كفايت الله
18-03-11, 03:19 PM
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔
ہمارے پاس ایک لائبریری ہے جس میں الحمدللہ ہم نے کافی کتابیں اکٹھا کی ہیں ، ہمیں اس بات کی سخت ضرورت محسوس ہورہی ہے کہ ہم اپنی اس لائبریری میں اہل بدعت کی بھی کچھ کتابیں اکٹھا کریں تاکہ ، لوگوں کو ان کی بدعقیدگیوں سے آگاہ کیا جائے۔
لیکن بعض حضرات کا خیال ہے کہ اہل بدعت کی کتابیں خریدنے میں جوپیسہ لگا یا جائے گا وہ صدقہ جاریہ میں شمار نہیں ہوگا ، اس لئے اس سلسلے میں کچھ لوگ تعاون دینے سے کترا رہے ہیں ۔
جبکہ دوسری طرف کچھ لوگوں کی رائے یہ ہے کہ اہل ثروت کے پاس بینک میں جوسودی رقم ہے اس سے اہل بدعت کی کتابیں خرید سکتے ہیں۔
ایسی صورت میں سوال ہے کہ:
1: اہل بدعت کی کتابیں خریدکر لائبریری میں رکھنا باعث اجراورصدقہ جاریہ ہوگا کہ نہیں؟
2: بینک کے سودی پیسوں سے اہل بدعت کی کتابیں خرید کر لائبریری میں رکھ سکتے ہیں کہ نہیں ؟
ہمارے پاس ایک لائبریری ہے جس میں الحمدللہ ہم نے کافی کتابیں اکٹھا کی ہیں ، ہمیں اس بات کی سخت ضرورت محسوس ہورہی ہے کہ ہم اپنی اس لائبریری میں اہل بدعت کی بھی کچھ کتابیں اکٹھا کریں تاکہ ، لوگوں کو ان کی بدعقیدگیوں سے آگاہ کیا جائے۔
لیکن بعض حضرات کا خیال ہے کہ اہل بدعت کی کتابیں خریدنے میں جوپیسہ لگا یا جائے گا وہ صدقہ جاریہ میں شمار نہیں ہوگا ، اس لئے اس سلسلے میں کچھ لوگ تعاون دینے سے کترا رہے ہیں ۔
جبکہ دوسری طرف کچھ لوگوں کی رائے یہ ہے کہ اہل ثروت کے پاس بینک میں جوسودی رقم ہے اس سے اہل بدعت کی کتابیں خرید سکتے ہیں۔
ایسی صورت میں سوال ہے کہ:
1: اہل بدعت کی کتابیں خریدکر لائبریری میں رکھنا باعث اجراورصدقہ جاریہ ہوگا کہ نہیں؟
2: بینک کے سودی پیسوں سے اہل بدعت کی کتابیں خرید کر لائبریری میں رکھ سکتے ہیں کہ نہیں ؟