marhaba
27-09-11, 09:38 AM
معزز اراکین اردو مجلس
السلام علیکم ورحمۃ اللہ ۔۔۔۔۔
آپ سب کے لئے ایک سوال چھوڑے جارہا ہوں۔یہ سوال کوئی فقہی سوال نہیں کہ علماء سے اس کا جواب مطلوب ہو۔یہ ایک عام اعتقادی سوال ہے کہ جس کا جواب ہر مسلمان کو دینا چاہئے۔
اکثر یہ دیکھا گیا ہے یا یوں کہئے کہ یہ ایک حقیقت ہے کہ موت انسان کے لئے ایک ناپسندیدہ چیز رہی ہے اور ہے۔۔ اگر آپ کیوں؟؟؟؟ کا سوال کریں گے تو اس میں دوقسم کے جواب دو مختلف نظریہ کے حامل لوگوں کی طرف سے ملیں گے۔۔۔خیر مجھے اس میں نہیں جانا ہے۔بہر حال انسان موت سے ڈرتا ہے۔اس کے تصور سے وہ کانپتا ہے۔بعض لوگوں کا تو حال یہ ہے کہ موت کے تصور سے کانپتے ہوے ان کا جسم پسینہ سے شرابور ہوجاتا ہے--
حالاں کہ اصل چیز جو ڈرنے کی ہے وہ موت نہیں بلکہ وہ مغفرت ہے۔۔۔۔انسان موت سے بچنے کی دعائیں اور دوائیں کرتا ہے۔۔۔میں یہ نہیں کہتا کہ دعائیں اور دوائیں کرنا خلاف شریعت ہے۔میں اس بات کی طرف توجہ چاہتا ہوں کہ انسان کا شعورکیا ہوتا ہے۔وہ کیوں اپنے آپ کو موت سے بچانا چاہتا ہے۔۔۔موت ایک ایسی چیز ہے جس کے بارے میں مذہبی اور غیر مذہبی کا کوئی فرق نہیں ہے۔وہ سب موت پر یقین رکھتے ہیں ۔۔۔
کل نفس ذائقۃ الموت۔۔اور اینما تکونوا یدرکّم الموت ولو کنتم فی بروج مشیدۃ۔۔
آج نہیں تو کل ہمیں مرنا ہی ہے۔جب مرنا ہی مقدر ہے تو عقلمندی کیا یہ نہیں کہ انسان موت سے بچنے کی دعائیں کرنے کے بجائے اللہ سے مغفرت کی دعائیں کرتا رہے؟؟؟؟
ایک سچا مسلمان موت سے اسی لئے ڈرتا ہے کہ خدا کے یہاں اس کی مغفرت ہوگی یا نہیں۔۔۔
یہی ایک احساس اسے کھائے جاتا ہے۔باقی دنیا کی محبت میں۔یا اپنے بال بچوں کی فکر میں یا اپنی پراپٹی کی دیکھ بھال کی فکر میں موت سے وہ نہیں ڈرتا۔۔۔۔۔
اس لئے دوستو: موت کے تصور سے ڈرنے کے بجائے مغفرت کے تصور سے ڈرتے رہو۔۔۔اور مغفرت ہی کی زیادہ سے زیادہ دعائیں کرتے رہو۔اللہ کے رسول دن میں ستر سے زیادہ مرتبہ اللہ سے مٍغفرت کی دعا کرتے رہتے تھے۔۔یہی سچے اور زندہ ایمان کی علامت ہے۔۔۔۔
السلام علیکم ورحمۃ اللہ ۔۔۔۔۔
آپ سب کے لئے ایک سوال چھوڑے جارہا ہوں۔یہ سوال کوئی فقہی سوال نہیں کہ علماء سے اس کا جواب مطلوب ہو۔یہ ایک عام اعتقادی سوال ہے کہ جس کا جواب ہر مسلمان کو دینا چاہئے۔
اکثر یہ دیکھا گیا ہے یا یوں کہئے کہ یہ ایک حقیقت ہے کہ موت انسان کے لئے ایک ناپسندیدہ چیز رہی ہے اور ہے۔۔ اگر آپ کیوں؟؟؟؟ کا سوال کریں گے تو اس میں دوقسم کے جواب دو مختلف نظریہ کے حامل لوگوں کی طرف سے ملیں گے۔۔۔خیر مجھے اس میں نہیں جانا ہے۔بہر حال انسان موت سے ڈرتا ہے۔اس کے تصور سے وہ کانپتا ہے۔بعض لوگوں کا تو حال یہ ہے کہ موت کے تصور سے کانپتے ہوے ان کا جسم پسینہ سے شرابور ہوجاتا ہے--
حالاں کہ اصل چیز جو ڈرنے کی ہے وہ موت نہیں بلکہ وہ مغفرت ہے۔۔۔۔انسان موت سے بچنے کی دعائیں اور دوائیں کرتا ہے۔۔۔میں یہ نہیں کہتا کہ دعائیں اور دوائیں کرنا خلاف شریعت ہے۔میں اس بات کی طرف توجہ چاہتا ہوں کہ انسان کا شعورکیا ہوتا ہے۔وہ کیوں اپنے آپ کو موت سے بچانا چاہتا ہے۔۔۔موت ایک ایسی چیز ہے جس کے بارے میں مذہبی اور غیر مذہبی کا کوئی فرق نہیں ہے۔وہ سب موت پر یقین رکھتے ہیں ۔۔۔
کل نفس ذائقۃ الموت۔۔اور اینما تکونوا یدرکّم الموت ولو کنتم فی بروج مشیدۃ۔۔
آج نہیں تو کل ہمیں مرنا ہی ہے۔جب مرنا ہی مقدر ہے تو عقلمندی کیا یہ نہیں کہ انسان موت سے بچنے کی دعائیں کرنے کے بجائے اللہ سے مغفرت کی دعائیں کرتا رہے؟؟؟؟
ایک سچا مسلمان موت سے اسی لئے ڈرتا ہے کہ خدا کے یہاں اس کی مغفرت ہوگی یا نہیں۔۔۔
یہی ایک احساس اسے کھائے جاتا ہے۔باقی دنیا کی محبت میں۔یا اپنے بال بچوں کی فکر میں یا اپنی پراپٹی کی دیکھ بھال کی فکر میں موت سے وہ نہیں ڈرتا۔۔۔۔۔
اس لئے دوستو: موت کے تصور سے ڈرنے کے بجائے مغفرت کے تصور سے ڈرتے رہو۔۔۔اور مغفرت ہی کی زیادہ سے زیادہ دعائیں کرتے رہو۔اللہ کے رسول دن میں ستر سے زیادہ مرتبہ اللہ سے مٍغفرت کی دعا کرتے رہتے تھے۔۔یہی سچے اور زندہ ایمان کی علامت ہے۔۔۔۔