ڈر کر گھر میں داخل ھونا بھی بہت مشکل نظر آتا تھا اور چھپ چھپ کر ملنا بھی خطرناک ثابت ھوسکتا تھا، لیکن ھم تینوں ایک دوسرے کے بغیر رہ بھی نہیں سکتے تھے، اس دوراں بھی ھر بات ھوتی دنیا کی بحث ھوتی لیکن مجھے دو لفظ جسے اظہار محبت کہتے ھیں نہیں کرسکا، لاکھ کوشش کی لیکن بے سود اور ان حالات میں تو اور بھی مشکل تھا، یہی کافی تھا کہ ملاقات ھی ھو جاتی اور واپسی کا بھی ٹائم مقرر تھا، ننھے کی پہلی سیٹی پر میں تیار ھو جاتا دوسری سیٹی پر بالکل دروازے کے پاس الرٹ کھڑا ھوجاتا اور یہ دونوں بھی اِدھر اُدھر کھڑکی سے یا گھر کے صحن کی دیوار سے باھر جھانک کر لائن کلئیر کا سگنل ایک دوسرے کو دیتیں اور ننھے کی تیسری مخصوص سیٹی کی آواز پر میں فوراً خاموشی سے دروازے سے باھر اپنے گھر کے بجائے سیدھا باھر جانے والے راستے کی ظرف نکل جاتا،

آگے کچھ فاصلے پر پہنچ کر ایک چھوٹی سے نالے پر ایک پُلیا پر بیٹھ کر میں اپنے دوست ننھے کا انتظار کرتا وہ بھی بعد میں مجھے جوائن کر لیتا اور بعد میں ھم دونوں کہیں بھی گھومنے نکل جاتے اور اب میرا پہلا اور آخری رازدار ھی تھا، جسے میں اپنی ساری باتیں بتاتا تھا، اور اس نے جتنا میرا اس معاملے میں خیال رکھا ھے، اس نے ھر ایک سے میری خاطر دشمنی مول بھی لی، اگر یہ ننھا نہ ھوتا تو میری تو ھمت نہیں تھی کہ اس طرح میں ان لوگوں سے مل سکتا، ھم نے کبھی کوئی ایسا دل میں کوئی برا خیال یا کسی غلط نیت کے بارے میں نہین ‌سوچا، جیسا کہ لوگ یہ کہتے تھے کہ یہ لڑکیاں مجھے غلط راستے پر لے جارھی تھیں، بس ایک مجبوری یہ تھی کہ ایک دوسرے کے بغیر نہیں رہ سکتے تھے،

میری طرف سے لوگوں نے بہت کوشش کرلی لیکن میرے بارے میں کوئی ایسا سراغ نہ پا سکے کہ میں ان سے ملتا ھوں، لیکن نہ جانے کسی طرح یہ خبر والدہ کے کانوں میں پڑ گئی کہ میں اب بھی ان کے گھر پر چوری چوری جاتا ھوں، جس کا کہ والدہ نے مجھے خبردار بھی کیا کہ دیکھو جس دن تمھارے ابا جی کو پتہ چل گیا وہ تمھیں زندہ نہیں چھوڑیں گے، میں نے صاف انکار کردیا نہیں ایسا ھوھی نہیں سکتا، مگر والدہ نے بہت عاجزی سے کہا کہ خدارا اب آئندہ ایسا مت کرنا ھماری عزت رکھ لینا وغیرہ وغیرہ !!!!! جس کی میں نے پھر بھی کوئی پرواہ نہیں کی اور پھر ایک دن ؟؟؟؟؟؟؟؟

اب تو اتنی پریکٹس ھو گئی تھی کہ روز بلاجھجک بالکل اپنے ٹائم پر اسی ترکیب سے پہنچ جانا ھم تینوں کسی ڈر اور خوف کے بغیر بلکل اپنے آپ میں مگن رھتے، ساتھ ھماری نانی اور خالہ بھی ھوتیں اور باھر ھماری چوکیداری ننھا کرتا رھتا، مگر اس بات سے بے خبر کہ برابر والے گھر کی دیوار میں اوپر کی ظرف سے ایک سوراخ سا ھوگیا تھا اور کسی نے بھی اس ظرف توجہ نہیں دی یا تو پہلے سے ھی تھا، اور ان پڑوسن کا ھمارے گھر آنا جانا بھی تھا، ایک اور نئی ھماری جاسوسی شروع ھوگئی لگتا تھا کہ کئی دنوں تک انہوں نے مجھ پر نگرانی کی اور ایک دن جیسے ھی میں ان کے گھر پہنچا اور خبر میرے گھر پہنچا دی گئی!!!

کچھ ھی لمحے بعد دروازے پر دستک ھوئی اور جیسے ھی دروازہ کھلا سامنے میں نے اپنی والدہ کو پایا، اور زندگی میں پہلی مرتبہ ان کے منہ سے اُن کے خلاف غصہ میں جو کچھ کہہ سکتی تھی کہنا شروع کیا اور وہ سب خاموش انہیں تکتی رھی نہ جانے کیا کیا کہ تم لوگوں نے میرے بیٹے کی زندگی برباد کردی ھے ، تم لوگ ایسی ھو ویسی ھو، تم لوگ اس محلے میں رھنے کے قابل نہیں ھو، میں تمھیں اس محلے سے نکال کر رھونگی اور نہ جانے کیا کیا کہا، کوئی بھی ماں ھوتی تو شاید اس سے بھی زیادہ کہتی، بہرحال انہوں نے مجھ سے صرف اتنا ھی کہا کہ تم اپنی والدہ کو لے جاؤ اس سے پہلے کہ ھمارا دماغ خراب ھوجائے، اور انہوں نے ایک لفظ بھی میری والدہ سے کچھ نہیں کہا !!!!

میں نے بڑی مشکل سے انہیں پکڑ کر اپنے گھر لے گیا باھر لوگوں کا رش بھی جمع ھوگیا تھا اور وہ سب مجھے اور ان لوگوں پر کافی لعن طعن کررھے تھے!!!!!!!

اور اس کی خبر والد صاحب کو بھی گھر آنے سے پہلے ھوگئی تھی، لوگ تو پہلے سے ھی منتظر تھے کہ میرے ابا آئیں اور ان کے کان بھریں گھر آنے سے پہلے وہ بھی ان کے شاید گھر پہنچے اور نہ جانے ان کو کیا کیا کہا ھوگا !!!!! اور پھر گھر آتے ھی مجھ پر برس پڑے کہ تُو تو اس قابل ھی نہیں ھے کہ اس گھر میں رہ سکے، اور میں کل سے تیرا یہ منحوس چہرہ دیکھنا ھی نہیں چاھتا، ھمیں بہت تو نے بدنام کردیا اب اللٌہ کے واسطے ھماری جان چھوڑ دے !!!!!!!!!!

کھانا تو دور کی بات ھے، پانی تک بھی پینے کا ھوش نہیں رھا تھا، آخر محلے والے اپنی مکمل سازش میں کامیاب ھوچکے تھے، اور باھر سب خوشیاں منا رھے تھے دونوں فیملیز کو پریشان کرکے، اور پورے محلے میں صرف میرا دوست ننھا ایک کونے میں اسی دیوار کے ساتھ خاموش بیٹھا ایک میرے لئے سوگ منا رھا تھا!!!!!!!!!

دوسرے دں والد صاحب کے جانے کے بعد صبح اٹھا اور گھر میں ایک سودا لانے کی ٹوکری اٹھائی اس میں خاموشی سے اپنے چند پہنے کے کپڑوں کے جوڑے رکھے اور والدہ کی اسی خفیہ جگہ سے 500 روپے کے پرائز بانڈز آٹھائے، اور انہیں تین چار جگہ تقسیم کرکے الگ الگ جیبوں میں ڈالا اور سیدھا گھر سے نکل گیا، بغیر کسی کو بتائے ھوئے نامعلوم منزل کی طرف !!!!!!!!!!!!!!!!!!!!

--------------------------------------------------------------------------------
جاری ھے،!!!!

عبدالرحمن سید
31-01-10, 11:11 AM
میں نے بھی ابھی مکمل نہیں پڑھا، مگر جہاں تک پڑھا زندگی کی حقیقتوں پر مشتمل پایا، کہیں بے اختیار قہقہے نکلے تو کہیں‌ آنسو امڈ آئے۔ جہاں اس وقت کے ماحول سے شناسائی ہوئی تو دوسری طرف بچوں کی تربیت کے لئے اسے ایک بہترین گائیڈ کے طور پر پایا۔ بہت عمدہ عبدالرحمٰن سید صاحب، مزید تاثرات مکمل پڑھنے کے بعد لکھوں گا۔

بہت بہت شکریہ،!!! رفی جی،!!!!
یہ سب آپکی محبت اور عنائتیں ھی ھیں،!!!!!
خوش رھیں،!!!

عبدالرحمن سید
31-01-10, 11:55 AM
دوسرے دں والد صاحب کے جانے کے بعد صبح اٹھا اور گھر میں ایک سودا لانے کی ٹوکری اٹھائی اس میں خاموشی سے اپنے چند پہنے کے کپڑوں کے جوڑے رکھے اور والدہ کی اسی خفیہ جگہ سے 500 روپے کے پرائز بانڈز آٹھائے، اور انہیں تین چار جگہ تقسیم کرکے الگ الگ جیبوں میں ڈالا اور سیدھا گھر سے نکل گیا، بغیر کسی کو بتائے ھوئے نامعلوم منزل کی طرف !!!!!!!!!!!!!!!!!!!!

میں نے یہ بھی نہ سوچا کہ میرے جانے کے بعد میری ماں پر کیا گزرے گی، والد کا کیا حال ھوگا اور چھوٹے بہن بھائی میرے لئے کتنا روئیں گے اور اس فیملی کا کیا ھوگا جس کی وجہ سے میں جذبات میں آکر مقابلہ کرنے کے بجائے والدصاحب کی ایک چھوٹی سی دھمکی سے اپنا گھر چھوڑ رھا تھا، اور ان کو کس کے رحم و‌کرم پر چھوڑ کر جارھا تھا، اور میرے بعد ان کا کیا لوگ حشر کرتے، میرے بہانے سے لوگ ان پر کیا کیا لعن طعن کرتے، ان کا جینا حرام کردیتے، یہ میری اپنی زندگی کی ایک اور بہت بڑی غلظی کرنے جارھا تھا !!!!!!!!!

ٹوکری اٹھائے اور چپکے سے ایک عجیب سے بے قابو جذبات لئے، میں اپنا گھر چھوڑ رھا تھا، اسی دیوار کے کونے پر پہنچ کر دوسری طرف گھومنے سے پہلے ایک مرتبہ پیچھے مڑکر میں نے آخری بار اپنے گھر کا دیدار کیا اور ان دونوں کے گھر کا بھی جو اسی موڑ پر تھا، میں نہیں چاھتا تھا کہ کسی کو بھی میری خبر ھو اور میں اس طرح خاموشی سے ٹوکری اٹھائے جارھا تھا، جیسے کہ گھر کا سودا لینے جارھا ھوں، کسی کو بھی نہیں بتایا، مجھے معلوم تھا کہ اگر کسی کو بھی بھنک پڑجاتی تو شاید میں وھاں سے بھاگ نہیں سکتا تھا، میرا دوست ننھا بھی شاید اسکول گیا ھوا تھا، اس کو بھی پتہ نہیں تھا، کہ میرا کل کا کیا پروگرام ھے، ورنہ تو شاید وہ بھی میرے ساتھ نکل لیتا، یا مجھے جانے نہیں دیتا کیونکہ وہ کچھ زیادہ ھی طاقت رکھتا تھا،

ابھی تک میں یہ فیصلہ کر نہیں پایا تھا کہ مجھے جانا کہاں ھے اور بس غصہ اور جذبات حالت میں چلا جارھا تھا، راستے میں اپنے کچھ محلے کے لوگوں نے مجھ سے گزشتہ کل کے بارے میں سوال بھی کئے مگر میں نے کسی کا کوئی جواب نہیں دیا، میں گردن جھکائے اپنے محلے کی گلیوں سے ھوتا ھوا اس دیوار کو ایک بار پھر پیار سے دیکھتا ھوا اور الٹے ھاتھ میں ٹوکری اور سیدھے ھاتھ سے اس پکی پتھریلی اینٹ کی مضبوط ملٹری کی دیوار کو چھوتا ھوا گزررھا تھا، جبکہ مجھے محسوس ھی نہیں ھوا کہ اس سیدھے ھاتھ کی ھتیلی میں اس دیوار کی رگڑ سے چھل جانے کیوجہ سے ھلکا ھلکا خون بھی رس رھا تھا، جب کافی آگے نکل گیا تو ھاتھوں میں کچھ گیلا گیلا سا لگا میں تو پہلے یہ سمجھا کہ شاید پسینہ ھوگا جیب سے رومال نکالا اور بغیر دیکھے ھی پسینہ سمجھ کر پونچھنے لگا تو کچھ درد سا محسوس ھوا،

ایک جاننے والے کی دکان سے جہاں برف بھی بکتی تھی کچھ برف کے ٹکڑے لئے اور ھتیلی میں برف کے ٹکڑے رکھ کر کچھ دیر ان کو مسلا ، جس سے مجھے کافی آرام ملا تھا، ھلکی سی خراش تھی راسنے میں ھی ٹھیک ھوگئی، لیکن پھر بھی ٹوکری کو سیدھے ھاتھ سے پھر بھی پکڑنے میں تکلیف ھوتی تھی -

اور پھر ایک انجان منزل کی طرف خود بخود میرے قدم بڑھتے جارھے تھے، ساتھ ساتھ یہ بھی سوچتا جارھا تھا کہ کہاں جانا چاھئے، مگر مجھے میرے قدم کینٹ ریلوے اسٹیشن پر لے گئے، جو ھمارے محلے سے کچھ قریب ھی تھا، اور اکثر میں وھاں سے ھی شہر کیلئے بس پکڑتا تھا، جبکہ اس سے نزدیک بھی ایک اور بس اسٹاپ تھا لیکن بس مجھے کچھ بچپں سے ھی ٹرینوں کو آتے جاتے دیکھنے کا شوق رھا تھا، اسلئے ٹرینوں کو آتے جاتے دیکھتا ھوا اسٹیشن پہنچ کر ھی وھاں کے بس اسٹاپ سے بس پکڑتا تھا اور محلے کے لوگوں کی نظروں سے بھی دور رھتا تھا کیونکہ وہاں بس کیلئے شاید کوئی آتا ھوگا اور یقینی بات ھے کہ نزدیک والے بس اسٹاپ کو چھوڑ کر کسی کا کیا دماغ خراب ھے کہ وہ دور کے بس اسٹاپ پر جائے،

اب ریلوے اسٹیشن تو پہنچ گیا اور سیدھا رزرویشن کاونٹر پر جاکر آج کے شام کی تیزگام کا ٹکٹ لاھور کیلئے پوچھا، شاید اس نے کہا کہ 26 روپے اور کچھ آنے دو میں نے جیب مین دیکھا تو اسوقت میرے پاس دس یا بارہ روپے تھے، میں نے اس سے کہا کہ میں ابھی واپس آتا ھوں، اور سیدھا نزدیک کے بنک میں گیا اور 100 روپے کے بانڈز کیش کروائے، واپسی سے پہلے وھیں اسٹیشن کے نزدیک ھی سارے کپڑے جو ٹوکری میں تھے، ایک دھوبی کی دکان میں استری کیلئے دئیے، اور بازار گیا وہاں سے ایک خوبصورت سا چھوٹا سوٹ کیس اور کچھ مزید ضرورت کے استعمال کی چیزیں خریدیں اور ریلوے اسٹیشن کی رزرویشن کاونٹر سے لاھور کیلئے تیزگام کے فرسٹ کلاس کا ٹکٹ لے لیا، ان دنوں تیزگام میں سیکنڈ اور تھرڈ کلاس نہیں ھوتا تھا، اور یہ میری پسندیدہ ٹرین بھی تھی !!!!!!! اور یہ سوچئے کہ اس وقت تمام چیزیں، ٹکٹ کے ساتھ خرید کر بھی تقریباً 50 روپے کے لگ بھگ جیب میں بچے ھوئے تھے، اور چار سو روپے کے بانڈ الگ تھے،!!!!

یہ سب کچھ پلاننگ کے بغیر ھی وقت کے ساتھ ساتھ فیصلے ھوتے جارھے تھے، اب کچھ پتہ نہیں تھا کہ لاھور کا ٹکٹ تو لے لیا ھے، لیکن جانا کہاں ھے یہ سوچا ھی نہیں !!!! بس اچانک خیال آیا کہ ایک میرا قلمی دوست لاھور میں رھتا تھا اور اس سے اکثر بس خط وکتابت تک کی جان پہچاں تھی، اس کے گھر کا ایڈریس بھی مجھے زبانی یاد تھا، فوراً یہ یاد آتے ھی میں ریلوے اسٹیشن کے ٹیلیگراف آفس پہنچا اور اس دوست کو ایک ٹیلگرام دیا کہ میں کل تیزگام سے لاھور پہنچ رھا ھوں،
ٹیلیگرام تو دے دیا لیکن سوچنے لگا کہ میں اسے اور وہ مجھے کیسے پہچانے گا صرف ھم دونوں کے پاس ایک دوسرے کی تصویریں ضرور تھیں، اور اسوقت تو میرے پاس وہ بھی نہیں تھی، چلو دیکھا جائے گا، یہ سوچ کر چپ ھوگیا،

خیر سوٹ کیس میں دھوبی کی ھی دکان پر استری شدہ کپڑے ڈالے اور دوسری چیزیں بھی ساتھ ھی ڈال دیں اور ابھی تو تیزگام کے جانے میں کافی وقت تھا کیونکہ شام کے 4 بجے ھی کینٹ اسٹیشن سے اسے روانہ ھونا تھا، ابھی تو دوپہر کا ایک بھی نہیں بجا تھا، بس سوچا کہ کسی ریسٹورنٹ میں جاکر کھانا کھاتے ھیں، کھانا تو منگا لیا لیکن حلق سے پہلا ھی نوالہ نہیں ‌اتر رھا تھا، میں پریشان ھوگیا کہ یہ کیا ھوا، بڑی مشکل سے چائے کی ایک پیالی دو تیں بسکٹ کے ساتھ کھائے، کھانا بالکل نہیں کھا سکا، اور واپس اسٹیشن کے فرسٹ کلاس کے ویٹنگ روم میں جاکر ایک صوفہ سیٹ پر بیٹھ گیا اور ساتھ ھی سوٹ کیس بھی ایک طرف رکھ لیا، ویسے بھی میں گھر سے تیار ھوکر ھی اچھے ھی کپڑے پہن کر نکلا تھا، اور واقعی ایک مسافر ھی لگ رھا تھا !!!!!!!!

بڑی مشکل سے وقت گزررھا تھا، ایک قلی نے بتایا تھا کہ اسی ویٹنگ روم کے سامنے والے ھی پلیٹ فارم پر تیزگام دو گھنٹے پہلے ھی لگ جائے گی اور ابھی ڈھائی بجنے میں کچھ منٹ باقی تھے، کسی کا بھی انتظار بہت مشکل ھوتا ھے، !!!!!
بہرحال وہ وقت بھی آگیا کہ تیزگام الٹی پلیٹ فارم کی طرف اپنی شان و شوکت کے ساتھ آھستہ آہستہ لگتی جارھی تھی، اور میں بھی اٹھا اور فرسٹ کلاس کے اپنے ڈبے میں جاکر بالکل کھڑکی کے پاس ھی قدرتی سیٹ ملی تھی، جاکر بیٹھ گیا !!!!!!!!!

آخر کو وہ وقت آھی گیا، سگنل ڈاؤن ھوگیا اور تیزگام کے انجن نے اپنی روانگی کی مخصوص سیٹی دی، ادھر گارڈ نے بھی ھر جھنڈی لہرانا شروع کردیا اور ساتھ ھی اپنی سیٹی بھی سنا دی، پھر بھی کچھ لوگ اتر رھے تھے کچھ جلدی جلدی چڑھ رھے تھے قلی بھی ساتھ شور مچا رھے تھے، کچھ لوگ پلیٹ فارم پر سے مسافروں کو ھاتھ ھلا ھلا کر الوداع کہہ رھے تھے اور میں اکیلا ھی کھڑکی سے یہ سب منظر دیکھ رھا تھا مجھے الوداع کہنے والا کوئی نہیں تھا اور تیزگام آھستہ آھستہ اپنے پلیٹ فارم کو چھوڑ رھی تھی !!!!!!!!!!!!!!!!!

--------------------------------------------
جیسے ھی اسٹیشن سے تیزگام نکلی، میں اپنی سیٹ کے پاس والی کھڑکی سے اپنے شہر کو پیچھے جاتے ھوئے دیکھ رھا تھا، ابھی اسپیڈ کچھ کم ھی تھی، تو سامنے سے ایک دم میرا علاقہ بھی نظر آگیا اور وہ جگہ بھی جہاں سے میں بیٹھ کر ٹرینوں کو آتے جاتا دیکھتا تھا، آج میرا دوست ننھا مجھے ڈھونڈ رھا ھوگا، اور نہ جانے گھر والے کیا سوچ رھے ھونگے اور اگر رات گئے تک میں گھر نہیں پہنچا تو ایک کہرام مچ جائے گا، یہ سوچتے ھی میری آنکھوں میں آنسو جاری ھو گئے، کہ اچانک سامنے ایک صاحب نے پوچھا کہ!!!! کیا بات ھے بیٹا !!! کیوں پریشاں ھو، اپنوں سے بچھڑ کر تو دکھ ھی ھوتا ھے، کہاں جارھے ھو !!! میں نے جواب دیا کہ!!!! ایک دوست سے لاھور ملنے جارھا ھوں!!!!! تو اس میں پریشانی کیا ھے، رو کیوں رھے ھو ، انہوں نے مجھے پیار سے پوچھا!!!! میں نے بس یہی کھا کہ گھر والوں سے بچھڑ کر دکھ ھو رھا ھےا !!!!!

اور اسی ظرح ان سے باتیں کرتے ھوئے مجھے کچھ سکون ملا ان کی باتوں سے پتہ چلا کہ وہ بھی لاھور ھی جارھے ھیں اور لاھور میں ھی رھتے ھیں اور انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر کوئی مشکل آئے تو اس پتہ پر مجھ سے رابظہ کرلینا، ٹرین بھی اب فل اسپیڈ سے اپنی منزل کی طرف رواں دواں تھی اور رات بھی ھورھی تھی، کوٹری جنکش کا اسٹیشن آیا تو کچھ کھانے کیلئے میں نے ٹرین کے بیرے سے منگوایا، لیکن نہ جانے میرا بالکل ھی دل نہیں چاہ رھا تھا، کچھ بھی نہ کھا سکا حالانکہ کل سے کچھ بھی نہیں کھایا تھا، سامنے سیٹ پر بیٹھے ھوئے صاحب نے کچھ کینو وغیرہ دیئے، تو وہ میں نے بڑی مشکل سے کھائے اور پھر سب نے اپنی اپنی برتھیں کھولیں اور سونے کی تیاری کرنے لگے،

میری برتھ نیچے ھی تھی، چادر پاس نہیں تھی نہ کوئی تکیہ تھا ویسے ھی میں لیٹ گیا، سوٹ کیس سیٹ کے نیچے ھی رکھا ھوا تھا، موسم بھی اچھا ھی تھا، سونے کی بہت کوشش کی مگر نیند نہیں آئی، بار بار گھر کا خیال آرھا تھا کہ وہاں کیا ھورہا ھوگا اور آنکھوں سے ایک آنسووں کا دریا بہہ رھا تھا، واپس جانے کے خیال سے ھی دل کانپ جاتا، کیونکہ والد صاحب کا ڈر اور ان کے وہ ڈائیلاگ ذہن میں گونج رھے تھے، اسی رات کے سفر میں ھی اور ٹرین کی کھٹ کھٹا کھٹ میں تقریباً سارا سفر ختم ھونے کو تھا، صبح صبح کی روشنی میں پنجاب کی سہانی صبح دیکھ رھا تھا وھی لہلہاتے کھیت اور باغات اسی اسپیڈ سے میرے سامنے سے گزر رھے تھے!!!!!!!

صبح کے تقریباً 8 بجے کے قریب ٹرین نے اپنی رفتار کچھ دھیمی کی، تو یہ اندازہ ھوا کہ لاھور آنے والا ھے، سب لوگ اپنا اپنا ساماں سمیٹنے لگے، میرے پاس تو سمیٹنے کے لئے ایک چھوٹے سے ھی سوٹ کیس کے علاؤہ کچھ بھی بھی نہیں تھا، جیسے ھی اسٹیشن کے اندر ٹرین داخل ھوئی ایک الگ ھی گونجتا ھوا شور سنائی دیا لاھور کا ایک واحد اسٹیشن ھے جو چاروں ظرف ھی بند اور گھرا ھوا ھے اور شاید پاکستاں کا بہت بڑا اسٹیشن ھے، اگر یہاں کوئی گم ھوجائے تو ملنا بہت مشکل ھے، بہرحال اسٹیشن پر گاڑی تو رک گئی، لیکن میں ابھی کھڑکی میں ھی بیٹھا رھا، تاکہ کچھ رش کچھ کم ھوجائے اور میں کھڑکی سے ھی اپنے دوست کو پہچاننے کی کوشش کرتا رھا، اتنے رش میں کسی کو تلاش کرنا اور وہ بھی بغیر دیکھے ھوئے، صرف ایک تصویر کا ایک دھندلا سا دماغ میں خاکے سے کیسے اتنے رش میں پہچانا جاسکتا ھے، اور ویسے بھی میری حالت غیر ھوچکی تھی !!!!!

تھوڑی دیر بعد میں ٹرین کی بوگی سے اترنے کیلئے گیٹ پر کھڑا ھی تھا کہ ایک لڑکے کو جو تقریباً میرا ھی ھم عمر ھوگا، ایک ھاتھ میں تصویر لئے ھوئے کسی کو ڈھونڈرھا تھا، اس کی نظر اچانک مجھ پر پڑی اور وہ مجھے پہچان گیا لیکن میں اسے پہچاں نہیں سکا تھا، اس نے بڑی گرم جوشی سےمجھے گلے لگایا اور مجھ سے میرا سوٹ لیا اور مجھ سے باتیں کرتے ھوئے حال احوال پوچھتے ھوئے باھر نکلے، وہاں سے ٹانگے میں بیٹھ کر اس دوست کے گھر پہنچے، گھر کیا ایک بہت شاندار حویلی لگتی تھی،

سب گھر والوں نے بہت اچھی ظرح سے استقبال کیا، ناشتے کا بہترین بندوبست کیا ھوا تھا، میں ھاتھ منہ دھو کر کچھ تازہ دم ھوا اور پھر ناشتہ کی میز پر کافی سارا مختلف قسم کے پکوان کے ساتھ سجی ھوی تھی اور انکی یہ ایک بہت ھی خوبصورت حویلی لگتی تھی اور ناشنے کی ٹیبل پر تقریباً تمام گھر والے موجود تھے، سب کا باری باری تعارف کرایا گیا لیکن میری ظبعیت کچھ ٹھیک نہیں لگ رھی تھی، بس ایک جوس کا ھی گلاس بہت مشکل سے پی سکا، اور سب سے معذرت کی، میرا دماغ معاوف ھو رھا تھا اور گھر کی بہت شدت سے یاد آرھی تھی !!!!!!

کھانے کا بالکل دل نہیں چاہ رھا تھا اور جو کچھ بھی پیتا تھا وہ باھر آجاتا تھا، چکر بھی آرھے تھے، لیکن اس دوست نے ایک ڈاکٹر سے دوائی بھی دلائی لیکن کچھ افاقہ نہیں ھوا، کچھ دیر آرام کیا لیکن بار بار آنکھ کھل جاتی اور بہت زیادہ پریشان تھا، شام کو وہ مجھے راوی کے کنارے لے گیا اور ایک کشتی کرائے پر لے کر مجھے سیر کراتا رھا اور اسی دوران اس نے گانے بھی سنائے اور اس سے یہی پتہ چلا کہ اس کے سارے چچا او تایا کا موسیقی سے ھی تعلق ھے، مجھے اس کے دو تیں گانے اب تک یاد ھیں مجھے بہت اچھے لگے تھے، اور اسکی آواز بھی بہت اچھی تھی،
ھم تم سے جدا ھوکر، مرجائیں گے رو رو کر
اس کے علاوہ ایک اور گانا:
کھلونا جان کر تم تو، میرا دل توڑے جاتے ھو

میری طبعیت پھر بھی کسی طرح بھی بہل نہیں پا رھی تھی پھر شاید ڈاکٹر کے پاس گئے یا انہوں نے گھر کی ھی کوئی دیسی دوائی کھلائی مگر کوئی فائدہ نہ ھوا، وہ لوگ بھی پریشان ھوگئے تھے حالانکہ ان سب نے اس رات ایک موسیقی کا پروگرام بھی مرتب کیا ھوا تھا اور مجھے خاص طور سے وہاں لے گئے رات کے کھانے کے بعد مگر میں نے صرف سوپ کی ایک پیالی ھی پی تھی،

آخر کو مجھ سے رہا نہیں گیا ، میں نے اپنے دوست سے کہا کے مجھے واپس اسٹیشن لے چلو مجھے صبح راولپنڈی پہنچنا ھے وھاں پر میرے ایک رشتہ دار رھتے ھیں، ان کے ساتھ میں مری جاونگا کیونکہ میں کچھ بیمار ھوں اور ڈاکٹر نے مشورہ دیا ھوا ھے کہ کچھ دن پرفضا مقام پر گزاروں تو بالکل ٹھیک ھوجاونگا، میرے کافی اصرار پر وہ مجھے اسٹیشن لے گئے اور وہاں پر ایک پسنجر ٹرین راولپنڈی جارھی تھی، مجھے انہوں نے ٹرین میں بٹھا دیا اور ٹرین کے چلتے ھی وہ مجھ سے یہ کہتے ھوئے رخصت ھوگئے کہ میں انہیں راولپنڈی پہنچ کر خط لکھونگا یا ٹیلیفون کروں، انہوں نے مجھے اپنے گھر کا نمبر بھی دیا تھا،

اب وہاں سے اس پسنجر ٹرین میں ایک خالی برتھ پر لیٹ گیا اور کچھ دیر کیلئے نیند بھی آگئی، پھر دوسرے دں بھی ٹرین ‌چلتی رھی کافی دیر بعد راولپنڈی پہنچی، وھاں سے ایک ٹانگے والے کو کہا کہ کسی سستے سے ھوٹل میں لے چل، وہ مجھے ایک چھوٹے سے علاقے جس کا نام بکرامنڈی تھا اور تیس روپے کرایہ لے لیا، جو کہ اس وقت کے لحاظ سے بہت زیادہ تھے اور ایک ھوٹل کے مالک سے ملوایا کہ یہ ایک شہری بابو ھے کراچی سے آیا ھے اس کو کوئی سستا اور اچھا کمرا دے دو، وہ یہ کہ کر چلا گیا، اس ھوٹل کے مالک نے دو چار سوال کئے اور میں نے بھی انہیں یہی کہا کہ موسم کی تبدیلی کے لئے آیا ھوں، اور اس نے مجھے ایک چھوٹا سا صاف ستھرا کمرا دے دیا اس وقت اس نے مجھے 5 روپے روزانہ پر 50 روپے ایڈوانس لے کر مجھے کمرے کی چابی دے دی،

وہاں بھی میری حالت غیر ھی تھی، تین دن ھوچکے تھے کچھ بھی کھایا نہیں جارھا تھا فوراً ھی کچھ خیال آیا فوراً ایک خط اپنے گھر پر ابا جی اور اماں کو لکھا اور معافی مانگی اور لکھا کے اب میں گھر اسی وقت آونگا جب تک میں کسی قابل نہ ھوجاؤں مجھے بہت شرمندگی ھے وغیرہ وغیرہ، اور خط پوسٹ کرکے واپس ھوٹل آیا تو کچھ پہلے سے طبعیت بہتر محسوس ھوئی، کچھ تھوڑا سا کھانا بھی کھا سکا اور دوسرے دں سے نوکری ڈھونڈنے کے چکر میں نکل پڑا، تین دن بعد گھر سے دو خط آئے ایک ھوٹل کے منیجر کے نام اور ایک میرے نام اور اتفاق سے دونوں خط اس ھوٹل کے مالک نے مجھے ھی پکڑا دیئے!!!!

شکر ھے کہ دونون خط میرے ھی ھاتھ لگے ورنہ بڑا مسئلہ ھوجاتا، کیونکہ منیجر کے خط میں یہ لکھا تھا کہ یہ میرا بیٹا گھر سے ناراض ھوکر آپ کے پاس ھوٹل میں ٹھرا ھوا ھے، اسے کسی طرح بھی پیار سے واپسی کراچی کی ٹرین میں بٹھا دو اس کی ماں سخت بیمار ھے وغیرہ وغیرہ!!!!

اور میرے خط میں لکھا کہ بیٹا جو کچھ بھی ھو بھول جاؤ، مین قسم کھاتا ھوں کہ آئندہ تمھیں کچھ بھی نہیں کہونگا اور جہاں تم چاھتے ھو تمھاری پسند سے ھی تمھاری شادی ھوگی مگر شرط یہ ھے کہ تعلیم کو مکمل کرلو اور اچھی جگہ سروس ھونے کے بعد جو مرضی آئے کرنا مجھے کوئی اعتراض نہیں ھوگا، لیکن فی الحال گھر فوراً پہنچو تمھاری اماں کی طبعیت بہت خراب ھے، میں نے بھی جواباً بہت اچھا خط اماں اور اباجی کو لکھا کہ میری فکر نہ کریں میں بہت جلد لوٹ رھا ھوں !!!!!!

اس دن سے پانچوں وقت کی نماز شروع کردی اور وھاں کے اچھے بزرگوں کے ساتھ بیٹھ کر درس اور تدریس میں حصہ لینے لگا، اور ایک دن وھاں کے موذن مجھے اپنے ایک روھانی پیشوا بزرگ کے پاس “گجر خان“ کے ایک گاؤں جس کا نام “بانٹھ “ میں لے گئے، ان کے پاس جیسے ھی پہنچا تو انہوں نے سب سے کہا کہ دیکھو آج ھمارے پاس بہت دور سے ایک سٌید زادہ آیا ھے فوراً سارے کھڑے ھوگئے اور بڑے ادب سے ملے اور سب مجھے شاہ جی کہہ کر مخاطب کرنے لگے، ان بزرگ نے مجھے تین تسبیح 11 مرتبہ ھر فرض نماز کے بعد پڑھنے کو کہا اور پانچوں وقت کی نماز کےلئے تلقیں کی اور وہ واقعی مجھے کوئی بہت پہنچے ھوئے لگ رھے تھے، لمبی سفید داڑھی اور ان کی عمر اس وقت 100 سال سے اوُپر ھی ھوگی، مجھے ان سے ملکر بہت سکون بھی ملا اور اس دن کے بعد کھانا کھانے میں بہتری بھی آئے اور بھوک بھی لگنے لگی تھی،

اب تو گھر سے خط و کتابت شروع ھوگئی تھی والدہ کی طبعیت اب بہتر تھی لیکن وہ بضد تھیں کہ میں جلد گھر آجاؤں، لیکن میں تو کسی اور اُونچے خوابوں کے چکر میں تھا، مگر افسوس اس بات کی تھی کہ میں نے باجی اور زادیہ کو کوئی خط بھی نہیں لکھا اور نہ ھی کوئی خیریت معلوم کی !!!!!!!!!!!!!

--------------------------------------------------------------------------------
میں نے اپنی زندگی کے یہ دن بہت ھی پریشانی اور تکلیف میں نکالے تھے، شاید یہ مجھے اللٌہ کی طرف سے سزا ملی تھی، جوکہ میں نے بعد میں اس کا اعتراف بھی کیا اور اس کا ازالہ بھی کرنے کی کوشش کی، کیونکہ جو میری شروع میں اپنا گھر چھوڑنے کے بعد حالت ھوئی تھی، اللٌہ کسی دشمن کو بھی ایسی تکلیف اور سزا نہ دے -

میرے لاھور سے راولپنڈی جانے سے پہلے ھی کراچی سے والد صاحب لاھور کے لئے روانہ ھوچکے تھے، حیرت کی بات ھے کہ انہیں نہ جانے اس بات کا کیسے پتہ چلا کہ میں لاھور چلا گیا ھوں، خیر صبح صبح وہ لاھور پہنچ گئے تھے اور بڑی مشکل سے وہ میرے دوست کے گھر پہنچ سکے اور وہ وہاں پر کافی میرے لئے یہ سن کر پریشان ھوئے کہ میں رات کو ھی راولپنڈی کیلئے نکل چکا ھوں، یہ سب مجھے میرے دوست کی زبانی بعد میں پتہ چلا جب وہ مجھ سے ملنے کراچی آیا ھوا تھا، انہوں نے سب کہانی انکو سنائی اور والدہ کا بھی ذکر کیا کہ وہ جب سے نہ کچھ کھا پی رھی ھیں اور لگاتار میرے لئے روتی جارھی ھیں،

میرے گھر سے نکلتے ھی تمام محلے والوں نے اور ھمارے والدین نے سارا الزام ان دونوں بہنوں اور انکے والدیں پر لگا دیا تھا کہ ان سب نے ملکر مجھے ورغلایا اور گھر سے بھاگنے پر مجبور کیا، اور روز بروز انکو دھمکیاں اور گالیاں اور نہ جانے کیا کیا ان پر ستم نہ ڈھائے، ان سب کی زندگی اجیرن کردی تھی، یہ بھی تمام تفصیل مجھے گھر واپسی پر ھی معلوم ھوئی، مگر انہوں نے خاموشی ھی اختیار کی اور یہی کہا کہ جب میں واپس آجاؤنگا تو ھی سچ کا پردہ اٹھ جائے گا اور جس ظرح وہ آپ کا لخت جگر ھے، اُس سے زیادہ ھمیں بھی پیارا ھے اور واقعی ان لوگوں نے وہ دن بھی بہت تکلیف اور مصیبتوں میں گزارے اور مجھے معلوم تھا کہ دونوں فیملیز میرے جانے کے بعد بہت ھی زیادہ تکلیفیں اٹھائیں گی، کیونکہ اب وہ محلہ ویسا نہیں تھا اور وہاں کے لوگ بھی ویسے ھی حاسد اور ایک دوسرے کو لڑانے میں خوش ھوتے تھے،

میں یہاں راولپنڈی میں دونوں خاندانوں کے لئے صدقِ دل سے دعائیں کررھا تھا اور اپنے گناھوں کی بھی ساتھ ساتھ رو رو کر معافی مانگ رھا تھا، آپ یقیں نہیں کریں گے کہ وھاں کے مقامی لوگ بھی جب مجھے روتے ھوئے دعائیں کرتے دیکھتے تو مجھے گلے سے لگاتے اور یہی کہتے کہ اللٌہ تعالیٰ تمھیں ھر پریشانی سے بچائے، ھر بیماری سے محفوظ رکھے اور شفا دے، وہ یہی سمجھتے تھے کہ میں اپنی بیماری کی وجہ سے ھی موسم کی تبدیلی کیلئے یہں آیا ھوا ھوں، کسی کو بھی یہ پتہ نہیں تھا کہ میں گھر سے بھاگ کر آیا ھوں، اور انہوں نے مجھ پر رحم کھا کر مجھے مسجد کے ساتھ ھی ایک کمرے میں ھی موذن صاحب کے ساتھ رھنے کی اجازت بھی دے دی، تاکہ میرے ھوٹل کا خرچہ بھی بچ جائے، اور کھانا بھی اڑوس پڑوس سے آجاتا تھا،

اور موذن صاحب بہت اچھے قاری بھی تھے، اور انکی تلاوت کرنے کا انداز بہت پیارا تھا، وہ میرے اچھے دوست بن گئے تھے اور تقریباً میرے ھی ھم عمر تھے، ھم دونوں اکثر ساتھ ھی رھتے تھے ان کا تعلق آزاد کشمیر سے تھا، ان سے میں نے یہ بھی وعدہ کرلیا تھا کہ میں ان کو کراچی لے جاؤنگا اور وھاں پر اپنے محلے کی ھی مسجد میں رکھوا دونگا، وہ بھی مجھ سے بہت خوش تھے، انھوں نے میرا بہت خیال رکھا، وہ میرے ساتھ اس وقت تو نہ جاسکے، لیکن میں نے انکے شوق کے مطابق انہی کی پسند سے قران شریف، ترجمے اور تفسیر کے ساتھ اور احادیث کی کتابیں خرید کردیں،

میں بھی مسجد میں بغیر کسی کرائے کے رھتا تو تھا لیکں مسجد میں موذن صاحب کے ساتھ ملکر سارے مسجد کی صفائی اور ستھرائی کا خیال رکھتا تھا اور تمام چیزوں اور جائے تماز کی تمام صفحوں کا اور قران شریف کے غلافوں کو دھونا اور قرینے سے رکھنا غرض کہ جتنا بھی مجھ سے ھوسکتا تھا میں موذن صاحب کےساتھ ملکر مسجد کی خدمت کرتا تھا، کہ شاید اللٌہ تعالیٰ میری اسی بہانے سن لے، مجھے بخش دے اور میری تمام تکلیفوں اور مصیبتوں سے جان چھڑا دے !!!!!!!!

اب تو گھر سے خط و کتابت چل پڑی تھی، ادھر اب والدہ کو بھی کچھ سکون تھا اور ان کی طرف سے بھی اب خط آنے لگے اور ھر خط میں یہی ایک بات تھی کہ جلدی سے واپس آجاؤ، میں جواباً انہیں خوب تسلی دیتا کہ سروس کی تلاش میں ھوں، اور جب تک آپ کے پیسے آپ کو واپس لوٹا نہیں دونگا واپس نہیں آؤنگا، میرے لئے شرمندگی کی بات ھے کہ خالی ھاتھ جاؤں، وہ بھی پلٹ کر یہی بار بار لکھتیں کہ ھمیں کوئی پائی پیسہ نہیں چاھئے، تم واپس اجاؤ،!!!!!

اور میں میٹرک پاس، نوکری کی تلاش میں اِدھر اُدھر بھٹکتا رھا، مگر ھر جگہ ناکامی ھوئی، آخر کو میں نے سوچا کہ چلو اپنے شوق کو ھی کیوں نہ آزمائیں، ایک دن ٹیلیویژن اسٹیشن پہنچ گیا، جو ان دنوں بالکل نیا نیا وجود میں آیا تھا، اور چکلالہ کے ایک ملٹری کے چھوٹی سی بیرک میں چل رھا تھا، وھاں پہنچتے ھی میں سیدھا پروگرام منیجر کے کمرے میں اجازت لے کر پہنچ گیا، اس وقت شاید پورے پاکستان میں وہیں سے بلیک اینڈ واہیٹ کلر میں ایک ھی چینل اپنے پروگرام براہ راست نشر کرتا تھا، صرف مختصر وقت کیلئے شاید آزمائیشی اور تعارفاتی پروگرام شروع کئے گئے تھے۔

میرا انہوں نے آڈیشن لیا اور ایک چھوٹی سی اسٹوری کو منظرنامے کے ساتھ ساتھ مکالمہ نگاری کے انداز میں لکھنے کو کہا اور کچھ سادے پیپر اور قلم ھاتھ میں تھما کر یہ کہتے ھوئے باھر نکل گئے، کہ میں ابھی آتا ھوں، جب تک آپ اس کہانی پر کام کیجئے، جسے کبھی بچپن میں نے ریڈیو پاکستان کے بچوں کے پروگرام میں بھی ایک ڈرامہ نگار صاحب کی اسی طرح لکھنے میں مدد کی تھی، اسی انداز میں ھی ایک جلدی سے اس کہانی کے کرداروں کو ڈائیلاگ کے ساتھ اور ساتھ ھی منظرنامہ کو بھی اس میں پیش کرتا چلاگیا اس کہانی کا کچھ حصہ پیش کرنا چاھونگا جوکہ مجھے کچھ تھوڑا تھوڑا سا یاد ھے،

ایک فیملی کی کہانی جو جنگل مینں پکنک منانے آئی اور کسی مصیبت کا شکار ھوگئی!!!!!!

جنگل میں ایک گھپ اندھیرا اور ایک ھاتھ دوسرے ھاتھ کو سجھائی نہیں دے رھا تھا، ھم ایک دوسرے کا ھاتھ پکڑے ایک نامعلوم منزل کی طرف چلتے جارھے تھے ، ساتھ ھی ایک ندی کے پانی کے شور کی آواز اور کبھی مینڈکوں کی اچانک ٹرٹرانے کی آوز سے ایک دم دل کی دھڑکن ایک خوف کی وجہ سے اچھلنے لگتا، کبھی کسی جھاڑی یا درخت سے کسی بندر کی چھلانگ ایک اور ھوا میں ایک عجیب سی ھنگامی سرسراھٹ، ڈراونے سرتال کا رنگ پیش کردیتی اور کبھی نہ جانے کئی مختلف جانوروں کی آوازیں بھی قدم قدم پر دماغ میں ایک ھیبت کا منظر پیش کرھی تھیں، چونکہ اندھیرا ھونے کی وجہ سے ھم آوازوں کا یہ ایک ڈراونی تاثر صرف محسوس ھی کر سکتے تھے، اگر دیکھ سکتے تو اتنا گھبرانے کی نوبت ھی نہیں آتی، کبھی کبھی تو ایک دوسرے کا ھاتھ اگر اتفاقاً بھی ایک دوسرے سے چھو جانے سے بھی ایک دوسرے کی چیخ نکل جاتی تھی!!!!!!!!

جاوید (کانپتی آواز میں !!!)
بھیا میرا ھاتھ پکڑلو، مجھے لگتا ھے کہ کوئی سامنے سے مجھے گھور رھا ھے،،،،،،،،،،
میں نے فورآً ھی دل میں ڈرتے ھوئے ھی جواب دیا ‌!!!!!!
ارے یار تمھارا دماغ خراب ھوگیا ھے، میں ھی تو تمھارے سامنے کھڑا ھوا ھوں،،،،،،،،،،،

اتنا ھی لکھا تھا کہ وہ پروگرام منیجر آگئے، میرے ھاتھ سے وہ پرچہ لےلیا اور لگے پڑھنے اور ساتھ ساتھ مجھے گھورتے بھی جارھے تھے، انہون نے پوچھا کہ کیا کرتے ھو!!!! میں نے کہا کہ!!!! ابھی انٹرکامرس میں پڑھ رھا ھوں، !!!! انہوں نے جواب دیا کہ بیٹا ابھی اپنی تعلیم مکمل کرلو اور ابھی کچھ تھوڑی محنت اور پریکٹس کی ضرورت ھے، تم اپنا ایڈریس وغیرہ نوٹ کرادو، ھم آپ سے ضرور رابطہ کریں گے، اور ابھی ایسا کرو کہ ایک پروگرام آن ایئر جانے والا ھے اس میں اگر شرکت کرسکو تو بہتر ھے اسمیں آپکی آواز کا ٹیسٹ اور کارکردگی کا بھی پتہ چل جائے گا فوراً مجھے ایک فارم دیا اور اس پر میں نے دستخط کردئے

اس پروگرام کا نام “زینہ بہ زینہ“ تھا اور پہلی مرتبہ ھی ٹیلی کاسٹ ھونے جارھا تھا اور شاید ڈائریکٹ نشر ھونے والا تھا،

جیسے ھی میں نے فارم بھرا اور دستخط کئے، اس کے بعد مجھے میک اپ روم میں لے جایا گیا جہاں کئی اور آرٹسٹ کا میک اپ ھورھا تھا، فورا میرے پہنچتے ھی ان منیجر صاحب نے میک اپ مین سے کچھ کہا اور اس نے مجھے اشارا کیا اور کرسی پر بیٹھنے کوکہا، وہ سمجھا کہ شاید میں کوئی خاص کردار کرنے باھر سے آیا ھوں اور یہ منیجر صاحب شاید میرے رشتہ دار ھیں، مجھ سے پوچھا کہ یہ آپکے کون ھیں، میں نے اسے جواب دیا کہ نہین!!!!!
میں نے ذرا اپنا ایک رعب ڈالتے ھوئے کہا کہ مجھے کراچی سے ایک یہاں پروگرام کرنے کےلئے بلایا گیا ھے، آپ وھاں کیا کرتے ھیں میں نے کہ میں وہاں کے ریڈیو پاکستان کے ڈائریکٹر زیڈ یے بخاری کا رشتہ دار ھوں،
وہ تو بس کچھ زیادہ ھی مہربان ھوگیا اور کہنے لگا کہ آپ کا میک اپ میں اسپیشل کررھا ھوں !!! میں نے شکریہ کہہ کر خاموشی اختیار کرلی کہیں ایسا نہ ھو کہ باتوں باتوں میں پول ھی نہ کھل جائےََََ !!!!!
وہ بہت بولتا تھا، میک اپ سے فارغ ھو کر مجھے سیٹ پر لایا گیا جہاں پہلی مرتبہ حبیب بنک کی طرف سے پروگرام “زینہ بہ زینہ“ ایک معلوماتی کھیل ٹائپ کا پروگرام رکارڈ ھونے والاتھا یا ڈائریکٹ ھی نشر ھونے والا تھا، سامنے ٹی وی بھی تھا دو دو کیمرے لگے ھوئے تھے،
میں مہمانوں کی ساتھ بیٹھا تھا سامنے دو کمپئرئر تھے میرے ساتھ چار یا پانچ لوگ جو وہاں کے ھی آرٹسٹ تھے، پروگرام کے قوائد ضوابظ پہلے ھی بتا دیئے گئے تھے،

مجھے پہلی مرتبہ اتنی زیادہ خوشی ھو رھی تھی کہ جیسے میں کوئی بہت بہت بڑا پرانا آرٹسٹ ھوں اور کیمرا میرے سامنے اور مجھ پر سوالات کی بوچھاڑ اور قدرتی میں بھی سوالات کا صحیح صحیح جواب دے رھا تھا اور پہلا سیشن میں جیت چکا تھا اور تالیوں سے مجھے دوسرے درجہ میں لے جایا گیا لیکن وہاں سے اگلی سیڑھی میں جانتے جاتے رہ گیا، !!!!!!!!!!!!!

پروگرام کے ختم ھوتے ھی میں ان صاحب کے پاس گیا تو انھوں نے وعدہ کیا کہ وہ مجھے چند دنوں میں اگر ضرورت پڑی تو ضرور بلوالیں گے، میں نے اسی ھوٹل کا پتہ دے دیا لیکن جواب تونہیں آیا لیکن گھر سے خطوط کا سلسلہ کچھ زیادہ چل پڑا اور بار بار میری واپسی کا مطالبہ ھی ھوتا رھا، اب میرا دل بھی بہت گھبرانے لگا تھا، کوئی نوکری کا سبب بھی نہیں بن سکا تھا، نوکری کی تلاش مین میں نے پنڈی سے لیکر پشاور تک کا سفر بھی کیا اور چھوٹے بڑے شہروں کا بھی رخ کیا لیکن مجھے ھر جگہ اپنی ماں کی یاد نے بہت تڑپایا اور آخر میں نے یہ فیصلہ کرلیا کہ اب مجھے واپس جانا ھی چاھئے!!!!!

جانے سے پہلے میں اپنے اس علاقے میں پہنچا جہاں میں نے اپنا ایک شروع کا بچپن گزارا تھا، وہی اپنا ایک پرانا سا لال اینٹوں کا وہ مکان جو اب کافی بوسیدہ ھوچکا تھا، مجھے اپنی ماں کی یاد دلا رھا تھا، جہاں ھم تیں بہن بھائی اپنی ماں کے ساتھ خوب لاڈ کیا کرتے تھے، اور سامنے “ریس کورس گراونڈ“ کو بھی دیکھا جہاں 1956 اور 1957 کے دور میں ایک اپنے بچپں کا ایک خوبصورت دور گزارا تھا، اپنے والد کی انگلی پکڑے ھم دونوں بہن بھائی اس گراونڈ میں ھر شام کو جاتے تھے اور ھم کافی دیر تک کھیلتے رھتے تھے!!!!!

دو مہینے ھونے والے تھے اور آج میں پھر ریلوے اسٹیشن کی طرف جارھا تھا اور ساتھ موذن صاحب بھی مجھے اسٹیشن تک چھوڑنے آئے تھے ان کی آنکھوں میں، اس روز میں نے آنسوؤں کی جھلک دیکھی تھی، اس مسجد کے آس پاس کے لوگ بھی میرے جانے سے بہت افسردہ تھے، تمام لوگوں نے بھی مجھے بہت گرمجوشی سے رخصت کیا تھا، میں نے دو دن پہلے ھی تیزگام سے کراچی کیلئے سیٹ بک کرالی تھی، اور گھر پہنچنے کی اطلاع بھی دے دی تھی، آج میرا دل بہت خوش تھا کہ میں اپنی ماں کے پاس جارھا تھا، جو میرے لئے بہت تڑپتی اور بہت روتی بھی تھی !!!!!

آج پھر اسی تیزگام میں ایک کھڑکی کے پاس والی سیٹ میں بیٹھا میں بہت کچھ سوچ رھا تھا کہ اب میں کبھی بھی والدین کی بات ٹالوں گا نہیں اور ھمیشہ اپنی پوری زندگی انکی خدمت میں گزاردوں گا، پہلے تو میں سوچ رھا تھا کہ میں پنڈی میں ھی اپنا مستقبل سنواروں گا لیکن ماں کی دعاؤں کے بغیر یہ بالکل نہ ممکن تھا، تیزگام پھر اپنی اسی تیزرفتاری سے کھٹ کھٹا کھٹ کرتی ھوئی انجن کی ایک مخصوص سیٹی کے ساتھ اپنی منزل کی طرف رواں دواں تھی، مگر میرے لئے ایک ایک لمحہ بہت بھاری لگ رھا تھا، اور وقت لگتا تھا کہ گزر ھی نہیں رھا تھا، کتنے اسٹیشں آئے اور نکل گئے لیکن آج میری دلچسپی صرف اور صرف میری ماں ھی تھی جس کو میں نے ھمیشہ بہت دکھ ھی دئیے، آج جب میں اس سے دور ھوا تو مجھے اس کا شدٌت سےاحساس ھوا تھا !!!

کراچی نزدیک آرھا تھا، لیکن پھر بھی یہ کہ سفر کاٹے نہیں کٹ رھا تھا، آخر وہ لمحہ آھی گیا کہ ٹرین کراچی کے شہر کے اندر غل مچاتی سیٹیاں بچاتی انے اسی رفتار کے ساتھ دوڑی چلی جارھی تھی!!!!!!!!!!
-----------------------------------------------------
جاری ھے،!!!!

عبدالرحمن سید
31-01-10, 06:41 PM
کراچی نزدیک آرھا تھا، لیکن پھر بھی یہ کہ سفر کاٹے نہیں کٹ رھا تھا، آخر وہ لمحہ آھی گیا کہ ٹرین کراچی کے شہر کے اندر غل مچاتی سیٹیاں بچاتی انے اسی رفتار کے ساتھ دوڑی چلی جارھی تھی!!!!!!!!!!

جیسے ھی تیزگام کراچی میں داخل ھوئی، اسکے ساتھ ساتھ میرے دل کی دھڑکنیں بھی تیز ھوگئیں، اور ڈر بھی اس خوف کے ساتھ کہ کس طرح میں سب کے سامنے آپنے آپکو کس شرمندگی کے ساتھ پیش کرسکونگا، ٹرین کراچی کینٹ اسٹیشن کے پلیٹ فارم پر آہستہ آہستہ رک رھی تھی، اور میں کھڑکی سے جھانک رھا تھا کہ شاید کوئی مجھے لینے آیا ھوا ھو، دیکھا تو ایک دوست نظر آیا، اس نے مجھے دیکھتے ھی ہاتھ ہلایا، مین‌سمجھ گیا کہ یہی دوست مجھے لینے آیا ھوا ھے، کیونکہ اس کے علاوہ مجھے اور کوئی دکھائی نہیں دیا!!!!

خیر علیک سلیک کے بعد ھی میں اور وہ پیدل ھی گھر کی طرف نکل گئے، کیونکہ اتنی دور تو نہیں تھا ، آدھے گھنٹے کی مسافت طے کرتے ھی محلے میں جیسے ھی داخل ھوا، بچوں کے ساتھ بڑے چھوٹے، مرد عورتیں ، بچے اور بوڑھے، سب نے مجھے گھیر لیا اور سوالوں کی ایک بوچھاڑ کردی، میں نے علیک سلیک کے علاؤہ کسی بات کا کوئی جواب نہیں دیا، اور سیدھے ھی چلتا رھا، اور سامنے کے گھر کی طرف ھی اچانک دیکھا کہ پردہ کے پیچھے سے دونوں باجی اور زادیہ جھانک رھی تھیں، مگر میں نے بغیر دیکھے ھی کچھ کہے سنے ان کے سامنے سے نکل گیا، جس کا کہ مجھے بعد میں بہت افسوس ھوا، بہرحال بس پھر خاموشی سے اپنے دوست کے ساتھ ھی اپنے گھر میں داخل ھوا جہاں میری امی میرا بےچینی سے انتظار کررھی تھیں اور ساتھ بہں بھائی بھی اور اس وقت تک والد صاحب باھر ھی تھے، والدہ کو دیکھتے ھی میں ان سے گلے لگ کر بہت رویا اور سارے بہن بھائی بھی ساتھ ھی سب مجھ سے لپٹ گئے،

اور کھانا جلدی جلدی والدہ نے لگایا اور سب بہن بھائی کھانا کھانے میرے ساتھ ھی بیٹھ گئے اور والدہ مجھے پنکھا بھی جھل رھی تھی اور ساتھ انکے آنسو بھی گرتے جارھے تھے، اور میری بھی آنکھیں نم تھی، آج کتنے دنوں کے بعد اپنے گھر کا کھانا کھا رھا تھا دل رو بھی رھا تھا کہ اپنا گھر بھی کیا ھوتا ھے دنیا کی ساری نعمتیں ایک طرف اور اپنا گھر ایک طرف جہاں ماں کی پیار بھری دولت ھوتی ھے، والد صاحب بھی میری خبر سنتے ھی فوراً گھر آگئے، اور گلے لگایا مگر کچھ نہیں بولے اور میں بھی بس خاموشی سے کھانے کھانے میں مصروف ھوگیا!!!!

آج تقریباً دو مہینے بعد پھر مجھے سکون ملا، بہت تکلیف اور بے سکونی ھی اٹھائی، جس کا کہ میں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا، بس تھوڑی دیر میں ھی میرا دوست ننھا بھی پہنچ گیا، اور بہت ھی شکوہ شکایت کرنے لگا وہ بھی بہت بدل سا گیا تھا اور میرے بغیر اس نے کہا کہ اسے کچھ بھی اچھا نہیں لگ رھا تھا، کیونکہ ایک عرصہ سے وہ مجھ سے کبھی جدا نہیں ھوا تھا اور ھم دونوں زیادہ تر ایک ساتھ ھی رھتے تھے، جب سے حالات خراب ھوئے تھے، اس نے میری کافی مدد کی تھی، واقعی وہ ایک مخلص دوست تھا!!!!!!!

باقی تمام باتیں مجھے اسی کی ھی زبانی معلوم ھوئیں کہ میری غیر حاضری میں کیا ھوا تھا وہ بہت بے چین تھا مجھے تمام کہانی سنانے کیلئے اور میں بھی کچھ سننے کےلئے، مگر اس وقت مجھے اچھا نہیں لگ رھا تھا کہ سب کو چھوڑ کر چلا جاؤں!!!!!!

کیونکہ دو مہینے بعد تو میں اپنے گھر والوں سے ملا تھا، اور بس میں یہی چاھتا تھا گھر میں سب کو جی بھر کر دیکھوں، اور کچھ نہ کروں، باھر جاکر بھی تو میں ھر ایک کے لئے ایک بہت بڑا سوالیہ نشان تھا اور ھر کوئی تمام حالات اور واقعات جو مجھ پر گزرے تھے ان کو معلوم کرنے کیلئے سب بےچین تھے، اور ھر ایک کو باری باری تمام تفصیل کو دھرانا میرے بس کی بات بھی نہیں تھی اور مجھے آئے ھوئے دو دن گزرچکے تھے، لیکن کسی سے کوئی رابطہ نہیں کیا، بس ایک بات تھی کہ نماز کیلئے اب پانچوں وقت مسجد میں جانے لگا تھا، اور اس دوران ھر ایک کی یہی کوشش ھوتی کہ مجھ سے کچھ پوچھے لیکن میں خاموش ھی رھتا اور کوئی بہت زیادہ ھی ضد کرتا تو میں عاجزی سے اس کے سامنے ھاتھ جوڑ لیتا، اور بعض اوقات تو میرے آنکھوں میں آنسو بھی آجاتے،

کبھی کبھی تو میرے پیچھے لڑکے آوازیں کستے اور مذاق بھی اُڑاتے، لیکن اس وقت ان کی ھمت بھی نہیں پڑتی تھی جب میرے پیچھے میرا دوست “ننھا“ ھوتا، اس نے سب کو خبردار کیا ھوا تھا، اگر کسی نے کچھ بھی اگر مجھے ایک لفظ بھی کہا تو اس کی خیر نہیں، اور کئی دفعہ تو وہ کئی لڑکوں سے میری خاطر الجھ بھی چکا تھا، میں نے اسے سمجھایا بھی کہ تو میری خاطر کسی سے بھی جھگڑا نہیں کیا کر لیکن وہ باز نہیں آتا تھا، اور کئی لڑکے بہت اچھے بھی تھے جو مجھے ھر نماز میں باجماعت ملتے تھے، شروع شروع میں انہوں نے ازراہِ ھمدردی کچھ پوچھنا چاھا، لیکن میری خاموشی کے بعد تو انہوں نے بھی کوئی سوال نہیں کیا،

ننھا بھی میرے ساتھ ھی نماز پڑھنے جاتا اور ساتھ ھی وہ میرے پیچھے پیچھے مجھے گھر تک چھوڑ کر چلاجاتا، اکثر وہ اذان کے وقت ھوتے ھی میرا باھر انتطار کررھا ھوتا، میں اس سے بس ھاتھ ھی ملاتا اور کچھ بھی کہنے کی مجھ میں کوئی ھمت نہیں تھی، اور وہ بھی مجھ سے کوئی سوال نہیں کرتا تھا بس میں اس کو چلتے چلتے ھی دیکھ کر بس روایتاً ھلکا سا مسکرا دیتا تو وہ بھی کچھ مسکرا کر مجھے اس طرح دیکھتا کہ جیسے وہ مجھ سے بہت کچھ کہنا چاھتا ھے، وہ اتنا بولنے والا بس اب تو میرے ساتھ خاموشی سے مسجد اور گھر تک، بس اتنا ھی ساتھ رھتا جیسا کہ وہ میرا کوئی باڈی گارڈ ھو، اور مجھے اسکا ساتھ بھی بہت اچھا لگتا، ایسا مجھے محسوس ھوتا کہ میں اس کے ساتھ ھر وقت ھر کسی پریشانی سے بالکل محفوظ ھوں، کبھی کبھی اگر نماز کیلئے اسے آنے میں دیر بھی ھوجاتی تو میں اپنے گھر کے باھر مین دروازے پر انتظار بھی کرتا، مجھے اس کی دور سے ھی اس کی آہٹ سے ھی اندازہ ھوجاتا کہ وہ آرہا ھے، وہ کبھی کبھی میرے پیچھے ھی سے ان دونوں زادیہ اور باجی کو ان کے گھر کے سامنے سے گزرتے ھوئے میری طرف سے خیریت کا پیغام دے دیتا اور خاموشی کی زبان میں ھی تسٌلی بھی دیتا کہ جیسے وہ بہت جلد میرا آمنا سامنا کرادے گا، وہ دونوں بھی میرے آنے جانے کے وقت ھی اپنے دروازے پر مجھے دیکھنے آجاتی تھیں، لیکن میں ایک لفظ بھی نہیں کہتا تھا اور نہ ھی اسطرف آنکھ اٹھا کر دیکھتا تھا،!!!

نہ جانے بس مجھے ایک چپ سی لگ گئی تھی، اور مجھے عبادت کرنے میں بہت مزا آتا تھا اور بعض اوقات تو میں نماز کے بعد مسجد میں اکیلا ھی رہ جاتا تھا اور مسجد کے باھر ننھا میرا انتطار کررھا ھوتا تھا، اور لوگ اسے گھیر لیتے تھے بہت سارے میرے بارے میں سوالات لئے اور کچھ پوچھنے کیلئے کہ آج کل مجھے کیا ھوگیا ھے اور جیسے ھی میں مسجد سے باھر نکلتا وہ سب لوگ اِدھر اُدھر ھوجاتے، اور پھر ھم دونوں سیدھا گھر کی ظرف نکلتے، راستے میں ان دونوں کا گھر بھی پڑتا اور وہ حسب معمول مجھے دیکھنے کیلئے پردے کی آڑ میں سے حسرت بھری نگاھوں سے مجھے تکتی رہتیں، اور میں اسی طرح خاموشی سے سر جھکائے ان کے گھر کا سامنے سے بھی گزر جاتا،

کئی لوگوں نے تو یہ افواہ بھی اُڑا دیی کہ مجھ پر کسی بھوت پریت وغیرہ کا سایہ ھوگیا ھے، مجھے ایک عادت تو بچپن سے ابا جی کے ھاتھوں پرائمری اسکول کے واقعہ کے بعد مار کھانے کی وجہ سے تھی کہ رات کو اکثر سوتے میں بری طرح چیخنے لگتا تھا اور جبتکہ مجھے کوئی اچھی طرح جھنجھوڑ نہ لے اور میں اٹھ نہ جاؤں، میرے ھوش ٹھکانے نہیں آتے تھے، اور یہ عادت مجھ میں اب تک ھے، جو مجھے اپنی وہ پانچویں کلاس سے پورے سال کے سیشن میں پرائمری اسکول سے بھاگ جانے والی اس حرکت کو ایک سبق کی طرح ھمیشہ یاد دلاتی ھے!!!!!!

کئی دفعہ ننھے نے مجھ سے کہا کہ یار اب تو ٹھیک ھوجاؤ کافی دن ھوگئے، مجھ سے تمھاری یہ خاموشی کی حالت دیکھی نہیں جاتی، میں جواباً اسے صرف یہی کہتا کہ دوست ننھے ابھی تک میری ندامت اور شرمندگی کے آنسو ختم نہیں ھوئے ھیں، جبتکہ میری اپنے اندر کی شرمندگی خود بخود باھر نکل نہیں جاتی، میں اپنی گردن اٹھا نہیں سکتا اور یہ ایک حقیقت بھی تھی کہ مجھے پہلے اسکول سے اور دوبارہ گھر سے بھاگنے کی حرکت کی وجہ سے جو شرمندگی اٹھانی پڑی تھی وہ میں شاید زندگی بھر نہ بھول سکونگا !!!!!!!!!

اب کچھ دنوں بعد ظبیعیت کچھ بہتر ھوگئی اور آہستہ آہستہ میں کچھ اپنے آپ میں سکون محسوس کررھا تھا، یہ تو واقعی ایک طے شدہ بات ھے کہ جب بھی آپ پانچوں وقت کی نماز باجماعت پڑھیں اور ساتھ ھی نوافل اور اذکار کثرت سے ادا کریں، تو جو بھی پریشانی دکھ یا کوئی بھی تکلیف ھو، بالکل ھی جاتی رھتی ھے، لیکن ھمارے میں یہ ایک بہت بڑی کمزوری ھے کہ جیسے ھی حالات بہتر یا کوئی بھی پریشانی، دکھ یا تکلیف دور ھوجاتی ھے تو اللٌہ کو ھم بھول جاتے ھیں!!!

آخر ننھے سے صبر نہیں ھوا اور اس نے میرے جانے کے بعد کی اسٹوری سنا ھی دی، جس کے بعد مجھے بہت افسوس ھوا کہ میری اس غلطی کی وجہ سے دونوں فیملیز کو کیا کیا پریشانیاں اٹھانی پڑیں، آپس میں بہت ھی زیادہ جھگڑے ھوئے، اور حالات کافی سے بہت زیادہ کشیدہ ھوچکے تھے، روزانہ کچھ نہ کچھ لڑائی رھتی تھی اور ان لوگوں کا محلے والوں نے ناک میں دم کیا ھوا تھا، اور ان کے والد نے یہ محلہ بھی چھوڑنے کا ارادہ کر لیا تھا، مگر میرے واپس آنے تک اس فیصلے کو روکا ھوا تھا، کیونکہ ان پر یہ الزام تھا کہ انہوں نے ھی مجھے گھر سے بھاگنے پر اکسایا تھا، اور انہیں یہ بھی معلوم ھے کہ میں کس جگہ پر ھوں، یہ تو اچھا ھوا کہ میری خط و کتابت چل پڑی ورنہ تو بےچاروں اور بےقصوروں کو میری وجہ سے کافی دھمکیاں بھی مل چکی تھیں کہ اگر کچھ دنوں میں میرا پتہ نہ چلا تو ان کے خلاف مقدمہ دائر کردیں گے، اور یہ سب محلے کے چند افراد ھی ھمارے والدیں کو یہ مقدمہ کرنے کیلئے ورغلا رھے تھے، مگر والد صاحب نے پھر بھی اپنی عزت کے لئے اسطرح کا کوئی اقدام نہیں اٹھایا اور میرے خط و کتابت شروع ھونے کے بعد ھمارے گھر والوں نے کسی اور کی باتوں کی طرف دھیان نہیں دیا، کیونکہ یہ میں اپنے خط میں مکمل طور پر واضع کرچکا تھا کہ میں کسی کے کہنے بہکانے یا اکسانے پر گھر سے نہیں گیا یہ صرف میرا اور صرف میرا ھی فیصلہ تھا،

پھر سے وہ رونقیں واپس آرھی تھیں، مجھے والد صاحب نے ایک اور دوسرے کالج جسکا نام عائشہ باوانی کامرس کالج میں سیکنڈ ائیر شام کی شفٹ میں میں داخلہ دلا دیا، اور گھر سے بھی کچھ قریب ھی تھا اور اس کالج کے پیچھے وہ پرائمری اسکول بھی تھا، جہاں سے کبھی پانچویں کلاس پاس کی تھی اور اس سے پہلے اسی اسکول سے بھاگا بھی تھا، وہ دن یاد آتے ھیں تو کلیجہ منہ کو آتا ھے، اس کالج میں کافی پابندی تھی، اور اچھے کالجوں میں سے ایک تھا اور ھمارے اکاونٹس اور اسٹیٹس کے لیکچرار جناب اسلم صاحب بہت ھی قابل استادوں میں سے تھے، اں کا پڑھانے کا دوستانہ انداز میں آج تک نہیں بھولا، یہ میں کہہ سکتا ھوں کہ آج جس اکاونٹس کی پوزیشن میں ھوں، ان ھی کی محنت اور کاؤش کا نتیجہ ھے، وہ میرے صحیح معنوں میں اس فیلڈ کے پہلے استادوں میں سے ایک تھے اور میں اپنے تمام استادوں کو آج تک نہیں بھولا ھوں، چاھے وہ میرے اسکولوں یا کالجوں کے استاد تھے یا میری سروس کے دوران جن سے میں نے کچھ نہ کچھ حاصل کیا تھا، ان سب کے لئے آج بھی میں صدقِ دل سے دعائیں کرتا ھوں!!!!

مجھے اب سیکنڈ ایئرکامرس میں کل آٹھ پیپرز پچھلے سال کے 3 پیپرز ملا کر دینے تھے اور اس کے لئے مجھے کافی محنت بھی کرنی تھی، اس کے لئے والد صاحب نے بہت پیار سے یہی کہا کہ اب تمھاری مرضی ھے کہ کس طرح اور کس پوزیشن میں پاس کرتے ھو یہ تمھارے مستقبل کا سوال ھے، اگر اپنی زندگی میں کچھ بننا چاھتے ھو، تو تمھیں محنت تو ضرور کرنی پڑے گی، اور اب میں تمھیں کچھ نہیں کہوں گا اب تمہیں خود اپنے پیروں پر کھڑا ھونا ھے اور وہ بھی بغیر سہارے کے اگر محنت کروگے تو تمھاری قابلیت ھی تمھارے سہارا بنے گی ورنہ تمھارا کچھ بھی نہیں ھوسکتا، اور یہ بھی کہا کہ ھوسکتا ھے کہ کمپنی میرا کچھ دنوں بعد میرا ٹرانسفر سعودی عرب میں کردے تو تمھیں ھی پڑھائی کے ساتھ ساتھ یہ اپنے گھر کو بھی سنبھالنا ھوگا، مجھے امید ھے کہ ھر لحاظ سے میری غیرحاضری میں اپنے گھر کا خیال رکھو گے!!!!

اب تو مین واقعی خوب اپنی پڑھائی کی طرف توجہ دینے لگا، اور اب میرا دوست ننھا بھی اپنے والدیں کے ساتھ کسی اور اچھی جگہ جا چکے تھے، اور ھمارے والد صاحب بھی ایک اور کوئی چھوٹا سا مکان خریدنے کے چکر میں تھے، نہ جانے کیوں ھر کوئی اس علاقے سے بھاگ جانے کے حق میں تھا، رات کو جب کالج سے آتا تو روزانہ ان دونوں بہنوں کو انکے گھر کے صحن کی دیوار کے اوپر سے مجھے جھانکتے ھوئے دیکھتا تھا، لیکں میں اسی خاموشی کے ساتھ بغیر کسی قسم کا اشارا یا بات کئے ھوئے گزر جاتا، اور کوئی بھی دھیان نہیں دیا، لیکن بلاناغہ انہوں نے یہ اپنا ایک معمول بنا لیا تھا،

لیکن پتہ نہیں کیوں میرا دل اب بھی انہیں کی طرف تھا، ان کو میں بُھلا نہیں پایا تھا، لیکن والدین کی وجہ سے میں بہت مجبور تھا 1968 کا سال تھا اور سالانہ انٹر کامرس کے فائنل کے امتحانات شروع ھونے والے تھے، اور امتحانات کی تیاری کے دوران ھی میں نے سوچا کہ میں شاید کسی کا دل تو نہیں دُکھا رھا، کہیں ایسا نہ ھو کہ کسی کی بددعاء مجھے یا میرے گھر والوں کو نہ لگ جائے، کیونکہ جاتے جاتے ننھا مجھے یہ ضرور کہہ گیا کہ وہ سب تمھارے لئے خیریت کی دن رات دعاء کرتے تھے، اور وہ واقعی تمھیں بہت زیادہ دل و جان سے چاھتے ھیں، اس لئے ایک دں موقع پا کر تم ان سے ضرور ملکر معافی مانگ لینا،!!!

میں بھی یہی چاھتا تھا کہ ان سے کم از کم معافی تو مانگ لوں اور ایک دن چپکے سے باھر کا مین دروازے سے اندر جا کر ان کے گھر کے بڑے کمرے کے دروازے پر ھلکی سی دستک دی، دروازہ کھلا اور باجی دروازے پر تھیں اور بس وہ مجھے دیکھتے ھی شروع ھوگئیں، کہ “اب اتنے دنوں بعد کیوں آئے ھو، کیا کام ھے، تمھیں اتنے دن ھوگئے آئے ھوئے اور آج اپنی شکل دکھا رھے ھو، ھمارا کیا حال تھا تمھیں کسی بات کی خبر بھی تھی یا نہیں، تمھیں ذرا سی بھی شرم نہیں آئی“ اور نہ جانے وہ کیا کیا کہتی چلی گئیں، اور انکی امی نے باجی کو کافی روکنا چاھا مگر وہ غصہ میں بےقابو ھو کر بولتی ھی چلی گئیں لیکن میں بس یہ سب کچھ خاموشی سے سب کچھ سنتا رھا، مگر میری آنکھوں سے ایک آنسوؤں کا سیلاب جیسے امڈ رھا تھا جوکہ انہوں دیکھا نہیں تھا!!!

جب وہ کہہ کہہ کر تھک گئیں تو میرے بازوؤں کو پکڑ کر جیسے ھی جھنجھوڑا تو میری آنکھوں کے آنسو کے کچھ قطرے شاید ان کے چہرے پر پڑے تو فوراً انہوں نے مجھے بے اختیار اپنے گلے لگا لیا، اور انکی آنکھوں سے بھی آنسو جاری ھو گئے، ادھر زادیہ کی آنکھوں میں بھی نمی دیکھی اور خالہ نے بھی مجھے فوراً اپنے گلے لگایا اور ساتھ ھی نانی نے مجھے اپنے پاس بلایا اور پیار کیا اور ادھر زادیہ اپنی باجی کے گلے سے لگ کر رورھی تھی یا پتہ نہیں پھر کوئی اور میری شکایت ھی کررھی ھوگی!!!!!!!!!

میں اب ایک اور شش و پنج میں تھا کہ کیا کروں، پھر یہی ھم نے یہی فیصلہ کیا کہ میں ان سب سے باھر ھی ملوں گا، کیونکہ انکے والد نے پہلے ھی سے انہیں یہ سختی سے نوٹس دے ھی دیا تھا کہ وہ اپنے گھر میں میری شکل دیکھنا نہیں چاھتے، اور میری ھی وجہ سے انکے والد سے آپس میں کافی جھگڑا بھی ھوا تھا، میں رات کو جب بھی کالج سے واپس آتا تو وہ دونوں میرا شدت سے انتظار کرھی ھوتی تھیں اور دیوار کے اُوپر سے جھانک کر مجھے اکثر میرے لئے شامی کباب یا کوئی بھی کھانے کی چیز پکڑا دیتی تھیں جو بھی مجھے پسند تھی، اور ایک دو لفظ کہہ کر واپس نیچے اتر جاتیں مگر ھمیشہ وہ دونوں امتحانات کی اچھی طرح تیاری کرے کا حکم صادر فرماتی تھیں، اور میں اپنے گھر میں داخل ھونے سے پہلے ھی اسے شامی کباب ھوں یا کچھ اور سب کچھ کھا کر ختم کرلیتا تھا، اور گھر پہنچ کر بھی کچھ تھوڑا بہت اپنے گھر کا بھی کھا لیتا تھا کہ کہیں گھر والوں کو شک نہ ھوجائے!!!

اسی طرح دن گزرتے رھے اور کئی دفعہ باھر ملاقات بھی ھوئی لیکن زادیہ سے تو اکیلے میں بات کرنے کا موقعہ ھی نہیں ملا کہ کچھ اظہار وفا ھی کرلیتے کئی دفعہ موقعہ نکالنے کی کوشش بھی کی اور اس نے بھی پہلے ھی کی طرح پوچھا کہ تم کچھ کہنے والے تھے، لیکن بس اس وقت اپنے گال سہلاتا ھوا بات کو ٹال دیتا، اور جب وقت گزرجاتا تو اپنے آپ کو بزدل ھی کہتا لیکن ساتھ ھی سوچتا کہ چلو اچھا ھی ھوا کہ کچھ نہیں کہا، کہنے سے پہلے میری جان نکلی ھی ھوئی ھوتی تھی اور جب کہہ نہیں سکتا اور بات ٹل جاتی تو شکر بھی ادا کرتا کہ شکر ھے بال بال بچ گئے، میرے ساتھ ایک عجیب سی ھی ایک سچیویشن تھی، کچھ سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ لوگ کس طرح اتنی بڑی ھمت کرلیتے ھیں،

جبکہ ریڈیو پاکستان میں ایک دفعہ آڈیشن کے وقت میں نے بہت اچھی طرح ایک ڈرامے کی رہل سہل کے وقت ایک اپنے سامنے والی لڑکی جو اس وقت ڈرامے کی ھیروئین کا ٹیسٹ دے رھی تھی اور مجھے بھی ھیرو کا اسکرپٹ پکڑا دیا تھا، جس میں ایک لڑکا ایک لڑکی سے محبت کا اظہار کرتا ھے، وہ تو میں نے بہت ھی بہتریں طریقے سے ادا کیا تھا اور اس لڑکی نے مجھ سے بھی شاندار طریقے سے ڈائیلاگ کی ڈلیوری کی تھی، وہ بات دوسری ھے کہ میں سیلکشن میں کامیاب نہیں ھوسکا تھا، کیونکہ میرے مقابلے میں اور بھی بہت اچھے منجھے ھوئے فنکار بھی موجود تھے، تو ھماری دال کہاں گلتی، بہرحال میں نے کم از کم ڈائیلاگ تو بہت ھی اچھی ظرح بولے تھے مگر اصل میں جب بھی موقع آتا تھا تو ٹیں ٹیں فش ھوجاتی تھی، نہ جانے میرے کالج کے دوست تو اپنی عشق کی داستان ایسے سناتے تھے کہ جیسے وہ خاندانی عاشق ھی ھوں!!!!!!!!!!

آخر کو انٹر فائنل کے سالانہ امتحانات کے دن آھی گئے اور میں نے اپنی پوری کوشش کی کہ آٹھوں پیپرز اچھی طرح ھوجائیں اور شکر ھے کہ سیکنڈ ڈویژن کے بجائے تھرڈ ڈویژن کی پوزیشن آئی، میں نے بھی شکر کیا چلو انٹر سے تو جان چھوٹی، نتیجہ نکلنے کے بعد کچھ آزادی بھی ملی اور اب میں “بی کام“ میں بھی چلا ھی گیا، والد صاحب بھی خوش ھوگئے،!!!!!!!

اور نہ جانے ایک دن پتہ نہیں کیا ھوا کہ میں کسی شادی میں یا اور کسی تقریب میں شرکت کیلئے دوستوں کے ساتھ کراچی سے باھر دو یا تیں دن کیلئے اندرون سندھ سکھر گیا ھوا تھا، جیسے ھی واپس آیا تو اچانک مجھے خبر ملی کہ زادیہ اور باجی سب گھر والوں سمیت اپنا گھر بیچ کر نہ جانے کہاں جا چکی تھیں، کسی کو کچھ پتہ نہیں تھا اور میں پاگلوں کی طرح اِدھر اُدھر پوچھتا پھر رھا تھا مگر کسی کو کانوں کان خبر نہیں تھی، اور لوگ مجھے یہ خبر اچھل اچھل کر سنارھے تھے، اور ساتھ میرا مذاق بھی اُڑا رھے تھے،!!!!!!!
-------------------------------------------
جاری ھے،!!!!

عبدالرحمن سید
31-01-10, 06:58 PM
اور نہ جانے ایک دن پتہ نہیں کیا ھوا کہ میں کسی شادی میں یا اور کسی تقریب میں شرکت کیلئے دوستوں کے ساتھ کراچی سے باھر دو یا تیں دن کیلئے اندرون سندھ سکھر گیا ھوا تھا، جیسے ھی واپس آیا تو اچانک مجھے خبر ملی کہ زادیہ اور باجی سب گھر والوں سمیت اپنا گھر بیچ کر نہ جانے کہاں جا چکی تھیں، کسی کو کچھ پتہ نہیں تھا اور میں پاگلوں کی طرح اِدھر اُدھر پوچھتا پھر رھا تھا مگر کسی کو کانوں کان خبر نہیں تھی، اور لوگ مجھے یہ خبر اچھل اچھل کر سنارھے تھے، اور ساتھ میرا مذاق بھی اُڑا رھے تھے !!!!!!!

مجھے تو ایک دم سے ھی پریشانی لاحق ھوگئی کہ میری یہ تین دن کی غیر حاضری میں اچانک کیا سے کیا ھوگیا، میرا دوست ننھا بھی مجھ سے دور چلا گیا تھا، مگر وہ کبھی کبھی چکر لگا لیا کرتا تھا، دوسرے ھی دن وہ مجھ سے ملنے آیا تو میں نے ساری روداد سنادی وہ بھی شش و پنج میں رہ گیا، اس نے بھی اپنی ساری کوشش کر ڈالی کہ کہیں سے پتہ چل جائے، مگر کوئی بھی کامیابی نہیں ھوئی، لوگوں کو اور موقعہ مل گیا تھا، راہ چلتے میرا مزاق اڑاتے رھتے اور میں خاموشی سے سنتا رھتا اور دل ھی دل میں کڑھتا رھتا،

اسی دوران والد صاحب نے بھی کافی دور دراز علاقے میں ایک مکان کا بندوبست بھی کرلیا تھا، جو بہت ھی دور تھا، اور جس کے لئے انہوں نے اپنے کسی دوست اور دفتر سے کچھ قرض بھی لیا تھا، تقریباً دس ہزار روپے میں یہ مکان خریدا تھا، اور یہ اپنا کچا سا مکان صرف ایک ہزار روپے میں بیچ دیا تھا، جو شہر کے ساتھ ھی تھا، نیا مکان اچھا تھا بجلی پانی اور گیس کی سہولت بھی تھی لیکن یہاں سے بس میں جانے کیلئے تقریباً ڈیڑھ گھنٹہ لگتا تھا، اور یہ میرے حق میں ھر لحاظ سے بہتر بھی ھوا، کیونکہ پانی اور جلانے کیلئے لکڑی لانے کا بندوبست بھی مجھے ھی کرنا پڑتا تھا، اس سے تو جان چھوٹ گئی اور شفٹ ھونے کے بعد کچھ دنوں کے بعد وہاں کے ایک نزدیکی علامہ اقبال کامرس کالج میں بی کام میں شام کی شفٹ میں داخلہ بھی لے لیا،

قدرت کا کرنا یہ ھوا کہ والد صاحب کا ٹرانسفر سعودی عرب ھوگیا، مجھے اس لحاظ سے اس بات کی خوشی ھوئی کہ پابندیوں سے کچھ آزاد بھی ھوگیا تھا، بس دن بھر میرا یہی کام کہ ان لوگوں کو تلاش کرنا، ھر ایک ممکنہ جگہ جاکر معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی ان کے جاننے والے عزیزوں کے گھر بھی گیا انہوں نے بھی یہی شکایت کی کہ ان کو بھی کچھ نہیں بتایا گیا، میں اور میرا دوست دونوں روزانہ کرایہ کی سائیکل لے کر ھر ایک علاقے کا چکر لگاتے اور وہاں پر ھر ایک سے کسی نئے آنے والی فیملی کے بارے میں پوچھتے، میری حالت روزبروز خراب ھوتی جارھی تھی ایک سال کا عرصہ بیت گیا، والدہ بھی میری طرف سے پریشان تھیں، ھوسکتا ھے کہ انہیں میری پریشانی کا علم ھو، لیکن نہ انھوں نے اس بات کا ذکر کیا اور نہ ھی میں نے مناسب سمجھا کہ ان کو کسی بات کیلئے خوامخواہ پریشان کروں،

آخر ننھے کی کوششیں تقریباً چھ مہینہ بعد رنگ لے آئیں، اس نے فوراً مجھے ساتھ لیا اور مجھے کہا کہ ان کی والدہ فلانے بازار سے سبزی گوشت خریدتی ھیں، میں تو اس جگہ کے بارے سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ یہ لوگ وھاں پر ھوسکتی ھیں وہ ایک اچھا ماڈرن علاقہ تھا، میں فوراً وھاں پر پہنچا اور خالہ سے بازار میں ملا وہ فوراً مجھے دیکھ کر گھبرا گئیں اور مجھ سے پوچھا کہ تمھیں یہاں کا پتہ کس نے بتایا، میں نے کہا کہ کسی نے بھی نہیں میں نے آپکو اچانک یہاں پر ھی دیکھا تو چلا آیا اور میں تو چھ مہینے سے لے کر اب تک ھر جگہ آپ لوگوں کو تلاش کرتا پھر رھا ھوں اور آپ نے کسی کو بھی اپنا پتہ نہیں بتایا، اور پھر انہوں نے مجھے خاموش رھنے کیلئے کہا اور کہا کہ میرے ساتھ خاموشی سے چلے آؤ، میں نے انکی سبزی اور سودے سے بھری ٹوکری اٹھا لی اور ان کے ساتھ ساتھ چل دیا، ایک دو منزلہ گھر کی سیڑھیوں پر چڑھیں، میں بھی انکے پیچھے پیچھے اُوپر چڑھنے لگا!!!!!

میرا دل بہت زور زور سے دھڑک رھا تھا، اچھے خاصے موسم میں بھی پسینے آرھے تھے اندر سے دل خوشیوں سے جھوم رھا تھا کہ آج پھر وقت نے ایک پلٹا کھایا ھے اور کسی سے ملاقات ھونے والی ھے،راستے میں خالہ نے کچھ بھی نہیں بتایا، دروازے پر دستک دی تو فورا دروازہ کھلا تو سامنے اپنی باجی کو پایا، اور میں کمرے میں ایک صوفے پر بغیر پوچھے ھی بیٹھ گیا، اور مجھ سے سوال پر سوال کئے جارھی تھیں کس نے تمھیں یہ پتہ بتادیا، کتنی مشکل سے ھم تمھاری ھی وجہ سے اپنی عزت بچاکر یہاں کرایہ کے مکان میں آئے ھیں، اس جگہ پر تمھاری وجہ ھی سے تمھارے گھر والوں اور محلے والوں نے تمھاری غیر حاضری سے فائدہ اٹھا کر ھمارا ناک میں دم کردیا تھا، ایک تو ھم تمھاری وجہ سے پریشان تھے اور لوگوں نے تمھارے حوالے سے ھمیں بدنام بھی کردیا تھا، جس کی وجہ سے ھمیں وہ مکان چھوڑنا پڑا، اب ھم نے کافی ذلت اٹھا لی، اور مزید اب ذلت برداشت نہیں کرسکتے اور اگر تمھارے خالو نے تمھیں یہاں اگر دیکھ لیا تو ھمیں جان سے ھی مار دیں گے!!!!!

میں تو ان دونوں کی شکل ھی دیکھ رھا تھا اور وہ مجھ سے شکایتیں ھی کئے جارھی تھیں، اور یہ بھی باجی نے کہا کہ تم پھر بغیر بتائے کہاں چلے گئے تھے، میں نے کہا کہ میں تو صرف ایک دن کے لئے ھی ایک کسی دوست کی تقریب میں گیا تھا لیکن مجھے دودن مزید انہوں نے روک لیا، میں تو تیسرے روز ھی آگیا تھا، مگر مجھے کسی نے بھی کچھ نہیں بتایا، میں ابھی جاتا ھوں اور جاکر اپنی اماں سے پوچھتا ھوں کہ یہ آخر ماجرا کیا ھے، انہوں نے جواب دیا کہ خبردار اب دوبارا ھمارے متعلق کسی سے کوئی ذکر کیا یا کسی کو یہاں لانے کی کوشش بھی کی، تو ھمارے لئے اچھا نہیں ھوگا، اب ھماری یہاں بہت عزت ھے اور ھم نے اُس علاقے کے بارے میں کسی کو کچھ نہیں بتایا ھے، مجھے انہوں نے اپنی قسم بھی دی کہ اب تم یہاں دوبارہ نہیں آؤ گے، اگر تمھارے خالو نے یہاں دیکھ لیا تو ھمارے لئے بہت مشکل ھوجائے گی، تمھارے خالو ھمیں جاں سے مار دیں گے، خدارا اب دوبارا یہاں کا رخ بھی نہ کرنا، اس سے پہلے کہ یہاں کسی کو تمھارے بارے میں پتہ چلے، یہاں سے فوراً چلے جاؤ!!!!

میں تو پریشان اور ھکا بکا ھی رہ گیا کہ ان لوگوں کے ساتھ کیا مشکل پیش آئی ھوگی کہ یہ اتنی مصیبت زدہ دکھائی دے رھی تھیں، میں نے پوچھا کہ زادیہ کہاں ھے انہوں نے جواب دیا کہ کالج گئی ھوئی ھے، میں نے پوچھا کہ کیا میں زادیہ کے آنے تک بھی یہاں انتظار نہیں کرسکتا،
انھوں نے جواب دیا کہ پھر تم بےوقوفوں والی کیوں بات کرتے ھو، تم خدارا کیوں نہیں سمجھ رھے ھو، تمھارے خالو ھماری ھڈی پسلی ایک کردیں گے اور تمھیں ھماری قسم ھے اگر تمھیں ھماری زندگی عزیز ھے تو تم یہاں آس پاس بھی نظر نہیں آؤ گے، میں نے کھا کہ خدارا مجھے کالج کا پتہ تو بتا دو میں صرف اسے دور سے ھی دیکھ لونگا، ان دونوں نے اس سے بھی انکار کردیا، اور مجھے نہ جانے کس کس کے واسطے دے کر مجبور کردیا کہ میں وھاں سے نیچے اتر گیا !!!!!!!

میں نیچے تو اتر گیا لیکن مجھے یہ مکمل یقیں تھا کہ وہ اس وقت گھر پر ھی تھی، مگر ان دونوں نے اسے برابر کے کمرے میں رکھا ھوا تھا یا وہ خود ھی میرے سامنے نہیں آنا چاھتی تھی، میری کچھ سمجھ میں نہیں آرھا تھا، آج اتنے عرصہ بعد ملاقات بھی ھوئی تو بغیر اس کو دیکھے ھوئے واپس جارھا تھا، نیچے اتر کر آخری بار پلٹ کر میں نے دیکھا کہ وہ کھڑکی میں پردے کے پیچھے سے اپنا ھاتھ ھلا کے مجھے الوداع کہہ رھی تھی، میں نے بھی اپنا ھاتھ ھلا دیا، میں ابھی صرف اسکی ایک ھی جھلک دیکھ پایا تھا کہ کسی نے فوراً ھی پردہ صحیح کردیا، اور وہ چہرہ بس میری آنکھوں کے ایک پلک جھپکتے میں ھی ایک دم غائب ھوگیا اور میں پھر خاموشی سے اپنے قدم بڑھاتا ھوا آگے نکل گیا دو تین دفعہ میں نے پھر کوشش کی کہ کسی کی کچھ جھلک ھی دوبارہ دیکھ لوں، مگر افسوس صرف پردے کو ھی ھوا سے ھلتے ھوئے دیکھا اور بس !!!!!!!

اب تو ایسا لگتا تھا کہ جینے کا کوئی مقصد ھی نہیں رھا، میں اپنے آپ کو بہت احساسِ محرومی کا شکار اور شکست خوردہ انسان سمجھ رھا تھا، حالانکہ میں نے اب تک اسے کسی بھی طرح سے اپنے دل کی بات نہیں کرسکا تھا نہ جانے وہ کونسا ڈر یا خوف تھا جسکی وجہ سے میں اسکے سامنے بالکل اس معاملے میں گونگا ھوجاتا تھا، مگر میں اسی میں خوش تھا کہ اس نے بھلے اپنے منہ سے کچھ بھی نہ کہا ھو لیکن یہ بات تو طے تھی کہ وہ پھر بھی میرے بغیر نہیں رہ سکتی تھی اور اس کے علاوہ کبھی کبھی میں اس میں بھی خوش تھا کہ کسی کے بارے میں یا کوئی اور ایسا لڑکا ھو جو اسے پسند کرتا ھو، کوئی بھی تو ایسا نہیں تھا، کیونکہ میں نے اس سب کے ساتھ بچپن سے لیکر ابتک کافی نزدیک اور اکثر ان ھی کے ساتھ رھا!!!!

اور پھر میرا دل کہتا تھا کہ اسکی آنکھیں کبھی جھوٹ بول ھی نہیں سکتی، کیونکہ دل کی آنکھیں سب کچھ پڑھ لیتی اور سن بھی لیتی ھیں، مگر پھر بھی میرا دماغ ھمیشہ کچھ الٹا ھی سوچتا تھا، کہ تُو کہاں اور وہ کہاں وہ تو اتنی خوبصورت اور حسین ھے تُو تو اسکے ساتھ کھڑے ھونے کے بھی لائق نہیں ھے، دبلا پتلا کمزور سا اور عام سا لڑکا جو اس معاملے میں بالکل ڈرپوک اور بزدل تھا وہ کیسے کسی لڑکی کو اپنے طرف پرکشش اور جذباتی مقناطیسی قوت سے کھینچ سکتا تھا، مگر دوسری طرف باتوں میں مذاق اور کھیل کود میں سب کو اپنا دیوانہ ضرور بنالیتا تھا، مجھ سے اکثر تمام محلے کی چھوٹی بڑی سب لڑکیاں بہت مذاق کرتیں اور فری رھتی تھیں اور کسی دوسرے لڑکوں کے ساتھ انہیں اتنا فری نہیں دیکھا کیونکہ میرا ایک ان پر ایک بھروسہ اور اعتماد جو تھا، اور میں کبھی کسی کی طرف بری نظر سے نہیں دیکھا تھا،

مگر پھر میں یہ سوچتا تھا کہ دوسری لڑکیاں بھی تو تھیں، جنہوں نے مجھ سے یہ بھی کہا تھا کہ تمھیں آس پاس کوئی اور لڑکی نہیں نظر آتی جو اس مغرور لڑکی کے دیوانے بنے پھرتے ھو، وہ لڑکیاں بھی اچھی خوبصورت تھیں، جو میرے نذدیک آنا چاھتی تھیں، مگر نہ جانے کیوں وہ مجھے ایسی باتیں کرتی ھوئی اچھی نہیں لگتی تھیں اور میں انہیں ھمیشہ جھڑک کر جواب دیتا تھا اس کے جواب میں وہ مجھے یہ ضرور کہتی تھیں کہ فکر نہ کرو یہی مغرور لڑکی تمہیں ایک دن خوب رُلائے گی، لیکن ایک تو زادیہ مجھے ان کے نزدیک جانے نہیں دیتی تھی اور اگر مجھے وہ کسی لڑکی سے بات بھی کرتے ھوئے دیکھ لیتی تھی تو ایک قیامت آجاتی تھی، بہت مشکل ھوتا تھا اس وقت اسکو کچھ سمجھانا !!!!!!!! نہ تو مجھے کسی کے نذدیک جانے دیتی تھی اور نہ ھی مجھ سے کوئی اس قسم کی بات کرتی تھی کہ میرا حوصلہ بڑھے تو میں کچھ کہنے کی ھمت بھی کروں !!!!!

میرے دوست ننھے نے بار بار یہی کہا کہ بیٹا کوئی بھی لڑکی اپنے منہ سے کبھی بھی نہیں کہے گی، جب تک کہ لڑکا اسے اپنی محبت کا اظہار اپنی زبان سے نہ کرلے، میں نے اس سے پوچھا کہ تو نے کبھی ایسا کیا ھے!!!! اس نے پلٹ کر کہا کہ ابھی وہ منحوس وقت نہیں آیا اور نہ آئے تو اچھا ھی ھے، کیونکہ میں تیری حالت جو دیکھ رھا ھوں،!!!! پھر وہ مجھے یہ ضرور کہتا کہ کیا ھوجائے گا صرف ایک بار اس سے کہہ تو دے وہ کیا کرے گی یا تو وہ بھی اقرار کرلے گی یا زیادہ سے زیادہ وہ انکار ھی کردے گی اور ناراض ھوجائے گی، اور کیا ھوگا تجھے کھا تو نہیں جائے گی، یا مجھے اجازت دے، میں تیرا پیغام اس تک پہنچا دیتا ھوں، پھر دیکھی جائے گی،!!!! میں فوراً اسے اس بات پر سختی سے منع کردیتا اور تاکید کرتا کہ خدارا ایسا کبھی نہ کرنا، وہ بس مجھے ایسے ھی اچھی لگتی ھے، کم از کم وہ مجھ جان تو چھڑکتی ھے،!!! اس کا پھر آخر میں یہی جواب ھوتا کہ بیٹا ایک دن تو بہت پچھتائے گا!!!

میں اس سے یہی کہتا کہ یار میں اسی بات سے تو ڈرتا ھوں کہ کہیں میں اس سے اس دوستی سے بھی نہ چلا جاؤں، جب مجھے موقعہ ملے گا میں خود ھی کسی دن کہہ دوں گا، تیری نصیحت کی کوئی مجھے ضرورت نہیں ھے !!! اکثر میری اس سے یہی بحث ھوتی تھی، آج وہ مجھے بہت شدت سے یاد آرھا تھا، نہ جانے کیا بات ھے ، اس دن سے مجھے ملا ھی نہیں جب سے اس نے مجھے انکا پتہ بتایا تھا اور اس نے میرے ساتھ جانے پر بھی انکار کردیا تھا !!!!!

اب تو لگتا تھا کہ اب تمام ھی راستے بند ھوگئے ھیں، اسی طرح جب سے نئے گھر میں شفٹ ھوئے، ایک تو اتنا دور ھے کہ پہنچتے پہنچتے شام ھوجاتی ھے اور دوسرے سارے کام بھی ادھورے ھی رہ جاتے ھیں، اب دماغ میں کچھ سوچنے کی صلاحیت بھی ختم ھوچکی تھی، نئی جگہ نئے لوگ، اور کچھ نئے دوست بھی بن گئے، اچھا صاف ستھرا ماحول تھا، علاقہ بھی اچھا تھا، لیکن میرا دل اور دماغ پر تو کچھ اور ھی چھایا ھوا تھا، اتنی بےعزتی کے باوجود بھی دل ادھر ھی اٹکا ھوا تھا !!!!!!!
----------------------------------------------------------
جاری ھے،!!!!

عبدالرحمن سید
31-01-10, 08:17 PM
اب تو لگتا تھا کہ اب تمام ھی راستے بند ھوگئے ھیں، اسی طرح جب سے نئے گھر میں شفٹ ھوئے، ایک تو اتنا دور ھے کہ پہنچتے پہنچتے شام ھوجاتی ھے اور دوسرے سارے کام بھی ادھورے ھی رہ جاتے ھیں، اب دماغ میں کچھ سوچنے کی صلاحیت بھی ختم ھوچکی تھی، نئی جگہ نئے لوگ، اور کچھ نئے دوست بھی بن گئے، اچھا صاف ستھرا ماحول تھا، علاقہ بھی اچھا تھا، لیکن میرا دل اور دماغ پر تو کچھ اور ھی چھایا ھوا تھا، اتنی بےعزتی کے باوجود بھی دل ادھر ھی اٹکا ھوا تھا !!!!!!!!!!!!!!

اِدھر گریجویشن کو بھی مکمل کرنا تھا اُدھر دوسری طرف میری جان کہیں اور اٹکی ھوئی تھی، کالج بھی نیا اور دوست بھی نئے، دل بالکل بھی نہیں لگ رھا تھا، اکثر میں نے کئی دفعہ کوشش بھی کی، اس ماڈرن علاقے میں جاکر کافی دور سے کھڑے ھوکر اسی کھڑکی کی طرف دیکھنا بھی چاھا لیکن کوئی کامیابی نہیں ھوئی، لیکن کچھ دنوں بعد ایک موچی کے ایک کارنر سے اندازہ لگالیا کہ یہاں بیٹھ کر کچھ کامیابی کی امید ھوسکتی ھے،

ان کی گلی کے کچھ آگے اگلی گلی کے موڑ پر ھی ایک موچی بیٹھتا تھا، اس کے پاس ھی میں جاکر اپنا جوتا پالش کرانے کے بہانے بیٹھ جایا کرتا اور ساتھ ھی میری نظر ان کے گھر کی سیڑھیوں اور اوپر کھڑکی پر ھی ٹکی رھتی، اور میں اس موچی کے ایک لکڑی کے بکس جو ایک سیمنٹ کے پلر کے ساتھ رکھا تھا، اس پر اس طرح پلر کی آڑ میں بیٹھا کرتا کہ میں تو اچھی طرح دیکھ سکتا تھا لیکن وہاں‌ سے مجھے دیکھنا مشکل تھا، کبھی کبھی تو موچی کے پاس اچھی خاصی دیر تک بیٹھا رھتا اور اس سے اِدھر اُدھر کی باتیں کرتا بھی رھتا، اور اسے کچھ پیسے میں زیادہ بھی دے دیتا تھا وہ بھی خوش، مگر اس کو پتہ نہیں تھا کہ میرا وھاں بیٹھنے کا اصل مقصد کیا تھا،

میں اکثر ھر تیسرے چوتھے روز شام کے وقت کالج کے بہانے گھر سے نکلتا اور اس موچی کے پاس بیٹھ جاتا اور کبھی کبھی تو جوتے کی پالش کے ساتھ وہیں بیٹھے بیٹھے چائے بھی بمعہ بسکٹ کے منگوالیتا اور ھم دونوں مل کر چائے اور بسکٹ نوش کرتے اور خوب باتیں بھی کرتے، اور ساتھ ساتھ میری نظریں کسی اور ظرف جمی ھوتیں، اس موچی نے کئی دفعہ پوچھا بھی میں کیا کرتا ھوں اور کدھر رھتا ھوں میں نے بھی اسے گول مال جواب دے دیا وہ ویسے ھی شریف آدمی تھا اور پھر میرے جانے سے ایک آدھ روپے کی آمدنی بھی ھوجاتی اور ساتھ چائے بسکٹ کے مزے بھی آجاتے تھے، صرف ایک ہفتہ میں دو دفعہ ھی آجا سکتا تھا، کیونکہ ایک تو کالج کو بھی وقت دینا پڑتا تھا اور والد صاحب بھی سعودیہ میں ھی تھے، انہیں بھی تقریباً سال ھونے والا تھا، اس لئے مجھے اپنے گھر کا بھی خیال رکھنا پڑتا تھا،

اب تو انکے پاس ایک کار بھی آگئی تھی، جسے انکے والد ھی چلاتے تھے، اور میں نے انکی والدہ اور دونوں بہنوں کو ان کے ساتھ کار میں دیکھا بھی تھا، والدہ آگے اور پیچھے دونوں اب تو وہ دونوں بہت ھی خوبصورت لباس کے ساتھ اور بھی بہت ھی زیادہ حسین لگ رھی ھوتی تھیں، میرے پاس تو کوئی سواری نھیں تھی اور نہ ھی اتنے پیسے ھوتے تھے کہ کسی ٹیکسی یا آٹو رکشہ میں ان کا پیچھا کروں، کہ یہ لوگ کہاں جاتے ھیں،

ایک دن میں نے ننھے کی ذریعے یہ معلوم کرا ھی لیا کہ ان کے والد اب ایک اچھا بزنس کررھے ھیں اور ان کا آفس بھی نزدیک ھی ھے، وھاں بھی جاکر میں نے دیکھا اب تو انکے بڑے ٹھاٹھ ھیں، ایک دن ھمت کرکے میں ان کے آفس پہنچ گیا ان کا ایک اپنا سیکنڈ ھینڈ کاروں کا ایک شوروم تھا، ڈرتے ڈرتے ان کے ایک بڑے شیشے کے کمرے کے دروازے کے پاس جاکر باھر سے ھی انہیں سلام کیا، انھوں نے اپنے چشمے میں سے جھانکتے ھوئے مجھے اندر آنے کا اشارہ کیا، میں نے دل میں کہا کہ بیٹا اب تو تیری خیر نہیں، کیونکہ وہ کچھ ٹھیک موڈ میں نہیں لگ رھے تھے، انہوں نے مجھے سامنے کی کرسی پر بیٹھنے کا اشارہ کیا، اور خیر خیریت پوچھی میں نے بھی رسماً ٹھیک ٹھاک کہہ دیا، پھر انہوں نے اپنے چپراسی کو اندر بلایا اور مجھ سے پوچھا کہ چائے پیو گے یا ٹھنڈا، میں نے پہلے تو انکار کیا لیکن انہوں نے زبردستی کی تو میں نے کہا کہ چائے کے لئے ھاں کردی، ان کا آفس تو بہت شاندار تھا اور شوروم میں بھی پانچ چھ اچھی کاروں کی ایک لائن تھی، اور انکے پاس چھ یا سات اسٹاف ممبر بھی تھے جو بہت ھی نفیس لباس میں ‌سوٹ اور ٹائی لگائے گاھکوں کو گاڑیاں دکھا رھے تھے اور خالو بھی زبردست قسم کا سفاری سوٹ پہنے ھوئے تھے، اور بس ایک دو بات کرکے اپنے کام میں لگ گئے، اور میں بس آگے پیچھے لگی ھوئی مختلف گاڑیوں کی تصویریں ھی دیکھتا رھا، کئی دفعہ وہ نیچے بھی گئے، لیکن مجھ سے کچھ نہیں کہا، جب کافی دیر ھوگئی تو میں نے ان سے اجازت مانگی اور انہوں نے مجھے بغیر دیکھے ھی اچھا کہا اور ایک ڈرایئور کو بلایا اور مجھ سے کہا کہ جہاں جانا ھو یہ ڈرائیور تمھیں چھوڑ دے گا، ان کا انداز مجھے ایسا لگا جیسے کہ وہ اپنی شان و شوکت دکھا رھے ھوں، نہ ھی انھوں نے اپنے گھر کے بارے میں کسی کا بھی ذکر کیا اور نہ ھی مجھ سے کوئی تفصیل پوچھی، بس ایک اجنبی کی طرح ایک چائے پلائی، اور بس میرے سامنے چپراسی کو کئی دفعہ بلا کر زور سے ڈانٹا بھی اور منہ میں انکے اب سگریٹ کے بجائے ایک پائپ چپکا ھوا دیکھا، جسے انہوں نے دانتوں میں دبایا ھوا تھا، وہ واقعی مجھ پر اپنی امارت کا رعب ڈالنا چاھتے تھے،

میں نے انکا شکریہ ادا کیا اور بس یہی کہا کہ خالو میں نزدیک ھی بس اسٹاپ سے بس پکڑ لونگا، اور یہ کہتا ھوا میں باھر نکل گیا میری آنکھوں میں آنسو بھی تھے شاید انھوں نے بھی دیکھا ھوگا، لیکن ان کی یہ بےرخی دیکھ کر میں تو حیران ھوگیا کہاں یہ شخص مجھے بہت چاھتا تھا اور آج ان کا اس طرح کا رویہ دیکھ کر مجھے بہت دکھ ھوا، میں تیزی سے قدم بڑھاتا ھوا بس اسٹاپ کی طرف جارھا تھا اور اپنی اس بےعزتی کے برتاؤ کی وجہ سے میرا دماغ خراب ھورھا تھا، اسی وقت میں نے یہ فیصلہ بھی کرلیا تھا کہ آج کے بعد اب کبھی بھی اس خاندان کی شکل نہیں دیکھوں گا !!!!!!!!!
----------------------------------------------------
جاری ھے،!!!!

عبدالرحمن سید
31-01-10, 08:34 PM
میں نے انکا شکریہ ادا کیا اور بس یہی کہا کہ خالو میں نزدیک ھی بس اسٹاپ سے بس پکڑ لونگا، اور یہ کہتا ھوا میں باھر نکل گیا میری آنکھوں میں آنسو بھی تھے شاید انھوں نے بھی دیکھا ھوگا، لیکن ان کی یہ بےرخی دیکھ کر میں تو حیران ھوگیا کہاں یہ شخص مجھے بہت چاھتا تھا اور آج ان کا اس طرح کا رویہ دیکھ کر مجھے بہت دکھ ھوا، میں تیزی سے قدم بڑھاتا ھوا بس اسٹاپ کی طرف جارھا تھا اور اپنی اس بےعزتی کے برتاؤ کی وجہ سے میرا دماغ خراب ھورھا تھا، اسی وقت میں نے یہ فیصلہ بھی کرلیا تھا کہ آج کے بعد اب کبھی بھی اس خاندان کی شکل نہیں دیکھوں گا !!!!!!!!!


میں بہت مایوسی کے عالم میں واپس کالج پہنچا اور بس اب یہی سوچ لیا تھا کہ اب صرف اور صرف پڑھائی کی طرف ھی توجہ دینی ھے، اور اس دفعہ والدیں کو ناراض بھی نہیں کرنا ھے، مجھے نئے علاقے میں نئے دوست بھی مل گئے، کچھ تو میرے ساتھ ھی کالج میں گریجیویشن کررھے تھے اور ساتھ ھی سروس بھی، اور کچھ میری ھی طرح کے پرانے شوق رکھتے تھے، ایک دوست “حسنی“ جو پینٹنگ اور مصوری سے منسلک تھے اور ساتھ ھی ایک اسکول میں ٹیچر بھی تھے، ایک دوست مشتاق جو ایک پرائمری اسکول کے ھیڈماسٹر تھے اور ساتھ ھمارے ایک بہت بڑے قدرداں بھی تھے، ایک اور دوست محسن ظفر اور قاضی انیس جو گورنمنٹ ملازم بھی تھے اور ھمارے ساتھ ھر سوشل ورک اور ھمارے آپس کے پروگرام میں ھمارا بہت ساتھ دیتے تھے،

ھم یہ چار پانچ دوست کافی عرصہ تک ساتھ رھے، بعد میں کالج سے گریجیویشن کے بعد، کچھ زیادہ ھی مصروفیات کی وجہ سے آہستہ آہستہ دوریاں بڑھتی گئیں، میں نے اور میرے دوست نے مل کر اپنے ھی علاقے میں ایک مصروف شارع پر ایک پینٹنگ کی دکان کھولی، جس کا نام “حسنی آرٹس“ تھا، دن بھر دونوں ساتھ ھی اس دکان پر کام کرتے اور شام کو کالج چلے جاتے، اور واپسی پر گھر سے کھانا کھا کر پھر دکان سنبھال لیتے، اور کچھ دوستوں کی ایک ادبی محفل بھی وھیں لگا لیتے، جہاں ھمیں اور کچھ دوست جن کا اردو ادب اور آرٹس ڈرامہ نگاری اور موسیقی سے بھی تعلق تھا، وہ بھی ھمارے ساتھ ھی مل گئے اور ھماری محفل کی رونقوں میں کچھ اضافہ بھی ھوگیا،

میں اور میرے دوست حسنی، نے ملکر خوب محنت سے کام کیا اور تمام آمدنی کا ایمانداری سے تمام اخراجات نکال کر آپس میں آدھا آدھا بانٹ لیتے تھے، ھم نے ساتھ ھی چار نزدیکی سینماوں سے معاھدہ بھی کیا ھوا تھا انکے ھم تمام پبلسٹی کے سائن بورڈ اور میں بڑا بورڈ جو سینما پر لگتا تھا اور باقی چھوٹے بورڈ جو مختلف جگہوں پر پبلسٹی کے لگائے جاتے تھے، وہ ھم دونوں ملکر لکھتے تھے، اور تقریباً ھر ھفتہ ھی ھمیں تمام بورڈ تبدیل کرنے پڑتے تھے، اس کے علاوہ دکاتوں کے سائن بورڈ کی انگلش اور اردو میں لکھائی تصویروں اور مونوگرام کے ساتھ بھی ھم بناتے تھے، لکھائی زیادہ تر حسنی ھی کرتا تھا اور تصویریں اور مونوگرام بنانے کی ذمہ داری میری ھی تھی، اس کے علاوہ کپڑے کے بینرز اور سینما پبلسٹی سلائڈز میں بھی ھم لوگ کافی مشہور ھوگئے تھے اور دور دور سے لوگ ھمارے پاس آرڈر دینے آتے تھے مگر ھم اتنا ھی آرڈر لیتے تھے کہ جس کو وقت پر مکمل کرسکیں اور الیکشن کے زمانے میں تو ھماری چاندی ھوتی تھی،ھاتھ سے تصویریں بنانے میں اب تو کافی مہارت حاصل کرچکا تھا، ایک بات مجھ میں ضرور تھی کہ جب تک ایک تصویر مکمل کر نہیں لیتا تھا دوسری تصویر کا کام ھاتھ میں نہیں لیتا تھا، اور ھر تصویر پر اپنے شوق سے کافی محنت کرتا تھا، چاھے کتنا ھی کیوں نہ وقت لگ جائے، اور کبھی معاوضے پر دھیان ھی نہیں دیا کیونکہ سارے معاملات میرا دوست ھی طے کرتا تھا،

اسی دکان پر پینٹنگ کے علاوہ ھم نے ایک اپنی میوزیکل اینڈ ڈرامیٹک سوسائٹی کی بنیاد بھی رکھی، کیونکہ مجھے اس سے بھی بچپن سے لگاؤ رھا تھا، اور ھمارے دوستوں میں بھی انہی شعبے سے متعلق شوق رکھنے والے تقریباً سب موجود تھے، میں نے ڈائلاگ اور اسکرپٹ رائٹنگ جسے مکالمہ نگاری اور منظرنامہ کہتے ھیں، کی ذمہ داری لی ھوئی تھی، جس میں میرے مددگار حسنی ھی تھے، موسیقی کی تمام تر ذمہ داری طارق کے پاس تھی جو موسیقی کے ساتھ گلوکاری کا بھی شوق رکھتا تھا، ڈائریکٹر کے طور پر لیاقت ایک ھمارے درمیان منجھے ھوئے فنکار تھے، جنہوں نے ریڈیو پاکستان سے بھی ایک ڈرامے میں بہترین کارکردگی پر خصوصی ایوارڈ بھی حاصل کیا تھا،!!!

ھم تقریباً آٹھ دس دوست ملکر صرف شوقیہ ھی پروگرام ترتیب دیتے تھے اور اسے کبھی ذریعہ معاش نہیں بنایا، مختلف دوستوں کی کسی بھی خوشی کے موقع پر ھم لوگ ملکر مزاحیہ اسٹیج خاکوں اور موسیقی کے پروگرم شاندار ظریقے سے ترتیب دیتے تھے، اور اس دوران رات گئے آتے تھے اور گھر پر ڈانٹ بھی کھانے کو ملتی تھی، ایک خاص بات تھی کہ کبھی کسی سے آنے جانے کی سواری کے انتظام اور کھانے پینے کے علاؤہ ھم نے کوئی معاوضہ نہیں طلب کیا، بعض اوقات وہ بھی ھم آپس میں ملکر ھی خرچ کرلیتے تھے،

اب تو میں نے اپنا دل اپنے شوق سے ھی لگا لیا تھا اور مجھے اب تمام ھر سہولت بھی مل چکی تھی، کالج سے پہلے اور کالج کے بعد بھی میں پینٹنگ کی دکان پر ھی مصروف رھتا، اور مختلف آرڈر کی تصویریں بناتا رھتا کبھی کبھی تو موقع پر جانا بھی پڑتا وھاں پر سیڑھی لگا کر دکانوں پر شاراھوں پر لگے ھوئے بورڈز پر بھی لکھنا پڑتا تھا اور ساتھ تصویریں بھی آرڈر کے مطابق بنانی پڑتی تھیں، اور اس میں ھمیں اچھی خاصی کمائی بھی ھوجاتی تھی، اور سینماوں سے تو ایک مستقل ھی آمدنی تھی، مگر ایک مشکل تھی کہ ھماری حالت بھی بہت خراب رھتی ھر وقت رنگ برنگے داغ دھبوں میں رنگے ھوئے ھوتے، کبھی کبھی تو پہچاننا بھی مشکل ھوجاتا، بعض لوگ تو مجھ سے ھی پوچھتے تھے کہ یہاں “سیٌد صاحب“ کو آپنے کہیں دیکھا ھے، میں کہتا ارے بھئ پہچانو میں ھی سیٌد صاحب ھوں،

زادیہ کو دل سے بھلا تو نہیں سکتا تھا، لیکن آہستہ آہستہ اپنے دکھ درد اور زخموں کو ان شوق کے مرھم نے انھیں کافی حد تک ختم کردیا تھا، اس کے بعد مجھے کئی لڑکیاں بھی ملیں، محلے میں اور رشتہ داروں کے یہاں بھی، کئی رقعہ اور محبت نامے بھی ملے، مگر میرا دل کسی کے لئے بھی نہیں مانا، دوستوں نے بھی چاھا کہ میں کسی لڑکی کے ساتھ عشق اور محبت کا شکار ھوجاؤں، لیکن میں نے اپنے آپ کو اس چکر سے بالکل دور ھی رکھا کیونکہ اب میں کوئی اور روگ نہیں پالنا چاھتا تھا، دکان پر بہت سی کالج اور اسکول کی لڑکیاں آتی تھیں اور بڑے بڑے چارٹ اسکول اور کالج کےلئے بنواتی بھی تھیں، اس کے علاوہ دکان میں لگی ھوئی میرے ھاتھ کی تصویریں دیکھ کر خوش بھی ھوتی اور مزید تصویروں کا آرڈر بھی دیتی تھیں، اور کئی تو میرے ساتھ بیٹھ کر مجھے تصویریں بناتا ھوا دیکھتی بھی تھیں، لیکن میں نے کبھی بھی کسی بھی نظر سے ان کو نہیں دیکھا تھا،

جبکہ میرے تمام دوست مجھے کہتے بھی تھے کہ یار تم تو بہت قسمت والے ھو، ھر لڑکی تمھاری دیوانی ھے، میں کہتا کہ بھائی صاحب وہ میری بنائی ھوئی تصویروں کو پسند کرتی ھیں، مجھے نہیں اور مجھے کوئی ضرورت بھی نہیں ھے، کیونکہ میرے دل میں کوئی اور ھی ھے، یہ کہہ کر میں بات کو ٹال دیتا، کئی دوست یہ بھی کہتے کہ یار کسی سے ھماری بھی دوستی کرادو یا ھمیں کوئی ایسی ترکیب بتادو جس سے کوئی ھمیں چاھنے لگے، میں اکثر ان سے ناراض بھی ھوجاتا اور کہتا کہ بیٹا دل لگانے کیلئے دل کو تڑپانا بھی پڑتا ھے ایسے ھی کسی سے محبت نہیں ھوجاتی، انہوں نے کئی دفعہ پوچھا کہ میرے دل میں کون ھے مگر میں نے وھاں پر کسی کو اپنی پچھلی زندگی کے بارے میں کچھ نہیں بتایا،

ایک دفعہ میری دکان پر ایک بزرگ آئے اور کہا کہ میرے ساتھ میرے گھر چلو وھاں پر کچھ تم سے بنوانا ھے،!!!! انہیں میرے ایک دوست نے بھیجا تھا اس لئے کام زیادہ ھونے کے باوجود میں انکار نہ کرسکا اور میں اپنے دوست پارٹنر “حسنی“ کو دکان پر چھوڑ کر ان بزرگ کے ساتھ چل دیا، گھر پر جانے کا بعد انہوں نے کہا کہ مجھے اس سامنے والی دیوار پر مکٌہ اور مدینہ شریف کی تصویریں بنا دو، اور مجھے ایک اخبار دکھایا جس میں گنبد خضرا روضہ مبارک(ص) اور خانہ کعبہ کی تصویریں تھیں،

میں نے اس سے پہلے اسلامی تصویریں نہیں بنائی تھیں، یہ میرا پہلا موقعہ تھا، بہرحال میں واپس دکان پر گیا اور دو تین برش اور مختلف رنگوں کا ڈبہ لے آیا اور پھر شروع ھوگیا، کچھ وقت تو زیادہ لگ گیا لیکن میں خود حیران ھوگیا کہ وہ مکہ اور مدینہ شریف کی تصویریں تو اخبار میں چھپی ھوئی تصویروں سے بھی بہت اچھی اور نمایاں نظر آرھی تھیں، وہ بزرگ تو بہت خوش ھوئے، خوب دعائیں دیں اور انہوں نے مجھ سے معاوضے کا پوچھا تو میں نے انکار کردیا، انکی دعاء ھی میرے لئے بہت بڑا انعام تھا،!!!!!!!!!

بی، کام پارٹ1 کے امتحان ھوچکے تھے اور صرف ایک پیپر میں رہ گیا تھا، غالباً 1969 کے سال کا آخر چل رھا تھا، والد صاحب بھی سعودیہ میں سال بھی پورا نہ کرسکے تھے ان کا بھی واپس کراچی میں ھی تبادلہ ھوچکا تھا، مگر وہاں رھنے سے کچھ فائدے بھی ھوئے، ایک تو انہوں نے حج کرلیا تھا اسکے علاؤہ جو قرض یہ نیا مکان کےلئے لیا تھا اس سے بھی بری ذمہ ھوگئے تھے، اس کے علاؤہ ایک بیٹی کی شادی کی ذمہ داری سے بھی فارغ ھوچکے، اور میں نے بھی انکی غیرحاضری سے اپنے پرانے شوق کو بھی کچھ حد تک پورا بھی کیا، مگر ان کے آنے کے بعد بہت سی مصروفیات کو کم کردیا، اور پڑھائی اور ساتھ ھی پینٹنگ کی دکان پر اپنا کچھ وقت گزارنے لگا !!!!

والد صاحب کو یہ پینٹنگ مصوری بالکل پسند نہ تھی، اس لئے مجھے انہوں نے اپنی ھی کمپنی میں ایک اکاونٹس کلرک کی ملازمت دلادی تاکہ میں ان کی نظر میں ان خرافات سے بچا رھوں، اور وہ بھی بہت دور جہاں پہنچنے کیلئے مجھے کم سے کم ڈیڑھ دو گھنٹہ لگتے تھے اور واپسی بھی اسی طرح ھوتی تھی اور شام کو واپسی پر مجھے ھمیشہ کالج پہنچتے پہنچتے دیر ھوجاتی تھی اور تھک بھی جاتا تھا، اور اس وقت تنخواہ بھی 90 روپئے ماہانہ تھی، جو میں پوری کی پوری تنخواہ اپنی والدہ کے ھاتھ میں دیتا تھا، جبکہ پینٹنگ کی دکان سے میں تقریباً تمام اخراجات نکالنے کے بعد میرے حصہ میں 500 روپئے تک کی آمدنی ھو جاتی تھی، بہرحال والدصاحب کو ناراض بھی نہیں کرسکتے تھے، اور اب تو پینٹنگ کے لئے میرے پاس وقت ھی نہیں تھا،!!!!

دفتر آنے جانے میں اور پھر رات کو کالج سے واپسی تک حالت غیر ھوجاتی تھی، روزانہ مجھے ایک روپیہ گھر سے بس کا کرایہ مل جاتا تھا اور ساتھ ایک ٹفن کیرئیر میں دوپہر کےلئے والدہ کھانا پیک کرکے دیتی بھی تھیں، میں روز صبح 6 بجے گھر سے نکلتا اور ایک لوکل ٹرین پکڑ کر ایک گھنٹے کے سفر کے بعد پھر دوبارہ بس میں بیٹھ کر آفس تقریباً 8 بجے تک پہنچ ھی جاتا تھا، اور واپسی بھی اسی طرح ھوتی تھی، گھر پہنچتے ھی کچھ ھاتھ منہ دھو کر ہلکا سا کچھ کھا کر فوراً کالج کی طرف دوڑ جاتا، وہاں بھی ایک بس کے ذریئے جو نزدیک ھی تھا،

اسی طرح دوڑ بھاگ کر 1970 میں داخل ھوچکے تھے، عمر 20ویں سال کے بہار کے موسم میں داخل ھوچکی تھی اور اپنی پچھلی یادوں کے دکھوں کو کسی حد تک بھول چکا تھا لیکن کبھی کبھی بہت یاد ستاتی تھی، کئی دفعہ سوچا بھی کہ ایک دفعہ پھر اسی موچی کے پاس جاؤں اور کچھ حال چال کا اتہ پتہ کروں مگر ھمت نہیں ھوئی، اور ذہن کو میں نے جھٹک دیا،

اسی سال میں مجھے نوکری چھوڑنی پڑی کیونکہ جہاں کام کررھا تھا وھاں پر کنسٹرکشن کا کام ختم ھوچکا تھا، میری جان میں جاں آئی، لیکن اس کا نقصان مجھے یہ ھوا اس سال میں فائنل میں پاس نہیں ھوسکا!!!!!!!

اس ملازمت کی وجہ سے میں اپنی پڑھائی کو صحیح وقت نہ دے سکا، اگر چاھتا تو سپلیمنٹری امتحانات میں بیٹھ سکتا تھا، لیکں میں سپلیمنٹری کی مہر نہیں لگانا چاھتا تھا، اس لئے فیصلہ کیا کہ ریگولر اسٹوڈنٹ کی حیثیت سے ھی اگلے سال دوبارہ امتحان دونگا، اب ملازمت تو ختم ھوگئی دوبارہ میں نے ایک دوست کے ذریئے ایک بالکل نئے سینما گھر میں بکنگ کلرک کی ملازمت کرلی اور ساتھ ھی اس سینما کے پبلسٹی چھوٹے بڑے اور مین بورڈ کی لکھائی اور پینٹنگ کی ذمہ داری بھی لے لی، کل ملا کر تقریباً 150 روپے تنخواہ ملتی تھی ساتھ میں میں نے اپنے دوستوں کو بھی وہاں رکھوادیا، جو میرے ساتھ ھی پڑھتے تھے، اور کالج میں صبح کی شفٹ میں ٹرانسفر کرالیا، کیونکہ سینما کا وقت دوپہر سے شروع ھوتا تھا،

میرا ایک اور شوق جو بچپن میں چھوٹے سے پیمانے میں ٹیبل کے نیچے سینما گھر کا چلانے کا تھا، وہ آج واقعی اصل میں اس کی تعبیر مل رھی تھی، روز کالج سے سیدھا گھر جاتا اور دوپہر کا کھانا کھا کر دوپہر کے تقریباً دو بجے سیدھا سینما گھر پہنچ جاتا، اور ڈھائی بجے دوپہر کو تمام ٹکٹ کی کھڑکیاں کھل جاتی تھیں، میرے پاس سب سے پیچھے کی ٹکٹ بیچنے کی ذمہ داری تھی اور میرے ساتھ ھی ھیڈ بکنگ کلرک کی کھڑکی تھی اور اس کے پاس گیلری کے ٹکٹ کی ذمہ داری اور تمام بکنگ کلرکوں کی ذمہ داری بھی تھی، شروع شروع میں تو مجھے کچھ پریشانی ھوئی لیکن میرے ساتھ جو ھیڈ بکنگ کلرک تھے انہوں نے مجھے کافی ھمت اور حوصلہ افزائی کی، جس کی وجہ سے میں کچھ دنوں میں ایکسپرٹ ھوگیا،

اس سینما میں ھر ھفتہ نئی فلم لگتی تھی، اور جمعہ ھفتہ اتوار کو تو اچھا خاصا رش ھوتا تھا اور وھاں سے میری ایک نئی بےایمانی کا آغاز ھوگیا، ٹکٹ کی کھڑکی سے ھی ڈیڑھ روپے کا ٹکٹ دو روپئے میں نکلتا تھا جس میں سے چار آنے مالک کے کھاتے میں اور چار آنے میرے کھاتے میں آتے تھے، اسی طرح ھر کھڑکی سے ٹکٹ کی مقرر کردہ قیمت سے زائد رقم وصول کی جاتی تھی، جس کا آدھا حصہ سینما کے مالک کو جاتا تھا، اس کے علاوہ اگر کوئی نئی اچھی فلم جو اچھے اسٹارز اور اچھے ڈائرئکٹر کی ھو تو کھڑکی سے ھم دس ٹکٹ سے زیادہ نہیں بیچ سکتے تھے، اگر ایک سو ٹکٹ کی گنجائیش ھو تو 90 ٹکٹ ھمیں وھاں کے بڑے انچارج لائن مین کو مجبوراً بلیک میں بیچنے کے لئے دینا پڑتے تھے، جس کے وہ بعد میں ھمیں 90 ٹکٹ کی قیمت کے ساتھ اوپر سے فی ٹکٹ کا 10٪ دیتے تھے، مگر بے ایمانی بھی ایمانداری سے، اور ھمیں بھی کچھ محنت نہیں کرنی پڑتی تھی، 10 ٹکٹ کھڑکی سے بیچے اور بس سولڈ آؤٹ کا بورڈ لگا دیا، باھر کھڑا لائن مین ھی ھمیں پبلک سے بچاتا بھی تھا ورنہ تو پبلک ھمارا کباڑا کردے !!!!

یہاں پر تو تنخواہ 150 روپے ماھانہ اور روزانہ اُوپر کی آمدنی 200 روپے تقریباً ھوجاتی تھی، میں گھر پر تو ھر مہینے اصل تنخواہ 150 روپئے ھی دیتا تھا باقی اُوپر کی آمدنی سے رات کو دوستوں کے ساتھ ملکر روزانہ فائو اسٹار ھوٹل میں ڈنر کرنا اور ٹیکسی سے آنا جانا، خوب گھومنا پھرنا، اور رات کو دو ڈھائی بجے تک واپس آنا، ایک سگریٹ کی عادت بھی ساتھ ڈال لی تھی وہ بھی سب سے مہنگی، سگریٹ کے علاوہ ھم دوستوں میں یہ اچھی بات تھی کہ کسی اور بری عادت کو نہیں اپنایا، ورنہ کوئی بعید نہیں تھا کیونکہ اس وقت تمام عیاشی کے اڈے بالکل سرعام تھے، شراب خانے، نائٹ کلب اور جوئے خانے، ریس کورس اور فائیو اسٹار کیسینو وغیرہ اور ھمارے پاس اچھی خاصی رقم بھی ھوتی تھی، لیکن اس مالک کا شکر ھے کہ ھم سب دوست جو کہ زیادہ تر اسٹوڈنٹ ھی تھے اور کافی سلجھے ھوئے تھے، اگر چاھتے تو بگڑسکتے تھےلیکن بس قدرتی ھی ان خرافات سے بچ ھی رھے،

ھم لوگ بس بڑے اور اچھے رسٹورانٹ میں ڈنر کرتے، ٹیکسیوں میں گھومتے پھرتے اور ایک سے ایک مہنگے والے کپڑے بنواتے اور پہنتے، اور ٹپ بخشش بھی اچھی خاصی دیتے تھے، اور لوگوں کی مدد بھی خوب کرتے تھے، کبھی کبھی ایسا بھی ھوتا تھا کہ اچھی فلم نہ ھونے کی وجہ سے آمدنی زیادہ نہیں ھوتی تو بس میں ھی چلے جاتے تھے اور کچھ ذرا سستے ھوٹل کا بھی رخ کرلیتے تھے، مگر باھر جانے کی روایات کو قائم رکھا، اور گھر پر وھی رات کو دیر سے آنا جو والد صاحب کو بہت برا لگتا تھا لیکن وہ بھی مجبور تھے کیونکہ 150 روپئے ماھانہ ملتے تھے، مگر میں نے یہ دیکھا تھا کہ وہ ھر رات کو گھر کے باھر مین گیٹ کے پاس میرا انتظار کررھے ھوتے تھے !!!!!!

والد صاحب یہی سمجھتے تھے کہ میں سیدھا سینما سے آرھا ھوں کیونکہ آخری شو رات کو تقریباً بارہ بجے ختم ھوتا تھا اور ھم چار پانچ دوست آخری رات کا شو جو 9 بجے شروع ھوتا تھا اور ھم فلم کے اسٹارٹ ھوتے ھی ٹکٹ کی کھڑکی بندکی، حساب کتاب کیا، بڑے ھیڈ بکنگ کلرک کو کیش پکڑایا اور اپنا اپنا حصہ جیب میں ڈالا، ٹیکسی پکڑی اور یہ جا اور وہ جا !!!!!!!

پھر صبح سے وھی روز کا معمول کالج جانا دوپہر میں واپسی گھر پر کھانا کھانا اور دو بجے تک سینما پہنچ جانا، اور وہاں کے تینوں شوز کے تکٹ بیچنا اور شام کو پھر عیاشی ٹیکسی میں روانہ ھوجانا کوئی بھی کراچی کا بڑے سے بڑا ھوٹل ھم نے نہیں چھوڑا تھا، ھر جگہ کہ کھانوں کا ذائقہ چکھا ھوا تھا، کچھ دنوں بعد ھیڈ بکنگ کلرک نے نوکری چھوڑ دی اور سینما کے منیجر نے مجھے اسکی جگہ پر بغیر تنخواہ بڑھائے ترقی دے دی، اب کچھ مزید ذمہ داریاں اور بڑھ گئی تھی کہ ھر شو کا کیش چیک کرکے سب کاونٹرز سے لینا اور بنک میں دوسرے دن گزشتہ روز کا کیش جمع کرانا ھوتا تھا، جو کہ میں کالج جانے سے پہلے ہر روز پہلا یہی کام کرتا تھا،

اس کے کچھ عرصہ بعد مجھے اسسٹنٹ منیجر کی پوسٹ دے دی گئی کیونکہ منیجر کی بھی سینما کے مالک نے چھٹی دے دی تھی اور اسکی جگہ وہ خود بیٹھنے لگا تھا اور منیجر کا سارا کام مجھ سے ھی کراتا تھا، دو گورنمنٹ کے اکسائز ٹیکس کے کھاتے رجسٹر میں سارے دن کی آمدنی، ہر شو اور ہر کلاس کی تفصیل کے ساتھ لکھنی ھوتی، انکو بھرنا پڑتا تھا اور اسی کے مطابق بنک میں دو جگہ الگ الگ اکاونٹ میں جمع کرانی پڑتی تھی، ایک گورنمنٹ کے کھاتے میں ٹیکس جمع ھوتا تھا اور دوسرا اکاونٹ سینما کے مالک کا، اس کے علاؤہ فلموں کے نمائش کندگان کے پاس جاکر اگلے ھفتہ کیلئے اچھی فلم کا سیلیکشن بھی کرنا اب میری ایک اور مزید ذمہ داریوں میں شامل ھوگیا تھا،

بچپن میں جو ایک میں نے ایک سینما کا چھوٹا سا پروجیکٹ کھولا تھا وہ آج قدرتی میرے سامنے ایک بڑی حقیقت بن کر سامنے آرھا تھا، میں خود اب حیران بھی تھا اور اس کے ساتھ ساتھ سینما کے پبلسٹی بورڈز کے ساتھ ساتھ مین بورڈ پر ایک استاد کے ساتھ ملکر تصویریں بھی پینٹ بھی کرتا تھا، اور اسی طرح میرے تمام بچپن کے شوق دوبارہ میری زندگی میں ایک پروفیشنل کے روپ میں آگئے،!!!!!

اب تو میں پورے ایک سینما کے آپریشن کا شروع سے آخر تک کا سسٹم پتہ چل چکا تھا، فلم کے حقوق ایک مدت کے لئے خریدنے سے لے کر سینماؤں تک کس طرح کرائے پر دیتے ہیں اور سینماؤں میں فلموں کا ایک ذمہ داری سے وقت پر پہنچانا بھی اچھی طرح جان چکا تھا، اور سینما میں فلم مشین روم میں پروجیکٹر سے سامنے حال کے پردے پر کس طرح کاربن کی روشنی کے ذریعے سے پہنچتی ھے اور سارا ایڈمنسٹریشن آپریشن کو کس طرح چلانا ھے سب کچھ میں سمجھ چکا تھا، کیونکہ اب میں ھی اکیلا ھی پوری سینما کی ٹیم کو لیکر پورے سینما کو چلا رھا تھا اب تو سینما کے سیٹھ صاحب بھی بہت کم نظر آتے تھے، کیونکہ انہوں نے مجھ پر اتنا اعتماد جو کرلیا تھا،!!!!!!

20 سال کی عمر اور اتنی بڑی ذمہ داری تھی کہ شاید ھی کبھی مجھے اتنی مشکل کبھی پیش آئی ھوگی، مگر ایک بات تھی کہ سب اسٹاف کے لوگ میری بہت عزت کرتے تھے اور ساتھ کافی ھر معاملے میں مدد بھی کرتے تھے، میں منیجر بھی تھا اور گیلری کے ٹکٹ کی کھڑکی پر بیٹھتا بھی تھا، سینما کے مالک نے مجھے رکھ کر تین چار آدمیوں کی تنخواہ بچا رھا تھا، ایک سینما کا منیجر ، فلم کرایہ پر لینے سے لیکر سینما کا سارا مینیجمنٹ کو سنبھالنا پبلک کو بھی سنبھالنا، دوسرے اکاونٹنٹ اور سارا حساب کتاب اکیلے دیکھنا، سب کی تنخواہیں بانٹنا، سارے اخراجات کو سنبھالنا، تمام کاونٹر سے تمام شوز کا کیش وصول کرنا، دوسرے دن بنک میں جمع بھی کرانا اور کھاتوں میں تمام تفصیل کے ساتھ اندراج بھی کرنا، اس کے علاوہ تمام پبلسٹی کے چھوٹے بڑے بورڈ لکھنا اور بڑا سامنے کا بورڈ بھی سیڑھی پر چڑھ کر لکھنا اور تصویریں بھی بنانا، ساتھ مددگار بھی ھوتے تھے، اس کے علاؤہ میں اپنے دوستوں سے بھی مدد لیتا تھا،

سب سے پہلے تو مجھے منیجر کی حیثیت سے یہ خیال رکھنا پڑتا تھا کہ آس پاس کے سینماؤں میں کون کون سی فلمیں لگنی والی ھیں اور اپنے سینما میں کونسی فلم لگائی جائے کہ وہ دوسرے سینماؤں سے زیادہ بزنس کرسکے، مارکیٹ میں کون کون سی نئی فلمیں ریلیز ھونے والی ھیں اور اس کے حقوق کس تقسیم کنندگان کے پاس ھیں اور کیا ریٹ ھے، اور پھر سینما کے سیٹھ سے مشورہ کرکے فلم کو ایک ھفتہ کیلئے مختلف شروط پر اپنے سینما پر نمائیش کے لئے خریدنا، اب تو میں اس میں ماسٹر ھوچکا تھا، سینما بھی نیا ھی تھا اور فلمیں بھی اچھی مل جاتی تھیں اور بزنس بھی اچھا ھورھا تھا، اور تمام بکنگ کلرک سے لے گیٹ کیپر اور ھال چیکر تک، زیادہ تر اپنے ھی محلے کے لڑکے اور دوست ھی رکھے ھوئے تھے اور سب میرا کافی ساتھ دیتے ، اور سینما بھی میرے گھر سے زیادہ دور نہیں تھا،

اس سینما میں تمام پاکستان کی زبانوں کی فلمیں لگتی تھیں زیادہ تر اردو، پنجابی، پشتو ھی لگتی تھیں، اور ھر علاقہ کے رھنے والے میرے دوست بھی تھے، اب تو ایک اچھی خاصی تعداد صرف مجھ سے سفارش کراکے ٹکٹ کا پہلے ھی سے بندوبست کرلیتے تھے اور اگر ھاؤس فل نہ ھو تو مفت پاس سے ان کو فلم دکھانی پڑتی تھی، اور جبکہ میں نے خود اس سینما میں کبھی بھی بیٹھ کر پوری فلم نہیں دیکھی، اور کئی فیملیز نے تو خوامخواہ ھی رشتہ داریاں بھی بڑھالی تھیں، اور کچھ تو بہت زیادہ ھی نزدیک آنے کی کوشش کرتیں تاکہ اسی بہانے مفت میں فلمیں دیکھ سکیں اور نئی فلم ھو تو بغیر لائن میں لگے ھوئے اور بغیر بلیک کے ٹکٹ لے لیں!!!!!!!!!!!

فلموں کے حوالے سے کچھ اور اس سے پہلے کا واقعہ مجھے یاد آگیا، جو میں پہلے تسلسل کے ساتھ بیان نہیں کرسکا تھا اور اس سینما کو جوائن کرنے سے پہلے کا قصٌہ ھے، لیکن صحیح وقت کا اندازہ نہیں ھے، شاید ایک یا دو سال پہلے کی بات ھوگی، جب میرے سر پر فلموں کے کسی نہ کسی شعبہ میں کام کرنے کا بھوت سوار ھوا، ھیرو تو بن ‌نہیں سکتا تھا، کیونکہ باڈی اسٹرکچر اس قابل نہیں تھا، سائڈ رول کے لئے بھی میں فلموں کی ایک روایاتی انداز کے قابل نہیں تھا، ایک شوق تھا جو میں وہاں پر پورا کرسکتا تھا وہ صرف اسکرپٹ رائیٹر کا کیونکہ اردو لکھنے اور ڈرامہ نگاری نگاری کا تو بچپن سے شوق رھا ھے اور ریڈیو پاکستان میں بھی اسکرپٹ دیکھنے کو ملا،

اس وقت کراچی میں بھی اچھی خاصی فلمیں بنا کرتیں تھیں اور بہت اچھے ڈائریکٹر بھی موجود تھے اور اب تک رنگین فلموں کا دور نہیں آیا تھا، ایسٹرن اسٹوڈیوز اور ایک نیشنل اسٹوڈیوز ھی میں ھی زیادہ تر فلموں کی تیاری ھوا کرتی تھی، مگر وہاں داخل ھونا ایک بڑا مشکل کام تھا، میں نے کئی دفعہ کوشش بھی کی لیکن ناکام رھا، ایک دوست کے دوست کے اثر رسوق کو استعمال کیا اور ایک دن پہنچ گئے ایسٹرن اسٹوڈیو میں، ایک عجیب ھی دنیا دیکھنے کو ملی، ان صاحب نے ایک اسٹوری رائٹر کو ملایا، جو شاید اِدھر اُدھر کی کہانیاں جمع کرکے کچھ انگلش اور انڈین فلموں کی مکسچر سے کوئی کہانی تخلیق کرتے تھے، اور جو فلم بن رھی تھی اس کے ڈائریکٹر بھی تھے اور انھوں نے ایک موٹی آسامی کو فلم بنانے کے لئے پھانسا ھوا تھا، اور اتفاق سے وہ فلم کے ھیرو بھی تھے،

میں بھی کس شخص کے پاس پھنس گیا تھا، اس نے اپنی کہانی کو مجھ سے منظرنامہ اور مکالمہ نگاری کے حساب سے لکھوانا شروع کیا، جس میں سین نمبر اور شاٹ نمبر، کے علاوہ اس سین مین آوٹ ڈور یا ان ڈور ھے اور بیک گراونڈ میں کیا کیا چیزیں ھیں، کرداروں کے لباس کی تفصیل بمعہ جوتوں کے ساتھ وغیرہ وغیرہ فرش کیسا ھے کارپٹ یا ٹائیلز سارا منظرنامہ مکالموں اور کرداروں کے ساتھ، سب کچھ ھاتھ سے لکھنا تھا، مجھے کچھ پہلے سے اس کے بارے میں معلومات تھیں اور پہلے بھی اسٹیج شوز کے لئے اسکرپٹ لکھے تھے، اور ریڈیو پاکستان میں اسکرپٹ پڑھے بھی تھے، بس فرق منطرنامہ کا تھا جو اسٹیج شوز میں ضرورت نہیں پڑتی تھی، اور نہ ھی ریڈیو پاکستان کے ڈراموں کے اسکرپٹ میں،

اب تو پھنس ھی گئے تھے، کیونکہ ان کی اسٹوری کا کوئی سر پیر ھی نہیں تھا، کوئی صفحہ نمبر نہیں تھا کوئی ترتیب نہیں تھی، ایک صفحہ کہیں تو دوسرا کہیں، کوئی بھی کسی کا ربط یا تعلق نظر نہیں آتا تھا، پوچھنے پر وہ کہتے کہ بھی تمھیں کس لئے رکھا ھے، خود ڈھونڈ لو اور خود ھی ترتیب دے کر شروع ھوجاؤ، ارے بھئی کیا مشکل ھے !!!!!!، میں دل میں سوچتا کہ چلو کچھ تجربہ ھی ھوجائے گا اس لئے شروع تو کردیا لیکن اس رائیٹر ڈائریکٹر ایک تو آفس میں اکثر نظر نہیں آتا تھا اور آگر آفس میں بیٹھتا تو ھمیشہ مجھ سے چائے اور بسکٹ ھی منگاتا رھتا اور وہ بھی میرے ھی پیسوں سے بلکہ ایک دو نہیں بعض اوقات دوسروں کے لئے بھی مجھ ھی سے اور میرے ھی پیسوں سے چائے منگاتا اور ساتھ یہ بھی کہتا کہ ابھی فلمساز صاحب آئیں گے تو ڈبل پیسے دلوادونگا، اور وہ شخص سب کے سامنے مجھے خوب مکھن لگاتا کہ دوستو دیکھنا یہ لڑکا مستقبل میں ایک دن بہت بڑا اسکرپٹ رائیٹر اور فلم کا ڈائریکٹر بنے گا، اس میں بہت ٹیلنٹ ھے وغیرہ وغیرہ، وہاں پر سارے ھی مفت خورے ھی نظر آئے ھر کوئی ایک دوسرے کی جیب پر نظر رکھتا تھا!!!

میں تو اپنی ڈھیر ساری تعریفوں کی وجہ سے اور اکڑ جاتا اور اپنی ھی جیب سے چائے اور ساتھ بسکٹ ساتھ سموسے بھی لے آتا وھاں پر کچھ مشہور اداکار بھی آتے اور کچھ نئے شوقین سفارشی اداکار بھی چکر لگاتے رھتے تھے، میں ان کو ھی دیکھ دیکھ کر خوش ھوتا تھا کہ یہ سینماؤں کی بڑی اسکرین کے فنکار اپنے سامنے دیکھ رھا ھوں اور اپنے ھی ھاتھ سے انہیں چائے بھی پلا رھا ھوں، اسکرپٹ تو کم لکھتا تھا مگر وہاں مجھے لگتا تھا کہ میں آفس بوائے کا کام زیادہ کرتا ھوں، آخر کو ایک دن ایک سیٹ پر جانا پڑا جہاں شوٹنگ ھورھی تھی، وھاں پر مجھے کلیپ بوائے کی ڈیوٹی دے دی اور جہاں مجھے ہر شاٹ پر کیمرے کے سامنے کلیپ کو دکھانا تھا جس پر چاک سے ہر شاٹ کا نمبر سین نمبر اور فلم کا نام پروڈکشن نمبر لکھا ھوتا تھا، کبھی کبھی تو میں نے کیمرے کی ٹرالی کو پٹری کے اوپر دھکا دے کر چلایا بھی، اور کبھی تو اوپر سیڑھی پر چڑھ کر اسپاٹ لائٹ سے خوبصورٹ چہروں پر لائٹ بھی ڈالی،

میں یہاں کیا کرنے آیا تھا اور کیا کررھا تھا، اور اپنی ھی جیب سے پیسے خرچ کئے جارھا تھا، ایک دن جناب سیدکمال صاحب ٹکرا گئے اور انہوں نے مجھے ایک نصیحت ضرور کی بیٹا ابھی تمھاری عمر پڑھائی کرنے کی ھے پڑھائی مکمل کرو اور ان کے چکرؤں میں مت پھرو یہ لوگ تمھیں بیچ کھائیں گے، انھوں نے مجھے اس کے آفس میں کئی بار دیکھا بھی تھا، بہت ھی میرے پسندیدہ آرٹسٹ ھیں، ان کی کامیڈی میں کبھی نہیں بھولتا، ان کی یہ بات میرے دل کو لگی تھی، اور کسی طرح بھی میں اب اس جگہ سے جان چھڑانا چاھتا تھا، مگر پہلے تنخواہ تو لےلوں یہ سوچ کر ان صاحب سے روز مطالبہ کرتا لیکن وہ ھمیشہ کل کا بہانہ کرکے ٹال دیتے، میں نے ایک دفعہ ان فلمساز سے بھی شکایت کی مگر انہوں نے یہی کہا کہ میرا پیسے کے لین دین سے کوئی تعلق نہیں ھے،

میں تو بہت مشکل میں تھا کافی پیسے اس ڈائریکٹر کو چائے بسکٹ میں کھلا چکا تھا، مگر کمبخت کوئی پیسوں کی بات ھی نہیں کرتا تھا بلکہ کئی دفعہ تو یہ کہتا کہ میں تو تمہیں ایک بڑے مقام پر لے جا رھا ھوں اور تم مجھ سے ھی الٹا پیسے مانگتے ھو، مجھے کمال صاحب کی بات یاد آگئی اور اس دن کے بعد سے میں نے وھاں کا رخ نہیں کیا، مگر وھاں رہتے ھوئے فلم کی شوٹنگ کے طریقہ کار کے بارے میں مکمل معلومات ھوچکی تھیں، اگر کوئی مجھے ایک مشہور اور اچھا ڈائریکٹر مل جاتا تو شاید جلدی اس لائن میں کوئی مقام حاصل کر سکتا تھا، ھر شوٹنگ کے دوران مختلف زاویوں سے کیمرے کو چلانا، اسکرپٹ کے حساب سے سیٹ اور کیمرے کو ترتیب دینا، ساونڈ کی دوبارہ ڈبنگ وغیرہ بھی بہت کچھ سیکھ چکا تھا!!!!!

مگر میں نے یہی محسوس کیا کہ ھر جگہ پر آپکی خواھش کامیاب نہیں ھوسکتی، اور اسی میں اُوپر والے کی کوئی نہ کوئی مصلحت ھوتی ھے، کئی اچھے خاندان کے لڑکے لڑکیاں اپنے اس فلمی شوق کی خاطر اپنا گھر بار چھوڑ کر اپنی اچھی خاصی زندگیاں برباد کرلیتے ھیں، گھر واپس جانے کی ان میں ھمت نہیں ھوتی، میں نے خود وہاں کئی نئی شوقین لڑکیوں کو دیکھا جو اپنے شوق کی خاطر اپنے ماں باپ کی عزت کو داؤ پر لگائی ھوئی تھیں، وھاں پر اکثر لڑکوں کو دیکھا جو لڑکیوں کو اپنے جھوٹی محبت کی جال میں پھنسا کر لے کر آتے اور خود بھی برباد اور لڑکیوں کی زندگیوں کو اس طرح برباد کرکے دوسروں کے حوالے کرکے یا بیچ کر بھاگ جاتے تھے کہ لڑکیاں اپنے گھر واپس جانے کے قابل بھی نہیں رھتی تھیں !!!!!!

وھاں پر تو وھی کامیاب ھوسکتا تھا کہ یا تو جس کے پاس یا تو دولت وافر مقدار میں ھو یا کوئی خوبصورت سی لڑکی ساتھ ھو، میں نے تو اس طرح بھی دیکھا کہ جس لڑکے کے ساتھ کوئی خوبصورت لڑکی ھوتی تھی اسے کوئی بھی گیٹ پر نہیں روکتا تھا اور اندر جاتے ھی اسکی بڑی آؤ بھگت ھوتی تھی، ھر کوئی کھڑا ھوکر استقبال کرتا اور بڑی خاطر مدارات کرتا اور پھر بس ھیروین کا چانس کا لالچ دے کر نہ جانے کہاں کہاں آوٹ ڈور شوٹنگ کے بہانے جعلی ڈائریکٹر اور فلمساز بن کر اپنے ساز وسامان کے ساتھ آؤٹ ڈور لوکیشن پر لے جاتے اور پھر نہ جانے کیا کیا گل کھلاتے تھے، بعد میں دیکھو تو جو لڑکا ساتھ آیا تھا وہ تو غائب لیکن وھی لڑکی کسی اور مالدار آسامی کے ساتھ پھر رھی ھوتی تھی، نہ جانے کب تک ؟؟؟؟؟؟

اللٌہ تعالیٰ ھر ایک کی عزت و آبرو محفوظ رکھے، آمین!!!!!!

میں نے بس وھاں کی حالت زار دیکھ کر، وھاں سے بھاگنے کی ھی سوچی، اگر والد صاحب کو پتہ چلا تو وہ تو اس دفعہ بالکل بھی معاف نہیں کریں گے، میں تو انکی چوری سے کوئی نہ کوئی بہانہ کرکے جاتا تھا، اچھا ھوا کہ جان خلاصی ھوگئی، میرا کوئی اتنا نقصان تو نہیں ھوا بس روزانہ چائے پانی پلانے میں جو خرچ ھوتے تھے اسی پر ھی اس قصہ کا تمام ھوگیا، اگر کوئی دولت بھی ھوتی شاید وہاں کے لئے کم تھی، بڑے بڑے بھوکے ننگے کنگلے لوگ وہاں دیکھے!!!!!!!!!!

چلئے واپس پھر اپنے سینما حال کی طرف آتے ھیں، جہاں ھم ایک اپنی اجارہ داری بنائے ھوئے تھے، اب تو سمجھئے ھر کوئی کسی نہ کسی لالچ کی وجہ سے خوب میرے اگے پیچھے گھومتے تھے، کبھی تو پرانی فلموں کے مالکان بھی مجبوری میں اپنی فلموں کی پروفائیل اٹھائے اٹھائے پہنچ جاتے اور کافی لالچ دیتے کہ ھماری فلم ایک ھفتہ کیلئے لگوادو، اس کے علاؤہ رش کے وقت لوگوں کی سفارشات، سینما کی کینٹین یا کیفیٹیریا، جو پبلک کو انٹرویل میں گھٹیا سے گھٹیا چیزیں بیچتے تھے، مگر مجھے اور میرے مہمانوں کو اسپشل چائے اور اچھی کوالیٹی کے بسکٹ اور اسپیشل سموسے بنوا کر بغیر کسی قیمت ٹرے میں خوبصورت طریقے سے سجا کر بھیجتے تھے، اسکی وجہ صرف یہ تھی کہ انٹرویل کا وقت 15 منٹ مزید بڑھا دیا جائے، ساتھ ھی وہ ایک ٹرے مشین کنٹرول روم میں فلم چلانے والے استاد جی اور انکے چیلوں کو بھی بھیجی جاتی تھی،

میری تو اس وقت چاندی ھی چاندی تھی، مگر میں زیادہ تر ھر ایک کی مدد کیا کرتا، وھاں پر کئی لڑکے بہت غریب خاندان کے بھی تھے جو انٹرویل میں چائے اور مختلف چیزیں سینما کے اندر پبلک میں بیچتے تھے، اکثر ان سے کوئی تھنڈی بوتل، گلاس یا کپ ٹوٹ جاتا‌ تو انکے پیسے کوشش کرتا کہ کینٹین والا معاف کردے اگر نہیں کرتا تو میں ان کا جرمانہ بھرتا تھا، اسکے علاوہ وہ یا کوئی بھی اسٹاف کا بندہ میرے پاس اپنی ضرورت لے کر آتا تو میں ان کی زیادہ سے زیادہ مدد کرتا،!!!!

اور وہ لوگ سب میرا بہت خیال رکھتے تھے، اور سینما کی صفائی اور دوسرے کاموں میں میری بہت مدد بھی کرتے تھے، کبھی کبھی میں مشکلوں کا بھی شکار ھوا پبلک سے جوتے کھاتے کھاتے بچا کیونکہ ھر نئی فلم میں بلیک کے بغیر دوسروں کا گزارا نہیں ‌ھوتا تھا، کھڑکی سے ٹکٹ بہت ھی کم بانٹتے تھے، مجبوری تھی ورنہ وھاں کے مقرر کردہ علاقے کے ایریا ایجنٹ کے آدمیوں کے ساتھ اپنے سینما کے بدمعاش جو سیٹھ نے پالے ھوئے تھے، ان کا کوٹہ ھوتا تھا بلیک کرنے کا کیونکہ وہ پبلک سے ھماری جان اور سینما کی ٹوڑ پھوڑ کو بچانے میں مدد کرتے تھے، ورنہ تو نہ سیٹھ کی خیر اور نہ ھماری خیر!!!! اور کینٹین تو سیٹھ نے مجبوراً ان ھی لوگوں کے قبضے میں دی ھوتی تھی، جس کا کہ وہ کوئی کرایہ نہیں ‌دیتے تھے !!!! اگر وہ خوش تو سارا سینما خوش باش، کوئی پولیس انکی وجہ سے اندر آ نہیں سکتی تھی، اور واقعی پولیس بھی ان سے زیادہ ڈرتی تھی !!!!!!

اب تو میں دوستوں کے ساتھ باھر کم ھی جانے لگا کیونکہ سینما کے مسئلے مسائل ھی اتنے تھے کہ ان کو بھگتانے سے ھی فرصت نہین ملتی تھی، میرے ساتھ اب ھمیشہ کوئی نہ کوئی حفاظت کیلئے ان کا مقرر کردہ بندہ بھی ھوتا تھا کہ کوئی مجھے نقصان نہ پہنچائے، ان لوگوں کے بہت اُوپر تک تعلقات تھے، کوئی بھی کام کرانا ھو انکے بائیں ھاتھ کا کھیل تھا، مگر میں نے ان لوگوں سے کوئی بھی اپنا ذاتی کام نہیں کرایا، اور نہ ھی والد صاحب اس کی اجازت دیتے، والد صاحب نے کئی دفعہ مجھے منع کیا کہ یہ سینما کی نوکری چھوڑ دے، لیکن میں نہیں چھوڑتا تھا،کیونکہ اس میں ایک میرا رعب تھا اور لوگ بھی کافی آگے پیچھے پھرتے تھے، !!!!!

اکثر باھر سے دوست اپنی فیملیوں کو فلم دکھانے لے آتے تھے، میں انکو بغیر ٹکٹ ھی فلم دیکھنے کیلئے سینما مین بٹھا دیتا تھا اور سب کو پتہ ھوتا تھا کہ یہ میری فیملی ھے، سب انکے لئے انٹرویل میں اسپشل چائے اور تھنڈی بوتلیں اور کھانے پینے کی چیزیں بھجواتے، اگر ھاؤس فل ھوتا تو اکسٹرا کرسیوں کا بھی بندوبست ھوجاتا، سب لوگ میری وہاں بہت عزت کرتے تھے اور سینما کا مالک تو بھی میری کارکردگی سے بہت خوش تھا !!!!!
----------------------------------------------------
جاری ھے،!!!!

عبدالرحمن سید
31-01-10, 08:53 PM
اکثر باھر سے دوست اپنی فیملیوں کو فلم دکھانے لے آتے تھے، میں انکو بغیر ٹکٹ ھی فلم دیکھنے کیلئے سینما مین بٹھا دیتا تھا اور سب کو پتہ ھوتا تھا کہ یہ میری فیملی ھے، سب انکے لئے ایٹرویل میں اسپشل چائے اور تھنڈی بوتلیں اور کھانے پینے کی چیزیں بھجواتے، اگر ھاؤس فل ھوتا تو اکسٹرا کرسیوں کا بھی بندوبست ھوجاتا، سب لوگ میری وہاں بہت عزت کرتے تھے اور سینما کا مالک تو بھی میری کارکردگی سے بہت خوش تھا !!!!!

ایک دن ایک لڑکا پرانے محلے کا جو اُس وقت بہت چھوٹا تھا اور زادیہ سے ٹیوشن پڑھتا تھا، بہت ھی اپنے وقت میں شریر بھی تھا میں اپنے سینما کے آفس میں بیٹھا ھوا تھا، دروازے پر کھڑے ھوکر دستک دی اور مسکراتے ھوئے اندر آنے کی اجازت مانگی، میں نے گردن ہلا کر آنے کیلئے کہا مگر میں نے اسے پہچانا نہیں، اس نے مجھ سے کہا کہ آپ نے مجھے پہچانا نہیں میں نے دماغ پر زور دیا، کیونکہ اب وہ کافی بڑا ھوگیا تھا، کچھ ذہن پر زور ڈالا تو مجھے یاد آگیا، اور پھر میں نے اسے گلے لگالیا، اور سامنے بٹھایا، بہت سی پرانی بھولی بسری یادیں پھر سے تازہ ھوگئیں،

میں انے اپنا کام وغیرہ دوسرے بکنگ کلرک کے حوالے کیا اور اتنے میں چائے وغیرہ آگئی اور میں نے اسکے گھر والوں کی خیریت معلوم کی اور پوچھا کہ فلم دیکھو گے تو اس نے منع کردیا، بس اتنا ھی کہا کہ مجھے آپ سے ایک کام تھا، میں نے پوچھا کیا کام ھے جلدی بتاؤ !!!!! اس نے جواب دیا کہ مجھے زادیہ باجی نے بھیجا ھے، اور !!!!!!!!!!!!! آگے اس نے کیا کہا مجھے سنائی نہیں دیا، کیونکہ فوراً ھی انٹرویل کی گھنٹی بجی اور تمام دروازے کھل گئے اور پبلک کا شور اور میوزک اپنی تیز آواز میں شروع ھوگئی، اور چائے کے اسٹال پر بیچنے والوں کی آوازیں چائےگرم تھنڈی بوتل نے تو روز کی معمول کی طرح ھنگامہ شروع ھوگیا، مین نے اسے کچھ خاموش رھنے کا اشارا کیا اور آفس کا دروازہ بند کروادیا لیکن بار بار کوئی نہ کوئی کسی کام سے اندر آجاتا کوئی شکایت لے کر چلا آرھا ھے کبھی کچھ اور دروازہ کھلتے ھی باھر کا شور اندر آجاتا تھا !!!!!!!

میں یہ سوچ رھا تھا کہ کب یہ انٹرویل ختم ھو اور میں اسکی بات سنوں، مگر لگتا تھا کہ آج انٹرویل کا ٹائم ختم ھی نہیں ھوگا، میں نے زور سے ڈانٹ کر کہا کہ یہ انٹرویل کب ختم ھوگا ایک نے میرے کان میں کہا کہ صاحب آج نئی فلم ھے اور شو ھاؤس فل ھے اج تو 40 منٹ کا وقفہ ھے اور ابھی تو 15 منٹ ھی ھوئے ھیں، میرے لئے تو ایک ایک منٹ اس وقت ایک ایک گھنٹے کا لگ رھا تھا، میں زادیہ کا پیغام سننے کیلئے بے چین تھا اور یہ وقفہ مجھے بہت پریشان کررھا تھا!!!!!!!!!
-------------------------------------
ایسا لگتا تھا کہ بڑی مشکل سے انٹرویل ختم ھوا ھے، میں نے اس سے کہا کہ ھاں اب بتاؤ کہ کیا بات ھے، اس نے جواب دیا کہ ایک دن اتفاق سے مجھے وہ راستہ میں ملی تھیں جب وہ کالج سے واپس آرھی تھیں، اور وہ پھر مجھے گھر لے گئیں اور صرف یہ مجھ سے کہا کہ میں آپ کا اتا پتہ ڈھونڈ کر لاؤں!!! میں نے پوچھا کہ تمھیں یہاں کا پتہ کس نے بتایا!!! اس نے جواب دیا کہ پہلے تو میں پرانے محلے گیا، وھاں سے آپ کے گھر کا پتہ لیا اور وہاں سے پتہ چلا کہ آپ اس سینما میں کام کرتے ھیں، تو میں یہاں ھی سیدھا چلا آیا اور آج صبح سے آپکی تلاش میں ھوں اور اب شام کو آپ کے پاس پہنچا ھوں،!!!! میں نے زادیہ کی خیریت پوچھی کہ وہ کیسی ھے اور کچھ مزید کیا کہا،!!!! اس نے جواب دیا کہ بھائی جان !!!زادیہ باجی اب کچھ پہلے سے بہت زیادہ کمزور نظر آرھی تھیں اور بہت اداس بھی لگتی تھیں، اور بس انہوں نے آپ کا پتہ معلوم کرنے کو کہا تھا !!!!!! میں نے کہا کہ تم ابھی اندر ھال میں جاکر فلم دیکھو، میں جب تک ایک خط لکھتا ھوں اور تم نے یہ خط صرف اسی کے ھاتھ میں دینا ھے اور اسکا جواب بھی لے کر آنا ھے!!!!!

اس لڑکے نے تو سینما میں فلم دیکھنے سے منع کردیا لیکن کہا کہ وہ کل ضرور آئے گا اور یہ خط لے جائے گا، میں نے کہا نہیں میں ابھی یہیں تمھیں خط لکھ کردیتا ھوں تم اس کا جواب کل ضرور لے کر آنا، میں نے جلدی جلدی کچھ ھمت کرکے ایک پرچے پر اپنی طرف سے مختصراً اظہارِ محبت کرکے زادیہ سے اسکی رائے پوچھی کہ وہ میرے بارے میں کیا سوچتی ھے، بس اتنا سا کچھ الفاظوں کو خوبصورت انداز میں ڈھال کر ایک لفافے میں بند کیا اور اس لڑکے کو تھما دیا اور اس کے ھاتھ میں کچھ روپے رکھنے کی کوشش کی لیکن اس نے لینے سے منع کردیا اور کہا کہ آپ دونوں تو میرے استاد ھیں، میں یہ نہیں کرسکتا ھاں اگر کبھی کچھ ضرورت محسوس ھوئی تو ضرور لوں گا، اور اس نے یہ جاتے جاتے ضرور کہا کہ زادیہ باجی آپ کو دل سے بہت زیادہ چاھتی ھیں،!!! میں نے پھر اسکا بازو پکڑ کر کہا کہ کیا اس نے تمھیں یہ کہا ھے !! اس نے جواب دیا کہ کہا تو نہیں مگر میں نے ان کی باتوں سے اندازہ لگایا ھے!!! اور یہ بھی کہا کہ وہ بہت پریشان ھیں آپ ان سے ضرور ملئے گا، !!! اتنا کہ کر کل کے آنے کا وعدہ کرکے وہ واپس چلا گیا !!!!!

کل تک کا انتظار میرے لئے واقعی ایک بہت ھی بڑا کٹھن مقام تھا، میں اسی چکر میں رات بھر نہیں سو سکا، اور اپنی تمام پرانی ان یادوں کے وہ خوشگوار لمحات کے ایک ایک پل کو یاد کرتا رھا جو میں نے زادیہ کے ساتھ گزارے تھے، اس کا غصہ ھونا اپنی ضد پر اڑ جانا اور اپنی بات منواکر رھنا، اسکی یہ خاص عادتیں مجھے بہت پسند تھیں اور ایک ایک کرکے مجھے سب کچھ یاد آرھا تھا، اس کا روٹھ جانا اور میرا باجی سے سفارش کرکے اسے منانا اور پھر اسکا غصہ سے یہ کہنا کہ تمھیں تو منانا بھی نہیں آتا ھے، دوسروں سے سفارش کرواتے ھو، اور واقعی میں اس معاملے میں بالکل کورا تھا، نہ اب تک اس سے ڈر کے مارے اظہار محبت کیا اور نہ ھی کوئی خط لکھا تھا، نہ جانے آج کیسی ھمت کرلی اور اب ڈر بھی رھا تھا کہ کسی کو پتہ نہ چل جائے کہیں اس کے اباجی نے پڑھ لیا تو مصیبت آجائے گی نہ جانے کیا کیا برے خیالات ذہن میں آرھے تھے ایک طرف جواب کے انتظار کی بے چینی اور ساتھ ایک عجیب سی خوشی بھی اور دوسری طرف ڈر اور خوف بھی تھا،

صبح صبح ھی تیار ھوکر سینما کی طرف چل دیا، ابھی بنک کے کھلنے میں بھی دو گھنٹے باقی تھے، سینما پہنچ کر روز کی معمول کی طرح تجوری کھولی اور کل کا کیش نکالا جو پہلے ھی سی کاونٹ کیا ھوا پیک رکھا تھا مکمل ڈپازٹ سلپ کے ساتھ، ساتھ چوکیدار کو لیا اور سامنے بنک کی ظرف چل دیا، چوکیدار نے کہا صاب جی ابھی تو بنک کھلنے میں ڈیڑھ گھنٹہ باقی ھے، آپ اتنی جلدی میں کیوں ھے، میں بھی بےوقوف تھا فوراً واپس ھوا اور پھر تجوری کھول کر واپس پیسے اس میں ڈال دئے اور میز پر سر کر سو گیا کیونکہ رات بھر کا جاگا ھوا تھا، کچھ دیر بعد مجھے چوکیدار نے اُٹھایا او کہا کہ چلئے بنک کے لئے، میں نے سارے پیسے اُٹھائے اور سامنے کے بنک پہنچ کر سارے پیسے جمع کرادئے، روز کے معمول کے مطابق ایک حصہ گورنمنٹ کے کھاتے میں اور دوسرا سیٹھ کے کھاتے میں، اور پھر واپس سینما کی ظرف واپس ھولیا،

اور آج تو کالج کی طرف بھی جانے کو دل نہیں کررھا تھا، سیدھے سینما کی تمام صفائی کی کاروائی دیکھی، سب صفائی کے لوگ اور ان کا انچارج کام میں لگے ھوئے تھے دوپہر کے ابھی 10 ھی بجے ھونگے، وقت بالکل تھم سا گیا تھا، میں بس اِدھر اُدھر سینما کا جائزہ لے رھا تھا، ایڈوانس بکنگ پر کچھ رش سا تھا کیونکہ نئ فلم لگی ھوئی تھی شاید ھفتہ کا دن تھا میں بھی ایڈوانس بکنگ کے کمرے میں جاکر بکنگ کلرک کے پاس بیٹھ گیا اور کچھ مدد کرنے لگا تاکہ کچھ ٹائم پاس ھوجائے، لیکن وقت گزرنے کا نام ھی نہیں لے رھا تھا، آج کسی کا پیغام آنے والا تھا اور نہ جانے اس میں کیا لکھا ھوگا، کہیں ایسا تو نہیں کہ وہ اپنے ابا جی کے ساتھ آرھی ھوگی اور یہ سوچ کر میرا اور بھی دل دہل جاتا اور کبھی دل یہ کہتا کے محبت کا جواب محبت سے ھی آئے گا،

بڑی مشکل سے پہلے شو کا ٹائم نزدیک آرھا تھا، اور پبلک بھی آہستہ آہستہ جمع ھورھی تھی، گیلری اور فرسٹ کلاس کی تو پہلے ھی سے ایڈوانس بکنگ ھوچکی تھی، اور بلیک کے لئے بھی ٹکٹ پہلے سے الگ کئے جاچکے تھے، آگے کی تین کلاسس کی ٹکٹوں کی کھڑکیاں کھل چکی تھیں اور کچھ ٹکٹ بانٹنے کے بعد وہاں بھی سولڈآؤٹ کے بورڈز لگ چکے تھے، اور باھر اور اندر ٹکٹوں کی بلیک کھلم کھلا ھورھی تھی، باھر پولیس والے بھی ٹہل رھے تھے، وہ بھی اپنا حصہ لینے آئے ھوئے تھے تاکہ کھل کے بلیک ھو، اور خاص لوگ بھی آرام سے آتے تھے کیونکہ وہ بھی بلیک سے ٹکٹ خریدنے کے عادی ھوچکے تھے، منیجر کے کمرے میں سارے بکنگ کلرک جمع ھوکر اپنا اپنا کیش گن رھے تھے اور میں باھر ٹہل رھا تھا، اور ساتھ کسی کا انتظار کررھا تھا، سارا کام تو اپنا اسٹاف کرلیتا تھا، اور مجھے ان پر اعتماد ھی تھا اور ھاؤس فل کی ٹوٹل آمدنی کا فگر تو زبانی یاد تھا، اس کا چالان اور رجسٹر میں نے پہلے ھی سے بھر لئے تھے، بس بکنگ کلرکس مجھے پیسہ جمع کرکے دیں گے جو صبح ھی بنک میں پہنچ جائے گا،

فلم بھی شروع ھوچکی تھی اور مین باھر کھڑا روڈ پر اپنی نظریں جمائے ھوئے تھا، جن لوگوں کو ٹکٹ نہیں ملے تھے وہ مجھے آکر پکڑ لیتے اور میں بڑی مشکل سے اں سے جان چھڑا رھا تھا، اسی دوران مجھے وہ لڑکا نظر آگیا اور فوراً میں اس کی طرف لپکا، اور آتے ھی اس نے ایک چھوٹا سا لفافہ مجھے تھمایا اور شاید وہ کچھ جلدی میں تھا، اس لئے بعد میں آنے کا وعدہ کرکے فوراً ھی چلا گیا، اور میری تو دل کی دھڑکنیں تیز سے تیز تر ھوتی چلی جارھی تھیں، اس لفافے کو کھولتے ھوئے میرے ھاتھ کانپ سے رھے تھے، بڑی مشکل سے اس لفافہ میں سے پرچہ نکالا اور ایک چھوٹی سی پرچی سی تھی اور اس میں چار یا پانچ لائنوں میں مختصر سا کچھ انگلش میں یوں لکھا تھا!!!!!!

ڈیر ارمان !!!!! (اس وقت میرا نک نام اور تخلص بھی تھا )
تمھاری یاد دھانی کا بہت بہت شکریہ،
میں بھی تمھیں اپنے دل کی گہرائیوں سے چاھتی ھوں،
اور میں تمھارا اتوار کو شام کے پانچ بجے گھر پر انتظار کرونگی،
فقط،
صرف تمھاری اور صرف تمھاری
،،،،Z،،،
یہ پڑھ کر تو مجھے ایسا لگا کہ جیسے میں ھوا میں اُڑ رھا ھوں، اور ایک پاگلوں کی سی کیفیت میں گرفتار، کچھ سمجھ میں نہیں آرھا تھا، کیا کروں، آج ھفتے کا دن تھا اور کل اتوار تھا اور کل کے آنے میں ابھی 24 گھنٹے باقی تھے اور یہ وقت پھر ایک مشکل آن پڑی تھی کہ کیسے گزاروں، دل تو چاھا کہ آج ھی کیوں نہ چلا جاؤں، مگر ایسا کیسے ھوسکتا ھے وعدہ کی لاج بھی تو رکھنی تھی، بار بار اس پرچے کو پیار کررھا تھا اور اپنی آنکھوں سے لگا بھی رھا تھا، اور باربار پڑھتا بھی جا رھا تھا اور اپنی آنکھوں پر مجھے یقین بھی نہیں آرھا تھا!!!!!!!!


یہ عشق بھی کیا عشق جو، دیوانہ ھی بنا دیتا ھے
جلتی شمع میں جل جائے جو، پروانہ ھی بنا دیتا ھے



آج وہ مجھے خزانہ حیات مل گیا جو میں کئی سالوں سے اس کیلئے ترستا رھا، چلو، اچھا ھی ھوا جو کچھ ھم نہ کہہ سکے ان کی تحریر نے ھی برسوں بعد ھمارے دل کی ترجمانی کردی!!!!!


اپنی زباں سے جو ھم نہ کر سکے اظہارِ محبت
دیکھو ان کی تحریر ھی لے گئی اس بار سبقت


دل میں بھی یہ سوچتا رھا کہ وہ بھی کیا سوچے گی کہ میں کتنا بزدل یا ڈرپوک تھا یا شرم حضوری میں ھی مارا گیا، کچھ بھی نہ کہہ سکا اور کہتے کہتے رہ بھی گیا، بڑی مشکل سے رات سارے ماضی کے خوابوں کے جھروکوں میں ھی گزرگئی، ھر ایک وہ لمحہ بار بار مجھے جھنجھوڑ دیتا، جو میں نے زادیہ کے ساتھ جو ایک ایک پل گزارے تھے، اس کا وہ بارشوں میں درختوں پر ڈالے ھوئے رسی کے جھولے پر جھولنا اور مجھے ھی ساتھ لئے اس کا گھومنا اسے بارش بہت پسند تھی، اور وہ جب بھی باہر نکلتی مجھے کہیں نہ کہیں سے ڈھونڈ کر لے آتی اور میرے ساتھ ھی بارشوں میں خوب کھیلتی اور جھولا جھولتی، اور میں درخت کے نیچے بارش میں بھیگتا ھوا اسے جھولے جھولتے ھوئے دیکھتا، کبھی کبھی امرودوں کے باغوں میں خوب بچوں کی طرح مچلتی اور مجھے اس کے لئے امرود توڑنے پڑتے تو کبھی بیروں کے درختوں سے میٹھے بیر، اور میرا ھاتھ پکڑ کر بھاگتی پھرتی میں تھک جاتا مگر وہ نہیں تھکتی تھی، اگر میں کسی بات سے انکار کردیتا تو وہ ناراض ھوجاتی، اور میں اسے کبھی ناراض نہیں دیکھ سکتا تھا!!!!

وہ اپنے آپ کو میرے ساتھ خود کو بہت محفوظ سمجھتی تھی، جبکہ دوسرے لڑکے اس کی تیزتراری سے بہت ڈرتے تھے، وہ کسی کو بھی خاطر میں نہیں لاتی تھی، اور وہ صرف میرے ساتھ ھی خوش رھتی اور اسکے گھر والے بھی اسے صرف میرے ھی ساتھ باہر جانے کی اجازت دیتے تھے اور یہ سلسلہ تو بچپن سے ھی تھا، اور پتہ ھی نہیں چلا کہ ھم دونوں نے جوانی میں کب قدم رکھا اور کبھی کچھ محسوس ھی نہیں کیا اور نہ کسی برے خیال کو ذہن میں آنے دیا، مگر دنیا والوں نے ھمیں احساس دلا ھی دیا اور ھم لوگوں کے درمیان رنجشوں کی ایک دیوار کھڑی کردی!!!!

یہی سوچتے سوچتے رات بہت مشکل سے آنکھوں ھی آنکھوں میں ھی کٹ گی، آج پھر میں کتنے عرصے بعد اسکی من موھنی صورت دیکھنے کو ملے گی، اور میں یہ بھی سوچ سوچ کر پریشان تھا کہ اسکا میں سامنا کیسے کرونگا، خود نے تو آج تک یہ کہنے کی ھمت کی نہیں، آج اس نے جب تحریراً اقرار کیا تو اسکے سامنے جاتے ھوئے گھبرا بھی رھا تھا، صبح تو ھوگئی اب شام کیسے ھو، یہ بڑی مشکل تھی ایسا لگتا تھا کہ جیسے پھر وقت ٹھر گیا ھو، گھڑی کی سوئی آگے بڑھ کے نہیں دے رھی تھی، ناشتہ بھی حلق سے نیچے اتر نہیں رھا تھا، جانے آج مجھے کیا ھوگیا، نہ جانے یہ کیسی خوشی تھی کہ آنکھوں میں آنسوؤں کا گماں ھوتا تھا!!!!!!!!

آج کی میں نے چھٹی ھی کرلی تھی اور پہلے ھی سے اپنے اسسٹنٹ کو کہہ دیا تھا کہ سارا کام سنبھال لینا، کوئی مشکل ھونے نہ پائے، کیونکہ مجھے یہ پتہ تھا کہ آج کے دن میں کوئی بھی کام صحیح ظرح انجام نہیں دے پاؤنگا اور نہ ھی کسی اور چیز کے بارے میں سوچنے کی ذرا بھی ھمت نہیں رکھ سکتا تھا، گھر سے ایسا بن ٹھن کے نکلا جیسے آج ھی میری شادی ھورھی ھو اور کیوں نہ ھو آج کا دن تو میرے لئے کسی شادی سے کم بھی نہیں تھا، نکلتے نکلتے بھی کئی دفعہ اپنی شکل اور بالوں میں کنگھی کرکے بار بار آئینے کو بھی شرمندہ کیا، اور آئینے کو بھی شاید پہلی بار sorry کہا، گھر پر شاید بہن نے پوچھا بھی کہ خیر تو ھے آج کیا کہیں خاص پارٹی میں جارھے ھیں، میں نے پوچھا بھی کہ میں کیسا لگ رھا ھوں، اس نے کہا کہ آج تو آپ بہت اچھے لگ رھے ھیں، میرے بھائی کو آج کسی کی نظر نہ لگ جائے!!!!!!

باھر نکلا تو جو بھی جاننے والا مجھے ملتا تو دو چار سوال کر ھی دیتا تھا اور کچھ مذاق بھی کرتے گزر جاتے، اور پھر سیدھا ٹیکسی میں سینما گیا، تمام پچھلے دن کا کیش بنک میں جمع کرایا اور اپنے دراز میں سے اپنا جمع کیا ھوا کیش نکالا، کچھ دیر تک وقت پاس کرنے کیلئے آج کے پہلے شو کے ھر کلاس کے ٹکٹ کے سیریل نمبر چیک کئے اور ھاؤس فل پر آخری ٹکٹ پر نشانی لگائی، تاکہ گنجائیش سے زیادہ ٹکٹ نہ نکل جائیں، اس طرح تو ھم روز ھی ھر شو اسٹارٹ ھونے سے پہلے ھر بکنگ کلرک کو تکٹ کی بک دینے تھے، چاھے ھاؤس فل ھو یا نہ ھو، یہ تو روز کا ھی معمول تھا، لیکن میں کچھ زیادہ ھی احتیاط سے کررھا تھا، کیونکہ ایک تو دماغ آج اپنے بس میں نہیں تھا، اور اس کے علاؤہ وقت بھی تو گزارنا تھا، !!!!!!!

بڑی مشکل سے وقت کی گھڑی نے دو بجائے اور پبلک کا رش آھستہ آھستہ بڑھنے لگا، دیکھا تو سینما کا سیٹھ آن پہنچا اور نیچے ھال میں ھی پبلک کو دیکھ کر خوش ھورھا تھا، کیونکہ زندگی میں پہلی بار اس کے خاندان میں یہ سینما بنا تھا، میرے لئے تو آج کے دن تو یہ کیا مصیبت سامنے آگئی، آخر مجبوراً مجھے ڈیوٹی دینی ھی پڑی جب کہ اسسٹنٹ نے مجھے کہا بھی کہ چپکے سے کھسک لو میں بعد میں سنبھال لونگا، لیکن میں ایسا نہیں کرسکتا تھا، کیونکہ مجھے پتہ تھا کہ میرے نہ ھونے پر بعد میں وہ بہت شور کرے گا، وہ میرے ساتھ ساتھ پھر رھا تھا اور مجھ پر خوب رعب بھی جھاڑ رھا تھا کیونکہ وہ پبلک پر بھی اپنا ایک مالک کا تاثر چھوڑنا چاھتا تھا، اس دن اس نے مجھے کہا کہ خیال رکھنا آج کسی وقت بھی اس فلم کے ڈائریکٹر، ھیرو اور ھیروئن بھی آسکتے ھیں، ان کے لئے خاص خاظر مدارات کا انتظام بھی کرنا ھے اور سیکوریٹی کا بھی اچھا انتظام ھونا چاھئے،!!! ایک اور نئی مشکل آن پڑی!!!!!

میں نے دل میں یہ سوچا کہ بھئی آج کے دن تو میں خود ھی ھیرو ھوں، کیوں دوسرے کو تکلیف دیتے ھو، پندرہ منٹ میں ھاؤس فل کا بورڈ لگا دیا گیا اور فلم کے شروع ھونے کی گھنٹی بھی بج گئی اور باھر پبلک کا شور جنکو ٹکٹ نہیں ملے اور بلیک کرنے والوں کے پیچھے دوڑ بھاگ رھے تھے،
سیٹھ نے مجھے کہا “تُو یہ ٹکٹ کیوں بلیک کراتا ھے، حشر میں کون جواب دے ھوئیں گا“ میں نے کہا کہ “تم جواب دہ ھو گے،یہ میرے حکم سے بلیک نہیں ھوتا ھے یہ تو تمھارا ھی آرڈر ھے“ اس نے کہا کہ کبھی میرا نام مت لینا کبھی اگر مسلئہ کھڑا ھوجاوئے تو اپنا نام لے لینا میں تیرے کو چھڑالے گا اگر تو پکڑا گیا جبھی“!!!!!!

وقت اب تیزی سے گزر رھا تھا اور یہ سیٹھ کا بچہ میری جان نہیں چھوڑ رھا تھا، اچانک ھی ٹیلیفون آگیا، شکر ھے کہ اسی نے ھی اٹھایا اور جو مہمان آنے والے تھے انہوں نے معذرت کرلی تھی، اور مجھے کہا کہ وہ سب جو آرڈر دیا وہ کینسل،!!! میں نے کہا وہ تو میں نے آرڈر دے دیا ھے فائیو اسٹار ھوٹل سے منگوایا ھے،اور میں نے کہا کہ اگر کینسل کرانا ھو تو مجھے ھی خود جانا پڑے گا اگر اپکی اجازت ھو،!!! اس نے فوراً اجازت دے دی اور بولا کہ اگر بل آیا تو تمھاری تنخواہ سے کاٹے گا!!!، میں نے دل میں سوچا کہ ویسے بھی تمھاری تنخواہ کی فکر کون کرتا ھے، تمھاری ایک مہینے کی تنخواہ تو ھم تمھارے ھی سینما سے روزانہ بلیک کی کمائی سے نکالتے ھیں، اور میں نے کوئی بھی فائیو اسٹار ھوٹل میں کوئی بھی آرڈر نہیں دیا تھا وہ تو میں نے اس سے اپنی جان چھڑانے کا ایک بہانہ بنایا تھا، مگر جاتے جاتے کہہ گیا کہ کینسل کرانے کا کچھ جرمانہ بھرنا پڑے گا، اس نے فوراً حامی بھر لی اور مجھے کہا کہ میرے ڈرائیور کو لے جاؤ، میں نے کہا چلو ٹھیک ھے گاڑی میں ایک اپنا رعب بھی رھے گا اور پیسے بھی بچیں گے، اور اگر موقعہ ملا تو آج ان سب کو فائیو اسٹار ھوٹل میں سیٹھ کی کار میں لے بھی جاؤنگا، اور وھاں سے ڈرائیور کو واپس بھیج دونگا ویسے بھی ڈرائیور بھی اپنا ھی تابعیدار بندہ تھا وہ میری زیادہ اور سیٹھ کی کم ھی سنتا تھا کیونکہ ایسے موقعوں پر تو میں اسکی تنخواہ سے زیادہ تو اسکو بخشش دیتا تھا!!!!!!

راستے میں ڈرائیور کے سامنے کے شیشے میں اپنے بال اور چہرے کو کچھ درست کیا اور ایک گفٹ شاپ پر اسے رکنے کیلئے کہا اور وھاں جاکر ایک چھوٹا خوبصورت سا مگر ذرا کچھ مہنگا سا نیکلس لیا، جوکہ یہ میں اپنی زندگی میں پہلی بار کسی کیلئے لے رھا تھا، دکان والے نے اسے بہت ھی خوبصورت پیکنگ کے چھوٹے سے ڈبے میں ڈال کر مجھے دے دیا اور میں نے طے شدہ قیمت دے کر دکان سے باھر نکلا اور ساتھ ھی پھولوں کے گلدستے کی دکان تھی، وھاں سے ایک چھوٹا سا خوبصورت گلدستہ بھی خرید لیا، ڈرائیور بھی سمجھ گیا کہنے لگا آج لگتا ھے کسی خاص کے پاس آپ جاتا ھے، میں نے کہا کہ ھاں وہ بہت ھی زیادہ خاص ھے، اور اسے پھر راستہ بتانے لگا،

انکے گھر کے قریب ھی گاڑی کو رکوایا اور ٹھیک شام کے پانچ بجنے والے تھے، شکر ھے کہ صحیح وقت پر پہنچ گیا میں نے کار کی کھڑکی کے شیشے میں سے ھی اُوپر کی منزل کا پردہ ھلتے ھوئے دیکھ لیا تھا، اور ڈرائیور نے ھی دروازہ کھولا، ھاتھ میں گلدستہ تھا، جیب میں وہ قیمتی تحفہ بھی میں نے چیک کرلیا اور پھر بڑی احتیاط سے کار سے نیچے اترا اور آھستہ آھستہ سیڑھیوں کی طرف قدم بڑھانے لگا، لیکن میرا دل زور زور سے دھڑک رھا تھا، لگتا تھا کہ اچھل کر باھر آجائے گا!!!!!!!!
---------------------------------
جاری ھے،!!!!!

ابن عمر
31-01-10, 09:12 PM
اگلی پوسٹ کا شدت سے انتظار ہے ۔۔۔ :hmmm:

عبدالرحمن سید
01-02-10, 09:29 AM
اگلی پوسٹ کا شدت سے انتظار ہے ۔۔۔ :hmmm:

بہت بہت شکریہ شداد جی،!!!!
اتنی شدت سے آپکو انتظار ھے، اس سے آپکی دل سے پسنددیدگی ظاھر ھورھی ھے،!!!!
خوش رھیں،!!!

عبدالرحمن سید
01-02-10, 10:03 AM
انکے گھر کے قریب ھی گاڑی کو رکوایا اور ٹھیک شام کے پانچ بجنے والے تھے، شکر ھے کہ صحیح وقت پر پہنچ گیا میں نے کار کی کھڑکی کے شیشے میں سے ھی اُوپر کی منزل کا پردہ ھلتے ھوئے دیکھ لیا تھا، اور ڈرائیور نے ھی دروازہ کھولا، ھاتھ میں گلدستہ تھا، جیب میں وہ قیمتی تحفہ بھی میں نے چیک کرلیا اور پھر بڑی احتیاط سے کار سے نیچے اترا اور آھستہ آھستہ سیڑھیوں کی طرف قدم بڑھانے لگا، لیکن میرا دل زور زور سے دھڑک رھا تھا، لگتا تھا کہ اچھل کر باھر آجائے گا!!!!!!!!

ایک ایک سیڑھی چڑھنا میرے لئے ایک قیامت کا سماں تھا، میرے قدم خود میرا ساتھ نہیں دے رھے تھے، ھاتھ میں بھی ایک کپکپاھٹ طاری تھی، اور یوں لگتا تھا کہ سردی دے کر بخار چڑھ گیا ھو، ایک دفعہ تو دل چاھا کہ بھاگ چلوں، کیونکہ جو میری حالت تھی شاید ھی کبھی ایسی ھوئی ھوگی، سردیوں کا آغاز ھوچکا تھا اور موسم بہت ھی خوشگوار ھی تھا، اس کے باوجود مجھے تو پسینے چُھوٹ رھے تھے، بار بار رومال سے پسینہ پوچھ رھا تھا، جیسے ھی دروازے پر پہنچا تو ایک منٹ کا میں نے وقفہ لیا تاکہ کچھ حواس درست ھوجائیں پھر آہستہ سے دروازے پر لگی ھوئی گھنٹی دبادی، ایسا لگتا تھا کہ پہلے ھی سے کوئی دروازے پر منتظر تھا، گھنٹی کے بجنے کے ساتھ ھی فوراً دروازہ بھی کھل گیا سامنے ملکہ باجی کھڑی تھیں !!!!!!

نہ وہ مجھے کچھ کہہ رھی تھیں اور نہ اندر آنے کو کہا بس وہ تو مجھے بس غصہ سے پتہ نہیں، شاید مجھے ھی یہ محسوس ھورھا ھو، وہ مجھے گھورے ھی جارھی تھیں، میں نے فوراً ھمت کرکے کہا،!!! کیا بات ھے باجی کیا اندر آنے کے لئے نہیں کہو گی، یا آج بھی کرفیو لگا ھوا ھے،
وہ فوراً ھی سٹپٹا سی گئیں، نہ جانے کیا بات ھے کیا ان کو میرے آج یہاں آنے کی خبر زادیہ نے دی بھی ھے یا نہیں، میں نے وہ پھولوں کا گلدستہ اپنے بائیں ھاتھ میں پکڑے پیچھے کمر کی طرف چھپایا ھوا تھا، اور جیسے ھی باجی نے مجھے اندر آنے کیلئے راستہ دیا، میں داخل ھوا اور وہ جیسے ھی دروازہ بند کرنے کیلئے مُڑیں، میں نے جلدی سے دروازے کے ساتھ ھی برآمدے میں ایک شلف کے اوپر وہ گلدستہ رکھ دیا، جو اچھا خاصہ اونچا تھا، اور ھاتھ سے دھکا دے کراور پیچھے کو بھی کردیا، اور یہ اتنی جلدی آناً فاناً ھوا کہ میں خود بھی حیران تھا،

اوپر شیلف کی طرف ایک نظر دوڑائی کہ کہیں کچھ گلدستہ کا کوئی حصہ دِکھ تو نہیں رھا، یہ اطمنان کرکے باجی کے پیچھے بیٹھک میں چلتا چلا گیا، وھاں ان کی والدہ برجمان تھیں اور شاید چشمہ لگا کر کوئی سوئیٹر بن رھی تھیں، ان کو جھک کر سلام کیا، انہوں نے بھی اپنے اسی انداز میں ماتھے پر پیار کرکے بہت پیار سے جواب دیا، مگر مجھے باجی کی طرف سے کوئی بھی مثبت تاثر نہیں مل رھا تھا، میں خالہ کے ساتھ رسماً گفتگو میں شریک ھوگیا انہوں نے ھمارے گھر کی خیریت معلوم کی اور میں نے وھی معمول کی طرح رسماً سب ٹھیک ٹھاک ھی کہا، میں باتیں تو ان سے کررھا تھا، لیکن میری نظریں تو کسی اور کو ڈھونڈ رھی تھی جس کے بلاؤے پر میں یہاں وارد ھوا تھا،!!!!!

میں نے ڈرتے ڈرتے اور زبردستی منہ پر مسکراہٹ بکھیرتے ھوئے آخر پوچھ ھی لیا کہ زادیہ نظر نہیں آرھی،!!!! انہوں اپنے چشمے میں سے جھانکتے ھوئے کہا کہ وہ شاید کچن میں مصروف ھے، مگر انکا جواب ایسا تھا جیسے میں نے کوئی مزاج کے خلاف ھی بات کہہ دی ھو، ادھر باجی بھی دوچار باتیں کرکے ایک کونے میں کوئی رسالہ دیکھنے میں مصروف ھوگئیں، اور میں بھی ایسے ھی ایک اخبار سامنے کی ٹیبل سے اٹھایا اور صفحوں کو خوامخواہ ھی پلٹنے لگا، میری سمجھ میں یہ بالکل نہیں آرھا تھا کہ ماجرا کیا ھے، میں نے کہیں یہاں آکر کوئی غلطی تو نہیں کی، میں نے ذرا ایک جنبش لی اور کھڑا ھوکر اِدھر اُدھر دیکھتے ھوئے کچن کی طرف چل دیا، کچن کے دروازے پاس جاکر میں نے زادیہ کو آواز دی، وہ شاید سنک کے پاس کھڑی کچھ برتن کھنگال رھی تھی فوراً ھی اس نے پلٹ کر مجھے دیکھا تو وہ مجھے کچھ بدلی بدلی سی نظر آئی، اسکی آنکھوں میں مجھے نمی سی نظر آئی اور کچھ کچھ سرخ بھی تھیں، جیسے اکثر زکام کے وقت آنکھوں کی حالت ھوتی ھے، اور آواز بھی بھرائی ھوئی تھی، میں نے پوچھا کہ طبعیت تو ٹھیک ھے،!!!! اس نے جواب دیا ھاں ٹھیک ھے، بس ایسے ھی نزلہ زکام سا ھوگیا ھے، تم سناؤ کیسے ھو !!! میں نے بھی جواباً کہا کہ ھاں بس گزررھی ھے، اور میں کچھ کہنے ھی والا تھا کہ انکی امٌی آگئیں اور شاید چائے کے لئے کہہ رھی تھیں یا کچھ اور کہا، مگر کسی اچھے موڈ میں نہیں کہا، اور مجھے کہا کہ تم ڈراینگ روم میں بیٹھو میں ابھی چائے لاتی ھوں،!!!!!!

اور باجی بھی کچھ اداس اور موڈ بھی خراب لگ رھا تھا، میں نے بھی زیادہ کچھ پوچھا نہیں، کچھ سمجھ میں بھی نہیں آرھا تھا، کہ کس موضوں پر بات کروں، میں ابھی سوچوں میں ھی گم تھا کہ خالہ جان چائے لے کر آگیئں اور پیچھے پیچھے افسردہ سی زادیہ بھی آگئی اور ھم دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھا اور دونوں ھی ایک دوسرے کے لئے سوالیہ نشان لگ رھے تھے، میں اب کیا بات کروں کوئی بھی وھاں سے ھل بھی نہیں رھا تھا اور ان کے سامنے کیا بات کرسکتا تھا ایک عجیب سی کیفیت کا عالم تھا، کچھ خاموشی اور کچھ اداسی کا ماحول مجھ سے اب بالکل برداشت نہیں ھو رھا تھا، خالہ نے کہا کہ بیٹا چائے پیو نہیں تو ٹھنڈی ھو جائے گی، مجھے ایسا لگا کہ جیسے کہہ رھی ھوں کہ چائے پیو اور یہاں سے کھسکو،!!!!

ابھی میں نے چائے کی پیالی اُٹھائی ھی تھی کہ دروازے کی گھنٹی کی آواز سنائی دی، اور زادیہ دروازے پر گئی اور مجھے لگا کہ خالو تھے، کیونکہ انہیں بات کرتے سنا کہ کون آیا ھے،!!! میری تو جان ھی نکل گئی، اور باجی تو فوراً اُٹھ کر دوسرے کمرے میں چلی گئیں اور خالہ نے تو اپنا ھاتھ ماتھے پر زور سے ھاتھ مارا اور چہرے پر گھبراھٹ طاری کرتے ھوئے کہا کہ آج تو مصیبت آھی گئی !!!!!!!!!

میری تو ایک سانس آرھی تھی اور دوسری سانس پتہ نہیں کہ آ بھی رھی تھی کہ واپس جارھی تھی معلوم نہیں، میں بھی ایک مشکل حالات سے دوچار کروں تو کیا کروں، کوئی اور دوسرا دروازہ بھی نہیں‌ تھا کہ راستہ ناپ لیتا، وھیں آرام کرسی پر ھی بیٹھا رھا، اور خالو غصہ میں اندر آئے اور میں نے سلام کرنا بھی چاھا لیکن ‌موقعہ ھی نہیں دیا غصٌہ میں شاید باجی کو ڈھونڈتے ھوئے دوسرے کمرے میں چلے گئے، اور انکے اندر جاتے ھی ایک زور دار تھپڑ لگنے کی آواز آئی، اور اندر اس کمرے میں تو باجی تھیں، انکی والدہ یہ سن کر وہ بھی اسی کمرے میں دوڑی چلی گئیں اور جاتے جاتے مجھے ہاتھ کے اشارے سے کہتی ھوئی گئیں کہ تم یہاں سے اب فوراً چلے جاؤ تو بہتر ھوگا،!!!!

میں فوراً اٹھا لیکن میں کیسے چلا جاتا ادھر باجی کو جو میری وجہ سے ھی تھپڑ پڑا تھا اور ساتھ یہ بھی خالو کی آواز آرھی تھی کہ تمھیں شرم نہیں آتی اس لڑکے کو پھر اپنے گھر پر بلایا ھے، جس کی وجہ سے ھم بہت ذلیل ھوئے تھے اور تمھیں شاید نہیں کہ ان کے والدین نے تمھیں اور ھمیں کتنا برا بھلا کہا تھا، کیا مجھے ان کو دھرانے کی ضرورت ھے، جتنا اس لڑکے کا خیال رکھا اور بچپن سے لےکر بڑے ھونے تک اپنے سینے سے لگائے رکھا، اسکا تمھیں اور ھمیں کیا صلہ ملا تھا، کچھ یاد ھے یا سب تم بھول چکی ھو اور انکی خالہ نے مداخلت کرنے کی کوشش بھی کی لیکن تو انہوں نے ان کو بھی باتیں سناتے ھوئے کہا کہ یہ سب کچھ تمھارے ھی لاڈ پیار کی وجہ سے ھوا ھے !!!!!!!

اور نہ جانے کیا کچھ کہتے رھے اور میں وھاں یہ کھڑے کھڑے سنتا رھا اور میری آنکھوں میں آنسو آگئے، ایسا میں ‌نے سوچا تک نہیں تھا کہ ایسا بھی ھوسکتا ھے، زادیہ میرے پاس آئی اور مجھ سے کہا کہ تم خدارا اس وقت واپس چلے جاؤ، میں بعد میں تم سے رابطہ کرونگی مگر تم اس وقت یہاں سے چلے جاؤ پلیز !!!!

میں اس ماحول کی بدمزگی کی وجہ سے بالکل اپ سٹ ھوگیا تھا اور میں جو کچھ زادیہ سے کہنا چاھتا تھا وہ بھی بھول چکا تھا، یہاں تک کہ جو میں اس کے لئے تحفہ لایا تھا وہ بھی اسے دینا بھول گیا، اتنا تو وقت میرے پاس تھا کہ اسکو وہ گفٹ پکڑا سکتا تھا لیکن میرا بھی دماغ خراب ھی تھا ایک اچھا چانس تھا وہ بھی کھو دیا اور کچھ بھی بول نہ سکا، اور جاتے جاتے وہ گلدستہ کو بھی اوپر سے اتار کر نہ دے سکا ایک تو شیلف کے بہت اوپر اور شیلف پر اچھل کر بھی ھاتھ لگانا بھی مشکل نظر آتا تھا، کیونکہ وہ گلدستہ بالکل پیچھے کی ظرف چلا گیا تھا، اور موقعہ کی نزاکت بھی اس بات کی اجازت نہیں دیتی تھی،!!!!!

اور میں بھی اس وقت بالکل مجنوں کی طرح مسکین صورت بنائے زادیہ کے ساتھ ساتھ دروازے کی طرف جارھا تھا، اور جیسے ھی دروازے سے پیر باھر نکالے، زادیہ نے کچھ مجھ سے کہا لیکن میں جلدی میں کچھ بھی سمجھ نہیں سکا مگر میں نے اس کے ایک ھاتھ کے اشارے کو دیکھ لیا تھا جو مجھے دوسرے ھاتھ سے دروازہ بند کرتے کرتے الوداع کہہ رھے تھے!!!!!!!!

بڑے بےآبرو ھو کر تیرے کوچے سے ھم نکلے !!!!!!!
ـــــــــــــــــــــــــ ـــــــــــــــــــــــــ ــــــــــــــــــــــ
جاری ھے،!!!!!!

عبدالرحمن سید
01-02-10, 10:41 AM
اور میں بھی اس وقت بالکل مجنوں کی طرح مسکین صورت بنائے زادیہ کے ساتھ ساتھ دروازے کی طرف جارھا تھا، اور جیسے ھی دروازے سے پیر باھر نکالے، زادیہ نے کچھ مجھ سے کہا لیکن میں جلدی میں کچھ بھی سمجھ نہیں سکا مگر میں نے اس کے ایک ھاتھ کے اشارے کو دیکھ لیا تھا جو مجھے دوسرے ھاتھ سے دروازہ بند کرتے کرتے الوداع کہہ رھے تھے!!!!!!!!

بڑے بےآبرو ھو کر تیرے کوچے سے ھم نکلے !!!!!!!

میرے ساتھ ھی یہ ھمیشہ کیوں مسئلہ ھوتا ھے کہ جیسے ھی کوئی کام ھونے والا ھوتا ھے یا کسی کامیابی کی طرف بہت تیزی سے آخری منزل کی طرف پہنچنے والا ھوتا ھوں تو فوراً ایسا لگتا ھے کہ کسی نے نیچے سے ھی اچانک سیڑھی کھینچ لی ھے یا اُوپر سے کسی نے دھکا دے دیا ھے!!!!!!

اسکے علاؤہ جو بھی بچپن میں شوق رکھے، چاھے وہ اچھے تھے یا برے، بڑے ھوکر وہی شوق دوبارہ میری زندگی میں ایک کیرئیر کے روپ میں میرے سامنے آئے، پینٹنگ اور مصوری کا، اسکرپٹ اور ڈرامہ نگاری کا، افسانہ نگاری، اسٹیج شوز اور سب سے اھم سینما کا پروجیکٹ، جو اس وقت اپنی کہانی کے موڑ میں بحیثیت ایک کیرئیر کے کامیابی سے چل رھا ھے، یہ سب میں نے اپنے بچپن میں چھوٹے پیمانے پر ایک شوق کی حیثیت سے ایک حد تک کامیابی بھی حاصل کی تھی!!!!

اور ایک چیز اور ھے جو شاید سب کے ساتھ بھی ھوتا ھوگا کہ کوئی ایسا منظر حقیقت کی زندگی میں اس طرح دوبارہ ایک دم سامنے آجاتا ھے جیسے محسوس ھوتا ھے کہ یہی ھُوبہو اسی تسلسل کے ساتھ پہلے بھی یہی منظر حقیقیت میں جیتے جاگتے یا کبھی خواب میں دیکھ چکا ھوں، ایسا میرے ساتھ اکثر ھوتا ھے، اور ایک وقت ایسا آیا جب ایک اسی ظرح کی حقیقت میں مجھے ایسا لگا کہ میں یہ سب کچھ پہلے بھی خواب میں بار بار دیکھ چکا ھوں، اور وہ ایک پورا سال میں نے جو ترکمنستاں کے ایک شہر اشک آباد میں 1998 اور 1999 میں گزارا تھا، مجھے خود تعجب ھوتا تھا کہ اس سال کا ھر لمحہ اور ھر قدم پر بالکل ایسا لگتا تھا کہ یہ منظر پہلے بھی دیکھ چکا ھوں،!!! جو بعد میں ایک اسی کہانی کے ایک تسلسل کے ساتھ بیان کرونگا، میں اس چیز پر یقین تو نہیں رھتا لیکن میرے ساتھ ایسا ھوا ھے، یہ بھی ھوسکتا ھے کہ یہ صرف ایک اتفاق ھی ھو !!!!!!!!!!

ھاں تو میں کہہ رھا تھا کہ زادیہ سے دروازے پر الواداع کہتے ھوئے، بہت ھی مایوسی اور پریشانی کے عالم میں واپس نیچے اترا اور واپس اسی کار میں واپس آگیا، اور سیٹھ نے دیر سے آنے کی وجہ سے کچھ ناراضگی کا بھی اظہار کیا اور میں بھی کچھ اس کے ساتھ زیادہ ھی بول گیا اور اتنی منہ ماری ھوئی کہ میں نے اس کے پاس کام کرنے سے منع کردیا، اس نے بھی بہت ھی میرے ساتھ بہت غلط رویہ رکھا تھا اس لئے ایک ھفتے کے بعد ھی میں نے وہ سینما کی نوکری چھوڑ دی، اور پھر والد صاحب نے اپنے ھی دفتر میں اکاونٹس اسسٹنٹ کی نوکری دوبارہ دلادی اور میری اس طرح اس سینما سے جان چھوٹ گئی، اور میں بھی اب بہت سکون محسوس کررھا تھا، والد صاحب بھی میرے اس سینما کی نوکری سے پریشان تھے !!!!!!

اب تو میں کافی سنجیدہ ھوگیا تھا سب کچھ اپنے شوق کو بھی خیرباد کہ چکا تھا، کہیں بھی بالکل دل نہیں لگتا تھا، اور صرف اپنے دفتر میں بہت اچھی طرح سے اکاؤنٹس کا کام اپنے استادوں سے سیکھ رھا تھا اور انہی اپنے مخلص استادوں ھی کی وجہ سے آج ایک اچھی پوزیشن میں ھوں اور عزٌت کے ساتھ سروس بھی کررھا ھوں، اور بس اب آخری ھی دور چل رھا ھے، کہ کب اور کسی وقت بھی یہاں کی سروس سے ریٹائر ھوسکتا ھوں، یہ اللٌہ کا شکر ھے کہ میرے ساتھ تمام پاکستانی ھیں، اور سب ایک یکجہتی اور خلوص دل سے کام کرتے ھیں، اور مجھے ایک اپنے استاد کا درجہ بہت عزت اور احترام سے دیتے ھیں، یہ اللٌہ تعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکر ھے،!!!!!!

سینما سے کافی لوگ گھر پر سفارش اور درخواست کرنے بھی آئے کہ میں دوبارہ سے سینما کو جوائن کرلوں مگر میں نے بالکل ھی انکار کردیا، یہاں نئی جگہ پر میں بہت ھی پرسکون تھا اور ساتھ ھی گریجویشن کا امتحان بھی دے رھا تھا، گریجیوشن بھی اسی دوران کامیابی سے سیکنڈ ڈویژن میں مکمل کیا، لیکن کچھ تنخواہ میں کوئی خاص اضافہ نہیں ھوا تھا، مگر یہاں بھی کافی عزت ملی اور کافی دل لگا کر کام کیا، تقریباً 15 سال تک، !!!!!

پھر ایک بار جنگ شروع شروع ھوگئی، اور فوراً والد صاحب کا ایک بار پھر بلاواہ آگیا اور وہ پہلے کی ظرح پھر وہ خوشی سے اپنے ملٹری کے یونیفارم کو نکالا، استری کی، جوتے، اور بیلٹ کو کو چمکایا اور تمام ضرورت کی چیزیں لیں اور جوش و خروش سے انہیں ان کے دوستوں اور گھر والوں نے رخصت کیا، مگر ان کے چہرے پر خوشی دیکھی ان کی آنکھوں میں ایک بھی آنسو کا قطرہ نہیں تھا اور ھم سب اسٹیشن گئے اور اس دوران جنگ بھی جاری تھی، وہ اپنی ملٹری کی یونیفارم میں مجھے بہت اچھے لگتے تھے ایک بارعب شخصیت کی طرح اور وہ اپنے پاکستان اور اس کی سرحدوں کی حفاظت کرنے والے سچے محب وطن سپاھی کی طرح تھے، مجھے ان پر بہت فخر ھے، وہ آج ھمارے ساتھ نہیں ‌ھیں، لیکن ھمارے دلوں میں وہ زندہ ھیں،!!!!!!!!

اب میں نے یہی تہیہ کرلیا تھا کہ میں صرف اپنے کیرئیر کی ھی طرف توجہ دوں گا اور والد صاحب کے سہانے خوابوں کو پورا کرونگا، وہ چاھتے تھے کہ میں چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ بنوں اور میں نے یہی سوچ لیا تھا کہ والدین ھی کی رضامندی سے ھی ھر کام کرونگا، اور کوئی بھی کسی قسم کی ان کی حکم عدولی نہیں کرونگا، ان کے واگہہ بارڈر لاھور تک پہنچتے ھی جنگ بند ھوگئی اور وہاں پر انہیں فوراً ھی رلیز کردیا گیا اور ان کی تمام خدمات کے سلسلے میں ان کے تمام پرانے ساتھیوں نے ایک انہیں الوداعی پارٹی دی، اور انھیں مکمل طور سے عمر کا لحاظ کرتے ھوئے ریٹائر بھی کردیا گیا، جسکا کہ انہیں بہت افسوس ھوا، انھوں نے وھاں یہ بھی کہا کہ میں ریٹائر نہیں ھونا چاھتا، میں مرتے دم تک اپنے پاکستان کی سرحدوں کی حفاظت کے لئے اپنی قوم اور ملک کی خدمت کرنا چاھتا ھوں، لیکن مجبوری تھی کیونکہ وہ اب میڈیکل بورڈ کے فیصلے میں کوئی ردوبدل نہیں کرسکتے تھے، اور وہ واپس گھر آگئے، ان کی پنشن میں ایک مزید اضافہ بھی ھو گیا تھا!!!!!!!!

انہوں نے واپس آکر اپنی پرانی سروس کو دوبارہ جوائن بھی کرلیا اور وھیں پر میں بھی اپنی ڈیوٹی انجام دے رھا تھا، لیکن میں ابھی مستقل ملازمین کی فہرست میں شامل نہیں ھوا تھا، مگر مجھے ایک ھی دفتر میں ان کے ھی اکاؤنٹس سیکشن میں کام کرتے ھوئے بہت جھجک محسوس ھوتی تھی، لیکن کیا کرتا مجبوری تھی، آتے جاتے وہ ھمیشہ اپنے ساتھ رکھتے تھے اور میں ان سے پیچھے کی طرف چار یا پانچ میزیں چھوڑکر اپنے استاد کے سامنے بیٹھتا تھا، اور اب تک کافی کام سیکھ چکا تھا اور مجھے ایک مستقل ذمہ داری بھی سونپ دی گئی، روزانہ مجھے انہی کے ساتھ گھر سے صبح صبح ڈیڑھ گھنٹے پہلے یعنی تقریباً ساڑے چھ بجے نکلنا پڑتا تھا، ان کے ھاتھ والدہ ایک ٹفن دوپہر کے کھانے کیلئے تیار کرکے دیتی تھیں، میں نے کئی دفعہ یہ کہا کہ مجھے یہ ٹفن کھانے کا ڈبہ مجھے پکڑا دیں، لیکن وہ منع کردیتے، وہ یہی کہتے کہ میں تجھے ایک بہت بڑا چیف اکاؤنٹنٹ کے روپ میں دیکھنا چاھتا ھوں اور اسی لئے ایک افسر ھی ظرح میں چاھتا ھوں کہ ابھی سے تم اسکی ٹریننگ کرو، مین‌نہیں چاھتا کہ تم چال ڈھال میں کوئی موالی کی طرح لگو اور تم اپنی ایک پر وقار شخصیت کو اپنے اندر سے باھر نکال کر اسے نکھارنے کی کوشش ابھی سے کرو اور ساتھ ھی اپنی اعلیٰ تعلیم کی تیاری کیلئے بھی ھمیشہ کوشاں رھو، میری بعض اوقات ان کی باتیں اس وقت سمجھ میں نہیں آتی تھیں، اور بس ھاں میں ھاں ملاتا ھوا ان کے پیچھے پیچھے چلتا رھتا تھا،

اب تو میرے روز کے معمول بالکل پلٹا کھا چکے تھے، جب سے اس دن زادیہ کے گھر پر جو واقعہ پیش آیا، میرا ھر چیز سے دل اٹھ گیا تھا، گھر واپس آکر سب سے پہلے میں نے سینما کی نوکری چھوڑنے کا فیصلہ کیا کیونکہ انکی وجہ سے میرا وہاں کے مالک سے جھگڑا ھوا تھا، اور گھر آتے ھی میں نے اپنی تمام تصویریں، پینٹنگ، اور دوسرے اخباروں اور رسالوں کی کٹنگ جن میں میری کچھ تھوڑی بہت لکھی ھوئی تحریریں تھیں، اور ایک میں نے ایک بہت بڑی البم بنائی تھی، جس میں اپنے ھی ھاتھوں سے بنائی ھوئی خوبصورت اور چیدہ چیدہ خاص تصویریں، قومی ھیروز کی اور فلم اسٹاروں کی،دنیا کے مشہور سات عجوبوں اور مختلف مشہور عمارتوں کی، اس کے علاؤہ ھوائی جہازوں اور بحری جہازوں کی، سیاروں اور نہ جانے کیا کیا بہت ھی خوبصورت میری پسندیدہ تصویروں کے ساتھ وہ البم جو میری اس وقت تک کی انتھک محنت کا نتیجہ تھیں وہ سب کو اکھٹا کیا اور ایک چادر میں باندھ کر سب کو باھر لے گیا اور ایک میدان میں آگ لگادی، اور اپنے تمام شوق کی محنت سے بنائی ھوئی چیزوں کو اپنے سامنے جلتا ھوا دیکھ رھا تھا اور آنکھوں سے آنسوؤں کا ایک دریا سا بہہ رھا تھا!!!!
اور یہ معلوم نہیں تھا کہ یہ آنسو زادیہ سے جدا ھونے کیلئے بہہ رھے تھے یا پھر اپنی زندگی کی تمام محنت کے جل جانے پر امڈ رھے تھے!!!!!!!

وہ بہت بڑا رجسٹر البم جسے اُٹھانا بھی بھت مشکل ھوتا تھا، مجھے اس سے عشق تھا اسے میں نے بہت پہلے ایک اچھے پرنٹنگ پریس سے خاص طور بنوایا تھا اور اپنی ھی بنائی ھوئی مخصوص تصویریں اس میں چپکائی تھیں، اور وہ بہت کم لوگوں کو دکھاتا تھا جن سے مجھے امید ھوتی تھی کہ وہ اس کی حوصلہ افزائی کریں گے، ان کے سامنے بالکل نہیں رکھتا تھا، جو بدذوق یا مزاق اڑانے والے نظر آتے تھے، ایک صاحب نے تو وعدہ بھی کیا تھا کہ ان تصویروں کو وہ آرٹس کونسل کی گیلری میں فریم کرواکر رکھوائیں گے اور مجھے وہاں پر اسی کے توسط سے داخلہ بھی دلوائیں گے، تاکہ میں ایک مصوری اور آرٹس میں اپنا ایک مقام حاصل کرسکوں، لیکن افسوس میں وہ کچھ حاصل نہ کرسکا جسکی میرے دل میں خواھش تھی،

جب دل ھی ٹوٹ گیا تو کسی اور چیز سے دل لگانے کا کیا فائدہ، اپنی وہ ھر چیز جس کا کہ میرے کسی بھی شوق سے تعلق تھا سب کچھ میں نے ختم کردیا تھا اور میں ایک بہت ھی والدین کا فرمانبردار اور بہن بھائیوں کی محبت کے رنگ میں رنگ گیا تھا اور اس طرح اب میری زندگی میں بہت ھی سکون او ایک ٹھراؤ سا آگیا تھا، جس سے مجھے خود ایک راحت ملی تھی، اور اب گھر پر سب مجھے پہلے سے زیادہ پیار کرنے لگے تھے، اپنے گھر کی خوشی کا اپنا الگ ھی مزا ھے !!!!!

کہاں وہ سینما میں ایک اپنی اجارہ داری تھی، اور اب یہاں دیکھو تو ایک اباجی کے ایک فرمانبردار بیٹے کی طرح ان کا ھر ایک کہنا مان رھا تھا، اور ویسے بھی ان کے سامنے تو میں نے کبھی بھی جواب نہیں دیا تھا، چاھے کتنی بھی غلطی کروں لیکن ان کے سامنے اپنی سزا کے لئے ھمیشہ سر جھکائے کھڑا ھوتا تھا، اور پھر اپنا جو بھی وقت بچتا تھا میں بہن بھائیوں کو اپنے ساتھ باھر گھمانے لے جاتا تھا اور ان کی من پسند چیزیں خرید کردیتا تھا اور کیمرے سے اں کی تصویریں کھینچتا بھی تھا، اور اچھی اچھی کھانے پینے کی چیزیں جو وہ چاھتے تھے بازار سے لاتا بھی تھا، بہت ھی اچھی اور خوشگوار زندگی گزر رھی تھی،!!!!!

صبح صبح ھم دونوں باپ بیٹا گھر سے نکلتے اور بیس منٹ تک ریلوئے اسٹیشن پر لوکل ٹرین کے آنے سے پہلے ھی پہنچ جاتے، جیسے ھی ٹرین اسٹیشن پر آکر رکتی، تو فوراً ھی ھم دونوں جو بھی سامنے بوگی آتی اس میں چڑھ جاتے، اور تقریباً ایک گھنٹے سے پہلے ھی دفتر کے نزدیک ھی سٹی اسٹیشن پر پہنچ کر سیدھا وقت سے پانچ منٹ پہلے ھی پہنچ جاتے، اگر ٹرین لیٹ نہ ھوئی ھو تو، ورنہ کبھی کبھی تاخیر بھی ھو جاتی تھی، دوپہر کو نماز سے فارغ ھو کر تمام دفتر والوں کے ساتھ مل کر ڈایننگ ھال میں بیٹھ کر ایک دوسرے کے گھر سے لائے ھوئے کھانے میز پر لگا کر کھانے کی تعریف کرتے ھوئے خوب مزے لے کر کھاتے، میں بھی کھانے کا بہت شوقین ھوں، ھر ایک کے کھانے خوب مزے لے کر کھاتا تھا، وھاں دفتر کا ماحول بہت اچھا تھا اور سب ایک دوسرے پر جان چھڑکتے تھے،

کراچی میں یہاں پر اس کنسٹرکشن کمپنی کا ھیڈ آفس تھا، اور پورے ملک میں تقریباً ھر شہر میں بہت زور شور سے ھر جگہ کوئی نہ کوئی پروجیکٹ چل رھا تھا، اور اس کمپنی کی اس وقت بہت بڑی اپنی جگہ ایک ساکھ تھی، اچانک انتظامیہ نے ھیڈ آفس کو راولپنڈی میں منتقل کرنے کا فیصلہ کر لیا کیونکہ وھاں پر انکی اپنی ایک بلڈنگ تیار ھوچکی تھی، یہ سن کر سب حیران ھو گئے اور ان کے لئے مشکل بھی تھا کہ سب کچھ سمیٹ کر ایک دم شفٹ ھونا، کیونکہ ایک عرصہ سے لوگ وہیں رھائش پزیر تھے،

لیکن میں بہت خوش تھا، کیونکہ راولپنڈی میرے پیدائیش کا شہر تھا اور میرا معصوم بچپن سات سال کی عمر تک وھیں پر گزرا بھی تھا، ساتھ ھی پرائمری اسکول کی تعلیم چوتھی جماعت تک وہیں مکمل بھی کی تھی اور میں دوبارہ سے اپنی انہیں جگہوں کو ایک بار پھر سے والدیں کے ساتھ رھ کر اپنی بچپن کی یادؤں کو تازہ کرنا چاھتا تھا، میرے چہرے پر ایک بار پھر خوشیوں کے چراغ جل اٹھے !!!!!!!!!!

اس 1971 کے سال میں بہت سی تبدیلیاں واقعہ ھوئیں ایک ھمارے ملک کو ایک جنگ کا سامنا کرنا پڑا، دوسرے ھمارا ایک بازو ھم سے علیحدہ ھوگیا، اور ملک کی سیاسی صورت حال نے ایک بہت بڑی کروٹ لی، اور ایک نئی جمہوری حکومت کی قیادت اُس وقت کی ایک نئی مقبول سیاسی جماعت نے سنبھال لی تھی، اور ساتھ ھی میری زندگی کے بارے میں اللٌہ تعالیٰ نے بہت سے اھم فیصلے کئے اور کئی تبدیلیاں پیش آئیں، جیساکہ میں پہلے ذکر کرچکا ھوں، پھر بھی ایک بار مزید دھرا دیتا ھوں!!!!!

اسی سال گریجیوشن کامرس میں والد صاحب کی خواھش کے مطابق مکمل کیا مگر کوئی اتنے خاص نمبر تو نہیں ملے لیکن کھینچ تان کر سیکنڈ ڈویژن مل ھی گئی، اگر آج کا دور ھوتا تو شاید "c" گریڈ ھوتا!!!!
دوسری بات یہ کہ اپنی چاھت کے اطہار کو پھر سے ایک بدترین ناکامی کا منہ دیکھنا کرنا پڑا، جو میری زندگی میں ایک اھم موڑ لے کر آیا، میں نے اپنی وہ سینما کی ملازمت کو خیرباد کہہ دیا جس کی وجہ سے میں ایک دلدل میں گھستا چلا جارھا تھا، اللٌہ کا شکر ھوا کہ میں کئی برائیوں کے شکار ھونے سے بچ گیا،

ایک اور بات جو کہ پتہ نہیں اچھا ھوا یا برا، کہ میں نے اپنے تمام شوق کے سارے نشانات اور اثاثہ جات کو آگ لگا کر اپنی زندگی سے دور نکال پھینکا تھا، تاکہ میں پھر اس طرف کا رخ نہ کرسکوں، اس کے علاؤہ یہ سب سے اچھی بات یہ ھوئی کہ میں اپنے والدین اور بہن بھائیوں کے بالکل نزدیک ھوگیا اور انہیں اپنا زیادہ تر وقت دینے لگا تھا، اور دفتر بذریعہ لوکل ٹرین کے والد صاحب کے ساتھ ھی آنا اور جانا رھا اور اسکے علاؤہ اپنی تمام دوستوں اور ساتھیوں کے ساتھ کی مصروفیات کو تقریباً بالکل ختم کردیا تھا، اور اسی سال ھمارے دفتر کا ھیڈ آفس جس میں ھم باپ بیٹا کام کرتے تھے وہ راولپنڈی منتقل ھوگیا،!!!!!

اور پھر والد صاحب نے راولپنڈی جانے کی تیاری کرلی تھی، مگر والد صاحب نے وقتی طور پر مجھے روک دیا کہ تم بعد میں آجانا جب تمھیں اپنی نوکری کا کنفرمیشن لیٹر مل جائے، اور ساتھ اپنی والدہ اور بہن بھائیوں کے ساتھ مل کر آجانا جب تک میں وہاں پر ایک مکان کا بندوبست کرلونگا، والد صاحب تو ایک ھفتے کے اندر اندر نکل گئے اور تمام گھر کی ذمہ داری مجھ پر چھوڑ گئے !!!!

اب نیا سال 1972 بھی شروع ھوچکا تھا، مگر میری سروس کا کنفرمیشن لیٹر ابھی تک مجھے نہیں ملا تھا، مجھے بہت دکھ بھی ھورھا تھا، کیونکہ اب میں بالکل اس شہر میں رھنا نہیں چاھتا تھا، اسکی اصل وجہ کیا تھی اسکا میں کچھ بھی اندازہ نہیں لگا سکتا تھا، شاید اسکی وجہ اپنی چاھت کی ناکامی یا پھر اس شہر میں جو میں نے اپنے شوق کو پالے تھے، ان کا اختتام ایک دم اور اچانک ایک ڈرامائی انداز میں ھوگیا تھا !!!!!!!!!

ٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔمیں ‌تو بڑی بے چینی سے اپنی سروس کے کنفرمیشن لیٹر کا انتظار کررھا تھا، لیکن ابھی تک کوئی آثار تو نہیں نظر آرھے تھے اور میں تو اب زیادہ تر وقت گھر پر ھی گزار رھا تھا یا سب گھر والوں کے لے کر باھر گھومنے یا کسی کے گھر ملنے چلا جاتا تھا، اسی دوران وہاں کی ایک کرکٹ ٹیم کے سربراہ نے مجھ سے ایک درخواست کی، جو ھماری گلی ھی میں رھتے تھے اور بہت اچھے اثر و رسوخ والے تھے، انہوں نے کہا کہ میں ان کی کرکٹ ٹیم کا صدر بن جاؤں، اور سارے انتظامی امور سنبھال لوں، میں نے بھی سوچا کہ چلو کوئی حرج نہیں ھے، ویسے بھی آج کل فارغ ھوں چلو ان کے ساتھ کچھ وقت ھی اچھا گزر جائے گا، اور ویسے بھی مجھے کرکٹ دیکھنے کی حد تک ھی شوق تھا، اسکول کے وقت میں بہت شوق سے کھیلا کرتا تھا، لیکن اسکے بعد اپنی دوسری مصروفیات کی وجہ سے اس طرف کچھ زیادہ دھیان نہیں دیا اور اسے صرف دیکھنے تک ھی محدود رکھا !!!!!!

کرکٹ کے میچ کھیلنے کے تمام مراحل کی تیاری کرکٹ ٹیم کے کپتان ھی کرتے تھے، میں تو بس ان کی ٹیم کے تمام مسئلے مسائل حل کرانے اور اسٹیڈیم میں مہمان خصوصی کے ساتھ بیٹھنے اور اسی سے منسلک ٹیم کے انعامات اور ٹرافی دئیے جانے کی تقریبوں میں شرکت کرکے مہمان خصوصی اور دوسرے مہمانوں کے ساتھ گپ شپ اور کھانے پینے کی پارٹیوں میں ان سب کے ساتھ رھتا تھا، اور شاید یہ تیں مہینے تک ھی سلسلہ جاری رھا اور اس کے بعد مجھے پذریعہ ڈاک براہ راست راولپنڈی کے ھیڈ آفس سے سروس کے کنفرمیشن کا لیٹر مل گیا اور میری تو خوشی کی کوئی انتہا ھی نہیں رھی،

میں سب کو اپنا یہ لیٹر دکھا دکھا کر خوش ھورھا تھا، کیونکہ کمپنی کے ڈائریکٹر نے مجھے “ڈیر سر“ کہہ کر خطاب کیا تھا اور انگلش میں لکھا تھا کہ ھمیں یہ کہتے ھوئے خوشی محسوس ھورھی ھے کہ دوران عارضی ملازمت آپکی قابلیت اور اچھی کارکردگی کو دیکھتے ھوئے ھم آپکی ملازمت کو مندرجہ ذیل شرائط پر کنفرم کرتے ھیں اور اگر آپکو یہ تمام شرائط قبول ھیں تو ھم یہ درخواست کرتے ھیں کہ آپ جلد سے جلد ھمارے ھیڈ آفس راولپنڈی میں اکاونٹس ڈپارٹمنٹ کے فائنانس کنٹرولر کو رپورٹ کریں، ھم آپکی آمد کے منتظر، ڈائریکٹر اینڈ کمپٹرولر،

واہ کیا بات تھی کہ زندگی میں مجھے یہ سروس کی کنفرمیشن کا پہلا لیٹر ملا تھا، کچھ تو بہت خوش ھوئے اور کچھ نے حسد سے اسے بہتر نہیں سمجھا، بہرحال مجھے کیا میں بس یہاں سے جانے میں ھی خوش تھا، میں نہیں چاھتا تھا کہ پھر کوئی میرے ساتھ اس طرح کا حادثہ نہ ھوجائے، لیکن ان تمام باتوں کے باوجود میں زادیہ کو نہیں بھولا تھا اس کی اکثر بہت یاد آتی تھی، مگر میں کوشش کرتا کہ اسے بھُلانے کی کوشش کروں، لیکن اسے بھولنا میرے بس میں نہیں تھا، اکثر رات کو مجھے اس کی یاد بہت تڑپاتی تھی،!!!!!!!

آکر وہ دن آھی گیا جس دن مجھے راولپنڈی اپنی ملازمت کے سلسلے میں جانا تھا، گھر والوں کو ساتھ نہیں لے جاسکتا تھا کیونکہ بھن بھائیوں کے ششماھی امتحانات ھورھے تھے اور والد صاحب کا یہی آرڈر تھا کہ تمام باقی لوگ سالانہ امتحان کے بعد ھی نتیجہ نکلتے کے بعد ھی پنڈی چلے آئیں گے، میں نے اپنی سیٹ اسی تیزگام سے کرائی تھی جو مجھے بچپن سے ھی اسکا سفر بہت ھی پسند تھا، سب سے رخصت ھوکر شام کو اپنے ایک دوست کے ساتھ کراچی کے کینٹ اسٹیشن پہنچا اور اس نے مجھے تیزگام میں بٹھایا اور سامان اٹھانے میں بھی مدد کی،!!!!!!

وہیں ریلوے اسٹیشن پر مجھے اور بھی اپنے پرانے دوست ملے، جو میرے جانے کی اظلاع ملتے ھی فوراً اسٹیشن پہنچ گئے تھے اور ساتھ ھی شکوہ بھی کررھے تھے کہ میں نے انہیں کوئی بھی جانے کی اطلاع نہیں دی، کم از کم ایک آخری پارٹی ھی کردیتے، میں نے انہیں یہی کہا کہ بس کچھ دل ھی کچھ اداس اور پریشان تھا، اسلئے میں اطلاع دینے سے قاصر تھا، اور پھر میں نے سب سے معذرت کی، اور اس طرح جن جن کو پتہ چلتا گیا وہ ایک دوسرے کو کسی ظرح بھی اظلاع دیتے بھی گئے اور ساتھ ھی اسٹیشن بھی پہنچتے گئے، اب تو تقریباً میرے پرانے تمام ساتھی ھی اسٹیشن پہنچ چکے تھے، اور سب ھی مجھ سے شکوہ شکایت ھی کررھے تھے، اور ان کی شکایت ایک طرح سے ٹھیک بھی تھی،

جیسے ھی تیزگام نے اپنی اسی مخصوص آواز سے سیٹی بجائی تو مجھے اپنے پرانے تمام سفر یاد آگئے، اور ساتھ ھی گارڈ نے بھی اپنی سیٹی بجاتے ھوئے ھری جھنڈی ایک ھاتھ سے لہرانے لگا، اور میں فوراً ھی ٹرین کی اپنی بوگی کے دروازے پر چڑھ گیا اور میرے تمام دوست مجھے ھاتھ ھلا ھلا کر الوداع کہ رھے تھے اور اچانک کیا دیکھا کہ میری کرکٹ ٹیم کے کچھ اور لڑکے بھی بھاگ بھاگ کر مجھے آوازیں دے کر الوداع کہ رھے تھے انھیں پہنچنے میں کچھ دیر ھوگئی تھی ایک لڑکے نے بھی دوڑتے دوڑتے ایک بڑا تھیلا سا مجھے ٹریں کے دروازے پر پکڑا دیا تھا، اور اگر ذرا سی دیر ھوجاتی تو ان سے ملاقات نہیں ھوسکتی تھی، اور یہ تو بعد میں پتہ چلا کہ اور بھی دوست احباب ٹرین کے نکلنے کے بعد پہنچے تھے اور سب ھی کوئی نہ کوئی تحفے اور کھانے پینے کا سامان اور پھل خشک میوہ وغیرہ لے کر پہنچے تھے، کافی میرے پاس اور مزید کھانے پینے کا اور تحفے تحائف کا سامان جمع ھوگیا تھا اور وہ سب میں نے اُوپر والی برتھ پر رکھ دیا تھا، واقعی میرے سارے پرانے نئے تمام دوست مجھے بہت چاھتے بھی تھے، لیکن میں نے سب سے ان دنوں کنارا کشی اختیار کی ھوئی تھی اپنی ھر مصروفیات کو خاموش کیا ھوا تھا،!!!!!!!!

تمام دوست مجھے الوداع کہہ رھے تھے اور ساتھ ھی تیزگام بھی آہستہ آہستہ اپنے پلیٹ فارم کو چھوڑ رھی تھی، اور کچھ آگے چلتی ھوئی میرے اس پرانے محلے کی ظرف سے گزری تو بے اختیار میری آنکھوں میں آنسو آگئے، وہ دن یاد آگئے جب میں نے زادیہ کے ساتھ اپنے خوشگوار دنوں کو گزارا تھا اور اس جگہ سے میری بہت سی یادیں وابستہ تھیں، اور میں کھڑکی میں اپنی سیٹ پر بیٹھا اس محلے کو دور سے اپنی نطروں کے سامنے گزرتے ھوئے پرنم آنکھوں سے دیکھ رھا تھا،!!!!!!!!!

ٌٌٌٌٌٌٌٌٌٌٌٌٌٌٌٌ؀؀؀؀؀؀؀؀؀ ؀؀؀؀ٔٔٔٔٔٔ

1972 کا سال تھا، میں اپنی زندگی کی 22ویں بہار کے موسم میں جانے کیلئے بیتاب تھا، آج ایک بار پھر میں راولپنڈی جارھا تھا اور وہ بھی تیزگام سے، جو میری پسندیدہ محبوب ٹرین ھے، کئی دفعہ تیزگام میں سفر کیا اور ھر مختلف کلاس میں کبھی فرسٹ کلاس اور کبھی ائرکنڈیشنڈ سلیپر، کبھی فرسٹ کلاس پارلر ائرکنڈیشنڈ اور کبھی نارمل سلیپر کلاس، ھر کلاس کا اپنا ایک الگ مزا تھا، اور اگر آپ تیزگام کی ڈایننگ کار میں بیٹھ کر کھانا کھائیں یا چائے پییئں تو کچھ اور ھی لطف آتا ھے، میں اسے ملٹری ٹرین کے نام سے بھی یاد کرتا تھا کیونکہ اس وقت تمام ملٹری کے لوگ ھی زیادہ سفر کرتے تھے اور یہ صرف مخصوص بڑے بڑے جنکشن اور اسٹیشن پر ھی رکا کرتی تھی، اور تمام ٹرینوں میں سب سے زیادہ فاسٹ ٹرین کہلاتی تھی، مگر اب تو لوگوں کے پاس اتنا پیسہ آگیا ھے اور ٹائم بھی نہیں ھے، اس لئے اب لوگ زیادہ تر ھوائی جہاز سے ھی سفر کرنا پسند کرتے ھیں اور شاید اس لئے بھی کہ اب تیزگام کی وہ کارکردگی نہیں رھی جو کبھی پہلے تھی،

اپنی ساری اچھی بری تمام گزشتہ یادوں کو پیچھے چھوڑتا ھوا تیزگام کی پرشور آوازوں کھٹ کھٹا کھٹ کے ساتھ سفر کررھا تھا، مجھے ٹرین کے سفر میں باھر کے بھاگتے ھوئے مناظر کے علاؤہ کچھ ایسی مخصوص آوازیں بہت ھی زیادہ پسند تھیں، جیسے چلتے میں انجن کی ایک مخصوص سیٹی کی آواز جب کھٹ کھٹا کھٹ کے ساتھ مل جاتی تھی تو ایک سرور انگیز آواز کی طرح ایک الگ ھی لطف ملتا تھا، اور اسٹیشن سے چلنے سے پہلے اسکے انجن کی سیٹی کی آواز اور گارڈ کا سبز جھنڈی کو ھلا کر انجن ڈرائیور اور پبلک کو ٹرین کے چلنے کا اشارہ دینا، مجھے یہ سب کچھ سننا اور دیکھنا بہت اچھا لگتا تھا، اور میں سب کچھ اگلی پچھلی باتیں بھول جاتا تھا، انہیں آوازوں میں ھی مگن رھتا تھا،

میں بھی ھر اسٹیشن پر ٹرین کے چلنے سے پہلے بار بار سگنل کی طرف دیکھتا کہ کب ڈاؤن ھوگا اور جیسے ھی سگنل ڈاون ھوتا تو پھر میرے کان انجن کی طرف اور میری نگاھیں گارڈ کی طرف ھوتی تھیں تاکہ انجں کی سیٹی کے ساتھ ساتھ گارڈ کی سیٹی کی آواز سنوں اور سبز جھنڈی کو لہلہاتے ھوئے دیکھوں، ایک دفعہ بچپن کے دور میں اسی طرح ایک اسٹیشن پر تیزگام کافی دیر سے کھڑی تھی اور مجھے بھی بے چینی ھورھی تھی کہ کیا وجہ ھے اور میں کھڑکی سے سر باھر نکالے ادھر ادھر دیکھ رھا تھا، سگنل واقعی ڈاؤن نہیں ھوا تھا، اور میری نظریں بار بار کبھی سگنل کی طرف اور کبھی گارڈ کی طرف، گارڈ صاحب بھی اپنے دونوں ھاتھوں میں جھنڈیاں سرخ اور سبز اپنے پیچھے کمر کی طرف لگائے ھوئے پلیٹ فارم پر گھوم رھے تھے، جب وہ میری کھڑکی کے نزدیک سے گزرے تو میں نے پوچھ ھی لیا کہ انکل آپ سیٹی کیوں نہیں بجا رھے اور ھری جھنڈی ڈرائیور کو کیوں نہیں دکھا رھے،!!!!! انہوں نے مجھے صرف اشارے سے سگنل کی ظرف دیکھنے کو کہا، یہ تو مجھے بھی پتہ تھا میں نے خوامخواہ ھی بے تکا سوال پوچھ ڈالا، جبکہ مجھے یہ پوچھنا چاھئے تھا کہ انکل یہاں پر جانے کیلئے سگنل اب تک ڈاؤن کیوں نہیں ھوا،

نہ جانے مجھے کیوں شروع سے ھی ھر طرف کی فکر لگی رھتی تھی اور میں کھڑکی میں ھی جھانک کر ریلوئے کے قلیوں سے گارڈ سے ٹکٹ چیکر سے اکثر کوئی نہ کوئی سوال ضرور کرتا تھا، ھاں پھر سگنل کے ڈاون ھوتے ھی میں نے فوراً میرے کھڑکی کے پاس سے گزرتے ھوئے انہیں گارڈ انکل کو یاد دلایا جو پوری ٹرین کا چکر لگا کر اپنے ڈبے کی طرف واپس جارھے تھے، کہ انکل اب تو سگنل ڈاؤن ھوگیا ھے اور انجن بھی سیٹی بجا رھا ھے، آپ اب کیوں سیٹی نہیں ‌بجا رھے،!!!!! انہوں نے مسکراتے ھوئے کہا ارے بیٹا مجھے اپنے ڈبے کی طرف جانے تو دو،!!!!! میں پھر بھی اپنی کھڑکی سے ھی جھانک کر انکو دیکھ رھا تھا جیسے وہ میرے ماتحت ھوں، پھر چند لمحے بعد ھی انکی سیٹی کی آوار آئی اور میں نے دیکھا کہ وہ جھنڈی بھی ھلاتے ھلاتے اپنے ڈبے میں چڑھ گئے اور انجن نے تیسری سیٹی بجائی اور پھر تیزگام آہستہ آہستہ سے پلیٹ فارم کو چھوڑنے لگی!!!!!

اس کے علاوہ کھانے پینے کی چیزیں بیچنے والوں کی ایک الگ الگ آوازیں جس سے گاہک کو اپنی طرف متوجہ کرنا مقصود ھوتا ھے، اسٹیشن پر یا بوگی کے اندر اور خاص کر ڈاننگ کار کے ویٹروں کی آوازیں بھی مجھے بہت اچھی لگتی تھیں، اگر میں آپکو وہ مخصوص آوازیں سناؤں تو آپ لوگ مجھ پر شاید ھنسیں یا میرا مذاق اڑائیں، لیکن حقیقت میں اگر آپ لوگ ٹرین میں سفر کرتے وقت ایک خاص توجہ ان مختلف آوازوں پر کبھی تھوڑا سا بھی اگر دھیان دیں تو آپکو ایک اپنے ملک کی ایک الگ خوشبو کا ایک احساس ھوگا،

یہ ھمارے وطن کے ایک کلچر کا حصہ ھے، یہ ایک ھمارا قومی اثاثے کی طرح ھے، کیونکہ ھمیں جو اپنے ملک سے دور ھیں انہیں ان چیزوں کی قدر محسوس ھوتی ھے، ھمارے پیارے وطن کی مٹی کی خوشبو ھمیں اسی وقت آنے لگتی ھے جب ھمارا ھوائی جہاز اپنے پیارے وطن کی سرحدوں کے قریب ھوتا ھے تو ایک اناونسمنٹ کی آواز آتی ھے کہ!!!!!
اب ھم کچھ ھی دیر میں قائد اعظم انٹرنیشنل، یا علامہ اقبال انٹرنیشنل یا اسلام اباد انٹرنیشنل یا پشاور انٹرنیشنل ائر پورٹ پر اترنے والے ھیں، اپ سب اپنی اپنی بیلٹ باندھ لیں،!!!!

یہ سنتے ھی اکثر لوگوں کی آنکھوں میں آنسو آجاتے ھیں، اور اپنے پیارے وطن کی سرزمین کو دیکھنے کے لئے تڑپ جاتے ھیں، وہاں پر رھتے ھوئے اتنا زیادہ لوگ محسوس نہیں کرسکتے، جتنا کہ ھم لوگوں کو جو کہ پردیس میں اپنے وطن سے دور ھیں، اپنے وطن کی ھر چیز یاد آتی ھے،!!!!!!

ھاں تو میں اپنی تیزگام اور اپنے ملک کے تمام ریلوے اسٹیشنوں کی مختلف آوازوں کے بارے میں بتا رھا تھا، جوکہ اگر آپ تھوڑا سا بھی دھیان دیں تو اس میں بھی آپکو اپنے وطن کی ایک خوشگوار مہک ملے گی، کبھی کھڑکی میں سے اچانک آواز آئے گی، "چائے گرم،" ٹھنڈی بوتل ھے‌"، وہ بوتلوں کے سائڈ پر بونل کھولنے والے اوپنر سے ایک شیشے ٹکرانے کی آواز نکالتا ھے، جس میں ایک الگ ھی سر سنائی پڑتے ھیں، "دال چنے خستہ اور کرارے" اسکے علاوہ ایک اور خاص اسٹیشن کی ایک مخصوص آواز "حافظ جی کا ملتانی حلوہ" اس کی آواز تو سن کر دل مچل جاتا ھے، کہیں "چوڑیاں لے لو ونگاں لے لو" اور کہیں وزیرآباد کے چاقو اور چھریاں چمچے کانٹے تے نال قینچی بھی اور جب کھانے کا وقت ھوتا ھے تو، ڈائننگ کار کا کھانا ھے بھئی، تازہ اور گرم کھانا یا پھر ناشتہ کے وقت صبح صبح ایک الگ ھی پہلی آواز سننے کو ملے گی "ناشتہ بھئی ناشتہ گرم چائے بھئی" اور بھی نہ جانے کئی آوازوں نے اپنا ایک الگ ھی ماحول بنایا ھوتا ھے!!!!!!!
ـــــــــــــــــــــــــ ـــــــــــــــــــــــــ ـــــ
جاری ھے،!!!!

عبدالرحمن سید
01-02-10, 11:11 AM
ھاں تو میں اپنی تیزگام اور اپنے ملک کے تمام ریلوے اسٹیشنوں کی مختلف آوازوں کے بارے میں بتا رھا تھا، جوکہ اگر آپ تھوڑا سا بھی دھیان دیں تو اس میں بھی آپکو اپنے وطن کی ایک خوشگوار مہک ملے گی، کبھی کھڑی میں سے اچانک آواز آئے گی، چائے گرم، تھنڈی بوتل ھے‌، وہ بوتلوں کے سائڈ پر بونل کھولنے والے اوپنر سے ایک شیشے ٹکرانے کی آواز نکالتا ھے، جس میں ایک الگ ھی سر سنائی پڑتے ھیں، دال چنے خستہ اور کرارے اسکے علاوہ ایک اور خاص اسٹیشن کی ایک مخصوص آواز حافظ جی کا ملتانی حلوہ اس کی آواز تو سن کر دل مچل جاتا ھے، کہیں چوڑیاں لے لو ونگاں لے لو اور کہیں وزیرآباد کے چاقو اور چھریاں چمچے کانٹے تے نال قینچی بھی اور جب کھانے کا وقت ھوتا ھے تو، ڈائننگ کار کا کھانا ھے بھئی، تازہ اور گرم کھانا یا پھر ناشتہ کے وقت صبح صبح ایک الگ ھی پہلی آواز سننے کو ملے گی ناشتہ بھئی ناشتہ گرم چائے بھئی اور بھی نہ جانے کئی آوازوں نے اپنا ایک الگ ھی ماحول بنایا ھوتا ھے!!!!!!!

1972 سے لیکر 1975 تک میں راولپنڈی میں ھی رھا اور کبھی کبھی سالانہ چھٹی میں گھومتے پھرتے ھوئے کراچی بھی چلا جاتا تھا، اس کمپنی کا ایک فائدہ ضرور تھا کہ ھر سال راولپنڈی سے کراچی اور واپسی کا فرسٹ کلاس کا کرایہ اور ساتھ ایک مہینہ کی چھٹی اور اسکے پیسے بھی ملتے تھے جس کا میں فائدہ اُٹھا کر اکثر گھومتا پھرتا ھوا کراچی جاتا تھا کبھی سرحد کی طرف پشاور اور اسکے نواحی علاقوں کی طرف نکل جاتا، کبھے ٹیکسلہ، حسن ابدال اور واہ فیکٹری کا تو اکثر بیشتر دورہ ھوتا ھی رھتا تھا اور کبھی پراستہ جرنیلی سڑک کے آس پاس کے تمام پنجاب کے علاقوں سے ھوتا ھوا لاھور پہنچ کر دوستوں کے ھمراہ قیام بھی کرتا تھا، تاریخی شہر لاھور تو کئی مرتبہ گھومنے بھی گیا، جب میرے ساتھ دوست ھوتے تو اسی طرح گھومتا پھرتا جاتا اور اگر فیملی ساتھ ھوتی تو تیزگام کے ذریعے ھی سفر کرتا تھا،

راولپنڈی اور اسلام آباد سے، ھر آس پاس کے علاقوں میں گھومنے پھرنے میں کافی سہولت رھتی اور ھمارے یہاں اکثر کراچی سے دوست احباب گھومنے پھرنے کیلئے ھمارے گھر ضرور ٹہرتے تھے، اور اسی موقعہ سے فائدہ اٹھا کر میں بھی ان کے ساتھ نکل لیتا، اور ھم سب خوب انجوائے کرتے، لاھور جاتے ھوئےجہلم اور دینا اور وہاں کا منگلہ ڈیم ، وہاں سے نکلے تو سرائےعالمگیر اور وھاں کی ایک نہر کے پاس ایک ھمارے استاد کا بھی گھر تھا، وہاں سے چلے تو گجرات، کھاریاں، وزیرآباد، کی سیر کرتے ھوئے گجرانوالہ اور پھر شادرہ پہنچتے ھی دریائے راوی سے پہلے ھی تاریخی مقامات کو دیکھتے ھوئے لاھور میں کسی نہ کسی کے ھم مہماں ھوتے اور کم سے کم دوتین دن تک کا قیام لاھور میں ضرور ھوتا، شاھینوں کے شہر سرگودھا اور خوشاب کو ھم نے صرف باھر سے ھی دیکھا، خانیوال اور ساھیوال کا ایک ظویل مالٹے سنگترے اور کینوں کے باغات تو بس ٹرین سے ھی دیکھنے کو ملے اور لاھور سے کئی دفعہ فیصل آباد، ملتان اوکاڑہ اور سیالکوٹ جانے کا پروگرام بھی بنایا، لیکن اتفاق ھے کہ جانے کا اتفاق نہیں ھوا مگر ایک خواھش بہت ھے کہ ایک دفعہ ان علاقوں کی بھی سیر کروں،

لاھور سے زیادہ تر بذریعہ ٹریں سے ھی کراچی کا سفر کرتے تھے کیونکہ ان دنوں سڑکوں کی حالت اتنی اچھی بھی نہیں تھی لیکن بعد میں یعنی حال میں ھی موٹر وئے سے ڈائیو بس میں سفر کرنے کا اتفاق ھوا تھا لاھور سے راولپنڈی اور واپسی بھی اسی موٹر وے سے ھی ھوئی تھی کیا خوبصورت منظر تھا لگتا تھا کہ کہ کہیں ھم باھر کے ملکوں کےدورے پر ھیں، اور لاھور سے واپسی کراچی بھی ایک دفعہ بس کے ذریعہ بھی کیا لیکن ‌اس میں بہت تکلیف ھوئی پنجاب کے گزرنے تک تو کوئی مشکل پیش نہیں آئی بلکہ خوب انجوائے بھی کیا لیکن جیسے ھی بس سندھ میں داخل ھوئی تو حالت خراب ھوگئی، ایک تو سڑکیں خراب اور دوسرے پولیس والے بہت تنگ کرتے تھے، اس کے بعد سے توبہ کرلی کہ بس سے سفر نہیں کرنا، لاھور اور راولپنڈی کے درمیان کے بس کا سفر اچھا لگتا تھا،

میں اپنی اس سروس کے دوران کافی اور مزید علاقوں کے دیکھنے اور گھومنے پھرنے کا اتفاق ھوا تھا، کیونکہ مجھے گھومنے پھرنے کا بہت شوق ھے اور کہتے ھیں نا کہ شکرخورے کو شکر ضرور مل جاتی ھے تو اسی طرح مجھے بھی بچپن سے اب تک گھومنے پھرنے کے بہانے خوب ملے ھیں، پاکستان کے تقریباً ھر بڑے چھوٹے شہروں کی سیر ضرور کی ھے علاؤہ فیصل آباد، سیالکوٹ کوئٹہ اور اس کے آس پاس کے علاقوں کے، جس کی خواھش دل مین بہت ھی زیادہ ھے اور آزاد کشمیر کے علاقے بھی، پاکستان کا مانچسٹر لائل پور جو اب فیصل آباد ھے کا تو میں بچپں سے تعریفیں سنتا تھا اور علامہ آقبال کے شہر سیالکوٹ۔ صوفیوں اور بزرگوں کے شہر ملتان اور بلوچستان کادل کوئٹہ جہاں کے قندھاری انار اور انگور اور پھلوں کے باغات اور ساتھ ھی چمن اور زیارت ایسے مقامات دیکھنے سے اب تک محروم رھا ھوں اور باقی تمام شہروں میں بھی بزریعہ سڑک گھومتے ھوئے گیا ھوں،

سرحد کے بڑے شہروں میں پشاور اور اسکے ساتھ درہ خیبر سے ھوتا ھوا لنڈی کوتل تک گیا ھوں جہاں کبھی باڑا بازار ھوا کرتا تھا،اور واپسی تربیلہ ڈیم سے ھوئی، اور کئی دفعہ میں دوستوں کے ساتھ اور فیملی کے ساتھ بھی مردان براستہ نوشہرہ، اٹک کے علاقوں سے گھومتے پھرتے صوابی کے علاقے کے بعد سوات کے علاقوں سیدوشریف، مرغزار میں تو والی سوات کے سفید محل، میں اکثر ھم ایک رات ضرور گزارتے تھے، پھر میاں دم ، مدیں بحرین، اور کالام، کے خوبصورت علاقے جہاں قدرت کے حسین نظارے اور واپسی میں دریائے سوات کے کنارے شاھراہ ریشم سے ھوتے ھوئے بیشام کو ایک نظر دیکھتے ھوئے ایبٹ آباد میں بھی قیام کرتے، وہاں سے نکلتے تو سیدھا پنجاب کے علاقوں میں میں داخل ھوئے ایوبیہ نتھیا گلی کے بلند وبالا سرسبز پہاڑی برف سے ڈھکے ھوئے سلسلے کو دیکھتے ھوئے وھاں سے سیدھا مری کے خوبصورت علاقوں بھور بن، گھوڑا گلی اور نتھیا گلی میں قیام جہاں ھمارے جاننے والے لوگ تھے، واپسی مری کے راستے چھتر کے سرسبز وادیوں سے ھوتے ھوئے اسلام آباد اور پھر واپس راولپنڈی اپنے گھر پہنچ جاتے،

اور سندھ کے علاقے ٹھٹھہ، حیدرآباد، میر پورخاص، روھڑی، سکھر، نواب شاہ، اورر جیکب آباد، لاڑکانہ اور سیوں شریف تک تو بس کے ذریعہ اور کبھی ٹرینوں کے زریعے کراچی ھی سے سفر کیا اور بلوچستان کے علاقوں میں ھم تمام دوست مل کر کبھی فیملی کے ساتھ گوادر، لسبیلہ، حب ڈیم ، گڈانی کا ساحل سمندر بھی کراچی سے ھی کنٹریکٹ کی بسوں میں پکنک منانے جاچکے ھیں،

یہ آللٌہ کا شکر تھا کہ میں راولپنڈی میں 1972 سے لیکر 1975 تک کا پیریڈ بہت اچھا گزارا، کیونکہ ایک تو گھومنے پھرنے کی خواھش یہاں خوب پوری ھوئی، اور کسی حد تک اپنے آپ کو مشغول رکھ کر اپنے آپ کو پرانے زخموں کو کریدنے کا موقعہ نہیں ملا، ایک تو پنجاب کا موسم اور ھر چیز خالص دودھ دھی لسی اور تازہ سبزیاں ملتی تھیں اور ساتھ والدین بھی اور بہن بھائی بھی تھے اور وہ سب یہاں اسکول بھی جاتے تھے، میرا دوسرا گھر راولپنڈی ھی تھا اور اب بھی جب وہاں جاتا ھوں تو اپنے محلے میں ضرور ٹھرتا ھوں اور وھاں کے پرانے دوست احباب ھماری اب بھی اتنی ھی عزت کرتے ھیں، کیونکہ والد صاحب بھی جب تک وھاں رھے سب سے ان کی دوستی اور گھر میں سب کی فیملیاں بھی آتی جاتی تھیں، اور اس کے بعد ایک اور پیریڈ تین سال تک شادی کے بعد بھی وہیں اسی محلے میں اسی دفتر کے ساتھ گزارا جسکا کہ ذکر بعد میں آئے گا،

شروع شروع تو والد صاحب کے ساتھ ھی اکیلا تھا اور بہں بھائی تو امتحانات ختم ھونے کے بعد ھی پہنچے تھے، اور بہت اچھے دن گزر رھے تھے، وھاں کے لوگ بھی بہت اچھے تھے، زیادہ تر تو آفس کے ھی لوگ اپنی اپنی فیملیوں کے ساتھ رہ رھے تھے، اور مقامی لوگ بھی اکثریت میں رھائش پزیر تھے، 1974 کے دوران ھی والد صاحب کا ٹرانسفر آزاد کشمیر کے ایک علاقے میں ھوگیا جہاں کمپنی ایک پل بنا رھی تھی، اور اسکے بعد انکا تبادلہ سندھا جیکب آباد (سندھ) میں ایک پروجیکٹ پر ھوگیا، اور میں وھیں ھیڈ آفس راولپنڈی میں ھی تھا ، اور والدہ اور بہن بھائی بھی مستقل طور پر کراچی ھی شفٹ ھوگئے کیونکہ والد صاحب کو جیکب آباد سے کراچی کمپنی کی گاڑی میں آنے جانے کی سہولت تھی، اور میں پھر وہاں اکیلا ھی رہ گیا،

اور پھر جب کوئی اکیلا ھو تو دماغ خراب ھونا شروع ھوجاتا ھے، بس اب دل کچھ آچاٹ سا ھونے لگا تھا گھر والوں کو بھی کراچی گئے ھوئے کافی وقت ھوچکا تھا، اب اکیلے ھوٹل سے کھانا، کبھی پکانے کی کچھ عادت ھی نہیں تھی، بس ھوٹل کے کھانے کھا کھا کر حالت خراب ھوگئی پھر ایک دوست افضل جو فیصل آباد کاھی تھا، وہ مجھے اپنے ساتھ دوسرے علاقے میں لےگیا اس کے ساتھ کچھ وقت نکالا وھاں پر افضل کی خدمات کو میں نہیں بھول سکتا اس نے میرا بہت خیال رکھا اس کے بعد وہ بھی نوکری چھوڑکر چلا گیا تو میں ایک اور دوست شاکر کے ساتھ بھی کچھ مہینے گزارے، اور آخری دنوں میں اپنے ایک اور ساتھی نذر حسین شاہ جو خوشاب، میانوالی کے علاقے کے تھے اں کے ساتھ بھی بہت اچھا وقت نکالا، اکثر انکے پڑے بھائی شبیر شاہ صاحب جو اسی کمپنی میں انجنئیر تھے گھر پر آجاتے اور ھمارے ساتھ ھی کچھ وقت گزارتے اور شام ھوتے ھی اپنے پروجیکٹ پر واپس چلے جاتے،

اور پھر کچھ وقت نے ایک اور کروٹ لی 1975 میں ھمارے ایک نئے چیف اکاؤنٹنٹ صاحب آگئے اور میں نے ان سے درخواست کی کہ مجھے کراچی ٹرانسفر کرادیں، کیونکہ سب گھر والے وہیں پر ھیں، انہوں نے مجھ سے وعدہ کیا کہ جلد ھی ڈائریکٹر صاحب سے اس سلسلے میں ضرور بات کریں گے، میں نے وھاں پر بہت کچھ سیکھا اور جو بھی میرے استاد تھے وہ سب وہیں پر تھے اور وہ مجھے اپنے بچوں کی طرح ھی سمجھتے تھے، اور میں اپنے اں تمام استادوں کو کبھی نہیں بھول سکتا، ان کے لئے میرے دل سے دعائیں نکلتی ھیں، آج جس مقام پر ھوں یہ سب انہیں کی بدولت ھے اور انہیں کا سکھایا ھوا ھے !!!!!!!

ٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔ ٔٔٔ
میرے کیرئیر کو پائےتکمیل تک پہنچانے اور بنانے میں میر ے استادوں میں سے ایک منفرد محترم استاد جناب راجہ محمد گلزار صاحب جو کہ میری حالیہ کمپنی کے چیف اکاونٹنٹ تھے، جنہوں نے میری کنسٹرکشن کمپنی میں بھی 5 پایچ سال تک راہنمائی کی میں اں کا اسسٹنٹ تھا اور اب جس ایک معروف اور اس کے بعد یہاں مشہور اسپتال میں بھی انہوں نے 10 سال تک مجھے اس اسپتال کے فائینانس سسٹم کو بنانے میں مکمل ایک استاد کی حیثیت سے رھنمائی کی وھاں بھی میں ان کے پاس سینئیر اکاونٹنٹ تھا اور آج میں انہیں کی بدولت اسی اسپتال کے گروپ نے مجھے اپنے ایک نئے بڑے اسپتال الریاض میں چیف اکاؤنٹنٹ بنا کر بھیجا اور 9 سال تک میں اپنے تمام اسٹاف کے ساتھ اسی اکاونٹس سیکشن کو کامیابی سے چلایا، پچھلے سال کے شروع میں مجھے دوبارہ جدہ کے نئے پروجیکٹ پر بھیج دیا گیا ھے، ان سب کامیابیوں کا سہرا انہی کو جاتا ھے، اور اب میں خود بہت سے لڑکوں کا استاد ھوں، جو کہ اب اچھے عہدوں پر فائز بھی ھیں،!!!!!

وہ اب سرائے عالمگیر سے آگے ایک نہر کے ساتھ ایک جگہ جس کا نام “سمبلی“ ھے اسی نہر کے سامنے میرے انہی استاد کا گھر ھے،اور وہ اب گھر پر ھی ریٹائیرمنٹ کی زندگی گزار رھے ھیں، یہاں پر انہوں نے مجھ جیسے کئی اور شاگرد چھوڑ کر گے ھیں، جو آج مجھ سے بھی اچھی پوسٹ پر اپنی ڈیوٹیاں انجام دے رھے ھیں، اور سب انہیں بہت ھی زیادہ یاد کرتے ھیں، میں اکثر انہیں ٹیلیفون بھی کرتا رھتا ھوں، میرے وہ رشتہ دار نہیں ھیں لیکن وہ ان سے بھی زیادہ میرے والد کی ظرح ھیں،!!!!!

ان سے پہلے بھی کنسٹرکشن کمپنی کے میرے استاد جن کا کراچی، راولپنڈی اور سعودیہ مین بھی ساتھ رھا، وہ بھی جہلم ، کھاریاں، اور اسی کے نزدیکی علاقوں سے ھی تعلق رکھتے تھے اور گلزار صاحب کے وہ ساتھیوں میں سے ھی تھے، کیونکہ ان سب نے شروع میں ایک ساتھ ھی اس کنسٹرکشن کمپنی کو جوائن کیا، اور میرے والد صاحب بھی ان کے ساتھ ھی اسی کمپنی میں تھے، ان کے نام محترم جناب عنائت علی بھٹی صاحب، جناب رشید احمد صاحب، اور جناب قاضی محمد نواز صاحب، اور اس وقت کے ھماری کمپنی کے فائنانس کنٹرولر محترم جناب اسلم بھٹی صاحب، اور جناب حبیب الرحمٰن صاحب اس کے علاوہ میرے سب سے پہلے استاد اسی کمپنی میں محترم جناب شفیع اللہ خان صاحب جن کا تعلق صوابی سے تھا، جو اب اس دنیا میں نہیں ھیں اللٌہ تعالیٰ انھیں جنت الفردوس میں جگہ دے، آمین !!!!!

میں اپنے ان تمام استادوں کا دل سے احترام کرتا ھوں، اور ان میں سے کوئی بھی میرے رشتہ داروں میں سے نہیں ھیں لیکن استادوں کا رشتہ تو ایک انسانیت کا ایک روحانی اور مقدس رشتہ ھوتا ھے جو تمام رشتوں سے بھی افضل ھے، ان سب سے میں نے اکاونٹس ڈپارٹمنٹ کے ھر سیکشن کا کام بہت ھی محنت سے سیکھا ھے اور انہوں نے بھی مجھے کام کے علاوہ اخلاقیات کا درس بھی اپنے خلوص دل سے دیا ھے، میں اللٌہ تعالیٰ کا جتنا بھی شکر ادا کروں کم ھے، ان سب نے مجھے جینے کی بہتر راہ کی طرف گامزن کیا اور یہ اللٌہ تعالیٰ کا کرم ھے کہ آج جو عزت کا مجھے مقام ملا ھے وہ میرے والدین کی دعائیں اور ان تمام محترم استادوں کی انتھک محنت کی وجہ سے ھی حاصل ھوا ھے،!!!!!!

اس کے علاوہ میں اس موقع کو غنیمت سمجھتے ھوئے، اپنے ان تمام اپنی کنسٹرکشن کمپنی اور اسپتال کے ڈائرکٹران اور مالکان کا بھی شکریہ ادا کرنا چاھتا ھوں اور ممنون ھوں کہ انہوں نے میرے استادوں کی توسط سے مجھے ھر سہولت کی اجازت دی اور مجھے آزادی سے کام کرنے کا موقع دیا اور میرے کام کی کو تعریفی اسناد اور انعامات سے بھی نوازا، اور ھر برانچ میں دوسرے تمام ساتھیوں اور شاگردوں نے میرا قدم قدم پر بھر پور ساتھ دیا، !!!!!!!

اور یہی گروپ پاکستان اور آزاد کشمیر میں بھی عنقریب ھر بڑے شہر میں اپنے کئی چیریٹی میڈیکل سنٹرز اور بڑے اسپتال قائم کرنے والے ھیں، اگر ھمارے ملک کے حالات بہتر ھوئے تو،!!! اور ان کا یہ مشن ھے کہ تمام مسلم ممالک میں 2015 تک 30 بڑے اسپتال تعمیر کرسکیں اور 50 ھزار ملازمتوں کی گنجائیش نکال سکیں، اور اب تک 6 اسپتال مکمل طریقے سے کامیابی سے چل رھے ھیں اور 8 اسپتال اور ایک میڈیکل یونیورسٹی سعودی عرب اور مختلف اسلامی ممالک میں زیر تعمیر ھیں اور باقی زیرپلاننگ ھیں، ایک بات اور قابل ذکر ھے کہ یہ تمام اسپتال پاکستانی انجینئیروں، ٹیکنشنوں اور ماھر کاریگروں اور محنت کش لوگوں کی محنتوں سے ھی پاکستانی انجئنیرز کی زیر نگرانی اسی اسپتال کے کنسٹرکشن ڈویژن کے توسط سے تکمیل تک پہنچ رھے ھیں،!!!!!!

اور اسکولوں میں کالجوں میں اپنے تمام محترم اساتذہ کو بھی میں کبھی نہیں بھولا، انہیں بھی ھمیشہ اپنی دعاؤں میں شامل رکھتا ھوں، جن میں خصوصی طور پر محترم جناب محمد شفیع صاحب، جناب شیخ محمد سعید صاحب، جناب شاہ صاحب، جناب بہاؤالدین صاحب، اور خاص طور پر محترم جناب محمد اسلم صاحب، جن سے میں نے کالج کے دور میں کامرس اور اکاونٹس سے متعلق بہت کچھ سیکھا،

اپنے استادوں اور محسنوں کو کبھی بھی نہیں بھولنا چاھئے ان کی عزٌت ھمیشہ ھم سب کو اپنے والدین سے بھی بڑھ کر کرنا چاھئے !!!!!!

اسے بھی میری کہانی کا ایک حصہ سمجھ لیں جو میں اپنی اس کہانی کے آخر میں پیش کرنا چاھتا تھا، مجھے یہ موقع مل گیا کہ میرے محترم استادوں کے بارے میں ایک مختصراً تعارف پیش کردوں اور اسی توسط سے ان سب کا احتراماً ادب سے سلام پہنچا دوں ھوسکتا ھے کہ وہ سب شاید یہ پڑھ بھی رھے ھوں یا ان کے خاندان میں سے جس کے نطر سے بھی گزرے میرا پیغام ان تک پہنچادیں !!!!!!!!!
ـــــــــــــــــــــــــ ـــــــــــــــــــــــــ ـــــــــــــــــــــــــ ـــــــ
جاری ھے،!!!!

-----------------------------------------------------------------

عبدالرحمن سید
01-02-10, 12:40 PM
پھر میں دوبارہ اپنی کہانی کو وھیں سے شروع کرتا ھوں،!!!!!!!

اور پھر کچھ وقت نے ایک اور کروٹ لی 1975 میں ھمارے ایک نئے چیف اکاؤنٹنٹ صاحب آگئے اور میں نے ان سے درخواست کی کہ مجھے کراچی ٹرانسفر کرادیں، کیونکہ سب گھر والے وہیں پر ھیں، انہوں نے مجھ سے وعدہ کیا کہ جلد ھی ڈائریکٹر صاحب سے اس سلسلے میں ضرور بات کریں گے، میں نے وھاں پر بہت کچھ سیکھا اور جو بھی میرے استاد تھے وہ سب وہیں پر تھے اور وہ مجھے اپنے بچوں کی طرح ھی سمجھتے تھے، اور میں اپنے اں تمام استادوں کو کبھی نہیں بھول سکتا، ان کے لئے میرے دل سے دعائیں نکلتی ھیں، آج جس مقام پر ھوں یہ سب انہیں کی بدولت ھے اور انہیں کا سکھایا ھوا ھے !!!!!!!

جو بھی دن ان تین سالوں کے درمیان میں نے راولپنڈی میں گزارے، وہ مجھے زندگی بھر یاد رھیں گے، میری پریکٹکل زندگی کی اصل کیرئیر اور ٹریننگ کا آغاز وھیں سے ھوا تھا، وھاں پر جیساکہ میں نے پہلے ذکر بھی کیا تھا، زیادہ تر میرے استاد وہیں پر تھے اور ھر سیکشن میں ھر استاد کے ساتھ دل لگا کر کام کیا، ایک استاد جناب قاضی نواز صاحب جو بہت ھی زیادہ سخت تھے، مگر دل کے بالکل نرم تھے، میں ان سے بہت ڈرتا تھا، جب مجھے آن کے پاس بھیج دیا گیا تو مجھ سے تو بہت کام لیتے تھے اور بعض اوقات تو وہ بہت سخت لہجے میں بات کرتے تھے، میں اکثر ان سے دل کے اندر سے ناراض ھی رھتا تھا، لیکن یہ احساس مجھے بعد میں ھوا کہ ان کے ساتھ رہ کر میں نے اپنے اندر ایک مکمل قوت اعتمادی پائی، اور کام کرنے کے اصل گر انہیں سے سیکھے، !!!

جو میرے نئے چیف اکاونٹنٹ جنکا نام جاوید صاحب تھا، انہوں نے میری زبانی درخواست پر شاید ھماری کمپنی کے ڈائیریکٹر صاحب سے بات کی بھی ھوگی، کہ میرا کراچی ٹرانسفر کرادیں، لیکن یہ بات میں نے اپنے سینئیر جناب قاضی نواز صاحب کو نہیں بتایا، کیونکہ مجھے یہ ڈر تھا کہ اگر انکو پتہ چل گیا تو وہ کہیں مسئلہ نہ کھڑا کردیں اور میرا تبادلہ نہ ھونے دیں گے اور اسی اثناء میں میری سالانہ چھٹی منظور ھوگئی اور میں کراچی چھٹی گزارنے چلاگیا اور میرا چارج کسی اور لڑکے نے سنبھال لیا، میں خوشی خوشی واپس اپنی اسی پسندیدہ ٹرین تیزگام سے کراچی چلا گیا اور ھر سال ھی میں کراچی اسی تیزگام سے ھی جاتا تھا، اور شاید عید بھی آنے والی تھی، میں بہت خوش تھا، ایک تو تیزگام سے سفر کرنے اور عید کا موقعہ بھی تھا،

اور اس سے پہلے ایک بات بتاتا چلوں جو مجھے بعد میں پتہ چلا کہ زادیہ ان کی امی اور انکی باجی تینوں اسلام آباد بھی آئے تھے اور جن کے یہاں وہ لوگ ٹہرے تھے، وہ مجھے جانتے بھی تھے، اور یہ اتفاق ھی تھا کہ میں کافی دنوں سے ان کے گھر اسلام آباد نہیں گیا، اسی دوران کراچی سے زادیہ، ملکہ باجی اور انکی امی ان کے یہاں پہنچ گئے، ان تینوں نے میرا شاید ان سے پتہ معلوم کرنا چاھا بھی یا وہیں پر بلانا چاھا لیکن انہوں نے میرا پتہ انکو نہیں دیا، نہ ھی کوئی میرا ٹیلیفون نمبر وغیرہ، ھوسکتا ھے کہ والد صاحب کے مشورے سے ھی ان کو ہدایت ملی تھیں یا ھوسکتا ھے کہ وہ نہیں چاھتے تھے کہ میں ان سے مل سکوں کیونکہ انہیں بھی میری تمام کہانی کا بخوبی علم تھا، اور وہ ھمارے قریبی رشتہ دار بھی تھے اور بہت ھی اچھے لوگ تھے، میں اکثر ان کے گھر مہینے میں ایک دو دفعہ ضرور چکر لگاتا تھا، اور انکی دو بیٹیاں بھی تھیں اور 6 بھائی بھی، میں ان سب کے ساتھ گھومنے پھرنے بھی جاتا تھا، لیکن کبھی بھی کسی قسم کی کوئی ذہن میں بات نہیں آئی جس سے کوئی شادی وغیرہ یا کسی اور قسم کا کوئی چکر ھو، نہ ھمارے والدین کی طرفسے اور نہ ھی ان کی طرف سے کوئی ایسی بات ھوئی تھی، اور ویسے بھی وہ لوگ بہت ھی زیادہ ماڈرن تھے، میں اس طرف ویسے بھی سوچ نہیں سکتا تھا لیکن ایک بات تھی کہ وہ سب میری بہت عزت کرتے تھے اور خوب آؤ بھگت اور بہت خاطر داری بھی کرتے تھے، میرا ویک اینڈ ان سب کے ساتھ ھی گزرتا تھا اور ان کے والد بھی کوئی بہت بڑے آفیسر تھے، اور ان کا بھی وہاں کراچی سے ٹرانسفر ھوئے صرف ایک ھی سال ھوا تھا اور انکے لڑکے میرے کزن کے علاؤہ بہت اچھے دوست بھی تھے، جبتک میرے گھر والے کراچی جاچکے تھے !!!!!!!!!

کراچی پہنچ کر پھر اپنے آپ کو ایک آزاد پنچھی سمجھ رھا تھا کیونکہ دفتر کے کام سے بالکل آزاد تھا، اور پھر خوب تمام دوستون کے ساتھ گھوما پھرا، مگر زادیہ کی طرف اپنے ذہن کو جانے نہیں دیا اور ھمت بھی نہیں پڑی، جب کہ کبھی کبھی دماغ خراب ھو جاتا تھا اور دل چاھتا تھا کہ فوراً اُڑ کر اس کے پاس پہنچوں اور اسے صرف ایک دفعہ تو دیکھ لوں !!!!!!!!!!
والد صاحب بھی جیکب آباد سے سالانہ چھٹی پر کراچی آگے تھے، اور یہاں پہنچ کر نہ جانے کیوں انہیں میری شادی کی زیادہ فکر لگی ھوئی تھی، میں ان سے ھمیشہ یہی کہتا رھا کہ پہلے بہنوں کی ذمہ داریوں سے فارغ ھوجائیں، پھر بعد میں میرے لئے سوچئیے گا، لیکن وہ بس کسی طرح بھی میری شادی کراھی دینا چاھتے تھے اور بس میری چھٹی کا فائدہ اٹھا کر انہوں نے میرے لئے لڑکیاں ڈھونڈنی شروع کردی تھیں اور گھر پر ھر روز کوئی نہ کوئی مہمان آجاتا اور کبھی ھم کسی کے گھر جارھے ھوتے تھے، مگر مجھے یہ نہیں بتایا جاتا کہ کس مقصد کےلئے لوگ ھمارے گھر آرھے ھیں اور ھم کسی کی دعوت پر کس وجہ سے جارھے ھیں،!!!!!!

انہی چھٹیوں کے دوران عید بھی آگئی، بہت رونق رھی لوگوں کا آنا جانا کچھ زیادہ ھی ھو گیا اور مجھے لڑکیوں کی تصویریں بھی دکھائی جاتیں سامنے بھی لایا جاتا، مگر میں نے بالکل ھی سختی سے منع کردیا تھا کہ اگر کسی نے خبردار میری شادی کی بات بھی کی تو میں ابھی یہاں سے فوراً راولپنڈی واپس چلا جاؤں گا اور پھر کبھی واپس نہیں آؤں گا اور عید کے دوسرے دن والد صاحب نے تو حد ھی کردی اور کہا کہ بیٹا اییسے ھی ایک دوست نے دعوت کی ھے آؤ ذرا چلتے ھیں، گھر میں سب لوگ تیار بھی ھورھے تھے جیسے کہ یہ لوگ بھی کسی شادی میں جارھے ھوں، میں نے پوچھا کہ آپلوگ کہاں جارھے ھو، امی نے کہا کہ ھم کسی اور جگہ دعوت میں جارھے ھیں، والد صاحب نے مجھے آواز دی آؤ بیٹا چلتے ھیں، میں نے منع بھی کیا کہ مجھے بھی کہیں دوست کے ساتھ جانا ھے، اور وہ بس آتا ھی ھوگا،!!! لیکن انہوں نے کہا کہ بس ایسے ھی ذرا ھم دونوں باپ بیٹا مل کر آجاتے ھیں، اور تمھارے دوست کو بھی ساتھ لئے چلتے ھیں کوئی بات نہیں !!!!

میں بھی بس ان کی باتوں میں آکر ان کے ساتھ ھی چل دیا، اتنے میں راستے میں ھی میرا دوست مل گیا، اسے بھی والد صاحب نے اپنے ساتھ کرلیا، اور کہا کہ وہاں سے تم دونوں اپنے پروگرام میں چلے جانا، عید کا ویسے بھی نیا شلوار قمیض پہنا ھوا تھا اور میں پہلے ھی سے تیار اپنے دوست کے ساتھ باھر دوسرے دوستوں کے یہاں ملنے جانا تھا، مجھ سے میرے دوست نے پوچھا کہ یہ کیا چکر ھے میں کس خوشی میں تمھارے ساتھ جارھا ھوں، !!!! میں نے بھی اسے کہا کہ پتہ نہیں آج ابا جی کے کسی دوست کے یہاں دعوت ھے، چلو اچھا ھے دونوں وہیں سے فارغ ھوکر اپنے پروگرام کے مطابق چلے جائیں گے، والد صاحب کے ایک اور دوست فیملی کے ساتھ مل گئے اور کہا کہ مبارک ھو!!!!! میں پھر بھی کچھ نہیں سمجھا کہ وہ کیوں ابٌاجی کو مبارکباد دے رھے ھیں، وہ بھی وہیں جارھے تھے!!!!

لو بھئی ھم بھی اپنے دوست اور والد صاحب کے دوست بمعہ ان کی فیملی کے اباجی کے دوست کے گھر پر پہنچ گئے، ھمارے گھر سے کوئی زیادہ فاصلہ بھی نہیں تھا، جیسے ھی دروازے پر ھم پہنچے تو ھم سب کا بڑا پرتپاک استقبال ھوا، اباجی کے دوست نے پوچھا کہ بھابھی بچے کہاں ھیں میں یہ کہنے ھی والا تھا کہ وہ تو کہیں اور دعوت میں جارھے ھیں، مگر فوراً اس سے پہلے کہ میں کچھ بولتا، اباجی نے فوراً جواب دیا کہ ھاں ھاں وہ بھی تیار ھورھے ھیں اور بس آتے ھی ھونگے، میں چونکہ آگے اپنے دوست کے ساتھ ان کے ڈرائنگ روم میں پہنچ چکا تھا، میں یہ حیران تھا کہ ھماری والدہ اور بہن بھائی تو کہیں اور جارھے تھے، والد صاحب نے اپنا یہ کیا سیاسی بیان دے دیا،!!!!

خیر میں اور میرا دوست دونوں اندر ڈرائنگ روم میں جاکر بیٹھ گئے اور اتفاق سے ھم دونوں نئے شلوار قمیض میں بہت اسمارٹ لگ رھے تھے، اور میں نے تو خاص قسم کی سی چمکدار سی کوٹی بھی اوپر پہن رکھی تھی، اور بھی کچھ زیادہ ھی چمک رھا تھا، اور اندرکچھ ڈھولک پر لڑکیاں شادی کے گانے گارھی تھیں، میں یہی سمجھا کہ شاید یہاں آج کسی کی شادی یا کوئی مہندی کی رسم ھے، اور میں ان سب گھر والوں کو جانتا بھی تھا لیکن مجھے اس تقریب کے بارے میں کوئی علم نہیں تھا، اور کس کی یہاں شادی ھونے والی ھے، یہی میں اپنے دوست سے پوچھ رھا تھا، اسے بھی اس بارے میں کوئی پتہ نہیں تھا، میں تو اپنے دوست سے باتوں میں ھی مشغول تھا کہ میں نے دیکھا کہ دوسرے کمرے کے دروازے کے پردے میں سے لڑکیاں جھانک جھانک کر ہنستی جارھی تھیں، میں پریشان تھا کہ یہ ماجرا کیا ھے، کہیں میں جوکر تو نہیں لگ رھا میں نے اپنے دوست سے پوچھا!!!، اس نے جواب دیا بیٹا واقعی آج تو جوکر ھی بننے جارھا ھے اپنی خیر منالے!!!!!!!

میں اب بھی سمجھ نہیں سکا تھا، کیونکہ یہاں آنے سے پہلے مجھے یہاں کی کسی تقریب کے بارے میں بتایا ھی نہیں گیا تھا، اور بھی کچھ انکے رشتہ دار وغیرہ بھی آنے لگے اور مرد حضرات اسی ڈرائینگ روم میں بیٹھے اور عورتیں اندر کی طرف جارھی تھی میں نے اچانک دیکھا کہ ھمارے باقی گھر والے بھی اسی گھر میں پہنچ گئے، مجھے بہت غصہ آرھا تھا کہ مجھے اس تقریب کے بارے میں تاریکی میں کیوں رکھا گیا، مجھ سے ھی پھر ھر کوئی مختلف قسم کے سوال کرتا جارھا تھا کہ کیا کام کرتے ھو، کتنی تنخواہ ملتی ھے اور اِدھر اُدھر کی باتیں سب مجھ سے ھی کئے جارھے تھے، یہ آخر ماجرا کیا ھے والد صاحب میرے ایک طرف بیٹھے تھے اور دوسری طرف میرا دوست اور وہ تو ھنس رھا تھا اور اس نے پھر مجھ سے میرے کان میں ھی کہا کہ یار بڑے شرم کی بات ھے، ھم دوستوں کو پتہ ھی نہیں اور تمھاری یہاں آج شادی کا بردکھوا ھورھا ھے اور بات بھی پکی ھونے والی ھے، میں نے اس سے پوچھا کہ کس سے، ان کے ھاں تو تین لڑکیاں ھیں اور تم پہلے یہ بتاؤ کہ تمھیں یہ کیسے معلوم ھوا، اسنے جواب دیا کہ میں ابھی باھر سے پتہ کرکے آرھا ھوں اور تمھیں کچھ پتہ ھی نہیں ھے، کمال ھے یار جھوٹ بولنے کی کیا ضرورت ھے، تمھارے سارے گھر والے آئے ھوئے ھیں اور تمھارے رشتہ دار بھی موجود ھیں، میں نے قسم کھائی کہ مجھے یہاں دھوکے سے لایا گیا ھے، مگر میرا دوست نہیں مانا،!!!!!

میں حیران پریشان بیٹھا تھا اور والد صاحب کو دیکھے جارھا تھا کہ انہوں نے مجھ سے پوچھے بغیر ھی اتنا بڑا قدم اُٹھا لیا، میں پھر بھی کنفیوز تھا، پھر سب کو اندر بلایا گیا، میں نے موقعہ جان کر باھر کی طرف جانا چاھا، لیکن والد صاحب نے فوراً ھی ھاتھ پکڑ لیا، میں تو اب تک ان سے ڈرتا تھا کچھ بھی نہ کرسکا، صرف اتنا آھستہ سے کہا کہ یہ آپ نے اچھا نہیں کیا، انہوں نے بھی چپکے جوب دیا کہ ارے بیٹا بس ان لوگوں نے تمھیں دیکھنے کو بلایا تھا، کوئی شادی تھوڑی ھورھی ھے،!! میں نے غصہ سے ان کے کان میں ھی کہا کہ ھوگی بھی نہیں !!!! میں کیا کرتا اب انکی عزت تو رکھنی ھی تھی، !!!!

اندر مجھے ایک کرسی پر بٹھایا گیا اور گلے میں ایک پھولوں کا ھار بھی ڈال دیا گیا، لگا کہ جیسے اب بکرے کی قربانی ھونے والی ھو، پھر میرے ھاتھ میں کچھ پان کے پتے رکھ دئیے اور اس پر مٹھائی، اور سب لوگ ایک دوسرے کو مبارک ھو اور ماشااللٌہ کہہ رھے تھے، اس لڑکی کی دونوں چھوٹی بہنیں مجھ سے مذاق بھی کررھی تھیں، اب ظاھر ھے کہ پتہ چل چکا تھا کہ کس سے یہ میرا رشتہ ھونے جارھا تھا، میں نے تو مکمل خاموشی اختیار کی ھوئی تھی، لڑکی تو اچھی تھی اور گھر پر اکثر آنا جانا رھتا تھا، مگر اس ظرح میرے ساتھ ھوگا یہ میں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا، اب سب عورتیں میرے اُوپر سے ھاتھ گھما گھما کر نوٹ اتار رھی تھیں اور ساتھ ھی مٹھائی بھی کھلارھی تھیں، اور ساتھ ھی اباجی کو بھی، اور ھماری اماں اور بہنیں اور بھائی بھی آگے بیٹھے ھوئے تھے اور سب مجھ سے آنکھیں چُرا رھے تھے !!!!!!!

کھانے کیلئے سب کو ایک کمرے میں لے گئے اور بس میں کیا کھانا کھاتا، بس خاموش اپنے دوست کے ساتھ بیٹھا، اپنی قسمت کو کوس رھا تھا کہ میرے ساتھ یہ کیا مذاق ھوگیا، مجھے پتہ بھی نہیں چلا، وھاں سے فارغ ھوکر واپس گھر آئے، تو ابا جی نے کہا کہ ان لوگوں نے صرف دیکھنے کو بلایا تھا، مجھے یہ پتہ نہیں تھا کہ اتنی رسم وغیرہ کریں گے اور یہ کوئی شادی پکی تھوڑی ھوئی ھے وہ تو بس دیکھنے کی رسم تھی اگر تجھے پسند نہیں ھے تو نہیں ھے بس، ضروری تو نہیں ھے کہ اسی کے ساتھ ھی شادی ھو، میں نے فوراً ھی گھر پر سب سے یہی کہہ دیا کہ میں نے آپ سب کو پہلے بھی یہی کہا تھا کہ میں فی الوقت کسی سے بھی شادی نہیں کرونگا، اور اب بھی یہی کہہ رھا ھوں کہ میں یہ شادی نہیں کرسکتا !!!!!!!

اس واقعہ سے مجھے بہت دکھ ھوا تھا، ایک تو مجھ سے پوچھے بغیر ھی والد صاحب نے یہ قدم اٹھایا تھا، اور دوسرے یہ کہ میرے اس فیملی سے بہت ھی اچھے تعلقات تھے، اور ان کے بھائی بھی میرے اچھے دوست تھے، انکے والدین بھی میرے لئے بہت ھی ایک عزت کا مقام رھتے تھے ساتھ ھی ان کی بیٹی بہت ھی اچھے کردار اور سیرت کی مالک تھی، اور میں نے کبھی بھی اسے اس نظر سے نہیں دیکھا تھا، اور میری نظر میں وہ ایک میری بہن کی ظرح ھی تھی، نہ جانے والد صاحب کو کیا سوجی، !!!! انہوں نے والد صاحب سے کہا کہ ھمیں آپ کا لڑکا پسند ھے اپنی بڑی بیٹی کیلئے اور بس ھمارے کچھ رشتہ دار دیکھنا چاھتے ھیں، عید کے دوسرے دن اپنے بیٹے کو ان سے ملوانے کیلئے اگر کچھ آپ برا نہ مانے تو یہاں ھمارے گھر پر اپنے تمام گھر والوں کے ساتھ آجائیے گا،!!!! اور والد صاحب نے اس بارے میں مجھ سے کچھ کہا بھی نہیں اور ایک دعوت کا کہہ کر مجھے ساتھ لے گئے تھے،!!!!!

والد صاحب ان دتوں ویسے بھی میری شادی کے پیچھے ھی پڑے ھوئے تھے اور جس سے بھی ذکر کرتے وہ فوراً ھی دو چار لڑکیوں کا تعارف کرانے کےلئے ان کے گھر والوں سے ملوانے والد صاحب کو لے کر پہنچ جاتے، یا کوئی نہ کوئی ھمارے گھر میں مجھے دیکھنے کے لئے پہنچ جاتے، اور ھر لڑکی ان کو پسند بھی آجاتی، اور گھر آتے ھی میرے سامنے اس لڑکی کا ذکر کرتے کہ بہت اچھی گھریلو لڑکی ھے اور امور خانہ داری میں ماھر ھے، اور مجھ سے پوچھتے تو میں فوراً انکار کردیتا، اور غصہ ھوکر باھر نکل جاتا، اور والد صاحب یہی سمجھ رھے تھے کہ میں نے ابھی تک زادیہ اور انکے گھر والوں سے تعلقات رکھے ھوئے ھیں، اس لئے وہ چاھتے تھے کہ کسی طرح بھی میری وہ شادی کرادیں تو پھر سب کچھ ٹھیک ھوجائے گا، اور میرا دھیان زادیہ کی طرف سے ھٹ جائے گا اور انہوں نے تھک ھار کر یہ رشتہ منتخب کیا تھا اور ان کی سمجھ کے مطابق انہیں یہ مکمل امید تھی کہ ان کے گھر جاکر میں ان کے سامنے ان کی عزت رکھتے ھوئے کبھی بھی انکار نہیں کرونگا، کیونکہ میرے انکے گھر سے بہت اچھے تعلقات تھے!!!!!

میں نے فوراً اپنی چھٹی منسوخ کردیں اور گھر میں یہی کہا کہ مجھے کام کی زیادتی کی وجہ سےجلد ھی ڈیوٹی پر پہنچنا ھے اس لئے اب مجھے ابھی فوراً جانا پڑے گا، والدہ تو سمجھ گئیں لیکن والد صاحب کے دماغ میں یہ بات نہیں آئی، انہوں نے کہا بیٹا کوئی بات نہیں، مجھے خوشی ھے کہ تم کام کی طرف زیادہ دھیان رکھتے ھو، میں نےفوراً ھی تیزگام کی سیٹ بک کروائی اور تیسرے دن ھی وہاں سے بغیر کسی کو اطلاع دئیے ھوئے نکل گیا اور گھر پر یہی کہہ گیا کہ ابھی کسی کو نہ بتانا، میں جب پنڈی پہنچ جاؤں تب میرا ذکر کرسکتے ھیں کہ اچانک ھی دفتر سے ٹیلیگرام آیا تھا، مجبوراً مجھے جانا پڑا، پانچویں دن ھی میں راولپنڈی میں موجود تھا، ابھی چھٹیاں باقی تھیں تو میں سیدھا اسلام آباد چلا گیا اپنے رشتہ داروں کے پاس،!!!!!!!

انہوں نے اس وقت مجھے بتایا کہ وہ زادیہ اور انکی باجی اور امی یہاں آئے تھے اور تمھارا پوچھ رھے، اور ھم نے تمھارے بارے میں کچھ نہیں بتایا تھا، اس لئے کہ ایک تو تم کافی عرصہ سے یہاں نہیں آرھے ھو، اور دوسرے تمھارے اباجی کی وجہ سے بھی کہ وہ کہیں ھمیں کچھ اور نہ الزام دے دیں، میں بھی انہیں کیا کہتا خاموش ھوگیا، کاش کراچی میں ھی ان سے رابطہ کرلیتا تو شاید بات واضع ھوجاتی کہ ان کے آنے کا کیا مقصد تھا، مجھے دکھ بھی ھوا کہ ان لوگوں نے مجھ سے پوچھا کیوں نہیں، جبکہ ان کو میرے دفتر کا پتہ بھی تھا، خیر میں جب تک چھٹیاں تھیں، میں ان کے گھر پر ھی رھا!!!!

اور چھٹی ختم ھوتے ھی فوراً اسلام آباد سے راولپنڈی اپنے دوست افضل اور شفیق کے گھر پہنچا، جہاں میں انکے ساتھ ھی رھتا تھا، اور دونوں میرے بہت ھی اچھے دوست تھے اور ھم تینوں ایک ھی جگہ پر کام بھی کرتے تھے، وھاں کے ایک پڑوسی فیملی بھی بہت اچھی تھی، جو ھم تینوں کے لئے اکثر کھانا وغیرہ بھجوا دیا کرتے تھے، اور کبھی کبھی ھم بھی انہیں پکانے کا سامان دے دیا کرتے تھے، وھاں ھماری کافی رونق لگی رھتی تھی، ھمارا بہت خیال رکھتے تھے ان کے چھوٹے بچوں کو ھم تینوں پڑھا دیا کرتے تھے اور وہ لوگ ھم تینوں پر بہت مہربان تھے، اور ان کے گھر سے ایک اپنے رشتہ داروں سے بھی بڑھ کر ایک رشتہ بن گیا تھا انکی تین ھی لڑکیاں تھیں اور بھائی ابھی چھوٹے ھی تھے، جنہیں ھم پڑھاتے بھی تھے، اور افسوس کی بات یہ تھی کہ ان کے والد نہیں تھے، اور اماں جن کو ھم خالہ کہتے تھے اور انکی بڑی بیٹی دونوں ھی باھر نوکری کرتی تھیں اور بہت ھی مہربان اور اچھی سلجھی ھوئی فیملی تھی !!!!

دفتر میں اس دفعہ چھٹی ختم ھوتے ھی وقت پر ھی پہنچ گیا تھا، ورنہ میں تو اکثر چھٹی سے واپسی پر دس پندرہ دن تاخیر سے ھی پہنچتا تھا، وہاں پر سب حیران بھی تھے کہ آج یہ کیسا معجزہ ھوگیا، بہرحال نوکری شروع کردی تھی، اور فی الوقت میں نے کراچی ٹرانسفر کے احکامات کو وقتی طور پر رکوا دیا تھا جبکہ اسی دن میرے کراچی تبادلے کا لیٹر نکلنے ھی والا تھا، اپنے دوست شفیق جو پرسنل ڈپارٹمنٹ میں منیجر کا سیکریٹری تھا، اسے کہہ کر اس سے سفارش بھی کروالی تھی، اور اسی ظرح دن گزرتے رھے اور میں نے بھی گھر سے کوئی رابطہ قائم نہیں کیا، مگر ایک دن والد صاحب کا پیغام آیا کہ وہ لوگ اب شادی کے لئے ضد کررھے ھیں اور وہ چاھتے ھیں کہ بقرعید میں میری شادی ھوجائے،!!!!!

اب میں ایک اور کشمکش کا شکار ھوگیا کہ کس کی بات سنوں اپنے دل کی یا پھر ابا جی کی، میں نے ان کو جواب دیا کہ اس دفعہ کام کی بہت زیادتی ھے ابھی میں بقرعید پر نہیں آسکتا، پھر والد صاحب نے پھر مجھے لکھا کہ وہ لوگ بہت زد کررھے ھیں، اور بہت مشکل ھورھی ھے، میں نے کہا کہ مجبوری ھے اور ابھی کم از کم دو سال مزید انتظار کرنا پڑے گا، کافی خط و کتابت کے بعد آخر میں والد صاحب کا ایک خط آیا کہ انہوں نے آخری دفعہ کہا ھے کہ اگر آپ بقرعید پر شادی نہیں کرسکتے تو ھم یہ رشتہ ھی ختم کردیں گے، کیونکہ انکی لڑکی کیلئے بہت سے اچھے رشتہ آرھے ھیں، میری تو خوشی سے بانچھیں ھی کھل گئیں، میں نے بھی فوراً ھی وقت کی نزاکت سے فائدہ اٹھایا اور خط میں والد صاحب کو یہی لکھ کہ اباجی ان سے جاکر کہہ دیں کہ بھئی مجبوری ھے، ھم یہ رشتہ اس صورت میں نہیں کرسکتے، اگر آپ کے پاس اچھے رشتے آرھے ھیں تو ھماری طرف سے پوری اجازت ھے اور ھم اس رشتہ کو یہیں ختم کرتے ھیں،!!!!!

میں نے شکر ادا کیا چلو یہ اچھا ھی ھوا کہ ان کی طرف سے ھی یہ رشتہ ختم ھونے جا رھا ھے، ورنہ مجھے ان سے انکار کرتے ھوئے بہت افسوس ھوتا، کیونکہ وہ بہت اچھے لوگ تھے اور لڑکی بھی بہت اچھے کردار اور سیرت کی مالک تھی، اور ان کے گھر پر میری بہت ھی زیادہ عزت بھی تھی، اور بھی ان سب کو ایک عزت کا مقام دیتا تھا !!!!!!!

میری اب کچھ جان میں جان آئی، اور اب کچھ محنت سے ھی کام کرنے لگا کہیں ایسا نہ ھو کہ واقعی ابھی کراچی ٹرانسفر ھوجائے، اور میرے سینئیر وہ تو چاھتے بھی نہیں تھے کہ میں ان کے پاس سے کہیں اور چلاجاؤں، ادھر جہاں میں افضل کے پاس رھتا تھا وہ بھی اسی اثناء مین نوکری چھوڑ چکا تھا، پھر میں اور شفیق دونوں دفتر کے نددیک ھی ایک کمرے کے مکان میں شفٹ ھوگئے جہاں پہلے سے ھی میرا ایک دوست شاکر رہتا تھا، کچھ دنوں بعد شفیق بھی چلا گیا تو میں نے پھر ایک اور دوست نذر حسیں شاہ کے ساتھ ملکر ھی اک تین کمروں کے مکان کرایہ پر لے کر اس میں شفٹ ھوگئے، بس یہاں بھی کچھ دنوں تک ھی قیام رھا، اب روز بروز میرا دل کچھ زیادہ ھی بےچین ھوتا جارھا تھا، کبھی تو دل چاہ ھی نہیں رھا تھا اور اب پھر دل یہی چاہ رھا تھا کہ اب دوبارہ سفارش کرکے کراچی تبادلہ کرا ھی لوں،!!!!!!

اور کچھ قدرت نے ساتھ بھی دیا اور میرے ٹرانسفر کی درخواست منظور ھوگئی، جیسے ھی لیٹر مجھے ملا فوراً ھی میں نے جانے کی تیاری بھی کرلی، اس دوران میں نے ایک اور دوست عبدالسلام کے ذریعہ زادیہ اور اس کی باجی کو ایک مشترکہ خط لکھ کر میں نے ایک دفعہ پھر حالات کا جائزہ لینے کے بہانے کچھ اپنی بے چینی کا اس میں اظہار بھی کیا، اور صاف طور سے بھی لکھ دیا کہ میں زادیہ کو بہت چاھتا ھوں، اور اس سے شادی کرنا چاھتا ھوں، اگر زادیہ اور آپ لوگ اس بات سے راضی ھیں تو میں اپنے والدیں سے اس موضوع پر بات کرسکتا ھوں، مگر میں نے ان لوگوں کے یہاں اسلام آباد میں آنے کا ذکر نہیں کیا، میں نے یہی سوچا کہ اگر وہ خود مناسب سمجھیں گے تو خود ھی ذکر کردیں گے، ان کا جواب موصول ھوا لیکن پڑھ کر مایوسی ھوئی، باجی نے اپنے ھاتھ سے ھی لکھا کہ اب یہ ممکن نہیں ھے، اول تو تمھارے گھر والے اس بات کی اجازت بھی نہیں دیں گے اور ویسے بھی آپکے گھر والوں کے ساتھ دوبارہ تعلقات استوار ھونا بہت ھی مشکل ھے،اور زادیہ کا تمھارے بارے میں اس ظرح کی کوئی بھی رائے نہیں ھے اور نہ ھی اس نے کبھی تمھارے متعلق ایسا سوچا ھے،!!!!

میرا دماغ خراب ھوگیا میں نے فوراً پھر جواب لکھا کہ مجھے کم از کم زادیہ کے ھاتھ سے لکھا ھوا اگر جواب دے دیں یا مجھے ٹیلیفون پر اسکی ایک بار بات کرادیں، میں صرف اور صرف زادیہ کے منہ سے ھی سننا چاھتا ھوں، اس کے جواب میں مجھے وھاں سے انکار ھی ملا کہ نہ تو زادیہ نے تمھارے بارے میں کبھی ایسا سوچا تھا اور نہ ھی وہ ایسا سوچ سکتی ھے خدارا ھمیں اب پریشان نہ کرو، اور زادیہ تو تمام مردوں سے نفرت کرتی ھے، پھر میں نے وہ زادیہ کے اقرار نامہ جو اس نے مجھے پہلے لکھا تھا وہ باجی کو تفصیل سے لکھ کر پوچھا کہ پھر کیا زادیہ نے مجھ سے مذاق کیا تھا کیا اس نے ایک مجھ سے کھیل کھیلا تھا، اور نہ جانے کیا کچھ بُرا بھلا لکھ دیا، اور پھر اسکے بعد مجھے اس خط کا جواب موصول نہیں ھوا اور میں نے بھی اس کے بعد ان لوگوں سے کوئی رابطہ نہیں کیا،

اب میرا ٹرانسفر کراچی ھو چکا تھا، اور میں اب پھر نہیں چاہ رھا تھا کہ واپس کراچی جاؤں، لیکن بار بار اپنے ٹرانسفر کو رکوانا بھی اچھی بات نہیں تھی، شاید 1975 کے سال کا آخیر تھا، سردیوں کے دن قریب تھے اور اب مجھے نہ چاھتے ھوئے بھی کراچی جانا پڑ رھا تھا!!!!!!!!
------------------------------------
جاری ھے،!!!!!

عبدالرحمن سید
01-02-10, 12:46 PM
اب میرا ٹرانسفر کراچی ھو چکا تھا، اور میں اب پھر نہیں چاہ رھا تھا کہ واپس کراچی جاؤں، لیکن بار بار اپنے ٹرانسفر کو رکوانا بھی اچھی بات نہیں تھی، شاید 1975 کے سال کا آخیر تھا، سردیوں کے دن قریب تھے اور اب مجھے نہ چاھتے ھوئے بھی کراچی جانا پڑ رھا تھا!!!!!!!!

پھر ایک بار میں کراچی بذریعہ تیزگام راولپنڈی سے واپس جارھا تھا، اور تمام راستے اپنی خوشگوار یادوں اور ان جگہوں کے بارے میں سوچتا بھی جا رھا تھا، جہاں میں نے اپنی سروس کے دوران گھومتا پھرتا رھا ھوں، یہاں بھی میرے تین سال اس طرح گزرے کہ پتہ ھی نہیں چلا، یہاں پر بھی وقت بہت اچھا گزرا، سب سے بڑی بات یہ کہ میں نے یہاں بہت کچھ سیکھا اور کافی نئے دوست بھی ملے جو بہت ھی ملنسار اور میرے لئے اچھے مدد گار ثابت بھی ھوئے، ایک طرف سے تو مجھے دکھ بھی تھا کہ میں اس شہر کو چھوڑ رھا تھا، جو میرے پیدائش کا شہر تھا اور پرائمری اسکول کی بنیادی تعلیم بھی یہیں حاصل کی تھی دوسرے مجھے اس بات کی خوشی بھی تھی کہ میں واپس اپنے بہن بھائیوں اور والدہ کے پاس جارھا تھا، اس شہر میں بھی کافی اپنی اچھی یادیں وابستہ رھیں، جو میں کبھی نہیں بھول سکتا ھوں،

مجھے پنڈی کے ایک ایوب پارک جو مورگاہ کی طرف تھا، بہت ھی زیادہ پسند تھا، اور ریس کورس گراونڈ جہاں اس کے سامنے جو اب قاسم مارکیٹ کہلاتا ھے، ھمارا معصوم بچپن ان ملٹری کے کوارٹر میں گزرا تھا، اس کے علاوہ مری جاتے وقت راستے فیض آباد کے پار ھوتے ھی راول ڈیم اور اس کے آس پاس کا ایریا بہت ھی خوبصورت تھا اکثر میں وہاں پر فیملی کے ساتھ جاتا بھی رھا ھوں اور وھاں کی جھیل میں کشتی رانی بھی کی ھے اور ایک دفعہ تو ڈوبتے ڈوبتے بچا بھی ھوں وہ انہی اپنے رشتہ دار فیملی کے ساتھ اور اسلام آباد میں زیرو پوائنٹ کے پاس ایک پہاڑی پر شکرپڑیاں کا خوبصورت پارک جو وھاں سے آب پارہ تک یاسمین روز گارڈن تک جاتا تھا جہاں دنیا بھر کے مختلف گلاب کے پھولوں کے باغات تھے، اور اکثر وھیں پر بہار کے موسم میں پھولوں کی نمائش بھی ھوتی تھی، اسکے علاوہ ارجنٹائینا پارک بھی اپنی ایک اھمیت کا خوبصورت پکنک پوائنٹ تھا، آگے اسلام آباد سپر مارکیٹ اور جناح سپر مارکیٹ اور اسمبلی ھال کی خوبصورت بلڈنگ وھاں کی رونقوں میں سے ایک ھے، وھاں پر ایک چھوٹا سا چڑیاگھر بھی ھے اور اسکے ساتھ ھی پہاڑوں میں کوہ دامن میں کے نام سے ایک ریسٹورانٹ اور خوبصورت پکنک پوائنٹ بھی ھے،، اسکے علاوہ آب پارہ سے کچھ ھی فاصلے پر بری امام شاہ کا مزار بھی موجود ھے جہاں پورے ملک سے عقیدت مند حاضری دینے آتے ھیں، اور آخر میں پہاڑوں کے ساتھ ایک گاؤں جس کا نام سیدپور ھے، جس کو میں کبھی بھول نہیں سکتا وھاں پر تو کئی دفعہ میں اپنی اور رشتہ داروں کی فیملی کے ساتھ پکنک منانے جاتے تھے اور وہاں کے مقیم لوگ ھماری بہت عزت اور خوب آؤ بھگت بھی کرتے تھے، وھاں پر اکثر بندروں کی ٹولیاں پھرتی رھتی تھیں، جنہیں تمام بچے بڑے بہت تنگ کرتے تھے !!!!!

کیا کیا جگہیں مجھے یاد آرھی تھیں اور اب بس اداس سا چہرہ لئے ٹرین کی کھٹ کھٹا کھٹ سے بے خبر اپنے گزارے ھوئے وقت کو یاد کررھا تھا، کھڑکی میں بیٹھا سرسبز لہلہاتے ھوئے کھیت اور باغات کو مخالف سمت بھاگتے ھوئے بھی دیکھ رھا تھا یہ چیزیں کراچی میں دیکھنے کو کہاں ملتی ھیں، بس شاید قدرت دوبارہ آنے کا موقعہ دے یا نہ دے، سب کچھ اپنی آنکھوں میں سما دینا چاھتا تھا، اور رات ھوتے ھی اپنی پرانی یادوں کو دل میں بسائے اوپر کی برتھ پر سونے کی ناکام کوشش کرتا رھا، صبح ھوئی تو ٹرین کو سندھ کے صحراوں میں پایا جہاں مجھے اتنی زیادہ دلچسپی نہیں تھی سارے ریگستان اور سردیوں میں بھی ریت کے طوفان چلتے تھے جس کے لئے ھمیں کھڑکیاں بھی بند کرنی پڑتی تھیں !!!!!!!!

آخر کو تیزگام اپنی شان اور شوکت سے کھٹ کھٹا کھٹ ‌کے ساتھ سیٹیاں بجاتی ھوئی اور اپنی مخصوص رفتار کے ساتھ کراچی میں داخل ھو رھی تھی، صبح کے آٹھ یا نو بجے کا وقت تھا اور کراچی کینٹ اسٹیشن کے پہنچنے سے پہلے تیز گام کی رفتار کچھ کم ھوئی اور میرے وہی خوبصورت بچپن سے جوانی تک کا وہ یادگار محلہ جس سے میری بہت خوبصورت یادیں جڑی ھوئی تھیں، وہ علاقہ میری نظروں کے سامنے سے گزر رھا تھا اور میں اسے اپنی حسرت بھری نگاھوں سے دیکھ بھی رھا تھا،!!!!!!!

آسٹیشن سے ایک دوست کے ساتھ گھر پہنچ گیا اور اس دن تو بہت ھی زیادہ تھکا ھوا تھا، اس لئے کراچی کے ھمارے ڈویژنل آفس میں جاکر حاضری نہ لگا سکا، مگر دوسرے دن ھی صبح صبح آفس چلا گیا اور وھاں پر ایک دو کے علاوہ باقی تمام نئے اسٹاف کو دیکھا، سب نے بڑی گرمجوشی سے استقبال کیا، پھر وہاں کے ڈائریکٹر جناب خالد قریشی صاحب سے ملاقات کی، بہت ھی اچھی طرح انہوں نے مجھ سے بات کی اور میرے بارے تمام کوائف معلوم کئے اور پھر وہاں کے چیف اکاونٹنٹ عثمانی صاحب کے پاس بھیج دیا، وہ اتفاق سے والد صاحب کے دوست بھی تھے، انہوں نے میری رائے پوچھی کہ تم بتاؤ کہ تم یہاں کام کرنا پسند کرو گے یا کسی ھمارے پروجیکٹ پر جانا چاھو گے، میں نے کہا کہ جیسا بھی آپ میرے لئے بہتر سمجھ سکتے ھوں،

انہوں نے کہا کہ آفس میں تو ھمیشہ پابندی رھتی ھے اور ویسے بھی فی الحال یہاں جگہ بھی خالی نہیں ھے، بہتر ھوگا کہ ھمارے کسی پروجیکٹ پر چلے جاؤ، اس وقت انھوں نے کہا کہ انکے ایک پروجیکٹ پر کام ختم ھونے کو ھے اور ایک اور بہت بڑا پروجیکٹ وہیں پر کچھ دنوں میں ملنے والا ھے، تو میں سمجھتا ھوں کہ یہ تمھارے لئے بہتر ھوگا کہ ابھی سے جاکر وھاں کے پروجیکٹ اکاونٹنٹ کے پاس جاکر رپورٹ کرو، اور ان کے فی الحال اسسٹنٹ کے طور پر کام سنبھالو، اور اس طرح پروجیکٹ کے اکاونٹس کے کام کا بی تمھیں کچھ معلومات بھی ھوجائیں گی، میں نے ان کے اس مشورے کو مان لیا اور پھر انہوں نے اس پروجیکٹ پر ٹرانسفر کیلئے ٹرانسفر آرڈر کا حکم نامہ پرسنل سیکشن سے کہہ کر نکالوا دیا، اور جس پروجیکٹ پر مجھے بھیجا جارھا تھا وہ ایک تو سمندر کے ساتھ تھا اور وہاں پر شپ رپئیرنگ اور مینوفیکچرنگ کا کام ھوتا ھے، پہلے ھی کمپنی نے تین بڑے ڈرائی ڈاک بنا چکی تھی اور اس وقت ایک چھوٹی بلڈنگ کا کام اختتمام پر ھی تھا،

وھاں میں پہنچ تو گیا لیکن اندر جانے کیلئے اجازت نامے کی ضرورت تھی، میں نے انکو اپنا لیٹر دکھایا تو وہاں کی سیکوریٹی آفس نے مجھے ایک عارضی اجازت نامہ دے دیا، اس احکام کے ساتھ کہ سب سے پہلے آپ مستقل اجازت نامہ کا کارڈ بمعہ تصویر کے، اپنے آفس سے بنوائیں، اندر پہنچا دیکھا کہ بہت بڑا شپ یارڈ کا علاقہ ھے، کہیں بڑے بڑے بحری جہاز بن رھے ھیں اور تینوں بڑے ڈرائی ڈاک میں تین بڑے جہاز ٹھیک بھی ھو رھے ھیں، اور اتنا مشینوں اور کرینوں کا شور تھا کہ آپ ساتھ والے کی آواز سن بھی نہیں سکتے تھے، بڑی مشکل سے اپنی کنسٹرکشن کمپنی کے آفس پہنچا جو عارضی طور پو سیمنٹ کی چادروں اور نارمل سیمنٹ کی اینٹوں پر مشتمل تھا ایک پلاننگ ڈرائینگ اور ڈیزائیننگ کا آفس کچھ بہتر تھا جو عارضی کیبن جسے موبائیل آفس کہہ سکتے ھیں، اسکے علاؤہ ایک اسٹور اور پروجیکٹ منیجر کا آفس جو کچھ شاندار ظریقے سے بنایا گیا تھا،

میں نے مختصراً وھاں کا جائزہ لیا اور پہنچ گیا وھاں کے پروجیکٹ اکاؤنٹنٹ کے پاس، آفس باھر سے کوئی خاص تو نہیں تھا، لیکن انہوں نے اندر سے کچھ بہتر ھی خوبصورت سی سیٹنگ کی ھوئی تھی ساتھ دو میزیں تھیں، ایک ٹائپسٹ کے لئے اور دوسری ٹائم کیپر کیلئے بس ھمارا ایک یہی آفس تھا، وھاں شپ یارڈ کے شور کے علاوہ دھول مٹی سب کچھ اندر گھوم گھما کر تمام میزوں اور اندر کے ماحول کو اوٹ پٹانگ کردیتی تھی، میں ‌سیدھا اپنے پروجیکٹ اکاونٹنٹ جناب یامین صاحب سے ملا، یہ بھی والد صاحب کے ساتھیوں میں سے تھے اور ساتھ ھی آس پاس بیٹھے ھوئے لوگوں سے بھی علیک سلیک کی، ان کے ھاتھ میں اپنا لیٹر تھما دیا، انہوں نے فوراً بیٹھنے کے لئے کہا اور میں ان کی سامنے والی کرسی پر بیٹھ گیا اور وھی کرسی ھی میرے کام کی جگہ بھی بن گئی، کیونکہ کسی اور میز کی گنجائش بھی نہیں تھی،

یا اللٌہ میں کدھر پھنس گیا، خوامخواہ ھی میں نے پروجیکٹ کیلئے ھامی بھر لی تھی، بہر حال اب کیا کرسکتا تھا، مجبوراً ڈیوٹی جوائن کرلی تھی، اور ایک فوٹو دے کر وہاں کا مستقل گیٹ پاس بھی بنوا لیا تھا اندر آنے جانے کیلئے، پہلا دن تو بہت بور ھی گزرا لیکن آھستہ آہستہ دوسرے اسٹاف سے جان پہچان ھونے کی وجہ سے کچھ ھمت بندھ ھی گئی، سب اچھے ساتھی تھے اور وہاں کے انجئنیر بھی اخلاق کے بہت ھی اچھے تھے، اور جب کبھی تھک جاتا تو سامنے ھی سمندر کے ساتھ ھی پلیٹ فارم کے پاس بیٹھ جاتا اور بڑے بڑے بحری جہازوں کو دیکھتا رھتا، اور ساتھ ھی ڈرائی ڈاک میں جہازوں کی مرمت ھوتے ھوئے دیکھ کر بہت ھی انجوائے کرتا وہاں پر آپ جہاز کے کے نیچے آخر تک جو حصہ پانی میں ھوتا ھے وہ بھی صاف طور سے دیکھ سکتے ھیں، کیونکہ اس ڈرائی ڈاک میں بحری جہاز کے اندر آتے ھی، دروازے بند کرکے خودکار مشینوں اور پمپ سے سارا پانی لکال دیتے تھے اور وہاں خالی جہاز ھی رہ جاتا تھا اور اس کے علاوہ ایک منظر جب پانی خالی ھوجاتا تھا تو دنیا بھر کی مختلف چھوٹی بڑی مچھلیاں تڑپتی ھوئی نظر آتی تھیں اور لوگ اسٹیل کی پہلے ھی سے لگی ھوئی سیڑھیوں سے نیچے اتر کر مچھلیوں کو پکڑنے لگتے، کچھ تو انہیں باھر جاکر بیچتے کچھ دوستوں کو بانٹتے اور کچھ لوگ گھر پر اپنے ھی پکانے کے لئے لے جاتے، اور اس وقت جہاز کے نیچے لوگوں کو دیکھو تو چھوٹے چھوٹے بونوں کی طرح لگتے تھے،

اب میرا دل وھاں لگ چکا تھا کئی ھم عمر لڑکوں سے دوستی بھی ھوچکی تھی، ایک وہاں کے آفس میں میرا ایک پرانا اسکول کا کلاس فیلو بدرالمغیز بھی مل گیا اس کے علاوہ دلاور خان، لیاقت، محمود، شاھد عباس اور نہال زیدی تو میرے بہتریں دوست بن گئے تھے اور باقی جن کے نام یاد نہیں ھیں وہ بھی میرے بہت ھی اچھے دوستوں کی طرح ھی رھے،اور بڑی عمر کے لوگوں میں میرے پروجیکٹ اکاونٹنٹ یامین صاحب، غازی صاحب جو ٹائم کیپر تھے، نظام الدین پلاننگ انجینئر ، مولانا فضل الرحمن، سائٹ انجینئر اور شرافت صاحب انجینئر، اور رمضان خان صاحب جو میرے لئے پہلے بھی ایک محترم ھستی تھے اور آج بھی وہ میرے دل میں ھیں، آج وہ اس دنیا میں نہیں ھیں لیکن میں اب بھی انہیں اپنے دل میں بہت عزیز رکھتا ھوں، جن کا کہ میری زندگی میں ایک اھم کردار ھے، جنہوں نے مجھے ایک ایسا تحفہ دیا ھے جس کی وجہ سے میں آج تک ان کا یہ احسان زندگی بھر نہیں بھول سکتا، جسے میں آگے چل کر تفصیل سے بتاؤں گا، اس کے علاوہ سب کے باس جناب انجئنیر شوکت عزیز صاحب، جو کہ ابھی ابھی اُنہوں نئے پروجیکٹ کے لئے کام سنبھالا تھا، اور یہ سندھ کے بڑے بڑے پروجیکٹ ختم کرکے اس نئے پروجیکٹ کیلئے آئے تھے، شوکت صاحب نے میرے کیرئر کو بلند کرنے اور میری حوصلہ افزائی کیلئے اپنی پوری کوشش کی اور مجھے میں ایک بہترین ایسا مجھ میں ایک اعتماد دیا کہ میں آج تک ان کو بھی اپنے استادوں کے ساتھ ایک اھم اور عزت کا مقام اپنے دل میں رکھتا ھوں، ایک بات ھے کہ مجھے اس کمپنی میں ھر جگہ اللٌہ کے فضل سے ھر جگہ اچھی راہ نمائی کرنے والے لوگ ملے اور ان سب نے مجھے اچھی نصیحتوں اور مفید مشوروں سے نوازا، اور ایک وجہ یہ بھی تھی کہ جتنے بھی بڑی عمر کے لوگ تھے وہ سب زیادہ تر والد صاحب کے ساتھیوں میں سے تھے اور ان کے ساتھ کہیں نہ کہیں ساتھ اسی کمپنی میں کام بی کیا ھوا تھا،

کچھ دنوں بعد ھمرے پروجیکٹ اکاونٹنٹ جناب یامین خان صاحب کو چیف انٹرنل آڈیٹر پر ترقی دے کر انکا ٹرانسفر ڈویژنل آفس میں کردیا، ان کا بھی میں بہت بہت احسان مند ھوں کے انہوں نے بھی مجھے پروجیکٹ اکاونٹس کے بارے میں تمام کاموں سے متعلق اچھی طرح روشناس کرایا، اور وہ مجھے اپنی سیٹ پر بٹھا کر چلے گئے اور مجھے کمپنی نے وہاں کے پروجیکٹ منیجر جناب شوکت عزیز صاحب کی سفارش پر وہاں کے پروجیکٹ اکاونٹنٹ کے درجے پر ترقی دے کر کچھ تنخواہ میں بھی ساتھ اضافہ کردیا، جس سے تو میری خوشی کا کوئی ٹھکانا نہیں رھا، اور میرا پہلا پروجیکٹ تھا جس کا کہ میں خود پہلی بار ھی ایک مکمل اکاونٹنٹ کا کام سنبھالے ھوا تھا اور مجھے ایک اسسٹنٹ بھی دے دیا گیا تھا جو کہ میرا پہلا شاگرد بھی تھا!!!

مجھے آس پروجیکٹ پر کافی سے زیادہ حوصلہ افزائی ملی اور میں نے یہاں پر خوب محنت سے کام کیا، جس کے لئے اللٌہ تعالی نے میرا ھر قدم پر ساتھ دیا، اور میں تمام کمپنی کے افسران جو ھیڈ آفس اور ڈویژنل آفس میں تھے مجھ سے سب بہت ھی زیادہ خوش تھے، اور جس کی وجہ سے مجھے کافی ترقی اور اچھے بونس بھی ملے، جس کا میں اللٌہ تعالیٰ سے جتنا بھی شکر کروں کم ھے، اب میں تو بہت ھی آرام سے وھاں بلاجھجک کام کے ساتھ خوب انجوائے بھی کررھا تھا دوست بھی بہت اچھے تھے اور ان کے ساتھ باھر خوب گھومنے پھرنے بھی جاتا رھا، میرے گھر سے تقریباً 40 کلومیٹر کے فاصلے پر تھا اور مجھے یہاں تک پہنچتے ھوئے کم سے کم دو گھنٹے لگ جاتے تھے کیونکہ مجھے دو بسیں بدل کر آنا پڑتا تھا، بعد میں مجھے کمپنی کی ظرف سے ٹرانسپورٹ کی سہولت تو ملی لیکن اس کے لئے بھی مجھے ایک بس مین جاکر تقریباً 25 کلومیٹر کے فاصلے پر اتر کر کمپنی کی ٹرانسپورٹ پکڑنی پڑتی تھی، جو مجھ سے کبھی کبھی لیٹ ھونے کی صورت میں میرا پہنچنا مشکل ھوتا تھا،

آخرکار والد صاحب کا بھی کراچی ھی ٹرانسفر ھوگیا اور وہ ڈویژنل آفس میں کام کرنے لگے اور یہ بھی خوشی کی بات ھوگئی، مجھے بھی اس پروجیکٹ پر ایک سال ھونے کو تھا اور سال 1976 کے آخیر میں ھی سردیوں کے دن کچھ نزدیک ھی تھے، اور میں نے ایک نئی موٹر سائیکل ھونڈا 70 خرید ھی لی اس وقت جاپان اسمبل 7500 روپے کی خریدی تھی، بالکل نئی ایک ھونڈا کے شو روم سے خریدی تھی مگر اسکے لئے مجھے والد صاحب سے اجازت لینے کیلئے بہت ھی مشکل پیش آئی، کیونکہ وہ بہت ڈرتے تھے، اب مجھے اس موٹر سائیکل سے، بہت ھی کافی آسانی ھوگئی، تقریباً 40 منٹ میں دفتر پہنچ جاتا تھا، اور گھومنے پھرنے میں بھی آسانی ھوتی تھی،

ایک دن مجھے دفتر میں کسی نے اکر اطلاع دی کہ گیٹ پر میرا کوئی مہمان آیا ھوا ھے، میں خود حیران تھا کہ یہاں پر کون آسکتا تھا، میں فوراً مین گیٹ پر پہنچا تو دیکھا جو ھمارے رشتہ دار اسلام آباد میں تھے ان کا بیٹا عبدالعظیم تھا، میں نے گھبرا کر اس سے پوچھا کہ کیا بات ھے، اس نے فوراً مجھ سے کہا کہ ایک تمھارے لئے زادیہ کی باجی کا پیغام ھے، اور پیغام سنتے ھی میرے تو ھوش اڑ گئے، میں کچھ پاگل سا ھو گیا !!!!!!!!!!
--------------------------------------------
جاری ھے،!!!!

عبدالرحمن سید
01-02-10, 12:52 PM
ایک دن مجھے دفتر میں کسی نے اکر اطلاع دی کہ گیٹ پر میرا کوئی مہمان آیا ھوا ھے، میں خود حیران تھا کہ یہاں پر کون آسکتا تھا، میں فوراً مین گیٹ پر پہنچا تو دیکھا جو ھمارے رشتہ دار اسلام آباد میں تھے ان کا بیٹا عبدالعظیم تھا، میں نے گھبرا کر اس سے پوچھا کہ کیا بات ھے، اس نے فوراً مجھ سے کہا کہ ایک تمھارے لئے زادیہ کی باجی کا پیغام ھے، اور پیغام سنتے ھی میرے تو ھوش اڑ گئے، میں کچھ پاگل سا ھو گیا !!!!!!!!!!

مجھے افسوس ھے کہ میں نے ایک دم آگے چھلانگ لگادی یہ واقعہ دراصل 1977 کے مڈل کے لگھ بھگ ھوگا، جس وقت میری عمر 27 سال کی ھوگی، اس سے پہلے کا ایک واقعہ تو مین بتانا ھی بھول گیا، جب میں راولپنڈی سے واپس آیا تو میرے لئے ایک مشکل یہ ھوگئی کہ جہاں میری بات پکی ھوئی تھی، وھاں پر والد صاحب نے ان کی خواھش کے مطابق یہ رشتہ ختم کردیا ھا اور واپس جیکب آباد واپس چلے گئے تھے، مجھے اس رشتہ کے ختم ھونے کا افسوس بھی تھا اور ایک طرح سے اطمنان بھی تھا کہ جس لڑکی کو میں نے اس نظر سے دیکھا نہیں اس سے میں شادی کیسے کر سکتا ھوں، وہ بہت اچھے لوگ تھے، مگر افسوس اس بات کا تھا کہ ان کے ساتھ پھر ویسے تعلقات نہیں رھے جیسے کہ پہلے تھے، مگر والد صاحب گھر پر ایک نصیحت ضرور کرگئے تھے کہ جب تک اس لڑکی کی شادی نہیں ھوگی، میری بھی شادی نہیں ھوسکتی، میں بھی اس سے خوش تھا،

خیر بات آئی گئی ھوگی اس لڑکی کی بعد میں شادی ھوگئی تو ھمارے گھر میں کچھ اطمنان سا ھوگیا، کیونکہ اس عرصہ تک ھمارے اور ان کے درمیان تعلقات کشیدہ رھے، جس کا کہ مجھے تو بہت ھی زیادہ افسوس رھا، پھر دوسرے سال 1977 کے شروع میں والدصاحب کا تبادلہ کراچی میں ھو ھی گیا، اور پھر آتے ھی انہوں نے میری شادی کیلئے بھاگ دوڑ شروع کردی اور میں تو ان کی وجہ سے پریشان ھوگیا اور جہاں بھی جاتے اور لڑکی کو پسند کرآتے اور سب سے لڑکی کی تعریف کرکے کوشش کرتے کہ میں کسی طرح بھی راضی ھو جاؤں، اور زیادہ تر لوگ بھی یہی چاھتے تھے کہ ان کی بیٹی کی شادی مجھ سے ھو، اب تو گھر میں میرا اٹھنا بیٹھنا سونا جاگنا بہت مشکل ھو گیا، میں تو چاھتا تھا کہ بہنوں کی شادی پہلے ھوجائے اور پھر بعد میں اپنے لئے سوچوں گا!!!!!

اب تو میں نے گھر والوں کے ساتھ جانا ھی چھوڑ دیا تھا، بس اپنے دفتر سے آنے کے بعد کچھ کھا پی کر تازہ دم ھو جاتا اور پھر تیار ھوکر موٹر سائیکل اسٹارٹ کرکے باھر نکل جاتا، ان کو میں پکڑائی ھی نہیں دیتا تھا اور رات گئے تک گھر پر واپس آتا تھا، کیونکہ جس وقت بھی دیکھو میری شادی کا موضوع ھی چل رھا ھوتا تھا اور کوئی نہ کوئی گھر پر کوئی مہمان ھوتا تھا اور سب کے پاس ایک ھی موضوع ھوتا تھا، گھر پر ان دنوں بس ٹیلیفون کی کمی تھی، جو اس وقت بہت سفارش یا رشوت کھلا کر ھی حاصل کیا جاسکتا تھا، جو ھمارے بس میں نہیں تھا اور یہ ھمارے لئے اچھا بھی تھا، ورنہ اس پر بھی میرے ھی پیغامات ھی آتے رھتے، نہ جانے کیوں میرا دل اب شادی کے لفظ سے اکتا سا گیا تھا،

کبھی کبھی دفتر میں بھی ٹیلیفوں بھی آجاتا تھا، کسی نہ کسی خاتون کا اور وہ مجھ سے کوئی نہ کوئی الٹا ھی سوال کرتیں مثلاً آپ کو کس بات کا گھمنڈ ھے جو آپ شادی سے انکار کررھے ھیں، یا اگر کوئی پسند ھو تو کہہ دو مردوں کی ظرح ھمت کرکے دیکھو، یا پھر کہ کوئی لڑکی چاھتی ھے تم سے شادی کرنا اسکا دل تو مت توڑو، اس سے پہلے کہ میں کوئی جواب دوں لائن ھی بند ھوجاتی، اور کئی دفعہ تو گھر میں داخل ھوتے ھی کوئی نہ کوئی لڑکی سامنے آجاتی جنہیں میں جانتا تھا، اور اکثر فیملی تعلقات کی وجہ سے گھر میں آنا جانا رھتا تھا، اور ایسی نطروں سے دیکھتی کہ میں خود بھی حیران پریشاں کہ یہ میرے ساتھ ھی کیوں ھورھا ھے، اور اب تو میں نے کسی فیملی کے گھر بھی آنا جانا بند کردیا تھا،

اب تو والد صاحب بھی مجھ سے ھر دفعہ شادی کیلئے انکار سے تنگ آچکے تھے اور اب آہستہ آہستہ اس موضوع کا ذکر ختم ھوتا جا رھا تھا، چلو شکر ھے کچھ جان میں جان آئی، مگر مجھے اب تک اور کوئی لڑکی سمجھ میں ھی نہیں آئی اور مجھے ھمیشہ زادیہ کی ھی یاد آتی رھتی کہ نہ جانے وہ لوگ کیسے ھونگے، جانے کی ھمت نہیں کرسکتا تھا جبکہ مجھے راولپنڈی سے آئے ھوئے بھی ڈیڑھ سال ھونے والا تھا، اور اس عرصہ میں بس سروس پر زیادہ زور رھا کیونکہ مجھے تو زیرتعمیر کنسٹرکشن پروجیکٹ پر کام کرنا بہت زیادہ پے چیدہ اور مشکل نطر آیا بنسبت ھمارے ائرکنڈیشنڈ ھیڈ آفس یا ڈوژنل آفس کے اور اسی لئے میں مصروف بھی بہت زیادہ رھا،

آخر میں پھر اسی موضوع پر واپس آتا ھوں کہ ایک میرا کزن عبدالعظیم آفس میں زادیہ کی باجی کا پیغام لے کر آیا تھا، اسے میں اپنے دفتر کے کمرے میں عارضی گیٹ پاس بنا کر لے آیا تھا، چائے وغیرہ پینے کے بعد میں نے اس سے پوچھا تو اس نے کہا کہ باھر چلتے ھیں، میں بہت شش و پنج میں تھا دوپہر کا وقت تھا ھم دونوں سمندر کے ساتھ ایک بڑے بحری جہاز کے سائے میں ٹہلتے ھوئے بات کرنے لگے، عظیم نے بتایا کہ بھائی وہ زادیہ کے والد کا تو ایک سال ھوگیا انتقال ھوگیا تھا، اور اسکے دو یا تین مہینے بعد زادیہ کی شادی بھی ھوگئی اور وہ دبئی اپنے شوھر کے ساتھ چلی گئی، اور باجی ھمارے گھر آئی تھیں اور انہوں نے مجھے آپ تک یہ پیغام پہنچانے کو کہا ھے!!!!!!!!!!

میں نے پھر اس سے کہا کہ جب زادیہ کی شادی ھوگئی ھے تو اب مجھے یہ پیغام پہنچانے کی کیا ضرورت تھی، اور مجھے خالو کے انتقال کا تو بہت ھی افسوس ھوا، اللٌہ انہیں جنت الفردوس میں جگہ دے، آمین،!!!! مگر یہ بتاؤ تم لوگ کب اسلام آباد سے آئے، اور مجھے کیوں نہیں بتایا، میں نے سوال کیاَ!!!! جواباً اس نے کہا کہ بس یہاں ویسے ھی اپنی باجی سے ملنے آئے تھے، اور بس کچھ ھی دنوں میں واپس چلیے جائیں گے،!!!!میں نے اور تفصیل معلوم کرنا چاھی مگر اس نے کہا کہ مجھے کچھ زیادہ تو پتہ نہیں لیکن اتنا ضرور پتہ ھے زادیہ کے والد کو بلڈکینسر ھوگیا تھا اور بیماری کے پتہ چلنے کے چھ مہینے بعد بہت ھی تکلیف اٹھانے اٹھاتے چل بسے، اور ان کے انتقال کے بعد ان کے بزنس کو انکے پارٹنر نے چال بازی سے اپنے نام کرلیا اور انکو صرف ایک پرانی گاڑی انکے حصے میں واپس دے دی جس کو انہوں نے بیچ کر کچھ اپنا خرچہ چلایا اور پھر دونوں بہنوں نے نوکری شروع کردی تھی،!!!!!

اور پھر اس نے مجھے کچھ تفصیل سے بھی بتایا کہ بعد میں اں کی والدہ کے پاس دبئی سے ان کے چچا نے ایک باجی کے لئے رشتہ بھیجا تھا، اور ان کے چچا نے یہ وعدہ بھی کیا تھا کہ شادی کے بعد وہ سب کو وہیں دبئی میں بلوا لیں گے، لیکن جب لڑکا باجی کو دیکھنے دبئی سے آیا تو اس نے باجی کے بجائے زادیہ کو پسند کیا مگر انہوں نے یہی کہا کہ یہ نہیں ھوسکتا، پہلے بڑی کی شادی ھوگی پھر اس نے انہیں یہی کہا کہ جب آپ لوگ وہاں آجائیں گے تو بڑی کا بھی رشتہ وہیں پر کرسکتے ھیں، لیکن زادیہ نے تو بالکل ھی انکار کردیا تھا، وہ آدمی شاید کسی ھوٹل میں ٹہرا ھوا تھا، اس نے انکو اپنا روم نمبر اور وہاں کا ٹیلیفون نمبر دیا اور شاید دعوت بھی کی تھی اور کہا کہ میں ایک ھفتے تک یہاں ٹہرا ھوا ھوں، اگر آپ لوگ زادیہ کا رشتہ دینا چاھتے ھیں تو میں یہ وعدہ کرتا ھوں کہ شادی کے بعد وہاں دبئی جاکر سب کے ویزوں کا بندوبست کرکے وہیں دبئی بلوالوں گا، مگر زادیہ تھی کہ وہ کسی صورت میں راضی نہیں تھی !!!!!

عظیم نے مزید کہا کہ بھائی !!!! باجی نے بتایا کہ انہوں نے زادیہ پر زور دیا کہ اب یہاں پر ھمیں کوئی پوچھنے والا نہیں ھے، خدارا اس رشتہ پر راضی ھوجاؤ، اور پھر ھم تینوں ساتھ ھی ویزے آنے کے بعد دبئی شفٹ ھوجائیں گے، مگر زادیہ مان کر ھی نہیں دیتی تھی آخر ماں کے ضد اور رونے دھونے سے شاید زادیہ راضی ھوگئی تھی، پھر زادیہ کا اس آدمی کے ساتھ صرف نکاح کردیا اس شرط پر کہ جب وہ تینوں کے ویزے لے کر آئے گا تو ھی ھم اس کی رخصتی کریں گے، اور پھر وہ آدمی نکاح کرکے نکاح نامہ کی کاپی لے کر واپس دبئی چلا گیا، اور اس کے بعد انکے چچا نے دبئی سے ٹیلیفون کرکے تسلی بھی دی کہ وہ آپ سب کے ویزوں کا بندوبست کررھے ھیں اور جلد ھی زادیہ کا دولہا آپ سب کو لے آئے گا،!!!!!

میں تو یہ سب کچھ میرے کزن عظیم کی زبانی سن کر بہت ھی زیادہ پریشان ھوگیا، اور افسوس اس بات کا تھا کہ مجھے پنڈی سے آئے ھوئے بھی ڈیڑھ سال سے بھی زیادہ عرصہ ھوگیا تھا لیکن مجھے کہیں سے بھی پتہ نہیں چل سکا کہ اتنا سب کچھ ھوگیا، جس کی خبر مجھ تک نہ پہنچ سکی، میں انکے والد کے ڈر سے ھی نہیں جارھا تھا اور نہ ھی اس بارے میں مجھے ان لوگوں نے اطلاع دی تھی، نہ جانے ان لوگوں کے دماغ میں کیا چل رھا تھا، مجھے یہ سن کر بہت بڑا صدمہ پہنچا تھا کہ جس ظرح مجھے آج اطلاع بھیجی ھے اس طرح پہلے بھی یہ لوگ کر سکتے تھے، اور خالو کے انتقال کی خبر تو کم از کم مجھے دے ھی سکتے تھے کہ میں ان کے جنازے کو کاندھا اگر نہ دے سکتا تھا تو کم از کم ان کی تعزیت کیلئے تو پہنچ سکتا تھا، انکے لئے میں دعائیں تو کر ھی سکتا تھا، وہ چاھے میرے کتنے ھی کیوں نہ خلاف تھے، لیکں میں انہیں اپنے دل میں ایک عزت کا مقام دیتا تھا کیونکہ میں اپنے بچپن سے جوانی کی حدود تک ان کی خدمات اور میرے لئے پیار اور خلوص کو کبھی نہیں بھول سکتا تھا، اور انکی مجھ سے ناراضگی بھی اپنی جگہ بالکل صحیح تھی!!!!!

اور نہ جانے کتنے سوال میرے ذہن میں گھوم رھے تھے، صرف ایک مرد کا سہارا حاصل کرنے کیلئے زادیہ کی قربانی کیوں دی گئی اور اگر اس کی قربانی دینے سے پہلے اگر مجھے بتادیتے تو میں بھی شاید ان کے لئے ایک سہارا بن سکتا تھا، اگر میں اس وقت ان کے لئے کچھ نہ کرپاتا تو وہ پھر یہ قدم اٹھا سکتے تھے، اور ایک بات اور عظیم نے بتائی جو شاید پہلے بتانا نہیں چاھتا تھا، کہ میں کچھ زیادہ افسردہ نہ ھوجاؤں، لیکن اس نے مزید مجھ سے کہا کہ بھائی ایک بات اور ھے کہ میرے خیال میں زادیہ کے شوھر نے ان سب کو دھوکا دیا ھے،!!! وہ کیا، میں نے بے چینی کے عالم میں اس سے پوچھا، !!! اس نے کہا کہ وہ آدمی جب نکاح نامہ لے کر گیا تو شاید پندرہ بیس دنوں کے بعد صرف زادیہ کا ھی ویزہ لے کر آیا، اور باقی دونوں کا نہیں، جبکہ اس نے اور انکے وہاں چچا نے یہ مکمل یقین دلایا تھا کہ وہ تینوں کے ویزوں ‌کا بندوبست کررھے ھیں اور سب کے کوائف پاسپورٹ اور سارے ضروری دستاویرات بمعہ شناختی کارڈ کی کاپیاں عربی ترجمہ کے ساتھ اور زادیہ کا نکاح نامہ وغیرہ سب کچھ ساتھ لے گیا تھا!!!!!!

عظیم نے بات کو مزید بڑھاتے ھوئے کہا کہ جب وہ دولہا میاں دبئی سے واپس آئے تو صرف زادیہ کا ھی ویزا اس کے ھاتھ میں تھا، انہوں نے پوچھا کہ یہ کیا چکر ھے باقی ویزے کہاں ھیں،!!!! تو اس نے جواب دیا کہ جب تک زادیہ دبئی میں نہیں پہنچے گی ویزے کی کاروائی نہیں ھوسکتی، کیونکہ وہاں سے زادیہ کے اقامہ کی تصدیق نامہ کے ساتھ ھی اسکی ماں اور بہن کا ویزا نکالا جاسکتا ھے، ورنہ بہت مشکل ھے،!!!! اور اس نے ان سے یہ بھی کہا کہ اسنے اپنی ھر ممکن کوشش کی ھے لیکن افسوس کامیابی نہیں ھوئی، یا پھر آپکو اس کی بڑی بہن کا رشتہ وہیں دبئی یا شارجہ یا پھر ابوظہبی میں چچا کو کہہ کر کرادیں تو یہ بھی وھاں جا سکتی ھیں، جب تک آپ کے یعنی انکی والدہ کا بندوبست ھو جائے گا، اب انکی والدہ دوسری بیٹی شادی کیلئے اور مزید انتظار نہیں کرسکتی تھیں، اسلئے ان دونوں نے زادیہ پر شاید زور دیا ھوگا یا زادیہ خود ھی مان گئی ھوگی اور دونوں نے یہی سوچا ھوگا کہ ٹھیک ھے زادیہ کو رخصت کردیتے ھیں اس کے بعد جیسے ھی ویزے کا بندوبست ھوجائے گا پھر ھم دونوں چلے جائیں گے، !!!!!

پھر کیا ھوا میں نے عظیم سے پوچھا،!!!! اس نے کہا کہ زادیہ کو یہاں سے رخصت ھوئے دو مہینے ھوگئے ھیں، اور اسکے بعد سے ویزا تو دور کی بات ھے، نہ تو کوئی زادیہ کی ان سے خط و کتابت ھے اور نہ ھی کوئی ٹیلیفون یا ٹیلیگرام آیا ھے، انہوں نے اس دولہا میاں کے بتائے ھوئے ایڈریس اور اسکے گھر کے نمبر پر ٹیلیفون پر رابطہ بھی کیا لیکن وہ نمبر ھی شاید غلط تھا یا وہ لوگ کہیں اور شفٹ ھوگئے تھے، ان کے چچا سے بھی ٹیلیفون پر رابطہ کیا انہوں نے بس یہی کہا !!!! کہ فکر نہیں کرو زادیہ بالکل خیریت سے ھے اور وہ آپ دونوں کے ویزوں کا بندوبست کررھی ھے، جیسے ھی ویزا مل جائے گا تو آپ دونوں کو بلوا لیں گے، اس طرح چچا نے تسلی بھی دے دی،!!!!!!! جب انہوں نے کہا کہ کم از کم ھماری زادیہ سے بات تو کرادو یا کوئی صحیح ٹیلیفون نمبر تو دے دو !!!!!!! تو انہوں جواب دیا کہ میں تو 300 کلومیٹر دور ابوظہبی میں رھتا ھوں اور زادیہ شارجہ میں شفٹ ھوگئی ھے، جس کی وجہ سے فی الحال یہ ممکن نہیں ھے، جیسے ھی میں وہاں جاؤں گا آپ لوگوں سے میں خود آپ دونوں کی زادیہ سے بات کرادوں گا وہ اب جس جگہ شفٹ ھوگئی ھیں، وھاں پر ابھی ٹیلیفوں کا کنکشن نہیں ھے، جیسے ھی ٹیلیفون لگ جائے گا میں فوراً ھی آپکو اطلاع کردونگا !!!!!!!

اس کے بعد عظیم خاموش ھوگیا تھا، اور یہی کہا کہ یہ اب تک کی آخری اطلاعات ھیں، اور اب شاید وہ بہت زیادہ پریشان اسلئے ھیں کہ ھوسکتا ھے کہ اب شاید ان حالات میں تمھاری یاد آرھی ھو، اور انہیں تمھاری مدد کی ضرورت ھو، اس نے طنزیہ انداز میں کہا،!!!!! مجھے اس کا یہ انداز پسند نہیں آیا، لیکن میں اسکا احسان مند تھا کہ اس نے مجھے یہ تمام معلومات اپنی ایمانداری سے مجھ تک پہنچائی، حالانکہ اس نے مجھ سے یہ بھی کہا کہ باجی نے اسے بالکل منع کیا تھا یہ ساری تفصیل بتانے کیلئے، !!!!!!! میں تو عظیم کی زبانی یہ تفصیل سن کر حیران اور پریشان رہ گیا، اور میں نے اس سے دوبارہ ھر بات کی تصدیق بھی کی اور اسی دن آفس کے فوراً بعد سیدھا ان کے گھر پہنچا اور موٹر سائیکل ایک طرف کھڑی کرکے ان کی انہیں سیڑھیوں پر پھر ایک بار آہستہ آہستہ چڑھ رھا تھا، جہاں سے دو بار ذلیل ھو کر واپس آیا تھا، !!!!!!!!
ـــــــــــــــــــــــــ ـــــــــــــــــــــــــ ـــ
جاری ھے،!!!!

عبدالرحمن سید
01-02-10, 05:49 PM
میں تو عظیم کی زبانی یہ تفصیل سن کر حیران اور پریشان رہ گیا، میں نے اس سے دوبارہ ھر بات کی تصدیق بھی کی، اسی دن آفس کے فوراً بعد سیدھا ان کے گھر پہنچا اور موٹر سائیکل ایک طرف کھڑی کرکے ان کی انہیں سیڑھیوں پر پھر ایک بار آہستہ آہستہ چڑھ رھا تھا، جہاں سے دو بار ذلیل ھو کر واپس آیا تھا، !!!!!!!!

دروازے پر آہستہ سے دستک دی تو فوراً ھی دروازہ کھلا اور سامنے وہاں کے مالک مکان کو پایا، جو مجھے جانتے بھی تھے اور بہت ھی اچھی اور بااخلاق فیملی تھی، سلام دعاء کے بعد انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ تم کہاں تھے اتنے عرصہ تک تم نے اپنی خالہ کی خبر تک نہ لی بہت افسوس ھے،!!! میں نے جواب دیا کہ مجھے کسی نے اطلاع ھی نہیں ‌دی، آج ھی مجھے سب کچھ معلوم ھوا ھے، تو میں فوراً ھی حاضر ھوگیا ھوں، مگر یہ لوگ کہاں گئے !!!! انہوں نے جوب دیا کہ برابر میں جو گیسٹ روم ھے وہاں پر شفٹ ھوگئے ھیں، !!! میں نے ان سے اجازت طلب کی اور برابر کے گیسٹ روم کا دروازہ کھٹکھٹایا، دروازہ کھلا اور سامنے باجی کو پایا، اور میں اندر پہنچا تو خالہ جان نے مجھے گلے لگایا اور اور خوب رونے لگیں، اور بس روتے روتے وہ بہت کچھ کہہ رھی تھیں، جو مجھے پہلے ھی سے معلوم تھا، اور باجی ایک طرف منہ کئے ھوئے خاموش بیٹھی تھیں، جیسے مجھ سے ناراض ھوں !!!!!!!

میں نے خالہ کو دلاسہ دیتے ھوئے کہا کہ اب میں آگیا ھوں اپکی ساری پریشانیاں دور ھوجائیں گی فکر نہ کریں، مگر مجھے صرف یہ بتادیں کہ یہ سب کچھ ھوگیا اور آپ لوگوں نے مجھے کچھ بتانا بھی گوارہ نہیں کیا، کم از کم مجھے کسی کے ذریعے بھی پیغام بھجوا سکتے تھے!!!! باجی نے ذرا غصے کے موڈ میں کہا کہ تم تو راولپنڈی میں تھے اور تمھیں ھم نے ڈسٹرب کرنا مناسب نہیں سمجھا، اور کرکے بھی کیا فائدہ تھا!!!! میں نے بھی پوچھا، کیوں اس کی کیا وجہ تھی میں نے پنڈی سے خط بھی لکھا تھا اس میں میرے آفس کا فون نمبر بھی تھا، کم از کم خالو کی وفات پر تو مجھے فون کرسکتی تھیں !!!! باجی نے کہا کہ میں نے وھاں بھی تمھیں ٹیلیفون کیا تھا، پتہ چلا تھا کہ تمھارا کراچی ٹرانسفر ھوگیا ھے اور اس کے علاوہ تمھارے گھر بھی پیغام بھیجا تھا، اور تمھارے کراچی کے آفس میں بھی فون کیا تھا، انہوں نے کہا کہ اس نام کا کوئی بندہ یہاں کام نہیں کرتا ھے !!!! میں نے جوب دیا کہ مجھے کوئی بھی کسی قسم کی اطلاع تمھاری طرف سے نہیں ملی، نہ گھر پر نہ آفس میں، آج ھی عظیم نے آکر مجھے بتایا ھے تو میں چلا آیا ھوں!!!!

پھر ان دونوں نے ساری شروع سے لیکر اب تک کی داستان ھو بہو وھی سنادی، جو مجھے عظیم نے بیان کی تھی، اور کہا کہ جب سے زادیہ گئی ھے، اس کی کوئی اطلاع نہیں ھے، اور جو کچھ بھی جمع پونجی تھی بالکل ختم ھونےکو ھے، جو بھی تمھارے خالو کے انتقال کے بعد ھمارے حصے میں گاڑی بیچ کر جو بھی رقم آئی تھی، اس میں سے کچھ زادیہ کی شادی اور دوسرے گھر کے اخراجات میں خرچ ھوگئے، اور بس آگے کچھ نہیں بچا ھم سب لٹ گئے، برباد ھوگئے، اور ھماری بیٹی بھی چلی گئ اور پھر خالہ جان نے رونا شروع کردیا، !!!! میں نے باجی سے پھر یہ پوچھا کہ یہ سب کچھ کس کے مشورے پر کیا تھا!!!! باجی نے جوب دیا کہ ھمارے چچا جو ابوظہبی میں ھیں، ان سے کہا تھا کہ ابو کے انتقال کے بعد اب ھمارا یہاں کوئی نہیں ھے، ھمارے لئے کچھ کریں تو ھمیں انہوں نے کہا کہ میں آپ دونوں بہنوں کے لئے رشتہ یہاں پر کرواتا ھوں اور یہی ایک صورت ھے کہ آپ تینوں یہاں پر آسکتی ھیں، !!!!! میں نے بس اتنا کہا کہ پھر تم نے اپنے آپ کو بچا لیا اور زادیہ کو اس آگ میں جھونک دیا، !!!!باجی نے پھر قسم کھاتے ھوئے کہا کہ میرے لئے ھی اس خبیث کا رشتہ آیا تھا لیکن اس نے میرے بجائے زادیہ کو ھی پسند کیا تو ھم نے مجبور ھو کر کیونکہ اور کوئی راستہ ھمارے پاس نہیں تھا زادیہ کو ھی اس شادی کے لئے راضی کرھی لیا!!!!!!!

میں نے پوچھا کہ اب بتاؤ کیا کرنا ھے، اب جو ھو چکا اسے تقدیر کا فیصلہ سمجھ کر اللٌہ سے یہی دعاء کرتی رھو کہ کوئی بہتر صورت نکل آئے، میرے آنے سے انہیں کچھ سکون ملا اور جو کچھ بھی ھوا مجھے اس کا علم نہیں تھا، ورنہ ھوسکتا تھا کہ میں ان کے لئے ایک سہارا بن سکتا تھا بس کیا کریں اللٌہ کو یہی منظور تھا، انکی اماں نے کہا کہ مجھے کسی طرح سے بھی میری بچی سے بات کرادو، میں نے کہا کہ کل شام کو چلتے ھیں ٹیلفون کے آفس پھر وہاں سے کوشش کرتے ھیں پھر انہوں نے کہا کہ چچا کے علاوہ اور کسی کا نمبر نہیں ھے، خیر سب سے پہلے تو گھر کی ضرورت کی چیزیں انہیں بازار سے لاکر دیں، اور پھر میں واپس اپنے گھر کے لئے موٹر سائیکل چلاتا ھوا روانہ ھوگیا، اور راستہ بھر زادیہ کی تقدیر اور اپنی قسمت پر افسوس کرتا رھا، کہ انسان سوچتا کچھ ھے اور ھوتا وھی ھے جو اللٌہ چاھتا ھے، اور اس بھی اسی کی کوئی مصلحت پوشیدہ ھوتی ھے!!!!!

کاش میں وقت پر پہنچ جاتا، حالانکہ میں نے کئی دفعہ کوشش بھی کی، لیکن ھر دفعہ خالو کے ڈر سے جانے سے گھبراتا تھا، کیونکہ انہوں نے آخری بار جس طرح میرے انکے گھر جانے پر باجی کو تھپڑ مارا تھا اور ان سے یہی کہا تھا کہ میں آئندہ اس لڑکے کو اس گھر میں کبھی بھی نہیں دیکھنا چاھتا، میں وہ واقعہ زندگی بھر بھول نہیں سکتا تھا، اور جسکی وجہ سے میری بالکل ھمت ھی نہیں پڑی کہ میں دوبارہ جاسکوں، لیکن اب مجھے بہت ھی دکھ ھو رھا تھا کہ کاش ایک دفعہ تو چکر لگالیتا، میں یہ چاھتا تھا کہ کسی طرح بھی ایک بار زادیہ سے مل کر اس کے منہ سے اپنے بارے میں سن لوں کہ وہ مجھے کس روپ میں دیکھنا پسند کرتی ھے، تو اسی وقت شاید فیصلہ ھو جاتا، خیر اب جو ھونا تھا وہ تو ھو چکا، اب آگے کی سوچنا ھے کہ زادیہ کے ساتھ کیا مشکل پیش آرھی ھے جس کی وجہ سے وہ گھر پر رابطہ کر نہیں پا رھی،!!!!!!!

رات بھر میں سو ھی نہیں سکا، اور زادیہ کے بارے میں ھی سوچتا رھا، کہ نہ جانے وہ کس حالت میں ھوگی، میں تو یہی چاھتا تھا کہ وہ جہاں بھی رھے خوش رھے، اس پر کوئی آنچ نہ آئے، اس کی شادی ھوگئی تھی، یہ سن کر مجھے ایک زبردست دھچکہ لگا ضرور تھا، لیکن اللٌہ تعالی کے فیصلے سے کون انکار کرسکتا ھے، اس کے لئے میں ھر وقت یہی دعاء کرتا ھوں کہ اللٌہ تعالی اسے ھمیشہ اپنے حفظ و امان میں اور خوش رکھے رکھے آمین !!!!!! ویسے بھی مجھ سے کسی کا بھی دکھ اور تکلیف نہیں دیکھی جاتی، چاھے وہ اپنے ھوں یا کوئی غیر ھی کیوں نہ ھوں اور میری کوشش یہی ھوتی ھے کہ جو کچھ بھی میرے بس میں ھے یا میں جس حد تک کسی کی کوئی مدد کرسکتا ھوں میں اس سے پیچھے نہیں ھٹتا، چاھے اس کے لئے مجھے کتنی ھی پریشانی کیوں نہ اٹھانی پڑی،!!!!!!

دوسرے دن میں کچھ دیر سے اٹھا، اور دفتر نہ جاسکا، کیونکہ صبح کے وقت ھی آنکھ لگی تھی اور ہلکی سی حرارت بھی تھی، اس لئے والد صاحب نے مجھے اٹھایا بھی نہیں، اور شاید انہوں نے جاکر میرے آفس میں ٹیلیفون کرکے بتا بھی دیا ھوگا، میں دوپہر کے کھانے کے وقت اٹھا اور نہا دھو کر تیار ھوا اور کھانا جلدی جلدی کھا کر باھر صحن میں موٹر سائیکل کو اسٹارٹ کیا، اور زادیہ کے گھر چل دیا، گھر پہنچا تو پہلے میں نے باجی اور خالہ سے پوچھا کہ کچھ منگوانا تو نہیں، انہوں نے منع کردیا تو پھر میں نے ان سے پوچھا، کیا ارادہ ھے چلنا ھے ٹیلیفون اکسچینج میں تاکہ ابوظہبی میں اپنے چچا کو ٹیلیفون کرسکو، تو انہوں نے جواب دیا کہ ھاں چلتے ھیں، اور ان دونوں کے چہرے پر افسردی کے آثار ھی نظر آئے، میں نے پوچھا کہ کیا بات ھوگئی، تو خالہ رونے لگیں،!!!! باجی نے کہا کہ آج ھی زادیہ کا خط ملا ھے، اور وہاں بہت پریشان ھے، اسکا شوھر اسے بہت تنگ کرتا ھے، اسے کسی سے ملنے بھی نہیں دیتا اور ھمیشہ گھر کا دروازہ باھر سے تالا لگا کر جاتا ھے، اور یہ خط بہت مشکل سے لکھ کر اس نے نہ جانے کوئی موقعہ دیکھ کر کسی کے ذرئعے پوسٹ کرایا تھا اور نئے گھر کا بھی اس نے ٹیلیفون نمبر لکھ کر بھیجا ھے مگر وہ وہاں سے ٹیلیفون نہیں کرسکتی، مگر وقت کا دورانیہ لکھ دیا تھا کہ اس وقت آپ لوگ ٹیلیفون کرسکتے ھیں اور اس نے تسلی دی ھے کہ فکر نہ کریں میں کسی نہ کسی طرح کوشش کرکے واپس پاکستان آنے کی کوشش کروں گی،!!!!!!

میں یہ تو جانتا تھا کہ وہ بہت بہادر اور نڈر تھی اور ساتھ ھی بہت ھوشیار اور عقلمند بھی تھی، مجھے امید تھی کہ وہ اپنی ھر ممکن طریقے سے اپنے لئے کوئی نہ کوئی بہتر صورت ضرور نکالے گی، یہ شادی کا فیصلہ اس نے گھر کی بہتری کے لئے کیا تھا لیکن یہ اندازہ نہیں کرسکی تھی کہ اس کے ساتھ ایسا دھوکا بھی ھوسکتا تھا، وہاں پر انکے چچا کے بھروسے پر ھی یہ قدم اٹھایا تھا جبکہ انہوں نے اپنے کسی وعدہ کا لحاظ نہیں رکھا اور نہ ھی زادیہ کی انہوں کوئی خبر لی، جس کا سب کو افسوس تھا،!!!!!

مکان مالک کی فیملی بھی پہت اچھی تھی انہوں نے بھی یہ یقین دلایا تھا کہ کسی بھی صورت میں قانونی کاروائی بھی اگر کرنا پڑی تو وہ زادیہ کیلئے ھر ممکن کوشش کرکے اسے وہاں سے بلوانے کی کوشش کریں گے چاھے انکو وھاں پر جانا ھی کیوں نہ پڑے، ان کی اس بات سے بھی کافی حوصلہ ملا، جب سے انکے والد کا انتقال ھوا تھا وہ لوگ اب ان سے مکان کا کرایہ بھی نہیں لیتے تھے، جبکہ وہ اسی مکان میں شفٹ بھی ھوگئے تھے اور اپنا گیسٹ روم ان دونوں ماں بیٹی کو دے دیا تھا، جس کا دروازہ الگ ھی باھر کی ظرف کھلتا تھا، جس میں ایک چھوٹا سا بیڈروم اور ایک علیحدہ کمرہ جسے بیٹھک کے طور پر استعمال کرتے تھے، اسکے ساتھ ھی چھوٹا کچن اور اٹیچ باتھ روم تھا، جو ان دونوں کےلئے کافی تھا اور ھر ممکن وہ لوگ مدد بھی کرتے رھے، اور مجھ سے بھی جو کچھ بن پڑا میں نے کیا جو کہ میری ایک اخلاقی ذمہ داری بھی تھی،!!!!!

1977 کے سال کے آخیر کا دور چل رھا تھا اور سردیوں کی آمد آمد تھی، میں نے ان دونوں سے کہا کہ وہ آٹو رکشہ میں بیٹھ کر ٹیلیفون اکسچینج پہنچیں اور میں موٹر سائیکل پر آتا ھوں، میں سیدھا ان کے آٹو رکشے کے پیچھے پیچھے اکسچینج پہنچ گیا، اور وہاں پر شارجہ کیلئے زادیہ سے بات کرنے کیلئے 10 منٹ کی کال بک کرائی، اور ایڈوانس پیسے ھی جمع کروا دئیے، تقریباً 15 منٹ کے انتظار کے بعد شکر ھے کہ کال مل گئی، میں نے ان دونوں کو آپریٹر کے بتائے ھوئے بوتھ میں بھیج دیا جس میں ایک شیشے کا دروازہ لگا ھوا تھا، انہوں نے اس کو بند کرکے ٹیلفون کا رسیور اٹھا لیا، میں الگ سے انتظار گاہ میں بیٹھا ھوا تھا جہاں سامنے ھی بوتھ تھے، اور میں باقاعدہ انہیں دیکھ بھی رھا تھا اور لگتا تھا کہ ان کی زادیہ سے بات ھو رھی ھے باجی نے مجھے اشارے سے بلایا بھی مگر میں نے انکار کردیا، مجھے دل میں کچھ سکون محسوس ھوا کہ ان دونوں کی بات چیت ھورھی ھے !!!!!!!

جب وہ دونوں بوتھ سے فارغ ھو کر باھر نکلیں تو ان دونوں کے چہرے پر اطمنان کے تاثرات نظر آرھے تھے، مجھے بھی خوشی ھوئی، اور پھر وہاں سے سیدھے گھر واپس آئے اور پھر انہوں نے تسلی سے جو کچھ بات ھوئی مختصراً بتایا کہ وہ کوشش کررھی ھے کہ کسی نہ کسی طرح وہ پاکستان آجائے اور جب تک سب کے ویزوں کا بندوبست نہیں ھوجاتا وہ وھاں واپس نہیں جائے گی، میرا بھی انہوں نے زادیہ سے ذکر کردیا تھا، لیکن زادیہ کے میرے بارے میں کیا تاثرات کیا تھے مجھے انہوں نے نہیں بتایا اور نہ ھی میں نے کچھ پوچھا لیکن جب دوسری دفعہ زادیہ کا خط آیا تو باجی اس کو دل میں ھی پڑھ رھی تھی اور اتفاقاً میری نظر اس خط کے پچھلے صفحہ پر پڑی جس کی دو لائنیں میں نے پڑھ لیں جو کہ مجھے نہیں چاھئے تھا کہ کسی کہ خط کو پڑھوں، بہت ھی بری بات تھی، لیکن بس دل سے مجبور تھا، اور اتفاق سے نظر بھی پڑ گئی تھی، اس میں جو لکھا کچھ یوں تھا کہ “سید کو آپ لوگوں نے بلا تو لیا ھے لیکن اب ان کو احسانات کے بدلے میں اب کیا دیں گی“ !!!!!

اس کا مظلب اس وقت میری کچھ سمجھ میں نہیں آیا، اور مجھے کچھ جاننے کی ضرورت بھی نہیں تھی، میں بھی اب یہی چاھتا تھا کہ کسی ظرح بھی یہ سب وہیں اپنے چچا کے پاس چلی جائیں، مگر جب ان کا کوئی فیصلہ نہیں ھو جاتا میں ان کی ھر ممکن مدد کرتا رھونگا، اور اسی طرح ان کی خط وکتابت بھی شروع ھوگئی، اور ساتھ ھی ان کے چچا سے بھی ٹیلیفون کا سلسلہ بحال ھوگیا اور ساتھ ھی زادیہ سے بھی اکثر میں وھاں اکسچینج میں اُن دونوں کو لے جا کر بات بھی کرا دیا کرتا تھا، اور ایک دن خوشخبری مل گئی کہ اس کے شوھر نے رضامندی ظاھر کردی ھے کہ کچھ دنوں کے لئے پاکستان جاسکتی ھو، مگر فوراً واپس آنا ھوگا، اور وہ اُدھر واپس آنے کی تیاری کرھی تھی اور اِدھر دونوں بہت ھی زیادہ خوش تھیں،!!!!!

1978 کا شروع اور شپ یارڈ کا کام ختم ھوچکا تھا پھر کمپنی نے مجھے پورٹ قاسم کے پروجیکٹ پر ٹرانسفر کردیا جہاں پر اس وقت ریگستان اور سمندر کے علاؤہ کچھ نہیں تھا، مجھے اور ایک انجینئیر کو ایک ٹینٹ لگا کر دے دیا تھا اور ساتھ ایک ٹینٹ میں ایک اسٹور تھا جسے میرے ایک پرانے دوست شاھد عباس کو اسٹور انچارج بنا کر بھیجا تھا، ھم دونوں کو اسٹارٹ میں بہت مشکل پیش آئی، اسکی وجہ یہ تھی کہ وہاں پر کئی بلڈوزر زمین کو برابر کرنے میں لگے ھوئے تھے، اور ھمیں کرسی پر پیر رکھ بیٹھ کر کام کرنا پڑتا تھا کیونکہ اکثر سانپ اور بچھو زمیں پر ٹہلتے رھتے تھے اور ٹینٹ میں ایک پانی پینے کیلئے ایک مٹکا تھا، وہ رینگتے ھوئے اس مٹکے کے نیچے جمع ھوجاتے تھے، ان سے بہت ڈر لگتا تھا اور اب تو سردیاں بھی ختم ھوچکی تھیں، اور گرمیاں شروع ھورھی تھیں!!!!!

لیکن جب آفس تیار ھوگئے تو کچھ ھماری جان میں جان آئی، اور پھر باقی تمام اسٹاف بھی آگئے، میں یہاں موٹر سائیکل نہیں لاتا تھا، کیونکہ کمپنی کی گاڑی مجھے گھر پر لینے آتی تھی، یہاں سے واپسی پر گھر جاکر میں اپنی حالت درست کرتا پھر موٹرسائیکل اسٹارٹ کرکے سیدھا باجی کے یہاں چلا جاتا اور انکی ضرورت کی چیزیں بازار سے لا کر دیتا اور باجی کو روزانہ اپنی موٹر سائیکل پر بٹھا کر گھماتا بھی رھتا، تاکہ ان کا دل بھی بہلا رھے، آخر وہ دن بھی آگیا جس دن فلائیٹ سے زادیہ شارجہ سے کراچی پہنچنے والی تھی، میں نے تو معمول کے مطابق موٹر سائیکل پر باجی کو پیچھے بٹھایا، اور انکی والدہ تو مکان مالک کی فیملی کے ساتھ کار میں بیٹھ گئیں اور ھم سب ائرپورٹ کی طرف چل دئے اور ایک اور کار میں انکے پڑوس کی بھی تھی اور اس ظرح ایک چھوٹا سا قافلہ ائرپورٹ کی طرف روانہ ھوگیا !!!!!!!

آج کوئی آنے والا تھا، میں ایک عجیب سی کشمکش میں تھا کہ میں اسے کس رشتہ سے پکاروں گا ایک دوست کی حیثیت سے یا کچھ اور!!!! لیکن کسی اور طرح سے سوچنا تو کوئی اچھی بات نہیں تھی، اب وہ کسی اور کی ھو چکی تھی، اور اب اس پر شرعاً کسی اور کا حق تھا، بار بار میرے دماغ میں نہ جانے کیا کیا الجھنیں مچل رھی تھی، وہاں ائرپورٹ پر اسکی سہیلیاں جو آس پاس رھتی تھیں سب ھی آئی ھوئی تھیں اور انکے مکان مالک کی پوری فیملی بھی موجود تھی، اور ابھی تک مطلوبہ فلائٹ نے لینڈ نہیں کیا تھا، سب اپنی اپنی باتوں میں لگے ھوئے تھے، اور میں زادیہ کی ایک سہیلی کے بڑے بھائی کے ساتھ ھی الگ ایک طرف ھی کھڑا ھوا تھا، جو بعد میں میرا اچھا دوست بن گیا تھا اور نظریں فلائٹ انفارمیشن بورڈ پر ھی تھیں،

اچانک ایک اناؤنسمنٹ سنائی دی کہ دبئی سے آنے والا جہاز لینڈ کرچکا ھے، اور بورڈ پر بھی اطلاع آگئی تھی، زادیہ کو دیکھنے کیلئے آنکھیں کچھ بے چین سی تھیں، بس میں دور سے ھی کھڑا آنے والے مسافروں کو دیکھ رھا تھا، کہ کس طرح پردیس سے آنے والوں کے چہرے پر خوشی اور ملنے والے ان کے اپنے کس طرح بے چینی اور بے قراری سے اپنوں کا انتظار کررھے تھے، جیسے ھی کوئی ان کا اپنا باھر لکلتا تو کس بے چینی سے اسے گلے لگاتے اور کچھ تو مل کر رو رھے ھوتے تھے، کسی کے بچے باھر انتطار کررھے ھوتے اور کسی کے والدین بھی اپنے لخت جگر کے انتظار میں بےقرار آس لگائے کھڑے دیکھے، کئی تو صرف سامان کی ٹرالیوں پر نظر لگائے ھوئے دیکھے کہ بھائی جان کیا لائے ھیں، کئی تو نئی نئی دلہنیں بھی اپنے اُن کو دیکھنے کے لئے بےچین نظر آئیں اور میں نے بھی اسی وقت اللٌہ سے دعاء کی کہ مجھے بھی باھر بھیج دے میرا اب یہاں رھنے کو دل نہیں کرتا تھا، ایک سال پہلے ایک چانس ملا تھا لیکن جانے کو دل نہیں مانا تھا اور اب دل چاہ رھا تھا کہ میں یہاں سے کسی بھی جگہ باھر کے ملک چلا جاؤں،!!!!!!

چلو شکر ھے جہار کے زمین پر اترنے کے ایک گھنٹے کے مسلسل انتظار کے بعد کسی کی آواز سنائی دی کہ وہ دیکھو زادیہ باھر آگئی اور اس آوار کے ساتھ ھی میرا دل زور زور سے دھڑکنے لگا، ایک دل تو کہہ رھا تھا کہ تمھارا یہاں پر اسکے سامنے اس طرح جانا مناسب نہیں ھے، واپس لوٹ جاؤ، لیکن دوسری طرف صرف اسکی ایک جھلک ھی دیکھنے کے لئے دل بہت بے چین تھا، اتنے میں دیکھا کہ وہی خوبصورت شہزادی اپنے خوشنما چمکتے ھوئے لباس میں خراماں خراماں مسکراتی ھوئی ٹرالی کو پکڑے چلی آرھی تھی، میں تو اسے دیکھتے ھی سکتے میں آگیا، پہلے سے کچھ کمزور تو نظر آرھی تھی لیکن اسکی خوبصورتی میں کوئی فرق نہیں آیا تھا، اسی طرح شوخ اور چنچل دکھائی دے رھی تھی، جیسے ھی ھجوم کے درمیان سے باھر وہ نکلی تو سب سے پہلے ان کی امی زادیہ کو گلے لگا کر رونے لگیں اور پھر وہ دوسری سائڈ سے باجی کو گلے لگا لیا، پھر باری باری سب نے اسے گلے لگایا اور اس کے ارد گرد وہیں سب نے گھیرا ڈال دیا اور اب مجھے کچھ نظر نہیں آرھا تھا میں کچھ فاصلے پر کھڑا تھا،!!!!!

میں خاموش اپنے نظریں جھکائے، اپنے آس پاس کے ماحول سے بے خبر کسی گہری سوچ میں گم تھا کہ اچانک میرے سامنے وہی شہزادی میرے سامنے کھڑی تھی، میں ایک دم ایک سکتے کے عالم میں آگیا کچھ کہنے کے لئے کہ کس ظرح اسے خوش آمدید کہوں، کچھ سمجھ میں نہیں آرھا تھا اور زبان بھی بالکل میرا ساتھ نہیں دے رھی تھی، میں اسکو صرف دیکھتا ھی رہ گیا بغیر پلکیں جھپکائے، اس نے اپنا ھاتھ بڑھایا اور میں نے بھی اسی طرح ھاتھ ملایا اس نے بہت دھیمی اور بھرائی ھوئی آواز میں صرف یہ پوچھا کہ “سید کیسے ھو، کیا حال ھیں تمھارے“ میری زبان سے بھی جواب میں اسی طرح کے ھی الفاظ نکلے “ کہ ھاں ٹھیک ھوں، تم کیسی ھو زادیہ“ اس نے صرف اپنا سر ھلادیا، اور پھر سب مل کر اپنی اپنی گاڑیوں کی پارکنگ کی طرف چلے، اور میں بھی اپنی موٹر سائیکل کی طرف خاموشی سے گردن جھکائے جارھا تھا،!!!!!!!!!

میں نے پیچھے مڑکر دیکھا تو کوئی بھی میرے پیچھے نہیں آرھا تھا، سب کے سب کاروں کی پارکنگ کی طرف زادیہ کو ساتھ لئے جارھے تھے، اور باجی کو دیکھا تو وہ بھی زادیہ کے ساتھ ھی باتیں کرتی ھوئی جارھی تھی، جبکہ وہ تو میری موٹر سائیکل کی دیوانی تھی، وہ اب تو ھمیشہ کہیں بھی جانا ھو میرے ساتھ ھی موٹر سائیکل پر سفر کرنے کو ترجیح دیتی تھی اور اسے میرے ساتھ موٹر سائیکل پر سفر کرنے میں بہت مزا آتا تھا، اور اکثر میں اسے اپنے ساتھ جب بھی وہ کہتی گھمانے لے جاتا تھا یا کسی بھی سہیلی یا کسی دعوت میں جانا ھو تو وہ صرف میرے ھی ساتھ ھی موٹرسائیکل پر سفر کرتی تھی، حالانکہ کچھ لوگ وہاں پر یہ غلط محسوس کرتے تھے ، لیکن میں ھمیشہ بچپن سے آج تک اسے اپنی بڑی بہں کا درجہ دیتا تھا، اور میری ھر ظرح سے اس نے ھمیشہ بہت ھی اچھی تربیت کی اور آج وہ اس مشکل دور سے گزر رھی تھی، یہ تو میرا فرض بنتا تھا کہ میں اسکی ھر خواھش کا احترام کروں،!!!!!!

میں نے موٹرسائیکل اسٹارٹ کی اور ان دونوں کاروں کے پیچھے پیچھے چل دیا، گھر پہنچ کر باجی سے میں نے اجازت مانگی کہ اب میں چلتا ھوں کیونکہ گھر میں کافی ملنے والوں کا رش ھے، میں کل آجاؤں گا، اگر کسی چیز کی ضرورت ھو تو مجھے بتادیں، تاکہ میں لے آؤں، باجی نے کہا کہ فی الحال تو ضرورت نہیں ھے کیونکہ ھم دونوں کل ھی ضرورت کی چیزیں بازار سے لے آئے تھے، اور میں اجازت لے کر واپس اپنے گھرکی طرف روانہ ھوگیا، دوسرے دن شام کو ڈیوٹی سے واپس آنے کے بعد پھر میں ان کے گھر پہنچ گیا، اور ایک دو محلے کی لڑکیاں زادیہ کے ساتھ باتیں کررھی تھیں جو مجھے بھی جانتی تھیں میں بھی سلام دعاء کرکے بیٹھ گیا، باجی کچن میں تھیں، وھیں کچن سے ھی باجی نے کچھ بازار سے لانے کو کہا، میں آرڈر ملتے ھی بازار سے ضرورت کی چیزیں لے آیا، اور اسی طرح روزانہ میں شام کو ان کے گھر جاتا، اور کچھ دیر بیٹھ کر معمول کے مطابق اگر کسی چیز کی ضرورت ھوتی تو لادیتا، یا اگر باجی کو کہیں باھر کسی کام سے جانا ھوتا، تو انہیں باہر ساتھ لے جاتا،

اور میری انکے گھر پر زادیہ کے بارے میں اتنی زیادہ تفصیل سے گفتگو نہیں ھو پاتی تھی بس زادیہ کی غیر حاضری میں ھی باجی مجھے اس کے بارے میں تھوڑا بہت بتاتی تھی، کہ اس آدمی نے زادیہ کو بہت پریشان کیا تھا اور ھمارے ویزے کا بندوبست بھی نہیں کیا تھا، دھوکا دیا تھا، چچا جان کی مداخلت کی وجہ سے ھی زادیہ یہاں پہنچ سکی تھی، اور انہوں نے یہ وعدہ بھی کیا کہ وہ خود کوشش کریں گے کہ آپلوگوں کے ویزے حاصل کرنے کی، اور جلد ھی وہاں بلوا لیں گے، اور میں بھی یہی بہتر سمجھتا تھا کہ یہ لوگ اپنے چچا کے پاس ھی کچھ بہتر زندگی گزار سکیں گے، اور خوش رہ سکیں گے، کیونکہ ان کے والد کے بعد ھی وہ ایک نزدیکی رشتہ دار تھے اور وہ اپنی پوری فیملی کے ساتھ ابوظہبی میں رھتے تھے، اور ان کی یہ خواھش بھی یہی تھی کہ یہ تینوں ان کے پاس آجائیں، اور نئے سرے سے اپنی زندگی کو سکون کے ساتھ گزار سکیں، انکی امیر سگی پھوپھی بھی پاکستان میں تھیں لیکن انکی آپس میں کوئی خاص بات چیت نہیں تھی، اور نہ ھی انہوں نے کوئی ان سب سے واسطہ رکھا جبکہ سب کچھ معلوم تھا!!!! کاش کہ ھم اپنے آس پاس، اڑوس پڑوس اور رشتہ داروں میں کم از کم یہ تو دیکھ سکتے ھیں کہ کون اور کس کو کسی قسم کی مدد کی ضرورت ھے، کیا ھمارے پڑوس میں کوئی بھوکا تو نہیں سو رھا، ؟؟؟ کیا ھم نے سب کچھ دیکھتے ھوئے بھی اپنی آنکھیں بند نہیں کی ھوئیں، یہی تو ھمارا اس دنیا میں اللٌہ تعالیٰ کی طرف سے ایک امتحان ھے،!!!!!!!!

اس وقت اگر انکے والد زندہ ھوتے تو اس طرح یہ سب پریشاں نہ ھوتے، وہ اپنی بیٹیوں کو دل و جان سے چاھتے تھے اور انکی ھر خواھش کو پورا بھی کرتے تھے، اسکے باوجود کہ وہ مجھ سے میرے والدین کے رویٌہ کی وجہ سے ناراض تھے اور انکی ناراضگی اپنی جگہ بالکل بجا تھی اور میرے والدین بھی غلط نہیں تھے مگر انہوں نے لوگوں کی افواھوں پر یقین کیا، جس کی وجہ سے ھمارے دونوں خاندانوں کی آپس میں رنجشیں پیدا ھوگئیں، مگر میں انہیں پہلے بھی چاہتا تھا اور اب بھی کیونکہ وہ میرے ساتھ ھمیشہ مخلص رھے، مگر ان کے انتقال کی وجہ سے ایک فیملی بالکل بے سہارا ھوتی جارھی تھی، وہ یہ بھی چاھتے تھے کہ ان کی بیٹیوں کی شادی اچھے گھرانے میں ھوں اور ان کا بزنس بھی بہت اچھا چل رھا تھا اور اس وقت انکی دونوں بیٹیوں کے لئے بہت اچھے اچھے مال دار گھرانوں کے رشتہ بھی آرھے تھے، اور دونوں بہت خوبصورت بھی تھیں، ایک ھی جھلک دیکھتے ھی ھر کوئی انکے رشتے مانگنا شروع ھوجاتے تھے، لیکن انہوں نے بہتر سے بہتر کی تلاش میں اچھے اچھے رشتے گنوا بیٹھے، اسی کی وجہ سے اکثر خاندانوں میں لڑکیاں گھر پر بیٹھیں ھیں، اور کچھ تو خاندان کی امارات ذات پات کو لے کر، کچھ خاندانوں کی آپس کی رنجشیں اور کچھ لڑکیاں تو صرف ایک جہیز نہ ھونے کی وجہ سے گھر پر بیٹھی ھیں، اور کئی لوگ اپنے لڑکوں کی نمائش اس طرح کرتے ھیں کہ جو جہیز کی بولی زیادہ لگائے گا اسی کا رشتہ اس لڑکے سے ھوگا، کیا ایسے لوگ ھمارے اسلامی معاشرے میں زندہ رھنے کے قابل ھیں!!!!!

مگر افسوس کہ ان کے والد زیادہ عرصے زندہ نہیں رھے، ورنہ شاید ان ھی کی زندگی میں ان کے رشتے ھو بھی جاتے مگر وہ تڑپتے تڑپتے چلے گئے اور انہیں سرطان جیسے خطرناک مرض نے گھیر لیا اور چھ مہینے تک اس بیماری سے وہ لڑتے ھوئے اس دنیا سے رخصت بھی ھوگئے، اور یہ خطرناک مرض انہیں انکی سگریٹ پینے اور پان کثرت سے کھانے کی وجہ سے ھوا، وہ چینج اسموکر تھے، ھر وقت ان کے منہ میں سگریٹ لگی رھتی تھی اور ساتھ پانوں میں لپٹے ھوئے بنڈل بھی، جیسے ھی ایک پان ختم ھوتا دوسرا پاں منہ میں رکھ لیتے اور ساتھ ھی سگریٹ بھی پھونکتے رھتے، ان کی عمر بھی میرے خیال میں اس وقت کچھ زیادہ نہیں ھوگی، مجھے افسوس سے کہنا پڑتا ھے کہ اب بھی کئی خاندان صرف اسی سرطان جیسے موذی مرض کی وجہ سے ھی برباد ھوئے ھیں، مگر ابھی تک نہ جانے کیوں لوگوں کو یہ سمجھ میں نہیں آتا کہ ان بری عادتوں کی وجہ سے اگر وہ اس دنیا میں نہیں رھے تو ان کی فیملی کا کیا ھوگا، کون دیکھے گا، اللٌہ تو سب کا والی ھے لیکن کچھ ھماری بھی ذمہ داریاں بھی ھیں کہ ھماری زندگی بہت قیمتی ھے، اپنے لئے نہ سہی کم از کم اپنے بچوں کے لئے ھی کچھ ھم ان واقعات اور حادثات سے سبق لیں، میں بھی کبھی سگریٹ پیتا تھا لیکن اب مجھے اسکے دھؤیں سے بھی نفرت ھے، انسان چاھے تو کیا نہیں کرسکتا، سگریٹ کو چھوڑنا کوئی مشکل نہیں ھے صرف ایک قوت مدافعت کی ضرورت ھے،!!!

کاش میں اس وقت ان کے پاس ھوتا تو کم ازکم میں انہیں یہ تسلی تو دے سکتا تھا کہ میں آپکی پوری فیملی کو زندگی بھر ایک مکمل تحفظ دے سکوں گا، کاش ایسا ھوتا، اس صورت میں ھوسکتا تھا کہ میں اپنے گھر کی مخالفت بھی مول لے سکتا تھا، اس وجہ سے نہیں کہ میں زادیہ کو دل و جان سے چاھتا تھا اور اس سے شادی کرنا چاھتا تھا، بلکہ ایک انسانیت کے ناتے، اگر مجھ سے شادی نہ بھی ھوتی تب بھی،،!!!! مگر حالات نے ایسا رخ پلٹا کہ سب کچھ ارمان اور خواھشیں تباہ ھوکر رہ گیئں، میں کوئی اتنا امیر زادہ تو نہیں تھا لیکں اتنا ضرور تھا کہ اس چھوٹی فیملی کو عزت کے ساتھ رکھ سکتا تھا، ویسے تو ھر ایک کی عزت کا رکھوالا صرف اللٌہ تعالیٰ ھی ھے، !!!!!!

حالات کچھ دنوں تک معموم کے مطابق ھی تھے، کہ ایک دن اچانک زادیہ کا شوھر دبئی سے آگیا اور ایک ھوٹل میں ٹھرا ھوا تھا، اور جیسے ھی میں ایک دن شام کو انکے گھر پہنچا تو دیکھا کہ وہ وہاں بیٹھا ھوا تھا اور میں نے مناسب ھی نہیں سمجھا کہ میں وھاں پر اسکے ساتھ بیٹھوں میں نے کچھ ضرورت کی چیزیں بازار سے لا کردیں اور میں اپنے دوست کے ساتھ کہیں اور چلا گیا، دوسرے اور تیسرے دن تک وہ آتا جاتا رھا اور جیسے ھی وہ گھر میں آتا مکان مالک فوراً ھی گھر میں آجاتے کہ وہ کوئی مزید ان کو تنگ نہ کرسکے، بقول باجی کہ وہ صرف زادیہ کو واپس لے جانے آیا تھا اور باجی اور خالہ کے ویزوں کا اس نے کہا کہ ابھی مشکل ھے کچھ دن لگ جائیں گے، مگر ان لوگوں نے یہی فیصلہ کیا کہ زادیہ اس وقت تک نہیں جائے گی، جبتک کہ سب کے ویزوں کا بندوبست نہیں ھو جاتا، اور اگر زادیہ جائے گی تو سب کے ساتھ ورنہ یہ کبھی نہیں جائے گی، ان کے اس فیصلہ پر اس نے اپنا فیصلہ سنادیا کہ میں اس وقت تو خالی واپس جارھا ھوں، اور ایک دفعہ اور آپلوگوں کو موقعہ دیتا ھوں کے اپنے فیصلے پر نظرثانی کرلیں، میں مزید کچھ دن تک انتظار کروں گا اگر آپ لوگوں نے اسے بھیج دیا تو ٹھیک ھے ورنہ میں اسے طلاق دے دوں گا اور یہ کہہ کر وہ واپس دبئی چلاگیا،!!!!!!!

چوتھے یا پانچویں دن میں شام کو ان کے گھر پہنچا تو وہ وہاں پر موجود نہیں تھا، لیکن زادیہ دوسرے کمرے میں سورھی تھی اور میں اور باجی بیٹھک میں باتوں میں مصروف تھے اور کچن میں خالہ چائے بنانے میں مصروف تھیں، کیونکہ انہیں میرے آنے کا وقت معلوم تھا، اور میرے آنے سے پہلے وہ ھمیشہ چائے تیار رکھتی تھیں، انہوں نے ھمیشہ بچپن سے میرا اپنے بچوں سے زیادہ خیال رکھا تھا اور آج بھی ان کی وہی چاھت تھی، جیسے ایک ماں کی ھوتی ھے اور وہ ان دنوں بہت ھی دکھ و غم اور کرب کے عالم میں گزر رھی تھیں، اور مجھے سب پوری داستان باجی نے سنائی اور مجھ سے پوچھا کہ تمھاری کیا رائے ھے، میں نے جواب دیا کہ زادیہ ھی اب بہتر بتا سکتی ھے کہ وہ کیا چاھتی ھے میں اس بارے میں آپکو کوئی مشورہ نہیں دے سکتا، مگر میں اس بات کا وعدہ کرتا ھوں کہ جب تک آپ سب مکمل طریقے اور اپنی رضامندی سے دبئی شفٹ نہیں ھوجاتے میں آپ لوگوں کو نہیں چھوڑسکتا چاھے اس کے لئے مجھے اپنی گھر سے کیوں نہ کتنی ھی مخالفت اٹھانی پڑے، کیونکہ اب آپ لوگ میری ذمہ داری ھیں،!!!!!!!

1978 کا زمانہ اور مئی کے گرمیوں کا موسم، اور میں پورٹ قاسم کے پروجیکٹ پر اور وھاں کا کام اسٹارٹ ھوچکا تھا، ھماری کمپنی کو وہاں پر ایک اھم پروجیکٹ ملا ھوا تھا اور ساتھ ساتھ اسٹیل ملز کا کام بھی تقریباً 40٪ ھماری ھی کمپنی کے پاس تھا، مجھے اسی دوران سعودی عرب جانے کیلئے ٹرانسفر آرڈر ملا، وہاں پر بھی ھماری کمپنی کے ھر چھوٹے بڑے شہر میں کام چل رھے تھے، اور مجھے کہا گیا کہ میں اپنا پاسپورٹ اور کچھ تصویریں ذونل آفس میں جمع کرادوں اور اگلے ھفتے تک جانے کے لئے تیار رھیں، شاید میرے حق میں یہ بہتر بھی تھا کہ میں کچھ قرض دار بھی ھوگیا تھا، اور وھاں جاکر انکی میں کچھ اچھی طرح مدد بھی کرسکتا تھا،!!!!

میں نے ان سب کو یہ خوشخبری سنائی، اپنے سعودی عرب جانے کی اور میں نے یہ بھی باجی سے کہا کہ میں ان سے رابطے میں رھوں گا اور اگر کسی وجہ سے خدانخواستہ زادیہ کو وہ طلاق دے بھی دیتا ھے تو میں زادیہ سے شادی کرنے کے لئے سب سے پہلے اپنی خدمات پیش کرونگا، اگر زادیہ کی مرضی ھو تو، اور مجھے ایک طرح سے خوشی بھی ھوگی کہ آپ لوگوں کے ساتھ زندگی بھر کیلئے ایک رشتہ میں بندھ جانے کیلئے !!!!!!!!
ٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔ
میں نے بھی باجی سے اپنی خواھش ظاھر کردی تھی، مگر اس دوران میں نے زادیہ سے کبھی اس موضوع پر گفتگو نہیں کی اور نہ ھی میں نے اپنے دل کی کوئی خواھش کا اظہار کیا، باجی نے اگر زادیہ سے اس کی مرضی معلوم کی ھو یا نہیں اس کا مجھے باجی نے کوئی ذکر نہیں کیا، اور نہ ھی میں نے پوچھنے کی کوشش کی، بس اپنی رائے دے دی تھی کہ میں زادیہ کو اپنانے کیلئے تیار ھوں اگر خدانخواستہ اس کا شوھر طلاق دے یا زادیہ خود اپنی مرضی سے علیحدہ ھو کر اس سے خلع لے لے،!!!! میں نے آفس میں اپنا نیا پاسپورٹ داخل کردیا تھا، تاکہ سعودی عرب کا ویزا لگ جائے، جیساکہ مجھے کمپنی سے ھدایت ملی تھیں، پاسپورٹ کو بنانے میں کچھ دیر ھوگئی تھی ورنہ میں ‌اب تک سعودی عرب میں ھی ھوتا،!!!!!
---------------------------------------------------------
جاری ھے،!!!!

عبدالرحمن سید
01-02-10, 06:06 PM
میں نے بھی باجی سے اپنی خواھش ظاھر کردی تھی، مگر اس دوران میں نے زادیہ سے کبھی اس موضوع پر گفتگو نہیں کی اور نہ ھی میں نے اپنے دل کی کوئی خواھش کا اظہار کیا، باجی نے اگر زادیہ سے اس کی مرضی معلوم کی ھو یا نہیں اس کا مجھے باجی نے کوئی ذکر نہیں کیا، اور نہ ھی میں نے پوچھنے کی کوشش کی، بس اپنی رائے دے دی تھی کہ میں زادیہ کو اپنانے کیلئے تیار ھوں اگر خدانخواستہ اس کا شوھر طلاق دے یا زادیہ خود اپنی مرضی سے علیحدہ ھو کر اس سے خلع لے لے،!!!! میں نے آفس میں اپنا نیا پاسپورٹ داخل کردیا تھا، تاکہ سعودی عرب کا ویزا لگ جائے، جیساکہ مجھے کمپنی سے ھدایت ملی تھیں، پاسپورٹ کو بنانے میں کچھ دیر ھوگئی تھی ورنہ میں ‌اب تک سعودی عرب میں ھی ھوتا،!!!!!

یہاں گھر پر اسی دوران چار پانچ مہینے پہلے جس کا میں پہلے ذکر نہ کرسکا تھا ایک میرے دوست جو کہ ھمارے ڈویژنل آفس میں کام کرتے تھے، اور ان کے والد صاحب بھی الریاض سعودی عربیہ میں اسی کمپنی میں ملازم تھے، اور میرے ساتھ کراچی کے ایک پروجکیٹ پر بھی ساتھ ھی کچھ عرصہ رھے تھے، ان کے بیٹے کے ساتھ والد صاحب شام کو ان کے گھر چلے گئے اور ان کی خوب آؤ بھگت اور خوب خاطر مدارات ھوئی جس کی وجہ سے اباجی تو بہت متاثر ھوئے، اور ان کی لڑکی انہیں پسند آگئی، جو انکی خوب خاطر مدارات کررھی تھی، اور والد صاحب کی عادت تھی کہ جہاں انکی پسند کی لڑکی دیکھی، فوراً ھی اسے میرے لئے پسند کرلیتے تھے، اور مجھے بتائے بغیر ھی ان کے گھر والوں سے میرے لئے رشتہ کی بات بھی شروع کردیتے تھے، مجھے ان سے اس سلسلے میں شروع سے ھی شکایت رھی تھی!!!!!!

جب والد صاحب میرے دوست کے گھر سے آئے، میں اس وقت گھر پر نہیں تھا لیکن کچھ دیر بعد ھی میں گھر پہنچ چکا تھا، کافی رات ھوچکی تھی اور میں اکثر رات کو کھانا باھر ھی کھا کر آتا تھا، اور وہ اسی چیز کو لے کر پریشان تھے اور ان کو شک تھا کہ میں ابھی تک زادیہ کے گھر جاتا ھوں اور وہ دونوں لڑکیاں مجھے ان سے چھیننے کی کوشش کررھی ھیں، اسی وجہ سے وہ چاھتے تھے کہ میری جلد سے جلد کہیں بھی شادی ھوجائے، اور میں انکی ھر شادی کی خواھش کو غصہ سے ٹھکرادیتا تو وہ کسی دوسری طرف چل دیتے، اس دن رات کو وہ گھر پر ھی میرا انتظار کررھے تھے، جب میں نے انھیں بیٹھے ھوئے دیکھا اور کافی مجھے مکھن لگا رھے تھے تو میں سمجھ گیا کہ آج اور ابھی کسی لڑکی کا شجرہ نسب کھلنے والا ھے،!!!

میں ان کے ساتھ بیٹھ گیا پھر انہوں نے میرے دوست کی بہن کی تعریفوں میں قصیدے پڑھنے شروع کردئے، وہ ایسی ھے ویسی ھے بہت خوبصورت ھے گھر کا سارا کام وہ کرتی ھے اور کیا ذائقہ دار کھانے پکاتی ھے اور یہ سن کر پھر پہلے کی ظرح میں گرم ھوگیا اور بالکل ھی انکار کردیا اور کہا کہ کیا گھر کیلئے آپ نوکرانی تلاش کرنے گئے تھے،؟؟؟ جب میں نے پہلے کہہ دیا تھا کہ میں ابھی کسی صورت میں شادی کرنا نہیں چاھتا تو آپ مجھے بغیر بتائے ھوئے میرے دوست کے گھر کیوں گئے وہ میرا دوست ھے اور مجھے اچھا نہیں لگتا کہ میرے دوست کے گھر میں میرا رشتہ ھو اور میرا دوست میرے بارے میں کیا سوچے گا،!!! والد صاحب نے جواب دیا ارے بیٹا تمھارے دوست کی مرضی سے ھی گیا تھا اور ان کی ھی یہ خواھش تھی کہ ان کی بہن کی شادی تم سے ھو، اور اس لئے مجھے اپنی بہن کو دکھانے کیلئے گھر لے گئے تھے اور انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ اگر آپکو پسند آجائے تو اپنے بیٹے سید سے بات کرکے دیکھئے گا، اگر وہ راضی ھے تو ھمارے لئے ایک اچھا رشتہ مل جائے گا اور ھماری دوستی رشتہ داری میں بدل جائے گی،!!! میں نے پھر غصہ میں کوئی جواب نہیں دیا اور سونے چلا گیا بعد میں انہوں نے والدہ سے کیا بات کی مجھے معلوم نہیں !!!!!!!!

وہ سمجھے کہ شاید میں نیم راضی ھوں، اس لئے وہ دوسرے دن والدہ کو بھی ساتھ لے گئے اور بات بھی پکی کر آئے، اور ان کو گھر پر دعوت بھی دے دی، کہ وہ سب مجھے دیکھ لیں، اب ان دنوں ڈویژنل آفس میں جب بھی میرا اپنے دوست کا سامنا کرتا تو میں بالکل شرمندہ ھوجاتا، اور وہ بھی مجھ سے ہنس کر پیش آتا، اور کوئی اس موضوع پر بات بھی نہیں کرتا تھا، اور میری خاموشی کو اس نے یہی سمجھا کہ شاید مجھے یہ رشتہ پسند ھے، اور دفتر میں بھی کئی لوگوں نے مجھے کہا کہ یہ بہت اچھے لوگ ھیں اور بہتر ھے کہ یہاں شادی کرلو اور وہ تمھارا دوست بھی ھے، میں انہیں کوئی بھی جواب نہیں دیتا، ان کے گھر والے آئے اور مجھے دیکھ کر خوشی خوشی پسند کرکے چلے گئے، میں نے پھر سب اپنے گھر والوں سے کہا کہ اب کوئی بھی ان کے گھر نہیں جائے گا، اس طرح وہ سمجھ جائیں گے کہ لڑکے کو یہ رشتہ پسند نہیں ھے!!!!!!!!

اسی طرح گھر پر کوئی کسی نے مجھ سے پھر کوئی شادی کی بات نہیں کی، میں بھی خاموش ھی رھا اور نہ ھی گھر سے کوئی میرے دوست کے گھر گیا، میرے دوست کے گھر والے پریشان تھے کہ نہ جانے کیا بات ھے کہ ھماری طرف سےخاموشی چھائی ھوئی ھے، جبکہ انہوں نے اپنے والد صاحب جو سعودی عربیہ میں تھے ان سے بھی رضامندی لے لی تھی وہ تو بلکہ بہت ھی خوش ھوئے کیونکہ وہ میرے ساتھ بھی کام کرچکے تھے، اور انہوں نے بھی وہاں اہنے تمام ساتھیوں کو اس رشتہ کے بارے میں بتا دیا تھا، اور وہاں پر تقریباً میرے سارے استاد جنہوں نے مجھے سارا اکاؤنٹس کام سکھایا تھا اور ھر ایک کے ساتھ میں نے اسی کمپنی کے ھیڈآفس راولپنڈی اور کراچی میں بیٹھ کر کام کو سیکھا تھا، جو اسی کمپنی کی ھی توسط سے ٹرانسفر ھوکر پہلے ھی سے سعودی عرب میں پہنچ چکے تھے، اور وہ بھی میرے اس رشتہ سے بہت خوش تھے!!!!!

جب چار پانچ مہینے ھوگئے اور میرا ٹرانسفر سعودی عرب ھونے والا تھا تو اِدھر دوست کی والدہ کو بہت فکرلاحق ھوئی کہ نہ جانے کیا بات ھے کہ ھمارے گھر سے کوئی جواب نہیں آیا، انہوں نے اپنے بیٹے جو میرا دوست تھا اس سے غصہ میں پوچھا کہ اب تک کیوں وہاں سے جواب نہیں آیا، ان سے پو چھو ورن ھماری بیٹی کیلئے رشتے آرھے ھیں جو مجھے پسند ھوگا میں وہاں ھاں کردوں گی، مگر میرے دوست نے اپنی امی سے کہا کہ میری بہن کی شادی صرف اور صرف وہیں ھوگی اور کہیں نہیں، ھاں اگر میرے دوست کی شادی ھوجاتی ھے تو پھر میں کچھ سوچوں گا، اور آخر وہ دن آھی گیا جس دن مجھے آفس سے پاسپورٹ اور ٹکٹ مل گیا اور مجھے دوسرے دن ھی سعودی عرب کے دارالحکومت الریاض کیلئے روانہ ھونا تھا،!!!!!!!!!!!!
------------------------------------------
زندگی میں پہلی مرتبہ اپنے ملک سے باھر جارھا تھا، اور خوشی اس بات کی زیادہ تھی کہ ارض مقدسہ میں حج، عمرہ کی سعادت اور زیارت بھی سرکارنبی (ص) کی ھوجائے گی، میں اتنا گنہگار بندہ اور کہاں سے آج میری سنی گئی اور بلاؤہ آگیا، بعض اوقات میں سوچتا ھوں کہ میں کتنا خوش قسمت تھا کہ مجھ سے کہیں زیادہ بہتر قابلیت رکھنے والے لوگ اس کمپنی میں موجود تھے، لیکن میرا نام جانے والوں کی لسٹ میں جانے کہاں سے آگیا، وہ بھی بغیر کسی سفارش کے، سبحان اللٌہ!!!!!

میں جانے کے ایک دن پہلے ھی باجی کے گھر پہنچا تاکہ ان سے بھی اجازت لے لوں، اور خالہ سے بھی دعائیں لےلئیں، اور زادیہ سے بس رسماً ھی سلام دعاء ھوئی، اور سب کو الوداع کہتا ھوا نیچے اترا اور موٹرسائیکل اسٹارٹ کرکے چند ایک اور دوستوں سے ملتا ھوا اپنے گھر پہنچا جہاں پہلے ھی سے مہمانوں کی بھرمار تھی، اور باری باری سب مجھے مبارکباد دے رھے تھے، اور میں بالکل ھونق بنا ھوا تھا، ایک سوٹ کیس گھر پر تیار ھوچکا تھا اور ایک اور ھینڈ بیگ تیار ھورھا تھا، ساری رات اسی طرح باتوں اور لوگوں سے ملنے ملانے میں ھی گزر گئی، اور کچھ دوست بھی رات گئے تک گھر پر ملنے آتے رھے، پھر اسی طرح فجر کا وقت ھوگیا نماز کے بعد کچھ دیر کےلئے لیٹا، لیکن نیند بالکل نہیں آئی، صبح ائرپورٹ کے لئے نکلنا تھا، !!!!!!!

کمپنی کی گاڑی گھر پر آچکی تھی مجھے ائرپورٹ لے جانے کیلئے بڑی وین تھی اس میں تقریباً گھر کے تمام افراد بیٹھ چکے تھے، اور باقی تمام محلے والوں اور دوستوں کو وھیں گھر پر ھی الوداع کیا کچھ نے کہا کہ ھم ائرپورٹ پر ھی ملیں گے، اور کچھ رشتہ دار بھی اپنی اپنی گاڑیوں میں آئے ھوئے تھے، وہ بھی ائرپورٹ ھی جانا چاھتے تھے، اور ایک قافلہ جاتے جاتے بن گیا تھا ایسا لگتا تھا کہ کسی کی بارات جارھی ھے، میں نے جاتے جاتے امی سے کہہ دیا تھا کہ میری شادی کے بارے میں اب کوئی بات نہیں ھوگی اور نہ ھی کسی سے میری شادی کیلئے کوئی گفت شنید کرنے کی ضرورت ھے، جب مجھے شادی کرنی ھوگی میں آپکو بتا دونگا، بس اس کے باوجود بھی آپلوگوں نے میرے متعلق کسی سے بھی میری شادی کے بارے میں ھاں کی تو میرے لئے بہت مشکل ھوجائے گی، اور آپکو میری خاطر شرمندگی اٹھانی پڑے گی، والدہ نے کہا کہ اچھا ٹھیک ھے،!!!!!

والدہ کے وعدہ پہ میں بالکل مطمئین تھا اور میں نے ائرپورٹ پر سب سے ایک دفعہ اور الوداع کہا میں ویسے ھی ایک عجیب ھی طرح بوکھلایا ھوا تھا، مجھے کچھ پتہ نہیں چل رھا تھا کہ کس سے مل رھا ھوں کون مجھے کیا کہہ رھا ھے، کچھ بھی سمجھ میں نہیں آرھا تھا، اتنے لوگ ملنے آئے ھوئے تھے، کہ ایک دوسرے کو پہچاننے میں بھی دشواری ھورھی تھی بہرحال فلائیٹ کے تیار ھونے اعلان ھوچکا تھا، میں نے سب کو آخری بار ھاتھ کے اشارے سے الوداع کہتے ھوئے، اپنے ایک سوٹ کیس اور بیگ کو ایک ٹرالی پر ڈالے ھوئے اندر پہنچ گیا اور فلائیٹ کاؤنٹر پر بورڈنگ پاس لیا اور سوٹ کیس تو لگیج میں چلا گیا، اور میں بس بیگ اٹھائے امیگریشن کاونٹر پر گیا وھاں کچھ دیر بعد نمبر آگیا، اسے پاسپورٹ دیا اس نے پاسپورٹ پر ویزا وغیرہ چیک کرکے خروج کی مہر لگادی اور میں پاسپورٹ اور ٹکٹ کے ساتھ بورڈنگ پاس کو ھاتھ میں لے کر سیکوریٹی چیک کراتا ھوا ائرپورٹ لاؤنج میں بیٹھ گیا اور بس انتظار کرتا رھا کہ فلائیٹ کی روانگی کا اعلان سننے کیلئے !!!!!!!

جیسے ھی فلائیٹ کا اعلان ھوا تو میں بھی دوسرے لوگوں کے ساتھ اٹھ گیا اور لائن سے ھوتا ھوا باھر نکلا تو ایک بس کھڑی تھی، اس میں سب لوگ بیٹھے تو میں بھی ان کے ساتھ بیٹھ گیا میں خود بھی لوگوں کے ساتھ ھی چل رھا تھا، کیونکہ میں پہلی مرتبہ ھی ھوائی جہاز میں سفر کررھا تھا،لیکن کسی پر یہ ظاھر نہیں کررھا تھا کہ میں پہلی مرتبہ سفر کررھا ھوں، وہ بس سیدھے ھی جہاز کے قریب پہنچی جہاں دو سیڑھیاں لگی ھوئی تھیں، میں بھی لوگوں کے ساتھ اس میں سے ایک سیڑھی پر چڑھ گیا، اور جہاز پر ایک ائرھوسٹس نے مجھے دیکھتے ھی خوش آمدید کہا اور میرے بورڈنگ پاس کو دیکھتے ھوئے مجھے راستہ دکھایا، وھاں سے میں سیٹوں کے نمبر دیکھتا ھوا اپنی سیٹ کے پاس پہنچ کر پہلے اپنا بیگ اوپر کے کھلے ھوئے کیبنٹ میں رکھا اور سیٹ پر جاکر بیٹھ گیا اتفاق سے کھڑکی کے پاس سیٹ ملی تھی، میں بس کھڑکی سے باھر کی ظرف بڑے شوق سے دیکھ رھا تھا!!!!!!!

کچھ ھی دیر میں جہاز کے روانہ ھونے کا اعلان ھوا اور کہا گیا کہ اپنی اپنی بیلٹ باندھ لیں، مجھے بیلٹ تو نظر آئی مگر کس ظرح سے باندھوں یہ سمجھ میں نہیں آیا، میں نے برابر والے کو دیکھا تو اس نے بھی ابھی تک بیلٹ کو چھوا تک نہیں تھا، پھر میں نے دیکھا کہ ائرھوسٹس جہاز میں سفر کے بارے میں ھدایت دے رھی تھی، اور اس نے جیسے ھی بیلٹ کو باندھنے کا طریقہ بتایا، میں نے بہت ھی غور سے دیکھا اور ذھن میں رکھتے ھوئے اپنی بیلٹ کو باندھ لیا، شکر ادا کیا کہ ایک مرحلہ تو پورا ھوا، فوراً ھی جہاز نے حرکت کی تو میں سنبھل گیا اور کھڑکی سے باھر دیکھنے لگا فوراً ھی ایک ائرھوسٹس میرے نزدیک آئی میں پہلے تو ڈر گیا کہ کہیں یہ باھر جھانکنے کے لئے منع تو نہیں ‌کررھی مگر وہ تو ایک ٹافیوں کی ایک چھوٹی سی ٹوکری لئے کھڑی تھی، میں نے ایک ٹافی شکریہ کہتے ھوئے اٹھائی، اس نے بھی بڑے مسکراتے ھوئے جواب دیا اور آگے چلی گئی، اب جہاز ایک رن وے پر آکے کھڑا ھو گیا اور ایک انگلش میں اعلان کیا کہ جہاز اڑنے کیلئے تیار ھے، اور ایک دم اس نے اسپیڈ پکڑی اور رن وے پر دوڑنے لگا!!!!!!!!

میرا دل زور زور سے دھڑکنے لگا اور چند سیکنڈ مین جہاز نے رن وے کو چھوڑدیا، میرے کان بند ھوگئے اور میں کھڑکی سے کراچی شہر کو دیکھ رھا تھا بس کچھ ھی دیر میں سمندر نطر آیا اور بالکل نیچے بڑے بحری جہاز چھوٹے چھوٹے نظر آرھے تھے پھر کچھ اور جہاز اوپر جاتے ھی بادلوں کے جھنڈ میں سے نکلتا ھوا بادلوں کے اوپر آگیا، نیچے اب سفید بادل بہت ھی خوبصورت نظر آرھے تھے، دن کا وقت تھا اس لئے سب کچھ صاف صاف نظر آرھا تھا، میں نے دیکھا کہ لوگ اپنی اپنی بیلٹ کو کھول رھے تھے، اور ساتھ ھی اناؤنسمنٹ بھی ھورھی تھی، فوراً کھانا بھی ائر ھوسٹس کھانے کی ٹرالی کھینچتے ھوئے لے آئی اور ایک ٹرے مجھے پکڑادیا، میں نے اپنے سامنے کی سیٹ کے بیک سے کھانے کی ٹرے کھولی اور اس میں کھانے کی ٹرے رکھی، اس میں ایک چکن کا فرائیڈ پیس تھا اور کچھ چاول اور کچھ مصالےدار گوشت بھی بھنا ھوا رکھا تھا، کھانا مزے کا تھا لیکں کچھ پھیکا پھیکا سا تھا، مجھے اچھا لگا !!!!!

کھانے سے فارغ ھوکر وہ چائے لے کر آئی، چائے بھی پی لی اس کے بعد خالی ٹرے لینے آئی، اس طرح ایک رونق بھی لگی رھی، میں بھی برابر والے سے باتیں کرتا رھا وہ بھی پہلی مرتبہ سفر کررھا تھا، پھر تقریباً ڈھائی گھنٹے بعد الریاض ائرپورٹ پر جہاز کے اترنے کا اعلان ھوا، اور پھر سب نے سیٹ بیلٹ باندھ لی، میں نے بھی اسی طرح کیا، اور پھر کھڑکی سے جہاز کو نیچے ھوتے ھوئے دیکھ رھا تھا، اور کچھ ھی دیر میں سارا شہر نظر آنے لگا اور ایک دھم سی آواز آئی میں ڈر گیا شاید جہاز کے پہئیے کھل گئے تھے پھر پندرہ منٹ میں جہاز کے پہئیے زمین کو چھو رھے تھے،!!!!!!!!

1978 کا سال مئی کا مہینہ، گرمیوں کا موسم، میری عمر تقریباً 28 سال اور آج میں اپنے وطن سے دور، مگر ارض مقدسہ کے ایک شہر الریاض میں میرا ھوائی جہاز لینڈ کررھا تھا، مجھے ایک طرف سے تو خوشی بھی تھی کہ ایک میری دیرینہ خواھش ارض مقدسہ کی زیارت پوری ھورھی تھی اور دوسری طرف تھوڑا بہت دکھ تو اپنوں سے دور ھونے کا بھی تھا، جیسے ھی جہاز ایک جگہ جاکر رکا تو میں ‌نے کھڑکی سے دیکھا کہ دو سیڑھیاں ھمارے جہاز کی طرف بڑھ رھی ھیں، کچھ ھی منٹ میں سیڑھیاں لگنے کے فوراً بعد جہاز کے دو دروازے کھل گئے، اور تمام مسافر آہستہ آہستہ ایک قطار میں دروازے کی طرف چلنے لگے، جہاں سیڑھی لگی ھوئی تھی، میں بھی اپنا چھوٹا بیگ کیبنٹ سے نکال کر ھاتھ میں اٹھائے ھوئے جیسے ھی میں دروازے کی طرف پہنچا تو ایک دم شدید تپش کا جھونکا لگا ایسا لگا کہ باھر آگ لگی ھوئی ھے، اور بمشکل سیڑھیوں سے اترتا ھوا، نیچے کھڑی ھوئی بس میں چڑھا تو کچھ سکون ملا،اتنی شدید گرمی تو میں نے پاکستان میں کہیں بھی نہیں دیکھی تھی،!!!!!!!

بہرحال یہ میرا اتفاق تھا باھر جانے کا، اس لئے بہت سنبھل سنبھل کر دوسروں کی تقلید کرتا ھوا چل رھا تھا، جیسے ھی بس رکی، جلدی جلدی اتر کر ائرپورٹ کی بلڈنگ کے اندر پہنچ کر میں سیدھا امیگریشن کی لائن میں لگ گیا اور ایمیگریشن کا انفارمیشن کارڈ جو جہاز میں ھی ملا تھا، پہلے ھی میں اسے بھر چکا تھا اور پاسپورٹ کے ساتھ ھی رکھ لیا تھا، جیسے ھی کاونٹر پر پہنچا تو میں نے اپنا پاسپورٹ اور ایمیگریشن کارڈ کاونٹر پر رکھا وپاں کی سیکوریٹی کے بندے نے پہلے تو مجھے غور سے دیکھا اور پاسپورٹ پر ویزے کو چیک کیا، پھر ایک دخول کی مہر لگا کر مجھے پاسپورٹ دے دیا، اور ایمیگریشن کارڈ اپنے پاس ھی رکھ لیا، میں نے پاسپورٹ کو سنبھال کے اپنی جیب میں رکھ لیا اور ھاتھ میں اپنے بیگ کو اٹھائے ھوئے اس بیلٹ پر پہنچا، جہاں پر ھمارے جہاز سے آیا ھوا ساماں چکر لگا رھا تھا، کچھ ھی دیر میں مجھے اپنا سوٹ کیس نظر آگیا، اسے فوراً ھی چلتی ھوئی بیلٹ پر سے اٹھایا، اور کسٹم حکام کے کاؤنٹر پر پہنچا اور سوٹ کیس اور بیگ کا اپنا سارا سامان انہوں نے چیک کیا اور چاک سے لکیر مار کر انہوں نے کلئیر کردیا، اور اپننے سوٹ کیس اور بیگ کو اچھی طرح بند کیا اور باھر نکلنے والے گیٹ کی طرف چل دیا،

مجھے کراچی سے یہاں تک پہنچنے ھی کوئی بھی مشکل پیش نہیں آئی، مجھے ویسے بھی دفتر میں یہ سب کچھ سفر کی تمام احتیاطی تدابیر پہلے سے ھی واضع کردی تھیں، اس کے علاؤہ میں لوگوں کے نقش قدم پر ھی اپنے قدم ملاتا ھوا چل رھا تھا، تاکہ کسی کو بھی یہ محسوس نہ ھو کہ میں پہلی بار سفر کررھا ھوں، کیونکہ سنا تھا کہ پہلی مرتبہ سفر کرنے والوں کے ساتھ کئی مشکلیں بھی پیش آئیں اور مذاق کا نشانہ بھی بنے،!!!!! جیسے ھی باھر نکلا تو میں نے ایک صاحب کو دیکھا جو مجھے ھی دیکھ کر ھاتھ ھلا رھے تھے جو میرے ساتھ کراچی میں ایک پروجیکٹ پر کام بھی کر چکے تھے، اور ان کا بیٹا بھی جوکہ میرا دوست بھی تھا، کراچی میں اسی کمپنی کے آفس میں والد صاحب کے ساتھ کام کررھا تھا اور آج کل ان کی بیٹی سے میرے رشتے کی بات بھی چل رھی تھی،!!!!!!

انہوں نے سلام دعاء کے بعد مجھ سے میرے منع کرنے کے باوجود سوٹ کیس لے لیا اور خیر خیریت پوچھتے ھوئے ساتھ ھی چل رھے تھے، اور ھم دونوں ڈرائیور کے ساتھ پارکنگ میں پہنچے وھاں کمپنی کی کار میں بیٹھ کر دفتر کی طرف روانہ ھوگئے، وہ میرے بہت ھی اچھے مہربان تھے، اور انہیں کی بیٹی کے رشتے کے لئے والد صاحب بہت بضد تھے کہ میرا رشتہ یہیں پر ھو لیکن میں پہلے ھی اپنی والدہ سے اس رشتے سے انکار کرکے یہاں آگیا تھا، جیسا کہ پہلے تفصیل سے میں نے تحریر بھی بیان کرچکا ھوں، اب مجھے ان کے ساتھ چلتے ھوئے بہت شرمندگی ھو رھی تھی، مگر انہوں نے اس موضوع پر مجھ سے کسی قسم کی کوئی بات نہیں کی اور نہ ھی کوئی مجھے انکی طرف سے کوئی ایسا محسوس ھوا تھا کہ انکی بیٹی کے ساتھ میرا رشتہ ھونے والا ھے، دفتر کے ساتھ رھائش تھی جہاں پہنچنے پر انہوں نے میری کافی خاطر مدارات کی اور لوگوں سے میرا تعارف بھی کرایا جو مجھے نہیں جانتے تھے، کیونکہ اکثریت مین زیادہ تر لوگ مجھے پہلے سے ھی جانتے تھے اور وھاں پر میرے تمام سینئیر استاد صاحبان بھی موجود تھے،!!!!!!!

وہاں پر سب لوگوں نے میرا پرتپاک خیر مقدم کیا، شام ھوچکی تھی دفتر میں سب سے سلام دعاء کرنے کے بعد میرے دوست کے والد مجھے وہاں کے ڈائیریکٹر کے پاس لے گئے اور انہوں نے بھی خیر خیریت پوچھی اور پھر کچھ رسمی بات چیت کے بعد میں نے اجازت لی اور باھر نکل کر اپنے کمرے میں چلا آیا، پھر کچھ نہا دھو کر تازہ دم ھوگیا پھر وہی میرے کمرے میں اپنے ایک دوست کو لے آئے اور میرا تعارف وغیرہ کرایا، اور پھر انکے دوست نے میرا اچھا خاصہ انٹرویو لے ڈالا، اب ایسا لگ رھا تھا کہ شاید ان صاحب کو میرے اس رشتے کے بارے میں معلوم ھوچکا ھے، اور وہ مجھے کہہ رھے تھے کہ جہاں تمھارا رشتہ ھونے جارھا ھے وہ بہت اچھے لوگ ھیں، میں اس پوری فیملی کو اچھی طرح جانتا ھوں، وغیرہ وغیرہ، میں نے بھی کوئی جواب نہیں دیا، پھر ھم تینوں ھی بازار چلے گئے اور مجھے کچھ ضرورت کی چیزیں خرید کر دیں اور پیسے بھی ادا کردئیے، میں نے کہا کہ میں یہ پیسے آپ کو بعد میں لوٹا دونگا، کیونکہ وہاں کی کرنسی اس وقت میرے پاس نہیں تھی،!!!!!!

ایک ہفتہ مجھے تو بالکل ہی نیند نہیں آئی، نیا نیا شہر اور ایک عجیب سی اجنبیت، مگر شکر ھے کہ کچھ دنوں بعد آہستہ آہستہ میرا دل لگ گیا تھا، کیونکہ ھمارے ساتھ سب پاکستانی ھی تھے، اور زیادہ تر سب مجھے جانتے تھے کیونکہ ھم ایک دوسرے سے 1971 سے لے کر اب تک کہیں نہ کہیں ساتھ کام کر چکے تھے اور سب سے اچھی بات یہ تھی کہ میرے تمام استاد یہیں پر موجود تھے جن کے ساتھ میں نے کام کیا اور بہت کچھ سیکھا بھی تھا، ایک دفعہ مجھے اور بھی موقعہ مل گیا ان کے ساتھ کام کرنے کا ، الریاض میں اس کمپنی کا سنٹرل آفس تھا، اور مختلف شہروں میں، ھر جگہ اس کمپنی کے ریرتعمیر پروجیکٹ چل رھے تھے، مجھے تقریباً یہاں چھ مہینے تک سنٹرل آفس میں ھی رھنا پڑا کی، کیونکہ جس الظھران کے پروجیکٹ کیلئے یہاں بھیجا گیا تھا، وہ ابھی شروع ھوا ھی نہیں تھا، اس لئے مجھے یہیں پر رکنا پڑا، اسی عرصہ میں جو بھی چھٹی جاتا اسکی جگہ مجھے بٹھا دیا جاتا، یہ بھی اچھا ھوا کہ ساری سیٹوں پر مجھے یہاں کا سسٹم اور کام کے طریقہء کار سے اچھی طرح واقف ھوگیا تھا،!!!!!

اسی دوران یہاں سے مجھے اپنے تمام آفس کے ساتھیوں کے ساتھ پہلی بار مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ جانے کا اللٌہ تعالیٰ نے ایک موقعہ بھی دیا، جہاں مجھے عمرہ اور حج کرنے کی سعادت اور حضور اکرم (ص) کے دربار میں حاضری دینے کا شرف بھی نصیب ھوا تھا، الریاض سے ھم آفس کے ساتھیوں نے پہلے عمرے کا پروگرام بنایا جو کہ میری خوش قسمتی تھی کہ آتے ھی مجھے یہ سعادت نصیب ھورھی تھی اور الریاض سے مکہ مکرمہ تقریباً 1000 کلومیٹر کے فاصلہ کا سفر ھم نے اپنی کمپنی کی ھی بس سے تقریباً 20 گھنٹے میں طے کیا، پہلی مرتبہ باھر سے جب میں نے خانہ کعبہ کے میناروں کو دیکھا تو لبیک لبیک کہتے ھوئے میری آنکھوں سے آنسو جاری ھوگئے اور جسم بھی کپکپا رھا تھا اور جب اندر پہنچا تو خانہءکعبہ کو اپنے سامنے دیکھ کر تو ایک سکتہ سا طاری ھوگیا، !!!

راستے میں ھی طائف میں اپنی کمپنی کے گیسٹ ھاؤس کمپاونڈ میں ھی احرام باندھ لیا گیا تھا، عمرہ ادا کرنے کے بعد دل ھی نہیں نہیں چاھتا تھا کہ اس کعبہ اللٌہ کی دیواروں کو چھوڑدوں، خیر دوسرے دن ھی مدینہ شریف کیلئے روانگی ھوئی، اور جیسے ھی مدینہ منورہ کے شہر میں داخل ھوئے تو ایک پرسکون اور دلوں کو ٹھنڈک سی راحت ملی، یہاں بھی ایک ھوٹل میں سامان وغیرہ رکھ کر اور تروتازہ ھوکر وضو سے فارغ ھوئے اور جلدی جلدی مسجد نبوی (ص) کی طرف بڑھے وھاں نوافل سے فارغ ھوئے تو عشاء کا وقت تھا روضہ مبارک (ص)‌ کی جالیوں کے ساتھ ھی باجماعت نماز پڑھی، اور اسکے فوراً بعد روضہ مبارک (ص) کی جالیوں کی طرف بڑھے اور اسکے آس پاس تمام مقدس جگہوں پر دو دو نفل پڑھے خاص کر ریاض الجنہ کے دروازے کے پاس اور ممبر کے پاس جہاں حضورعالم نبی پاک (ص) نماز پڑھتے تھے، اور جو جو جگہ ملی بیٹھ کر دعائیں اور تسبیح پڑھی، آنکھوں کے سامنے دربار نبی (ص) کی جالیاں اور آنکھوں سے آنسوں کا ایک سیلاب سا امڈ رھا تھا، وھاں سے اٹھے تو سلام ادا کرنے کیلئے روضہ مبارک نبی پاک (ص) کے قریب پہنچے سلام و درود پڑھا اور ساتھ ھی حضرت ابو بکر صدیق اور ان کے ساتھ حضرت عمر ابن خطاب وہاں پر بھی ان پر سلام بھیجا اور پھر باھر نکل کر سامنے ھی بازار سے ھوتے ھوئے جنت البقیع کے مقبرات پر بھی زیارت کیلئے گئے،!!!!

اس سے پہلے مدینہ شریف آتے ھوئے راستے میں جنگ بدر کے مقام پر گئے اور بعد میں مختلف زیارتوں پر بھی گئے اور ھر جگہ نوافل بھی ادا کئے، جس میں خاص طور سے مسجد قباء، مسجد قبلتین، جنگ احد کا مقام، اور سات مساجد جنگ قندق کا مقام، میقات پر ابیارعلی اور کئی مساجد جو اھم مقدس یادگار ھیں، وہاں مدینہ شریف میں دوسرے دن واپسی کی تیاری ھوگئی، وہاں سے واپس جاتے ھوئے بہت دکھ ھو رھا تھا لیکن مجبوری تھی، سروس کا معاملہ تھا، یہ میرا پہلا عمرہ اور پہلی زیارت کو کبھی نہیں بھول سکتا تھا، اور اس کے بعد حج کرنے کی بھی سعادت نصیب ھوئی، اسی طرح اتنا لمبا سفر جو اس وقت الریاض سے بذریعہ بس 20 گھنٹے کے قریب لگتے تھے آور آج کل سڑکیں اچھی اور کشادہ ھونے کی وجہ سے تو 10 گھنٹے سے بھی پہلے مکہ مکرمہ پہنچ جاتے ھیں،!!!!!!

سبحان اللٌہ اب تک کئی حج اور بے شمار عمرے اور زیارت روضہ مبارک (ص) اللٌہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے ھوچکے ھیں، اب بھی یہاں دل یہی چاھتا ھے کہ ساری زندگی بس یہیں گزرجائے، اور موت بھی آئے تو دیار نبی کے روضہ اقدس کے چوکھٹ پر آئے، جو سکون قلب اور راحت زندگی کا لطف یہاں ھے وہ کہیں پر بھی نہیں ھے، !!!!!

یہاں ریاض آئے ھوئے بھی مجھے چھ مہینے ھوگئے تھے، اور اسی دوران حج اور عمرہ بھی کی سعادت اور روضہ مبارک کی زیارت بھی نصیب ھوگئی، اور مجھے کیا چاھئے اللٌہ تعالیٰ نے مجھ گنہگار پر اتنا کرم کیا، کہ میری یہ خاص دلی خواھشات کو پورا کیا، جو میں کبھی خوابوں میں بھی سوچ نہیں سکتا تھا، !!!!!!

آفس کا کام بھی بہت اچھی طرح انجام پا رھا تھا، شروع شروع میں گھر کی یاد بہت آئی لیکن بعد میں وہاں کے لوگوں کے مخلصانہ سلوک کی وجہ سے دل لگ گیا، اور میرے لئے دو فیملیوں کو بھی ساتھ لے کر چلنا تھا، اس کے علاوہ میرا کچھ قرضہ بھی ھوگیا تھا، اس کیلئے مجھے کچھ نہ کچھ تو قربانی دینی ھی تھی اور اللٌہ تعالیٰ نے یہ مجھے بہت اچھا موقعہ بھی دے دیا تھا، جس سے میری تمام مشکلات بھی حل ھورھی تھیں، اور میں زادیہ کے مسئلے کو لے کر بھی بہت فکر مند تھا، میں چاھتا تھا کہ وہ کسی طرح بھی اپنی زندگی کو سہل، سکون اور اپنی نیک خواھشات کے مطابق گزارسکے، ھر وقت میرا ان سب سے رابطہ رھتا، اور ضرورت کے مظابق انہیں اخراجات کیلئے بھیجتا بھی رھتا تھا، مجھے ایک طرف سے یہ بھی اطمنان بھی تھا جب سے ان کے چچا جو ابوظہبی میں تھے، ان سے بھی ان کا رابطہ قائم تھا ، اور وہ کوشش یہی کررھے تھے کہ کسی طرح بھی یہ تینوں وہاں پہنچ جائیں،!!!!

ادھر والد میری شادی کو لئے ھوئے بہت ھی زیادہ کچھ سنجیدہ بھی تھے اور مجھے ھمیشہ خط لکھ کر شادی پر ھی زور دے رھے تھے، ان کو بھی یہ یقین تھا کہ میں ابھی تک زادیہ لوگوں کے ساتھ تعلقات رکھے ھوئے ھوں، اور وہ لوگ ان کے بیٹے کو یعنی مجھ کو ان سے چھین لیں گے اور وہ بھی اپنی جگہ پر صحیح تھے، کوئی بھی اگر انکی جگہ پر ھوتا تو وہ بھی یہی سوچتا، اور والد صاحب اور والدہ یہ بالکل نہیں چاھتے تھے کہ زادیہ سےشادی تو دور کی بات ھے، میں کوئی بھی ان لوگوں سے تعلقات رکھوں، مگر میں ان تینوں کو اس طرح بے یار و مددگار اس منجھدار میں چھوڑ کر تو نہیں جاسکتا تھا، اور نہ ھی میرا ضمیر گوارہ کرتا، بہرحال اب اس مشکل وقت کو کسی نہ کسی طرح لے کر تو چلنا تھا، !!!!!!

باجی کی طرفسے مجھے اب تک یہی پتہ چلا تھا کہ زادیہ کے شوھر نے کافی عرصہ سے کوئی رابطہ نہیں کیا تھا، اس کا یہی کہنا تھا کہ فی الحال زادیہ کو بھیج دو، اور باقی باجی اور خالہ کا ویزا بعد میں بھیجے گا شاید وہ زد پر اڑ گیا تھا اور ساتھ یہ بھی کہا تھا کہ اگر وہ کچھ دنوں بعد نہیں پہنچی تو اسے وہ طلاق دے دے گا، جس کے جواب میں میں نے باجی سے یہی کہا تھا کہ اگر خدا نخواستہ اگر ایسی بات ھوتی بھی ھے تو میں زادیہ سے شادی کرنے کیلئے تیار ھوں بشرطیکہ زادیہ اس کے لئے راضی ھو، ورنہ اسکی جو مرضی!!!! باجی اور ان کی امی بھی یہی چاھتی تھیں کہ اس سے زادیہ کا کسی نہ کسی طرح چھٹکارہ مل جائے اور مجھ سے اس کی شادی ھو جائے، !!!!!!

اور اسی دوران نیا سال 1979 بھی شروع ھوچکا تھا، اور میرا ٹرانسفر الظہران کے پروجیکٹ پر بھی ھوچکا تھا اور ادھر گھر سے میرے والد کا میری شادی کے لئے روزانہ دباؤ بڑھتا جارھا تھا اور وہ یہی چاھتے تھے کہ میرے دوست کی بہن سے میری شادی ھوجائے جن سے آخری بار اسی سلسلے میں ملنے ان کے گھر گئےتھے اور لڑکی کو بھی پسند کر آئے تھے، بعد میں اس دوست کے تمام گھر والے اور قریبی رشتہ دار بھی مجھے دیکھنے آئے، اور میرے بارے میں دوست کے والد جو یہاں میرے ساتھ تھے ان کی بھی رضامندی لے لی تھی، اور وہ یہاں میرا بہت خیال رکھتے تھے، میں تو دونوں طرفسے بری طرح پھنس گیا تھا کہ کیا کروں، میں نے آخری بار زادیہ کو خود ھی لکھا، کہ تمھیں اپنا بنانے کی ایک دل میں عرصے سے خواھش تھی اور اب بھی ھے اگر تم اسے پسند نہیں کرتی ھو اور اس سے علیحدہ ھونا چاھتی ھو، تو میں ھر وقت تمھارا دل سے منتظر رھونگا، میں تمھیں چاھتا تھا اور اب بھی میرے دل میں تمھارے لئے وہی جذبات ھیں، اور اگر تمھاری مرضی ھے تو مجھے لکھ دو، ھاں یا نہ مجھے کوئی اعتراض نہیں ھوگا،!!!!!

ایک ھفتے کے بعد مجھے اس کا جواب ملا، جس کا کہ مضمون کچھ اس ظرح سے ملا جلا تھا،!!!! کہ ڈیر سید تمھاری اس قربانی کا بہت بہت شکریہ، میں نہیں چاھتی کہ کوئی مجھ پر ترس کھائے اور مجھ پر کسی طرح کا احسان کرے، میری جو بھی زندگی ھے جیسی بھی ھے میں اس میں بہت خوش ھوں اور میرے معاملات میں کسی کو بھی یہ حق نہیں پہنچتا کہ مجھ پر احسان کرکے مزید مجھے پریشان کرے، میں ‌کسی کی بھی مہربانی کی قیمت میں اپنے آپ کو کسی کے احسان یا ھمدردی کے بھینٹ نہیں چڑھا سکتی، میرا یہی مشورہ ھے کہ تم اپنے والدین کی بات مان لو اور وہ جہاں کہتے ھیں شادی کرلو اور والدین کا جو بھی فیصلہ ھوتا ھے اپنی اولاد کیلئے بہتر ھی ھوتا ھے، اسی میں تمہاری اور ھماری بھلائی بھی ھے،!!!!! اور بھی بہت لمبا چوڑا خط لکھا تھا، جس کا مجموعی طور پر یہی مطلب تھا، میں تو زادیہ کا یہ خط پڑھ کر چکرا ساگیا، مجھے اس سے اس طرح کے جواب کی توقع نہیں تھی اور نہ اس سے اس طرح کے سخت گیر الفاظوں کی امید تھی، اس وقت ان حالات کے دوران میں نے یہ کبھی بھی یہ سوچا بھی نہیں تھا کہ جو کچھ بھی میں ان کیلئے کررھا تھا کہ مجھے اس کے بدلے میں زادیہ کو پانے کی خواھش تھی، میں جو کچھ بھی کررھا تھا صرف ایک انسانیت کی رو سے اور ان سے جو بھی رشتہ تھا اس کے ناتے یہ تو میرا فرض بنتا تھا، اور میں کوئی اس پر ترس، رحم یا مہربانی نہیں کررھا تھا، نہ جانے اس کے دل میں یہ کیسے بات سما گئی،!!!!!!!!!

زادیہ کے اس طرح کے خط لکھنے سے مجھے بہت ھی زیادہ افسوس ھوا اور رات بھر میں سو نہیں سکا، دوسرے دن میں پریشان حال آفس میں ھی بیٹھا تھا کہ والد صاحب کا خط بھی موصول ھوگیا، انہوں نے تو بہت ھی جذبات میں ڈوب کر خط لکھا تھا جو میرے خیال میں ان کے الفاظ ھو ھی نہیں سکتے تھے، انہوں نے جو مجھے لکھا اس کا خلاصہ یہ تھا کہ بیٹا میں اب اپنے آپ کو بہت کمزور اور لاغر سمجھ رھا ھوں، نہ جانے کب اور کس وقت میری زندگی میرا ساتھ چھوڑ دے، بس میری اب آخری خواھش یہی ھے کہ میں تمھارا سہرا اپنی زندگی میں ھی دیکھ لوں، اگر تم یہاں اپنے دوست کی بہن سے شادی نہیں کرنا چاھتے تو مجھے تم اپنی پسند بتا دو یا جہاں تم چاھتے ھو میں تمھاری شادی جلد سے جلد کرنا چاھتا ھوں اور یہ میری بس تم سے التجا ھے اور یہ آخری میرے دل کی خواھش بھی ھے، مجھے فوراً اس کا جواب دو، ورنہ بیٹے تمھاری اپنی مرضی ھے جیسا چاھو،!!!!!!!

میں بھی کچھ زیادہ ھی جذبات میں آگیا تھا، دونوں خطوط کے الفاظوں کے جذباتی حدود، ایک دوسرے سے بالکل برعکس آپس میں اس طرح ٹکرائے کہ میں نے بھی مجبوراً اپنے فیصلہ کو والد صاحب کے حق میں کردیا، اور انہیں خط لکھ دیا کہ آپ اپنی مرضی سے جہاں آپ خوش ھیں وہیں میری شادی کر سکتے ھیں، بہتر یہی ھوگا کہ جہاں آپ اس وقت میرے دوست کی بہن سے میرے رشتے کیلئے بات چیت کررھے ھیں اور وہ لڑکی آپکو پسند بھی ھے، جن کے والد یہاں اسی کمپنی میں ملازم بھی ھیں، اور سب مجھ سے ھی امید باندھے ھوئے ھیں، تو میں یہی چاھوں گا کہ آپ وھاں جاکر ان کو اس شادی کیلئے ھاں کردیں،!!!!

اس سے پہلے کہ میں واقعات کو آگےبڑھاؤں، یہ بتاتا چلوں کہ جو مجھے بعد میں پتہ چلا کہ والد صاحب زادیہ کا گھر ڈھونڈھتے ھوئے انکے گھر پہنچ گئے اور ان سے نہ جانے کس ظرح اور کیسے ملاقات ھوگئی، یہ تو مجھے معلوم نہیں ‌ھوسکا، بس اتنا ھی پتہ چلا کہ مجھے خط لکھنے سے پہلے والد صاحب ان سب سے ملے اور ان سے تمام گلے شکوئے دور کئے اور ان سب سے شاید یہی کہا کہ سید کیلئے ایک لڑکی دیکھی ھے، اور کافی عرصہ سے بات چیت چل رھی ھو اور میں نے انکو زبان بھی دے دی ھے اور وہ کچھ بتاتا بھی نہیں اور شادی سے بھی انکار کررھا ھے، صرف آپ لوگ ھی اسے اس بات پر راضی کرسکتے ھیں، اسے خط لکھ کر اس کو راضی کریں تاکہ میری عزت رہ جائے، کیونکہ مجھے معلوم ھے کہ وہ آپلوگوں کی بات کو کبھی نہیں ٹالے گا، اور اس کی شادی میں ساری تیاری بھی آپلوگوں نے ھی کرنی ھے،!!!!!

1979 کا سال چل رھا تھا، اور مارچ یا اپریل کا مہینہ تھا، والد صاحب میرا خط ملتے ھی میرے دوست کے ساتھ ھی جو ان کے ساتھ ھی ایک الگ سیکشن میں کام کرتا تھا، ان کے گھر پہنچ کر یہ خوشخبری سنادی کہ میرے بیٹے نے آپکی بیٹی سے اس شادی کیلئے رضامندی ظاھر کردی ھے، اور میرا دوست بھی بہت خوش تھا کیونکہ انکی والدہ بہت ھی زیادہ پریشان تھیں کیونکہ کافی دن ھوگئے تھے اور والد صاحب میری ھی وجہ سے انہیں اب تک کوئی جواب نہیں دے سکے تھے اور میرے دوست نے اپنی والدہ کو یہی کہا تھا کہ میری بہن کی شادی اگر ھوگی تو صرف سید سے ھی ھوگی، جبکہ ان کی والدہ کے پاس ان کی بیٹی کیلئے رشتے بھی آرھے تھے مگر وہ اپنے بیٹے کی وجہ سے مجبور بھی تھیں، لیکن والد صاحب کے پہنچنے سے پہلے وہ دل برداشتہ ھوچکی تھیں اور ایک اچھے رشتے کیلئے ھاں کہنے جا ھی رھی تھیں، کہ والد صاحب پہنچ گئے،!!!!!!!

یہ بھی بعد میں میرے علم میں یہ بات آئی کہ اسی دن وہاں سے وہ سیدھا زادیہ کے گھر پہنچے اور انہیں بھی مبارکباد دی اور شاید انکا شکریہ بھی ادا کیا ھوگا، کہ میرا بیٹا مان گیا ھے، اور انہیں تینوں کو وہ اپنے گھر پر بلا کر یہ کہتے ھوئے چلے گئے کہ اب جلدی سے ایک منگنی کی رسم ادا ھوجائے اور اس کیلئے آپلوگوں نے ھی تیاری کرنی ھے اور شادی کی بھی تاریخ وغیرہ بھی اسی دن رکھ لیں گے، کیونکہ سید بھی شاید مئی کے مہینے میں سالانہ چھٹی لیکر پہنچ جائے، وہاں سے وہ گھر پہنچے اور گھر پر امی اور بہن بھائیوں کو میرا خط دکھایا اور سب بہت ھی خوش ھوگئے، اور دوسرے دن باجی، زادیہ اور ان کی والدہ پہلی مرتبہ والد صاحب کی دعوت پر گھر پہنچ گئیں اور لازمی بات ھے کہ آپس میں گلے شکوئے بھی ھوئے ھونگے، چلو اسی بہانے ھی سہی دونوں فیملیوں میں تعلقات تو بحال ھوگئے،!!!!!!!

ھماری والدہ تو بالکل سیدھی سادھی تھیں، اس لئے زادیہ، باجی اور ان کی والدہ نے ھی اور میرے بہں بھائیوں نے ملکر تمام خریداری وغیرہ کی، ساتھ ھی منگنی کی تاریخ آپس میں ظے کرکے، اور تمام تیاری کرکے مقررہ تاریخ کو چند جان پہچان کے لوگوں کے ساتھ پہنچ گئیں، منگنی کی رسم بڑی دھوم دھام سے ادا ھوئی، اور یہ طے پایا کہ 9 جون 1979 کو نکاح اور رخصتی ھوگی، مجھے اس وقت پتہ چلا جب یہ ساری تفصیل بمعہ چار پانچ فوٹو گراف، کے ساتھ ایک رجسٹری پوسٹ کے ساتھ میرے چھوٹے بھائی نے بھیجی تھیں، ان تصویروں میں ھی باجی، زادیہ اور خالہ کو بھی میری ھونے والی دلہن کے ساتھ دیکھا، اور مجھے یہ حیرانگی ھوئی کہ والد صاحب نے کس طرح ان لوگوں سے دوستانہ ماحول پیدا کیا ھوگا جبکہ وہ ان سب سے سخت نفرت کرتے تھے،!!!!!!!
---------------------------------------------------------
جاری ھے،!!!!

عبدالرحمن سید
01-02-10, 06:37 PM
ھماری والدہ تو بالکل سیدھی سادھی تھیں، اس لئے زادیہ، باجی اور ان کی والدہ نے ھی اور میرے بہں بھائیوں نے ملکر تمام خریداری وغیرہ کی، ساتھ ھی منگنی کی تاریخ آپس میں طے کرکے، اور تمام تیاری کرکے مقررہ تاریخ کو چند جان پہچان کے لوگوں کے ساتھ پہنچ گئیں، منگنی کی رسم بڑی دھوم دھام سے ادا ھوئی، اور یہ طے پایا کہ 9 جون 1979 کو نکاح اور رخصتی ھوگی، مجھے اس وقت پتہ چلا جب یہ ساری تفصیل بمعہ چار پانچ فوٹو گراف، کے ساتھ ایک رجسٹری پوسٹ کے ساتھ میرے چھوٹے بھائی نے بھیجی تھیں، ان تصویروں میں ھی باجی، زادیہ اور خالہ کو بھی میری ھونے والی دلہن کے ساتھ دیکھا، اور مجھے یہ حیرانگی ھوئی کہ والد صاحب نے کس طرح ان لوگوں سے دوستانہ ماحول پیدا کیا ھوگا جبکہ وہ ان سب سے سخت نفرت کرتے تھے،!!!!!!!

منگنی کی تصویروں میں زادیہ اور باجی کو دیکھ کر حیران تھا اور بار بار ان تصویروں کو دیکھ کر اپنی ھونے والی بیگم کے ساتھ ساتھ ان کو بھی دیکھ رھا تھا، ساتھ یہ اندازہ لگانے کی کوشش کر رھا تھا کہ زادیہ کے چہرے پر کیسے تاثرات ھیں، تصویروں میں تو وہ بہت سنجیدہ سی نظر آئی، لیکن باجی کچھ مسکرا رھی تھیں مگر خالہ جان کچھ اداس اداس سی لگ رھی تھیں، بہرحال اب تو فیصلہ ھو چکا تھا مگر صرف مجھے زادیہ کے جواب سے بہت دکھ پہنچا تھا، اس سے مجھے اس بات کی توقع نہیں تھی، مگر کبھی یہ بھی دل میں خیال آیا کہ کہیں والد صاحب کے دباؤ میں آکر یا ان کی منت سماجت کی وجہ سے اس نے اس ظرح کا خط لکھا کہ میں والد صاحب کے فیصلے پر اپنا سر جھکا دوں، اوپر والا ھی بہتر جانتا ھے،

مجھے مئی کے مہینے میں ھی سال پورا ھونے والا تھا اور میں نے چھٹی کیلئے درخواست بھی دے دی تھی، اور میری سیٹ 31 مئی کی رات کی تھی، ایک اور واپسی کا سفر کراچی کیلئے تیار تھا، مگر مجھے اب کوئی اتنی زیادہ خوشی نہیں تھی، ادھر باجی کا ویزا ان کے چچا نے کسی نہ کسی طرح بھجوادیا تھا، اور میرے پہنچنے سے پہلے ھی وہ اپنے چچا کے پاس ابوظہبی پہنچ گئیں، اور یہ مجھے وہاں پہنچنے پر ھی پتہ چلا تھا، جس دن میں کراچی پہنچا اس دن شاید جمعہ کا دن تھا اور یکم جون کی تاریخ تھی، اور صبح صبح کا وقت تھا گرمی شدت کی تھی،!!!!!

جیسے ھی میں ائر پورٹ کے باھر نکلا تو سب گھر والے آئے ھوئے تھے سب بہں بھائی اور دوسرے عزیز اقارب بھی تھے، اور سب لوگ تقریباً پھولوں کے ھار لے کر آئے ھوئے تھے اور باری باری مجھے پہنا رھے تھے اور شادی کے ساتھ ساتھ حج اور عمرے کی مبارکباد دے رھے تھے، میں تو پھولوں کے ھار سے لد چکا تھا،سارے ھاروں کو گلے سے اتارا اور کسی کو پکڑا کر پھر سب گاڑی کی طرف چل دئے، جو کمپنی ھی کی طرف سے آئی تھی، ابھی میں گاڑی میں بیٹھنے والا ھی تھا کہ اچانک ایک رکشہ سامنے آکر رکا، میں نے دیکھا کہ اس میں سے پہلے زادیہ باھر نکلی اور اسکے بعد خالہ باھر آئیں اور انہوں نے مجھے گلے لگایا اور ماتھے پر پیار کیا، اور زادیہ نے ایک بہت ھی خوبصورت سا پھولوں کا ھار میرے گلے میں ڈالا اور ھاتھ ملاتے ھوئے مبارکباد دی، اور بس میں اسکے چہرے کو ھی دیکھ رھا تھا، اور اس نے اپنا چہرہ نیچے جھکایا ھوا تھا، !!!!!

زادیہ اور خالہ بھی ھمارے ساتھ ھی کمپنی کی گاڑی میں بیٹھ گئیں، اور سب گھر والے بھی اسی میں بیٹھ گئے جو ایک اچھی خاصی بڑی وین تھی، اس کے علاوہ اور بھی دوست اور احباب بھی اپنی اپنی گاڑیوں میں اپنی فیملیوں کے ساتھ آئے تھے سب ایک قافلے کی صورت میں گھر پہنچے، اور کچھ تو ائرپورٹ سے ھی بعد میں گھر آنے کا وعدہ کرکے چلے گئے تھے باقی ساتھ ھی گھر تک آئے تھے اور کچھ دیر بعد وہ بھی شام کو آنے کا کہہ کر چلے گئے، زادیہ اور انکی امی گھر پر ھی تھے اور ایسا ھی لگ رھا تھا کہ جیسے وہ بھی اسی گھر کی خاص ممبر ھی ھوں، کتنے عرصے بعد میں ان کو اور ھمارے گھر والوں کو ایک ساتھ اس طرح ساتھ بیٹھے ھنستے بولتے دیکھ رھا تھا، اور سب مل جل کر اس طرح کام کررھے تھے کہ لگتا ھی نہیں تھا کوئی پرائے لوگ ھیں یہ معجزہ کیسے ھوگیا مجھے بہت ھی تعجب ھورھا تھا،

باجی کا پتہ چلا کہ وہ تو اپنے چچا کے پاس ابوظہبی گئی ھوئی ھیں، ھوسکتا ھے وہ زادیہ اور اس کے شوھر کے مسئلے کو اپنے چچا کے ساتھ مل کر سلجھانے گئی ھوں، انکی کمی مجھے بہت محسوس ھورھی تھی، کیونکہ ایک وھی تھیں جن سے میں ان سے اپنے دل کی بات کہہ سکتا تھا، زادیہ سے میں نے اپنے گھر پر بات کرنے کی کوشش کی لیکن وہ مجھے دیکھ کر فوراً کترا جاتی تھی، اور کسی اور طرف متوجہ ھوجاتی، نہ جانے کیوں مجھ سے وہ کسی بھی موضوع پر بات کرنا ھی نہیں چاھتی تھی، خالہ سے میں ضرور بات کررھا تھا اور وہ مجھے اچھی طرح جواب بھی دے رھی تھیں، اور اگر زادیہ یا باجی کے بارے میں بات کرنا چاھتا تو وہ بھی اس موضوع پر کوئی بھی بات نہیں کرنا چاھتی تھیں اور مجھے بس اشارے سے ھی خاموش کرادیتیں، بس روزمرہ معمول کی ھی باتیں ھورھی تھیں اور میری ھونے والی دلہن کی تعریفیں اور میرے حج، عمرہ اور زیارتوں پر ھی وہاں کے بارے میں ھی باتیں ھوتی رھی،!!!!

آج شام کو ھی گھر پر دلہن کے گھر والے کچھ خاص ھی رسم کرنے آرھے تھے، آج ھی تو میں آیا تھا اور شادی میں ابھی 8 دن باقی تھے، ویسے بھی میں بہت تھکا ھوا تھا اور زادیہ کے بارے میں ھی بہت سے سوالات میرے ذہن میں پریشان کررھے تھے، اور زیادہ تر زادیہ ھی میری شادی اور تمام رسموں کی تیاری میں اھم کردار نبھا رھی تھی، سب کی سرغنہ لگ رھی تھی،!!!!!!

اور مجھے یہ بھی بعد میں پتہ چلا کہ وہاں میرے سسرال میں بھی زادیہ ہی ان کی تمام شادی کی تیاریوں میں ان کا ھاتھ بٹا رھی تھی، اور میری دلہن کی اچھی خاصی دوست بھی بن چکی تھی، اور ساتھ ساتھ میری ھونے والی دلہن کو خاص طور سے میرے بارے میں تفصیل سے بتا بھی رھی تھی، کہ تم بہت خوش قسمت ھو کہ تمھیں ایک بہت ھی اچھا ساتھی ملنے والا ھے، اور جو کچھ میں کہہ رھی ھوں اس پر عمل کروگی تو وہ ھمیشہ تمھارا ایک اچھا دوست بن کررھے گا اور میں چاھتی ھوں کہ تم اسکے ساتھ خوش رھو وغیرہ وغیرہ اس کے ساتھ ھی زادیہ نے میری تمام عادتیں، میری پسند اور نا پسند سب کچھ میری دلہن کو سمجھا دیا اور مجھے کھانے میں کیا کیا خاص طور سے پسند ھے، اور اسکا دیکھو اس طرح خیال رکھنا، اس ظرح نہ کرنا،!!! نہ جانے کیا کیا کہہ دیا،!!!! مگر اس وقت میری ھونے والی دلہن کچھ حیران بھی تھی کہ یہ سب کچھ اسکے ھونے والے دولہے کے بارے میں کیسے جانتی ھے اور مجھے کیوں ان کی تعریفیں اور عادات پسند نا پسند بتا رھی ھے، !!!!!!!

مجھے پریشانی اس بات کی تھی کہ وہ سب سے تو ہنس کر بات کررھی تھی اور مجھے جیسے ھی دیکھتی تو خاموش ھو جاتی، کئی دفعہ کوشش بھی کی لیکن کچھ بھی نہیں بس خاموشی ھی اس کا جواب ھوتا اور بس یہی کہتی بہت کام ھے راستہ چھوڑو، میں بھی چپ ھو جاتا، کبھی کبھی یہ میں نے اس کے منہ سے دوسری لڑکیوں سے یہ کہتے ھوئے ضرور سنا کہ آج کل کے لوگ تو بزدل اور ڈرپوک ھیں، یہ مجھے پر تنز کررھی تھی یا کوئی اور بات تھی میں کچھ سمجھ ھی نہیں سکا تھا!!!!!

گھر میں تو ھر طرف رونقیں لگی ھوئی تھیں، شام کو دلہن کے گھر والے کچھ رسموں کے بہانے محفل سجانے آنے والے تھے، میں یہ سب کچھ حیرانگی سے دیکھ رھا تھا، محلے کی لڑکیاں اور ھماری بہنیں بھی زادیہ کی ھی نگرانی میں ھر کام میں ھاتھ بٹارھی تھیں، کچھ بڑی بوڑھیاں بھی ایک طرف کونے میں بیٹھی اپنے گھر کا رونا رورھی تھیں کبھی کوئی اپنی بہؤ کی شکایت تو کوئی اپنی بیٹی کے سسرال میں ظلم کی داستان سنارھی تھیں، اور کوئی تو اپنے بیٹے پر جورو کے غلام ھونے کا الزام لگا رھی تھی، ان کے ساتھ ھماری والدہ اور زادیہ کی والدہ بھی بیٹھی ان کی ھاں میں ھاں ملا رھی تھیں خدارا ان عورتوں کو کب عقل آئے گی،!!!!!!

میں سونا بھی چاھتا تھا اور اس رونق میں بار بار زادیہ کی تمام حرکتوں پر نطر بھی رکھے ھوئے تھا، وہ بھی کنکھیوں سے مجھے دیکھتی بھی اور فوراً منہ دوسری طرف کرلیتی تھی، میں تو اس دن بہت ھی تھک گیا تھا ایک تو میں رات بھر کا جگا ھوا تھا اور ملنے والوں میں بھی کافی مصروف رھا، اور دوپہر کا کھانا کھا کر بس سب سے باتیں کرتے ھوئے، اسی ھنگامے میں وھیں فرش پر ھی ایک دری بچھی ھوئی تھی وہیں سو گیا تھا، کسی نے میرا سر آٹھایا اور میرے سر کے نیچے تکیہ رکھا، نیند کی غنودگی میں ھی ایک ھلکی سی اسکی جھلک دیکھی وہ زادیہ ھی تھی،!!!!!!!!
--------------------------------------------
جاری ھے،!!!!

عبدالرحمن سید
01-02-10, 06:58 PM
میں سونا بھی چاھتا تھا اور اس رونق میں بار بار زادیہ کی تمام حرکتوں پر نطر بھی رکھے ھوئے تھا، وہ بھی کنکھیوں سے مجھے دیکھتی بھی اور فوراً منہ دوسری طرف کرلیتی تھی، میں تو اس دن بہت ھی تھک گیا تھا ایک تو میں رات بھر کا جگا ھوا تھا اور ملنے والوں میں بھی کافی مصروف رھا، اور دوپہر کا کھانا کھا کر بس سب سے باتیں کرتے ھوئے، اسی ھنگامے میں وھیں فرش پر ھی ایک دری بچھی ھوئی تھی وہیں سو گیا تھا، کسی نے میرا سر آٹھایا اور میرے سر کے نیچے تکیہ رکھا، نیند کی غنودگی میں ھی ایک ھلکی سی اسکی جھلک دیکھی وہ زادیہ ھی تھی، !!!!!!!!

میری نیند اس شور میں بار بار ڈسٹرب ھور ھی تھی، اور کسی کمرے میں کوئی خالی جگہ بھی نہیں تھی، یہیں سب سے ھی بہتر تھا، آخر کو مجھے اٹھا ھی دیا کہ بس چلو اٹھو اور تیار ھوجاؤ، لڑکی والے آنے والے ھیں،شام ھو رھی تھی، میں نہا دھو کے تیار ھوگیا اور ایک نیا شلوار قمیض کا جوڑا پہنا جو شاید آج کی ھی تقریب کے لئے خریدا گیا تھا، بہت خوبصورت تھا اور پہننے کے بعد اور بھی اچھا لگ رھا تھا اور پتہ چلا کہ پسند بھی زادیہ کی ھی تھی، ھر چیز کے بارے میں پوچھو تو یہی جواب ملتا تھا کہ یہ بھی زادیہ نے ھی اپنی پسند سے خریدا ھے، میں بھی تیار ھوکر اپنے دوستوں کے ساتھ جو اسی تقریب کے لئے آئے ھوئے تھے اور کچھ کو تو اس تقریب کا پتہ ھی نہیں تھا، سب سے میں گپ شپ کرنے بیٹھ گیا، اور اِدھر اُدھر کی باتیں شروع ھوگئی، ھر کوئی باھر کے ملک کے بارے میں ھی پوچھ رھا تھا، کیسی سروس ھے اور حج، عمرہ اور زیارت کی سعادت کی مبارکبادیں لوگ دیتے رھے،!!!!!

اسی اثناء میں پتہ چلا کہ لڑکی والے آگئے ھیں، ان کے ساتھ جو مرد حضرات آئے تھے وہ یہاں ھمارے پاس آگئے اور ھمارے سسر صاحب جو اسی کمپنی میں ریاض میں کام کررھے تھے، انہوں نے اپنے ساتھ آنے والوں سے میرا تعارف کرایا، اور باری باری سب سے گلے ملایا اور دعائیں لیں، جو مجھے جانتے نہیں تھے، اور ان کے بیٹے جو میرے دوست بھی تھے وہ یہیں اسی کمپنی میں میرے والد صاحب کے ساتھ ھی کام کرتے تھے وہ میرے پاس آئے اور گلے لگا کر انہوں خیر خیریت دریافت کی، اور وہاں کےحال احوال میں مصروف گفتگو ھوگئے، میں بھی رسماً سب سے ھر ایک کے مختصراً جواب دے رھا تھا، اور ان کے ساتھ آئے ھوئے بچے بھی میرے آگے پیچھے پھر رھے تھے، اور ایک دوسرے کو میری طرف ھی اشارہ کرکے بتا رھے تھے کہ یہی ھیں وہ جو باجی کے دولہا ھیں،!!!!

میرے دوست نے بتایا کہ یہ سب تمھارے سالے ھیں، مجھ سمیت ملاکر چھ بھائی ھیں، اور دو سالیاں بھی ھیں لیکن وہ تو بہت چھوٹی ھیں، میں نے کہا کہ یار ان سے بھی ملا دو، ایک تو اشارہ کرکے انہوں نے کہا دیکھو ایک تو تمھارے سسر کی گود میں ھے اور دوسری میرے ساتھ کھڑی ھے شاید تین سال کی ھوگی، میں نے حساب لگایا کہ یہ تو کل 9 بہن بھائی ھیں، سب سے بڑے تو میرے دوست ھی تھے، اور ان سے جو چھوٹی تھیں ان سے ھی میری شادی ھونے والی تھی، بس پہلی بار ھی منگنی کی تصویروں میں دیکھا تھا، ان کی عمر اس وقت شاید 18برس کی رھی ھوگی اور میری 29 سال، تقریباً 10 سال کا فرق تھا اور باقی 5 بھائی سب پڑھ ھی رھے تھے، اور 2 بہنیں تو ابھی چھوٹی ھی تھیں، خیر ھم بھی کسی سے پیچھے نہیں تھے، ھم بھی تعداد میں آٹھ بہن بھائی، چار بہنیں اور چار بھائی ھیں، میں نے بھی سب کا تعارف اسی وقت کرادیا، میرا دوست تو پہلے ھی سے جانتا تھا، لیکن ایک دوسرے کے گھر آنا جانا نہیں تھا یہ پہلی بار ھی دونوں فیملیوں کا اس شادی کی وجہ سے ایک دوسرے سے ملاقات ھوگئی تھی،!!!!

کچھ ھی دیر میں رسم کے لئے عورتوں کے کمرے میں مجھے جانا پڑا، وہاں ایک کرسی میں بٹھا دیا گیا اور چاروں ظرف ایک ھنگامہ کمرہ تو خیر بڑا ھی تھا لیکن مہمانوں کی تعداد کچھ زیادہ تھی اور میری نطر سب سے پہلے زادیہ پر پڑی جو اپنی والدہ کے ساتھ ایک کونے میں بیٹھی یہ سب تماشہ دیکھ رھی تھی، اور چپکے چپکے اپنی والدہ کے کان میں کچھ تبصرہ کرتی جارھی تھی، اور پھر ایک بڑا سا پھولوں کا ھار ھماری ساس نے میرے گلے میں ڈالا اور ھتیلی میں شاید کچھ پان کے پتے یا پتہ نہیں کچھ مٹھائی وغیرہ رکھی اور کچھ نوٹ وغیرہ میرے اوپر سے چکر لگا کر شاید نطر اتاری اور پھر بلائیں لیں، پھر انہوں نے ایک چمچ مٹھائی کا ایک ٹکڑا میرے منہ میں ڈال دیا، یعنی اس طرح رسم کا باقائدہ سے افتتاح ھو گیا، پھر باری باری سب کا تانتا لگ گیا اور سب نے وھی کیا جو ھماری ساس نے کیا تھا، میری تو حالت غیر ھوگئی، اس وقت میں زیادہ میٹھا نہیں کھاتا تھا، لیکن ھر کوئی بضد ھی تھا کہ وہ مٹھائی کھلاکر ھی چھوڑے گا، ایسا لگ رھا تھا کہ جیسے میرا مٹھائی کھانے کا کوئی مقابلہ ھو رھا تھا مجھے تو ایسا بھی محسوس ھوا کہ جیسے کہ قربانی کے بکرے کو قربانی سے پہلے رنگ و روغن کرکے ھار پھول وغیرہ پہنا کر چارہ کھلاتے ھیں اور اس کے آگے پیچھے خوب ھنگامہ ھوتا ھے، یہ سب کچھ ویسا ھی لگ رھا تھا، میں نے پھر زادیہ کی طرف دیکھا وہ بھی اپنی ہنسی ضبط نہ کرسکی تھی اور منہ چھپا کر اپنی اماں کی ساڑی کے پلو میں اپنا منہ چھپا رھی تھی،!!!!!!

میں نے بھی بڑی مشکل سے ضبط کرکے مٹھائی کھاتا رھا اور جب یہ رسموں کا سلسلہ ختم ھوگیا تو میں بھی تمام سامنے یٹھی ھوئی لڑکیاں جو سسرال سے ھی آئی تھیں، کرسی سے اتر اور ان کے سامنے جاکر بیٹھ گیا اور سب سے الٹا میں نے بھی مذاق شروع کردیا، کچھ تو دلہن کی سہیلیاں تھیں کچھ رشتے کی بہنیں تھیں، اور ایک دلہن کی سہیلی اور ایک کزن دونوں کچھ زیادہ تیز لگتی تھیں ان سے ھی مذاقاً اِدھر اُدھر کی گفتگو شروع کردی، اور دلہن کے بارے میں پوچھنا شروع کردیا کہ وہ کیسی ھے، کیا کررھی تھی، اور میرے بارے میں کیا رائے رکھتی ھے، وغیرہ وغیرہ، ایک بولی آپ تو بہت بے شرم ھیں ابھی شادی ھوئی نہیں اور ابھی سے حال احوال پوچھ رھے ھیں آپ تو بہت تیز لگتے ھیں اور ھماری سہیلی تو بہت معصوم اور بھولی بھالی ھے، !!! میں نے کہا کہ ھم بھی کچھ زیادہ ھی پہلے معصوم تھے، آپلوگوں کو دیکھ کر مجبوراً معصومیت چھوڑ دی ھم نے، اور میں نے بھی اسی طرح خوب مذاق کیا اور وہ لڑکیاں بھی خوب فری ھوگئیں،!!!!!

اور میں نے اچانک دیکھا کہ زادیہ اٹھ کر جاچکی تھی، شاید وہ یہ میرا اس طرح لڑکیوں سے مذاق کرنے سے وہ دلبرداشتہ ھوگئی ھو یا شاید پھر اور کسی کام سے چلی گئی ھو، کیونکہ مجھے میرا وہ لڑکپن کا زمانہ یاد آگیا جب زادیہ یہ دیکھتی کہ میں کسی لڑکی سے مذاق کررھا ھوں یا کوئی لڑکی مجھ نے فری ھونے کی کوشش کرتی تو وہ فوراً ھی مجھ سے ناراض ھوجاتی تھی، اور غصہ سے پیر پٹختی ھوئی چلی جاتی تھی، اور پھر اسے مجھے منانا بہت مشکل ھوتا تھا اور پھر میں باجی کا سہارا لیتا تھا، اب تو باجی بھی یہاں نہیں تھی!!!!!!!

مجھے فکر ھوگئی کہ زادیہ اٹھ کر کہاں چلی گئی، چھوٹا بھائی کیمرہ لئے اِدھر اُدھر تصویریں کھینچنے میں مگن تھا اور دلہن والوں کی طرف سے بھی فوٹو گرافی جاری تھی، شکر ھے کہ اس وقت یہ مووی بنانے کا چکر نہیں تھا، میرا ان لڑکیوں کے ساتھ شائستہ قسم کا مذاق چلتا رھا، میں نے دیکھا کہ زادیہ کچن میں میری بہنوں کے ساتھ کھانے وغیرہ کے انتطامات مین مشغول تھی، ایک کمرے میں عورتوں کیلئے اور دوسرے کمرے میں مردوں کیلئے کھانا لگایا گیا، بازار سے ھی شاید بریانی اور قورمہ بنوایا گیا تھا اور تافتان روغنی نان بھی کسی خاص نانبائی کے تندور سے خریدی گئی تھیں، مردوں کی بنسبت عورتوں کی تعداد کچھ زیادہ تھی اسی لئے ان کیلئے بڑے کمرے میں انتظام کیا گیا تھا، اور میں بھی دونوں ھی طرف کے انتظامات دیکھ رھا تھا، اور باری باری ھر ایک سے اخلاقاً اور رسماً پوچھتا بھی جارھا تھا، کہ ارے بھائی صاحب کھائیے نا، آپ نے تو ہاتھ ھی روک لیا، تکلف نہ کیجئے گا، کچھ تو ھمارے یہاں کے لوگ بہت واقعی بے تکلف تھے اور مذاق کا ذوق رکھتے تھے، اور جیسے ھی تھال سامنے جاتا تو ساری بوٹیاں کھینچ کر اپنی پلیٹ میں ڈال کر کہتے کہ ارے دولہے میاں یار کچھ بوٹیاں وغیرہ کچھ نطر نہیں آرھی ھیں، اپنے دوست یعنی دلہن کے بھائی سے بھی کہتا جاتا کہ دیکھو اپنے لوگوں کو کہیں تکلف نہ کریں، میں بھی سب سے ھر ممکن پوچھتا رھا، اور میرے ساتھ ساتھ زادیہ بھی عورتوں میں سب کی بہت اچھی طرح مہمان نوازی کررھی تھی، سب سے تو مسکرا مسکرا کر پوچھ رھی تھی اور جیسے ھی میری طرف نطر پڑتی بالکل سنجیدہ ھوجاتی، میں نے کیا قصور کیا تھا پتہ نہیں؟؟؟؟؟

کھانے کا دور ختم ھوا تو میٹھے کا دور چلا جس میں شاید زردے کے میٹھے چاول ھی تھے، آخر کو یہ رسم ختم ھوئی تو جان میں جان آئی، بس میں تو سب کو رخصت کرنے کےلئے باھر گیا، دلہن کی والدہ بار بار مجھے اپنے برقے کے نقاب میں سے جھانک جھانک کر دیکھ رھی تھیں، مگر پتہ نہیں انھوں نے گھر پر صحیح طرح سے دیکھا بھی تھا یا نہیں کیونکہ وہ بےچاری بھی بہت ھی سیدھی سادھی تھیں، مجھے دیکھ کر شاید اپنی بیٹی کے قسمت کا اندازہ لگانا چاھتی ھونگی، اور میں وھیں سے اپنے دوستوں کے ساتھ باھر ٹہلنے چلا گیا، میں نے تو کھانا کھایا ھی نہیں تھا اور سب اپنے اپنے چکر میں تھے اور مجھے کسی نے نہیں پوچھا، وہاں گھر پر مجھے ڈھونڈ رھے تھے، جس جس نے کھانا نہیں کھایا تھا ان کیلئے آخیر میں گھر پر ھی دستر خوان بچھا دیا گیا تھا، میں بھی کسی کے بلانے پر گھر پہنچا، تو سب کھانے میں مشغول تھے بہرحال میں بھی جگہ بنا کر بیٹھ ھی گیا، اور کھانے وغیرہ سے فارغ ھوئے تو کافی رات ھوچکی تھی، اور سب لوگ تو باتوں میں لگ گئے ، میں پھر باھر نکل آیا، باھر گیٹ کے پاس ھی آس پاس کے ھی دوست باھر کھڑے تھے، ان سے ھی کافی دیر تک گپ شپ لگاتا رھا، کیونکہ ایک سال کے بعد ھی ان سب سے ملاقات ھوئی تھی، اور آج سارا دن میں ھی اس رسم کی وجہ سے ھی باھر نکلنے کا موقع نہیں ملا تھا،!!!!

کافی دیر کے بعد ابا جی کے اندر سے ھی چیخنے چلانے کی آواز آئی کہ بلاؤ اسکو اتنی رات ھوگئی ھے اور کہو کہ سو جائے اسے صبح میرے ساتھ آفس جانا ھے اور بہت کچھ کام بھی ھے، میں نے دل میں سوچا کہ یہاں پر بھی اس کمپنی میں چھٹیوں میں کیا کام کرنے کا رواج ھے کیا، میں اندر آگیا اور والد صاحب نے اپنی حساب کتاب کی ڈائری کھول دی، اور تمام شادی کے انتطامات کے بارے میں مجھے بتانے لگے، میں نے کہا کہ جو کچھ بھی آپنے انتطام کیا ھوگا بہتر ھی ھو گا، زادیہ اور میری بہنیں تو اُوپر کے کمروں میں سونے جاچکی تھیں اور نیچے خالہ ھماری امی سے بات چیت میں مصروف تھیں اور باقی فیملیز جو دور سے آئے ھوئے تھے، وہ بھی تقریباً اوپر کے کمروں میں ھی ان کا سونے کا انتظام کیا گیا تھا، اور مرد حضران نیچےبرابر کے کمرے میں سب کیلئے نیچے فرش پر ھی بستر لگا دیا گیا تھا، اور ایک دو تو صحن میں ھی چارپای لگا کر چادر اوڑھے خرانٹے بھر رھے تھے!!!!!

میں بھی اسی کمرے میں ایک بڑے صوفے پر ھی چادر تان کے سو گیا اور صبح سورج چڑھنے کے بعد ھی آنکھ کھی، والد صاحب تو دفتر جاچکے تھے، لیکن ہدایت دے گئے تھے کہ جب بھی نواب صاحب اٹھیں تو دفتر بھیج دینا، میں نے بھی ھاتھ منہ دھو کر ناشتہ وغیرہ کیا، ناشتہ بھی زادیہ نے ھی لا کر میرے سامنے رکھا، اور ناشتے سے فارغ ھوتے ھی چائے بھی زادیہ ھی لے کر آئی اور میرے ہاتھ میں تھما دی، اور ناشتے کے برتن اٹھا کر چلی گئی، نہ جانے کیوں میرا اتنا خیال کررھی تھی، مگر مجھ سے صحیح طرح بات نہیں کرتی تھی، پھر تیار ھوکر بیٹھا ھی تھا کہ ایک دوست اپنی موٹر سائیکل پر آگیا، میری اتنی اچھی خوبصورت موٹرسائیکل کو والد صاحب نے موقعہ پا کر میرے سعودی عرب جاتے ھی بیچ دی تھی، کیونکہ اسے روزانہ چھوٹے بھائی صاحب گھماتے پھرتے تھے، خیر میں پھر اپنے دوست کے ساتھ آفس چلاگیا!!!!!!

دنوں کا پتہ ھہی نہیں چلا اور مہندیوں اور مائیوں کی رسمیں بھی ھمارے والد صاحب کے حکم سے اپنے اپنے گھروں میں منا لیں، کیونکہ آنے جانے کیلئے کیلئے کافی فاصلہ طے کرنا پڑتا تھا، کراچی کے ایک کونے میں ھمارا گھر تھا اور لڑکی والوں کا گھر سمندر کے کنارے تھا، اور ایک طرف کا فاصلہ اس وقت تقریباً 50 کلو میٹر تو ھوگا ھی، لیکن ایک بات تھی کہ ان کے گھر کے نذدیک ھی سمندر تھا جسکی لہروں کے شور کی آوازیں ان کے گھر تک سنائی دیتی تھیں، مگر تمام لڑکیوں نے مجھ سے اس بات کی شکایت تو کی تھی کہ یہ کیا بات ھوئی، کہ مھندی کی رسم اپنے اپنے گھروں میں ھوگی، مگر زادیہ نے کوئی شکایت نہیں کی اور نہ ھی وہاں رھتے ھوئے اپنے لئے کوئی فرمائیش کی، !!!!!

ایک تو وقت کم تھا اور ابھی تک بہت ساری تیاری باقی تھی، والد صاحب اپنے دفتر کے دوستوں کے ساتھ باھر کے تمام شادی کے انتظامات میں لگے ھوئے تھے اور اندر کے تمام کاموں کی زادیہ ھی نگرانی کررھی تھی اور ساتھ محلے کی لڑکیاں اور بہنیں بھی مدد کررھی تھیں، میں تو بس ھاتھ پر ھاتھ دھرے مہمان نوازی میں ھی مصروف رھتا تھا، گھر پر مھندی اور مائیوں کی رسمیں بھی ھوگئیں اور لڑکیوں نے ڈھولک پیٹ پیٹ کر پوری گلی میں شور ڈالا ھوا تھا اور باھر سے میرے چھوٹے بھائی نے پورے گھر کو ایک الیکٹرک ڈیکوریشن والے کے ساتھ مل کر بہت ھی خوبصورت طریقے سے جھل مل کرتی ھوئی رنگ برنگی لائیٹوں سے سجایا ھوا تھا اور روزانہ اس میں کسی نئی روشنی کا اضافہ بھی ھوجاتا تھا، !!!

آخر کو وہ دن آھی گیا، یعنی 9 جون 1979 بروز ھفتہ جس دن میں ایک شادی کے خوبصورت بندھن میں بندھنے جارھا تھا، ایک عجیب سی ھی کیفیت تھی، شادی کارڈ بھی بھائی نے بہت ھی خوبصورت چھپوائے ھوئے تھے، اس وقت شادی کے ھال کا اتنا رواج نہیں تھا، گھر کے سامنے کسی بڑی گلی میں یا کوئی میدان ھو تو وہیں گنجائیش کے مطابق شامیانہ لگادیا جاتا تھا اور اسٹیج وغیرہ کا انتظام بھی ھو جاتا تھا مگر اس زمانے میں یہ بات ضرور تھی کے دلہن کو شامیانے میں دولہا کے ساتھ کبھی نہیں بٹھایا جاتا تھا، جیسا کہ آج کل ھوتا ھے، ھمیں شام کو سات بجے بارات لے کر دلہن کے گھر پہنچنا تھ