عبدالقہارمحسن
29-01-12, 09:49 PM
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
معزز علمائے کرام۔
محترمہ آپی ام نور العین کے حکم (http://www.urduvb.com/forum/showpost.php?p=326433&postcount=15) کے مطابق میں اپنی پوسٹ نمبر 10 (http://www.urduvb.com/forum/showpost.php?p=326315&postcount=10)، 12 (http://www.urduvb.com/forum/showpost.php?p=326352&postcount=12)، اور 14 (http://www.urduvb.com/forum/showpost.php?p=326371&postcount=14) کے تحت پیش آنے والے اشکال کو آپ کی خدمت میں پیش کرنا چاہتا تھا کہ محترم شیخ رفیق طاہر حفظہ اللہ نے پوسٹ نمبر 16 (http://www.urduvb.com/forum/showpost.php?p=326496&postcount=16) کے تحت اپنا نقطہ نظر واضح کر دیا۔
لیکن پھر محمد اسد بھائ نے میرے سوال سے ملتا جلتا سوال پوسٹ کیا تو اسکا جواب (http://www.urduvb.com/forum/showpost.php?p=326632&postcount=4) پا کر میں اس موضوع کو سمجھنے کے لیے یہاں حاضر ہوا ہوں۔
شیخ محترم۔ یہ مسئلہ جتنا زیادہ گھمبیر ہے اتنا ہی زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔ کوئ بھی سچا مسلمان یہ ہرگز نہیں چاہتا کہ وہ اللہ اور اسکے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اعلان جنگ کرے۔ اس لیے اس مسئلہ کو اچھی طرح سمجھنا اور اور تمام مشکلات کا حل تلاش کرنا نہایت ضروری ہے۔
آپکے اس جواب (http://www.urduvb.com/forum/showpost.php?p=326632&postcount=4) کے مطابق تو پھر بنک کے ساتھ لین دین ہر صورت میں "ناجائیز" معلوم ہوتا ہے خواہ وہ کرنٹ اکاؤنٹ کی صورت میں ہی کیوں نہ ہو۔
کیونکہ کرنٹ اکاؤنٹ کے تحت بھی تو ہم بنک کے حرام کمانے میں معاون بن جاتے ہیں۔ اسی طرح جن ملازمین کی اجرت بنک میں آتی ہے اور ملازمین اس میں سے جو بچت کرتے ہیں وہ رقم انکے اکاؤنٹ میں ہی پڑی رہتی ہے خواہ وہ ہزاروں میں ہو یا لاکھوں میں۔ بنک اس رقم سے یومیہ سود حاصل کرتا ہے اس طرح ملازمین کی بنک میں پڑی رہنے والی اجرت بھی حرام کی معاون ثابت ہوتی ہے۔
جبکہ موجودہ دور میں رقم کو جیب میں یا گھر میں محفوظ رکھنا ناممکن نظر آتا ہے۔
اسی طرح کوئ بزنس مین جس کا کروڑوں کا کاروبار ہو وہ اپنی رقم اگر کرنٹ اکاؤنٹ میں بھی رکھے تو بنک لا محالہ اس رقم سے سود کمائے گا۔ اس رقم کا سود پر لین دین کرے گا جسکی وجہ سے اکاؤنٹ کا حامل انسان اس گناہ کا معاون ثابت ہوتا ہے۔
برائے مہربانی اس بارے میں مکمل رہنمائ فرمائیں اور ان اشکالات کا مناسب حل بھی تجویز فرمائیں تاکہ ہر طرح سے اس کبیرہ گناہ سے بچا جائے۔
معزز علمائے کرام۔
محترمہ آپی ام نور العین کے حکم (http://www.urduvb.com/forum/showpost.php?p=326433&postcount=15) کے مطابق میں اپنی پوسٹ نمبر 10 (http://www.urduvb.com/forum/showpost.php?p=326315&postcount=10)، 12 (http://www.urduvb.com/forum/showpost.php?p=326352&postcount=12)، اور 14 (http://www.urduvb.com/forum/showpost.php?p=326371&postcount=14) کے تحت پیش آنے والے اشکال کو آپ کی خدمت میں پیش کرنا چاہتا تھا کہ محترم شیخ رفیق طاہر حفظہ اللہ نے پوسٹ نمبر 16 (http://www.urduvb.com/forum/showpost.php?p=326496&postcount=16) کے تحت اپنا نقطہ نظر واضح کر دیا۔
لیکن پھر محمد اسد بھائ نے میرے سوال سے ملتا جلتا سوال پوسٹ کیا تو اسکا جواب (http://www.urduvb.com/forum/showpost.php?p=326632&postcount=4) پا کر میں اس موضوع کو سمجھنے کے لیے یہاں حاضر ہوا ہوں۔
شیخ محترم۔ یہ مسئلہ جتنا زیادہ گھمبیر ہے اتنا ہی زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔ کوئ بھی سچا مسلمان یہ ہرگز نہیں چاہتا کہ وہ اللہ اور اسکے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اعلان جنگ کرے۔ اس لیے اس مسئلہ کو اچھی طرح سمجھنا اور اور تمام مشکلات کا حل تلاش کرنا نہایت ضروری ہے۔
آپکے اس جواب (http://www.urduvb.com/forum/showpost.php?p=326632&postcount=4) کے مطابق تو پھر بنک کے ساتھ لین دین ہر صورت میں "ناجائیز" معلوم ہوتا ہے خواہ وہ کرنٹ اکاؤنٹ کی صورت میں ہی کیوں نہ ہو۔
کیونکہ کرنٹ اکاؤنٹ کے تحت بھی تو ہم بنک کے حرام کمانے میں معاون بن جاتے ہیں۔ اسی طرح جن ملازمین کی اجرت بنک میں آتی ہے اور ملازمین اس میں سے جو بچت کرتے ہیں وہ رقم انکے اکاؤنٹ میں ہی پڑی رہتی ہے خواہ وہ ہزاروں میں ہو یا لاکھوں میں۔ بنک اس رقم سے یومیہ سود حاصل کرتا ہے اس طرح ملازمین کی بنک میں پڑی رہنے والی اجرت بھی حرام کی معاون ثابت ہوتی ہے۔
جبکہ موجودہ دور میں رقم کو جیب میں یا گھر میں محفوظ رکھنا ناممکن نظر آتا ہے۔
اسی طرح کوئ بزنس مین جس کا کروڑوں کا کاروبار ہو وہ اپنی رقم اگر کرنٹ اکاؤنٹ میں بھی رکھے تو بنک لا محالہ اس رقم سے سود کمائے گا۔ اس رقم کا سود پر لین دین کرے گا جسکی وجہ سے اکاؤنٹ کا حامل انسان اس گناہ کا معاون ثابت ہوتا ہے۔
برائے مہربانی اس بارے میں مکمل رہنمائ فرمائیں اور ان اشکالات کا مناسب حل بھی تجویز فرمائیں تاکہ ہر طرح سے اس کبیرہ گناہ سے بچا جائے۔