PDA

View Full Version : اقبال کے اشعار اور توحید


شاہد نزیر
20-02-10, 10:33 AM
جی سسٹر آپ نے ٹھیک لکھا ہے علامہ اقبال کی شاعری میں توحید کی جھلک نظر آتی ہے۔اور یہی وجہ ہے کے علماء کی اکثریت انہی کی اشعار کو اپنی تقاریر میں کہتے ہوئے نظر آتے ہیں۔




اقبال کی شاعری میں توحید سے ناواقفیت کا بھی بہت بڑا عنصر پایا جاتا ہے۔
اقبال کا ایک مشہور شعر ملاحظہ ہو

خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے خدا بندے سے خود پوچھے کہ بتا تیری رضا کیا ہے۔

اقبال یہاں شاید یہ کہنا چاہتے ہیں کہ رضاعت اور عبادت سے انسان اس مقام پر بھی پہنچ سکتا ہے جہاں اللہ اپنے اس خاص بندے کے بارے میں کوئی فیصلہ کرنے سے پہلے خود اپنے بندے سے اسکی مرضی پوچھے گا۔ نعوذباللہ من ذالک

اس سے بڑھ کر توحید سے جہالت کی مثال کیا ہوگی!!! اس شعر سے ایک تو یہ بات ثابت ہوئی کہ اقبال قرآن اور حدیث والی توحید سے ناواقف تھے اور دوسری بات یہ ثابت ہوئی کہ وہ ایک صوفی تھے کیونکہ ایسے عقیدے صوفیوں کے علاوہ کوئی نہیں رکھتا۔

مذکورہ شعر کے برعکس قرآن اور حدیث کے نصوص سے یہ ثابت ہے کہ اللہ رب العالمین نے مخلوق کو پیداکرنے سے پانچ سو سال قبل ہی انکی تقدیر لکھ دی تھی اور ایک دوسری حدیث کا مفہوم ہے کہ تقدیر کی سیاہی خشک ہو چکی ہے اور ہر انسان کا فیصلہ ہوچکا ہے کہ وہ جہنم میں جائے گا یہ جنت میں۔

جب اللہ نے مخلوق کی تقدیر اس وقت لکھی جب اسے پیدا بھی نہیں فرمایا تھا تو اس سے تقدیر کے بارے میں اسکی رضا پوچھنے کا کیا مطلب ہے ؟؟؟؟

انسانوں میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھکر اللہ رب العالمین کے نزدیک کسی کا مقام نہیں۔ اگر ہم فرض کریں کہ اقبال اپنے اس شعر میں خودی کی بلندی کے جس مقام کا زکر کر رہے ہیں اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم فائز تھے تو برائے مہربانی کوئی صاحب ہمیں وہ حدیث یا قرآن کی آیت سنائے جس میں اللہ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تقدیر لکھنے سے پہلے اپنے نبی کی رضا دریافت کی ہو۔

اسکے علاوہ بھی اقبال کے کئی اشعار ایسے ہیں جو توحید کی دھجیان بکھیرتے ہیں۔

منہج سلف
20-02-10, 02:27 PM
السلام علیکم۔ بھائی مجھے تو شعر شاعری سے کوئی لگاؤ نہیں
آپ ہی علامہ اقبال رحمۃ اللہ کے وہ شعر یہاں پیش کریں جو توحید کے خلاف ہوں۔
ہمارے علم میں اضافہ ہوگا ان شاءاللہ

رفی
20-02-10, 02:43 PM
سورة القارعة میں ہے: ﴿فاما من ثقلت موازینہ فہو فی عیشة راضیة)

خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خدا بندے سے خود پوچھے کہ بتا تیری رضا کیا ہے۔


میرے خیال میں تو یہ شعر اسی آیت کی تفسیر بیان کرتا ہے۔

محمد ارسلان
20-02-10, 05:55 PM
اقبال کی شاعری میں توحید سے ناواقفیت کا بھی بہت بڑا عنصر پایا جاتا ہے۔
اقبال کا ایک مشہور شعر ملاحظہ ہو

خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے خدا بندے سے خود پوچھے کہ بتا تیری رضا کیا ہے۔

اقبال یہاں شاید یہ کہنا چاہتے ہیں کہ رضاعت اور عبادت سے انسان اس مقام پر بھی پہنچ سکتا ہے جہاں اللہ اپنے اس خاص بندے کے بارے میں کوئی فیصلہ کرنے سے پہلے خود اپنے بندے سے اسکی مرضی پوچھے گا۔ نعوذباللہ من ذالک

اس سے بڑھ کر توحید سے جہالت کی مثال کیا ہوگی!!! اس شعر سے ایک تو یہ بات ثابت ہوئی کہ اقبال قرآن اور حدیث والی توحید سے ناواقف تھے اور دوسری بات یہ ثابت ہوئی کہ وہ ایک صوفی تھے کیونکہ ایسے عقیدے صوفیوں کے علاوہ کوئی نہیں رکھتا۔

مذکورہ شعر کے برعکس قرآن اور حدیث کے نصوص سے یہ ثابت ہے کہ اللہ رب العالمین نے مخلوق کو پیداکرنے سے پانچ سو سال قبل ہی انکی تقدیر لکھ دی تھی اور ایک دوسری حدیث کا مفہوم ہے کہ تقدیر کی سیاہی خشک ہو چکی ہے اور ہر انسان کا فیصلہ ہوچکا ہے کہ وہ جہنم میں جائے گا یہ جنت میں۔

جب اللہ نے مخلوق کی تقدیر اس وقت لکھی جب اسے پیدا بھی نہیں فرمایا تھا تو اس سے تقدیر کے بارے میں اسکی رضا پوچھنے کا کیا مطلب ہے ؟؟؟؟

انسانوں میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھکر اللہ رب العالمین کے نزدیک کسی کا مقام نہیں۔ اگر ہم فرض کریں کہ اقبال اپنے اس شعر میں خودی کی بلندی کے جس مقام کا زکر کر رہے ہیں اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم فائز تھے تو برائے مہربانی کوئی صاحب ہمیں وہ حدیث یا قرآن کی آیت سنائے جس میں اللہ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تقدیر لکھنے سے پہلے اپنے نبی کی رضا دریافت کی ہو۔

اسکے علاوہ بھی اقبال کے کئی اشعار ایسے ہیں جو توحید کی دھجیان بکھیرتے ہیں۔

آپ نے حق بات لیکھی ہے بھائی جان

واقعی اقبال کے کئی شعر اللہ کی کتاب سے ٹکراتے ہیں

محمد ارسلان
20-02-10, 05:57 PM
السلام علیکم۔ بھائی مجھے تو شعر شاعری سے کوئی لگاؤ نہیں
آپ ہی علامہ اقبال رحمۃ اللہ کے وہ شعر یہاں پیش کریں جو توحید کے خلاف ہوں۔
ہمارے علم میں اضافہ ہوگا ان شاءاللہ

اس بھائی نے بلکل ٹھیک کہا ہے واقعی آپ اور بھی شعر کا بتایں تاکہ ہمارے علم میں اضافہ ہو۔

محمد ارسلان
20-02-10, 05:58 PM
سورة القارعة میں ہے: ﴿فاما من ثقلت موازینہ فہو فی عیشة راضیة)

خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خدا بندے سے خود پوچھے کہ بتا تیری رضا کیا ہے۔


میرے خیال میں تو یہ شعر اسی آیت کی تفسیر بیان کرتا ہے۔

آپ سے گزارش ہے رفی بھائی

کہ آپ زرا تفصیل سے بتاہیں۔

ام نور العين
20-02-10, 07:15 PM
السلام علیکم بھائی شاہد نذیر ۔
اگر آپ وضاحت سے اپنا نکتہ نظر اقبال کے اشعار سے مثالوں سمیت پیش کرسکیں تو یقینا ہم سب کی معلومات میں اضافہ ہو گا ۔

محمد زاہد بن فیض
20-02-10, 10:24 PM
اور علامہ اقبال کا یہ شعر بھی عجیب و غریب ہے کہ

اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد
نعوز با اللہ کیا کربلا سے پہلے اسلام مردہ حالت میں تھا۔؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟ ؟
یا یہ بات ہو سکتی ہھے کہ ہمیں‌ اس کا مطلب سمجھ میں‌نہ آیا ہو لیکن اگر کسی بھائی یا بہن کو اس کی انفارمیشن ہو تو ضرور بتا ئیں۔۔شکریہ

رفی
21-02-10, 09:09 AM
سورة القارعة میں ہے: ﴿فاما من ثقلت موازینہ فہو فی عیشة راضیة)

خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خدا بندے سے خود پوچھے کہ بتا تیری رضا کیا ہے۔


میرے خیال میں تو یہ شعر اسی آیت کی تفسیر بیان کرتا ہے۔

آپ سے گزارش ہے رفی بھائی

کہ آپ زرا تفصیل سے بتاہیں۔

علامہ اقبال رحمۃ اللہ علیہ کو سمجھنا تو ہر ایک کے بس کی بات نہیں البتہ انہیں اپنانا بہت آسان ہے یہی وجہ ہے کہ اس عظیم اسلامی شاعر کو ہر مکتبہء فکر، ہر فرقہ اپنے نکتہ نظر سے دیکھتا ہے۔ لیکن کیا یہ حقیقت نہیں کہ پاکستان صرف اور صرف اقبال کے خوابوں کی تعبیر ہے وہی اقبال جس نے "سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا" کہا تھا، اور جس کو لے کر آج بھی اہلِ ہندوستاں اقبال کو اپنا قومی شاعر تسلیم کرتے ہیں۔ رہی بات پاکستان کی تو یہاں تو بچہ سکول جاتا ہے تو اس کا تعارف "لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری" کے ذریعے اقبال سے ہوتا ہے، مگر جب بچے کو اقبال کے بارے میں نصابی کتب میں بتایا جاتا ہے تو پہلا جملہ کچھ یوں ہوتا ہے "وہ ایک عظیم صوفی منش انسان تھے"۔ یہ تاثر ہر ایک کے ذہن میں رچ بس جاتا ہے کہ شاید علامہ اقبال کی شاعری بھی بلھے شاہ، غلام فرید، جامی وغیرہ کی طرز پر صوفی ازم کا پرچار کرتی ہوگی، لیکن اقبال کے قول و عمل کے سنجیدگی سے مشاہدہ کرنے پر یہ تاثر زائل ہو جاتا ہے اور اس کی جگہ ایک راسخ موحد کی شکل میں وہ شاعر نظر آتا ہے جس کی شاعری نے حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کے بعد مسلمانوں کے اندر نئی روح نیا جذبہ اور نیا ولولہ پیدا کر دیا۔ اس عظیم شاعر کو سمجھنے کے لیے صرف ایک لفظ خودی پر دھیان دینے کی ضرورت ہے جو کہ مذکورہ شعر میں بھی موجود ہے :

خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خدا بندے سے خود پوچھے ، بتا تیری رضا کیا ہے

مگر خودی کیا ہے اس کی تعریف خود اقبال فرماتے ہیں:


خودی کا سر نہاں لا الہ الا اللہ
خودی ہے تیغ فساں لا الہ الا اللہ

یہ دور اپنے براھیم کی تلاش میں ہے
صنم کدہ ہے جہاں لا الہ الا اللہ

اگر چہ بت ہیں جماعت کی آستینوں میں
مجھے ہے حکم اذاں لا الہ الا اللہ

یہ نغمہ فصل گل و لا لہ کا نہیں پابند
بہار ہو کہ خزاں لا الہ الا اللہ

کیا ہے تو نے متاع غرور کا سودا
فریب سو دو زیاں لا الہ الا اللہ


بہ الفاظِ دیگر خودی معراج ہے اس مقام کی جہاں اللہ کی طرف ایک ہاتھ بڑھانے سے وہ دو ہاتھ بڑھاتا ہے، اگر ایک قدم اٹھاؤ تو دس قدم اٹھاتا ہے، اگر چل کر جاؤ تو وہ دوڑ کر آتا ہے۔ میرے خیال میں تو شاید ایک مومن کی رضا یہی ہوتی ہے کہ اس کا مشکل کشاء خود اس کی حاجت روائی کو آئے۔ مگر خودی کو گروی رکھ کر وسیلوں کی تلاش میں بھٹکتے لوگوں کو اس کی سمجھ نہیں آسکتی۔

ایک اچھے مبلغ کی خوبی یہی ہوتی ہے کہ ہر سننے والا یہی سمجھتا ہے کہ شاید اسے ہی مخاطب کیا جا رہا ہے اور یہی خوبی اقبال کے ہاں بھی ہے جو انہیں متنازعہ بنا دیتی ہے مگر کھلے دل اور روشن دماغ سے اگر اس کا احاطہ کیا جائے تو سمجھنے والا سمجھ لیتا ہے کہ مخاطب کون ہے اور مدعا کیا ہے۔

ابومصعب
21-02-10, 09:11 AM
السلام علیکم
میں یہاں‌آپکی بات سے اتفاق نہیں‌کرونگا۔
علامہ اقبال کی شاعری ادب کا حصہ ہے، اور جب بات شعر میں کہی جاتی ہے اسکے ظاہری الفاظ کو لیکر کبھی بھی اسکو کوئی بھی معنیٰ نہیں‌پہنایا جاسکتا ہے۔

"پاسبان ملگئے کعبہ کو صنم خانے سے"

اس شعر کو سمجھے بنا اگر "سمھیں" تب اسکے بھی ایسے ہی معنیٰ‌نکل سکتے ہیں‌جیسے ہم یہاں
"خودی کو کر بلند اتنا کے شعر سے نکالنا چاہتے ہیں۔

"یہ بات کسی کو نہیں‌معلوم کہ مومن
قاری نظرآتا ہے حقیقت میں‌ہے قرآن"

یہاں‌بھی ہم کہیں‌سے کہیں‌نکل سکتے ہیں کہ "کسی کو نہیں معلوم کا کیا مطلب ہے" وغیرہ وغیرہ۔

علامہ اقبال ایک انسان تھے فرشتہ نہیں۔
ان سے غلطیوں‌کا صدور ممکن ہے، وہ بشر ہی‌ تھے۔
لیکن عام طور پر ان پر جہالت کا الزام نہیں‌لگتا۔
لیکن الگ الگ انداز اور نظریائے فکر ہوسکتے ہیں۔

خاص طور پر جب ہم ادب پر بات کر رہے ہیں تو معنی و مفہوم کچھ اور ہی ہوتے ہیں‌بعض اوقات۔۔۔۔۔

جزاک اللہ‌خیر

منہج سلف
21-02-10, 09:11 AM
اور علامہ اقبال کا یہ شعر بھی عجیب و غریب ہے کہ

اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد
نعوز با اللہ کیا کربلا سے پہلے اسلام مردہ حالت میں تھا۔؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟ ؟
یا یہ بات ہو سکتی ہھے کہ ہمیں‌ اس کا مطلب سمجھ میں‌نہ آیا ہو لیکن اگر کسی بھائی یا بہن کو اس کی انفارمیشن ہو تو ضرور بتا ئیں۔۔شکریہ
السلام علیکم
کچھ سال پہلے باذوق بھائی نے ایک اور فورم پر اس شعر سے متعلق بحث کی تھی۔ اب اس کا لنک تو یاد نہیں ، آپ باذوق بھائی کے بلاگ پر یہاں پڑھیں۔ معلومات میں اضافہ ہوگا ان شاءاللہ
اسلام زندہ ہوتا ہے کربلا کے بعد ۔۔۔؟ (http://baazauq.blogspot.com/2007/02/blog-post.html)

أبو عبدالله
22-02-10, 02:10 AM
اس میں ان کے لیے نصیحت ہے جو قرآنی آیات اور احادیث کی عجیب تاویلیں کرتے ہیں ۔ فلسفہ جان کر بھی اقبا ل نے حدیث کو مجازا لے کراس کی تاویل نہیں کی۔


مولانا محمد علی جوہر کا ہے
اس کا کیا ثبوت ہے کہ یہ شعر مولانا محمد علی جوہر کا ہے ۔ کیا کوئی حوالہ مل سکتا ہے ؟

کنعان
23-02-10, 03:38 AM
ویسے یہ شعر علامہ اقبال کا نہیں ہے ۔ بلکہ مولانا محمد علی جوہر کا ہے ۔



قتل حسین اصل میں مرگِ یزید ہے
اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد

اس شعر سے متعلق ڈاکٹر محمد یوسف نگرامی کا ایک اقتباس پڑھ لیں ؛

( بحوالہ : الشیعہ فی المیزان ۔ اُردو ترجمہ : ڈاکٹر محمد یوسف نگرامی ، صفحہ نمبر 30 تا 38 ۔ مطبوعہ : دہلی 1989 )۔


-------

شاہد نزیر
23-02-10, 09:05 AM
علامہ اقبال رحمۃ اللہ علیہ کو سمجھنا تو ہر ایک کے بس کی بات نہیں البتہ انہیں اپنانا بہت آسان ہے یہی وجہ ہے کہ اس عظیم اسلامی شاعر کو ہر مکتبہء فکر، ہر فرقہ اپنے نکتہ نظر سے دیکھتا ہے۔ لیکن کیا یہ حقیقت نہیں کہ پاکستان صرف اور صرف اقبال کے خوابوں کی تعبیر ہے وہی اقبال جس نے "سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا" کہا تھا، اور جس کو لے کر آج بھی اہلِ ہندوستاں اقبال کو اپنا قومی شاعر تسلیم کرتے ہیں۔ رہی بات پاکستان کی تو یہاں تو بچہ سکول جاتا ہے تو اس کا تعارف "لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری" کے ذریعے اقبال سے ہوتا ہے، مگر جب بچے کو اقبال کے بارے میں نصابی کتب میں بتایا جاتا ہے تو پہلا جملہ کچھ یوں ہوتا ہے "وہ ایک عظیم صوفی منش انسان تھے"۔ یہ تاثر ہر ایک کے ذہن میں رچ بس جاتا ہے کہ شاید علامہ اقبال کی شاعری بھی بلھے شاہ، غلام فرید، جامی وغیرہ کی طرز پر صوفی ازم کا پرچار کرتی ہوگی، لیکن اقبال کے قول و عمل کے سنجیدگی سے مشاہدہ کرنے پر یہ تاثر زائل ہو جاتا ہے اور اس کی جگہ ایک راسخ موحد کی شکل میں وہ شاعر نظر آتا ہے جس کی شاعری نے حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کے بعد مسلمانوں کے اندر نئی روح نیا جذبہ اور نیا ولولہ پیدا کر دیا۔ اس عظیم شاعر کو سمجھنے کے لیے صرف ایک لفظ خودی پر دھیان دینے کی ضرورت ہے جو کہ مذکورہ شعر میں بھی موجود ہے :

خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خدا بندے سے خود پوچھے ، بتا تیری رضا کیا ہے

مگر خودی کیا ہے اس کی تعریف خود اقبال فرماتے ہیں:


خودی کا سر نہاں لا الہ الا اللہ
خودی ہے تیغ فساں لا الہ الا اللہ

یہ دور اپنے براھیم کی تلاش میں ہے
صنم کدہ ہے جہاں لا الہ الا اللہ

اگر چہ بت ہیں جماعت کی آستینوں میں
مجھے ہے حکم اذاں لا الہ الا اللہ

یہ نغمہ فصل گل و لا لہ کا نہیں پابند
بہار ہو کہ خزاں لا الہ الا اللہ

کیا ہے تو نے متاع غرور کا سودا
فریب سو دو زیاں لا الہ الا اللہ


بہ الفاظِ دیگر خودی معراج ہے اس مقام کی جہاں اللہ کی طرف ایک ہاتھ بڑھانے سے وہ دو ہاتھ بڑھاتا ہے، اگر ایک قدم اٹھاؤ تو دس قدم اٹھاتا ہے، اگر چل کر جاؤ تو وہ دوڑ کر آتا ہے۔ میرے خیال میں تو شاید ایک مومن کی رضا یہی ہوتی ہے کہ اس کا مشکل کشاء خود اس کی حاجت روائی کو آئے۔ مگر خودی کو گروی رکھ کر وسیلوں کی تلاش میں بھٹکتے لوگوں کو اس کی سمجھ نہیں آسکتی۔

ایک اچھے مبلغ کی خوبی یہی ہوتی ہے کہ ہر سننے والا یہی سمجھتا ہے کہ شاید اسے ہی مخاطب کیا جا رہا ہے اور یہی خوبی اقبال کے ہاں بھی ہے جو انہیں متنازعہ بنا دیتی ہے مگر کھلے دل اور روشن دماغ سے اگر اس کا احاطہ کیا جائے تو سمجھنے والا سمجھ لیتا ہے کہ مخاطب کون ہے اور مدعا کیا ہے۔

السلام علیکم ورحمتہ اللہ

رفی بھائی بہت شکریہ کہ آپ نے تفصیلاً اپنے نقطہ نظر کو واضح کیا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ شاعر کی شاعری کو سمجھنا اور بالکل وہی مفہوم بیان کرنا جوکہ شعر لکھتے وقت شاعر کے پیش نظر تھا ، بہت ہی مشکل کام ہے۔لیکن اس کی کوئی خاص ضرورت بھی نہیں ہے کیونکہ ہم اقبال کے شعر کے ظاہر پر بات کررہے ہیں اور اس واضح مفہوم پر اعترا ض کر رہے ہیں جو شعر پڑھتے ہوئے ہر قاری کے زہن میں پیدا ہوتاہے۔ ہمیں اس سے کوئی غرض نہیں کہ اقبال کس قسم کے عقیدہ کے مالک تھے لیکن یہ سچ ہے کہ انکے کئی اشعار عقیدہ توحید کے خلاف ہیں۔

آپ نے متنازعہ شعر کے دفاع میں خودی کے معنی بیان کرنے کی کوشش کی ہے اسکی تشریح بھی اقبال ہی کے دیگر اشعارسے کی ہے اور خودی کے معنی اقبال نے لاالہ اللہ بیان کئے ہیں۔ لیکن رفی بھائی یہ بات یاد رہے کہ میرا اعتراض ہر گز لفظ خودی پر نہیں تھا بلکہ اصل اعتراض اشعار کے ان جملوں پر تھا جن میں اللہ رب العالمین جوکہ ہر عیب اور نقص سے پاک ہے کی طرف نقص اور عیب منسوب کیا گیا ہے۔ کیا بندے کا ایک ایسے مقام پر پہنچ جاناجہاں نعوذباللہ ، اللہ کو بھی اسکی تقدیر کیلئے اس کی رضا کی ضرورت درپیش ہو چاہے اس بندے سے محبت میں ہی کیوں نہ سہی۔ کیا اللہ کی طرف عیب منسوب کرنا نہیں ؟؟؟! کیا اقبال کے اس شعر کا اس کے علاوہ بھی کوئی مفہوم بنتا ہے کہ خودی کے مقام پر اللہ بندے کی رضا کا محتاج ہوجاتاہے ۔ نعوذباللہ من ذالک

رفی بھائی آپ سے درخواست ہے کہ اس متنازعہ شعر سے جو مفہوم آپکو سمجھ میں آتا ہے وہ بیان کریں۔ شعر میں موجود کسی ایک لفظ کی تشریح مت کیجئے گابلکہ پورے شعر کا مفہوم بیان کیجئے گا۔

اقبال کو موحد شاعر کہنا ظلم ہے اور وہ بھی اس صورت میں کے انکی شاعری میں کئی ایک متنازعہ اشعار میں موجود ہیں۔ انشاء اللہ ایک یادو دن میں ، میں اقبال کے ایک اور نئے شعر کے ساتھ حاضر خدمت ہونگا جس کی زد ، براہ راست عقیدہ توحید پر پڑتی ہے اور اسکے بعد فیصلہ آپ پر چھوڑوں گا کہ کیا اسکے بعد بھی اقبال ایک موحد شاعر تھا۔

یہاں میں یہ بھی واضح کردوں کے اقبال کے اشعار کو ہر فرقہ اسلئے اپنے اپنے نقطہ نظر سے دیکھتا ہے کہ اقبال کی شاعری حق اور باطل دونوں طرح کے نظریات پر مشتمل ہے۔ اس میں سے جس فرقہ کو جو پسند آتا ہے وہ لے لیتا ہے۔ جسکی ایک مثال میں پیش کرچکا ہوں اور دوسری مثال کیلئے انتظار کیجئے۔ والسلام

رفی
23-02-10, 09:15 AM
السلام علیکم ورحمتہ اللہ


رفی بھائی آپ سے درخواست ہے کہ اس متنازعہ شعر سے جو مفہوم آپکو سمجھ میں آتا ہے وہ بیان کریں۔ شعر میں موجود کسی ایک لفظ کی تشریح مت کیجئے گابلکہ پورے شعر کا مفہوم بیان کیجئے گا۔




و علیکم السلام!

بھائی اسی تھریڈ کی پوسٹ نمبر 3 میں‌ اس شعر کے متعلق اپنا نکتہ نظر بتا چکا ہوں، کہ خودی یعنی لا الہ اللہ کو اپنا لیا جائے تو یقیناً میزان کا پلڑا بھاری ہو جائے گا۔ اور پھر جس کا میزان بھاری ہو گا اس سے اللہ کا وعدہ ہے کہ اپنی رضا کے مطابق وہ ابدی زندگی گذاریں گے۔

شاہد نزیر
23-02-10, 09:41 AM
و علیکم السلام!

بھائی اسی تھریڈ کی پوسٹ نمبر 3 میں‌ اس شعر کے متعلق اپنا نکتہ نظر بتا چکا ہوں، کہ خودی یعنی لا الہ اللہ کو اپنا لیا جائے تو یقیناً میزان کا پلڑا بھاری ہو جائے گا۔ اور پھر جس کا میزان بھاری ہو گا اس سے اللہ کا وعدہ ہے کہ اپنی رضا کے مطابق وہ ابدی زندگی گذاریں گے۔

وعلیکم السلام و رحمتہ اللہ!

رفی بھائی آپکااقبا ل کے شعر سے متعلق یہ نقطہ نظر صرف ایک لفظ خودی پر مشتمل ہے۔ جبکہ یہ شعر محض ایک لفظ پر نہیں بلکہ دو جملوں پر مشتمل ہے۔ پھر صرف ایک لفظ کو لے کر پورے شعر کا مطلب و مفہوم بیان کرنا کیسے درست ہوسکتاہے؟؟؟!!!

اور اس شعر میں خودی یعنی لا الہ اللہ کو اپنانے کی نہیں بلکہ خودی کو اس قدر بلند کرنے کی بات ہورہی ہے کہ جہاں بندے کی تقدیر خود اسکے ہاتھ میں آجائے کیونکہ جب اللہ رب العالمین بندے کی ہر تقدیر سے پہلے خود اس بند ے کی رضا جانے گا تو بندہ اپنی تقدیر کا مالک خود ہوگا۔ کیا یہ مفہوم اسلامی تعلیمات اور عقیدہ توحید کے خلاف نہیں؟؟؟!!!

شاہد نزیر
23-02-10, 10:35 AM
السلام علیکم
میں یہاں‌آپکی بات سے اتفاق نہیں‌کرونگا۔
علامہ اقبال کی شاعری ادب کا حصہ ہے، اور جب بات شعر میں کہی جاتی ہے اسکے ظاہری الفاظ کو لیکر کبھی بھی اسکو کوئی بھی معنیٰ نہیں‌پہنایا جاسکتا ہے۔

"پاسبان ملگئے کعبہ کو صنم خانے سے"

اس شعر کو سمجھے بنا اگر "سمھیں" تب اسکے بھی ایسے ہی معنیٰ‌نکل سکتے ہیں‌جیسے ہم یہاں
"خودی کو کر بلند اتنا کے شعر سے نکالنا چاہتے ہیں۔

"یہ بات کسی کو نہیں‌معلوم کہ مومن
قاری نظرآتا ہے حقیقت میں‌ہے قرآن"

یہاں‌بھی ہم کہیں‌سے کہیں‌نکل سکتے ہیں کہ "کسی کو نہیں معلوم کا کیا مطلب ہے" وغیرہ وغیرہ۔

علامہ اقبال ایک انسان تھے فرشتہ نہیں۔
ان سے غلطیوں‌کا صدور ممکن ہے، وہ بشر ہی‌ تھے۔
لیکن عام طور پر ان پر جہالت کا الزام نہیں‌لگتا۔
لیکن الگ الگ انداز اور نظریائے فکر ہوسکتے ہیں۔

خاص طور پر جب ہم ادب پر بات کر رہے ہیں تو معنی و مفہوم کچھ اور ہی ہوتے ہیں‌بعض اوقات۔۔۔۔۔

جزاک اللہ‌خیر


السلام علیکم ورحمتہ اللہ!

پر خلوص بھائی اگر آپ میری پوسٹ پڑھیں تو میں نے شعر کے ظاہری الفاظ پراعتراض نہیں کیا بلکہ اس شعر کا مفہوم بیان کیا ہے۔ اگر میں محض ظاہری الفاظ پر جاتا تو پہلا اعتراض اس شعرپر یہ کرتا کہ لفظ خودی غلط ہے کیونکہ اردو یا فارسی میں ایسا کوئی لفظ ہی موجود نہیں بلکہ یہ اصطلاح اقبال کی زاتی ہے جس میں میرے خیال سے وہ خودی سے مراد انسان کی زات لیتے ہیں کیونکہ شعر کے مفہوم سے یہی سمجھ میں آتا ہے لیکن اگر خودی سے مراد لا الہ اللہ لیا جائے جیساکہ رفی بھائی نے بیان کیا ہے۔ تو اس شعر کا مطلب ہی سمجھ میں نہیں آئے گا۔دیکھئے

لا الہ اللہ کو کر بلند اتناکہ ہر تقدیر سے پہلے
خدا بندے سے خود پوچھے کہ بتا تیری رضا کیا ہے

کیا اب آپ ہمیں بتائیں گے کہ اس شعر میں اقبا ل کیا کہنا چاہ رہے ہیں؟! اور لا الہ اللہ کو کیسے بلند کیا جاتا ہے کہ بندہ اس مقام پر فائز ہوجائے جہاں اللہ اسکی تقدیر کے معاملہ میں اسکی رضا دریافت کرے؟؟

جب شعراء کی شاعری کی تشریح بیان کی جاتی ہے تو انکے ظاہری الفاظ کو لے کر انکا مفہوم بیان کیا جاتا ہے۔ اور یہی کچھ میں نے بھی کیا۔ تو اس میں ایسا کیا غلط ہے جس میں آپ مجھ سے متفق نہیں ہیں؟!

میرا بھی آپ سے وہی سوال ہے جو میں نے محترم رفی بھائی سے کیا تھا کہ آپ مجھے اس شعر کا مفہوم سمجھا دیں کہ اس میں شاعر کیا کہنا چاہ رہا ہے۔ اور کوئی ایسی مثال بھی بیان فرمادیں کہ کسی تشریح کرنے والے نے کسی شاعر کے شعر کی ایسی تشریح کی ہو جو کہ اس کے ظاہر الفاظ کے مفہوم کے بالکل مختلف ہو۔ اس سلسلے میں آپ نے جن دو اشعار کا حوالہ دیا ہے۔ یعنی

۱۔ پاسبان مل گئے کعبہ کو صنم خانے سے

اس کے ظاہر الفاظ سے ایک ہی مفہوم واضح سمجھ میں آتا ہے کہ کوئی دشمن یا مخالف بھی آپکی ہمایت کر سکتا ہے یا کل تک جو مسلمانوں کا دشمن تھا آج وہ کافر مسلمانوں کا دوست یا مددگار ہے۔ یا کل تک کا بت پرست آج مسلمانوں کے کعبہ کا پاسبان ہے۔ یاکل کا اسلام سے ناآشنا شخص آج مسلمان ہوکر اسلام کا ہمائتی اور مددگار ہے۔یا اسی سے ملتے جلتے دوسرے مفہومات۔
کیا کوئی شخص اس شعر کا یہ مفہوم بھی لے سکتا ہے کہ بت پرست کعبہ کو ڈھانے کے درپے ہے؟؟؟!!!

۲۔ قاری نظر آتا ہے حقیقت میں ہے قرآن

اس شعر کے بھی ظاہری الفاظ سے یہی مفہوم زہن میں آتا ہے کہ مومن صرف قرآن کی تلاوت نہیں کرتا بلکہ قرآن کی مکمل تعلیمات پربھی عمل کرتاہے۔ جیسا کہ ایک صحابی نے رسول اللہ ﷺ کے اخلاق کے بارے میں سوال کیا تو عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کیا تم نے قرآن نہیں پڑھا؟

میں نہیں سمجھتا کہ اس شعر کے ظاہری الفاظ کی وجہ سے واقعتا کوئی مسلمان یہ سمجھے کہ اقبال تلاوت کرنے والے مسلمان کو خود حقیقتاً قرآن قرار دے رہے ہیں۔ اور اسی طرح میں نے اس شعر(خودی کو کر بلند اتنا ) کے وہی معنی بیان کئے ہیں جو کہ اس شعر کے ظاہر الفاظ سے ثابت ہوتے ہیں۔
والسلام

ابومصعب
23-02-10, 11:42 AM
بہر حال جو بھی ہے۔
تنقید و تبصرہ ہر کسی کا جائیز حق ہے لیکن اس میں انصاف سے کام لیا جاسکتا ہے۔
مطلب یہ نہیں‌ہے کہ "علامہ اقبال کوئی فرشتہ رہے ہونگے"
بلکہ علامہ اقبال کی شاعری عام طور پر ایسی نہیں‌ہے کہ ان کے الفاظ سے ہم ایسے نتائج اخذ کریں‌جس پر انکے موحد ہونے پر شبہ ہو۔
ہاں‌ڈیفرنٹ انڈرسٹانگ ہوسکتی ہے۔
اور اپنے اپنے سوچنے کے الگ الگ ڈھنگ بھی۔۔۔
البتہ واقعی ایسی کوئی بھی بات وہ چاہے "علامہ اقبال" کی ہو یا کسی بھی بڑے سے بڑے "طرم خان " کی۔۔۔اگر اسلامی تعلیمات کے منافی باتیں‌ہو اور "واقعی ہوں" تو وہ قابل مزمت ہیں۔

جزاک اللہ خیر۔
وما توفیقی الا باللہ۔

ام نور العين
23-02-10, 01:07 PM
اقبال کو گمراہ ، حق و باطل کی کھچڑی وغیرہ کہنے سے پہلے یہ بتائیے کس نے کلیات اقبال کا مکمل مطالعہ کر رکھا ہے ؟ فارسی اور اردو دونوں کلام ۔۔۔ اور خطبات اقبال بنام ری کنسٹرکشن آف ریلیجس تھاٹ ۔
اور اقبال کے معاصرین و ہم نشینوں کی کتنی کتابیں پڑھ رکھی ہیں ؟ مولانا سید سلیمان ندوی اور مولانا عبد الغفار حسن رحمھم اللہ کی اقبال کے متعلق تحریروں کی باری تو بہت بعد میں آتی ہے ۔
اوریہ بھی یاد رکھیے کہ اگر کوئی وہ نہ ہوا جو آپ ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تو پھر اپنی آخرت کی فکر کیجیے ۔

ام نور العين
23-02-10, 01:24 PM
رافضیت کی ہمارے شعر و ادب پر یلغار اتنی سخت تھی کہ مولانا محمد علی جوہر جیسے مردِ مومن بھی رافضیت کے رنگ میں یہ شعر کہہ گئے ۔
قتل حسین اصل میں مرگِ یزید ہے
اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد
۔(بحوالہ : الشیعہ فی المیزان ۔ اُردو ترجمہ : ڈاکٹر محمد یوسف نگرامی ، صفحہ نمبر 30 تا 38 ۔ مطبوعہ : دہلی 1989 )۔
===
حوالہ دیکھیے : ذوق والوں کے نام ، ۔۔۔۔ اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد ؟ (http://baazauq.blogspot.com/2007/02/blog-post.html)

کنعان
23-02-10, 01:49 PM
السلام علیکم

محترمہ نے یہ لنک تو یہاں پر لگا دیا جبکہ یہ سرچ ان سے پہلے بھی کسی اور نے کی ہوئی ھے، اس لئے اچھا ہوتا ھے کہ لنک کی ڈیمانڈ کر لینی چاہئے،
خیر اب کیا محترمہ کو ایک اور بات بھی بتاتا چلوں کہ یہ شعر علامہ اقبال کا بھی ھے اور مولانہ صاحب کا بھی ھے۔
اب اس میں فرق کیا ھے یہ بھی ڈھونڈ کر یہاں پر لگا دیں تاکہ اس شعر کی پر دونوں کی کیا رائے تھی اس حقیقت کا بھی سب کو پتہ چلنا چاہئے، مجھے پتہ تھا کہ یہاں پر ایسا ہی ہو گا۔ منتظر

والسلام

ام نور العين
23-02-10, 01:58 PM
اور علامہ اقبال کا یہ شعر بھی عجیب و غریب ہے کہ

اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد
نعوز با اللہ کیا کربلا سے پہلے اسلام مردہ حالت میں تھا۔؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟ ؟
یا یہ بات ہو سکتی ہھے کہ ہمیں‌ اس کا مطلب سمجھ میں‌نہ آیا ہو لیکن اگر کسی بھائی یا بہن کو اس کی انفارمیشن ہو تو ضرور بتا ئیں۔۔شکریہ

محترم یہی سوال آپ نے یہاں کیا تھا

جی سسٹر آپ نے ٹھیک لکھا ہے علامہ اقبال کی شاعری میں توحید کی جھلک نظر آتی ہے۔اور یہی وجہ ہے کے علماء کی اکثریت انہی کی اشعار کو اپنی تقاریر میں کہتے ہوئے نظر آتے ہیں۔

لیکن ایک شعر ہے جو میری سمجھ میں‌نہیں آ رہا پلیز سمجھا دیں۔

جس کا آخری مصرعہ ہے
،،اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد،،،
اس کا کیا مقصد ہے نعوز با اللہ کیا کربلا سے پہلے اسلام زندہ نہیں تھا؟؟؟؟

اور آپ کو جواب دیا گیا تھا ۔ جب یہ اقبال کا شعر ہی نہیں تو پھر اسے زبردستی ان کے سر منڈھ کر ان پر حکم کیوں لگائے جا رہے ہیں ؟
جن کا اپنا مطالعہ اتنا ناقص ہو کہ اصل شاعر کا نام تک معلوم نہ ہو ان کو کم از کم علماء کی رائے جاننی چاہئیے نہ کہ خود کسی کے ایمان وکفر کے فیصلے کرنے چاہئیں ۔

ابومصعب
23-02-10, 03:13 PM
اور آپ کو جواب دیا گیا تھا ۔ جب یہ اقبال کا شعر ہی نہیں تو پھر اسے زبردستی ان کے سر منڈھ کر ان پر حکم کیوں لگائے جا رہے ہیں ؟
جن کا اپنا مطالعہ اتنا ناقص ہو کہ اصل شاعر کا نام تک معلوم نہ ہو ان کو کم از کم علماء کی رائے جاننی چاہئیے نہ کہ خود کسی کے ایمان وکفر کے فیصلے کرنے چاہئیں ۔

السلام علیکم
اوپر کی عبارت اور جس حوالے سے موضوع زیر بحث تھا اس پر احباب نے تفصیلی طور پر روشنی ڈالی ۔۔جزاک اللہ خیر
عین بہن کی اس "کم از کم علماء کی رائے جاننی چاہئیے نہ کہ خود کسی کے ایمان وکفر کے فیصلے کرنے چاہئیں" بات کو لیکر ہمیں‌واقعی بڑی ہی محتاط روش رکھنی چاہیے کہ ہم بڑی آسانی سے بڑی ہستیوں‌پر نکتہ چینی اور رائے زنی کردیتے ہیں۔اوکے اگرحق کے تحت بات ہورہی ہو اور وہ بھی مدلل تو کوئی بات نہیں‌ورنہ ، ہر کوئی ہر ایسی ہستی پر جن سے کسی معاملہ میں‌اختلاف ہو ، اپنے لہجہ میں‌ایسی سختی روا نہ رکھے جس سے فائدہ تو کچھ نہیں‌لیین نقصان یہ ہوگا کہ آپ کے نامہ اعمال خراب ہونے کے چانسس ہیں۔

علامہ اقبال کا شمار برصغیر کی عظیم تر، نان کنٹراورشیل اور اسلام کے نمائندہ اصحاب میں ہوتا ہے۔اور ورلڈ وائڈ مسلمز انہیں نہ صرف پسند کرتے ہیں‌بلکہ بیسویں صدی کا واقعی کوئی شاعر، بلکہ شاعر اسلام ہے تو صرف اور صرف "شاعرمشرق علامہ اقبال" ہیں۔

علامہ اقبال کوئی فرشتہ نہیں‌تھے۔
نہ وہ کوئی مافوق الفطرت کوئی ہستی تھے۔
وہ ایک عام انسان تھے لیکن اللہ تعالی نے انہیں کچھ ایسی اسکلز سے نوازدیا تھا کہ بہت دنوں‌تک انکا ثانی پیداہونا مشکل نظر آتا ہے۔
ادب کو جو اسلامی چغہ علامہ اقبال نے پہنا کر ایک عظیم احسان کیا وہ اسلامی ادب بخوبی جانتا بھی ہے اور عام طور پر بھی دنیا اسکی معترف بھی ہے۔

ایسے میں ہر کوئی بہت آسانی سے اس بڑی ہستی پر نکتہ چینی نہ ہی کرے بہترہے۔

اللہ تعالی علامہ اقبال کو انکی عظیم ادبی خدمات کے عوض جو کہ اسلامک ورلڈ کے لئے بھی باعث فخر و افتخار ہے ، انہیں‌جنت الفردوس میں اپنی رحمت سے جگے دے۔۔۔۔آمین

کنعان
23-02-10, 03:23 PM
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ام نور العين
23-02-10, 03:31 PM
علم حاصل کرنے کی بہت فضیلت ہے ۔ قرآن کریم سوال کرتا ہے : قل ھل یستوی الذین یعلمون والذین لا یعلمون ؟

رومی کا ایک شعر ہے :

مرغِ پَر نا رُستہ چوں پرّاں شود
طعمہ ء ہر گُربہء درُاں شود

مفہوم کہ جب وہ پرندہ جس کے ابھی پر نہیں نکلے اڑےگا تو چیر پھاڑ کر کھا جانے والی بلی کا لقمہ ہی بنے گا ۔

علم کے بغیر بات کرنا بہت بڑی غلطی ہے ۔

ذرا ڈاکٹر گیان چند کی تحقیق کے ساتھ چھپا کلام اقبال دیکھیے وہ بتاتے ہیں: اقبال نے یہ نظم قادیانیوں کی فلاں بات کے جواب میں لکھی ۔ یہ قطعہ قادیانی کذاب کی طرف سے بیعت کی پیشکش کے جواب میں لکھا ۔

مقام افسوس ہے کہ آج اقبال کو وہ لے اڑے جن کے خلاف وہ لکھتے رہے ۔

ذرا مجلس ہی کے یہ لنک دیکھیے ۔

جہاد ...........علامہ محمد اقبال ایک نظم (http://www.urduvb.com/forum/showthread.php?t=5140)

سِنیما (http://www.urduvb.com/forum/showthread.php?t=10558)

تِياتَر (http://www.urduvb.com/forum/showthread.php?t=10546)

پردہ ، تجدد پسند اور اقبال ! (http://www.urduvb.com/forum/showthread.php?t=9653)

علامہ اقبال اور سنت نبوی (http://www.urduvb.com/forum/showthread.php?t=10702)

اور یہ تحریر : علامہ اقبال اور سنت نبوی ، مولانا عبدالغفار حسن رحمہ اللہ کی ہے ۔ کیا وہ بھی تعارف کے محتاج ہیں ؟

کسی نے ان کی حیات پڑھی ؟ جس نے اپنے وقت کی سپر پاور برطانیہ کا سر کا خطاب جوتے کی نوک پر رکھا ، جس نے یورپ میں رہ کر بھی اپنی آنکھوں کو اس کی چکا چوند سے خیرہ ہونے سے بچائے رکھا ۔

جسے ایک خبیث انگریز پادری نے عشائیے کے دوران خباثت سے کہا : سنا ہے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہاتھ سے کھاتے تھے ؟ یہ تو ہائی جین کے اصول کے خلاف ہے ؟ تو اقبال نے فورا کہا : ہاں وہ ہاتھ سے کھاتے تھے ، باکل اسی طرح جس طرح حضرت عیسی علیہ السلام ہاتھ سے کھاتے تھے !

کتنے ہی اور واقعات ہیں ، جو حافظے کے تاریک گوشوں سےنکل کر ہاتھ باندھے سامنے آ کھڑے ہوئے ہیں ، مگر ابھی وہ کتب میرے نزدیک میسر نہیں کہ حوالہ دوں ، ورنہ سب لکھ بھیجتی ۔

ہمیں کیا ہو گیا ہے ؟ ہم اپنے تہذیبی و علمی ورثے ، اپنی تاریخ ، اپنی شخصیات، اپنے جغرافیے سے اتنے لا علم کیوں ہیں ۔

اللہ گواہ ہے مجھے مسلمانوں کی غربت یعنی فقیری پر کبھی شرمندگی نہیں ہوئی ّ، ہاں لا علمی پر میرا سر شرم سے جھک جاتا ہے۔ علاقائی اخباروں رسالوں فلموں ڈراموں سے نکل کر کسی کتب خانے میں چند گھنٹے گزارئیے کہ ہم امت کے قیمتی فرد بن سکیں نہ کہ سروں کے کالے ہجوم میں محض ایک سر ، جو کسی گنتی میں نہیں۔

عجیب بات ہے کہ جاہلی شعراء کا کلام آج تک ہمارے مدارس کے نصاب مں شامل ہے ۔ اسے پڑھنے پڑھانے والوں کا ایمان کبھی نہیں۔ ڈگمگایا ، کتب تفسیر ، کتب حدیث کی شروح وحواشی جاہلی شعر سے اٹے پڑے ہیں ۔ ان کو درج کرنے والوں نے الحکمہ ضالہ المؤمن کے مصداق انہیں لکھ لیا جب کہ وہ مسلمانوں کے شعر نہیں ، ادھر بیچارا اقبال کہ مسلمان ہے ۔ ۔ ۔ مگر اس کے اشعار سے ابھی تک کوئی قابل اعتراض بات پیش کیے بغیر اسے مورد الزام ٹھہرایا جا رہا ہے ۔

مجھے ایک مفید علمی بحث کی طرز پر دلائل کا انتظار رہے گا ، اور اپنے موقف سے رجوع کرنے کو بھی ہمہ وقت تیار ہوں ۔

کنعان
23-02-10, 03:46 PM
علم حاصل کرنے کی بہت فضیلت ہے ۔ قرآن کریم سوال کرتا ہے : قل ھل یستوی الذین یعلمون والذین لا یعلمون ؟

رومی کا ایک شعر ہے :

مرغِ پَر نا رُستہ چوں پرّاں شود
طعمہ ء ہر گُربہء درُاں شود

مفہوم کہ جب وہ پرندہ جس کے ابھی پر نہیں نکلے اڑےگا تو چیر پھاڑ کر کھا جانے والی بلی کا لقمہ ہی بنے گا ۔

علم کے بغیر بات کرنا بہت بڑی غلطی ہے

مجھے ایک مفید علمی بحث کی طرز پر دلائل کا انتظار رہے گا ، اور اپنے موقف سے رجوع کرنے کو بھی ہمہ وقت تیار ہوں ۔


السلام علیکم

بالکل ٹھیک فرمایا شاعری کو بھی سمجھنے کے لئے کچھ نہیں تو اردو میں مہارت چاہئے، گوگل کی ڈکشنری سے شاعری نہیں سمجھی جا سکتی۔ اس کا بھی علم ہونا ضروری ھے۔

والسلام

شاہد نزیر
24-02-10, 10:57 AM
السلام علیکم ورحمتہ اللہ

مناسب معلو م ہوتا ہے کہ میں علامہ اقبال کے بارے میں اپنا نقطہ نظر واضح کردوں تاکہ بھائیوں اورخاص طور پر عین بہن کو میری بات سمجھنے میں آسانی ہو۔ علامہ اقبال کی شاعری کو تین ادوار میں با آسانی تقسیم کیا جاسکتاہے پہلا ابتدائی دور جس میں اقبال کے اشعار کا عنوان عشق مجازی تھا، دوسرا اور تیسرا دور جس میں اقبال کی شاعری دین اسلام کی نمائندگی کرتی ہے۔ لیکن اس میں ایک دور وہ ہے جس میں اقبال صوفیانہ عقائد کے مالک تھے اور ایک دور وہ ہے جس کے اشعار سے معلوم ہوتا ہے کہ اقبال صحیح عقیدہ پر تھے۔ یہ بات بھی میرے علم میں آئی تھی کہ اقبال پہلے صوفیت سے متاثر تھے لیکن بعد میں موحد ہوگئے تھے۔ واللہ اعلم

ویسے میں زاتی طور پر علامہ اقبال کی زات کے بارے میں سکوت بہتر سمجھتا ہوں۔ اور نہ تو انکو گمراہ کہتا ہوں اور نہ ہی پکا موحد کیونکہ اللہ ہی انکے بارے میں بہتر جانتا ہے۔ لیکن اس کے ساتھ یہ بھی یاد رہے کہ اب تک اقبال کے بارے میں اس دھاگہ میں ، میں نے جو کچھ بھی لکھا ہے اس سے میرا مقصود علامہ اقبال کی زات پر تنقید نہیں بلکہ میرا ہدف انکے وہ کفریہ اور شرکیہ اشعار ہیں جن کو پسند کرنا یا اپنی زبان پر لانا بھی مومن کے شایان شان نہیں کیونکہ ان اشعار سے اللہ رب العالمین کی بے ادبی لازم آتی ہے۔

بہن عین نے مجھ پر یہ اعتراض بھی کیا ہے کہ میں اقبال کو گمراہ قرار دینے کی کوشش کر رہا ہوں جب کہ میں نے ابھی تک اقبال کے لئے گمراہ کے الفاظ استعمال نہیں کئے ۔ جہاں تک اقبال کے بارے میں میرے حق و باطل کی کھچڑی وغیرہ کہنے کے الفاظ کا تعلق ہے۔ تو میرا یہ دعوی محض دعوی نہیں بلکہ میں دلیل سے اپنی بات کو ثابت کر چکا ہوں اور آئندہ بھی کرنے والا ہوں ۔ انشاء اللہ

بہن عین سے میری بعینہ وہی درخواست ہے جو میں پہلے پرخلوص اور رفی بھائی سے کرچکا ہوں کہ اگر میری ناقص عقل اقبال کے متنازعہ اشعار کو سمجھنے سے قاصر ہے تو برائے مہربانی آپ ہی مجھے اس شعر کا مفہوم اور مطلب سمجھا دیں۔

خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے خدا بندے سے خود پوچھے کہ بتا تیری رضا کیا ہے۔

اب میں اقبال کے ایک اور شعر پر اپنا اعتراض پیش کرتا ہوں۔ پہلے شعر کا وہ ٹکڑا ملاحظہ فرمائیں جس پر میں معترض ہوں۔

نگاہ مرد مومن سے بد ل جاتی ہیں تقدیریں

واللہ اعلم یہاں اقبال کس مرد مومن کی بات کررہے ہیں کیونکہ صحیح اسلامی تاریخ میں تو کسی ایسے مرد مومن کا وجود نہیں ملتا جس کی نگاہیں کسی کی تقدیر کو پھیر دیں۔ یہاں یہ بات میں دعوے سے کہتا ہوں کہ جس وقت علامہ اقبال سے اس شعر کا ظہور ہوا وہ صوفیانہ عقائد کے مالک اور قرآن اور حدیث والی توحید سے ناواقف تھے۔ کیونکہ نگاہ مرد مومن سے تقدیریں بد ل جانے کے واقعات صرف اور صرف صوفیوں کی کتابوں ہی میں دستیاب ہیں۔ اشرف علی تھانوی کی مشہور کتاب ارواح ثلاثہ اور رشید احمد گنگوہی ، قاسم ناناتوی، مہاجر امداد اللہ مکی اور احمد رضا کی کتابوں میں آپ کو اسطرح کے بے شمار واقعات ملیں گے جس میں پیر صاحب کی نظر عنایت کسی گنہگار پر پڑی تو وہ گناہ سے تائب ہوکر نیک اور صالح بن گیا۔ آج کل ایک قوالی (یہ نظر میرے پیر کی)بھی بہت مشہور ہے ۔ جس میں قوال آغاز قوالی میں کہتا ہے کہ پہلے میں گناہ گار اور سیاہ کار تھا لیکن جب میرے پیر نے مجھ پر نظر ڈالی تو میں صوفی بن گیا۔

میں پوچھتا ہوں کہ کیا رسول اللہ ﷺ نے بڑھکر بھی کوئی مرد مومن تھا؟؟؟!!!! لیکن ابوجہل، ابو لہب ، ابو طالب پر میرے آقا ﷺ کی ہزاروں دفعہ نگاہیں پڑنے کے باوجود بھی کیوں انکی تقدیریں نہ بدلیں، کیوں انکا ٹھکانہ جہنم سے جنت نہ ہوا؟؟؟!!! کسی کے پاس اسکا کوئی جواب ہے؟؟؟

صرف نگاہیں ہی کیا رسول اللہ ﷺ نے ابو طالب کو وقت مرگ کتنا کہا کہ چچا ایمان لے آوْ، چلو تیز آواز سے نہ سہی میرے کان ہی میں آہستہ سے کلمہ کہہ دو۔ لیکن کیوں اس مرد مومن (صلی اللہ علیہ وسلم) کی نگاہیں اور آرزو بھی ابو طالب کی تقدیر نہ بدل سکی؟؟؟ پھر کونسااقبال کا وہ مرد مومن ہے جسکی نگاہیں کسی کی تقدیر پھیرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔

والسلام

ابومصعب
24-02-10, 11:19 AM
السلام علیکم ورحمتہ اللہ

مناسب معلو م ہوتا ہے کہ میں علامہ اقبال کے بارے میں اپنا نقطہ نظر واضح کردوں تاکہ بھائیوں اورخاص طور پر عین بہن کو میری بات سمجھنے میں آسانی ہو۔ علامہ اقبال کی شاعری کو تین ادوار میں با آسانی تقسیم کیا جاسکتاہے پہلا ابتدائی دور جس میں اقبال کے اشعار کا عنوان عشق مجازی تھا، دوسرا اور تیسرا دور جس میں اقبال کی شاعری دین اسلام کی نمائندگی کرتی ہے۔ لیکن اس میں ایک دور وہ ہے جس میں اقبال صوفیانہ عقائد کے مالک تھے اور ایک دور وہ ہے جس کے اشعار سے معلوم ہوتا ہے کہ اقبال صحیح عقیدہ پر تھے۔ یہ بات بھی میرے علم میں آئی تھی کہ اقبال پہلے صوفیت سے متاثر تھے لیکن بعد میں موحد ہوگئے تھے۔ واللہ اعلم

ویسے میں زاتی طور پر علامہ اقبال کی زات کے بارے میں سکوت بہتر سمجھتا ہوں۔ اور نہ تو انکو گمراہ کہتا ہوں اور نہ ہی پکا موحد کیونکہ اللہ ہی انکے بارے میں بہتر جانتا ہے۔ لیکن اس کے ساتھ یہ بھی یاد رہے کہ اب تک اقبال کے بارے میں اس دھاگہ میں ، میں نے جو کچھ بھی لکھا ہے اس سے میرا مقصود علامہ اقبال کی زات پر تنقید نہیں بلکہ میرا ہدف انکے وہ کفریہ اور شرکیہ اشعار ہیں جن کو پسند کرنا یا اپنی زبان پر لانا بھی مومن کے شایان شان نہیں کیونکہ ان اشعار سے اللہ رب العالمین کی بے ادبی لازم آتی ہے۔

بہن عین نے مجھ پر یہ اعتراض بھی کیا ہے کہ میں اقبال کو گمراہ قرار دینے کی کوشش کر رہا ہوں جب کہ میں نے ابھی تک اقبال کے لئے گمراہ کے الفاظ استعمال نہیں کئے ۔ جہاں تک اقبال کے بارے میں میرے حق و باطل کی کھچڑی وغیرہ کہنے کے الفاظ کا تعلق ہے۔ تو میرا یہ دعوی محض دعوی نہیں بلکہ میں دلیل سے اپنی بات کو ثابت کر چکا ہوں اور آئندہ بھی کرنے والا ہوں ۔ انشاء اللہ

بہن عین سے میری بعینہ وہی درخواست ہے جو میں پہلے پرخلوص اور رفی بھائی سے کرچکا ہوں کہ اگر میری ناقص عقل اقبال کے متنازعہ اشعار کو سمجھنے سے قاصر ہے تو برائے مہربانی آپ ہی مجھے اس شعر کا مفہوم اور مطلب سمجھا دیں۔

خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے خدا بندے سے خود پوچھے کہ بتا تیری رضا کیا ہے۔

اب میں اقبال کے ایک اور شعر پر اپنا اعتراض پیش کرتا ہوں۔ پہلے شعر کا وہ ٹکڑا ملاحظہ فرمائیں جس پر میں معترض ہوں۔

نگاہ مرد مومن سے بد ل جاتی ہیں تقدیریں

واللہ اعلم یہاں اقبال کس مرد مومن کی بات کررہے ہیں کیونکہ صحیح اسلامی تاریخ میں تو کسی ایسے مرد مومن کا وجود نہیں ملتا جس کی نگاہیں کسی کی تقدیر کو پھیر دیں۔ یہاں یہ بات میں دعوے سے کہتا ہوں کہ جس وقت علامہ اقبال سے اس شعر کا ظہور ہوا وہ صوفیانہ عقائد کے مالک اور قرآن اور حدیث والی توحید سے ناواقف تھے۔ کیونکہ نگاہ مرد مومن سے تقدیریں بد ل جانے کے واقعات صرف اور صرف صوفیوں کی کتابوں ہی میں دستیاب ہیں۔ اشرف علی تھانوی کی مشہور کتاب ارواح ثلاثہ اور رشید احمد گنگوہی ، قاسم ناناتوی، مہاجر امداد اللہ مکی اور احمد رضا کی کتابوں میں آپ کو اسطرح کے بے شمار واقعات ملیں گے جس میں پیر صاحب کی نظر عنایت کسی گنہگار پر پڑی تو وہ گناہ سے تائب ہوکر نیک اور صالح بن گیا۔ آج کل ایک قوالی (یہ نظر میرے پیر کی)بھی بہت مشہور ہے ۔ جس میں قوال آغاز قوالی میں کہتا ہے کہ پہلے میں گناہ گار اور سیاہ کار تھا لیکن جب میرے پیر نے مجھ پر نظر ڈالی تو میں صوفی بن گیا۔

میں پوچھتا ہوں کہ کیا رسول اللہ ﷺ نے بڑھکر بھی کوئی مرد مومن تھا؟؟؟!!!! لیکن ابوجہل، ابو لہب ، ابو طالب پر میرے آقا ﷺ کی ہزاروں دفعہ نگاہیں پڑنے کے باوجود بھی کیوں انکی تقدیریں نہ بدلیں، کیوں انکا ٹھکانہ جہنم سے جنت نہ ہوا؟؟؟!!! کسی کے پاس اسکا کوئی جواب ہے؟؟؟

صرف نگاہیں ہی کیا رسول اللہ ﷺ نے ابو طالب کو وقت مرگ کتنا کہا کہ چچا ایمان لے آوْ، چلو تیز آواز سے نہ سہی میرے کان ہی میں آہستہ سے کلمہ کہہ دو۔ لیکن کیوں اس مرد مومن (صلی اللہ علیہ وسلم) کی نگاہیں اور آرزو بھی ابو طالب کی تقدیر نہ بدل سکی؟؟؟ پھر کونسااقبال کا وہ مرد مومن ہے جسکی نگاہیں کسی کی تقدیر پھیرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔

والسلام



آپکے اس استدلال پر مجھے حیرت ہے۔
یہ نگاہ کا ورڈ ، دیکھنے والی نگاہ نہیں‌ہے۔۔۔فرسٹ
دوسری بات نگاہ مرد مومن سے بدل جاتی ہے تقدیریں‌کا مطلب سمجھ ، سمجھ کے سمجھنے کا ہے میرے عزیز۔
صرف متن کے حوالوں سے بات سمجھی نہیں‌جاسکتی۔
علامہ اقبال کے بعض اشعار ایک بہت بڑی بصیرت چاہتے ہیں‌کہ سمجھا جائے۔
یہ صوفی والی نگاہ نہیں تھی۔
بلکہ یہ نگاہ مجاہدانہ انداز کو سمجھاتی ہے نہ دیکھنے والی آنکھ تک اسکا مفہوم محدود ہے۔
ہم جب اس بات پر یقین رکھتے ہیں‌کہ ہماری تقدیر اللہ تعالی بنادیتا ہے۔۔۔پھر دعا کیوں‌کی جاتی ہے۔۔۔؟
واٹ ڈز یٹ مین؟؟؟
کیوں‌مظلوم کی آہ سےعرش لرز اٹھتا ہے۔؟ کیا نعوذ باللہ من ذالک اللہ رب العزت پر یہ تہمت لگادیا جائے کہ وہ اس بات سے واقف نہیں تھے کہ یہ ظلم ہونے والا ہے اور مظلوم کی دعا کے ذریعہ اللہ تعالی کو پتہ چلا اور عرش لرز کر رہ گیا۔۔۔؟؟؟
نا نا نا
تقدیر ، اختیار،دعا،نصیب، ایمان و یقین یہ تمام ایسی چیزیں ہیں‌جو کہ ۔۔۔۔۔تفقہ فی الدین چاہتی ہے۔
صرف چند حوالہ جات کے پالینے کا نام دین کا صحیح معلوم ہوجانا بھی نہیں‌ہوتا


اسی طرح‌سے علامہ اقبال کی شاعری کے جو مفہوم آپ لے رہے ہیں‌وہ عام طور پر۔۔۔۔بڑے بڑے علما کو بھی نہیں لگا کہ اس شعر پر علامہ نے غلطی کی ہے (ہاں‌وہ غلطی سے مبرا نہیں ) لیکن آپکا استدلال تھوڑا مزید ریاضت چاہتا ہے۔


میری باتوں‌کا مطلب صرف یہ نہ لیں کہ علامہ اقبال کی اندھی چاہت و محبت ہے۔
لیکن میں‌نے جہاں‌تک سمجھا ہے عام طور پر علامہ اقبال کے بارے میں اہل علم بھی بہت زیادہ نہ کہتے ہیں‌بلکہ انکی علمی حلقہ جات میں‌پزیرائی ہے۔
پھر اس سے کسکو انکار ہے کہ انکی لائف کے بعض‌ایسے پہلو رہے ہونگے جو کہ تشنہ تھے۔
لیکن جن حوالہ جات پر آپ بات کررہے ہیں‌وہ نان کنٹراورشیل ہیں۔

مفہوم کچھ اور ہے اور صحیح طرح سے سمجھیں تو اس میں‌لگتا کہ کوئی ایرر نہیں‌ہے۔(یا پھر ہمیں واقعی علما کی ٹیم سے) وہ بھی صرف کسی ایک خاص نقطہ نظر کے حامل نہیں بلکہ تمام کی رائے لینی پڑے گی۔

واللہ واعلم۔

الطحاوی
24-02-10, 10:18 PM
ہم جب اس بات پر یقین رکھتے ہیں‌کہ ہماری تقدیر اللہ تعالی بنادیتا ہے۔۔۔پھر دعا کیوں‌کی جاتی ہے۔۔۔؟
واٹ ڈز یٹ مین؟؟؟
کیوں‌مظلوم کی آہ سےعرش لرز اٹھتا ہے۔؟ کیا نعوذ باللہ من ذالک اللہ رب العزت پر یہ تہمت لگادیا جائے کہ وہ اس بات سے واقف نہیں تھے کہ یہ ظلم ہونے والا ہے اور مظلوم کی دعا کے ذریعہ اللہ تعالی کو پتہ چلا اور عرش لرز کر رہ گیا۔۔۔؟؟؟
نا نا نا
تقدیر ، اختیار،دعا،نصیب، ایمان و یقین یہ تمام ایسی چیزیں ہیں‌جو کہ ۔۔۔۔۔تفقہ فی الدین چاہتی ہے۔
میرے خیال سے یہ مجلس کے خوبصورت ترین اقتباسوں میں سے ایک ہوسکتاہے ۔اگرکبھی مجلس انتظامیہ اس کی کوشش کرے کہ تمام ارکان کی تحریروں میں سے خوبصورت اقتباس کاانتخاب کرے۔اوراس کو کسی انعام وغیرہ سے نوازے۔
میراووٹ توپرخلوص بھائی کے اس بے انتہاخوبصورت اقتباس کیلئے ہے۔

ام نور العين
24-02-10, 11:37 PM
السلام علیکم ورحمتہ اللہ

مناسب معلو م ہوتا ہے کہ میں علامہ اقبال کے بارے میں اپنا نقطہ نظر واضح کردوں تاکہ بھائیوں اورخاص طور پر عین بہن کو میری بات سمجھنے میں آسانی ہو۔

وعلیکم السلام ورحمت اللہ وبرکاتہ

آپ کو اپنی بات کہنے کی بالکل آزادی ہے ، بس یہ خیال رکھیے کہ اگر اشعار وغیرہ کا حوالہ دے سکیں تو ہمیں ڈھونڈنے میں آسانی رہے ۔

اقبال کی شاعری کو تین ادوار میں با آسانی تقسیم کیا جاسکتاہے پہلا ابتدائی دور جس میں اقبال کے اشعار کا عنوان عشق مجازی تھا، دوسرا اور تیسرا دور جس میں اقبال کی شاعری دین اسلام کی نمائندگی کرتی ہے۔ لیکن اس میں ایک دور وہ ہے جس میں اقبال صوفیانہ عقائد کے مالک تھے اور ایک دور وہ ہے جس کے اشعار سے معلوم ہوتا ہے کہ اقبال صحیح عقیدہ پر تھے۔ یہ بات بھی میرے علم میں آئی تھی کہ اقبال پہلے صوفیت سے متاثر تھے لیکن بعد میں موحد ہوگئے تھے۔ واللہ اعلم

اس قسم کے تاریخی حقائق بھی حوالے کے بغیر کیسے قبول کیے جاسکتے ہیں ؟ کیا ممکن ہے کہ آپ اس بات کے لیے کسی ماہر اقبالیات یا کسی نقاد کا حوالہ ذکر کر سکیں ؟

باقی باتیں ہوتی رہیں گی کچھ گزارشات ہیں :
1ـ بحث علمی ، پرمغز، باحوالہ اور مدلل ہو تو ہی مفید ہوتی ہے۔
2ـ امید ہے کہ اس بحث کا اثر اراکین مجلس کے باہمی تعلقات پر نہیں پڑے گا ۔
3ـ اس کا اثر مجلس پر جاری علمی ، تحقیقی وتبلیغی سر گرمیوں پر بھی نہیں ہونا چاہیے۔
مطلب یہ کہ مسلمانوں کےلیے لمحہ فکریہ (http://www.urduvb.com/forum/showthread.php?t=10659) اور لونڈی آزاد کرنے پر ابولہب کے عذاب میں تخفیف ، تحقیقی بحث (http://www.urduvb.com/forum/showthread.php?t=10851) جیسی
مفید تحریروں کا سلسلہ رکنا نہیں چاہیے۔
4ـ اس بحث میں مناسب تیاری اور مطالعے کے بعد مفید با حوالہ پوسٹس ہونی چاہئیں ، چاہے ایک ماہ بعد آئیں ۔ کیوں کہ غلط بولنے سے بہتر ہے کہ ہم دیر سے مگر درست بولیں۔
5ـیہ بھی گزارش ہے کہ بین الاقوامی سطح کے راسخ العقیدہ علماء کی اقبال پر آراء پیش کی جائیں کہ ہم سب تو طفل مکتب کی حیثیت رکھتے ہیں ۔
6ـاسی طرح میرے خیال میں اقبال کے اشعار کی وہی تشریح قابل قبول ہو گی جو اس کے مستند شارحین نے کی ہو، یا خود ان کے کلام کے اَلفاظ سے لغتا وہی معنی مستنبط ہوتا ہو۔
بہن عین نے مجھ پر یہ اعتراض بھی کیا ہے کہ میں اقبال کو گمراہ قرار دینے کی کوشش کر رہا ہوں جب کہ میں نے ابھی تک اقبال کے لئے گمراہ کے الفاظ استعمال نہیں کئے ۔ جہاں تک اقبال کے بارے میں میرے حق و باطل کی کھچڑی وغیرہ کہنے کے الفاظ کا تعلق ہے۔ تو میرا یہ دعوی محض دعوی نہیں بلکہ میں دلیل سے اپنی بات کو ثابت کر چکا ہوں اور آئندہ بھی کرنے والا ہوں ۔ انشاء اللہ
میرے الفاظ کی تلخی کے لیے معذرت ، حق وباطل کی کھچڑی اور گمراہ کچھ مترادف معلوم ہوئے تھے ۔ تا ہم میں اپنے تلخ الفاظ کے لیے معذرت کرتی ہوں ، مگر امید رکھتی ہوں کہ جب تک بحث کسی نتیجے پر نہ پہنچے ، اقبال کو بھی نا مناسب الفاظ میں یاد نہ کیا جائے ۔ امید ہے بڑی بہن کی معذرت قبول کرلیں گے۔

میری انتظامیہ سے گزارش ہے کہ مناسب سمجھیں تو اس تھریڈ اقبال اور نظریہ ء وحدت الوجود (http://www.urduvb.com/forum/showthread.php?t=10888) کو بھی اسی بحث میں ضم کر دیا جائے ۔

ایک بار پھر گزارش ہے کہ اس بحث کا اثر مجلس پر جاری علمی ، تحقیقی وتبلیغی سر گرمیوں پر نہیں ہونا چاہیے۔

اس بحث کا مفید پہلو یہ بھی ہے کہ ہم سب کو اقبال کے مطالعے کا نیا موقع مل رہا ہے ، اللہ کرے کہ ہم سب اس سے مثبت انداز میں مستفید ہوں ۔

اللہ تعالی ہمیں مفید علم ، قبول ہونے والا عمل اور پاکیزہ رزق عطا فرمائے ۔

ام نور العين
25-02-10, 12:09 AM
یہ بھی گزارش ہے کہ بین الاقوامی سطح کے راسخ العقیدہ علماء کی اقبال پر آراء پیش کی جائیں کہ ہم سب تو طفل مکتب کی حیثیت رکھتے ہیں ۔
اسی سلسلے میں سید سلیمان ندوی کا یہ اقتباس دیکھیے :
ڈاکٹر اقبال ، ہندوستان کی آبرو ، مشرق کی عزت اور اسلام کا فخر تھا ۔ آج دنیا اس ساری عزتوں سے محروم ہو گئی ۔ ایسا عارف ، فلسفی اور عاشق رسول شاعر ، فلسفہ اسلام کا ترجمان ، اور کاروان ملت کا حدی خوان صدیوں کے بعد پیدا ہوا تھا ۔ اور شاید صدیوں کے بعد پیدا ہو ، اس کے ذہن کا ہر ترانہ بانگ درا ، اس کی جاں حزین کی ہر آواز زبور عجم اس کے دل کی ہر فریاد پیام مشرق ، اس کے شعر کا ہر پرواز بال جبریل تھا ۔ اس کی فانی عمر ختم ہو گئی ، لیکن اس کی زندگی کا ہر کارنامہ جاوید نامہ بن کر انشاءاللہ باقی رہے گا ۔

مرحوم کی زندگی ہر لمحہ ملت کی زندگی کے لئے ایک نیا پیام لایا تھا ۔ وہ توحید خالص کا پرستار ، دین کامل کا علمبردار ، اور تجدید ملت کا طلبگار تھا اس کے رونگٹے رونگٹے میں رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا عشق پیوست تھا ۔ اس کی آنکھیں جسم اسلام کے ہر نامور پر اشک بار رہتی تھیں اس نے مستقبل اسلام کا ایک خواب دیکھا تھا ۔ اسی خواب کی تعبیر میں اس کی ساری عمر ختم ہو گئی ۔

اقبال ہندوستان کا فخر اقبال ، اسلامی دنیا کا ہیرو اقبال ، فضل و کمال کا پیکر اقبال ، حکمت و معرفت کا دانا اقبال ، کاروان ملت کا راہنما اقبال ، رخصت رخصت الوداع ، الوداع ۔ سلام اللہ علیک ورحمتہ الی یوم التلاق ۔ ( یاد رفتگان ص181 )
بحوالہ : اہل الحدیث ڈاٹ کام (http://www.ahlehadith.com/authortahreerdetail9c0a.php?mid=57&aid=7)

بے شک اقبال فلسفی تےا ، مگر معتزلہ جیسی عقلیت پسندی کا شکار ہو کر غیبیات کے منکر نہیں ہوئے ۔ دیکھیے وہ معجزات کی کوئی تاویل نہیں کرتے، ان کو مجا زا نہیں حقیقتا مانتے ہیں، دیکھیے :
ایک مرتبہ ايك صاحب نے ان ( علامہ اقبال) کے سامنے بڑے اچنبھےکے انداز میں اس حديث كا ذكر كيا جس ميں بيان ہوا ہے کہ رسول اللہ صلى اللہ عليہ وسلم "اصحاب ثلاثہ" (حضرات ابو بكر ، عمر، عثمان رضي اللہ عنہم ) کے ساتھ احد پہاڑ پر تشریف رکھتے تھے، اتنے ميں احد لرزنے لگا، اور حضور صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمایا : "ٹھہر جا ، تیرے اوپر ایک نبی ، ایک صدیق اور دو شہداء کےسوا کوئی نہیں ہے "۔ اس پر پہاڑساکن ہو گیا۔

اقبال نے حدیث سنتے ہی کہا : "اس ميں اچنبھے کی کون سی بات ہے ؟ ميں اس کو استعارہ يا مجاز نہیں بلكہ ايك مادى حقيقت سمجھتا ہوں ، اور ميرے نزديك اس كے لیے کسی تاویل کی ضرورت نہیں ہے ۔اگر تم حقائق سے آگاہ ہوتے تو تمہیں معلوم ہوتا کہ ایک نبی کے نیچے مادے کے بڑے بڑے تودے بھی لرز اٹھتے ہیں ، مجازی نہیں، واقعی لرز اٹھتے ہیں ۔" (جوہرِ اقبال، ص 38، نيز اقبالِ كامل ص 64 تا ص 66)

بحوالہ اردو مجلس (http://www.urduvb.com/forum/showthread.php?p=195787#post195787)،

اقبال شاعر ہو کر حدیث میں مذکور معجزات کی بھی مجازی تاویل پر راضی نہیں ہوتے ، جب کہ سر سید احمد خان جو خود کو بڑی حد تک مذہبی راہنما بھی تصور کرتے تھے (جبھی تفسیر لکھنی شروع کی تھی ،) ، مذہبی آدمی ہو کر بھی معتزلی گمراہی کا شکار ہوئے ۔ ان کی نامکمل تفسیر اٹھا کر دیکھیے فرشتوں ، جنوں ، معجزات ، وحی ، ہر غیبی شے کا انکار۔

اسی طرح سیاسی محاذ پر اقبال چومکھی لڑتے رہے۔ وہ الگ باب ہے۔ ان شاء اللہ باحوالہ بات ہو گی ۔

شاہد نزیر
25-02-10, 09:32 AM
بسمہ اللہ الرحمن الرحیم

علامہ اقبال عقیدہ کے لحاظ سے ایک صوفی شخص تھے۔

اگر کسی شاعر کے عقیدے اور اسکی شخصیت کو سمجھ لیا جائے تو اسکی شاعری بھی با آسانی سمجھ میں آجاتی ہے ۔ لیکن اگر متعلقہ شاعر کی شخصیت اندھیرے میں ہو تو اسکی شاعری کے بارے میں کوئی حتمی رائے قائم کرنا یا اسکے اشعار کا مفہوم و مطلب بیان کرنا نہایت مشکل کا م ہے۔

میں نے بارہا یہ دعوی کیا کہ علامہ اقبال صوفیانہ عقیدہ کے مالک تھے۔ الحمداللہ میں اب اسکی دلیل بیان کرنے جارہاہوں۔ پہلی دلیل تو علامہ اقبال کے وہ متنازعہ اشعار ہیں جنھیں میں موقع بہ موقع پیش کرتا رہونگا۔انشاء اللہ اور ان میں سے دو اشعار میں پہلے ہی پیش کرچکا ہوں۔ اور دوسری دلیل وکیپیڈیا کی ویب سائٹ ہے جس پر علامہ اقبال کا تعارف موجود ہے جو انہیں صوفی ثابت کرنے کے لئے کافی ہے۔ خاص بات یہ ہے کہ وکیپیڈیا نے اقبال کا یہ تعارف انکی سرکاری ویب سائٹ اقبال ان ائرز اور دیگر مستند کتابوں سے لیاہے۔ تعارف سے چند جملے ملاحظہ فرمائیں ۔

۱۔ ڈاکٹرسر علامہ محمد اقبال بیسویں صدی کے ایک معروف شاعر، مصنف ، قانون دان، سیاستدان ، مسلم صوفی اور تحریک پاکستان کی اہم ترین شخصیات میں سے ایک تھے۔
۲۔ شاعری میں بنیادی رحجان تصوف اور احیائے امت اسلام کی طرف تھا۔
۳۔ علامہ اقبال کو دور جدید کا صوفی سمجھا جاتا ہے۔

اصل مضمون کے لئے یہ لنک دیکھئے
http://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%85%D8%AD%D9%85%D8%AF_%D8%A7%D9%82%D8%A8%D8%A7% D9%84

الحمداللہ اب یہ بات ثابت ہوگئی کہ میرے پیش کئے گئے علامہ اقبال کے دو اشعار دراصل صوفیانہ نظریات کے حامل ہیں ۔اور میں نے ان دو اشعار کا جو مفہوم اور مطلب بیان کیا ہے وہی درست ہے۔ اور یہ بات تو کسی صحیح العقیدہ شخص پر مخفی نہیں کہ صوفیت توحید کی ضد ہے اور توحید کے نا م پر شرک اور گستاخی کی علم بردار۔

چلتے چلتے میں ایک بھائی کی سنگین غلط فہمی کا بھی ازالہ کردوں۔ پرخلوص بھائی نے پوسٹ نمبر ۲۳ پر اقبال کے بارے میں یہ کہا کہ وہ متنازعہ شخصیت نہیں تھے۔ جبکہ حقیقت اسکے برعکس ہے ۔ زرا اس جملہ کو دیکھئے جو کہ میں ویکیپیڈیاڈاٹ کام سے نقل کررہاہوں اور لنک بھی اوپر دے چکا ہوں۔

دا ریکنسٹر کشن آف ریلیجس تھاٹ ان اسلام کے نام سے انگریزی میں ایک نثری کتاب بھی تحریر کی جس کو بعض مسلم ممالک میں متنازع سمجھا جاتا ہے۔جبکہ سعودی عرب میں اس پر پابندی عائد ہے۔

اب تو پر خلوص بھائی کو یقین آگیا ہوگا کہ علامہ اقبال کوئی غیر متنازعہ شخصیت نہیں تھے۔ میں آپ کو یہ بھی بتاتا چلوں کہ جب اقبال نے شکوہ لکھی تو علمائے اکرام نے اقبال پر کفر کے فتوے بھی لگائے تھے۔ یہ بات میں اپنے حافظہ سے بیان کررہا ہوں اور حوالہ تلاش کررہا ہوں جیسے ہی ملا آپ لوگوں کی خدمت میں پیش کردیا جائے گا۔ انشاء اللہ

علامہ اقبال موحد نہیں تھے۔

اپنے اس عنوان کے ثبوت میں، گیارہویں جماعت کے نصاب میں شامل اردو لازمی سے ایک مضمون کا اقتباس پیش خدمت ہے۔ یہ علامہ اقبال کا وہ خط ہے جو انہوں نے مولوی انشاء اللہ خان کو تحریر کیا تھا۔ جس میں اقبال لکھتے ہیں۔

آپ سے رخصت ہو کر اسلامی شان و شوکت کے اس قبرستان میں پہنچا جس کو دہلی کہتے ہیں۔ ریلوے اسٹیشن پر خواجہ سید حسن نظامی اور شیخ نذر محمد صاحب اسسٹنٹ مدرس موجود تھے۔ تھوڑی دیر کیلئے شیخ صاحب موصوف کے مکان پر قیام کیا، بعد ازاں حضرت محبوب الہی کے مزار پر حاضر ہوا اور تمام دن وہیں بسر کیا۔ اللہ اللہ! حضرت محبوب الہی کا مزار بھی عجیب جگہ ہے۔ بس یہ سمجھ لیجئے کہ دہلی کی پرانی سوسائٹی حضرت کے قدموں میں مدفون ہے............... شام کے قریب ہم اس قبرستان سے رخصت ہونے کو تھے کہ میر نیرنگ نے خواجہ صاحب سے کہا کہ زرا غالب مرحوم کے مزار کی زیارت بھی ہوجائے۔ خواجہ صاحب موصوف ہم کو قبرستان کے ایک ویران گوشے میں لے گئے ۔ جہاں وہ گنج معانی مدفون ہے..........تو مجھ سے ضبط نہ ہو سکا۔ آنکھیں پرنم ہوگئیں اور بے اختیار لوح مزار کو بوسہ دے کر اس حسرت کدہ سے رخصت ہوا۔ (صفحہ ۸۸)

مزاروں پر حاضری ، وہاں پور ا پورا دن قیام اور مزار کو بوسہ دینا ، یہ کونسی توحید ہے؟؟؟!!! کسی ایک موحد شخص کا نام بتائیں جو اسطرح مزارات سے محبت رکھتاہو؟؟؟ مزاروں پر جانا انہیں بوسہ دینا اور دن گزارنا کس موحد کو گوارا ہے؟! سب جانتے ہیں مزاروں پر حاضری اور ان سے محبت کرنے والے لوگ کس قسم کے عقیدے کے مالک ہیں۔ میرے خیال سے علامہ اقبال کی یہ تحریر انکی توحید کا پول کھولنے کیلئے کافی ہے۔ ویسے یہ توحید ضرور ہے لیکن مواحدین کی نہیں بلکہ صوفیوں کی۔

شاہد نزیر
25-02-10, 10:59 AM
علامہ اقبال پر کفر کے فتوے۔

السلام علیکم ورحمتہ اللہ!

اپنی سابقہ پوسٹ میں ، میں نے اقبال پر علمائے اکرام کی تکفیر کی بات کی تھی۔ اللہ کا کرم و احسان ہے کہ مجھ اسکا حوالہ مل گیا ہے۔ ملاحظہ فرمائیں!

مجموعی جائزہ کے عنوان کے تحت لکھا گیا ہے۔
بقول تاثیر شکوہ لکھا گیا تو اس انداز پر سینکڑوں نظمیں لکھیں گئیں۔ ملاؤں نے تکفیر کے فتوے لگائے اور شاعروں نے شکوہ کے جواب لکھے لیکن شکوہ کا درست جواب خود اقبال ہی نے دیا۔
حوالے کا لنک یہ ہے۔
http://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B4%DA%A9%D9%88%DB%81#.D9.85.D8.AC.D9.85.D9.88. D8.B9.DB.8C_.D8.AC.D8.A7.D8.A6.D8.B2.DB.81

علمائے اکرام نے اسلئے اقبال کو کافر قرار دیا کہ شکوہ میں انکا اللہ رب العالمین سے اندازخطاب انتہائی بدتمیزانہ اور گستاخانہ ہے۔ اللہ کی توحید (صوفیوں کی نہیں بلکہ وہ توحید جو قرآن اور حدیث سے ثابت ہوتی ہے )سے واقف کوئی مومن اسطرح کے توہین آمیز انداز میں اپنے رب سے مخاطب نہیں ہوگا جس طرح شکوہ میں اقبال اللہ رب العالمین سے مخاطب ہے۔ یہ بات اقبال کے صوفی ہونے پر مہر تصدیق ثبت کر تی ہے۔ کیونکہ اللہ رب العالمین کی اسطرح کی گستاخیال صرف صوفیوں کے عقائد اور کتابوں ہی میں پائی جاتی ہیں۔ صوفی اپنی خود ساختہ توحید کو خواص کی توحید قرار دیتے ہیں۔ اور جس توحید کی طرف اللہ کا کلام اور نبی ﷺ کا فرمان رہنمائی کرتا ہے اسے صوفی، عوام کی توحید قرار دیتے ہیں۔

اسی مضمون میں جس کا میں نے اوپر لنک دیا ہے ۔ دیکھئے کہ کسطرح اقبال کے جاہلانہ اور گستاخانہ انداز خطاب کا اقرار کیا گیا ہے جو اقبال نے اللہ کے لئے شکوہ میں اختیار کیا ہے۔

نفسیاتی حربے کے عنوان کے تحت لکھا ہے:

خندہ زن کفر ہے احساس تجھے ہے کہ نہیں
اپنی توحید کا کچھ پاس تجھے ہے کہ نہیں
پھر نہ کہنا ہوئی توحید سے خالی دنیا
ہم تو جیتے ہیں کہ دنیا میں تیر ا نام رہے

اس طعن آمیز انداز سے مخاطب (اللہ)کی انااور غیرت کوجھنجوڑ کریہ احساس دلانے کی کوشش کی گئی ہے کہ یہ میرا مسئلہ نہیں ، تمہارا مسئلہ ہے۔

انا اللہ و انا الیہ راجعون ! کیا کوئی توحید سے واقف شخص اس طرح اللہ سے مخاطب ہو سکتا ہے؟؟!!! اگر یہ گستاخی اور کفر نہیں تو پھر گستاخی اور کفر کیا ہے؟؟؟!!! اگر اللہ رب العالمین کو طعن کرنے سے بھی انسان کافر نہیں ہوتا تو پھر دائرہ اسلام سے خارج کرنے والی کونسی چیز ہے؟؟؟!!!!

تنبیہ: اصل عبار ت میں بریکٹ میں اللہ کے الفاظ میرے ہیں سمجھانے کیلئے۔

الطحاوی
25-02-10, 11:45 AM
ملاؤں نے تکفیر کے فتوے لگائے ایک تووکی پیڈیا ویسے بھی معتبر نہیں ہے۔ہرکوئی اس میں اپنی مرضی سے ترمیم اورردوبدل کرسکتاہے۔دوسرے تاثیر صاحب کا حدود اربعہ کیاہے۔ہمین تونہیں معلوم آپ کو معلوم ہوتوضروربتائیں۔تیسرے کوٹ کیاہواجملہ ایک مبہم جملہ ہے۔ جب تک ایک دوعالم یابقول ملائوں کے نام نہیں لئے جاتے باحوالہ کہ انہوں نے علامہ اقبال کواس نظم کی وجہ سے کافرقراردیا۔تب تک اس تحریر کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔واللہ اعلم بالصواب۔

ام نور العين
25-02-10, 07:53 PM
علمائے اکرام نے اسلئے اقبال کو کافر قرار دیا کہ شکوہ میں انکا اللہ رب العالمین سے اندازخطاب انتہائی بدتمیزانہ اور گستاخانہ ہے۔

یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ کن علماء کے فتاوی آن ریکارڈ موجود ہیں ؟

اسی بات کی گزارش ان الفاظ میں پہلے کی تھی ۔

یہ بھی گزارش ہے کہ بین الاقوامی سطح کے راسخ العقیدہ علماء کی اقبال پر آراء پیش کی جائیں کہ ہم سب تو طفل مکتب کی حیثیت رکھتے ہیں ۔

شاہد نزیر
27-02-10, 07:40 AM
ایک تووکی پیڈیا ویسے بھی معتبر نہیں ہے۔ہرکوئی اس میں اپنی مرضی سے ترمیم اورردوبدل کرسکتاہے۔

جی ہاں! جمشید بھائی وکیپیڈیا ایسا معتبر بھی نہیں ! لیکن ایسا غیر معتبر بھی نہیں اور وہ بھی اس صورت میں کہ جب مضمون کے آخر میں حوالہ جات بھی موجود ہوں اور دیگر قرآئن بھی اسکی موافقت کرتے ہوں۔

۔دوسرے تاثیر صاحب کا حدود اربعہ کیاہے۔ہمین تونہیں معلوم آپ کو معلوم ہوتوضروربتائیں۔تیسرے کوٹ کیاہواجملہ ایک مبہم جملہ ہے۔ جب تک ایک دوعالم یابقول ملائوں کے نام نہیں لئے جاتے باحوالہ کہ انہوں نے علامہ اقبال کواس نظم کی وجہ سے کافرقراردیا۔تب تک اس تحریر کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔واللہ اعلم بالصواب۔



یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ کن علماء کے فتاوی آن ریکارڈ موجود ہیں ؟

اسی بات کی گزارش ان الفاظ میں پہلے کی تھی ۔



پہلی بات تو یہ ہے کہ میں نے صرف اتنا کہا تھا کہ جب علامہ اقبال نے شکوہ لکھا تو علمائے اکرام نے اقبال پر کفر کے فتوے دئے تھے۔ اسی بات کو میں نے وکیپیڈیا کے حوالے سے پیش کردیا تاکہ پڑھنے والے یہ نہ سمجھیں کہ یہ صرف میرا زاتی خیال ہے اور اسکا کوئی ثبوت موجود نہیں۔ کیونکہ میں نے یہ بات کسی نصابی کتاب میں پڑھی تھی اسلئے اگر اسکا حوالہ ملا تو ضرور آپ لوگوں کو مطلع کرونگا۔ انشاء اللہ

ان باتوں کا آپ لوگ یہ مطلب مت لیجئے گا کہ میں علامہ اقبال کی تکفیر پر راضی یا متفق ہوں۔ کیونکہ بجائے اقبال کو کافر قرار دینے کہ میں صرف یہ بتانا چاہتا ہوں کہ اقبال کے متعدد اشعار عقیدہ توحید اور اسلامی تعلیمات کے خلاف ہیں تاکہ میرے مواحدین بھائی اور بہنیں اور دیگر مسلمان متنبہ رہیں۔لیکن میں یہ بات پورے وثوق اور یقین سے کہتا ہوں کہ اقبال کے یہ اشعار جنکا زکر میں نے اپنی پوسٹ نمبر ۳۳ میں کیا ہے یہ گستاخانہ اشعار ہیں اور شاید کفریہ بھی۔ایک یا دو دن بعد میں صحیح بخاری کی حدیث کی روشنی میں اقبال کے ان اشعار پر بحث کرونگا ۔ انشا ء اللہ

رہی بات ان علمائے اکرام کے نام بتانے کی، جنھوں نے کفر کے فتوے دئے۔ میں سمجھتاہوں کہ اسکی کوئی خاص ضرورت نہیں ہے کیونکہ جن اشعار پر یا جس نظم (شکوہ) پر یہ فتوے دئے گئے وہ تو آپکے سامنے موجود ہے اور الحمداللہ علمائے اکرام بھی موجود ہیں آپ ان سے دریافت کرسکتے ہیں کہ یہ اشعار گستاخانہ اور کفریہ ہیں یا نہیں؟؟؟ اور اگر ماضی میں کچھ علمائے اکرام نے ان اشعار پر کفر کے فتوے دئے تو ان علمائے اکرام کا یہ فعل درست تھا یا نہیں؟؟؟!!!!

نتیجہ کچھ بھی نکلے چاہے موجودہ دور کے علماء ماضی کے ان علماء کی جنھوں نے کفر کے فتوے لگائے تردید کریں یا ان سے اتفاق۔ یہ یاد رکھیئے گا کہ میرا موضوع اقبال کی تکفیر نہیں ہے اور نہ ہی میں اس بحث میں پڑنا چاہتا ہوں۔ کیونکہ یہ ایک انتہائی نازک مسئلہ ہے۔
والسلام

شاہد نزیر
27-02-10, 10:15 AM
آپکے اس استدلال پر مجھے حیرت ہے۔
یہ نگاہ کا ورڈ ، دیکھنے والی نگاہ نہیں‌ہے۔۔۔فرسٹ
دوسری بات نگاہ مرد مومن سے بدل جاتی ہے تقدیریں‌کا مطلب سمجھ ، سمجھ کے سمجھنے کا ہے میرے عزیز۔
صرف متن کے حوالوں سے بات سمجھی نہیں‌جاسکتی۔
علامہ اقبال کے بعض اشعار ایک بہت بڑی بصیرت چاہتے ہیں‌کہ سمجھا جائے۔
یہ صوفی والی نگاہ نہیں تھی۔
بلکہ یہ نگاہ مجاہدانہ انداز کو سمجھاتی ہے نہ دیکھنے والی آنکھ تک اسکا مفہوم محدود ہے۔


السلام علیکم و رحمتہ اللہ!

اگر یہ نگاہ وہ نگاہ نہیں ہے جو میں سمجھ رہا ہوں بلکہ جو شعر سے واضح سمجھ میں آرہی ہے تو کونسی نگاہ ہے؟ آپ ہی سمجھا دیں۔ اور اگر بقول آپکے یہ دیکھنے والی نگا ہ نہیں تو کیا یہ سننے یا محسوس کرنے والی نگاہ ہے؟ پر خلوص بھائی آپ چاہے کسی طرح بھی بات کو گھما لیں لیکن مفہوم وہی نکلے گا جس پر مجھے اعتراض ہے اور جوکہ شرکیہ مفہوم ہے۔ کیونکہ تقدیر تو اللہ کے ہاتھ میں ہے لیکن اقبال اسے مومن کے ہاتھ میں دے رہے ہیں۔

اگر آپ شعر میں موجود نگاہ کے لفظ کو نگاہ نہ کہیں بلکہ توجہ کہہ لیں یا توجہ نہ کہیں بلکہ کوشش کہہ لیں پھر بھی یہ سوال اپنی جگہ باقی رہے گا کہ ایک مومن کی توجہ یا کوشش سے دوسروں کی تقدیریں کیسے بدلتی ہیں؟؟؟ کیا اپنے دعوی پر آپ میں قرآن اور حدیث سے کوئی ثبوت پیش کرنے کی سکت ہے؟! ہوسکتا ہے کہ آپ یہ اعتراض کریں کہ شعر میں دوسروں کی تقدیر بدلنے کی بات نہیں ہورہی ۔ لیکن یہ اعتراض کچھ وجوہات کی بنا پر غلط ہوگا۔ وجہ یہ ہے کہ شعر میں مومن کی نگاہ کی بات ہو رہی ہے جوکہ ظاہر ہے دوسروں ہی پر پڑے گی نہ کہ خود پر ۔ یہ ایک علیحدہ بات ہے کہ مومن آئینہ کے سامنے کھڑا ہوجائے ۔ لیکن اس صورت میں بھی بات غلط ہوگی کیونکہ شعر میں زکر ہے تقدیروں کا جو کہ ایک سے زائد افراد کی ہوتی ہیں۔ اکیلے شخص کے لئے تو صرف تقدیر کا لفظ استعمال ہوگا ناکہ تقدیروں کا۔ تو ثابت ہوا کہ اس شعر (نگاہ مرد مومن سے بدل جاتی ہیں تقدیریں) میں مومن کی نگاہ یا نگاہ نہ کہیں بلکہ مومن کی توجہ یا مومن کی کوشش سے ان لوگوں کی تقدیریں بدل جانے کی بات ہورہی ہے جن پر وہ مومن توجہ کرے یا نگاہ ڈالے یا اسکے لئے کوشش کرے وغیرہ وغیرہ

پر خلوص بھائی شعر کے اس پورے مصرعہ سے آپ جو مفہوم لیتے ہیں اسے بیان کریں اور پھر اس مفہوم پر کوئی دلیل بھی پیش کریں جیساکہ میں نے اعتراض کی صورت میں دلیل پیش کی ہے کہ یہ شعر براہ راست اسلامی تعلیمات اور شرعی نصوص سے ٹکراتا ہے۔

میں نے اس شعر کا جو مفہوم بیان کیا ہے وہ بہت زیادہ بہتر ہے۔ اسکی پہلی وجہ تو یہ ہے کہ اس شعر کا ظاہری مفہوم ہی یہی ہے جو میں بیان کررہا ہوں۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ صوفیوں میں یہ عقائد موجود ہیں کہ مومن یا ولی اللہ کی توجہ اور نگاہ سے لوگوں کی تقدیریں بدل جاتی ہیں اس پر صوفیوں کی کتابیں بھی اسی طرح کے واقعات کی صورت میں گواہ ہیں۔تیسری وجہ یہ ہے کہ علامہ اقبال کا تعارف ایک صوفی شاعر کے طور پر ہی کیا جاتاہے۔ یہ تمام وجوہات میرے موقف کی بھرپور تائید کرتی ہیں۔ الحمداللہ

ہم جب اس بات پر یقین رکھتے ہیں‌کہ ہماری تقدیر اللہ تعالی بنادیتا ہے۔۔۔پھر دعا کیوں‌کی جاتی ہے۔۔۔؟
واٹ ڈز یٹ مین؟؟؟


پرخلوص بھائی آپ کو میرا اعتراض شاید صحیح طرح سمجھ میں نہیں آیا ورنہ آپ یہ بات نہ کرتے۔ میرے محترم بھائی میں دعا سے تقدیر کے بدل جانے پر نہ تو اعتراض کررہا ہوں اور نہ ہی بات۔ بلکہ میں مومن کی نگاہ سے تقدیر بدل جانے پر اعتراض کر رہاہوں ۔ یہ دونوں علیحدہ باتیں ہیں اور ان میں زمین وآسمان کا فرق ہے جس میں سے پہلے موقف کی حدیث تائید کرتی ہے۔جبکہ دوسرے موقف پر میں آپ سے دلیل طلب کر رہا ہوں۔ اگر آپ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ جب دعا سے تقدیر بدل سکتی ہے تو اس پر قیاس کرتے ہوئے مومن کی نگاہ سے تقدیر کیوں نہیں بدل سکتی۔ تو اس پر بھی دلیل درکار ہے۔

کیوں‌مظلوم کی آہ سےعرش لرز اٹھتا ہے۔؟ کیا نعوذ باللہ من ذالک اللہ رب العزت پر یہ تہمت لگادیا جائے کہ وہ اس بات سے واقف نہیں تھے کہ یہ ظلم ہونے والا ہے اور مظلوم کی دعا کے ذریعہ اللہ تعالی کو پتہ چلا اور عرش لرز کر رہ گیا۔۔۔؟؟؟

زیر بحث شعر اور مظلوم کی آہ سے عرش کے لرز اٹھنے میں کیا مطابقت ہے میں سمجھ نہیں پایا۔ آپ ان جملوں سے کیا سمجھانا چاہ رہے ہیں زرا وضاحت فرمادیں۔

نا نا نا
تقدیر ، اختیار،دعا،نصیب، ایمان و یقین یہ تمام ایسی چیزیں ہیں‌جو کہ ۔۔۔۔۔تفقہ فی الدین چاہتی ہے۔
صرف چند حوالہ جات کے پالینے کا نام دین کا صحیح معلوم ہوجانا بھی نہیں‌ہوتا

چلیں مان لیا کہ تقدیر، اختیار، دعا،نصیب اورایمان و یقین تفقہ فی الدین چاہتی ہیں۔ اور مجھ میں یہ تفقہ نہیں ہے کیونکہ میں عالم دین نہیں ہوں۔ لیکن آپکی نظر میں جن علماء کو تفقہ فی الدین حاصل تھا یا ہے، انہیں سے کوئی دلیل پیش کردیں جوکہ مومن کی نگاہ سے تقدیریں بدل جانے کی تائید کرتی ہو۔

اسی طرح‌سے علامہ اقبال کی شاعری کے جو مفہوم آپ لے رہے ہیں‌وہ عام طور پر۔۔۔۔بڑے بڑے علما کو بھی نہیں لگا کہ اس شعر پر علامہ نے غلطی کی ہے (ہاں‌وہ غلطی سے مبرا نہیں ) لیکن آپکا استدلال تھوڑا مزید ریاضت چاہتا ہے۔


جو بڑے بڑے علماء ہیں وہ عام طور پر شعر و شاعری سے دور ہی رہتے ہیں۔ اور میں نے کسی سلفی یا اہلحدیث عالم کواپنی تقریروں میں اقبال کے متنازعہ اشعار میں سے کوئی شعر پڑھتے ہوئے نہیں سنا۔ لیکن اقبال کے اسی طرح کے اشعار پر تنقید کرتے ہوئے ضرور سنا ہے۔

مفہوم کچھ اور ہے اور صحیح طرح سے سمجھیں تو اس میں‌لگتا کہ کوئی ایرر نہیں‌ہے۔

میں آپ سے بار بار درخواست کر رہا ہوں کہ برائے مہربانی اقبال کے اشعار کا جو مفہوم آپ لے رہے ہیں یا سمجھ رہے ہیں آخر ہمیں سمجھانے یا بتانے میں کیا حرج ہے؟؟؟ آپ صرف یہ کہتے ہیں کہ ان اشعار کا مطلب یہ نہیں جو آپ لے رہے ہیں لیکن ان کا اصل مطلب کیا ہے وہ بھی آپ کھل کر بیان نہیں کرتے۔


(یا پھر ہمیں واقعی علما کی ٹیم سے) وہ بھی صرف کسی ایک خاص نقطہ نظر کے حامل نہیں بلکہ تمام کی رائے لینی پڑے گی۔

واللہ واعلم۔

محترم! اقبال کے اشعار کو سمجھنے کے لئے آپ کو صرف ان علماء کی رائے لینے کی ضرورت ہے جو کہ راسخ العقیدہ ہیں اور توحید کی صحیح پہچان اور معرفت رکھتے ہیں۔ اگر آپ کسی صوفی ، بریلوی یا حنفی عالم سے پوچھنے یا انکا نقطہ نظر جاننے بیٹھ گئے تو پھر اللہ ہی حافظ ہے۔

ابومصعب
27-02-10, 10:27 AM
محترم! اقبال کے اشعار کو سمجھنے کے لئے آپ کو صرف ان علماء کی رائے لینے کی ضرورت ہے جو کہ راسخ العقیدہ ہیں اور توحید کی صحیح پہچان اور معرفت رکھتے ہیں۔ اگر آپ کسی صوفی ، بریلوی یا حنفی عالم سے پوچھنے یا انکا نقطہ نظر جاننے بیٹھ گئے تو پھر اللہ ہی حافظ ہے۔[/quote]

السلام علیکم
تمام باتوں کا جواب خود آپنے ہی دے دیا کہ اصل ایرر کہاں‌ہے۔جواب صرف آپکی اس بات سے نکل جاتا ہے آپ پر جو عینک لگی ہوئی ہے وہ ہے کہ ۔۔۔۔ "بریلوی یا حنفی عالم سے پوچھنے یا انکا نقطہ نظر جاننے بیٹھ گئے تو پھر اللہ ہی حافظ ہے۔" یہاں پر ایک شخصیت پر بحث کر رہے تھے آپ کہ اچانک آپکی زاویہ نگاہ کتنا چھوٹا ہوگا جو ریڈ ہائی لائیٹیڈ سے ظاہر ہے۔

یہاں پر مسلک کی بحث نہیں‌ہورہی تھی جو آپ نے اپنے آپکو کھول کر رکھ دیا جسکی کہ کوئی خاص ضرورت نہیں‌تھی

شاہد نزیر
27-02-10, 10:55 AM
السلام علیکم
تمام باتوں کا جواب خود آپنے ہی دے دیا کہ اصل ایرر کہاں‌ہے۔جواب صرف آپکی اس بات سے نکل جاتا ہے آپ پر جو عینک لگی ہوئی ہے وہ ہے کہ ۔۔۔۔ "بریلوی یا حنفی عالم سے پوچھنے یا انکا نقطہ نظر جاننے بیٹھ گئے تو پھر اللہ ہی حافظ ہے۔" یہاں پر ایک شخصیت پر بحث کر رہے تھے آپ کہ اچانک آپکی زاویہ نگاہ کتنا چھوٹا ہوگا جو ریڈ ہائی لائیٹیڈ سے ظاہر ہے۔

یہاں پر مسلک کی بحث نہیں‌ہورہی تھی جو آپ نے اپنے آپکو کھول کر رکھ دیا جسکی کہ کوئی خاص ضرورت نہیں‌تھی۔[/font]

و علیکم السلام ورحمتہ اللہ!

پرخلوص بھائی میں یہاں مسلک کی بحث نہیں کررہا بلکہ میں نے آپ کی لکھی ہوئی بات کے جواب میں اپنا نقطہ نظر بیان کیا ہے جوکہ آپکو پسند نہیں آیا ۔ لیکن یہ بات میں نے بے فائد ہ ہر گز نہیں کہی بلکہ یہی اصل نقطہ ہے ۔ جب میں بحث ہی اس بات پر کر رہا ہوں کے علامہ اقبال کے مذکورہ اشعار توحید کے خلاف ہیں تو اسکا فیصلہ بھی وہی کرے گا جو توحید کی صحیح معرفت رکھتا ہو۔ اسکے برعکس وہ عالم آپکو بھلا کیا سمجھائے گا جس کو خود توحید جاننے کی ضرورت ہے۔جو یہ بنیادی بات بھی نہیں جانتا کہ اللہ کہاں ہے؟؟؟

یہ بات زہن نشین کرلیں کہ جس شخص کوبھی قرآن و حدیث کی عینک لگ جائے ۔ اکثر لوگوں کے نزدیک اسکا زاویہ نگاہ محدو د ہوجاتاہے۔ اور ہمیں اس محدود زاویہ نگاہ پر فخر ہے کہ ہم ہر مسئلہ کو صرف قرآن اور حدیث ہی کی عینک سے دیکھتے ہیں۔ الحمداللہ ثم الحمداللہ

ابومصعب
27-02-10, 11:21 AM
و علیکم السلام ورحمتہ اللہ!

یہ بات زہن نشین کرلیں کہ جس شخص کوبھی قرآن و حدیث کی عینک لگ جائے ۔ اکثر لوگوں کے نزدیک اسکا زاویہ نگاہ محدو د ہوجاتاہے۔ اور ہمیں اس محدود زاویہ نگاہ پر فخر ہے کہ ہم ہر مسئلہ کو صرف قرآن اور حدیث ہی کی عینک سے دیکھتے ہیں۔ الحمداللہ ثم الحمداللہ

ایک عجیب و غریب تہمت قران پر لگا دیا آپ نے۔
کم از کم سوچ کر تو بول لیا کریں۔

ٹاپک پر آئیں
علام اقبال پر بات کرنے کے لئے عین بہن کی وہ بات زیادہ مناسب لگتی ہے کہ۔۔۔" یہ بھی گزارش ہے کہ بین الاقوامی سطح کے راسخ العقیدہ علماء کی اقبال پر آراء پیش کی جائیں کہ ہم سب تو طفل مکتب کی حیثیت رکھتے ہیں ۔"
آگے میں‌کچھ کہہ کر میں آپکو مزید گناہ میں مبتلا کرنا نہیں‌چاہتا کہ۔۔۔۔آپ نے تو قران اور حدیث پر پتہ نہیں‌کتنا بے ڈھب تہمت لگا کر کریا کہ "اکثر لوگوں کے نزدیک اسکا زاویہ نگاہ محدو د ہوجاتاہے" استغفر اللہ ربی۔
توبہ توبہ ۔۔۔۔۔

شاہد نزیر
27-02-10, 12:20 PM
ٹاپک پر آئیں
علام اقبال پر بات کرنے کے لئے عین بہن کی وہ بات زیادہ مناسب لگتی ہے کہ۔۔۔" یہ بھی گزارش ہے کہ بین الاقوامی سطح کے راسخ العقیدہ علماء کی اقبال پر آراء پیش کی جائیں کہ ہم سب تو طفل مکتب کی حیثیت رکھتے ہیں ۔"

میں پہلے ہی یہ بات واضح کر چکا ہوں کہ علماء کے پاس اتنا فارغ وقت نہیں ہوتا اور نہ ہی انکو یہ ضرورت ہوتی ہے کہ وہ اقبا ل کی شخصیت یا انکی شاعری کا مطالعہ کریں اور اس پر مضامین یا فتوے جاری کریں۔ اور وہ علمائے اکرام جن کی طرف بہن عین اشارہ کررہی ہیں یعنی بین الاقوامی سطح کے راسخ العقیدہ علمائے اکرام ، وہ تو کم ہی اقبال کی شاعری سے واقف ہونگے کیونکہ شعر و شاعری سے علماء عموماً دور ہی رہتے ہیں۔ شاید سرسری سے کچھ بیانات مل جائیں ، وہ بھی بہت مشکل ہے۔ جب علمائے اکرام کے اقبا ل کے بارے میں ایسے کوئی تاثرات موجود ہی نہیں تو پھر ہم پیش کیا کریں؟؟؟ لیکن علمائے اکرام کی یہ خاموشی جو کہ بظاہر نظر آرہی ہے یہ اقبال کے تمام اشعار کے صحیح ہونے کی دلیل بھی نہیں ہے۔

ویسے میں اس مطالبے کو درست تسلیم نہیں کرتا۔ کیونکہ بے شک علامہ اقبال شاعری کے فن کے امام تھے لیکن کیا دین کے بھی امام تھے؟؟؟ نہیں ناں! تو پھر اقبال کی شاعری کے لئے اتنی کڑی شرائط کیوں؟؟؟ کہ انکی شاعری پر اعتراض یا بات کرنے کیلئے بین الاقوامی سطح کے علماء کی آراکی ضرورت در پیش ہو۔ یہ ضرور ہو سکتاہے کہ علمائے اکرام کے سامنے اقبال کے ان اشعار کو پیش کیا جائے جو کہ متنازعہ قسم کے ہیں اور ان سے پوچھ لیا جائے کہ کیا یہ اشعار عقیدہ توحید سے موافقت رکھتے ہیں یا اس کے خلاف ہیں؟؟؟؟

اور میں ناچیز جو اقبال کے اشعار کو دلائل کی بنیاد پر رد کر رہا ہوں۔ آخر اسکا کوئی کیوں جواب نہیں دیتا۔ صرف اس بات سے تو کام نہیں چلتا اور نہ ہی یہ کوئی دلیل ہے کہ آپ اس شعر کو صحیح نہیں سمجھے یا اس شعر کا غلط مفہوم لے رہے ہیں۔ اگر میں غلط مفہوم لے رہا ہوں تو صحیح مفہوم کوئی سامنے لے آئے۔ لیکن اس مفہوم کی کوئی بنیاد ہونی چاہئے صرف میرے نزدیک یا میرا خیال جیسے جملوں سے پیش کیا گیا کوئی مفہوم نہیں چلے گا۔


ایک عجیب و غریب تہمت قران پر لگا دیا آپ نے۔
کم از کم سوچ کر تو بول لیا کریں۔

آگے میں‌کچھ کہہ کر میں آپکو مزید گناہ میں مبتلا کرنا نہیں‌چاہتا کہ۔۔۔۔آپ نے تو قران اور حدیث پر پتہ نہیں‌کتنا بے ڈھب تہمت لگا کر کریا کہ "اکثر لوگوں کے نزدیک اسکا زاویہ نگاہ محدو د ہوجاتاہے" استغفر اللہ ربی۔
توبہ توبہ ۔۔۔۔۔

استغفراللہ ! میں نے کب قرآن اور حدیث پر تہمت لگائی ہے؟ میرے بھائی میں تو ان لوگوں کی بات کر رہا ہوں جو اہلحدیث پر الزام لگاتے ہیں کہ انکا زاویہ نگاہ محدود ہے اور یہ روشن خیال نہیں ہیں۔وہ روشن خیال لوگ جنکا زاویہ نگاہ اتنا وسیع ہوتا ہے جس میں توحید اور اصل اسلام ہی کہیں کھو جاتا ہے۔ انکے مقابلہ پر تو ہم محدود زاویہ نگاہ رکھنے والے ہی بہترہیں۔ لیکن میرے ان جملوں کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ واقعتا قرآن اور حدیث پر عمل پیرا لوگ محدود زاویہ نگاہ رکھتے ہیں بلکہ یہ بات میں نے صرف معترضین کے مقابلہ پر کہی ہے۔ امید ہے آپ سمجھ گئے ہونگے۔

ابومصعب
27-02-10, 03:25 PM
میں پہلے ہی یہ بات واضح کر چکا ہوں کہ علماء کے پاس اتنا فارغ وقت نہیں ہوتا اور نہ ہی انکو یہ ضرورت ہوتی ہے کہ وہ اقبا ل کی شخصیت یا انکی شاعری کا مطالعہ کریں اور اس پر مضامین یا فتوے جاری کریں۔ اور وہ علمائے اکرام جن کی طرف بہن عین اشارہ کررہی ہیں یعنی بین الاقوامی سطح کے راسخ العقیدہ علمائے اکرام ، وہ تو کم ہی اقبال کی شاعری سے واقف ہونگے کیونکہ شعر و شاعری سے علماء عموماً دور ہی رہتے ہیں۔ شاید سرسری سے کچھ بیانات مل جائیں ، وہ بھی بہت مشکل ہے۔ جب علمائے اکرام کے اقبا ل کے بارے میں ایسے کوئی تاثرات موجود ہی نہیں تو پھر ہم پیش کیا کریں؟؟؟ لیکن علمائے اکرام کی یہ خاموشی جو کہ بظاہر نظر آرہی ہے یہ اقبال کے تمام اشعار کے صحیح ہونے کی دلیل بھی نہیں ہے۔

ویسے میں اس مطالبے کو درست تسلیم نہیں کرتا۔ کیونکہ بے شک علامہ اقبال شاعری کے فن کے امام تھے لیکن کیا دین کے بھی امام تھے؟؟؟ نہیں ناں! تو پھر اقبال کی شاعری کے لئے اتنی کڑی شرائط کیوں؟؟؟ کہ انکی شاعری پر اعتراض یا بات کرنے کیلئے بین الاقوامی سطح کے علماء کی آراکی ضرورت در پیش ہو۔ یہ ضرور ہو سکتاہے کہ علمائے اکرام کے سامنے اقبال کے ان اشعار کو پیش کیا جائے جو کہ متنازعہ قسم کے ہیں اور ان سے پوچھ لیا جائے کہ کیا یہ اشعار عقیدہ توحید سے موافقت رکھتے ہیں یا اس کے خلاف ہیں؟؟؟؟

اور میں ناچیز جو اقبال کے اشعار کو دلائل کی بنیاد پر رد کر رہا ہوں۔ آخر اسکا کوئی کیوں جواب نہیں دیتا۔ صرف اس بات سے تو کام نہیں چلتا اور نہ ہی یہ کوئی دلیل ہے کہ آپ اس شعر کو صحیح نہیں سمجھے یا اس شعر کا غلط مفہوم لے رہے ہیں۔ اگر میں غلط مفہوم لے رہا ہوں تو صحیح مفہوم کوئی سامنے لے آئے۔ لیکن اس مفہوم کی کوئی بنیاد ہونی چاہئے صرف میرے نزدیک یا میرا خیال جیسے جملوں سے پیش کیا گیا کوئی مفہوم نہیں چلے گا۔




استغفراللہ ! میں نے کب قرآن اور حدیث پر تہمت لگائی ہے؟ میرے بھائی میں تو ان لوگوں کی بات کر رہا ہوں جو اہلحدیث پر الزام لگاتے ہیں کہ انکا زاویہ نگاہ محدود ہے اور یہ روشن خیال نہیں ہیں۔وہ روشن خیال لوگ جنکا زاویہ نگاہ اتنا وسیع ہوتا ہے جس میں توحید اور اصل اسلام ہی کہیں کھو جاتا ہے۔ انکے مقابلہ پر تو ہم محدود زاویہ نگاہ رکھنے والے ہی بہترہیں۔ لیکن میرے ان جملوں کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ واقعتا قرآن اور حدیث پر عمل پیرا لوگ محدود زاویہ نگاہ رکھتے ہیں بلکہ یہ بات میں نے صرف معترضین کے مقابلہ پر کہی ہے۔ امید ہے آپ سمجھ گئے ہونگے۔

السلام علیکم
علامہ اقبال کے حوالے سے بات شروع ہوئی تھی۔
اور آپ نے اپنی بات کو صحیح‌ثابت کرنے کی کوشش کرنے میں‌تمام اہلحدیث کو محدود زاویہ گاہ کی آجاجگاہ بنایا، بکہ ہم اصطلاحا اپنے آپکو "مسلمز" کہیں اور اپنی بات کو مدلل انداز میں پیش کریں لیکن یہ بات آپکو ااب اسلئے سمجھ نہیں‌آسکتی کہ آپ علامہ اقبال کو غلط اور غیر موحد ثابت کرنے پر تلے ہوئے ہیں، جبکہ آپکی بات کتنی بھی صحیح‌ہو، آپ اپنے دلائل پیش کریں اور پھر یہی اخلاق کا تقاضہ قرار دیا جائے گا کہ یہ ہماری ذمہ داری نہیں‌ہے کہ شخصیات پر اپنی سمجھ کے مطابق بات کرتے کرتے وہ کچھ کہ دیں جو کہ کبھی "خود کو بھی محدود ذہن " ثابت کرنے پر بھی ختم نہیں‌ہوتا بلکہ اس سے آگے بڑھکر "موحد اور اہلحدیث " زاویہ کے اندر رہ کر ہی بات کرنے کی کوشش کی جائے۔
جبکہ آپکو پتہ ہونا چاہیئے کہ ہم جس دور سے گذر رہے ہیں‌وہاں‌۔۔۔۔۔۔۔۔۔توڑنے کےبجائے جوڑنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
بات کہیں‌سے شروع ہوتی ہے اسکی کمر توڑی جاتی ہے مسلک پر۔۔۔
عجیب انداز ہے آپکا
دلیل دے رہے ہیں‌کہ "صرف اہلحدیث علما" ہی اس پر حق کہہ سکتے ہیں۔
(اگر ہم اس بات کو 100 فی صد صحیح‌مانتے ہوئے بھی چلیں) تب بھی ویب پربیٹھ کر ایسی اصطلاحات ، غیر ضروری سمجھی جائیگی۔

شخصیات پر ہم جب بات کرتے ہیں‌تب اسکے ہزاروں‌اسپیکٹس ہوسکتے ہیں۔
علامہ اقبال صوفی پسند ہوسکتے ہیں۔یا نہیں‌یہ بھی صرف ڈیفرنٹ انڈرسٹانڈنگ کی بات ہے۔
اور ہم کسی کے بارے میں‌کوئی خیال ظاہر کریں تب اس خیال کو "عملی پائجامہ" پہنانے سے پہلے بس اپنا خیال ظاہر کردینا ہی مناسب ہے۔

یہاں مختلف الخیال لوگ "موحد" ہیں‌
صرف خود کو موحدثابت کرکے، خود کی انڈرسٹانڈنگ سے ہٹکر باقی سب باطل یہ انداز صحیح نہیں‌ہے۔
اور خاص طور پر علامہ اقبال کے بارے میں‌بات کریں تو انکے بارے میں ہم جس لیول سے اور آپ جس لیول سے بات کرکے اپنے خیالات کا اظہار کر رہے ہیں‌، مثبت انداز میں‌ہوتو کوئی بات نہں‌لیکن منفی بات علمی انداز کی ہی ہوتو کوئی بات بنے ورنہ خاموشی یا تعریف و تحسین ہی مفید ہے۔

محمد ارسلان
27-02-10, 03:31 PM
السلام و علیکم دوستو!

دراصل بات یہ ہے کہ علامہ اقبال نے بہت اچھے اچھے اشعار لکھیں ہیں لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ہم ان کےغلط اشعار کو بھی ٹھیک قرار دیں نہیں جو بات غلط ہے وہ غلط ہے جیسے کہ میں نے سنا تھا کہ اقبال نے ایک کتاب لکھی ہے "شکوہ" اس میں اقبال نے اللہ تعالیٰ سے مسلمانوں کی حالت زاری پر شکوہ کیا ہے اور اس وقت کے علماء نے اس کو غلط قرار دیا ہے تو میں نے اپنے ایک دوست سے "شکوہ" کتاب لے کر پڑھی تو واقعی اس میں عجیب و غریب الفاظ لکھے ہوئے تھے۔
جیسے۔۔۔۔

شکوہ اللہ سے خاکم بدہن ہے مجھ کو

نعوذباللہ

جو کچھ بھی ہو لیکن پھر بھی اللہ تعالیٰ کی زات با برکات بہت بڑی اور شان والی ہے اللہ سےڈدرنا چاہئے خیر مجھے یہ الفاط پسند نہیں آئے اور بھی الفاظ تھے اس میں پھر اس کا دوسرا حصہ "جواب شکوہ" بھی پڑھا ہے اس میں پھر کچھ اچھے الفاظ تھے۔

تو خیر اگر کسی نے غلط بات کی ہے تو اس کو غلط ہی کہا جائے یہ نہ کہ ہم اس کو ٹھیک ہونے کے حق میں دلائل دینے لگ جایئں

اللہ ہم سب کو صحیح راہ پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے آمین۔

شاہد نزیر
28-02-10, 12:34 PM
السلام علیکم
علامہ اقبال کے حوالے سے بات شروع ہوئی تھی۔
اور آپ نے اپنی بات کو صحیح‌ثابت کرنے کی کوشش کرنے میں‌تمام اہلحدیث کو محدود زاویہ گاہ کی آجاجگاہ بنایا، بکہ ہم اصطلاحا اپنے آپکو "مسلمز" کہیں اور اپنی بات کو مدلل انداز میں پیش کریں لیکن یہ بات آپکو ااب اسلئے سمجھ نہیں‌آسکتی کہ آپ علامہ اقبال کو غلط اور غیر موحد ثابت کرنے پر تلے ہوئے ہیں، جبکہ آپکی بات کتنی بھی صحیح‌ہو، آپ اپنے دلائل پیش کریں اور پھر یہی اخلاق کا تقاضہ قرار دیا جائے گا کہ یہ ہماری ذمہ داری نہیں‌ہے کہ شخصیات پر اپنی سمجھ کے مطابق بات کرتے کرتے وہ کچھ کہ دیں جو کہ کبھی "خود کو بھی محدود ذہن " ثابت کرنے پر بھی ختم نہیں‌ہوتا بلکہ اس سے آگے بڑھکر "موحد اور اہلحدیث " زاویہ کے اندر رہ کر ہی بات کرنے کی کوشش کی جائے۔
جبکہ آپکو پتہ ہونا چاہیئے کہ ہم جس دور سے گذر رہے ہیں‌وہاں‌۔۔۔۔۔۔۔۔۔توڑنے کےبجائے جوڑنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
بات کہیں‌سے شروع ہوتی ہے اسکی کمر توڑی جاتی ہے مسلک پر۔۔۔
عجیب انداز ہے آپکا
دلیل دے رہے ہیں‌کہ "صرف اہلحدیث علما" ہی اس پر حق کہہ سکتے ہیں۔
(اگر ہم اس بات کو 100 فی صد صحیح‌مانتے ہوئے بھی چلیں) تب بھی ویب پربیٹھ کر ایسی اصطلاحات ، غیر ضروری سمجھی جائیگی۔

شخصیات پر ہم جب بات کرتے ہیں‌تب اسکے ہزاروں‌اسپیکٹس ہوسکتے ہیں۔
علامہ اقبال صوفی پسند ہوسکتے ہیں۔یا نہیں‌یہ بھی صرف ڈیفرنٹ انڈرسٹانڈنگ کی بات ہے۔
اور ہم کسی کے بارے میں‌کوئی خیال ظاہر کریں تب اس خیال کو "عملی پائجامہ" پہنانے سے پہلے بس اپنا خیال ظاہر کردینا ہی مناسب ہے۔

یہاں مختلف الخیال لوگ "موحد" ہیں‌
صرف خود کو موحدثابت کرکے، خود کی انڈرسٹانڈنگ سے ہٹکر باقی سب باطل یہ انداز صحیح نہیں‌ہے۔
اور خاص طور پر علامہ اقبال کے بارے میں‌بات کریں تو انکے بارے میں ہم جس لیول سے اور آپ جس لیول سے بات کرکے اپنے خیالات کا اظہار کر رہے ہیں‌، مثبت انداز میں‌ہوتو کوئی بات نہں‌لیکن منفی بات علمی انداز کی ہی ہوتو کوئی بات بنے ورنہ خاموشی یا تعریف و تحسین ہی مفید ہے۔


ہدایت کی پیروی کرنے والے پر سلام!

پرخلوص بھائی میں نے علامہ اقبال کی شخصیت یا شاعری کے بارے میں جو بات بھی کی ہے وہ دلائل کی بنیاد پر ہے ۔ تمام دلائل یہیں موجود ہیں لیکن اگر آپ کو وہ دلائل نظر نہیں آرہے یا سمجھ نہیں آرہے تو اس میں میرا کیا قصور ہے؟؟ آپ میری شخصیت پر بات کرنے کے بجائے اگر میرے دلائل یا باتوں کا دلائل ہی سے رد کریں تو زیادہ بہتر ہے۔ تاکہ ہمیں بھی پتا چلے کہ آپ کو اقبال کی شاعری میں وہ کونسے باطنی مفہوم نظر آرہے ہیں جو عام انسان دیکھنے سے قاصر ہے۔

چونکہ آپکو میری کچھ باتیں بری لگی ہیں اسلئے آپ میری مخالفت پر کمر بستہ ہیں۔ چلیں یوں ہی سہی ، آپ خوش رہیں! آپ اپنی غلط فہمی دور کرلیں کہ میں اقبال کو غیر موحد ثابت کرنے پر تلا ہوں۔ مجھے علامہ اقبال سے کوئی زاتی دشمنی نہیں ہے ۔ اور نہ ہی میں نے کہیں یہ کہا ہے کہ اقبال کی تمام شاعری غلط ہے۔ بس میں نے انتہائی عاجزانہ طور پر یہ عرض کی تھی کہ علامہ اقبال کے وہ اشعار جن کی زد عقیدہ توحید پر پڑتی ہے یا جن سے اللہ رب العالمین کی شان میں فرق آتا ہے۔ میں صرف اس طرح کے اشعار کی نشاندہی کرنا چاہتا ہوں۔تاکہ مسلمان بھائی متنبہ رہیں۔ کیا یہ کوئی غلط بات ہے یا اقبال سے میری دشمنی کو ثابت کرتی ہیں۔

مجھ پرآپکا علامہ اقبال کو غیر موحد ثابت کرنے کا الزام لگانا بھی غلط ہے۔ کیونکہ خود اقبال کی تحریر انکو غیر موحد ثابت کرتی ہے جو میں پوسٹ نمبر32 پر پیش کرچکا ہوں۔ لیکن اگر آپ کے نزدیک قبرپرستی اور مزار پرستی بھی توحید کی کوئی قسم ہے تو پھر آپ مجھ پر تنقید کرنے میں یقیناًحق بجانب ہیں۔ لیکن میرے نزدیک مزار پرست موحد کی تعریف پر پورا نہیں اترتا اور نہ ہی قرآن اور حدیث سے ایسے شخص کو موحد ثابت کیا جاسکتا ہے لیکن ایسی فقہ اور مذاہب ضرور موجود جن کے نزدیک قبروں اور مزاروں سے محبت کرنے والا ہی اصل موحد ہے ۔اور قبر پرستی و مزار پرستی سے نفرت کرنے والا بیچارہ گمراہ اور گستاخ ۔نعوذباللہ من زالک۔

یا تو آپ صوفیت ہی سے کماحقہ واقف نہیں ہیں یا پھرآپکا حقیقت کا اعتراف نہ کرنے میں علامہ اقبال کی محبت مانع ہے۔ اگر آپ اقبال کو صوفی نہیں مانتے تو اس سے کیا فرق پڑتا ہے جب کہ اقبال کی شاعری کی شروحات لکھنے والوں میں سے کسی نے اقبال کی صوفیت کا انکار نہیں کیا ۔ بلکہ اقبال کی پہچان ہی صوفی شاعر کے طور پر ہے۔ بارہویں جماعت کی اردو کی کتاب جو کہ سندھ کے نصاب میں شامل ہے اسکی شرح جوکہ شکیل بدایونی جو کہ مشہور شاعر ہیں کی نگرانی میں نسیم شاکر نے لکھی ہے۔ وہ اقبال کی شاعری کا تعارف کرواتے ہوئے اقرار کرتے ہیں کہ اقبال کی شاعری میں تصوف موجود ہے۔ بلکہ مضمون میں تصوف کا عنوان قائم کرتے ہیں۔ پر خلوص بھائی اگر آپ اقبال کا صوفی ہونا تسلیم نہیں کرتے تو کوئی دلیل تو پیش کریں۔ یا صرف باتوں سے میدان مارنا چاہتے ہیں!!!

آخر ی بات یہ ہے کہ میں اکثر اپنے مسلک کا زکر اسلئے کرتا ہوں کہ مجھے اہلحدیث ہونے پر فخر ہے۔ جسے اپنے اہلحدیث ہونے پر کوئی شرمندگی ہے یا وہ قرآن اور حدیث میں کسی شک و شبہ کا شکار ہے یا یہ سمجھتا ہے مروجہ فقہ(جسکا خلاف قرآن وحدیث ہونا ثابت ہے) بھی صحیح ہے تو بے شک وہ اپنا اہلحدیث ہونا ظاہر نہ کرے ۔ لیکن مجھے اپنے اہلحدیث ہونے پر کوئی شرمندگی نہیں ہے۔ امت کو جوڑنے کا رونا تو سب روتے ہیں لیکن کوئی عملی قدم نہیں اٹھاتا۔ اگر لوگ اپنے رنگ برنگے اورخود ساختہ مذاہب کو چھوڑ پر قرآن اور صحیح احادیث پر عمل پیرا ہوجائیں تو کیا امت متحد نہیں ہوجائے گی؟! لیکن اگر کوئی قرآن و حدیث کو چھوڑ کر کسی خود ساختہ امام کی آرا یا مروجہ فقوں پر امت کو متحد کر نا چاہتا ہے۔ تو ایسا اتحاد ہمیں منظور نہیں۔

شاہد نزیر
28-02-10, 01:07 PM
السلام و علیکم دوستو!

دراصل بات یہ ہے کہ علامہ اقبال نے بہت اچھے اچھے اشعار لکھیں ہیں لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ہم ان کےغلط اشعار کو بھی ٹھیک قرار دیں نہیں جو بات غلط ہے وہ غلط ہے جیسے کہ میں نے سنا تھا کہ اقبال نے ایک کتاب لکھی ہے "شکوہ" اس میں اقبال نے اللہ تعالیٰ سے مسلمانوں کی حالت زاری پر شکوہ کیا ہے اور اس وقت کے علماء نے اس کو غلط قرار دیا ہے تو میں نے اپنے ایک دوست سے "شکوہ" کتاب لے کر پڑھی تو واقعی اس میں عجیب و غریب الفاظ لکھے ہوئے تھے۔
جیسے۔۔۔۔

شکوہ اللہ سے خاکم بدہن ہے مجھ کو

نعوذباللہ

جو کچھ بھی ہو لیکن پھر بھی اللہ تعالیٰ کی زات با برکات بہت بڑی اور شان والی ہے اللہ سےڈدرنا چاہئے خیر مجھے یہ الفاط پسند نہیں آئے اور بھی الفاظ تھے اس میں پھر اس کا دوسرا حصہ "جواب شکوہ" بھی پڑھا ہے اس میں پھر کچھ اچھے الفاظ تھے۔

تو خیر اگر کسی نے غلط بات کی ہے تو اس کو غلط ہی کہا جائے یہ نہ کہ ہم اس کو ٹھیک ہونے کے حق میں دلائل دینے لگ جایئں

اللہ ہم سب کو صحیح راہ پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے آمین۔

السلام علیکم ورحمتہ اللہ!
ارسلان بھائی اللہ آپ کو جزائے خیر دے۔ یہی وہ معتدل بات ہے جو آپکی سمجھ میں آگئی ہے۔اورجسے میں اپنے دیگر بھائیوں اور بہنوں کو بھی سمجھانا چاہ رہاہوں۔ اللہ کرے دوسروں کو بھی سمجھ آجائے۔ آمین

ابومصعب
28-02-10, 02:02 PM
ہدایت کی پیروی کرنے والے پر سلام!

پرخلوص بھائی میں نے علامہ اقبال کی شخصیت یا شاعری کے بارے میں جو بات بھی کی ہے وہ دلائل کی بنیاد پر ہے ۔ تمام دلائل یہیں موجود ہیں لیکن اگر آپ کو وہ دلائل نظر نہیں آرہے یا سمجھ نہیں آرہے تو اس میں میرا کیا قصور ہے؟؟ آپ میری شخصیت پر بات کرنے کے بجائے اگر میرے دلائل یا باتوں کا دلائل ہی سے رد کریں تو زیادہ بہتر ہے۔ تاکہ ہمیں بھی پتا چلے کہ آپ کو اقبال کی شاعری میں وہ کونسے باطنی مفہوم نظر آرہے ہیں جو عام انسان دیکھنے سے قاصر ہے۔

چونکہ آپکو میری کچھ باتیں بری لگی ہیں اسلئے آپ میری مخالفت پر کمر بستہ ہیں۔ چلیں یوں ہی سہی ، آپ خوش رہیں! آپ اپنی غلط فہمی دور کرلیں کہ میں اقبال کو غیر موحد ثابت کرنے پر تلا ہوں۔ مجھے علامہ اقبال سے کوئی زاتی دشمنی نہیں ہے ۔ اور نہ ہی میں نے کہیں یہ کہا ہے کہ اقبال کی تمام شاعری غلط ہے۔ بس میں نے انتہائی عاجزانہ طور پر یہ عرض کی تھی کہ علامہ اقبال کے وہ اشعار جن کی زد عقیدہ توحید پر پڑتی ہے یا جن سے اللہ رب العالمین کی شان میں فرق آتا ہے۔ میں صرف اس طرح کے اشعار کی نشاندہی کرنا چاہتا ہوں۔تاکہ مسلمان بھائی متنبہ رہیں۔ کیا یہ کوئی غلط بات ہے یا اقبال سے میری دشمنی کو ثابت کرتی ہیں۔

مجھ پرآپکا علامہ اقبال کو غیر موحد ثابت کرنے کا الزام لگانا بھی غلط ہے۔ کیونکہ خود اقبال کی تحریر انکو غیر موحد ثابت کرتی ہے جو میں پوسٹ نمبر32 پر پیش کرچکا ہوں۔ لیکن اگر آپ کے نزدیک قبرپرستی اور مزار پرستی بھی توحید کی کوئی قسم ہے تو پھر آپ مجھ پر تنقید کرنے میں یقیناًحق بجانب ہیں۔ لیکن میرے نزدیک مزار پرست موحد کی تعریف پر پورا نہیں اترتا اور نہ ہی قرآن اور حدیث سے ایسے شخص کو موحد ثابت کیا جاسکتا ہے لیکن ایسی فقہ اور مذاہب ضرور موجود جن کے نزدیک قبروں اور مزاروں سے محبت کرنے والا ہی اصل موحد ہے ۔اور قبر پرستی و مزار پرستی سے نفرت کرنے والا بیچارہ گمراہ اور گستاخ ۔نعوذباللہ من زالک۔

یا تو آپ صوفیت ہی سے کماحقہ واقف نہیں ہیں یا پھرآپکا حقیقت کا اعتراف نہ کرنے میں علامہ اقبال کی محبت مانع ہے۔ اگر آپ اقبال کو صوفی نہیں مانتے تو اس سے کیا فرق پڑتا ہے جب کہ اقبال کی شاعری کی شروحات لکھنے والوں میں سے کسی نے اقبال کی صوفیت کا انکار نہیں کیا ۔ بلکہ اقبال کی پہچان ہی صوفی شاعر کے طور پر ہے۔ بارہویں جماعت کی اردو کی کتاب جو کہ سندھ کے نصاب میں شامل ہے اسکی شرح جوکہ شکیل بدایونی جو کہ مشہور شاعر ہیں کی نگرانی میں نسیم شاکر نے لکھی ہے۔ وہ اقبال کی شاعری کا تعارف کرواتے ہوئے اقرار کرتے ہیں کہ اقبال کی شاعری میں تصوف موجود ہے۔ بلکہ مضمون میں تصوف کا عنوان قائم کرتے ہیں۔ پر خلوص بھائی اگر آپ اقبال کا صوفی ہونا تسلیم نہیں کرتے تو کوئی دلیل تو پیش کریں۔ یا صرف باتوں سے میدان مارنا چاہتے ہیں!!!

آخر ی بات یہ ہے کہ میں اکثر اپنے مسلک کا زکر اسلئے کرتا ہوں کہ مجھے اہلحدیث ہونے پر فخر ہے۔ جسے اپنے اہلحدیث ہونے پر کوئی شرمندگی ہے یا وہ قرآن اور حدیث میں کسی شک و شبہ کا شکار ہے یا یہ سمجھتا ہے مروجہ فقہ(جسکا خلاف قرآن وحدیث ہونا ثابت ہے) بھی صحیح ہے تو بے شک وہ اپنا اہلحدیث ہونا ظاہر نہ کرے ۔ لیکن مجھے اپنے اہلحدیث ہونے پر کوئی شرمندگی نہیں ہے۔ امت کو جوڑنے کا رونا تو سب روتے ہیں لیکن کوئی عملی قدم نہیں اٹھاتا۔ اگر لوگ اپنے رنگ برنگے اورخود ساختہ مذاہب کو چھوڑ پر قرآن اور صحیح احادیث پر عمل پیرا ہوجائیں تو کیا امت متحد نہیں ہوجائے گی؟! لیکن اگر کوئی قرآن و حدیث کو چھوڑ کر کسی خود ساختہ امام کی آرا یا مروجہ فقوں پر امت کو متحد کر نا چاہتا ہے۔ تو ایسا اتحاد ہمیں منظور نہیں۔



اللہ اکبر
اللہ آپکو نیک توفیق دے۔۔بلکہ ہم سبکو۔۔۔کہ۔۔ہماری علامہ اقبال والی ڈسکشن کا ٹانگ۔۔۔۔پھر سے آپکی مہربانی سے مسلک پر ختم ہوئی۔۔۔۔
جزاک اللہ خیر۔
عمدہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

محمد ارسلان
01-03-10, 10:22 AM
السلام علیکم ورحمتہ اللہ!
ارسلان بھائی اللہ آپ کو جزائے خیر دے۔ یہی وہ معتدل بات ہے جو آپکی سمجھ میں آگئی ہے۔اورجسے میں اپنے دیگر بھائیوں اور بہنوں کو بھی سمجھانا چاہ رہاہوں۔ اللہ کرے دوسروں کو بھی سمجھ آجائے۔ آمین



اللہ ہم سب کو سمجھ عطا کرے اور دین میں ثابت قدمی دے آمین۔

شاہد نزیر
01-03-10, 04:19 PM
علامہ اقبال تصوف سے متاثر تھے انکے شارحین کا اعتراف


السلام علیکم ورحمتہ اللہ!
میں نے پوسٹ نمبر ۴۴ پر یہ پیرا گراف تحریر کیا تھا۔
اگر آپ اقبال کو صوفی نہیں مانتے تو اس سے کیا فرق پڑتا ہے جب کہ اقبال کی شاعری کی شروحات لکھنے والوں میں سے کسی نے اقبال کی صوفیت کا انکار نہیں کیا ۔ بلکہ اقبال کی پہچان ہی صوفی شاعر کے طور پر ہے۔ بارہویں جماعت کی اردو کی کتاب جو کہ سندھ کے نصاب میں شامل ہے اسکی شرح جوکہ شکیل بدایونی جو کہ مشہور شاعر ہیں کی نگرانی میں نسیم شاکر نے لکھی ہے۔ وہ اقبال کی شاعری کا تعارف کرواتے ہوئے اقرار کرتے ہیں کہ اقبال کی شاعری میں تصوف موجود ہے۔ بلکہ مضمون میں تصوف کا عنوان قائم کرتے ہیں۔ پر خلوص بھائی اگر آپ اقبال کا صوفی ہونا تسلیم نہیں کرتے تو کوئی دلیل تو پیش کریں۔ یا صرف باتوں سے میدان مارنا چاہتے ہیں!!!



اس پیراگراف میں مجھ سے ایک غلطی ہوگئی تھی ۔ میں نے نیاز بد ایونی کے بجائے شکیل بد ایونی اور ثروت سلطانہ کے بجائے نسیم شاکر لکھ دیا تھا جس پر میں معذرت خواہ ہوں۔

میں مذکورمعلومات میں مزیداضافہ کرنا چاہونگا ۔ اس شرح کو علی بکڈپو اردو بازار کراچی نے شائع کیا ہے۔ اور اسے معروف ادیب و شاعر نیاز بد ایونی کی مشاورت و رہنمائی میں تجربہ کار استاد محترمہ ثروت سلطانہ نے تصنیف کیا ہے۔تصنیف کے بعد پھر جناب نیاز بد ایونی نے اس پر نظر ثانی کی ہے۔ اس شرح کے صفحہ نمبر ۳۱۴ پر علامہ اقبال کے کلام کی خصوصیات درج ہیں۔ پھر صفحہ نمبر ۳۱۷ پر مصنف نے تصوف کا عنوان قائم کیا ہے۔ اور اس عنوان کے تحت رقمطراز ہیں:

تصوف:
اقبال کے کلام میں ان کی تصوف پسندی بھی پوری طرح واضح ہے.......وہ عرفان و تصوف کے حوالہ سے بھی اپنی قوم کے افراد کو باعمل دیکھنا چاہتے ہیں.......

نیاز بد ایونی جو کہ مشہور شاعر ہیں اور یہ شرح انکی زیر نگرانی لکھی گئی ہے اور اس پر انکی نظر ثانی بھی ہے۔اور ایک شاعر دوسرے شاعر اور اسکی شاعری کو عام لوگوں سے بہتر سمجھتا ہے۔ اسلئے نیاز بد ایونی کا اقبال کے کلام کو صوفیانہ قرار دینا۔ ان لوگوں کے خیال کو غلط ثابت کردیتا ہے جو اقبال کو صوفی اور انکی شاعری کو تصوف سے متاثر قرار نہیں دیتے۔

محمد ارسلان
01-03-10, 04:26 PM
علامہ اقبال تصوف سے متاثر تھے انکے شارحین کا اعتراف


السلام علیکم ورحمتہ اللہ!
میں نے پوسٹ نمبر ۴۴ پر یہ پیرا گراف تحریر کیا تھا۔



اس پیراگراف میں مجھ سے ایک غلطی ہوگئی تھی ۔ میں نے نیاز بد ایونی کے بجائے شکیل بد ایونی اور ثروت سلطانہ کے بجائے نسیم شاکر لکھ دیا تھا جس پر میں معذرت خواہ ہوں۔

میں مذکورمعلومات میں مزیداضافہ کرنا چاہونگا ۔ اس شرح کو علی بکڈپو اردو بازار کراچی نے شائع کیا ہے۔ اور اسے معروف ادیب و شاعر نیاز بد ایونی کی مشاورت و رہنمائی میں تجربہ کار استاد محترمہ ثروت سلطانہ نے تصنیف کیا ہے۔تصنیف کے بعد پھر جناب نیاز بد ایونی نے اس پر نظر ثانی کی ہے۔ اس شرح کے صفحہ نمبر ۳۱۴ پر علامہ اقبال کے کلام کی خصوصیات درج ہیں۔ پھر صفحہ نمبر ۳۱۷ پر مصنف نے تصوف کا عنوان قائم کیا ہے۔ اور اس عنوان کے تحت رقمطراز ہیں:

تصوف:
اقبال کے کلام میں ان کی تصوف پسندی بھی پوری طرح واضح ہے.......وہ عرفان و تصوف کے حوالہ سے بھی اپنی قوم کے افراد کو باعمل دیکھنا چاہتے ہیں.......

نیاز بد ایونی جو کہ مشہور شاعر ہیں اور یہ شرح انکی زیر نگرانی لکھی گئی ہے اور اس پر انکی نظر ثانی بھی ہے۔اور ایک شاعر دوسرے شاعر اور اسکی شاعری کو عام لوگوں سے بہتر سمجھتا ہے۔ اسلئے نیاز بد ایونی کا اقبال کے کلام کو صوفیانہ قرار دینا۔ ان لوگوں کے خیال کو غلط ثابت کردیتا ہے جو اقبال کو صوفی اور انکی شاعری کو تصوف سے متاثر قرار نہیں دیتے۔



بھائی آپ وہ شعر بھی لکھ دیں نہ جس سے علامہ اقبال میں صوفیت نظر آتی ہو۔

محمد ارسلان
01-03-10, 04:35 PM
علامہ اقبال کی شاعری کے غلط نکات جو مجھ جیسا نا چیز سمجھ پایا ہے

دیکھیے۔

جیسے(قوت بازو مسلم نے کیا کام تیرا)

اللہ اکبر

حالانکہ آپ قرآن پڑھ کر دیکھیں پہلے انبیاء علیہم السلام ہوں پیارے نبی حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہوں یا صحابہ کرام کے واقعات ہوں ۔

اللہ تعالیٰ نے یہ تعلیم سیکھائی ہے اپنی کتاب میں ہمیں کہ جو کچھ بھی ہوتا ہے اس میں اللہ کی مرضی شامل ہوتی ہے۔اور ایک جنگ کے واقعے میں آپ دیکھیں کہ اللہ پاک نے مسلمانوں کی حالت بتائی کہ کس طرح تمہارے کلیجے منہ کو آ گئے اورآنکھیں پتھرا گئی اور یہ کہ اللہ کی مرضی کے بغیر اور اللہ کی مدد کے بغیر تم جنگ نہیں جیت سکتے۔

لیکن اس شعر میں کہا جا رہا ہے کہ قوت بازو مسلم نے کیا کام تیرا نعوزباللہ

اور ایک شعر جو میں لکھنا تو نہیں چاہتا کیونکہ میں اپنے رب اللہ تعالیٰ سے بہت محبت کرتا ہوں لیکن لوگوں کو آگاہ کرنے کے لئے لکھ رہاہوں کہ دیکھیں الفاظ کی نسبت سے یہ شعر کتنا غلط ہے۔

جی خوش ہوتا ہے مساجد کو خالی دیکھ کر
میری طرح خدا کا بھی خانہ خراب ہے۔

اللہ اکبر استغفرللہ استغفرللہ استغفرللہ

اب بتایئے یہ کیا ہے ۔؟

الطحاوی
03-03-10, 07:45 AM
جی خوش ہوتا ہے مساجد کو خالی دیکھ کر
میری طرح خدا کا بھی خانہ خراب ہے۔

یہ شعرکلیات اقبال کے کس حصے میں ہے برائے مہربانی بتائیں۔اورموجودہ شعربھی غلط لگ رہاہے کیونکہ بے وزن ہے۔

محمد ارسلان
03-03-10, 03:05 PM
یہ شعرکلیات اقبال کے کس حصے میں ہے برائے مہربانی بتائیں۔اورموجودہ شعربھی غلط لگ رہاہے کیونکہ بے وزن ہے۔

میں نے مطالعہ نہیں کر رکھا یہ شعر میں نے اقبال سے منسوب سنا ہے۔

اور دوسرا شعر کیسے بے وزن ہے بتایئں؟

الطحاوی
03-03-10, 11:47 PM
میں نے مطالعہ نہیں کر رکھا یہ شعر میں نے اقبال سے منسوب سنا ہے۔
کفی بالمرئ کذباان یحدث بکل ماسمع
دوسرے شعرکابے وزن ہوناتواس کے لئے زیادہ محنت کی بھی ضرورت نہیں ہے۔آپ خود ہی ہلکے سے گنگنائیں۔پتہ چل جائے گاکہ وزن ہے یانہیں۔اگرایسانہ ہوسکے تو پھر کسی قریب کے شعروادب سے رغبت رکھنے والے پوچھ لیں۔اوراگریہ سب ممکن نہ ہو توپھر فرمائیں انشاء اللہ تقطیع کرکے بتادیاجائے گاکہ یہ شعرکتنابے وزن ہے۔

کنعان
04-03-10, 12:39 AM
السلام علیکم



ایک اردو فارم میں یہ شعر کسی کے دستخط میں اسطرح موجود ھے اگر کسی کو لنک چاہئے تو پرائویٹ میں مہیا کر دیا جائے گا۔

پھوٹا تھا جو کبھی کسی نیزے کی نوک سے، ہر عہد پر محیط وہی انقلاب ہے
ہر دَور میں‌ حُسین ع نے ثابت یہ کر دیا، ہر دور کے یزید کا خانہ خراب ہے

------------------

دل خوش ہوا مسجد ويراں کو ديکھ کر
ميری طرح خدا کا بھی خانہ خراب ہے

جی خوش ہُوا ہے مسجدِ ويراں کو ديکھ کر


والسلام

محمد ارسلان
04-03-10, 07:23 AM
کفی بالمرئ کذباان یحدث بکل ماسمع
دوسرے شعرکابے وزن ہوناتواس کے لئے زیادہ محنت کی بھی ضرورت نہیں ہے۔آپ خود ہی ہلکے سے گنگنائیں۔پتہ چل جائے گاکہ وزن ہے یانہیں۔اگرایسانہ ہوسکے تو پھر کسی قریب کے شعروادب سے رغبت رکھنے والے پوچھ لیں۔اوراگریہ سب ممکن نہ ہو توپھر فرمائیں انشاء اللہ تقطیع کرکے بتادیاجائے گاکہ یہ شعرکتنابے وزن ہے۔

پہلی بات یہ تو میں بھی مانتا ہوں کہ سنی سنائی بات پر بغیر تحقیق کے عمل درست نہیں

اور دوسری بات یہ ہے کہ آپ کو چاہئے تھا کہ شعر کے بے وزن ہونے کے دلائل دیں آپ نے ایسی بات لکھ دی ہے جو میری سمجھ میں نہیں آئی پلز صاف لکھیں تاکہ سمجھ آئے۔

محمد ارسلان
04-03-10, 07:25 AM
[quote=conan;197399]السلام علیکم



ایک اردو فارم میں یہ شعر کسی کے دستخط میں اسطرح موجود ھے اگر کسی کو لنک چاہئے تو پرائویٹ میں مہیا کر دیا جائے گا۔

شائد آپ نے جو لکھا ہے وہ شعر اس طرح ہی ہے

لیکن مسئلہ یہ ہے کہ آپ خود بتائیے الفاظ کی نسبت سے یہ شعر کتنا غلط ہے۔

شاہد نزیر
05-03-10, 09:50 AM
میں نے مطالعہ نہیں کر رکھا یہ شعر میں نے اقبال سے منسوب سنا ہے۔

السلام علیکم ورحمتہ اللہ!

محترم ارسلان بھائی کوشش کیا کریں کہ جب کوئی بات کریں تو آپکے پاس اسکی مکمل معلومات ہوں تاکہ جب کوئی اعتراض کرے تو اسے دلائل سے مطمئن کیا جاسکے۔ ورنہ ایسی ہی صورتحال ہوجاتی ہے جیسا کہ اس وقت آپکے ساتھ ہوئی ۔ میں بھی آپ سے اس شعر کا حوالہ پوچھنا چاہ رہا تھا ، لیکن مجھ سے پہلے جمشید بھائی نے پوچھ لیا۔ آپ کوشش کریں شاید آپ کو مل جائے ویسے یہ شعر تو میں نے بھی پہلی مرتبہ پڑھا ہے۔ میرے پاس بھی اقبال کا ایک خالص کفریہ شعر ہے لیکن میں اسکا حوالہ تلاش کر رہا ہوں جیسے ہی ملا فوراً شیئر کرونگا۔ انشاء اللہ

محمد ارسلان
05-03-10, 11:00 AM
السلام علیکم ورحمتہ اللہ!

محترم ارسلان بھائی کوشش کیا کریں کہ جب کوئی بات کریں تو آپکے پاس اسکی مکمل معلومات ہوں تاکہ جب کوئی اعتراض کرے تو اسے دلائل سے مطمئن کیا جاسکے۔ ورنہ ایسی ہی صورتحال ہوجاتی ہے جیسا کہ اس وقت آپکے ساتھ ہوئی ۔ میں بھی آپ سے اس شعر کا حوالہ پوچھنا چاہ رہا تھا ، لیکن مجھ سے پہلے جمشید بھائی نے پوچھ لیا۔ آپ کوشش کریں شاید آپ کو مل جائے ویسے یہ شعر تو میں نے بھی پہلی مرتبہ پڑھا ہے۔ میرے پاس بھی اقبال کا ایک خالص کفریہ شعر ہے لیکن میں اسکا حوالہ تلاش کر رہا ہوں جیسے ہی ملا فوراً شیئر کرونگا۔ انشاء اللہ


بھائی شاہد نزیر اللہ تعالیٰ آپ کو جزا خیر دے آپ نے اتنے اچھے اور پیار بھرے انداز میں مجھے سمجھایا بھائی یقین مانیں میں بھی دلائل کے بغیر نہیں لکھتا بس اس مرتبہ غلطی ہو گئی اور حوالے کے بغیر لکھ بیٹھا میں اپنی غلطی تسلیم کرتا ہوں آئیندہ خیال رکھوں گا آپ وہ شعر جو علامہ اقبال کا کفریہ شعر ہے اس کی تھقیق کر کےضرور لکھنا

اللہ آپ پر رحمت کرے آمین۔

dani
05-03-10, 03:48 PM
دل خوش ہوا مسجد ويراں کو ديکھ کر
ميری طرح خدا کا بھی خانہ خراب ہے

یہ اقبال کا شعر نہیں ہے بھائی

شاہد نزیر
06-03-10, 06:25 AM
دل خوش ہوا مسجد ويراں کو ديکھ کر
ميری طرح خدا کا بھی خانہ خراب ہے

یہ اقبال کا شعر نہیں ہے بھائی

آپ ہی بتا دیں کہ کس کا شعر ہے؟؟؟

محمد ارسلان
06-03-10, 10:46 AM
دل خوش ہوا مسجد ويراں کو ديکھ کر
ميری طرح خدا کا بھی خانہ خراب ہے

یہ اقبال کا شعر نہیں ہے بھائی

جی آپ بتائیں کہ یہ کس کا شعر ہے تاکہ ہمارے علم میں اضافہ ہو۔

کنعان
06-03-10, 04:01 PM
آپ ہی بتا دیں کہ کس کا شعر ہے؟؟؟

السلام علیکم

سرچ کے دوران مجھے یہ شعر "غالب" کے نام سے ملا تھا،
مگر نٹ سرچ سے اسے کنفرم نہیں‌ کیا جا سکتا جب تک کتاب میں نہ دیکھا جا سکے،
کسی بھی گورنمنٹ ہائی سکول کے 10 کلاس کے اردو کے ٹیچر سے معلوم ہو سکتا ھے۔

والسلام

dani
12-03-10, 05:58 PM
کفی بالمرئ کذباان یحدث بکل ماسمع
دوسرے شعرکابے وزن ہوناتواس کے لئے زیادہ محنت کی بھی ضرورت نہیں ہے۔آپ خود ہی ہلکے سے گنگنائیں۔پتہ چل جائے گاکہ وزن ہے یانہیں۔اگرایسانہ ہوسکے تو پھر کسی قریب کے شعروادب سے رغبت رکھنے والے پوچھ لیں۔اوراگریہ سب ممکن نہ ہو توپھر فرمائیں انشاء اللہ تقطیع کرکے بتادیاجائے گاکہ یہ شعرکتنابے وزن ہے۔

تقطیع سے شعر کا وزن جاننا تو سنا تھا یہ گنگنانے والا نظریہ شاید سماع کے قائل کسی سلسلہ تصوف کی ایجاد ہے۔

dani
12-03-10, 06:00 PM
جی آپ بتائیں کہ یہ کس کا شعر ہے تاکہ ہمارے علم میں اضافہ ہو۔

بھیا اتنا معلوم ہے کہ اقبال کا نہیں اس لیے کہ ان کا مکمل کلام میری نظر سے گزرتا رہتا ہے ۔

محمد ارسلان
13-03-10, 09:10 AM
بھیا اتنا معلوم ہے کہ اقبال کا نہیں اس لیے کہ ان کا مکمل کلام میری نظر سے گزرتا رہتا ہے ۔

اچھا بھائی جان۔

ام نور العين
04-05-10, 05:35 PM
یہاں اقبال کے فلسفہ ء خودی پر کچھ بحث ہوئی تھی ۔ اس مضمون کا تعلق اسی کی تفہیم سے ہے ۔


اقبال کا فلسفہ خودی اور بے خودی
احسان اللہ ثاقب


خودی ہو زندہ تو ہے فقر بھی شہنشاہی
نہیں ہے سنجر وطغرل سے کم شکوہ فقیر
خودی ہو زندہ تو دریائے بیکراں پایاب
خودی ہو زندہ تو کہسار پرنیاں و حریر

اقبال کے فلسفہ حیات میں تصور خودی کو بنیادی اور مرکزی مقام حاصل ہے۔ خودی اور بے خودی کے بارے میں اقبال کے افکار و نظریات فلسفہ عجم 1908ءاسرار خودی 1915ءاور رموز بے خودی 1918ء میں ملتے ہیں۔ علامہ اقبال نے تاریخ عالم کا گہرا مطالعہ کیا اور اس نتیجہ پر پہنچا کہ انیسویں اور بیسویں صدیوں میں مسلمانوں کے سیاسی اور معاشی زوال کا سبب ان کا اسلامی تعلیمات سے انحراف تھا۔ اس کی وجہ قوائے عملی کو مفلوج کر دینے والا افلاطونی فلسفہ، ہندوﺅں کا فلسفہ وحدت الوجود اور ایرانی شاعروں کی رومانوی شاعری تھی۔ اقبال نے افلاطونی نظرئیے کو رد کر کے ڈیکارٹ کے افکار کی تائید کی جن کے مطابق انسانی وجود ایک حقیقت تھا اور کائنات فریب نظر نہیں تھی۔ اقبال کے نزدیک خودی، جذبہ خوداری، غیرت مندی اور اپنی دنیا آپ پیدا کرنے کے لئے کائنات کی قوتوں کے ساتھ برسر پیکار رہنے کا نام ہے۔ فلسفہ خودی میں خود بینی اور خدا بینی دونوں لازم و ملزوم ہیں۔ کیونکہ خود بینی خدا کو سمجھنے میں مدد کرتی ہے۔

اگر خواہی خدا را فاش دیدن
خودی رافاش تردیدن بیاموز

ڈاکٹر فرمان فتح پوری اقبال کے تصور خودی پر روشنی ڈالتے ہوئے رقمطراز ہیں۔
”اسرارخودی کی توضیحات کے مطابق اس جہان رنگ و بو کا ظہور دراصل خودی کی نمو ہے۔ خودی کی بیداری ہی تخلیق کائنات کا سبب ہے“ خودی کی تربیت سے مشت خاک میں آتش ہمہ سوز پیدا کی جا سکتی ہے۔
خودی کی پرورش و تربیت پہ ہے موقوف
کہ مشت خاک میں پیدا ہو آتش ہمہ سوز

اقبال کے مطابق خودی کو مضبوط کر کے انسان تقدیریزداں کے دھارے کا رخ اپنی مرضی کے مطابق موڑ سکتا ہے۔
ترے دریا میں طوفاں کیوں نہیں ہے
خودی تیری مسلماں کیوں نہیں ہے
عبث ہے شکوہ تقدیر یزداں
تو خود تقدیر یزداں کیوں نہیں ہے

اقبال کے فلسفہ خودی کی رو سے خودی کی تربیت کی تین منازل ہیں یعنی
اطاعت
ضبط نفس
اور نیابت الٰہی۔
ان میں سے اطاعت میں فرائض کی ادائیگی اور شریعت الہیہ کی عملی تائید نمایاں ہیں۔ ضبط نفس سے مراد نفسانی خواہشات پر قابو پانا ہے جبکہ نیابت الٰہی تخلیق انسانی کا سب سے اعلیٰ مقصد ہے۔
علامہ اقبال نے اپنا فلسفہ بے خودی مشہور و تصنیف رموز بے خودی میں پیش کیا۔ اس میں فرد کی خودی سے آگے بڑھ کر ملت کی خودی کی وضاحت کی گئی۔
درجماعت فرد را بینم ما
ازچمن راچوں گل چینم ما
فرد تا اندر جماعت گم شود
قطرہ وسعت طلب قلزم شود

اقبال نے دلائل سے ثابت کیا کہ درجہ کمال تک پہنچنے کے لئے فرد کو ایک ملت کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس ملت میں فرد کی انفرادیت ختم نہیں ہوتی بلکہ اس کی حیثیت پہلے سے زیادہ مضبوط اور نمایاں ہو جاتی ہے۔ ملت اسلامیہ کی بنیادیں قرآنی تعلیمات پر استوار ہوتی ہیں۔ یہ ملت توحید و رسالت، تقلید اور اجتہاد کے اصولوں پر عمل کر کے خود کو دوسروں سے ممتاز کر لیتی ہے موجودہ دور میں ملت اسلامیہ ہی انفرادی اور اجتماعی خودی کی تربیت کا بہترین نظام عمل پیش کرتی ہے۔

اقبال کا فلسفہ خودی اور بے خودی
احسان اللہ ثاقب (http://www.nawaiwaqt.com.pk/pakistan-news-newspaper-daily-urdu-online/Opinions/Mazamine/04-May-2010/10820)

ابومصعب
05-05-10, 07:35 AM
بہت ہی عمدہ طریقے سے
عقلی دلائل کے ساتھ
اور اقبال کی تحریر کے اصل محرکات و مقاصد کو ذہن میں‌رکھ کر بالغ نظرانہ تجزیہ جو کہ انسان کے ذہن کے دریچوں‌کو کھول کر مزید غور و فکر کے باب کھولتا ہے۔
جزاک اللہ

(ایسی تحریروں‌کو پڑھ کر صرف اس سے کچھ حاصل کرلینا دل کرتا ہے، ایسی تحریروں‌پر بھی تنقید ہوجائے تب۔۔۔انسان کو سب سے پہلے اپنے گریبان میں‌جھانک لینا چاہئے کہ وہ خود کسقدر پست ہے، تب کیوں‌تنقیدوں کے بجائے اپنی اصلاح‌پر توجہ نہیں‌دیتا، اور تنقید کرنا بھی ہو تو اسکو سلیقہ کیوں‌نہیں‌سیکھ لیتا)

جزاک اللہ بہت ہی نائیس تحریر شئیر کی ہے اپ نے

ام نور العين
06-05-10, 04:52 AM
اختلاف اور تنقید کا مثبت پہلو یہ ہے کہ ہمیں سیکھنے کا موقع ملتا ہے ۔ تلخی کے بغیر اختلاف کرنا ، اور تنقید سننا چاہیے ۔ بہرحال اس بحث کو اچھے انداز میں آگے بڑھنا چاہیے ۔

ذاتی مطالعے کی حد تک مجھے اقبال کے فلسفہ ء خودی و بے خودی میں تصوف اور وحدت الوجود کی مخالفت ہی ملی ہے ۔

خودی تو حلول واتحاد سے ے کر فنا فی اللہ تک کا انکار ہے ۔

محمد ارسلان
14-06-10, 10:31 AM
یہاں اقبال کے فلسفہ ء خودی پر کچھ بحث ہوئی تھی ۔ اس مضمون کا تعلق اسی کی تفہیم سے ہے ۔


اقبال کا فلسفہ خودی اور بے خودی
احسان اللہ ثاقب


خودی ہو زندہ تو ہے فقر بھی شہنشاہی
نہیں ہے سنجر وطغرل سے کم شکوہ فقیر
خودی ہو زندہ تو دریائے بیکراں پایاب
خودی ہو زندہ تو کہسار پرنیاں و حریر

اقبال کے فلسفہ حیات میں تصور خودی کو بنیادی اور مرکزی مقام حاصل ہے۔ خودی اور بے خودی کے بارے میں اقبال کے افکار و نظریات فلسفہ عجم 1908ءاسرار خودی 1915ءاور رموز بے خودی 1918ء میں ملتے ہیں۔ علامہ اقبال نے تاریخ عالم کا گہرا مطالعہ کیا اور اس نتیجہ پر پہنچا کہ انیسویں اور بیسویں صدیوں میں مسلمانوں کے سیاسی اور معاشی زوال کا سبب ان کا اسلامی تعلیمات سے انحراف تھا۔ اس کی وجہ قوائے عملی کو مفلوج کر دینے والا افلاطونی فلسفہ، ہندوﺅں کا فلسفہ وحدت الوجود اور ایرانی شاعروں کی رومانوی شاعری تھی۔ اقبال نے افلاطونی نظرئیے کو رد کر کے ڈیکارٹ کے افکار کی تائید کی جن کے مطابق انسانی وجود ایک حقیقت تھا اور کائنات فریب نظر نہیں تھی۔ اقبال کے نزدیک خودی، جذبہ خوداری، غیرت مندی اور اپنی دنیا آپ پیدا کرنے کے لئے کائنات کی قوتوں کے ساتھ برسر پیکار رہنے کا نام ہے۔ فلسفہ خودی میں خود بینی اور خدا بینی دونوں لازم و ملزوم ہیں۔ کیونکہ خود بینی خدا کو سمجھنے میں مدد کرتی ہے۔

اگر خواہی خدا را فاش دیدن
خودی رافاش تردیدن بیاموز

ڈاکٹر فرمان فتح پوری اقبال کے تصور خودی پر روشنی ڈالتے ہوئے رقمطراز ہیں۔
”اسرارخودی کی توضیحات کے مطابق اس جہان رنگ و بو کا ظہور دراصل خودی کی نمو ہے۔ خودی کی بیداری ہی تخلیق کائنات کا سبب ہے“ خودی کی تربیت سے مشت خاک میں آتش ہمہ سوز پیدا کی جا سکتی ہے۔
خودی کی پرورش و تربیت پہ ہے موقوف
کہ مشت خاک میں پیدا ہو آتش ہمہ سوز

اقبال کے مطابق خودی کو مضبوط کر کے انسان تقدیریزداں کے دھارے کا رخ اپنی مرضی کے مطابق موڑ سکتا ہے۔
ترے دریا میں طوفاں کیوں نہیں ہے
خودی تیری مسلماں کیوں نہیں ہے
عبث ہے شکوہ تقدیر یزداں
تو خود تقدیر یزداں کیوں نہیں ہے

اقبال کے فلسفہ خودی کی رو سے خودی کی تربیت کی تین منازل ہیں یعنی
اطاعت
ضبط نفس
اور نیابت الٰہی۔
ان میں سے اطاعت میں فرائض کی ادائیگی اور شریعت الہیہ کی عملی تائید نمایاں ہیں۔ ضبط نفس سے مراد نفسانی خواہشات پر قابو پانا ہے جبکہ نیابت الٰہی تخلیق انسانی کا سب سے اعلیٰ مقصد ہے۔
علامہ اقبال نے اپنا فلسفہ بے خودی مشہور و تصنیف رموز بے خودی میں پیش کیا۔ اس میں فرد کی خودی سے آگے بڑھ کر ملت کی خودی کی وضاحت کی گئی۔
درجماعت فرد را بینم ما
ازچمن راچوں گل چینم ما
فرد تا اندر جماعت گم شود
قطرہ وسعت طلب قلزم شود

اقبال نے دلائل سے ثابت کیا کہ درجہ کمال تک پہنچنے کے لئے فرد کو ایک ملت کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس ملت میں فرد کی انفرادیت ختم نہیں ہوتی بلکہ اس کی حیثیت پہلے سے زیادہ مضبوط اور نمایاں ہو جاتی ہے۔ ملت اسلامیہ کی بنیادیں قرآنی تعلیمات پر استوار ہوتی ہیں۔ یہ ملت توحید و رسالت، تقلید اور اجتہاد کے اصولوں پر عمل کر کے خود کو دوسروں سے ممتاز کر لیتی ہے موجودہ دور میں ملت اسلامیہ ہی انفرادی اور اجتماعی خودی کی تربیت کا بہترین نظام عمل پیش کرتی ہے۔

اقبال کا فلسفہ خودی اور بے خودی
احسان اللہ ثاقب (http://www.nawaiwaqt.com.pk/pakistan-news-newspaper-daily-urdu-online/opinions/mazamine/04-may-2010/10820)

ہمممم سسٹر آپ نے واقعی لمبا چوڑا لکھا ہے خودی پر

پیچھے میں بھائی شاہد نزیر کے دلائل پڑھے ہیں۔

لیکن خودی کو کر بلند اتنا والا شعر الفاظ کی نسبت سے پھر بھی غلط ہی ہے(اس پر پیچھے دلائل کے ساتھ بھائی شاہد نزیر نے لکھا ہے)

حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بڑھ کر کون اللہ سے زیادہ ڈرنے والا ہو سکتا ہے کوئی نہیں۔

پھر بھی میرے پیرو مرشد محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چاہا کہ کعبہ کی طرف رخ کر کے نماز پڑھیں لیکن میرے اللہ نے یہ حکم 16 یا 18 مہینے کے بعد دیا۔

اللہ تعالیٰ ہمیں صحیح راہ پر چلنے کی توفیق نصیب فرمائے آمین۔

ام نور العين
14-06-10, 02:55 PM
مطالعے اور دلائل كى كمى فونٹ سائز بڑھا كر پوری نہیں كى جاسكتى ۔اس طرح آپ فورم كى خوبصورتى كو بھی خراب كر رہے ہیں ۔

كسى بات كو ثابت كيے بغیر مخاطب كو گمراہ کہنا كوئى مستحسن بات نہیں ۔جو آپ سے ذرا سا اختلاف رکھتا ہو وہ گمراہ ہے بہت خوب ۔

محمد ارسلان
14-06-10, 08:03 PM
مطالعے اور دلائل كى كمى فونٹ سائز بڑھا كر پوری نہیں كى جاسكتى ۔اس طرح آپ فورم كى خوبصورتى كو بھی خراب كر رہے ہیں ۔

كسى بات كو ثابت كيے بغیر مخاطب كو گمراہ کہنا كوئى مستحسن بات نہیں ۔جو آپ سے ذرا سا اختلاف رکھتا ہو وہ گمراہ ہے بہت خوب ۔

عین باجی آپ نے میری بات کا جواب نہیں دیا
خودی کی تعریف پہلے کچھ کی گئی پیچھلے صفحات میں لیکن بھائی شاہد نزیر نے ان کا مدلل جواب دیا۔

اب آپ نے نئے انداز میں خودی کو صحیح ثابت کرنے کی کوشش کی جو علامہ اقبال کے شعر میں ذکر کی گئی ہے۔

چلیں مان لیں کہ آپ نے جو خودی کی تعریف بیان کی مثلا۔اطاعت،ضبط نفس اور نیابت الہی۔

تو بات وہی ہے اللہ کی اطاعت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بڑھ کر کوئی اور نہیں ہو سکتا لیکن پھر بھی ہو گا وہی جو میرا اللہ چاہے گا۔

کیونکہ ساری کی ساری طاقت اللہ کے لئے ہے

ایسی کوئی عبادت نہیں ایسا کوئی رتبہ نہیں جس سے اللہ تعالیٰ انسان کی مرضی پوچھے۔

بات کو تو اس وقت ختم ہو جانا چاہیئے تھا جب شاہد نزیر بھائی نے اس شعر کو کوڈ کر کے مدلل جواب سے غلط ثابت کیا۔

لیکن نہیں کیونکہ ہم نے غلط کو غلط ماننا جو نہیں اور غلط بات کے حق میں دلائل جو دینے ہیں۔ان للہ وانا الیہ راجعون۔

آپ فونٹ وونٹ کی ایکسٹرا باتوں پر نا جائیں سسٹر اور میری بات کا جواب دیں۔

یا اتنا تو تسلیم کریں کہ جو بات غلط ہے چاہے وہ علامہ اقبال کی ہو یا کسی اور شاعر کی

جس کی جو بات قرآن و حدیث سے متصادم ہے اس کو چھوڑنا ہی پڑے گا۔

اللہ تعالیٰ ہم سب کو صحیح راہ پر چلنے کی توفیق نصیب فرمائے آمین۔

ام نور العين
14-06-10, 08:27 PM
بھائی ابھی آپ کو یہ شعر سمجھ نہیں آئے گا ۔ ابھی آپ آسان آسان نظمیں پڑھا کریں ۔ مثلا :

بول ميرے مرغے ککڑوں کڑوں ۔۔۔

يا پھر بلو كا بستہ وغیرہ وغیرہ ۔

ام نور العين
14-06-10, 08:40 PM
ہاں یہ نظم میں مجلس اطفال میں پوسٹ کرتی ہوں ابھی ۔

الطحاوی
14-06-10, 10:45 PM
شاعری اورفتویٰ میں بڑافرق ہے
شاعری احساسات اورجذبات کی مصوری کانام ہے اورفتویٰ کسی واقعہ پر شرعی احکام کی تطبیق کا،اب کچھ لوگ شاعری میں فتویٰ کے اوصاف ڈھونڈنے بیٹھ جاتے ہیں اورمشکل یہیں ہوتی ہے۔شاعر سے یہ توقع کرنا کہ وہ بس اخباری رپورٹر کی طرح صورت واقعہ بتادے ،شاعری کے ساتھ ظلم اورفن شعرسے ناواقفیت کی دلیل ہے۔
علامہ اقبال کاشعرجس پرہنگامہ برپاہے
خدابندے سے خود پوچھے بتاتیری رضاکیاہے
اگرخود شعر کاذوق نہیں ہے تواقبال کے اشعار کی تفہیم وتشریح کرنے والے بھروسہ مند لوگ بہت مل جائیں گے ان سے معلوم کریں،کہ اس شعرمین علاقہ اقبال نے پیغام کیادیاہے؟کیاعلامہ اقبال کے اس شعر کا مطلب یہ ہے کہ خدابندہ سے اس کی مرضی پوچھنے کیلئے مجبورہوجاتاہے نعوذباللہ من ذلک!
اس شعر کا صاف اورسیدھامطلب یہ ہے کہ انسان اپنی خودی یعنی اطاعت الہی اورضبط نفس میں اس بلند مقام پر پہنچے کہ وہ اس صحیح حدیث کی تصویر بن جائے کہ لواقسم علی اللہ لابرہ کہ اگروہ کسی بات پر اللہ کی قسم کھالے تواللہ اس بات کو پوراکریں۔میں اس شعر کو جنتازیادہ پرھتاجاتاہوں اورعلاقہ اقبال کے دوسرے اشعار سے ملاکر اس شعر کو دیکھتاجاتاہے میرایقین بڑھتاجاتاہے کہ اس شعر کا مطلب وہی ہے جو اوپربیان کیاگیا۔نہ کہ وہ معنی جو کہ بزعم خود کچھ لوگ اس شعر سے نکالناچاہتے ہیں۔
اقبال مرحوم نے کبھی خواب میں بھی یہ نہیں سوچاہوگاکہ ایک دن ایساآئے گاجب اس کے کلام سے لوگ کفروشرک نکال رہے ہوں گے۔نعوذباللہ من سوء الفہم

سعد نظامی
15-06-10, 02:16 AM
بھائی ابھی آپ کو یہ شعر سمجھ نہیں آئے گا ۔ ابھی آپ آسان آسان نظمیں پڑھا کریں ۔ مثلا :

بول ميرے مرغے ککڑوں کڑوں ۔۔۔

يا پھر بلو كا بستہ وغیرہ وغیرہ ۔

:giggle:

محمد ارسلان
15-06-10, 10:08 AM
بھائی ابھی آپ کو یہ شعر سمجھ نہیں آئے گا ۔ ابھی آپ آسان آسان نظمیں پڑھا کریں ۔ مثلا :

بول ميرے مرغے ککڑوں کڑوں ۔۔۔

يا پھر بلو كا بستہ وغیرہ وغیرہ ۔


ہاہاہاہاہاہاہا

واہ سسٹر واہ

میں اب کوئی بچہ نہیں رہا جو یہ نظمیں پڑھوں ویسسے مجھے اب کہانیوں کا اور رسالے پرھنے کا شوق نہیں رہا

ویسے یہ نظم ہے کہاں۔

کمانڈر فہد
15-06-10, 02:37 PM
میرے مطابق اس شعر کا مفہوم کچھ یوں ہے کہ انسان اپنے آپ کو اللہ کی نظر میں بلند مرتبہ کر لے اور اللہ کی نظر میں بلند مرتبہ تقوی ہی سے حاصل کیا جا سکتا ہے ۔جب انسان بلند مرتبہ حاصل ہو گا تو اس کی خواہشات بھی اللہ کے احکامات کے تابع ہوں گی اور اللہ کی رضا ہی میں اس بندہ کی رضا ہو گی۔

رفی
15-06-10, 04:39 PM
میرے مطابق اس شعر کا مفہوم کچھ یوں ہے کہ انسان اپنے آپ کو اللہ کی نظر میں بلند مرتبہ کر لے اور اللہ کی نظر میں بلند مرتبہ تقوی ہی سے حاصل کیا جا سکتا ہے ۔جب انسان بلند مرتبہ حاصل ہو گا تو اس کی خواہشات بھی اللہ کے احکامات کے تابع ہوں گی اور اللہ کی رضا ہی میں اس بندہ کی رضا ہو گی۔

مگر یہ بات اس بحث میں حصہ لینے والے بعض دوستوں کو قبول نہیں ہے!

شاہد نزیر
16-06-10, 10:56 AM
السلام علیکم و رحمتہ اللہ!

ضروری وضاحت:
انتہائی افسوسناک بات ہے کہ میری بارہا وضاحت کے باوجو د بھی مجھ پر بلاوجہ فضول قسم کی تنقید کی جارہی ہے۔ اگر تبصرہ و تنقید کرنے سے پہلے میری سابقہ تحریروں کو پڑھ لیا جاتاتو شاید اس کی نوبت ہی نہ آتی ،لیکن جب مقصد ہی تنقید برائے تنقید ہوتو کسی کو کیا ضرورت ہے کہ میری پچھلی باتوں کو یاد رکھتا یا اگر یا د نہیں تھیں تو انہیں ایک نظر دوبارہ دیکھ لیتا۔ یاددہانی کے لئے مقرر عرض ہے کہ میرا مقصد علامہ اقبال کو گمراہ یا کافر ثابت کرنا ہر گز نہیں کیونکہ مجھے معلوم ہوا ہے کہ علامہ اقبال آخری عمر میں اپنے متنازعہ قسم کے اشعار پر نظر ثانی کر کے انہیں تبدیل کرنا چاہتے تھے لیکن زندگی نے مہلت نہ دی دوسرے لفظوں میں انہوں نے صوفیانہ (گستاخانہ)شاعری سے رجوع کر لیا تھا۔اسی لئے ان سے حسن ظن رکھتے ہوئے میں نے ان کی شخصیت کو تنقید کا نشانہ بنانے کے بجائے ان کے کفریہ ، گستاخانہ اور اسلامی تعلیمات کے خلاف اشعارپر اعتراض کیا ہے۔ اور اسکا سبب بھی صرف یہ ہے کہ جو لوگ اقبال کے ہر شعر کو اسلامی تعلیمات کے مطابق سمجھتے ہیں انکی غلط فہمی کودور کیا جاسکے۔ اس ضروری وضاحت کے بعد میری درخواست ہے کہ آیندہ مجھ پر یا میری تحریر پر اعتراض کرتے ہوئے انصاف کا دامن ہاتھوں سے نہ چھوڑیں۔شکریہ

شعر کو سمجھنے کےلئے درست رویہ:
کسی بھی شخص کی شاعری، کلام، نظریات، رویے کو سمجھنے کے لئے اس کی شخصیت کو سمجھنا بہت اہم اور ضروری بلکہ ناگزیر ہوتاہے۔اور اسکی شخصیت میں اسکا ماحول ، کردار اور اسکا مذہب وغیرہ سب کچھ آتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ شارحین نے شاعروں کے کردار، نظریات انکے مذہب پر بھی تفصیلی بحث کی ہے تاکہ انکی شاعری کے اصل پیغام کو درست طور پر سمجھا جا سکے۔ چونکہ علامہ اقبال کو اسلامی شاعر سمجھا جاتا ہے اسلئے انکے مذہبی رجحان کو سمجھے بغیر انکی شاعری پر تبصرہ کرنا فضول ہے۔ اصل میں یہاں بحث کرنے والے ساتھی اسی غلطی کو بار بار دہر ا رہے ہیں۔جیسے جمشید صاحب نے اقبال کے شعر (خودی کو کر بلند اتنا)کی تاویل کرتے ہوئے ایسے معنی ٰ بیان کئے ہیں کہ شعر کا ظاہر اس تاویل کی ہر گز تائید نہیں کرتا۔ کم ازکم ایسی تاویل تو ہو جو شعر کے ظاہر سے کچھ مطابقت رکھتی ہو۔ شعر کچھ اور تشریح و معنی ٰ کچھ، عجیب مذاق ہے!!! محترم جمشید صاحب آپ تنقید کرنے سے پہلے یہ بھول گئے کہ اقبال کی شاعری کوئی عشقیہ شاعری نہیں ہے جسے آپ محض احساسات اور جذبات کی مصوری کا نام دے کر جان چھڑالیں بلکہ اقبال اپنی شاعری کے زریعہ اسلام کی ترجمانی کر رہےہیں۔ اور انکے اس زیر بحث شعر کو سمجھنے کے لئے انکے مذہبی رجحان کا علم ضروری ہے ۔ سابقہ صفحات میں ، میں یہ ثابت کر چکا ہوں کہ اقبال صوفی تھے اور انکی شاعری میں تصوف کا رنگ بہت گہرا ہے۔

شعر کا صحیح مفہوم:
اگر اس شعر کے الفاظ (خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے خدا بندے سے خود پوچھے کہ بتا تیری رضا کیا ہے) کو دیکھیں اور اقبال کے صوفیانہ عقیدہ کو تو مطلب بہت آسانی سے سمجھ میں آجاتا ہے اور اس کے لئے کسی بھونڈی تاویل کی ضرورت بھی نہیں پڑتی۔ صوفیوں کی طرح اقبال بھی اس شعر کے زریعہ یہ پیغام دے رہے ہیں کہ دین میں مسلسل محنت کے زریعہ ایک نیک بندہ اس مقام تک پہنچ سکتا ہے جہاں اللہ اسکی پسند کا پابند ہوجائے اور اسکی تقدیر کا فیصلہ اسکی مرضی کے بغیر نہ کرے(نعوذ باللہ من ذالک) میری بیان کردہ اس تشریح کی تائید اس شعر کے ظاہری الفاظ بھی کرتے ہیں اور اقبال کا مذہبی رجحان بھی۔ اگر کسی کو میری بیان کردہ تشریح پر اعتراض ہے تو وہ اس شعر کی ایسی تاویل کرے جو اسکے ظاہر ی الفاظ سے مطابقت رکھتی ہو اور یہ ثابت کردے کہ اقبال تصوف سے متاثر نہیں تھے۔تصوف اور صوفیوں کی کتابوں میں لکھے واقعات اگر کوئی شخص پڑھ لے تو وہ مزید بہتر طریقہ سے اقبال کے اس شعر کو سمجھ سکتا ہے۔ صوفیوں کے واقعات پڑھ کر پتا چلتا ہے کہ یہ لوگ اللہ کی صفات جیسی صفات رکھتے ہیں،کائنات میں تصرف رکھتے ہیں ، غیب جان لیتے ہیں ، اولاد دیتے ہیں، رزق دیتے ہیں، موت و حیات کے مالک ہیں پھر تقدیر کے لئے اللہ کو مجبور کرنا ان کے لئے کونسامشکل کام ہے۔(نعوذباللہ من ذالک) جمشید صاحب سے گزارش ہے کہ ایک مرتبہ پھر کوشش کریں۔

بہن عین نے بھی محض خودی کے معنیٰ بیان کئے ہیں۔ جس سے مسئلہ حل نہیں ہوتا۔ چاہے آپ خودی کے معنی ٰ کچھ بھی کر لیں لیکن آپ جب پورے شعر کی تشریح کرینگی تو مفہوم وہی نکلے گا جو میں بیان کر رہا ہوں ۔ یہ بھی یاد رکھیں کہ بحث خودی پر نہیں بلکہ پورے شعر کے مفہوم پر ہو رہی ہے۔(خدا بندہ سے خود پوچھے کہ بتا تیری رضا کیا ہے) اگر اس جملہ کی آپ کو ئی اچھی تاویل کر سکتی ہیں تو بات ہماری بھی سمجھ میں آئے گی ۔ ورنہ صرف اپنے خیالات پیش کرنا ، کوئی معقول دلیل پیش نہ کرنا اور یہ کہنے سے کام چلانا کہ یہ شعر ابھی آپ کی سمجھ میں نہیں آئے گا ، آپ آسان نظمیں پڑھیں درست رویہ نہیں ہے۔

میں محترم اور پیارے محمد ارسلان بھائی کا احسان مند اور شکر گزار ہوں جنھوں نے میری غیر موجودگی میں میرا بھر پور دفاع کیا۔ اللہ آپکو جزائے خیر دے۔ آمین

رفی
16-06-10, 12:51 PM
السلام علیکم و رحمتہ اللہ!



شعر کا صحیح مفہوم:
صوفیوں کی طرح اقبال بھی اس شعر کے زریعہ یہ پیغام دے رہے ہیں کہ دین میں مسلسل محنت کے زریعہ ایک نیک بندہ اس مقام تک پہنچ سکتا ہے جہاں اللہ اسکی پسند کا پابند ہوجائے اور اسکی تقدیر کا فیصلہ اسکی مرضی کے بغیر نہ کرے(نعوذ باللہ من ذالک) میری بیان کردہ اس تشریح کی تائید اس شعر کے ظاہری الفاظ بھی کرتے ہیں اور اقبال کا مذہبی رجحان بھی۔ اگر کسی کو میری بیان کردہ تشریح پر اعتراض ہے تو وہ اس شعر کی ایسی تاویل کرے جو اسکے ظاہر ی الفاظ سے مطابقت رکھتی ہو اور یہ ثابت کردے کہ اقبال تصوف سے متاثر نہیں تھے۔

و علیکم السلام

دین میں مسلسل محنت کے زریعہ ایک نیک بندہ اس مقام تک پہنچ سکتا ہے جہاں اللہ اسکی پسند کا پابند ہوجائے اور اسکی تقدیر کا فیصلہ اسکی مرضی کے بغیر نہ کرے۔

میرا بھی اس شعر کی تشریح کے بارے میں یہی خیال ہے مگر ایک باریک نکتہ اسے آپکے اور میرے موقف کے درمیان فرق پیدا کر دیتا ہے وہ ہے صرف یہ جملہ "جہاں اللہ اسکی پسند کا پابند ہوجائے"۔

میرے مطابق یہ تشریح یوں ہے:

دین میں مسلسل محنت کے زریعہ ایک نیک بندہ اس مقام تک پہنچ سکتا ہے جہاں اللہ اسکی پسند اور اسکی تقدیر کا فیصلہ اسکی مرضی کے بغیر نہ کرے۔
باقی آپ سورۃ فجر آیہ 27 اور 28 کا ترجمہ دیکھ لیں۔

سجاد
16-06-10, 01:15 PM
جناب رفی بھائی
آپ کا نقطہ نظر بالکل ٹھیک ہے ۔بلکہ اقبال اس سے بھی آگے تھے ۔جو احباب اقبال کے کلام کو نہیں سمجھ پاتے وہ اس میں میخیں نکالتے ہیں اور یہ ان کا حق ہے ۔لیکن اعتراض کرنے والوں سے میرا مشورہ یہ ہے کہ وہ اقبال کو پہلے اچھی طرح پڑھیں پھر کوئی بات کریں ۔
یہ جو خودی کو کر بلند اتنا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔
میں بات سمجانے کی کوشش کی گئی ہے وہ ایک حدیث کی تشریح ہےجس کا مفہوم یہ ہے کہ جب بندہ مومن اللہ کے قریب ہوتا ہے اللہ تعالیٰ فرما تا ہے کہ میں اس کا ہاتھ نب جاتا ہوں جس سے وہ پکرتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اور حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کا ایک شعر ہے جس کا آخری مصرہ ہے
کانک قد خلقت کما تشائ
یعنی آپ گویا کہ آپ صلی اللہ علیہ کی تخلیق اس طرح ہوئی ہے کس طرح آپ نے چاہا۔
المختصر یہ کہ اس پر بات ہو سکتی ہے اگر کوئی سمجھنا چاہے ورنہ معذرت

شاہد نزیر
16-06-10, 01:43 PM
و علیکم السلام



میرا بھی اس شعر کی تشریح کے بارے میں یہی خیال ہے مگر ایک باریک نکتہ اسے آپکے اور میرے موقف کے درمیان فرق پیدا کر دیتا ہے وہ ہے صرف یہ جملہ "جہاں اللہ اسکی پسند کا پابند ہوجائے"۔

میرے مطابق یہ تشریح یوں ہے:

دین میں مسلسل محنت کے زریعہ ایک نیک بندہ اس مقام تک پہنچ سکتا ہے جہاں اللہ اسکی پسند اور اسکی تقدیر کا فیصلہ اسکی مرضی کے بغیر نہ کرے۔
باقی آپ سورۃ فجر آیہ 27 اور 28 کا ترجمہ دیکھ لیں۔

السلام علیکم و رحمتہ اللہ!

رفی بھائی میں آپکی اس تشریح سے سو فیصد متفق ہوں۔ میرے الفاظ تھوڑے سے مختلف ضرور ہیں لیکن مراد یہی ہے جو آپ نے بیان کی ہے۔ لہذا ہمارے موقف میں باریک سا بھی فرق نہیں۔ جزاک اللہ خیر

رفی
16-06-10, 02:21 PM
السلام علیکم و رحمتہ اللہ!

رفی بھائی میں آپکی اس تشریح سے سو فیصد متفق ہوں۔ میرے الفاظ تھوڑے سے مختلف ضرور ہیں لیکن مراد یہی ہے جو آپ نے بیان کی ہے۔ لہذا ہمارے موقف میں باریک سا بھی فرق نہیں۔ جزاک اللہ خیر

و علیکم السلام
تو بھائی اگر یہی تشریح ہے تو اس میں توحید سے تصادم کا پہلو کہاں سے آ گیا؟

شاہد نزیر
16-06-10, 02:32 PM
جناب رفی بھائی
آپ کا نقطہ نظر بالکل ٹھیک ہے ۔بلکہ اقبال اس سے بھی آگے تھے ۔جو احباب اقبال کے کلام کو نہیں سمجھ پاتے وہ اس میں میخیں نکالتے ہیں اور یہ ان کا حق ہے ۔لیکن اعتراض کرنے والوں سے میرا مشورہ یہ ہے کہ وہ اقبال کو پہلے اچھی طرح پڑھیں پھر کوئی بات کریں ۔
یہ جو خودی کو کر بلند اتنا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔
میں بات سمجانے کی کوشش کی گئی ہے وہ ایک حدیث کی تشریح ہےجس کا مفہوم یہ ہے کہ جب بندہ مومن اللہ کے قریب ہوتا ہے اللہ تعالیٰ فرما تا ہے کہ میں اس کا ہاتھ نب جاتا ہوں جس سے وہ پکرتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اور حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کا ایک شعر ہے جس کا آخری مصرہ ہے
کانک قد خلقت کما تشائ
یعنی آپ گویا کہ آپ صلی اللہ علیہ کی تخلیق اس طرح ہوئی ہے کس طرح آپ نے چاہا۔
المختصر یہ کہ اس پر بات ہو سکتی ہے اگر کوئی سمجھنا چاہے ورنہ معذرت

السلام علیکم و رحمتہ اللہ!

جی سجاد بھائی ہم سمجھنے ہی کے لئے بحث کر رہے ہیں اگر آپ ہمیں معقول دلیل سے سمجھا سکیں تو ہمیں خوشی ہوگی۔
اقبال پر بات کرنے کے لئے ضروری نہیں ہے کہ انکی پوری شاعری اور ان پر لکھی گئی تمام کتب کا مطالعہ کیا جائے۔ اقبال کا جو شعر زیر بحث ہے اس میں کوئی ایسی پیچیدگی نہیں ہے کہ اس کو سمجھنے کے لئے ماہرین کو بٹھانا پڑےصرف اتنا جان لینا کافی ہے کہ اقبال مذہب میں کس قسم کے عقائد و نظریات رکھتے تھے۔ اس کے بعد شعر کو سمجھنے میں کوئی مشکل نہیں ہے۔ ویسے میں اس پر تفصیلی بحث کر چکا ہوں اگر آپ سابقہ پوسٹس پڑھ لیں تو آپ کو ہمیں سمجھانے میں اور ہمیں آپکو سمجھنے میں آسانی ہو جائیگی۔اسکے علاوہ یہ واحد شعر نہیں ہے جس پر مجھے اعتراض ہو اسکے علاوہ بھی قابل اعتراض اشعارہیں جنکا تذکرہ پچھلے صفحات میں موجود ہے ۔اگر ان پر بھی آپ تبصرہ کریں تو اچھی بات ہے۔

اب زرا آپ کی بیان کردہ تشریح پر تھوڑی بات کرلیں۔محترم کیا میں پوچھ سکتا ہوں کہ آپ کی بیان کردہ حدیث اور اقبال کے شعر میں مطابقت اور مماثلت کیا ہے؟!!! کس بنیاد پر آپ نے اقبال کے شعرکو اس حدیث کا مصداق قرار دیا ہے؟

اور دوسرا آپ نے حصان بن ثابت رضی اللہ عنہ کے شعر کا جو مصرع زکر کیا ہے اس میں گویا کا لفظ بتارہا ہے کہ اس سے حقیقی معنی ٰ مراد نہیں ہیں۔ لہذا آپ اس کو خودی والے شعر کے ساتھ نہیں جوڑ سکتے ۔ اگر یہ شعر اپنے حقیقی معنوں میں ہوتا تو یقینا آپکا موقف مضبوط ہو جاتا اور آپ اس شعر پر قیاس کر کے اقبال کے شعر کی اچھی تاویل کر سکتے تھے۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ اقبال کا شعراپنے حقیقی معنوں پر ہے اور یہ شعرمجازی معنوں پر۔

آپکے جواب کا انتظار رہے گا۔ والسلام

محمد ارسلان
16-06-10, 02:40 PM
السلام علیکم و رحمتہ اللہ!

ضروری وضاحت:
انتہائی افسوسناک بات ہے کہ میری بارہا وضاحت کے باوجو د بھی مجھ پر بلاوجہ فضول قسم کی تنقید کی جارہی ہے۔ اگر تبصرہ و تنقید کرنے سے پہلے میری سابقہ تحریروں کو پڑھ لیا جاتاتو شاید اس کی نوبت ہی نہ آتی ،لیکن جب مقصد ہی تنقید برائے تنقید ہوتو کسی کو کیا ضرورت ہے کہ میری پچھلی باتوں کو یاد رکھتا یا اگر یا د نہیں تھیں تو انہیں ایک نظر دوبارہ دیکھ لیتا۔ یاددہانی کے لئے مقرر عرض ہے کہ میرا مقصد علامہ اقبال کو گمراہ یا کافر ثابت کرنا ہر گز نہیں کیونکہ مجھے معلوم ہوا ہے کہ علامہ اقبال آخری عمر میں اپنے متنازعہ قسم کے اشعار پر نظر ثانی کر کے انہیں تبدیل کرنا چاہتے تھے لیکن زندگی نے مہلت نہ دی دوسرے لفظوں میں انہوں نے صوفیانہ (گستاخانہ)شاعری سے رجوع کر لیا تھا۔اسی لئے ان سے حسن ظن رکھتے ہوئے میں نے ان کی شخصیت کو تنقید کا نشانہ بنانے کے بجائے ان کے کفریہ ، گستاخانہ اور اسلامی تعلیمات کے خلاف اشعارپر اعتراض کیا ہے۔ اور اسکا سبب بھی صرف یہ ہے کہ جو لوگ اقبال کے ہر شعر کو اسلامی تعلیمات کے مطابق سمجھتے ہیں انکی غلط فہمی کودور کیا جاسکے۔ اس ضروری وضاحت کے بعد میری درخواست ہے کہ آیندہ مجھ پر یا میری تحریر پر اعتراض کرتے ہوئے انصاف کا دامن ہاتھوں سے نہ چھوڑیں۔شکریہ

شعر کو سمجھنے کےلئے درست رویہ:
کسی بھی شخص کی شاعری، کلام، نظریات، رویے کو سمجھنے کے لئے اس کی شخصیت کو سمجھنا بہت اہم اور ضروری بلکہ ناگزیر ہوتاہے۔اور اسکی شخصیت میں اسکا ماحول ، کردار اور اسکا مذہب وغیرہ سب کچھ آتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ شارحین نے شاعروں کے کردار، نظریات انکے مذہب پر بھی تفصیلی بحث کی ہے تاکہ انکی شاعری کے اصل پیغام کو درست طور پر سمجھا جا سکے۔ چونکہ علامہ اقبال کو اسلامی شاعر سمجھا جاتا ہے اسلئے انکے مذہبی رجحان کو سمجھے بغیر انکی شاعری پر تبصرہ کرنا فضول ہے۔ اصل میں یہاں بحث کرنے والے ساتھی اسی غلطی کو بار بار دہر ا رہے ہیں۔جیسے جمشید صاحب نے اقبال کے شعر (خودی کو کر بلند اتنا)کی تاویل کرتے ہوئے ایسے معنی ٰ بیان کئے ہیں کہ شعر کا ظاہر اس تاویل کی ہر گز تائید نہیں کرتا۔ کم ازکم ایسی تاویل تو ہو جو شعر کے ظاہر سے کچھ مطابقت رکھتی ہو۔ شعر کچھ اور تشریح و معنی ٰ کچھ، عجیب مذاق ہے!!! محترم جمشید صاحب آپ تنقید کرنے سے پہلے یہ بھول گئے کہ اقبال کی شاعری کوئی عشقیہ شاعری نہیں ہے جسے آپ محض احساسات اور جذبات کی مصوری کا نام دے کر جان چھڑالیں بلکہ اقبال اپنی شاعری کے زریعہ اسلام کی ترجمانی کر رہےہیں۔ اور انکے اس زیر بحث شعر کو سمجھنے کے لئے انکے مذہبی رجحان کا علم ضروری ہے ۔ سابقہ صفحات میں ، میں یہ ثابت کر چکا ہوں کہ اقبال صوفی تھے اور انکی شاعری میں تصوف کا رنگ بہت گہرا ہے۔

شعر کا صحیح مفہوم:
اگر اس شعر کے الفاظ (خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے خدا بندے سے خود پوچھے کہ بتا تیری رضا کیا ہے) کو دیکھیں اور اقبال کے صوفیانہ عقیدہ کو تو مطلب بہت آسانی سے سمجھ میں آجاتا ہے اور اس کے لئے کسی بھونڈی تاویل کی ضرورت بھی نہیں پڑتی۔ صوفیوں کی طرح اقبال بھی اس شعر کے زریعہ یہ پیغام دے رہے ہیں کہ دین میں مسلسل محنت کے زریعہ ایک نیک بندہ اس مقام تک پہنچ سکتا ہے جہاں اللہ اسکی پسند کا پابند ہوجائے اور اسکی تقدیر کا فیصلہ اسکی مرضی کے بغیر نہ کرے(نعوذ باللہ من ذالک) میری بیان کردہ اس تشریح کی تائید اس شعر کے ظاہری الفاظ بھی کرتے ہیں اور اقبال کا مذہبی رجحان بھی۔ اگر کسی کو میری بیان کردہ تشریح پر اعتراض ہے تو وہ اس شعر کی ایسی تاویل کرے جو اسکے ظاہر ی الفاظ سے مطابقت رکھتی ہو اور یہ ثابت کردے کہ اقبال تصوف سے متاثر نہیں تھے۔تصوف اور صوفیوں کی کتابوں میں لکھے واقعات اگر کوئی شخص پڑھ لے تو وہ مزید بہتر طریقہ سے اقبال کے اس شعر کو سمجھ سکتا ہے۔ صوفیوں کے واقعات پڑھ کر پتا چلتا ہے کہ یہ لوگ اللہ کی صفات جیسی صفات رکھتے ہیں،کائنات میں تصرف رکھتے ہیں ، غیب جان لیتے ہیں ، اولاد دیتے ہیں، رزق دیتے ہیں، موت و حیات کے مالک ہیں پھر تقدیر کے لئے اللہ کو مجبور کرنا ان کے لئے کونسامشکل کام ہے۔(نعوذباللہ من ذالک) جمشید صاحب سے گزارش ہے کہ ایک مرتبہ پھر کوشش کریں۔

بہن عین نے بھی محض خودی کے معنیٰ بیان کئے ہیں۔ جس سے مسئلہ حل نہیں ہوتا۔ چاہے آپ خودی کے معنی ٰ کچھ بھی کر لیں لیکن آپ جب پورے شعر کی تشریح کرینگی تو مفہوم وہی نکلے گا جو میں بیان کر رہا ہوں ۔ یہ بھی یاد رکھیں کہ بحث خودی پر نہیں بلکہ پورے شعر کے مفہوم پر ہو رہی ہے۔(خدا بندہ سے خود پوچھے کہ بتا تیری رضا کیا ہے) اگر اس جملہ کی آپ کو ئی اچھی تاویل کر سکتی ہیں تو بات ہماری بھی سمجھ میں آئے گی ۔ ورنہ صرف اپنے خیالات پیش کرنا ، کوئی معقول دلیل پیش نہ کرنا اور یہ کہنے سے کام چلانا کہ یہ شعر ابھی آپ کی سمجھ میں نہیں آئے گا ، آپ آسان نظمیں پڑھیں درست رویہ نہیں ہے۔

میں محترم اور پیارے محمد ارسلان بھائی کا احسان مند اور شکر گزار ہوں جنھوں نے میری غیر موجودگی میں میرا بھر پور دفاع کیا۔ اللہ آپکو جزائے خیر دے۔ آمین


وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکتہ۔

جناب احسان کی کوئی بات نہیں ہے آپ میرے بڑے بھائی ہیں آپ کے دلائل آموز باتیں مجھے بہت پسند ہیں کیونکہ میں شخصیت پرست نہیں ہوں اللہ کے کرم سے

آپ کے دلائل سے پہلے میں بھی اقبال کی شاعری کو بہت پسند کرتا تھا اور یہ کہتا تھا کہ اقبال جیسا کوئی شاعر نہیں لیکن جب سے آپ کے دلائل پڑھے ہیں اور آپ نے انتہائی مدلل انداز میں اقبال کے عقائد اور شاعری میں صوفیت ثابت کی تو اس دن سے مجھے اس کی شاعری پر اعتبار نہیں رہا میں نے پہلے بھی ایک مرتبہ کہا تھا کہ جس کی جو بات غلط ہے اس کو غلط سمجھو ۔لیکن نہیں یہاں اقبال کی شاعری کو صحیح ثابت کرنے کے لئے دلائل پر دلائل دئے جا رہے ہیں خیر اپنی رائے دینا ان کا حق ہے۔


جناب رفی بھائی
آپ کا نقطہ نظر بالکل ٹھیک ہے ۔بلکہ اقبال اس سے بھی آگے تھے ۔جو احباب اقبال کے کلام کو نہیں سمجھ پاتے وہ اس میں میخیں نکالتے ہیں اور یہ ان کا حق ہے ۔لیکن اعتراض کرنے والوں سے میرا مشورہ یہ ہے کہ وہ اقبال کو پہلے اچھی طرح پڑھیں پھر کوئی بات کریں ۔
یہ جو خودی کو کر بلند اتنا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔
میں بات سمجانے کی کوشش کی گئی ہے وہ ایک حدیث کی تشریح ہےجس کا مفہوم یہ ہے کہ جب بندہ مومن اللہ کے قریب ہوتا ہے اللہ تعالیٰ فرما تا ہے کہ میں اس کا ہاتھ نب جاتا ہوں جس سے وہ پکرتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اور حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کا ایک شعر ہے جس کا آخری مصرہ ہے
کانک قد خلقت کما تشائ
یعنی آپ گویا کہ آپ صلی اللہ علیہ کی تخلیق اس طرح ہوئی ہے کس طرح آپ نے چاہا۔
المختصر یہ کہ اس پر بات ہو سکتی ہے اگر کوئی سمجھنا چاہے ورنہ معذرت

واہ جی واہ یہ کیا بات کہی آپ نے کہ اقبال کی شاری کو سمجھ نہیں سکتے اچھا میں اقبال کی شاعری کا ایک شعر ہے شکوہ میں

شکوہ اللہ سے خاکم بدہن ہے مجھ کو۔

استغفراللہ استغفراللہ نعوذباللہ

اور کتاب میں لکھا تھا کہ اقبال نے مسلمانوں کی حالت زاری پر یہ شکوہ کیا ہے

تو مجھے بتائیے کیا اللہ کے ساتھ ایسے لہجے میں بات کرنا کون سی عقلمندی ہے۔

میں یہ کہتا ہوں کہ اگر کسی نے غلط بات کی ہے تو غلط مانو یہ نا ہو کہ آپ اس کی غلط بات کے حق میں دلائل دینے لگ جاو

جیسے کہ شیطان نے کیا تھا ایک تو اللہ کا حکم نا مانا اوپر سے کہنے لگا میں تو آگ کا بنا ہوں یہ مٹی کا بنا ہے


نعوذباللہ

اللہ تعالیٰ ہم سب کو قرآن و حدیث پر عمل کرنے کی توفیق نصیب فرمائے آمین۔

Gest In Middle East
23-06-10, 11:36 PM
ہاں یہ نظم میں مجلس اطفال میں پوسٹ کرتی ہوں ابھی ۔

کیا اس نظم کا لنک مل سکتا ہے ؟

عبدل
29-06-10, 11:45 PM
یہ مراسلہ یہاں (http://www.urduvb.com/forum/showthread.php?t=10702) سے اس موضوع ميں منتقل كيا گیا ، براہ كرم ايك موضوع پر بحث كو ہر دھاگے ميں پھیلانے سے اجتناب كريں __ انتظاميہ اردو مجلس

نگاہ مرد مومن سے بدل جاتی ھیں تقدیرین
جو ھو ذوق یقین پیدا تو کٹ جاتین ھین زنجیرین
عللامہ اقبال کا یہ شعر شرکیہ ھے-
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نگاہ ھی ابو طالب پر نہ تھی بلکہ دعا بھی کی تھی لیکن اللہ نے تقدیر نہین بدلی-
دوسری بات عللامہ کتنا دیندار تھا اس کا اس بات سے اندازہ ھوتا ھے کہ اپنے بیٹے جاوید کی تربیت کے لیے جرمن کی عسائی عورت رکھی تھی-اور کود عللامہ اقبال وکیل تھا انگریز کے نظام کا-

محمد ارسلان
30-06-10, 03:29 PM
نگاہ مرد مومن سے بدل جاتی ھیں تقدیرین
جو ھو ذوق یقین پیدا تو کٹ جاتین ھین زنجیرین
عللامہ اقبال کا یہ شعر شرکیہ ھے-
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نگاہ ھی ابو طالب پر نہ تھی بلکہ دعا بھی کی تھی لیکن اللہ نے تقدیر نہین بدلی-
دوسری بات عللامہ کتنا دیندار تھا اس کا اس بات سے اندازہ ھوتا ھے کہ اپنے بیٹے جاوید کی تربیت کے لیے جرمن کی عسائی عورت رکھی تھی-اور کود عللامہ اقبال وکیل تھا انگریز کے نظام کا-

بھائی میں آپ کی باتوں سے بلکل متفق ہوں۔

اقبال کیا تھا کیا نہیں تھا مجھے اس سے کوئی لینا دینا نہیں ہے

البتہ اقبال کے بہت سارے شعر توحید کے خلاف ہیں

جیسے آپ نے اس شعر کی بات کی میں آپ کی باتوں سے متفق ہوں۔

ام نور العين
30-06-10, 06:10 PM
یہ مراسلہ یہاں (http://www.urduvb.com/forum/showthread.php?t=10702) سے اس موضوع ميں منتقل كيا گیا ، براہ كرم ايك موضوع پر بحث كو ہر دھاگے ميں پھیلانے سے اجتناب كريں __ انتظاميہ اردو مجلس

نگاہ مرد مومن سے بدل جاتی ھیں تقدیرین
جو ھو ذوق یقین پیدا تو کٹ جاتین ھین زنجیرین
عللامہ اقبال کا یہ شعر شرکیہ ھے-
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نگاہ ھی ابو طالب پر نہ تھی بلکہ دعا بھی کی تھی لیکن اللہ نے تقدیر نہین بدلی-
دوسری بات عللامہ کتنا دیندار تھا اس کا اس بات سے اندازہ ھوتا ھے کہ اپنے بیٹے جاوید کی تربیت کے لیے جرمن کی عسائی عورت رکھی تھی-اور کود عللامہ اقبال وکیل تھا انگریز کے نظام کا-

محترم عبد الخالق صاحب

پہلی بات : يہ اقبال كا ايك شعر نہیں، دو الگ الگ شعروں کے مصرعے ہیں ۔

دوسرى بات: یہ شركيہ كيسے ہیں ذرا وضاحت فرمائيے ؟

تيسرى بات: کود عللامہ اقبال وکیل تھا انگریز کے نظام کا اس تاريخى انكشاف كا كوئى حوالہ ؟

عبدل
30-06-10, 08:31 PM
بہت اچھا جواب دیا ھے

عبدل
30-06-10, 08:39 PM
محترمہ عین صاحبہ تقدیر بدلنے کا اختیار صرف اللہ کے پاس ھے اگر کوئی یہ عقیدہ رکھے کہ مرد مومن تقدیر بدل سکتا ھے تو یہ اللہ کے ساتھ برابری ھے برابری ھی شرک ھوتا ھے

عبدل
30-06-10, 08:40 PM
ارسلان بھائی آپ کہاں سے ھیں

عبدل
30-06-10, 08:47 PM
اقبال کی تربیت کا اثر ھے کے اس کا بیٹا شراب کو حلال کہتا ھے اور خود اقبال بھی پیر پرست تھا شیر ربانی کا مرید تھا-

جاسوس
30-06-10, 11:46 PM
یہ مراسلہ یہاں (http://www.urduvb.com/forum/showthread.php?t=10702) سے اس موضوع ميں منتقل كيا گیا ، براہ كرم ايك موضوع پر بحث كو ہر دھاگے ميں پھیلانے سے اجتناب كريں __ انتظاميہ اردو مجلس

نگاہ مرد مومن سے بدل جاتی ھیں تقدیرین
جو ھو ذوق یقین پیدا تو کٹ جاتین ھین زنجیرین
عللامہ اقبال کا یہ شعر شرکیہ ھے-
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نگاہ ھی ابو طالب پر نہ تھی بلکہ دعا بھی کی تھی لیکن اللہ نے تقدیر نہین بدلی-
دوسری بات عللامہ کتنا دیندار تھا اس کا اس بات سے اندازہ ھوتا ھے کہ اپنے بیٹے جاوید کی تربیت کے لیے جرمن کی عسائی عورت رکھی تھی-اور کود عللامہ اقبال وکیل تھا انگریز کے نظام کا-

اگر آپ سیاق و سباق سے ہٹ کر مصرعوں پر توجہ دیں گے تو ککھ پلے نہیں پڑے گا، اصل اشعار یوں ہیں

غلامی میں نہ کام آتی ہیں شمشیریں نہ تدبیریں
جو ہو ذوق یقیں پیدا تو کٹ جاتی ہیں‌ زنجیریں
کوئی اندازہ کر سکتا ہے اس کے زور بازو کا
نگاہ مرد مومن سے بدل جاتی ہیں تقدیریں

اب اس میں پہلا شعر
غلامی میں نہ کام آتی ہیں شمشیریں نہ تدبیریں
جو ہو ذوق یقیں پیدا تو کٹ جاتی ہیں‌ زنجیریں
آپ بھی اتفاق کریں گے کہ اس میں کچھ بھی قابلِ اعتراض نہیں ہے! ایک واضح حقیقت بیان کی گئی ہے جس کا سامنا ہمیں آج کے دور میں بھی ہے۔

دوسرا شعر
کوئی اندازہ کر سکتا ہے اس کے زور بازو کا
نگاہ مرد مومن سے بدل جاتی ہیں تقدیریں

اس کو سمجھنے کے لئے پہلے مومن کی تعریف جاننا ضروری ہے، اور اس کو بے شمار خصوصیات کے ساتھ ڈیفائن کیا جا سکتا ہے، میرے نزدیک تو مومن کی معراج صرف اور صرف اللہ پر توکل کرنا ہے، پہلے مصرعے میں زورِ بازو سے مراد اسباب و وسائل ہیں اگر ان کے استعمال کے ساتھ ساتھ اللہ پر بھروسا ہو تو اللہ کبھی مایوس نہیں کرتا، یقین کے ساتھ آزمائش شرط ہے۔ تو پھر کیسے کہہ سکتے ہیں کہ مومن تقدیر نہیں بدل سکتا؟

باقی بھائیو تنقید بے شک کرو، کھل کر کرو لیکن سورہ العمران آیہ 59 میں رسولِ کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے خطاب کرتے ہوئے اللہ کا یہ فرمان بھی ذہن نشین رکھیں کہ "یہ اللہ تعالٰی کی رحمت کا کرشمہ ہے کہ آپ ان پر نرم دل ہیں اور اگر آپ ترش رو اور سخت دل ہوتے تو یہ سب آپ کے اردگرد سے چھٹ جاتے لہذاٰ آپ ان کے ساتھ درگزر کا برتاؤ کریں اور ان کے لئے مغفرت و بخشش کی دعائیں کریں ۔۔۔۔۔الخ" یہ ہے ایک سچے مبلغ کی اصل خوبی، بھائیو کیا آپ اس طرح دوسروں کی دل آزاری کر کے دین کی خدمت کر رہے ہیں یا صرف اپنی ذاتی انا کی تسکین؟

جاسوس
01-07-10, 12:37 AM
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکتہ۔

جناب احسان کی کوئی بات نہیں ہے آپ میرے بڑے بھائی ہیں آپ کے دلائل آموز باتیں مجھے بہت پسند ہیں کیونکہ میں شخصیت پرست نہیں ہوں اللہ کے کرم سے

آپ کے دلائل سے پہلے میں بھی اقبال کی شاعری کو بہت پسند کرتا تھا اور یہ کہتا تھا کہ اقبال جیسا کوئی شاعر نہیں لیکن جب سے آپ کے دلائل پڑھے ہیں اور آپ نے انتہائی مدلل انداز میں اقبال کے عقائد اور شاعری میں صوفیت ثابت کی تو اس دن سے مجھے اس کی شاعری پر اعتبار نہیں رہا میں نے پہلے بھی ایک مرتبہ کہا تھا کہ جس کی جو بات غلط ہے اس کو غلط سمجھو ۔لیکن نہیں یہاں اقبال کی شاعری کو صحیح ثابت کرنے کے لئے دلائل پر دلائل دئے جا رہے ہیں خیر اپنی رائے دینا ان کا حق ہے۔




واہ جی واہ یہ کیا بات کہی آپ نے کہ اقبال کی شاری کو سمجھ نہیں سکتے اچھا میں اقبال کی شاعری کا ایک شعر ہے شکوہ میں

شکوہ اللہ سے خاکم بدہن ہے مجھ کو۔

استغفراللہ استغفراللہ نعوذباللہ

اور کتاب میں لکھا تھا کہ اقبال نے مسلمانوں کی حالت زاری پر یہ شکوہ کیا ہے

تو مجھے بتائیے کیا اللہ کے ساتھ ایسے لہجے میں بات کرنا کون سی عقلمندی ہے۔

میں یہ کہتا ہوں کہ اگر کسی نے غلط بات کی ہے تو غلط مانو یہ نا ہو کہ آپ اس کی غلط بات کے حق میں دلائل دینے لگ جاو

جیسے کہ شیطان نے کیا تھا ایک تو اللہ کا حکم نا مانا اوپر سے کہنے لگا میں تو آگ کا بنا ہوں یہ مٹی کا بنا ہے


نعوذباللہ

اللہ تعالیٰ ہم سب کو قرآن و حدیث پر عمل کرنے کی توفیق نصیب فرمائے آمین۔
محترم ناظم صاحب

یہاں پر آپ اس پر اعتراض:
شکوہ اللہ سے خاکم بدہن ہے مجھ کو۔

اور یہاں پر آپ خود قسمت کا گلہ کر رہے ہیں:

قسمت کے مارے - صفحہ 5 - URDU MAJLIS FORUM (http://www.urduvb.com/forum/showthread.php?t=12307&page=5)

قسمت تو آپ کی اللہ نے ہی لکھی ہے اور قسمت کے مارے کا مطلب کیا ہوا، یہی کہ جن پر اللہ نے ظلم کیا، نعوذ باللہ، ، ،

مانتا ہوں کہ آپ کے کہنے کے مطابق تھریڈ آپ نے شروع نہیں کیا، بلکہ آپ کی پوسٹ سے شروع ہوا، پھر بھی آپ کی اس میں بھر پور دلچسپی اور عنوان پر تاحال کوئی اعتراض نہ کرنے پر آپ کی رضامندی کا اظہار ہے، ، ، یعنی آپ کو بھی اللہ سے شکوہ تو ہے، اقبال بے چارے نے تو منافقت سے بچتے ہوئے سیدھا کہہ دیا، اور آپ، ، ،

اوہ سوری سوری میرے یہ حروف حذف کر دیئے جائیں گے، ، ، ناظم سے پنگا از ناٹ چنگا، ، ، بٹ یار سچائی چھپ نہیں سکتی بناوٹ کے اصولوں سے ، ، ،

ہاں ناظم چاہے جو بھی کہتا پھرے، چاہے اسے سنو مین جاندار نظر آئے یا مرغا بنتے ہوئے سر جھکانا شرک لگے، ، ،

أبو عبدالله
01-07-10, 01:54 AM
السلام علیکم /--
اقبال کی تربیت کا اثر ھے کے اس کا بیٹا شراب کو حلال کہتا ھے اور خود اقبال بھی پیر پرست تھا شیر ربانی کا مرید تھا-
بھائی عبدل ۔۔!‌ مجھے صرف اس پر اعتراض ہے کہ آپ کوئی بھی بات منہ سے نکالنے سے پہلے اس کی تصدیق ضرور کر لیں‌۔ کیونکہ کل کو اللہ کو جواب دینا ہے ۔ اقبال پیر پرست تھا ، سیر ربانی کا مرید تھا ۔ بیٹا شراب کو حلال کہتا ہے وغیرہ ۔ان سب باتوں‌کے لیے آپ کے پاس کیا ثبوت ہے ؟

محمد ارسلان
01-07-10, 05:55 AM
محترم ناظم صاحب

یہاں پر آپ اس پر اعتراض:
شکوہ اللہ سے خاکم بدہن ہے مجھ کو۔

اور یہاں پر آپ خود قسمت کا گلہ کر رہے ہیں:

قسمت کے مارے - صفحہ 5 - urdu majlis forum (http://www.urduvb.com/forum/showthread.php?t=12307&page=5)

قسمت تو آپ کی اللہ نے ہی لکھی ہے اور قسمت کے مارے کا مطلب کیا ہوا، یہی کہ جن پر اللہ نے ظلم کیا، نعوذ باللہ، ، ،

مانتا ہوں کہ آپ کے کہنے کے مطابق تھریڈ آپ نے شروع نہیں کیا، بلکہ آپ کی پوسٹ سے شروع ہوا، پھر بھی آپ کی اس میں بھر پور دلچسپی اور عنوان پر تاحال کوئی اعتراض نہ کرنے پر آپ کی رضامندی کا اظہار ہے، ، ، یعنی آپ کو بھی اللہ سے شکوہ تو ہے، اقبال بے چارے نے تو منافقت سے بچتے ہوئے سیدھا کہہ دیا، اور آپ، ، ،

اوہ سوری سوری میرے یہ حروف حذف کر دیئے جائیں گے، ، ، ناظم سے پنگا از ناٹ چنگا، ، ، بٹ یار سچائی چھپ نہیں سکتی بناوٹ کے اصولوں سے ، ، ،

ہاں ناظم چاہے جو بھی کہتا پھرے، چاہے اسے سنو مین جاندار نظر آئے یا مرغا بنتے ہوئے سر جھکانا شرک لگے، ، ،

محترم جاسوس بھائی

میں اور اللہ سے شکوہ کروں استغفراللہ

یہ تھریڈ قسمت کے مارے میں نے شروع نہیں کیا بلکہ میں پہلے بھی اس بات کو بیان کر چکا ہوں کہ یہ میں نے شروع نہیں کیا

کیوں کہ محمد ارسلان کبھی بھی اتنے گھٹیا الفاظوں کے ساتھ تھریڈ شروع نہیں کرتا جس میں اللہ کی نافرمانی کا عنصر ہو۔

اللہ معاف کرے آمین۔

آپ اس تھریڈ میں میری کوئی ایک بھی ایسی پوسٹ دکھا دیں جس میں میں نے اللہ سے شکوہ کیا ہو اپنی قسمت کا

مرحبا بھائی کے کہنے پر میں نے کہا جب قسمت میں ہو گا ہو جائے گی یعنی قسمت پر یقین ہے کہ جو اللہ نے لکھ دیا ہے وہی ہو گا۔

لیکن اقبال نے لکھا تھا مسلمانوں کی حالت زاری پر کہ

شکوہ اللہ سے خاکم بدہن ہے مجھ کو

قرآن میں واضح ہے کہ جو بھی مسلمانوں پر عذاب آتا ہے تو ان کے اپنے گناہوں کا نتیجہ ہے۔

محمد ارسلان
01-07-10, 06:01 AM
ارسلان بھائی آپ کہاں سے ھیں

السلام و علیکم ورحمۃ اللہ وبرکتہ

بھائی میری پرسنل معلومات آپ مجھ سے پی ایم کر کے لے سکتے ہیں

شکریہ
اقبال کی تربیت کا اثر ھے کے اس کا بیٹا شراب کو حلال کہتا ھے اور خود اقبال بھی پیر پرست تھا شیر ربانی کا مرید تھا-

بھائی ایک بات کا خیال رکھیں کہ جو بھی بات کریں تو دلیل کے ساتھ کریں۔

بھائی اگر آپ کو کوئی کہے کہ آپ غلط آدمی ہیں تو آپ کہیں گے کہ دلیل پیش کرو مجھ میں آپ کو کیا غلط بات نظر آئی ہے۔

تو جب تک وہ دلیل نہیں دے گا آپ نہیں مانو گے۔

تو بھائی آپ بھی دلیل کے ساتھ بات کریں

شکریہ

ہاں اگر کوئی آپ کے دلیل دینے کے باوجود نہ مانیں تو آپ چپ کر جائیں کیونکہ بے شک اللہ خوب دیکھنے والا خوب سننے والا ہے۔

شاہد نزیر
01-07-10, 08:01 AM
بسمہ اللہ الرحمن الرحیم

السلام علیکم ورحمتہ اللہ!

جواب میں تاخیر اسلئے ہوئی کہ میں حیرت میں ڈوبا ہوا تھا، سابقہ صفحات میں، مجھ ناچیز نے اتنی تفصیلی بحث کی ہے کہ اقبا ل کےکچھ اشعار عقیدہ توحید سے سخت متصادم ہیں اور اسکے دلائل بھی فراہم کئے ہیں اور کوئی بھی میرا مخالف میرے دلائل کو دلائل کی بنیاد پر رد نہیں کر پایا اور نہ ہی میرے اعتراضات کا ڈھنگ اور انصاف سے جواب دے پایا، اس کے باوجود بھی رفی بھائی کےیہ کہنے سے کہ اس میں توحید سے متصادم کا پہلو کہاں سے نکل آیا، میں حیرت کے سمندرمیں نہ ڈوبوں تو کیا کروں؟؟؟!!!

اگر رفی بھائی کو بھی بچوں کی طرح باربار سمجھاناپڑے تو افسوس ہوگا۔ لیکن اگر ایسا ہے تو یونہی سہی!

رفی بھائی آپ نے اقبال کے شعر کی جو تشریح فرمائی ہے جس سے میں نےبھی اتفاق کیا ہے وہ بھی قابل اعتراض ہے۔زرا اپنے الفاظ ملاحظہ فرمائیں۔
و علیکم السلام



میرا بھی اس شعر کی تشریح کے بارے میں یہی خیال ہے مگر ایک باریک نکتہ اسے آپکے اور میرے موقف کے درمیان فرق پیدا کر دیتا ہے وہ ہے صرف یہ جملہ "جہاں اللہ اسکی پسند کا پابند ہوجائے"۔

میرے مطابق یہ تشریح یوں ہے:

دین میں مسلسل محنت کے زریعہ ایک نیک بندہ اس مقام تک پہنچ سکتا ہے جہاں اللہ اسکی پسند اور اسکی تقدیر کا فیصلہ اسکی مرضی کے بغیر نہ کرے۔


اس تشریح پر پہلا اعتراض تو یہ ہے کہ یہ ایک صحیح حدیث کے خلاف ہے جس میں ہے کہ اللہ رب العالمین نے مخلوقات کی تقدیر انکی پیدائش سے پانچ سو یا پانچ ہزارسال قبل لکھ دی تھی۔اور دوسری صحیح حدیث کے بھی خلاف ہے جس میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کے قلم کی سیا ہی خشک ہو چکی ہے اور جنتیوں اور جہنمیوں کے فیصلے ہو چکے ہیں یعنی انسانوں کی تقدیر کے فیصلے ہوچکے ہیں۔ جب انسان کی تقدیر اس کی پیدائش سے بھی پہلے لکھی جاچکی ہے تو پھر انسان اپنی پیدائش کے بعداپنی زندگی میں مسلسل محنت کے زریعہ اس خیالی اور صوفی مقام پر کسطرح پہنچ سکتا ہے جہاں اللہ اسکی تقدیر کا فیصلہ اس کی مرضی او ر پسند کے بغیر نہ کرے۔

دوسرا اعتراض یہ ہے کہ لوگوں کی گھڑی ہوئی صوفیت میں تو مومن کا یہ خود ساختہ مقام موجود ہے لیکن شریعت میں ایسا کوئی مقام موجود نہیں جہاں پہنچنے کے بعد انسان کی تقدیر کا ہر فیصلہ اس کی مرضی کے تابع ہو جائے۔اگر ایسا کوئی مقام ہوتا تو اس مقام کے سب سے زیادہ مستحق اللہ کے رسول ﷺ ہوتے۔ لیکن اللہ کے رسول ﷺکو یہ بدعتی اور گمراہ صوفیوں کا گھڑا ہوا مقام حاصل نہ تھا تو پھر دوسرے کس گنتی میں ہیں؟؟ ؟ اقبال کے شعر میں موجود مومن یہ مقام خود ساختہ اور خلاف شریعت ہے جس کے دلائل درج زیل ہیں:

1۔ رسول اکرم ﷺ نے اپنی والدہ کی قبر کی زیارت کی تو روئے اور آپ ﷺ کے گرد کھڑے لوگ آپ ﷺ کو دیکھ کر رو دئے اور آپ ﷺ نے فرمایا کہ میں نے اپنے رب سے اپنی والدہ کے لئے استغفار کی اجازت مانگی تھی، مجھے اجازت نہیں دی گئی پھر انکی قبر کی زیارت کی اجازت مانگی تو دیدی گئی ، پس قبروں کی زیارت کیا کرو کیونکہ یہ موت یاد دلاتی ہیں (صحیح مسلم)
علامہ نووی اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہوئے رقطراز ہیں: قاضی عیاض نے فرمایا رسول اللہ ﷺ اس بنا پر روئے کہ ان کو یہ صدمہ ہوا کہ والدہ نے میری نبوت کا زمانہ نہ پایا اور ایمان سے محروم ہی فوت ہو گئیں۔

2۔ انس رضی اللہ عنہ راوی ہیں کہ ایک آدمی نے رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا کہ:
میرا والد کہاں ہے؟
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: دوزخ میں ہے۔
پس جب وہ آدمی پیٹھ پھیر کر چلا تو رسول اللہ ﷺ نے اسے واپس بلایا اور فرمایا: صرف تیرا ہی باپ دوزخ میں نہیں بلکہ خود میرے والد بھی دوزخ ہی میں ہیں۔ (صحیح مسلم)
ابوحنیفہ فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ کے ماں اور باپ کفر پر ہی فوت ہوئے ہیں۔(فقہ اکبر)
ملاعلی قاری لکھتے ہیں : ہم نے دلائل واضح ثابت کیا ہے کہ حضور ﷺ کے والدین کا انتقال حالت کفر پر ہی ہوا او ر وہ بفرمان جہنمی ہیں۔(شرح فقہ اکبر)

اسکے علاوہ بھی دیگر دلائل ہیں جیسے رسول اللہ ﷺ کی خواہش کے برعکس ابو طالب کا حالت کفرپر وفات پانا اور نبی کریم ﷺ کا کچھ لوگوں کے لئے بددعا فرمانا جبکہ اللہ رب العالمین کا رسول اللہ ﷺ کو اس بددعا سے روک دینا، نبی کریم ﷺ کا شہد کو اپنے اوپر حرام قرار دینا لیکن اللہ کا اس پر تنبیہ فرمانا وغیرہ وغیرہ

بالفرض محال تھوڑی دیر کےلئے یہ تصور کر لیا جائے کہ رسول اللہ ﷺ کو وہ مقام حاصل تھا جہاں اللہ اپنے بندے کی تقدیر کا فیصلہ اسکی مرضی کے بغیر نہیں فرماتا تو اسکا کیا جواب دیا جائے گا کہ نبی کریم ﷺ نے اللہ سے اپنی والدہ کی مغفرت کے لئے اجازت طلب کی لیکن اللہ کی طرف سے اسے رد کر دیا گیا۔ کون مومن شخص چاہتا ہے کہ اس کے والدین جہنم میں جائیں اور نبی کریم ﷺ بھی نہیں چاہتے تھے اسی لئے انہوں نے اللہ سے اجازت طلب کی بلکہ اسکے بعد اسی وجہ سے نہ صرف روئے بلکہ دیگر لوگوں کو بھی رلادیا لیکن نبی کریم ﷺ کی خواہش اور مرضی کچھ اور تھی اور اللہ رب العامین کا فیصلہ کچھ اور، رسول اللہ ﷺ کی شدید خواہش کے باوجود بھی ابوطالب کو ہدایت نصیب نہ ہوئی۔ اب یا تویہ تسلیم کیا جائے کہ رسول اللہ ﷺ کو وہ مقام حاصل نہیں ہواتھا جس مقام پر پہنچ کر اللہ اپنے بندے کی ہر تقدیر سے پہلے اس کی رضا معلوم کرتا ہے اور جس مقام کا زکر اقبال کے شعر میں ہے۔ یا پھر اس بات کو تسلیم کر لیا جائے کہ شریعت اور اسلام میں اس مقام کا سرے سے کوئی وجود ہی نہیں بلکہ یہ غالی صوفیوں کی اختراع ہے۔

درج بالا دلائل سے ثابت ہواکہ اقبال کا یہ متنازعہ شعر (خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے خدا بند ے سے خود پوچھے کہ بتا تیری رضا کیا ہے) اصل میں گندی صوفیت کی کوکھ سے جنم لینے والے عقائد اور افکار پر مشتمل ہے جس کا شریعت اور اسلام سے دور کا بھی کوئی واسطہ نہیں۔

جاسم منیر
01-07-10, 12:31 PM
اقبال کی تربیت کا اثر ھے کے اس کا بیٹا شراب کو حلال کہتا ھے اور خود اقبال بھی پیر پرست تھا شیر ربانی کا مرید تھا-

اگر یہ ان کی تربیت کا اثر نہ ہوا تو؟؟؟ یا کیا ان کے بیٹے نے یہ بات کی ہے کہ مجھے میرے ابا جان نے ایسی باتیں سکھائی ہیں؟؟؟ اگر نہیں تو پھر تو یہ الزام بلکہ بہتان ہو گیا۔
بہتر ہوتا کہ آپ کوئی واضح ثبوت کے ساتھ اپنی دونوں باتوں کو رکھتے، ایسے سخت الفاظ کیا آپ نے بغیر تحقیق کے کہے ہیں؟ اگر تحقیق کی ہے تو حوالہ دے دیجیے۔۔

ام نور العين
01-07-10, 01:50 PM
محترمہ عین صاحبہ تقدیر بدلنے کا اختیار صرف اللہ کے پاس ھے اگر کوئی یہ عقیدہ رکھے کہ مرد مومن تقدیر بدل سکتا ھے تو یہ اللہ کے ساتھ برابری ھے برابری ھی شرک ھوتا ھے

حو شخص عبدالخالق كے ہجے عبدل خالق لکھتا ہو اس سے شعر كے معانى ومطالب پر گفتگو ميرے ليے تو ممكن نہیں ۔ معلومات كا يہ عالم كہ جس پر تنقيد كى جا رہی ہے اس كا شعر تك درست نہیں لکھا ؟ تنقيد سے پہلے علم ضرورى ہے ۔

جتنى دلچسپی اور محنت آپ حضرات اوروں كو مشرك بنانے ميں صرف كرتے ہیں اس سے نصف محنت ميں رب كى اس دنيا ميں توحيد كا بول بالا ہو سکتا ہے ۔

آپ سے گزارش ہے صرف اس سوال كا جواب ديں كہ اقبال كے یہ "شركيہ" اشعار مولانا ابو الكلام آزاد رح كے رسالہ الہلال ميں چھپتے تھے ۔۔۔ شكوہ جواب شكوہ كى تائيد ميں مضمون " جواب شكوہ كا اقبال" الہلال ميں چھپا ۔مولانا داود غزنوى رح، مولانا غلام رسول مہر رح ،مولانا سيد سلمان ندوى رح اس "مشرك" اقبال كے ساتھ خط وكتابت كرتے ميل جول رکھتے اس كى وفات پر تعزيتى مضامين لکھتے اسلام كا سپاہی بتاتے رہے ۔ افسوس یہ سب اقبال كى سازش سے بے خبر رہے ۔ يہاں تك کہ آپ حضرات نے اس كے شرك كا انكشاف كيا ۔سبحان اللہ ۔

اہل الحدیث
01-07-10, 02:14 PM
عین بہن ابھی یہ اقبال کے ذہنی ارتقا اور ان کی شاعری کی اصل روح سمجھنے سے قاصر ہیں۔ میرا خیال ہے کہ ہمیں مجلس پر ایک سیکشن اقبالیات شروع کرنا چاہیے جہاں یہ احباب اشعار لکھیں اور پھر ان کی مذہبی اور ادبی تشریح کی جا سکے۔

ام نور العين
01-07-10, 02:44 PM
جب كہ ميرا خيال ہے کہ کچھ لوگ ابھی اپنے دين کو بھی نہیں سمجھتے اور ابھی اردو سيكھنے كى بھی ضرورت ہے ! ہمارے لوگوں كا علمى معيار يہی رہا تو ہمیں اردو حروف تہجی سے شروع كرنا پڑے گا ۔۔۔
شعر كى تشريح ، اللہ معاف كرے ۔ ۔۔
يہاں ايك كاش والے شعر پہ بحث ہوتے ہوتے رہ گئی تھی جب كہ حضرت حسان بن ثابت رضى اللہ عنہ كے ايك مرثیے كے ہر دوسرے شعر ميں كاش آيا ہے ۔ پتہ نہیں مطالعہ كيے بغیر اس طرح بات كو فتوے نہ کہیں تو کیا کہیں ؟

ام نور العين
01-07-10, 03:16 PM
اقبال کی تربیت کا اثر ھے کے اس کا بیٹا شراب کو حلال کہتا ھے اور خود اقبال بھی پیر پرست تھا شیر ربانی کا مرید تھا-

جب اقبال فوت ہوئے تو جاويد اقبال كى عمر بارہ تيرہ برس تھی اور منيرہ کی سات آٹھ برس ۔ تربيت كب ہوتی ؟ باقى باتوں كا حوالہ ذكر فرما ديں ۔

طالب علم
01-07-10, 05:02 PM
اقبال رح کے شعر

کوئی اندازہ کر سکتا ہے اس کے زور بازو کا
نگاہ مرد مومن سےبدل جاتی ہیں تقدیریں

سے بعض لوگ فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتے ہیں کہ اقبال جیسا الہامی شاعر کہہ رہا ہے کہ نگاہ مرد مومن سے بدل جاتی ہیں تقدیریں تو پھر باقی بات کیا رہ جاتی ہے اور پھر مثالیں دیتے ہیں کہ فلاں صوفی بزرگ کی صحبت کا اثر ہوا، نگاہ پڑھتے ہی دل کی حالت بدل گئی، مرد کامل کی نظروں میں بلا کی تاثیر تھی،

اقبال رح کے اس شعر پر سید توصیف الرحمٰن الراشدی حفظہ اللہ نے تنقید کی ہے کہ

گر نگاہ مرد مومن سے بدل جاتی ہیں تقدیریں
تو مجاہد میداں میں کیوں لے کر جاتے ہیں شمشیریں؟

یہ تھریڈ ملاحظہ فرمائیے "نگاہ مرد مومن سے بدل جاتی ہیں تقدیریں" (http://www.urduvb.com/forum/showthread.php?t=4411)

اگر نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی نگاہ سے ، درخواست سے بھی چچا کی قلبی حالت نہیں بدلتی تو پیروں، بابوں، فقیروں میں اتنی طاقت کہاں؟؟؟

میں اقبال رح کے ہر شعر کے خلاف نہیں ہوں لیکن اقبال اس بات کا خود اعتراف کر چکے ہیں کہ وہ ایک زمانہ میں وحدت الوجود اور وحدت الشہود کے قائل رہے ہیں۔ ظاہر سی بات ہے اس دور میں ان کے اشعار میں بھی ان نظریات کا اثر جھلکے گا۔

اگر اقبال کا یہ شعر صیح ہے تو وہ زبان زد عام شعر بھی صیح ماننا پڑھ گا کہ

نگاہ ولی میں وہ تاثیر دیکھی
بدلتی زمانے کی تقدیر دیکی

اقبال ایک گرانقدر شاعر تھے مگر توحید پر no compromise ہونا چاہیے۔

اہل الحدیث
01-07-10, 05:06 PM
یہی اقبال کے ذہنی ارتقا کی ایک مثال ہے۔

ام نور العين
01-07-10, 05:08 PM
تو غلطی فائدہ اٹھانے والوں كى ہوئی نہ كہ شعر كى

عبدل
01-07-10, 06:52 PM
پتہ نہیں لوگ علامہ اقبال کو دیندار بنانے پر کیوں تلے ھوے ھیںاس کا تو چھرہ ھی اسلامی نہ تھا اور پیر پرست تھا اس کا پیر شیر ربانی تھا-

محمد ارسلان
02-07-10, 08:09 AM
عین بہن ابھی یہ اقبال کے ذہنی ارتقا اور ان کی شاعری کی اصل روح سمجھنے سے قاصر ہیں۔ میرا خیال ہے کہ ہمیں مجلس پر ایک سیکشن اقبالیات شروع کرنا چاہیے جہاں یہ احباب اشعار لکھیں اور پھر ان کی مذہبی اور ادبی تشریح کی جا سکے۔


چلیں ہم سمجھنے سے قاصر ہیں آپ سمجھا دیں بھائی سلمان۔


اقبال رح کے شعر

کوئی اندازہ کر سکتا ہے اس کے زور بازو کا
نگاہ مرد مومن سےبدل جاتی ہیں تقدیریں

سے بعض لوگ فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتے ہیں کہ اقبال جیسا الہامی شاعر کہہ رہا ہے کہ نگاہ مرد مومن سے بدل جاتی ہیں تقدیریں تو پھر باقی بات کیا رہ جاتی ہے اور پھر مثالیں دیتے ہیں کہ فلاں صوفی بزرگ کی صحبت کا اثر ہوا، نگاہ پڑھتے ہی دل کی حالت بدل گئی، مرد کامل کی نظروں میں بلا کی تاثیر تھی،

اقبال رح کے اس شعر پر سید توصیف الرحمٰن الراشدی حفظہ اللہ نے تنقید کی ہے کہ

گر نگاہ مرد مومن سے بدل جاتی ہیں تقدیریں
تو مجاہد میداں میں کیوں لے کر جاتے ہیں شمشیریں؟

یہ تھریڈ ملاحظہ فرمائیے "نگاہ مرد مومن سے بدل جاتی ہیں تقدیریں" (http://www.urduvb.com/forum/showthread.php?t=4411)

اگر نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی نگاہ سے ، درخواست سے بھی چچا کی قلبی حالت نہیں بدلتی تو پیروں، بابوں، فقیروں میں اتنی طاقت کہاں؟؟؟

میں اقبال رح کے ہر شعر کے خلاف نہیں ہوں لیکن اقبال اس بات کا خود اعتراف کر چکے ہیں کہ وہ ایک زمانہ میں وحدت الوجود اور وحدت الشہود کے قائل رہے ہیں۔ ظاہر سی بات ہے اس دور میں ان کے اشعار میں بھی ان نظریات کا اثر جھلکے گا۔

اگر اقبال کا یہ شعر صیح ہے تو وہ زبان زد عام شعر بھی صیح ماننا پڑھ گا کہ

نگاہ ولی میں وہ تاثیر دیکھی
بدلتی زمانے کی تقدیر دیکی

اقبال ایک گرانقدر شاعر تھے مگر توحید پر no compromise ہونا چاہیے۔

یہی بات ہم کہہ کہہ کر تھک گئے ہیں بھائی جان کہ توحید پر کوئی compromise نہیں ہونا چاہئیے

لیکن یہاں اقبال کی شاعری جو کہ توحید کے خلاف ہے اس کو صحیح ثابت کرنے پر تلے ہیں

ہم یہ نہیں کہتے کہ اس نے ہر بات غلط کی ابھی اس کی اور باتوں کا مجھے تو علم نہیں البتہ جتنے ابھی تک اقبال کے شعر زیر بحث آ چکے ہیں

وہ تمام تو غلط ہیں۔

لیکن کوئی غلط ماننے کو تیار نہیں۔

پچھلے صفحات میں چلیں جائیں بھائی شاہد نزیر نے اتنے دلائل سے بات کی ہے مگر پھر بھی کچھ اثر نہیں

کیونکہ شاہد نزیر بھائی نے دلائل ہی ایسے دئے ہیں جب ان سے جواب نہ بن پڑا تو یہ ایسے کہنے لگ گئے اور بس یہ کہہ کر خاموشی اختیار کر لی کہ تم لوگ شاعری کو نہیں سمجھ سکتے۔

آپ لوگ سمجھ دیں آپ لوگوں کو تو سمجھ آتی ہے

آپ ہمیں ایسے طریقے سے سمجھا دیں کہ شعر بھی درست رہے اور قرآن و حدیث سے بھی نہ ٹکرائے

لیکن نہیں کیونکہ یہ شعر قرآن و حدیث کی تعلیمات کے خلاف ہیں اس لئے صحیح نہیں‌ ہو سکتے۔

اللہ تعالیٰ ہم سب کو قرآن و حدیث پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین۔

اہل الحدیث
02-07-10, 09:18 AM
ارسلان بھائی!!!!

اگر آپ اقبال کے اشعار کی روشنی میں اقبال کا جائزہ لیں تو آپ کو پتا چلے گا کہ اقبال شاعری کے رجحان کی بنا پر مختلف ادوار سے سے گزرے ہیں۔
کہیں وطنیت کی بات ہے تو کہیں ملت کی۔
کہیں تصوف کی ھمایت میں اشعار ہیں تو کہیں ولولہ جہاد نظر آتا ہے۔
کہیں پیرِ رومی کا تذکرہ ہے تو کہیں طارق بن زیاد کی بات ہے۔

ہم اپنی زندگی میں مختلف ادوار سے گزرتے ہیں۔
آپ کی زندگی بھی اس سے مختلف نہیں ہے۔
اب آپ کی سابقہ باتوں کو لے کر چیونگم کی طرح کھینچنا اور پھر اس میں سے مختلف پہلو نکالنا ٹھیک نہیں۔
ہاں جہاں تک ممکن ہو سکے تاویل کی کوشش ضرور کرنی چاہیے، حسنِ ظن کی بنا پر۔

محمد ارسلان
02-07-10, 10:52 AM
یہاں پر جو اقبال کے اشعار بیان کئے گئے اور ان کو غلط ثابت کیا گیا اس کے بارے میں کیا خیال ہے بھائی سلمان۔

اہل الحدیث
02-07-10, 12:30 PM
ہم دو مثالیں لیتے ہیں۔
1-نگاہِ مرد مومن سے بدل جاتی ہیں تقدیریں۔
ان الفاظ کو اگر آپ ظاہری طور پر سیاق و سباق کے بغیر دیکھیں تو پھر وہ مطلب نکل سکتا ہے جو آپ نے لکھا ہے لیکن اقبال یہاں مومن کی عظمت اور شان کی بات کر رہے ہیں اور اس کی بنیاد پر قوموں کا عروج و زوال بیان کر رہے ہیں۔
واقعی اگر ایک قوم میں مومن موجود ہوں تو وہ اہل کفر پر غالب آئیں گے۔ اقبال بھی یہی کہنا چاہتے ہیں اور قرآن میں سورۃ الانفال میں بھی کم و بیش یہی مضمون بیان کیا گیا ہے۔
میرے نزدیک یہاں نگاہ مرد مومن سے کافروں کے اسلام لانے کی بات نہیں بلکہ قوموں کی اجتماعی تقدیر بدلنے کی بات ہے۔ غلامی کے اندھیروں سے آزادی اور فتح کے نور کی طرف۔
2- جہاں تک قاری کے قرآن نظر آنے کی بات ہے تو اس کی کیا دلیل دیں گے کہ اماں عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں فرمایا کہ ان کا اخلاق قرآن تھا۔
اور ہمیں روزانہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع میں اپنے خلق کو قرآن بنانے کی تلقین کی جاتی ہے۔
لہذا قاری کو صرف قرآت تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ اس پر عمل کرتے ہوئے اور اس کو اپنا شعار بناتے ہوئے قرآن کی عملی تصویر خود کو بنا کر دکھانا چاہیے۔
امید ہے یہ مختصر سی تشریح سمجھ آ گئی ہو گی۔

محمد ارسلان
02-07-10, 12:42 PM
حدیث مباکہ کا مفہوم تو یہ ہے کہ تقدیر دعا سے بدلتی ہے اور اس شعر میں بیان کیا جا رہا ہے کہ نگاہ مرد مومن سے۔

اور آپ اس کو جہاد کی طرف لے کر جا رہیں ہیں لیکن اس شعر میں مجھے تو کہیں پر بھی یہ جہاد کے بارے میں نظر نہیں آ رہا۔

اہل الحدیث
02-07-10, 12:48 PM
غلامی میں نہ کام آتی ہیں شمشیریں نہ تدبیریں
جو ہو ذوق یقین پیدا تو کٹ جاتی ہیں زنجیریں
کوئی اندازہ کر سکتا ہے اس کے زورِ بازو کا
نگاہ مرد مومن سے بدل جاتی ہیں تقدیریں

یہاں مرد مومن کے زورِبازو کا تذکرہ اور اس سے پہلے غلامی اور آزادی کا تذکرہ کس چیز پر دلالت کرتا ہے۔
آپ وہ پاگل زید حامد والی تعبیر اس شعر کی نہ کریں۔

dani
02-07-10, 10:43 PM
۔
آپ سے گزارش ہے صرف اس سوال كا جواب ديں كہ اقبال كے یہ "شركيہ" اشعار مولانا ابو الكلام آزاد رح كے رسالہ الہلال ميں چھپتے تھے ۔۔۔ شكوہ جواب شكوہ كى تائيد ميں مضمون " جواب شكوہ كا اقبال" الہلال ميں چھپا ۔مولانا داود غزنوى رح، مولانا غلام رسول مہر رح ،مولانا سيد سلمان ندوى رح اس "مشرك" اقبال كے ساتھ خط وكتابت كرتے ميل جول رکھتے اس كى وفات پر تعزيتى مضامين لکھتے اسلام كا سپاہی بتاتے رہے ۔ افسوس یہ سب اقبال كى سازش سے بے خبر رہے ۔ يہاں تك کہ آپ حضرات نے اس كے شرك كا انكشاف كيا ۔سبحان اللہ ۔

:00039:

جاسم منیر
03-07-10, 11:01 AM
السلام علیکم
کافی عرصے سے اس تھریڈ کا مشاہدہ کر رہا تھا، لیکن کچھ کہنے کی ہمت نہیں ہو رہی تھی ۔ آج کچھ کہنے کی جسارت کر رہا ہوں۔۔۔
شاہد بھائی نے علامہ اقبال کے اس شعر سے اعتراض شروع کیا:
خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے
عین باجی، رفی بھائی ، پرخلوص بھائی اور اہل الحدیث بھائی نے بھی اس پر خیالات کا اظہار کیا، تو میں بھی اسی ضمن میں کچھ کہنا چاہتا ہوں۔

صحیح بخاری حدیث نمبر : 6549
حدثنا معاذ بن أسد، أخبرنا عبد الله، أخبرنا مالك بن أنس، عن زيد بن أسلم، عن عطاء بن يسار، عن أبي سعيد الخدري، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إن الله يقول لأهل الجنة يا أهل الجنة‏.‏ يقولون لبيك ربنا وسعديك‏.‏ فيقول هل رضيتم فيقولون وما لنا لا نرضى وقد أعطيتنا ما لم تعط أحدا من خلقك‏.‏ فيقول أنا أعطيكم أفضل من ذلك‏.‏ قالوا يا رب وأى شىء أفضل من ذلك فيقول أحل عليكم رضواني فلا أسخط عليكم بعده أبدا ‏"‏‏.‏
ہم سے معاذ بن اسد نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبردی، کہا ہم کو امام مالک بن انس نے خبردی، انہیں زید بن اسلم نے، انہیں عطاء بن یسار نے اور ان سے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اہل جنت سے فرمائے گا کہ اے جنت والو! جنتی جواب دیں گے ہم حاضر ہیں اے ہمارے پروردگار! تیری سعادت حاصل کرنے کے لیے۔ اللہ تعالیٰ پوچھے گا کیا اب تم لوگ خوش ہوئے؟ وہ کہیںگے اب بھی بھلا ہم راضی نہ ہوں گے کیوں کہ اب تو تو نے ہمیں وہ سب کچھ دے دیا جو اپنی مخلوق کے کسی آدمی کو نہیں دیا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ میں تمہیں اس سے بھی بہتر چیز دوں گا۔ جنتی کہیں گے اے رب! اس سے بہتر اور کیا چیز ہوگی؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ اب میں تمہارے لیے اپنی رضا مندی کو ہمیشہ کے لیے دائمی کردوں گا یعنی اس کے بعد کبھی تم پر ناراض نہیں ہوں گا۔

صحیح مسلم حدیث 1960: سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : بیشک اللہ عزوجل جنتی لوگوں سے فرمائے گا کہ اے جنتیو ! پس وہ کہیں گے کہ اے رب ! ہم خدمت میں حاضر ہیں اور سب بھلائی تیرے ہاتھوں میں ہے۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ کیا تم راضی ہوئے؟ وہ کہیں گے کہ ہم کیسے راضی نہ ہوں گے، ہمیں تو نے وہ دیا کہ اتنا اپنی مخلوق میں سے کسی کو نہیں دیا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ کیا میں تمہیں اس سے بھی کوئی عمدہ چیز دوں؟ وہ عرض کریں گے کہ اے رب ! اس سے عمدہ کون سی چیز ہے؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ میں نے تم پر اپنی رضامندی اتار دی اور اب میں اس کے بعد کبھی تم پر غصہ نہ ہوں گا۔

کیا یہ شعر اوپر بیان کی گئی حدیث پر پورا نہیں اترتا؟اگر جواب ہاں میں ہے تو اگر یہ شعر کہتے وقت علامہ اقبال کے ذہن میں یہی حدیث مبارکہ تھی، تو جو بحث ہم نے اس شعر کو صوفیانہ شعر، یا شرک سے بھرا ہو شعر کہنے میں‌کر دی ، اس کا کیا مطلب؟ اگر میں‌ غلط ہوں تو پلیز اصلاح کیجیے گا۔۔ جب ہم یہ مانتے ہیں‌ کہ علامہ اقبال کی شاعری میں توحید اور جہاد کی جھلک نظر آتی ہے تو کم از کم میں تو یہ ماننے کے لیے تیار نہیں ہوں‌ کہ ایسا شخص صوفی ہو سکتا ہے، یا اپنی شاعری سے لوگوں کو شرک کی دعوت دے سکتا ہے۔۔

شاہد نزیر
03-07-10, 12:14 PM
بسمہ اللہ الرحمنٰ الرحیم

علامہ اقبال کا پیر و مرشد ایک گمراہ اور بددین شخص تھا

السلام علیکم ورحمتہ اللہ!

عبدل بھائی نے پوسٹ نمبر 108 پرشیر ربانی کو اقبال کا پیر بتایا ہے لیکن اسکا کوئی حوالہ یا دلیل پیش نہیں کی۔ میں نے بھی بالآخر اقبال کا ایک روحانی پیر تلاش کر ہی لیالیکن دلیل کے ساتھ جس کی تفصیل یہ ہے کہ اقبال کے فارسی کلام میں ایک مثنوی ہے، جسے مثنوی اقبال کہا جاتا ہے۔ اس میں علامہ صاحب فرماتے ہیں:

پیر رومی مرشد ضمیر
کاروان عشق و مستی را امیر

ترجمہ: پیر رومی ضمیر کا مرشد ہے، وہ عشق و مستی کے کاروان کا امیر ہے۔

جس بدبخت صوفی شخص کو اقبال یہاں پیر و مرشد قرار دے رہے ہیں یعنی مولانا رومی یہ ترکی میں سرکاری اور عوامی سطح پر بہت بڑا صوفی بزرگ ہے جس کی تصنیف مثنوی مولوی معنوی کو گمراہ صوفیوں نے فارسی میں قرآن قرار دیا ہے۔
اس مختصر تفصیل سے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں مولانا رومی جیسے گمراہ اور گمراہ گر کو پیر و مرشد قرار دینے والے علامہ اقبال کی زہنی سطح کس درجہ کی تھی اور وہ کس قسم کے صوفیانہ عقائد رکھتے تھے۔کیونکہ ایک صحیح العقیدہ شخص کے لئے تو مولانا رومی کو پیر و مرشد قرار دینا تو بہت دور کی بات ہے اس شخص کو مسلمان سمجھنا بھی محل نظر ہے۔

مزید عرض ہے کہ علامہ اقبال کا ایک صوفی تھے جس کے دلائل سابقہ صفحات پر بھی موجود ہیں اور وہ مزارا ت پر بھی حاضری دیتے تھے دیکھئے پوسٹ نمبر 32 اور اقبال کواس بات کی تمیز بھی نہیں تھی کہ اللہ رب العالمین سے کیسے مخاطب ہواجاتا ہے۔شکوہ اس کا ثبوت ہے۔ لہذا ثابت ہوا کہ علامہ اقبال کے اشعار کو صوفی مذہب کے عقائد اور افکار کے بغیر سمجھنے کی کوشش کرنا جہالت ہے۔ زیر بحث اشعار کا وہی معنیٰ معتبر ہیں جسے میں نے ارسلان بھائی نے اور عبدل بھائی نے بیان کیا ہے کیونکہ اس کی تائید اقبال کے مذہبی رجحان سے بھی ہوتی ہے۔ اس کے برعکس ہمارے نقطہ نظر سے مخالفت رکھنے والے اقبال کے اشعار کی بھونڈی تاویلات کر رہے ہیں اور اپنے دامن میں کوئی واضح دلیل بھی نہیں رکھتے۔ بلکہ اس طرح کی مضحکہ خیز باتوں ہی سے میدان مارنا چاہتے ہیں کہ فلاں شخص ہجے صحیح نہیں لکھتا ، انہیں اشعار کا زوق نہیں اوریہ لوگ اقبال کی شاعری کو سمجھنے سے قاصر ہیں وغیر ہ وغیرہ
والسلام

محمد ارسلان
03-07-10, 12:43 PM
السلام علیکم
کافی عرصے سے اس تھریڈ کا مشاہدہ کر رہا تھا، لیکن کچھ کہنے کی ہمت نہیں ہو رہی تھی ۔ آج کچھ کہنے کی جسارت کر رہا ہوں۔۔۔
شاہد بھائی نے علامہ اقبال کے اس شعر سے اعتراض شروع کیا:
خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے
عین باجی، رفی بھائی ، پرخلوص بھائی اور اہل الحدیث بھائی نے بھی اس پر خیالات کا اظہار کیا، تو میں بھی اسی ضمن میں کچھ کہنا چاہتا ہوں۔

صحیح بخاری حدیث نمبر : 6549
حدثنا معاذ بن أسد، أخبرنا عبد الله، أخبرنا مالك بن أنس، عن زيد بن أسلم، عن عطاء بن يسار، عن أبي سعيد الخدري، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إن الله يقول لأهل الجنة يا أهل الجنة‏.‏ يقولون لبيك ربنا وسعديك‏.‏ فيقول هل رضيتم فيقولون وما لنا لا نرضى وقد أعطيتنا ما لم تعط أحدا من خلقك‏.‏ فيقول أنا أعطيكم أفضل من ذلك‏.‏ قالوا يا رب وأى شىء أفضل من ذلك فيقول أحل عليكم رضواني فلا أسخط عليكم بعده أبدا ‏"‏‏.‏
ہم سے معاذ بن اسد نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبردی، کہا ہم کو امام مالک بن انس نے خبردی، انہیں زید بن اسلم نے، انہیں عطاء بن یسار نے اور ان سے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اہل جنت سے فرمائے گا کہ اے جنت والو! جنتی جواب دیں گے ہم حاضر ہیں اے ہمارے پروردگار! تیری سعادت حاصل کرنے کے لیے۔ اللہ تعالیٰ پوچھے گا کیا اب تم لوگ خوش ہوئے؟ وہ کہیںگے اب بھی بھلا ہم راضی نہ ہوں گے کیوں کہ اب تو تو نے ہمیں وہ سب کچھ دے دیا جو اپنی مخلوق کے کسی آدمی کو نہیں دیا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ میں تمہیں اس سے بھی بہتر چیز دوں گا۔ جنتی کہیں گے اے رب! اس سے بہتر اور کیا چیز ہوگی؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ اب میں تمہارے لیے اپنی رضا مندی کو ہمیشہ کے لیے دائمی کردوں گا یعنی اس کے بعد کبھی تم پر ناراض نہیں ہوں گا۔

صحیح مسلم حدیث 1960: سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : بیشک اللہ عزوجل جنتی لوگوں سے فرمائے گا کہ اے جنتیو ! پس وہ کہیں گے کہ اے رب ! ہم خدمت میں حاضر ہیں اور سب بھلائی تیرے ہاتھوں میں ہے۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ کیا تم راضی ہوئے؟ وہ کہیں گے کہ ہم کیسے راضی نہ ہوں گے، ہمیں تو نے وہ دیا کہ اتنا اپنی مخلوق میں سے کسی کو نہیں دیا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ کیا میں تمہیں اس سے بھی کوئی عمدہ چیز دوں؟ وہ عرض کریں گے کہ اے رب ! اس سے عمدہ کون سی چیز ہے؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ میں نے تم پر اپنی رضامندی اتار دی اور اب میں اس کے بعد کبھی تم پر غصہ نہ ہوں گا۔

کیا یہ شعر اوپر بیان کی گئی حدیث پر پورا نہیں اترتا؟اگر جواب ہاں میں ہے تو اگر یہ شعر کہتے وقت علامہ اقبال کے ذہن میں یہی حدیث مبارکہ تھی، تو جو بحث ہم نے اس شعر کو صوفیانہ شعر، یا شرک سے بھرا ہو شعر کہنے میں‌کر دی ، اس کا کیا مطلب؟ اگر میں‌ غلط ہوں تو پلیز اصلاح کیجیے گا۔۔ جب ہم یہ مانتے ہیں‌ کہ علامہ اقبال کی شاعری میں توحید اور جہاد کی جھلک نظر آتی ہے تو کم از کم میں تو یہ ماننے کے لیے تیار نہیں ہوں‌ کہ ایسا شخص صوفی ہو سکتا ہے، یا اپنی شاعری سے لوگوں کو شرک کی دعوت دے سکتا ہے۔۔

بسم اللہ الرحمن الرحیم

السلام و علیکم ورحمۃ اللہ وبرکتہ

قابل احترام جاسم منیر بھائی۔

آپ نے جو حدیث پیش کی ہے ہم صدق دل سے اللہ کے رسول صلی اللہ و علیہ وآلہ وسلم کے اس فرمان مبارک پر ایمان رکھتے ہیں۔

لیکن شعر اور اس حدیث مبارکہ کا آپس میں نسبت کچھ سمجھ نہیں آئی۔

میرا آپ سے ایک سوال ہے جاسم بھائی۔

اللہ کی رحمت کے علاوہ تو کوئی بھی جنت میں داخل نہیں ہو سکتا۔

وہ کون سا مقام ہے جہاں اللہ تعالیٰ بندے سے پوچھے کہ بتا تیری رضا کیا ہے؟

محمد ارسلان
03-07-10, 12:52 PM
کیا یہ شعر اوپر بیان کی گئی حدیث پر پورا نہیں اترتا؟

آپ سمجھا دیں کیسے پورا اترتا ہے

اگر جواب ہاں میں ہے تو اگر یہ شعر کہتے وقت علامہ اقبال کے ذہن میں یہی حدیث مبارکہ تھی،

بھائی آپ کے پاس کیا دلیل ہے کہ یہ شعر کہتے وقت علامہ اقبال کے ذہن میں یہ حدیث مبارکہ تھی۔

تو جو بحث ہم نے اس شعر کو صوفیانہ شعر، یا شرک سے بھرا ہو شعر کہنے میں‌کر دی ، اس کا کیا مطلب؟

بھائی جان شعر کو دلیل کے ساتھ غلط ثابت کیا گیا ہے آپ پیچھے بھائی شاہد نزیر کے دئے ہوئے دلائل پڑھیں۔

اگر میں‌ غلط ہوں تو پلیز اصلاح کیجیے گا۔۔

ضرور آپ بھی دلیل دیں تاکہ ہم میں کوئی کمی کوتاہی ہو تو ہم بھی اپنی اصلاح کر سکیں شکریہ

جب ہم یہ مانتے ہیں‌ کہ علامہ اقبال کی شاعری میں توحید اور جہاد کی جھلک نظر آتی ہے


ہاں بھائی میں بھی بغیر تحقیق کئے پہلے یہ ہی تسلیم کرتا تھا کہ علامہ اقبال کی شاعری میں توحید کی جھلک نظر آتی ہے بلہکہ یہ کہتا تھا کہ علامہ اقبال جیسا کوئی شاعر ہی نہیں پیدا ہوا لیکن جب سے بھائی شاہد نزیر کے دئے ہوئے دلائل پڑھے ہیں تب سے میں اقبال کی شاعری کے معاملے مین بہت محتاظ ہوں۔

تو کم از کم میں تو یہ ماننے کے لیے تیار نہیں ہوں‌ کہ ایسا شخص صوفی ہو سکتا ہے

آپ کے ماننے یا ماننے سے کیا ہوتا ہے بھائی آپ کوئی دلیل پیش کریں۔پیچھلے صفحات میں بھائی شاہد نزیر نے دلائل کے ساتھ ثابت کیا ہے۔

، یا اپنی شاعری سے لوگوں کو شرک کی دعوت دے سکتا ہے۔۔

آپ یہ ثابت کر دیں دلیل کے ساتھ کہ علامہ اقبال کی شاعری مین شرک کا عنصر نہیں پایا جاتا۔
اگر آپ کی باتوں میں وزن ہوا اور آپ کی دلیل پرفیکٹ ہوئی تو ہم مان لیں گے۔

جاسم منیر
03-07-10, 01:18 PM
بسم اللہ الرحمن الرحیم

السلام و علیکم ورحمۃ اللہ وبرکتہ

قابل احترام جاسم منیر بھائی۔

آپ نے جو حدیث پیش کی ہے ہم صدق دل سے اللہ کے رسول صلی اللہ و علیہ وآلہ وسلم کے اس فرمان مبارک پر ایمان رکھتے ہیں۔

لیکن شعر اور اس حدیث مبارکہ کا آپس میں نسبت کچھ سمجھ نہیں آئی۔

میرا آپ سے ایک سوال ہے جاسم بھائی۔

اللہ کی رحمت کے علاوہ تو کوئی بھی جنت میں داخل نہیں ہو سکتا۔

وہ کون سا مقام ہے جہاں اللہ تعالیٰ بندے سے پوچھے کہ بتا تیری رضا کیا ہے؟

ارسلان بھائی آپ نے بالکل ٹھیک کہا کہ اللہ کی رحمت کے علاوہ تو کوئی بھی جنت میں‌ داخل نہیں ہو سکتا، باقی رہا کہ شعر اور حدیث کی نسبت، تو یہ وہی نسبت ہے جو درج ذیل شعر اور سورۃ الرعد کی اس آیت کی ہے

إِنَّ ٱللَّهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوۡمٍ حَتَّىٰ يُغَيِّرُواْ مَا بِأَنفُسِہِمۡ‌ۗ

خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی
نہ ہو خیال جس کو آپ اپنی حالت کے بدلنے کا.

اگر شاعر نے حدیث کا مفہوم شعر کی شکل میں کہہ دیا تو کیا غلط بات ہے۔
باقی جس مقام کی آپ بات کر رہے ہیں تو میرا تو ایمان ہے اس چیز پر کہ وہ مقام دنیا میں لوگوں کے لیے تو نہیں‌ ہو سکتا، ہاں آخرت میں ضرور ہو گا ان شاءاللہ، جیسا کہ حدیث کے الفاظ ہیں،
"1) کیا میں تمھیں اس سے بھی کوئی عمدہ چیز دوں؟ 2) اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ کیا تم راضی ہوئے؟"
یہ سوال اللہ تعالی جنت میں انسانوں سے ہی کریں گے نا؟
صحیح مسلم کی حدیث میں نے یہاں (http://www.islamicurdubooks.com/msm/babdetail/bookssubchapters-detail-fafa.html?name=%D8%AC%D9%86%D8%AA) سے لی اور صحیح بخاری یہاں (http://www.ahlehadith.com/sahihbukhari/80/detail8dc1.html) سے

اگر حدیث کے الفاظ میں‌ کوئی ردوبدل ہے تو کوئی صاحب علم اس میں میری اصلاح کر دیں۔۔

ام نور العين
03-07-10, 01:19 PM
ہاہاہاہاہاہاہا

واہ سسٹر واہ

میں اب کوئی بچہ نہیں رہا جو یہ نظمیں پڑھوں ویسسے مجھے اب کہانیوں کا اور رسالے پرھنے کا شوق نہیں رہا

ویسے یہ نظم ہے کہاں۔

كُكڑوں کوں - URDU MAJLIS FORUM (http://urduvb.com/forum/showthread.php?p=216990#post216990)http://www.urduvb.com/forum/images/icons/icon10.gif

جاسم منیر
03-07-10, 01:31 PM
بھائی آپ کے پاس کیا دلیل ہے کہ یہ شعر کہتے وقت علامہ اقبال کے ذہن میں یہ حدیث مبارکہ تھی۔

میں نے "اگر" کا صیغہ استعمال کیا ہے۔ ارسلان بھائی، اور "اگر" میری اردو اتنی کمزور نہیں ہے تو جہاں تک مجھے پتہ ہے "اگر" کا لفظ تب استعمال کیا جاتا ہے جب ایک ہی بات کے 2 یا اس سے زیادہ مطلب نکلتے ہوں تو بات کرنے والا اسے استعمال کرتا ہے اور بات کرنے والے کو خود بھی اسکے بارے میں صحیح سے علم نہیں‌ہوتا۔۔


آپ یہ ثابت کر دیں دلیل کے ساتھ کہ علامہ اقبال کی شاعری مین شرک کا عنصر نہیں پایا جاتا۔
اگر آپ کی باتوں میں وزن ہوا اور آپ کی دلیل پرفیکٹ ہوئی تو ہم مان لیں گے۔

ابھی تو ایک شعر کو ثابت کرنے کی کوشش کی ہے، باقی ان شاءاللہ زندگی رہی تو پھر کبھی۔اسی تھریڈ میں کسی دوست نے کہا تھا کہ ایک وقت میں علامہ اقبال پر صوفیت کا اثر تھا لیکن بعد میں انہوں سے اس سے توبہ کر لی تھی۔تو جو اشعار انہوں نے صوفیت کے دور میں کہیں ہو تو یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ان سے کچھ شرک کی بو آتی ہو، اور ظاہر بات ہے جب انہوں نے صوفیت سے توبہ کر لی تو پھر تو انہوں نے ایسے اشعار نہیں کہیں ہوں گے۔۔ اب اس بات کا میرے پاس کوئی حوالہ نہیں ہے کہ کیا واقعی ایسا ہوا تھا۔ "اگر" ہو گا تو ان شاءاللہ ضرور دوں گا۔۔
باقی شاہد بھائی کا میں دل سے احترام کرتا ہوں، ماشاءاللہ وہ صاحب علم بھی ہیں، لیکن "اگر" اس شعر میں شاعر نے حدیث کا مفہوم بیان کیا ہے تو اسمیں کوئی غلط بات نہیں۔۔

محمد ارسلان
03-07-10, 01:36 PM
كُكڑوں کوں - urdu majlis forum (http://urduvb.com/forum/showthread.php?p=216990#post216990)http://www.urduvb.com/forum/images/icons/icon10.gif

جی میں نے پڑھ لی ہے اتنی کوئی خاص نظم تو نہیں ہے۔

اہل الحدیث
03-07-10, 02:11 PM
بسمہ اللہ الرحمنٰ الرحیم

علامہ اقبال کا پیر و مرشد ایک گمراہ اور بددین شخص تھا

السلام علیکم ورحمتہ اللہ!

عبدل بھائی نے پوسٹ نمبر 108 پرشیر ربانی کو اقبال کا پیر بتایا ہے لیکن اسکا کوئی حوالہ یا دلیل پیش نہیں کی۔ میں نے بھی بالآخر اقبال کا ایک روحانی پیر تلاش کر ہی لیالیکن دلیل کے ساتھ جس کی تفصیل یہ ہے کہ اقبال کے فارسی کلام میں ایک مثنوی ہے، جسے مثنوی اقبال کہا جاتا ہے۔ اس میں علامہ صاحب فرماتے ہیں:

پیر رومی مرشد ضمیر
کاروان عشق و مستی را امیر

ترجمہ: پیر رومی ضمیر کا مرشد ہے، وہ عشق و مستی کے کاروان کا امیر ہے۔

جس بدبخت صوفی شخص کو اقبال یہاں پیر و مرشد قرار دے رہے ہیں یعنی مولانا رومی یہ ترکی میں سرکاری اور عوامی سطح پر بہت بڑا صوفی بزرگ ہے جس کی تصنیف مثنوی مولوی معنوی کو گمراہ صوفیوں نے فارسی میں قرآن قرار دیا ہے۔
اس مختصر تفصیل سے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں مولانا رومی جیسے گمراہ اور گمراہ گر کو پیر و مرشد قرار دینے والے علامہ اقبال کی زہنی سطح کس درجہ کی تھی اور وہ کس قسم کے صوفیانہ عقائد رکھتے تھے۔کیونکہ ایک صحیح العقیدہ شخص کے لئے تو مولانا رومی کو پیر و مرشد قرار دینا تو بہت دور کی بات ہے اس شخص کو مسلمان سمجھنا بھی محل نظر ہے۔

مزید عرض ہے کہ علامہ اقبال کا ایک صوفی تھے جس کے دلائل سابقہ صفحات پر بھی موجود ہیں اور وہ مزارا ت پر بھی حاضری دیتے تھے دیکھئے پوسٹ نمبر 32 اور اقبال کواس بات کی تمیز بھی نہیں تھی کہ اللہ رب العالمین سے کیسے مخاطب ہواجاتا ہے۔شکوہ اس کا ثبوت ہے۔ لہذا ثابت ہوا کہ علامہ اقبال کے اشعار کو صوفی مذہب کے عقائد اور افکار کے بغیر سمجھنے کی کوشش کرنا جہالت ہے۔ زیر بحث اشعار کا وہی معنیٰ معتبر ہیں جسے میں نے ارسلان بھائی نے اور عبدل بھائی نے بیان کیا ہے کیونکہ اس کی تائید اقبال کے مذہبی رجحان سے بھی ہوتی ہے۔ اس کے برعکس ہمارے نقطہ نظر سے مخالفت رکھنے والے اقبال کے اشعار کی بھونڈی تاویلات کر رہے ہیں اور اپنے دامن میں کوئی واضح دلیل بھی نہیں رکھتے۔ بلکہ اس طرح کی مضحکہ خیز باتوں ہی سے میدان مارنا چاہتے ہیں کہ فلاں شخص ہجے صحیح نہیں لکھتا ، انہیں اشعار کا زوق نہیں اوریہ لوگ اقبال کی شاعری کو سمجھنے سے قاصر ہیں وغیر ہ وغیرہ
والسلام


شاید نذیر بھائی!
میں پہلے بھی اقبال کے ذہنی ارتقا پر عرض کر چکا ہوں۔
کیا آپ بھی کبھی کفریہ و شرکیہ عقائد کے حامل نہیں تھے۔ اور کیا ان کو لے کر آج آپ پر کفر کا فتویٰ لگانا ٹھیک ہو گا۔ باقی آپ مجھے اپنا رابطہ نمبر دیں۔ میں آپ کو یہ مسئلہ فون پر تفصیلا" سمجھاؤں گا۔ ان شاء اللہ

محمد ارسلان
03-07-10, 04:53 PM
اگرچہ تو اقبال نے یہ شاعری اس دور میں کہی تھی جب وہ صوفیت سے متاثر تھا اور بعد میں اس نے رجوع کر لیا تھا

تو یہ بہت اچھی بات ہے اگر ایسا ہے تب۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پھر اس کا معاملہ اللہ کے ذمہ ہے

اور پھر آپ لوگ یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ اس نے یہ شاعری صوفیت کے دور میں کی ہے

تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے آپ اس کے صحیح ہونے کے حق میں اتنی بحث کیوں کئے جارہے ہیں حالانکہ شاہد نزیر بھائی نے واضح طور پر یہ ثابت کر دیا ہے کہ اس کے یہ اشعار غلط ہیں پھر اس کے صحیح ہونے کے بارے میں اتنی لمبی بحث بھی کئے جارہے ہیں۔

اگر ایسا ہی ہے تو پھر ان شعروں کو غلط تو مانیں اور پھر وہ شاعری یہاں بیان کریں جو اس نے بعد میں رجوع کرنے کے بعد کی ہو۔

علم کو چھپاو نہ میرے بھائیو یہاں بیان کرو تاکہ سب کو پتہ چلے۔

دولت تو لوگ ایک دوسرے سے چھپاتے ہیں آپ علم چھپا رہے ہیں۔

مانا کہ فون پر بہت اچھی باتیں کرتے ہیں بھائی سلمان

لیکن یہاں بھی بیان کریں نا۔

دیکھیں آپ لوگ حق بیان کریں دلیل کے ساتھ آپ ہمیں اللہ کے فضل سے حق کو تسلیم کرنے والا پائیں گے ان شاءاللہ

لیکن جب آپ لوگوں میں سے کسی کے دلائل جو کہ اتنے پرفیکٹ نہیں ہوتے وہ ہم نہیں تسلیم کرتے تو ہم کو کئی کئی القابات دئے جاتے ہیں کبھی جزباتی تو کبھی کچی عمر کا۔

بھائیو اس اللہ کے بندے شاہد نزیر کا بھی صبر دیکھو کہ اس کی ایک بھی بات نہیں مانی گئی لیکن وہ پھر بھی دلیل دیتے ہیں

اللہ تعالیٰ ہمارے پیارے بھائی شاہد نزیر کے علم و عمل میں برکت عطا فرمائے آمین۔

جاسوس
03-07-10, 09:45 PM
محترم ناظم صاحب

یہاں پر آپ اس پر اعتراض:
شکوہ اللہ سے خاکم بدہن ہے مجھ کو۔

اور یہاں پر آپ خود قسمت کا گلہ کر رہے ہیں:

قسمت کے مارے - صفحہ 5 - urdu majlis forum (http://www.urduvb.com/forum/showthread.php?t=12307&page=5)

قسمت تو آپ کی اللہ نے ہی لکھی ہے اور قسمت کے مارے کا مطلب کیا ہوا، یہی کہ جن پر اللہ نے ظلم کیا، نعوذ باللہ، ، ،

مانتا ہوں کہ آپ کے کہنے کے مطابق تھریڈ آپ نے شروع نہیں کیا، بلکہ آپ کی پوسٹ سے شروع ہوا، پھر بھی آپ کی اس میں بھر پور دلچسپی اور عنوان پر تاحال کوئی اعتراض نہ کرنے پر آپ کی رضامندی کا اظہار ہے، ، ، یعنی آپ کو بھی اللہ سے شکوہ تو ہے، اقبال بے چارے نے تو منافقت سے بچتے ہوئے سیدھا کہہ دیا، اور آپ، ، ،

اوہ سوری سوری میرے یہ حروف حذف کر دیئے جائیں گے، ، ، ناظم سے پنگا از ناٹ چنگا، ، ، بٹ یار سچائی چھپ نہیں سکتی بناوٹ کے اصولوں سے ، ، ،

ہاں ناظم چاہے جو بھی کہتا پھرے، چاہے اسے سنو مین جاندار نظر آئے یا مرغا بنتے ہوئے سر جھکانا شرک لگے، ، ،

محترم جاسوس بھائی

میں اور اللہ سے شکوہ کروں استغفراللہ

یہ تھریڈ قسمت کے مارے میں نے شروع نہیں کیا بلکہ میں پہلے بھی اس بات کو بیان کر چکا ہوں کہ یہ میں نے شروع نہیں کیا

کیوں کہ محمد ارسلان کبھی بھی اتنے گھٹیا الفاظوں کے ساتھ تھریڈ شروع نہیں کرتا جس میں اللہ کی نافرمانی کا عنصر ہو۔

اللہ معاف کرے آمین۔

آپ اس تھریڈ میں میری کوئی ایک بھی ایسی پوسٹ دکھا دیں جس میں میں نے اللہ سے شکوہ کیا ہو اپنی قسمت کا

مرحبا بھائی کے کہنے پر میں نے کہا جب قسمت میں ہو گا ہو جائے گی یعنی قسمت پر یقین ہے کہ جو اللہ نے لکھ دیا ہے وہی ہو گا۔

لیکن اقبال نے لکھا تھا مسلمانوں کی حالت زاری پر کہ

شکوہ اللہ سے خاکم بدہن ہے مجھ کو

قرآن میں واضح ہے کہ جو بھی مسلمانوں پر عذاب آتا ہے تو ان کے اپنے گناہوں کا نتیجہ ہے۔



میں نے اپنی پوسٹ میں اپنا سوال ہائی لائیٹ کر دیا ہے، جس کا جواب آپ کی پوری پوسٹ میں نہیں ہے۔

محمد ارسلان
04-07-10, 07:06 AM
مانتا ہوں کہ آپ کے کہنے کے مطابق تھریڈ آپ نے شروع نہیں کیا، بلکہ آپ کی پوسٹ سے شروع ہوا، پھر بھی آپ کی اس میں بھر پور دلچسپی اور عنوان پر تاحال کوئی اعتراض نہ کرنے پر آپ کی رضامندی کا اظہار ہے، ، ، یعنی آپ کو بھی اللہ سے شکوہ تو ہے،

جناب آپ کے اس سوال کا جواب یہ ہے کہ میں نے نا صرف اس تھریڈ کے موضوع پر اعتراض کیا ہے بلکہ اس کو ڈیلیٹ کرنے کا بھی کہا تھا مجلس منتظمین میں۔

اب یہ ڈیلیٹ نہ کریں یا تھریڈ کا نام تبدیل نہ کریں تو اس میں میرا تو کوئی قصور نہیں ہے۔

اور جہاں تک دلچسپی کا سوال ہے تو وہ دلچسپی صرف مذاق کے لئے کنوارے پن کے موضوع پر ہے۔

جو کہ صرف مذاق کہ طور پر اور ٹائم پاس کے لئے ہے اور کچھ نہیں۔

امید ہے آپ کو جواب مل چکا ہو گا۔

ابومصعب
04-07-10, 09:29 AM
میں صرف یہ کہنا چاہونگا کہ علامہ اقبال کے نظریات سے اختلاف کرتے کرتے کیوں‌لوگ مرحوم کے حق میں ناشائستہ الفاظ استعمال کرنے لگے ہیں۔
اللہ انکی مغفرت فرمائے۔۔۔اگر ان سے چوک ہوئی بھی ہو۔۔۔ورنہ ہم بات کرتے کرنےانکے حق میں "اس کو" اور ایسے الفاظ استعمال کرکے کیوں اپنے غصہ کا اظہار کرنے لگے ہیں۔۔۔! واللہ اعلم

جاسوس
04-07-10, 08:48 PM
جناب آپ کے اس سوال کا جواب یہ ہے کہ میں نے نا صرف اس تھریڈ کے موضوع پر اعتراض کیا ہے بلکہ اس کو ڈیلیٹ کرنے کا بھی کہا تھا مجلس منتظمین میں۔

اب یہ ڈیلیٹ نہ کریں یا تھریڈ کا نام تبدیل نہ کریں تو اس میں میرا تو کوئی قصور نہیں ہے۔

اور جہاں تک دلچسپی کا سوال ہے تو وہ دلچسپی صرف مذاق کے لئے کنوارے پن کے موضوع پر ہے۔

جو کہ صرف مذاق کہ طور پر اور ٹائم پاس کے لئے ہے اور کچھ نہیں۔

امید ہے آپ کو جواب مل چکا ہو گا۔



شرکیہ امور میں ساتھ دینا بھی اتنا ہی قابلِ مواخذہ ہے جتنا شرک کرنا، ، ، چاہے مذاق ہو یا سنجیدہ

جاسوس
04-07-10, 09:38 PM
۔
اللہ تعالیٰ کی ذات صفات اور عبادت میں کسی غیر کو شریک کرنا شرک کہلاتا ہے۔


میں تو سمجھا تھا کہ توحید پر نو کمپرومائز کرنے والے کو شرک کی پوری تعریف معلوم ہوگی، افسوس کہ ایسا نہیں ہے، جناب جو تعریف آپ نے کی ہے وہ ادھوری ہے۔ اونلی 50 پرسنٹ، ، ،

dani
05-07-10, 04:33 AM
میں صرف یہ کہنا چاہونگا کہ علامہ اقبال کے نظریات سے اختلاف کرتے کرتے کیوں‌لوگ مرحوم کے حق میں ناشائستہ الفاظ استعمال کرنے لگے ہیں۔
اللہ انکی مغفرت فرمائے۔۔۔اگر ان سے چوک ہوئی بھی ہو۔۔۔ورنہ ہم بات کرتے کرنےانکے حق میں "اس کو" اور ایسے الفاظ استعمال کرکے کیوں اپنے غصہ کا اظہار کرنے لگے ہیں۔۔۔! واللہ اعلم

یہی تو فرق ہے علم اخلاق کے بغیر بے فائدہ

محمد ارسلان
05-07-10, 05:17 AM
میں تو سمجھا تھا کہ توحید پر نو کمپرومائز کرنے والے کو شرک کی پوری تعریف معلوم ہوگی، افسوس کہ ایسا نہیں ہے، جناب جو تعریف آپ نے کی ہے وہ ادھوری ہے۔ اونلی 50 پرسنٹ، ، ،

یہ صرف سمجھانے کے لئے لکھا ہے

میرے پاس

توحید فی الذات
توحید فی الصفات
توحید فی العبادت

اور

شرک فی الذات
شرک فی الصفات
شرک فی العبادت

پر تفصیل موجود ہے الحمد للہ

محمد ارسلان
05-07-10, 05:20 AM
لیں جاسوس بھائی میری ریپلائی کو ڈیلیٹ کر دیا گیا ہے حق برداشت نہیں ہوا نا

جاسوس بھائی اب انصاف کے ساتھ بتائیں یہ کیا ہے۔

شاہد نزیر
05-07-10, 07:22 AM
السلام علیکم
کافی عرصے سے اس تھریڈ کا مشاہدہ کر رہا تھا، لیکن کچھ کہنے کی ہمت نہیں ہو رہی تھی ۔ آج کچھ کہنے کی جسارت کر رہا ہوں۔۔۔
شاہد بھائی نے علامہ اقبال کے اس شعر سے اعتراض شروع کیا:
خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے
عین باجی، رفی بھائی ، پرخلوص بھائی اور اہل الحدیث بھائی نے بھی اس پر خیالات کا اظہار کیا، تو میں بھی اسی ضمن میں کچھ کہنا چاہتا ہوں۔

صحیح بخاری حدیث نمبر : 6549
حدثنا معاذ بن أسد، أخبرنا عبد الله، أخبرنا مالك بن أنس، عن زيد بن أسلم، عن عطاء بن يسار، عن أبي سعيد الخدري، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إن الله يقول لأهل الجنة يا أهل الجنة‏.‏ يقولون لبيك ربنا وسعديك‏.‏ فيقول هل رضيتم فيقولون وما لنا لا نرضى وقد أعطيتنا ما لم تعط أحدا من خلقك‏.‏ فيقول أنا أعطيكم أفضل من ذلك‏.‏ قالوا يا رب وأى شىء أفضل من ذلك فيقول أحل عليكم رضواني فلا أسخط عليكم بعده أبدا ‏"‏‏.‏
ہم سے معاذ بن اسد نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبردی، کہا ہم کو امام مالک بن انس نے خبردی، انہیں زید بن اسلم نے، انہیں عطاء بن یسار نے اور ان سے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اہل جنت سے فرمائے گا کہ اے جنت والو! جنتی جواب دیں گے ہم حاضر ہیں اے ہمارے پروردگار! تیری سعادت حاصل کرنے کے لیے۔ اللہ تعالیٰ پوچھے گا کیا اب تم لوگ خوش ہوئے؟ وہ کہیںگے اب بھی بھلا ہم راضی نہ ہوں گے کیوں کہ اب تو تو نے ہمیں وہ سب کچھ دے دیا جو اپنی مخلوق کے کسی آدمی کو نہیں دیا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ میں تمہیں اس سے بھی بہتر چیز دوں گا۔ جنتی کہیں گے اے رب! اس سے بہتر اور کیا چیز ہوگی؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ اب میں تمہارے لیے اپنی رضا مندی کو ہمیشہ کے لیے دائمی کردوں گا یعنی اس کے بعد کبھی تم پر ناراض نہیں ہوں گا۔

صحیح مسلم حدیث 1960: سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : بیشک اللہ عزوجل جنتی لوگوں سے فرمائے گا کہ اے جنتیو ! پس وہ کہیں گے کہ اے رب ! ہم خدمت میں حاضر ہیں اور سب بھلائی تیرے ہاتھوں میں ہے۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ کیا تم راضی ہوئے؟ وہ کہیں گے کہ ہم کیسے راضی نہ ہوں گے، ہمیں تو نے وہ دیا کہ اتنا اپنی مخلوق میں سے کسی کو نہیں دیا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ کیا میں تمہیں اس سے بھی کوئی عمدہ چیز دوں؟ وہ عرض کریں گے کہ اے رب ! اس سے عمدہ کون سی چیز ہے؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ میں نے تم پر اپنی رضامندی اتار دی اور اب میں اس کے بعد کبھی تم پر غصہ نہ ہوں گا۔

کیا یہ شعر اوپر بیان کی گئی حدیث پر پورا نہیں اترتا؟اگر جواب ہاں میں ہے تو اگر یہ شعر کہتے وقت علامہ اقبال کے ذہن میں یہی حدیث مبارکہ تھی، تو جو بحث ہم نے اس شعر کو صوفیانہ شعر، یا شرک سے بھرا ہو شعر کہنے میں‌کر دی ، اس کا کیا مطلب؟ اگر میں‌ غلط ہوں تو پلیز اصلاح کیجیے گا۔۔ جب ہم یہ مانتے ہیں‌ کہ علامہ اقبال کی شاعری میں توحید اور جہاد کی جھلک نظر آتی ہے تو کم از کم میں تو یہ ماننے کے لیے تیار نہیں ہوں‌ کہ ایسا شخص صوفی ہو سکتا ہے، یا اپنی شاعری سے لوگوں کو شرک کی دعوت دے سکتا ہے۔۔

السلام علیکم ورحمتہ اللہ!

قابل احترام جاسم منیر بھائی آپ نے ان دو احادیث کو اقبال کے شعر کا مصداق قرار دیتے ہوئے ایک بہت بڑی بنیادی غلطی کی ہے۔ وہ غلطی یہ ہے کہ ان دونو ں احادیث میں جنت کا زکر ہے جو دارلجز ا ہے وہاں کوئی عمل نہیں کرسکے گا جبکہ اقبال کے مذکورہ شعر میں عمل کی بات ہے یعنی خودی کو کر بلند اتنا ، مومن کےلئے اقبال کا یہ پیغام عمل کے ساتھ خاص ہے اور عمل کرنے کی جگہ دنیا ہے جنت نہیں اسلئے آپ کی پیش کردہ احادیث اور اس شعر میں کوئی ربط اور باہمی تعلق نہیں ہے۔ پھر آپ کی یہ بات خارج از امکان ہے کہ یہ شعر کہتے ہوئے اقبال کے زہن میں بھی یہی احادیث ہونگی۔ آپ سے درخواست ہے کہ کسی حدیث کو اقبال کے شعر پر فٹ کرنے سے پہلے غور کر لیا کریں کہ حدیث کی شعر کے ساتھ کوئی مطابقت یا مماثلت بھی ہے یا نہیں۔ آپ ایک مرتبہ پھر کوشش کریں کیونکہ آپ کی یہ کوشش ناکام ہو گئی ہے۔

آپ نے آخر میں یہ بھی فرمایا ہے کہ آپ اقبال کو صوفی ماننے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ اسکے لئے عرض ہے کہ میں نہ مانوں کا تو میرے پاس کوئی علاج نہیں ہے اگر دلیل آپ پر اثر انداز ہوتی ہے تو آپ میری سابقہ پوسٹ پڑھ لیں جہاں اقبال کو خود انکے عمل سے انکے ناقدین کی زبانی اور انکے اشعار کی بنیاد پرصوفی ثابت کیا گیا ہے۔ اور یہ بات ہر گز مت بھولئے گا کہ ایک صوفی کے پاس شرک اور ضلالت کے علاوہ کچھ نہیں ہوتا جسے وہ دوسروں کو دے سکے۔

اگر پھر بھی آپکو اقبال کے صوفی ہونے کا انکار ہے تو ہم آ پ کی بات ماننے کے لئے تیار ہیں بس آپ صرف ایک عدد دلیل فراہم کردیں جو تمام زندگی اقبال کے صوفی ہونے کی نفی کرتی ہو۔ اگر اقبال نے آخر میں صوفیت سے رجوع کر لیا تھا تو اس سے آپ کو کوئی فائدہ ہر گز نہیں ہوگا کیونکہ اقبال کے جن اشعار پر بحث ہو رہی ہے اور اقبال کے آخری عمر کے نہیں ہیں۔ والسلام

شاہد نزیر
05-07-10, 07:43 AM
سے بعض لوگ فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتے ہیں کہ اقبال جیسا الہامی شاعر کہہ رہا ہے کہ نگاہ مرد مومن سے بدل جاتی ہیں تقدیریں تو پھر باقی بات کیا رہ جاتی ہے اور پھر مثالیں دیتے ہیں کہ فلاں صوفی بزرگ کی صحبت کا اثر ہوا، نگاہ پڑھتے ہی دل کی حالت بدل گئی، مرد کامل کی نظروں میں بلا کی تاثیر تھی،



السلام علیکم ورحمتہ اللہ!

طالب علم نےپوسٹ نمبر 105 پر اقبال کو الہامی شاعر قرار دیا ہے یعنی اقبال کی شاعری اسکے کفریہ ، شرکیہ اشعار اور مغلظات سب نعوذباللہ، اللہ کی طرف سے تھے۔استغفراللہ!

مجھے یہ سمجھ میں نہیں آتا کہ معترضین کو ہماری ہجے کی غلطیاں، اردو کی خامیاں اور اشعار کی بدزوقی تو نظر آجاتی ہے لیکن اقبال کو الہامی شاعر قرار دینے پر کوئی اعتراض نہیں ہوتا۔حتی ٰکے کسی نے اس عبارت کا نوٹس تک نہیں لیا،شاید ہمارے مخالفین اقبال کو الہامی شاعرہی سمجھتے ہیں۔ اسلئے اقبال کے کفر اور شرک کو جو ان کے اشعار سے ظاہر ہے کو مشرف بہ اسلام کرنے کی کوششوں میں جان ہلقان کر رہے ہیں۔

اہل الحدیث
05-07-10, 07:53 AM
السلام علیکم ورحمتہ اللہ!

طالب علم نےپوسٹ نمبر 105 پر اقبال کو الہامی شاعر قرار دیا ہے یعنی اقبال کی شاعری اسکے کفریہ ، شرکیہ اشعار اور مغلظات سب نعوذباللہ، اللہ کی طرف سے تھے۔استغفراللہ!

مجھے یہ سمجھ میں نہیں آتا کہ معترضین کو ہماری ہجے کی غلطیاں، اردو کی خامیاں اور اشعار کی بدزوقی تو نظر آجاتی ہے لیکن اقبال کو الہامی شاعر قرار دینے پر کوئی اعتراض نہیں ہوتا۔حتی ٰکے کسی نے اس عبارت کا نوٹس تک نہیں لیا،شاید ہمارے مخالفین اقبال کو الہامی شاعرہی سمجھتے ہیں۔ اسلئے اقبال کے کفر اور شرک کو جو ان کے اشعار سے ظاہر ہے کو مشرف بہ اسلام کرنے کی کوششوں میں جان ہلقان کر رہے ہیں۔

شاہد نذیر بھائی اسی لیے کہتے ہیں کہ خوب سوچ اور سمجھ کر بولنا چاہیے۔ آپ نے طالب علم بھائی کو "رگڑا" دیا جب کہ وہ آپ کی ہی بات کہ رہے تھے اور اقبال کو الہامی شاعر کہنے والوں کا رد کررہے تھے۔

شاہد نزیر
05-07-10, 09:29 AM
شاہد نذیر بھائی اسی لیے کہتے ہیں کہ خوب سوچ اور سمجھ کر بولنا چاہیے۔ آپ نے طالب علم بھائی کو "رگڑا" دیا جب کہ وہ آپ کی ہی بات کہ رہے تھے اور اقبال کو الہامی شاعر کہنے والوں کا رد کررہے تھے۔

السلام علیکم ورحمتہ اللہ!

میں معافی چاہتا ہوں میں اپنی بات درست طریقے سے بیان نہیں کرسکا۔ اصل میں، میں یہ کہنا چاہتا تھا کہ جیساکہ طالب علم بھائی نے اقبال کو الہامی شاعر لکھا ہے۔(اگرچہ وہ دوسروں ہی کی ترجمانی کر رہے ہیں)لیکن اعتراض کرنے والوں کو ان لوگوں پر بھی تو اعتراض کرنا چاہئے جو اقبال کو الہامی شاعر سمجھتے یا کہتے ہیں۔ یا اعتراض کے تیر صرف ہم ہی پر برسائے جائینگے جو غلط اشعار اور انکے اندر چھپے ہوئے غلط عقیدوں کو بیان کر رہے ہیں والسلام

محمد ارسلان
05-07-10, 09:56 AM
بہت ہی زبردست جواب دیا بھائی شاہد نزیر آپ نے

اللہ آپ کو اس کا اجر عظیم عطا فرمائے آمین۔

محمد ارسلان
05-07-10, 09:59 AM
بھائی یہ کہتے ہیں کہ اقبال نے یہ شاعری اس دور میں کی تھی جب اس پر صوفیت کا اثر تھا بعد میں اس نے رجوع کر لیا تھا

میں نے ان کو کہا ہے کہ تم لوگ اس دور کی شاعری لکھ دو جس دور میں اس نے صوفیت سے رجوع کر لیا تھا۔

لیکن ابھی تک کسی نے نہیں لکھا۔

اہل الحدیث
05-07-10, 11:04 AM
یار آپ لوگ اس طرح نہیں سمجھین گے!!!
آپ بتلائیں کیا چاہتے ہیں؟؟؟ اقبال پر کفر کا فتویٰ؟؟؟؟؟
اگر آپ اس قابل ہیں تو لگائیں فتوٰی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پھر میں آپ سے بات کرتا ہوں۔

ابومصعب
05-07-10, 11:35 AM
السلام علیکم
میں سمجھتا ہوں‌کہ انتیظامیہ اب یہاں‌مداخلت کرے۔۔۔اور احسن طریقےسے بات کو منطقی انجام یعنی۔۔۔۔اپنی اپنی انڈرسٹانڈنگ کہہ کر ٹاپک کو کلوز کیا جاسکتا ہے۔کیونکہ آزادی رائے اپنا حق ہے۔۔لیکن جب بات سے بات چلتے چلتے کافی دن ہوجائیں۔۔اور پھر۔۔۔بات بگڑتی نظر آئے تب ایسے ٹاپکس اور موضوعات سے فائدہ کے بجائے نقصان نہ ہوجائے۔۔۔!بس میری رائے ہے یہ۔۔۔جو ڈسٹ بن میں‌بھی چلی جائے تب بھی میں‌ناراض نہیں ہوں۔۔۔اور میری رائے۔۔۔کسی کے ریمارکس پر نہیں‌ہے۔۔۔!
شکریہ

شاہد نزیر
05-07-10, 11:41 AM
یار آپ لوگ اس طرح نہیں سمجھین گے!!!
آپ بتلائیں کیا چاہتے ہیں؟؟؟ اقبال پر کفر کا فتویٰ؟؟؟؟؟
اگر آپ اس قابل ہیں تو لگائیں فتوٰی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پھر میں آپ سے بات کرتا ہوں۔

السلام علیکم ورحمتہ اللہ!
آپ بالکل غلط سمجھے ہیں ہم بالکل بھی اقبال پر کفر کا فتویٰ نہیں لگانا چاہتے ۔ اور یہ اس بات کی بھی دلیل ہے کہ آپ نے میرا موقف سمجھنے اور سابقہ پوسٹس پر موجود بحث پڑھنے کی بھی کوشش نہیں کی ورنہ آپ پر میرا نقطہ نظر واضح ہوجاتا اور آپ کو اسطرح کا مطالبہ کرنے کی ضرورت پیش نہ آتی ۔ اس سلسلہ میں میرا صحیح موقف جاننےکے لئے پوسٹ نمبر 27 اور پوسٹ نمبر 79کا مطالعہ کریں جسکا کچھ حصہ درج زیل ہے۔

السلام علیکم ورحمتہ اللہ

مناسب معلو م ہوتا ہے کہ میں علامہ اقبال کے بارے میں اپنا نقطہ نظر واضح کردوں تاکہ بھائیوں اورخاص طور پر عین بہن کو میری بات سمجھنے میں آسانی ہو۔ علامہ اقبال کی شاعری کو تین ادوار میں با آسانی تقسیم کیا جاسکتاہے پہلا ابتدائی دور جس میں اقبال کے اشعار کا عنوان عشق مجازی تھا، دوسرا اور تیسرا دور جس میں اقبال کی شاعری دین اسلام کی نمائندگی کرتی ہے۔ لیکن اس میں ایک دور وہ ہے جس میں اقبال صوفیانہ عقائد کے مالک تھے اور ایک دور وہ ہے جس کے اشعار سے معلوم ہوتا ہے کہ اقبال صحیح عقیدہ پر تھے۔ یہ بات بھی میرے علم میں آئی تھی کہ اقبال پہلے صوفیت سے متاثر تھے لیکن بعد میں موحد ہوگئے تھے۔ واللہ اعلم

ویسے میں زاتی طور پر علامہ اقبال کی زات کے بارے میں سکوت بہتر سمجھتا ہوں۔ اور نہ تو انکو گمراہ کہتا ہوں اور نہ ہی پکا موحد کیونکہ اللہ ہی انکے بارے میں بہتر جانتا ہے۔ لیکن اس کے ساتھ یہ بھی یاد رہے کہ اب تک اقبال کے بارے میں اس دھاگہ میں ، میں نے جو کچھ بھی لکھا ہے اس سے میرا مقصود علامہ اقبال کی زات پر تنقید نہیں بلکہ میرا ہدف انکے وہ کفریہ اور شرکیہ اشعار ہیں جن کو پسند کرنا یا اپنی زبان پر لانا بھی مومن کے شایان شان نہیں کیونکہ ان اشعار سے اللہ رب العالمین کی بے ادبی لازم آتی ہے۔

بہن عین نے مجھ پر یہ اعتراض بھی کیا ہے کہ میں اقبال کو گمراہ قرار دینے کی کوشش کر رہا ہوں جب کہ میں نے ابھی تک اقبال کے لئے گمراہ کے الفاظ استعمال نہیں کئے ۔ جہاں تک اقبال کے بارے میں میرے حق و باطل کی کھچڑی وغیرہ کہنے کے الفاظ کا تعلق ہے۔ تو میرا یہ دعوی محض دعوی نہیں بلکہ میں دلیل سے اپنی بات کو ثابت کر چکا ہوں اور آئندہ بھی کرنے والا ہوں ۔ انشاء اللہ
والسلام[/color]


السلام علیکم و رحمتہ اللہ!

ضروری وضاحت:
انتہائی افسوسناک بات ہے کہ میری بارہا وضاحت کے باوجو د بھی مجھ پر بلاوجہ فضول قسم کی تنقید کی جارہی ہے۔ اگر تبصرہ و تنقید کرنے سے پہلے میری سابقہ تحریروں کو پڑھ لیا جاتاتو شاید اس کی نوبت ہی نہ آتی ،لیکن جب مقصد ہی تنقید برائے تنقید ہوتو کسی کو کیا ضرورت ہے کہ میری پچھلی باتوں کو یاد رکھتا یا اگر یا د نہیں تھیں تو انہیں ایک نظر دوبارہ دیکھ لیتا۔ یاددہانی کے لئے مقرر عرض ہے کہ میرا مقصد علامہ اقبال کو گمراہ یا کافر ثابت کرنا ہر گز نہیں کیونکہ مجھے معلوم ہوا ہے کہ علامہ اقبال آخری عمر میں اپنے متنازعہ قسم کے اشعار پر نظر ثانی کر کے انہیں تبدیل کرنا چاہتے تھے لیکن زندگی نے مہلت نہ دی دوسرے لفظوں میں انہوں نے صوفیانہ (گستاخانہ)شاعری سے رجوع کر لیا تھا۔اسی لئے ان سے حسن ظن رکھتے ہوئے میں نے ان کی شخصیت کو تنقید کا نشانہ بنانے کے بجائے ان کے کفریہ ، گستاخانہ اور اسلامی تعلیمات کے خلاف اشعارپر اعتراض کیا ہے۔ اور اسکا سبب بھی صرف یہ ہے کہ جو لوگ اقبال کے ہر شعر کو اسلامی تعلیمات کے مطابق سمجھتے ہیں انکی غلط فہمی کودور کیا جاسکے۔ اس ضروری وضاحت کے بعد میری درخواست ہے کہ آیندہ مجھ پر یا میری تحریر پر اعتراض کرتے ہوئے انصاف کا دامن ہاتھوں سے نہ چھوڑیں۔شکریہ

شاہد نزیر
05-07-10, 12:11 PM
السلام علیکم
میں سمجھتا ہوں‌کہ انتیظامیہ اب یہاں‌مداخلت کرے۔۔۔اور احسن طریقےسے بات کو منطقی انجام یعنی۔۔۔۔اپنی اپنی انڈرسٹانڈنگ کہہ کر ٹاپک کو کلوز کیا جاسکتا ہے۔کیونکہ آزادی رائے اپنا حق ہے۔۔لیکن جب بات سے بات چلتے چلتے کافی دن ہوجائیں۔۔اور پھر۔۔۔بات بگڑتی نظر آئے تب ایسے ٹاپکس اور موضوعات سے فائدہ کے بجائے نقصان نہ ہوجائے۔۔۔!بس میری رائے ہے یہ۔۔۔جو ڈسٹ بن میں‌بھی چلی جائے تب بھی میں‌ناراض نہیں ہوں۔۔۔اور میری رائے۔۔۔کسی کے ریمارکس پر نہیں‌ہے۔۔۔!
شکریہ

میں سمجھتا ہوں کہ انتظامیہ کو یہاں مداخلت نہیں کرنی چاہیئے اور آزادانہ بحث جاری رہنی چاہیئے۔ نیا آنے والا یا تھریڈ کا مطالعہ کرنے والادونوں طرف کے دلائل پڑھ کر خود ہی فیصلہ کر لے گا کہ کیا صحیح ہے اور کیا غلط۔

محمد ارسلان
05-07-10, 12:26 PM
یار آپ لوگ اس طرح نہیں سمجھین گے!!!
آپ بتلائیں کیا چاہتے ہیں؟؟؟ اقبال پر کفر کا فتویٰ؟؟؟؟؟
اگر آپ اس قابل ہیں تو لگائیں فتوٰی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پھر میں آپ سے بات کرتا ہوں۔

نا میرے بھائی نا یہ غلط بات ہے کوئی بھی ہماری بحث پڑھنے والا آپ کی اس قسم کے لہجے کو دیکھ کر کیا کہے گا۔

ہم تو آپ لوگوں سے دلیل مانگ رہے ہیں اور آپ لوگوں کا یہ سلوک کہ سخت لہجے میں آجائیں۔

نا میرے بھائی آپ بھی ہمارے لئے معزز ہیں لیکن آپ یہ کہیں کہ جس طرح ہم کہہ رہے ہیں تو مانتے جاو یہ نہیں چلے گا

دلیل ہے تو دیں ورنہ بحث سے اجتناب کریں۔


اگر آپ اس قابل ہیں تو لگائیں فتوٰی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بھائی جان ہماری کیا جرات ہم فتوی لگائیں ہم نے تو اقبال کے کچھ اشعار کو قرآن و حدیث کی رو سے غلط ثابت کیا ہے

آپ دلیل دینے کے قابل ہیں تو دیں دلیل۔

پھر میں آپ سے بات کرتا ہوں۔

بات آپ اب بھی کر لیں بھائی جان لیکن دلیل سے۔

محمد ارسلان
05-07-10, 12:29 PM
میں سمجھتا ہوں کہ انتظامیہ کو یہاں مداخلت نہیں کرنی چاہیئے اور آزادانہ بحث جاری رہنی چاہیئے۔ نیا آنے والا یا تھریڈ کا مطالعہ کرنے والادونوں طرف کے دلائل پڑھ کر خود ہی فیصلہ کر لے گا کہ کیا صحیح ہے اور کیا غلط۔

بھائی جان جب یہ آپ کی دلیل کا سامنا نہیں کر سکتے تو آخری یہی اختیار استعمال کریں گے کہ تھریڈ مقفل کر دیں۔

عبدل
05-07-10, 04:03 PM
الحمدللہ جو میں چاہتا تھا وہ ھی ھوا میں اقبال کو صوفی اور پیر پرست سمجھتا تھا اسی لیے میں نے بات شروع کی تھی الحمدللہ اب اس موضوع پر کافی دلائل آگئے ھیں
شاھد نذیر بھائی کا شکریہ انھوں نے کافی دلائل دئیے جس سے میرے علم میں اضافہ ھوا ھے-
رہی بات ہجے لکھنے کی تو اس کا عقیدے کے ساتھ کیا تعلق ھے کیا ان پڑھ آدمی کسی شرک کرنے والے کو مشرک نہیں کہہ سکتا؟؟؟

جاسم منیر
06-07-10, 10:58 AM
رہی بات ہجے لکھنے کی تو اس کا عقیدے کے ساتھ کیا تعلق ھے کیا ان پڑھ آدمی کسی شرک کرنے والے کو مشرک نہیں کہہ سکتا؟؟؟

اگر اس مشرک شخص نے سچے دل سے اپنے شرکیہ عقیدے، اپنے شرکیہ نظریات اور اپنی شرکیہ سوچ سے توبہ کر لی ہو، تو پھر تو کوئی بھی اسے مشرک نہیں کہہ سکتا، ہاں، اگر ایسانہیں تو پھر اسے مشرک کہنے نہ کہنے سے کوئی فرق نہیں پڑتا، قرآن و سنت کی رو سے تو وہ مشرک ہے نا۔۔۔۔
امید ہے سمجھ گئے ہوں گے۔۔۔

طالب علم
06-07-10, 03:00 PM
ازراہ مہربانی، تحمل سے کام لیجئے (http://www.urduvb.com/forum/showthread.php?t=8121)

دو باتیں لکھوں گا:

1) صرف انبیاء ہی معصوم عن الخطاء ہوتے ہیں اور کوئی نہیں۔ شعرا کی باتوں میں خشک و تر سب کچھ ملتا ہے وہ ہر وادی میں بھٹکتے ہیں۔ اقبال کی شاعری میں وطنیت بھی ہے اور اس کا رد بھی، عشق و مستی بھی ہے اور عشق بتاں سے پرہیز کی نصیحت بھی، تصوف بھی ہے، صوفیا کی سپورٹ بھی ہے اور قبر پرستی پر طنز بھی، اقبال کی شاعری پڑھیں گے تو سب کچھ مل جائے گا۔ لیکن ہماری ہدایت کے لئے جو کافی تھا وہ نازل ہو چکا۔ ہمارے حکیم الامت نبی صلی اللہ علیہ وسلم تھے جو کہ مکہ میں پیدا ہوئے تھے اور ان پر اپنے رب کی طرف سے وحی نازل ہوتی تھی جبکہ اقبال مرحوم پر نہیں

2) اللہ بے نیاز ہے جسے چاہے پخشے، جسے چاہے عزاب دے۔ اقبال کا خاتمہ کس عقیدہ پر ہوا ہے ؟ یہ اللہ کو پتہ ہے۔ ہماری نجات کا دارومدار اقبال کے عقیدے کے درست ، غلط ہونے پر نہیں ہے۔ ان کے لئے ان کے اعمال اور ہمارے لئے ہمارے اعمال۔ ہماری قوتیں اقبال کو مشرک ثابت کرنے کی بجائے شرکیہ اعقائد و اعمال پر صرف ہونی چاہییں۔

اگر کسی بھائی کے جزبات کو ٹھیس پہنچی ہو تو معزرت خواہ ہوں

محمد ارسلان
06-07-10, 04:09 PM
آپ نے بہت اچھی باتیں کی ہیں طالب علم بھائی آپ کی باتیں پڑھ کر خوشی ہوئی جزاک اللہ خیرا

اہل الحدیث
06-07-10, 04:15 PM
ازراہ مہربانی، تحمل سے کام لیجئے (http://www.urduvb.com/forum/showthread.php?t=8121)

دو باتیں لکھوں گا:

1) صرف انبیاء ہی معصوم عن الخطاء ہوتے ہیں اور کوئی نہیں۔ شعرا کی باتوں میں خشک و تر سب کچھ ملتا ہے وہ ہر وادی میں بھٹکتے ہیں۔ اقبال کی شاعری میں وطنیت بھی ہے اور اس کا رد بھی، عشق و مستی بھی ہے اور عشق بتاں سے پرہیز کی نصیحت بھی، تصوف بھی ہے، صوفیا کی سپورٹ بھی ہے اور قبر پرستی پر طنز بھی، اقبال کی شاعری پڑھیں گے تو سب کچھ مل جائے گا۔ لیکن ہماری ہدایت کے لئے جو کافی تھا وہ نازل ہو چکا۔ ہمارے حکیم الامت نبی صلی اللہ علیہ وسلم تھے جو کہ مکہ میں پیدا ہوئے تھے اور ان پر اپنے رب کی طرف سے وحی نازل ہوتی تھی جبکہ اقبال مرحوم پر نہیں

2) اللہ بے نیاز ہے جسے چاہے پخشے، جسے چاہے عزاب دے۔ اقبال کا خاتمہ کس عقیدہ پر ہوا ہے ؟ یہ اللہ کو پتہ ہے۔ ہماری نجات کا دارومدار اقبال کے عقیدے کے درست ، غلط ہونے پر نہیں ہے۔ ان کے لئے ان کے اعمال اور ہمارے لئے ہمارے اعمال۔ ہماری قوتیں اقبال کو مشرک ثابت کرنے کی بجائے شرکیہ اعقائد و اعمال پر صرف ہونی چاہییں۔

اگر کسی بھائی کے جزبات کو ٹھیس پہنچی ہو تو معزرت خواہ ہوں

بالکل بھائی یہی بات ہے۔ اگر کوئی اچھی چیز مل جائے تو اسے لے لینا چاہئے۔اور غلط بات کو چھوڑ دینا چاہیے۔ کسی پر فتویٰ لگانا ہمارا کام نہیں

محمد ارسلان
06-07-10, 04:28 PM
بھائی سلمان صرف آپ کی بات میں میں تھوڑی سی ترمیم کرنا چاہوں گا کہ

اگر کوئی اچھی چیز مل جائے تو اسے لے لینا چاہئے

وہ چیز جو حق پر ہو مل جائے تو اسے لے لینا چاہیے۔

کیونکہ کہ بھائی ہم انسانوں کا نفس ایسی چیزوں کو اچھا محسوس کر سکتا ہے جو قرآن و حدیث کے خلاف ہوں۔

اہل الحدیث
06-07-10, 05:00 PM
کیونکہ کہ بھائی ہم انسانوں کا نفس ایسی چیزوں کو اچھا محسوس کر سکتا ہے جو قرآن و حدیث کے خلاف ہوں۔

اچھی سے میری مراد قرآن و سنت کے مطابق بات ہے۔

محمد ارسلان
07-07-10, 05:16 AM
سلمان بھائی جزاک اللہ خیرا

طالب نور
09-07-10, 09:20 AM
ازراہ مہربانی، تحمل سے کام لیجئے (http://www.urduvb.com/forum/showthread.php?t=8121)

دو باتیں لکھوں گا:

1) صرف انبیاء ہی معصوم عن الخطاء ہوتے ہیں اور کوئی نہیں۔ شعرا کی باتوں میں خشک و تر سب کچھ ملتا ہے وہ ہر وادی میں بھٹکتے ہیں۔ اقبال کی شاعری میں وطنیت بھی ہے اور اس کا رد بھی، عشق و مستی بھی ہے اور عشق بتاں سے پرہیز کی نصیحت بھی، تصوف بھی ہے، صوفیا کی سپورٹ بھی ہے اور قبر پرستی پر طنز بھی، اقبال کی شاعری پڑھیں گے تو سب کچھ مل جائے گا۔ لیکن ہماری ہدایت کے لئے جو کافی تھا وہ نازل ہو چکا۔ ہمارے حکیم الامت نبی صلی اللہ علیہ وسلم تھے جو کہ مکہ میں پیدا ہوئے تھے اور ان پر اپنے رب کی طرف سے وحی نازل ہوتی تھی جبکہ اقبال مرحوم پر نہیں

2) اللہ بے نیاز ہے جسے چاہے پخشے، جسے چاہے عزاب دے۔ اقبال کا خاتمہ کس عقیدہ پر ہوا ہے ؟ یہ اللہ کو پتہ ہے۔ ہماری نجات کا دارومدار اقبال کے عقیدے کے درست ، غلط ہونے پر نہیں ہے۔ ان کے لئے ان کے اعمال اور ہمارے لئے ہمارے اعمال۔ ہماری قوتیں اقبال کو مشرک ثابت کرنے کی بجائے شرکیہ اعقائد و اعمال پر صرف ہونی چاہییں۔

اگر کسی بھائی کے جزبات کو ٹھیس پہنچی ہو تو معزرت خواہ ہوں

جزاک اللہ، میرے خیال میں اس موضوع پر یہ ایک بہترین بات ہے۔ اللہ ہم سب کو کفر و شرک سے براءت کرنے اور کتاب و سنت کو اپنانے کی توفیق دے، آمین۔

رانا ابو بجاش
07-08-10, 01:42 PM
ڈاکٹر اقبال ملت کا درد رکھنے والے ایک عظیم شاعر تھے۔ان کی شاعری کازیادہ تر حصہ انتہائی قابل قدر ہے تاہم وہ عالم دین نہ تھے اس لئے تعبیر دین میں ان سے فاش غلطیاں ہوئیں۔ان کا مجموعہ خطبات فکرونظر کی کجی پر صراحت سے دلالت کناں ہے۔