محمد اکبر فیض
01-11-07, 05:57 PM
میں تنہا نہیں ہوں:00012:
ایک شام میں نے سوچا
شاید میں تنہا ہوں
سمندر کے کنارے کی طرح
میرا کوئی دوست نہیں
کوئی اپنا نہیں
لیکن تیرا خیال
تیرے ہونے کا احساس دلاتا ہے
یہ دنیا والے
تیری عظمت سے آشکار کرواتے ہیں
خوشی کے بعد غم۔۔۔۔۔ اور
غم کے بعد خوشی
میرا حوصلہ بڑھاتے ہیں
کہ میں تنہا نہیں ہوں
بلکہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اے باری تعالٰی!
تو تو میری شہہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے
ایک شام میں نے سوچا
شاید میں تنہا ہوں
سمندر کے کنارے کی طرح
میرا کوئی دوست نہیں
کوئی اپنا نہیں
لیکن تیرا خیال
تیرے ہونے کا احساس دلاتا ہے
یہ دنیا والے
تیری عظمت سے آشکار کرواتے ہیں
خوشی کے بعد غم۔۔۔۔۔ اور
غم کے بعد خوشی
میرا حوصلہ بڑھاتے ہیں
کہ میں تنہا نہیں ہوں
بلکہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اے باری تعالٰی!
تو تو میری شہہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے