PDA

View Full Version : اسلام میں مرتد کی سزا کا حکم


كفايت الله
25-02-11, 08:51 AM
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔
ڈاکٹرذاکرنائیک صاحب نے حال ہی میں اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ:

اسلام میں مرتد کے لئے قتل کی سزا حتمی نہیں ہے۔

http://www.youtube.com/watch?v=XvK7y1msIkQ


http://www.youtube.com/watch?v=sd7WJKWY78U&feature=related


دوسری ویڈیو کا آخری حصہ سماعت فرمائیں۔



"…death penalty is not the standard punishment for any Muslim who leaves his faith and professes any other religion…" and he substantiated it by stating that Muslim who converted to another faith, was pardoned by Allah's Messenger (sallallahu alaihe wasallam) according to hadeeth no. 4345 from Sunan Abu Dawood.

There are tens of millions of people watching this program on 'Peace TV', they are being educated that death penalty is not the standard rule but why will they believe in me because I have given the reference. I gave the reference of the saying of Prophet from Abu Dawood. I am giving the reference for authenticity - Abu Dawood, vol. 3, hadeeth no. 4345.

Now the difference between my answer and the other answers are that the other people just say without giving reference. Now when I give a reference, … … this gives more authenticity and I am sure now, there are millions of Muslims who will agree that death penalty is not the standard rule for any Muslim who changes his faith to any other religion… …"

This incident proves that death penalty is not the standard rule for any Muslim who changes his faith. If he does some act which requires to be punished by death depending upon the act he has done but according to Islam and according to Prophet (peace be upon him) - according to me - death penalty is not the standard rule for any Muslim who changes his faith and professes any other religion - and that's what I have told in my talks - but unfortunately what they do - ….

موصوف نے ابوداؤکی درج ذیل حدیث‌ سے استدلال کیا ہے:

حدثنا أحمد بن محمد المروزي ثنا علي بن الحسين بن واقد عن أبيه عن يزيد النحوي عن عكرمة عن ابن عباس قال : كان عبد الله بن سعد بن أبي سرح يكتب لرسول الله صلى الله عليه و سلم فأزله الشيطان فلحق بالكفار فأمر به رسول الله صلى الله عليه و سلم أن يقتل يوم الفتح فاستجار له عثمان بن عفان فأجاره رسول الله صلى الله عليه و سلم .[سنن أبي داود 2/ 532 رقم 4358 -]

تنبیہ : ڈاکٹر صاحب نے ابوداؤد کے انگریزی نسخے کا حوالہ دیا ہے اورہم نے اسی روایت کو عربی نسخے سے نقل کیا ہے۔


اولا: یہ بتلائیں کہ مذکورہ روایت کا درجہ کیا ہے؟

ثانیا: مذکورہ حدیث‌ کا حقیقی پس منظر پیش کریں نیز یہ بتلائیں کہ مذکورہ روایت سے ڈاکٹرصا حب کا استدلال درست ہے کہ نہیں، اگرنہیں تواستدلال کا مستدل حدیث‌ سے عدم تعلق واضح کردیں ،

ثالثا: کیا اس مسئلہ میں متقدمین فقہاء ومحدثین کے مابین کوئی اختلاف رہا ہے۔

رابعا: قران نے کہا ہے :{ لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ} [البقرة: 256]

بعض حضرات کہتے ہیں کہ جب قران کی روسے دین اسلام میں زبردستی نہیں ہے تو پھرمرتد کے لئے سزائے موت کی بات کرنا اس قرآنی آیت کے خلاف ہے ۔
آپ سے گزارش ہے کہ اگرواقعی مرتدکے لئے اسلام میں لازمی طورپرسزائے موت ہے تواس قانون اورمذکورہ آیت کے مابین ظاہری تعارض‌ کو رفع کریں ۔

واضح رہے کہ ہم نے اب تک یہی سنا تھا اسلام میں مرتد کے لئے سزائے موت کا انکار قادیانیوں کا موقف ہے، اب اسی موقف کوکتاب وسنت سے ثابت شدہ موقف کہا جارہاہے۔

بعض علاقوں میں اس مسئلہ پرکافی بحث ہورہی ، اورانگریزی تعلیم یافتہ نوجوانوں کی اکثریت، ڈاکٹر صاحب کے اس موقف پرایمان لاچکی ہے۔ آپ سے گزارش ہی کہ جلد ہی جواب مرحمت فرمادیں تاکہ اہل علم کے حوالے سے عوام کے سامنے کوئی بات رکھی جاسکے، جزاکم اللہ خیراوبارک فی علمکم۔

رفیق طاھر
25-02-11, 05:54 PM
1- یہ حدیث حسن لذاتہ ہے ۔
2,3- محترم ذاکر نائیک نے وہی موقف اختیار کیا ہے جو کہ جمہور اہل علم کا موقف ہے , موصوف کی بات اور جمہور کی بات میں کوئی اختلاف نہیں ہے ۔ صرف سمجھ کا اختلاف ہے جو سننے والوں میں پیدا ہوا ہے ۔
کیونکہ تمام تر اہل علم کے ہاں یہ بات مسلمہ ہے کہ مرتد کی سزا قتل ہی ہے لیکن قتل سے قبل اسے اسلام کی طرف لوٹ آنے کی دعوت دی جائے گی ۔ اور اس حدیث میں بھی یہی بات ہے کہ اسکے مرتد ہونے کی بناء پر رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم نے عمومی حکم جاری فرمایا لیکن جب اس نے پناہ طلب کی اور اسلام میں دوبارہ سے داخلہ چا ہا تو اسے پناہ بھی ملی اور اسلام کو قبول کیا گیا ۔
اس حدیث کا پس منظر جاننے کے لیے سنن نسائی باب حکم المرتد سے حدیث نمبر 4067 ملاحظہ فرمائیں :
وأما عبد الله بن سعد بن أبي السرح فإنه اختبأ عند عثمان بن عفان فلما دعا رسول الله صلى الله عليه و سلم الناس إلى البيعة جاء به حتى أوقفه على النبي صلى الله عليه و سلم قال يا رسول الله بايع عبد الله قال فرفع رأسه فنظر إليه ثلاثا كل ذلك يأبى فبايعه بعد ثلاث ثم أقبل على أصحابه فقال أما كان فيكم رجل رشيد يقوم إلى هذا حيث رآني كففت يدي عن بيعته فيقتله فقالوا وما يدرينا يا رسول الله ما في نفسك هلا أومأت إلينا بعينك قال إنه لا ينبغي لنبي أن يكون له خائنة أعين
4- مرتد کے لیے سزائے موت کی بات کرنا قرآنی آیت کے خلاف نہیں ہے بلکہ قرآنی آیت کے عین مطابق ہے ملاحظہ کریں اللہ تعالى کا فرمان ہے :
إِنَّمَا جَزَاءُ الَّذِينَ يُحَارِبُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَيَسْعَوْنَ فِي الْأَرْضِ فَسَادًا أَنْ يُقَتَّلُوا أَوْ يُصَلَّبُوا أَوْ تُقَطَّعَ أَيْدِيهِمْ وَأَرْجُلُهُمْ مِنْ خِلَافٍ أَوْ يُنْفَوْا مِنَ الْأَرْضِ ذَلِكَ لَهُمْ خِزْيٌ فِي الدُّنْيَا وَلَهُمْ فِي الْآخِرَةِ عَذَابٌ عَظِيمٌ إِلَّا الَّذِينَ تَابُوا مِنْ قَبْلِ أَنْ تَقْدِرُوا عَلَيْهِمْ فَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ ____ المائدہ 33,34 ______
تو اللہ کے دین کو ترک کرنے سے بڑا محاربہ اور فساد فی الارض کیا ہو سکتا ہے ؟؟؟
نیز اسی مقام پر اللہ تعالى نے دنوں باتوں کو واضح کردیا ہے جو حدیث میں ہیں کہ
1- مرتد کی سزا قتل ہے ۔
2- سزا ملنے سے قبل اگر وہ توبہ کرلے تو اسکی معافی ہے ۔
لہذا رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم کا یہ فیصلہ مرتد کی سزا اور توبہ کے بعد اسکی معافی دنوں ہی قرآن مجید فرقان حمید کے عین مطابق ہیں رہی آیت لا اکراہ فی الدین تو اسکے مفہوم یامنطوق میں خاص مرتد کی سزا کا تعین نہیں ہے یعنی دعوى دلیل سے اخص ہے !!!
________
اصل خرابی کو سمجھیں کہ وہ کیا ہے
اصل غلط فہمی یہ ہوئی ہے کہ بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ مرتد کی معافی نہیں ہے
جبکہ آج تک اہل علم میں سے کسی نے بھی یہ بات نہیں کہی ہے ۔
بلکہ مذکورہ بالا حدیث اور آیت اس موقف کے سرا سر خلاف ہے
نیز اللہ تعالى نے مزید یہ بھی فرمایا ہے :
إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا ثُمَّ كَفَرُوا ثُمَّ آمَنُوا ثُمَّ كَفَرُوا ثُمَّ ازْدَادُوا كُفْرًا لَمْ يَكُنِ اللَّهُ لِيَغْفِرَ لَهُمْ وَلَا لِيَهْدِيَهُمْ سَبِيلًا
یعنی ایمان کے بعد کفر پھر کفرکے بعد ایمان پھر ایمان کے بعد کفر اور پھر کفر میں ہی بڑھ جانا
گویا کہ کفر کے بعد ایمان کو اللہ تعالى بھی تسلیم فرما رہے ہیں کہ کفر کے بعد ایمان ہو سکتا ہے لیکن اگر کفر کے بعد کوئی شخص کفر میں ہی بڑھ جائے تو اسکی آخرت میں معافی نہیں ہے ۔
یہی نقطہ ہے سمجھنے کا
کہ مرتد کی سزا صرف اور صرف موت یعنی قتل ہے
لیکن اگر وہ توبہ کر لے تو اسکی توبہ کا اعتبار کیا جائے گا اور اسکے ایمان کو قبول کیا جائے گا ۔
خوب سمجھ لیں ۔

كفايت الله
25-02-11, 08:56 PM
جزاکم اللہ خیرا

جوحضرات بھی مرتد کے لئے قتل کی سزاء کو درست مانتے ہیں، ان میں یہ بات سب کومعلوم ہے کہ مرتد اگرتوبہ کرلے تواس پرحد نافذ نہیں ہوگی، میں نہیں جانتا کہ قائلین حد کے مابین اس بارے میں کوئی اختلاف بھی ہے!

آپ نے کہا :
اصل غلط فہمی یہ ہوئی ہے کہ بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ مرتد کی معافی نہیں ہے
جبکہ آج تک اہل علم میں سے کسی نے بھی یہ بات نہیں کہی ہے ۔

اہل علم سے متعلق آپ نے تووضاحت کردی ، لیکن یہ بعض لوگ کون ہیں جنہوں نے اس طرح کی بات کہی ہے ؟ ہم نے توآج تک کسی سے اس طرح کی بات کہتے نہیں سنا !

ڈاکٹرصاحب کے کلام کا کیا مطلب ہے، ایک طرف آپ ہیں جنہوں نے مذکورہ بالا مطلب سمجھا ہے دوسری طرف کچھ انگریزی داں ایسے ہیں جوڈاکٹر صاحب کے کلام کا یہ مطلب سمجھتے ہیں کہ جومرتد ہمیشہ کے لئے مرتدہوجائے اورتوبہ کرکے دوبارہ اسلام میں آنے سے انکار کردے اسے بھی قتل کرنا ضروری نہیں‌ ہے ، ان کچھ میں سے چند حضرات تومیرے ارد گردہیں اورانہیں کے بقول اس سلسلے میں بعض کی انگریزی تحریر انٹرنیٹ پربھی ہے۔

چونکہ ڈاکٹرصاحب باحیات ہیں اس لئے کون صحیح سمجھ رہا کون غلط ، یہ جاننے کی لئے ہم ان سے براہ راست رابطہ کریں گے، فی الحال آپ دوٹوک میں‌ یہ واضح کردیں کہ:

1: ایسا مرتد جودوسرامذہب قبول کرلے اورواپس اسلام میں آنے کے لئے تیارنہ ہو ، توبہ کے لئے کہا جائے توتوبہ کرنے سے انکار کردے ،کیا ایسے مرتد کو بھی قتل کرنا ضروری نہیں ؟قادیانیوں کا کہنا ہے کہ اسے بھی قتل کرنا جائز نہیں ،اس سلسلے میں ان کے ایک عالم کی سی ڈی میرے پاس موجود ہے۔

2: نیز کیا اس مسئلہ میں متقدمین فقہاء ومحدثین کے مابین کوئی اختلاف رہا ہے، یعنی ایسے مرتد کے قتل کے سلسلے میں جو ارتداد پرمصر ہواورتوبہ کرنے سے انکارکردے

3:

رہی آیت لا اکراہ فی الدین تو اسکے مفہوم یامنطوق میں خاص مرتد کی سزا کا تعین نہیں ہے یعنی دعوى دلیل سے اخص ہے !!!

مزید واضح کریں ، اوربتائیں کہ آپ اس سے کیا کہنا چاہتے ہیں ؟ کہیں آپ کا یہ مطلب تو نہیں کہ آیت لا اکراہ میں عام بہت ہے اورقتل مرتد کا خاص حکم اس سے مستثنی ہے ؟ یا پھر کیا مراد ہے اورواضح کریں ۔

رفیق طاھر
25-02-11, 11:24 PM
1- کیوں نہیں !
مرتد اگر تائب نہ ہو تو اسے قتل کرنا ضروری ہے !
2- میرے علم کے مطابق اس بارہ میں کوئی اختلاف نہیں کہ مرتد اگر تائب نہ ہو تو اسے قتل ہی کیا جائے گا ۔
3- دعوى ہے کہ مرتد کو قتل نہیں کیا جانا چاہیے
اور دلیل ہے کہ اسلام میں اکراہ نہیں
دعوى خاص مرتد کے بارہ میں ہے
دلیل عام قبول اسلام کے بارہ میں ہے
یہ معنى ہے ۔
اور یہ بات مسلمہ ہے کہ ہر عام سے کچھ نہ کچھ خاص بھی ہوتا ہے
اور دوسری بات کہ لا اکراہ فی الدین سے سزائیں تو ہیں ہی خارج !!!
اور مرتد کو سزا اسلام قبول نہ کرنے کی بناء پر نہیں بلکہ دین کو بدنام کرنے کے اللہ اور رسول کے ساتھ محاربت اور فساد فی الارض کرنے کی بناء پر ہے
لہذا اس اعتبار سے بھی آیت لا اکراہ ارتداد والے مسئلہ پر فٹ نہیں ہوتی !

كفايت الله
20-05-11, 08:36 AM
مرتد سے متعلق درج ذیل ربط پر اچھی معلومات ہے:
حد الردة بين أئمة المسلمين وشبهات المحدَثين (http://www.ahlalhdeeth.com/vb/showthread.php?p=1537428#post1537428)

كفايت الله
27-08-11, 01:21 AM
یہاں پر بھی یہی سوال وجواب ہے ۔ (http://www.urduvb.com/forum/showthread.php?t=18307)