PDA

View Full Version : عمر عائشہ رضی اللہ عنہا کی تحقیق اور کاندھلوی تلبیس کا ازالہ


آزاد
16-02-12, 08:08 PM
نام کتاب | عمر عائشہ رضی اللہ عنہا کی تحقیق اور کاندھلوی تلبیس کا ازالہ
مصنف | حافظ ثناء اللہ ضیاء حفظہ اللہ
ناشر | ادارہ تحقیقات سلفیہ کراچی پاکستان پی او بکس نمبر 6524، پوسٹ کوڈ نمبر 74000، کراچی پاکستان
طبع جدید | اول
سن اشاعت | ستمبر 2002ء
کمپوزنگ برائے اردو مجلس | آزاد

عرض مؤلف:

ابتداء بلوغت، انتہاء عمر، صحت اور بیماری وہ عناصر ہیں جو بڑی حد تک غذا اور موسمی حالات سے متاثر ہوتے رہتے ہیں۔ غذا اور حالات کے تبدیل ہونے سے ان میں کمی بیشی اور نوعیت کی تبدیلی حیران کن نہیں ہونی چاہیے۔ کسی ایک علاقے اور ایک زمانہ کے لوگوں کے درج بالا احوال کو دیکھ کر یہ یقین کرلینا کہ دنیا بھر کے لوگ انہیں ضابطوں کی حسین زلفوں کے اسیر ہیں، بڑی حماقت اور کج روی ہے۔ حضرت نوح علیہ السلام نے ایک ہزار برس کے قریب عمر پائی اور آخر وقت تک ان کی جسمانی اور دماغی صلاحیتوں میں غیر معمولی کمی واقع نہیں ہوئی۔ عہد حاضر کے بوڑھے کی کمان نما کمر، لاغر پن اور دماغی عدم توازن کے آئینوں میں حضرت نوح علیہ السلام کا عکس دیکھنا محض خود فریبی ہوگی۔ آج بھی دنیا بھر کے لوگوں کی عمروں میں مساوی تناسب موجود نہیں۔ بعض خطوں کے لوگ دیگر علاقوں سے زیادہ طویل عمر پاتے ہیں۔ یہی حالت ابتداء بلوغت کی ہے۔ آج بھی دنیا بھر میں تمام ہم عمر مردو زن نہ ایک ساتھ بالغ ہوتے ہیں اور نہ ایک ساتھ لقمہ اجل بنتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام نے مردوزن کےلیے ابتداء بلوغت کو عمر کے کسی خاص سال سے مشروط نہیں کیا بلکہ عمل زوجیت کی صلاحیت یا زیر ناف بال آجانے کو بلوغت سے تعبیر کیا ہے۔
امام ابوحنیفہ رضی اللہ عنہ سمیت تمام فقہاء کااس بات پر اتفاق ہے کہ نکاح کےلیے بلوغت شرط نہیں البتہ خلوت صحیحہ کےلیے بلوغت شرط ہے۔اس فتویٰ کا دارومدار محترمہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی بخاری شریف کی اس صحیح حدیث پر ہے کہ نکاح کے وقت ان کی عمر چھ برس اور رخصتی کے وقت ان کی عمر نو سال تھی۔ نہ صرف امام بخاری بلکہ تمام نامور محدثین اور نقاد نے اس حدیث کی صحت پر اتفاق کیا ہے۔ جب یہ حقیقت ہے کہ تو پھر کاندھلوی صاحب نے حنفی مقلد ہونے کے باوجود اس حدیث کی صحت سے ا نکار کیوں کیا؟
نہ صرف صحت حدیث سے انکار کیا بلکہ فقہاء پر بھی برہمی کا اظہار کیا۔ آخر اس کا سبب کیا ہے؟
اس کا اصل سبب تو اللہ ہی بہتر جانتا ہے مگر راقم کی سمجھ میں جو آیا ہے ، وہ درج ذیل ہے:
۱: منکرین حدیث کے ایک گروہ نے اپنے مذموم مقاصد حاصل کرنے کےلیے حنفیت کا لباس زیب تن کرلیا تاکہ وہ سادہ لوح مسلمانوں کو آسانی سے گمراہ کرسکیں۔
۲: اہل سنت کے تمام مکاتب فکر کا اتفاق ہے کہ قرآن حکیم کے بعد بخاری اور مسلم اصح الکتب ہیں۔ چونکہ بخاری اور مسلم کی وہ احادیث جو خصوصاً نماز سے متعلق ہیں ، ان سے مسلک اہل حدیث کو تقویت ملتی ہے جبکہ مسلک احناف کا رد ہوتا ہے، اس لیے کاندھلوی صاحب اور ان کے رفقاء کو یہ ضرورت محسوس ہوئی کہ حدیث عائشہ کو بنیاد بناکر صحت بخاری کو چیلنج کیا جائے اور اگر اس میں کامیاب ہوگئے تو یقیناً عوام میں یہ تاثر ابھرے گا کہ بخاری و مسلم میں ضعیف احادیث موجود ہیں۔ جب یہ تاثر قائم ہوجائےگا تو پھر بخاری ومسلم کی نماز سے متعلق احادیث کی صحت کو بھی چیلنج کیا جاسکتا ہے۔
ہم نے کاندھلوی صاحب کی اس کتاب کا جواب فقط اس لیے دیا تاکہ بخاری ومسلم کی صحت کے بارے میں غلط تاثر قائم کرنے کو دلائل و براہین کی روشنی میں روکا جائے۔
حافظ ثناء اللہ ضیاء
22جون2002ء

آزاد
16-02-12, 08:14 PM
وجہ تالیف:
مجھے بحمد اللہ ایسے اساتذہ سے تعلیم وتربیت حاصل کرنے کا شرف حاصل ہوا جو اسلاف کی پگڑی اچھالنے کو ناپسند کرتے تھے۔ خصوصاً خلفائے بنو امیہ کے خلاف لب کشائی کرنے کو نہایت برا جانتے تھے۔ تعلیم حاصل کرنے کے بعد1977ء میں کراچی پہنچا تو میرے قریبی مراسم ایک ایسے صاحب سے ہوگئے جو بنو امیہ کے حمایتی افراد کے گروہ سے دوستانہ تعلقات رکھتے تھے۔ میں بھی چونکہ اہل تشیع کا مخالف اور بنو امیہ کا مداح تھا (اور ہوں) اس لیے اس گروہ سے انسیت رکھنا ایک فطری عمل تھا۔ میں نے اسی دور میں اہل تشیع کے خلاف اور بنو امیہ کی صفائی میں دو رسالے تحریر کیے۔ ایک رسالے کا نام ’’سبائیت کا نصب العین‘‘ اور دوسرے کا نام ’’قرآن اہل تشیع کی نظر میں ‘‘ تھا۔
میں یہ سمجھتا تھا کہ اس گروہ کے ساتھ میرے تعلقات مضبوط تر اور دیرپا رہیں گے اور یہ بھی مجھے بیگانہ تصور نہ کرتے تھے۔ اس ناتے مجھے ان کی نجی محفلوں میں بیٹھنے کے مواقع میسر آئے۔ جب یہ حضرات اپنی نجی محفلوں میں بیٹھتے تو علی رضی اللہ عنہ اور حسین رضی اللہ عنہ کے بارے میں وہی کچھ کہتے جو کچھ اہل تشیع ابوبکر، عمر، عثمان اور دیگر صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کے بارے میں کہتے ہیں اور بریلوی حضرات مروان بن حکم رضی اللہ عنہ، معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ اور یزید رحمہ اللہ کے بارے میں اور بعض اہل حدیث مولوی مروان بن حکم رضی اللہ عنہ اور یزید بن معاویہ رحمہ اللہ کے بارے میں کہتے ہیں۔ جب مجھ پر یہ حقیقت آشکارہ ہوگئی تو میں ان کی مجالس میں شریک ہونے سے احتراز کرنے لگا۔ اسی دوران مجھے عزیز احمد صدیقی کا رسالہ ’’اسلام کہاں ہے؟‘‘ اور فیض عالم صدیقی کی کتاب ’’صدیقہ کائنات‘‘ پڑھنے کا موقع ملا۔ ان کتابوں کا تقریباً ہر جملہ فتنہ انکار حدیث کے زہر میں بجھا ہوا تھا۔ میں اہل تشیع کا مخالف اور بنو امیہ کا مداح ضرور تھا، مگر مجھے شیعہ فوبیا نہیں ہوا تھا۔ اس لیے حدیث رسول مقبول ﷺ کا دفاع کرتے ہوئے ’’منکرین حدیث پر ایک نظر‘‘ کے عنوان سے ایک رسالہ لکھا جس میں فیض عالم صدیقی اور عزیز احمد صدیقی کی طرف سے احادیث اور محدثین کرام پر کیے گئے اعتراضات کے جوابات دیئے۔ یہ وہ موڑ تھا جہاں پہنچ کر میرے ان سے وہ تعلقات منقطع ہوگئے جنہیں میں مضبوط تر اور دیر پا سمجھتا تھا۔حبیب الرحمن کاندھلوی صاحب بھی اسی گروہ کے سرخیل تھے، ان کی نجی محفلوں میں موصوف کا ذکر خیر بھی ہوا کرتا تھا، مگر میری ان سے ملاقات نہیں ہوئی اور مجھے یہ بھی معلوم نہیں کہ وہ موصوف اس وقت دارفنا میں تھے یا دار بقا میں۔
گزشتہ دنوں ایک دوست مرتضی صاحب نے مجھ سے کہا کہ صراط مستقیم میں عائشہ رضی اللہ عنہا کی عمر پر ایک تحقیقی مضمون چھپ رہا ہے۔ اس کی دو قسطیں چھپ چکی ہیں۔ مضمون نگار نے یہ ثابت کیا ہے کہ نکاح کے وقت عائشہ رضی اللہ عنہا کی عمر نوسال نہیں بلکہ انیس سال تھی۔ میں نے ان سے پوچھا: یہ کس کا مضمون ہے؟ انہوں نے لا علمی کا اظہار کیا۔ میں چونکہ اس عنوان پر اس گروہ سے وابستہ دو افراد کی تحقیق پہلے ہی پڑھ چکا تھا، اس لیے میں نے مرتضی بھائی سے کہا: یہ وہ لوگ ہیں جنہیں شیعہ فوبیا ہوا ہے۔ مگر وہ بار بار اصرار کرتے رہے کہ آپ ضرور پڑھیے۔ اسی دوران مجھے یہ خیال آیا کہ بھائی نسیم احمد باغپتی صاحب نے صراط مستقیم کے جو دو شمارے مجھے بھیجے ہیں، کہیں وہ اسی مضمون کی وجہ سے تو نہیں بھیجے۔ دیکھا تو یہی وہ دو شمارے تھے جن کا مرتضی تذکرہ کررہے تھے۔
مورخہ 95/8/9 کو صبح ناشتہ سے فارغ ہوکر دونوں اقساط کا نہایت غور سے مطالعہ کیا مگر میں نے ان میں کوئی نئی بات نہ پائی۔نئی بات ہوبھی کیسے سکتی تھی، کیونکہ یہ مضمون کاندھلوی صاحب کا تھا اور میں اس عنوان پر ان کے ساتھیوں کی تحقیق تقریباً پندرہ سال قبل پڑھ چکا تھا۔ اس لیے جواب لکھنے کےلیے دل میں کوئی تحریک پیدا نہ ہوئی۔ مضمون پڑھنے کے بعد اگر میری نگاہ ادارے کے وضاحتی نوٹ پر نہ پڑتی تو میں کبھی بھی اس بحث میں نہ پڑتا۔
ادارے کی طرف سے مضمون کے آغاز میں یہ افتتاحی کلمات تحریر کیے گئے ہیں کہ یہ مسئلہ علماء کے مابین اختلافی رہا ہے۔ میں موقر جریدے کی انتظامیہ سے مودبانہ التماس کرتا ہوں کہ جسے آپ اختلافی لکھ رہے ہیں، یہ روایت نہ صرف متفق علیہ ہے بلکہ اس روایت کو صحاح ستہ کے علاوہ دارمی، حمیدی اور امام احمد نے بھی روایت کیا ہے اور کسی محدث نے اس پر کلام نہیں کیا۔ کتب احادیث کے شارحین میں نمایاں نام حافظ ابن حجر رحمہ اللہ، امام نووی رحمہ اللہ اور علامہ منذری رحمہ اللہ کے ہیں، انہوں نے بھی اس روایت پر شک نہیں کیا۔ علامہ ابن تیمیہ، حافظ ابن قیم اور قاضی شوکانی رحمہم اللہ علم حدیث وتفسیر کے بحر عمیق ہیں، ان میں سے کسی ایک نے بھی اس روایت کا رد نہیں کیا۔پاک و ہند میں بھی نامور علماء حدیث گزرے ہیں، مگر کسی نے اس روایت کی تردید نہیں فرمائی۔
جناب! پھر وہ کون سے علماء ہیں جن کے مابین یہ مسئلہ اختلافی رہا ہے؟
اگر اختلاف سے مراد آپ کے نزدیک ان حضرات کی آراء ہیں جو فتنہ انکار حدیث کے داعی یا ان سے متاثر یا مرعوب ہیں تو جناب سے نہایت ادب سے یہ التماس کرتا ہوں کہ ایک اس سے بھی اہم مسئلہ ہے اوراس میں اس سے کہیں شدید اختلاف ہے۔ وہ ہے مسئلہ ختم نبوت۔ آپ جانتے ہیں کہ اسود عنسی اور مسیلمہ نے نبی مکرمﷺ کی حیات طیبہ ہی میں نبوت کا دعویٰ کرکے عقیدہ ختم نبوت سے اختلاف کا آغاز کردیا تھا۔اب تک سینکڑوں متنبی گزر چکے ہیں۔ کیا ان کذابوں کے اقوال باطلہ کو بھی اپنے موقر جریدے میں یہ لکھ کر جگہ دیں گے کہ یہ مسئلہ حیات طیبہ سے اختلافی چلا آرہا ہے؟؟؟

آزاد
16-02-12, 08:39 PM
پہلی قسط تمہید پر مبنی ہے۔ موصوف نے تمہید میں درج ذیل مفروضے قائم کیے ہیں:
۱: حدیث علم ظنی ہے۔
۲: احادیث کے مرتب کنندہ انسان تھے جن سے خطا اور نسیان کا سرزد ہونا فطری عمل ہے۔
۳: اہل تشیع کے نزدیک بارہ معصومین ہیں جبکہ ہمارے نزدیک لاکھوں ہیں۔
۴: جو حدیث عقل صریح کے خلاف ہو ، اسے دیوار پر مارد یا جائے۔
معزز قارئین! مضمون نگار جس علم کو ظنی قرار دے رہے ہیں، وہ علم ایمان لانے میں قرآن حکیم سے بھی مقدم ہے۔ قرآن حکیم کے اولین مخاطب صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین تھے۔ اللہ تعالیٰ نے کسی صحابی کی طرف وحی کرکے یہ نہیں کہا کہ قرآن میری کتاب ہے، اسے تسلیم کرلو۔بلکہ آپﷺ نے نوع انسانی کو یہ پیغام دیا کہ مجھ پر اللہ کا کلام نازل ہوا ہے، لہٰذا جس کسی نے بھی قرآن حکیم کو اللہ تعالیٰ کی کتاب تسلیم کیا،اس نے نبی مکرمﷺ کے فرمان عالی شان کی وجہ سے تسلیم کیا۔ لہٰذا ثابت ہوا حدیث پر ایمان لانا قرآن حکیم پر ایمان لانے سے مقدم ہے۔
۲: ہمیں یہ بات تسلیم کرنے میں ذرہ برابرتردد نہیں کہ احادیث کے تمام رواۃ اور مرتب کنندگان انسان تھے، لیکن ہم یہ پوچھنا چاہیں گے کہ عہد صدیقی اور عہد عثمانی میں قرآن حکیم کے نسخے کیا عرش معلیٰ کے پریس سے چھپ کر آئے تھے؟کیا ان کے لکھنے والے انسان نہ تھے؟ کیا خطا اور نسیان ان سے ممکن نہ تھی؟ کیا ان کے تحریر کردہ قرآن حکیم سے عبداللہ بن مسعود نے اختلاف نہ کیا تھا؟
۳: تیسرے مفروضے کا جواب یہ ہے کہ موصوف کو شیعہ فوبیا ہوا ہے۔ اس لیے انہیں ہر چیز ایک ہی رنگ میں دکھائی دیتی ہے۔
۴: جہاں تک شرعی مسائل کا تعلق ہے تو اس بارے میں عرض یہ ہے کہ جن حضرات نے سائنسی ایجادات کی ہیں، اہل دنیا انہیں بیوقوف اور احمق تصور نہیں کرتے، حالانکہ ان میں سے اکثر اپنے خالق کو پہچاننے میں قاصر رہے۔ کتنی عقلیں ایسی گزری ہیں جنہوں نے عبد کو رسول تسلیم کرنے سے انکار کیا ہے۔ تفصیل مطلوب ہوتو سورۃ یونس کی آیت نمبر 2 کا مطالعہ کریں۔(1)

::پہلی دلیل کا جواب::

موصوف نے دوسری قسط میں دلائل کا آغاز اس طرح کیا ہے: یہ روایت تجربہ، مشاہدہ اور فطرت انسانی کے خلاف ہے۔ اس دعوے پر دلیل یہ دی ہے کہ ’’مخالفین اسلام کی طرف سے کوئی اعتراض ظہور میں نہیں آیا تو یہ ثابت ہوا کہ ایسا کوئی فعل سرزد نہیں ہوا۔
واہ! جھوٹ اور سچ کو جانچنے کا کتنا عمدہ اصول ہے؟ اگر ابوجہل اور ابولہب اس اصول سے مطلع ہوتے تو وہ آپ کی نبو ت پر کبھی اعتراض نہ کرتے۔ قرآن حکیم کہتا ہے کہ ابراہیم علیہ السلام نے اپنے نوخیز معصوم بیٹے کو ذبح کرنے کےلیے چھری کے نیچے لٹا لیا مگر مخالفین اسلام نے اس پر کوئی اعتراض نہیں کیا۔ کیا پدر وپسر کی اس عظیم قربانی کا فقط اس لیے انکار کردیا جائے کہ مخالفین نے اس پر اعتراض نہیں کیا؟ عہد حاضر میں حقوق انسانی کی علمبردار تنظیمیں بچوں سے مشقت لینے کو معیوب جانتی ہیں۔ مگر ان میں سے کسی ایک نے جناب ابراہیم علیہ السلام کے فعل پر اعتراض نہیں کیا؟

::دوسری دلیل کا جواب::


دوسری دلیل میں موصوف رقم طراز ہیں: ’’جو روایت عقل صریح کے خلاف ہو ، وہ باطل ہوتی ہے۔‘‘ اس اصول کو موصوف نے ابن جوزی کی طرف منسوب کیا ہے۔ اس بارے میں عرض یہ ہے کہ جو عقل اللہ اور اس کے رسول کے فرامین کو تسلیم نہیں کرتی، وہ عقل ’عقل سلیم‘ نہیں بلکہ ’عقل سقیم‘ ہے اور عقل سقیم کو حق جانچنے کی کسوٹی ہرگز قرار نہیں دیا جاسکتا۔ آپ اس بات سے بخوبی آگاہ ہیں کہ عقل ابلیس نے تکریم آدم سے متعلق اللہ تعالیٰ کے فرمان کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا تھا۔ جبکہ موصوف نے ایک جگہ از خود اعتراف کیا ہے کہ وہ بدعقل ہیں۔(2) اگر یہ حقیقت ہے تو پھر بدعقل کو حق جانچنے کی کسوٹی کیسے قرار دیا جاسکتا ہے؟ موصوف نے اسی دلیل کے آخر میں تحریر کیا ہے کہ : ’’ ہم نے آج تک جتنے عقلاء کو دیکھا ، وہ یا تو اس کا انکار کرتے نظر آئے یا شک و شبہ ‘‘
محترم قارئین! مؤلفین صحاح ستہ، دارمی، امام نووی، ابن حجر، ابن قیم اور قاضی شوکانی جیسے ذی علم حضرات اس روایت سے آگاہ تھے۔ مگر کسی نے اس روایت کو شک کی نظر سے نہیں دیکھا۔ کیا یہ سب شخصیات عقل کی دولت سے محروم تھیں؟ ہشام بن عروہ کو گزرے ہوئے بارہ صدیاں سے بھی زیادہ عرصہ ہوچکا ہے، کیا یہ طویل عرصہ عقلاء کے وجود سے خالی رہا ہے؟ اگر ایسا ممکن نہیں تو پھر چاہیے تو یہ تھا کہ سلسلہ وار ہر صدی کے ان عقلاء کی فہرست جاری کی جاتی، جنہوں نے اس روایت سے انکار کیا ہے۔

::تیسری دلیل کا جواب::


موصوف نے تیسری دلیل کو خاصا طول دیا ہے، اس کا لب لباب یہ ہے :
(۱) جزیرۃ العرب اور دیگر گرم ممالک میں آج تک اس کی کوئی دوسری مثال دستباب نہیں۔
(۲) علماء کو چاہیے اس سنت نبوی پر عمل کرتے ہوئے اپنی نو سالہ لڑکی کو رخصت فرماتے اور احیائے سنت کا سہرہ اپنے سر باندھتے۔
محترم قارئین! سچ اور جھوٹ کی تشخیص کا اگر یہی طریقہ ہے تو میں نہایت معذرت کے ساتھ اس گروہ سے وابستہ افراد سے یہ پوچھنے کی جسارت کروں گا کہ قرآن حکیم میں یہ بات نہایت صراحت سے ہے کہ محترمہ مریم نے بغیر کسی مرد سے مباشرت کیے عیسیٰ علیہ السلام کو جنم دیا۔ اگر کوئی غیر مسلم یہ دعویٰ کرے کہ (نعوذ باللہ) قرآن حکیم کا یہ بیان غلط ہے کیونکہ اس کے بعد آج تک اس قسم کی کوئی دوسری مثال دستیاب نہیں ہے۔ جو جواب آپ انہیں دیں گے، وہی جواب ہمارا سمجھ لیجئے۔
(۲) اس گروہ سے وابستہ فرد یہ جرأت کرے گا کہ وہ یہ اعلان کرے کہ اس کی غیر منکوحہ پاکدامن دوشیزہ نے بچہ جنم دیا ہے؟

::چوتھی دلیل کا جواب::


چوتھی دلیل میں موصوف نے یہ بات تسلیم کرنے کے باوجود کہ زیربحث روایت بخاری ، مسلم، ابوداؤد، ترمذی، ابن ماجہ، دارمی اور مسند حمیدی میں ہے، روایت پر درج ذیل اعتراض کیے ہیں:
۱: یہ حدیث رسول نہیں ہے۔
۲: یہ بھی واضح نہیں کہ قول عائشہ ہے یا قول عروہ؟
۳: موقوف اور متصل ہونے میں جب اختلاف ہوتو عام طور پر محدثین اسے موقوف قرار دیتے ہیں۔
۴: عروہ کے قول کو رد کرنا گناہ نہیں۔
۵: ہمارے علماء اولاً اس کا متصل ہونا ثابت کریں۔
محترم قارئین!
۱: اس میں کوئی شک نہیں کہ حدیث رسول نہیں ہے۔
۲: محدثین کا اس پر اتفاق ہے کہ یہ قول عائشہ ہے۔
۳: یہ جناب کا خودساختہ اصول ہے۔ جبکہ حقیقت کچھ اور ہے۔
۴: مخبر کے قول صادق کی تکذیب کرنا کیا اس پر الزام لگانے کے مترادف نہیں ہے؟ اگر ہے تو پھر بتائیں کسی پر الزام لگانا یا بلا دلیل طعن کرنا گناہ نہیں؟ تسلی کےلیے سور ۃا لحجرات کی آیت نمبر 6 کا مطالعہ فرمائیں۔(3)
۵: اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ روایت مرسل بھی بیان ہوئی ہے ، مگر اس کا متصل ہونا متعدد طرق سے ثابت ہے۔ ملاحظہ فرمائیں:
۱۔ سفیان عن ہشام عن ابیہ عن عائشہ (بخاری)
۲۔ علی بن مسہر عن ہشام عن ابیہ عن عائشہ (بخاری، ابن ماجہ)
۳۔ وہیب عن ہشام بن عروہ عن ابیہ عن عائشہ (بخاری)
۴۔ ابومعاویہ قال حدثنا ہشام بن عروہ عن ابیہ عن عائشہ (مسلم، نسائی)
۵۔ ابواسحاق عن ابی عبیدہ عن عائشہ (نسائی)
۶۔ الاعمش عن ابراہیم عن الاسود عن عائشہ (نسائی)
۷۔ عبدۃ عن ہشام عن ابیہ عن عائشہ (مسلم)
۸۔ الزہری عن عروہ عن عائشہ (مسلم)
۹۔ ابومعاویۃ عن الاعمش عن ابراہیم عن الاسود عن عائشہ (مسلم)
۱۰۔ ابواسامہ عن ہشام عن ابیہ عن عائشہ (مسلم)
اللہ تعالیٰ حافظ ابن حجر کو غریق رحمت کرے (کاندھلوی صاحب کے بھی یہی الفاظ ہیں(4)) کہ انہوں نے اس کے متصل ہونے کو راجح کہا ہے۔
اگر آپ خود بھی مذکورہ بالا طرق پر غور کریں گے تو ہی فیصلہ دیں گے کہ قول عائشہ رضی اللہ عنہا ہے۔ اس لیے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے یہ روات صرف عروہ ہی بیان نہیں کرتے بلکہ ابوعبیدہ اور اسود بھی بیان کرتے ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
::اضافہ حاشیہ از آزاد::
نوٹ: کاندھلوی صاحب کی کتاب تحقیق عمر عائشہ رضی اللہ عنہا کے جو حوالے دے رہا ہوں، وہ اس کتا ب کے پانچویں ایڈیشن کے ہیں جو کہ مئی ۱۹۹۷ء میں الرحمن پبلشنگ ٹرسٹ (رجسٹرڈ) - مکان نمبر -اے 3/7 ۔ ناظم آباد ۔ کراچی 74600 کا شائع کردہ ہے۔

(1) أَكَانَ لِلنَّاسِ عَجَباً أَنْ أَوْحَيْنَا إِلَى رَجُلٍ مِّنْهُمْ أَنْ أَنذِرِ النَّاسَ وَبَشِّرِ الَّذِينَ آمَنُواْ أَنَّ لَهُمْ قَدَمَ صِدْقٍ عِندَ رَبِّهِمْ قَالَ الْكَافِرُونَ إِنَّ هَـذَا لَسَاحِرٌ مُّبِينٌ [يونس : 2]
ترجمہ: کیا لوگوں کے لیے یہ ایک عجیب بات ہوگئی کہ ہم نے خود انہی میں سے ایک آدمی پر وحی بھیجی کہ (غفلت میں پڑے ہوئے) لوگوں کو چونکا دے اور جو مان لیں ان کو خوشخبری دے دے کہ ان کے لیے ان کے ربّ کے پاس سچی عزت و سرفرازی ہے؟ (اس پر) منکرین نے کہا کہ یہ شخص تو کھلا جادو گر ہے۔ (2) (ترجمہ از مولانا مودودی)
(2) جو روایت عقل صریح کے خلاف ہو وہ باطل ہو جاتی ہے۔ یہ اصول ابن جوزی نے بیان کیا ہے اور یہ روایت قطعاً عقل کے خلاف ہے۔ ہم جیسے بد عقل انسان کی عقل اسے قبول نہیں کرتی۔ عقل کا تو کیا مسئلہ ہے ، ہم نے آج تک جتنے عقلاء کو دیکھا ، وہ یا تو اس کا انکار کرتے نظر آئے یا شک و شبہ کرتے نظر آئے۔ (ص:۱۰)
(3) يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِن جَاءكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَأٍ فَتَبَيَّنُوا أَن تُصِيبُوا قَوْماً بِجَهَالَةٍ فَتُصْبِحُوا عَلَى مَا فَعَلْتُمْ نَادِمِينَ [الحجرات : 6]
ترجمہ: اے لوگو جو ایمان لائے ہو ، اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے تو تحقیق کر لیا کرو ، کہیں ایسا نہ ہو کہ تم کسی گروہ کو نادانستہ نقصان پہنچا بیٹھو اور پھر اپنے کیے پر پشیمان ہو۔ (6)
(4) اللہ تعالیٰ ابن حجر کو غریق رحمت کرے انھوں نے یعقوب بن ابی شیبہ کے حوالے سے کتنی عمدہ بات بیان فرمائی۔(ٍص:13)

آزاد
16-02-12, 09:09 PM
::پانچویں دلیل کا جواب::

پانچویں دلیل میں موصوف تحریر فرماتے ہیں: ’’ عروہ سے یہ روایت نقل کرنے والا ان کا بیٹا ہشام ہے۔ ہمارے نزدیک اس روایت میں تمام گڑ بڑ اسی ہشام کے باعث پیدا ہوئی ہے۔ (1) ‘‘
محترم قارئین! پہلی بات تو یہ ہے کہ اس روایت کا راوی فقط عروہ نہیں بلکہ ابوعبیدہ اور اسود بھی ہیں۔ ابوعبیدہ کی سند میں ہشام کی جگہ ابو اسحاق اور اسود کی سند میں ہشام کی جگہ ابراہیم ہیں۔ دوسری بات یہ ہے کہ عروہ سے یہ روایت فقط ان کا بیٹا ہشام ہی بیان نہیں کرتا بلکہ امام زہری بھی کرتے ہیں۔ گویا اس روایت کے طرق میں سے تین طریق ایسے ہیں جن میں ہشام نہیں ہے تو پھر کوئی کیسے کہہ سکتا ہے کہ یہ گڑبڑ ہشام سے ہوئی ہے؟
پانچویں دلیل پر مزید بحث کی ضرورت تو نہ تھی کیونکہ اس میں موصوف نے فقط ہشام کے خلاف طبع آزمائی کی ہے جبکہ ہم نے یہ ثابت کردیا ہے کہ یہ روایت ہشام کے علاوہ دوسرے طرق سے بھی ہے۔ تاہم پھر بھی موصوف کے بےبنیاد دعووں کا رد کریں گے۔ (ان شاء اللہ)
جہاں تک اس اعتراض کا تعلق ہے کہ امام مالک نے ہشام بن عروہ کے شاگرد ہونے کے باوجود ہشام سے یہ روایت موطا میں کیوں نقل نہیں کی تو جناب! یہ کوئی ضروری نہیں کہ شاگرد اپنے شیوخ کی تمام روایات نقل کرے۔ کیا امام ابوحنیفہ کے تمام شاگردوں نے امام ابوحنیفہ کی تمام روایات اور ان کے تمام اقوال نقل کیے ہیں؟
موصوف نے ہشام بن عروہ کے مقروض ہونے کا جو واقعہ تحریر کیا ہے، یہ بلا حوالہ ہے۔ ظاہر ہے ایسے واقعہ کی کوئی حیثیت نہیں۔(2)

یعقوب بن شیبہ کی ہشام بن عروہ کے بارے میں جرح:
موصوف نے ناقد کا نام یعقوب بن ابی شیبہ تحریر کیا ہے۔ حالانکہ ان کا نام یعقوب بن شیبہ ہے۔ موصوف نے یہ غلطی دلیل نمبر 5 میں تین بار کی ہے۔ کیا ہی اچھا ہوتا کہ موصوف دوسروں پر تکیہ کرنے کی بجائے اصل کتب کی مراجعت فرمالیتے۔ موصوف نے دوسری غلطی یہ کی ہے کہ ہشام کی تاریخ وفات 142ھ تحریرکی(3)، جبکہ ان کی وفات کے بارے میں دو روایتیں ہیں یعنی 146ھ اور 145ھ۔ علامہ ذہبی اور امام بخاری نے 146ھ والی روایت کو درست قرار دیا ہے۔(مزید تسلی کےلیے رجال کی کتب دیکھی جاسکتی ہیں)
ایسی فاش غلطیوں کے باوجود معترض کا یہ دعویٰ کہ میں نے متعدد سال رجال کی چھان بین میں صرف کئے ہیں۔ کیا حیثیت رکھتا ہے؟(4)
حافظ ابن حجر اور علامہ ذہبی نے یعقوب بن شیبہ کی ہشام بن عروہ پر جو جرح نقل کی ہے اس کا آغاز ’’قال یعقوب بن شیبہ‘‘ سے کیا ہے جبکہ یعقوب بن شیبہ ہشام کی وفات کے بعد پیدا ہوئے ہیں۔ ظاہر ہےیعقوب بن شیبہ نے یہ بات کسی سے سنی ہوگی اور وہ مجہول ہے جس کا کوئی اعتبار نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ائمہ حدیث نے یعقوب بن شیبہ کے بیان پر کان نہ دھرتے ہوئے ہشام بن عروہ کے عراقی شاگردوں سے ہشام بن عروہ کی روایات کو قبول کیا ہے۔
ہشام بن عروہ کے ایک نامور شاگرد کا نام ابواسامہ حماد بن سامہ کوفی ہے۔ انہیں علامہ ذہبی نے الحافظ الامام الحجۃ جیسے بہترین القاب سے یاد کیا ہے۔ زیر بحث روایت کے یہ بھی راوی ہیں۔ ان کے بارے میں ان کے ہم عصر امام احمد بن حنبل فرماتے ہیں: ہشام بن عوہ کی روایات کو ان سے زیادہ کوئی نہیں جانتا تھا اور انہوں نے روایت بیان کرنے میں کبھی غلطی بھی نہیں کی۔ (تذکرۃ الحفاظ) ابن الفرات کہتے ہیں: ان کے پاس ہشام بن عروہ کی چھ سو روایات تھیں۔(تذکرۃ الحفاظ)
مذکورہ بالا بیان سے یہ معلوم ہوا کہ ہشام بن عروہ کی جس روایت کو ابواسامہ نے بیان کیا ہے، وہ غلط نہیں ہوسکتی۔ اگرمزید تسلی چاہتے تو ہوتو علامہ ذہبی کا فیصلہ سنیئے: قلت: تلقت الامۃ حدیث ابی اسامۃ بالقبول لحفظہ ودینہ (تذکرۃ الحفاظ) ابواسامہ کی قوت یادداشت اور ان کی دین داری کی وجہ سے تمام امت نے ان کی روایات کو قبول کیا ہے۔
وہ امت جس میں احمد بن حنبل، بخاری، مسلم، نسائی، ابن ماجہ، حمیدی، ابن الفرات اور محمد بن عبداللہ بن عمار جیسے ائمہ فن ہوں، اس امت نے ابواسامہ کی زیر بحث روایت کو قبول کیا ہے۔
کیا یہ سب حضرات عقل کی نعمت سے محروم تھے؟ (حاشا وکلا)
کاندھلوی صاحب نے اس حقیقت سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے کہ کوئی بھی انسان خطا و نسیان سے پاک نہیں، علم حدیث کو مسمار کرنے کی نہایت مذموم کوشش کی ہے۔ جبکہ یہ بھی حقیقت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے احادیث کی جمع وتدوین کا کام جن پاکباز انسان سے لیا، انہیں اللہ تعالیٰ نے جو قوت یادداشت عطا فرمائی تھی، وہ بھی نبی مکرمﷺ کی نبوت کا ایک عظیم الشان اعجاز ہے۔
مروان بن حکم رضی اللہ عنہ کے کاتب کا بیان ہے کہ ایک دن مروان رضی اللہ عنہ نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی قوت یادداشت کا امتحان لینا چاہا۔ا س نے مجھ سے کہا کہ جب میں ابوہریرہ کو دعوت دوں تو تم چھپ کر ان کی باتیں تحریر کرتے رہنا۔ چنانچہ میں چارپائی کے پیچھے چھپ کر بیٹھ گیا۔ مروان ان سے سوال کرتے جاتے تھے اور وہ جواب دیتے جاتے تھے او رمیں ان کی گفتگو تحریرکرتا جاتا تھا۔ ایک سال بعد مروان بن حکم نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کو دوبارہ دعوت دی اور میں پھر چھپ کر بیٹھ گیا۔ مروان رضی اللہ عنہ نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے پھر وہی سوال کیے اور ابوہریرہ نے جواب اسی طرح دیئے کہ نہ اس میں سے کچھ کم کیا اور نہ اضافہ کیا اور نہ الفاظ کو آگے پیچھے کیا۔ (سیر اعلام النبلاء وصححہ الحاکم)
موصوف نے اپنے مضمون میں جگہ جگہ سیر اعلام النبلاء کا حوالہ دیا ہے، کاش کہ موصوف نے آنکھیں کھول کر اس کا مطالعہ کیا ہوتا!
کاندھلوی صاحب علامہ ذہبی کے بھی بڑے مداح ہیں! آئیے امام ذہبی سے بھی کچھ سنتے ہیں:
امام ذہبی امام زہری کے حافظہ کا تذکرہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ زہری نے صرف اسی راتوں میں پورا قرآن حفظ کرلیا تھا۔
کاندھلوی صاحب اسی دلیل میں فرماتے ہیں: ’’ امام ابو حنیفہ بھی اسی دور کے شاگرد تھے لیکن امام ابو حنیفہ نے بھی اس روایت کو کہیں نقل نہیں کیا۔ ‘‘(5)
اگر اسی دور سے مراد مدنی دور ہے تو یہ دعویٰ بلا دلیل ہے۔ کیونکہ امام ابوحنیفہ کا علم حدیث حاصل کرنے کےلیے سفر کرنا ثابت نہیں۔امام صاحب نے عہد شباب میں پہنچ کر علم حاصل کرنا شروع کیا تھا۔ آپ نے تحصیل علم کا آغاز عراقی فقہ سے کیا۔ آپ کوفہ کے معروف فقیہ حماد بن ابی سلیمان کے ، جو حدیث میں ضعیف تھے، کئی سال شاگرد رہے اور کوفہ میں محدثین کے حلقہ میں درس میں بھی بیٹھتے رہے۔ اگر یہ ہشام کے شاگرد ہیں تو عراقی دور کے ہیں، مدنی کے نہیں۔
کیا اس دور کی امام ابوحنیفہ نے ہشام سے کوئی دوسری روایت نقل کی ہے؟اگر کی ہے تو میں اس گروہ سے یہ پوچھنے کی جسارت کروں گا کہ کاندھلوی صاحب کے نزدیک تو ہشام بن عروہ کا پورا عراقی دور ناقابل اعتماد ہے ۔ پھر اسی دور کی دوسری روایات امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ نے کیوں بیان کیں؟ اگر امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ نے ہشام سے کوئی روایت نہیں کی تو امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ جیسے فقیہ نے ایک ایسے آدمی کی شاگردی کیوں قبول کی جو آپ کے بقول دماغی توازن کھو چکا ہے؟ کیا ہشام کو دیوانہ دیکھ کر پورا عراق پاگل ہوگیا تھا؟
امام ذہبی کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ ان کا بڑھاپے میں حافظہ جوانی جیسا عمدہ نہ تھا۔ یعقوب بن شیبہ کے حوالے سے لکھا ہے کہ ہشام سے جو روایات اہل عراق بیان کریں ، وہ روایات قابل اعتبار نہیں۔ ابو الحسن قطان کے حوالے سے لکھا ہے کہ ہشام آخری عمر میں احادیث اور ان کی اسناد میں گڑبڑ کرنے لگے تھے۔ کاندھلوی صاحب کی درج بالا تحریر سے یہ معلوم ہوا کہ ہشام پر جن ناقدین نے جرح کی ہے، ان کے بیان تین طرح کے ہیں:
۱۔ ہشام بن عروہ کا بڑھاپے کا دور قابل اعتماد نہیں۔
۲۔ ان کا عراقی دور قابل اعتبار نہیں۔
۳۔ ان کی عمر کا فقط آخری حصہ قابل بھروسا نہیں۔
علامہ ذہبی کے بیان سے تو کاندھلوی صاحب بھی متفق نہیں، کیونکہ وہ اسی دلیل میں یہ تسلیم کرتے ہیں کہ ان کا پورا مدنی دور قابل اعتماد ہے اور جب وہ مدینہ سے عراق گئے تھے، اس وقت ان کی عمر اکہتر برس تھی۔ ظاہر ہے کہ اکہتر برس کا آدمی جوان نہیں ہوتا۔
ہشام بن عروہ کے عراقی شاگرد وہیب بن خالد کے بیان سے بھی اس کی تصدیق ہوتی ہے: قال وہیب: قدم علینا ہشام فکان مثل الحسن وابن سیرین (تذکرۃ، 1/144)
جب ہشام ہمارے پاس (عراق) آئے تو وہ اس وقت امام حسن بصری اور امام ابن سیرین کی طرح تھے۔
تمام ناقدین کے مقابلے میں وہیب کا قول زیادہ حیثیت رکھتا ہے کیونکہ یہ ان کے شاگرد ہیں، شاگرد اپنے استاد کے احوال سے دوسروں سے زیادہ واقف ہوتا ہے۔ جیسا کہ تدریب الراوی میں علامہ جلال الدین سیوطی رقم طراز ہیں: ’’ولا شک ان المحدث اعرف بحدیث شیوخہ‘‘ (تدریب الراوی، 26)
ابو الحسن قطان کے بیان سے اتفاق ہوسکتا ہے ۔اس صورت میں ہشام کے عراقی دور کو دو حصوں میں تقسیم کریں گے:
پہلا عراقی دور: جس میں ہشام کا حافظہ بالکل درست تھا۔ اسی دور میں امام ابوحنیفہ اور دوسرے فاضل عراقی ان کے شاگرد تھے۔
دوسرا عراقی دور: اس دور میں وہ احادیث کی سندات گڑبڑ کرنے لگے ہوں گے۔ یہی وجہ ہےکہ محدثین نے ہشام کے بعض عراقی شاگردوں کی روایات کو قبول کیا ہے اور بعض کو مسترد کیا۔
اگر ہم یہ تسلیم کرلیں کہ ہشام کا پورا عراقی دور دماغی عدم توازن میں گزرا تو بھی اس روایت پر کوئی حرف نہیں آسکتا کیونکہ اس روایت کی کم از کم دو سندیں ایسی ہیں جن میں ہشام نہیں ہے اور نہ ہی اس سے ہشام کےبعض عراقی شاگردوں پر حرف آسکتا ہےکیونکہ عراق میں ہشام کی آمد سے قبل ہشام کے بعض شاگردوں کا مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ میں جاکرتعلیم حاصل کرنا ثابت ہے۔ مثلاً: سفیان بن عیینہ، سفیان ثوری، حماد بن زید اور حماد بن سلمہ نے بہت سے مکی و مدنی محدثین سے حجاز میں جاکر احادیث سنی ہیں۔ہوسکتا ہے کہ انہوں نے ہشام سے زیر بحث روایت بھی اسی دور میں سنی ہو۔ کیونکہ روایت میں یہ تو درج نہیں کہ اس زیر بحث روایت انہوں نے عراق میں سنی یا حجاز میں سنی۔ اگر ہشام کا پورا عراقی دور ناقابل اعتبار قرار دے دیا جائے تو اس کا سب سے زیادہ نقصان امام ابوحنیفہ کی فقاہت کو پہنچے گا۔ کیونکہ انہوں نے ان کی شاگردی فقط عراقی دور میں کی ہے۔ موصوف رقم طراز ہیں:
’’ حتیٰ کہ عبدالرحمن بن خراش کا بیان ہے کہ امام مالک اسے پسند نہ کرتے تھے ۔ انھوں نے ان پر اہل عراق کی احادیث کے باعث اعتراض کیے ہیں ‘‘(6)
ابن خراش کے بیان پر تبصرہ کرنے سے بہتر ہے کہ آپ کا ابن خراش سے تعارف کروا دوں۔ جناب اس کا پورا نام ابو محمد عبدالرحمن بن یوسف بن سعید بن خراش تھا۔ یہ اہل تشیع کا بہت بڑا عالم تھا۔ اس کے ایک شاگرد بکر بن محمد صیرفی کا کہنا ہے کہ میں نے ابن خراش کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ میں نے اپنا پیشاب پانچ مرتبہ پیا ہے۔ عبدان کہتے ہیں کہ اس نے ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما کی توہین میں دوجلدیں لکھ کر دو ہزار میں فروخت کیں اور اس رقم سے اپنا محل بنوانا شروع کیا۔ ابو بکر رضی اللہ عنہ کی حدیث ’’ماترکنا فہو صدقۃ‘‘ کو یہ باطل کہتا تھا۔ امام ذہبی کہتے ہیں کہ یہ شخص اس حال میں فوت ہوا کہ یہ اللہ کی رحمت سے دور تھا۔
موصوف فرماتے ہیں: ’’ہم کیا کہہ سکتے ہیں، آخر یہ بخاری اور مسلم کے راوی ہیں۔‘‘ (7)
حقیقت یہ ہے کہ کاندھلوی صاحب کو نہ ہشام سے کوئی تکلیف ہے او رنہ ان کے عراقی شاگردوں سے کوئی واسطہ ہے۔ انہیں تو صرف بخاری اور مسلم سے رقابت ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ بخاری اور مسلم نے اپنی صحیحین میں کاندھلوی صاحب کے تقلیدی مذہب کی تائید نہیں کی۔بلکہ انہوں نے بہت سی ایسی احادیث جمع کردیں، جنہوں نے ان کے تقلیدی مذہب کے جوڑ ہلا دیئے۔
موصوف فرماتے ہیں: ’’ہم اتنا ضرور جانتے ہیں کہ عراق کی آب وہوا نے اچھوں اچھوں کا دماغ خراب کردیا۔‘‘(8)
ہاں !جناب کے بزرگوں کا بھی یہی شیوہ رہا ہے۔ آپ حضرات جانتے ضرور ہیں مگر مانتے نہیں۔ اگر شک ہوتو تقریر ترمذی پڑھ کر دیکھ لیں۔ اگر کاندھلوی صاحب مانتے ہوتے تو پہلے عراقی امام کی تقلید سے برأت کا اظہار کرتے پھر یہ کتاب لکھتے۔
’’ لِمَ تَقُولُونَ مَا لَا تَفْعَلُونَ [الصف : 2] ‘‘ وہ کہتے کیوں ہو جو کرتے نہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔
(1) (ٍص:12)
(2) ہشام کا دوسرا دور 131 ہجری سے شروع ہوتا ہے ۔ 131 ہجری تک ہشام ، سب کے نزدیک بلاشبہ ثقہ تھے اور سیدہ عائشہ صدیقہ کی احادیث کا ایک مرکزی کردار تھے۔ لیکن جب انھوں نے 131 ہجری میں اپنی بیٹی کی شادی پر ایک لاکھ اس امید پر قرض لے کر خرچ کر ڈالے کہ خلیفہ وقت سے مدد لے لوں گا اور قرض اتار دوں گا ، لیکن ہوا یہ کہ بنو امیہ کی حکومت تبدیل ہو گئی اور بنو عباس برسر اقتدار آ گئے۔ یہ امیدوں کا محل سجائے بغداد پہنچے اور خلیفہ منصور کے سامنے دست سوال دراز کیا۔ اس نے اولاً تو ملامت کی کہ تم کو کس احمق نے یہ مشورہ دیا تھا ۔ لیکن یہ بھی لیچڑ بن کر منصور جیسے کنجوس مکھی چوس سے چپٹ گئے۔ اور اس نے انھیں مجبور ہو کر دس ہزار تھما دیا۔ یہ ان کا پہلا دماغی جھٹکا تھا۔ جس کے نتیجہ میں انھوں نے روایات میں بہکنا شروع کر دیا۔ وہ روایات جو اپنے والد سے نہیں سنی تھیں وہ بھی اپنے والد عروہ سے منسوب کر دیں۔
لیکن اس امید پر کہ کچھ دن بعد خلیفہ وقت سے کچھ اور وصول کر لوں گا مدینہ چلے گئے۔ کچھ روز قیام کے بعد کچھ نئی امیدوں کے سہارے پھر عازم بغداد ہوئے اور اب کی بار تھوڑا بہت مال وصول کر دالا اور پھر مدینہ پہنچ گئے۔ غالباً قرض خواہوں کا منہ بند کرنے کے لئے لیکن کچھ عرصہ بعد پھر وارد بغداد ہوئے اور پھر ہمیشہ کے لئے یہیں مقیم ہو گئے۔ اور یہیں بغداد میں 146 ہجری میں انتقال فرمایا۔ ان کی مرویات میں جتنی گڑ بڑ پیدا ہوئیں وہ سب سرزمین عراق میں ہوئیں۔ عراق پہنچنے کے بعد ان کے حافظے میں تغیر پیدا ہو گیا تھا۔(ٍص:13-12)

(3) میرے پاس جو نسخہ ہے اس میں تاریخ وفات 146 ہی درج ہے۔(ٍص:13)
(4) لیکن ہم نے اپنی زندگی کے متعدد سال رجال کی چھان بین میں صرف کئے ہیں اور اس نتیجہ میں ہم اس منزل پر پہنچے ہیں کہ ہشام کی زندگی کے دو دور ہیں ۔ ایک مدنی دور اور ایک عراقی دور۔ (ٍص:12)
(5) (ص: 12)
(6) (ص: 14)
(7) (ص: 15)
(8) (ص: 15)

آزاد
16-02-12, 09:48 PM
::چھٹی دلیل کا جواب::

چھٹی دلیل میں موصوف نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ اس روایت کو ہشام بن عروہ سے ان کے عراقی شاگردوں کے علاوہ اورکوئی نہیں بیان کرتا۔(1) ہم ان کے اس دعوے کا رد تو سترہویں دلیل کے جواب میں کریں گے۔ یہاں توہم یہ ثابت کریں گے کہ اس روایت کا راوی فقط ہشام نہیں اور نہ فقط ہشام کے والد عروہ ہیں، بلکہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے یہ روایت عروہ کے علاوہ اسود بھی بیان کرتے ہیں اور اسود سے عراقی فقہ کے بانی ابراہیم نخعی بیان کرتے ہیں۔ عراقی فقہ کے ترجمان امام طحاوی ابراہیم نخعی کے قول کو اہل حدیث کے رد میں قول فیصل کے طور پر پیش کرتے ہیں۔تفصیل درکار ہوتو شرح معانی الآثار کی پہلی جلد میں رفع الیدین کی بحث کا مطالعہ فرمالیں۔
ہشام بن عروہ بھی اپنے والد سے یہ روایت تنہا بیان نہیں کرتے، بلکہ ان کے ساتھ امام زہری بھی یہ روایت بیان کرتے ہیں۔ کاندھلوی صاحب نے امام زہری کو آٹھویں دلیل میں قابل اعتبار تسلیم کیا ہے۔(2) کاندھلوی صاحب بھی امام زہری اور اسود کی روایت سے آگاہ تھے کیونکہ یہ دونوں سندیں مسلم کی ہیں ، مگر انہوں نے تعصب ، ہٹ دھرمی اور علمی بددیانتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان کا اظہار نہیں کیا کیونکہ ان اسناد میں عروہ اور زہری مدنی ہیں ، معمر یمنی ہیں اور عبدالرزاق صنعانی ہیں جبکہ یحییٰ بن یحییٰ خراسانی ہیں۔
کاندھلوی صاحب نے بڑے فخر سے یہ دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے متعدد سال رجال وعلل کی چھان بین میں صرف کیے، مگر انہوں نے ہشام کے عراقی شاگردوں کی فہرست جاری کرتے وقت ایسی فاش غلطیوں کا ارتکاب کیا ہے کہ انہیں دیکھ کر لگتا ہے کہ موصوف نے ساری عمر کتابوں کا مطالعہ کرنے کے بجائے فقط کتابوں کے ورق گننے میں ضائع کردی۔
آئیے! ان کی غلطیوں کی نشاندہی کرتے ہیں۔ سفیان کے والد کا نام اور ابومعاویہ کے قبیلے کا نام غلط لکھا ہے۔ نمبر ۷ پر ابوسلمہ کوفی لکھا ہے جبکہ ہشام بن عروہ کا کوئی ایسا شاگرد نہیں جو ابوسلمہ کی کنیت سے معروف ہو، البتہ ان کے ایک شاگرد حماد بن سلمہ کی کنیت ابوسلمہ ہے مگر وہ اس کنیت سے معروف نہیں اور نہ وہ کوفی ہیں، وہ تو بصری ہیں۔ نیز ان کا نام کاندھلوی صاحب نے بصریوں کی فہرست میں الگ لکھا ہے۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر یہ نام ابوسلمہ نہیں تو پھر کیا ہونا چاہیے؟ اصل حقیقت تو اللہ ہی جانتا ہے ، جہاں تک میں نے مطالعہ کیا ہے، مجھے ایسا لگتا ہے کہ یہ نام ابواسامہ حماد بن اسامہ کوفی ہے ، کیونکہ یہ ہشام بن عروہ کے شاگرد بھی ہیں اور بخاری ومسلم کی اس روایت کے راوی بھی ہیں۔ نمبر ۸پر لکھتے ہیں: حماد بن زید الکوفی، جبکہ یہ بصری ہیں۔ بصریوں کی فہرست میں نمبر ۴ پر وہب بن خالد لکھا ہے، جبکہ اس نام کا آج تک عراق میں کوئی محدث پیدا نہیں ہوا، البتہ بصرہ میں وہب بن جریر نامی محدث اسی دور میں گزرا ہے، مگر وہ ہشام بن عروہ کے شاگرد نہیں بلکہ ہشام بن حسان کے شاگر دتھے۔ ہشام بن عروہ کے شاگرد کا نام وہیب بن خالد ہے۔
ایک ہی نقطہ نے محرم کو مجرم کردیا۔
محرم تو ایک نقطہ سے مجرم بن سکتا ہے ، یہاں تو دو نقطوں کی بات ہے۔
نہ تم توہین یوں کرتے، نہ ہم تردید یوں کرتے
نہ کھلتے راز سربستہ نہ یوں رسوائیاں ہوتیں
موصوف نے ہشام بن عروہ کے جن شاگردوں کی فہرست جاری کی ہے ، ان میں سے بعض سے امام بخاری اور مسلم نے روایات بطور حجت کے لی ہیں اور بعض سے استشہاد یا متابعت کے طور پر لی ہیں اور بعض سے نہ صر ف یہ روایت بلکہ ان سے کوئی بھی روایت نہیں لی۔ جن سے امام بخاری اور مسلم نے بطور حجت کے روایات لی ہیں ، ان کا عراق میں ہشام کی آمد سے قبل مدینہ اور مکہ کے شیوخ سے علم حدیث حاصل کرنا ثابت ہے۔ اور ابومعاویہ ایسے ہیں جو ہشام کی سند میں بھی ہیں اور ابراہیم نخعی کی سند میں بھی ہیں۔ جعفر بن سلیمان اور حماد بن سعید سے امام بخاری نے کوئی روایت نہیں لی۔
موصوف نے اپنی تائید میں ہشام کا اپنا ایک قول بھی پیش کیا ہے۔
محترم قارئین! یہ وہ زمانہ تھا جب کوفہ اہل الرائے اور اہل تشیع کا مرکز تھا، جبکہ مدینہ اہل الحدیث کا علمی و دینی مرکز تھا۔ ایک گروہ دوسروں پر برتری حاصل کرنے کےلیے جھوٹی احادیث بنایا کرتا تھا۔ اسی لیے اہل مدینہ ان سے خفا تھے۔ لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ کوفہ میں صحیح احادیث کی ترویج کےلیے کوئی کام نہیں ہورہا تھا۔کوفہ میں ایسے محدثین بھی تھے جن کی سوانح حیات آب زر سے لکھنے کے قابل ہیں۔ صراط مستقیم کے اوراق اجازت نہیں دیتے ورنہ ان عراقی محدثین کے بارے میں نامور ناقدین کے توصیفی کلمات تحریر کرتا اور وہ عراقی جو احادیث میں گڑبڑ کرتے تھے، ناقدین نے ان پردہ نشینوں کو بے نقاب بھی کیا ہے۔ ناقدین نے ان پر جو جرح کی ہے، اگر اس میں سے ایک چنگاری علم وفضل اور زہد وورع کے مصنوعی خرمن میں پھینک دوں تو وہ جل کر راکھ ہوجائے مگر میں ایسا کرکے ایک نئی بحث چھیڑنا نہیں چاہتا۔
موصوف نے اپنی تائید میں ایک قول ابن مہدی کا بھی نقل کیا ہے۔ اس قول سے محدثین کہاں تک متفق ہیں؟ یہ ایک طویل بحث ہے، اس پر بحث کرنے کی اس لیے بھی ضرورت نہیں کہ زیر بحث روایت بخاری و مسلم کی ہے۔ شیخین نے صحیحین میں جو روایت بھی بطور حجت کے پیش کی ہے،اس میں اپنے اصولوں کو کہیں بھی نظر انداز نہیں کیا۔ زیر بحث روایت کو امام بخاری نے صحیح بخاری میں سات مرتبہ نقل کیا ہے اور اس سے پانچ مسائل ثابت کیے ہیں۔ اس روایت کو امام بخاری اور مسلم کے علاوہ دوسرے محدثین اور فقہاء نے بھی صحیح تسلیم کرتے ہوئے کہا ہے کہ باپ اپنی نابالغ بیٹی کا نکاح کرسکتا ہے۔ قدوری اور صاحب ہدایہ بھی یہی آواز بلند کررہے ہیں۔ نیز اس روایت پر بخاری ومسلم کا اتفاق ہے اور ہر وہ روایت جس پر بخاری اور مسلم کا اتفاق ہو، وہ روایت اعلیٰ درجہ کی صحیح ہوتی ہے۔ جیسا کہ امام نووی فرماتے ہیں: ’’الصحیح اقسام واعلاہا ما اتفق علیہ البخاری ومسلم‘‘
صحیح احادیث کی مختلف اقسام ہیں ، ان میں سب سے اعلیٰ درجہ کی صحیح روایت وہ ہے ، جس پر بخاری ومسلم متفق ہوں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1) (ص: 15)
(2) (ص: 19)

آزاد
16-02-12, 10:11 PM
::ساتویں دلیل کا جواب::

واقعہ انشقاق قمر
کاندھلوی صاحب نے ساتویں دلیل میں بخاری کی جو روایت پیش کی ہے وہ بخاری میں دو مقام پر ہے، کتاب التفسیر میں مختصر ہے اور کتاب فضائل القرآن میں مفصل ہے۔ دونوں مقام پر اس روایت کے تمام بیان کنندگان ایک ہی ہیں۔ اس صورت میں دیانت داری کا تقاضا تو یہ تھا کہ کاندھلوی صاحب مفصل روایت نقل کرتے، مگر انہوں نے عوام کو فریب دینے کےلیے مختصر روایت نقل کی اور خودساختہ تشریح کردی جو کہ درج ذیل ہے:
’’ یہ سورہ القمر کی آیت ہے ۔ اور یہ سورة قمر شق القمر کے سلسلے میں نازل ہوئی ہے۔شق قمر کا واقعہ ہجرت سے پانچ سال قبل کا ہے۔ مفسرین کا بیان ہے کہ یہ سورت سن 4 نبوی میں نازل ہوئی اور اس وقت ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا لڑکی تھیں اور کھیلتی پھرتی تھیں۔ ‘‘(1)
اگر موصوف کا درج بالا بیان درست تسلیم کرلیں تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ نبوت کے بعد نبی مکرمﷺ صرف نو سال مکہ میں رہے حالانکہ کسی مورخ نے یہ نہیں لکھا کہ آپﷺ نبوت کے بعد نو سال مکہ میں رہے۔ ہاں البتہ اس پر جمہور اہل علم کا اتفاق ہے کہ نبی مکرم ﷺ نبوت کے بعد تیرہ سال تک مکہ معظمہ میں رہے اور یہی صحیح بخاری سے بھی ثابت ہے۔
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ جب آپﷺ پر وحی نازل ہوئی تو اس وقت آپﷺ چالیس سال کے تھے ۔ اس کے بعد آپﷺ مکہ میں تیرہ سال رہے ۔ پھر آپﷺ کو ہجرت کا حکم دیا گیا اور آپﷺ مدینہ ہجرت کرگئے ۔ وہاں دس سال تک رہے ، پھر وفات پاگئے۔ (بخاری، باب مبعث النبیﷺ)
موصوف نے بخاری کی جو روایت پیش کی ہے ، اس میں صرف یہ ہے کہ یہ آیت مکہ میں نازل ہوئی۔ سن نزول کا اس میں کوئی ذکر نہیں۔ یہ کاندھلوی صاحب کی اپنی دماغی اختراع ہے لیکن اس کے باوجود وہ یہ دعویٰ کررہے ہیں : ’’ہم ہرگز صحیح بخاری سے باہر نہیں گئے‘‘(2)
جھوٹ کی ایسی مثال تو شاید ان کے ہاں بھی نہ ملے جن کے ہاں جھوٹ بھی واجبات دین میں شامل ہے۔
آگے لکھتے ہیں: ’’یہ روایت ثابت کررہی ہے کہ ام المؤمنین سن ۴ نبوی میں اتنی عمر کی ضرور تھیں کہ لڑکیوں کے ساتھ کھیلتی پھرتی تھیں۔‘‘(3) میں یہ پہلے بھی عرض کرچکا ہوں کہ اس روایت میں نہ سن ۴ نبوی کا ذکر ہے اور نہ لڑکیوں کا ذکر ہے بلکہ یہ سب کچھ انہوں نے اپنی طرف سے اس لیے فرض کرلیا ہے کہ یہ آیت سورۃ القمر کی ہے اور اس سورۃ میں انشقاق قمر کا ذکر ہے۔ بخاری میں انشقاق قمر کے بارے میں تین صحابہ سے روایات ہیں، مگر کسی روایت میں بھی یہ تذکرہ نہیں کہ یہ واقعہ کس سن میں پیش آیا۔ فقط اتنی صراحت ہے کہ مکہ معظمہ میں پیش آیات تھا۔ مگر ان روایات میں یہ بھی صراحت نہیں کہ سورۃ القمر انشقاق قمر کے کتنے عرصہ بعد نازل ہوئی اور پہلی مرتبہ اس کی کتنی آیات نازل ہوئیں۔ ہاں البتہ اگر بخاری ومسلم سے باہر آجائیں تو تھوڑی مزید وضاحت ملتی ہے کہ پہلی مرتبہ سورۃ ’’مستمر‘‘ تک نازل ہوئی۔
زیر بحث آیت سورۃ قمر کی ہے اس لیے کاندھلوی صاحب نے انشقاق قمر کی بحث چھیڑ دی۔ بات چونکہ شروع ہوچکی ہے، اس لیے میں چاہتا ہوں کہ اس پر قدرے تفصیل سے بحث ہوجائے۔ تاکہ قارئین کو اس گروہ کے ذہنی انحطاط کا اندازہ ہوسکے۔
۱۔ پہلا سوال تو یہ ہے کہ انشقاق قمر ہوا یا کہ نہیں؟
۲۔ اگر ہوا ہے تو کب ہوا؟
۳۔ یہ سورۃ انشقاق قمر کے کتنے عرصہ بعد نازل ہوئی؟
۴۔ پہلی مرتبہ یہ سورۃ کتنی نازل ہوئی؟
۱: اگر ہم کاندھلوی صاحب کی طرح عقلاء او ادباء کے مشوروں پر عمل کریں تو پھر انشقاق قمر تاحال نہیں ہوا۔ آئیے! ہم آپ کو پہلے عقلاء سے ملاتے ہیں:
۱۔ عقلاء کہتے ہیں : یہ واقعہ نہیں ہوا، کیونکہ اگر ایسا ہوا ہوتا تو اس زمانہ کے بہت سے لوگ اس کے گواہ ہوتے۔
۲۔ اس واقعہ کا ذکر علم نجوم کی کتابوں اور جنتریوں میں ضرور ہوتا۔
۳۔ اگر یہ ایک بار ہوا تھا تو اسے بار بار ہونا چاہیے تھا۔ اگر مزید تفصیل درکار ہوتو ابو اسحا ق الزجاج کی تفسیر معانی القرآن کا مطالعہ کریں۔
معزز قارئین! جو اعتراض کاندھلوی صاحب نے روایت عائشہ پر کیے ، وہی اعتراض قدیم عقلاء نے انشقاق قمر پر کیے ہیں۔
جن پر تھاتکیہ وہی پتے ہوا دینے لگے
آئیے! تھوڑی دیر کےلیے ادباء سے بھی ملتے چلیں۔ جناب ان کا کہنا یہ ہے کہ جس واقعہ کا ہونا یقینی ہوتا ہے ، اس کا ذکر قرآن مجید میں فعل ماضی سے کردیا جاتا ہے۔ جیسا کہ سورۃ النحل کی پہلی آیت میں قیامت کی آمد کا ذکر فعل ماضی سے کیا گیا ہے۔ حالانکہ قیامت ابھی تک آئی نہیں تو اس سے ثابت یہ ہوا کہ ’’اتی أمر اللہ‘‘ بمعنی ’’سیأتی أمر اللہ‘‘ ہے (یعنی قیامت عنقریب آجائے گی) اس طرح ’’انشق القمر‘‘ دراصل ’’سینشق القمر‘‘ ہے( یعنی چاند عنقریب پھٹ جائے گا) تفصیل درکار ہوتو فتح الباری کا مطالعہ فرمائیں۔
عقلاء اور ادباء سے کاندھلوی صاحب کا گروہ اس مسئلہ میں جہاں تک متفق ہے ، ہم بھی اس روایت عائشہ میں عقلاء اور ادباء سے اسی حد تک متفق ہیں۔
وہ لوگ جن کا کہنا ہے کہ انشقاق قمر ہوچکا ہے، ان کے بھی دو گروہ ہیں۔ ایک گروہ کا خیال ہے کہ یہ واقعہ صرف ایک بار پیش آیا، دوسرے گروہ کا خیال ہے عہد نبوی میں دوبار پیش آیا۔ یہ بحث ترمذی اور تفہیم القرآن میں دیکھی جاسکتی ہے۔
۲: دوسرے سوال کے بارے میں عرض یہ ہے کہ کسی بھی مستند روایت میں اس واقعہ کے ظہور کا سن درج نہیں، البتہ مفسرین نے متعدد روایات اور واقعات کو سامنے رکھ کر یہ اندازہ لگا یا ہے کہ یہ واقعہ ہجرت نبوی سے پانچ سال قبل کا ہوسکتا ہے۔
۳: تیسرے سوال کے بارے میں عرض یہ ہے کہ اس سورۃ کے شان نزول کے بارے میں صحابہ کی ایک رائے نہیں۔ ابن عباس رضی اللہ عنہ کا خیال ہے کہ عہد نبوی میں چاند گرہن ہوا تھا، اس پر یہ آیات نازل ہوئیں۔ (ابن کثیر) انس رضی اللہ عنہ کا خیال ہے کہ یہ آیات انشقاق قمر پر نازل ہوئیں۔(ترمذی)
۴۔ چوتھے سوال کے جواب میں یہ دونوں صحابی متفق ہیں کہ یہ ساری سورت ایک ساتھ نازل نہیں ہوئی ، پہلی بار آغاز سے ’’مستمر‘‘ تک آیات نازل ہوئیں۔
اس بحث سے یہ واضح ہوا کہ کاندھلوی صاحب نے جو حدیث پیش کی ہے، اس کا انشقاق قمر سے کوئی تعلق نہیں۔ انشقاق قمر کس سن میں ہوا، یہ کسی صحیح روایت میں محفوظ نہیں۔ یہ سورۃ کتنے عرصہ میں مکمل نازل ہوئی، کچھ معلوم نہیں۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے جو آیت پڑھی تھی، وہ انشقاق قمر کے کتنا عرصہ بعد نازل ہوئی، کسی کو کچھ معلوم نہیں۔ خود ام المؤمنین کا بیان ہے کہ یہ آیت مکہ میں نازل ہوئی، جبکہ یہ بھی حقیقت ہے کہ اس آیت سے پہلے والی آیت(4) یعنی آیت نمبر 45 مدینہ میں جاکر نازل ہوئی۔
محترم قارئین! جب حقیقت یہ ہے تو پھر یہ کیسے فرض کرلیا جائے کہ ام المؤمنین رضی اللہ عنہا سن چار نبوی میں لڑکیوں کے ساتھ کھیلتی تھیں۔
آپ ہی اپنی اداؤں پر ذرا غور کریں
ہم اگر عرض کریں گے تو شکایت ہوگی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1) (ص: 18)
(2) (ص: 19)
(3) (ص: 18)
(4) سَيُهْزَمُ الْجَمْعُ وَيُوَلُّونَ الدُّبُرَ [القمر : 45] ترجمہ: عنقریب یہ جتھا شکست کھا جائے گا اور یہ سب پیٹھ پھیر کر بھاگتے نظر آئیں گے۔(45)

آزاد
16-02-12, 10:33 PM
::آٹھویں دلیل کا جواب::
کاندھلوی صاحب نے روایت عائشہ رضی اللہ عنہا کا رد کرتے ہوئے عائشہ رضی اللہ عنہا ہی کی ایک دوسری روایت آٹھویں دلیل کے طور پر پیش کی ہے۔ دیانت داری کا تو تقاضا تھا کہ پوری روایت پیش کی جاتی، مگر موصوف نے رائے عامہ کو گمراہ کرنے اور اس سے من پسند نتیجہ اخذ کرنے کی غرض سے اس کا صرف ایک حصہ پیش کیا ہے۔ روایت عائشہ رضی اللہ عنہا کو کاندھلوی صاحب نے جس بددیانتی سے اپنی خواہش کی بھینٹ چڑھایا ہے، اس پر میں صرف یہی تعزیتی الفاظ کہہ سکتا ہوں کہ روایت عائشہ ایک عجمی مولوی کی جہالت اور بددیانتی کا شکار ہوئی ہے۔
بخاری کی جس روایت سے موصوف عمر عائشہ کا رد چاہتے ہیں، وہ روایت زہری عن عروہ عن عائشہ ہے۔ اتفاق کی بات ہے کہ جس روایت کو موصوف رد کررہے ہیں، اس روایت کی ایک سند میں بھی زہری عن عروہ عن عائشہ ہے۔ اگر یہ سند یہاں قابل بھروسا ہے تو پھر روایت عمر عائشہ میں قابل اعتبار کیوں نہیں؟ یہ کوئی بازار حسن نہیں جہاں عشاق کی پسند کا خیال رکھا جاتا ہے۔ یہ تو بازار اصول علم حدیث ہے، یہاں من پسند فیصلے نہیں ہوتے ، یہاں تو اپنے اور بیگانے کا خیال کیے بغیر سب کو ایک کسوٹی پر جانچا جاتا ہے۔
موصوف نے ہجرت صدیق کے واقعہ سے عوام الناس کو گمراہ کرنے کی کوشش کی ہے۔ یہاں تو انہوں نے اس واقعہ کا سن ظہور نہں لکھا، لیکن پندرہویں دلیل میں باقاعدہ لکھا ہے کہ یہ واقعہ نبوت کے پانچویں سال کا ہے۔(1)
معزز قارئین! ہجرت حبشہ کا آغاز تقریباً نبوت کے پانچویں سال ہوا تھا، اس سال بارہ نفوس پر مشتمل ایک قافلے نے حبشہ کی طرف ہجرت کی تھی۔ اس پر تمام مورخین اور محدثین کا اتفاق ہے کہ اس قافلے میں ابوبکر شامل نہیں تھے۔ حبشہ کی طرف ہجرت کرنے کا یہ سلسلہ اس وقت منقطع ہوا جب نبوت کے تیرہویں سال مسلمانوں کو مدینہ کی طرف ہجرت کرنے کا حکم دیگیا۔ کاندھلوی صاحب نے جو روایت اپنی تائید میں پیش کی ہے، اس میں یہ صراحت ہے: ’’ قالت عائشة : فأتى ابن الدغنة إلى أبي بكر فقال : قد علمت الذي عاقدت لك عليه ، فإما أن تقتصر على ذلك ، وإما أن ترجع إلي ذمتي ، فإني لا أحب أن تسمع العرب أني أخفرت في رجل عقدت له ، فقال أبو بكر : فإني أرد إليك جوارك ، وأرضى بجوار الله عز وجل والنبي صلى الله عليه وسلم يومئذ بمكة ، فقال النبي صلى الله عليه وسلم للمسلمين : " إني أريت دار هجرتكم ، ذات نخل بين لابتين " وهما الحرتان ، فهاجر من هاجر قبل المدينة ، ورجع عامة من كان هاجر بأرض الحبشة إلى المدينة ، وتجهز أبو بكر قبل المدينة ، فقال له رسول الله صلى الله عليه وسلم : " على رسلك ، فإني أرجو أن يؤذن لي " فقال أبو بكر : وهل ترجو ذلك بأبي أنت ؟ قال : " نعم " فحبس أبو بكر نفسه على رسول الله صلى الله عليه وسلم ليصحبه ، وعلف راحلتين كانتا عنده ورق السمر وهو الخبط ، أربعة أشهر ‘‘ (صحیح بخاری، کتاب المناقب)
ام المؤمنین فرماتی ہیں کہ ابن دغنہ ابوبکر کے پاس آیا اور کہنے لگا: آپ یقیناً اس معاہدہ سے آگاہ ہیں جو ہمارے درمیان طے پایا تھا۔ آپ یا تو اس پر قائم رہیں یا میری امان واپس کردیں۔ کیونکہ میں نہیں چاہتا کہ عرب یہ خبر سنیں کہ ابن دغنہ کی امان کا خیال نہیں رکھا گیا۔ ابو بکر نے فرمایا: میں آپ کی امان واپس کرتا ہوں اور اللہ کی امان پر راضی ہوں۔ نبی مکرمﷺ بھی اس دن مکہ میں تشریف فرما تھے۔ آپ نے تمام مسلمانوں سے فرمایا کہ مجھے تمہاری ہجرت کا مقام دکھایا گیا، وہاں کھجور کے درخت ہیں اور یہ جگہ دو پتھریلے میدانوں کے درمیان واقع ہے۔ یہ سن کر کچھ لوگ مدینہ کی طرف ہجرت کر گئے اور حبشہ سے بھی اکثر مسلمان مدینہ کی طرف چل دیئے اور ابوبکر نے بھی تیاری کرلی۔ نبی مکرمﷺ نے ابوبکر سے فرمایا: تھوڑا انتظار کریں مجھے امید ہے کہ مجھے بھی اجازت مل جائے گی۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: میرے باپ آپ پر قربان ہوں کیا آپ کو امید ہے؟ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ہاں۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے خود کو رسول اللہﷺ کی معیت کےلیے روک لیا اور اپنی ددونوں اونٹنیوں کو چار ماہ تک چارہ دیتے رہے۔
دیکھا کاندھلوی صاحب نے جو روایت پیش کی ہے، اسی سے یہ واضح ہورہا ہے کہ ابوبکر کی ہجرت کا واقعہ نبوت کے پانچویں سال نہیں بلکہ نبوت کے تیرہویں سال کا ہے ۔ اس وقت ام المؤمنین کی عمر آٹھ سال کی ہوچکی تھی۔ اس عہد کی آٹھ سال کی بچی کےلیے اتنی باتیں یاد رکھنا کوئی مشکل نہیں تھا، اس گئے گزرے دور میں بھی بعض بچے سات سال کی عمر میں قرآن حفظ کرلیتے ہیں۔
کاندھلوی صاحب نے ام المؤمنین کے ان الفاظ ( کہ مجھے جب اپنے ماں باپ کی شناخت ہوئی تو دونوں کے مسلمان ہونے کی حیثیت سے ہی ہوئی(2)) سے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ ام المؤمنین بعثت نبوی سے قبل پانچ چھ برس کی تھیں۔
قارئین ! اگر آج کوئی بچہ یہ کہے کہ میں نے اپنے والدین کو جب شناخت کیا تو وہ دونوں مسلمان تھے۔ کیا اس بچے کے بیان کو غلط کہا جائے گا؟ ہرگز نہیں۔ کیونکہ مسلمان گھرانوں میں پیدا ہونے والے بچے جب ہوش سنبھالتے ہیں تو ان کے والدین مسلمان ہوتے ہیں۔ اگر عہد حاضر کے بچے کا بیان درست ہے تو پھر کیا یہ کہا جائے گاکہ یہ بچہ بعثت نبوی سے پہلے پیدا ہوا ہوگا؟
کاندھلوی صاحب لکھتے ہیں کہ اس روایت کے تین حصے ہیں۔ پہلا حصہ ام المؤمنین کا مشاہداتی ہے۔ ایک حصہ وہ عامر بن فہیرہ سے بیان کرتی ہیں اور ایک حصہ سراقہ سے بیان کرتی ہیں۔(3)
اس روایت کے تین حصے ضرور ہیں ، مگر اس طرح نہیں جس طرح کاندھلوی صاحب نے کہا ہے، بلکہ اس طرح ہیں ، اس پوری روایت کے ناقل امام زہری ہیں، وہ اس روایت کا پہلا حصہ عروہ کے توسط سے ام المؤمنین سے بیان کرتے ہیں اور دوسرا حصہ سراقہ بن جعشم کے بھتیجے اور بھائی کے توسط سے سراقہ سے بیان کرتے ہیں اور تیسرا حصہ عروہ سے بیان کرتے ہیں یعنی اس روایت کے آخری دونوں حصوں کی راویہ ام المؤمنین نہیں بلکہ سراقہ اور عروہ ہیں۔
موصوف کے اس بیان کو پڑھ کر یہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ جھوٹ میں مہارت تامہ رکھتے تھے اور عربی زبان سے ان کی شناسائی بہت کم تھی۔ ہم بحمداللہ اہل حدیث ہونے کے ناتے احادیث کو خراد مشین پر نہیں چڑھاتے، البتہ جو مدعی احادیث سے اپنا من پسند نتیجہ اخذ کرنے کی کوشش کرتا ہے، اس کا آپریشن ضرور کرتے ہیں۔(4)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1) (ص: 39)
(2) جب سے مجھے عقل آئی تو میں نے والدین کو دین اسلام پر پایا اور کوئی دن ایسا نہ تھا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صبح و شام ہمارے یہاں تشریف نہ لاتے ہوں۔(ص: 19)
(3) اس حدیث میں ام المومنین سیدہ عائشہ ابتدائے نبوت سے ہجرت حبشہ تک کی صورتحال کو ان دو جملوں میں ادا فرماتی ہیں کہ جب سے مجھے عقل آئی تو میں نے اپنے والدین کو اسلام پر پایا اور یہ دیکھا کہ رسول اکرم روزانہ صبح و شام ہمارے گھر تشریف لائے۔
اس حدیث کا ابتدائی حصہ جو ام المومنین نے ان جملوں میں اپنا مشاہدہ بیان فرمایا ہے کہ جب مجھے عقل و ہوش آیا تو میں نے یہ صورت حال دیکھی اور اپنے عقل و ہوش کا وہ دوسرا حصہ ہے ام المومنین مصائب کا دور فرما رہی ہیں۔ وہ ، وہ دور ہے کہ جس کے باعث سابقین اولین ہجرت حبشہ پر مجبور ہوئے۔ اور پھر اس میں اپنے والد ابوبکر کی ہجرت حبشہ کی پوری کیفیت اور اس کا انجام بیان کیا ہے۔
اس حدیث کا تیسرا حصہ جو ہم نے پیش نہیں کیا ہے ہجرت مدینہ پر مشتمل ہے۔ اور جب رسول اللہ سیدنا ابوبکر کے گھر سے ہجرت فرما کر باہر نکل آئے تو ام المومنین کا انداز بیان قطعاً تبدیل ہو گیا۔ کسی حصے کے سلسلے میں فرماتی ہیں کہ یہ مجھ سے عامر بن فہیرہ نے بیان کیا جو ابوبکر کے غلام ہیں اور ہجرت میں شریک کار ہیں۔ سراقہ کے واقعہ کا ذکر آیا تو فرماتی ہیں کہ مجھ سے سراقہ نے بیان کیا۔ اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ بعثت نبوی سے ہجرت مدینہ تک کی جو کیفیت اس حدیث میں بیان ہوئی ہے وہ ام المومنین اپنا مشاہدہ بیان کر رہی ہیں۔ یعنی جس وقت ام المومنین کو عقل آئی تو اس وقت ابوبکر اور ام رومان صاحب اسلام تھے اور جب سے ہوش سنبھالا تھا تب سے یہ دیکھا تھا کہ رسول اللہ روزانہ صبح و شام ان کے گھر تشریف لاتے وغیرہ وغیرہ۔ (ص: 21)
(4) مصنف نے یہ الفاظ کاندھلوی صاحب کے ان الفاظ کی وجہ سے کہے ہیں: ’’ لہذا اب یہ علماء پر موقوف ہے کہ خواہ ہشام کی روایت کو قبول کرتے ہوئے بخاری کی ان دو حدیثوں کو تاویل نامی خراد پر چڑھائیں یا انھیں قبول کرتے ہوئے ہشام کی غلطی تسلیم کریں۔‘‘ (ص: 22)

آزاد
17-02-12, 01:49 PM
::نویں دلیل کا جواب::

:ابن ماجہ کے ترجمہ میں تحریف:

مالی منفعت یا خواہشات نفسانی کی تکمیل کےلیے اسلاف کے کلام میں ترمیم و اضافہ کرنا یہود کی عادت مذمومہ تو ضرور ہے مگر کسی مسلم کو یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ اسلامی تعلیمات سے انحراف کرتے ہوئے سنت یہود کو تازہ کرے۔ میں نہایت افسوس سے یہ الفاظ سپرد قلم کررہا ہوں کہ کاندھلوی صاحب کی یا تو عربی زبان سے واقفیت اس قدر محددود تھی کہ وہ ابن ماجہ کی سادہ سی عبارت کو بھی سمجھ نہین پائے یا پھر انہوں نے اپنے مدعا کو مضبوط تر کرنے کےلیے عربی الفاظ کو ترجمہ کا غلط لباس زیب تن کردیا۔
موصوف نے محترمہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حوالے سےلکھا ہے کہ اسامہ تو خون چاٹنے لگے اور اسے اپنے چہرے سے ہٹانے لگے۔(1) اس روایت کی اسنادی حیثیت کیا ہے، اس پر تو بعد میں عرض کروں گا، پہلے قارئین پر یہ واضح کردوں کہ عربی کے الفاظ کیا ہیں اور ان کا صحیح ترجمہ کیا ہے؟
یہ روایت ابن ماجہ کے علاوہ طبقات الکبری اور مسند احمد میں بھی ہے۔تینوں کتابوں میں درج شدہ عبارت مع حوالہ پیش خدمت ہے۔
ابن ماجہ: ’’فقال رسول اللہﷺ امیطی عنہ الاذی فتقذرتہ فجعل یمص عنہ الدم‘‘ (ص:۱۴۳)
طبقات الکبریٰ: ’’قالت فجعل رسول اللہﷺ یمص شجتہ‘‘ (ص:۴۶، ج:۴)
مسند احمد: ’’قالت فجعل النبیﷺ یمصہ‘‘ (ص: ۱۳۹، ۲۳۲، ج:۶)
اس عبارت کا ترجمہ اس طرح ہے کہ نبی مکرمﷺ محترم اسامہ کی پیشانی سے خون چوسنے لگے۔
کاندھلوی صاحب نے اگر جان بوجھ کر اس عبارت کا ترجمہ غلط کیا ہے تو اس کے دو اسباب ہیں:
۱۔ وہ اس ترجمہ کے ذریعے محترم اسامہ رضی اللہ عنہ اور محترمہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی عمروں کے درمیان فرق واضح کرنا چاہتے تھے تاکہ اس کے ذریعے یہ ظاہر کیا جائے کہ محترمہ عائشہ رضی اللہ عنہا محترم اسامہ رضی اللہ عنہ سے یقیناً پندرہ بیس سال بڑی ہوں گی۔
۲۔ احناف کے نزدیک خون ناپاک اور نواقض وضو میں سے ہے اگر وہ اس عبارت کا صحیح ترجمہ کرتے تھے تو ان کی تقلیدی عمارت میں زلزلہ آتا تھا کہ خون اگر ناپاک ہے تو پھر نبی کریمﷺ نے خون کو اسامہ رضی اللہ عنہ کی پیشانی سے کیوں چوسا۔
روایت کی اسنادی حیثیت:
ابن ماجہ ، ابن سعد اور امام احمد نے یہ روایت شریک عن العباس بن زریح عن البہی عن عائشہ رضی اللہ عنہا کے طریقے سے روایت کی ہے۔
شریک القاضی: ان کا نام شریک بن عبداللہ تھا۔ یہ ابوجعفر منصور کے دور میں کوفہ کے قاضی مقرر ہوئے، اس طرح یہ قاضی کے لقب سے بھی مشہور ہیں۔ ابن سعد کہتے ہیں کہ شریک صحیح روایت کے ساتھ غلط روایت کو بھی بیان کرتے تھے۔ امام ابواسحاق جوزجانی کہتے ہیں: ان کا حافظہ درست نہیں تھا۔ امام بخاری اور امام مسلم نے ان کی کسی روایت کو بھی حجت تسلیم نہیں کیا۔
البہی: ان کا نام عبداللہ تھا۔ یہ زبیر رضی اللہ عنہ کے غلام اور عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کے شاگرد تھے۔محترمہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے ان کاسماع مشکوک ہے۔ ابن ابی حاتم کہتے ہیں کہ یہ اپنے اور محترمہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے درمیان کبھی عروہ کا نام لیتے تھے اور کبھی بلاواسطہ محترمہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے بھی روایت کردیتے تھے۔ ان کی روایات اس قابل نہیں کہ اسے حجت تسلیم کیا جائے۔ (علل الحدیث)
اس روایت کی دوسری سند: یہی روایت دوسری سند سے مسند ابو یعلی اور بیہقی میں بھی ہے، دوسری سند مجالد عن الشعبی کے طریق سے ہے۔
مجالد: ان کا پورا نام مجالد بھی سعید بن عمیر الہمدانی الکوفی ہے۔ مشہور ماہر فن امام یحییٰ نے انہیں ضعیف کہا ہے۔ امام بخاری فرماتے ہیں کہ میرے استاد ابن مہدی مجالد سے کوئی روایت نہیں لیتے تھے۔ امام سعید القطان کہتے ہیں کہ میں نہیں پسند کرتا کہ مجالد مجھ سے کوئی روایت بیان کرے۔ (طبقات)
حافظ ابن حجر کہتے ہیں کہ آخرت عمر میں ان کا حافظہ خراب ہوگیا تھا۔
روایت کا تیسرا طریق: ابن عساکر نے اس روایت کو مسلم کی طرف منسوب کیا ہے، مگر یہ روایت مسلم میں نہیں بلکہ ترمذی میں ہے۔ ابن عساکر نے جو الفاظ نقل کیے ہیں، وہ الفاظ ترمذی کے ہیں، نیز ابن عساکر نے اس روایت کے تمام طرق کو ضعیف کہا ہے۔ ظاہر ہے کہ اگر یہ روایت مسلم میں ہوتی تو ابن عساکر ان طرق کو ضعیف قرار نہ دیتے۔ امام ترمذی نے اس روایت کو نقل کرنے کے بعد اسے حسن غریب کہا ہے۔ ترمذی کی سند میں طلحہ بن یحییٰ بن طلحہ بن عبید اللہ الکوفی ہیں۔ انہیں بعض ناقدین نے ضعیف کہا ہے اور بعض نے ثقہ بھی کہا ہے۔
اگر اس روایت کو صحیح بھی تسلیم کرلیا جائے تب بھی اس روایت سے محترمہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی وہ روایت جو ان کی عمر سے تعلق رکھتی ہے ، مسترد نہیں ہوتی کیونکہ اسی طرح کی ایک کمزور روایت اور ہے جس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اسامہ رضی اللہ عنہ کی ناک ان کے بچپن کی وجہ سے نہیں بلکہ بیماری کی وجہ سے بہتی تھی۔ اس کی تفصیل ابن عساکر نے عطاء بن یسار کے حوالے سے اس طرح بیان کی ہے: ’’اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کو مدینہ آنے کے بعد جدری کا مرض لاحق ہوگیا تھا، جس کی وجہ سے مخاط ان کے منہ پر بہہ رہی تھی۔ محترمہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو اسامہ رضی اللہ عنہ کی اس حالت سے ناگواری ہوئی۔ اتنے میں رسول اللہﷺ حجرہ عائشہ میں تشریف لائے ۔ نبی مکرمﷺ نے اسامہ کا منہ صاف کیا اور انہیں چومنا شروع کردیا۔ (ابن عساکر، ص:۳۹۸، ج:۲)
یہ روایت بھی اگرچہ کمزور ہے مگر کاندھلوی صاحب کی نقل کردہ روایات کے مقابلے میں مفصل ہے۔ اس روایت سے یہ معلوم ہوا کہ اسامہ رضی اللہ عنہ کی ناک کم عمری کی وجہ سے نہیں بہتی تھی ، بلکہ بیماری کی وجہ سے بہتی تھی۔ بیمارکی خدمت کرنا کیا ہم عمر کےلیے ممنوع ہے؟ کیا آج کل ہمارے بچے اپنے بیمار عزیز و اقارب کی خدمت نہیں کرتے؟ کیا بیمار کی خدمت کرنے والے کےلیے یہ ضروری ہے کہ وہ بیمار سے دس بارہ سال بڑا ہو؟
محترمہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما ہم عمر تھے۔ علامہ ذہبی سیر اعلام النبلاء میں رقم طراز ہیں: ’’کان سنہ في سنہا‘‘ (سیر اعلام النبلاء، ص:۳۵۷، ج:۲)
محترمہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور محترم اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما دونوں ہم عمر تھے، مگر رشتے کے اعتبار سے محترمہ عائشہ رضی اللہ عنہا محترم اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سےبڑی تھیں۔ اسامہ رضی اللہ عنہ زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کے بیٹے تھے۔ زیدبن حارثہ رضی اللہ عنہ نبی مکرم ﷺ کے منہ بولے بیٹھے تھے۔ نبی مکرم ﷺ اسامہ رضی اللہ عنہ اور ان کے والد سے بے حد محبت کرتے تھے۔ اس ناتے بھی محترمہ عائشہ ، اسامہ بن زید کی ماں تھیں۔ ماں کے جو بیٹے کےلیے جذبات ہونے چاہییں، وہی جذبات محترمہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے اسامہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں تھے۔ نیز یہ اس وقت کا واقعہ ہے جب شرعی پردہ کا حکم نازل نہیں ہو ا تھا۔ ان حالات میں ترمذی اور ابن عساکر کی روایت کے مطابق محترمہ عائشہ نے بیمار اسامہ کی مدد کرنے کا اگر اظہار فرمایا تو اس میں آخر عجوبے کی کیا بات ہے؟

::دسویں دلیل کا جواب::

غزوہ بدر اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا

خیالات کی دنیا میں بہہ کر مفروضے قائم کرنے کا نا م تحقیق نہیں۔ تحقیق تو دلائل وبراہین اور تجربات ومشاہدات سے حاصل کردہ نتائج کا نام ہے۔ کاندھلوی صاحب نے صحیح مسلم کی روایت کے الفاظ کو بنیاد بنا کر یہ مفروضہ قائم کیا ہے: ’’اس روایت سے یہ ثابت ہوگیا کہ ام المؤمنین نو سالہ لڑکی نہ تھیں، اگر وہ نو سالہ لڑکی ہوتیں تو ان کا محاذ جنگ پر جانے کا کیا مقصد؟‘‘(2)
محترم قارئین! کاندھلوی صاحب نے مسلم کی جو روایت نقل کی ہے، اس سے محترمہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا محاذ جنگ پر حاضر ہونا ثابت نہیں ہوتا۔ اگر کسی دوسری روایت سے محترمہ کا بدر میں پہنچنا ثابت ہوجائے تب بھی یہ یہ ثابت ہرگز نہیں ہوسکے گا کہ وہ اس وقت انیس برس کی تھیں۔ کیونکہ محاذ جنگ پر جانا اور بات ہے اور قتال میں شریک ہونا دوسری بات ہے۔ متعددنابالغ بچوں کا غزوات میں جانا ثابت ہے۔ کیا مقامات غزوات میں ان کی موجودگی کو بنیاد بنا کر یہ مفروضہ قائم کرلیا جائے گا کہ وہ ضرور بالغ ہوں گے؟ عورتیں اور بچے غزوات میں جاسکتے ہیں، مگر قتال میں شریک نہیں ہوسکتے۔ یہی وجہ ہے کہ مال غنیمت سے حصہ صرف انہیں کو ملتا تھا جو قتال میں شریک ہوتے تھے، عورتوں کو ان کی بہتر کارکردگی کی بنا پر انعام دیا جاتا تھا، حصہ نہیں۔
غزوہ بدر تو ایک ایسا غزوہ ہے جس میں مسلمان باقاعدہ لڑائی کی نیت سے نہیں نکلے تھے۔ اہل مکہ مسلمانوں کی اقتصادی حالت تباہ کرنے ، ان کی افرادی قوت کو کم کرنے کےلیے مسلمانوں پر اچانک حملے کرتے رہتے تھے، کبھی وہ مسلم چرواہوں کو قتل کرکے ان کے جانور لوٹ کر لے جاتے تھے اور کبھی ان کی فصلوں کو جلا دیتے۔ نبی مکرمﷺ نے بدلے کے طور پر ان کی اقتصادی ناکہ بندی شروع کردی۔ کتاب وسنت اور آثار سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ نبی مکرم ﷺ مدینہ منورہ سے قریش کے مقابلے کےلیے نہیں بلکہ ابوسفیان کے تجارتی قافلے کو روکنے کی غرض سے نکلے تھے۔ مزید تفصیل اور تسلی کےلیے سورۃ انفال کی آیت ۶، ۷، ۴۲، اور ۴۴ کا مطالعہ فرمائیں۔
حافظ ابن کثیر کہتےہیں کہ نبی مکرمﷺ اور صحابہ قریش کے ایک ایسے قافلے کو روکنے کی غرض سے نکلے تھے جس کے پاس مال تھا۔ (السرۃ النبویۃ، ص: ۳۸۱، ج:۲)
علامہ ابن اثیر کا کہنا ہے کہ عمر و بن الحضرمی کا قتل اور ابوسفیان بن حرب رضی اللہ عنہ کا تجارتی قافلہ غزوہ بدر کا سبب بنا۔ (الکامل فی التاریخ، ص:۸۷، ج:۱)
حافظ ابن حجر کہتے ہیں: صاحب مغازی ابن اسحاق کا کہنا ہے کہ غزوہ بدر کا سبب قریش کا تجارتی قافلہ ہے۔ (فتح الباری، ص: ۲۸۱، ج: ۷)
نبی مکرمﷺ چونکہ لڑائی کی غرض سے نہیں نکلے تھے اس لیے شرکاء کی صلاحیتوں کا خیال رکھنا ضروری نہیں سمجھا گیا۔ اس طرح بعض نابالغ بچے بھی مقام بدر تک رسول اللہﷺ کے ساتھ پہنچ گئے ۔ مثلاً عبداللہ بن عمر، حارثہ بن سراقہ اور براء رضی اللہ عنہم۔ حارثہ بن سراقہ رضی اللہ عنہ پانی لے رہے تھے یا لڑائی کامنظر دیکھ رہے تھے کہ انہیں تیر لگا جس سے وہ شہید ہوگئے۔ عبداللہ بن عمر اور براء رضی اللہ عنہما کو نابالغ ہونے کی وجہ سے عین لڑائی کے دن قتال میں شریک ہونے سے روک دیا گیا۔ (بخاری ، کتاب المغازی)
غزوہ بدر کے موقع پر براء کی عمر چودہ برس تھی اور عبداللہ بن عمر کی تیرہ برس تھی۔ انہیں تو قتال میں شریک ہونے سے روک دیا گیا جبکہ محترم انس رضی اللہ عنہ کی عمر تقریباً بارہ برس تھی مگر ان کے بارے میں یہ صراحت نہیں کہ انہیں بھی روکا گیا، البتہ ان کی بدر میں موجودگی کی صراحت ہے جیسا کہ مسند احمد کی صحیح سند سے درج ذیل روایت ہے: ’’وانہ سئل : ہل شہدت بدرا؟ فقال: واین رغبت عن بدر؟‘‘
محترم انس رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا گیا:آپ بدر میں شریک تھے؟ انہوں نے فرمایا: بدر میں کیسے غائب ہوسکتا تھا؟‘‘
یہ سب کچھ تحریر کرنے کا فقط مقصد یہ ہے کہ محترمہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی اگر بدر میں موجودگی ثابت بھی ہوجائے تب بھی ان کی عمر انیس سال ثابت نہ ہوسکے گی کیونکہ عبداللہ بن عمر، انس بن مالک، براء بن عازب اور حارثہ بن سراقہ بدر میں حاضر ہونے کے باوجود پندرہ سال کے نہیں بن سکے۔
محترمہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی غزوہ بدر میں شرکت
محترمہ رضی اللہ عنہا کی رخصتی غزوہ بدر سے پہلے ہوچکی تھی، اس لیے آپ اس وقت بالغہ تھیں، مگر غزوہ بدر میں شریک نہ تھیں۔ کاندھلوی صاحب نے محترمہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی غزوہ بدر میں شرکت ثابت کرنے کےلیے مسلم کی جو روایت نقل کی ہے، اس سے زیادہ سے زیادہ اتنا ثابت ہوسکتا ہے کہ محترمہ اس قافلے ساتھ مقام شجرہ تک موجود تھیں، مگر اس سے آگے نہیں۔ کاندھلوی صاحب نے محترمہ کے حوالے سے جو لکھا ہے کہ جب ہم مقام بیداء پر پہنچے تو یہ کاندھلوی صاحب کی علمی خیانت ہے۔
غزوہ بدر کے دن جو واقعات پیش آئے،ان سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ محترمہ یا تو اس قافلے کے ساتھ مدینہ ہی سے رخصت نہیں ہوئیں یا پھر راستہ سے واپس کر دی گئیں، کیونکہ مقام روحاء پر پہنچ کر کچھ لوگوں کو مدینہ واپس کیا گیا تھا۔
نبی مکرم ﷺ نے مقتولین بدر کو قلیب بدر میں ڈالنے کے بعد خطاب کیا: ’’فہل وجدتم ما وعد ربکم حقا‘‘ (کیا تم نے اپنے رب کے وعدے کو سچ پایا ہے؟) اس پر محترم عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہﷺ! آپ بے جان لاشوں سے مخاطب ہیں؟ نبی مکرمﷺ نے فرمایا: میری اس بات کو تم ان سے زیادہ نہیں سن رہے۔ اس روایت کے راوی انس بن مالک رضی اللہ عنہ ، ابوطلحہ رضی اللہ عنہ اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ ہیں۔محترمہ عائشہ رضی اللہ عنہا آغاز میں اس کا انکار کرتی تھیں اور یہ کہتی تھیں کہ نبی مکرم ﷺ نے یہ کہا ہوگا کہ وہ مریی اس بات کو جانتے ہیں کیونکہ ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ آپ مردوں کو نہیں سنا سکتے، لیکن محترمہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی جو روایت مسند احمد میں ہے، اس میں وہی الفاظ ہیں جو محترم ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے ہیں۔ اس سے یہ معلوم ہوا کہ محترمہ بدر میں موجود نہیں تھیں ، اس لیے انہوں نے دوسرے صحابہ سے مختلف کہا اور متعدد صحابہ کے بیان کی وجہ سے بعد میں محترمہ نے اپنا موقف تبدیل کرلیا ہوگا۔ حافظ ابن حجر فرماتے ہیں کہ اس اختلاف کا سبب یہ ہے کہ محترمہ غزوہ بدر میں شریک نہ تھیں۔
ابن سعد میں ہے: نبی مکرمﷺ کےلیے کھجور کی لکڑیوں کا ایک سائبان بنایا گیا۔ نبی مکرمﷺ اور محترم ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اس میں داخل ہوگئے، جبکہ سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ سائبان کے دروازے پر تلوار لے کر کھڑے ہوگئے۔
علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں: ’’قال ابن اسحاق: ثم عدل رسول اللہﷺ الصفوف ورجع الی العریش فدخلہ ومعہ ابوبکر ولیس معہ فی غیرہ‘‘ (السیرۃ النبویۃ، ص:۴۱۰، ج: ۲)
ابن اسحاق کہتے ہیں کہ نبی مکرم ﷺ مجاہدین کی صفیں سیدھی کرنے کے بعد سائبان میں داخل ہوگئے، آپ کے ساتھ ابوبکر بھی تھے۔ ابوبکر کے علاوہ اس سائبان میں نبی مکرم ﷺ کے ساتھ کوئی اور نہ تھا۔
اس کی تائید بخاری کی ایک مختصر روایت سے بھی ہوتی ہے۔ درج بالا حوالہ جات سے یہ ثابت ہوا کہ محترمہ عائشہ رضی اللہ عنہا غزوہ بدر میں شریک نہ تھیں، کیونکہ اگر وہ شریک ہوتیں تو یقیناً وہ بھی سائبان ہی میں ہوتیں۔ اسی حقیقت کے پیش نظر محققین نے مسلم کی روایت کی وہ توجیہات بیان کی ہیں، جنہیں پڑھ کر کاندھلوی صاحب کا ہاضمہ خراب ہوگیا۔علمی مباحث میں حصہ لینا تو ان لوگوں کا کام جن کا ہاضمہ اور حافظہ مضبوط ہو، اس میدان کے وہ شہسوار ہرگز نہیں بن سکتے جن کا ہاضمہ اور حافظہ مخالفین کے دلائل پڑھ کر خراب ہوجائے۔(3)

محترمہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی رخصتی:

امام نووی، علماہ ذہبی، حافظ ابن کثیر اور بعض دوسرے محققین کا یہ خیال ہے کہ محترمہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی رخصتی غزوہ بدر کے بعد ۲ ہجری میں ہوئی جبکہ حافظ ابن حجر کا کہنا ہے کہ ایک ہجری شوال میں ہوئی۔ اس اختلاف کا سبب یہ ہے کہ کسی بھی صحیح روایت میں یہ درج نہیں کہ محترمہ کی رخصتی ہجرت کے کتنے ماہ بعد ہوئی، البتہ صحیح مسلم میں محترمہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میرا نکاح اور رخصتی دونوں ماہ شوال میں ہوئے۔
محترمہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا جب نکاح ہوا تو اس وقت محترمہ ساتویں سال میں داخل ہوچکی تھیں۔ (ابن حجر)
ابن جوزی کہتے ہیں: ’’فتزوجہا رسول اللہﷺ بمکۃ فی شوال قبل الہجرۃ بسنتین‘‘ (تلقیح فہوم اہل الاثر، ص:۱۹)
نبی مکرمﷺ سے محترمہ کا نکاح ماہ شوال میں ہجرت سے دو سال قبل مکہ میں ہوا تھا۔ حافظ ابن حجر اور علامہ ابن جوزی کے بیانات سے یہ واضح ہوا کہ ہجرت کے وقت محترمہ کی عمر آٹھ سال اور کچھ ماہ تھی۔ ہجرت کے آٹھویں ماہ رخصتی ہوئی۔ اس طرح رخصتی کے وقت محترمہ کی عمر نو سال بنتی ہے۔ اور حدیث میں بھی یہی ہے کہ نکاح کے وقت میری عمر چھ سال اور رخصتی کے وقت نو سال تھی۔ اس طرح نبی مکرمﷺ کے انتقال کے وقت محترمہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی عمر تقریبا اٹھارہ سال پانچ ماہ بنتی ہے، جسے عرف عام میں تقریباً اٹھارہ ہی کہا جائے گا۔
کاندھلوی صاحب نے محترمہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی غزوہ بدر میں زبردستی شرکت ثابت کرکے یہ ثابت کرنا چاہتے تھے کہ محترمہ کی رخصتی ۱ ہجری میں ہوئی، پھر سن ایک ہجری کو بنیاد بنا کر وہ صحیح بخاری کی دو روایات کو غلط ثابت کرنا چاہتے تھے۔ ہم نے بحمداللہ دلائل سے یہ ثابت کردیا کہ ۱ ہجری میں رخصتی کی صورت میں بخاری کی روایات مسترد نہیں بلکہ صحیح تر ثابت ہوتی ہیں، کیونکہ اس طرح محترمہ عائشہ رضی اللہ عنہ رسول اللہﷺ کی زوجیت میں تقریباً نوسال اور پانچ ماہ رہیں ، جسے عرف عام میں تقریباً نو سال ہی کہا جائے گا، دس سال نہیں۔ اعشاری نظام کا بھی یہی اصول ہے کہ اگر نصف سے کم ہو تو اسے چھوڑ دیا جاتا ہے اور اگر نصف سے زیادہ ہوتو اسے پورا عدد تسلیم کرتے ہوئے ایک کا اضافہ کردیتے ہیں۔ مثلاً 9.5 کو عموماً نو اور 9.7 کو عموماً دس کہا جاتا ہے۔ لہٰذا ثابت ہوا کہ کاندھلوی صاحب کا یہ کہنا کہ محترمہ عائشہ رسول اللہﷺ کی زوجیت میں دس سال رہیں ، غلط اور علوم سے ناواقفیت کی بنا پر ہے۔(یکیدون کیدا ً ، وأکید کیداً)
موصوف کے بیان کردہ دیگر واقعات کی حیثیت چونکہ تاریخی ہے، اس لیے اس پر کچھ لکھنا محض اپنا اور آپ کا وقت ضائع کرنے کے مترادف ہے۔
امام نووی فرماتے ہیں: اہل عرب عموماً کسر کو حذف کردیتے ہیں۔


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1) (ص: 22)
(2) (ص: 26)
(3) یہ الفاظ کاندھلوی صاحب کے ان الفاظ کی وجہ کہے گئے ہیں: ’’ہمارے شارحین حدیث نے اگرچہ اس حدیث کی یہ تاویلات فرمائی ہے کہ ہو سکتا ہے ام المومنین کی "ہم" سے مراد صحابہ کرام ہوں اور وہ خود اس "ہم" کی ضمیر میں داخل نہ ہوں اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ام المومنین بیدا تک رسول اللہ کو رخصت کرنے گئی ہوں۔ لیکن سچی بات یہ ہے کہ تاویلات پڑھنے کے بعد ہمارا ہاضمہ خراب ہو گیا۔ کھٹی کھٹی ڈکاریں آنے لگی ہیں۔ ‘‘ (ص: 25)

آزاد
17-02-12, 10:07 PM
::گیارہویں دلیل کا جواب::

دلیل نمبر ۱۰ کے جواب میں ہم یہ ثابت کرچکے ہیں کہ غزوہ میں امدادی کاموں کےلیے نابالغ بچے اور عورتیں شرکت کرسکتی ہیں مگر قتال میں شرکت کےلیے بالغ اور مرد ہونا ضروری ہے۔ حافظ ابن حجر فتح الباری میں رقم طراز ہیں: فرد من لم یبلغ(ص:۲۹۱، ج:۷)
نابالغوں کو قتال میں شریک ہونے سے روک دیا جاتا تھا۔ غزوہ احد میں خواتین کی شرکت امدادی کاموں کےلیے تھی قتال کےلیے نہ تھی کیونکہ ان کی شرکت اگر قتال کےلیے ہوتی تو پھر وہ مشکیں اُٹھانےکی بجائے تلواریں اُٹھاتیں۔ یہی وجہ ہے کہ ابوطلحہ نے ام سلیم کی رسول اللہﷺ سے یہ شکایت کی کہ ان کے پاس خنجر ہے۔ یہ روایت کاندھلوی صاحب نے طبقات کے حوالے سے دلیل نمبر ۱۱ میں پیش کی ہے۔ میں قارئین سے التماس کرتا ہوں کہ کاندھلوی صاحب نے ابن سعد اور بخاری کی جو روایتیں پیش کی ہیں، انہیں پھر غور سے پڑھیں، ان شاء اللہ آپ پر یہ حقیقت واضح ہوجائے گی کہ خواتین کی غزوہ احد میں شرکت امدادی کاموں کےلیے تھی، قتال کےلیے نہ تھی۔ بلوغت اور مرد ہونا قتال کےلیے شرط ہے۔ امدادی کاموں کےلیے نہیں۔ غزوہ خندق میں خندق کی کھدائی میں بعض نابالغ صحابہ نے بھی حصہ لیا تھا۔
موصوف کا یہ کہنا کہ سمرہ بن جندب ، براء بن عازب اور انس بن مالک کو غزوہ احد میں شریک ہونے سے روک دیا گیا تھا۔(1) یہ تاریخ و حدیث سے ناواقفیت کی بناپر ہے۔
براء بن عازب رضی اللہ عنہ: ہم پہلے عرض کرچکے ہیں کہ قتال کےلیے بلوغت شرط ہے ، عمر نہیں۔ محترم براء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ ہم عمر تھے۔(طبقات) مگر مجھے تو غزوہ احد میں شریک ہونے کی اجازت مل گئی(طبقات، ابن ابی شیبہ) ہم نے اس دن مشرکین کا مقابلہ کیا (بخاری) جبکہ ابن عمر کہتے ہیں کہ مجھے غزوہ احد میں قتال کرنے کی رسول اللہﷺ نے اجازت نہیں دی۔(بخاری)
سمرۃ بن جندب رضی اللہ عنہ: سمرہ بن جندب نے رافع کو گراد یا، اس لیے سمرہ کو بھی قتال کی اجازت مل گئی۔ (طبری) سمرۃ بن جندب غزوہ احد میں شریک ہوئے تھے۔ (طبقات)

:کاندھلوی صاحب کی تضاد بیانی:

کاندھلوی صاحب نے دلیل نمبر ۱۱ میں دو متضاد باتیں تحریر کی ہیں۔ ایک طرف تو محترم انس رضی اللہ عنہ کو ان بچوں کے ساتھ شامل کیا ہے جنہیں غزوہ احد میں شریک ہونے کی اجازت نہیں ملی۔ دوسری طرف محترم انس رضی اللہ عنہ کا مشاہدہ بخاری کے حوالے سے اس طرح نقل کیا ہے: حضرت انس فرماتے ہیں: ’’میں نے عائشہ بنت ابی بکر اور ام سلیم کو دیکھا، وہ دونوں پائنچے چڑھائے تھیں۔۔۔۔‘‘(2)
محترم قارئین! کاندھلوی صاحب کی دلیل نمبر ۱۱ کو بار بار پڑھیں اور پھر بتائیں کہ حافظہ ہشام بن عروہ کا خراب تھا یا کاندھلوی صاحب کا؟ محترم انس رضی اللہ عنہ کا مشاہداتی بیان نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں کہ یہ عمل ایک مسلح اور تجربہ کار عورت کا ہوسکتا ہے ، لیکن ایک دس سالہ کمسن اور ناتجربہ کار بچی کا نہیں ہوسکتا۔(3)
کاندھلوی صاحب کا یہ بیان بھی اسلام کی تاریخ سے ناواقفی کی بنا پر ہے جبکہ حقیقت اس طرح ہے:
محترم عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ بدر کے دن لڑائی کےلیے صفیں سیدھی ہوچکی تھیں، میں نے اپنے دائیں اور بائیں دو نوعمر لڑکوں کو دیکھ کر خود کو غیر محفوظ تصور کیا۔میں ابھی اسی سوچ میں تھا، ایک نے مجھے چپکے سے کہا: چچا! ابوجہل کون سا ہے؟ میں نے کہا: آپ کو اس سے کیا کام؟ وہ کہنے لگا: میں نے الہ تعالیٰ سے وعدہ کیا ہے کہ اگر میں نے اسے دیکھ لیا تو اسے ضرورقتل کردوں گا یا خود شہید ہوجاؤ گا۔ پھر دوسرے نے بھی چپکے سے مجھ سے یہی باتیں کیں، ان دونوں کی باتیں سن کر مجے یقین ہوگیا کہ میری دائیں بائیں دو نوعمر لڑکے نہیں بلکہ دو کہنہ مشق مرد ہیں۔ جیسے ہی ابوجہل نظر آیا، میں نے دونوں کو اشارے سے بتایا کہ وہ ابوجہل ہے۔ ابوجہل کو دیکھتے ہی وہ دونوں باز کی طرح اس پر جھپٹے، یہاں تک کہ اسے قتل کردیا اور وہ ودونوں عفراء کے بیٹے تھے۔ (بخاری، کتاب المغازی)
محترم قارئین! غور فرمائیں جب عفراء کے نو عمر بیٹوں کی جراأت و شجاعت کا یہ عالم ہے تو پھر ابوبکر کی نوعمر لڑکی کی جرأت وشجاعت کا کیا عالم ہوگا۔
کاندھلوی صاحب نے غزوہ احد کو شکست سے تعبیر کرکے(4) اسلام کے نام پرجان دینے والوں سے مذاق کیا ہے۔ کاندھلوی صاحب کتاب تو لکھنے بیٹھ گئے، مگر انہیں یہ بھی معلوم نہیں کہ اسلام میں مجاہدین کےلیے شکست کا کوئی تصور نہیں۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’ وَلاَ تَهِنُوا وَلاَ تَحْزَنُوا وَأَنتُمُ الأَعْلَوْنَ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ [آل عمران : 139] ‘‘
’’ وَمَن يُقَاتِلْ فِي سَبِيلِ اللّهِ فَيُقْتَلْ أَو يَغْلِبْ فَسَوْفَ نُؤْتِيهِ أَجْراً عَظِيماً [النساء : 74] ‘‘ اگر تم ایمان کے زیور سے آراستہ ہوتو پھر حزن و ملال اور غفلت کا مظاہرہ کرنے کی کوئی ضرورت نہیں، کامیابی تمہارا ہی مقدر ہے۔ اور جو اللہ کی راہ میں جنگ کرے، خواہ وہ شہید کردیا جائے یا غلبہ حاصل کرلے، ہم اسے بہت جلد اجر عظیم دیں گے۔‘‘
اگر مسلمانوں کے جانی نقصان یا ان کے پاؤں اکھڑنے کا نام شکست ہے تو پھر یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ حیاۃ طیبہ میں غزوہ احد کے علاوہ غزوہ حنین میں بھی مسلمان شکست سے دوچار ہوئے کیونکہ دونوں لڑائیوں میں مسلمانوں کے پاؤں اکھڑے اور ان کا جانی نقصان ہوا۔ ہر دوصورتوں میں تسلیم کرنا ہوگا کہ کاندھلوی صاحب کا بیان اسلامی تاریخ سے ناواقفیت کی عکاسی کرتا ہے۔
فقہ سے ناآشنائی: موصوف اسی دلیل میں رقم طراز ہیں: ’’بعض ائمہ فقہاء نے ابن عمر کی اس روایت کے باعث بلوغت کی کم از کم حد پندرہ سال بیان کی ہے۔‘‘
نہ صرف قرآن و حدیث اور تاریخ سے کاندھلوی صاحب کی واقفیت محدود تھی بلکہ جس فقہ کا قلادہ موصوف نے زیب تن فرمایا، اس کے اصولوں سے بھی موصوف نا آشنا تھے۔ برصغیر کے ایک نامور حنفی عالم مدرسہ عالیہ ڈھاکہ کے صدر المدرسین السید محمد عمیم الاحسان بلوغت کے بارے میں رقم طراز ہیں: ’’ والغلام یصیر بالغا بالاحتلام والاحبال والانزال والجاریۃ تصیر بالغۃ بالاحتلام والحیض والحبل فان لم یوجد یتم لہما خمس عشرۃ سنۃ واقل سن البلوغ لہ اثنتا عشرۃ سنۃ ولہا تسع سنین‘‘ (فقہ القواعد، ص:۲۱۰)
’’لڑکا اس وقت بالغ ہوجائے گاجب اسے احتلام ہونے لگے یا اس میں تولیدی مادہ پیدا ہوجائے یا انزال ہوجائے اور لڑکی اس وقت بالغ ہوگی جب اسے احتلام یا حیض آنے لگے یا پھر وہ حاملہ ہوجائے اور اگر یہ علامات نہ پائی جائیں تو پھر پندرہ سال کی عمر والے لڑکوں او رلڑکیوں کو بالغ تصور کیا جائے گا اور لڑکے کی بلوغت کی کم از کم عمر بارہ سال ہے اور لڑکی بلوغت کی کم از کم عمر نو سال ہے۔‘‘
اسی اصول کی روشنی میں ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ محترم انس رضی اللہ عنہ بارہ سال کی عمر میں بالغ ہوچکے ہوں گے کیونکہ انہوں نے بارہ سال کی عمر میں غزوہ بدر میں شرکت کی تھی۔

::بارہویں دلیل کا جواب::

:حضرت اسماء رضی اللہ عنہا کی عمر:

حسب عادت کاندھلوی صاحب نے اس دلیل کا آغاز بھی جھوٹ سے کیا ہے ۔ اس جھوٹ کو سچ ثابت کرنے کےلیے نہایت مکروہ چابکدستی او ر علمی بددیانتی سے کام لیا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ولی الدین خطیب نے یہ لکھا ہے کہ محترمہ اسماء رضی اللہ عنہا محترمہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے دس سال بڑی تھیں ، مگر وہ اپنی اس رائے پر خود بھی مطمئن نہیں ہیں، یہی وجہ ہے کہ وہ آگے چل کر محترمہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا تذکرہ کرتے ہوئے رقم طراز ہیں: ’’واعرس بہا بالمدینۃفی شوال سنۃ اثنتین من الہجرۃ علی راس ثمانی عشر شہرا ولہا تسع سنین۔ ‘‘ (مشکوٰۃ: ۶۱۲)
نبی مکرمﷺ محترمہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ ہجرت کے اٹھارہ ماہ بعد شوال ۲ ہجری میں شب باش ہوئے، اس وقت محترمہ کی عمر نو برس تھی۔
حافظ ابن حجر اور علامہ ابن کثیر نے یہ تو تحریر کیا ہے کہ محترمہ اسماء رضی اللہ عنہا کا انتقال سو برس کی عمر میں ۷۳ یا ۷۴ ہجری میں ہوا مگر ان میں سے کسی ایک نے بھی اپنی کسی بھی کتاب میں یہ تحریر نہیں کیا کہ محترمہ اسماء رضی اللہ عنہا محترمہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے دس برس بڑی تھیں، جبکہ علامہ ذہبی کے قول کا ترجمہ کرتے وقت علمی خیانت جیسے ناقابل معافی جرم کا ارتکاب کیا گیا ہے۔

:علامہ ذہبی کا قول اور کاندھلوی صاحب کی خیانت:

سیر اعلام النبلاء میں علامہ ذہبی محترمہ اسماء رضی اللہ عنہا کا تذکرہ کرتے ہوئے رقم طراز ہیں: ’’ کانت اسن من عائشۃ ببضع عشر سنۃ‘‘ (ص:۲۰۸، ج:۲) محترمہ اسماء رضی اللہ عنہا محترمہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے دس سال سے کچھ زیادہ سال بڑی تھیں۔

:بضع (کچھ) کا استعمال:

مابین الثلاث الی التسع یقال بضع سنین (المنجد) بضع کا لفظ تین سے نو تک کےلیے بولا جاتا ہے۔ (دینی لغات)
البضع یقال ذلک لما بین الثلاث الی العشر وقیل فوق الخمس ودون العشر (فقہ القواعد) لفظ بضع کا استعمال تین سے دس تک کےلیے ہے جبکہ بعض کا قول ہے کہ چھ سے نو تک کےلیے استعمال ہوتا ہے۔
یہاں قرآن میں لفظ بضع سنین آیا ہے۔ یہ لفظ تین سے نو تک صادق آتا ہے۔(مفتی محمد شفیع)
درج بالا بیان سے یہ واضح ہوا کہ لفظ بضع عربی زبان میں تین سے نو تک کےلیے استعمال ہوتا ہے۔ امام ذہبی نے ببضع عشر سنۃ کے الفاظ استعمال کیے ہیں۔ عربی لغت کے اعتبار سے امام ذہبی کےیہ الفاظ تیرہ سال سے انیس سال تک دلالت کرتے ہیں، مگر صارفی قرائن سے یہ واضح ہوتا ہے کہ محترمہ اسماء رضی اللہ عنہا اور عائشہ رضی اللہ عنہا سے اٹھارہ یا انیس برس بڑی تھیں۔

:خارجہ دلائل سے بضع کا تعین:

اس پر تقریباً تمام مورخین کا اتفاق ہے کہ محترمہ اسماء رضی اللہ عنہاکا انتقال سو برس کی عمر میں ہوا، البتہ اس میں اختلاف ہے کہ ان کا انتقال ۷۳ ہجری میں ہوا یا ۷۴ ہجری میں۔اگر یہ ثابت ہوجائے کہ محترمہ کا انتقال ۷۳ ہجری میں ہوا تو پھر محترمہ اسماء رضی اللہ عنہا محترمہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے انیس برس بڑی ہوں گی او اگر ان کا انتقال ۷۴ ہجری میں تسلیم کرلیا جائے تو یہ محترمہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے اٹھارہ برس بڑی ہوں گی۔ ان تمام دلائل کو جمع کرنے کے بعد یہ نتیجہ حاصل ہوا کہ محترمہ عائشہ رضی اللہ عنہا محترمہ اسماء رضی اللہ عنہا سے اٹھارہ یا انیس برس چھوٹی تھیں۔ علامہ ذہبی نے لفظ بضع کا استعمال کرکے اسی اختلاف کی طرف اشارہ کیا ہے۔
درج بالا دلائل سے یہ واضح ہوا کہ محترمہ اسماء رضی اللہ عنہا اور محترمہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی عمروں کے درمیان دس سال کا دعویٰ خام خیالی ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اس پر تمام مورخین ، محدثین ، محققین اور ناقدین کا اتفاق ہے کہ رخصتی کے وقت محترمہ عائشہ کی عمر نو سال تھی۔

:حافظ ابن کثیر کا قول فیصل:

’’تزوجہا وہی ابنۃ ست وبنی بہا وہی ابنۃ تسع ما لا خلاف فیہ بین الناس ‘‘(البدایۃ والنہایۃ، ص:۱۳۱، ج:۳)
اس میں کسی کو بھی اختلاف نہیں کہ نکاح کےوقت محترمہ کی عمر چھ برس تھی اور رخصتی کے وقت نو برس تھی۔
حافظ ابن کثیر کے اس قول فیصل کے بعد مزید کسی محقق کے بیان کی اگرچہ ضرورت نہیں تاہم ان بزرگوں کی تحقیق پیش کرنا مناسب سمجھتا ہوں جن کے نام موصوف نے دلیل ہذا میں لیے ہیں۔

:حافظ ابن حجر کی تحقیق:

نبی مکرمﷺ نے جب محترمہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کیا ، اس وقت محترمہ کی عمر چھ برس تھی۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ سات سال تھی ۔ ان دونوں روایات کے مابین تطبیق یہ ہے کہ اس وقت محترمہ اپنی عمر کے چھ سال مکمل کرکے ساتویں سال میں داخل ہوچکی تھیں، نبی مکرمﷺ جب محترمہ سے شب باش ہوئے تو اس وقت محترمہ کی عمر نو برس تھی۔ (اصابہ)

:عبدالرحمن بن ابی الزناد کی شہادت:

محترمہ کی عمر نکاح کے وقت چھ برس تھی اور رخصتی کے وقت نو برس تھی۔ (طبقات الکبریٰ، ص: ۸۲، ج: ۸)

:علامہ ذہبی کا بیان:

محترمہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی رخصتی نو برس کی عمر میں ہوئی۔ (سیر اعلام النبلاء، ص:۱۳۵، ج:۲)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1) اس سے قبل کہ ہم اس پر تبصرہ کریں کہ اس غزوہ میں کون کون سی عورتیں شریک تھیں اور ان کی کیا کیا ذمہ داریاں تھیں۔ یہ بتانا بھی ضروری ہے کہ رسول اللہ پیش آمدہ خطرات سے واقف تھے اسلئے آپ نے چودہ سالہ لڑکوں کو اس غزوہ میں شرکت کی اجازت نہیں دی۔ ان کم عمر بچوں میں سیدنا سمرۃ بن جندب ، براء بن عازب، انس بن مالک، زید بن ثابت اور سیدنا عبداللہ بن عمر شامل ہیں بلکہ سیدنا ابن عمر تو یہاں تک فرماتے ہیں کہ مجھے غزوہ احد میں شامل نہیں کیا گیا کیونکہ اس وقت میری عمر چودہ سال تھی اور سب سے پہلا غزوہ جس میں ، میں شریک ہوا غزوہ خندق ہے۔ لہذا جنگ میں شرکت کی حد کم از کم پندرہ سال ہے۔ بلکہ بعض ائمہ فقہا نے ابن عمر کی اسی روایت کی بنا پر بلوغ کی حد کم از کم پندرہ سال بیان کی ہے۔ (ص: 29)
(1) سیدنا انس فرماتے ہیں میں نے عائشہ بنت ابی بکر اور ام سلیم کو دیکھا۔ وہ دونوں پائنچے چڑھائے ہوئے تھیں اور مجھے ان کی پنڈلیوں کے پچھلے حصے نظر آ رہے تھے۔ یہ دونوں مشکیں اوپر اٹھائے ہوئے تھیں اور مجاہدین کو پانی پلاتیں۔ پھر جا کر انھیں بھر لاتیں اور مجاہدین کو پانی پلاتیں۔ (بخاری جلد 1 صفحہ 403)(ص: 31)
(3) (ص: 31)
(4) غزوہ احد ایک ایسا غزوہ ہے جس میں رسول اللہ شدید زخمی ہو گئے تھے۔ بخاری کی ایک حدیث کے مطابق آپ کے پاس صرف دو صحابہ رہ گئے تھے ۔ ایک سیدنا سعد بن وقاص اور دوسرے سیدنا طلحہ بن عبید اللہ ، کچھ لوگ افراتفری میں مبتلا ہو کر دل چھوڑ بیٹھے تھے۔ کچھ لوگ تن تنہا مصروف پیکار تھے اور انھیں ایک دوسرے کی کچھ خبر نہ تھی ، کچھ لوگ اپنی جانیں بچانے کے لئے پہاڑ پر چڑھ گئے تھے اور پورے لشکر میں یہ مشہور ہو گیا تھا کہ رسول اللہ شہید کر دئیے گئے۔
اس روز سیدنا ابو طلحہ انصاری جو سیدنا انس کے سوتیلے والد ہیں رسول اللہ کا دفاع فرما رہے تھے ۔ بار بار عرض کرتے کہ میرے ماں باپ آپ پر قربان آپ اپنی جگہ سے نہ اٹھئے کہیں آپ کو کوئی تیر نہ لگ جائے۔
یہ حیات نبوی میں وہ واحد جنگ ہے جس میں مسلمانوں کو شکست ہوئی اور ستر صحابہ نے جام شہادت نوش کیا۔ اور شاید ہی کوئی ایسا فرد ہو گا جو زخموں سے چور نہ ہوا ہو۔ اس غزوہ میں چند عورتیں بھی شریک تھیں۔ (ص: 28-29)

آزاد
18-02-12, 04:41 PM
::تیرہویں دلیل کا جواب::

اس دلیل میں بھی موصوف نے حسب عادت بددیانتی کا ارتکاب کیا ہے۔ طبری کی اصل عبارت اس طرح ہے: ’’تزوج ابوبکر فی الجاہلیۃ قتیلۃ فولدت لہ عبداللہ واسماء وایضا تزوج فی الجاہلیۃ ام رمان۔۔۔۔ فولدت لہ عبدالرحمن وعائشۃ فکل ہؤلاء الاربعۃ من اولادہ ولدوا من زوجتیہ اللتین سمیناہما فی الجاہلیۃ۔‘‘
ابوبکر نے عہد جاہلیت میں قتیلہ سے شادی کی۔ اس سے ابوبکر کے دو بچے عبداللہ اور اسماءپیدا ہوئے۔ اسی طرح ام رمان سے بھی زمانہ جاہلیت میں شادی کی ۔ اس سے بھی ابوبکر کے دو بچے عبدالرحمن اور عائشہ پیدا ہوئے۔ یہ چاروں بچے ابوبکر کے ابوبکر کی ان دونوں بیویوں سے ہیں جن کا ذکر ہم نے دور جاہلیت میں کیا ہے۔
اصول ترکیب اور طبری کے دیگر بیانات سے یہ واضح ہوتا ہےکہ فی الجاہلیۃ’’سمینا‘‘ کے متعلق ہے۔ یعنی یہ چاروں بچے ان دونوں بیویوں سے ہیں جن کا نام ہم نے دور جاہلیت میں لیا ہے۔
مؤرض طبری نے کئی ایک بار اس بات کا اظہار کیا ہے کہ محترمہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا نکاح چھ برس کی عمر میں ہوا اور رخصتی نو برس کی عمر میں ہوئی۔
اگر یہ تسلیم کرلیا جائے کہ فی الجاہلیۃ ’’ولدوا‘‘ کے متعلق ہے(یعنی چاروں بچے زمانہ جاہلیت میں پیدا ہوئے) تب بھی یہ ثابت نہیں ہوسکے گا کہ محترمہ عائشہ رضی اللہ عنہا نبوت سے پہلے پیدا ہوئیں، کیونکہ عہد جاہلیت کے اختتام اور عہد اسلام کے آغاز کے بارے میں زمانہ قدیم سے اختلاف چلا آرہا ہے۔
نامور حنفی عالم مفتی السید عمیم الاحسان رقم طراز ہیں: ’’الجاہلیۃ ہی مدۃ الفترۃ التی کانت بین عیسیٰ علیہ السلام وبین بعثۃ النبی ﷺ وقیل: ما قبل فتح مکۃ۔ ‘‘( قواعد الفقہ:۲۴۵) اس سے مراد وحی کے انقطاع کا وہ زمانہ ہے جو عیسیٰ علیہ السلام اور نبی مکرم ﷺ کی بعثت کے مابین ہے۔ اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام سے لے کر فتح مکہ تک کا زمانہ عہد جاہلیت ہے۔
بعض کا یہ بھی خیال ہے کہ عہد اسلام کا آغاز ہجرت نبوی سے ہوتا ہے۔ محترمہ اسماء رضی اللہ عنہا اور مھترمہ عائشہ رضی اللہ عنہا اسی خیال کی حامی ہیں۔ عبداللہ بن زبیر سن ایک ہجری میں پیدا ہوئے ۔ ان کے بارے میں محترمہ اسماء رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: ’’کان اول مولود فی الاسلام‘‘ (بخاری) عبداللہ بن زبیر پہلے بچے ہیں جو اسلام میں پیدا ہوئے۔
محترمہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: ’’ اول مولود ولد فی الاسلام من المہاجرین‘‘ (البدایۃ والنہایۃ، ص:۲۳۰، ج:۳، السیرۃ النبویۃ، ص:۲۳۱، ج:۲) مہاجرین میں سے جو پہلا بچہ عہدا سلام میں پیدا ہوا وہ عبداللہ بن زبیر ہے۔
ممکن ہے طبری کے نزدیک بھی عہد اسلام کا آغاز ہجرت نبوی ہی سے ہوتا ہو، اس لیے انہوں نے ابوبکر کے چاروں بچوں کی پیدائش کو زمانہ جاہلیت میں بتلایا ہے۔
جن لوگوں کے نزدیک عہد اسلام کا آغاز بعثت نبوی سے ہوجاتا ہے، انہوں نے محترمہ عائشہ رضی اللہ عنہا ، محترم اسامہ رضی اللہ عنہ، محترم عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ اور بعض دوسرے بچوں کے بارے میں لکھا ہے کہ وہ عہد اسلام میں پیدا ہوئے۔ مثلاًعلامہ ذہبی محترمہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں رقم طراز ہیں: ’’عائشۃ ممن ولد فی الاسلام وہی اصغر من فاطمۃ بثمانیۃ سنین وکانت تقول لم اعقل ابوی إلا وہما یدینان الدین‘‘ (سیر اعلام النبلاء، ص:۱۳۹، ج:۲) محترمہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا شمار ان بچوں میں ہوتا ہے جو عہد اسلام میں پیدا ہوئے۔ محترمہ عائشہ رضی اللہ عنہا محترمہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے آٹھ سال چھوٹی تھیں اور وہ فرمایا کرتی تھیں کہ میں نے جب سے ہوش سنبھالا ہے اپنے والدین کو دین اسلام پر ہی دیکھا ہے۔
(محترمہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی پیدائش پر تفصیل سے بحث آخر میں کریں گے۔ ان شاء اللہ )
جس طرح زمانہ جاہلیت کا اختتام کب اور عہد اسلام کا آغاز کب اور کہاں سے ہوتا ہے ، میں اختلاف پایا جاتا ہے، اسی طرح اس میں بھی اختلاف ہے کہ زمانہ جاہلیت کا آغاز کہاں سے ہوتا ہے ۔بعض کا کہنا ہے کہ محترم عیسیٰ علیہ السلام اور نبی مکرمﷺ کے مابین بھی بعض نبی آئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ حنظلہ بن صفوان واصحاب جرجیس کی طرف، جرجیس ملوک موصل اور خالد العبس بنو اضاعہ کی طرف اسی دوران بھیجے گئے اور بعض کا کہنا یہ ہے کہ اس دوران کوئی نبی نہیں بھیجا گیا۔ مگر عیسیٰ علیہ السلام کے بعد اہل توحید کی جماعت عرصہ دراز تک قائم رہی۔ ذوالقرنین کا عہد بھی محترم عیسیٰ علیہ السلام اور نبی کریمﷺ کے مابین ہے (المسعودی) ظاہر ہے کہ اس کے عہد کو دور جاہلیت نہیں کہا جاسکتا۔

::چودہویں دلیل کا جواب::

:السابقون الاولون کی تحقیق:
کاندھلوی صاحب نے مختلف مورخین کے حوالوں سے السابقون الاولون کی جو فہرستیں جاری کی ہیں، وہ باہم متضاد ہیں۔ موصوف اگر علم وبصیرت جیسی نعمت سے بہرہ ور ہوتے تو یقیناً ان فہرستوں کو بطور دلیل پیش نہ کرتے کیونکہ یہ ایک ایسی تاریخی کہانی ہے جس کی تائید کتاب و سنت سے ہرگز نہیں ہوتی۔ پھر اس کہانی پر مورخین باہم متحد نہیں۔ نیز ان میں سے کسی ایک کے پاس کوئی ٹھوس شہادت بھی نہیں ۔ ظاہر ہے ایسی حالت میں درج قول کی شناخت کی محال ہے۔
موصوف نے ابن ہشام کے حوالے سے جو فہرست جاری کی ہے، اس میں محترمہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی والدہ ام رمان رضی اللہ عنہا، محترم عباس رضی اللہ عنہ کی زوجہ محترمہ ام الفضل رضی اللہ عنہا، ورقہ بن نوفل رضی اللہ عنہ، نبی مکرمﷺ کی چاروں صاحبزادیاں رضی اللہ عنہن، خولہ بنت حکیم رضی اللہ عنہا، ام جمیل رضی اللہ عنہا، محبوب رسول ﷺ کی زوجہ محترمہ ام ایمن رضی اللہ عنہا ، اسلام کی شہید اول سمیہ رضی اللہ عنہا ، عمار بن یاسر اور یاسر رضی اللہ عنہما کے نام نہیں ہیں جبکہ موصوف نے اس دلیل میں ابن سعد کے حوالے سے ام الفضل رضی اللہ عنہا کو دوسری مسلم خاتون قرار دیا ہے اور آٹھویں دلیل میں موصوف یہ ثابت کرچکے ہیں کہ محترمہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی والدہ محترمہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے پہلے ایمان لائی تھیں۔ علامہ ابن کثیررحمہ اللہ کی طرف سے جاری کردہ فہرست میں مذکورہ ناموں کے علاوہ قدامہ رضی اللہ عنہ اور عبداللہ رضی اللہ عنہ کے نام بھی نہیں ہیں۔حکیم عبدالرؤف دانا پوری کی طرف سے جاری کردہ فہرست میں خباب بن الارت رضی اللہ عنہ کا نام گیارہویں نمبر پر ہے جبکہ ابن ہشام کے مطابق ان کا نمبر محترمہ عائشہ رضی اللہ عنہ کے بعد ہے۔ حکیم صاحب کی تصریح کے مطابق جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ اور ان کی اہلیہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا اور عبداللہ بن جحش رضی اللہ عنہ محترمہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے پہلے اسلام لائے تھے، جبکہ ابن ہشام اور ابن کثیر کی فہرستوں میں ان کے نام محترمہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے پہلے نہیں ہیں۔ مورخین کے ان متضاد بیانات کو بطور حجت قاطع پیش کرنا کہاں کی عقل مندی اور علمیت ہے؟
موصوف نے اس دلیل میں بھی حسب عادت تحریف کو تحقیق کا نام دیا ہے، کیونکہ موصوف نے ابن ہشام اور ابن کثیر کے حوالوں سے یہ دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے یہ نام فہرست میں ترتیب وار پیش کیے ہیں، حالانکہ انہوں نے نہ صرف ایسا کوئی دعویٰ نہیں کیا بلکہ رواۃ کے اختلافات نقل کرکے یہ واضح کیا ہے کہ یہ ایک اختلافی مسئلہ ہے ۔ ابن کثیر ص:۴۳۱ پر لکھتے ہیں: سب سے پہلے محترمہ خدیجہ رضی اللہ عنہا، پھر محترم علی رضی اللہ عنہ اور پھر محترم ابوبکر رضی اللہ عنہ اسلام لائے۔ صفحہ ۴۳۲ پر لکھتے ہیں: سب سے پہلے محترم ابوبکر رضی اللہ عنہ اسلام لائے ۔اور صفحہ۴۳۶ پر لکھتے ہیں: سب سے پہلے محترم زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ اسلام لائے۔ان اقوال میں سے وہ کسی قول کو بھی راجح قرار نہیں دے سکے۔ بنابریں انہیں ان اقوال کے مابین تطبیق کے ماسوا کوئی اور راستہ نظر نہیں آیا۔ چنانچہ انہوں نے ان اقوال کے درمیان اس طرح مطابقت پیش کی ہے کہ خواتین میں سب سے پہلے محترمہ خدیجہ رضی اللہ عنہا، غلاموں میں محترم زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ، بچوں میں محترم علی رضی اللہ عنہ اور آزاد مردوں میں محترم ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سب سے پہلے اسلام لائے۔
صفحہ ۴۴۱ پر لکھتے ہیں کہ محترم حمزہ رضی اللہ عنہ سے پہلے ۳۹ افراد اسلام لاچکے تھے۔ ان کے ایک یا دو دن بعد محترم عمر رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کیا۔ ان کے بعد محترمہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا نام ہے۔ صفحہ ۴۴۷ پر محترم ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کا یہ قول نقل کیا ہے کہ اسلام قبول کرنے والوں میں چوتھا نمبر میرا ہے۔ ممکن ہے کہ آزاد مردوں میں محترم ابوذر غفاری کا چوتھا نمبر ہو کیونکہ مجموعی لحاظ سے تو ایسا ممکن نہیں۔
علامہ ابن کثیر نے محمد بن اسحاق کے حوالے سے محترم ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ تک جو فہرست مرتب کی ہے ، اس میں ہرنام کے بعد لفظ ’ثم ‘کا استعمال کیا ہے۔ لفظ ’ثم‘ اس بات کی علامت ہے کہ ان کی تحقیق کے مطابق یہاں تک تو نام ترتیب سے ہیں جبکہ ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کے نام کے بعد لفظ ’واؤ‘ کا استعمال کیا ہے جو اس بات کی علامت ہے کہ اس کے بعد فہرست کا ترتیب سے ہونا کوئی یقینی نہیں، کیونکہ واؤ صرف جمع کےلیے ہوتا ہے، ترتیب کےلیے نہیں جیسا کہ قرآن حکیم میں ہے: ’’ إِنَّا أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ كَمَا أَوْحَيْنَا إِلَى نُوحٍ وَالنَّبِيِّينَ مِن بَعْدِهِ وَأَوْحَيْنَا إِلَى إِبْرَاهِيمَ وَإِسْمَاعِيلَ وَإِسْحَاقَ وَيَعْقُوبَ وَالأَسْبَاطِ وَعِيسَى وَأَيُّوبَ وَيُونُسَ وَهَارُونَ وَسُلَيْمَانَ وَآتَيْنَا دَاوُودَ زَبُوراً [النساء : 163] ‘‘
اس میں تو کوئی شک نہیں کہ مذکورہ تمام انبیاء محترم نوح علیہ السلام کے بعد اور نبی مکرم ﷺ سے قبل تشریف لائے ، مگر اس ترتیب سے نہیں آئے جیسا کہ قرآن حکیم ہی کی صراحت سے یہ واضح ہوتا ہے۔’’ وَوَرِثَ سُلَيْمَانُ دَاوُودَ [النمل : 16] ‘‘ محترم سلیمان علیہ السلام محترم داؤد علیہ السلام کے جانشین بنے، کیونکہ محترم سلیمان علیہ السلام محترم داؤد علیہ السلام کے بعد آئے۔ اس طرح قرآن حکیم میں اس بات کی بھی صراحت ہے کہ محترم عیسیٰ علیہ السلام محترم ہارون علیہ السلام کے بعد آئے جبکہ درج بالا آیت میں محترم عیسیٰ علیہ السلام کا نام محترم ہارون علیہ السلام سے پہلے ہے اور محترم سلیمان علیہ السلام کانام محترم داؤد علیہ السلام سے پہلے ہے۔ اس سے یہ واضح ہوا کہ واؤ ترتیب کو ظاہر نہیں کرتا۔ عربی زبان سے معمولی سی واقفیت رکھنے والے ابتدائی طلباء بھی یہ جانتے ہیں کہ حرف واؤ جمع کو ظاہر کرتا ہے اور حرف ثم ترتیب کو ظاہر کرتا ہے۔اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ کاندھلوی صاحب ثم اور واؤ کا یہ فرق کیوں نہیں سمجھ سکے۔
ابن ہشام نے جو فہرست نقل کی ہے ، اس میں سب سے پہلے محترم علی رضی اللہ عنہ کا نام ہے ۔ پھر محترم زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کا ہے اور پھر محترم ابوبکر رضی اللہ عنہ کا او رپھر عثمان رضی اللہ عنہ کا ہے۔ ابن ہشام نے یہ فہرست ابن اسحاق سے روایت کی ہے۔ یہاں بھی ابن اسحاق نے محترم ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ تک حرف ثم استعمال کیا ہے ، ان کے بعد حرف واؤ استعمال کیا ہے۔ ابن کثیر اور ابن ہشام نے یہ فہرست ابن اسحاق کے حوالے سے نقل کی ہے۔ یہ وہی محمد بن اسحاق ہیں جنہیں کاندھلوی صاحب نے فاتحہ خلف الامام نامی کتاب جھوٹ کے پلندہ میں سراپا عیوب کہا ہے۔ بددیانتی کے اس مجموعہ کی عبارت اس طرح ہے: ’’اس روایت کے یہ عیوب یہیں پر ختم نہیں ہوتے بلکہ مزید عیب خود محمد بن اسحاق کی ذات ہے۔ اسے سراپا عیوب کہا جائے تو زیادہ موزوں ہوگا۔ ‘‘ (فاتحہ خلف الامام، ص:۸۵)
کاندھلوی صاحب کے اندھے مقلدین ومعتقدین سے میری یہ گزارش ہے کہ محمد بن اسحاق اگر واقعی سراپا عیوب ہیں تو پھر آپ یہ بتائیں کہ سراپا عیوب کی بات کو جو بطور دلیل پیش کرتا ہے، وہ کون ہوگا؟
محترم قارئین! دروغ گوئی، مفاد پرستی اور بددیانتی فقط کاندھلوی صاحب تک محدود نہیں بلکہ یہ وصف موصوف کا موروثی ہے۔
اس گروہ کو محترم علی رضی اللہ عنہ اور ان کے گھرانے سے خاص نفرت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ موصوف نے ابن ہشام کی روایت میں تحریف کرکے یہ نقل کردیا ہے کہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے بعد ابوبکر رضی اللہ عنہ اسلام لائے۔ حالانکہ ابن ہشام نے محترم ابوبکر رضی اللہ عنہ کا نام محترم علی رضی اللہ عنہ کے بعد تحریر کیا ہے۔ موصوف نے ابن ہشام کے بیان میں دوسری تحریف یہ کی ہے کہ ابن ہشام کے بیان کو بنیاد بنا کر یہ کہا ہے کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا حضرت عمر کے اسلام لانے سے کافی قبل سن ایک نبوت میں مشرف باسلام ہوچکی تھیں۔(1)
ابن ہشام نے نہ تو یہ تصریح کی ہے کہ محترمہ عائشہ رضی اللہ عنہا محترم عمر رضی اللہ عنہ سے پہلے اسلام لائیں اور نہ ہی یہ تصریح کی ہے کہ محترمہ عائشہ رضی اللہ عنہا کون سے سن نبوت میں اسلام لائیں۔ موصوف کا یہ بیان شیطانی الہام کا آئینہ دار ہے۔
حکیم عبدالرؤف دانا پوری نے ابن ہشام سے اختلاف کرتے ہوئے محترم علی رضی اللہ عنہ سے پہلے محترم ابوبکر رضی اللہ عنہ کا، محترم عثمان رضی اللہ عنہ سے قبل محترم زبیر رضی اللہ عنہ کا، محترم سعد بن ابی وقاص سے قبل محترم طلحہ رضی اللہ عنہ کا اور محترم ابوعبیدہ سے پہلے محترم ابوسلمہ رضی اللہ عنہ کا نام تحریر کرکے یہ واضح کرنے کی کوشش کی ہے کہ ان اسحاق نے جو نام حرف ثم سے نقل کیے ہیں، ان کی ترتیب بھی یقینی نہیں ہے۔
حکیم عبدالرؤف صاحب کی پیش کردہ ترتیب کے مطابق محترمہ عائشہ کا نام اکتیسویں نمبر پر ہے مگر کاتب کی غلطی سے اس پر نمبر ۱۷ لکھا گیا ہے۔ عقل کے اس پجاری نے یہاں پہنچ کر عقل کو طلاق بائنہ دے کر نقل سے حلالہ کرلیا اور مکھی پر مکھی مارتے ہوئے کہا کہ حکیم عبدالرؤف نے محترمہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا ذکر سترہویں نمبر پر کیا ہے،حالانکہ حکیم صاحب کی تصریح کے مطابق محترمہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا اکتیسواں نمبر ہے۔ فہرست درج ذیل ہے:
ابوبکر، علی، زید بن حارثہ، زبیر ، عثمان بن عفان، عبدالرحمن، طلحہ، سعد بن ابی وقاص(عورتوں میں) خدیجہ، لبابہ، خباب بن الارت، سعید بن زید، فاطمہ بنت الخطاب، عبداللہ بن مسعود، عثمان بن مظعون، ارقم، ابوسلمہ، عبدالاسد، ابوعبیدہ، قدامہ، عبیدہ بن الحارث، جعفر، اسماء بنت عمیس، عبداللہ بن جحش، ابواحمد سائب، مطلب، رملہ، عمیر، اسماء بنت ابی بکر، عائشہ بنت ابی بکر۔
طبری نے السابقون الاولون کا ذکر کرنے سے پہلے یہ اعتراف کیا ہے کہ اس میں اختلاف ہے کہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے بعد کون اسلام لایا۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ علی اسلام لائے اور کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ ابوبکر اسلام لائے۔ بقول طبری اس میں بھی اختلاف ہے کہ تیسرے نمبر پر کون اسلام لایا۔ عمرو بن عتبہ کا کہنا ہے کہ مجھ سے پہلے نبی مکرمﷺ کے ساتھ ابوبکر اور بلال اسلام لائے جبکہ ابوذر نے بھی ایسا ہی دعویٰ کیا ہے۔ ابوذر کا یہ قول طبری کے علاوہ ابن کثیر نے بھی نقل کیا ہے۔
مسعودی نے ’’مروج الذہب‘‘ میں اس اختلاف کا ذکر کرتے ہوئے تین قول نقل کیے ہیں:
۱۔ بعض کا خیال ہے کہ پہلے ابوبکر رضی اللہ عنہ، پھر بلال رضی اللہ عنہ اور پھر عمرو بن عتبہ اسلام لائے۔
۲۔ ایک گروہ کا خیال ہے کہ عورتوں میں خدیجہ رضی اللہ عنہا اور مردوں میں علی رضی اللہ عنہ۔
۳۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ سب سے پہلے زید بن حارثہ ، پھر خدیجہ اور پھر علی رضی اللہ عنہم۔
دمیاطی اور ابن سعد کا خیال ہے کہ عورتوں میں سب سے پہلے خدیجہ اور ام الفضل ہیں جبکہ حافظ ابن حجر ان سے اتفاق نہیں کرتے ۔ ان کا کہنا یہ ہے کہ ام الفضل قدیم الاسلام تو ہیں مگر ان کا شمار السابقون الاولون میں نہیں ہوتا۔ حافظ ابن حجر کا خیال ہے کہ عورتوں میں خدیجہ رضی اللہ عنہا کے بعد ام ایمن رضی اللہ عنہا اسلام لائیں یا سمیہ رضی اللہ عنہا اسلام لائیں۔
خلاصہ کلام : کون کب اسلام لایا، یہ معمہ کبھی حل نہ ہوسکے گا۔ کیونکہ اس اختلاف کے متعدد اسباب ہیں، جن میں سے چند ایک درج ذیل ہیں:
۱۔ اسلام قبول کرنے والوں کو سخت سزائیں دی جاتی تھیں۔ اس لیے کئی ایک نے اپنے اسلام کو عرصہ دراز تک ظاہر نہیں کیا اور بعض نے فوراً اعلان کردیا جیسے ابوبکر، بلال، عمار وغیرہم رضی اللہ عنہم۔ حافظ ابن حجر سعد بن ابی وقاص کے قول پر اظہار خیال فرماتے ہوئے رقم طراز ہیں کہ آغاز اسلام میں مسلمان اپنے اسلام کو چھپائے رکھتے تھے، اس لیے سعد بن ابی وقاص اور عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما کے خیالات باہم متعارض ہیں۔
۲۔ جس عہد میں اسلام کا آغاز ہوا، اس عہد میں اہل عرب کے ہاں تاریخ سازی کا رواج نہ تھا۔ اس لیے کسی کو بھی اسلام قبول کرنے والوں کی فہرست ترتیب دینے کا خیال نہیں آیا۔
۳۔ مکی زندگی میں مسلمان اس قدر نحیف وناتواں تھے کہ انہیں دیکھ کر یہ خیال کیسے آسکتا تھا کہ غلامی کی زنجیروں میں جکڑے ہوئے یہ افراد دنیا کے امام ہوں گے۔
۴۔ اس دور میں جو بھی اسلام قبول کرتا تھا، وہ خالص اللہ کو راضی کرنے کےلیے اسلام قبول کرتا تھا، اس لیے اس بات کی ہرگز ضرورت نہ تھی کہ وہ تحقیق کرے کہ اسلام قبول کرنے میں اس کا کون سا نمبر ہے۔
اس دلیل میں کاندھلوی صاحب نے چند اور بھی شیطانی الہام بیان فرمائے ہیں۔ مثلاً:
۱: ابن سعد کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ سب سے پہلے جو عورت ایمان لائیں وہ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا ہیں، ان کے بعد ام الفضل ہیں رضی اللہ عنہا ہیں جو حضرت عباس رضی اللہ عنہ کی زوجہ تھیں، پھر اسماء بن ابی بکر اور عائشہ رضی اللہ عنہما ہیں۔ (2)
جناب! یہ عبارت ابن سعد میں تو نہیں ہے۔ ابن شیطان کی کسی کتاب میں ہوتو کچھ کہہ نہیں سکتا۔ ابن سعد میں تو صرف یہ لکھا ہےکہ خدیجہ کے بعد ام الفضل نے اسلام قبول کیا ۔جبکہ حافظ ان حجر نے ام الفضل کو السابقون الاولون میں شمار نہیں کیا : ’’ان کانت قدیمۃ الاسلام الا انہا لم تذکر فی السابقین‘‘ (فتح الباری، ص: ۲۴، ج:۷) ام الفضل اگرچہ قدیم الاسلام ہیں ، مگر انہیں سابقون میں شمار نہیں کیا جاتا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1) مورخ ابن ہشام نے اپنی سیرت میں رسول اللہ پر ایمان لانے والوں کا تذکرہ "السابقون الاولون" کے عنوان سے کیا ہے۔ ان المومنین سیدہ خدیجہ سے ابتدا کرتے ہوئے مردوں عورتوں اور بچوں کا تذکرہ ترتیب وار ایک فہرست میں پیش کیا ہے ، لکھتے ہیں۔
سیدہ خدیجہ کے بعد سیدنا ابوبکر صدیق کی دعوت پر سیدنا عثمان ابن عفان ، زبیر بن العوام، عبدالرحمن بن عوف ، سعد بن ابی وقاص، اور سیدنا طلحہ بن عبیداللہ (بشمول زید و علی و ابوبکر) یہ آٹھ آدمیوں کی جماعت ہے جو ابو بکر کے ہاتھ پر اسلام لائی اور جنھوں نے اسلام کی جانب سبقت کی۔ پھر سیدنا ابو عبیدہ بن الجراح اسلام لائے اور ابو سلمہ بن عبدالاسد اور ارقم بن ابی الارقم (انھی کے مکان میں رسول اللہ قریش مکہ سے چھپے ہوئے تھے) آپ لوگوں کو خفیہ اسلام کی دعوت دیتے تھے۔ ان کا مکان صفا پہاڑی پر واقع تھا۔ حتیٰ کہ مسلمانوں کی تعداد سیدنا عمر کے اسلام لانے پر 40 ہو گئی۔
جب مسلمان پورے چالیس ہو گئے تو یہ باہر نکل آئے اور سیدنا عثمان بن مظعون اور ان کے بھائی قدامہ اور عبداللہ اور عبید ہ بن الحارث اور سعید بن زید اور ان کی بیوی فاطمہ یعنی عمر بن الخطاب کی بہن اور اسماء بنت ابی بکر اور عائشہ بنت ابی بکر (وہ ان دنوں چھوٹی تھیں) اور خباب بن الارت ۔ (ابن ہشام جلد 1 صفحہ 65)
ابن ہشام کی تصریح کے مطابق یہ بات ثابت ہو جاتی ہے کہ "السابقون الاولون" میں سیدہ خدیجہ کو شامل کر نے کے بعد سیدہ اسماء کا نمبر انیسواں اور ام المومنین سیدہ عائشہ کا نمبر بیسواں ہے۔ یعنی ام المومنین سیدہ عائشہ سیدنا عمر کے اسلام لانے سے کافی قبل سن 1 نبوت میں مشرف با اسلام ہو چکیں تھیں۔یعنی اگر ہشام کی روایت کو قبول کر لیا جائے تو ام المومنین اپنی تخلیق سے چار سال قبل مشرف با اسلام ہو چکی تھیں۔ قربان جائے اس کرامت کے اتنی بڑی کرامت تو بڑے بڑے پیر صاحبان نہ دکھا سکے۔ آج تک ہم مادر زاد ولی اور مادر زاد امام کی کہانیاں تو پڑھتے آئے ہیں لیکن مادر زاد بیعت رسول کا یہ فسانہ اپنا شاہکار آپ ہے۔ (ص: 34-35)
(2) ابن سعد لکھتے ہیں سب سے اول جو عورت ایمان لائیں وہ ام المومنین سیدہ خدیجہ ہیں ان کے ام الفضل ہیں جو سیدنا عباس کی زوجہ تھیں۔ پھر اسماء بنت ابی بکر اور ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ ہیں۔ اور یہی قول ابن عباس کا ہے۔ (ص: 36)

آزاد
26-02-12, 09:06 PM
::پندرہویں دلیل کا جواب::

:کاندھلوی صاحب کا جھوٹ:

صدق و سچائی میں عالمی ریکارڈ قائم کرنا تو خاصا مشکل کام ہے ، اس لیے کاندھلوی صاحب نے سوچا ہوگا کہ کذب وافتراء (جھوٹ) میں ہی عالمی ریکارڈ قائم کرلیتے ہیں۔ بقول شخصے: بدنام ہوں گے تو کیا نام نہ ہوگا؟
موصوف نے پندرہویں دلیل میں آغاز سے لے کر اختتام تک جھوٹ پر سہارا کیے رکھا ہے۔ دلیل کا آغاز اس طرح کرتے ہیں:
’’مورخین کا ایک دعویٰ یہ بھی ہے کہ ام المؤمنین کا جب نبی مکرم ﷺ سے نکاح ہوا تھا، اس سے قبل ام المؤمنین کا رشتہ جبیر بن مطعم سے پکا ہوچکا تھا۔‘‘
موصوف کی یہ عبارت پڑھ کر یقین ہوچکا ہے کہ اگر جھوٹ بولنے پر نوبل انعام ملتا تو یقیناً سب سے پہلے کاندھلوی صاحب کو ملتا۔ برادرم کتب تاریخ اس بات پر شاہد ہیں کہ مورخین کا اس بات پر اتفاق ہرگز نہیں ہے۔ البتہ اس موضوع پر بعض مورخین نے چند ضعیف طرق ضرور بیان کیے ہیں۔ ان طرق میں سے دو طریق کاندھلوی صاحب نے بطور دلیل پیش کیے ہیں۔ یہ دونوں طریق نہایت کمزور ہیں۔
پہلی روایت: ابن سعد کی پہلی روایت کی سند میں دو راوی ناقابل اعتبار ہیں۔
(۱) محمد بن السائب الکلبی الکوفی: اسے امام بخاری، امام نسائی اور اما م یحییٰ بن سعید نے متروک الحدیث کہا ہے۔ خود ابن سعد کہتے ہیں کہ محدثین کے نزدیک اس کی روایات میں بڑا ضعف ہے۔ (ابن سعد، ص: ۳۸۰، ج:۴)
(۲) ابو صالح: اس کے بارے میں خود اس کے اپنے شاگرد کا بیان ہے کہ ابو صالح نے مجھے کہا کہ آپ سے جو بھی روایت بیان کرتا ہوں، وہ جھوٹی ہوتی ہے۔ (کتا ب الضعفاء) حبیب ابن ابی ثابت کہتے ہیں: ہم نے اس کا نام دروغ زن رکھا تھا کہ کاندھلوی صاحب کے پسندیدہ محدث ابن مہدی نے اس کی روایت لینے سے انکار کیا ہے۔(تاریخ الصغیر)
دوسری روایت: اس روایت میں تین خرابیاں ہیں:
۱: یہ روایت مرسل ہے، کیونکہ عبداللہ بن ابی ملیکہ تابعی ہیں ، تابعی کی مرسل مردود ہوتی ہے۔
۲: اس روایت میں دوسری خرابی یہ ہے کہ اس سند میں الاجلح نامی ایک راوی ہے ، اس پر محدثین نے سخت جرح کی ہے۔ امام قطان کہتے ہیں کہ اس کا حافظہ اس قدر کمزور تھا کہ اسے یہ بھی پتہ نہیں چلتا تھا کہ اس نے حسین بن علی کہا ہے یا علی بن حسین کہا ہے۔ امام احمد کہتے ہیں : الاجلح اور مجالد دونوں روایت حدیث میں ضعیف ہیں۔ امام ابوحاتم کہتے ہیں: الاجلح حدیث میں قابل بھروسا نہیں۔ امام نسائی نے اسے ضعیف کہا ہے۔ امام جوزجانی نے اسے جھوٹا قرار دیا ہے۔ امام ابوداؤد نے اسے ضعیف قرار دیا ہے۔ خود ابن سعد نے اسے بہت زیادہ ضعیف قرار دیا ہے۔ ان تمام خرابیوں کے باوجود اس کا تعلق کوفہ کے اہل تشیع سے تھا۔
۳: اس روایت میں تیسری خرابی یہ ہے کہ اس روایت کا متن کاندھلوی صاحب کے موقف کے بھی خلاف ہے۔کیونکہ کاندھلوی صاحب کا موقف یہ ہے کہ ام المؤمنین کا رشتہ جبیر بن مطعم سے پکا ہوچکا تھا، جبکہ اس روایت کے متن سے یہ ظاہر ہورہا ہے کہ محترمہ کا نکاح جبیر بن مطعم سے ہوچکا تھا، تبھی تو جبیر نے محترمہ کو طلاق دی، ورنہ طلاق دینے کے کیا معنیٰ؟
اگر یہ روایت کاندھلوی صاحب کے گروہ کے نزدیک صحیح ہے تو پھر میں کاندھلوی صاحب کے گروہ سے یہ پوچھنے کی جسارت کروں گا کہ نبی مکرم ﷺ نے ایسی منکوحہ کا رشتہ کیوں طلب کیا جسے اس کے شوہر نے اس وقت تک طلاق نہیں دی تھی؟ کیا ایسے فعل میں عصمت نبوت کی چادر داغ دار نہیں ہوتی؟
کاندھلوی صاحب اس دلیل میں شبلی اور بعض مولفین پر سخت برہم ہیں ، اس برہمی کی وجہ وہ یہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے ابن سعد اُٹھا کر دیکھنے کی بجائے مکھی پر مکھی ماری ہے۔ ہوسکتا ہے کہ انہوں نے ایسا ہی کیا ہو مگر کاندھلوی صاحب نے بھی مکھی پر مکھی ماری ہے۔کیونکہ انہوں نے حکیم نیاز احمد صاحب کی کتاب کا چربہ اتارا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جو غلطیاں حکیم نیاز احمد کی کتاب میں ہیں ، وہ کاندھلوی صاحب کے مضمون میں بھی ہیں۔ ہمیں یقین ہے کہ کاندھلوی صاحب نے تو طبقات کو پڑھا ہی نہیں۔ اگر پڑھا ہے تو سمجھا ہی نہیں ۔ اگر وہ طبقات کو سمجھ کر پڑھتے تو یہ دونوں روایتیں کبھی پیش نہ کرتے، کیونکہ خود صاحب کتاب نے ان روایات کے راویوں کو ناقابل اعتبار قرار دیا ہے۔
أَتَأْمُرُونَ النَّاسَ بِالْبِرِّ وَتَنسَوْنَ أَنفُسَكُمْ [البقرة : 44] لِمَ تَقُولُونَ مَا لَا تَفْعَلُونَ [الصف : 2]
کاندھلوی صاحب نے طبری کے حوالے سے جو روایت پیش کی ہے، اس کا ابتدائی حصہ شیطانی الہام پر مشتمل ہے۔ شیطانی الہام کے الفاظ درج ذیل ہیں:
’’ابوبکر صدیق کفار کی ایذا رسانیوں سے تنگ آگئے اور انہوں نے سن ۵ نبوت میں حبشہ کی جانب ہجرت کا ارادہ کیا تو انہوں نے سوچا کہ جانے سے پہلے اپنی بیٹی عائشہ کو سسرا ل کے حوالے کر جائیں اور بعد میں حبشہ کی طرف ہجرت کریں۔‘‘(1)
میں نے اس عبارت کو الہام کا نام اس لیے دیا ہے کہ یہ الفاظ طبری کے نہیں بلکہ کاندھلوی صاحب کی اپنی ذہنی اختراع ہے۔ میرے اس دعویٰ کو کاندھلوی صاحب کا کوئی عقیدت مند اگر غلط ثابت کردے تو میں زندگی بھر اس کا غلام رہوں گا۔ بصورت دیگر ان اندھے عقیدت مندوں کا یہ فرض ہے کہ وہ دنیا ہی میں کاندھلوی صاحب سے برات کا اظہار کردیں۔
موصوف نے طبری کی روایت میں ایک اور بددیانتی یہ کی ہے کہ اس میں درج ذیل الفاظ کا اضافہ کردیا ہے ’’ او ر تمہاری بیٹی سے یہی اندیشہ ہے‘‘ حالانکہ یہ الفاظ طبری میں نہیں ہیں۔ اس روایت میں موصوف نے ترمیم کرکے ایک بددیانتی کا ارتکاب کیا ہے۔ کیونکہ اس روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ رسول اللہﷺ سے جب نکاح ہوا ، اس وقت میری عمر چھ برس تھی۔ یہ الفاظ چونکہ کاندھلوی صاحب کے تخیلاتی قلعہ کےلیے ایٹم بم تھے، اس لیے اس عبارت کو قصداً چھوڑ دیا۔ ایسی سطحی حرکتیں کرنا ایک مسلمان عالم کی ہرگز شان نہیں۔
میر کارواں منزل بھول گئے ہیں۔
کاندھلوی صاحب کو محترمہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی نو سال کی عمر میں رخصتی نے اس قدر پریشان کردیا کہ بیچارے کو بڑھاپے میں رجال وعلل کی کتابیں دیکھنا پڑیں، کتابیں تو شاید سمجھ میں آئیں یا نہ آئیں، تخیلاتی دنیا آبادکرنا آگیا، جس کے نتیجہ میں موصوف مفروضہ پر مفروضہ قائم کرتے چلے گئے۔ مفروضوں کی اس بہتات نے اس بات کو ثابت کردیا جس کا موصوف رد کرنا چاہتے تھے۔ آئیے سابقہ چند مفروضوں پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔ موصوف نے دلیل نمبر ۸ میں یہ مفروضہ قائم کیا ہے کہ ام المؤمنین بعثت کے وقت پانچ چھ برس کی ضرور تھیں، چودہویں دلیل میں یہ مفروضہ قائم کیا ہے کہ محترمہ ایک سن نبوی میں مشرف با اسلام ہوچکی تھیں۔ پندرہویں دلیل میں ۵ نبوی میں محترمہ کو جوان بتا کر رخصت کررہے ہیں۔ موصوف کے تینوں مفروضوں کو صحیح تسلیم کرنے کی صورت میں یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ محترمہ نو سال کی عمر میں جوان ہوچکی تھیں۔

::سولہویں دلیل کا جواب::

:کاندھلوی صاحب کی عربی دانی:

اس دلیل میں بھی کاندھلوی صاحب نے یا تو جھوٹ سے کام لیا ہے یا پھر انہیں عربی زبان میں پوری واقفیت نہیں، ورنہ موصوف یہ کبھی نہ کہتے کہ ’’ لفظ بکر (کنواری) اس امر کا ثبوت ہے کہ جب خولہ بنت حکیم نے اس کا تذکرہ کیا تو عائشہ بالغہ اور جوان تھیں ، ورنہ اگر وہ چھ سال کی بچی ہوتیں تو خولہ یہ الفاظ کہتیں: جاریۃ أو ثیبا۔ اتنا بڑا صریح جھوٹ نہ بولتیں۔ وہ عجمی نہ تھیں جو عربی سے ناواقف ہوں؟‘‘(2)
یہ تو حقیقت ہے کہ محترمہ خولہ رضی اللہ عنہا عجمی نہ تھیں اور عربی زبان سے پوری طرح واقف تھیں اور یہ بھی حقیقت ہے کہ انہوں نے جھوٹ بھی نہیں بولا، مگر اس کھلی حقیقت کا بھی تو انکار نہیں کیا جاسکتا کہ جناب کاندھلوی صاحب عجمی ہیں، عربی نہیں۔ کاندھلوی صاحب کی اس دلیل سے یہ واضح ہوا کہ موصوف نے یا تو چابکدستی سے کام لیا ہے یا پھر موصوف عجمی ہونے کے ناتے عربی زبان سے ناواقف ہیں۔
لفظ بکر اور لفظ جاری نہ تو ایسے مترادف ہیں کہ ہر مقام پر ایک دوسرے کی جگہ استعمال ہوسکیں اور نہ ہی ایسے متضاد ہیں کہ جن کا یکجا جمع ہونا محال ہو بلکہ یہ دونوں الفاط عمر کے ایک خاص حصے تک ایک دوسرے کی جگہ استعمال ہوسکتے ہیں۔ سید محمد عمیم الاحسان حنفی قواعد الفقہ میں لفظ جاریۃ کی تعریف اس طرح کرتے ہیں: الجاریۃ الفتیۃ من النساء۔ اس کی مزید صراحت اس طرح کرتے ہیں: الفتیۃ الشابۃ۔ جبکہ الشابۃ کی صراحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں: والشابۃ من خمس عشر سنۃ الی تسع عشر سنۃ۔ صاحب قواعد الفقہ کی اس تصریح سے یہ واضح ہوا کہ لفظ جاریۃ کا استعمال پندرہ سال کی لڑکیوں سے لےکر انیس سال کی لڑکیوں تک ہوتا ہے۔ جس طرح لفظ جاریۃ بالغ ونابالغ ہر دو طرح کی لڑکیوں کےلیے استعمال ہوتا ہے ، اس طرح لفظ بکر بھی ہر دو طرح کی کنواری لڑکیوں کےلیے استعمال ہوتا ہے۔جیسا کہ فقہ حنفی کی مایہ ناز کتاب قدروی میں ہے: یجوز النکاح الصغیر الصغیرۃ اذا زوجہما الولی بکرا کانت الصغیرۃ أو ثیبا (قدروی، ص:۱۳۷)
قدوری کی اس عبارت میں نہ صرف لفظ بکر نابالغ بچی کےلیے استعمال کیا گیا ہے بلکہ لفظ ثیب (بیوہ) بھی، اس لیے جب بالغ اور نابالغ کے درمیان تمیز کرنا مقصود ہوتو پھر لفظ بکر کی صفت استعمال کی جاتی ہے۔ مثلاً: ان الاب یجبر البکر غیر البالغ ولا یجبر البکر البالغ (بدایۃ المجتہد) اور قدوری میں ہے: لا یجوز للولی اجبار الکبیر البالغۃ۔
فقہی کتب سے ہم نے بحمداللہ یہ ثابت کردیا ہے کہ لفظ جاریۃ اور لفظ بکر کا استعمال بالغ و نابالغ ہر دو طرح کی لڑکیوں کےلیے جائز ہے۔ آئیے اب کتب احادیث کی طرف رجوع کرتےہیں:
نبی مکرمﷺ کا کنواری لڑکی کو بکر اور جاریۃ کہنا:
عن جابر قال قال لی رسول اللہﷺ ہل نکحت یا جابر؟ قلت: نعم۔ قال: ماذا بکرا أم ثیبا؟ قلت: لا بل ثیبا (بخاری)
محترم جابر رضی اللہ عنہ کہتےہیں کہ رسول کریمﷺ نے مجھ سےدریافت فرمایا: کیا تم نے شادی کرلی ہے؟ میں نے عرض کیا: جی ہاں۔ آپ نے فرمایا: بکر (کنواری) سے یا بیوہ سے؟ میں نے عرض کیا: بیوہ سے۔ آپ نے فرمایا: جاریۃ(کنواری) سے کیوں نہیں کی؟

:مفسر قرآن عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کا کنواری لڑکی کو جاریۃ اور بکر کہنا:

عن ابن عباس رضی اللہ عنہ ان جاریۃ بکرا اتت رسول اللہﷺ (احمد، ابوداؤد، ابن ماجہ) محترم عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: ایک کنواری (جاریۃ) لڑکی نبی مکرمﷺ کے پاس آئی۔

:محترم عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کا اپنی بیوی کو جاریۃ کہنا:

دارقطنی میں ہے کہ محترم عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنی بیوی کو جاریۃ کہہ کر مخاطب فرمایا۔

:محترمہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا رخصتی کے بعد خود کو جاریۃ کہنا:

الزهري عن عروة لقد رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقوم على باب حجرتي، والحبشة يلعبون الحراب في المسجد وانه يسترني بردائه، لكي أنظر إلى لعبهم، ثم يقف من أجلي، حتى أكون أنا التي أنصرف، فاقدروا قدر الجارية الحديثة السن، حريصة على اللهو (سير اعلام النبلاء)

محترمہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے نبی مکرمﷺ کو دیکھا کہ آپﷺ حجرہ کے دروازے پر۔۔۔ کھڑے رہے جب تک میں وہاں سے ہٹ نہیں گئی، اس نوخیز جاریہ (لڑکی) کی کھیل سے دلچسپی کا اندازہ لگائیں۔
جاریۃ کے مقابلے میں لفظ غلام ہے۔یہ لفظ بھی جاریۃ کی طرح بالغ و نابالغ ہر دو طرح کے لڑکوں کےلیے استعمال ہوتا ہے۔

:نابالغ لڑکےلیے غلام کا استعمال:

قَالَ رَبِّ أَنَّى يَكُونُ لِي غُلَامٌ وَكَانَتِ امْرَأَتِي عَاقِراً وَقَدْ بَلَغْتُ مِنَ الْكِبَرِ عِتِيّاً [مريم : 8] میرے ہاں لڑکا کیسے پیدا ہوگا؟
اصیب حارثۃ یوم بدر وہو غلام(بخاری، کتاب المغازی) حارثہ بدر کے دن شہید ہوگئے، اس وقت وہ لڑکے تھے۔

:بالغ لڑکے کےلیے غلام کا استعمال:

فاشفقت ان یوتی الناس من ناحیتی لکونی بین غلامین حدیثین (مغازی لابن عائد) محترم عبدالرحمن بن عوف کہتے ہیں: بدر کے دن میں ڈرا کہ کہیں کافر مجھ پر دونوں طرف سے حملہ آور نہ ہوجائیں کیونکہ میرے دونوں طرف دو (غلام) نوعمر لڑکے تھے۔ بخاری میں فتیان حدیثا السن کے الفاظ ہیں۔ ان الفاظ کے بھی وہی معانی ہیں۔
کاندھلوی صاحب کا یہ کہنا کہ عربی زبان میں نابالغ لڑکی کےلیے جاریۃ اور اس لڑکی کےلیے جو بالغ ہو، بکر کا لفظ بولتے ہیں، یہ ظاہر کرتا ہے کہ موصوف نے عربی زبان ، فقہ، قرآن اور احادیث کی تعلیم یا تو باقاعدہ کسی مدرسہ سے حاصل نہیں کی یا پھر تلمیذ برائے خوردن بنے رہے یا پھر اسرائیل (یہودیوں) کی عربی پڑھتے رہے ہوں گے کیونکہ اسرائیل بھی عرب ہیں۔ مسلمانوں کی عربی میں تو یہ بات ہرگز نہیں ہے جیسا کہ آپ جان چکے ہیں۔ اس دلیل میں موصوف نے قارئین کو جو شہ پارے دیئے ہیں، ان میں ایک یہ بات بھی ہے کہ اگر آپ کو یقین نہ آئے تو کسی کنواری لڑکی کو عورت کہہ کر تماشا دیکھ لیجئے۔
معلوم ہوتا ہے کہ موصوف کی کبھی اچھی تواضع ہوئی ہوگی ورنہ حقیقت تو یہ ہے کہ عربی زبان میں کنواری لڑکی کو (امرأۃ) عورت بھی کہا جاتا ہے۔ سورۃ قصص کی آیت نمبر ۲۳ یا ۲۷ ملاحظہ فرمائیں۔ ان میں محترم شعیب علیہ السلام کی دو کنواری صاحبزادیوں کو اللہ تعالیٰ نے (امرأتان) عورتیں کہا ہے۔
اس بحث سے یہ واضح ہوا کہ عربی زبان میں کنواری لڑکی کو بکر ، جاریۃ اور امرأۃ وغیرہ ناموں سے پکارا جاتا ہے۔
موصوف کو اس بات کا بڑا قلق ہے کہ اگر محترمہ عائشہ نکاح کے وقت چھ برس کی تھیں تو محترمہ خولہ نے محترمہ عائشہ کےلیے بکر کیوں استعمال کیا۔ جاریۃ کیوں نہ استعمال کیا۔ لفظ بکر اور جاریۃ کی تشریح اگرچہ ہم بڑی تفصیل سے کرچکے ہیں ، مگر موصوف کا یہ شوق بھی پورا کردینا چاہتے ہیں تاکہ موصوف کے عقیدت مندوں کا ہمیشہ کےلیے منہ بند ہوجائے۔ محترم قارئین! اس میں تو کوئی شک نہیں کہ محترمہ خولہ رضی اللہ عنہا نے محترمہ عائشہ رضی اللہ عنہا کےلیے اس وقت بکر ہی کا لفظ استعمال فرمایا، مگر محترمہ کے والد ماجد ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اس وقت محترمہ کےلیے لفظ جاریۃ استعمال کیا تھا۔ ملاحظہ فرمائیے: فقالت لی ام رمان ان المطعم ابن عدی کان قد ذکرہا علی ابنہ و واللہ ما خلف وعدا قط ، قالت: فاتی ابوبکر المطعم فقال: ما تقول فی امر ہذہ الجاریۃ؟ (سیر اعلام النبلاء)محترمہ خولہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ مجھے محترمہ ام رمان رضی اللہ عنہا نے کہا کہ مطعم بن عدی نے محترم ابوبکر سے اپنے بیٹے کےلیے عائشہ کی بات کی تھی ۔ اللہ کی قسم! محترم ابوبکر نے کبھی وعدہ خلافی نہیں کی۔ محترم ابوبکر مطعم کے پاس گئے اور اس سے کہا: بتاؤ اس جاریہ (لڑکی) کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟
امید ہے اس عبارت سے کاندھلوی صاحب کے عقیدت مندوں اور رفقاءکو تسلی ہوگئی ہوگی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1) (ص: 39)
(2) (ص: 42)

آزاد
26-02-12, 09:18 PM
::سترہویں دلیل کا جواب::

:کاندھلوی صاحب کے خودساختہ اصول:

اس دلیل میں موصوف نے واقدی کی روایت کو یہ کہہ کر پیش کیا ہے کہ اگرچہ واقدی کذاب ہے لیکن یہ کوئی ضروری نہیں کہ جسے ہم جھوٹا کہیں، وہ ہر بات میں ہی جھوٹ بولتا ہو، ویسے بھی ہم نے اس روایت کو بطور تائید پیش کیا ہے۔موصوف کے اس قول پر بہت کچھ لکھنے کی گنجائش ہے، تاہم بحث سمیٹتے ہوئے اور یہ سمجھتے ہوئے کہ موصوف چونکہ اصول حدیث سے ناواقف ہیں، اس لیے ان سے اس بات کا سرزد ہوجانا کوئی خلاف توقع نہیں۔ اس بنا پر ہم ان کی اس غیر اصولی بات اس شرط پر تسلیم کرلیتے ہیں کہ کاندھلوی صاحب اور ان کے رفقاء اس خودساختہ اصول کو پہلے خود تسلیم کرلیں۔
ہم ان کے اس خودساختہ اصول کو پیش نظر رکھتے ہوئے پہلے قرض ادا کرتے ہیں۔ آپ کو یاد ہوگا کہ کاندھلوی صاحب نے چھٹی دلیل میں یہ دعویٰ کیا تھا کہ اس روایت کو ہشام بن عروہ سے عراقیوں کے علاوہ اور کوئی بیان نہیں کرتا، ہم نے وہاں وعدہ کیا تھا کہ اس دعوے کا رد ہم سترہویں دلیل کے جواب میں کریں گے۔
اس سعد نے یہی روایت ہشام بن عروہ کے مدنی شاگرد عبدالرحمن بن ابی الزناد سے نقل کی ہے۔
عبدالرحمن بن ابی الزناد عن ہشام بن عروہ عن عائشہ کے طریق سے محترمہ فرماتی ہیں : نکاح کے وقت میں چھ سال کی تھی اور رخصتی کے وقت نو سال کی تھی۔ (طبقات الکبریٰ، ص: ۸۲، ج:۸)
عبدالرحمن بن ابی الزناد مدنی ہیں۔ ان کے اساتذہ ان کے والد کے علاوہ عمرو بن ابی عمرو، سہیل بن ابی صالح اور ہشام بن عروہ ہیں۔
اس روایت کو نقل کرکے ہم نے کاندھلوی صاحب کا دعویٰ بھی باطل کردیا اور اپنا قرض بھی اد ا کردیا۔ تاہم اس روایت پر یہ اعتراض ہوسکتا ہے کہ اس روایت کا راوی واقدی ہے اور وہ جھوٹا ہے۔ یہ اعتراض بجا مگر ہم نے یہ روایت کاندھلوی کے رد میں انہیں کے خودساختہ اصول کی روشنی میں پیش کی ہے۔ ہمارا یہ اقدام اصول مناظرہ کے عین مطابق ہے۔
کاندھلوی صاحب کے رفقاء اور عقیدت مندوں کو میرا ہمدردانہ مشورہ ہے کہ وہ انصاف کے تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے اور عوام کی بھلائی کا خیال رکھتے ہوئے کاندھلوی صاحب کی اس کتاب پر خط تنسیخ کھینچ دیں اور صدق دل سے توبہ کریں کہ وہ آئندہ کبھی بھی بخاری اور مسلم کی کسی بھی روایت کو شک کی نظر سے نہیں دیکھیں گے۔
کاندھلوی صاحب نے جو بات ثابت کرنے کےلیے یہ اصول وضع کیا ہے، وہ بات پھر بھی ثابت نہیں ہوسکتی، کیونکہ ان کی اس دلیل کا تمام تر مدار محترم ابوبکر رضی اللہ عنہ کے اس جملے پر ہے کہ یا رسول اللہ! آپ اپنی اہلیہ کو رخصت کیوں نہیں کرالیتے؟ اس میں رکاوٹ کیا ہے؟ اس جملے کو کاندھلوی صاحب نے اپنے دعوے کی تائید میں پیش کیا ہے ، حالانکہ یہ جملہ ان کے موقف کے خلاف ہے۔ کیونکہ اس جملے سے یہ صاف ظاہر ہورہا ہے کہ محترمہ کا نکاح اور رخصتی ایک ساتھ نہیں ہوئی۔ جبکہ دیگر دس امہات المؤمنین کی رخصتی نکاح کے فوراً بعد ہوئی۔ آخر اس میں رکاوٹ کیا تھی؟ اگر آپ یہ کہیں کہ مہر رکاوٹ تھی ۔ تو ،مہر توپھر بھی اس روایت کی روسے ابوبکر نے ہی رسول اللہ کو دیا، پہلے کیوں نہ دے دیا؟ ظاہر ہے کہ مہر نہیں بلکہ محترمہ کا نابالغ ہونا رکاوٹ تھی، جیسے ہی محترمہ بالغ ہوئیں، یہ رکاوٹ ختم ہوگئی تو ابوبکر نے رسول اللہﷺ سے کہا: یا رسول اللہ! اب کون سی رکاوٹ ہے؟ قرآن وحدیث اور فقہ کی رو سے خلوت صحیحہ کےلیے فقط بلوغت شرط ہے، ذہنی پختگی نہیں۔ امام ابوحنیفہ کے قول کے مطابق ذہنی پختگی نکاح کی عمر کے دس سال بعد پیدا ہوتی ہے۔

::اٹھارہویں دلیل کا جواب::

:ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کا فتویٰ:

کاندھلوی صاحب نے پانچویں دلیل میں ہشام بن عروہ پر جو اعتراضات کیے تھے، ان میں سے ایک اعتراض یہ بھی تھا کہ امام ابوحنیفہ بھی ہشام بن عروہ کے شاگرد ہیں، مگر انہوں نے اس روایت کو بیان نہیں کیا۔ ہمیں یہ تسلیم ہے کہ امام ابوحنیفہ نےاس روایت کو سنداً نقل نہیں کیا، مگر انہوں نے اس روایت کی روشنی میں اس روایت کے مطابق فتویٰ دیا ہے: قال ابوحنیفہ: یزوج الصغیرۃ کل من لہ علیہا ولایتہ من اب وقریب وغیر ذلک (بدایۃ المجتہد، ص: ۵، ج:۲، قدوری، ص:۱۳۷) امام ابوحنیفہ نے کہا: چھوٹی لڑکی کا نکاح ہر وہ کرسکتا ہے جو اس کا ولی ہو، خواہ ولی باپ ہو یا قریبی اور غیر قریبی رشتہ دار۔
اگر بیوہ نابالغہ ہو تب امام ابوحنیفہ کے نزدیک اس کا نکاح اس کی اجازت کے بغیر اس کا باپ کرسکتا ہے۔ (قدوری)
چاہیے تو یہ تھا کہ کاندھلوی صاحب امام ابوحنیفہ کے اس فتویٰ کے بعد اپنی اس کتاب پر نہ صرف خط تنسیخ کھینچ دیتے بلکہ صدق دل سے یہ وعدہ بھی کرتے کہ وہ آئندہ کبھی بھی کسی صحیح روایت کو عقل سقیم کے تیروں سے زخمی نہیں کریں گے ، مگر موصوف نے عدل وانصاف کے منہ پر تھوکتے ہوئے امام ابوحنیفہ، امام مالک، امام شافعی، امام احمد بن حنبل اور دیگر فقہاء کے اس متفقہ فتوے پر نہ صرف عدم اعتماد کا اظہار کیا بلکہ یہ کہہ کر تنقید کا نشانہ بنایا کہ فقہاء نے اس فتوے کے جواز کےلیے ہشام کی کہانی کو دلیل بنایا ہے اور اس مسئلہ میں اس روایت کے علاوہ کوئی اور دلیل نہیں اور جب یہ روایت ہی غلط ہے تو اس کی بنیاد پر جو نکاح صغیرہ کی عمارت رکھی گئی ہے ، وہ بھی غلط ہے۔
محترم قارئین! دیکھا! موصوف خود ہی کہتے تھے کہ امام ابوحنیفہ نے اس روایت کو کیوں بیان نہیں کیا اور جب انہوں نے امام ابوحنیفہ کا فتویٰ اس روایت کے موافق دیکھ لیا تو امام ابوحنیفہ اور دیگر فقہاء کے فتووں کو بھی غلط قرار دے دیا ، حالانکہ نکاح صغیرہ کا مسئلہ ایک ایسا مسئلہ ہے جس پر تمام فقہاء کا اتفاق ہے۔اجمعوا ان الاب یجبر البکر غیر بالغ (بدایۃ المجتہد) یعنی تمام فقہاء کا اس پر اتفاق ہے کہ باپ نابالغ لڑکی کا نکاح اس کی اجازت کے بغیر کرسکتا ہے۔
کاندھلوی صاحب نے کنواری لڑکی سے اجازت لینے سے متعلق جو دو روایات نقل کی ہیں، وہ محترمہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت کے خلاف نہیں ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ محدثین فقہاء نے ان کے درمیان تطبیق دی ہے۔
احناف اور دیگر فقہاء نے ان روایات کے درمیان تطبیق اس طرح دی ہے کہ اگر کنواری لڑکی بالغ ہے تو پھر اس کا نکاح اس کا ولی اس کی اجازت کے بغیر نہیں کرسکتا۔ اگر کنواری لڑکی نابالغ ہے تو پھر اس کی اجازت کے بغیر کرے گا۔ جیسا کہ محترمہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا نکاح ان کی اجازت کے بغیر کیا گیا۔
حافظ ابن حجر کہتے ہیں کہ محترمہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا نکاح مکہ میں ہوا تھا۔ مکی زندگی میں کنواری لڑکی سے اجازت لینے کا مسئلہ نازل نہیں ہوا۔ یہ حکم نبی مکرم ﷺ نے مدنی زندگی میں دیا تھا۔
ابن شبرمہ کہتے ہیں: نابالغ لڑکی کو کیا معلوم کہ اذن کیا ہے؟ جبکہ نکاح سے پہلے اذن ضرور ہے۔ لہٰذا ولی کو چاہیے کہ نابالغ لڑکی کا نکاح نہ کرے۔ محترمہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے نکاح کے بارے میں ابن شبرمہ کہتے ہیں کہ یہ محترمہ کے خصائص میں سے ہے۔
درج بالا بیان سے یہ واضح ہوا کہ اگرچہ ابن حجر اور ابن شبرمہ نے بھی اس مسئلہ میں جمہور سے اختلاف کیا ہے، مگر انہوں نے جمہور کی طرح محترمہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت کو صحیح تسلیم کیا ہے۔

::انیسویں دلیل کا جواب::

:کاندھلوی صاحب کی جہالت:
کاندھلوی صاحب کے ترجمہ اور استنباط کی صلاحیت کو دیکھ کر ایسے لگتا ہے کہ جیسے انہوں نے کسی مدرسہ میں باقاعدہ تعلیم حاصل نہیں کی ، ورنہ موصوف روایات سے اس قسم کے بہکے بہکے استنباط نہ کرتے۔ آپ انیسویں دلیل کو پھر غور سے پڑھیں۔ موصوف پہلے یہ لکھتے ہیں کہ محترمہ فرماتی ہیں کہ میں نبی کریمﷺ سے اجازت لے کر ان کی عیادت کےلیے گئی۔ اس وقت تک پردہ کا حکم نازل نہیں ہوا تھا۔ شدت بخار سے یہ لوگ غفلت میں مبتلا تھے۔ میں ابوبکر کے پاس گئی اور ان سے پوچھا: ابا! کیا حال ہے؟
اس روایت سے فقط یہ واضح ہورہا ہے کہ محترمہ اس واقعہ سے قبل رخصت ہوچکی تھیں اور نبی کریمﷺ سے اجازت لےکر اپنے والد محترم کا حال احوال دریافت کرنے آئی تھیں۔ ظاہر ہے کہ بیماروں کا حال احوال تو نابالغ بھی دریافت کرلیتے ہیں۔ کیا حال احوال دریافت کرنا ایسا مشکل کام ہے کہ جس کےلیے بھولو پہلوان جیسی طاقت کی ضرورت پڑتی ہے؟ نہایت سادہ سی بات تھی جسے انسانی معاشرے میں بسنے والا ہر انسان بڑی آسانی سے سمجھ سکتا ہے۔ مگر نامعلوم یہ بات کاندھلوی صاحب کی سمجھ میں کیوں نہ آئی اور کیوں وہ بڑی حیرت سے یہ پوچھ رہے ہیں کہ اتنی اہم ذمہ داری ایک آٹھ سالہ بچی کے کیسے سپرد کی جاسکتی ہے؟ موصوف کا یہ سوالیہ انداز پڑھ کر ایسے لگتا ہے کہ شاید انہیں عمر بھر کوئی مہذب معاشرہ میسر نہیں آیا ۔ کیونکہ مہذب معاشروں میں تو پانچ چھ سالہ بچے بھی اپنے بیمار عزیز واقارب کا احوال پوچھ کر انہیں پانی اور دوا وغیرہ اُٹھا کر دے دیتے ہٰں جبکہ محترمہ عائشہ رضی اللہ عنہا تو نہ صرف بالغ تھیں بلکہ نہایت سمجھدار بھی تھیں۔
کاندھلوی صاحب اسی دلیل میں لکھتے ہیں کہ اشعار کو یاد رکھنا اور نقل کرنا نو سالہ بچی کا کام نہیں ۔ یہ پختہ عمر کی باتیں ہیں۔
ان کی اس بات سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ موصوف تاریخ عرب سے یا تو ناآشنا تھے یا پھر تجاہل عارفانہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔ ورنہ تاریخ عرب اس بات پر آج بھی گواہ ہے کہ اس دور میں قریش کی قوت یادداشت مثالی تھی۔ انہیں تو لڑائیون میں استعمال ہونے والے گھوڑوں کے شجرے بھی یاد تھے۔ اور وہ لکھ کر یاد کرنے کو خلاف شان سمجھتے تھے۔ محترمہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا تعلق بھی قریش قبیلہ ہی کی ایک شاخ سے تھا، اس لیے ان کا حافظہ بھی مثالی حافظہ تھا۔
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ نوسالہ بچوں کی قوت یادداشت مثالی ہوتی ہے۔ آج بھی دینی ماحول میں پلنے والے آٹھ نو سالہ بچے قرآن حفظ کرلیتے ہیں ۔ ٹیلی ویژن اور وی سی آر کے ماحول میں پلنے والے بچے فلمی گانے یاد کرلیتے ہیں۔ انگلش میڈیم سکولوں میں پڑھنے والے چار پانچ سالہ ذہین بچے انگلش کی کہانیاں، نظمیں اور ڈرامے یاد کرلیتے ہیں۔
اس دلیل کی بعض باتیں باہم متضاد بھی ہیں۔ مثلاً آغاز میں لکھتے ہیں کہ مدینہ پہنچنے کے بعد مہاجرین کو مدینہ کی آب وہوا راس نہ آئی اور وہ بیمار پڑگئے۔ ابوبکر، بلال اور عامر بن فہیرہ بھی بیمار ہوگئے۔ محترمہ عائشہ رضی اللہ عنہا ان کی عیادت کےلیے آئیں اور وہ غفلت بخار میں اشعار پڑھ رہے تھے۔ محترمہ نے واپس آکر ان کی حالت مع اشعار رسول اللہﷺ سے بیان کی۔ جبکہ آخر میں لکھتے ہیں کہ اگر یہ مان لیا جائے کہ محترمہ نبوت کے پانچویں سال پیدا ہوئیں تو اس وقت تو گھر کا ماحول بدل چکا تھا۔اب وہاں شعر وشاعری کے بجائے قرآن پڑھا جاتا ہے۔ آخر یہ ماحول کہاں اور کس وقت میسر آیا؟حالانکہ موصوف یہ سوال کرنے سے پہلے یہ لکھ چکے ہیں کہ یہ اشعار محترمہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے محترم ابوبکر، محترم بلال اور محترم عامر بن فہیرہ رضی اللہ عنہم سے سن کر ہجرت نبوی کے بعد یاد کیے تھے۔ اگر یہ حقیقت ہے تو پھر ان کا یہ کہنا کہ آخر یہ ماحول کہاں اور کس وقت میسر آیا، ان کے ذہنی انتشار کی نشاندہی نہیں کرتا تو اور کیا ہے؟ کاندھلوی صاحب اور ان کے رفقاء کے پاس تاریخ اور حدیث سے کوئی ایسی شہادت نہیں جس سے یہ ثابت ہوسکے کہ محترمہ کی عمر رخصتی کے وقت سترہ یا اٹھارہ برس تھی۔ یہ لوگ محض ڈھکوسلوں سے محترمہ عائشہ کی روایت کا رد کرنا چاہتے ہیں۔

آزاد
26-02-12, 09:31 PM
::بیسویں دلیل کا جواب::

:یہودیوں کا شیوہ:

موصوف نے محترمہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے جس علم وفضل کا تذکرہ کیا ہے، وہ ایک مسلمہ حقیقت ہے۔ لیکن اس سے کاندھلوی صاحب نے جو یہ استدلال کیا ہے کہ رخصتی کے وقت محترمہ پختہ عمر کی تھیں، یہ غلط اور تعصب پر مبنی ہے۔ عربی میں بڑا معروف مقولہ ہے کہ : والعلم فی الصغر کالنقش علی الحجر۔ کم سنی میں حاصل کیا ہوا علم اس طرح محفوظ ہوتاہے جس طرح پتھر پر لکیر۔
بعض حقائق کو تسلیم کرنا اور بعض کا انکارکرنا شیوہ یہود تھا۔ قرآن حکیم نے ان کے بارے میں نہایت واضح الفاظ میں فرمایا ہے کہ وہ کہتے ہیں: نُؤْمِنُ بِبَعْضٍ وَنَكْفُرُ بِبَعْضٍ [النساء : 150] مگر اسلام پسندوں کو یہ فریب زیب نہیں دیتا۔اللہ کاندھلوی صاحب کی اس غلطی کو معاف فرمائے کہ انہوں نے اس مضمون میں سنت یہود کو تازہ رکھا ہے۔موصوف نے ولی الدین خطیب کے حوالے سے جو عبارت نقل فرمائی ہے، وہ عادت یہود کا شاہکار ہے۔کیونکہ موصوف نے ولی الدین خطیب کی ان باتوں عمداً ترک کردیاجن سے ان کا تخیلاتی محل منہدم ہوتا تھا اور ان کے وہ کلمات تحریر کردئیے جنہیں موصوف اپنی ڈوبتی ہوئی ناؤ کا آخری سہارا سمجھتے تھے اور ان کی اس عبارت کا ترجمہ بھی غلط کیا تاکہ ان کا خیالی مفروضہ مضبوط ہوسکے۔ لیکن حقیقت نہ آج تک بناوٹ کے اصولوں میں چھپائی جاسکتی ہے اور نہ آئندہ کوئی احمق اس کی امید کرسکتا ہے۔
انصاف کا تقاضا تو یہ تھا کہ یا تو کاندھلوی صاحب ولی الدین خطیب کے فرمودات کو بطوردلیل پیش نہ کرتے یا پھر اپنے موقف سے رجوع کرلیتے، کیونکہ ولی الدین صاحب نے بغیر کسی ابہام کے یہ واضح کیا ہے۔ فرماتے ہیں: ہی ام المؤمنین عائشۃ بنت ابی بکر الصدیق وامہا ام رومان ابنۃ عامر بن عویمر خطبہا النبیﷺ وتزوجہا بمکۃ فی شوال سنۃعشر من النبوۃ وقبل الہجرۃ بثلاث سنین وقیل غیر ذلک واعرس بہا بالمدینۃ فی شوال سنۃ اثنتین من الہجرۃ علی راس ثمانیۃ عشر شہرا ولہا تسع سنین وقیل دخل بہا بالمدینۃ بعد سبعۃ اشہر من مقدمہ وبقیت معہ تسع سنین ومات عنہا ولہا ثمانیۃ عشر ولم یتزوج بکرا غیرہا (آگے وہی عبارت ہے جو کاندھلوی صاحب نے نقل کی ہے۔)
محترمہ عائشہ رضی اللہ عنہا محترم ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی ہیں، ان کی والدہ محترمہ کا اسم گرامی ام رومان ہے۔ رسول اللہﷺ کی ان سے منگنی اور نکاح مکہ مکرمہ میں شوال کے مہینے میں نبوت کے دسویں سال اور ہجرت سے تین سال قبل ہوا ۔ بعض نے اس سے اختلاف بھی کیا ہے (یعنی یہ کہا ہے کہ ہجرت سے دو سال قبل ہوا) آپﷺ محترمہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ ہجرت کے اٹھارہ ماہ بعد ماہ شوال میں شب باش ہوئے ، اس وقت محترمہ کی عمر نو برس تھی۔ بعض کا کہنا ہے کہ ہجرت کے سات ماہ بعد رخصتی عمل میں آئی۔ محترمہ نو سال تک نبی مکرمﷺ کی شریک حیات رہیں۔ نبی مکرمﷺ کی وفات کے وقت محترمہ کی عمر اٹھارہ برس تھی۔ نبی مکرمﷺ نے محترمہ کے علاوہ کسی اور کنواری عورت سے شادی نہیں کی۔
اس عبارت میں خطیب صاحب نے پورے وثوق سے تحریر کیا ہے یعنی جن چاروں باتوں میں کسی بھی مؤرخ ، محدث ، فقیہ اور نقاد نے اختلاف نہیں کیا۔وہ چار باتیں درج ذیل ہیں:
۱: رخصتی کے وقت محترمہ عائشہ رضی اللہ عنہا نو برس کی تھیں۔
۲: محترم نبی کریمﷺ کی نو سال تک شریک حیات رہیں۔
۳: نبی مکرمﷺ نے ماسوا محترمہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے کسی کنواری سے نکاح نہیں کیا۔
۴: محترمہ فقیہ، عالمہ، فاضلہ، محدثہ اور عرب کی تاریخ اور اشعار سے واقف تھیں۔
کاندھلوی صاحب اور ان کے رفقاء ان تسلیم شدہ چار حقیقتوں میں سے صرف آخری حقیقت کو تسلیم کرتے ہیں اور شیعہ دشمنی میں اس قدر آگے نکل گئے ہیں کہ محترمہ کو جبیر بن مطعم کی منکوحہ بنانے سے بھی گریز نہیں کرتے۔ (العیاذ باللہ)
کاندھلوی صاحب نے اس دلیل کو مضبوط کرنے کےلیے دوسرا قول عروہ بن زبیر کا پیش کیا ہے اور اس کی سند کو عمداً حذف کردیا ہے تاکہ ان کی ہٹ دھرمی قارئین کی نگاہوں سے اوجھل رہے۔ اس پر قول پر کچھ عرض کرنے سے پہلے ہم اس قول کو مع سند نقل کرتے ہیں:
قال علی بن مسعر: اخبرنا ہشام عن ابیہ قال ما ر۰یت احداً من الناس اعلم بالقرآن ولا بفریضتہ ولا بحلال و حرام ولا بشعر ولا بحدیث العرب ولا النسب من عائشۃ رضی اللہ عنہا۔
کاندھلوی صاحب چوتھی، پانچویں اور چھٹی دلیل میں اس سند کو ناقابل اعتبار قرار دے چکے ہیں، مگر بیسیویں دلیل میں اس بطور حجت کے پیش کررہے ہیں۔ حقیقت سے پردہ اُٹھانا ہمارا کام ہے اور یہ فیصلہ کرنا قارئین کا کام ہے کہ اس سے کاندھلوی صاحب کی ہٹ دھرمی ظاہر ہوتی ہے یا پھر حافظے کی خرابی؟
نہ صرف مدنی زندگی بلکہ مکی زندگی ہی میں مسلمانوں نے تلاوت کلام پاک کو اپنا محبوب مشغلہ بنالیا تھا، مگر اس کا یہ مقصد ہر گز نہیں کہ مسلمانوں نے اشعار کو اپنے لیے شجر ممنوعہ قرار دے لیا تھا۔ اگر ایسا ہوتا تو عربی ادب میں اسلامی شعراء کا کوئی حصہ نہ ہوتا اور حسان بن ثابت کا شاعر رسول اللہ کا کبھی لقب نہ ملتا۔عروہ بن زبیر اور عبداللہ بن عباس اشعار سے نابلد رہتے کیونکہ یہ دونوں عہد اسلام میں پیدا ہوئے ، جبکہ یہ حقیقت ہے کہ یہ دونوں کلام شعراء پر عبور رکھتے تھے۔ عروہ بن زبیر کے بارے میں تو خود کاندھلوی صاحب نے بھی ابوالزناد کا یہ قول پیش کیا ہے کہ میں نے شعر وشاعری میں عروہ سے بڑھ کر کسی کو نہیں دیکھا۔ اگر بقول کاندھلوی صاحب کے یہ تسلیم کرلیا جائے کہ مدنی زندگی میں شعر وشاعری کو دور کا واسطہ نہ تھا تو یہ بھی تسلیم کرنا ہوگا کہ عروہ اپنے پیدا ہونے سے بھی بائیس برس پہلے شاعری میں مہارت تامہ حاصل کرچکے تھے کیونکہ ان کی ولادت ۲۲ھ میں مدینہ میں ہوئی تھی۔ اگر عروہ مدنی زندگی میں محترمہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے اشعار سیکھ سکتے ہیں تو پھر محترمہ عائشہ رضی اللہ عنہا مدنی زندگی میں اپنے والد سے اشعار کیوں نہیں سیکھ سکتی تھیں؟
مقتولین قلیب بدر کے بارے میں محترمہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا موقف اصحاب رسول سے مختلف تھا۔ محترمہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے مقابلے میں اصحاب رسول کا موقف درست تھا۔ مسند احمد کی ایک روایت سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ محترمہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اپنے اس موقف سے رجوع کرلیا تھا۔ (دلیل نمبر ۱ کے جواب میں مزید تفصیل ملاحظہ فرمالیں) جہاں تک اس مسئلہ کا تعلق ہے کہ ورثاء کے رونے کی وجہ سے مردے کوعذاب ہوتا ہے تو اس میں کوئی شک نہیں کہ محترمہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور محترم عمر رضی اللہ عنہ کے مابین یہ مسئلہ اختلافی تھا۔ مگر امام بخاری رحمہ اللہ نے ان کے درمیان جو مطابقت پیش کی ہے وہ امام بخاری کی فقاہت اور وسعت علم کی بہت بڑی دلیل ہے یعنی اس رونے مراد وہ رونا ہے جس میں نوحہ پایاجائے، نیز مرنے والا نوحہ کرنے کو ناپسند نہ کرتا ہو، اس رونے کی وجہ سے مردے کو عذاب ہوگا اورایسا نہیں تو پھر مردے کو ورثاء کے رونے کی وجہ سے عذاب نہیں ہوگا۔ لہٰذا ثابت ہوا کہ بخاری کی یہ احادیث قرآن کے خلاف نہیں۔ جہاں تک فقہاء احناف کا تعلق ہے تو وہ ہر اس حدیث کو مسترد کردیتے ہیں جو ان کی رائے کے خلاف ہو، اس لیے انہیں اہل الرائے کے نام سے یا دکیا گیا ہے۔

:حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے فیصلے استدلال:

رہا کاندھلوی صاحب کا یہ کہنا کہ قرآن کے خلاف حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی پیش کردہ حدیث کی کوئی حیثیت نہیں خواہ وہ صحیح بھی کیوں نہ ہو۔ ہم کاندھلوی صاحب کے رفقاء سے یہ پوچھنے کا حق رکھتے ہیں کہ کیا یہ اصول صرف اسی مسئلہ میں ہے یا تمام مسائل میں؟ ایک مجلس کی تین طلاقوں کو واقع کردینا نہ صرف قرآن کے خلاف ہے بلکہ سنت کے بھی خلاف ہے۔ مگر اس کے باوجود احناف کا ان تین طلاقوں کو صرف اس لیے جاری کرنا کہ محترم عمر رضی اللہ عنہ نے ایسا کیا تھا، کیا حیثیت رکھتا ہے؟
اس دلیل میں کاندھلوی صاحب نے محترمہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا محترمہ فاطمہ بن قیس رضی اللہ عنہا سے اختلاف نقل کیا ہے۔ اس میں اگر نظر عمیق سے دیکھا جائے تو فاطمہ بنت قیس کا موقف درست ہے کیونکہ محترم عمر رضی اللہ عنہ نے ایک آیت کو سامنے رکھ کر یہ کہا تھا کہ ہم ایک عورت کے کہنے پر قرآن کو نہیں چھوڑ سکتے تو محترمہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا نے جواباً عرض کیا تھا کہ مطلقہ کو رہائش کا حق صرف اس لیے دیا گیا ہے کہ شاید اس طرح خاوند اور بیوی کے درمیان کوئی صلح کا راستہ نکل آئے۔ لیکن تیسری طلاق کے بعد تو صلح کی تمام راہیں مسدود ہوجاتی ہیں، اس لیے قرآن کا یہ حکم اس عورت پر صادق نہیں آتا جسے تیسری طلاق مل چکی ہو۔
ان کا یہ استدلال بھی قرآن ہی کی ایک آیت سے ہے۔ یعنی محترم عمر رضی اللہ عنہ بھی اپنے موقف کی تائید میں قرآن کی آیت پیش کرتے تھے جبکہ محترمہ فاطمہ بنت قیس بھی اپنے موقف کی تائید میں قرآن کی آیت پڑھتی تھیں۔ جناب جب یہ صورت حال ہے تو پھر آپ بتائیں کہ کیا اس اختلاف کو بنیاد بنا کر قرآن کا بھی انکار کرد یا جائے گا؟
کاندھلوی صاحب نے محترمہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی فاطمہ بنت قیس سے متعلق تین روایات پیش کی ہیں ، ان میں سے ایک روایت کا ترجمہ تو موصوف نے عمداً غلط کیا ہے تاکہ حدیث کے خلاف نفرت کا بازار گرم کیا جائے، جبکہ ایک روایت کا ترجمہ جہالت کی بنا پر غلط کیا ہے ۔ جس روایت کا ترجمہ جہالت کی بنا پر غلط کیا ہے، وہ درج ذیل ہے: عن عبدالرحمن بن قاسم عن ابیہ عن عائشۃ انہا قالت ما لفاطمۃ الا تتقی اللہ (بخاری، ص:۸۵۲) قاسم بن محمد کہتے ہیں کہ محترمہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ کیا ہے فاطمہ بنت قیس کےلیے کہ وہ اللہ سے نہیں ڈرتی۔
جبکہ کاندھلوی صاحب نے اس کا ترجمہ اس طرح کیا ہے کہ قاسم بن محمد کا بیان ہے کہ محترمہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے مخاطب ہوکر فرمایا:کیا تو اللہ سے نہیں ڈرتی؟
عربی زبان سے معمولی واقفیت رکھنے والے بھی یہ جانتے ہیں کہ تتقی فعل مؤنث غائب کا صیغہ ہے۔ جبکہ کاندھلوی صاحب اسے فعل مؤنث حاضر سمجھ رہے ہیں ۔ ظاہر ہے جو شخص عربی زبان کے بارے میں بنیادی واقفیت بھی نہ رکھتا ہو، اگر اسے محقق الانقاد کا خطاب دےدیاجائے تو پھر علم کا تو اللہ ہی حافظ ہے۔
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا علم وفضل اور

:کاندھلوی صاحب کا تجاہل عارفانہ:

محترمہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے علم وفضل سے متعلق روایات نقل کرنے کے بعدکاندھلوی صاحب فرماتے ہیں کہ ام المؤمنین کا ادب، تاریخ ، علم الانساب، محاورات عرب اور خطابت جیسے اہم مضامین پر نو سال کی عمر میں قدرت حاصل کرلینا بعید از عقل ہے۔
ہم کاندھلوی صاحب کے رفقاء سے یہ پوچھنا چاہتے ہیں کہ کس احمق نے یہ کہا ہے کہ محترمہ نے یہ سب کچھ نو سال کی عمر میں حاصل کرلیا تھا؟ محترمہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر متعدد اہل علم نے لکھا ہے مگر کسی نے دعویٰ نہیں کیا کہ یہ سب کچھ محترمہ نے نو سال کی عمر میں حاص کرلیا تھا۔ محدثین اور مؤرخین نے تو صرف ان کے علم وفضل کا تذکرہ کیا ہے۔ ان میں سے کسی ایک نے بھی یہ تحریر نہیں کیا کہ سب کچھ محترمہ نے کتنے عرصے میں حاصل کیا۔ یہ موصوف کی ذہنی اختراع ہے، جسے پڑھ کر ایسا لگتا ہے کہ آخری عمر میں کاندھلوی صاحب کی قوت یادداشت اور عقل جواب دے گئی تھی ۔ اس لیے وہ خیالات ہی خیالات میں مفروضے قائم کرلیتے تھے اور پھر ان کا رد کرتے رہتے تھے۔
محترمہ عائشہ رضی اللہ عنہا نو سال تک رسول اللہﷺ کی شریک حیات رہیں۔ کیا اس طویل عرصے میں محترمہ جیسی ذہین طالبہ رسول اللہﷺ جیسے معلم کامل سے کتاب وسنت مکمل طور پر نہ سیکھ سکتی تھیں، جبکہ عہد حاضر میں طلباء آٹھ نو سال کے بعد مفتی اور عالم فاضل کی سندیں حاصل کرکے عوام کو یہ تاثر دینے لگتے ہیں کہ وہ علامہ، محقق اور نقاد ہیں۔ کیا محترمہ عائشہ رضی اللہ عنہا ان نام نہاد محققوں اور نقادوں سے بھی کند ذہن تھیں۔ اس میں تو کوئی شک نہیں کہ اگر طالب علم کا مقصد حصول علم ہو تو وہ آٹھ نو سال میں بہت کچھ حاصل کرسکتا ہے اور اگر شاگرد طالب علم کی بجائے طالب خوراک ہوتو وہ مہد سے لحد تک شاگرد رہنے کے باوجود آسان سی عربی کا ترجمہ بھی غلط کرتا رہے گا۔
کاندھلوی صاحب جس امام کے مقلد ہیں، انہوں نے عہد شباب میں پہنچ کر تحصیل علم کا آغاز کیا تھا۔ مقلدین کے نزدیک امام کا ہر عمل سنت کا درجہ رکھتا ہے، خواہ وہ عمل غیر اختیاری ہی کیوں نہ ہو۔ اس لیے کاندھلوی صاحب اور ان کے تقلیدی بھائیوں کے نزدیک انہیں حضرات کا علم معتبر ہے جنہوں نے عہد شباب میں علم حاصل کرنے کا آغاز کیا ہو۔ محترمہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے چونکہ تحصیل علم کا آغاز کم سنی میں کیا تھا اور اٹھارہ سال کی عمر میں وہ فقیہ اور عالمہ فاضلہ بن چکی تھیں۔ یہ بات چونکہ مقلدین احناف کے خلاف جاتی تھی ، اس لیے کاندھلوی صاحب اور ان کے رفقاء کی یہ کوشش ہے کہ کسی طرح بھی یہ ثابت کردیا جائے کہ محترمہ رخصتی کے وقت پختہ عمر کی عورت تھیں۔ جبکہ یہ حقیقت ہے کہ کم سنی میں حاصل کیا ہوا علم پتھر پر لکیر کی طرح محفوظ ہوجاتا ہے۔ جیسا کہ عربی زبان میں معروف مقولہ ہے: العلم فی الصغر کالنقش علی الحجر۔
یہ بات صرف قول کی حد تک نہیں بلکہ اس کے عملی شواہدات بھی ہیں۔ عہد نبوی کے کم عمر فقیہ صحابی عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کے بارے میں ولی الدین خطیب رقم طراز ہیں کہ آپ ہجرت سے تین سال قبل پیدا ہوئے۔ نبی اکرمﷺ کی وفات کے وقت ان کی عمر تیرہ برس تھی ۔ یہ اس امت کے بہترین عالم تھے۔
امام مسروق کہتے ہیں:جب ابن عباس گفتگو کرتے تو ایسا لگتا جیسے سب سے بڑھ کر قادر الکلام یہی ہیں اور جب مسائل بیان کرتے تو ایسا لگتا جیسے آپ سب سے بڑے عالم ہیں۔
شاہ ولی اللہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرمﷺ کی وفات کے وقت عبداللہ بن عباس تیرہ برس کے تھے۔ان کا لقب حبر الامت تھا۔ آپ تفسیر قرآن کے بڑے ماہر تھے۔
علامہ ذہبی لکھتے ہیں: نبیﷺ کی وفات کے وقت ان کی عمر تیرہ برس تھی مگر یہ امام البحر اور عالم العصر تھے۔
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ ہجرت نبوی کے وقت گیارہ برس کے تھے۔ اس کا اعتراف کاندھلوی صاحب نے بھی دلیل نمبر ۱۱ میں کیا ہے۔ ان کے علم وفضل کا یہ عالم ہے کہ امام ذہبی فرماتے ہیں کہ وہ علم کا پہاڑ تھے۔
محترم علی رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے محترم محمد بن الحنفیہ ان کے بارے میں کہتے ہیں کہ ابن عمر اس امت کے بہت بڑے عالم تھے۔
ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ ہجرت کے وقت دس برس کے تھے۔ علامہ ذہبی ان کے بارے میں لکھتے ہیں: ان کا شمار اہل علم صحابہ میں ہوتا تھا۔
ولی الدین خطیب کہتے ہیں کہ ان کا شمار ان صحابہ میں ہوتا ہے جو عالم، فاضل اور فقیہ تھے۔
عبداللہ بن عمر و بن العاص رضی اللہ عنہ ہجرت نبوی کے وقت سات برس کے تھے۔ محترم ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتےہیں کہ ان کے پاس بہت زیادہ علم ہے۔
زید بن ثابت رضی اللہ عنہ ہجرت نبوی کے وقت گیارہ برس کے تھے۔امام ذہبی ان کے بارے میں لکھتے ہیں کہ آپ کاتب وحی تھے اور قرآن کے حافظ تھے اور فرائض کے عالم تھے۔
محترم انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ انہوں نے نبیﷺ کی حیات طیبہ میں قرآن جمع کرلیا تھا۔
امام شعبی فرماتے ہیں کہ زید بن ثابت نے لوگوں کو دو چیزوں سے خوب واقف کردیا یعنی قرآن اور علم الفرائض سے۔
ولی الدین خطیب کہتےہیں کہ آپ ہجرت نبوی کے وقت گیارہ برس کے تھے، مگرآپ کا شمار بڑے بڑے فقیہ صحابہ میں ہوتا تھا۔
سلیمان بن یسار کہتے ہیں کہ محترم عمر اور محترم عثمان رضی اللہ عنہما قضاء، فتویٰ ، فرائض اور قرآن میں زید بن ثابت پر کسی کو مقدم نہیں رکھتے تھے۔
کیا ان صحابہ کی لیاقت وصلاحیت کو دیکھ کر یہ مفروضہ قائم کرلیا جائے گا کہ یہ صحابہ ہجرت نبوی سے قبل پچیس تیس برس کے ہوں گے؟ ایسا ہرگز نہیں ہوسکے گا۔کیونکہ یہ ایک ایسی حقیقت ہے جسے جہالت کے تاریک پردوں میں کوئی مولوی نہیں چھپا سکتا۔ ان شاء اللہ

::اکیسویں دلیل کاجواب::

:کنیت کامسئلہ:

کاندھلوی صاحب کی دلیل نمبر ۲۱ خودساختہ مفروضوں پرمبنی ہے۔ لکھتے ہیں:
عرب میں ایک دستور یہ تھا کہ جب کوئی مرد صاحب اولاد ہوتا تو بیٹے کے نام پر اپنی کنیت رکھتا اور عام طور پر کنیت پہلی اولاد کے نام پر ہوتی ہے۔
موصوف کا یہ فرمان تجاہل عارفانہ یا حقیقت ناشناسائی ہے کیونکہ اہل عرب لڑکے اور لڑکیوں کے نام پیدائش کے وقت بھی کنیت کی صورت میں رکھ دیتے تھے جیسا کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ کیونکہ بکر، ابوبکر رضی اللہ عنہ کے کسی صاحبزادے کا نام نہ تھا۔ اس طرح آپﷺ کی اپنی بیٹی کا نام ام کلثوم رکھنا اور یہ نام اس وقت رکھا جب وہ پیدا ہوئی تھیں۔ اور اسی طرح ابوہریرہ۔ ظاہر ہے کہ ابوہریرہ کنیت کا سبب یہ ہرگز نہیں کہ ان کے ہاں پہلی اولاد بلی تھی۔
محترم قارئین! کنت رکھنے کےلیے اولاد کا ہونا ضروری نہیں۔ آپﷺ ازراہ پیار صحابہ کی کنیت رکھ دیا کرتے تھے۔ اسی طرح آپﷺ ازراہ پیار بہت کم عمر بچوں کی بھی کنیت رکھ دیا کرتےتھے۔
عن انس قال: کان النبیﷺ یاتینا ، فیقول لاخ لی وکان صغیرا: یا ابا عمیر۔(ابن ماجہ، ص:۲۹۳، ج:۳، ابوداؤد، ص:۶۳۷، ج:۳)حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: آپﷺ ہمارے گھر تشریف لاتے اور میرے بھائی کو جو بہت چھوٹے تھے، ابو عمیر کہہ کر پکارتے تھے۔
موصوف اسی دلیل میں آگے چل کر نہایت بددیانتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے رقم طراز ہیں: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے خود کوئی اولاد نہیں ہوئی۔ لیکن ایک روز فطری جذبہ سے مجبور ہو کر عرض کیا یا رسول اللہ! آپﷺ کی تمام بیویوں نے اپنے بیٹوں کے نام سے اپنی کنیتیں رکھ لیں ، میں کس طرح اپنی کنیت رکھوں۔ آپﷺنے ارشاد فرمایا "فاکتنی بابنک عبداللہ" اپنے بیٹے عبداللہ کے نام پر کنیت رکھ لے۔
یہ راویت کاندھلوی صاحب نے ابوداؤد اور ابن ماجہ کے حوالے سے نقل کی ہے اور اس میں بھی من پسند بددیانتی کی ہے۔ ملاحظہ فرمائیں اصل کتاب سے حدیث اور اس کا ترجمہ: عن عائشۃ رضی اللہ عنہا انہا قالت للنبیﷺ کل ازواجک کنیتہ غیری۔ قالت: قال: فانت ام عبداللہ۔ (ابن ماجہ، ص:۲۹۳، ج:۳)
ترجمہ: ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے آنحضرت ﷺ سے عرض کیا: آپﷺ نے اپنی سب بیبیوں کی کنیت رکھی، ایک میں ہی باقی ہوں۔ آپﷺنےفرمایا: تو ام عبداللہ ہے۔
کاندھلوی صاحب کی پیش کردہ حدیث ہم نے مکمل متن اور ترجمہ کے ساتھ تحریر کی ہے۔ آپ اسے غور سے پڑھیں ۔ اس میں یہ کہیں مذکور نہیں کہ آپﷺ کی ازواج مطہرات نے اپنی کنیت اپنے بیٹوں کے ناموں پررکھی تھی۔

آزاد
26-02-12, 09:42 PM
::بائیسویں دلیل کا جواب::
اس دلیل کا آغاز اس طرح کرتے ہیں:
بشر بن عقربہ سے روایت ہے کہ میرے والد غزوہ احدمیں شہید ہوگئے، میں بیٹھا رو رہا تھا اچانک نبی کریمﷺ میرے پاس تشریف لائے اور فرمایا: اما ترضی ان اکون اباک وعائشۃ امک۔ کیا تو اس پر راضی نہیں ہے کہ میں تیرا باپ بنوں اور عائشہ تیری ماں بنے۔
اس روایت کو بنیاد بنا کر موصوف فرماتے ہیں کہ ایک کمسن بچی کے بارے میں یہ فرمانا کہ وہ تیری ماں بنے؟
زید بن حارثہ آپﷺ کے منہ بولے بیٹے تھے جبکہ زید بن حارثہ آپﷺ سے محض چند برس چھوٹے تھے۔ نیز ازواج مطہرات کو اللہ تعالیٰ نے ایمانداروں کی مائیں قرار دیا ہے۔ اس آیت کی روشنی میں محترمہ عائشہ نہ صرف ان مردوں کی والدہ ہیں جو عمر میں ان سے چھوٹے تھے بلکہ ان کی بھی والدہ ہیں جو عمر میں ان سے بڑے تھے۔
اس سے ثابت ہوا کہ موصوف کی یہ دلیل کوتاہ نظری کی مظہر ہے۔

::تیئسویں دلیل کا جواب::

اس کا آغاز اس طرح کرتے ہیں:کیاعرب میں کمسن لڑکیوں کی شادی کا رواج تھا؟
محترم قارئین! عرب میں چھوٹی عمرکے لڑکوں اور لڑکیوں کی شادی کا رواج تھا، جیسا کہ مشکوٰۃ شریف کے آخر میں اسماء الرجال کے حصے میں مذکور ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمرو اپنے والد عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے فقط بارس سال چھوٹے تھے۔نیز سورۃ النساء کی آیت نمبر ۲۳ کا مطالعہ کریں تو یہ حقیقت اظہر من الشمس ہوجائے گی کہ عرب میں کمسن لڑکیوں کی شادی کا رواج تھا۔
اس کے بعد لکھتے ہیں کہ محترمہ فاطمہ رضی اللہ عنہا محترمہ ام کلثوم رضی اللہ عنہا اور محترمہ اسماء رضی اللہ عنہا کانکاح پختہ عمرمیں ہوا تھا۔
یہ دلیل تو کاندھلوی صاحب تب دیتے اگرروایت عمر عائشہ میں یہ درج ہوتا کہ عرب میں سب لڑکیوں کا نکاح نو سال کی عمر میں ہوتا تھا۔ حالانکہ روایت میں ایسا نہیں ہے ۔ اس قسم کے واقعات تحریر کرنا محض قارئین کا وقت ضائع کرنا ہے۔
::چوبیسویں اور آخری دلیل کا جواب::

اس دلیل کا آغاز اس طرح کرتے ہیں کہ:
ہشام کی اس نام نہاد روایت کے خلاف امت مسلمہ کا عملی طورپر ہمیشہ سے اجماع رہا ہے۔ آج تک اس روایت پر کسی نے عمل نہیں کیا۔
موصوف کا یہ فرمان دروغ گوئی اور مرض نسیان کا اظہارکرتی ہے کیونکہ موصوف اپنی سابقہ دلیل نمبر ۱۸کے تحت فقہاء پر برہمی کا اظہار کرچکے ہیں کہ انہوں نے اس حدیث کو بنیاد بنا کر نابالغ لڑکی کے نکاح کے جواز کا فتویٰ کیوں دیا۔ آج بھی لوگ اس حدیث پر عمل کرتے ہوئے نابالغ لڑکیوں کا نکاح کرتے ہیں۔
بہت شور سنتے تھے پہلو میں دل کا
جو چیرا تو اک قطرہ خوں نہ نکلا

تمت بالخیر والحمد للہ اولا وآخرا وصلی اللہ تعالیٰ علی خیر خلقہ محمد وعلی آلہ واصحابہ واتباعہ اجمعین الی یوم الدین۔