PDA

View Full Version : میری پسند میرا انتخاب


ابوبکر
12-12-07, 02:03 AM
میری پسند میرا انتخاب ۔ ۔ ۔

السلام علیکم دوستو !

یقینًا آپ کا بھی ھو سکتا ھے ۔ ۔

اپنی پسند کا اظہار آپ یہاں کر سکتے ییں ۔ ۔ ۔

ابوبکر
12-12-07, 02:08 AM
زندگی کے میلے میں، خواہشوں کے ریلے میں

تم سے کیا کہیں جاناں اس قدر جھمیلے میں

وقت کی روانی ہے، بخت کی گرانی ہے

سخت بے زمینی ہے، سخت لامکانی ہے

ہجر کے سمندر میں

تخت اور تختے کی ایک ہی کہانی ہے

تم کو جو سنانی ہے

بات گو ذرا سی ہے

بات عمر بھر کی ہے

عمر بھر کی باتیں کب دو گھڑی میں ہوتی ہیں

درد کے سمندر میں

ان گنت جزیرے ہیں، بے شمار موتی ہیں

آنکھ کے دریچے میں تم نےجوسجایا تھا

بات اُس دیے کی ہے

بات اُس گلے کی ہے

جو لہو کی خلوت میں چور بن کے آتا ہے

لفظ کی فصیلوں کی میں

ٹوٹ ٹوٹ جاتا ہے

زندگی سے لمبی ہے، بات رت جگے کی ہے

راستے میں کیسے ہو، بات تخلیئے کی ہے

تخلیے کی باتوں میں گفتگو اضافی ہے

پیار کرنے والوں کو اک نگاہ کافی ہے

ہوسکے تو سن جاؤ ایک دن اکیلے میں

تم سے کیا کہیں جاناں اس قدر جھمیلے میں

ابوبکر
12-12-07, 02:12 AM
وہ ستانے کے بعد منانے آگۓ

کیوں مرجھایا پھول کھلانے آگۓ

لوگ اپنوں سے دامن بچانے لگے

خدایا محبت میں کیسے زمانے آگۓ

جہاں دیکھا مجھے اٹھا لۓ پتھر

سب میرا عشق آزمانے آ گۓ

دن کو سورج دیکھے رات کو چندا

نہ ملنے کے انہیں کتنے بہانے آ گۓ

جن کو گوارہ نہ تھا نام لینا

ان کے لبوں پہ میرے افسانے آ گۓ

آج تک سمجھ میں آسکے نہ وہ

ہنسانے آ گۓ کبھی رلانے آ گۓ

دل کو دل سے جاوید ملانے

وہ نینوں سے نین لڑانے آ گۓ

ام اقصمہ
12-12-07, 03:14 AM
مجھ پہ کیوں‌اسطرح سے ہنستا ہے
دل بڑی مشکلوں سے بستا ہے

میرے گاؤں کے گھر ہیں سب کچے
ارے بادل کہاں ‌برستا ہے

جو کبھی لوٹ کر نہیں آئے
ان سے ملنے کو دل ترستا ہے

عاشقی کا مقام کیا ہوگا
جہاں الفت کا دام سستا ہے

تیرے جانے کے بعد جانے کیوں
ہر کوئی شخص مجھ پہ ہنستا ہے

میری منزل جسے سمجھ بیٹھے
وہ میری خواہشوں ‌کا رستہ ہے

دوست کہتی ہے اسکو کیوں ماہ رخ
جو تجھے ہر قدم پہ ڈستا ہے

ابوبکر
12-12-07, 05:32 AM
درد جب تيري عطا ہے تو گلہ کس سے کريں
ہجر جب تو نے ديا ہے تو گلہ کس سے کريں

عکس بکھرا ہے تيرا ٹوٹ کے آئينے ميں
ہو گئي نم نظر عکس ليا کس سے کريں

ميں سفر ميں ہوں ميرے ساتھ جدائي تيري
ہمسفر غم ہے تو پھر تيرا پتہ کس سے کريں

کھل اٹھا گل يا کھلے دست ِ حنائي تيرے
ہر طرف تو ہے تو پھر تيرا پتہ کس سے کريں

تيرے لب، تيري نگاہيں، تيرے عارض، تيري زلف
اتنے زنداں ہيں تو اس دل کو رہا کس سے کريں

ام اقصمہ
12-12-07, 01:48 PM
ہجوم غم ہے ، تنہائی بہت ہے
طبیعت آج گھبرائی بہت ہے

بنام عشق رسوائی بہت ہے
مگر یہ دل تو سودائی بہت ہے

ہمیں‌معلوم ہے انجام الفت
یہ دو دن کی شناسائی بہت ہے

محبت یوں‌تو ہے روگ مسلسل
ولیکن اسمیں‌رعنائی بہت ہے

ترا لطف و کرم سے دیکھ لینا
بس اتنی سی پذیرائی بہت ہے

یہ پھر رخت سفر باندھا ہے کس نے
اداسی شہر پر چھائی بہت ہے

وہ ذکر ناز پر جھنجھلا کر پولے
اسے چھوڑو وہ ہرجائی بہت ہے

ابوبکر
13-12-07, 01:03 AM
چپکے چپکے جل جاتے ہيں
لوگ محبت کرنے والے
پر واسنگ نکل جاتے ہيں
لوگ محبت کرنے والے

آنکھوں چل پڑتے ہيں تاروں کي قنديل لئے
چاند کے ساتھ ہي ڈھل جاتے ہيں

لوگ محبت کرنے والے

دل ميں پھول کھلاديتے ہيں
لوگ محبت کرنے والے
آگ ميں راگ جگاتے ديتے ہيں
لوگ محبت کرنے والے
پاني بيچ بتاشہ صورت خود تو گھستے رہتے ہيں
سم کو شہد بناديتے ہيں
لوگ محبت کرنے والے

خواب خوشي کے پوجاتے ہيں
لوگ محبت کرنے والے
زخم دلوں کے دھو جاتے ہيں
لوگ محبت کرنے والے
تتلي تتلي لہراتے ہيں پھولوں کي اميد ليے
اک دن خوشبو ہو جاتے ہيں
لوگ محبت کرنے والے

بن جاتے ہيں نقش وفا کا
لوگ محبت کرنے والے
جھونکاہيں بے چين ہوا کا
لوگ محبت کرنے والے

جلي ہوئي دھرتي پہ جيسے بادل گھر آئيں
بستي پر ہيں فضل خدا کا
لوگ محبت کرنے والے

ابوبکر
13-12-07, 01:06 AM
ان جھيل سي گہري آنکھوں ميں اک شام کہيں آباد ہو
اس جھيل کنارے پل دو پل
اک خواب کا نيلا پھول کھلے
وہ پھول بہاديں لہروں ميں
اک روز کبھي ہم شام ڈھلے
اس پھول کے بہتے رنگوں ميں
جس وقت لرزتا چاند چلے
اس وقت کہيں ان آنکھوں ميں اس بسرے پل کي ياد تو ہو
ان جھيل سي گہري آنکھوں میں اک شام کہيں آباد تو ہو

پھر چاہے عمر سمندر کي
ہر موج پريشاں ہو جائے
پھر چاہے آنکھ دريجے سے
ہر خواب گريزاں ہوجائے
پھر چاہے پھول کے چہرے کا
ہر در نمايا ہو جائے

اس جھيل کنارے پل دو پل وہ روپ نگر ايجاد تو ہو
دن رات کے اس آئينے سے وہ عکس کبھي آزاد تو ہو
ان جھيل سے گہري آنکھوں ميں اک شام کہيں آباد تو ہو

ابوبکر
14-12-07, 05:53 AM
ہر ایک زخم سلنے میں۔۔
پھر سے پھول کِھلنے میں۔۔
وقت تھوڑا لگتا ہے۔۔
خزاں کے لوٹ جانے میں۔۔
بہار کو منانے میں۔۔
وقت تھوڑا لگتا ہے۔۔
ٹوٹے ہوئے خوابوں کی۔۔
کرچیاں اُٹھانے میں۔۔
اور پھر زخمی ہاتھوں سے۔۔
گلستاں سجانے میں۔۔
وقت تھوڑا لگتا ہے۔۔
طویل تر سفر کے بعد۔۔
منزلوں کو پانے میں۔۔
ریزہ ریزہ ہو کر پھر۔۔
خود میں لوٹ آنے میں۔۔
وقت تھوڑا لگتا ہے۔۔
کسی عزیز ہستی کو۔۔
دل سے بھول جانے میں۔۔
اور بھولی باتوں کو۔۔
پھر سے یاد آنے میں۔۔
وقت تھوڑا لگتا ہے۔۔
بھولے بھٹکے راستوں سے۔۔
گھر کو لوٹ جانے میں۔۔
پھر دیّا جلانے میں۔۔
تیرگی مٹانے میں۔۔
وقت تھوڑا لگتا ہے۔۔
فاصلے مٹانے میں۔۔
قربتیں بڑھانے میں۔۔
ایک اجنبی کو پھر۔۔
زندگی بنانے میں۔۔
وقت تھوڑا لگتا ہے۔

ابوبکر
14-12-07, 06:06 AM
جانے کب آئے گا ہوا کا جھونکا ان کي گلي سے
کب مہکے گا پھول اس چمن ويراں کا

ميري سوچوں پہ فقط اسي کا اختيار ہے
مرکز ہے جو ميرے شعر و بياں کا

ہر بار کہتا ہوں اظہار وفا کروں گا ان سے
کھلتا نہيں قفس ہر باري ميري زباں کا

وہ ميري روح ميں اس طرح سما گيا ہے سحارب
تعلق نہيں ہے اس سے کوئي جسم و جان کا

ابوبکر
14-12-07, 06:19 AM
ان نگاہوں سے يوں تم اشارے نہ کرو
پيدا زمانے ميں دشمن ہمارے نہ کرو

محبت کے دريا ہيں دلوں سے گہرے
پار کچے گھڑوں کے سہارے نہ کرو

جل جائو گے عشق ميں يہي بہتر ہے
تلاش اس راکھ ميں شرارے نہ کرو

پھر لوگ کہيں گے رضوان اداس تمہيں
لوگوں کے سامنے شمار ستارے نہ کرو

بلوچ
14-12-07, 10:51 PM
دل مضطرب ہے اور طبیعت اُداس ہے
لگتا ہےآج دل کے کوئی آس پاس ہے

پھر تشنہ لب کھڑا ھوں سمندر کے سامنے
یہ میری پیاس ہے کہ سمندر کی پیاس ہے

کھلتا نہیں نگاہ پہ کہ کس جگہ پہ ھوں
شہر ِ طلب ہے یاکوئی دشت ِ ہراس ہے

یہ سادگی نہیں تو اُسے اور کیا کہوں
پھر آسماں سے مجھ کو بھلائی کی آس ہے

جانے ھوائے شب کی اداؤں کو کیا ھوا
شوریدہ سر ہے اور دریدہ لباس ہے
کرامت بخاری

ابوبکر
15-12-07, 02:34 PM
یونہی چلتے ہوئے راستوں میں کئی ہمسفر جو ملے
اور بچھڑتے گئے
آتے جاتے ہوئے موسموں کی طرح
آپ ہی اپنی گردِ سفر ہوگئے
نہ کبھی میں نے پھر مُڑ کے دیکھا اور نہ سوچا کبھی
وہ کہاں کھو گئے
جو گئے، سو گئے
پھر یہ کیسے ہوا !
یونہی اک اجنبی، دیکھتے دیکھتے
دل میں اُترا، دل میں سما سا گیا
اور دھنک رنگ سپنے جگا سا گیا
جیسے بادل کوئی، بےارادہ یونہی، میری چھت پہ رُکا
اور برسے بنا اس پہ ٹھہرا رہا
کیا تماشا ہوا، سامنے تھی ندی اور کوئی تشنہِ لب
اس کو تکتا گیا اور پیاسا رہا

ایک لمحے میں سمٹے گی یہ داستاں
کس کو معلوم تھا !
تم ملو گے مجھے اس طرح بےگماں
کس کو معلوم تھا

s4shakeel
15-12-07, 03:05 PM
دل مضطرب ہے اور طبیعت اُداس ہے
لگتا ہےآج دل کے کوئی آس پاس ہے

پھر تشنہ لب کھڑا ھوں سمندر کے سامنے
یہ میری پیاس ہے کہ سمندر کی پیاس ہے

کھلتا نہیں نگاہ پہ کہ کس جگہ پہ ھوں
شہر ِ طلب ہے یاکوئی دشت ِ ہراس ہے

یہ سادگی نہیں تو اُسے اور کیا کہوں
پھر آسماں سے مجھ کو بھلائی کی آس ہے

جانے ھوائے شب کی اداؤں کو کیا ھوا
شوریدہ سر ہے اور دریدہ لباس ہے
کرامت بخاری

واہ کیا کہیے کیا خوبصورت انتخاب ہے آپ کا.

ام اقصمہ
15-12-07, 06:01 PM
اگرچہ تم اپنی ہواؤں‌میں‌ہو
گھرے درحقیقت بلاؤں میں ہو

میری بے گناہی سے واقف تھے تم
کھڑے پھر بھی جھوٹے گواہوں میں ہو

وہ آزاد کرتا ہے اس شرط پہ
میرے نام کی بیڑی پاؤں میں‌ہو

الجھتے ہیں‌طوفاں‌سے کچے گھڑے
اگر حوصلہ ناخداؤں میں ہو

ہماری محبت کا بھرتے ہو دم
رقیبوں کے بھی خیر خواہوں میں‌ہو

چلو ناز چھوڑو یہ شکوے گلے
سلیقہ تو کچھ التجاؤں میں ہو

ام اقصمہ
15-12-07, 06:15 PM
ہماری جنگ تو خود سے تھی،ڈھال کیا رکھتے
فقیر لوگ تھے ،مال و منال کیا رکھتے

ہمیں خبر تھی کہ فرصت نہیں‌زمانے کو
کسی کے سامنے، اپنا سوال کیا رکھتے

گواہ اسکے، کٹہرے اسی کے منصف بھی
ہم اپنی جیت کا دل میں‌خیال کیا رکھتے

ستم گری تو زمانے کی رسم تھی شاید
ذرا سی بات کا دل میں‌ملال کیا رکھتے

تیری گلی میں‌دل مضطرب کو چھوڑ آئے
پرائی چیز کا سر پر وبال کیا رکھتے

صدی صدی کا جہاں ،ایک ایک دن ٹہرا
حساب ناز، وہاں ماہ و سال کیا رکھتے

بلوچ
15-12-07, 10:21 PM
واہ کیا کہیے کیا خوبصورت انتخاب ہے آپ کا.
بہت بہت شکریہ شکیل بھائی آپ کا

بلوچ
15-12-07, 10:22 PM
لشکر ھے نہ دربار نہ اب شاہ کوئی ھے
لیکن میرے شہروں کا تواحوال وہی ھے

دیوار سے دیوار ہر ایک گھر کی لگی ھے
لیکن بڑی نفرت یہاں پروان چڑھی ھے

تقسیم ھوئے لوگ رنگوں میں رتوں میں
مٹی میں عداوت کی مہک اب بھی بسی ھے

خوش ھوں کہ میرا ذکر تو آیا تیرے لب پر
محفل میں میری بات محبت سے چلی ھے

تصویرمیں سورنگ بھرے میں نے خوشی سے
تصویر مگر اب بھی ادھوری ہی پڑی ھے

میں آخری مہرہ تو نہیں رھزن جان کا
یہ ہنر لہو کی تو ھر اک سر سے چلی ھے

احمد رئیس

ابوبکر
16-12-07, 12:51 AM
ہماری جنگ تو خود سے تھی،ڈھال کیا رکھتے
فقیر لوگ تھے ،مال و منال کیا رکھتے

ہمیں خبر تھی کہ فرصت نہیں‌زمانے کو
کسی کے سامنے، اپنا سوال کیا رکھتے

گواہ اسکے، کٹہرے اسی کے منصف بھی
ہم اپنی جیت کا دل میں‌خیال کیا رکھتے

ستم گری تو زمانے کی رسم تھی شاید
ذرا سی بات کا دل میں‌ملال کیا رکھتے

تیری گلی میں‌دل مضطرب کو چھوڑ آئے
پرائی چیز کا سر پر وبال کیا رکھتے

صدی صدی کا جہاں ،ایک ایک دن ٹہرا
حساب ناز، وہاں ماہ و سال کیا رکھتے




بہت خوب دلکش صاحبہ۔۔۔۔

ابوبکر
16-12-07, 01:09 AM
ميرے دکھ کو ميرے ظرف سے زيادہ نہ کيا کر
اس بر بے ثمر کو کشادہ نہ کيا کر

ٹھانے تو ہر اک کام کي تکميل کيا کر
کوئي بھي کام اس طرح آدھا نہ کيا کر

ممکن نہيں جو قول نبھانا تو جا بجا
اے وعدہ فراموش وعدہ نہ کيا کر

ہمت نہيں تو خير مقابل سبھوں کے يوں
رسموں کو توڑنے کا ارادہ نہ کيا کر

ممکن نہيں درمان ميرے غم کا تيرے پاس
يوں آکے ميرے درد کو تازہ نہ کيا کر

ابوبکر
16-12-07, 01:28 AM
تھکن تو اگلے سفر کے ليے بہانہ تھا
اسے تو يوں بھي کسي اور سمت جانا تھا

وہي چراغ بجھا جس کي لو قيامت تھي
اسي پہ ضرب پڑي جو شجر پرانا تھا

متاع ِ جاں کا بدل ايک پل کي سرشاري
سلوک خواب کا آنکھوں سے تاجرانہ تھا

وہي فراق کي باتيں، وہي حکايت ِ وصل
نئي کتاب کا ايک اک ورق پرانا تھا

قبائے زرد نگار ِ خزاں پہ سجتي تھي
تبھي تو چال کا انداز خسروانہ تھا

ام اقصمہ
16-12-07, 07:30 PM
آٹھہری برسات تو پلکیں‌بھیگ گیئں
روئی جب بھی رات تو پلکیں‌بھیگ گیئں

آنکھوں‌کو جب گہری کالی برکھا کی
سونپ گیا سوغات تو پلکیں‌بھیگ گیئں

اپنے بھی جب چھوڑ کے واپس پلٹے تھے
تھاما اس نے ہاتھ تو پلکیں‌بھیگ گیئں

یوں تو ہر نقصان پہ ضبط حاوی وقت رہا
بکھر گئی جب ذات تو پلکیں‌بھیگ گیئں

پہلے تو آنکھوں‌میں‌حیرت ٹھہری تھی
سمجھ میں آئی بات تو پلکیں‌بھیگ گیئں

بات بچھڑنے پر ہی ختم نہیں‌ہوتی
چلا جو کوئی ساتھ تو پلکیں بھیگ گیئں

ہر الزام کو سہنے کا کچھ عہد تو تھا
اور چھڑی جب بات تو پلکیں‌بھیگ گیئں

ام اقصمہ
19-12-07, 06:45 PM
وہ یکسر مختلف ہے ،منفرد پہچان رکھتا ہے
اک آئینے کی صورت شہر کو حیران رکھتا ہے

کوئی اسمیں بھی ہوگی منطق، پوچھ لیں گے ہم
بہاروں میں وہ خالی کسکے لیے گلدان رکھتا ہے

تعلق کس لیے بھی ترک تعلق پہ قائم ہے؟
وہ کیوں اپنے سرہانے میرا دیوان رکھتا ہے۔

ہر اک آہٹ پہ کیوں دھڑک اٹھتا ہے دل میرا
ابھی تک کیا تیرے آنے کا کچھ امکان رکھتا ہے؟

فقط تم اپنے دل کو رو رہے ہو آج تک ساجد
وہ اپنے کھیلنے کے اور بھی میدان رکھتا ہے

ابوبکر
25-12-07, 02:45 PM
بہت خوب دلکش صاحبہ ، ، ،

s4shakeel
25-12-07, 02:48 PM
ابوبکر بھائی اور دلکش بہن بہت خوبصورت انتخاب ہے آپ دونوں کا.
مزید کا انتظار رہے گا.

ابوبکر
25-12-07, 03:08 PM
تيري ياديں نہ چين لينے ديں
تيري ياديں عذاب ہيں جاناں

موسم گل ہے اب خزاں کا سا
بن تيرے ہم بے تاب ہيں جاناں

پھول گلشن ميں وہي اچھے ہيں
جو تيرا انتخاب ہيں جاناں

عيد کي شب برات کي خوشياں
تو نہ ہو تو حباب ہيں جاناں

اب تو رعنايوں کو عرياں کر
بے وجہ يہ حجاب ہيں جاناں

صبر برداشت سے باہر ہيں جنيد
ہجر کے دن عذاب ہيں جاناں

ام اقصمہ
26-12-07, 02:15 AM
ابوبکر بھائی اور دلکش بہن بہت خوبصورت انتخاب ہے آپ دونوں کا.
مزید کا انتظار رہے گا.

http://img156.imageshack.us/img156/4251/thayou61kz9.gifبہت شکریہ پسند کرنے کاشکیل بھائی۔

ام اقصمہ
26-12-07, 02:19 AM
جو خیال تھے نا قیاس تھے وہی لوگ ہم سے بچھڑ گئے
میری زندگی کی جو آس تھے وہی لوگ ہم سے بچھڑ گئے

جنھیں مانتا ہی نہیں یہ دل، وہی لوگ ہیں میرے ہمسفر
مجھے ہر طرح سے جو راس تھے وہی لوگ ہم سے بچھڑ گئے

مجھے لمحہ بھر کی رفاقتوں کے عذاب اور ستایئں گئے
میری عمر بھر کی جو پیاس تھے وہی لوگ ہم سے بچھڑ گئے

یہ خیال سارے ہیں عارضی ،یہ گلاب سارے ہیں کاغذی
گل آرزو کی جو باس تھے وہی لوگ ہم سے بچھڑ گئے

جنھیں کر سکا نہ قبول میں وہ شریک راہ سفر ہوئے
جو میری طلب میری آس تھے وہی لوگ ہم سے بچھڑ گئے

ام اقصمہ
26-12-07, 02:20 AM
وہ یکسر مختلف ہے ،منفرد پہچان رکھتا ہے
اک آئینے کی صورت شہر کو حیران رکھتا ہے

کوئی اسمیں بھی ہوگی منطق، پوچھ لیں گے ہم
بہاروں میں وہ خالی کسکے لیے گلدان رکھتا ہے

تعلق کس لیے بھی ترک تعلق پہ قائم ہے؟
وہ کیوں اپنے سرہانے میرا دیوان رکھتا ہے۔

ہر اک آہٹ پہ کیوں دھڑک اٹھتا ہے دل میرا
ابھی تک کیا تیرے آنے کا کچھ امکان رکھتا ہے؟

فقط تم اپنے دل کو رو رہے ہو آج تک ساجد
وہ اپنے کھیلنے کے اور بھی میدان رکھتا ہے

Irshad
26-12-07, 05:32 AM
بار بار اعتبار کرتے ہیں
تجربہ ایکبار کرتے ہیں
جب نظر سوءے یار کرتے ہیں
آنکھوں آنکھوں میں پیار رتے ہیں
جھوٹے وعدے ہزار کرتے ہیں
ہم یقین بار بار کرتے ہیں
ہجر میں ذکر یار کرتے ہیں
یوں خزاں کو بہار کرتے ہیں
فرق باقی نہی من و تو کا
اپنی ہستی کو پیار کرتے ہیں
سوءے در آنکھیں گوش بر آواز
ان کا یوں انتظار کرتے ہیں
ان کے تیروں کا زخمہاءے جگر
شکریہ بار بار کرتے ہیں
اب بھی آجا کہ دم ہے آنکھوں میں
نزع میں انتظار کرتے ہیں
گریہ سے کشت دل ہوءی شاداب
ہم خزاں کو بہار کرتے ہیں
آپ اپنے پہ رشک آتا ہے
کہ تمناءے یار کرتے ہیں!

ابوبکر
28-12-07, 04:42 AM
ہر ايک لمحہ جو گزرا خيال تھا اسکا
جو ميرے دل ميں سمايا جمال تھا اسکا

نہ چاہ کر بھي نگاہيں اسي کو ديکھتي ہيں
جو چاہ کر بھي نہ ديکھا کمال تھا اسکا

يہ امتحان تھا ميرا ميري محبت کا
جواب ميرا تھا اپنا سوال تھا اسکا

نہ اسکو چاہ تھي دولت کي نہ ہي حشمت کي
بس ايک روٹي کا ٹکڑا سوال تھا اسکا

تيرے بنا مجھے اک اپل بھي سکون نہيں
جو حال تھا ميرا اپنا دو حال تھا اسکا

عجيب کشمکش زندگي ميں تھا غلطاں
جو کچھ نہ تھا ميرے دل ميں خيال تھا اسکا

عجيب گردش ايام کا ميں مارا تھا
ہمارے دن تھے مہينے تھے سال تھے اسکا

ابوبکر
28-12-07, 06:10 AM
میں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہے
سرِ آئینہ میرا عکس ہے پس ِ آئینہ کوئی اور ہے

میں کسی کے دست ِ طلب میں ہوں تو کسی کے حرف ِ دعا میں ہوں
میں نصیب ہوں کسی اور کا مجھے مانگتا کوئی اور ہے

کبھی لوٹ آئیں تو پوچھنا نہیں،دیکھنا انہیں غور سے
جنہیں راستے میں خبر ہوئی کہ یہ راستہ کوئی اور ہے

میری روشنی تیرے خد و خال سے مختلف تو نہیں مگر
تو قریب آ تجھے دیکھ لوں تو وہی ہے یا کوئی اور ہے

تجھے دشمنوں کی خبر نہ تھی،مجھے دوستوں کا پتہ نہ تھا
تری داستاں کوئی اور تھی،میرا واقعہ کوئی اور ہے

عجب اعتبار و بے اعتباری کے درمیاں ہے زندگی
میں قریب ہوں کسی اور کے،مجھے چاہتا کوئی اور ہے

ابوبکر
28-12-07, 06:40 AM
ہوتي ہے تيرے نام سے وحشت کبھي کبھي
برہم ہوئي ہے يوں بھي طبيعت کبھي کبھي

اے دل، کسے نصيب يہ توفيق اضطراب
ملتي ہے زندگي ميں يہ راحت کبھي کبھي

تيرے کرم سے اے الم حسن آفريں!
دل بن گيا ہے دوست کي خلوت کبھي کبھي

جوش جنوں ميں درد کي طغيانيوں کے ساتھ
اشکوں ميں ڈھل گئي تيري صورت کبھي کبھي

تيرے قريب رہ کے بھي دل مطمئن نہ تھا
گزري ہے مجھ پہ يہ بھي قيامت کبھي کبھي

کچھ اپنا ہوش تھا نہ تمہارا خيال تھا
يوں بھي گزر گئي شب فرقت کبھي کبھي

اے دوست، ہم نے ترک محبت کے باوجود
محسوس کي ہے تيري ضرورت کبھي کبھي

ابوبکر
28-12-07, 06:54 AM
ہوش والوں کو خبر کيا، بےخودي کيا چيز ہے
عشق کيجے، پھر سمجھيے، زندگي کيا چيز ہے

ان سے نظريں کيا مليں روشن فضائيں ہو گئيں
آج جانا پيار کي جادوگري کيا چيز ہے

کھلتي زلفوں نے سکھائي موسموں کو شاعري
جھکتي آنکھوں نے بتايا، مےکشي کيا چيز ہے

ہم لبوں سے کہہ نہ پائے ان سے حال دل کبھي
اور وہ سمجھے نہيں يہ خاموشي کيا چيز ہے

ام اقصمہ
29-12-07, 05:10 PM
خنجر اٹھا لیا کبھی تلوار کھینچ لی
جب چاہا اس نے قوت گفتار کھینچ لی

کس نے دلوں پہ خوف کے پہرے بٹھا دیئے
کس نے زباں سے جرات اظہار چھین لی

گاؤں کا حسن کون اپنے ساتھ لے گیا
شہروں سے کس نے رونق اشجار چھین لی

اک بھائی مجھ کو چھوڑ کر غیروں میں جا بسا
آنگن میں ایک بھائی نے دیوار کھینچ لی

بغض و حسد کو ہم نے وتیرہ بنا لیا
یہ کس نے ہم سے خوبی ء ایثار چھین لی

گھر دیکھتے ہی دیکھتے تقسیم ہو گیا
چھوٹی سی ایک بات نے تکرار کھینچ لی

امید عدل آپ کو ہے کس سے ناز جی
زنجیر عدل آپ نے بیکار کھینچ لی

ام اقصمہ
29-12-07, 05:56 PM
بے خیالی میں بھی وہ بے خیال اچھا لگے
سرمگیں آنکھوں سے بہے تو سیال اچھا لگے

شجر کاری بھی ہے اچھی اور گھنی چھاؤں بھی
لیکن اپنے صحن میں تنہا نہال اچھا لگے

کارگاہ ہستی میں کوئی چیز بے مقصد نہیں
حسن کی جب بات ہو تو بے مثال اچھا لگے

میں مہجور یار ہوں ایک جھلک ہو عطا
جھولی بھر اسکی جسے مال و منال اچھا لگے

ہے خشونت باعث بگاڑ چہرے کی مگر
خوب رو چہرے پہ آئے تو جلال اچھا لگے

زلزلوں کے نام سے ہی سہم جاتا ہے جدون
اسکی یادوں کا گر آئے تو بھونچال اچھا لگے

ابوبکر
30-12-07, 02:05 AM
اخلاق نہ برتيں گے، مدارا نہ کريں گے
اب ہم بھي کسي شخص کي پروا نہ کريں گے

کچھ لوگ کئي لفظ غلط بول رہے ہيں
اصلاح! مگر ہم بھي اب اصلا نہ کريں گے

کم گوئي کہ اک وصف ِ حماقت ہے، بہر طور
کم گوئي کو اپنائيں گے، چہکا نہ کريں گے

اب سہل پسندي کو بنائيں گے وتيرہ
تا دير کسي باب ميں سوچا نہ کريں گے

غصہ بھي ہے تہذيب ِ تعلق کا طلب گار
ہم چپ ہيں، بھرے بيٹھے ہيں، غصہ نہ کريں گے

کل رات بہت غور کيا ہے سو ہم، اے جون!
طے کر کے اٹھے ہيں کہ تمنا نہ کريں گے

ابوبکر
30-12-07, 02:16 AM
سن تو سہي جہاں ميں ہے تيرا فسانہ کيا
کہتي ہے تجھ کو خلق خدا غائبانہ کيا

زير زميں سے آتا ہے جو گل سو زر بکف
قاروں نے راستے ميں لٹايا خزانہ کيا

زينہ صبا کا ڈھونڈتي ہے اپني مشت خاک
بام بلند، يار کا ہے آستانہ کيا

چاروں طرف سے صورت جاناں ہو جلوہ گر
دل صاف ہو ترا تو ہے آئينہ خانہ کيا

طبل و علم ہے پاس نہ اپنے ہے ملک و مال
ہم سے خلاف ہو کے کرے گا زمانہ کيا

يوں مدعي حسد نہ کرے داد تو نہ دے
آتش غزل يہ تو نے کہي عاشقانہ کيا

ابوبکر
30-12-07, 02:20 AM
عشق کا مطلب بتا دے ، زندگی اے زندگی
پھر مجھے جینا سکھا دے ، زندگی اے زندگی

پھر کوئی صورت بسے نہ پھر جہاں اجڑے کوئی
دل کی دنیا ہی جلا دے ، زندگی اے زندگی

آج میں رویا نہیں تو لگ رہا ہے کچھ عجب
آج پھر مجھ کو رلا دے ، زندگی اے زندگی

خشک سالی میرے دامن پر کبھی جچتی نہیں
خون ِ دل اس پر بہا دے ، زندگی اے زندگی

میرے پیاروں کو میرے حصے کی خوشیاں بانٹ دے
میری تکلیفیں بڑھا دے ، زندگی اے زندگی

زندگی کا اب کوئی مقصد نظر آتا نہیں
اب تو یہ پردہ گرا دے ، زندگی اے زندگی

وصل کی اک شب میری قسمت میں لکھ دے ، ضد نہ کر
چاہے پھر سانسیں گھٹا دے ، زندگی اے زندگی

میرے ہوتے آنکھ بھیگے گر میرے محبوب کی
میری ہستی ہی مٹا دے ، زندگی اے زندگی

کون جانے عامر ِ دل سوز کھویا ہے کہاں
تو ہی کچھ اس کا پتہ دے ، زندگی اے زندگی

ابوبکر
30-12-07, 02:26 AM
کعبے ميں جاں بہ لب تھے ہم دورئ بتاں سے
آۓ ہيں پھر کے ياروں اب کے خدا کے ياں سے

جب کوندھتي ہے بجلي تب جانب ِ گلستاں
رکھتي ہے چھيڑ ميرے خاشاک ِ آشياں سے

کيا خوبي اس کے منھ کي اے غنچہ نقل کريۓ
تو تو نہ بول ظالم بو آتي ہے وہاں ہے

خاموشي ميں ہي ہم نے ديکھي ہے مصلحت اب
ہر اک سے حال دل کا مدت کہا زباں سے

اتني بھي بد مزاجي ہر لحظہ مير تم کو
الجھاؤ ہے زميں سے، جھگڑا ہے آسماں سے

ابوبکر
30-12-07, 02:31 AM
دنيا بني تو حمد و ثناٴ بن گئي غزل
اترا جو نور، نور ِ خدا بن گئي غزل

گونجا جو ناد برہم بني رقص ِ مہر و ماہ
ذرے جو تھر تھرائے، صدا بن گئي غزل

چمکي کہيں جو برق تو احساس بن گئي
چھائي کہيں گھٹا تو ادا بن گئي غزل

آندھي چلي تو قہر کے سانچے ميں ڈھل گئي
باد ِ صبا چلي تو نشہ بن گئي غزل

حيواں بنے تو بھوک بني، بے بسي بني
انساں بنے تو جذب ِ وفا بن گئي غزل

اٹھا جو درد ِ عشق تو اشکوں ميں ڈھل گئي
بے چينياں بڑھي تو دعا بن گئي غزل

زاہد نے پي تو جام ِ پناہ بن کے رہ گئي
رندوں نے پي تو جام ِ بقا بن گئي غزل

ارض ِ دکن ميں جان تو دلي ميں دل بني
اور شہر ِ لکھنئو ميں حنا بن گئي غزل

دوہے، رباعي، نظم، سبھي طرز تھے مگر
اصناف ِ شاعري کا خدا بن گئي غزل

ام اقصمہ
31-12-07, 02:01 AM
پوچھا کسی نے حال کسی کا تو رو دیے
پانی میں عکس چاند کا دیکھا تو رو دیے

نغمہ کسی نے ساز پہ چھیڑا تو ہنس دیئے
غنچہ کسی نے شاخ سے توڑا تو رو دیئے

اڑتا ہوا غبار سر راہ دیکھ کر
انجام ہم نے عشق کا سوچا تو رو دیئے

بادل فضا میں آپکی تصویر بن گیئے
سایہ کوئی خیال سے گذرا تو رو دیئے

رنگ شفق سے آگ شگوفوں میں لگ گئی
ساغر ہمارے ہاتھ سے چھلکا تو رو دیئے

خمار بارہ بنکویَ

ابوبکر
31-12-07, 03:34 AM
اپنے چہرے سے جو ظاہر ہے چھپاﺋيں کيسے
تيري مرضي کے مطابق نظر آﺋيں کيسے

گھر سجانے کا تصور تو بہت بعد کا ہے
پہلے يہ طے ہو کہ اس گھر کو بچاﺋيں کيسے

قہقہہ آنکھ کے برتاٶ بدل ديتا ہے
ہنسنے والے تجھے آنسو نظر آﺋيں کيسے

کوٸ اپني ہي نظر سے تو ہميں ديکھے گا
ايک قظرے کو سمندر نظر آﺋيں کيسے

ابوبکر
01-01-08, 02:37 AM
یوں افسردہ تو ہم بھی نہیں
پر جاننے والے جانتے ہیں
خوش تم بھی نہیں خوش ہم بھی نہیں
تم اپنی خودی کے پہرے میں
ہم اپنے زعم کے نرغے میں
انا ہاتھ ہمارے پکڑے ہوئے
اک مدت سے غلطاں پیچاں
ہم اپنے آپ سے الجھے ہوئے
پچھتاوں کے انگاروں میں
محصورِ تلاطم آج بھی ہیں
گو تم نے کنارے ڈھونڈ لیئے
طوفاں سے سنبھلے ہم بھی نہیں
کہنے کو سہارے ڈھونڈ لیئے
خاموش سے تم، ہم مہر بہ لَب
جگ بیت گئے ٹُک بات کیئے
سنو کھیل ادھورا چھوڑتے ہیں
بِنا چال چلے بِنا مات دیئے
جو چلتے چلتے تھک جایئں
وہ سائے رک بھی سکتے ہیں
چلو توڑو قسم اقرار کریں
ہم دونوں جھک بھی سکتے ہیں

ابوبکر
01-01-08, 02:39 AM
بارش ہوئي تو پھولوں کے تن چاک ہو گئے
موسم کے ہاتھ بھيگ کے سفاک ہو گئے

بادل کو کيا خبر ہے کہ بارش کي چاہ ميں
کتنے بلند و بالا شجر خاک ہو گئے

جگنو کو دن کے وقت پکڑنے کي ضد کريں
بچے ہمارے عہد کے چالاک ہو گئے

لہرا رہي ہے برف کي چادر ہٹا کے گھاس
سورج کي شہہ پہ تنکے بھي بيباک ہو گئے

سورج دماغ لوگ بھي ابلاغ ِ فکر ميں
زلف ِ شب ِ فراق کے پيچاک ہو گئے

جب بھي غريب ِ شہر سے کچھ گفتگو ہوئي
لہجے ہوا ِ شام کے نمناک ہو گئے

ساحل پہ جتنے آب گزيدہ تھے سب کے سب
دريا کے رخ بدلتے ہي تيراک ہو گئے

سوری
01-01-08, 09:22 AM
بہت اچھی دلکش سسٹر اینڈ ابوبکر بھائی ویلڈن!!!!

ابوبکر
02-01-08, 01:02 AM
ہو سکے تو سن لينا زندگي کي خاموشي
ڈھونڈنا اندھيروں ميں روشني کي خاموشي

سوچ کي چٹانوں کو کھوکھلا نہ کر لينا
توڑ ديکھنا اک دن يہ خودي کي خاموشي

آپ کے ترازو ميں کس طرح برابر ہيں
غم کدے کے سناٹے اور خوشي کي خاموشي

آپ کي محبت سے زندگي کي رونق ہے
اور نہيں تو جيون ہے بے رخي کي خاموشي

آپ کي اداؤں ميں ہم نے يہ بھي ديکھا ہے
پھلجھڑي کي شوخي اور پنکھڑي کي خاموشي

جب نظر ہوئي دو چار، تار مل گئے دل کے
بات کہہ گئي ساري، اجنبي کي خاموشي

وقت بيت جاتا ہے، ياد چھوڑ جاتا ہے
عمر بھر ستاتي ہے اک گھڑي کي خاموشي

آج وہ مجھے آ کر دے گيا ہے يہ پيغام
شور ِ پند سے بہتر آگہي کي خاموشي

دل ميں آپ کے پنہاں ہے کوئي بڑا طوفان
کہہ رہي ہے يہ عامر شاعري کي خاموشي

ام اقصمہ
02-01-08, 02:12 AM
خیال ترک تمنا نہ کر سکے تو بھی
اداسیوں کا مداوا نہ کر سکے تو بھی

کبھی وہ وقت بھی آئے کہ کوئی لمحہ عیش
میرے بغیر گوارا نہ کر سکے تو بھی

خدا وہ دن نہ دکھائے تجھے کہ میری طرح
میری وفا پہ بھروسا نہ کر سکے تو بھی

میں اپنا عقدہ دل تجھ کو سونپ دیتا ہوں
بڑا مزا ہو اگر وا نہ کر سکے تو بھی

تجھے یہ غم کہ میری زندگی کا کیا ہوگا
مجھے یہ ضد کہ مداوا نہ کر سکے تو بھی

نہ کر خیال تلافی کہ میرا زخم وفا
وہ زخم ہے جسے اچھا نہ کر سکے تو بھی

ابوبکر
03-01-08, 01:54 AM
آ کھ وابستہ ہے اس حسن کي ياديں تجھ سے
جس نے اس دل کو پري خانہ بنا رکھا تھا
جس کي الفت ميں بھلا رکھي تھي دنيا ہم نے
دہر کو دہر کا افسانہ بنا رکھا تھا

آشنا ہيں تيرے قدموں سے وہ راہيں جن پر
اسکي مدہوش جواني نے عنايت کي ہے
کارواں گزرے ہيں جن سے اسي رعنائي کے
جس کي ان آنکھوں نے بےسود عبادت کي ہے

تجھ سے کھيلي ہيں وہ محبوب ہوائيں جن ميں
اسکے ملبوس کي افسردہ مہک باقي ہے
تجھ پہ بھي برسا ہے اس بام سے مہتاب کا نور
اور بيتي ہوئي راتوں کي کسک باقي ہے

تونے ديکھي ہيں وہ پيشاني، وہ رخسار، وہ ہونٹ
زندگي جن کے تصور ميں لٹا دي ہم نے
تجھ پہ اٹھي ہيں وہ کھوئي ہوئي ساحر آنکھيں
تجھ کو معلوم ہے کيوں عمر گنوا دي ہم نے

ابوبکر
03-01-08, 02:00 AM
آج تو بے سبب اداس ہے جي
عشق ہوتا تو کوئي بات بھي تھي

جلتا پھرتا ہوں کيوں دوپہروں ميں
جانے کيا چيز کھو گئي ميري

وہيں پھرتا ہوں ميں بھي خاک بسر
اس بھرے شہر ميں ہے ايک گلي

چھپتا پھرتا ہے عشق دنيا سے
پھيلتي جا رہي ہے رسوائي

ہمنشيں، کيا کہوں کہ وہ کيا ہے
چھوڑ يہ بات نيند اڑنے لگي

آج تو وہ بھي کچھ خموش سا تھا
ميں نے بھي اس سے کوئي بات نہ کي

ايک دم اس کے ہاتھ چوم ليے
يہ مجھے بيٹھے بيٹھے کيا سوجھي

تو جو اتنا اداس ہے ناصر
تجھے کيا ہوگيا، بتا تو سہي

ابوبکر
04-01-08, 01:59 AM
آ کے پتھر تو ميرے صحن ميں دو چار گرے
جتنے اس پيڑ کے پھل تھے پس ِ ديوار گرے

ايسي دہشت تھي فضاؤں ميں کھلے پاني کي
آنکھ جھپکي بھي نہيں، ہاتھ سے پتوار گرے

مجھے گرنا ہے تو ميں اپنے ہي قدموں ميں گروں
جس طرح سايہ ِ ديوار پہ ديوار گرے

تيرگي چھوڑ گئے دن ميں اجالے کے خطوط
يہ ستارے ميرے گھر ٹوٹ کے بيکار گرے

ديکھ کر اپنے در و بام لرز اٹھتا ہوں
ميرے ہمسائے ميں جب بھي کوئي ديوار گرے

وقت کي ڈور خدا جانے کہاں سے ٹوٹے
کس گھڑي سر پہ يہ لٹکي ہوئي تلوار گرے

ہم سے ٹکرا گئي خود بڑھ کے اندھيرے کي چٹان
ہم سنبھل کر جو بہت چلتے تھے، ناچار گرے

ہاتھ آيا نہيں کچھ رات کي دلدل کے سوا
ہائے، کس موڑ پہ خوابوں کے پرستار گرے

کيا کہوں ديدہ ِ تر، يہ تو ميرا چہرا ہے
سنگ کٹ جاتے ہيں بارش کي جہاں دھار گرے

ديکھتے کيوں ہو شکيب اتني بلندي کي طرف
نہ اٹھايا کرو سر کو کہ يہ دستار گرے

سوری
04-01-08, 07:58 AM
بہت اچھے ابوبکر بھائی!!!

ابوبکر
05-01-08, 04:21 AM
بہت اچھے ابوبکر بھائی!!!

پسند کرنے کا شکریہ ۔ ۔ ۔

ابوبکر
05-01-08, 04:26 AM
آج کے دور ميں اے دوست يہ منظر کيوں ہے
زخم ہر سر پہ ، ہر اک ہاتھ ميں پتھر کيوں ہے

جب حقيقت ہے کہ ہر ذرے ميں تو رہتا ہے
پھر زميں پر کہيں مسجد کہيں مندر کيوں ہے

اپنا انجام تو معلوم ہے سب کو ، پھر بھي
اپني نظروں ميں ہر انسان سکندر کيوں ہے

زندگي جينے کے قابل ہي نہيں اب فاکر
ورنہ ہر آنکھ ميں اشکوں کا سمندر کيوں ہے

ابوبکر
05-01-08, 04:49 AM
میرےصبرکا نا لے امتحان میری خاموشی کو سدا نہ دے
جو تیرے بغیر نہ جی سکے اسے جینے کی دعا نہ دے

تو عزیز دل ونظر سے ہےتو قریب رگ و جاں سے ہے
میرےجسم و جاں کا یہ فاصلہ کہیں وقت اور بڑہا نہ دے

تجہے بھول کے نہ بھلا سکوں تجھے چاہ کے بھی نہ پا سکوں
میرے حسرتوں کو شمار کرمیری چاہتوں کا صلہ نہ دے

وہ تڑپ جو شعلہ جاں میں تھی میرے تن بدن سے لپٹ گئ
جو بجھا سکے تو بجھا اسے نہ بجھا سکے تو ہوا نہ دے


تجھے گر ملیں فرستیں میری شام پھر سے سنوار دے
گر قتل کرنا ہے تو قتل کر یوں جدائیوں کی سزا نہ دے

بے تاب
05-01-08, 02:31 PM
آہ کو چاہیئے اک عمر اثر ہونے تک
کون جیتا ہے تری زلف کے سر ہونے تک
عاشقی صبر طلب اور تمنا بے تاب
دل کا کیا رنگ کروں خون جگر ہونے تک
ہم نے مانا کہ تغافل نہ کروگے لیکن
خاک ہوجائیں گے ہم تم کو خبر ہونے تک
غم ہستی کا اسد کس سے ہو جز مرگ علاج
شمع ہر رنگ میں جلتی ہے سحر ہونے تک

ام اقصمہ
06-01-08, 02:34 AM
اب تیرے میرے بیچ ذرا فاصلہ بھی ہو
ہم لوگ جب ملیں کوئی دوسرا بھی ہو

تو جانتا نہیں میری چاہت عجیب ہے
مجھ کو منا رہا ہے کبھی خود خفا بھی ہو

تو بے وفا نہیں‌ہے مگر بے وفائی کر
اس کی نظر میں رہنے کا کچھ سلسلہ بھی ہو

پت جھڑ کے ٹوٹے ہوئے پتوں کے ساتھ ساتھ
موسم کبھی تو بدلے گا یہ آسرا بھی ہو

چپ چاپ اس کو بیٹھ کے دیکھوں‌تمام رات
جاگا ہوا بھی ہو کبھی سویا ہوا بھی ہو

اس کے لیے تو میں یہاں تک دعایئں کیں
میرے طرح سے اسکو کوئی چاہتا بھی ہو

ام اقصمہ
06-01-08, 02:51 AM
یہ چراغ بے نظر ہے یہ ستارہ بے زباں ہے
ابھی تجھ سے ملتا جلتا کوئی دوسرا کہاں ہے

وہی شخص جس پہ اپنے دل و جاں نثار کر دوں
وہ اگر خفا نہیں‌ہے تو ضرور بد گماں ہے

میرے ساتھ چلنے والے تجھے کیا ملا سفر میں
وہی دکھ بھری زمیں ہے وہی غم کا آسماں ہے

کبھی پا کے تجھ کو کھونا، کبھی کھو کے تجھ کو پانا
یہ جنم جنم کا رشتہ تیرے میرے درمیاں ہے

انھیں راستوں نے جن پر کبھی تم تھے ساتھ میرے
مجھے روک روک پوچھا،تیرا ہمسفر کہاں ہے؟

ابوبکر
06-01-08, 03:19 AM
اب تیرے میرے بیچ ذرا فاصلہ بھی ہو
ہم لوگ جب ملیں کوئی دوسرا بھی ہو

تو جانتا نہیں میری چاہت عجیب ہے
مجھ کو منا رہا ہے کبھی خود خفا بھی ہو

تو بے وفا نہیں‌ہے مگر بے وفائی کر
اس کی نظر میں رہنے کا کچھ سلسلہ بھی ہو

پت جھڑ کے ٹوٹے ہوئے پتوں کے ساتھ ساتھ
موسم کبھی تو بدلے گا یہ آسرا بھی ہو

چپ چاپ اس کو بیٹھ کے دیکھوں‌تمام رات
جاگا ہوا بھی ہو کبھی سویا ہوا بھی ہو

اس کے لیے تو میں یہاں تک دعایئں کیں
میرے طرح سے اسکو کوئی چاہتا بھی ہو



زبردست انتخاب بہت خوب دلکش صاحبہ

ابوبکر
06-01-08, 03:28 AM
میری سوچوں میں میری خیالوں میں کوئی رہتا ہے
سب اندھیروں سب اجالوں میں کوئی رہتا ہے

تم جو پوچھو تو سوالوں میں کوئی رہتا ہے
میں جو بتاوں تو جوابوں میں کوئی رہتا ہے

حسن کی دلکش اداوں میں کوئی رہتا ہے
عشق کے بے لوث وفاؤں میں کوئی رہتا ہے

میں پکاروں تو صداؤں میں کو‏‏ئی رہتا ہے
ہاتھ اٹھاؤں تو دعاؤں میں کوئی رہتا ہے

ابوبکر
08-01-08, 01:01 AM
رات کٹتی رہی چاند چلتا رہا
آتش ہجر میں کوئی جلتا رہا

تنہائیاں دل کو ڈستی رہیں
کوئی بے چین کروٹ بدلتا رہا

آس و امید کی شمع روشن رہی
گھر کی دہلیز کو کوئی یوں ہی تکتا رہا

رات بھر چاندنی گنگناتی رہی
رات بھر کوئی تنہا سسکتا رہا

اشک پلکوں پے آ کربکھرتے رہے
نام لب پے کسی کا لرزتا رہا

آج پھر رات بسر ہو ہی گئی
آج پھر کوئی خود سے الجھتا رہا

ابوبکر
09-01-08, 01:41 AM
شب ہجراں کی ازیت کی خبر کس کو ہے
میری گمنام محبت کی خبر کس کو ہے

کس کو احساس میری شدت جزبات کا ہے
میری حالت میری وحشت کی خبر کسکو ہے

کون ویران مکانوں کی خبر رکھتا ہے
میری اجڑی ہوئی قسمت کی خبر کس کو ہے

میں نے چپ چاپ محبت کے ستم جھیلے ہیں
میری اس درجہ شرافت کی خبر کس کو ہے

کون آۓ گا اۓ دل اب تجھے تسلی دینے
تیری اس اداس طبیعت کی خبر کسکو ہے

راضی
09-01-08, 07:14 AM
شب ہجراں کی ازیت کی خبر کس کو ہے
میری گمنام محبت کی خبر کس کو ہے


کون آۓ گا اۓ دل اب تجھے تسلی دینے
تیری اس اداس طبیعت کی خبر کسکو ہے

واہ بھائی بہت خوب ۔۔۔۔۔لاجواب انتخاب:00009:

ابوبکر
09-01-08, 08:31 AM
واہ بھائی بہت خوب ۔۔۔۔۔لاجواب انتخاب:00009:

شکریہ سعدی صاحبہ

ابوبکر
09-01-08, 08:40 AM
اپنے اصول یوں بھی کبھی توڑنے پڑے
میری خطا نہ تھی، ہاتھ مجھے جوڑنے پڑے

آیا نہ جب قرار دل بے قرار کو
یادوں کے رخ اسکی طرف موڑنے پڑے

کسی کے حق میں صحیح وہ کوئی دعا تو کرے
وہ کہ نہیں سکتا میری سنا تو کرے

کبھی بتاۓ وہ آ کر میری خطا مجھ کو
مجھ سے کس لیۓ روٹھا ہے کچھ گلا تو کرے

میں لوٹ جاوں گا واپس اپنی دنیا میں
وہ شخص مجھ سے بچھڑنے کا فیصلہ تو کرے

ابوبکر
09-01-08, 08:48 AM
ہوۓ ہیں جب سے ہم تنہا تو ایسی رات کرتے ہیں
ہوا لوری سناتی ہے پرندے بات کرتے ہیں

ڈراو تم ہمیں جتنا یقین ہوتا نہیں ہم کو
گرجتے آئیں جو بادل کہیں برسات کرتے ہیں

دل نشیں یادیں تمہاری دلربا وعدے
بتائیں ہم تمہیں کیا کیا، ہمارے ساتھ کرتی ہیں

دوا کوئی نہیں دینا، تمہارا غم بڑھا دے گا
اگر پوچھے کوئی کہنا، گزر اوقات کرتے ہیں

کبھی وعدہ نہیں توڑا، کسی کا دل نہیں توڑا
خدا جانے پریشان کیوں ہمیں حالات کرتے ہیں

راضی
09-01-08, 10:10 AM
اپنے اصول یوں بھی کبھی توڑنے پڑے
میری خطا نہ تھی، ہاتھ مجھے جوڑنے پڑے

آیا نہ جب قرار دل بے قرار کو
یادوں کے رخ اسکی طرف موڑنے پڑے


کبھی بتاۓ وہ آ کر میری خطا مجھ کو
مجھ سے کس لیۓ روٹھا ہے کچھ گلا تو کرے

میں لوٹ جاوں گا واپس اپنی دنیا میں
وہ شخص مجھ سے بچھڑنے کا فیصلہ تو کرے

ابو بکر بھائی بہت ہی اچھی شاعری شئیر کی ہے ناں۔۔۔

ام اقصمہ
10-01-08, 02:31 PM
http://img178.imageshack.us/img178/2508/ribbon1gu9.gif
سمندر میں اترتا ہوں تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں
تیری آنکھوں کو پڑھتا ہوں تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں

تمھارا نام لکھنے کی اجازت چھن گئی جب سے
کوئی بھی لفظ لکھتا ہوں تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں

تیری یادوں کی خوشبو کھڑکیوں میں رقص کرتی ہیں
تیرے غم میں سلگنا ہوں تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں

میں ہنس کے جھیل لیتا ہوں جدائی کی سبھی رسمیں
گلے جب اسکے لگتا ہوں تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں

نہ جانے ہو گیا ہوں اس قدر حساس میں کب سے
کسی سے بات کرتا ہوں تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں

وہ سب گذرے ہوئے لمحات مجھ کو یاد آتے ہیں
تمھارے خط جو پڑھتا ہوں تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں

میں سارا دن بہت مصروف رہتا ہوں مگر جونہی
قدم چوکھٹ پر رکھتا ہوں تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں

ہر اک مفلس کے ماتھے پر الم کی داستانیں ہیں
کوئی چہرہ بھی پڑھتا ہوں تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں

بڑے لوگوں کے اونچے بدنما اور سرد محلوں کو
غریب آنکھوں سے تکتا ہوں تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں

تیرے کوچے سے اب میرا تعلق واجبی سا ہے
مگر جب بھی گزرتا ہوں تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں

ہزاروں موسموں کی حکمرانی ہے میرے دل پر
وصی میں جب بھی ہنستا ہوں تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں
http://img178.imageshack.us/img178/2508/ribbon1gu9.gif

ام اقصمہ
10-01-08, 02:36 PM
http://img178.imageshack.us/img178/2508/ribbon1gu9.gif

کیسا مفتوح سا منظر ہے کئی صدیوں سے
میرے قدموں پہ میرا سر ہے کئی صدیوں سے

خوف رہتا ہے نہ سیلاب کہیں لے جائے
میری پلکوں پہ تیرا گھر ہے کئی صدیوں سے

اشک آنکھوں میں سلگتے ہوئے سوجاتے ہیں
یہ میری آنکھ جو بنجر ہے کئی صدیوں سے

کون کہتا ہے ملاقات میری آج کی ہے
تو میری روح کے اندر ہے کئی صدیوں سے

میں نے جس کے لیے ہر شخص کو ناراض کیا
روٹھ جائے نہ یہی ڈر ہے کئی صدیوں سے

اس کی عادت ہے جڑیں کاٹتے رہنے کی وصی
جو میری ذات کا محور ہے کئی صدیوں سے
http://img178.imageshack.us/img178/2508/ribbon1gu9.gif

ابوبکر
11-01-08, 05:02 AM
بہت خوب دلکش صاحبہ ۔ ۔ ۔

ابوبکر
11-01-08, 05:04 AM
ترے کنول ، مرے گلاب سب دھوئیں میں کھو گئے
محبتوں کے تھے جو باب، سب دھوئیں میں کھو گئے

ہوائے ہجر نے بجھا دیئے ترے چراغ سب
مرے نجوم و ماہتاب سب دھوئیں میں کھو گئے

مری دعائیں ، التجائیں سب ہوا میں اُڑ گئیں
ترے حروف باریاب سب دھوئیں میں کھو گئے

تہوں سے دل کی شعلہء فراق اس طرح اُٹھا
کہ اس کے بعد اپنے خواب سب دھوئیں میں کھو گئے

جلا رہے تھے کاغذی گھروں میں موم بتّیاں
ہوا نے کھائے پیچ و تاب سب دھوئیں میں کھو گئے

ہوئیں جو نذرِ آتشِ جنوں تمام راحتیں
مرا قلم تری کتاب سب دھوئیں‌ میں کھو گئے

وہ گھر تو خواب گاہ کے چراغ نے جلا دیا
کہاں کی نیند ، کیسے خواب سب دھوئیں میں کھو گئے۔

ام اقصمہ
13-01-08, 02:47 AM
وہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیں
میرا علاج میرے چارہ گر کے پاس نہیں

تڑپ رہے ہیں‌زباں پر کئی سوال مگر
میرے لیے کوئی شایان التماس نہیں

تیرے جلو میں بھی دل کانپ کانپ اٹھتا ہے
میرے مزاج کو آسودگی بھی راس نہیں

کبھی کبھی جو تیرے قرب میں گذارے تھے
اب ان دنوں کا تصور بھی میرے پاس نہیں

گزر رہے ہیں عجب مرحلوں سے دیدہ دل
سحر کی آس تو ہے زندگی کی آس نہیں

مجھے یہ ڈر ہے تیری آرزو نہ مٹ جائے
بہت دنوں سے طبیعت میری اداس نہیں

http://img148.imageshack.us/img148/618/frame10011zk6.gifhttp://img148.imageshack.us/img148/618/frame10011zk6.gif
ِِ

ابوبکر
13-01-08, 04:51 AM
ابھي ميں محبت کو بھولا نہيں ہوں
ميں اپني عبادت کو بھولا نہيں ہوں

ميرا دل ہے تخت ِ رياضت، ستمگر
ميں تيري رياضت کو بھولا نہيں ہوں

ميري آنکھ ساحل کا کردار ٹھہري
ميں آنسو کي قيمت کو بھولا نہيں ہوں

ہزاروں قيامت گذاري ہيں ہم نے
مگر اس قيامت کو بھولا نہيں ہوں

بياباں ميں آہو کي سنگت نہ بھائے
کہ ميں تيري سنگت کو بھولا نہيں ہوں

ميں الفت کا ہتھيار چھوڑوں تو کيونکر
کہ تيري عداوت کو بھولا نہيں ہوں

کہا ميں نے، " واعظ، خدا سے ڈرا کر"
وہ بولا کہ " جنت کو بھولا نہيں ہوں"

وہ ہر حال ميں مجھ سے ناخوش رہے گا
زمانے کي عادت کو بھولا نہيں ہوں

ميں بدلا نہيں سب سے مل کر بھي عامر
ميں محفل ميں خلوت کو بھولا نہيں ہوں

s4shakeel
13-01-08, 08:57 AM
ابوبکر بھائی اور دلکش سسٹر بہت ہی عمدہ انتخاب ہے آپ کا.

ابوبکر
14-01-08, 02:22 AM
یونہی چلتے ہوئے راستوں میں کئی ہمسفر جو ملے
اور بچھڑتے گئے
آتے جاتے ہوئے موسموں کی طرح
آپ ہی اپنی گردِ سفر ہوگئے
نہ کبھی میں نے پھر مُڑ کے دیکھا اور نہ سوچا کبھی
وہ کہاں کھو گئے
جو گئے، سو گئے
پھر یہ کیسے ہوا !
یونہی اک اجنبی، دیکھتے دیکھتے
دل میں اُترا، دل میں سما سا گیا
اور دھنک رنگ سپنے جگا سا گیا
جیسے بادل کوئی، بےارادہ یونہی، میری چھت پہ رُکا
اور برسے بنا اس پہ ٹھہرا رہا
کیا تماشا ہوا، سامنے تھی ندی اور کوئی تشنہِ لب
اس کو تکتا گیا اور پیاسا رہا

ایک لمحے میں سمٹے گی یہ داستاں
کس کو معلوم تھا !
تم ملو گے مجھے اس طرح بےگماں
کس کو معلوم تھا

ابوبکر
15-01-08, 12:58 PM
اے نئے سال بتا، تُجھ ميں نيا پن کيا ہے؟
ہر طرف خَلق نے کيوں شور مچا رکھا ہے
روشنی دن کی وہي تاروں بھري رات وہی
آج ہم کو نظر آتي ہے ہر ايک بات وہی
آسمان بدلا ہے افسوس، نا بدلی ہے زميں
ايک ہندسے کا بدلنا کوئي جدت تو نہيں
اگلے برسوں کی طرح ہوں گے قرينے تيرے
کسے معلوم نہيں بارہ مہينے تيرے
جنوري، فروري اور مارچ ميں پڑے گي سردي
اور اپريل، مئي اور جون ميں ہو گي گرمي
تيرا مَن دہر ميں کچھ کھوئے گا کچھ پائے گا
اپنی ميعاد بَسر کر کے چلا جائے گا
تو نيا ہے تو دکھا صبح نئي، شام نئی
ورنہ اِن آنکھوں نے ديکھے ہيں نئے سال کئی
بے سبب لوگ ديتے ہيں کيوں مبارک باديں
غالبا بھول گئے وقت کی کڑوي ياديں
تيری آمد سے گھٹی عمر جہاں سے سب کی
فيض نے لکھی ہے يہ نظم نرالے ڈھب کی

ابوبکر
16-01-08, 01:24 PM
پاگل آنكھوں والي لڑكي
اتنے مہنگے خواب نہ ديكھو
تھك جاؤ گي
كانچ سے نازك خواب تمھارے
ٹوٹ گئے تو پچھتاؤ گي
تم كيا جانو ۔۔۔۔
خواب ۔۔۔ سفر كي دھوپ كے تيشے
خواب ۔۔۔ ادھوري رات كا دوزخ
خواب ۔۔۔ خيالوں كا پچھتاوا
خوابو ں كا حاصل تنہائي
مہنگے خواب خريدنا ہوں تو
آنكھيں بيچنا پڑتي ہيں
رشتے بھولنا پڑتے ہيں
انديشوں كي ريت نہ پھانكو
خوابو ں كے اوٹ سراب نہ ديكھو
پياس نہ ديكھو
اتنے مہنگے خواب نہ ديكھو
تھك جاؤ گي

ابوبکر
16-01-08, 01:41 PM
کبھي آنسو کبھي خوشي بيچي
ہم غريبوں نے بيکسي بيچي

چند سانسيں خريدنے کے ليے
روز تھوڑي سي زندگي بيچي

جب رلانے لگے مجھے سائے
ميں نے اکتا کے روشني بيچي

ايک ہم تھے کہ بک گئے خود ہي
ورنہ دنيا نے دوستي بيچي

ابوبکر
17-01-08, 07:45 AM
بات چلي تيري آنکھوں سے، جا پہنچي پيمانے تک
کھينچ رہي ہے تيري الفت آج مجھے مے خانے تک

عشق کي باتيں، غم کي باتيں، دنيا والے کرتے ہيں
کس نے شمع کا دکھ ديکھا، کون گيا پروانے تک

عشق نہيں ہے تم کو مجھ سے، صرف بہانے کرتي ہو
يوں ہي بہانے قائم رکھنا تم ميرے مر جانے تک

اتنا ہي کہنا ہے تم سے ممکن ہو تو آ جانا
آ ہي گئے تو رکنا ہوگا آنکھوں کے پتھرانے تک

ابوبکر
17-01-08, 07:48 AM
بچپن کے دکھ کتنے اچھے ہوتے تھے
تب تو صرف، کھلونے ٹوٹا کرتے تھے

وہ خوشیاں بھی کیسی خوشیاں تھیں
تتلی کے پر، نوچ کے اچھلا کرتے تھے

پاؤں مار کے خود، بارش کے پانی میں
اپنی کشتی آپ ڈبویا کرتے تھے

اب سوچیں تو چوٹ سی پڑتی ہے دل پر
آپ بنا کر، آپ گھروندے توڑا کرتے تھے

چھوٹے تھے تو مکر و فریب بھی چھوٹے تھے
دانہ ڈال کر چڑیا پکڑا کرتے تھے

اپنے جل جانے کا احساس نہ تھا
جلتے ہوے شعلوں کو چھیڑا کرتے تھے

خوشبو کے اڑتے ہی کیوں مرجھايا پھول
کتنے بھولےپن سے پوچھا کرتے تھے

آج وہی تعبیریں لہو رُلاتی ہیں
بچپن میں جو سپنے دیکھا کرتے تھے

اب تو آنسو بھی رسوا کر جاتا ہے
بچپن میں جی بھر رویا کرتے تھے

ام اقصمہ
19-01-08, 07:43 PM
تمھارا خط ملا جاناں
وہ جس میں تم نے پوچھا ہے
کہ اب حالات کیسے ہیں
میرے دن رات کیسے ہیں
مہربانی تمھاری ہے کہ تم نے اسطرح‌مجھ سے
میرے حالات پوچھے ہیں
میرے دن رات پوچھے ہیں
تمھیں سب کچھ بتا دونگی
مجھے اتنا بتا دو کہ
کبھی ساگر کنارے پر کسی مچھلی کو دیکھا ہے
کہ جس کو لہریں پانی کے کنارے تک تو لاتی ہیں
مگر پھر چھوڑ جاتی ہیں
میرے حالات ایسے ہیں
میرے دن رات ایسے ہیں

بلوچ
19-01-08, 11:05 PM
سراُٹھانے لگا، سوال کوئی
بس یونہی آگیا خیال کوئی

اک تصوّر میں یوں مقید ھوں
جیسے تنہائیوں کا جال کوئی

کرگیا خوشبوؤں کی چاہت میں
سبزہ وگل کو پائمال کوئی

جس میں کھل کر چلی ھو بادِمراد
عمر ِرفتہ میں ایسا سال کوئی

اس قدر رشک سے نہ دیکھ مجھے
مجھ میں ایسا نہیں کمال کوئی

جو اترتا ھو وائ دل میں
ایسا رستہ امر نکال کوئی
(عرفانہ امر)

ام اقصمہ
22-01-08, 03:07 AM
ہزار ان سے محبت جتانے والے ہیں
زمانے والے بھی لیکن زمانے والے ہیں

بہار جن کے نقوش قدم پہ نازاں ہے
یہ خوش خرام قیامت اٹھانے والے ہیں

وہ بے قصور ہیں وعدہ اگر نہ ایفا ہو
قدم قدم پہ انہیں‌ورغلانے والے ہیں

تمھاری چشم کرم نے جنہیں ہوا دے دی
وہ خوش شناس کہاں سر جھکانے والے ہیں

انہیں وفا و محبت کا تجربہ ہی نہیں
جو بے خبر اسے اپنا بنانے والے ہیں

شب فراق ستاروں سے خاک دل بہلے
کہ رفتہ رفتہ یہ سب ڈوب جانے والے ہیں

وہ پوچھتے ہیں تو سب حال عرض کر دانش
یہ اتفاق کہاں ہاتھ آنے والے ہیں

ام اقصمہ
22-01-08, 03:14 AM
جبر کے تقاضوں کو اس طرح سے سمجھا کر
آج کی گواہی پر مت قیاس فردا کر

تیرے ہر رویے میں بدگمانیاں کیسی
جب تلک ہے دنیا میں ، اعتبار دنیا کر

جس نے زندگی دی ہے وہ بھی سوچتا ہوگا
زندگی کے بارے میں اس قدر نہ سوچا کر

کس طرح مٹائے گا جو جبیں پہ ہے تحریر
بات بن نہ پائے گی آئینے کو جھٹلا کر

حرف و لب سے ہوتا ہے ہر اک مفہوم ادا
بے زبان آنکھوں کی گفتگو کو سمجھا کر

ایک دن یہی عادت تجھ کو خوں رلائے گی
تو جو یوں پرکھتا ہے ہر کسی کو اپنا کر

یہ بدلتی قدریں ہی حاصل زمانہ ہیں
بار بار ماضی کے یوں نہ ورق الٹا کر

خوں رلائے کا منظر مت قریب آ محسن
آئینہ کدہ ہے دہر ، دور سے تماشا کر

ابوبکر
22-01-08, 08:41 AM
آتي نہيں كہيں سے دل زندہ كي صدا
سونے پڑے ہيں كوچہ و بازار عشق كے
ہے شمع انجمن كا نيا حسن جاں گداز
شايد نہيں رہے وہ پتنگوں كے ولولے
تازہ نہ ركھ سكے گي روايات دشت و در
وہ فتنہ سر گئے جنہيں كانٹے عزيز تھے

اب كچھ نہيں تو نيند سے آنكھيں جلائيں ہم
آؤ كے جشن مرگ محبت منائيں ہم

سوچا نہ تھا كے آئے گا يہ دن بھي پھر كبھي
اك بار ہم ملے ہيں ذرا مسكرا تو ليں
كيا جانے اب نہ الفت ديرينہ ياد آئے
اس حسن اختيار پہ آنكھيں جھكا تو ليں
برسا لبوں سے پھول تري عمر ہو دراز
سنبھلے ہوئے تو ہيں پر ذرا ڈگمگا تو ليں

ابوبکر
22-01-08, 08:43 AM
شوق كے ہاتھوں اے دل مضطر كيا ہوتا ہے كيا ہوگا
عشق تو رسوا ہو ہي چكا ہے حسن بھي كيا رسوا ہوگا

حسن كي بزم خاص ميں جاكر اس سے زيادہ كيا ہوگا
كوئي نيا پيماں باندھيں گے كوئي نيا وعدہ ہو گا

چارہ گري سر آنكھوں پر اس چارہ گري سے كيا حاصل
درد كہ اپني آپ دوا ہے تم سے اچھا كيا ہوگا

ام اقصمہ
25-01-08, 12:09 AM
اے دل وہ عاشقي کے فسانے کدھرگئے؟
وھ عمر کيا ہوئي ، وہ زمانے کدھر گئے؟
ويراں ہيں صحن و باغ، بہاروں کو کيا ہوا
وہ بلبليں کہاں وہ ترانے کدھرگئے؟

تھے وہ بھي کيا زمانے کہ رہتے تھے ساتھ ہم
وہ دن کہاں ہيں اب وہ زمانے کدھر گئے؟
ہے نجد میں سکوت ہواؤں کو کيا ہوا
ليلائيں ہيں خموش دیوانے کدھرگئے؟

صحراء و کوہ سے نہيں اٹھي صدائے درد
وہ قيس و کوہکن کے ٹھکانے کدھرگئے؟
اجڑے پڑے ہيں دشت غزالوں پہ کيا بني
سوتے ہيں کوھسار دیوانے کدھرگئے؟

وہ ہجر ميں وصالت کي اميدکيا ہوئي
وہ رنج ميں خوشي کے بہانے کدھر گئے؟
غيروں سے تو اميد وفا پہلے بھی نہ تھا
رونا يہ ہے کہ اپنے بیگانے کدھر گئے؟

دن رات ميکدے ميں گزرتي تھي زندگي
اختر وہ بے خودي کے زمانے کدھر گئے

راضی
09-02-08, 11:44 AM
اگر کبھی ميری ياد آۓ
تو چاند راتوں کی دلگير روشنی ميں
کسی ستارے کو ديکھ لينا
اگر وہ نخل فلک سے اڑ کر تمہارے قدموں ميں آ گرے تو يہ جان لينا
وہ استعارہ تھا ميرے دل کا
اگر نہ آۓ؟ ۔۔۔
مگر يہ ممکن ہی کس طرح ہے کہ کسی پر نگاہ ڈالو
تو اس کی ديوار جاں نہ ٹوٹے
وہ اپنی ہستی نہ بھول جاۓ!!
اگر کبھی ميری ياد آۓ
گريز کرتی ہوا کی لہروں پہ ہاتھ رکھنا
ميں خشبووں ميں تمہيں ملوں گا
مجھے گلابوں کی پتيوں ميں تلاش کرنا
ميں اوس قطرہ کے آئينے ميں تمہيں ملوں گا
اگر ستاروں ميں، اوس خشبووں ميں
نہ پاؤ مجھ کو
تو اپنے قدموں ميں ديکھ لينا
ميں گرد ہوتی مسافتوں ميں تمہيں ملوں گا
کہيں پہ روشن چراغ ديکھو تو جان لينا
کہ ہر پتنگے کے ساتھ ميں بھی سلگ چکا ہوں
تم اپنے ہاتھوں سے ان پتنگوں کی خاک دريا ميں ڈال دينا
ميں خاک بن کر سمندر ميں سفر کروں گا
کسی نہ ديکھے ہوۓ جزيرے پہ رک کے تمہيں صدائيں دوں گا
سمندروں کے سفر پہ نکلو
تو اس جزيرے پہ کبھی اترنا!!

راضی
09-02-08, 11:45 AM
چاند نکلا تھا مگر رات نہ تھی پہلی سی
یہ ملاقات، ملاقات نہ تھی پہلی سی
رنج کچھ کم تو ہوا آج تیرے ملنے سے
یہ الگ بات ہے کے وہ بات نہ تھی پہلی سی

Fouzia.Malik.Awan
10-02-08, 10:29 AM
تمھارا خط ملا جاناں
وہ جس میں تم نے پوچھا ہے
کہ اب حالات کیسے ہیں
میرے دن رات کیسے ہیں
مہربانی تمھاری ہے کہ تم نے اسطرح‌مجھ سے
میرے حالات پوچھے ہیں
میرے دن رات پوچھے ہیں
تمھیں سب کچھ بتا دونگی
مجھے اتنا بتا دو کہ
کبھی ساگر کنارے پر کسی مچھلی کو دیکھا ہے
کہ جس کو لہریں پانی کے کنارے تک تو لاتی ہیں
مگر پھر چھوڑ جاتی ہیں
میرے حالات ایسے ہیں
میرے دن رات ایسے ہیں

بہترین !!!!

رفی
10-02-08, 11:01 AM
سب بہنوں اور بھائیوں کی عمدہ شراکت ہے۔




ایک قطعہ میری پسند کا بھی شامل فرما لیجیئے




اُن سے مراسم تھے ذرا اور طرح کے

اُس شخص سے رشتہ ہے ذرا اور طرح کا

اُس شام کو اُن سے ہوئیں عام سی باتیں

اور شہر میں چرچا ہے ذرا اور طرح کا

ابوبکر
17-02-08, 03:47 AM
خواب مرتے نہیں
خواب دل ہیں نہ آنکھیں
نہ سانسیں کہ جو
ریزہ ریزہ ہوئے تو بکھر جائیں گے
جسم کی موت سے بھی یہ نہ مر جائیں گے
خواب مرتے نہیں
خواب تو روشنی ہیں
نوا ہیں
ہوا ہیں
جو کالے پہاڑوں سے رکتے نہیں
ظلم کے دوزخوں سے پُھکتے نہیں
روشنی اور نوا اور ہوا کے عَلَم
مقتلوں میں پہنچ کر بھی جھکتے نہیں
خواب تو حرف ہیں
خواب تو نور ہیں
خواب تو منصور ہیں
خواب مرتے نہیں

s4shakeel
17-02-08, 08:17 AM
کیا کہنے رفی بھائی
اور شہر میں چرچا ہے ذرا اور طرح کا
واہ

s4shakeel
17-02-08, 08:17 AM
ابوبکر بھائی لاجواب انتخاب ہے آپ کا.

ابوبکر
18-02-08, 08:31 AM
ابوبکر بھائی لاجواب انتخاب ہے آپ کا.

پسند کرنے کا شکریہ ۔ ۔ ۔ شکیل صاحب

ابوبکر
18-02-08, 08:35 AM
ہم نے سوچ رکھا ہے
چاہے دل کی ہر خواہش
زندگی کی آنکھوں سے اشک بن کے
بہہ جائے
چاہے اب مکینوں پر
گھر کی ساری دیواریں چھت سمیت گر جائیں
اور بے مقدر ہم
اس بدن کے ملبے میں خود ہی کیوں نہ دب جائیں
تم سے کچھ نہیں کہنا
کیسی نیند تھی اپنی،کیسے خواب تھے اپنے
اور اب گلابوں پر
نیند والی آنکھوں پر
نرم خو سے خوابوں پر
کیوں عذاب ٹوٹے ہیں
تم سے کچھ نہیں کہنا
گھر گئے ہیں راتوں میں
بے لباس باتوں میں
اس طرح کی راتوں میں
کب چراغ جلتے ہیں،کب عذاب ٹلتے ہیں
اب تو ان عذابوں سے بچ کے بھی نکلنے کا راستہ نہیں جاناں!
جس طرح تمہیں سچ کے لازوال لمحوں سے واسطہ نہیں جاناں!
ہم نے سوچ رکھا ہے!
تم سے کچھ نہیں کہنا !!!

ابوبکر
19-02-08, 03:38 PM
مرے خدا مرے لفظ و بیاں میں ظاہر ہو
اسی شکستہ و بستہ زباں میں ظاہر ہو

زمانہ دیکھے میرے حرفِ بازیاب کے رنگ
گلِ مرادِ ہنر دشتِ جاں میں ظاہر ہو

میں سرخروِ نظر آںِ کلام ہوں کہ سکوت
تری عطا مرے نام و نشاں میں ظاہر ہو

مزہ تو تب ہے جب اہلِ یقیں کا سرِ کمال
ملامت سخن گمرہاں میں ظاہر ہو

گزشتگانِ محّبت کا خواب گم گشتہ
عجب نہیں کہ شبِ آئیندگاں میں ظاہر ہو

پسِ حجاب ہے اِک شہسوارِ وادئِ نور
کسے خبر اسی عہدِ زیاں میں ظاہر ہو

ابوبکر
19-02-08, 03:43 PM
سمجھ رہے ہیں اور بولنے کا یارا نہیں
جو ہم سے مل کے بچھڑ جائے وہ ہمارا نہیں

ابھی سے برف اُلجھنے لگی ہے بالوں سے
ابھی تو قرضِ ماہ و سال بھی اُتارا نہیں

سمندورں کو بھی حیرت ہوئی کہ ڈوبتے وقت
کسی کو ہم نے مد د کے لیئے پکارا نہیں

جو ہم نہیں تھے تو پھر کون تھا سرِ بازار
جو کہ رہا تھا کہ بکنا ہمیں گوارا نہیں

ہم اہلِ دل ہیں محبت کی نسبتوں کے امیں
ہمارے پاس زمینوں کا گوشوارہ نہیں

ام اقصمہ
19-02-08, 09:10 PM
شام ہوتے ہی گھر چلا جائے
کیوں بھلا عمر بھر چلا جائے

ان سرابوں سے پانیوں کا سفر
دو قدم ہے اگر چلا جائے

مانیے، زندگی کے چہرے سے
اتنا ڈریئے کے ڈر چلا جائے

زندگی بیت جائے چلتے میں
در ہو یا دربدر چلا جائے

بس بچھڑتے ہوئے اسے مل لوں
پھر نہ غم ہو اگر چلا جائے

ابوبکر
24-02-08, 01:04 AM
آنکھ کہتی ہے ُاسے پہلے کہیں دیکھا ہے

دل یہ کہتا ہے ' نہیں ' وہ تو کوئی اور ہی تھا

جس کی آغوش میں کلیاں تھیں، شرارے تو نہ تھے

جس کے ہاتھوں کوگلستان کہا کرتے تھے

جس کی باتوں سے بھی جینے کے کئی درس ملے

جس کے ہوتے ہوئے یہ درد ہمارے تو نہ تھے

اور جو تھا تو دریچوں پہ اُداسی بھی نہ تھی

ذرد پتّوں پہ بھی ہم وار دیا کرتے تھے

سُرخ پھولوں کا نکھار،اُوس کے موتی کی چمک

جس کے ہوتے ہوئے بےدرد نظارے تو نہ تھے

اور یہ شخص آیا ہے اُداسی لے کر

اس کی آغوش میں کلیوں کا کوئی نام نہیں

اس کے ہاتھوں کو گُلستان نہیں کہ سکتے

اس کے آنے پہ کوئی پھول نہیں مہکا ہے

وہی خاموش اُداسی ہے دریچوں پہ محیط

اسُ کے آنے پہ میرا دل بھی نہیں دھڑکا ہے

آنکھ کہتی ہے اُسے پہلے کہیں دیکھا ہے

asmat
28-02-08, 03:38 PM
السلامٌ علیکم اٌردو مجلس
×××××××××

راز الفت چھپا کے دیکھ لیا
دل بہت کچھ جلا کے دیکھ لیا
اور کیا دیکھنے کو باقی ہے
آپ سے دل لگا کر دیکھ لیا
وہ میرے ہو کے بھی میرے نہ ہوئے
ان کو اپنا بنا کے دیکھ لیا
آج ان کی نظر میں کچھ ہم نے
سب کی نظریں بچا کے دیکھ لیا
فیض تکمیل غم بھی ہو نہ سکی
عشق کو آزما کے دیکھ لیا
( عصمت اللہ )

رفی
17-03-08, 12:45 PM
میں ہوں سورج کی پرستار مرے ساتھ نہ چل



میں ہوں سورج کی پرستار مرے ساتھ نہ چل
دیکھ اے سایہِ دیوار مرے ساتھ نہ چل

فیصلہ کرنے میں تاخیر ہوئی ہے تجھ سے
ڈوبتی ناؤ میں اُس پار مرے ساتھ نہ چل

میں نے کب تجھ سے کہا، پاؤں کی ٹھوکر بن جا
لیکن اتنا ہے کہ بیکار مرے ساتھ نہ چل

میرا دُکھ تجھ سے چھپایا نہیں جاتا پگلی
گھر کی گِرتی ہوئی دیوار مرے ساتھ نہ چل

مجھ کو تنہائی کے جنگل سے گزرنا ہے قمر
تجھ کو خوف آئے گا اِس بار مرے ساتھ نہ چل

ریحانہ قمر

ام اقصمہ
18-03-08, 01:36 PM
بہترین !!!!

شکریہ فوزیہ۔

ام اقصمہ
18-03-08, 01:41 PM
ایک راہ خیال پر تنہا
میں ادھر اور وہ ادھر تنہا

سوچتے ہیں وہ کیوں نہیں ہوتا
آ کہ سوچیں یہ بیٹھ کر تنہا

ہم نے دیکھے ہیں شام کے سائے
ہم نے کاٹی ہے دوپہر تنہا

زندگی اور اس قدر مصروف
آدمی اور اس قدر تنہا

بس یہیں تک ہے قصہ درویش
اس سے آگے ہے اب سفر تنہا

پھر وہی دھوپ پھر وہی سائے
بستی بستی نگر نگر تنہا

پھر وہی موسم شجرکاری
پھر وہی شاخ بے ثمر تنہا

خواب تھا وہ کہ جل رہا تھا رات
بیچ دریا میں کوئی گھر تنہا

کس بھری دوپہر میں بیٹھا ہے
راہ میں سایئہ شجر تنہا

انقلاب ہیں‌زمانے کے
ورنہ تم اور میرے گھر تنہا

ام اقصمہ
18-03-08, 01:45 PM
تم آگئے ہو تو کیوں انتظار شام کریں
کہو تو کیوں نہ ابھی سے کچھ اہتمام کریں

خلوص و مہر وفا لوگ کر چکے بہت
میرے خیال میں اب اور کوئی کام کریں

ہر آدمی نہیں شائستہء رموز سخن
وہ کم سخن ہو مخاطب تو ہم کلام کریں

جدا ہوئے ہیں بہت لوگ ایک تم بھی سہی
اب اتنی بات پر کیا زندگی حرام کریں

رہ طلب میں‌جو گمنام مر گئے ناصر
متاع درد انہی ساتھیوں‌کے نام کریں

عندلیب
20-03-08, 06:20 PM
ہم سے کیا پُوچھتے ہو کیا ہرے، رات
اُس کی باتوں کا سِلسلہ ہے ، رات

آسماں تک جو لے کے جاتا ہے
ایک ایسا ہی راستہ ہے ، رات

فلسفہ رات کا بس اتنا ہے
اک عجوبہ ہے ، معجزا ہے ، رات

رات کو تم حقیر مت جانو
دن اگر جسم ہے ، رداء ہے رات

رات آنکھوں میں‌ کاٹنے والو
اک تم ہی جانتے ہو ، کیا ہے ، رات

رات کا رنگ ، رات کی خوشبو
کون محسوس کر سکا ہے ، رات

رات سو کر گزارتے ہو متین !
تم کو معلوم بھی ہے کیا ہے ، رات

ام اقصمہ
20-03-08, 06:25 PM
بہت خوب عندلیب۔آج کی محفل آپکے نام۔:00001:

عندلیب
20-03-08, 06:48 PM
بہت خوب عندلیب۔آج کی محفل آپکے نام۔:00001:
شکریہ،نوازش

عندلیب
23-03-08, 08:18 AM
بجا کہ آنکھ میں نیندوں کے سلسلے بھی نہیں
شکستِ خواب کے اب مجھ میں حوصلےبہی نہیں
نہیں نہیں ! یہ خبر دشمنوں نے دی ہوگی
وہ آٰءے ! چلے بھی گےء! ملے بھی نہیں !
یہ کون لوگ اندھروں کی بات کرتے ہیں
ابھی تو چاند تیری یادوں کے ڈھلے بھی نہیں
ابھی سے میرے رفوگر کے ہاتھ تھکنے لگے
ابھی تو چاک مرے زخم کے سِلے بھی نہیں
خفا اگر چہ ہمیشہ ہُوءے مگر اب کے
وہ برہمی ہے کہ ہم سےانہیں گِلے بھی نہیں
پروین شاکر

ام اقصمہ
23-03-08, 07:56 PM
شکایتیں تو بہت ان کو ہیں ہم سے لیکن
رفع انکی شکایتوں کو کریں اتنے ہم بھلے بھی نہیں
نفی نہیں‌کبھی انکی کی ہے لیکن اب تو
رفاقتوں کے وہ اب سلسلے بھی نہیں

بہت خوب

عندلیب
23-03-08, 08:59 PM
شکایتیں تو بہت ان کو ہیں ہم سے لیکن
رفع انکی شکایتوں کو کریں اتنے ہم بھلے بھی نہیں
نفی نہیں‌کبھی انکی کی ہے لیکن اب تو
رفاقتوں کے وہ اب سلسلے بھی نہیں

بہت خوب

شاندار

ام اقصمہ
23-03-08, 10:44 PM
بےچین بہت پھرنا گھبرائے ہوئے رہنا
اک آگ سی جذبوں کی دہکائے ہوئے رہنا
چھلکائے ہوئے چلنا خوشبو لبِ لعلیں‌کی
اک باغ سا ساتھ اپنے مہکائے ہوئے رہنا
اک شام سی کر رکھنا کاجل کے کرشمے سے
اک چاند سا انکھیوں میں‌چمکائے ہوئے رہنا
عادت ہی بنالی ہے تم نے تو منیر اپنی
جس شہر میں‌بھی رہنا اکتائے ہوئے رہنا

عندلیب
25-03-08, 11:05 AM
بےچین بہت پھرنا گھبرائے ہوئے رہنا
اک آگ سی جذبوں کی دہکائے ہوئے رہنا
چھلکائے ہوئے چلنا خوشبو لبِ لعلیں‌کی
اک باغ سا ساتھ اپنے مہکائے ہوئے رہنا
اک شام سی کر رکھنا کاجل کے کرشمے سے
اک چاند سا انکھیوں میں‌چمکائے ہوئے رہنا
عادت ہی بنالی ہے تم نے تو منیر اپنی
جس شہر میں‌بھی رہنا اکتائے ہوئے رہنا

بہت خوب

ام اقصمہ
25-03-08, 02:43 PM
دل عشق میں‌بے مایاں ، سودا ہو تو ایسا ہو
دریا ہو تو ایسا ہو ، صحرا ہو تو ایسا ہو

ہم سے نہیں‌رشتہ بھی ، ہم سے نہیں ملتا بھی
ہے پاس وہ بیٹھا بھی ، دھوکہ ہو تو ایسا ہو

اک خال سویدا میں ، پہنائی دو عالم
پھیلا ہو تو ایسا ہو ، سمٹا ہو تو ایسا ہو

دریا بہ حباب اندر ، طوفاں بہ سحاب اندر
محشر بہ حجاب اندر ، ہونا ہو تو ایسا ہو

وہ بھی رہا بیگانہ ، ہم نے بھی نہ پہچانا
ہاں ، اے دل دیوانہ ، اپنا ہو تو ایسا ہو

ہم نے یہی مانگا تھا ، اس نے یہی بخشا ہے
بندہ ہو تو ایسا ہو، داتا ہو تو ایسا ہو

اس دور میں‌کیا کیا ہے ،رسوائی بھی ،لذّت بھی
کانٹا ہو تو ایسا ہو ، چبھتا ہو تو ایسا ہو

اے قیس جنوں پیشہ ، انشاء کو کبھی دیکھا
وحشی ہو تو ایسا ہو ،رسوا ہو تو ایسا ہو

عندلیب
27-03-08, 03:53 PM
موسم
چڑیا پوری بھیگ چلی ہے
اور درخت پہ پتّا پتّاٹپک رہا ہے
گھونسلا کب کا بکھر چکا ہے
چڑیا پھر بھی چہک رہی ہے
انگ انگ سے بول رہی پے
اس موسم میں بھیگتے رہنا کتنا اچھا لگتا ہے!

(پروین شاکر)

بلوچ
27-03-08, 10:55 PM
کچھ عشق کیا، کچھ کام کیا

وہ لوگ بہت خوش قسمت تھے
جو عشق کو کام سمجھتے تھے
یا کام سے عاشقی کرتے تھے
ہم جیتے جی مصروف رہے
کچھ عشق کیا، کچھ کام کیا،
کام عشق کے آڑے آتا رہا
اور عشق سے کام الجھتا رہا
پھر آخر تنگ آ کر ہم نے
دونوں کو اُدھورا چھوڑ دیا
فیض احمد فیض

سخنور
28-03-08, 11:25 AM
مرے ہمدم، مرے دوست

گر مجھے اس کا یقیں ہو مرے ہمدم، مرے دوست
گر مجھے اس کا یقین ہو کہ ترے دل کی تھکن
تیری آنکھوں کی اداسی، ترے سینے کی جلن
میری دلجوئی، مرے پیار سے مت جائے گی
گرمرا حرفِ تسلی وہ دوا ہو جس سے
جی اٹھے پھر ترا اُجڑا ہوا بے نور دماغ
تیری پیشانی سے دھل جائیں یہ تذلیل کے داغ
تیری بیمار جوانی کو شفا ہو جائے

گر مجھے اس کا یقیں ہو مرے ہمدم، مرے دوست!

روز و شب، شام و سحر میں تجھےبہلاتا رہوں
میں تجھے گیت سناتا رہوں ہلکے، شیریں،
آبشاروں کے، بہاروں کے ، چمن زاروں کے گیت
آمدِ صبح کے، مہتاب کے، سیاروں کے گیت
تجھ سے میں حسن و محبت کی حکایات کہوں
کیسے مغرور حسیناؤں کے برفاب سے جسم
گرم ہاتھوں کی حرارت سے پگھل جاتے ہیں
کیسے اک چہرے کے ٹھہرے ہوئے مانوس نقوش
دیکھتے دیکھتے یک لخت بدل جاتے ہیں
کس طرح عارضِ محبوب کا شفاف بلور
یک بیک بادۂ احمر سے دہک جاتا ہے
کیسے گلچیں کے لیے جھکتی ہے خود شاخِ گلاب
کس طرح رات کا ایوان مہک جاتا ہے
یونہی گاتا رہوں، گاتا رہوں تیری خاطر
گیت بنتا رہوں، بیٹھا رہوں تیری خاطر
یہ مرے گیت ترے دکھ کا مداوا ہی نہیں
نغمہ جراح نہیں، مونس و غم خوار سہی
گیت نشتر تو نہیں، مرہمِ آزار سہی
تیرے آزار کا چارہ نہیں، نشتر کے سوا
اور یہ سفاک مسیحا مرے قبضے میں نہیں
اس جہاں کے کسی ذی روح کے قبضے میں نہیں
ہاں مگر تیرے سوا، تیرے سوا، تیرے سوا

از فیض احمد فیض

ام اقصمہ
29-03-08, 08:56 PM
کب تھے آباد کس ستارے میں
ہم سے پوچھو ہمارے بارے میں

کاروبار وفا عجب شے ہے
عمر بھر ہم رہے خسارے میں

اب تو دن رات مشغلہ ہے یہی
دیکھنا اس کو ہر نظارے میں

تیز تر ہیں جو دھڑکنیں دل کی
کس نے سوچا ہے میرے بارے میں

رات ایسا ہوا کہ غم اپنے
بہہ گئے آنسوؤں کے دھارے میں‘

میں قناعت پسند ہوں خاور
لاکھ مشکل سہی گزارے میں

رحمان خاور

بلوچ
29-03-08, 11:04 PM
ایک لڑکا

ایک چھوٹا سا لڑکا تھا میں جن دنوں
ایک میلے میں پہنچا ہمکتا ہوا
جی مچلتا تھا ایک ایک شے پر مگر
جیب خالی تھی کچھ مول لے نہ سکا
لوٹ آیا لیے حسرتیں سینکڑوں
ایک چھوٹا سا لڑکا تھا میں جن دنوں

خیر محرومیوں کے وہ دن تو گئے
آج میلہ لگا ہے اسی شان سے
آج چاہوں تو اک اک دکان مول لوں
آج چاہوں تو سارا جہاں مول لوں
نارسائ کا اب جی میں دھڑکا کہاں ؟
پر وہ چھوٹا سا، الھڑسا لڑکا کہاں؟
ابن انشا

عندلیب
05-04-08, 10:58 AM
نشا پلا کے گرانا تو سب کو آتا ہے ساقی
مزہ تو جب ہے کہ گر توں کو تھام لے ساقی
جو بادہ کش تھےپرانے وہ اٹھتے جاتے ہیں
کہیں سے آبِ بقائے دوام لے ساقی
کٹی ہے رات تو ہنگامہ گستر میں تری
سحر قریب ہے،اللّہ کا نام لے ساقی
علّامہ اقبال

رفی
05-04-08, 11:39 AM
ساحل تمام اشکِ ندامت سے اٹ گیا
دریا سے کوئی شخص تو پیاسا پلٹ گیا

لگتا تھا بے کراں مجھے صحرا میں آسماں
پہونچا جو بستیوں میں تو خانوں میں بٹ گیا

یا اتنا سخت جان کہ تلوار بے اثر
یا اتنا نرم دل کہ رگِ گل سے کٹ گیا

بانہوں میں آ سکا نہ حویلی کا اک ستون
پُتلی میں میری آنکھ کی صحرا سمٹ گیا

اب کون جاۓ کوۓ ملامت کو چھوڑ کر
قدموں سے آکے اپنا ہی سایہ لپٹ گیا

گنبد کا کیا قصور اسے کیوں کہوں بُرا
آیا جدھر سے تیر، اُدھر ہی پلٹ گیا

رکھتا ہے خود سے کون حریفانہ کشمکش
میں تھا کہ رات اپنے مقابل ہی ڈٹ گیا

جس کی اماں میں ہوں وہ ہی اکتا گیا نہ ہو
بوندیں یہ کیوں برستی ہیں، بادل تو چھٹ گیا

وہ لمحۂ شعور جسے جانکنی کہیں
چہرے سے زندگی کے نقابیں الٹ گیا

ٹھوکر سے میرا پاؤں تو زخمی ہوا ضرور
رستے میں جو کھڑا تھا وہ کہسار ہٹ گیا

اک حشر سا بپا تھا مرے دل میں اے شکیب
کھولیں جو کھڑکیاں تو ذرا شور گھٹ گیا

عندلیب
05-04-08, 12:14 PM
واہ بہت خوب

بلوچ
05-04-08, 10:57 PM
بہت اچھے رفی بھائی

بلوچ
05-04-08, 10:59 PM
آیا ہے ہر چڑھائی کے بعد اک اُتار بھی
پستی سے ہمکنار ملے کوہسار بھی

آخر کو تھک کے بیٹھ گئی اک مقام پر
کچھ دور میرے ساتھ چلی رہ گزار بھی

دل کیوں دھڑکنے لگتا ہے اُبھرے جو کوئی چاپ
اب تو نہیں کسی کا مجھے انتظار بھی

جب بھی سُکوتِ شام میں آیا ترا خیال
کچھ دیر کو ٹھہر سا گیا آبشار بھی

کچھ ہوگیا ہے دُھوپ سے خاکستری بدن
کچھ جم گیا ہے راہ کا مجھ پر غُبار بھی

اس فاصلوں کے دشت میں رہبر وہی بنے
جس کی نگاہ دیکھ لے صدیوں کے پار بھی

اے دوست ، پہلے قُرب کا نشّہ عجیب تھا
میں سُن سکا نہ اپنے بدن کی پُکار بھی

رستہ بھی واپسی کا کہیں بن میں کھو گیا
اوجھل ہُوئی نگاہ سے ہرنوں کی ڈار بھی

کیوں رو رہے ہو راہ کے اندھے چراغ کو!
کیا بُجھ گیا ہوا سے لہُو کا شرار بھی؟

کچھ عقل بھی ہے باعثِ توقیر اے شکیب
کچھ آگئے ہیں بالوں میں چاندی کے تار بھی
شکیب جلالی

عندلیب
07-04-08, 08:51 AM
امیرِشہر سے سائل بڑا ہے
بہت نادار لیکن دل بڑا ہے

لہوُ جمنے سے پہلے خوں بہا دے
یہاں انصاف سے قاتل بڑا ہے

چٹانوں میں گھِرا ہے اور چُپ ہے
سمندر سے کہیںساحل بڑا ہے

کسی بستی میں ہوگی سچ کی حُرمت
ہمارے شہر میں باطل بڑا ہے

جو ظلّ اللّہ پر ایمان لائے
وہی داناؤں میں‌ عاقل بڑا ہے

اُسے کھو کر بہائے درد پائی
زیاں چھوٹا تھا اور حاصل بڑا ہے

پروین شاکر

بلوچ
07-04-08, 11:11 PM
لشکر ھے نہ دربار نہ اب شاہ کوئی ھے
لیکن میرے شہروں کا تواحوال وہی ھے

رفی
08-04-08, 09:15 AM
تم ہنسو تو دن نکلے، چُپ رہو تو راتیں ہیں
کس کا غم، کہاں کا غم، سب فضول باتیں ہیں

اے خلوص میں تجھ کو کس طرح بچاؤں گا
دشمنوں کی چالیں ہیں، ساتھیوں کی گھاتیں ہیں

تم پہ ہی نہیں‌موقوف، آج کل تو دنیا میں
زیست کے بھی مذہب ہیں، موت کی بھی ذاتیں ہیں

(مصطفیٰ زیدی)

عندلیب
09-04-08, 10:02 AM
حقیقتِ حسن
خدا سے حسن نے اک روز یہ سوال کیا
جہاں میں کیوں نہ تو نے مجھے لا زوال کیا

ملا جواب کہ تصویر خانہ ہے دنیا
شب دراز عدم کا فسانہ ہے دنیا

ہوئی ہے رنگِ تغیر سے نمود اس کی
وہی حسں یے حقیقت زوال ہے جس کی

کہیں قریب تھا ، یہ گفتگو قمر نے سنی
فلک پہ عام ہوئی ، اختر سحر نے سونی

سحر نے تارے سے سن کر سنائی شبنم کو
فلک کی بات بتا دی زمیں کے محرم کو

بھر آئے پھول کے آنسو پیامِ شبنم سے
کلی کا ننھا سا دل خون ہو گیا غم سے

چمن سے روتا ہوا موسمِ بہار گیا
شباب سیر کو آیا تھا ۔ سو گوار گیا

علامہ اقبال

ََِِِِّ

راضی
14-04-08, 11:10 AM
دل کا دیارِ خواب میں ، دور تلک گُزر رہا
پاؤں نہیں تھے درمیاں ، آج بڑا سفر رہا

ہو نہ سکا کبھی ہمیں اپنا خیال تک نصیب
نقش کسی خیال کا ، لوِح خیال پر رہا

نقش گروں سے چاہیے ، نقش و نگار کا حساب
رنگ کی بات مت کرو رنگ بہت بکھر رہا

جانے گمان کی وہ گلی ایسی جگہ ہے کون سی
دیکھ رہے ہو تم کہ میں پھر وہیں جا کر مر رہا

دل میرے مجھے بھی تم اپنے خواص میں رکھو
یاراں تمھارے باب میں ، میں معتبر رہا

شہرِ فراقِ یار سے آئی ہے اک خبر مجھے
کوچہ یادِ یار سے ، کوئی نہیں اُبھر رہا

رفی
14-04-08, 11:44 AM
ہستی اپنی حباب کی سی ہے
یہ نمائش سراب کی سی ہے

نازکی اُس کی لب کی کیا کہیے
پنکھڑی اک گلاب کی سی ہے

چشمِ دل کھول اُس بھی عالم پر
یاں کی اوقات خواب کی سی ہے

بار بار اُس کے در پہ جاتا ہوں
حالت اب اضطراب کی سی ہے

نقطۂ خال سے ترا ابرو
بیت اک انتخاب کی سی ہے

میں جو بولا کہا کہ یہ آواز
اُسی خانہ خراب کی سی ہے

میر اُن نیم باز آنکھوں میں
ساری مستی شراب کی سی ہے

راضی
14-04-08, 12:24 PM
ہستی اپنی حباب کی سی ہے
یہ نمائش سراب کی سی ہے

نازکی اُس کی لب کی کیا کہیے
پنکھڑی اک گلاب کی سی ہے

چشمِ دل کھول اُس بھی عالم پر
یاں کی اوقات خواب کی سی ہے

بار بار اُس کے در پہ جاتا ہوں
حالت اب اضطراب کی سی ہے

نقطۂ خال سے ترا ابرو
بیت اک انتخاب کی سی ہے

میں جو بولا کہا کہ یہ آواز
اُسی خانہ خراب کی سی ہے

میر اُن نیم باز آنکھوں میں
ساری مستی شراب کی سی ہے



میں جو بولا کہا کہ یہ آواز
اُسی خانہ خراب کی سی ہے

ہی ہی

بہت خوب رفی بھائی:00001:

بلوچ
14-04-08, 11:14 PM
پھر سن رہا ہوں گزرے زمانے کی چاپ کو
بھو لا ہُوا تھا دیر سے میں اپنے آپ کو

عندلیب
14-04-08, 11:25 PM
بدل کر روپ انساں کا منافق بولتا ہے
مسیحائی کے بدلے میں زہر یہ گھولتا ہے

بلوچ
14-04-08, 11:38 PM
میں اپنی بے خبری سے شکیب واقف ہوں
بتاؤ پیچ ہیں کتنے تمہاری پگڑی میں

خالو خلیفہ
14-04-08, 11:59 PM
ہر ایک گام پہ بدنامیوں کا جمگھٹ ہے
ہر ایک موڑ پر رسوائیوں کے میلے ہیں
نہ دوستی، نہ تکلف، نہ دلبری، نہ خلوص
کسی کا کوئی نہیں آج سب اکیلے ہیں

بلوچ
15-04-08, 12:13 AM
یہ کون بتائے عدم آباد ہے کیسا!
ٹوٹی ہُوئی قبروں سے صدا تک نہیں آتی

خالو خلیفہ
15-04-08, 12:16 AM
تیرا اندازِ کرم ایک حقیقت ہے مگر
یہ حقیقت بھی حقیقت میں فسانہ ہی نہ ہو
تیری مانوس نگاہوں کا یہ محتاط پیام
دل کے خوں کرنے کا ایک اور بہانہ ہی نہ ہو

بلوچ
15-04-08, 12:36 AM
تر دامنی پہ شیخ ہماری نہ جائیو
دامن نچوڑ دیں تو فرشتے وضو کریں

رفی
16-04-08, 11:04 AM
جانے کس وحشت کا سایہ سا مجھ پہ لہراتا ہے
دل بے چارہ دن ڈھلتے ہی ڈوبا ڈوبا جاتا ہے

میرے اندر محرومی کا جنگل سا اُگ آتا ہے
ابر میرے بنجر کھیتوں پر جب بھی مینہ برساتا ہے

تیرے غم کے نشے سے مرے نین نشیلے رہتے ہیں
تیری یاد کا جھونکا میرا سونا من مہکاتا ہے

دنیا والے چاند نکلنے کی جو بھی توجیہ کریں
میں تو کہتا ہوں یہ جاگنے والوں کو بہلاتا ہے

فرطِ غم سے میں اپنی زنجیریں کاٹنے لگتا ہوں
جب دیوار پہ بیٹھا کوئی پنچھی پر پھیلاتاہے

یہ آواز کا جادو ہے یا ذوقِ سماعت کا افسوں
اب تک تیرا گیت مرے گانوں میں رس ٹپکاتا ہے

مقبول عامر

عندلیب
16-04-08, 11:27 AM
تم بھول بھی جاو تو کوئی بات نہ ہوگی
بے یاد ،ہماری بسر اوقات نہ ہوگی

کر لیں گے کبھی اور جوہوگا کوئی شکوہ
ایسا تو نہیں ہے کہ ملاقات نہ ہوگی

توبہ کی طرح ٹوٹنے لگتا ہوں سِر شام
ایجاد کوئی طرز مدارات نھ ہوگی

آجائے اگر ہم کو محبت کا سلیقہ
تا عمر ہمیں فکر مکافات نہ ہوگی

اک رات تو سکھ چین سے سو پائیں گے ہم لوگ
اک روز تو یہ صورتِ حالات نہ ہوگی
واحد بشیر

رفی
16-04-08, 12:05 PM
اُسے اپنے فردا کی فکر تھی، وہ جو میرا واقفِ حال تھا
وہ جو اُس کی شبِ عروج تھی، وہی میرا وقتِ زوال تھا

میری بات کیسے وہ مانتا، میری بات کیسے وہ جانتا
وہ تو خود فنا کے سفر میں تھا، اُسے روکنا محال تھا

جو اُس کے پاس آگیا وہی روشنی میں نہا گیا
عجب اُسکا ہیبتِ حُسن تھا عجب اُسکا رنگ و جمال تھا

میں پوچھ پوچھ کر تھک گیا، مجھے چھوڑ کر کہاں جاؤ گے
وہ جواب تک نہ دے سکا، وہ تو خود سراپا سوال تھا

دمِ واپسی یہ کیا ہوا، نہ وہ روشنی نہ وہ تازگی
وہ ستارہ کیسے بکھر گیا، جو اپنی مثال آپ تھا

برسوں بعد ملا بھی تو میرے لب پر کوئی گلا نہ تھا
میری چُپ نے اسے رُلا دیا، جسے گفتگو میں کمال تھا

میرے گلے سے لگ کر رو دیا، فقط اتنا وہ کہہ سکا
جسے جانتا تھا میں زندگی، وہ تو وہم و خیال تھا

عندلیب
16-04-08, 03:18 PM
:00001: دمِ واپسی یہ کیا ہوا، نہ وہ روشنی نہ وہ تازگی
وہ ستارہ کیسے بکھر گیا، جو اپنی مثال آپ تھا
واہ بہت خوب رفی بھائی

بلوچ
19-04-08, 12:00 AM
دمِ واپسی یہ کیا ہوا، نہ وہ روشنی نہ وہ تازگی
وہ ستارہ کیسے بکھر گیا، جو اپنی مثال آپ تھا


رفی بھائی کیا یہ شعر یوں صیحح نہیں ہے

دمِ واپسی یہ کیا ہوا، نہ وہ روشنی نہ وہ تازگی
وہ ستارہ کیسے بکھر گیا، جو اپنی آپ مثال تھا

بلوچ
19-04-08, 12:01 AM
شبِ حیات کی تاریکیوں سے گھبرا کر
جلا کے گھر کے اثاثے کو روشنی کرلی
جمیل عظیم آبادی

رفی
19-04-08, 09:55 AM
رفی بھائی کیا یہ شعر یوں صیحح نہیں ہے

دمِ واپسی یہ کیا ہوا، نہ وہ روشنی نہ وہ تازگی
وہ ستارہ کیسے بکھر گیا، جو اپنی آپ مثال تھا

شاید ٹائپنگ کی غلطی ہے، بہرحال اسے چیک کرنے کے بعد ہی کچھ کہہ سکتا ہوں۔

راضی
07-05-08, 03:25 PM
نائیش نائیش نائیش :)

ام اقصمہ
10-05-08, 07:12 PM
بہت پہلے سے ان قدموں‌کی آہٹ جان لیتے ہیں
تجھے اے زندگی ہم دور سے پہچان لیتے ہیں

جسے کہتی ہے دنیا کامیابی وائے نادانی
اسے کن قیمتوں‌پر کامیاب انسان لیتے ہیں

طبیعت اپنی گھبراتی ہے جب سنسان راتوں میں
ہم ایسے میں‌تیری یادوں کی چادر تان لیتے ہیں

تری مقبولیت کی وجہ واحد تیری رمزیت
کہ اس کو مانتے ہی کب ہیں جس کو جان لیتے ہیں

رفیقِ زندگی تھی اب انیسِ وقتِ آخر ہے
ترا اے موت ہم یہ دوسرا احسان لیتے ہیں

فراق اکثر بدل کر بھیس ملتا ہے کوئی کافر
کبھی ہم جان لیتے ہیں کبھی پہچان لیتے ہیں


فراق گورکھپوری

ام اقصمہ
10-05-08, 07:17 PM
یہ کس خلش نے اس دل میں‌آشیانہ کیا
پھر آج کس نے سخن ہم سے غائبانہ کیا

غمِ جہاں ہو، رخِ یار ہو کہ دست عدو
سلوک جس سے کیا ہم نے عاشقانہ کیا

تھے خاکِ راہ بھی ہم لوگ قہر طوفاں بھی
سہا تو کیا نہ سہا اور کیا تو کیا نہ کیا

خوشا کہ آج پر اک مدعی کے لب پر ہے
وہ راز جس نے ہمیں راندہ زمانہ کیا

وہ حیلہ گر جو وفاجو بھی ہے جفا جو بھی
کیا بھی فیض تو کس بت سے دوستانہ کیا

فیض احمد فیض

ام اقصمہ
10-05-08, 07:25 PM
نہ ہم رہے نہ وہ خوابوں کی زندگی ہی رہی
گماں گماں سی مہک خود کو ڈھونڈتی ہی رہی

حریمِ شوق کا عالم بتایئں کیا تم کو
حریمِ شوق میں‌بس شوق کی کمی ہی رہی

پسِ نگاہِ تغافل تھی اک نگاہ کہ تھی
جو دل کے چہرہ حسرت کی تازگی ہی رہی

بدل گیا سبھی کچھ اس دیارِبودش میں
گلی تھی جو تیری جاں وہ تیری گلی ہی رہی

تمام دل کے محلے اجڑ چکے تھے مگر
بہت دنوں تو ہنسی ہی رہی ، خوشی ہی رہی

سناؤں میں‌کسے افسانہء خیالِ ملال
تری کمی ہی رہی اور میری کمی ہی رہی


جون ایلیا

رفی
11-05-08, 09:32 AM
ان کہے لفظوں کا مدفن


وہ دیکھو


دور تک پھیلی ہوئی چھوٹی بڑی قبریں


کہ جن میں دفن ہیں وہ ساری باتیں


جو میرے دل کے زنداں سے کبھی باہر نہیں آئیں


وہ سارے لفظ


جو تم تک پہنچ پانے کی حسرت میں


کہیں رستے میں ہی دم توڑبیٹھے ہیں


یہیں پہ دفن ہیں


الفاظ کے وہ قافلے سارے


میری مجبوریاں قاتل


تیری بینائیاں غافل


اس دشتِ نا رسائی میں کہیں شاید


خبر تم کوکبھی بھی ہو نہ پائے گی


کہ بے بس خاموشی میری


میرے ان کہے لفظوں کا مدفن ہے

(شبنم رحمٰن)

مشک
11-05-08, 12:39 PM
یارب ہے بخش دینا بندے کو کام تیرا
محروم رہ نہ جائے کل یہ غلام تیرا

جب تک ہے دل بغل میں ہر دم ہو یاد تیری
جب تک زباں ہے منہ میں‌جاری ہو نام تیرا

ایمان کی کہیں گے ایمان ہے ہمارا
احمد رسول تیرا مصحف کلام تیرا

ہے تو ہی دینے والا پستی سے دے بلندی
اسفل مقام میرا اعلٰی مقام تیرا

محروم کیوں‌رہوں میں جی بھر کے کیوں نہ لوں میں
دیتا ہے رزق سب کو ہے فیض عام تیرا

یہ “داغ“ بھی نہ ہو گا تیرے سوا کسی کا
کونین میں‌ہے جو کچھ وہ ہے تمام تیرا

(داغ دہلوی)

ام اقصمہ
11-05-08, 01:45 PM
خوش آمدید مشک اور اتنی اچھی شئیرنگ کے لیے میری طرف سے پوائنٹس۔

راضی
12-05-08, 08:25 AM
محروم کیوں‌رہوں میں جی بھر کے کیوں نہ لوں میں
دیتا ہے رزق سب کو ہے فیض عام تیرا

واہ بہت خوب

عقرب
15-05-08, 09:19 AM
اب کے ہم بچھڑے تو شايد کبھي خوابوں ميں مليں
جس طرح سوکھے ہوئے پھول کتابوں ميں مليں

ڈھونڈ اجڑے ہوئے لوگوں ميں وفا کے موتي
يہ خزانے تجھے ممکن ہے خرابوں ميں مليں

غم دنيا بھي غم يار ميں شامل کر لو
نشہ بڑھتا ہے شرابيں جو شرابوں ميں مليں

تو خدا ہے نہ ميرا عشق فرشتوں جيسا
دونوں انساں ہيں تو کيوں اتنے حجابوں ميں مليں

آج ہم دار پہ کھينچے گئے جن باتوں پر
کيا عجب کل وہ زمانے کو نصابوں ميں مليں

اب نہ وہ ميں ہوں نہ تو ہے نہ وہ ماضي ہے فراز
جيسے دو سائے تمنا کے سرابوں ميں مليں

(احمد فراز)

امید
15-05-08, 09:44 AM
بہت خوب

حیدرآبادی
15-05-08, 09:46 AM
ابھی الوداع مت کہو دوستو
نجانے پھر کہاں ملاقات ہو ، کیوں کہ
بیتے ہوئے لمحوں کی کسک ساتھ تو ہوگی
خوابوں میں ہی ہو چاہے ملاقات تو ہوگی

یہ پیار یہ ڈوبی ہوئی رنگین فضائیں
یہ چہرے یہ نظارے یہ جواں رُت یہ ہوائیں
ہم جائیں کہیں ان کی مہک ساتھ تو ہوگی
بیتے ہوئے لمحوں کی ۔۔۔

پھولوں کی طرح دل میں بسائے ہوئے رکھنا
یادوں کے چراغوں کو جلائے ہوئے رکھنا
لمبا ہے سفر اس میں کہیں رات تو ہوگی
بیتے ہوئے لمحوں کی ۔۔۔

یہ ساتھ گزارے ہوئے لمحات کی دولت
لذت کی دولت یہ خیالات کی دولت
کچھ پاس نہ ہو پاس یہ سوغات تو ہوگی
بیتے ہوئے لمحوں کی کسک ساتھ تو ہوگی

nomi_khan
15-05-08, 09:49 AM
ابھی الوداع مت کہو دوستو
نجانے پھر کہاں ملاقات ہو ، کیوں کہ
بیتے ہوئے لمحوں کی کسک ساتھ تو ہوگی
خوابوں میں ہی ہو چاہے ملاقات تو ہوگی

یہ پیار یہ ڈوبی ہوئی رنگین فضائیں
یہ چہرے یہ نظارے یہ جواں رُت یہ ہوائیں
ہم جائیں کہیں ان کی مہک ساتھ تو ہوگی
بیتے ہوئے لمحوں کی ۔۔۔

پھولوں کی طرح دل میں بسائے ہوئے رکھنا
یادوں کے چراغوں کو جلائے ہوئے رکھنا
لمبا ہے سفر اس میں کہیں رات تو ہوگی
بیتے ہوئے لمحوں کی ۔۔۔

یہ ساتھ گزارے ہوئے لمحات کی دولت
لذت کی دولت یہ خیالات کی دولت
کچھ پاس نہ ہو پاس یہ سوغات تو ہوگی
بیتے ہوئے لمحوں کی کسک ساتھ تو ہوگی

ابھی الوداع مت کہو دوستو
نجانے پھر کہاں ملاقات ہو

واہ حیدرآبادی بھیا واہ کیا کہنے

عقرب
15-05-08, 10:28 AM
ایسا گم ہوں تیری یادوں کے بیابانوں میں
دل نہ دھڑکے تو سنائی نہیں دیتا کچھ بھی
سوچتا ہوں تو ہر اک نقش میں دنیا آباد
دیکھتا ہوں تو دیکھائی نہیں دیتا کچھ بھی

ام اقصمہ
07-06-08, 02:25 PM
اب کے سفر ہی اور تھا ، اور ہی کچھ سراب تھے
دشتِ طلب میں‌جا بجا سنگِ گرانِ خواب تھے

اب کے برس بہار کی رت بھی تھی انتظار کی
لہجوں میں سیلِ درد تھا ،آنکھوں میں اضطراب تھے

خوابوں کے چاند ڈھل گئے ، تاروں‌کے دم نکل گئے
پھولوں کے ہاتھ جل گئے ، یہ کیسے آفتاب تھے

سیل کی رہگزر ہوئے ، ہونٹ نہ پھر بھی تر ہوئے
کیسی عجیب پیاس تھی ، کیسے عجیب سحاب تھے

ربط کی بات اور ہے ، ضبط کی بات اور ہے
یہ جو فشارِ خاک ہے ، اس میں کبھی گلاب تھے

ابر برس کے کھل گئے ، جی کے غبار دھل گئے
آنکھ میں رونما ہوئے ، شہر جو زیر آب تھے

امجد اسلام امجد

ام اقصمہ
07-06-08, 04:53 PM
خدا وہ وقت نہ لائے کہ سوگوار ہو تو
سکوں کی نیند ئجھے بھی حرام ہو جائے
تیری مسرت پیہم تمام ہو جائے
تیری حیات تجھے تلخ جام ہو جائے
غموں سے آئینہ دل گداز ہو تیرا
ہجوم یاس سے بے تاب ہو کے رہ جائے
تیرا شباب فقط خواب ہو کے رہ جائے
غرورِ حسن سراپا نیاز ہو تیرا
طویل راتوں میں تو بھی قرار کو ترسے
تیری نگاہ کسی غمگسار کو ترسے
خزاں رسیدہ تمنا بہار کو ترسے
کوئی جبیں نہ تیرے سنگ آستاں پہ جھکے
کہ جنس عجز و عقیدت سے تجھ کو شاد کرے
فریبِ وعدہ ء فروا پہ اعتماد کرے
خدا وہ وقت نہ لائے کہ تجھ کو یاد آئے
وہ دل کہ تیرے لیے بے قرار اب بھی ہے
وہ آنکھ جس کو تیرا انتظار اب بھی ہے


فیض احمد فیض‌

راضی
09-06-08, 11:35 AM
واہ جی بھیا کیا کہنے آپکے

ام اقصمہ
02-07-08, 01:41 AM
ہر کوئی دوست بن کے وار کرے
اب کوئی کس پہ اعتبار کرے

بس نہ چلتا ہو عشق کا بھی جہاں
کیا وہاں میرا اختیار کرے

بے قراری تو بے قراری ہے
راحت اب مجھ کو بے قرار کرے

مجھ کو فرصت نہیں ہے کاموںسے
جس کو ملنا ہے انتظار کرے

اس کو ا پنی خبر نہیں حیدر
جتنا چاہے تو اس سے پیار کرے

زیشان حیدر

ام اقصمہ
02-07-08, 01:43 AM
حق بات کیا نکل گئی میری زبان سے
مجھ سے تمام لوگ ہوئے بدگمان سے

پہنائیوں میں اس کی بلندی چھپی ملی
بہتر لگی زمین مجھے آسمان سے

سائےمیں محوِ خواب مسافر کو کیا خبر
پوچھو تمازتوں کا اثر سائبان سے

بچے کبھی نہ میری کتابوں سے کھیلتے
گر میں خرید سکتا کھلونے دکان سے

اوندھا پڑا ملا ہے چراغوں کا قافلہ
چھوڑے ہیں کس نےتیرہوا کی کمان سے

بے نام پانیوں کی طرف تیرتے ہوئے
ٹکرا گیا ہوں تیرے بدن کی چٹان سے

اپنی زمین چھوڑ کے جانے لگا تھا میں
لڑنے لگیں ہوائیں مگر بادبان سے

سڑکوں پہ پھر رہی ہے اجل ڈھونڈتی ہوئی
زیدی میں پھر نکلنے لگا ہوں مکان سے

سید عرفان علی زیدی

ام اقصمہ
02-07-08, 01:45 AM
بے نور چراغوں میں دھواں باقی تھا
صحرا میں بگولوں کا سماں باقی تھا
آنکھوں میں چبھن پچھلے پہر کی تھی مگر
دل کو ترے آنے کا گماں باقی تھا

المسافر
02-07-08, 10:18 AM
بہت خوب

ام اقصمہ
02-07-08, 12:35 PM
بہت خوب

شکریہ المسافر بھائی ۔

ساجد تاج
16-01-09, 09:45 AM
شکریہ شیئرنگ کے لیے بہت خوب