PDA

View Full Version : سعودی عرب میں ہر نصف گھنٹے ایک طلاق، ماہرین اور علماء میں تشویش


Innocent Panther
16-02-12, 11:53 AM
سعودی عرب میں ہر نصف گھنٹے ایک طلاق، ماہرین اور علماء میں گہری تشویش



سعودی عرب میں سرکاری سطح پر جاری اعداد و شمار میں طلاق کے رحجان میں غیر معمولی اضافے کا ایک نیا ریکارڈ سامنے آیا ہے۔ مُملکت میں ہر نصف گھنٹے میں ایک طلاق کے تناسب سے اس "ابغض المباح" اقدام کا رحجان 35 فی صد تک پہنچ چکا ہے، جبکہ عالمی سطح پر طلاق کا موجودہ تناسب 18 سے 22 فیصد کے درمیان ریکارڈ کیا گیا ہے۔ریاض حکومت کی جانب سے جاری کردہ تازہ اعداد و شمار میں بتایا گیا ہے کہ سال 1431ھ میں طلاق کے کل 18765 واقعات رجسٹرڈ کیے گئے۔ اس کے مقابلے میں اسی سال 90 ہزار 983 جوڑوں کی شادیاں ہوئیں۔ یوں طلاق کی شرح نصف گھنٹے میں ایک طلاق کے اعتبار سے 35 فی صد اور شادیوں کے اعتبار سے 60 فیصد ریکارڈ کی گئی۔سعودی معاشرے میں طلاق کے بڑھتے رحجان نے سماجی ماہرین اور علماء نے گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ سعودی عرب کے شہر تبوک میں کورٹس کے چیئرمین الشیخ سعود الیوسف نے گذشتہ برس طلاق کے بڑھتے رحجان کو سعودی سماج کے لیے خطرناک قرار دیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ حالیہ کچھ عرصے میں سعودی عرب میں طلاق کا رحجان میں 40 فی صد اضافہ ہو چکا ہے۔سعودی عرب کے ایک سماجی رہنماء اور طلاق کے اسباب و علل پر گہری نظر رکھنے والے محمد العتیق نے بتایا کہ سرکاری سطح پر طلاق کے جاری کردہ اعداد و شمار ملک کے سماجی پہلو کے لیے نہایت نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں۔ ایک طرف سعودی عرب میں شادیوں کے رحجان میں کمی ہو رہی ہے۔ اس کے ساتھ ہی طلاق کے واقعات میں اضافہ ہمارے معاشرے کے لیے کوئی حوصلہ افزاء خبر نہیں"۔انہوں نے کہا کہ سعودی عرب میں طلاق کی کئی وجووہات ہیں۔ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ بعض خاندان اپنے داماد پر بوجھ بن جاتے ہیں۔ شادی سے پہلے وہ اپنی بیٹیوں کی صحیح کفالت بھی نہیں کرتے اور بیاہنے کے بعد یہ توقع رکھتے ہیں کہ داماد ان کی خدمت بھی کرے گا چنانچہ شوہروں پر سسرال کا یہ اضافہ بوجھ زوجین میں طلاق کا موجب بن جاتا ہے۔ سعودی معاشرے میں طلاق کے تیزی سے فروغ دراصل "نکاح المسیار" اور لڑکیوں کی مائیں اکثر طلاقوں کا موجب بنتی ہیں۔خیال رہے کہ "زواج المسیار" میں نکاح کے وقت بیوی شوہر کے ذمہ نان نفقے اور دیگر حقوق کے دستبرداری کا اعلان کرتی ہے اور اس کے بدلے میں شوہر طلاق کا حق بیوی کو دینے پرراضی ہو جاتا ہے۔ یوں شادی کے بعد کسی بھی تلخی کی صورت میں لڑکی شوہر کو چھوڑ چلی جاتی ہے جس سے طلاق واقع ہو جاتی ہے۔ اہل سنت والجماعت کے بعض علماء اسے مباح اور بعض بالکراہت جائز سمجھتے ہیں۔
سعودی عرب میں خاندانی امور کے ماہراور خاندانی قانونی مشیر شیخ محمد عثمان الفلاج کے نزدیک طلاق کی ایک بڑی وجہ " نکاح المسیار" ہے۔ اس طرح کی شادیوں میں خواتین کو فرار آسان راستہ مل جاتا ہے اور وہ جب چاہتی ہیں طلاق کا حق استعمال کر لیتی ہے۔ دیگر وجوہات میں زوجین کے درمیان جدائی کی ایک بڑی وجہ لڑکیوں کی مائیں ہیں۔ عموما لڑکیاں اپنی خاندانی ناچاقیوں کا واویلا اپنی ماؤں کے سامنے کرتی ہیں۔ مائیں بھی انہیں صبر کی تلقین کے بجائے انہیں طلاق لینے کا مشورہ دیتی ہیں۔ بعض خواتین کو سختی سے اپنی بیٹیوں کو کہتی ہیں کہ وہ شوہر سےعلحدگی اختیار کر لیں، یوں مائیں ہی اپنی بیٹیوں کے گھر اجاڑنے کا موجب بنتی ہیں۔


احوال - سعودی عرب میں ہر نصف گھنٹے ایک طلاق، ماہرین اور علماء میں گہری تشویش (http://www.ahwaal.com/index.php?option=com_content&view=article&id=8861%3A2012-02-15-09-15-40&catid=26%3Aislami&Itemid=43&lang=ur)

مخلص1
16-02-12, 12:43 PM
اللہ رحم کرے۔۔۔پتہ نہیں یہ لڑکیاں طلاق لیکر کریں گی کیا///

ام نور العين
16-02-12, 05:57 PM
جہاں پيسہ آتا ہے وفا رخصت ہو جاتى ہے۔

الطائر
17-02-12, 07:39 PM
اللہ رحم کرے۔۔۔پتہ نہیں یہ لڑکیاں طلاق لیکر کریں گی کیا///


سب سے پہلے تو بصد اخلاص اس بری خبر پر دکھ ہوا اور اظہارِ افسوس پیش کرتا ہوں۔


اللہ رحم کرے۔۔۔

آمین

پتہ نہیں یہ لڑکیاں طلاق لیکر کریں گی کیا///

اپنے تمام پاکستانی بہن بھائیوں کا احترام ملحوظِ خاطر رکھتے ہوئے اتنا ہی کہہ سکتا ہوں کہ بیشتر سعودیوں کی طرح ہو سکتا ہے چند ایک Edgware Road, London کا رخ کریں۔

اور یہ طعنہ یا استہزاء نہیں چشم دید حقیقت ہے۔ ذہن نشین رہے کہ شاہی خاندان سے وابستہ چند مطلقائیں اس کا اعادہ کر کے ماضی قریب میں اخبارات کی ’زینت‘ بن چکی ہیں۔

حرب
17-02-12, 09:22 PM
جہاں پيسہ آتا ہے وفا رخصت ہو جاتى ہے۔
یہ کس نے کہا؟؟؟۔۔۔ اور جہاں پیسہ نہ ہو وہاں کیا ہوتا ہے؟؟؟۔۔۔

ابومصعب
18-02-12, 08:34 AM
بہرحال ہم سعودی عرب میں قیام پذیر ہیں، اور یہاں طلاق کا ریشیو صرف پیسہ کی بنیاد ہی پر نہیں‌ہے، بلکہ مزاجوں‌کا بھی بہت دخل ہے، مزاج کی سختی، اور یہاں‌کے کلچر کی وجہ سے بھی جلد بازی کا عنصر ہر معاملہ میں‌نمایاں ہے۔

شادی بیاہ، ایک کمپلیٹ ڈیل کا نام ہے، جہاں‌اونچ نیچ ہونا ایک فطری بات ہے، مردوزن دونوں‌خطا کے پتلے ہوتے ہیں، اور دونو‌ں‌صنفی اعتبار سے ہر دونوں سے کچھ اکسپکٹ بھی کرتے ہیں، کمی بیشی پر غصہ کا عنصر ہو دو صنف کے لئے ایک فطری بات ہے، شوہر و بیوی کے تعلق سے ہٹکر دیکھیں‌یہ بات معمولی سی ہے، اور کہیں‌جھگڑا اور کبھی صبر کے ذریعہ معاملات سدھرجاتے ہیں، لیکن جب یہی معاملہ شوہر اور بیوی کا آجاتا ہے، تب برصغیر، گلف، اور ویسٹ یہ تین میرے ذہن میں‌فی الوقت مثال کے طور پر ابھرے ہیں۔۔۔

اولذکر میں‌صبر اور وفا دونوں‌کوٹ کوٹ کے بھرے ہوئے ہیں، اور ہر دونوں‌یہ چاہتے ہیں‌کہ ، "زندگی کی گاڑی" چل جائے۔

گلف میں‌جلد بازی کا عنصر، کلچر وغیرہ کے ساتھ ساتھ ، مال کا جھٹکا ہر دو نوں‌کو صبر ووفا سے دور رکھ کر، آزاد ہونے کے لئے راستے فراہم کرتا ہے۔

آخرالذکر میں‌تو یہ بس "پیپر کا تکڑا ہے" البتہ اس کی ضرورت بھی "بہت کم " محسوس ہوتی ہے۔

اب سعودی عرب کی خاص بات کریں تب یہ بھی گلف کا حصہ ہے، یہاں‌مزاج، کلچر وغیرہ کے اثرات زیادہ لگتے ہیں‌بنست برصغیرہ کہ یہاں‌، مرد کا زیادہ کنٹرول ہے، اور چھوٹی سی بات ، طلاق کا ذریعہ بن جاتی ہے۔

بہرحال ایک تفصیل طلب امر ہے، اور جو لوگ یہاں‌پائے جاتے ہیں‌وہ لوگ ہی اس پر صحیح‌روشنی ڈال سکتے ہیں۔۔۔۔۔۔!!!

محمد آصف مغل
28-03-12, 11:56 AM
ایک پہلو یہ بھی ہے کہ وہاں طلاق یافتہ عورتوں سے شادی کرنے کی شرح دوسرے ملکوں کی نسبت بہت زیادہ ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں بھی سمجھ عطا فرمائے۔ آمین۔

ابومصعب
28-03-12, 12:06 PM
ایک پہلو یہ بھی ہے کہ وہاں طلاق یافتہ عورتوں سے شادی کرنے کی شرح دوسرے ملکوں کی نسبت بہت زیادہ ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں بھی سمجھ عطا فرمائے۔ آمین۔

بھائی۔

طلاق شدہ سے شادی پر مصدقہ انفارمیشن شئیر کریں تب مزید افادیت کا باعث ہوگا۔

جزاک اللہ خیرا۔