PDA

View Full Version : الفرقان بین اولیاء الرحمان و اولیاء الشیطان- ابن تیمیہ رحمہ اللہ


نعمت اللہ
21-11-12, 11:29 AM
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

ترجمہ مقدمة الکتاب

سب تعریف اللہ تعالیٰ ہی کو سزاوار ہے، ہم اسی سے مدد مانگتے ہیں اور اسی سے ہدیت اور مغفرت کے طالب ہیں اور ہم اپنے نفس کے شر اور اپنے اعمال کی برائیوں سے اللہ تعالیٰ کے پاس پناہ لیتے ہیں۔ جسے اللہ تعالیٰ ہدایت فرما دے اسے گمراہ کرنے والا کوئی نہیں اور جسے وہ گمراہ کر دے اس کو کوئی راستے پر لگانے والا نہیں۔ ہم گواہی دیتے ہیں کہ بجز اللہ تعالیٰ کے کوئی عبادت کے لائق نہیں۔ وہ ایک ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں۔ ہم گواہی دیتے ہیں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ جنہیں اس نے ہدایت اور سچا دین دے کر بھیجا تاکہ اس دین کو تمام دینوں پر غالب رکھے اور اس دین کی سچائی کے لئے اللہ کافی گواہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو قربِ قیامت میں انعاماتِ الٰہی کی بشارت دینے اور عذاب قہاری سے ڈرانے کے لئے بھیجا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کے حکم سے مخلوقات کو اللہ تعالیٰ کی طرف بلائیں۔ الغرض آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہ چراغِ عالم افروز ہیں جن کے وجودِ مسعود کی بدولت کائنات کا گوشہ گوشہ روشن ہو گیا۔ سو اس کے ذریعے سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو غلط راستے سے بچا کر صحیح راستے پر چلایا۔ اندھے پن سے نجات دلا کر بینا کر دیا اور برائی کے گڑھوں سے نکال کر بھلائی کی مبارک بلندیوں پر پہنچایا۔ اندھی آنکھیں کھلنے لگیں۔ بہرے کان سننے لگے، جن دلوں پر پردے پڑے ہوئے تھے وہ حقائق کی بصیرت افروز اور نورانی فضا میں جلوہ افروز ہو گئے۔ اسی دین کے ذریعے سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حق اور باطل کو جدا کر کے دکھا دیا، ہدایت اور گمراہی، نیکی اور برائی، مومنین اور کفار نیک بخت اہل جنت اور بدبخت اہل دوزخ میں امتیاز پیدا کر دیا۔ اللہ تعالیٰ کے دوستوں اور اس کے دشمنوں میں فرق بتا دیا چنانچہ جس کے لئے محمد صلی اللہ علیہ وسلم یہ گواہی دے دیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کے دوستوں میں سے ہے تو وہ بے شک رحمٰن کے دوستوں میں سے ہے اور جس کے لئے جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گواہی دے دیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کے دشمنوں میں سے ہے تو وہ شیطان کا دوست ہے۔

نعمت اللہ
27-11-12, 11:25 AM
اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے اپنی کتاب میں اور اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت میں بیان فرما دیا ہے کہ لوگوں میں اللہ تعالیٰ کے دوست بھی ہیں اور شیطان کے بھی نیز اولیاء رحمن اور اولیاء شیطان کے مابین جو فرق ہے وہ بھی ظاہر کر دیا۔ فرمایا

أأَلَا إِنَّ أَوْلِيَاءَ اللَّـهِ لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ ﴿٦٢﴾ الَّذِينَ آمَنُوا وَكَانُوا يَتَّقُونَ ﴿٦٣﴾ لَهُمُ الْبُشْرَىٰ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ ۚ لَا تَبْدِيلَ لِكَلِمَاتِ اللَّـهِ ۚ ذَٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ ﴿٦٤﴾
یونس

’’یاد رکھو! اللہ تعالیٰ کے دوستوں پر نہ کوئی خوف طاری ہوگا اور نہ وہ آزردہ خاطر ہوں گے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو ایمان لائے اور تقویٰ کی زندگی بسر کرتے رہے۔ ان کے لیے دنیا کی زندگی میں بھی خوشخبری ہے اور آخرت میں بھی۔ اللہ کی باتیں بدلتی نہیں یہی بڑی کامیابی ہے۔‘‘

اور فرمایا

اللَّـهُ وَلِيُّ الَّذِينَ آمَنُوا يُخْرِجُهُم مِّنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ ۖ وَالَّذِينَ كَفَرُوا أَوْلِيَاؤُهُمُ الطَّاغُوتُ يُخْرِجُونَهُم مِّنَ النُّورِ إِلَى الظُّلُمَاتِ ۗ أُولَـٰئِكَ أَصْحَابُ النَّارِ ۖ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ ﴿٢٥٧﴾
البقرہ


’’اللہ ایمان والوں کا دوست ہے۔ انہیں تاریکیوں سے نکال کر روشنی میں لاتا ہے اور جو لوگ کافر ہیں، ان کے ولی شیطان ہیں جو انہیں روشنی سے نکال کر تاریکیوں میں دھکیلتے ہیں۔ وہی دوزخی ہیں اور وہ اس میں ہمیشہ رہنے والے ہیں۔‘‘
اور فرمایا

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا الْيَهُودَ وَالنَّصَارَىٰ أَوْلِيَاءَ ۘ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاءُ بَعْضٍ ۚ وَمَن يَتَوَلَّهُم مِّنكُمْ فَإِنَّهُ مِنْهُمْ ۗ إِنَّ اللَّـهَ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظَّالِمِينَ ﴿٥١﴾ فَتَرَى الَّذِينَ فِي قُلُوبِهِم مَّرَضٌ يُسَارِعُونَ فِيهِمْ يَقُولُونَ نَخْشَىٰ أَن تُصِيبَنَا دَائِرَةٌ ۚ فَعَسَى اللَّـهُ أَن يَأْتِيَ بِالْفَتْحِ أَوْ أَمْرٍ مِّنْ عِندِهِ فَيُصْبِحُوا عَلَىٰ مَا أَسَرُّوا فِي أَنفُسِهِمْ نَادِمِينَ ﴿٥٢﴾ وَيَقُولُ الَّذِينَ آمَنُوا أَهَـٰؤُلَاءِ الَّذِينَ أَقْسَمُوا بِاللَّـهِ جَهْدَ أَيْمَانِهِمْ ۙ إِنَّهُمْ لَمَعَكُمْ ۚ حَبِطَتْ أَعْمَالُهُمْ فَأَصْبَحُوا خَاسِرِينَ ﴿٥٣﴾ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا مَن يَرْتَدَّ مِنكُمْ عَن دِينِهِ فَسَوْفَ يَأْتِي اللَّـهُ بِقَوْمٍ يُحِبُّهُمْ وَيُحِبُّونَهُ أَذِلَّةٍ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ أَعِزَّةٍ عَلَى الْكَافِرِينَ يُجَاهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللَّـهِ وَلَا يَخَافُونَ لَوْمَةَ لَائِمٍ ۚ ذَٰلِكَ فَضْلُ اللَّـهِ يُؤْتِيهِ مَن يَشَاءُ ۚ وَاللَّـهُ وَاسِعٌ عَلِيمٌ ﴿٥٤﴾ إِنَّمَا وَلِيُّكُمُ اللَّـهُ وَرَسُولُهُ وَالَّذِينَ آمَنُوا الَّذِينَ يُقِيمُونَ الصَّلَاةَ وَيُؤْتُونَ الزَّكَاةَ وَهُمْ رَاكِعُونَ ﴿٥٥﴾ وَمَن يَتَوَلَّ اللَّـهَ وَرَسُولَهُ وَالَّذِينَ آمَنُوا فَإِنَّ حِزْبَ اللَّـهِ هُمُ الْغَالِبُونَ ﴿٥٦﴾
المائدہ

’’مسلمانو! یہود و نصاریٰ کو دوست نہ بنائو۔ یہ لوگ باہم ایک دوسرے کے دوست ہیں اور تم میں سے جو کوئی ان کو دوست بنائے گا تو بے شک وہ بھی انہی میں سے ہے کیونکہ اللہ جل شانہ ایسے ظالموں کو راہ راست نہیں دکھایا کرتا۔ تو اے پیغمبر جن لوگوں کے دلوں میں بے ایمانی کا روگ ہے تم ان کو دیکھو گے کہ ان کے دوست بنانے میں بڑی جلدی کرتے ہیں، کہتے ہیں کہ ہم کو تو اس بات کا ڈر لگ رہا ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ بیٹھے بٹھائے ہم کسی مصیبت کے پھیر میں آجائیں، سو امید ہے کہ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کی فتح یا کوئی امر اپنی طرف سے ظاہرکرے گا تو اس وقت یہ منافق اس بدگمانی پر جو اسلام کے غلبے اور اس کی صداقت کی نسبت اپنے دلوں میں چھپاتے تھے، پشیمان ہوں گے(اور اس سے مسلمانوں پر ان کا نفاق کھل جائے گا تو) مسلمان ان کے حال پر افسوس کرتے ہوئے آپس میں کہیں گے کہ کیا یہ وہی لوگ ہیں جو ظاہر میں بڑے زور سے اللہ کی قسمیں کھاتے اور ہم سے کہا کرتے تھے کہ ہم تمہارے ساتھ ہیں اور اندر اندر یہود کی تائید میں کوشش کرتے تھے تو ان کا سارا کیا دھرا ضائع ہوا اور سراسر نقصان میں آگئے۔ مسلمانو! تم میں سے جو کوئی اپنے دین سے پھر جائے تو اللہ سبحانہ تعالیٰ کو اس کی ذرا بھی پرواہ نہیں۔ وہ ایسے لوگ لائے گا، جن کو وہ دوست رکھتا ہوگا اور وہ اس کو دوست رکھتے ہوں گے۔ مسلمانوں کے ساتھ نرم، کافروں کے ساتھ کڑے، اللہ کی راہ میں اپنی جانیں لڑا دیں گے اور کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہیں ڈریں گے، یہ بھی اللہ رب العزت کا ایک فضل ہے، جس کو چاہے دے اور اللہ کی رحمت بڑی وسیع ہے اور وہ سب کے حال سے واقف ہے۔ مسلمانو! بس تمہارے یہی دوست ہیں، اللہ اور اللہ کا رسول اور وہ مسلمان جو نماز پڑھتے اور زکوٰۃ دیتے ہیں اور ہر وقت اللہ رب العالمین کے آگے جھکے رہتے ہیں اور جو اللہ کے رسول اور مسلمانوں کا دوست بنا رہے گا۔ (تو وہ اللہ کی جماعت میں داخل ہو گا) اور اللہ کی جماعت ہی غلبہ پانے والی ہے۔‘‘
اور فرمایا:

هُنَالِكَ الْوَلَايَةُ لِلَّـهِ الْحَقِّ ۚ هُوَ خَيْرٌ ثَوَابًا وَخَيْرٌ عُقْبًا ﴿٤٤﴾
الکہف

’’اس سے ثابت ہوا کہ سب اختیار اللہ برحق ہی کو حاصل ہے، وہی اچھا ثواب دینے والا اور آخر کار وہی اچھا بدلہ دینے والا ہے۔‘‘
شیطان کے دوستوں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:

فَإِذَا قَرَأْتَ الْقُرْآنَ فَاسْتَعِذْ بِاللَّـهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ ﴿٩٨﴾ إِنَّهُ لَيْسَ لَهُ سُلْطَانٌ عَلَى الَّذِينَ آمَنُوا وَعَلَىٰ رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ ﴿٩٩﴾ إِنَّمَا سُلْطَانُهُ عَلَى الَّذِينَ يَتَوَلَّوْنَهُ وَالَّذِينَ هُم بِهِ مُشْرِكُونَ ﴿١٠٠﴾
النحل

’’جب قرآن پڑھنے لگو تو شیطان مردود سے اللہ کی پناہ مانگ لیا کرو۔ ایمان والوں اور اپنے پروردگار پر بھروسہ رکھنے والوں پر اس کا قابو نہیں چلتا، اس کا قابو صرف ان لوگوں پر چلتا ہے جو اس سے دوستی رکھتے ہیں اور جواس (کے وسوسے) کے سبب اللہ کے ساتھ شریک ٹھہراتے ہیں۔‘‘
اور فرمایا:

الَّذِينَ آمَنُوا يُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِ اللَّـهِ ۖ وَالَّذِينَ كَفَرُوا يُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِ الطَّاغُوتِ فَقَاتِلُوا أَوْلِيَاءَ الشَّيْطَانِ ۖ إِنَّ كَيْدَ الشَّيْطَانِ كَانَ ضَعِيفًا ﴿٧٦﴾
النساء

’’جو لوگ ایمان والے ہیں، وہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں لڑتے ہیں اور کافر شیطان کی راہ میں لڑتے ہیں، اس لیے شیطان کے دوستوں کے ساتھ خوب لڑو۔ شیطان کی تدبیریں بودی ہیں۔‘‘
اور فرمایا:

وَإِذْ قُلْنَا لِلْمَلَائِكَةِ اسْجُدُوا لِآدَمَ فَسَجَدُوا إِلَّا إِبْلِيسَ كَانَ مِنَ الْجِنِّ فَفَسَقَ عَنْ أَمْرِ رَبِّهِ ۗ أَفَتَتَّخِذُونَهُ وَذُرِّيَّتَهُ أَوْلِيَاءَ مِن دُونِي وَهُمْ لَكُمْ عَدُوٌّ ۚ بِئْسَ لِلظَّالِمِينَ بَدَلًا ﴿٥٠﴾
الکہف

’’اور جب ہم نے فرشتوں سے کہا کہ آدم کے آگے سجدہ کرو تو ابلیس کے سوا سبھی نے سجدہ کیا، ابلیس جنات کی قسم سے تھا، اس نے اپنے پروردگار کی نافرمانی کی۔کیا مجھے چھوڑ کر اسے اور اس کی نسل کو اپنے دوست بناتے ہو حالانکہ وہ تمہارے دشمن ہیں۔ ظالموں کو برا ہی بدل ملتا ہے۔‘‘
اور فرمایا:

وَمَن يَتَّخِذِ الشَّيْطَانَ وَلِيًّا مِّن دُونِ اللَّـهِ فَقَدْ خَسِرَ خُسْرَانًا مُّبِينًا ﴿١١٩﴾
النساء


’’اور جو شخص اللہ کو چھوڑ کر شیطان کو دوست بنائے وہ صریح گھاٹے میں آگیا۔‘‘
اور فرمایا:

لَّذِينَ قَالَ لَهُمُ النَّاسُ إِنَّ النَّاسَ قَدْ جَمَعُوا لَكُمْ فَاخْشَوْهُمْ فَزَادَهُمْ إِيمَانًا وَقَالُوا حَسْبُنَا اللَّـهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ ﴿١٧٣﴾فَانقَلَبُوا بِنِعْمَةٍ مِّنَ اللَّـهِ وَفَضْلٍ لَّمْ يَمْسَسْهُمْ سُوءٌ وَاتَّبَعُوا رِضْوَانَ اللَّـهِ ۗ وَاللَّـهُ ذُو فَضْلٍ عَظِيمٍ ﴿١٧٤﴾ إِنَّمَا ذَٰلِكُمُ الشَّيْطَانُ يُخَوِّفُ أَوْلِيَاءَهُ فَلَا تَخَافُوهُمْ وَخَافُونِ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ ﴿١٧٥﴾
آل عمران

’’جن سے لوگوں نے کہا کہ لوگ تمہارے ساتھ لڑنے کے لیے جمع ہورہے ہیں اور ان سے ڈرو تو ان کا ایمان اور بھی زیادہ ہوگیااور کہنے لگے کہ ہمیں اللہ تعالیٰ کافی ہے اور وہ بہت اچھا کارساز ہے۔ پس یہ لوگ اللہ تعالیٰ کی نعمت اور اس کے فضل سے واپس آئے۔ انہیں کوئی تکلیف نہ پہنچی اور انہوں نے اللہ تعالیٰ کی خوشنودی ہی کی جستجو کی اور اللہ تعالیٰ بڑے فضل والا ہے۔ شیطان ہی تمہیں اپنے دوستوں کا ڈراوا دکھاتا ہے۔ اگر تم مومن ہو تو ان سے نہ ڈرو اور مجھی سے ڈرو۔‘‘
اور فرمایا:

إِنَّا جَعَلْنَا الشَّيَاطِينَ أَوْلِيَاءَ لِلَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ ﴿٢٧﴾ وَإِذَا فَعَلُوا فَاحِشَةً قَالُوا وَجَدْنَا عَلَيْهَا آبَاءَنَا وَاللَّـهُ أَمَرَنَا بِهَا ۗ قُلْ إِنَّ اللَّـهَ لَا يَأْمُرُ بِالْفَحْشَاءِ ۖ أَتَقُولُونَ عَلَى اللَّـهِ مَا لَا تَعْلَمُونَ ﴿٢٨﴾ قُلْ أَمَرَ رَبِّي بِالْقِسْطِ ۖ وَأَقِيمُوا وُجُوهَكُمْ عِندَ كُلِّ مَسْجِدٍ وَادْعُوهُ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ ۚ كَمَا بَدَأَكُمْ تَعُودُونَ ﴿٢٩﴾ فَرِيقًا هَدَىٰ وَفَرِيقًا حَقَّ عَلَيْهِمُ الضَّلَالَةُ ۗ إِنَّهُمُ اتَّخَذُوا الشَّيَاطِينَ أَوْلِيَاءَ مِن دُونِ اللَّـهِ وَيَحْسَبُونَ أَنَّهُم مُّهْتَدُونَ ﴿٣٠﴾
الاعراف

’’ہم نے شیطانوں کو انہی لوگوں کا یار بنایا ہے جو ایمان نہیں لاتے اور جب کبھی کسی بری حرکت کے مرتکب ہوتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم نے اپنے بڑوں کو اسی طریقے پر چلتے پایا اور اللہ نے ہم کو اس کا حکم دیا ہے۔ اے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم ! ان لوگوں سے کہو کہ اللہ تو برے کام کا حکم نہیں دیتا۔ تم اللہ کے بارے میں وہ کچھ کہتے ہو جس کا تمہیں علم نہیں؟ اے پیغمبر ان لوگوں سے کہو کہ میرے پروردگار نے تو ہمیشہ انصاف کا حکم دیا ہے اور فرمایا ہے کہ ہر ایک نماز کے وقت تم سب اللہ کی طرف متوجہ ہوجایا کرو اور خالص اسی کی تابعداری میں نظر رکھ کر اس کو پکارو جس طرح تم کو پہلے پیدا کیا تھا۔ اسی طرح تم دوبارہ بھی پیدا ہوگے۔ اسی نے ایک فریق کو ہدایت دی اور ایک فریق ہے کہ گمراہی ان کے حق میں ثابت ہوچکی ہے، ان لوگوں نے اللہ کو چھوڑکر شیطانوں کو اپنا دوست بنایا اور بایں ہمہ سمجھتے ہیں کہ وہ راہ راست پر ہیں۔‘‘
اور فرمایا:

وَإِنَّ الشَّيَاطِينَ لَيُوحُونَ إِلَىٰ أَوْلِيَائِهِمْ لِيُجَادِلُوكُم
الانعام

’’شیطان تو اپنے اولیاء کی طرف وحی کرتے ہی رہتے ہیں تاکہ وہ تم سے کج بحثی کریں۔‘‘
ابراہیم خلیل علیہ السلام نے فرمایا:

يَا أَبَتِ إِنِّي أَخَافُ أَن يَمَسَّكَ عَذَابٌ مِّنَ الرَّحْمَـٰنِ فَتَكُونَ لِلشَّيْطَانِ وَلِيًّا ﴿٤٥﴾
سورہ مریم


’’اے میرے باپ ! مجھے ڈر ہے کہ کہیں آپ رحمن کی طرف سے عذاب میں مبتلا نہ ہو جائیں اور شیطان کے ولی (دوست) نہ بن جائیں۔‘‘
اور فرمایا:

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا عَدُوِّي وَعَدُوَّكُمْ أَوْلِيَاءَ تُلْقُونَ إِلَيْهِم بِالْمَوَدَّةِ وَقَدْ كَفَرُوا بِمَا جَاءَكُم مِّنَ الْحَقِّ يُخْرِجُونَ الرَّسُولَ وَإِيَّاكُمْ ۙ أَن تُؤْمِنُوا بِاللَّـهِ رَبِّكُمْ إِن كُنتُمْ خَرَجْتُمْ جِهَادًا فِي سَبِيلِي وَابْتِغَاءَ مَرْضَاتِي ۚ تُسِرُّونَ إِلَيْهِم بِالْمَوَدَّةِ وَأَنَا أَعْلَمُ بِمَا أَخْفَيْتُمْ وَمَا أَعْلَنتُمْ ۚ وَمَن يَفْعَلْهُ مِنكُمْ فَقَدْ ضَلَّ سَوَاءَ السَّبِيلِ ﴿١﴾ إِن يَثْقَفُوكُمْ يَكُونُوا لَكُمْ أَعْدَاءً وَيَبْسُطُوا إِلَيْكُمْ أَيْدِيَهُمْ وَأَلْسِنَتَهُم بِالسُّوءِ وَوَدُّوا لَوْ تَكْفُرُونَ ﴿٢﴾ لَن تَنفَعَكُمْ أَرْحَامُكُمْ وَلَا أَوْلَادُكُمْ ۚ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَفْصِلُ بَيْنَكُمْ ۚ وَاللَّـهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ ﴿٣﴾ قَدْ كَانَتْ لَكُمْ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ فِي إِبْرَاهِيمَ وَالَّذِينَ مَعَهُ إِذْ قَالُوا لِقَوْمِهِمْ إِنَّا بُرَآءُ مِنكُمْ وَمِمَّا تَعْبُدُونَ مِن دُونِ اللَّـهِ كَفَرْنَا بِكُمْ وَبَدَا بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمُ الْعَدَاوَةُ وَالْبَغْضَاءُ أَبَدًا حَتَّىٰ تُؤْمِنُوا بِاللَّـهِ وَحْدَهُ إِلَّا قَوْلَ إِبْرَاهِيمَ لِأَبِيهِ لَأَسْتَغْفِرَنَّ لَكَ وَمَا أَمْلِكُ لَكَ مِنَ اللَّـهِ مِن شَيْءٍ ۖ رَّبَّنَا عَلَيْكَ تَوَكَّلْنَا وَإِلَيْكَ أَنَبْنَا وَإِلَيْكَ الْمَصِيرُ ﴿٤﴾ رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا فِتْنَةً لِّلَّذِينَ كَفَرُوا وَاغْفِرْ لَنَا رَبَّنَا ۖ إِنَّكَ أَنتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ ﴿٥﴾
الممتحنہ

’’مسلمانو! اگر تم ہماری راہ میں جہاد کرنے اور ہماری رضا مندی ڈھونڈنے کی غرض سے اپنے وطن چھوڑ کر نکلے ہو تو ہمارے اور اپنے دشمنوں کو دوست نہ بنائو کہ ان کی طرف دوستی کے نامہ و پیام دوڑانے لگو، حالانکہ تمہارے پاس جو اللہ کی طرف سے دینِ حق ہے وہ اس سے انکار ہی کرچکے ہیں، وہ تو صرف اتنی بات پر کہ تم اپنا پروردگار اللہ ہی کو مانتے ہو۔ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اور تم کو (گھروں سے) نکال رہے ہیں اور تم چپکے چپکے ان کی طرف دوستی کے پیغام دوڑا رہے ہو اور جو تم چھپا چھپا کر کرتے ہو اور جو ظاہر ظہور کرتے ہو ہم سب کو خوب جانتے ہیں اور جو تم میں سے ایسا کرے گا تو سمجھ لو کہ وہ سیدھے راستے سے بھٹک گیا یہ کافر اگر کہیں تم پر قابو پا جائیں تو کھلم کھلا تمہارے دشمن ہوجائیں اور ہاتھ اور زبان دونوں سے تمہارے ساتھ برائی کرنے میں کوتاہی نہ کریں اور ان کی اصلی تمنا یہ ہے کہ کاش تم بھی انہی کی طرح کافر ہوجائو۔ قیامت کے دن نہ تمہاری رشتہ داریاں ہی تمہارے کچھ کام آئیں گی اور نہ تمہاری اولاد ہی کچھ کام آئے گی، اس دن اللہ ہی تم میں(حق و باطل کا) فیصلہ کرے گا اور جو کچھ تم کر رہے ہو اللہ اس کو دیکھ رہا ہے۔ مسلمانو! ابراہیم علیہ السلام اور جو لوگ ان کے ساتھ تھے، تمہارے لیے ان کا ایک اچھا نمونہ ہو گزرا ہے جب کہ انہوں نے اپنی قوم کے لوگوں سے کہا کہ ہم کو تم سے اور تمہارے ان معبودوں سے جن کی تم اللہ کے سوا پرستش کرتے ہو، لاتعلق اور بیزار ہیں، ہم تم لوگوں کے عقیدوں کو بالکل نہیں مانتے اور ہم میں اور تم میں کھلم کھلا عداوت اور دشمنی ہمیشہ قائم ہوگئی ہے اور یہ دشمنی ہمیشہ کے لیے رہے گی، جب تک کہ تم اکیلے اللہ پر ایمان نہ لائو مگر ہاں ابراہیم علیہ السلام کی اپنے باپ سے اتنی بات کہ میں تمہارے لیے ضرور مغفرت کی دعا کروں گا اور یوں تمہارے لیے اللہ کے آگے میرا کچھ زور تو چلتا نہیں اے پروردگار! ہم تجھی پر بھروسہ رکھتے ہیں اور تیری ہی طرف رجوع کرتے ہیں اور تیری ہی طرف ہمیں لوٹ کر جانا ہے، اے ہمارے پروردگار! ہم کو کافروں کے زور و ظلم کا تختہِ مشق نہ بنا اور اے ہمارے پروردگار! ہمارے گناہ معاف کر، بے شک تو زبردست اور حکمت والا ہے۔‘‘


فصل

مذکورہ بالا آیات سے جب یہ معلوم ہوگیا کہ لوگوں میں رحمن کے ولی (دوست) بھی ہوتے ہیں اور شیطان کے بھی، تو ضروری ہوا کہ جس طرح اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں میں فرق بتایا ہے، اسی طرح ان میں امتیاز کیا جائے اور فرق ملحوظ رکھا جائے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ کے ولی وہ ہیں جو مومن ہوں اور متقی ہوں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا

أَلَا إِنَّ أَوْلِيَاءَ اللَّـهِ لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ ﴿٦٢﴾ الَّذِينَ آمَنُوا وَكَانُوا يَتَّقُونَ ﴿٦٣﴾
یونس

’’یاد رکھو! اللہ تعالیٰ کے دوستوں پر نہ تو کوئی خوف طاری ہوگا اور نہ وہ آزردہ خاطر ہوں گے یہ لوگ ہیں جو ایمان لائے اور تقویٰ پر کاربند رہے۔

نعمت اللہ
28-11-12, 11:56 AM
اور صحیح حدیث میں، جسے بخاری وغیرہ نے سیدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے وارد ہےکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

یَقُوْلُ اللہُ مَنْ عَادٰی لِیْ وَلِیًّا فَقَدْ بَارَزَنِیْ بِالْمُحَارَبَۃِ اَوْ فَقَدْ اٰذَنْتُہ بِالْحَرْبِ وَمَا تَقَرَّبَ اِلَیَّ عَبْدِیْ بِمِثْلِ اَدَا ئِ مَا افْتَرَضْتُ عَلَیْہِ وَلَا یَزَالُ عَبْدِیْ یَتَقَرَّبُ اِلَیَّ بِالنَّوَافِلِ حَتّٰی اُحِبَّہ فَاِذَا اَحْبَبْتُہ کُنْتُ سَمْعَہ الَّذِیْ یَسْمَعُ بِہ وَبَصَرَہُ الَّذِیْ یُبْصِرُ بِہ وَیَدَہُ الَّتِیْ یَبْطِشُ بِہِ وَرِجْلَہُ الَّتِیْ یَمْشِیْ بِھَا فَبِیْ یَسْمَعُ وَبِیْ یُبْصِرُ وَبِیْ یَبْطِشُ وَبِیْ یَمْشِیْ وَلَئِنْ سَاَلَنِیْ لَاُعْطِیَنَّہ وَلَئِنِ اسْتَعَاذَنِیْ لَاُعِیِذَنَّہ وَمَا تَرَدَّدْتُّ عَنْ شَیْءٍ اَنَا فَاعِلُہ تَرَدُّدِیْ عَنْ قَبْضِ نَفْسِ عَبْدِیَ الْمُوْمِنِ یَکْرَہُ الْمَوْتَ وَاَکْرَہُ مُسَاءَتَہ وَلَا بُدَّلَہ مِنْہُ
(بخاری کتاب الرقاق، باب التواضع رقم حدیث: ۶۵۰۲۔ تاہم فقد بارزنی بالمحاربۃکے الفاظ طبرانی کے ہیں۔ (ازہر))

’’اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: جس نے میرے ولی سے دشمنی کی وہ مجھ سے جنگ کے لیے میدان میں نکل آیا ہے۔ یا فرمایا کہ میں نے اس سے جنگ کا اعلان کر دیا، میرا بندہ جتنا میرا قرب میری فرض کردہ چیزوں کے ادا کرنے سے حاصل کرتا ہے اتنا کسی دوسری چیز کے ساتھ حاصل نہیں کر سکتا۔ میرا بندہ نوافل کے ذریعے میرا قرب حاصل کرتا رہتا ہے، یہاں تک کہ ایک وقت آجاتا ہے کہ میں اس سے محبت کرنے لگتا ہوں اور جب میں اس سے محبت کرنے لگوں تو میں اس کا کان بن جاتا ہوں جس سے کہ وہ سنتا ہے اور اس کی آنکھ بن جاتا ہوں، جس سے وہ دیکھتا ہے اور اس کا ہاتھ بن جاتا ہوں، جس سے وہ پکڑتا ہے اور اس کا پائوں بن جاتا ہوں، جس سے وہ چلتا ہے چنانچہ وہ مجھی سے سنتا ہے، مجھی سے دیکھتا ہے، مجھی سے پکڑتا ہے اور مجھی سے چلتا ہے اور اگر وہ مجھ سے کچھ مانگے تو میں ضرور دیتا ہوں، اگر مجھ سے پناہ مانگے تو اسے پناہ دیتا ہوں، میں نے کبھی کسی ایسے فعل سے جسے کہ مجھ کو کرنا ہو اس درجہ تردد نہیں کیا جتنا کہ اپنے اس بندے کی روح قبض کرنے سے تردد کرتا ہوں، اسے موت ناپسند ہے اور مجھے اس کی ناگواری ناپسند ہے جبکہ موت سے اسے چارا بھی نہیں۔‘‘
یہ حدیث صحیح ترین ہے جو اولیاء کے بارے میں وارد ہوئی ہے، سو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمایا کہ اللہ نے ارشاد فرمایا ہے، جس نے میرے دوست سے دشمنی کی وہ مجھ سے جنگ کے لیے میدان میں نکلا ایک اور حدیث میں ہے:

وَاِنِّیْ لَاَثأَرُ لِاَوْلِالیَائِیْ کَمَا یَثْاَرُ اللَّیْثُ الَحَرِبُ
(ابن کثیرسورۃ البقرہ:۹۸۔ الزھد امام احمد ۳۴۷۔ حلیۃ الاولیاء موقوفا علی ابن عباس رضی اللہ عنہما)


’’میں اپنے دوستوں کا بدلہ اس طرح لیتا ہوں جس طرح ایک جنگجو شیر بدلہ لیتا ہے۔‘‘

یعنی جو شخص ان سے دشمنی کرتا ہے۔ اس سے میں ان کا بدلہ اس طرح لیتا ہوں جس طرح شیر حملہ آور اپنا بدلہ لیتا ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے اولیاء وہ ہوتے ہیں جو اس پر ایمان لاتے ہیں۔ اس سے دوستی کرتے ہیں۔

چنانچہ اسی بات کو پسند کرتے ہیں جسے وہ پسند کرے اور اس بات کو ناپسند کرتے ہیں، جو اسے ناپسند ہو۔ جس چیز سے وہ راضی ہو اس سے وہ بھی راضی اور جس پر وہ ناراض ہو اس پر وہ بھی ناراض ہوتے ہیں۔ اسی بات کا حکم کرتے ہیں، جس کا حکم وہ کرے اور اس بات سے منع کرتے ہیں، جو اس نے منع کر دی ہو۔ اسی کو دیتے ہیں جسے دینا اس کو پسند ہو اور اس کو دینے سے باز رہتے ہیں جسے نہ دینا ہی اسے پسند ہو۔ جیسا کہ ترمذی وغیرہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ قول مروی ہے:

اَوْثَقُ الْعُرٰی فِی الْاِیْمَانِ الْحُبُّ فِی اللہِ وَالْبُغْضُ فِی اللہِ
(ترمذی میںنہیںملی۔رواہ ابن ابی شیبہ ۱۱۴۱ و راجع الصحیحۃ، ۹۹۸۔ (ازہر))

’’ایمان کا سب سے زیادہ مضبوط حلقہ اللہ تعالیٰ کے لیے محبت کرنا اور اللہ تعالیٰ ہی کے لیے بغض رکھنا ہے۔‘‘

ایک دوسری حدیث میں جسے ابوداود نے روایت کیا ہے فرمایا:

مَنْ اَحَبَّ لِلہِ وَاَبْغَضَ لِلہِ وَاَعْطٰی لِلہِ وَمَنَعَ لِلہِ فَقَدِ اسْتَکْمَلَ الْاِیْمَانَ
(سنن ابوداؤد ، کتاب السنۃ ، باب الدلیل علی زیادۃ الایمان ونقصانہ عن ابی امامہ (حدیث ۴۶۸۱) والترمذی کتاب صفۃ القیمۃ باب (۶۰) حدیث ۲۵۲۱، عن معاذ بن انس، مسند احمد ، ج ۳، ص ۴۳۸، سلسلۃ الاحادیث الصحیحہ، حدیث ۳۸۰)۔)

’’جس نے اللہ تعالیٰ کے لیے محبت کی اور اس کے لیے خفگی کی ، کچھ دیا تو اللہ ہی کے لیے اور کسی کو دینے سے روکا تو اللہ تعالیٰ ہی کی خوشنودی کو ملحوظ رکھتے ہوئے تو اس شخص نے اپنا ایمان کامل کر لیا۔‘‘

نعمت اللہ
29-11-12, 07:37 AM
ولایت عداوت کی ضد ہے۔ ولایت کی بنیاد محبت اور قرب پر ہے اور عداوت کی بنیاد غصے اور دوری پر ہے ایک قول یہ بھی ہے کہ ولی کو اس لیے ولی کہا جاتا ہے کہ وہ اطاعات کی موالات کرتا ہے یعنی پے در پے عبادت کرتا ہے لیکن پہلا معنی زیادہ درست ہے۔

ولی وہ ہوتا ہے جو قریب ہو چنانچہ کہا جاتا ہے کہ {ھٰذَا یَلِیْ ھٰذَا} یعنی یہ چیز اس چیز کے قریب ہے اور اسی سے جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا قول مروی ہے

اَلْحِقُوالْفَرَآئِضَ بِاَھْلِھَا فَمَا اَبْقَتِ الْفَرَائِضُ فِلِاَوْلیٰ رَجُلٍ ذَکَرٍ
(بخاری ، کتاب الفرائض۔ باب میراث ابن الابن اذالم یکن ابن ۔ رقم ۶۷۳۵۔ مسلم، کتاب الفرائض۔ باب الحقوا الفرائض باھلھا… الخ) رقم الحدیث: ۱۶۱۵۔ ابوداؤد کتاب الذکاۃ۔ باب فی ذکاۃ السائمۃ حدیث ۱۵۶۷۔)

’’میراث پہلے اصحاب الفروض کو دو جو باقی رہے وہ اس مرد کے لیے ہوگا جو میت کا سب سے زیادہ قریبی ہو۔‘‘

رَجُل کا لفظ مرد ہی کے لیے آتا ہے لیکن پھر بھی اس کے ساتھ تاکید کے لیے ذکر (مرد) کا لفظ زیادہ فرمایا تاکہ یہ بات کھل کر بیان ہوجائے کہ یہ حکم مردوں کے ساتھ مختص ہے اور اس میں مرد اور عورتیں ہر دو شریک نہیں ہیں جیسا کہ زکوٰۃ کے بارے میں فرمایا

{فَاِبْنُ لَبُوْنٍ ذَکرٌ}
(ابوداؤد کتاب الذکاۃ۔ باب فی ذکاۃ السائمۃ حدیث ۱۵۶۷۔)

ابنِ لبون کا لفظ خود مذکر ہے۔ تاہم تاکید کے لیے پھر ذکر کا لفظ زیادہ کر دیا ۔
چونکہ اللہ کا ولی وہ ہوتا ہے جو خود کو اللہ کی محبت و رضا کے مطابق ڈھال لے اور محبت و رضا، بغض و ناراضی اور اوامر و نواہی میں اس کی مکمل متابعت اور فرمانبرداری کرے۔ اس لئے اللہ کے ولی کا دشمن، خود اللہ کا دشمن قرار پاتا ہے،جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

لَا تَتَّخِذُوْا عَدُوِّيْ وَعَدُوَّكُمْ اَوْلِيَاۗءَ تُلْقُوْنَ اِلَيْہِمْ بِالْمَوَدَّۃِ
(الممتحنہ)

’’میرے اور اپنے دشمنوں کو دوست نہ بنائو کہ ان کی طرف دوستی کے پیغام دوڑانے لگو۔‘‘

لہٰذا جس نے اللہ تعالیٰ کے دوستوں سے دشمنی کی، اس نے اللہ تعالیٰ سے دشمنی کی اور جس نے اس سے دشمنی کی وہ اس سے برسرِ پیکار ہوا۔ اس لیے فرمایا:

’’مَنْ عَادٰی لِیْ وَلِیًّا فَقَدْ بَارَزَنِیْ بِالْمُحَارَبَۃِ‘‘
(بخاری، کتاب الرقاق، باب التواضع، رقم الحدیث: ۶۵۰۲۔)

جس نے میرے دوست سے دشمنی کی اس نے میرے خلاف اعلانِ جنگ کیا

نعمت اللہ
29-11-12, 07:56 AM
اولیاء اللہ میں سب سے زیادہ فضیلت انبیاء کو حاصل ہے اور انبیاءعلیہم السلام میں سب سے زیادہ فضیلت انہیں حاصل ہے جو مرسل ہوں اور مرسل نبیوں میں سب سے زیادہ فضیلت والے اولوالعزم رسول نوح، ابراہیم، موسیٰ، عیسیٰ اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

شَرَعَ لَكُم مِّنَ الدِّينِ مَا وَصَّىٰ بِهِ نُوحًا وَالَّذِي أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ وَمَا وَصَّيْنَا بِهِ إِبْرَاهِيمَ وَمُوسَىٰ وَعِيسَىٰ ۖ أَنْ أَقِيمُوا الدِّينَ وَلَا تَتَفَرَّقُوا فِيهِ ۚ كَبُرَ عَلَى الْمُشْرِكِينَ مَا تَدْعُوهُمْ إِلَيْهِ ۚ اللَّـهُ يَجْتَبِي إِلَيْهِ مَن يَشَاءُ وَيَهْدِي إِلَيْهِ مَن يُنِيبُ ﴿١٣﴾
(الشوریٰ)

’’اس نے تمہارے لیے دین کا وہی راستہ ٹھہرایا ہے جس کا اس نے نوح کو حکم دیا تھا اور تمہاری طرف بھی ہم نے اسی رستے کی وحی کی ہے اور اسی کا ہم نے ابراہیم علیہ السلام اور موسیٰ علیہ السلام اور عیسیٰ علیہ السلام کو بھی حکم دیا تھا کہ اس دین کو قائم رکھنا اور اس میں تفرقہ نہ ڈالنا۔‘‘

اور فرمایا:

وَإِذْ أَخَذْنَا مِنَ النَّبِيِّينَ مِيثَاقَهُمْ وَمِنكَ وَمِن نُّوحٍ وَإِبْرَاهِيمَ وَمُوسَىٰ وَعِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ ۖ وَأَخَذْنَا مِنْهُم مِّيثَاقًا غَلِيظًا ﴿٧﴾ لِّيَسْأَلَ الصَّادِقِينَ عَن صِدْقِهِمْ ۚ وَأَعَدَّ لِلْكَافِرِينَ عَذَابًا أَلِيمًا ﴿٨﴾
(الاحزاب)

’’جب ہم نے پیغمبروں سے تبلیغِ رسالت کا عہد لیا اور خاص کر تم سے اور نوح علیہ السلام اور ابراہیم علیہ السلام اور موسیٰ علیہ السلام اور مریم کے بیٹے عیسیٰ علیہ السلام سے اور ان سب سے پکا عہد لیا تاکہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن سچے لوگوں سے ان کے سچ کا حال دریافت کرے اور اس نے کافروں کے لیے عذاب درد ناک تیار کر رکھا ہے۔‘‘

اولوالعزم رسولوں میں سب سے افضل محمد صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین اور امام المتقین ہیں جو اولادِ آدم علیہ السلام کے سردار ہیں۔ قیامت کے دن جب انبیاء اکٹھے ہوں گے تو جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی ان کے امام ہوں گے۔ جب ان کا وفد بنے گا تو جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے خطیب ہوں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس مقام محمود والے ہیں جس کی وجہ سے پہلے اور پچھلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر رشک کریں گے۔ الحمد کے جھنڈے والے، حوض کوثر کے ساقی، قیامت کے دن لوگوں کی شفاعت کرنے والے اور صاحب ِ وسیلہ و فضیلت جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی ہیں۔ جنہیں اللہ تعالیٰ نے سب سے زیادہ فضیلت والی کتاب دے کر بھیجا اور جن کے لیے سب سے افضل احکام و شریعت مقرر فرمائے، جن کی امت کو بہترین امت قرار دیا جو لوگوں کے لیے مبعوث کی گئی ہے، ان میں اور ان کی امت میں وہ فضائل و محاسن جمع کر دئیے جو ان سے پہلے لوگوں کو الگ الگ عطا ہوتے تھے۔ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت پیدا تو سب سے آخر میں ہوئی لیکن قیامت کے روز اٹھنے میں سب سے پہلے ہو گی، چنانچہ صحیح حدیث میں جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلمکا یہ قول مبارک ہے:

نَحْنُ الْاٰخِرُوْنَ السَّابِقُوْنَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ بَیْدَ اَنَّھُمْ اُوْتُوا الْکِتَابَ مِنْ قَبْلِنَا وَاُوْتِیْنَاہُ مِنْ بَعْدِھِمْ فَھٰذَا یَوْمُھُمُ الَّذِیْنَ اخْتَلَفُوْا فِیْہِ یَعْنِی الْجُمُعَۃَ فَھَدَانَا اللہُ لَہُ النَّاسُ لَنَا تَبَعٌ فِیْہِ غَدًا لِلْیَھُوْدِ وَبَعْدَ غَدٍ لِلنَّصَارٰی
(بخاری کتاب الجمعۃ باب فرض الجمعۃ۔مسلم کتاب الجمعۃ باب ہدایۃ ہذہ الامۃ لیوم الجمعۃ رقم:۸۷۶۔ نسائی کتاب الجمعۃ باب ایجاب الجمعۃ، رقم۱۳۶۸۔ مسند احمد ج۲، ص۲۴۲وغیرہ۔)

’’(دنیا میں) ہم آخر میں آنے والے قیامت کے دن آگے ہوں گے، فرق صرف اس قدر ہے کہ انہیں کتاب ہم سے پہلے دی گئی ہے اور ہمیں ان کے بعد دی گئی یہ ان کا دن ہے جس میں ان کا اختلاف پڑگیا (مُراد جمعۃ المبارک ہے) اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس دن کی ہدایت کر دی۔ اب لوگ اس بات میں بھی ہم سے پیچھے ہیں(ہمارا جمعہ ہے) ان کا ہفتہ جو جمعہ کے دوسرے دن آتا ہے اور نصاریٰ کا اتوار ہے، جو جمعہ کے تیسرے دن آتاہے۔‘‘

نیز فرمایا:

اَنَا اَوَّلُ مَنْ تَنْشَقُّ عَنْہُ الْاَرْضُ
(ترمذی،رقم: ۳۶۹۲، کتاب المناقب باب مناقب عمر۔ ابوداؤد کتاب السنۃ، باب فی التخیرین الانبیآء رقم: ۳۶۷۳)

’’قیامت کے دن جس پر سے زمین سب سے پہلے کھلے گی میں ہوں۔‘‘
نیز فرمایا:

اٰتِیْ بَابَ الْجَنَّۃِ فَاَسْتَفْتِحُ فَیَقُوْلُ الْخَازِنُ مَنْ اَنْتَ فَاقُوْلُ اَنَا مُحَمَّدٌ فَیقُوْلُ بِکَ اُمِرْتُ اَنْ لَّا اَفْتَحَ لِاَحَدٍ قَبْلَکَ
(مسلم کتاب الایمان باب قول النبی انا اول الناس یشفع فی الجنۃ رقم: ۴۸۶، مسند احمد ج۳، ص ۱۳۶۔)

’’میں جنت کے دروازے پر آکر دروازہ کھولنے کو کہوں گا۔ دربان کہے گا کہ آپ کون ہیں ؟میںکہوں گا کہ میں محمد ہوں۔ وہ کہے گا کہ آپ ہی کے متعلق مجھے حکم دیا گیا کہ آپ سے پہلے کسی کے لیے دروازہ نہ کھولوں۔’’

نعمت اللہ
01-12-12, 07:29 AM
جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کے فضائل بہت ہیں اور جب سے اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث فرمایا۔ آپ کو اپنے دوستوں اور دشمنوں کے درمیان فرق اور مابہ الامتیاز بنایا۔ چنانچہ کوئی شخص اس وقت تک اللہ کا ولی نہیں ہوسکتا۔ جب تک کہ وہ جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر اور جو کچھ وہ لائے ہیں، اس پرایمان نہ لائے اور ظاہر و باطن میں ان کی اتباع نہ کرے۔ جو شخص اللہ تعالیٰ کی محبت اور ولایت کا دعویٰ کرے اور جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی نہ کرے۔ وہ اولیاء اللہ میں سے نہیں ہے بلکہ جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا مخالف ہو وہ تو اللہ تعالیٰ کے دشمنوں اور شیطان کے دوستوں میں سے ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

قُلْ إِن كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللَّـهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللَّـهُ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ ۗ وَاللَّـهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ ﴿٣١﴾
آل عمران

’’اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ان سے کہہ دو کہ اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو میری اتباع کرو اللہ تم سے محبت کرے گا۔‘‘

ولی کی تعریف حسن بصری رحمہ اللہ کی زبان سے

حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ بعض لوگوں نے دعویٰ کیا کہ ہم اللہ سے محبت کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ نے مذکور بالا آیت کریمہ ان کے امتحان کے لیے نازل فرمائی اور اس میں یہ بیان کر دیا کہ جو شخص رسول اللہ کی اتباع کرے گا اللہ تعالیٰ اس سے محبت رکھے گا اور جو شخص اللہ تعالیٰ کی محبت کا مدعی ہو اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع نہ کرے تو وہ اولیاء اللہ سے نہیں ہے اور نہ ہوسکتاہے۔ اگرچہ بہت سے لوگ دل میں اپنے متعلق یا کسی اور کے متعلق یہ خیال کرتے ہیں کہ وہ اولیاء اللہ میں سے ہیں لیکن حقیقت میں وہ اولیاء اللہ نہیں ہوتے۔ یہود و نصاریٰ بھی تو اس کے مدعی ہیں کہ وہ اللہ کے دوست اور محبوب ہیں اور جنت میں صرف وہی داخل ہوگا جو ان میں سے ہوگا۔بلکہ ان کا دعویٰ ہے کہ وہ اللہ کے بیٹے اور اس کے محبوب ہیں۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا :

وَقَالَتِ الْيَهُودُ وَالنَّصَارَىٰ نَحْنُ أَبْنَاءُ اللَّـهِ وَأَحِبَّاؤُهُ ۚ قُلْ فَلِمَ يُعَذِّبُكُم بِذُنُوبِكُم ۖ بَلْ أَنتُم بَشَرٌ مِّمَّنْ خَلَقَ ۚ يَغْفِرُ لِمَن يَشَاءُ وَيُعَذِّبُ مَن يَشَاءُ ۚ وَلِلَّـهِ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا ۖ وَإِلَيْهِ الْمَصِيرُ ﴿١٨﴾
المائدہ

’’یہودیوں اور نصرانیوں نے کہا کہ ہم اللہ کے بیٹے اور اس کے پیارے ہیں، ان سے کہہ دوکہ پھر وہ تمہیں تمہارے گناہوں پر عذاب کیوں کرتا ہے(ایسا ہرگز نہیں) بلکہ تم بھی اس کی مخلوق میں ایک نوع یعنی بشر ہو۔ اس کی شان یہ ہے کہ جسے چاہے بخشے اور جسے چاہے عذاب کرے۔ آسمان و زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے۔ سب کی بادشاہت اسی کے پاس ہے اور اسی کی طرف جانا ہے۔‘‘
نیز فرمایا:

وَقَالُوا لَن يَدْخُلَ الْجَنَّةَ إِلَّا مَن كَانَ هُودًا أَوْ نَصَارَىٰ ۗ تِلْكَ أَمَانِيُّهُمْ ۗ قُلْ هَاتُوا بُرْهَانَكُمْ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ ﴿١١١﴾ بَلَىٰ مَنْ أَسْلَمَ وَجْهَهُ لِلَّـهِ وَهُوَ مُحْسِنٌ فَلَهُ أَجْرُهُ عِندَ رَبِّهِ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ ﴿١١٢﴾
البقرہ

’’اور اہل کتاب کہتے ہیں کہ یہود اور نصاریٰ کے سوا، جنت میں کوئی نہیں جانے پائے گا۔ یہ ان کی تمنائیں ہیں۔ اے پیغمبر ان سے کہہ دو کہ اگر سچے ہو تو اپنی دلیل لائو (بلکہ واقعی بات تو یہ ہے کہ) جس نے اللہ کے آگے سر تسلیم خم کر دیا اور وہ نیکوکار بھی ہے تو اس کے لیے اس کا اجر اس کے پروردگار کے ہاں موجود ہے اور ایسے لوگوں پر نہ کسی قسم کا خوف طاری ہوگا اور نہ وہ کسی طرح آزردہ خاطر ہوں گے۔‘‘

مشرکینِ عرب کا یہ دعویٰ تھا کہ مکہ مکرمہ میں رہنے اور بیت اللہ کے پڑوسی ہونے کی وجہ سے ہم اللہ کا کنبہ ہیں اور اس کی وجہ سے دوسروں پر اپنی بڑائی جتایا کرتے تھے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :

قَدْ كَانَتْ آيَاتِي تُتْلَىٰ عَلَيْكُمْ فَكُنتُمْ عَلَىٰ أَعْقَابِكُمْ تَنكِصُونَ ﴿٦٦﴾ مُسْتَكْبِرِينَ بِهِ سَامِرًا تَهْجُرُونَ ﴿٦٧﴾
المومنون

’’ہماری آیتیں تم کو پڑھ کرسنائی جاتی تھیں اورتم اکڑے اکڑے قرآن کا مشغلہ بناتے ہوئے بیہودہ باتیں کرتے، الٹے پائوں بھاگتے تھے۔‘‘

نیز ارشاد فرمایا:

وَإِذْ يَمْكُرُ بِكَ الَّذِينَ كَفَرُوا لِيُثْبِتُوكَ أَوْ يَقْتُلُوكَ أَوْ يُخْرِجُوكَ ۚ وَيَمْكُرُونَ وَيَمْكُرُ اللَّـهُ ۖ وَاللَّـهُ خَيْرُ الْمَاكِرِينَ ﴿٣٠﴾ وَإِذَا تُتْلَىٰ عَلَيْهِمْ آيَاتُنَا قَالُوا قَدْ سَمِعْنَا لَوْ نَشَاءُ لَقُلْنَا مِثْلَ هَـٰذَا ۙ إِنْ هَـٰذَا إِلَّا أَسَاطِيرُ الْأَوَّلِينَ ﴿٣١﴾ وَإِذْ قَالُوا اللَّـهُمَّ إِن كَانَ هَـٰذَا هُوَ الْحَقَّ مِنْ عِندِكَ فَأَمْطِرْ عَلَيْنَا حِجَارَةً مِّنَ السَّمَاءِ أَوِ ائْتِنَا بِعَذَابٍ أَلِيمٍ ﴿٣٢﴾ وَمَا كَانَ اللَّـهُ لِيُعَذِّبَهُمْ وَأَنتَ فِيهِمْ ۚ وَمَا كَانَ اللَّـهُ مُعَذِّبَهُمْ وَهُمْ يَسْتَغْفِرُونَ ﴿٣٣﴾ وَمَا لَهُمْ أَلَّا يُعَذِّبَهُمُ اللَّـهُ وَهُمْ يَصُدُّونَ عَنِ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَمَا كَانُوا أَوْلِيَاءَهُ ۚ إِنْ أَوْلِيَاؤُهُ إِلَّا الْمُتَّقُونَ وَلَـٰكِنَّ أَكْثَرَهُمْ لَا يَعْلَمُونَ ﴿٣٤﴾
الانفال

’’اے پیغمبر! وہ وقت یاد کرو جب کافر تمہارے بارے میں تدبیر کر رہے تھے تاکہ تم کو باندھ رکھیں یا تم کو مار ڈالیں یا تم کو جلا وطن کر دیں اور حال یہ تھا کہ کافر اپنی تدبیریں کر رہے تھے اور اللہ اپنی تدبیر کر رہا تھا اور اللہ سب سے بہتر تدبیر کرنے والا ہے اور جب ہماری آیات اُن کافروں کو پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو کہتے ہیں۔ ہم نے سن تو لیا اگر ہم چاہیں تو ہم بھی اس طرح کا قرآن کہہ لیں۔ یہ اگلے لوگوں کی کہانیاں ہی تو ہیں اور اے پیغمبر! وہ وقت یاد کرو جب ان کافروں نے دعائیں مانگیں کہ یااللہ اگر یہ دین اسلام یہی دین حق ہے اور تیری طرف سے اترا ہے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا، یا ہم پر کوئی اور عذاب درد ناک لا نازل کر اور اللہ ایسا نہیں ہے کہ تم ان لوگوں میں موجود رہو اور وہ تمہارے رہتے ان لوگوں کو عذاب دے اور اللہ ایسا بھی نہیں کہ بعض لوگ گناہوں کی معافی اللہ سے مانگتے رہیں اور وہ ان سب کو عذاب دے اور (اب کہ تم مدینے ہجرت کر کے چلے آئے) تو ان کفارِ مکہ کا کیا استحقاق رہا کہ یہ تو خانہ کعبہ کے جانے سے مسلمانوں کو روکیں اور اللہ ان کو عذاب نہ دے حالانکہ یہ لوگ اللہ کے ولی (دوست) نہیں ہیں۔ اللہ کے ولی (دوست) صرف وہ ہیں جو اس سے ڈرتے ہیں لیکن ان میں بہت سے لوگ نہیں جانتے۔‘‘

سو اللہ تعالیٰ نے صاف صاف بیان فرما دیا کہ مشرکین میرے ولی (دوست ) نہیں ہیں اور نہ ہی کعبۃ اللہ کے متولی اور مختار ہیں۔ میرے ولی (دوست) تو صرف متقی لوگ ہیں۔
صحیحین میں سیدناعمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خود سنا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پوشیدہ نہیں بلکہ علانیہ اور بلند آواز سے فرما رہے تھے:
’’ان اٰل فلان لیسوا لی بأولیاء (یعنی طائفہ من اقاربہ) انما ولیی اللہ و صالح المؤمنین‘‘

کہ آل فلاں (جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اقارب و اعزہ کی ایک جماعت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا) میرے دوست نہیںہیں، میرا ولی (دوست) تو اللہ ہے اور نیکوکار اہل ایمان ہیں
(بخاری کتاب الادب باب تبل الرحم ببلالھا رقم:۵۹۹۰ ، مسلم کتاب الایمان باب موالات المؤمنین و مقاطعۃ غیرھم برقم: ۲۱۵)

یہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے مطابق ہے کہ:


فَإِنَّ اللَّـهَ هُوَ مَوْلَاهُ وَجِبْرِيلُ وَصَالِحُ الْمُؤْمِنِينَ ۖ وَالْمَلَائِكَةُ بَعْدَ ذَٰلِكَ ظَهِيرٌ ﴿٤﴾
التحریم


’’تو اللہ تعالیٰ اس کا دوست ہے۔ جبریل اور نیک مومن اس کے دوست ہیں ۔‘‘
صالح المومنین سے مراد وہ شخص ہے جو اہل ایمان میں سے ہو اور نیک کام کرنے والا ہو اور مومن و متقی ہو یہی لوگ اللہ تعالیٰ کے دوست ہیں۔ ان لوگوں میں سیدناابوبکر، عمر، عثمان، علی رضی اللہ عنہم اور وہ تمام لوگ داخل ہیں، جنہوں نے درخت کے نیچے بیعت رضوان کا فخر حاصل کیا۔ یہ لوگ تعداد میں چودہ سو تھے اور وہ سب جنتی ہیں۔ جیسا کہ حدیثِ صحیح سے ثابت ہے۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

لَا یَدْخُلُ النَّارَ اَحَدٌ بَا یَعَ تَحْتَ الشَّجَرَۃِ
(مسلم کتاب الفضائل باب فضائل اصحاب الشجرۃ۔ رقم ۶۴۰۴ ابوداؤد کتاب السنۃ باب فی الخلفاء رقم ۳۶۵۳۔ ترمذی کتاب المناقب باب ماجاء فی فضل من بایع تحت الشجرۃ ، رقم: ۳۸۶۰)

’’درخت کے نیچے بیعت کرنے والوں میں سے ایک بھی دوزخ میں نہ جائے گا۔‘‘
اسی طرح ایک اور حدیث ہے:

اِنَّ اَوْلِیَائَ اللہِ الْمُتَّقُوْنَ اَیْنَ کَانُوْا وَحَیْثُ کَانُوْا
(فتح الباری۱۱۱۶۰۔طبرانی۵۳۹۔روا ہ احمد عن معاذ بن جبل و لفظہ ان اولی الناس بی المتقون من کانوا وحیث کانوا ، ۵۲۳۵ (ازھر))

’’اللہ کے دوست متقی لوگ ہیں، چاہے وہ کوئی بھی ہوں یا کہیں بھی ہوں۔‘‘

نعمت اللہ
05-12-12, 12:52 PM
کفار میں سے بھی بعض آدمی اس کے مدعی ہوتے ہیں کہ وہ اللہ کے ولی ہیں۔حالانکہ وہ اس کے ولی نہیں بلکہ اس کے دشمن ہیں۔ اسی طرح منافقین میں سے بعض ایسے لوگ ہوتے ہیں، جو اسلام ظاہر کرتے ہیں اور بظاہر لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کی شہادت کا اقرار بھی کرتے ہیں۔ یہ بھی کہتے ہیں کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمام انسانوں بلکہ انسان و جن دونوں کی طرف بھیجے گئے ہیں۔ حالانکہ باطن میں ان کا عقیدہ اس کے خلاف ہوتا ہے۔ مثلاً وہ جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تبارک و تعالیٰ کا رسول نہیں سمجھتے بلکہ انہیں دوسرے بادشاہوں کی طرح ایک بادشاہ سمجھتے ہیں، جن کی لوگ اطاعت کرتے تھے یا وہ کہتے ہیں کہ وہ لوگوں پر اپنی غیر معمولی عقل سے دبدبہ جماتا تھا، یا یہ کہتے ہیں کہ جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول تو ہیں لیکن اَن پڑھ لوگوں کی طرف نہ کہ اہل کتاب کی طرف، بہت سے یہود و نصاریٰ بھی ایسا ہی کہتے ہیں۔ یا یوں کہتے ہیں کہ وہ عام لوگوں کی طرف رسول بنا کر بھیجے گئے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے جو خاص دوست ہیں، ان کی طرف نہیں بھیجے گئے اور نہ اولیاء اللہ انکی رسالت کے محتاج ہیں۔ ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف جانے کا جو رستہ معلوم ہے، وہ جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جہت سے علیحدہ ہے جیسا کہ خضر علیہ السلام کی راہ موسیٰ علیہ السلام سے علیحدہ تھی۔ یا یہ کہ وہ اللہ تعالیٰ سے وہ تمام چیزیں بلاواسطہ حاصل کر لیتے ہیں، جن کی انہیں ضرورت ہو اور ان سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ یا یہ کہتے ہیں کہ جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ظاہری احکام دے کر بھیجے گئے ہیں۔ ان ظاہری احکام میں تو ہم ان سے اتفاق کرتے ہیں۔ رہے باطنی حقائق تو آپ ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ان کے ساتھ مبعوث نہیں کیے گئے یا کہتے ہیں کہ آپ ان سے آگاہ نہ تھے۔ یا یہ کہتے کہ ہم رسول اللہ کی بہ نسبت ان حقائق کے زیادہ واقف ہیں، یا اتنے ہی واقف ہیں جتنے کہ رسول اللہ ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ہیں اور انہیں یہ حقائق آپ ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی مانند معلوم ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ کسی اور واسطہ سے معلوم ہوگئے ہیں۔

نعمت اللہ
05-12-12, 01:01 PM
ان میں سے بعض لوگ یہاں تک کہتے ہیں کہ اہل صفہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مستغنی تھے اور ان کی طرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھیجے ہی نہیں گئے تھے۔ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے باطنی طور پر اہل صُفہّ کو وہ سب کچھ وحی کے ذریعے سے بتا دیا تھا جو کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو معراج کی رات کو وحی کے ذریعے سے بتایا گیا تھا۔ اس لیے اہل صُفہّ ان کے ہم رتبہ ہوگئے۔ان لوگوں کو فرطِ جہالت سے یہ سمجھنے کی بھی توفیق نہ ہوئی کہ واقعہ اسراء تو مکہ میں ہوا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
ِ
سُبْحَانَ الَّذِي أَسْرَىٰ بِعَبْدِهِ لَيْلًا مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ إِلَى الْمَسْجِدِ الْأَقْصَى الَّذِي بَارَكْنَا حَوْلَهُ ۔۔۔' ﴿١﴾
ِبنی اسرائیل

’’(عجز و درماندگی کے عیب سے) پاک ہے وہ جو اپنے بندے کو راتوں رات مسجد حرام سے اس مسجد اقصیٰ تک لے گیا، جس کے ماحول پر ہم نے برکتیں نازل کر رکھی تھیں۔‘‘

اور صُفہّ مدینے میں جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد کے شمال کی طرف تھا۔ اس میں وہ مسافر اترا کرتے جن کا نہ کوئی گھر ہوتا تھا اور نہ کوئی دوست ہوتے تھے، جن کے ہاں وہ مہمان ٹھہریں۔ مومنین ہجرت کر کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف آیا کرتے تھے۔ جو شخص کسی مکان میں فروکش ہوسکتا، ہوجاتا اور جس کی کوئی جگہ نہ ہوئی تھی وہ مسجد میں ٹھہرتا تھا اور جب تک اسے کوئی جگہ نہ ملتی تھی، وہیں ٹھہرا رہتا تھا۔ اہل صفہ کوئی معین آدمی نہ تھے، جو ہمیشہ صفہ ہی پر رہتے ہوں بلکہ وہ کبھی تھوڑے ہوجاتے تھے، کبھی زیادہ ہوجاتے تھے۔ ایک شخص کچھ مدت کے لیے وہاں رہتا تھا پھر وہاں سے چلا جاتا تھا اور جو لوگ صُفہّ میں اترتے تھے، وہ عام مسلمانوں کی مانند ہوتے تھے۔ انہیں علم یا دین میں کوئی امتیازی حیثیت حاصل نہیں ہوتی تھی بلکہ ان میں تو ایسے لوگ بھی تھے جو بعد میں اسلام سے مرتد ہو گئے تھے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں قتل کیا تھا۔ عرینہ قبیلہ کے آدمی مدینہ میں اترے آب و ہوا ناموافق آئی اور بیمار ہوگئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے دودھ دینے والی اونٹنیاں منگوائیں اور فرمایا کہ ’’ان کا دودھ اور پیشاب پیا کرو‘‘ (چنانچہ اس علاج سے وہ تندرست ہوگئے) اور جب تندرست ہوگئے تو چرواہے کو قتل کر دیا اور اونٹنیوں کو ہانک لے گئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی تلاش کے لیے آدمی بھیجے چنانچہ وہ لائے گئے، ان کے ہاتھ پائوں کاٹ دئیے گئے، ان کی آنکھوں میں لوہے کی دہکتی ہوئی سلاخیں پھیری گئیں اور انہیں تپتے ہوئے ریگستان میںچھوڑ دیا گیا، پانی مانگتے تھے تو نہیں دیاجاتا تھا، ان کا قصہ صحیحین میں سیدناانس رضی اللہ عنہ کی روایت سے موجود ہے

(بخاری کتاب الوضوء ، باب ابوال الابل رقم: ۲۳۲ مسلم کتاب القسامۃ باب حکم المحاربین والمرتدین رقم: ۴۳۵۳، ترمذی کتاب الطہارۃ باب ماجاء فی بول مایوکل لحمہ رقم: ۷۲۔)

اور اسی حدیث میں ہے کہ وہ صُفّہ میں آکر ٹھہرتے تھے۔ اس سے معلوم ہوا کہ صُفہّ میں ان کی طرح کے لوگ بھی اترتے تھے اور ان میں سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ جیسے اچھے مسلمان بھی ٹھہرے تھے۔ سعد بن ابی وقاص صُفّہ میں اترنے والوں میں سب سے زیادہ افضل تھے، بعد ازاں وہ چلے گئے تھے اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور دیگر حضرات علیہم الرضوان بھی اترے تھے۔ ابوعبدالرحمن سلمی نے اصحاب صُفہّ کی تاریخ مرتب کی ہے، جس میں اس موضوع پر تفصیلی بحث موجود ہے۔

نعمت اللہ
05-12-12, 01:11 PM
جہاں تک انصار کا تعلق ہے تو وہ اصحاب صُفہّ میں سے نہیں تھے اور نہ بڑے بڑے مہاجرین مثلاً ابوبکر، عمر، عثمان، علی، طلحہ، زبیر، عبدالرحمن بن عوف، ابوعبیدہ وغیرہم علیہم الرضوان صُفہّ پر کبھی فروکش ہوئے۔ ایک روایت ہے کہ مغیرہ بن شعبہ کا ایک غلام صُفہّ میں اترا تھا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ یہ لڑکا سات اکابر اقطاب میں سے ہے مگر اس حدیث کے جھوٹے ہونے پر اہل علم کا اتفاق ہے گو ابونعیم نے اسے حلیۃ الاولیاء میں روایت کیاہے۔ اسی طرح جتنی احادیث بھی اولیاء ، ابدال، نقباء، نجباء، اوتاد اور اقطاب کی تعداد کے متعلق نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی گئی ہیں اور جن میں ان کی تعداد چار، یا سات، یا بارہ، یا چالیس، یا ستر، یا تین سو یا تین سو تیرہ بتائی گئی ہے یا یہ بتایا گیا ہے کہ قطب ایک ہے یا یہ کہ غوث ایک ہے، ان میں کوئی بھی ایسی بات نہیں جس کا نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے صادر ہونا ثابت ہو۔ اور ان الفاظ میں سے کوئی بھی بجز لفظ ابدال کے سلف صالحین کی زبان پر نہیں آیا، ان کے متعلق یہ بھی مروی ہے کہ وہ چالیس آدمی ہیں اور وہ شام میں ہیں۔ یہ مسند میں سیدناعلی رضی اللہ عنہ کی روایت سے ہے اور یہ منقطع ہے، اس کا صحیح ہونا ثابت نہیں ہوا حالانکہ یہ مسلّم ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور ان کے رفقاء جو کہ صحابہ میں سے تھے۔ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں سے افضل تھے۔ یہ تو ہونہیں سکتا کہ تمام لوگوں میں جو آدمی افضل ہوں وہ سیدناعلی رضی اللہ عنہ کے کیمپ میں نہ ہوں اور سیدنامعاویہ رضی اللہ عنہ کے کیمپ میں ہوں۔ صحیحین میں ابوسعید رضی اللہ عنہ کی روایت سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث منقول ہے کہ جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا

تَمْرُقُ مَارِقَۃٌ مِّنَ الدِّیْنِ عَلٰی حِیْنِ فُرْقَۃٍ مِّنَ الْمُسْلِمِیْنَ یَقْتُلُھُمْ اَوْلَی الطَّائِفَتَیْنِ بِالْحَقِّ

’’جب مسلمانوں میں اختلاف پیدا ہوگا تو ایک گروہ دین سے اس طرح خارج ہو جائے گا جس طرح تیرکمان سے نکل جاتا ہے، ان دین سے نکلنے والوں کو وہ جماعت قتل کرے گی جو حق سے قریب تر ہوگی۔‘‘
(مسلم کتاب الزکوٰۃ باب ذکر الخوارج و صفاتھم رقم: ۲۴۵۸ ، مسند احمد ج ۳، ص ۷۳، ۴۸ ابوداؤد کتاب السنۃ باب مایدل علی ترک الکلام فی الفتنۃ رقم: ۴۶۶۷، بخاری میںان لفظوں سے منقول نہیں ہے، دیکھیں حدیث نمبر ۳۳۴۴)

یہ مارقین فرقہ حروریہ کے خوارج تھے۔ جب سیدناعلی رضی اللہ عنہ کی خلافت کے بارے میں مسلمانوں کے مابین اختلاف پیدا ہوا تو یہ دین سے نکل گئے۔ سیدناعلی رضی اللہ عنہ بن ابی طالب ، اور ان کے رُفقاء نے انہیں قتل کر دیا، یہ حدیث اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ سیدناعلی رضی اللہ عنہ ، معاویہ رضی اللہ عنہ اور ان کے حامیوں کی بہ نسبت حق سے زیادہ قریب تھے تو پھر یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ ابدال، اعلیٰ کیمپ کو چھوڑ کر ادنیٰ کیمپ میں ملک شام میں شامل ہوجائیں۔ اسی طرح وہ حدیث ہے، جسے بعض نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے یعنی یہ کہ کسی شخص نے یہ شعر پڑھے:

لَقَدْ لَسَعَتْ حَیَّۃُ الْھَوٰی کَبِدِیْ
فَلاَ طَبِیْبَ لَھَا وَلاَ رَاقٍ
اِلاَّ الْحَبِیْبُ الَّذِیْ شَغَفْتُ بِہ
فَعِنْدَہ رُقْیَتِیْ وَ تَرْیَاقِیْ

’’عشق کے سانپ نے میرے جگر کو ڈس لیا ہے۔ اس کا کوئی طبیب معالج ہے اور نہ کوئی دم کرنے والا۔ ہاں اگر اس کا علاج کرنے والا کوئی ہے تو وہ محبوب ہے، جس پر میں شیدا ہوں۔ اسی کے پاس مجھے کیا جانے والا دم ہے اور اسی کے پاس میرے زہر کا تریاق ہے۔ ‘‘

یہ اشعار سن کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر وجد طاری ہوگیا حتیٰ کہ چادر جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دوش مبارک سے گر پڑی۔

علم حدیث کے جاننے والوں نے بالاتفاق اس حدیث کو جھوٹا کہا ہے اور اس سے بھی زیادہ جھوٹی روایت یہ ہے کہ جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا کپڑا پھاڑ کر ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا اور ان میں سے ایک ٹکڑا جبریل علیہ السلام نے اٹھا کر عرش پر لٹکا دیا۔ یہ اور اس طرح کی روایات ایسی ہیں جو حدیث کا علم اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی معرفت رکھنے والوں کے نزدیک واضح ترین جھوٹ ہیں
میزان الاعتدال ترجمہ عمار بن اسحاق نیز ازالۃ االخفاء ۲؍۱۴۱۔اسے السہروردی نے عوارف المعارف میں اپنی سند کے ساتھ روایت کرنے کے بعد لکھا ہے:’’ہم نے یہ حدیث جیسے سنی وارد کر دی اور سند کے ساتھ بیان کر دی، محدثین اس کی صحت میں کلام کرتے ہیں۔ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہم نے کوئی روایت اس سے بڑھ کر نہیں دیکھی جو ہمارے زمانے کے لوگوں کے سماع، اجتماع اور ’’حال‘‘ سے مشابہت رکھتی ہو۔اور یہ صوفیاء اور ہمارے زمانے کے سماع کے قائلین کے لیے کس قدر خوبصورت دلیل ہے، سماع اور اپنے خرقے پھاڑنے اور پھر انہیں (بطور تبرک) تقسیم کرنے کے حق میں اگر یہ درجۂ صحت کو پہنچ جائے۔ واللہ اعلم۔اور میرے ضمیر میں یہی بات کھٹکتی ہے کہ یہ صحیح نہیں ہے اور اس میں مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اپنے صحابہ کے ساتھ اجتماع کا ذوق محسوس نہیں ہوا اور وہ ایسا نہیں کیا کرتے تھے جیسا اس حدیث میں ہمیں ملتا ہے اور دل اسے قبول کرنے سے اباکرتا ہے۔ واللہ اعلم
(عوارف المعارف ۲؍۲۹۵، برحاشیہ احیاء علوم الدین ) (ازھر عفی عنہ)

اسی طرح ایک اور روایت سیدناعمر رضی اللہ عنہ سے کی گئی ہے کہ انہوں نے فرمایا ’’نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدناابوبکر رضی اللہ عنہ باہم باتیں کرتے تھے اور میں ان دونوں میں زنگی کی طرح ہوتا تھا۔‘‘ یہ جھوٹ اور بناوٹی حدیث ہے علماء حدیث اس کے جھوٹا ہونے پر متفق ہیں۔

مقصود اس کلام سے یہ ہے کہ جو شخص رسالت عامہ کا ظاہر میں اقرار کرے اور باطن میں اس کے برعکس کا اعتقاد رکھتا ہو تو وہ اس اعتقاد کی بنا پر منافق ہوگا جب کہ وہ خود اپنے اور اپنے جیسوں کے بارے میں اولیاء اللہ ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں حالانکہ وہ اپنے باطن میں جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لائے ہوئے دین و شریعت سے جہالت یا عناد کی بنا پر کفر چھپائے ہوتے ہیں۔

نعمت اللہ
05-12-12, 01:18 PM
یہود و نصاریٰ میں سے بہت سوں کا عقیدہ ہے کہ وہ اولیاء اللہ ہیں اور محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اللہ کے رسول ہیں لیکن کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم صرف غیر اہل کتاب کی طرف مبعوث ہوئے ہیں اور ہم پر ان کی اتباع واجب نہیں۔ اس لیے کہ ہماری طرف ان سے پہلے رسول آچکے ہیں۔سو یہ تمام لوگ اپنے اور اپنی جماعت کے متعلق اولیاء اللہ ہونے کے مدعی ہونے کے باوجود سب کے سب کفار ہیں۔ اولیاء اللہ صرف وہ ہیںجن کی توصیف اللہ تعالیٰ نے خود اپنے اس قول سے فرما دی ہے:

أَلَا إِنَّ أَوْلِيَاءَ اللَّـهِ لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ ﴿٦٢﴾ الَّذِينَ آمَنُوا وَكَانُوا يَتَّقُونَ ﴿٦٣﴾
یونس

’’یاد رکھو! کہ اللہ کے دوست ایسے ہیں کہ نہ ان پر خوف طاری ہوگا اور نہ وہ کسی طرح آزردہ خاطر ہوں گے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو ایمان لائے اور اللہ سے ڈرتے رہے۔‘‘

نعمت اللہ
05-12-12, 01:28 PM
ایمان کے معتبر ہونے کے لیے ضروری ہے کہ اللہ تعالیٰ، اس کے فرشتوں، اس کی کتابوں، اس کے رسولوں اور قیامت کے دن پر ایمان ہو۔ جو رسول بھی اللہ کا بھیجا ہوا ہو اور جو کتاب بھی اللہ تبارک و تعالیٰ کی نازل کی ہوئی ہو، سب پر ایمان لانا ضروری ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

قُولُوا آمَنَّا بِاللَّـهِ وَمَا أُنزِلَ إِلَيْنَا وَمَا أُنزِلَ إِلَىٰ إِبْرَاهِيمَ وَإِسْمَاعِيلَ وَإِسْحَاقَ وَيَعْقُوبَ وَالْأَسْبَاطِ وَمَا أُوتِيَ مُوسَىٰ وَعِيسَىٰ وَمَا أُوتِيَ النَّبِيُّونَ مِن رَّبِّهِمْ لَا نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍ مِّنْهُمْ وَنَحْنُ لَهُ مُسْلِمُونَ ﴿١٣٦﴾ فَإِنْ آمَنُوا بِمِثْلِ مَا آمَنتُم بِهِ فَقَدِ اهْتَدَوا ۖ وَّإِن تَوَلَّوْا فَإِنَّمَا هُمْ فِي شِقَاقٍ ۖ فَسَيَكْفِيكَهُمُ اللَّـهُ ۚ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ ﴿١٣٧﴾ صِبْغَةَ اللَّـهِ ۖ وَمَنْ أَحْسَنُ مِنَ اللَّـهِ صِبْغَةً ۖ وَنَحْنُ لَهُ عَابِدُونَ ﴿١٣٨﴾
البقرۃ

’’کہو ہم اللہ پر ایمان لائے ہیں اور کتاب و شریعت جو ہم پر اتارا گیا اس پر اور جو کچھ ابراہیم اور اسماعیل اور اسحاق اور یعقوب اور اولادِ یعقوب پر اتارا گیا اس پر اور موسیٰ علیہ السلام و عیسیٰ علیہ السلام کو جو کچھ دیا گیا، اس پر اور جو دوسرے پیغمبروں کو ان کے پروردگار کی طرف سے دیا گیا اس پر ہم ان پیغمبروں میں سے کسی ایک میں بھی تفریق نہیں کرتے اور ہم اسی ایک اللہ کے فرمانبردار ہیں تو اگر تمہاری طرح یہ لوگ بھی ان ہی چیزوں پر ایمان لے آئیں، جن پر تم ایمان لائے ہو تو بس راہِ راست پر آگئے اور اگر انحراف کریں تو سمجھو کہ بس وہ ضد پر ہیں تو اے پیغمبر ان کے شر سے اللہ تعالیٰ کا حفظ و امان تمہارے لیے کافی ہوگا اور وہ سننے والا اور خوب جاننے والا ہے۔‘‘
اور فرمایا:

آمَنَ الرَّسُولُ بِمَا أُنزِلَ إِلَيْهِ مِن رَّبِّهِ وَالْمُؤْمِنُونَ ۚ كُلٌّ آمَنَ بِاللَّـهِ وَمَلَائِكَتِهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ لَا نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍ مِّن رُّسُلِهِ ۚ وَقَالُوا سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا ۖ غُفْرَانَكَ رَبَّنَا وَإِلَيْكَ الْمَصِيرُ ﴿٢٨٥﴾ لَا يُكَلِّفُ اللَّـهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا ۚ لَهَا مَا كَسَبَتْ وَعَلَيْهَا مَا اكْتَسَبَتْ ۗ رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَا إِن نَّسِينَا أَوْ أَخْطَأْنَا ۚ رَبَّنَا وَلَا تَحْمِلْ عَلَيْنَا إِصْرًا كَمَا حَمَلْتَهُ عَلَى الَّذِينَ مِن قَبْلِنَا ۚ رَبَّنَا وَلَا تُحَمِّلْنَا مَا لَا طَاقَةَ لَنَا بِهِ ۖ وَاعْفُ عَنَّا وَاغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَا ۚ أَنتَ مَوْلَانَا فَانصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَافِرِينَ ﴿٢٨٦﴾
البقرہ

’’ہمارے یہ پیغمبر محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کتاب و شریعت کو مانتے ہیں جو ان کے پروردگار کی طرف سے ان پر نازل ہوئی اور اہل ایمان بھی مانتے ہیں، یہ سب کے سب اللہ، اس کے فرشتوں اس کی کتابوں اور اس کے پیغمبروں کو مانتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم اللہ کے پیغمبروں میں سے کسی ایک کو بھی جدا نہیں سمجھتے نیز کہتے ہیںکہ ہم نے سنا اور تسلیم کیا۔ اے ہمارے پروردگار تیری مغفرت درکار ہے اور تیری ہی طرف پھر کر جانا ہے، اللہ تعالیٰ کسی کو ذمہ دار نہیں بناتا مگر اس کی طاقت کے مطابق اچھے کام کرے گا تو اسی کا فائدہ ہے اور برے کام کرے گا تو ان کا وبال اسی پر آئے گا اے ہمارے پروردگار! اگر ہم بھول جائیں یا چوک جائیں تو ہمارا اس پر مواخذہ نہ کر۔ اے ہمارے پروردگار ! ہم پر وہ بوجھ نہ ڈال جیسا کہ تو نے ان لوگوں پر ڈالا تھا جو ہم سے پہلے ہو گزرے ہیں۔ اے ہمارے پروردگار! اور ہم پر اتنا بوجھ بھی نہ ڈال جسے اٹھانے کی ہم میں طاقت نہ ہو، ہمیں معاف کر، ہمارے گناہ بخش دے اور ہم پر رحمت کر۔ تو ہمارا آقا ہے تو ان لوگوں کے مقابلے میں جو کہ کافر ہیں، ہماری مدد کر۔‘‘

اور سورہ کے اوّل حصے میں فرمایا:

الم ﴿١﴾ ذَٰلِكَ الْكِتَابُ لَا رَيْبَ ۛ فِيهِ ۛ هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ ﴿٢﴾ الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ وَيُقِيمُونَ الصَّلَاةَ وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنفِقُونَ ﴿٣﴾ وَالَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِمَا أُنزِلَ إِلَيْكَ وَمَا أُنزِلَ مِن قَبْلِكَ وَبِالْآخِرَةِ هُمْ يُوقِنُونَ ﴿٤﴾ أُولَـٰئِكَ عَلَىٰ هُدًى مِّن رَّبِّهِمْ ۖ وَأُولَـٰئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ ﴿٥﴾
البقرہ

’’الم! یہ وہ کتاب ہے جس کے کلام الٰہی ہونے میں کوئی شک نہیں۔ پرہیز گاروں کی راہنما ہے، جو غیب پر ایمان لاتے ہیں اور نماز قائم کرتے ہیں اور جو کچھ ہم نے ان کو دے رکھا ہے، اس میں سے (اللہ کی راہ میں) خرچ کرتے ہیں اور اے پیغمبر! صلی اللہ علیہ وسلم جو کتاب تم پر اتری اور جو تم سے پہلے اتریں۔ ان سب پر ایمان لاتے ہیں اور وہ آخرت کا بھی یقین رکھتے ہیں، یہی لوگ اپنے پروردگار کے سیدھے راستے پر ہیں اور یہی آخرت میں من مانی مرادیں پائیں گے۔‘‘

پس ایمان کے لیے یہ ماننا ضروری ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آخری نبی ہیں۔ ان کے بعد کوئی نبی نہیں اور یہ کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں تمام گروہوں جنوں اور آدمیوں کی طرف بھیجا ہے، جو شخص ان کے لائے ہوئے شرائع و احکام پر ایمان نہ لائے۔ وہ سرے سے مومن نہیں ہے، چہ جائے کہ اللہ تعالیٰ کے متقی اولیاء میں سے ہو اور جو شخص ان کی لائی ہوئی شریعت کے بعض حصے پر ایمان لائے اور بعض سے انکار کرے وہ بھی کافر ہے مومن نہیں ہوسکتا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرما دیا ہے:

إِنَّ الَّذِينَ يَكْفُرُونَ بِاللَّـهِ وَرُسُلِهِ وَيُرِيدُونَ أَن يُفَرِّقُوا بَيْنَ اللَّـهِ وَرُسُلِهِ وَيَقُولُونَ نُؤْمِنُ بِبَعْضٍ وَنَكْفُرُ بِبَعْضٍ وَيُرِيدُونَ أَن يَتَّخِذُوا بَيْنَ ذَٰلِكَ سَبِيلًا ﴿١٥٠﴾ أُولَـٰئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ حَقًّا ۚ وَأَعْتَدْنَا لِلْكَافِرِينَ عَذَابًا مُّهِينًا ﴿١٥١﴾ وَالَّذِينَ آمَنُوا بِاللَّـهِ وَرُسُلِهِ وَلَمْ يُفَرِّقُوا بَيْنَ أَحَدٍ مِّنْهُمْ أُولَـٰئِكَ سَوْفَ يُؤْتِيهِمْ أُجُورَهُمْ ۗ وَكَانَ اللَّـهُ غَفُورًا رَّحِيمًا ﴿١٥٢﴾
النساء

’’جو لوگ اللہ تعالیٰ اور اس کے پیغمبروں کا انکار کرتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ اللہ اور اس کے پیغمبروں میں جدائی ڈال دیں اور کہتے ہیں کہ ہم بعض کو مانتے ہیں اور بعض کو نہیں مانتے اور چاہتے ہیں کہ ان کے درمیان کی کوئی راہ اختیار کریں۔ وہ لوگ یقینا کافر ہیں اور ہم نے کافروں کے لیے ذلیل کرنے والا عذاب تیار کر رکھا ہے اور جو لوگ اللہ اور اس کے پیغمبروں پر ایمان لاتے ہیں اور ان میں سے کسی کو جدا نہیں سمجھتے۔ ان لوگوں کو اللہ تعالیٰ جلد ان کا اجر دے گا اور اللہ تعالیٰ بخشنے والا اور رحم کرنے والا ہے۔‘‘

نعمت اللہ
06-12-12, 10:41 AM
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم احکام الٰہی کی تبلیغ کے لئے اللہ تعالیٰ اور مخلوق کے درمیان واسطہ ہیں

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے کی ایک شرط یہ بھی ہے کہ بندہ انہیں اللہ تعالیٰ اور اس کی مخلوق کے مابین اوامر و نواہی، وعد و وعید اور حلال و حرام کی تبلیغ کا وسیلہ سمجھے۔ حلال وہی ہے، جسے اللہ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم حلال قرار دیں اور حرام وہی ہے جس کو اللہ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم حرام ٹھہرائیں، دین وہی ہے، جسے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے مشروع کیا ہو، جس شخص کا یہ عقیدہ ہو کہ کسی ولی کے پاس محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی متابعت کے بغیر اللہ تعالیٰ تک رسائی کا راستہ ہے تو وہ کافر ہے اور شیطان کے اولیاء میں سے ہے۔
رہا اللہ تعالیٰ کا اپنی مخلوقات کو پیدا کرنا، انہیں روزی دینا، ان کی دعائیں قبول کرنا، ان کے دلوں کو ہدایت کرنا، دشمنوں پر انہیں فتح دینااور دیگر تمام امور جو منافع حاصل کرنے اور تکالیف دور کرنے سے تعلق رکھتے ہیں، سو یہ تمام باتیں ایک اللہ تعالیٰ وحدہ لاشریک ہی کے تصرف میں ہیں۔ ان کو جن اسباب سے چاہے مہیا کر ڈالتا ہے، اس طرح کی چیزوں میں پیغمبروں کی وساطت کوکوئی دخل حاصل نہیں ہے۔

نعمت اللہ
06-12-12, 10:45 AM
پھر خواہ کوئی شخص زہد، عبادت اور علم میں خواہ کتنی ہی بلندی پر کیوں نہ پہنچ جائے لیکن جب تک محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی لائی ہوئی ساری شریعت پر ایمان نہ لائے، وہ مومن نہیں ہوسکتا اور نہ اللہ تعالیٰ کا ولی ہوسکتا ہے جیسا کہ علماء یہود و نصاریٰ میں احبار و رہبان (علماء و درویش) اور عبادت گزار ہیں، اسی طرح مشرکوں میں سے علم و عبادت میں شغف رکھنے والے لوگ ہیں یعنی عرب، ترک اور ہندوستان کے مشرکین وغیرہ۔
تو ہند اور ترک کے حکماء و فلاسفہ میں سے جو بھی ایسا ہو کہ علم و زہد سے حظ وافر رکھتا ہو اور اپنے کیش اور مذہب کے مطابق عبادت گزار بھی ہو لیکن جو کتاب و سنت اور دین و شریعت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لائے ہیں اس سب کچھ پر ایمان نہ لائے تو وہ کافر، اللہ کا دشمن ہے خواہ اسے کچھ لوگ اللہ کا ولی سمجھتے ہوں۔
جس طرح فارس کے حکماء کفار مجوس تھے۔ یونان کے حکماء ارسطو وغیرہ مشرک اور بتوں اور ستاروں کے پوجنے والے تھے۔
ارسطو مسیح علیہ السلام سے تین سو سال پہلے ہو گزرا ہے اور سکندر بن فیلپس مقدونی کا وزیر تھا۔ رومیوں اور یونانیوں کے اسی کے زمانہ سے تاریخ لکھی جاتی ہے۔ یہود و نصاریٰ بھی اسی کے حساب سے تاریخ لکھتے ہیں: یہ وہ ذوالقرنین نہیں ہے، جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں فرمایا ہے جیسا کہ بعض لوگوں کو گمان ہوا کہ ارسطو ذوالقرنین کا وزیر تھا۔ چونکہ ذوالقرنین کو بھی کبھی کبھی سکندر کے نام سے پکارا جاتا تھا۔ اس لیے ان لوگوں کو دھوکا لگا کہ سکندر مقدونی ہی ذوالقرنین ہے۔ چنانچہ ابن سینا اور اس کے ساتھ ایک جماعت اسی رائے پر ہے۔ یہ رائے غلط ہے، یہ سکندر جس کا وزیر ارسطو تھا، مشرک تھا اور ذوالقرنین سے بعد کے زمانے کا ہے۔ اس نے نہ دیوار دیکھی اور نہ یاجوج و ماجوج کے ملک میں پہنچا، یہ وہ اسکندر ہے کہ ارسطو اس کے وزراء میں سے تھا، رومیوں کے ہاں رائج تاریخ اسی سے شروع ہوتی ہے۔ (بعد ازاں یہ تاریخ بدل دی گئی اور متروک ہو گئی (ازہر)۔

نعمت اللہ
06-12-12, 11:34 AM
عرب، ہند، ترک اور یونان وغیرہ کے بعض مشرکین علم، زہد اور عبادت میں اجتہاد کے درجے تک پہنچے ہوئے ہیں لیکن پیغمبروں کے متبع نہیں اور نہ ان کی لائی ہوئی شریعتوں کو مانتے ہیں اور ان کی دی ہوئی خبروں میں ان کی تصدیق نہیں کرتے۔ جو حکم انہیں دیا جاتا ہے، اس کی اطاعت نہیں کرتے۔ یہ لوگ مومن نہیں ہیں اور نہ اولیاء اللہ ہیں۔

نعمت اللہ
06-12-12, 11:38 AM
سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر یہ لوگ ایماندار بھی نہیں ہیں تو پھر ان سے وہ خارقِ عادت افعال کس طرح صادر ہوجاتے ہیں، جنہیں لوگ کرامات کہتے ہیں۔ سو اس کی وجہ یہ ہے کہ شیطان ان کے ساتھ یارانہ گانٹھ لیتے ہیں اور ان پر نازل ہو ہو کر بعض ایسی باتیں بتاتے ہیں جنہیں وہ لوگوں کے سامنے ظاہر کرتے ہیں۔ ان لوگوں کے یہ خارق عادت تصرفات سحر کی جنس سے ہیں اور وہ خود ان کاہنوں اور ساحروں کی جنس سے ہیں، جن پر شیاطین نازل ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

هَلْ أُنَبِّئُكُمْ عَلَىٰ مَن تَنَزَّلُ الشَّيَاطِينُ ﴿٢٢١﴾ تَنَزَّلُ عَلَىٰ كُلِّ أَفَّاكٍ أَثِيمٍ ﴿٢٢٢﴾ يُلْقُونَ السَّمْعَ وَأَكْثَرُهُمْ كَاذِبُونَ ﴿٢٢٣﴾
الشعرا

’’اے پیغمبر ! ان لوگوں سے کہو کہ کیا میں تمہیں بتائوں کہ کس پر شیطان اترا کرتے ہیں وہ ہر جھوٹے بدکار پر اترا کرتے ہیں۔ سنی سنائی بات کانوں میں ڈال دیتے ہیں اور ان میں سے اکثر تو نرے جھوٹے ہی ہیں۔‘‘

اور وہ تمام لوگ جو مکاشفات اور خوارق عادات کے مدعی ہیں جب پیغمبروں کے متبع نہ ہوں تو ضروری ہے کہ وہ جھوٹ بولا کریں اور ان کے شیطان ان سے جھوٹی باتیں کہا کریں۔ اس لیے ان کے اعمال کا شرک، ظلم، فواحش، غلو اور بدعت فی العبادت اور ایسے فسق و فجور سے آلودہ ہونا لازمی ہے۔ اسی وجہ سے ان پر شیطان اترتے ہیںاور ان کے دوست بن جاتے ہیں۔ سو وہ شیطان کے اولیاء میں سے ہوئے نہ کہ رحمن کے اولیاء میں سے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

وَمَن يَعْشُ عَن ذِكْرِ الرَّحْمَـٰنِ نُقَيِّضْ لَهُ شَيْطَانًا فَهُوَ لَهُ قَرِينٌ ﴿٣٦﴾
الزخرف

’’اور جو شخص رحمٰن کے ذکر سے اغماض کیا کرتا ہے، ہم اس پر ایک شیطان تعینات کر دیتے ہیں اور وہ اس کا ساتھی بن جاتا ہے۔‘‘

نعمت اللہ
06-12-12, 11:41 AM
ذکر الرحمٰن اسی ذکر کا نام ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث ہو کر لائے ہیں مثلاً قرآن کریم ہے۔ جو شخص قرآن کو نہ مانے، اس کی باتوں کو سچا نہ سمجھے اور اس کے حکم کو واجب نہ سمجھے، وہ اس سے روگردانی کا مرتکب ہے۔ اس لیے اس پر شیطان تعینات ہوجاتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ رہتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:

وَهَـٰذَا ذِكْرٌ مُّبَارَكٌ أَنزَلْنَاهُ ﴿٥٠﴾
الانبیاء

’’اور یہ مبارک ذکر ہے جسے ہم نے نازل کیا۔‘‘
اور فرمایا:

وَمَنْ أَعْرَضَ عَن ذِكْرِي فَإِنَّ لَهُ مَعِيشَةً ضَنكًا وَنَحْشُرُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَعْمَىٰ ﴿١٢٤﴾ قَالَ رَبِّ لِمَ حَشَرْتَنِي أَعْمَىٰ وَقَدْ كُنتُ بَصِيرًا ﴿١٢٥﴾ قَالَ كَذَٰلِكَ أَتَتْكَ آيَاتُنَا فَنَسِيتَهَا ۖ وَكَذَٰلِكَ الْيَوْمَ تُنسَىٰ ﴿١٢٦﴾
طہ

’’اور جس نے میرے ذکر (یعنی قرآن) سے روگردانی کی تو اس کی زندگی تنگی میں گزرے گی اور قیامت کے دن میں بھی ہم اس کو اندھا کر کے اٹھائیں گے، وہ کہے گا اے میرے پروردگار! تو نے مجھے اندھا کر کے کیوں اٹھایا اور میں تو دنیامیں اچھا خاصا دیکھتا بھالتا تھا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ اس طرح ہونا چاہیے تھا۔ دنیا میں تیرے پاس ہماری آیتیں آئیں مگر تو نے ان کی کچھ خبر نہ لی اور اسی طرح آج تیری بھی خبر نہ لی جائے گی‘‘۔

اس سے معلوم ہوا کہ ذکر سے مراد اللہ تعالیٰ کی نازل کی ہوئی آیتیں ہیں۔ اسی لیے اگر کوئی شخص اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا رات دن ہمیشہ ذکر کرتا رہے اور ساتھ ہی انتہا درجہ کا زاہد اور عابد بھی ہو اور عبادت میں مجتہد بھی بن جائے لیکن وہ اللہ تعالیٰ کے اس ذکر کا اتباع نہ کرے جو کہ اس نے نازل فرمایا ہے اور وہ قرآن کریم ہے تو وہ شخص شیطان کے دوستوں میں سے ہے، خواہ وہ ہوا میں اڑتا پھرے اور پانی پر چلاکرے کیونکہ ہوا میں بھی تو اسے شیطان ہی اڑا کر لے جاتا ہے اور اس موضوع پر کسی دوسری جگہ مفصل بحث کی گئی ہے۔

نعمت اللہ
06-12-12, 11:55 AM
بعض آدمی ایسے ہوتے ہیں کہ جن میں ایمان تو ہوتا ہے لیکن ان میں ایک شعبہ نفاق کا بھی ہوتا ہے۔ جیسا کہ صحیحین میں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

اَرْبَعٌ مَّنْ کُنَّ فِیْہِ کَانَ مُنَافِقًا خَالِصًا وَمَنْ کَانَتْ فِیْہِ خَصْلَۃٌ مِنْھُنَّ کَانَتْ فِیْہِ خَصَلَۃٌ مِّنَ النِّفَاقَ حَتّٰی یَدَعَھَا اِذَا حَدَّثَ کَذَبَ وَاِذَا وَعَدَ اَخْلَفَ وَاِذَائْتُمِنَ خَانَ وَاِذَا عَاھَدَ غَدَرَ
(بخاری کتاب الایمان، باب علامۃ المنافق رقم: ۳۴، کتاب المظالم باب اذا خاصم فجر ۲۴۵۹، کتاب الجہاد باب اثم من عاھد ثم غدر۔ مسلم کتاب الایمان باب بیان خصال المنافق۔ رقم: ۲۱۰۔ ابوداؤد، کتاب السنۃ باب فی الدلیل علی زیادۃ الایمان رقم: ۴۶۸۸۔)

’’جس آدمی میں یہ چار خصلتیں ہوں وہ خالص منافق ہے اور جس میں ان میں سے ایک خصلت ہو اس میں نفاق کی ایک خصلت ہے، تاآنکہ اسے ترک کر دے جب بات کرے تو جھوٹی کرے اور جب وعدہ کرے تو عمل اس کے خلاف کرے اور جب اس کے پاس امانت رکھی جائے تو خیانت کرے اور جب معاہدہ کرے تو توڑ ڈالے۔‘‘

اور صحیحین میں یہ بھی ہے کہ سیدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

اَلْاِیْمَانُ بِضْعٌ وَّ سِتُّوْنَ اَوْ بِضْعٌ وَّ سَبْعُوْنَ شُعْبَۃً اَعْلَاھَا قَوْلُ لاَ اِلَہٰ اِلاَّ اللہُ وَاَدْنَاھَا اِمَاطَۃُ الْاَذَی عَنِ الطَّرِیْقِ وَالْحَیَائُ شَعْبَۃٌ مِّنَ الْاِیْمَانِ
(بخاری کتاب الایمان باب امور الایمان رقم: ۹۔ مسلم کتاب الایمان، رقم: ۱۵۲ باب عدد شعب الایمان۔ ابوداؤد کتاب السنۃ باب فی ردالارجاء ، رقم: ۴۶۷۶۔ ترمذی کتاب الایمان باب فی استکمال الایمان ، رقم: ۲۶۱۴ وغیرہ)

’’ایمان کی ساٹھ سے کچھ زیادہ یا فرمایا ستر سے کچھ زیادہ شاخیں ہیں، سب سے زیادہ بلند لا الہ الا اللہ کہنا ہے اور سب سے ادنیٰ راستے سے تکلیف کی چیز کو دُور کر دینا ہے اور حیاء ایمان کی ایک شاخ ہے‘‘۔

اس طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وضاحت فرما دی کہ جس شخص میں ان میں سے کوئی خصلت ہوئی، اس میں نفاق کی خصلت ہے تاآنکہ اسے ترک کر دے ،صحیحین میں ثابت ہے کہ جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدناابوذر رضی اللہ عنہ سے جو کہ بہترین مومنوں میں سے تھے فرمایا:

’’انک امرؤ فیک جاھلیة‘‘
’’تم ایسے شخص ہو جس میں جاہلیت کا اثر ہے‘‘۔

اس پر سیدناابوذر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یارسول اللہ! کیا اس درجہ عمر رسیدہ ہونے کے بعد بھی میں جاہلیت کا اثر باقی ہے۔
جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں

(بخاری کتاب الایمان باب المعاصی من امرالجاھلیۃ۔ مسلم کتاب الایمان باب اطعام المملکوک )

اور صحیح (مسلم) میں ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

اَرْبَعٌ فِیْ اُمَّتِیْ مِنْ اَمْرِ الْجَاھِلِیَّۃِ الْفَخْرُفِیْ الْاَحْسَابِ وَالطَّعْنُ فِیْ الْاَنْسَابِ وَالنِّیَاحَۃُ عَلَی الْمَیِّتِ وَالْاِسْتِسْقَائُ بِالنُّجُوْمِ۔
(مسلم کتاب الجنائز باب التشدید فی النیاحۃ، رقم: ۲۱۶۰)

’’میری امت میں چار کام جاہلیت کے ہیں، مناصب پر فخر کرنا، نسب کا طعنہ دینا، میت پر نوحہ کرنا اور ستاروں کو سبب بارش سمجھنا۔‘‘

اور صحیحین میں سیدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

اٰیَۃُالْمُنَافِقِ ثَلٰثٌ اِذَاحَدَّثَ کَذَبَ وَاِذَاوَعَدَاَخْلَفَ وَاِذَائْتُمِنَ خَان
(صحیح بخاری کتاب الایمان باب علامات المنافق،رقم۳۳۔ مسلم کتاب الایمان باب خصال المنافق۔رقم۲۱۱)

’’ منافق کی تین علامتیں ہیں، جب بات کرے گا تو جھوٹ بولے گا، جب وعدہ کرے گا تو اس کے خلاف کرے گا اور جب امین بنایا جائے گا تو خیانت کرے گا۔‘‘

اور صحیح مسلم میں اس حدیث کے ساتھ اس ٹکڑے کا بھی اضافہ ہے :

وَاِنْ صَامَ وَصَلّٰی وَزَعَمَ اَنَّـہ مُسْلِمٌ
(مسلم کتاب الایمان باب خصال المنافق۔رقم۲۱۳)

’’اگرچہ وہ روزہ رکھے اور نماز پڑھے اور مدعی اس امر کا ہو کہ وہ مسلم ہے۔‘‘

بخاری میں ابن ابی ملیکہ رضی اللہ عنہ کا یہ قول مذکور ہے

اَدْرَکْتُ ثَلَاثِیْنَ مِنْ اَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صلی اللہ علیہ وسلم کُلُّھُمْ یَخَافُ النِّفَاقَ عَلٰی نَفْسِہ
(بخاری نے اس حدیث کو معلق بیان کیا ہے:کتاب الایمان باب خوف المومن ان یحبط عملہ وھولایشعر۔)

’’یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے تیس کے ساتھ مجھے ملنے کا شرف حاصل ہوا ہے اور ان میں سے ہر ایک خائف رہتا تھا کہ کہیں مجھ میں نفاق نہ ہو۔‘‘

اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

وَمَا أَصَابَكُمْ يَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعَانِ فَبِإِذْنِ اللَّـهِ وَلِيَعْلَمَ الْمُؤْمِنِينَ ﴿١٦٦﴾ وَلِيَعْلَمَ الَّذِينَ نَافَقُوا ۚ وَقِيلَ لَهُمْ تَعَالَوْا قَاتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّـهِ أَوِ ادْفَعُوا ۖ قَالُوا لَوْ نَعْلَمُ قِتَالًا لَّاتَّبَعْنَاكُمْ ۗ هُمْ لِلْكُفْرِ يَوْمَئِذٍ أَقْرَبُ مِنْهُمْ لِلْإِيمَانِ ۚ يَقُولُونَ بِأَفْوَاهِهِم مَّا لَيْسَ فِي قُلُوبِهِمْ ۗ وَاللَّـهُ أَعْلَمُ بِمَا يَكْتُمُونَ ﴿١٦٧﴾
آل عمران

’’اور دو فوجوں میں مڈبھیڑ کے دن تمہیں جو مصیبت پہنچی تو اللہ کے حکم سے تھی اور یہ بھی غرض تھی کہ اللہ ایمان والوں کو معلوم کرے اور منافقوں کو بھی معلوم کرے اور منافقوں سے کہا گیا کہ آئو اللہ کے راستے میں لڑو یا دفاع ہی کرو۔ تو وہ کہنے لگے کہ اگر ہمیں جنگ ہونی معلوم ہوتی تو ہم ضرور تمہارے ساتھ ہو لیتے۔ یہ لوگ اس روز بہ نسبت ایمان کے کفر سے نزدیک تر تھے۔ منہ سے وہ باتیں کہتےہیں جو ان کے دلوں میں نہیں اور جو کچھ یہ چھپاتے ہیں اللہ اسے خوب جانتا ہے‘‘

سو ان لوگوں کو بہ نسبت ایمان کے کفر سے قریب تر قرار دیا گیا ہے معلوم ہوا کہ ان میں کفر اور ایمان ملا جلا تھا اور ان کا کفر قوی تر تھا اور بعض لوگوں میں کفر و ایمان ملا جلا ہوتا ہے لیکن ان کا ایمان قوی تر ہوتا ہے اور جب اولیاء اللہ مومنین متقین ہی ٹھہرے (اور تقویٰ ہی معیارِ ولایت ہے) تو ظاہر ہے کہ بندے کا ایمان اور تقویٰ جس قدر زیادہ ہوگااتنی ہی اللہ تعالیٰ سے اس کی ولایت بڑھے گی۔ پس جو شخص ایمان و تقویٰ میں کامل تر ہوگا، اللہ تعالیٰ سے اُس کی دوستی اور ولایت کامل تر ہوگی۔ اللہ تعالیٰ کی دوستی میںبعض لوگ دوسرے لوگوں پر اتنی ہی فضیلت رکھتے ہیں، جتنی فضیلت انہیں ایمان و تقویٰ میں حاصل ہو۔ اسی طرح لوگ ایک دوسرے سے اللہ تعالیٰ سے دشمنی رکھنے میں بھی اتنے ہی بڑھے ہوئے ہوتے ہیں جتنے کہ وہ کفر اور نفاق میں بڑھے ہوئے ہوں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

وَإِذَا مَا أُنزِلَتْ سُورَةٌ فَمِنْهُم مَّن يَقُولُ أَيُّكُمْ زَادَتْهُ هَـٰذِهِ إِيمَانًا ۚ فَأَمَّا الَّذِينَ آمَنُوا فَزَادَتْهُمْ إِيمَانًا وَهُمْ يَسْتَبْشِرُونَ ﴿١٢٤﴾ وَأَمَّا الَّذِينَ فِي قُلُوبِهِم مَّرَضٌ فَزَادَتْهُمْ رِجْسًا إِلَىٰ رِجْسِهِمْ وَمَاتُوا وَهُمْ كَافِرُونَ ﴿١٢٥﴾
التوبۃ

’’اور جس وقت کوئی سورت نازل کی جاتی ہے تو منافقوں میں سے بعض لوگ ایک دوسرے سے پوچھنے لگتے ہیں کہ بھلا اس سورت نے تم میں سے کس کا ایمان بڑھا دیا۔ سو جو پہلے سے ایمان رکھتے ہیں، اس سورت نے ان کا تو ایمان بڑھا دیا اور وہ اپنی جگہ خوشیاں مناتے ہیں اور جن لوگوں کے دلوں میں نفاق کا روگ ہے۔ اس سورت نے ان کی پچھلی خباثت پر ایک خباثت اور بڑھائی اور یہ لوگ کفر ہی کی حالت میںمرگئے۔‘‘

اور فرمایا:

إِنَّمَا النَّسِيءُ زِيَادَةٌ فِي الْكُفْرِ﴿٣٧﴾
التوبۃ

’’مہینوں کا سرکا دینا مزید کفر ہے۔‘‘
اور فرمایا:

وَالَّذِينَ اهْتَدَوْا زَادَهُمْ هُدًى وَآتَاهُمْ تَقْوَاهُمْ ﴿١٧﴾
محمد

’’اور جو لوگ راہ یافتہ ہیں، اللہ تعالیٰ نے ان کو ہدایت میں بڑھا دیا اور تقویٰ کی توفیق عطا فرما دی۔‘‘

اور منافقوں کے بارے میں فرمایا:

فِي قُلُوبِهِم مَّرَضٌ فَزَادَهُمُ اللَّـهُ مَرَضًا ﴿١٠﴾
البقرہ

’’ان کے دلوں میں بیماری (پہلے سے) تھی، پھر اللہ تعالیٰ نے ان کی بیماری کو زیادہ کر دیا۔‘‘

اس طرح اللہ تعالیٰ نے بیان فرما دیا ہے کہ ایک ہی شخص میں اس کے ایمان کے مطابق اللہ تعالیٰ کی ولایت کا حصہ پایا جاتا ہے اور اسی میں اس کے کفر و نفاق کے تناسب سے اللہ تعالیٰ کی دشمنی بھی موجود ہوتی ہے۔

نیز اللہ تعالیٰ نے یہ بھی فرمایا:

وَيَزْدَادَ الَّذِينَ آمَنُوا إِيمَانًا ﴿٣١﴾
المدثر

’’(ان باتوں سے) اللہ تعالیٰ ان لوگوں کا ایمان بڑھاتا ہے، جن میں پہلے سے ایمان ہو۔‘‘
اور فرمایا:

لِيَزْدَادُوا إِيمَانًا مَّعَ إِيمَانِهِمْ ﴿٤﴾
الفتح

’’تاکہ اپنے پہلے ایمان کے ساتھ اورایمان زیادہ کر لیں۔‘‘

نعمت اللہ
07-12-12, 10:17 AM
اولیاء اللہ کے دو طبقے ہیں۔ سابقین مقربین (نیکیوں میں سبقت کرنے والے، اللہ کے جناب محمد رسول اللہ مقرب) اور اصحاب یمین (دائیں جانب والے میانہ رو) مقتصدین۔ ان کا ذکر اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب عزیز میں متعدد مقامات پر فرمایا۔ سورہ واقعہ کے اوّل میں اور اس کے آخر میں۔

سورہ دہر میں ، سورہ مطففین میں اور سورہ فاطر میں۔ چنانچہ سورہ واقعہ میں اللہ تعالیٰ نے قیامت کبریٰ کا ذکر اس کے آغاز میں فرمایا اور قیامت صغریٰ کا ذکر آخر میں فرمایا۔ اس کے آغاز میں فرمایا:

إِذَا وَقَعَتِ الْوَاقِعَةُ ﴿١﴾ لَيْسَ لِوَقْعَتِهَا كَاذِبَةٌ ﴿٢﴾ خَافِضَةٌ رَّافِعَةٌ ﴿٣﴾ إِذَا رُجَّتِ الْأَرْضُ رَجًّا ﴿٤﴾ وَبُسَّتِ الْجِبَالُ بَسًّا ﴿٥﴾ فَكَانَتْ هَبَاءً مُّنبَثًّا ﴿٦﴾ وَكُنتُمْ أَزْوَاجًا ثَلَاثَةً ﴿٧﴾ فَأَصْحَابُ الْمَيْمَنَةِ مَا أَصْحَابُ الْمَيْمَنَةِ ﴿٨﴾ وَأَصْحَابُ الْمَشْأَمَةِ مَا أَصْحَابُ الْمَشْأَمَةِ ﴿٩﴾ وَالسَّابِقُونَ السَّابِقُونَ ﴿١٠﴾ أُولَـٰئِكَ الْمُقَرَّبُونَ ﴿١١﴾ فِي جَنَّاتِ النَّعِيمِ ﴿١٢﴾ ثُلَّةٌ مِّنَ الْأَوَّلِينَ ﴿١٣﴾
الواقعۃ

’’جب قیامت جو ضرور ہونے والی ہے واقع ہوگی۔ اور اس کے وقوع کو کوئی روکنے والا نہیں (اس وقت لوگوںکا فرق مراتب ظاہرہوگا)۔بعضوںکو نیچا کرنے والی اور بعضوں کو بلند کرنے والی جب کہ زمین بڑے زور سے ہلنے لگے گی اور پہاڑ ٹوٹ کر اڑتی ہوئی دھول ہوجائیں گے اور اس وقت تم تین قسمیں ہو جائو گے ایک تو داہنے ہاتھ والے سو داہنے ہاتھ والوں کا کیا کہنا ہے اور ایک بائیں ہاتھ والے سو بائیں ہاتھ والوں کا کیا ہی برا حال ہے اور تیسرے جو سب سے آگے سامنے بٹھائے گئے ہیں۔ سو یہ آگے بٹھانے کے قابل ہیں۔ یہ بارگاہِ الٰہی کے مقرب ہیں۔ ان کو بہشت کے آرام و آسائش کے باغوں میں جگہ دی جائے گی۔ اس گروہ میں بہت تو اگلے لوگوں سے ہوں گے اور تھوڑے پچھلوں سے بھی۔‘‘

یہ تقسیم قیامت کبریٰ کے قائم ہونے پر ہوگی جس میں اللہ تعالیٰ پہلے لوگوں اور پچھلے لوگوں کو جمع کر دے گا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے کلام مجید میں کئی مقامات پر فرما دیا ہے۔

پھر اللہ تعالیٰ نے سورہ کے آخر میں فرمایا:

فَلَوْلَا إِذَا بَلَغَتِ الْحُلْقُومَ ﴿٨٣﴾ وَأَنتُمْ حِينَئِذٍ تَنظُرُونَ ﴿٨٤﴾ وَنَحْنُ أَقْرَبُ إِلَيْهِ مِنكُمْ وَلَـٰكِن لَّا تُبْصِرُونَ ﴿٨٥﴾ فَلَوْلَا إِن كُنتُمْ غَيْرَ مَدِينِينَ ﴿٨٦﴾ تَرْجِعُونَهَا إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ ﴿٨٧﴾ فَأَمَّا إِن كَانَ مِنَ الْمُقَرَّبِينَ ﴿٨٨﴾ فَرَوْحٌ وَرَيْحَانٌ وَجَنَّتُ نَعِيمٍ ﴿٨٩﴾ وَأَمَّا إِن كَانَ مِنْ أَصْحَابِ الْيَمِينِ ﴿٩٠﴾ فَسَلَامٌ لَّكَ مِنْ أَصْحَابِ الْيَمِينِ ﴿٩١﴾ وَأَمَّا إِن كَانَ مِنَ الْمُكَذِّبِينَ الضَّالِّينَ ﴿٩٢﴾ فَنُزُلٌ مِّنْ حَمِيمٍ ﴿٩٣﴾ وَتَصْلِيَةُ جَحِيمٍ ﴿٩٤﴾ إِنَّ هَـٰذَا لَهُوَ حَقُّ الْيَقِينِ ﴿٩٥﴾ فَسَبِّحْ بِاسْمِ رَبِّكَ الْعَظِيمِ ﴿٩٦﴾
الواقعہ

’’تو کیا جب جان بدن سے کھچ کر گلے میں آپہنچے اور تم اس وقت ٹکر ٹکر پڑے دیکھتے ہو اور ہم، تم (تیمارداروں) سے اس (بیمار جاں بلب) کے زیادہ نزدیک ہوتے ہیں مگر تم دیکھتے نہیں۔ ہاں! اگر تم کسی کو حساب دینے والے نہیں تو کیوں اس کو لوٹا نہیں لیتے؟ اگر اپنے دعویٰ میں سچے ہو۔ اگر وہ بارگاہ الٰہی کے مقربوں میں سے ہے۔ تو اس کے لیے آرام اور خوشبود ار پھول، اور نعمتوں بھری بہشت ہے اور اگر وہ داہنے ہاتھ والوں میں سے ہے، تو اس سے کہا جائے گا کہ اے شخص جو داہنے ہاتھ والوں میں ہے۔ تجھ پر سلام اور اگر وہ جھٹلانے والے ، گمراہوں میں سے ہے تو اس کے لیے کھولتے پانی کی ضیافت ہے اور جہنم میں دھکیلا جانا بے شک آخرت کا حال جو بیان کیا گیا ہے بالکل سچ اور یقینی ہے۔ پس اپنے عظیم رب کے نام کی تسبیح کرتے رہو۔‘‘

سورۃ دہر میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

إِنَّا هَدَيْنَاهُ السَّبِيلَ إِمَّا شَاكِرًا وَإِمَّا كَفُورًا ﴿٣﴾ إِنَّا أَعْتَدْنَا لِلْكَافِرِينَ سَلَاسِلَ وَأَغْلَالًا وَسَعِيرًا ﴿٤﴾ إِنَّ الْأَبْرَارَ يَشْرَبُونَ مِن كَأْسٍ كَانَ مِزَاجُهَا كَافُورًا ﴿٥﴾عَيْنًا يَشْرَبُ بِهَا عِبَادُ اللَّـهِ يُفَجِّرُونَهَا تَفْجِيرًا ﴿٦﴾ يُوفُونَ بِالنَّذْرِ وَيَخَافُونَ يَوْمًا كَانَ شَرُّهُ مُسْتَطِيرًا ﴿٧﴾ وَيُطْعِمُونَ الطَّعَامَ عَلَىٰ حُبِّهِ مِسْكِينًا وَيَتِيمًا وَأَسِيرًا ﴿٨﴾ إِنَّمَا نُطْعِمُكُمْ لِوَجْهِ اللَّـهِ لَا نُرِيدُ مِنكُمْ جَزَاءً وَلَا شُكُورًا ﴿٩﴾ إِنَّا نَخَافُ مِن رَّبِّنَا يَوْمًا عَبُوسًا قَمْطَرِيرًا ﴿١٠﴾ فَوَقَاهُمُ اللَّـهُ شَرَّ ذَٰلِكَ الْيَوْمِ وَلَقَّاهُمْ نَضْرَةً وَسُرُورًا ﴿١١﴾ وَجَزَاهُم بِمَا صَبَرُوا جَنَّةً وَحَرِيرًا ﴿١٢﴾
الدھر

’’ہم نے اس کو راستہ دکھایا (پھر اب دو قسم کے آدمی ہیں)۔ یا تو شکر گزار ہے (یعنی مسلمان) یا ناشکرا اور احسان فراموش (یعنی کافر) ہم نے کافروں کے لیے زنجیریں اور طوق اور دہکتی ہوئی آگ تیار کر رکھی ہے۔ بے شک جو لوگ نیکوکار ہیں، آخرت میں ایسی شراب کے جام پئیں گے، جس میں کافور کے پانی کی آمیزش ہوگی اور یہ ایک چشمہ ہے۔ جس کا پانی اللہ کے خاص بندے پئیں گے۔ اور اس میں سے نہریں نکال لیں گے اور وہ لوگ ہیں جو اپنی منتیں پوری کرتے ہیں اور اس روزِ قیامت سے ڈرتے ہیں جس کی مصیبتِ عام، سب طرف پھیلی ہوئی ہوگی اور خود کو خواہش اور ضرورت کے باوجود اپنا کھانا محتاج اور یتیم اور قیدی کو کھلا دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم تو تم کو صرف لوجہ اللہ کھلاتے ہیں، تم سے نہ کچھ بدلہ درکار ہے نہ شکر گزاری ہم کو اپنے پروردگار سے اداس، سخت دن کا ڈر لگ رہا ہے۔نتیجتاً اللہ نے بھی اُس دن کی مصیبت سے ان کو بچا لیا اور ان کو تازگی اور مسرت سے لا ملایا۔ اور ان کے صبر کے بدلے میں رہنے کو بہشت اور پہننے کو ریشمی پوشاک عنایت کی۔‘‘

اسی طرح سورہ مطففین میں فرمایا:

كَلَّا إِنَّ كِتَابَ الْفُجَّارِ لَفِي سِجِّينٍ ﴿٧﴾ وَمَا أَدْرَاكَ مَا سِجِّينٌ ﴿٨﴾ كِتَابٌ مَّرْقُومٌ ﴿٩﴾ وَيْلٌ يَوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِينَ ﴿١٠﴾ الَّذِينَ يُكَذِّبُونَ بِيَوْمِ الدِّينِ ﴿١١﴾ وَمَا يُكَذِّبُ بِهِ إِلَّا كُلُّ مُعْتَدٍ أَثِيمٍ ﴿١٢﴾ إِذَا تُتْلَىٰ عَلَيْهِ آيَاتُنَا قَالَ أَسَاطِيرُ الْأَوَّلِينَ ﴿١٣﴾ كَلَّا ۖ بَلْ ۜ رَانَ عَلَىٰ قُلُوبِهِم مَّا كَانُوا يَكْسِبُونَ ﴿١٤﴾ كَلَّا إِنَّهُمْ عَن رَّبِّهِمْ يَوْمَئِذٍ لَّمَحْجُوبُونَ ﴿١٥﴾ ثُمَّ إِنَّهُمْ لَصَالُو الْجَحِيمِ ﴿١٦﴾ ثُمَّ يُقَالُ هَـٰذَا الَّذِي كُنتُم بِهِ تُكَذِّبُونَ ﴿١٧﴾ كَلَّا إِنَّ كِتَابَ الْأَبْرَارِ لَفِي عِلِّيِّينَ ﴿١٨﴾ وَمَا أَدْرَاكَ مَا عِلِّيُّونَ ﴿١٩﴾ كِتَابٌ مَّرْقُومٌ ﴿٢٠﴾ يَشْهَدُهُ الْمُقَرَّبُونَ ﴿٢١﴾ إِنَّ الْأَبْرَارَ لَفِي نَعِيمٍ ﴿٢٢﴾ عَلَى الْأَرَائِكِ يَنظُرُونَ ﴿٢٣﴾ تَعْرِفُ فِي وُجُوهِهِمْ نَضْرَةَ النَّعِيمِ ﴿٢٤﴾ يُسْقَوْنَ مِن رَّحِيقٍ مَّخْتُومٍ ﴿٢٥﴾ خِتَامُهُ مِسْكٌ ۚ وَفِي ذَٰلِكَ فَلْيَتَنَافَسِ الْمُتَنَافِسُونَ ﴿٢٦﴾ وَمِزَاجُهُ مِن تَسْنِيمٍ ﴿٢٧﴾ عَيْنًا يَشْرَبُ بِهَا الْمُقَرَّبُونَ ﴿٢٨﴾
المطففین

’’سن لو! بدکار لوگوں کے نامہ اعمال سجین میںہیں اور تم کیا سمجھے کہ سجین کیا ہے؟ وہ ایک کتاب ہے جس میں لکھا جاتا ہے اس دن جھٹلانے والوں کی تباہی ہے۔ جو روز جزا کو جھوٹ جانتے ہیں اور اس کو وہی جھوٹ جانتا ہے جو حد سے نکل جانے والا بد ہو۔ جب اس پر ہماری آیتیں پڑھی جائیں تو کہے کہ اگلے لوگوں کے افسانے ہیں۔ نہیں بلکہ ان کے دلوں پر ان ہی کے اعمال بد کے زنگ بیٹھ گئے ہیں، سنو! یہی لوگ ہیں جو اس دن اپنے پروردگار (کے دیدار سے محروم) اوٹ میں ہوں گے پھر یہ لوگ ضرور جہنم میں داخل ہوں گے۔ پھر ان سے کہا جائے گا کہ یہی تو وہ چیز ہے جس کو تم دنیا میں جھوٹ جانتے تھے۔ سنو! نیک لوگوں کے نامہ اعمال علیین میں ہیں اور تم کیا سمجھے کہ علییون کیا ہے؟ وہ ایک لکھی ہوئی کتاب ہے۔ اس پر مقرب فرشتے تعینات ہیں۔ بے شک نیک لوگ بڑے آرام میں ہوں گے۔ تختوں پر بیٹھے (بہشت کے نظارے) دیکھ رہے ہوں گے تو ان کے چہروں سے خوشحالی کی تازگی صاف پہچان لے گا۔ ان کو شرابِ خالص سربند پلائی جائے گی۔ جس کی بوتل کی مہر مشک کی ہوگی اور ریس کرنے والوں کو چاہیے کہ ان کی ریس کیا کریں اور اس شراب میں تسنیم کے پانی کی آمیزش ہوگی۔ تسنیم بہشت کا ایک چشمہ ہے۔ جس میں سے خاص کر مقرب لوگ پئیں گے۔‘‘

اسی طرح ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما اور دوسرے سلف صالحین سے مروی ہے۔ وہ فرماتے ہیں۔ تسنیم کا پانی اصحاب یمین کے لیے ملایا جائے گا اور مقربین اسے خالص پئیں گے اور واقع بھی یہی ہے
(تفسیر ابن جریر، تفسیر ابن کثیر سورہ دہر اور سورہ مطففین۔)

اللہ تعالیٰ نے {یَشْرَبُ بِھَا} فرمایا اور {یَشْرَبُ مِنْھَا} نہیں فرمایا۔ اس سے اللہ تعالیٰ نے اپنے قول یشرب کے ساتھ یَرْوَی بِھَا(سیر ہو کرپیئے گا) کا معنی بھی ملا دیا کیونکہ شارب (پینے والا) کبھی پیتا تو ہے لیکن سیر نہیں ہوتا اور جب {یَشْرَبُ مِنْھَا} کہا جائے تو اس سے سیر ہونے پر دلالت نہیں ہوتی اور جب {یَشْرَبُ بِھَا} کہا جائے تو اس سے مراد یہ ہوتی ہے کہ اسے سیر ہو کر پیتے ہیں۔ سو مقربین اسے سیر ہو کر پیتے ہیں اور اس کے ہوتے ہوئے انہیں کسی اور مشروب کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اس لیے وہ اسے بغیر آمیزش کے پیتے ہیں۔ اس کے خلاف اصحاب یمین کے لیے اس شراب میں آمیزش کی جاتی ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے سورہ دہر میں فرمایا:

إِنَّ الْأَبْرَارَ يَشْرَبُونَ مِن كَأْسٍ كَانَ مِزَاجُهَا كَافُورًا ﴿٥﴾عَيْنًا يَشْرَبُ بِهَا عِبَادُ اللَّـهِ يُفَجِّرُونَهَا تَفْجِيرًا ﴿٦﴾
الدھر

’’وہ چشمہ جس میں کافور ملی ہوئی ہے۔ اس سے اللہ کے بندے سیر ہو کر پئیں گے اس سے نہریں نکالیں گے۔‘‘

عباداللہ سے مراد مقربین ہیں، جن کا ذکر اسی سورت میں آیا ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ بدلہ خیر و شر کا عمل کی جنس کے مطابق ہوتا ہے۔ جیسا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

مَنْ نَّفَّسَ عَنْ مُوْمِنٍ کُرْبَۃً مِّنْ کُرَبِ الدُّنْیَا نَفَّسَ اللہُ عَنْہُ کُرْبَۃً مِّنْ کُرَبِ یَوْمِ الْقِیٰمَۃِ وَمَنْ یَّسَّرَ عَلٰی مُعْسَرٍ یَسَّرَ اللہُ عَلَیْہِ فِی الدُّنْیَا وَالْاَخِرَۃِ و مَنْ سَتَرَ مُسْلِمًا سَتَرَہُ اللہُ فِی الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَۃِ وَاللہُ فِیْ عَوْنِ الْعَبْدِ مَا کَانَ الْعَبْدُ فِیْ عَوْنِ اَخِیْہِ وَمَنْ سَلَکَ طَرِیْقًا یَّلْتَمِسُ فِیھَا عِلْمًا سَھَّلَ اللہُ لَہ بِہ طَرِیْقًا اِلٰی الْجَنَّۃِ وَمَا اجْتَمَعَ قَوْمٌ فِیْ بَیْتٍ مِّنْ بُیُوْتِ اللہِ یَتْلُوْنَ کِتَابَ اللہِ وَیَتَدَارَسُوْنَہ بَیْنَھُمْ اِلَّا نَزَلَتْ عَلَیْھِمُ السَّکِیْنَۃُ وَ غشِیَتْھُمُ الرَّحْمَۃُ وَ حَفَّتْھُمُ الْمَلَائِکَۃُ وَذَکَرَھُمُ اللہُ فِیْمَنْ عِنْدَہ وَمَنْ بَطَّاَ بِہ عَمَلُہ لَمْ یُسْرِعْ بِہ نَسَبُہ
(مسلم کتاب الذکر والدعا باب فضل الاجتماع علی تلاوۃ القرآن، رقم: ۲۶۹۹۔ ابوداؤد کتاب الادب باب فی المعونۃ للمسلم، رقم: ۴۹۴۔ ترمذی کتاب الحدود باب ماجاء فی الستر علی المسلم، رقم: ۱۴۳۵)

’’جس نے کسی مومن کی کوئی دنیوی تکلیف دور کی اللہ تعالیٰ اس کی ایک اخروی تکلیف دور کرے گا اور جس نے کسی تنگدست کی مشکل آسان کی اللہ تعالیٰ دنیا اور آخرت میں اس پر آسانی فرمائے گا اور اللہ تعالیٰ اس وقت تک اپنے بندے کی مدد کرتا رہتا ہے جب تک بندہ اپنے بھائی کی مدد کرتا رہے اور جو شخص طلب علم کے لیے کچھ راستہ طے کرے، اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت کا راستہ آسان کر دیتا ہے اور جب کبھی لوگ اللہ کے کسی گھر میں اکٹھے ہو کر کتاب اللہ کی تلاوت اور اس کی درس و تدریسِ باہمی کرتے ہیں تو ان پر تسکین نازل ہوتی ہے اور ان پر رحمت ِ الٰہی چھا جاتی ہے۔ فرشتے ان کے گرد حلقہ بنا دیتے ہیں اور اللہ تعالیٰ اپنے درباریوں میں ان کا ذکر خیر کرتا ہے اور جسے اس کا عمل پیچھے ڈال دے، اس کا نسب اسے آگے نہیں بڑھاتا ، اسے مسلم نے صحیح میں روایت کیا۔‘‘

اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

اَلرَّاحِمُوْنَ یَرْحَمُھُمُ الرَّحْمٰنُ اِرْحَمُوْا مَنْ فِی الْاَرْضِ یَرْحَمْکُمْ مَّنْ فِی السَّمَائِ۔
(ترمذی کتاب البروالصلۃ باب فی رحمۃ الناس رقم: ۱۹۲۴۔ ابوداؤد کتاب الادب باب فی الرحمۃ ۴۹۴۱ اور مجمع الزوائد ج ۸ ص ۱۸۷ سلسلۃ الاحادیث الصحیحہ حدیث ۹۳۵)

’’رحم کرنے والوں پر خدا رحم کرتا ہے۔ رحم کرو تم اہل زمین پر تاکہ اللہ تعالیٰ تم پر رحم کرے‘‘ ترمذی کا قول ہے کہ یہ حدیث صحیح ہے۔
سنن میں ایک دوسری صحیح حدیث ہے۔

یَقُوْلُ اللہُ تَعَالٰی اَنَا الرَّحْمٰنُ خَلَقْتُ الرَّحِمَ وَشَقَقْتُ لَھَا اِسْمًا مِّنْ اِسْمِیْ فَمَنْ وَصَلَھَا وَصَلْتُہ وَمَنْ قَطَعَھَا بَتَتُّہ۔
(الادب المفرد حدیث ۵۳ ابوداؤد کتاب الزکوٰۃ باب فی صلۃ الرحم، رقم: ۱۷۹۴۔ ترمذی کتاب البروالصلۃ باب فی قطیعۃ الرحم۔ ۱۹۰۷، مسند احمد ج ۱، ص ۱۹۴)

’’اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میں رحمن ہوں میں نے رحم کو پیدا کیا اور اس کا نام اپنے نام سے مشتق کر کے رکھا ہے، جو شخص صلہ رحمی کرے گا میں اس کو ملائے رکھوں گا اور جو قطع رحمی کرے گا اسے کاٹ دوں گا۔‘‘

اورفرمایا:
مَنْ وَصَلَھَا وَصَلَہُ اللہُ وَمَنْ قَطَعَھَا قَطَعَہُ اللہ
(بخاری کتاب التفسیر باب وتقطعوا ارحامکم و کتاب الادب باب من وصل وصلہ اللہ حدیث ۵۹۸۹، باب من وصل وصلہ اللہ۔ مسلم کتاب البروالصلۃ باب صلۃ الرحم ، رقم ۲۵۵۵۔)

’’جس نے ان (رشتوں) کو ملایا۔ اللہ تعالیٰ اسے ملاتا ہے اور جو ان کو توڑتا ہے اللہ تعالیٰ اسے توڑ دیتا ہے۔‘‘

اور اس کی مثالیں بہت ہیں:

اولیاء اللہ کی دو قسمیں ہیں۔ مقربین اور اصحاب یمین جیسا کہ پہلے بیان ہوچکا ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیث میں ہر دو قسم اولیاء کے اعمال کی تشریح کر دی ہے۔ فرمایا:

یَقُوْلُ اللہُ تَعَالٰی مَنْ عَادٰی لِیْ وَلِیًّا فَقَدْ بَارَزَنِیْ بِالْمُحَارَبَۃِ وَمَا تَقَرَّبَ اِلَیَّ عَبْدِیْ بِمِثْلِ اَدَاء مَا افْتَرَضْتُ عَلَیْہِ وَلَا یَزَالُ عَبْدِیْ یَتَقَرَّبُ اِلَیَّ بِالنَّوَافِلِ حَتّٰی اُحِبَّہ فَاِذَا اَحْبَبْتُہ کُنْتُ سَمْعَہُ الَّذِیْ یَسْمَعُ بِہ وَبَصَرَہُ الَّذِیْ یُبْصِرُ بِہ وَیَدَہُ الَّتِیْ یَبْطِشُ بِھَا وَ رِجْلَہُ الَّتِیْ یَمْشِیْ بِھَا۔
(تخریج کے لئے دیکھیے ص:۱۷)

’’اللہ تعالیٰ فرماتا ہے جس نے میرے کسی دوست سے دشمنی کی اس نے میرے ساتھ جنگ کا اعلان کیا اور کوئی بندہ فرائض ادا کرنے سے جس قدر میرے قریب ہوتا ہے، اتنا کسی اور ذریعہ سے نہیں ہوتا اور میرا بندہ نوافل ادا کرتا رہتا ہے حتیٰ کہ میں نوافل کے ذریعہ سے اس سے محبت کرنے لگتا ہوں اور جب میں اس سے محبت کرتا ہوں تو اس کا کان بن جاتا ہوں، جس سے وہ سنتا ہے، اس کی آنکھ بن جاتا ہوں، جس سے وہ دیکھتا ہے، اس کا ہاتھ بن جاتا ہوں ، جس سے وہ پکڑتا ہے اور اس کا پائوں بن جاتا ہوں، جس سے وہ چلتا ہے۔‘‘

ابرار یا اصحاب الیمین نیکوکاروں میں سے وہ لوگ ہوتے ہیں۔ جو فرائض ادا کر کے اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرتے ہیں جو کچھ اللہ تعالیٰ نے ان پر حرام کر دیا ہے اسے چھوڑ دیتے ہیں اور اپنے آپ کو مستحبات کی زحمت نہیں دیتے اور نہ غیر ضروری مباحات اور جائز امور سے باز رہتے ہیں۔

نعمت اللہ
07-12-12, 10:23 AM
سابقین مقربین وہ لوگ ہیں جو فرائض ادا کرنے کے بعد نوافل کے ذریعہ سے قرب حاصل کرتے ہیں۔ واجب اور مستحب کام کرتے ہیں۔ حرام اور مکروہ کاموں کو چھوڑتے ہیں۔ جب وہ ان محبوبات الٰہی میں سے ان تمام اعمال کے ذریعہ سے جن پر انہیں قدرت حاصل ہوتی ہے اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرتے ہیں تو پروردگار ان سے کامل محبت کرتا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:

ولَا یَزَالُ عَبْدِیْ یَتَقَرَّبُ اِلَیَّ بِالنَّوَافِلِ حَتّٰی اُحِبَّہ۔

’’میرا بندہ اس وقت تک نوافل کے ذریعے سے میرے قرب کا جویا رہتا ہے حتیٰ کہ میں اس سے محبت کرنے لگتا ہوں۔‘‘

اس محبت سے مراد مطلق محبت ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:

اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ ﴿٦﴾ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ ﴿٧﴾
فاتحہ

’’ ہمیں سیدھا راستہ بتا ان لوگوں کا راستہ جن پر تو نے انعام کیا نہ کہ ان لوگوں کا جن پر تیرا غضب نازل ہوا اور نہ گمراہوں کا راستہ۔‘‘

یہاں انعام سے مراد وہی مطلق اور کامل انعام ہے جو کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے اس قول مبارک میں ذکر فرمایا:

وَمَن يُطِعِ اللَّـهَ وَالرَّسُولَ فَأُولَـٰئِكَ مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّـهُ عَلَيْهِم مِّنَ النَّبِيِّينَ وَالصِّدِّيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ وَالصَّالِحِينَ ۚ وَحَسُنَ أُولَـٰئِكَ رَفِيقًا ﴿٦٩﴾
النساء

’’جو شخص اللہ تعالیٰ اور رسول کی اطاعت کرے تو وہ ان لوگوں کے ساتھ ہوگا جن پر اللہ تعالیٰ نے انعام کیا ۔ یعنی نبیوں، صدیقوں، شہیدوں اور نیکوکاروں کے ساتھ ہوگا یہ لوگ کیا ہی خوب رفیق ہیں۔‘‘

ان مقربین کے حق میں مباحات وہ اطاعت بن جاتی ہیںجن کے ذریعے سے وہ اللہ عزوجل سے قرب حاصل کرتے ہیں اور ان کے تمام اعمال اللہ تعالیٰ کے لیے عبادت ہوتے ہیں، بس یہ لوگ چشمۂ تسنیم کی خالص شراب پئیں گے، اس لیے کہ اس کے عمل بھی خالص اور کھرے ہیں۔

نعمت اللہ
07-12-12, 10:26 AM
اور جو درمیانہ درجہ کے لوگ ہیں، ان کے اعمال میں بعض چیزیں ایسی ہوتی ہیں جو وہ اپنے حظ نفس کے لیے کرتے ہیں چونکہ وہ اعمال مباح ہوتے ہیں، اس لیے نہ توان کو ان اعمال پر سزا ملتی ہے اور نہ جزا۔ ان لوگوں کو خالص شراب نہ ملے گی بلکہ مقربین کی شراب میں سے ان کے لیے اسی قدر آمیزش ہوگی، جس قدر کہ وہ دنیا میں مقربین کے اعمال کی طرح کے اعمال اپنے نامۂ اعمال میں شامل کرچکے ہوں گے۔

نعمت اللہ
10-12-12, 09:01 AM
اسی طرح انبیاء کی دو قسمیں کی گئی ہیں، ایک بندہ پیغمبر اور دوسرا بادشاہ نبی۔ اللہ تعالیٰ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ اختیار دیا کہ اگر چاہیں تو بندہ اور رسول بنیں اور چاہیں تو بادشاہ اور نبی بنیں۔ جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بندہ اور رسول بننا پسند کر لیا۔
(مشکوٰۃ باب فی اخلاقہ صلی اللہ علیہ وسلم بحوالہ شرح السنۃ رقم: ۳۶۸۳۔من حدیث عائشة مسند امام احمد ۲۳۱/۲ من حدیث ابی ہریرة)

بادشاہ نبی کی مثالیں دائود علیہ السلام اور سلیمان علیہ السلام اور ان کی طرح کے دوسرے انبیاءعلیہم السلام ہیں۔ سلیمان علیہ السلام کے قصے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ انہوں نے دعا کی:

قَالَ رَبِّ اغْفِرْ لِي وَهَبْ لِي مُلْكًا لَّا يَنبَغِي لِأَحَدٍ مِّن بَعْدِي ۖ إِنَّكَ أَنتَ الْوَهَّابُ ﴿٣٥﴾ فَسَخَّرْنَا لَهُ الرِّيحَ تَجْرِي بِأَمْرِهِ رُخَاءً حَيْثُ أَصَابَ ﴿٣٦﴾ وَالشَّيَاطِينَ كُلَّ بَنَّاءٍ وَغَوَّاصٍ ﴿٣٧﴾ وَآخَرِينَ مُقَرَّنِينَ فِي الْأَصْفَادِ ﴿٣٨﴾ هَـٰذَا عَطَاؤُنَا فَامْنُنْ أَوْ أَمْسِكْ بِغَيْرِ حِسَابٍ ﴿٣٩﴾
ص

’’اے میرے پروردگار! میرا قصور معاف فرما اور مجھ کو ایسی سلطنت عنایت کر کہ میرے بعد کسی کو سزا وار نہ ہو بے شک تو بڑا فیاض ہے تو ہم نے ہوا کو ان کا تابع کر دیا کہ جہاں تک پہنچنا چاہتے ، ان کے حکم کے مطابق اسی طرف کو نرمی سے چلتی اور اسی طرح جتنے دیو معمار، غوطے خور تھے، سب کو ان کا تابع کر دیا اور ان کے علاوہ دوسرے دیوئوں کو بھی ان کا تابع کر رکھا تھا۔ جو زنجیروں میں بندھے رہتے تھے۔ ہم نے سلیمان علیہ السلام سے کہا کہ یہ ہے ہمارا بے حساب انعام، اب تم چاہو تو اس سے لوگوں پر احسان کرو یا تم سازوسامان اپنے پاس رکھو۔‘‘

فَامْنُنْ اَوْ اَمْسِکْ بِغَیْرِ حِسَاب۔
سے مراد یہ ہے کہ جسے چاہو دو اور جسے چاہو محروم کر دو تم سے کوئی حساب نہیں پوچھا جائے گا۔ پس بادشاہ نبی وہ کام کرتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے اس پر فرض کیا ہو اور اس کام کو چھوڑ دیتا ہے، جو اللہ نے اس پر حرام کر دیا ہو اور وہ اپنے ملک و مال میں اپنی پسند اور اختیار کے مطابق تصرف کرتا ہے۔ اسے گناہ نہیں ہوتا اور بندہ رسول کسی کو اپنے پروردگار کے حکم کے سوا کچھ نہیں دیتا اور وہ اپنی مرضی کے مطابق نہ کسی کو کچھ دیتا ہے اور نہ کسی کو محروم کرتا ہے۔ بلکہ جسے دینے کا حکم اس کو اپنے پروردگار کی طرف سے ملے، اس کو دیتا ہے اور جسے والی اور عامل بنانے کا حکم اس کو اپنے پروردگار کی طرف سے ملے اسی کو مقرر کرتا ہے، اس کے سارے کے سارے اعمال اللہ تعالیٰ کی عبادت ہیں جیسا کہ صحیح بخاری میں سیدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

اِنِّیْ وَاللہِ لاَ اُعْطِیْ اَحَدًا وَّلاَ اَمْنَعُ اَحَدًا اِنَّمَا اَنَا قَاسِمٌ اَضَعُ حَیْثُ اُمِرْتُ
(مسند احمد ج ۲، ص ۴۸۲، بخاری کتاب فرض الخمس باب قول اللہ تعالیٰ فان للہ خمسہ وللرسول رقم] ۳۱۱۷، بخاری میں ان الفاظ کے ساتھ ہے ’’ما اعطیکم ولا امنعکم انا قاسم اضع حیث امرت‘‘۔)

’’مجھے اللہ کی قسم کہ میں کسی کو کچھ دیتا اور نہ کسی سے کچھ باز رکھتا ہوں۔ میں تو محض تقسیم کرنے والا ہوں وہاں خرچ کرتا ہوں جہاں حکم ہو۔‘‘

اسی لیے اللہ تعالیٰ نے شرعی اموال کی نسبت اللہ تعالیٰ اور رسول کی طرف کی، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

قُلِ الْاَنْفَالُ لِلہِ وَالرَّسُوْلِ۔
الانفال
’’اے رسول! کہوغنیمت کا مال اللہ اور رسول کے لیے ہے۔‘‘
اور فرمایا:

مَآاَفَاۗءَاللہُ عَلٰي رَسُوْلِہ مِنْ اَہْلِ الْقُرٰى فَلِلّٰہِ وللرسول
الحشر

’’جو مال اللہ اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو ان بستیوں کے لوگوں سے مفت میں دلوا دے وہ اللہ کا حق ہے اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا‘‘۔ الخ
اور فرمایا:

وَاعْلَمُوْٓا اَنَّـمَا غَنِمْتُمْ مِّنْ شَيْءٍ فَاَنَّ لِلہِ خُمُسَہ وَلِلرَّسُوْلِ
الانفال

’’اور جان رکھو کہ جو چیز تم لڑائی میں بطورِ غنیمت پاؤ اس کا پانچواں حصہ اللہ کا اور رسول کا۔‘‘ الخ

اسی لیے علماء کا ظاہر ترین قول یہ ہے کہ اس طرح کے مال اسی جگہ خرچ کیے جائیں جہاں پر خرچ کرنا اولوالامر کے اجتہاد کے مطابق اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کو پسند ہو جیسا کہ امام مالک اور دیگر سلف صالحین کا مذہب ہے۔ امام احمد سے ایک روایت ذکر کی جاتی ہے اور خمس کے بارہ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ پانچ پر تقسیم کیا جائے جیسا کہ امام شافعی رحمہ اللہ کا قول ہے اور امام احمدکا مشہور قول بھی یہی ہے اور کہا گیا ہے کہ تین پر تقسیم کیا جائے جیسا کہ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کا قول ہے بہرحال یہاں یہ بیان کرنا مقصود ہے کہ بندہ رسول، بادشاہ نبی سے افضل ہے چنانچہ ابراہیم علیہ السلام ، موسیٰ علیہ السلام ، عیسیٰ علیہ السلام اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یوسف علیہ السلام ، دائود علیہ السلام اور سلیمان علیہم السلام سے افضل ہیں، جس طرح مقربین سابقین ان ابرار اصحاب الیمین سے افضل ہیں جو کہ مقربین سابقین نہ ہوں جس شخص نے واجبات ادا کیے اور مباحات میں سے جو پسند ہوا اسے بھی کر گزرے وہ ابرار اصحاب الیمین میں سے ہے اور جو صرف وہی کرے جو اللہ کو پسند ہو اور مباحات سے بھی اسی کام میں مدد لینے کا ارادہ کرے، جس کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا وہ مقربین سابقین سے ہے۔

نعمت اللہ
11-12-12, 10:22 AM
اللہ تعالیٰ نے سورۃ فاطر میں اپنے ان اولیاء کا ذکر بھی کیا ہے جو کہ درمیانے درجے کے ہیں اور ان کا ذکر بھی فرمایا ہے جو کہ سبقت لے جانے والے ہیں:
ارشاد فرمایا:

ثُمَّ أَوْرَثْنَا الْكِتَابَ الَّذِينَ اصْطَفَيْنَا مِنْ عِبَادِنَا ۖ فَمِنْهُمْ ظَالِمٌ لِّنَفْسِهِ وَمِنْهُم مُّقْتَصِدٌ وَمِنْهُمْ سَابِقٌ بِالْخَيْرَاتِ بِإِذْنِ اللَّـهِ ۚ ذَٰلِكَ هُوَ الْفَضْلُ الْكَبِيرُ ﴿٣٢﴾ جَنَّاتُ عَدْنٍ يَدْخُلُونَهَا يُحَلَّوْنَ فِيهَا مِنْ أَسَاوِرَ مِن ذَهَبٍ وَلُؤْلُؤًا ۖ وَلِبَاسُهُمْ فِيهَا حَرِيرٌ ﴿٣٣﴾ وَقَالُوا الْحَمْدُ لِلَّـهِ الَّذِي أَذْهَبَ عَنَّا الْحَزَنَ ۖ إِنَّ رَبَّنَا لَغَفُورٌ شَكُورٌ ﴿٣٤﴾ الَّذِي أَحَلَّنَا دَارَ الْمُقَامَةِ مِن فَضْلِهِ لَا يَمَسُّنَا فِيهَا نَصَبٌ وَلَا يَمَسُّنَا فِيهَا لُغُوبٌ ﴿٣٥﴾
الفاطر

’’پھر ہم نے اپنے بندوں میں سے منتخب لوگوں کو اس کتاب کا وارث ٹھہرایا (یعنی مسلمانوں کو) پھر ان میں سے بعض تو اس پر عمل نہ کر کے اپنی جانوں پر ستم کر رہے ہیں اور بعض ان میں سے اوسط درجے کے ہیں اور بعض ان میں سے ایسے بھی ہیں جو اللہ کے حکم سے نیکیوں میں اوروں سے آگے بڑھے ہوئے ہیں، یہی تو اللہ کا بڑا فضل ہے اور (اس کا صلہ ہے) ہمیشہ رہنے کے بہشت کے باغ۔ کہ یہ لوگ رہنے کے لیے ان میں داخل ہوں گے اور وہاں ان کو سونے کے کنگن اور موتی پہنائے جائیں گے اور وہاں ان کا معمولی لباس بھی ریشمی ہوگا اور یہ لوگ نعمتیں پا کر کہیں گے کہ اللہ کا شکر ہے جس نے ہر طرح کا رنج و غم ہم سے دور کر دیا بے شک ہمارا پروردگار بڑا بخشنے والا اور ایسا بڑا قدر دان ہے کہ اس نے ہم کو اپنے فضل سے ٹھہرنے کے لیے ایسے گھر میں لا اتارا کہ یہاں ہم کو نہ کسی طرح کی تکلیف پہنچتی ہے اور نہ یہاں ہم کو تکان لاحق ہوتی ہے۔‘‘

لیکن یہ تینوں قسمیں جو کہ اس آیت میں ہیں صرف محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کے ساتھ مخصوص ہیں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا {ثُمَّ اَوْرَثْنَا الْکِتَابَ} اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی امت ہی نے پہلی امتوں کے بعد کتابوں کی میراث سنبھالی اور یہ حفاظِ قرآن ہی کے ساتھ مخصوص نہیں ہے بلکہ ہر وہ شخص جو قرآن پر ایمان لائے، ان ہی لوگوں میں سے ہے اور ان لوگوں کو {ظَالِمٌ لِنَفْسِہ} اور {مُقْتَصِدٌ} تین قسموں میں منقسم کیا، اس کے خلاف جو آیات کہ سورہ واقعہ، سورہ مطففین اور انفطار میں وارد ہیں، ان میں تمام پہلی امتوں کے مومن اور کافر داخل ہیں اور یہ تقسیم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کے لیے مخصوص ہے۔ {ظَالِمٌ لِنَفْسِہ} وہ لوگ ہیں جو کہ گناہ کریں اور اس پر اصرار کریں۔ مقتصد وہ ہوتا ہے جو فرائض ادا کرے اور محرمات سے پرہیز کرے۔ سابق بالخیرات وہ ہوتا ہے جو کہ فرائض اور نوافل دونوں ادا کرے جیسا کہ ان آیات میں ہے اور جو شخص اپنے گناہ سے خواہ کیسا ہی گناہ کیوں نہ ہو صحیح طور پر توبہ کر لے وہ اس کی وجہ سے سابقین اور مقتصدین سے خارج نہیں۔ جیسا کہ ان آیات میں ہے:

وَسَارِعُوا إِلَىٰ مَغْفِرَةٍ مِّن رَّبِّكُمْ وَجَنَّةٍ عَرْضُهَا السَّمَاوَاتُ وَالْأَرْضُ أُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِينَ ﴿١٣٣﴾ الَّذِينَ يُنفِقُونَ فِي السَّرَّاءِ وَالضَّرَّاءِ وَالْكَاظِمِينَ الْغَيْظَ وَالْعَافِينَ عَنِ النَّاسِ ۗ وَاللَّـهُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ ﴿١٣٤﴾ وَالَّذِينَ إِذَا فَعَلُوا فَاحِشَةً أَوْ ظَلَمُوا أَنفُسَهُمْ ذَكَرُوا اللَّـهَ فَاسْتَغْفَرُوا لِذُنُوبِهِمْ وَمَن يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا اللَّـهُ وَلَمْ يُصِرُّوا عَلَىٰ مَا فَعَلُوا وَهُمْ يَعْلَمُونَ ﴿١٣٥﴾ أُولَـٰئِكَ جَزَاؤُهُم مَّغْفِرَةٌ مِّن رَّبِّهِمْ وَجَنَّاتٌ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا ۚ وَنِعْمَ أَجْرُ الْعَامِلِينَ ﴿١٣٦﴾
آل عمران

’’اور اپنے پروردگار کی مغفرت اور جنت کی طرف لپکو جس کا پھیلائو اتنا بڑا ہے جیسے زمین و آسمان کا پھیلائو۔ سجی سجائی ان پرہیزگاروں کے لیے تیار ہے جو خوشحالی اور تنگدستی دونوں حالتوں میں اللہ کے نام پرخرچ کرتے ہیں اور غصے کو روکتے اور لوگوں کے قصوروں سے درگزر کرتے تھے اور اللہ تعالیٰ نیکی کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے اور وہ لوگ جو ایسے نیک دل ہیں کہ بہ تقاضائے بشریت جب کوئی بے حیائی کا کام کر بیٹھتے ہیں یا کوئی اور بے جا بات کر کے اپنا یعنی اپنے دین کا کچھ نقصان کر لیتے ہیں تو اللہ کو یاد کر کے اور اپنے گناہوں کی معافی مانگنے لگتے ہیں اور اللہ کے سوا گناہوں کا معاف کرنے والا ہے ہی کون اور جو بے جا بات کر بیٹھتے ہیں تو دیدہ دانستہ اس پر اصرار نہیں کرتے یہی لوگ ہیں جن کا بدلہ ان کے پروردگار کی طرف سے مغفرت ہے اور بہشت کے باغ ہیں جن کے تلے نہریں بہہ رہی ہوں گی وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے اور نیک کام کرنے والوں کے بھی کیسے اچھے اجر ہیں۔‘‘

اور اللہ تعالیٰ نے جو یہ فرمایا:


جَنّٰتُ عَدْنٍ یَدْخُلُوْنَھَا۔
الفاطر

سدا بہار باغ جن میں یہ لوگ داخل ہوں گے۔

تو اس سے اہلِ سنت یہ استدلال کرتے ہیں کہ اہلِ توحید میں سے کوئی بھی ہمیشہ دوزخ میں نہیں رہے گا۔
جہاں تک اہل کبائر کے جہنم میں داخل ہونے کا تعلق ہے تو اس کے متعلق نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے متواتر احادیث مروی ہیں جس طرح کہ ان کے جہنم سے نکل آنے، اہل کبائر کے متعلق ہمارے نبی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ی شفاعت اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے علاوہ دوسروں کی شفاعت سے جہنم سے نکالے جانے کے متعلق بھی متواتر احادیث وارد ہیں۔ تو جو لوگ اہل کبائر کے جہنم میں ہمیشہ رہنے کے قائل ہیں اور آیت مذکورہ کا مطلب یہ کرتے ہیں کہ سابقین ہی جنت میں جائیں گے اور مقتصد اور ظالم لنفسہ جنت میں داخل ہی نہیں ہوں گے جیسا کہ معتزلہ میں سے بعض نے یہ معنی کیا ہے تو ان کی یہ تاویل مرجئہ کی تاویل کے مقابل ہے جو اہل کبائر کے جہنم میں قطعی داخلے کے قائل نہیں ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ممکن ہے وہ سب کے سب بغیرحساب اور عذاب کے جنت میں چلے جائیں۔ تاہم یہ دونوں قول نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت سنت متواترہ، سلف امت اور ائمہ کے اجماع کے خلاف ہیں۔
اور ان دونوں جماعتوں کا قول فاسد ہونے پر اللہ تعالیٰ کا دو مقامات پر اللہ تعالیٰ کایہ فرمان مبارک دلیل ہے:

إِنَّ اللَّـهَ لَا يَغْفِرُ أَن يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَٰلِكَ لِمَن يَشَاءُ ﴿١١٦﴾
النساء

’’اللہ تعالیٰ اس گناہ کو نہیں بخشتا کہ اس کا کسی کو شریک ٹھہرایا جائے اور اس کے اور گناہ جس کو چاہے بخش دیتا ہے۔‘‘

چنانچہ اللہ تعالیٰ نے خبر دی ہے کہ شرک معاف نہیں کرے گا نیز یہ بھی خبر دی کہ وہ اس سے کم درجے کے گناہ جسے چاہے گا معاف فرما دے گا۔اس سے یہ مراد لینا جائز نہیں ہے کہ تائب ہی کو بخشے گا جیسا کہ معتزلہ میں سے اس کے قائل کہتے ہیں اس لیے کہ اللہ تعالیٰ توبہ کرنے والے کو تو شرک بھی معاف فرما دیتا ہے اور جو گناہ اس کے علاوہ ہیں وہ بھی توبہ کرنے والے کو معاف فرما دیتا ہے، اس کا تعلق مشیئت سے نہیں اسی لیے جہاں توبہ کرنے والوں کے لیے مغفرت کا ذکر ہوا اس مقام پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

قُلْ يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَىٰ أَنفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِن رَّحْمَةِ اللَّـهِ ۚ إِنَّ اللَّـهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا ۚ إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ ﴿٥٣﴾
الزمر

’’اے میرے پیغمبر! ان بندوں سے جنہوں نے نفسوں پر ظلم کیا یہ کہہ دو کہ اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہوجائیں اور اللہ تعالیٰ تمام گناہوں کو بخش دیتا ہے وہ بخشنے والا رحم کرنے والا ہے۔‘‘

چنانچہ اس مقام پر مغفرت کو عام اور مطلق رکھا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ بندے کے جس گناہ سے بھی وہ توبہ کرے، بخش دیتا ہے اور جو شخص شرک سے توبہ کرے اللہ تعالیٰ اسے بھی بخش دیتا ہے اور جو کبائر سے توبہ کرے وہ بھی بخش دیا جاتا ہے، الغرض جو گناہ بھی ہو اور بندہ اس سے تائب ہو اللہ تعالیٰ اس کو بخش دیتا ہے۔
پس توبہ کی آیت میں عموم اور اطلاق رکھا ہے اور اس آیت میں تخصیص و تعلیق ذکر کی ہے۔ شرک کی تخصیص کر دی کہ اسے نہیں بخشے گا اور اس کے سوا دوسرے گناہوں کا معاف ہونا مشیت پر معلق کر دیا اور شرک کا ذکر کر کے اس سے بڑے گناہ مثلاً خالق کو معطل اور صفات سے عاری سمجھنے پر تنبیہ کی ہے (یعنی یہ جرائم بالاولی معاف نہیں ہوںگے)۔

اور اوپر ذکر کی گئی تفصیل ان لوگوں کے موقف فاسد ہونے پر دلالت کرتی ہے جو ہر گنہگار کی مغفرت کو یقینی سمجھتے ہیں اور اس بات کو ممکن قرار دیتے ہیں کہ کسی بھی گنہگار کو عذاب نہ ہو اس لیے کہ اگر ایسا ہوتا تو اللہ تعالیٰ یہ ذکر نہ فرماتا کہ وہ بعض کو بخشے گا اور بعض کو نہیں بخشے گا۔

اور اگر ہر ظالم لنفسہ کو توبہ اور گناہوں کو مٹا دینے والی نیکیوں کے بغیر بخشنا ہوتا تو اسے مشیت کے ساتھ معلق نہ کرتا جبکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان: ویغفرمادون ذلک لمن یشاء، اس سے نیچے کے گناہ جسے چاہے بخش دے۔ دلیل ہے کہ وہ بعض کو چھوڑ کر بعض کو بخشے گا۔ اس طرح مغفرت کی نفی اور عفوعام دونوں قول باطل ٹھہرے۔

نعمت اللہ
12-12-12, 01:50 PM
جب یہ مقرر ہو گیا کہ اللہ تعالیٰ کے اولیاء صرف مومن اور متقی ہوتے ہیں تو چونکہ لوگ ایمان و تقویٰ میں باہم تفاوت رکھتے ہیں، اسی نسبت سے وہ ولایت میں بھی متفاوت ہوں گے ہیں جیسا کہ اولیاء الشیطان ،کفر و نفاق میں باہم متفاوت ہیں، اسی کے مطابق اللہ کی عداوت میں کم و بیش درجہ پر ہوتے ہیں۔ ایمان اور تقویٰ کی اساس اللہ تعالیٰ کے رسولوں پر ایمان لانا ہے جس کا جامع اور لب لباب ختم المرسلین محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانا ہے۔ سو اُن پر ایمان لانا اللہ تعالیٰ کے تمام پیغمبروں اور کتابوں پر ایمان لانا ہے اور کفر و نفاق کی اصل یہ ہے کہ پیغمبروں اور ان کے لائے ہوئے احکام سے انکار کر دیا جائے اور یہی وہ کفر ہے جس کی بنا پر اس عقیدہ کے حامل کو آخرت میں عذاب ہوتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں خبر دی ہے کہ وہ کسی کو عذاب نہیں دیتا جب تک کہ اس کے پاس رسالت نہ پہنچ جائے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

وَمَا كُنَّا مُعَذِّبِينَ حَتَّىٰ نَبْعَثَ رَسُولًا ﴿١٥﴾
بنی اسرائیل

’’اور ہم اس وقت تک عذاب نہیں دیتے کہ جب تک پیغمبر نہ بھیج لیں۔‘‘

اور فرمایا:

إِنَّا أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ كَمَا أَوْحَيْنَا إِلَىٰ نُوحٍ وَالنَّبِيِّينَ مِن بَعْدِهِ ۚ وَأَوْحَيْنَا إِلَىٰ إِبْرَاهِيمَ وَإِسْمَاعِيلَ وَإِسْحَاقَ وَيَعْقُوبَ وَالْأَسْبَاطِ وَعِيسَىٰ وَأَيُّوبَ وَيُونُسَ وَهَارُونَ وَسُلَيْمَانَ ۚ وَآتَيْنَا دَاوُودَ زَبُورًا ﴿١٦٣﴾ وَرُسُلًا قَدْ قَصَصْنَاهُمْ عَلَيْكَ مِن قَبْلُ وَرُسُلًا لَّمْ نَقْصُصْهُمْ عَلَيْكَ ۚ وَكَلَّمَ اللَّـهُ مُوسَىٰ تَكْلِيمًا ﴿١٦٤﴾ رُّسُلًا مُّبَشِّرِينَ وَمُنذِرِينَ لِئَلَّا يَكُونَ لِلنَّاسِ عَلَى اللَّـهِ حُجَّةٌ بَعْدَ الرُّسُلِ ۚ وَكَانَ اللَّـهُ عَزِيزًا حَكِيمًا ﴿١٦٥﴾
النساء

’’ہم نے تمہاری طرف وحی کی جیسا کہ ہم نے نوح اور دیگر نبیوں کی طرف وحی کی جو کہ انکے بعد تھے اور جس طرح ہم نے ابراہیم علیہ السلام ، اسماعیل علیہ السلام ، اسحق علیہ السلام ، یعقوب علیہ السلام اور اولاد یعقوب علیہ السلام اور عیسیٰ علیہ السلام ، ایوب علیہ السلام ، یونس علیہ السلام ، ہارون علیہ السلام ، سلیمان علیہ السلام کی طرف بھیجی تھی اور دائود کو ہم نے زبور کتاب عنایت کی۔ بعض پیغمبروں کے قصے ہم نے تم سے بیان کر دئیے اور بعض پیغمبروں کے حالات ہم نے تمہارے سامنے بیان نہیں کیے اور اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام سے باتیں کیں اور خوب کیں۔ سب پیغمبروں کو جنت کی خوشخبری دینے والے اور برے لوگوں کو اللہ کے عذاب سے ڈرانے والے بنا کر بھیجا تاکہ پیغمبروں کے آجانے کے بعد لوگوں کو اللہ پر کسی الزام کا موقع باقی نہ رہے اور وہ غالب، حکمت والا ہے۔‘‘

اہل دوزخ کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

كُلَّمَا أُلْقِيَ فِيهَا فَوْجٌ سَأَلَهُمْ خَزَنَتُهَا أَلَمْ يَأْتِكُمْ نَذِيرٌ ﴿٨﴾ قَالُوا بَلَىٰ قَدْ جَاءَنَا نَذِيرٌ فَكَذَّبْنَا وَقُلْنَا مَا نَزَّلَ اللَّـهُ مِن شَيْءٍ إِنْ أَنتُمْ إِلَّا فِي ضَلَالٍ كَبِيرٍ ﴿٩﴾
الملک

’’جب بھی اس دوزخ میں کوئی جماعت جھونکی جائے گی تو اس کے دربان اس جماعت سے پوچھیں گے کیا تمہارے پاس کوئی ڈرانے والا نہیں آیا۔ کہیں گے ہاں آیا لیکن ہم نے اسے جھٹلا دیا اور کہہ دیا کہ اللہ نے کوئی چیز نازل نہیں کی تم ضرور بڑی گمراہی میں پڑے ہو۔‘‘

اس آیت نے یہ خبر دی کہ جب بھی کسی گروہ کو پھینکا جائے گا تو وہ لوگ اقرار کریں گے کہ ان کے پاس ڈرانے والا آیا تھا اور انہوں نے اسے جھٹلایا تھا۔ اس سے یہ معلوم ہوا کہ دوزخ میں صرف وہ جماعت ڈالی جائے گی جس نے ڈرانے والے (نبی) کی تکذیب کی ہو۔ اللہ تعالیٰ نے ابلیس کو مخاطب کر کے فرمایا:

لَأَمْلَأَنَّ جَهَنَّمَ مِنكَ وَمِمَّن تَبِعَكَ مِنْهُمْ أَجْمَعِينَ ﴿٨٥﴾
ص

’’میں ضرور جہنم کو تجھ سے اور تیری پیروی کرنے والوں سے بھروں گا۔‘‘

اس سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ جہنم کو ابلیس کی پیروی کرنے والوں سے بھر دے گا اور جب جہنم بھر جائے گی تو اس میں اور کسی کی گنجائش نہ ہوگی۔ اس لیے جہنم میں صرف وہ لوگ داخل ہوں گے جو شیطان کی پیروی کریں گے۔ اسی سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ جس شخص کا کوئی گناہ نہ ہوگا وہ دوزخ میں داخل نہ ہوگا کیونکہ وہ اس جماعت سے ہوگا جس نے شیطان کی پیروی نہیں کی اور گناہ گار نہیں بنا اور اس سے پہلے یہ ذکر آچکا ہے کہ دوزخ میں صرف وہ لوگ داخل ہوں گے۔ جن پر پیغمبروں کے ذریعے سے حجت پوری ہوچکی ہے۔

نعمت اللہ
15-12-12, 01:14 PM
بعض لوگ پیغمبروں پر مجمل ایمان لاتے ہیں۔ جبکہ ایمان مفصل وہ ہوتا ہے کہ جو کچھ پیغمبر لائے ہوں، اس میں سے بہت کچھ اس شخص تک پہنچ جائے اور کچھ نہ بھی پہنچے۔ سو جو کچھ اس کے پاس پہنچ جائے، اس پر ایمان لائے اور جو نہ پہنچے اس سے واقف نہ ہو اور اگر اس کے پاس پہنچ جائے تو اس پر بھی ایمان لے آئے لیکن جو کچھ پیغمبر لائے ہوں اس پر مجمل ایمان لائے۔ یہ اس وقت ہوتا ہے جب کہ وہ اس پر عمل کرے جسے وہ سمجھ لے کہ اس کا حکم اللہ تعالیٰ نے دیا ہے اور ایمان و تقویٰ کے ساتھ عمل کرے تو وہ اولیاء اللہ میں سے ہے۔ اس کے ایمان و تقویٰ کے مطابق اس کی ولایت ہوگی اور جس چیز کی حجت اس پر قائم نہ ہوئی ہو تو اللہ تعالیٰ اس کے پہچاننے اور اس پر ایمان مفصل لانے کی تکلیف ہی نہیں دیتا اور نہ اس کے ترک پر عذاب دیتا ہے۔ البتہ اس میں سے جو کمی رہ جاتی ہے، اس کے مطابق ولایت ِ الٰہی کے کمال میں بھی اس کے لیے کمی رہتی ہے۔

جو شخص رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لائے ہوئے احکام و شرائع سے واقف ہو، ان پر ایمان مفصل لائے ا ور ان پر عمل کرے، اس کا ایمان اور اس کی ولایت اس شخص کے ایمان و ولایت کی بہ نسبت زیادہ کامل ہوتی ہے، جو ان سے مفصل طور پر واقف نہ ہو اور نہ عمل کرے لیکن ہوں گے دونوں ولی اللہ۔

جنت کے درجے متفاوت ہیں۔ بعض درجوں کو دوسروں پر بڑی فضیلت ہے اور اولیاء اللہ جو کہ مومن و متقی ہوتے ہیں، اس میں اپنے ایمان و تقویٰ کے مطابق ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

مَّن كَانَ يُرِيدُ الْعَاجِلَةَ عَجَّلْنَا لَهُ فِيهَا مَا نَشَاءُ لِمَن نُّرِيدُ ثُمَّ جَعَلْنَا لَهُ جَهَنَّمَ يَصْلَاهَا مَذْمُومًا مَّدْحُورًا ﴿١٨﴾ وَمَنْ أَرَادَ الْآخِرَةَ وَسَعَىٰ لَهَا سَعْيَهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَأُولَـٰئِكَ كَانَ سَعْيُهُم مَّشْكُورًا ﴿١٩﴾ كُلًّا نُّمِدُّ هَـٰؤُلَاءِ وَهَـٰؤُلَاءِ مِنْ عَطَاءِ رَبِّكَ ۚ وَمَا كَانَ عَطَاءُ رَبِّكَ مَحْظُورًا ﴿٢٠﴾ انظُرْ كَيْفَ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلَىٰ بَعْضٍ ۚ وَلَلْآخِرَةُ أَكْبَرُ دَرَجَاتٍ وَأَكْبَرُ تَفْضِيلًا ﴿٢١﴾
بنی اسرائیل

’’جو شخص دنیا کا طالب ہو تو ہم جسے چاہتے اور جتنا چاہتے ہیں۔ اسی دنیا میں سردست اس کو دے دیتے ہیں مگر پھر آخر کار ہم نے اس کے لیے دوزخ ٹھہرا رکھی ہے، جس میں وہ برے حالوں راندہِ درگاہ ہوکر داخل ہوگا اور جو طالبِ آخرت ہو اور آخرت کے لیے جیسی کوشش کرنی چاہیے۔ ویسی اس کے لیے کوشش بھی کرے اور وہ ایمان بھی رکھتا ہو تو یہی لوگ ہیں جن کی محنت اللہ کے ہاں مقبول ہوگی۔ اے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم ! اُن کو اور اِن کو تیرے پروردگار کی بخشش سے ہم امداد دیتے ہیں اور تیرے پروردگار کی مدد کسی پر بند نہیں۔ دیکھو تو سہی کہ ہم نے دنیا میں بعض لوگوں کو بعض پر کیسی برتری دی ہے اور البتہ آخرت کے درجوں میں (دنیا سے) بہت برتر اور برتری میں کہ کہیں بڑھ کر ہے۔‘‘

نعمت اللہ
15-12-12, 01:22 PM
اللہ تعالیٰ نے صاف طور پر بیان کر دیا ہے کہ وہ طالب دنیا کو بھی اور طالبِ آخرت کو بھی اپنی عطا سے امداد دیتا ہے اور نیک ہو یا بد کسی پر اس کی عطا کا دروازہ بند نہیں ہے۔ پھر فرمایا:

انظُرْ كَيْفَ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلَىٰ بَعْضٍ ۚ وَلَلْآخِرَةُ أَكْبَرُ دَرَجَاتٍ وَأَكْبَرُ تَفْضِيلًا ﴿٢١﴾
بنی اسرائیل

اس میں بیان فرمایا کہ آخرت میں لوگوں کو ایک دوسرے پر جو فضیلت ہوگی وہ اس فضیلت کی بہ نسبت بہت زیادہ ہوگی جو دنیا میں ہوتی ہے اور آخرت کے درجے دنیا کے درجوں سے بڑے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے یہ بھی بیان فرما دیا ہے کہ جس طرح تمام بندے ایک دوسرے سے افضل ہوتے ہیں۔ اسی طرح انبیاءعلیہم السلام بھی ایک دوسرے پر فضیلت رکھتے ہیں فرمایا:

تِلْكَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلَىٰ بَعْضٍ ۘ مِّنْهُم مَّن كَلَّمَ اللَّـهُ ۖ وَرَفَعَ بَعْضَهُمْ دَرَجَاتٍ ۚ وَآتَيْنَا عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ الْبَيِّنَاتِ وَأَيَّدْنَاهُ بِرُوحِ الْقُدُسِ ﴿٢٥٣﴾
البقرہ

’’ان پیغمبروں میں سے ہم نے بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے۔ ان میں سے بعض سے اللہ تعالیٰ نے کلام کیا اور بعض کے اور وجوہ سے درجے بلند کیے اور عیسیٰ علیہ السلام ابن مریم کو کھلے کھلے معجزے دئیے اور اس کی تائید روح القدس سے کی۔‘‘

اور فرمایا:

وَلَقَدْ فَضَّلْنَا بَعْضَ النَّبِيِّينَ عَلَىٰ بَعْضٍ ۖ وَآتَيْنَا دَاوُودَ زَبُورًا ﴿٥٥﴾
بنی اسرائیل

’’ہم نے بعض پیغمبروں کو بعض پر برتری دی اور دائود کو ہم نے زبور دی۔‘‘
صحیح مسلم میں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

اَلْمُوْمِنُ الْقَوِیُّ خَیْرٌ اِلَی اللہِ مِنَ الْمُوْمِنِ الضَّعِیْفِ وَفِیْ کُلٍّ خَیْرٌ اِحْرِصْ عَلٰی مَا یَنْفَعُکَ وَاسْتَعِنْ بِاللہِ وَلَا تَعْجَزْ وَاِنْ اَصَابَکَ شَیْءٌ فَلَا تَقُلْ لَوْ اَنِّیْ فَعَلْتُ لَکَانَ کَذَا وَکَذَا وَلٰکِنْ قُلْ قَدَّرَ اللہُ وَمَا شَائَ فَعَلَ فَاِنَّ لَوْ تَفْتَحُ عَمَلَ الشَّیْطٰنِ
(مسلم کتاب القدر باب فی الامر بالقوۃ و ترک العجز۔ مسند احمد ج ۲، ص ۳۷، ص ۳۶۶)

’’قوی مومن ضعیف مومن کی بہ نسبت بہتر اور اللہ تعالیٰ کو زیادہ محبوب ہے اور دونوں میں خیر ہے۔ ہر اچھی چیز کو جو تجھے نفع پہنچائے حاصل کرنے کی کوشش کر۔ اللہ تعالیٰ سے مدد مانگ اور عاجز نہ ہو اور اگر تجھے کچھ تکلیف پہنچ جائے تو یہ نہ کہہ کہ ’’اگر میں ایسا کرتا تو ایسا ہوتا‘‘ بلکہ یہ کہہ کہ اللہ تعالیٰ کی تقدیر تھی جو چاہا سو کر دیا کیونکہ ’’اگر‘‘ شیطان کی کارستانیوں کا دروازہ کھول دیتا ہے۔‘‘
اور صحیحین میں ابوہریرہ اور عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

اِذَا اجْتَھَدَ الْحَاکِمُ فَاَصَابَ فَلہ اَجْرَانِ وَاِذَا اجْتَھَدَ فَاَخْطَاَ فَلَہ اَجْرٌ
(بخاری کتاب الاعتصام باب اجرالحاکم رقم: ۷۳۵۲۔مسلم کتاب الاقضیہ۔ باب بیان اجرالحاکم، رقم: ۴۴۸۷)

’’جب کوئی حاکم اجتہاد کرے اور حق تک پہنچ جائے تو اس کے لیے دو اجر ہیں اور جب اجتہاد کرے اور حق تک نہ پہنچ پائے تو اس کے لیے ایک اجر ہے۔‘‘

اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
لَا يَسْتَوِي مِنكُم مَّنْ أَنفَقَ مِن قَبْلِ الْفَتْحِ وَقَاتَلَ ۚ أُولَـٰئِكَ أَعْظَمُ دَرَجَةً مِّنَ الَّذِينَ أَنفَقُوا مِن بَعْدُ وَقَاتَلُوا ۚ وَكُلًّا وَعَدَ اللَّـهُ الْحُسْنَىٰ ﴿١٠﴾
الحدید

’’تم میں سے جن لوگوں نے فتحِ مکہ سے پہلے راہِ خدا میں مال خرچ کیے اور دشمنوں سے لڑے وہ دوسرے مسلمانوں کے برابر نہیں ہوسکتے۔ یہ لوگ درجے میں ان سے بڑھ کر ہیں، جنہوں نے فتح مکہ کے پیچھے مال خرچ کیے اور لڑے اور یوں حسنِ سلوک کا وعدہ تو اللہ تعالیٰ نے سب ہی سے کر رکھا ہے۔‘‘
اور فرمایا:

لَّا يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ غَيْرُ أُولِي الضَّرَرِ وَالْمُجَاهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللَّـهِ بِأَمْوَالِهِمْ وَأَنفُسِهِمْ ۚ فَضَّلَ اللَّـهُ الْمُجَاهِدِينَ بِأَمْوَالِهِمْ وَأَنفُسِهِمْ عَلَى الْقَاعِدِينَ دَرَجَةً ۚ وَكُلًّا وَعَدَ اللَّـهُ الْحُسْنَىٰ ۚ وَفَضَّلَ اللَّـهُ الْمُجَاهِدِينَ عَلَى الْقَاعِدِينَ أَجْرًا عَظِيمًا ﴿٩٥﴾ دَرَجَاتٍ مِّنْهُ وَمَغْفِرَةً وَرَحْمَةً ۚ وَكَانَ اللَّـهُ غَفُورًا رَّحِيمًا ﴿٩٦﴾
النساء

’’جن مسلمانوں کو کسی طرح کی معذوری نہیں اور وہ جہاد سے بیٹھ رہے۔ یہ لوگ درجے میں ان لوگوں کے برابر نہیں ہوسکتے جو اپنے مال و جان سے جہاد کر رہے ہیں اللہ تعالیٰ نے جہاد کرنے والوں کو بیٹھ رہنے والوںپر درجہ کے اعتبار سے بڑی فضیلت دی ہے اور یوں تو اللہ کا وعدہ نیک تو سب ہی مسلمانوں سے ہے اور اللہ تعالیٰ نے ثواب عظیم کے اعتبار سے جہاد کرنے والوں کو بیٹھ رہنے والوں پر بڑی برتری دی ہے۔ یہ لوگوں کے درجات ہیں جو اللہ کے ہاں سے ٹھہرے ہوئے ہیں اور اس کی بخشش اور مہر ہے اور اللہ تعالیٰ بخشنے والا مہربان ہے‘‘۔
اور فرمایا:
أَجَعَلْتُمْ سِقَايَةَ الْحَاجِّ وَعِمَارَةَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ كَمَنْ آمَنَ بِاللَّـهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَجَاهَدَ فِي سَبِيلِ اللَّـهِ ۚ لَا يَسْتَوُونَ عِندَ اللَّـهِ ۗ وَاللَّـهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظَّالِمِينَ ﴿١٩﴾ الَّذِينَ آمَنُوا وَهَاجَرُوا وَجَاهَدُوا فِي سَبِيلِ اللَّـهِ بِأَمْوَالِهِمْ وَأَنفُسِهِمْ أَعْظَمُ دَرَجَةً عِندَ اللَّـهِ ۚ وَأُولَـٰئِكَ هُمُ الْفَائِزُونَ ﴿٢٠﴾يُبَشِّرُهُمْ رَبُّهُم بِرَحْمَةٍ مِّنْهُ وَرِضْوَانٍ وَجَنَّاتٍ لَّهُمْ فِيهَا نَعِيمٌ مُّقِيمٌ ﴿٢١﴾ خَالِدِينَ فِيهَا أَبَدًا ۚ إِنَّ اللَّـهَ عِندَهُ أَجْرٌ عَظِيمٌ ﴿٢٢﴾
التوبہ

’’کیا تم لوگوں نے حاجیوں کے پانی پلانے اور مسجد حرام کے آباد رکھنے کو اس شخص کی خدمتوں جیسا سمجھ لیا۔ جو اللہ اور روزِ آخرت پر ایمان لاتا اور اللہ کے راستے میں جہاد کرتا ہے اللہ کے نزدیک تو یہ لوگ ایک دوسرے کے برابر نہیں اور اللہ ظالم لوگوں کو راہِ راست نہیں دکھاتا ۔جو لوگ ایمان لائے اور دین کے لیے انہوں نے ہجرت کی اور اپنے جان و مال سے اللہ کے راستے میںجہاد کیے یہ لوگ اللہ کے ہاں درجے میں کہیں بڑھ کر ہیں اور یہی ہیں جو منزلِ مقصود کو پہنچنے والے ہیں۔ ان کا پروردگار ان کو اپنی مہربانی اور رضا مندی اور ایسے باغوں میں رہنے کی خوشخبری دیتا ہے جن میںان کو دائمی آسائش ملے گی، اور یہ لوگ ان باغوں میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے بے شک اللہ کے ہاں ثواب کا بڑا ذخیرہ موجود ہے۔‘‘
اور فرمایا:

أَمَّنْ هُوَ قَانِتٌ آنَاءَ اللَّيْلِ سَاجِدًا وَقَائِمًا يَحْذَرُ الْآخِرَةَ وَيَرْجُو رَحْمَةَ رَبِّهِ ۗ قُلْ هَلْ يَسْتَوِي الَّذِينَ يَعْلَمُونَ وَالَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ ۗ إِنَّمَا يَتَذَكَّرُ أُولُو الْأَلْبَابِ ﴿٩﴾
الزمر

’’بھلا جو شخص رات کے اوقات تنہائی میں اللہ کی بندگی میں لگا ہے۔ کبھی اس کی جناب میں سجدہ کرتا ہے اور اس کے جناب محمد رسول اللہ میں دست بستہ کھڑا ہوتا ہے آخرت سے ڈرتا اور اپنے پروردگار کے فضل کا امیدوار ہے (کہیں ایسا شخص بندہ نافرمان کے برابر ہوسکتا ہے؟) اے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم ! ان لوگوں سے کہو کہ کہیں جاننے والے اور نہ جاننے والے بھی برابر ہوئے ہیں مگر ان باتوں سے وہی لوگ نصیحت پکڑتے ہیں جو عقل رکھتے ہیں۔‘‘
نیز فرمایا:

يَرْفَعِ اللَّـهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنكُمْ وَالَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ دَرَجَاتٍ ۚ وَاللَّـهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ ﴿١١﴾
المجادلہ

’’تم لوگوں میں سے جو ایمان لائے ہیں اور جن کو علم دیا گیا ہے اللہ ان کے درجے بلند کرے گا اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ کو اس کی سب خبر ہے۔‘‘

نعمت اللہ
15-12-12, 01:28 PM
جب یہ ثابت ہو چکا کہ بندہ اس وقت تک ولی اللہ نہیں ہوسکتا جب تک وہ مومن و متقی نہ ہو جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

أَلَا إِنَّ أَوْلِيَاءَ اللَّـهِ لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ ﴿٦٢﴾ الَّذِينَ آمَنُوا وَكَانُوا يَتَّقُونَ ﴿٦٣﴾
یونس

’’سنو! اولیاء اللہ پر کوئی خوف نہیں اور نہ وہ غمگین ہوں گے، یہ وہ لوگ ہیں جو ایمان لائے اور متقی بنے۔‘‘

اور صحیح بخاری میں حدیث مشہور ہے اور اس کا ذکر پہلے بھی آچکا ہے:

یَقُوْلُ اللہُ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی فِیْہِ وَلَا یَزَالُ عَبْدِیْ یَتَقَرَّبُ اِلَیَّ بِالنَّوَافِلِ حَتّٰی اُحِبَّہ
(بخاری کتاب الرقاق،باب التواضع،رقم الحدیث:۶۵۰۲)

’’اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے میرا بندہ نوافل کے ذریعے میرا قرب حاصل کرتا رہتا ہے تاآنکہ میں اس سے محبت کرنے لگتا ہوں۔‘‘

اور اس وقت تک مومن و متقی نہیں ہوسکتا جب تک وہ فرائض ادا کر کے اللہ کا قرب حاصل نہ کرے اور جب ایسا کرے تو وہ ابرار، اہل یمین میں سے ہوجاتا ہے، پھر اس کے بعد وہ نوافل کے ذریعے سے قرب حاصل کرتے کرتے سابقین مقربین میں داخل ہوجاتا ہے۔ قطعی طور پر معلوم ہے کہ کفار اور منافقین میں سے کوئی بھی اللہ کا ولی نہیں ہوسکتا اور نہ وہ شخص ولی ہوسکتا ہے جس کا ایمان اور جس کی عبادات درست نہ ہوں۔ اگر یہ مان بھی لیا جائے کہ ایسے آدمی پر گناہ کوئی نہیں مثلاً کفار کے چھوٹے بچے اور وہ لوگ جن تک دعوت نہیںپہنچی اگرچہ ایک قول ہے کہ جب تک ان کے پاس رسول نہ آئے ان کو عذاب نہ ہوگا لیکن یہ حقیقت اپنی جگہ پر صادق رہے گی کہ یہ لوگ اس وقت تک اولیاء اللہ نہیں ہوسکتے، جب تک کہ وہ مومن و متقی نہ بن جائیں ، پس جو شخص نیک اعمال کر کے بغیر اور گناہوں کو ترک کے ذریعہ قرب الٰہی کا طالب نہ ہو وہ بھی اولیاء اللہ میں سے نہیں ہو سکتا اور یہی حالت دیوانوں اور بچوں کی ہے۔ اس لئے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

رُفِعُ الْقَلَمُ عَنْ ثَلَاثَۃٍ عَنِ الْمَجْنُوْنِ حَتّٰی یُفِیْقَ وَعَنِ الصَّبِّیِ حَتّٰی یَحْتَلِمَ وَعَنِ النَّائِمِ حَتّٰی یَسْتَیْقِظَ۔
(ابوداؤد کتاب الحدود باب فی المجنون یسرق اویصیب حدا رقم: ۴۴۰۲۔ ترمذی کتاب الحدود باب ماجاء فیمن لایجب علیہ الحد رقم: ۱۴۲۳۔ نسائی کتاب الطلاق، بابب من لم یقع طلاقہ رقم: ۳۴۶۲)

’’یہ تینوں گروہ مرفوع القلم ہیں، دیوانہ جب تک ہوش میں نہ آئے۔ بچہ جب تک بالغ نہ ہو اور سونے والا جب تک بیدار نہ ہوجائے۔‘‘

اس حدیث کو اہل سنن نے علی و عائشہ رضی اللہ عنہما کی حدیث سے روایت کیا ہے۔ اہل علم اس حدیث کے قابلِ قبول ہونے میں متفق ہیں۔
البتہ وہ بچہ جس میں تمیز کی قوت پیدا ہوچکی ہواس کی عبادت درست ہوتی ہیں اور اس کو ثواب بھی ملتا ہے جمہور علماء کا یہی مذہب ہے لیکن مجنون مرفوع القلم کے متعلق علماء کا اتفاق ہے کہ نہ اس کی عبادات درست ہیں، نہ کفر و ایمان نہ نماز اور نہ اس کے علاوہ کچھ اور عبادات بلکہ عام اہل عقل کے نزدیک تو وہ تجارت اور صنعت وغیرہ دنیوی معاملات کا بھی اہل نہیں ہے۔ نہ وہ بزاز ہوسکتا ہے اور نہ عطار، نہ لوہار یا بڑھئی اور علماء کے نزدیک بالاتفاق اس کے کیے ہوئے معاہدے اور سودے بھی درست نہیں۔ اس کی خرید و فروخت، نکاح و طلاق، اقرار و شہادت الغرض اس کے اقوال سارے کے سارے لغو، غیر معتبر ہیں اور ان سے کوئی شرعی حکم وابستہ نہیں ہوسکتا۔ نہ ان کا ثواب ملتا ہے اور نہ ان کی وجہ سے عذاب ہوتا ہے۔ صاحبِ تمیز بچے کی حالت اس سے مختلف ہے۔ بعض جگہوں میں اس کے اقوال نص اور اجماع کے مطابق معتبر ہوتے ہیں اور بعض جگہوں میں ان کے معتبر ہونے میں اختلاف ہے۔
جب مجنون کا ایمان و تقویٰ ہی معتبر نہیں اور وہ فرائض و نوافل کے ذریعہ سے اللہ کا قرب حاصل کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا تو اس کا ولی اللہ ہونا ممتنع ہوا اور کسی کو یہ جائز نہیں کہ اس کے متعلق ولی اللہ ہونے کا عقیدہ رکھے ۔ خاص طور پرجبکہ اس پر اس کی دلیل بھی اس کا کوئی مکاشفہ یا کوئی تصوف ہو۔ مثلاً کسی نے دیکھا کہ اس نے کسی کی طرف اشارہ کیا اور مشارالیہ مر گیا یا بےہوش ہو کر گر پڑا۔ (تو اس کو ولی سمجھ لینا سراسر جہالت ہے) اس لیے کہ یہ ثابت شدہ بات ہے کہ مشرکین و اہل کتاب میں سے بعض کفار و منافقین کو بھی مکاشفات اور شیطانی تصرفات حاصل ہوتے ہیں مثلاً کاہن، جادوگر، مشرک پجاری اور اہل کتاب (ایسے ایسے شعبدے دکھاتے ہیں جو لوگوںکی گمراہی کا سبب بن جاتے ہیں) اس لیے کسی کے لیے جائز نہیں کہ صرف اس بات کو کسی شخص کے ولی ہونے کی دلیل قرار دے۔ خواہ اس نے اس میں کوئی منافی ولایت بات نہ بھی دیکھی ہو، چہ جائیکہ اس شخص میں ایسی باتیں پائی جائیں جو ولی اللہ ہونے کی منافی ہوں۔

نعمت اللہ
15-12-12, 01:30 PM
مثلاً یہ معلوم ہو کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کے واجب ہونے کا ظاہراً و باطناً عقیدہ نہیں رکھتا۔ بلکہ اس کا عقیدہ یہ ہو کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم شرعِ ظاہری کے متبع ہیں نہ کہ حقیقت ِ باطنی کے۔ یا اس کا یہ عقیدہ ہو کہ اولیاء اللہ کے پاس خدا کی طرف جانے کا طریقہ انبیاءعلیہم السلام کے طریقہ کے علاوہ ہے۔ یا یہ کہے کہ انبیاءعلیہم السلام نے راستہ تنگ کر دیا ہے۔ یا یہ کہ ان کی پیروی عوام کے لیے ہے نہ کہ خواص کے لیے، یہ اور اسی طرح کی اور کئی باتیں ان مدعیانِ ولایت سے صادرہوتی ہیں۔ یہ لوگ اللہ عزوجل کے ولی تو کیا ہوں گے ان میں تو وہ کفر پایا جاتا ہے جو سرے سے ایمان ہی کے منافی ہے۔
پھر جو شخص اس دلیل سے کسی کو صرف اسی بنا پر ولی قرار دے کہ اس سے خلافِ عادت کوئی کام سرزد ہوگیا ہے تو وہ یہود و نصاریٰ سے زیادہ گمراہ ہے۔

نعمت اللہ
15-12-12, 01:32 PM
یہی معاملہ مجنون کا ہے (اس کو ولی سمجھنا درست نہیں) اس لیے کہ اس کا مجنون ہونا ہی ایمان و عبادات کی صحت کے منافی ہے جو ولی اللہ ہونے کی شرط ہے۔ جو شخص کبھی دیوانہ ہوجائے اور کبھی ہوش میں آئے اس کے متعلق یہ حکم ہے کہ جب وہ ہوش کی حالت میں اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لاتا ہو، فرائض ادا کرتا ہو اور گناہوں سے بچتا ہو تو یہ شخص جب مجنون ہوجائے تو اس کا جنون مانع نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ اسے اس ایمان و تقویٰ کا جو کہ وہ بحالت ِ افاقہ حاصل کرچکا ہے ثواب دے اور اسی کے مطابق اسے ولایت بھی حاصل ہو اسی طرح جس شخص پر ایمان اور تقویٰ کے بعد جنون کا حملہ ہوجائے، اس کو اللہ تعالیٰ اس کے پہلے ایمان اور تقویٰ کا اجر و ثواب دیتا ہے اور اس جنون کی مصیبت کی وجہ سے جس میں وہ مبتلا ہوا اس کے کسی گناہ کے بغیر اس کے اعمال اکارت نہیں کرتا۔ جنون کی حالت میں وہ مرفوع القلم رہے گا۔
ان حالات میں جو شخص ولایت کا مدعی ہو اور وہ فرائض ادا نہ کرتا ہو، نہ محرمات سے پرہیز کرتا ہو بلکہ ایسے کام کرتا ہو جو ولایت کے منافی ہیں تو ایسے شخص کو ولی اللہ کہناکسی فرد کے لیے جائز نہیں ہے۔ ایسا شخص اگر مجنون نہ ہو لیکن جنون کے بغیر ہی بے خود سا رہتا ہو یا کبھی جنون کے غلبہ کی وجہ سے اس کی عقل جاتی رہے اور پھر افاقہ ہوجائے لیکن وہ فرائض ادا نہ کرے اور اعتقاد رکھے کہ اس پر رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا اتباع واجب نہیں ہے تو وہ کافر ہے خواہ وہ ظاہراً اور باطناً مجنون اور مرفوع القلم ہی کیوں نہ ہو۔ ایسے شخص کو اگر کافروں جیسا عذاب نہ بھی ہو تو پھر بھی وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس عزت و کرامت کا مستحق نہیں ہے جو کہ اہل ایمان اور تقویٰ کے لیے مخصوص ہے۔ ان دونوں مفروضہ صورتوں میں کسی کے لیے اس کے بارے میں ولی اللہ ہونے کا عقیدہ رکھنا جائز نہیں لیکن اگر افاقہ کی حالت میں اللہ پر ایمان رکھنے والا اور اس سے ڈرنے والا ہوتا ہو تو اس ایمان و تقویٰ کے مطابق اسے ولایت حاصل ہو گی۔ اور اگر وہ اپنے افاقہ کے دوران کفر و نفاق میں مبتلا ہو پھر اس پر جنون طاری ہوگیا ہو تو اس کفر و نفاق کی وجہ سے اس کو عذاب ہوگا اور اس کا جنوں اس کے اس کفرو نفاق کو نابود نہیں کر سکتا جو کہ افاقہ کی حالت میں وہ کما چکا ہے۔

نعمت اللہ
15-12-12, 01:35 PM
اولیاء اللہ کے ہاں ظاہری مباح امور میں کوئی ایسی خاص چیز نہیں ہوتی جس کی وجہ سے وہ لوگوں سے ممتاز نہیں رہیں، نہ ایک لباس کو چھوڑ کر دوسرا اختیار کرتے ہیں بشرطیکہ مباح ہوں، نہ وہ بال منڈوانے یا کترانے یا گوندنے کو ہی اپنا شعار بناتے ہیں۔ بشرطیکہ یہ چیزیں مباح ہوں، چنانچہ کہاوت ہے۔

کم من صدیق فی قباء
وکم من زندیق فی عباء

کتنے صدیق فاخرانہ قباء میں ملبوس ہوتے ہیں اور کتنے زندیق (بے دین) درویشانہ گودڑی پہنے ہوتے ہیں۔

درویش صفت باش وکلاہ تتری دار

بلکہ اولیاء اللہ امت ِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام گروہوں میں موجود ہیں

بشرطیکہ وہ ظاہری بدعات اور فسق و فجور میں مبتلا نہ ہوں۔ یہ لوگ حفاظ قرآن، اہل علم، اہل جہاد، اہل شمشیر، اہل تجارت و صنعت اور اہلِ زراعت سب لوگوں میں پائے جاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کے لوگوں کی قسمیں اپنے اس فرمان میں بیان فرمائی ہیں۔

إِنَّ رَبَّكَ يَعْلَمُ أَنَّكَ تَقُومُ أَدْنَىٰ مِن ثُلُثَيِ اللَّيْلِ وَنِصْفَهُ وَثُلُثَهُ وَطَائِفَةٌ مِّنَ الَّذِينَ مَعَكَ ۚ وَاللَّـهُ يُقَدِّرُ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ ۚ عَلِمَ أَن لَّن تُحْصُوهُ فَتَابَ عَلَيْكُمْ ۖ فَاقْرَءُوا مَا تَيَسَّرَ مِنَ الْقُرْآنِ ۚ عَلِمَ أَن سَيَكُونُ مِنكُم مَّرْضَىٰ ۙ وَآخَرُونَ يَضْرِبُونَ فِي الْأَرْضِ يَبْتَغُونَ مِن فَضْلِ اللَّـهِ ۙ وَآخَرُونَ يُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِ اللَّـهِ ۖ فَاقْرَءُوا مَا تَيَسَّرَ مِنْهُ ۚ وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ وَأَقْرِضُوا اللَّـهَ قَرْضًا حَسَنًا ۚ وَمَا تُقَدِّمُوا لِأَنفُسِكُم مِّنْ خَيْرٍ تَجِدُوهُ عِندَ اللَّـهِ هُوَ خَيْرًا وَأَعْظَمَ أَجْرًا ۚ وَاسْتَغْفِرُوا اللَّـهَ ۖ إِنَّ اللَّـهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ ﴿٢٠﴾
المزمل

’’اے پیغمبر! تمہارا پروردگار جانتا ہے کہ تم اور چند لوگ جو تمہارے ساتھ ہیں کبھی دوتہائی رات کے قریب اور کبھی آدھی رات اور کبھی تہائی رات نماز میں کھڑے رہتے ہو اور رات اور دن کا ٹھیک اندازہ اللہ ہی کر سکتا ہے، اس کو معلوم ہے کہ تم اس کا احترام نہیں کر سکتے تو اس نے تمہارے حال پر رحم کیا تو اب تہجد میں جتنا قرآن آسانی سے پڑھا جائے پڑھ لیا کرو۔ اس کو معلوم ہے کہ تم میں سے بعض آدمی بیمار ہوں گے اور بعض اللہ تعالیٰ کے فضل یعنی معاش کی تلاش میں اِدھر اُدھر ملک میں سفر کر رہے ہوں گے اور بعض اللہ تعالیٰ کی راہ میں دشمنوں سے لڑتے ہوں گے، سو جتنا قرآن تہجد میں آسانی سے پڑھا جائے پڑھ لیا کرو۔

نعمت اللہ
19-12-12, 07:41 AM
سلف صالحین اہلِ دین و علم کو قراء کہا کرتے تھے چنانچہ علماء اور عبادت گذار لوگ اسی جماعت میں داخل ہیں۔ بعد میں صوفیا اور فقرا کا نام پیدا ہوگیا تھا اور صوفیا کا نام صوف (اون) کے لباس کی طرف منسوب ہے اور یہی صحیح بات ہے۔
یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سے فقہاء کی برگزیدگی کی طرف اشارہ ہے۔یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ نام صوفۃ الفقہاء کی طرف منسوب ہے اور یہ بھی کہا گیا کہ یہ نام صوفہ بن مربن ادّبن طابخۃ کی طرف منسوب ہے جو کہ عرب کا ایک قبیلہ ہے جو کہ عبادت گذاری میں مشہور تھا۔نیز کہا گیا ہے کہ صوفی کا نام اصحاب ِ صُفہّ کی طرف منسوب ہے۔بعض کہتے ہیں کہ صفا کی طرف منسوب ہے بعض کہتے ہیں کہ صفوۃ کی طرف منسوب ہے۔بعض کہتے ہیں کہ اللہ کے سامنے پہلی صف میں کھڑا ہونے کی طرف اشارہ ہے اور یہ قول ضعیف ہیں کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو صفی یا صفائی یا صفوی وغیرہ کہا جاتا اور صوفی نہ کہا جاتا اور فقرا کے نام کا اطلاق اہلِ سلوک پر بھی ہونے لگا اور یہ جدید اصطلاح ہے۔

نعمت اللہ
19-12-12, 07:45 AM
لوگوں نے اس میں اختلاف کیا ہے کہ آیا جسے صوفی کا نام دیا جاتا ہے وہ افضل ہے یا وہ جسے فقیر کہا جاتا ہے۔ اس میں بھی اختلاف ہوا ہے کہ شکر گزار غنی بہتر ہے یا صبر کرنے والا فقیر اور اس مسئلے میں قدیم سے نزاع چلا آتا ہے۔ جنید رحمہ اللہ اور ابوالعباس ابن عطاء کے درمیان بھی یہ اختلاف ہوا۔ احمدبن حنبل رحمہ اللہ سے اس معاملہ میں دو روایتیں ہیں اور ان سب اُمور میں صحیح وہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْنَاكُم مِّن ذَكَرٍ وَأُنثَىٰ وَجَعَلْنَاكُمْ شُعُوبًا وَقَبَائِلَ لِتَعَارَفُوا ۚ إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِندَ اللَّـهِ أَتْقَاكُمْ ۚ إِنَّ اللَّـهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ ﴿١٣﴾
الحجرات

’’لوگو! ہم نے تم سب کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا ہے اور پھر تمہاری ذاتیں اور برادریاں ٹھہرائیں تاکہ ایک دوسرے کو شناخت کر سکو بلاشبہ اللہ کے نزدیک تم میں زیادہ عزت والا وہ ہے جو تم میں بڑا پرہیز گار ہے۔‘‘

صحیح بخاری میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا گیا کہ کون لوگ افضل ہیں؟ فرمایا، جو تمام لوگوں سے زیادہ پرہیزگار ہوں۔ عرض کی گئی کہ ہم یہ نہیں پوچھتے۔ فرمایا یوسف نبی اللہ ابن یعقوب نبی اللہ ابن اسحاق نبی اللہ، ابن ابراہیم خلیل اللہ افضل ہیں۔‘‘ پھر عرض کی گئی کہ ’’ہم یہ نہیں پوچھتے‘‘ تو فرمایا کہ ’’عرب کے خانوادوں کے متعلق پوچھتے ہو؟‘‘

اَلنَّاسُ مَعَادِنُ کَمَعَادِنِ الذَّھَبِ وَالْفِضَّۃِ خِیَارُھُمْ فیِ الْجَاھِلِیَّۃِ خِیَارُھُمْ فِی الْاِسْلَامِ اِذَا فَقُھُوْا۔
(بخاری کتاب الانبیاء ، باب قول اللہ تعالیٰ لقد کان فی یوسف و اخوتہ اٰیات للسائلین۔ مسلم: کتاب الفضائل باب من فضائل یوسف u علی السلام حدیث ۲۳۷۸)

’’لوگوں کی مثال بھی سونے چاندی کی کانوں جیسی ہے ان میں سے جو لوگ جاہلیت کے زمانے میں سب سے بہتر تھے ان کو جب سمجھ آجائے تو اسلام میں بھی سب سے بہتر ثابت ہوتے ہیں۔‘‘

نعمت اللہ
19-12-12, 07:49 AM
کتاب و سنت اس پر دال ہیں کہ لوگوں میں زیادہ باعزت وہ ہیں جو ان میں سے زیادہ متقی ہیں۔ سنن میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت ہے کہ جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لَافَضْلَ لِعَرَبِّیٍ عَلٰی عَجَمِیٍّ وَلَا لِعَجَمِیٍّ عَلٰی عَرَبِیٍّ وَلَا لِاَسْوَدَ عَلٰی اَبْیَضَ وَلَا لاَِبْیَضَ عَلٰی اَسْوَدَ اِلَّا بِالتَّقْوٰی النَّاسُ مِنْ اٰدَمَ وَاٰدَمُ مِنْ تُرَابٍ۔
(مسند احمد۴۱۱/۲ عن ابی نضرة الناس من آدم کے الفاظ سنن ترمذی میں ہیں۔ باب فضل الشام و الیمن حدیث ۳۹۵۶)

’’کسی عربی کو عجمی پر، عجمی کو عربی پر، کالے کو گورے پر اور گورے کو کالے پر فضیلت حاصل نہیں اور اگر ہے تو محض تقویٰ کی بنا پر۔ لوگ آدم علیہ السلام کی نسل سے ہیں اور آدم علیہ السلام کو مٹی سے بنایا گیا ہے۔‘‘

نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت ہے کہ جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

اِنَّ اللہَ تَعَالٰی اَذْھَبَ عَنْکُمْ عُبِیَّۃَ الْجَاھِلِیَّۃِ وَفَخْرَھَا بِالْاٰبَائِ النَّاسُ رَجُلَانِ مُوْمِنٌ تَقِیٌّ وَفَاجِرٌ شَقِیٌّ۔
(مسند احمد ۲؍۵۲۴۔ ابوداؤد۔ کتاب الادب، باب التفاخر بالاحساب رقم: ۵۱۱۶، ترمذی۔ کتاب المناقب و کتاب التفسیر۔ من سورۃ حجرات رقم: ۳۲۷۰۔و ۳۹۵۶۔ الناس رجلان … کے الفاظ ابن حبان ۳۸۲۸ میں ہیں۔)

’’اللہ تعالیٰ نے تم سے جاہلیت کی نخوت اور اس زمانے کا آباء و اجداد پر فخر کرنا دور کر دیا ہے۔ لوگ دو قسم کے ہوتے ہیں، مومن تقی اور فاجر شقی۔‘‘
سو جو شخص ان اقسام میں سے اللہ تعالیٰ سے زیادہ ڈرنے والا ہو وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک زیادہ باعزت ہے اور جب دونوں تقویٰ میں برابر ہوں تو وہ دونوں درجہ میں بھی برابر ہیں۔

نعمت اللہ
21-12-12, 08:24 AM
لوگوں نے اس میں اختلاف کیا ہے کہ آیا جسے صوفی کا نام دیا جاتا ہے وہ افضل ہے یا وہ جسے فقیر کہا جاتا ہے۔ اس میں بھی اختلاف ہوا ہے کہ شکر گزار غنی بہتر ہے یا صبر کرنے والا فقیر اور اس مسئلے میں قدیم سے نزاع چلا آتا ہے۔ جنید رحمہ اللہ اور ابوالعباس ابن عطاء کے درمیان بھی یہ اختلاف ہوا۔ احمدبن حنبل رحمہ اللہ سے اس معاملہ میں دو روایتیں ہیں اور ان سب اُمور میں صحیح وہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْنَاكُم مِّن ذَكَرٍ وَأُنثَىٰ وَجَعَلْنَاكُمْ شُعُوبًا وَقَبَائِلَ لِتَعَارَفُوا ۚ إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِندَ اللَّـهِ أَتْقَاكُمْ ۚ إِنَّ اللَّـهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ ﴿١٣﴾
الحجرات

’’لوگو! ہم نے تم سب کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا ہے اور پھر تمہاری ذاتیں اور برادریاں ٹھہرائیں تاکہ ایک دوسرے کو شناخت کر سکو بلاشبہ اللہ کے نزدیک تم میں زیادہ عزت والا وہ ہے جو تم میں بڑا پرہیز گار ہے۔‘‘

صحیح بخاری میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا گیا کہ کون لوگ افضل ہیں؟ فرمایا، جو تمام لوگوں سے زیادہ پرہیزگار ہوں۔ عرض کی گئی کہ ہم یہ نہیں پوچھتے۔ فرمایا یوسف نبی اللہ ابن یعقوب نبی اللہ ابن اسحاق نبی اللہ، ابن ابراہیم خلیل اللہ افضل ہیں۔‘‘ پھر عرض کی گئی کہ ’’ہم یہ نہیں پوچھتے‘‘ تو فرمایا کہ ’’عرب کے خانوادوں کے متعلق پوچھتے ہو؟‘‘

اَلنَّاسُ مَعَادِنُ کَمَعَادِنِ الذَّھَبِ وَالْفِضَّۃِ خِیَارُھُمْ فیِ الْجَاھِلِیَّۃِ خِیَارُھُمْ فِی الْاِسْلَامِ اِذَا فَقُھُوْا۔
(بخاری کتاب الانبیاء ، باب قول اللہ تعالیٰ لقد کان فی یوسف و اخوتہ اٰیات للسائلین۔ مسلم: کتاب الفضائل باب من فضائل یوسف u علی السلام حدیث ۲۳۷۸)

’’لوگوں کی مثال بھی سونے چاندی کی کانوں جیسی ہے ان میں سے جو لوگ جاہلیت کے زمانے میں سب سے بہتر تھے ان کو جب سمجھ آجائے تو اسلام میں بھی سب سے بہتر ثابت ہوتے ہیں۔‘‘

نعمت اللہ
21-12-12, 08:27 AM
کتاب و سنت اس پر دال ہیں کہ لوگوں میں زیادہ باعزت وہ ہیں جو ان میں سے زیادہ متقی ہیں۔ سنن میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت ہے کہ جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

لَافَضْلَ لِعَرَبِّیٍ عَلٰی عَجَمِیٍّ وَلَا لِعَجَمِیٍّ عَلٰی عَرَبِیٍّ وَلَا لِاَسْوَدَ عَلٰی اَبْیَضَ وَلَا لاَِبْیَضَ عَلٰی اَسْوَدَ اِلَّا بِالتَّقْوٰی النَّاسُ مِنْ اٰدَمَ وَاٰدَمُ مِنْ تُرَابٍ۔
(مسند احمد۴۱۱/۲ عن ابی نضرة الناس من آدم کے الفاظ سنن ترمذی میں ہیں۔ باب فضل الشام و الیمن حدیث ۳۹۵۶)

’’کسی عربی کو عجمی پر، عجمی کو عربی پر، کالے کو گورے پر اور گورے کو کالے پر فضیلت حاصل نہیں اور اگر ہے تو محض تقویٰ کی بنا پر۔ لوگ آدم علیہ السلام کی نسل سے ہیں اور آدم علیہ السلام کو مٹی سے بنایا گیا ہے۔‘‘
نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت ہے کہ جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

اِنَّ اللہَ تَعَالٰی اَذْھَبَ عَنْکُمْ عُبِیَّۃَ الْجَاھِلِیَّۃِ وَفَخْرَھَا بِالْاٰبَائِ النَّاسُ رَجُلَانِ مُوْمِنٌ تَقِیٌّ وَفَاجِرٌ شَقِیٌّ۔
(مسند احمد ۲؍۵۲۴۔ ابوداؤد۔ کتاب الادب، باب التفاخر بالاحساب رقم: ۵۱۱۶، ترمذی۔ کتاب المناقب و کتاب التفسیر۔ من سورۃ حجرات رقم: ۳۲۷۰۔و ۳۹۵۶۔ الناس رجلان … کے الفاظ ابن حبان ۳۸۲۸ میں ہیں۔)

’’اللہ تعالیٰ نے تم سے جاہلیت کی نخوت اور اس زمانے کا آباء و اجداد پر فخر کرنا دور کر دیا ہے۔ لوگ دو قسم کے ہوتے ہیں، مومن تقی اور فاجر شقی۔‘‘
سو جو شخص ان اقسام میں سے اللہ تعالیٰ سے زیادہ ڈرنے والا ہو وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک زیادہ باعزت ہے اور جب دونوں تقویٰ میں برابر ہوں تو وہ دونوں درجہ میں بھی برابر ہیں۔

نعمت اللہ
21-12-12, 08:38 AM
لفظ فقر سے شریعت میں مال سے تہی دست اور محتاج ہونا بھی مراد ہوتا ہے اور مخلوق کا اپنے خالق کی طرف محتاج ہونا بھی مراد ہوتا ہے۔ جیسا (پہلی قسم کے متعلق) کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاءِ وَالْمَسَاكِينِ ﴿٦٠﴾
التوبۃ

’’صدقات فقراء اور مساکین کے لیے ہوتے ہیں۔‘‘

اور(دوسری قسم کے متعلق )فرمایا:

يَا أَيُّهَا النَّاسُ أَنتُمُ الْفُقَرَاءُ إِلَى اللَّـهِ ﴿١٥﴾
فاطر

’’اے لوگو تم اللہ کے محتاج ہو۔‘‘

اللہ تعالیٰ نے قرآن میں فقیروں کی دو قسمیں بیان فرما کر دونوں کی تعریف کی ہے۔ ایک اہل الصدقات اور ایک اہل فِئ۔ پہلی قسم کے متعلق فرمایا:

لِلْفُقَرَاءِ الَّذِينَ أُحْصِرُوا فِي سَبِيلِ اللَّـهِ لَا يَسْتَطِيعُونَ ضَرْبًا فِي الْأَرْضِ يَحْسَبُهُمُ الْجَاهِلُ أَغْنِيَاءَ مِنَ التَّعَفُّفِ تَعْرِفُهُم بِسِيمَاهُمْ لَا يَسْأَلُونَ النَّاسَ إِلْحَافًا ﴿٢٧٣﴾
البقرۃ

’’جو تم خرچ کرو گے ان حاجت مندوں کا حق ہے، جو اللہ کی راہ میں گھرے بیٹھے ہیں، ملک میں کسی طرف کو جانہیں سکتے جو شخص ان کے حال سے بے خبر ہے وہ ان کی خودداری کی وجہ سے ان کو غنی سمجھتا ہے لیکن اے مخاطب تو انہیں دیکھے تو قیافے سے ان کو صاف پہچان جائے (کہ محتاج ہیں) لگ لپٹ کر لوگوں سے نہیں مانگتے۔‘‘

دوسری قسم کے متعلق جو کہ دونوں میں سے افضل ہے۔


لِلْفُقَرَاءِ الْمُهَاجِرِينَ الَّذِينَ أُخْرِجُوا مِن دِيَارِهِمْ وَأَمْوَالِهِمْ يَبْتَغُونَ فَضْلًا مِّنَ اللَّـهِ وَرِضْوَانًا وَيَنصُرُونَ اللَّـهَ وَرَسُولَهُ ۚ أُولَـٰئِكَ هُمُ الصَّادِقُونَ ﴿٨﴾
الحشر

’’وہ مال جو بن لڑے ہاتھ لگا ہے منجملہ اور حق داروں کے محتاج مہاجرین کا بھی حق ہے جو (کافروں کے ظلم سے) اپنے گھروں اور مالوں سے بے دخل کر دیے گئے جب کہ وہ اللہ تعالیٰ کے فضل اور اس کی خوشنودی کی طلب گاری میں لگے ہیں اور اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی مدد کو کھڑے ہوجاتے ہیں یہی تو سچے مسلمان ہیں۔‘‘

یہ ان مہاجرین کی صفت ہے جنہوں نے گناہ ترک کر دئیے تھے اور اللہ تعالیٰ کے دشمنوں سے ظاہری و باطنی طور پر جہاد کیا تھا۔ جیسا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے:

اَلْمُوْمِنُ مَنْ اَمِنَہُ النَّاس عَلیٰ دِمَائِھِمْ وَ اَمْوَالِھم
(مسند احمد۲۱/۶ )
وَ الْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُوْنَ مِنْ لِسَانِہ وَیَدِہ وَالْمُھَاجِرُ مَنْ ھَجَرَمَا نَھَی اللہُ عَنْہُ
(بخاری۔ کتاب الایمان، باب المسلم من سلم المسلمون من لسانہ ویدہ۔ رقم: ۱۰۔ مسلم کتاب الایمان۔ باب بیان تفاضل الاسلام رقم: ۴۰۔ ابوداؤد، کتاب الجہاد۔ باب فی الھجرۃ۔ رقم: ۲۴۸۱)۔وانظر سنن نسائی ۴۹۹۸)
وَالْمُجَاھِدُ مَنْ جَاھَدَ نَفْسَہ فِیْ ذَاتِ اللہِ
(مسند احمد ۲؍۶۳۔)

’’مومن وہ ہے جسے لوگ اپنے مال و جان پر امین سمجھیں۔‘‘

’’ اور مسلم وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے مسلمان محفوظ رہیں، مہاجر وہ ہے جو اللہ کی منع کی ہوئی باتوں کو چھوڑ دے۔‘‘

’’اور مجاہد وہ ہے جو اللہ کی ذات کے بارے میں اپنے نفس سے جہاد کرے۔

نعمت اللہ
21-12-12, 08:54 AM
بعض نے یہ جو حدیث روایت کی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہِ تبوک میں فرمایا:
رَجَعْنَا مِنَ الْجِھَادِ الْاَصْغَرِ اِلَی الْجِھَادِ الْاَکْبَرِ۔
(قال العراقی رواہ البیہقی بسند ضعیف عن جابر وقال الحافظ ابن حجر ھومن کلام ابراہیم بن عیلۃ۔راجع کشف الخفاء (۱۳۶۲) (ازھر))

’’ہم چھوٹے جہاد سے لوٹ کر بڑے جہاد کی طرف آگئے ہیں۔‘‘

اس حدیث کی کوئی بنیاد نہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال و افعال کے متعلق علم رکھنے والے لوگوں میں سے کسی نے اسے روایت نہیں کیا۔
کفار سے جہاد کرنا سب سے بہتر کاموں میں سے ہے بلکہ وہ ان تمام اعمال سے جنہیں انسان ثواب کے لیے کرتا ہے افضل ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

لَّا يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ غَيْرُ أُولِي الضَّرَرِ وَالْمُجَاهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللَّـهِ بِأَمْوَالِهِمْ وَأَنفُسِهِمْ ۚ فَضَّلَ اللَّـهُ الْمُجَاهِدِينَ بِأَمْوَالِهِمْ وَأَنفُسِهِمْ عَلَى الْقَاعِدِينَ دَرَجَةً ۚ وَكُلًّا وَعَدَ اللَّـهُ الْحُسْنَىٰ ۚ وَفَضَّلَ اللَّـهُ الْمُجَاهِدِينَ عَلَى الْقَاعِدِينَ أَجْرًا عَظِيمًا ﴿٩٥﴾
النساء:

’’جن مسلمانوں کو کسی طرح کی معذوری نہیں اور وہ جہاد سے بیٹھ رہے ۔ یہ لوگ درجے میں ان لوگوں کے برابر نہیں ہوسکتے ، جو اپنے مال و جان سے جہاد کر رہے ہیں، اللہ تعالیٰ نے جہاد کرنے والوں کو بیٹھ رہنے والوں پر درجہ کے اعتبار سے بڑی فضیلت دی ہے اور یوں اللہ تعالیٰ کا وعدہ نیک تو سب ہی مسلمانوں سے ہے اور اللہ نے ثوابِ عظیم کے اعتبار سے جہاد کرنے والوں کو بیٹھ رہنے والوں پر بڑی برتری دی ہے۔‘‘
نیز فرمایا:

أَجَعَلْتُمْ سِقَايَةَ الْحَاجِّ وَعِمَارَةَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ كَمَنْ آمَنَ بِاللَّـهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَجَاهَدَ فِي سَبِيلِ اللَّـهِ ۚ لَا يَسْتَوُونَ عِندَ اللَّـهِ ۗ وَاللَّـهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظَّالِمِينَ ﴿١٩﴾ الَّذِينَ آمَنُوا وَهَاجَرُوا وَجَاهَدُوا فِي سَبِيلِ اللَّـهِ بِأَمْوَالِهِمْ وَأَنفُسِهِمْ أَعْظَمُ دَرَجَةً عِندَ اللَّـهِ ۚ وَأُولَـٰئِكَ هُمُ الْفَائِزُونَ ﴿٢٠﴾يُبَشِّرُهُمْ رَبُّهُم بِرَحْمَةٍ مِّنْهُ وَرِضْوَانٍ وَجَنَّاتٍ لَّهُمْ فِيهَا نَعِيمٌ مُّقِيمٌ ﴿٢١﴾ خَالِدِينَ فِيهَا أَبَدًا ۚ إِنَّ اللَّـهَ عِندَهُ أَجْرٌ عَظِيمٌ ﴿٢٢﴾
التوبہ

’’کیا تم لوگوں نے حاجیوں کے پانی پلانے اور مسجد حرام کے آباد رکھنے کو اس شخص کی خدمتوں جیسا سمجھ لیا جو اللہ اور روزِ آخرت پر ایمان لاتا اور اللہ کے راستے میں جہاد کرتا ہے، اللہ کے نزدیک تو یہ لوگ ایک دوسرے کے برابر نہیں اور اللہ ظالم لوگوں کو راہِ راست نہیں دکھایا کرتا جو لوگ ایمان لائے اور دین کے لیے انہوں نے ہجرت کی اور اپنے جان و مال سے اللہ کے راستے میں جہاد کیے، یہ لوگ اللہ کے ہاں درجے میں کہیں بڑھ کر ہیںاور یہی ہیں جو منزلِ مقصود کو پہنچنے والے ہیں۔ ان کا پروردگار ان کو اپنی مہربانی اور رضا مندی اور ایسے باغوں میں رہنے کی خوشخبری دیتا ہے جن میں ان کو دائمی آسائش ملے گی اور یہ لوگ ان باغوں میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے، بے شک اللہ کے ہاں ثواب کا بڑا ذخیرہ موجود ہے۔‘‘

صحیح مسلم وغیرہ میں نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے ثابت ہے کہ آپ نے فرمایا میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھا کہ ایک شخص نے یہ کہا کہ اسلام لانے کے بعد اگر میں صرف حاجیوں کو پانی پلاتا رہوں تو اور کسی عمل کی مجھے کیا ضرورت ہے؟ دوسرے شخص نے کہا کہ اگر اسلام لانے کے بعد میں مسجد الحرام کو آباد کیے رکھوں تو اور کسی عمل کی مجھے کیا ضرورت ہے؟ اور علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے فرمایا اللہ کی راہ میں جہاد کرنا ان دونوں سے افضل ہے جو کہ تم نے ذکر کیے۔ سیدناعمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منبر کے پاس زور سے باتیں نہ کرو۔ جب نماز ادا ہوچکے گی تو میں جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ مسئلہ پوچھوں گا۔ چنانچہ انہوں نے پوچھا اور اللہ تعالیٰ نے متذکرہ بالا آیت نازل فرمائی۔
(مسلم کتاب الامارۃ ، باب فضل الشھادۃ فی سبیل اللہ، رقم : ۱۸۷۹۔)

صحیحین میں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ میں نے عرض کی ’’یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، کون سا عمل اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے افضل ہے؟ فرمایا وقت پر نماز پڑھنا۔ میں نے عرض کیا پھر کون سا عمل افضل ہے؟ تو فرمایا:والدین سے نیکی کرنا، میں نے عرض کیا ،پھر کون سا؟ فرمایا: ’’اللہ کی راہ میں جہاد کرنا۔‘‘ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی باتیں پوچھیں اگر میں اور پوچھتا تو اور بھی بتاتے۔
(بخاری کتاب المواقیت باب فضل الصلوٰۃ لوقتھا، رقم : ۵۲۷، مسلم کتاب الایمان باب بیان کون الایمان باللہ تعالیٰ افضل الاعمال رقم: ۸۵۔)

صحیحین ہی میں جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ اعمال میں سے افضل کون سا عمل ہے؟ فرمایا ’’اللہ پر ایمان لانا اور اس کی راہ میں جہاد کرنا۔‘‘ عرض کیا گیا ’’پھر کون سا؟ تو فرمایا کہ ’’حج مقبول‘‘۔
(بخاری کتاب الایمان باب من قال ان الایمان ھوالعمل۔ رقم: ۲۶ مسلم کتاب الایمان باب بیان کون الایمان باللہ تعالیٰ افضل الاعمال ۸۳۔)

صحیحین میں ہے کہ ایک شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی کہ یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھے ایساعمل بتائیں کہ جہاد فی سبیل اللہ کے برابرہو؟فرمایاکہ’’ تو طاقت نہیںرکھتا۔‘‘یا فرمایا کہ’’ تو اس کی استطاعت نہیں رکھتا۔‘‘اس نے عرض کیا کہ آپ بتا ہی دیجئے، فرمایا:

ھَلْ تَسْتَطِیْعُ اِذَا خَرَج المُجَاھِدا اَنْ تَصُوْمَ وَلَا تُفْطِرَ وَتَقُوْمَ وَلَاَتَفْتُرَ۔
(بخاری کتاب الجہاد باب فضل الجہاد والسیر۔ ۲۷۸۵ مسلم کتاب الامارۃ باب فضل الشھادۃ فی سبیل اللہ تعالیٰ، ۱۸۷۸۔)

’’کیا تم یہ کر سکتے ہو کہ جب مجاہد جہاد کے لیے نکلے تو تم مسلسل روزہ رکھو اور ناغہ نہ کرو اور نماز پر کھڑے ہو اور بے تکان پڑھتے جائو‘‘۔

سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ پر انوارِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی بارانِ رحمت
سنن میں معاذ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو یمن کی طرف بھیجتے وقت وصیت فرمائی کہ:

یَا مُعَاذُ اتَّقِ اللہَ حَیْثُ مَا کُنْتَ وَاَتْبِعِ السَّیِّئَۃَ الْحَسَنَۃَ تَمْحُھَا وَخَالِقِ النَّاسَ بِخُلُقٍ حَسَنٍ۔
(مسنداحمدج۲؍ص۲۲۸۔ترمذی،کت ب البر و الصلۃ، باب ماجاء فی معاشرۃ الناس، رقم:۱۹۸۷)

’’اے معاذ! جہاں کہیں ہو اللہ سے ڈرتے رہو، گناہ سرزد ہوجائے تو اس کے بعد جلد نیکی کرو کہ گناہ کو مٹا دے۔ لوگوں کے ساتھ خوش خلقی سے پیش آئو۔‘‘

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا کہ ’’اے معاذ! میں تم سے محبت کرتا ہوں، سو ہر نماز کے پیچھے یہ ضرور کہہ دیا کرو کہ:

اَللّٰھُمَّ اَعِنِّیْ عَلٰی ذِکْرِکَ وَ شُکْرِکَ وَحُسْنِ عِبَادَتِکَ۔
(السنن النسائی۔ کتاب السہو، باب نوع اخرمن الدعاء رقم: ۱۳۰۴۔ سنن ابی داؤد حدیث۱۵۲۲)

’’اے اللہ مجھے توفیق دے کہ تیری یاد اور تیرا شکر ادا کرتا رہوں اور اچھی طرح تیری بندگی انجام دوں۔‘‘

جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنامعاذ رضی اللہ عنہ سے جب کہ وہ آپ کے ردیف تھے فرمایا معاذ! کیا تمہیں معلوم ہے کہ اپنے بندوں پر اللہ کا کیا حق ہے (معاذ فرماتے ہیں کہ) میں نے عرض کیا، اللہ اور رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔‘‘

جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، ان پر اللہ تعالیٰ کا حق یہ ہے کہ اس کی بندگی کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں۔‘‘ (پھرفرمایا) ’’کیا تمہیں معلوم ہے کہ جب بندے یہ حق ادا کر دیں تو اللہ پر ان کا کیا حق ہوجاتا ہے۔‘‘
معاذ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا ’’اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہی بہتر جانتے ہیں۔‘‘ جناب محمد رسول اللہ نے فرمایا ’’بندوں کا حق اللہ تعالیٰ پر یہ ہوجاتا ہے کہ وہ ان کو عذاب نہ دے۔‘‘ (متفق علیہ)

یہ بھی جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنامعاذ سے فرمایا۔ سب کاموں کا سرا اسلام ہے اور اس کا ستون نماز ہے اور اس کی کوہان کی بلندی اللہ کی راہ میں جہاد ہے۔ پھر فرمایا ’’میں تمہیں نیکی کے دروازے ہی کیوں نہ بتادوں۔ روزہ ڈھال ہے۔ صدقہ گناہوں کو اس طرح بجھا دیتا ہے جس طرح پانی آگ کو اور اسی طرح رات کے درمیان کے حصہ میں قیام کرنا۔‘‘ پھر جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیہ کریمہ پڑھی:

تَتَجَافَىٰ جُنُوبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ يَدْعُونَ رَبَّهُمْ خَوْفًا وَطَمَعًا وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنفِقُونَ ﴿١٦﴾ فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّا أُخْفِيَ لَهُم مِّن قُرَّةِ أَعْيُنٍ جَزَاءً بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ ﴿١٧﴾
سورة السجدة
’’رات کے وقت ان کے پہلو بستروں سے الگ رہتے ہیں، عذاب کے خوف اور رحمت کی امید سے اپنے پروردگار سے دعائیں مانگتے ہیں اور جو کچھ بھی ہم نے ان کو دے رکھا ہے، اس میں سے اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں ، کوئی متنفس بھی نہیں جانتا کہ کیسی کیسی آنکھوں کی ٹھنڈک ان کے لیے پردہ غیب میں موجود ہے۔ یہ ان کے اعمال کا بدلہ ہے جو وہ کرتے تھے۔"

پھر فرمایا ’’اے معاذ! میں تجھے وہی چیز کیوں نہ بتا دوں جس پر ان تمام باتوں کا مدار ہے‘‘ میں نے عرض کیا کیوں نہیںضرور فرمائیے۔ تو آپ نے اپنی زبان پکڑ کر فرمایا ’’اس کو قابو میں رکھ۔‘‘ معاذ رضی اللہ عنہ نے عرض کی ’’یارسول اللہ! ہم جو باتیں کرتے ہیں ان پر بھی ہم سے مواخذہ ہوگا۔‘‘ جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’تجھے تیری ماں گم پائے! معاذ رضی اللہ عنہ تم اتنا بھی نہیں سمجھتے کہ آگ میں جو لوگ نتھنوں کے بل اوندھے گرائے جائیں گے وہ ان کی (درانتی کی سی) زبانوں کی کاٹی ہوئی فصلیں ہی تو ہوں گی۔‘‘
(ترمذی کتاب الایمان، باب ماجاء فی حرمۃ الصلوٰۃ: رقم: ۲۶۱۶۔ مسند احمد ج ۵، ص ۲۳۱۔)

اس کی تفسیر صحیحین میں ثابت وہ حدیث ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

مَنْ کَانَ یُوْمِنُ بِاللہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ فَلْیَقُلْ خَیْرًا اَوْ لِیَصْمُتْ۔
(بخاری کتاب الادب باب من کان یومن باللہ والیوم الاخر رقم: ۶۰۱۸، مسلم کتاب الایمان باب الحث علی اکرام الجار رقم: ۴۷۔)

’’جو شخص اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان لاتا ہے اسے چاہیے کہ اچھی بات کرے یا خاموش رہے۔‘‘

اچھی بات کرنا خاموشی سے بہتر ہے اور بری بات سے خاموش رہنا بری بات کہہ دینے سے بہتر ہے۔

نعمت اللہ
21-12-12, 08:59 AM
رہی دائمی خاموشی سو وہ بدعت ہے اور اس کی ممانعت کی گئی ہے۔
اسی طرح روٹی اور گوشت کھانا اور پانی پینا چھوڑ دیا جائے تو یہ بھی بڑی مذموم بدعت ہے جیسا کہ صحیح بخاری میں ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ثابت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو دھوپ میں کھڑا دیکھا تو فرمایا کہ یہ کیا ہے؟ لوگوں نے جواب دیا کہ یہ ابواسرائیل ہے، اس نے نذرمانی ہے کہ دھوپ میں کھڑا رہے گا سائے سے پرہیز کرے گا۔ بات نہیں کرے گا اور روزہ رکھے گا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’اسے حکم دے دو کہ بیٹھ جائے اور سایہ میں آجائے، باتیں کرے اور روزہ پورا کرے۔‘‘
(بخاری کتاب الایمان والنذور باب فی النذر فیما لایملک وفی معصیۃ۔ ۶۷۰۴۔)

صحیحین میں سیدناانس رضی اللہ عنہ کی روایت سے ثابت ہے کہ چند آدمیوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عبادت کے متعلق سوال کیے، گویا انہوں نے اپنے لیے اس عبادت کو کم سمجھا اور کہنے لگے ہم میں سے کون رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی مثل ہے۔ (ہمیں ان سے زیادہ عبادت کرنی چاہیے کیونکہ ان کے گناہ سب معاف تھے)پس ایک نے کہا میں مسلسل روزے رکھوں گا اور افطار نہیں کروں گا۔ دوسرے نے کہامیں (رات بھر) نماز پڑھتا رہوں گا تو سوئوں گا نہیں۔ تیسرے نہ کہا میں گوشت نہ کھائوں گا۔ چوتھے نے کہا میں عورتوں سے نکاح نہیں کروں گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’ان لوگوں کو کیا ہے کہ اس طرح کی باتیں کرتے ہیں، میں تو روزہ رکھتا ہوں اور افطار بھی کرتا ہوں۔ رات کو قیام کرتا ہوں تو سوتا بھی ہوں۔ گوشت بھی کھاتا ہوں اور عورتوں سے نکاح بھی کرتا ہوں پس جو شخص میری سنت سے روگردانی کرے گا وہ مجھ سے نہیں ہے۔‘‘
(بخاری کتاب النکاح، باب الترغیب فی النکاح، رقم: ۵۰۶۳، مسلم کتاب النکاح باب استحباب النکاح۔ رقم: ۳۳۹۸، نسائی کتاب النکاح۔ باب النھی عن التبتل رقم: ۳۲۱۹ ، مسند احمد، ج ۳، ص ۲۴۱۔ گوشت نہ کھانے کا ذکر مسلم میں ہے، بخاری میں نہیں۔)

اس سے مراد یہ ہے کہ جو شخص کسی طریق پر چل کر یہ خیال کرے کہ اس کا طریق سنت سے بہتر ہے تو وہ اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے لاتعلق ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:

وَمَن يَرْغَبُ عَن مِّلَّةِ إِبْرَاهِيمَ إِلَّا مَن سَفِهَ نَفْسَهُ ۚ ﴿١٣٠﴾
البقرہ

’’ملت ِ ابراہیم سے کون روگردانی کرتا ہے بجز اس کے جو انتہائی نادان ہو۔‘‘

بلکہ ہر مسلم پر یہ عقیدہ رکھنا واجب ہے کہ بہترین کلام اللہ کا کلام ہے اور بہترین طریقہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ ہے جیسا کہ صحیح (مسلم) میں ثابت ہے کہ جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر جمعہ کو یہ باتیں خطبہ میں فرمایا کرتے تھے۔
(اصلہ مسلم کتاب الجمعۃ ، باب تخفیف الصلوٰۃ والخطبۃ۔ رقم:۸۶۷، مسند احمد ج۳، ص ۳۱۹۔ و ھذا اللفظ فی النسائی کتاب السہو حدیث ۱۳۱۲۔)

نعمت اللہ
21-12-12, 09:09 AM
ولی اللہ کے لیے معصوم ہونا یا خطا اور غلطی سے مبرّا ہونا شرط نہیں ہے۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ علمِ شریعت کی بعض باتیں اس پر مخفی ہوں اور دین کے بعض امور میں بھی اسے مغالطہ لگا ہو اور یہ سمجھنے لگے کہ فلاں امور کا اللہ نے حکم دیا ہے، حالانکہ دراصل اللہ نے اس سے منع کیا ہو اور بعض خوارقِ عادات کو اولیاء اللہ کی کرامات خیال کرے حالانکہ دراصل وہ شیطانی حرکات ہوں اور شیطان نے اس کا درجہ گھٹانے کے لیے اس پر یہ تلبیس کی ہو اور اسے یہ معلوم نہ ہو کہ یہ شیطان کی طرف سے ہیں۔ اس کے باوجود ہوسکتا ہے کہ وہ ولایت کے درجے سے خارج نہ ہو کیونکہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے اس امت سے خطا، نسیان اور ایسی باتوں سے جو ان سے بوجہ مجبوری سرزد ہوں معاف رکھا ہے۔
(ابن ماجہ کتاب الطلاق باب طلاق المکرہ والناس۔ ۲۰۴۵۔ مستدرک حاکم ج ۲، ص ۱۹۸)

اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

آمَنَ الرَّسُولُ بِمَا أُنزِلَ إِلَيْهِ مِن رَّبِّهِ وَالْمُؤْمِنُونَ ۚ كُلٌّ آمَنَ بِاللَّـهِ وَمَلَائِكَتِهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ لَا نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍ مِّن رُّسُلِهِ ۚ وَقَالُوا سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا ۖ غُفْرَانَكَ رَبَّنَا وَإِلَيْكَ الْمَصِيرُ ﴿٢٨٥﴾ لَا يُكَلِّفُ اللَّـهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا ۚ لَهَا مَا كَسَبَتْ وَعَلَيْهَا مَا اكْتَسَبَتْ ۗ رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَا إِن نَّسِينَا أَوْ أَخْطَأْنَا ۚ رَبَّنَا وَلَا تَحْمِلْ عَلَيْنَا إِصْرًا كَمَا حَمَلْتَهُ عَلَى الَّذِينَ مِن قَبْلِنَا ۚ رَبَّنَا وَلَا تُحَمِّلْنَا مَا لَا طَاقَةَ لَنَا بِهِ ۖ وَاعْفُ عَنَّا وَاغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَا ۚ أَنتَ مَوْلَانَا فَانصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَافِرِينَ ﴿٢٨٦﴾
البقرہ

’’اللہ تعالیٰ نے جو کچھ رسول کی طرف نازل کیا، اس پر رسول اور مومنین سب ایمان لائے، سب اللہ اور اس کے فرشتوں اور اس کی کتابوں اور اس کے پیغمبروں پر ایمان لائے ہیں ہم پیغمبروں میں سے کسی کے درمیان فرق نہیں کرتے اور عرض کرتے ہیں کہ ہم نے تیرا ارشاد سنا اور تسلیم کیا، اے ہمارے پروردگار! بس تیری ہی مغفرت درکار ہے اور تیری ہی طرف لوٹ کر جانا ہے۔ اللہ کسی شخص پر بوجھ نہیں ڈالتا مگر اسی قدر جس کی اٹھانے کی اس کو طاقت ہو۔ جس نے اچھے کام کیے تو ان کا نفع بھی اس کے لیے ہے اور جس نے برے کام کیے ان کا وبال بھی اسی پر ہے۔ اے ہمارے پروردگار! اگر ہم بھول جائیں یا چُوک جائیں تو ہم کو نہ پکڑ اور اے ہمارے پروردگار! جو لوگ ہم سے پہلے ہو گزرے ہیں، جس طرح ان پر تو نے بوجھ ڈالا تھا، ویسا بوجھ ہم پر نہ ڈال اور اے ہمارے پروردگار! اتنا بوجھ جس کے اٹھانے کی ہم کو طاقت نہیں ہم سے نہ اٹھوا اور ہمارے قصوروں سے درگزر کر اور ہمارے گناہوں کو معاف کر اور ہم پر رحم کر، تو ہی ہمارا والی ہے تو ان کے مقابلے میں جو کہ کافر ہیں، ہماری مدد کر۔‘‘

صحیح مسلم میں ثابت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس دعا کو قبول کر لیا اور فرمایاکہ میں نے یہ کر دیا۔
چنانچہ صحیح مسلم میں ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب یہ آیت نازل ہوئی:

وَإِن تُبْدُوا مَا فِي أَنفُسِكُمْ أَوْ تُخْفُوهُ يُحَاسِبْكُم بِهِ اللَّـهُ ۖ فَيَغْفِرُ لِمَن يَشَاءُ وَيُعَذِّبُ مَن يَشَاءُ ۗ وَاللَّـهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ﴿٢٨٤﴾
البقرہ

’’اگر تم ظاہر کرو اس چیز کو جو کہ تمہارے دلوں میں ہے یا اسے چھپائے رکھو، اللہ تعالیٰ اس کا حساب لے ہی لے گا اور جسے چاہے گا بخش دے گا اور جسے چاہے گا عذاب دے گا، اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے۔‘‘

تو ان کے دلوں کو کچھ اس قسم کا غم لاحق ہوا کہ اس سے پہلے اس قدر سخت گھبراہٹ اور غم انہیں کبھی لاحق نہ ہوا تھا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہہ دو:

سَمِعْنَا وَاَطَعْنَا وَسَلَّمْنَا
’’ہم نے سنا ہم نے مانا اور سرتسلیم خم کر دیا۔‘‘
ابن عباس نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں ایمان و تسلیم کا القا کیا اور یہ آیت نازل فرمائی:

’’لَا یُکَلِّفُ اللہُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَھَا الخ۔ جب انہوں نے کہا کہ اے اللہ! اگر ہم سے بھول چوک ہوجائے تو ہمیں نہ پکڑ تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا {قَدْفَعَلْتُ}(میں نے ایسا کر دیا یعنی معاف کر دیا پھر انہوں نے کہا) اے اللہ! ہم پر ان لوگوں جیسا بوجھ نہ ڈال جو کہ ہم سے پہلے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا {قَدْفَعَلْتُ} یعنی میں نے تمہاری دعا قبول کر لی۔ (پھر انہوں نے کہا) اے ہمارے پروردگار! ہم پر اتنابوجھ نہ ڈال جس کی ہم کو طاقت نہ ہو، ہم سے درگذر کر ہمارے گناہوں کو بخش دے، ہم پر رحم کر تو ہمارا والی ہے اور تو کافروں کی قوم کے مقابلہ میں ہماری مدد کر۔اس کے جواب میں بھی اللہ تعالیٰ نے فرمایا {قَدْفَعَلْتُ} کہ میں نے تمہارے کہنے کے مطابق کر دیا۔
(مسلم کتاب الایمان باب بیان انہ سبحانہ و تعالیٰ لم یکلف الامایطاق رقم الحدیث ۱۲۶۔ ترمذی کتاب التفسیر فی تفسیر سورۃ البقرۃ برقم (۲۹۹۲))
اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

وَلَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ فِيمَا أَخْطَأْتُم بِهِ وَلَـٰكِن مَّا تَعَمَّدَتْ قُلُوبُكُمْ ﴿٥﴾
الاحزاب

’’اور نہیں ہے تم پر گناہ اس بات میں کہ جو بھول چوک سے ہوجائے، لیکن اس میں گناہ ہے جس کو تمہارے دل جان بوجھ کر کریں۔‘‘

صحیحین میں ابوہریرہ اور عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کی مرفوع روایت سے ثابت ہے کہ جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے:

اِذَا اجْتَھَدَ الْحَاکِمُ فَاَصَابَ فَلَہ اَجْرَانِ وَاِنْ اَخْطَأَ فَلَہ اَجْرٌ۔
(بخاری، کتاب الاعتصام بالکتاب والسنۃ، باب اجرالحاکم، اذا اجتھد فاصاب اواخطا۔ رقم : ۷۳۵۲، مسلم۔ کتاب الاقضیۃ، باب بیان اجرالحکم، رقم: ۴۴۸۷))

’’جب حاکم اجتہاد کرے اور اجتہاد درست نکلے تو اس کے لیے دو اجر ہیں اور اگر غلط نکلے تو اس کا ایک اجر ہے۔‘‘

خطا کرنے والے مجتہد کو گناہ گار نہیں ٹھہرایا بلکہ اس کے لیے ایک اجر رکھا جو کہ اجتہاد کرنے کا صلہ ہے اور اس کی خطا معاف کر دی لیکن وہ مجتہد جس کا اجتہاد ٹھیک نکلے دو اجر حاصل کرتا ہے چنانچہ وہ پہلے سے افضل ہے۔

نعمت اللہ
24-12-12, 10:16 AM
اسی لیے جب ولی اللہ سے غلطی کا صدور ممکن ہے تو لوگوں کو اس کی تمام باتوں پر ایمان لانا ضروری نہیں، ہاں البتہ نبی ہو تو اور بات ہے اور ولی اللہ کے لیے یہ بھی جائز نہیں ہے کہ وہ ان تمام چیزوں پر اعتماد کرے جو کہ اس کے دل پر القا ہوتی ہیں۔ اِلاَّ یہ کہ وہ موافق شریعت ہوں۔ اپنے الہام، مکالمہ اور مخاطبہ پر جسے وہ اللہ کی طرف سے سمجھے، بھروسانہ کرے بلکہ اس کے لیے ضروری ہے کہ ان سب کو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت کی کسوٹی پر پرکھ لے اگر موافق ہو تو منظور کرے اور اگر مخالف ہو تو نہ قبول کرے اور اگر اسے معلوم نہ ہو کہ موافق ہے یا مخالف تو اس میں توقف کرے۔

نعمت اللہ
24-12-12, 10:19 AM
اس باب میں لوگوں کی تین قسمیں ہیں۔ دو قسمیں دونوں انتہائوں پر ہیں، ایک وسط میں ایک قسم ان لوگوں کی ہے جب وہ کسی شخص پر ولی اللہ ہونے کا عقیدہ جما لیتے ہیں تو جس چیز کے متعلق وہ یہ سمجھتے ہیں کہ یہ بات اُس کے دل نے اللہ کی طرف سے لی ہے ، اس بات میں وہ اس کی موافقت کرنے لگتے ہیں اور جو کچھ بھی وہ کرتا ہے، اسے تسلیم کر لیتے ہیں۔
دوسری قسم یہ ہے کہ کسی شخص کے قول یا فعل کو شریعت کے مخالف سمجھے تو اس شخص کو ولایت سے ہی خارج کر دیتا ہے اگرچہ وہ مجتہد مخطی ہی کیوں نہ ہو ۔
تیسری قسم بمصداق خیْرُالْاُمُوْرِ اَوْسَطُھَا صحیح طریقہ اپنائے ہوئے ہے کہ نہ تو ولی اللہ کو معصوم سمجھا جائے اور نہ سراسر گنہگار ۔ جب مجتہد خطا کر سکتا ہے تو اس کی ہر بات کا اتباع نہ کیا جائے اور نہ اس کے اجتہاد کی بنا پر کفر و فسق کا حکم لگایا جائے۔
لوگوں پر واجب وہی چیز ہے جو اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے بھیجی ہے لیکن جب بعض فقہاء کے قول کا خلاف کرے اور بعض سے موافقت کرے تو کسی کے لیے جائز نہیں ہے کہ اسے قول مخالف سے الزام دے اور کہے کہ یہ مخالف شرع ہے۔

نعمت اللہ
24-12-12, 10:26 AM
صحیحین میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
قَدْکَانَ فِی الْاُمَمِ قَبْلَکُمْ مُحَدَّثُوْنَ فَاِنْ یَّکُنْ فِیْ اُمَتِّیْ اَحَدٌ فَعُمَرُ مِنْھُمْ۔
(بخاری کتاب الانبیاء، باب حدیث الغار برقم: ۳۴۶۵، وکتاب فضائل الصحابۃ باب مناقب عمر رضی اللہ عنہ )

’’تم سے پہلی امتوں میں محدَّث ہو گزرے ہیں اور اگر میری امت میں بھی محدث ہیں تو عمر رضی اللہ عنہ ان میں سے ہے۔‘‘

ترمذی وغیرہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لَوٍْ لَمْ اُبْعَثْ فِیْکُمْ لَبُعِثَ فِیْکُمْ عُمَرُ۔
(یہ روایت ترمذی میں نہیں دیلمی اور ابن عدی (۳/۱۵۵) نے یہ حدیث نقل کی ہے لیکن حدیث صحیح نہیں ہے۔)

’’اگر میں تم میں مبعوث نہ ہوتا تو عمر رضی اللہ عنہ مبعوث ہوتے۔‘‘
ایک اور حدیث میں ہے:
اِنَّ اللہَ ضَرَبَ الْحَقَّ عَلٰی لِسَانِ عُمَرَ وَ قَلبِہ وَفِیْہِ لَوْکَانَ نَبِیٌّ بَعْدِیْ لَکَانَ عُمَرُ۔
(ترمذی کتاب المناقب باب مناقب عمر بن الخطاب، رقم: ۳۶۸۲،۳۶۸۶۔ حدیث حسن)

اللہ تعالیٰ نے عمر کی زبان و دل کو حق سے معمور کر دیا ہے اور اسی میں یہ بھی ہے کہ اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمر رضی اللہ عنہ ہوتا۔‘‘

علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے ہم اس امر کو بعید نہیں سمجھتے تھے کہ عمر رضی اللہ عنہ کی زبان سے سکینت برس رہی ہے۔‘‘
(مسند احمد ۱۰۶/۱) شرح السنہ البغوی برقم: ۳۸۷۷۔)
یہ قول ان سے امام شعبی کی روایت سے ثابت ہے۔
اور ابن عمر رضی اللہ عنہما کا قول ہے جب کبھی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ یہ فرماتے تھے کہ میری رائے یہ ہے تو ایسا ہی ہوتا تھا جیسا کہ وہ کہتے تھے۔
(ترمذی، کتاب المناقب، باب فی مناقب عمررضی اللہ عنہ حدیث (۳۶۸۲))
قیس رضی اللہ عنہ بن طارق سے روایت ہے آپ فرماتے ہیں ہم کہا کرتے تھے کہ عمر رضی اللہ عنہ کی زبان سے فرشتہ باتیں کرتا ہے اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے کہ فرمانبردار لوگوں کے منہ سے قریب ہو کر باتیں سنا کرو کیونکہ ان پر سچی باتیں کھلتی ہیں اور سچی باتیں جن کے متعلق سیدناعمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ نے یہ خبر دی ہے وہی باتیں ہیں جو اللہ عزوجل ان پر منکشف فرماتا ہے اور یہ امر ثابت شدہ ہے کہ اولیاء اللہ کو (الہام کے ذریعہ) خطاب بھی ہوتے ہیں اور ان کو کشف بھی ہوتا ہےاور ان لوگوں میں سب سے افضل امت محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم میں سیدناابوبکر رضی اللہ عنہ کے بعد عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ ہیں۔ اس لئے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اس امت میں سب سے بڑا درجہ سیدناابوبکر رضی اللہ عنہ کا ہے پھر سیدناعمر رضی اللہ عنہ کا۔
صحیحین میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے متعلق اس امت کے محدَّث ہونے کی تعیین ثابت ہے چنانچہ جو محدث اور مخاطب بھی امت محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم میں ہوگا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اس سے افضل ہوں گے۔ اس کے باوجود سیدنا عمر رضی اللہ عنہ وہی کرتے تھے جو کہ ان پر واجب ہوتا تھا اور جو کچھ ان پر القا ہوتا تھا، اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت کے سامنے پیش کرتے تھے کبھی وہ موافق نکلتا تھا اور یہ سیدناعمر رضی اللہ عنہ کے فضائل میں داخل ہے جیسا کہ ایک سے زیادہ مرتبہ فرمان باری یعنی قرآن کریم کی آیت سیدناعمر رضی اللہ عنہ کی رائے کے موافق نازل ہوئی اور کبھی ان کا الہام شریعت کے مخالف بھی ہوجاتا تھا۔ اس صورت میں وہ اس سے رجوع کرتے تھے جیسا کہ انہوں نے یومِ حدیبیہ میں رجوع کیا تھا، جب کہ سیدناعمر رضی اللہ عنہ کی یہ رائے تھی کہ مشرکین کے ساتھ جنگ کی جائے۔
بخاری وغیرہ میں مشہور حدیث ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے چھ ہجری میں عمرہ کے لیے سفر کیا اور ان کے ساتھ قریباً چودہ سو مسلمان تھے جنہوں نے درخت کے نیچے آپ سے بیعت کی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مشرکین کے ساتھ مذاکرات کے بعد ان شرائط پر مصالحت کر لی تھی کہ جناب محمد رسول اللہ اس سال واپس چلے جائیں گے اور آئندہ سال عمرہ کریں گے اور ان کے لیے ایسی شرطیں رکھیں جن میں مسلمانوں پر بظاہر کمزوری کا شائبہ نظر آتا تھا۔ بہت سے مسلمانوں کو یہ بات ناگوار گذری حالانکہ اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم خوب جانتے تھے اور اس کی مصلحتوں سے زیادہ آگاہ تھے۔ سیدناعمر رضی اللہ عنہ بھی ان لوگوں میں تھے جن کو یہ معاہدہ ناپسند تھا حتیٰ کہ انہوں نے جناب محمد رسول اللہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی: اے اللہ کے رسول! کیا ہم حق پر نہیں ہیں؟ کیا ہمارا دشمن باطل پر نہیں ہے؟ جناب محمد رسول اللہ نے فرمایا بیشک۔ سیدناعمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا ، ’’کیا ہمارے مقتولین جنت میں اور ان کے مقتولین دوزخ میں نہیں‘‘ جناب محمد رسول اللہ نے فرمایا ’’کیوں نہیںایسا ہی ہے‘‘ کہا تو ’’پھر ہم کیوں دین کے معاملے میں پستی قبول کر رہے ہیں۔‘‘ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’میں اللہ کا رسول ہوں، وہ میرا مددگار ہے اورمیںاس کی نافرمانی نہیں کر سکتا‘‘ انہوں نے پھر عرض کی ’’کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہم سے یہ نہ کہتے تھے کہ ہم بیت اللہ میں داخل ہوں گے اور اس کا طواف کریں گے۔‘‘ فرمایا بے شک۔ ’’لیکن کیا میں نے یہ کہا تھا، اسی سال داخل ہوں گے؟ عرض کی کہ نہیں۔ جناب محمد رسول اللہ نے فرمایا ’’تو پھر تم بیت اللہ میں داخل ہو کر رہو گے اور اس کا طواف کرو گے۔‘‘ اس کے بعد عمر رضی اللہ عنہ، ابوبکر رضی اللہ عنہ کی طرف گئے اور وہی باتیں کیں جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کی تھیں۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے وہی جواب دیاجورسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیاتھا۔حالاںکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کاجواب سیدناابوبکر رضی اللہ عنہ نے نہیں سنا تھا۔ بات صرف اتنی تھی کہ سیدناابوبکر رضی اللہ عنہ بہ نسبت سیدناعمر رضی اللہ عنہ کے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول سے بلحاظ موافقت کے کامل تر تھے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے اس سے رجوع کیا اور وہ خودع کہا کرتے تھے کہ اپنی خطا کے کفارہ میں میں نے کئی اعمال کئے۔
(بخاری کتاب الشروط باب الشروط فی الجہاد والمصالحۃ مع اہل الحرب وکتابۃ الشروط رقم: ۲۷۳۱، ۲۷۳۲۔)

اسی طرح جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تو عمر رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی موت کا پہلے تو انکار کر دیا پھر جب سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ جناب محمد رسول اللہ بے شک فوت ہوگئے ہیں تو عمر رضی اللہ عنہ نے اپنی رائے سے رجوع کیا۔
(بخاری کتاب الجنائز باب الدخول علی ا لمیت بعد الموت رقم: ۱۲۴۱۔)

اسی طرح زکوٰۃ نہ دینے والوں کے ساتھ جہاد کے مسئلے میں سیدناعمر رضی اللہ عنہ نے سیدناابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ آپ کیسے لوگوں کے ساتھ جہاد کریں گے، حالانکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما دیا ہے ’’میں اس پر مامور ہوں کہ لوگوں سے اس وقت تک لڑتا رہوں، جب تک کہ وہ اللہ کے ایک ہونے کی شہادت نہ دے دیں اور مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نہ تسلیم کر لیں اور جب وہ ایسا کر دیں تو ان کے مال و جان مجھ سے محفوظ ہیں۔ اِلاَّ یہ کہ وہ اس شہادت کے حق کے بدلے میں لئے جائیں۔ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا۔ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نہیں فرمایا کہ جب یہ لوگ اس شہادت کا حق دبائیں تو ان کے مال و جان کا لینا جائز ہے۔ سوزکوٰۃ اس شہادت کا حق ہے۔ مجھے اللہ کی قسم ہے کہ اگر وہ بکری کا وہ بچہ بھی جو کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا کرتے تھے، مجھے نہ دیں گے تو میں اس کے لئے ان سے جہاد کروں گا۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا قسم ہے اللہ کی مجھے معلوم ہوگیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کا سینہ جہاد کے لیے کھول دیا ہے، مجھے معلوم ہوگیا ہے کہ وہ حق پر ہیں۔‘‘
(بخاری کتاب الزکوٰۃ باب وجوب الزکوٰۃ۔ رقم : ۱۳۹۹ ، مسلم کتاب الایمان باب الامر بقتال الناس حتی یقولوالاالہ الا اللہ رقم: ۱۲۴، موطا کتاب الزکوٰۃ۔)
حدیث کے پورے الفاظ یہ ہیں:
قَالَ عُمَرُ لِاَبِیْ بَکْرٍ کَیْفَ تُقَاتِلُ النَّاسَ وَقَدْ قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صلی اللہ علیہ وسلم اُمِرْتُ اَنْ اُقَاتِلَ النَّاسَ حَتّٰی یَشْھَدُوْآ اَنْ لَّا اِلَہَ اِلَّا اللہُ وَانِّی رَسُوْلُ اللہِ فَاِذَافَعَلُوْا ذٰلِکَ عَصَمُوْا مِنِّیْ دِمَائَ ھُمْ وَاَمْوَالَھُمْ اِلَّا بِحَقِّھَا فَقَالَ لَہ اَبُوْبَکْرٍ رضی اللہ عنہ اَلَمْ یَقُلْ اِلَّا بِحَقِّھَا فَاِنَّ الزَّکٰوۃَ مِنْ حَقِّھَا وَاللہِ لَوْ مَنَعُوْنِیْ عَنَاقًا کَانُوْا یُوَدُّوْنَھَا اِلٰی رَسُوْلِ اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لَقَاتَلْتُھُمْ عَلٰی مَنْعِھَا قَالَ عُمَرُ فَوَاللہِ مَاھُوَ اِلَّا اِنْ رَّاَیْتُ اللہَ قَدْ شَرَحَ صَدْرَاَبِیْ بَکْرٍ لِلْقِتَالِ فَعَلِمْتُ اَنَّہُ الْحَقُّ۔

نعمت اللہ
24-12-12, 10:30 AM
اس کی کئی نظیریں ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ سیدناابوبکر رضی اللہ عنہ کو سیدناعمر رضی اللہ عنہ پر ترجیح حاصل ہے حالانکہ عمر رضی اللہ عنہ محدث ہیں کیونکہ صدیق کا مرتبہ محدث کے مرتبہ سے بلند تر ہوتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ صدیق جو کچھ بھی کہتا ہے یا کرتا ہے تو وہ رسول معصوم سے سیکھتا ہے اور محدث بعض باتیں اپنے دل سے حاصل کرتا ہے اور اس کا دل معصوم نہیں ہے۔ا س کو ضرورت ہے کہ وہ اپنے دل کے القاءات کو نبی معصوم صلی اللہ علیہ وسلم کی لائی ہوئی شریعت کی کسوٹی پر پرکھے۔ اسی لیے سیدناعمر رضی اللہ عنہ صحابہ رضی اللہ عنہم سے مشورہ فرمایا کرتے اور ان سے مباحثہ کیا کرتے ، بعض امور میں ان کی طرف رجوع کیا کرتے اور بعض میں صحابہ ان سے اختلاف فرمایا کرتے تھے۔ آپ ان کو اور وہ آپ کو کتاب و سنت سے دلائل سنایا کرتے تھے۔ مناظرہ کر کے اپنی بات منوایا کرتے لیکن یہ کبھی نہ کہتے تھے کہ میں محدث ہوں، ملہم ہوں اور مجھ سے خطاب ہوتا ہے۔ اسی لیے تم لوگوں کو میری بات مان لینی چاہیے اور معارضہ نہیں کرنا چاہیے۔ پس جو شخص ولی اللہ ہونے کا دعویٰ کرے یا اس کے دوست اس کو ولی اللہ کہیں اور یہ سمجھیں کہ اس سے خطاب ہوتا ہے، اس لیے اس کے پیروئوں پر اس کی ہر بات مان لینا ضروری ہے۔ اس سے مناظرہ نہیں کرنا چاہیے اور کتاب و سنت ملحوظ رکھنے کے بغیر ہی اس کا ’’حال‘‘ تسلیم کر لینا چاہیے تو یہ مدعی اور اس کے دوست جو اس دعویٰ میں شریک ہیں خطاکار ہیں اور ایسے لوگ گمراہ ترین لوگوں میں سے ہیں۔ اس لئے کہ سیدناعمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ اس سے افضل ہیں، آپ امیرالمومنین ہیں۔ تاہم مسلمان ان سے جھگڑتے تھے اور جو کچھ سیدناعمر رضی اللہ عنہ کہتے یا وہ خود کہتے اس کو کتاب و سنت پر پیش کرتے تھے۔

نعمت اللہ
24-12-12, 10:39 AM
اُمت کے تمام سلف صالحین اور ائمہ کرام کا اس پر اتفاق ہے کہ بجز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے باقی کوئی شخص بھی کیوں نہ ہو۔ اس کے بعض قول قبول کیے جاسکتے ہیں اور بعض ترک کیے جاسکتے ہیں اور یہ انبیاء اور غیر انبیاء کا فرق ہے۔ انبیاء صلوات اللہ علیہم اللہ عزوجل کی طرف سے جو خبر دیں، ان سب پر ایمان لانا ضروری اور ان کے حکم کی اطاعت واجب ہے لیکن اولیاء رحمہ اللہ کے ہر حکم کی اطاعت واجب نہیں ہے اور نہ ان کی ہر خبر پر ایمان لانا ضروری ہے بلکہ ان کا حکم اور ان کی خبر کتاب و سنت کے سامنے پیش کی جائے گی، جو کتاب و سنت کے موافق نکلا وہ مان لیا جائے گا اور جو کتاب و سنت کے مخالف ہوا وہ ردّ کر دیا جائے گا۔ اگرچہ کتاب و سنت کے خلاف بات کہنے والا اولیاء اللہ ہی میں سے کیوں نہ ہو اور وہ مجتہد ہی کیوں نہ ہو۔ جو اپنے قول میں معذور ہے اور اسے اجتہاد کا اجر بھی دے دیا گیا ہو؟ لیکن جب اس کا قول کتاب و سنت کے مخالف ہوگا تو اس میں وہ خطاکار سمجھا جائے گا اور جو شخص حسبِ استطاعت اللہ سے ڈرتا رہے ۔ اس کی خطا معاف ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے

فَاتَّقُوا اللَّـهَ مَا اسْتَطَعْتُمْ ﴿١٦﴾
تغابن

’’جہاں تک ہوسکے اللہ سے ڈرتے رہو۔‘‘
اور یہ تفسیر ہے اللہ کے اس کی قول کی۔

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّـهَ حَقَّ تُقَاتِهِ ﴿١٠٢﴾
آل عمران

’’اے ایمان والو! اللہ تعالیٰ سے ایسا ڈرو جیسا اس سے ڈرنا چاہیے۔‘‘

ابن مسعود رضی اللہ عنہ اور دیگر صحابہ رضی اللہ عنہم فرماتے ہیں کہ اس سے ڈرنے کا حق یہ ہے کہ اس کی اطاعت کی جائے اور اس کی نافرمانی نہ کی جائے۔ اس کو یاد رکھا جائے اور اس کو فراموش نہ کیا جائے۔ اس کا شکر کیا جائے اور ناشکری نہ کی جائے اور یہ سب کچھ حسب ِ استطاعت ہو کیونکہ اللہ تعالیٰ کسی کو اس کی وسعت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:

لَا يُكَلِّفُ اللَّـهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا ۚ لَهَا مَا كَسَبَتْ وَعَلَيْهَا مَا اكْتَسَبَتْ ﴿٢٨٦﴾
البقرہ

’’اللہ تعالیٰ کسی نفس کو اس کی وسعت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا جو کام وہ کرے گا اس کا ثواب ہوگا تو اسی کے لیے اور عذاب ہوگا تو اسی کو ہوگا۔‘‘
اور فرمایا:

وَالَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَا نُكَلِّفُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا أُولَـٰئِكَ أَصْحَابُ الْجَنَّةِ ۖ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ ﴿٤٢﴾
الاعراف

’’اور جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے اپنے مقدور بھر نیک عمل بھی کیے اور ہم تو کسی شخص پر اس کی طاقت سے بڑھ کر بوجھ ڈالا ہی نہیں کرتے یہی لوگ جنتی ہوں گے کہ وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔‘‘
اور فرمایا:

وَأَوْفُوا الْكَيْلَ وَالْمِيزَانَ بِالْقِسْطِ ۖ لَا نُكَلِّفُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا ۖ ﴿١٥٢﴾
الانعام

’’انصاف کے ساتھ پوری پوری ماپ کرو اور پوری پوری تول ۔ ہم کسی شخص پر اس کی وسعت سے بڑھ کر بوجھ نہیں ڈالتے۔‘‘

اللہ تعالیٰ نے کئی جگہ اس کا ذکر فرمایا ہے کہ انبیاء جو کچھ لائے اس پر ایمان لانا ضروری ہے۔ چنانچہ فرمایا:

قُولُوا آمَنَّا بِاللَّـهِ وَمَا أُنزِلَ إِلَيْنَا وَمَا أُنزِلَ إِلَىٰ إِبْرَاهِيمَ وَإِسْمَاعِيلَ وَإِسْحَاقَ وَيَعْقُوبَ وَالْأَسْبَاطِ وَمَا أُوتِيَ مُوسَىٰ وَعِيسَىٰ وَمَا أُوتِيَ النَّبِيُّونَ مِن رَّبِّهِمْ لَا نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍ مِّنْهُمْ وَنَحْنُ لَهُ مُسْلِمُونَ ﴿١٣٦﴾
البقرہ

’’مسلمانو! تم یہودو نصاریٰ کو یہ جواب دو کہ ہم تو اللہ پر ایمان لائے ہیں اور جو ہم پر اترا اس پر اور جو ابراہیم علیہ السلام اور اسماعیل علیہ السلام اور یعقوب علیہ السلام اور اولادِ یعقوب علیہ السلام پراترا۔اس پر اور موسیٰ علیہ السلام اور عیسیٰ علیہ السلام کو جو دیا گیا اس پر اور جو دوسرے پیغمبروں کو ان کے پروردگار سے ملا، اس پر ہم ان پیغمبروں میں سے کسی ایک میں بھی کسی طرح کا فرق نہیں سمجھتے اور ہم اسی ایک اللہ کے فرمانبردار ہیں۔‘‘
اور فرمایا:

الم ﴿١﴾ ذَٰلِكَ الْكِتَابُ لَا رَيْبَ ۛ فِيهِ ۛ هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ ﴿٢﴾ الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ وَيُقِيمُونَ الصَّلَاةَ وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنفِقُونَ ﴿٣﴾ وَالَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِمَا أُنزِلَ إِلَيْكَ وَمَا أُنزِلَ مِن قَبْلِكَ وَبِالْآخِرَةِ هُمْ يُوقِنُونَ ﴿٤﴾ أُولَـٰئِكَ عَلَىٰ هُدًى مِّن رَّبِّهِمْ ۖ وَأُولَـٰئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ ﴿٥﴾
البقرہ

’’الم، یہ وہ کتاب ہے جس کے کلام الٰہی ہونے میں کچھ بھی شک نہیں۔ پرہیز گاروں کی راہنما ہے جو غیب پر ایمان لاتے ہیںاور نماز پڑھتے ہیں اور جو کچھ ہم نے ان کو دے رکھا ہے، اس میں سے خرچ کرتے ہیں اور اے پیغمبر! جو کتاب تم پر اتری اور جو تم سے پہلے اتریں۔ ان سب پر ایمان لاتے اور وہ آخرت کا بھی یقین رکھتے ہیں، یہی لوگ اپنے پروردگار کے سیدھے راستے پر ہیں اور یہی آخرت میں من مانی مرادیں پائیں گے۔‘‘
اور فرمایا:

لَّيْسَ الْبِرَّ أَن تُوَلُّوا وُجُوهَكُمْ قِبَلَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ وَلَـٰكِنَّ الْبِرَّ مَنْ آمَنَ بِاللَّـهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالْكِتَابِ وَالنَّبِيِّينَ وَآتَى الْمَالَ عَلَىٰ حُبِّهِ ذَوِي الْقُرْبَىٰ وَالْيَتَامَىٰ وَالْمَسَاكِينَ وَابْنَ السَّبِيلِ وَالسَّائِلِينَ وَفِي الرِّقَابِ وَأَقَامَ الصَّلَاةَ وَآتَى الزَّكَاةَ وَالْمُوفُونَ بِعَهْدِهِمْ إِذَا عَاهَدُوا ۖ وَالصَّابِرِينَ فِي الْبَأْسَاءِ وَالضَّرَّاءِ وَحِينَ الْبَأْسِ ۗ أُولَـٰئِكَ الَّذِينَ صَدَقُوا ۖ وَأُولَـٰئِكَ هُمُ الْمُتَّقُونَ ﴿١٧٧﴾
البقرہ

’’نیکی یہی نہیں کہ نماز میں اپنا منہ مشرق کی طرف کر لو۔ یا مغرب کی طرف کر لو بلکہ اصل نیکی تو ان کی ہے جو اللہ اور روزِ آخرت اور فرشتوں اور آسمانی کتابوں اور پیغمبروں پر ایمان لائے اور مالِ عزیز اللہ کی حب پر رشتہ داروں اور یتیموں اور محتاجوں اور مسافروں اور مانگنے والوں کو دیا اور غلامی وغیرہ کی قید سے لوگوں کی گردنوں کے چھڑانے میں دیا اور نماز پڑھتے اور زکوٰۃ دیتے رہے۔ جب کسی بات کا اقرار کر لیا تو اپنے قول کے پورے اور تنگدستی اور سختی اور جنگ کے وقت میں ثابت قدم رہے۔ یہی لوگ ہیں جو دعویٰ اسلام میں سچے نکلے اور یہی ہیں جن کو پرہیز گار کہنا چاہیے۔‘‘

یہ سب کچھ میں نے ذکر کیا ہے کہ اولیاء رحمہ اللہ کے لیے کتاب و سنت کی پابندی لازمی ہے اور اولیاء اللہ میں کوئی ایسا معصوم نہیں ہوسکتا جس کے لیے یا کسی اور کے لیے روا ہو کہ کتاب و سنت کو ملحوظ رکھے بغیرہر اس بات کو جو اس کے دل میں القا ہو واجب الاتباع سمجھ لے یا کوئی اور اس کی پیروی کرے۔ اس پر اولیاء اللہ کا اتفاق ہے، جو شخص اس کا خلاف کرے وہ ان اولیاء اللہ سے نہیں ہے۔ جن کی اتباع کا حکم اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے بلکہ ایسا شخص یا تو کافر ہوگا یا حد سے زیادہ جاہل ہوگا۔

نعمت اللہ
24-12-12, 10:46 AM
سلیمان دارانی رحمہ اللہ کا قول
مشائخ کے کلام میں اس طرح کی مثالیں بہت موجود ہیں۔ شیخ ابوسلیمان دارانی نے فرمایا :
اِنَّہ لَیَقَعُ فِیْ قَلْبِی النُّکْتَۃُ مِنْ نُّکَتِ الْقَوْمِ فَلَا اَقْبَلُھَا اِلَّا بِشَاھِدَیْنِ الْکِتٰبِ وَالسُّنَّۃِ۔
’’یعنی میرے دل میں قوم (صوفیاء) کے نکتوںمیں سے کوئی نکتہ وارد ہوتا ہے تو میں اسے دو گواہوں یعنی کتاب و سنت کی شہادت کے بغیر قبول نہیں کرتا۔‘‘

جنید رحمہ اللہ کا قول
ابوالقاسم جنید رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
عِلْمُنَا ھٰذَا مُقَیَّدٌ بِالْکِتٰبِ وَالسُّنَّۃِ فَمَنْ لَمْ یَقْرَائِ الْقُرْآنَ وَیَکْتُبِ الْحَدِیْثَ لَا یَصْلُحُ لَہ اَنْ یَتَکَلَّمَ فِی عِلْمِنَا۔
’’یعنی یہ علم (علمِ ولایت) کتاب و سنت کا پابند ہے، جو شخص قرآن نہ جانے اور حدیث نقل نہ کرے وہ اس کی صلاحیت نہیں رکھتا کہ ہمارے علم کے بارے میں بات تک بھی کرے (یا یہ فرمایا کہ وہ اس کا اہل نہیں ہے کہ اس کی پیروی کی جائے)۔‘‘

ابوعثمان نیشاپوری کا قول
ابو عثمان نیشاپوری فرماتے ہیں:
مَنْ اَمَّر السُّنَّۃَ عَلٰی نَفْسِہ قَوْلًا وَّفِعْلًا نَطَقَ بِالْحِکْمَۃِ وَمَنْ اَمَّرَ الْھَوٰی عَلٰی نَفْسِہ قَوْلًا وَفِعْلاً نَطَقَ بِالْبِدْعَۃِ لِاَنَّ اللہَ یَقُوْلُ فی کلامہ القدیم ’’وَاِنْ تُطِیْعُوْہُ تَھْتَدُوْا‘‘۔
’’جو شخص قولاً و فعلاً اپنے نفس پر سنت کو حاکم بنائے وہ حکمت کی بات کرتا ہے اور جو قولاً فعلاً اپنے نفس پر خواہش کو حاکم بناتا ہے وہ بدعت کی بات کرتا ہے۔کیونکہ
اللہ تعالیٰ نے اپنے کلامِ قدیم میں فرمایا ہے

وَإِن تُطِيعُوهُ تَهْتَدُوا ۚ ﴿٥٤﴾
النور
’’اگر رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے کہنے پر چلوگے تو ہدایت پائو گے۔‘‘
ابوعمرو بن نجید فرماتے ہیں کہ ’’ہر وہ وجد (حال) جس کی شہادت کتاب و سنت سے نہ ہو باطل ہے۔‘‘

اس مقام پر بہت سے لوگ غلطی کرتے ہیں۔ وہ کسی آدمی کو ولی اللہ سمجھ لیتے ہیں اور ان کا گمان یہ ہوتا ہے کہ ولی اللہ کی ہر بات قابلِ قبول اور اس کا ہر قول و فعل قابلِ تسلیم ہوتا ہے، خواہ وہ کتاب و سنت کے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔ اور ایسا اس شخص کی موافقت کرنے لگتے ہیں اور جو باتیں اللہ تعالیٰ نے اور اپنا وہ رسول مبعوث کر کے بتائیں جن کی خبروں کی تصدیق جن کے احکام کی اطاعت اللہ تعالیٰ کی طرف سے واجب ہے اور جو باتیں اہلِ جنت و اہلِ دوزخ سعید و شقی کے مابین وجہِ امتیاز ہیں، ان کی مخالفت کرتے ہیں۔
غرضیکہ جو شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کرے گا تو وہ اللہ کے متقی اولیا اور اس کے کامیاب لشکر اور اس کے نیک بندوں میں سے ہوگا اور جو رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع نہیں کرے گا تو وہ اللہ تعالیٰ کے دشمنوں میں سے ہے، زیاں کار مجرموں میں سے ہوگا۔

نعمت اللہ
24-12-12, 10:55 AM
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت اور ایسے شخص کی موافقت آدمی کو پہلے تو بدعت اور گمراہی کی طرف اور پھر کفر و نفاق کی طرف گھسیٹ لے جاتی ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کے اس قول کا مصداق بن جاتا ہے۔
وَيَوْمَ يَعَضُّ الظَّالِمُ عَلَىٰ يَدَيْهِ يَقُولُ يَا لَيْتَنِي اتَّخَذْتُ مَعَ الرَّسُولِ سَبِيلًا ﴿٢٧﴾ يَا وَيْلَتَىٰ لَيْتَنِي لَمْ أَتَّخِذْ فُلَانًا خَلِيلًا ﴿٢٨﴾ لَّقَدْ أَضَلَّنِي عَنِ الذِّكْرِ بَعْدَ إِذْ جَاءَنِي ۗ وَكَانَ الشَّيْطَانُ لِلْإِنسَانِ خَذُولًا ﴿٢٩﴾
الفرقان
’’اور جس دن نافرمان اپنے ہاتھ کاٹے گا اور کہے گا، اے کاش میں بھی رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ دین کے رستے لگ جاتا، ہائے میری کم بختی! کاش میں فلاں شخص کو دوست نہ بناتا، اس نے تو نصیحت کے آجانے کے بعد بھی مجھے اس سے بہکا دیا اور شیطان کا تو قاعدہ ہے کہ وقت پڑنے پر انسان کو چھوڑ کر الگ ہوجاتا ہے۔‘‘
اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
يَوْمَ تُقَلَّبُ وُجُوهُهُمْ فِي النَّارِ يَقُولُونَ يَا لَيْتَنَا أَطَعْنَا اللَّـهَ وَأَطَعْنَا الرَّسُولَا ﴿٦٦﴾ وَقَالُوا رَبَّنَا إِنَّا أَطَعْنَا سَادَتَنَا وَكُبَرَاءَنَا فَأَضَلُّونَا السَّبِيلَا ﴿٦٧﴾ رَبَّنَا آتِهِمْ ضِعْفَيْنِ مِنَ الْعَذَابِ وَالْعَنْهُمْ لَعْنًا كَبِيرًا ﴿٦٨﴾
الاحزاب
’’یہ وہ دن ہوگا جب کہ ان کے منہ آگ میں الٹ پلٹ کیے جائیں گے اور افسوس کے طور پر کہیں گے کہ اے کاش! ہم نے دنیا میں اللہ کا حکم مانا ہوتا اور یہ بھی کہیں گے کہ اے ہمارے پروردگار ! ہم نے اپنے سرداروں اور اپنے بڑوں کا کہنا مانا اور انہوں نے ہی ہم کو گمراہ کیا تو اے ہمارے پروردگار ان کو دگنا عذاب دے اور ان پر بڑی سے بڑی لعنت کر۔‘‘
اور فرمایا:
وَمِنَ النَّاسِ مَن يَتَّخِذُ مِن دُونِ اللَّـهِ أَندَادًا يُحِبُّونَهُمْ كَحُبِّ اللَّـهِ ۖ وَالَّذِينَ آمَنُوا أَشَدُّ حُبًّا لِّلَّـهِ ۗ وَلَوْ يَرَى الَّذِينَ ظَلَمُوا إِذْ يَرَوْنَ الْعَذَابَ أَنَّ الْقُوَّةَ لِلَّـهِ جَمِيعًا وَأَنَّ اللَّـهَ شَدِيدُ الْعَذَابِ ﴿١٦٥﴾ إِذْ تَبَرَّأَ الَّذِينَ اتُّبِعُوا مِنَ الَّذِينَ اتَّبَعُوا وَرَأَوُا الْعَذَابَ وَتَقَطَّعَتْ بِهِمُ الْأَسْبَابُ ﴿١٦٦﴾ وَقَالَ الَّذِينَ اتَّبَعُوا لَوْ أَنَّ لَنَا كَرَّةً فَنَتَبَرَّأَ مِنْهُمْ كَمَا تَبَرَّءُوا مِنَّا ۗ كَذَٰلِكَ يُرِيهِمُ اللَّـهُ أَعْمَالَهُمْ حَسَرَاتٍ عَلَيْهِمْ ۖ وَمَا هُم بِخَارِجِينَ مِنَ النَّارِ ﴿١٦٧﴾
البقرہ
’’اور لوگوں میں سے بعض ایسے بھی ہیں جو اللہ کے سوا اوروں کو اللہ کا شریک ٹھہراتے ہیں اور جیسی محبت اللہ تعالیٰ سے رکھنی چاہیے۔ ویسی محبت ان سے رکھتے ہیں اور جو ایمان والے ہیں، ان کو تو سب سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ کی محبت ہوتی ہے اور جو بات ان ظالموں کو عذاب دیکھنے پر سوجھ پڑے گی۔ اے کاش! اب سوجھ پڑتی کہ ہر طرح کی قوت اللہ ہی کو ہے اور نیز یہ کہ اللہ کا عذاب بھی سخت ہے (یہ ایسا ٹیڑھا وقت ہوگا) کہ اس وقت گرو اپنے چیلے چانٹوں سے دست بردار ہوجائیں گے اور عذاب آنکھوں سے دیکھ لیں گے اور ان کے آپس کے تعلقات سب ٹوٹ ٹاٹ جائیں گے اور چیلے بول اٹھیں گے کہ اے کاش! ہم کو ایک دفعہ دنیا میں پھر لوٹ کر جانا ملے تو جیسے یہ لوگ آج ہم سے دست بردار ہوگئے، اسی طرح ہم بھی ان سے دست بردار ہوجائیں یوں اللہ ان کے اعمال ان کے آگے لائے گا کہ ان کو اعمال سرتا سرموجب ِ حسرت دکھائی دیں گے اور ان کو دوزخ سے نکلنا نصیب نہیں ہوگا۔‘‘

نعمت اللہ
24-12-12, 11:00 AM
درویشوں اور اپنے پیشواؤں کی اندھی تقلید کرنے والے ان نصاریٰ سے مشابہت رکھتے ہیں جن کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:
اتَّخَذُوا أَحْبَارَهُمْ وَرُهْبَانَهُمْ أَرْبَابًا مِّن دُونِ اللَّـهِ وَالْمَسِيحَ ابْنَ مَرْيَمَ وَمَا أُمِرُوا إِلَّا لِيَعْبُدُوا إِلَـٰهًا وَاحِدًا ۖ لَّا إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَ ۚ سُبْحَانَهُ عَمَّا يُشْرِكُونَ ﴿٣١﴾
التوبۃ
’’کہ انہوں نے اپنے علماء اور درویشوں کو اللہ تعالیٰ کے علاوہ پروردگار بنا لیا اور مسیح ابن مریم کو بھی حالانکہ وہ مامور اس کے تھے کہ ایک اللہ تعالیٰ کی پرستش کرتے، جس کے سوا اور کوئی معبود نہیں ہے، وہ جو شرک کرتے ہیں، اس سے وہ پاک ہے۔ ‘‘
مسند میں ہے اور ترمذی نے بھی اس کی تصحیح کی ہے کہ عدی ابن حاتم نے اس آیت کی تفسیر کے بارے میں جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ انہوں نے ان لوگوں کی بندگی تو نہیں کی تھی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انہوں نے ان کے لیے حرام کو حلال اور حلال کو حرام کر دیا، تو انہوں نے ان کی یہ بات مان لی تو ان کا یہ عمل ہی ان کی عبادت تھا۔
(ترمذی کتاب التفسیر،فی تفسیرسورۃبراءۃ، رقم:۳۰۹۵۔ الدر المنثور ج۳ ص۲۳۰ وغیرہ۔)
اس لیے اس قسم کے لوگوں کے بارے میں کہا گیا ہے کہ وہ اصول کو ضائع کرنے کی پاداش میں وصول سے محروم ہوگئے کیونکہ اصل الاصول اس چیزپر حقیقی ایمان لانا ہے جو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لے کر آئے۔ اللہ تعالیٰ پر، رسول پر اور اس کی شریعت پر ایمان لانا لابدی ہے نیز اس پر ایمان لانا بھی ضروری ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انسانوں، جنوں، عربوں، عجمیوں، عالموں، عابدوں، بادشاہوں اور رعیتوں الغرض ساری خلقت کے لیے مبعوث کئے گئے ہیں۔ اس لیے اللہ تعالیٰ عزوجل کی راہ کسی مخلوق پر اس وقت تک نہیں کھلتی جب تک وہ ظاہراً و باطناً رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اتباع نہ کرے حتیٰ کہ موسیٰ علیہ السلام ، عیسیٰ علیہ السلام اور دوسرے انبیاء بھی جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پالیتے تو ان پر جناب محمد رسول اللہ کا اتباع واجب ہوتا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
وَإِذْ أَخَذَ اللَّـهُ مِيثَاقَ النَّبِيِّينَ لَمَا آتَيْتُكُم مِّن كِتَابٍ وَحِكْمَةٍ ثُمَّ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مُّصَدِّقٌ لِّمَا مَعَكُمْ لَتُؤْمِنُنَّ بِهِ وَلَتَنصُرُنَّهُ ۚ قَالَ أَأَقْرَرْتُمْ وَأَخَذْتُمْ عَلَىٰ ذَٰلِكُمْ إِصْرِي ۖ قَالُوا أَقْرَرْنَا ۚ قَالَ فَاشْهَدُوا وَأَنَا مَعَكُم مِّنَ الشَّاهِدِينَ ﴿٨١﴾ فَمَن تَوَلَّىٰ بَعْدَ ذَٰلِكَ فَأُولَـٰئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ ﴿٨٢﴾
آل عمران
’’اور اے پیغمبر! ان کو وہ وقت یاد دلائو جب کہ اللہ نے پیغمبروں سے عہد لیا کہ ہم جو تم کو اپنی کتاب اور حکمت عطا کریں اور پھر کوئی پیغمبر تمہارے پاس آئے اور جو کتاب تمہارے پاس ہے اس کی تصدیق بھی کرے تو دیکھو! ضرور اس پر ایمان لانا اور ضرور اس کی مدد کرنا اور فرمایا کہ کیا تم نے اقرار کر لیا اور ان باتوں پر جو ہم نے تم سے عہدوپیمان لیا ہے، اس کو تسلیم کیا؟ پیغمبروں نے عرض کیا کہ ہاں ہم اقرار کرتے ہیں۔ اللہ نے فرمایا اچھا! تو آج کے قول وا قرار کے گواہ رہو اور تمہارے ساتھ گواہوں میں سے ایک گواہ ہم بھی ہیں تو بات کے اس قدر پکے ہونے کے بعد جو کوئی قول سے منحرف ہو تو وہی لوگ نافرمان ہیں۔‘‘
ابنِ عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اللہ نے کوئی نبی ایسا نہیں پیدا کیا، جن سے یہ عہد نہ لیا ہو کہ اگر اس کی زندگی میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث ہوجائیں تو اس پر لازم ہو گا کہ وہ ان پر ایمان لائے اور ان کی مدد کرے۔ اللہ تعالیٰ نے ہر نبی کو حکم دیا ہے کہ وہ اپنی اُمت سے یہ عہد لے لے کہ اس امت کی زندگی میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث ہوجائیں تو ان پر ایمان لائیں اور ان کی مدد کریں۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ يَزْعُمُونَ أَنَّهُمْ آمَنُوا بِمَا أُنزِلَ إِلَيْكَ وَمَا أُنزِلَ مِن قَبْلِكَ يُرِيدُونَ أَن يَتَحَاكَمُوا إِلَى الطَّاغُوتِ وَقَدْ أُمِرُوا أَن يَكْفُرُوا بِهِ وَيُرِيدُ الشَّيْطَانُ أَن يُضِلَّهُمْ ضَلَالًا بَعِيدًا ﴿٦٠﴾ وَإِذَا قِيلَ لَهُمْ تَعَالَوْا إِلَىٰ مَا أَنزَلَ اللَّـهُ وَإِلَى الرَّسُولِ رَأَيْتَ الْمُنَافِقِينَ يَصُدُّونَ عَنكَ صُدُودًا ﴿٦١﴾ فَكَيْفَ إِذَا أَصَابَتْهُم مُّصِيبَةٌ بِمَا قَدَّمَتْ أَيْدِيهِمْ ثُمَّ جَاءُوكَ يَحْلِفُونَ بِاللَّـهِ إِنْ أَرَدْنَا إِلَّا إِحْسَانًا وَتَوْفِيقًا ﴿٦٢﴾ أُولَـٰئِكَ الَّذِينَ يَعْلَمُ اللَّـهُ مَا فِي قُلُوبِهِمْ فَأَعْرِضْ عَنْهُمْ وَعِظْهُمْ وَقُل لَّهُمْ فِي أَنفُسِهِمْ قَوْلًا بَلِيغًا ﴿٦٣﴾ وَمَا أَرْسَلْنَا مِن رَّسُولٍ إِلَّا لِيُطَاعَ بِإِذْنِ اللَّـهِ ۚ وَلَوْ أَنَّهُمْ إِذ ظَّلَمُوا أَنفُسَهُمْ جَاءُوكَ فَاسْتَغْفَرُوا اللَّـهَ وَاسْتَغْفَرَ لَهُمُ الرَّسُولُ لَوَجَدُوا اللَّـهَ تَوَّابًا رَّحِيمًا ﴿٦٤﴾ فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ حَتَّىٰ يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ لَا يَجِدُوا فِي أَنفُسِهِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُوا تَسْلِيمًا ﴿٦٥﴾
النسآء
’’(اے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم ) کیا تم نے ان لوگوں کے حال پر نظر نہیں کی جو منہ سے تو یہ کہتے ہیں کہ وہ قرآن پر ایمان رکھتے ہیں، جو تم پر اتارا گیا ہے اور ان آسمانی کتابوں پر بھی جو تم سے پہلے اتاری گئی ہیں اور چاہتے ہیں یہ کہ اپنا مقدمہ ایک شریر کے پاس لے جائیں حالانکہ ان کو حکم دیا جاچکا ہے کہ اس کے ساتھ کفر کریں اور شیطان چاہتا ہے کہ ان کو بھٹکا کر راہ راست سے بڑی دور لے جائے اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ آئو اللہ نے جو حکم اتارا، اس کی طرف اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف رجوع کریں تو تم ان منافقوں کو دیکھتے ہو کہ وہ تمہارے پاس آنے سے رکتے ہیں تو اس وقت ان کی کیسی کچھ رسوائی ہوگی، جب ان ہی کے اپنے کرتوت کی وجہ سے ان پر کوئی مصیبت آپڑے تو تمہارے پاس قسمیں کھاتے ہوئے دوڑے آئیں کہ بخدا ہماری غرض تو سلوک اور میل ملاپ کی تھی، یہ ایسے آدمی ہیں، جو فساد ان کے دلوں میں ہے بس اللہ ہی کو خوب معلوم ہے تو اے پیغمبران سے منہ موڑ لو اور ان کو سمجھائو اور ان سے ایسی موثر گفتگو کرو جو ان کے ذہن نشین ہوجائے۔ اور جو بھی رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہم نے بھیجا، اس کے بھیجنے سے ہمارا مقصود یہی رہا ہے کہ اللہ کے حکم سے اس کی اطاعت کی جائے اور جب ان لوگوں نے اپنے اوپر ظلم کیا تھا اگر اس وقت یہ لوگ تمہارے پاس آتے اور اللہ تعالیٰ سے معافی مانگتے اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم ان کے لیے استغفار کرتے تو یہ لوگ دیکھ لیتے کہ اللہ بڑا ہی توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے۔ پس اے پیغمبر! تمہارے ہی پروردگار کی قسم ہے کہ جب تک یہ اپنے باہمی جھگڑے تم سے ہی فیصلہ نہ کرائیں اور صرف فیصلہ ہی نہیں بلکہ جو کچھ تم فیصلہ کر دو، اس سے کسی طرح دلگیر بھی نہ ہوں بلکہ دل سے قبول کر لیں۔ جب تک ایسا نہ کریں یہ مومن نہیں ہوسکتے۔‘‘
غرض جب تک یہ سب کچھ نہ کریں۔ اس وقت تک وہ کو ایمان سے بہرہ ور نہیں ہو سکتے اور جس نے ذرا بھی رسول کی شریعت کی مخالفت کی اور جسے وہ ولی اللہ سمجھتا رہا۔ اس کا مقلد بنا رہا، اس نے اپنی اس بات کی بنا، اس پر رکھی کہ وہ ولی اللہ ہے اور ولی اللہ کی کسی بات کی مخالفت نہ کی جائے حالانکہ اگر یہ شخص سب سے بڑے اولیاء اللہ میں سے ہو جیسے کہ صحابہ کرام اور تابعین تھے تو جب بھی اس کی وہ بات نہ مانی جائے گی جو کتاب و سنت کے خلاف ہو، چہ جائیکہ ان سے کم درجے کے اولیاء کی باتیں مانی جائیں۔

نعمت اللہ
24-12-12, 11:03 AM
بسا اوقات تو ایسا دیکھا گیا ہے کہ کسی شخص کو محض اس بنا پر ولی اللہ سمجھ لیا جاتا ہے کہ اس نے کچھ انکشافات کیے اور اس سے بعض خوارقِ عادات اور بعض عجیب تصرفات ظاہر ہوئے ہیں مثلاً یہ کہ وہ کسی کی طرف اشارہ کر دے اور وہ مر جائے۔ یا ہوا میں اڑ کر مکہ مکرمہ یا کہیں اور پہنچ جائے یا کبھی کبھی پانی پر چلے، یا ہوا سے لوٹا بھر لے یا بعض اوقات غیب سے خرچ کرے یا کبھی کبھی لوگوں کی آنکھوں سے روپوش ہوجائے یا بعض لوگ اس کے پاس داد خواہی کریں وہ غائب یا مردہ ہو اور اس کے باوجود وہ اسے دیکھیں کہ وہ آیا اور ان کی حاجت پوری کر دی، یا وہ لوگوں کو مسروقہ چیزوں کی خبر دے۔ کسی گم شدہ آدمی یا مریض کا حال بتائے و علیٰ ہذا القیاس۔ ان باتوں میں کوئی بھی ایسی چیز نہیں ہے، جو اس امر کی دلیل ہو کہ ان اوصاف کا حامل شخص ولی اللہ ہے بلکہ اولیاء اللہ اس پر متفق ہیں کہ اگر کوئی شخص ہوا میں اڑے یا پانی پر چلے تو اس سے دھوکا نہیں کھانا چاہیے۔ جب تک کہ یہ نہ دیکھ لیا جائے کہ وہ کہاں تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی متابعت کرتا اور امرو نہی میں ان کے موافق چلتا ہے۔
اولیاء اللہ کی کرامات ان خوارق العادات سے بہت بڑی ہوتی ہیں۔ ان خوارق عادات کا حامل شخص ولی اللہ بھی ہوسکتا ہے اور عدواللہ بھی کیونکہ خوارقِ عادات کفار، مشرکین، اہل کتاب، منافقین، اہل بدعت اور شیاطین میں بھی ہوتی ہیں۔ اس لیے یہ خیال کرنا جائز نہیں ہے کہ جس شخص میں ان میں سے کچھ باتیں ہوں وہ ولی اللہ ہے بلکہ اولیاء اللہ کا اعتبار ان کی صفات، ان کے افعال اور ان کے حالات سے ہوتا ہے جو کتاب و سنت کے تابع ہوں اور ان کی پہچان ایمان و قرآن کی روشنی سے اور شریعت کے ظاہری احکام اور یقین کے باطنی حقائق سے ہوتی ہے۔

نعمت اللہ
24-12-12, 11:13 AM
مثال کے طور پر غور کیجیے کہ اس طرح کی خلافِ عادت باتیں بعض اوقات ایسے لوگوں میں بھی پائی جاتی ہیں۔ جو وضو بھی نہیں کرتے، فرض نمازیں بھی ادا نہیں کرتے۔ نجاستوں میں ڈوبے رہتے ہیں۔ کتوں کی محفل میں بیٹھے رہتے ہیں۔ حماموں، قبرستانوں اور کوڑے کرکٹ کے ڈھیروں پر پڑے رہتے ہیں، ان سے بدبو آتی ہے، یہ لوگ نہ تو شریعت کے حکم کے مطابق غسل اور وضوء کرتے ہیں اور نہ فرضی صفائی کرتے ہیں۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ: لا تدخل الملئکہ بیتا فیہ جنب ولا کلب ’’جس گھر میں جنبی یا کتا ہو اس میں فرشتے داخل نہیں ہوتے۔‘‘
(ابوداود کتاب الطہارۃ، باب فی الجنب یؤخر الغسل، رقم: ۲۲۷۔ نسائی کتاب الطہارۃ باب فی الجنب اذالم یتوضا رقم: ۲۶۲، مسند احمد ج۱، ص ۸۰۔)
اور ان پائخانے کی جگہوں کے متعلق فرمایا کہ : ان ھذہ الحشوش محتضرة’’یہ شیطان کی سیرگاہیں ہیں‘‘۔یعنی یہاں شیاطین آتے جاتے ہیں۔
(ابوداؤد حدیث:۶۔ ابن ماجہ (رقم: ۲۹۶) کتاب الطہارۃ باب مایقول الرجل اذا دخل الخلاء۔)
فرمایا کہ : من اکل من ھاتین الشجرتین الخبیثین فلا یقربن مسجدنا فان الملئکة تتاذٰی ما یتاذی منہ بنو آدم’’جو شخص ان دو خبیث درختوں سے کھائے گا وہ ہماری اس مسجد کے قریب نہ آئے کیونکہ جن چیزوں سے بنی آدم کو تکلیف ہوتی ہے، ان چیزوں سے فرشتوں کو بھی تکلیف ہوتی ہے یعنی پیاز اور گندنا۔
(بخاری کتاب الاذان باب ماجاء فی الثوم النی والبصل والکراث رقم: ۸۵۶ ، مسلم کتاب المساجد باب النہی من اکل ثوما او بصلا اور کراثا برقم ۵۶۴۔)
نیز فرمایا: ان اللہ طیب لا یقبل الا طیبا: اللہ تعالیٰ طیب ہے اور طیب چیز کو ہی قبول کرتا ہے۔
(مسلم کتاب الزکوٰۃ ، باب قبول الصدقۃ رقم ۱۰۱۵۔)
پھر فرمایا: ان اللہ نظیف یحب النظافة ’’اللہ تعالیٰ نظیف ہے اور نظافت کو پسند کرتا ہے۔‘‘
(ترمذی کتاب الادب باب ماجاء فی النظافۃ رقم ۲۷۹۹۔)
نیز فرمایا: خمس من الفواسق یقتلن فی الحل و الحرم، الحیة والہدأة والکلب العقور ’’پانچ چیزیں فاسق ہیں، جو حل اور حرم دونوں میں قتل کی جائیں۔ سانپ، چوہا، کوا، چیل، کاٹنے والا کتا۔‘‘ ایک روایت میں سانپ اور بچھو کا لفظ آیاہے۔
(بخاری کتاب فی جزاء الصید باب مایقتل المحرم من الدواب ۱۸۲۹، مسلم کتاب الحج باب مایندب للمحرم ۱۱۹۸)
نیز نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کتوں کے قتل کرنے کا حکم فرمایا ہے۔
اور فرمایا: من اقتنی کلبا لا یغنی عنہ زرعا ولا حزفا نقص من عملہ کل یوم قیراط ’’جس نے کتا رکھا جو کھیتی اور دودھ دینے والی چیزوں کی حفاظت کر کے اسے کوئی فائدہ نہیں پہنچاتا تو اس کے عمل میں سے ہر روز قیراط بھر کمی ہوتی رہتی ہے۔‘‘
(بخاری کتاب الحرث والمزارعۃ باب اقتناء الکلب للحرث رقم: ۲۳۲۳۔ قیراط بقدر تین رتی ایک وزن ہوتا ہے۔)
اور فرمایا: لا تصحب الملئکة رفقة معہم کلب ’’ان لوگوں کے ساتھ فرشتے نہیں رفاقت کرتے جن کے ساتھ کتا ہو۔‘‘
(مسلم کتاب اللباس باب تحریم تصویر صورۃ الحیوان، رقم: ۵۵۱۱۔)
اور فرمایا: اذا ولغ الکلب فی انا احدکم فلیغسلہ سبع مرات اخراھن بالتراب ’’جب تم میں سے کسی کے برتن میں کتا منہ ڈال جائے تو اسے سات مرتبہ دھونا چاہیے، جس میں سے ایک مرتبہ مٹی بھی ملی جائے۔‘‘
(بخاری کتاب الوضوء باب اذا شرب الکلب فی اناء رقم: ۱۷۲، لیکن اس میں مٹی کا ذکر نہیں وہ صحیح مسلم (۲۷۹) بھی ہے لیکن ’’اولاھن ‘‘ کے الفاظ کے ساتھ۔)
اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
وَرَحْمَتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ ۚ فَسَأَكْتُبُهَا لِلَّذِينَ يَتَّقُونَ وَيُؤْتُونَ الزَّكَاةَ وَالَّذِينَ هُم بِآيَاتِنَا يُؤْمِنُونَ ﴿١٥٦﴾ الَّذِينَ يَتَّبِعُونَ الرَّسُولَ النَّبِيَّ الْأُمِّيَّ الَّذِي يَجِدُونَهُ مَكْتُوبًا عِندَهُمْ فِي التَّوْرَاةِ وَالْإِنجِيلِ يَأْمُرُهُم بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَاهُمْ عَنِ الْمُنكَرِ وَيُحِلُّ لَهُمُ الطَّيِّبَاتِ وَيُحَرِّمُ عَلَيْهِمُ الْخَبَائِثَ وَيَضَعُ عَنْهُمْ إِصْرَهُمْ وَالْأَغْلَالَ الَّتِي كَانَتْ عَلَيْهِمْ ۚ فَالَّذِينَ آمَنُوا بِهِ وَعَزَّرُوهُ وَنَصَرُوهُ وَاتَّبَعُوا النُّورَ الَّذِي أُنزِلَ مَعَهُ ۙ أُولَـٰئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ ﴿١٥٧﴾
الاعراف
’’اور میری رحمت ہر چیز کو شامل ہے، میں اس کو ان لوگوں کے لیے لکھ دوں گا جو کہ ڈرتے ہیں اور زکوٰۃ دیتے ہیں اور ہماری آیتوں کو مانتے ہیں، وہ جو اس رسول کا اتباع کرتے ہیں جو نبی اُمی ہے جسے وہ اپنے ہاں توراۃ اور انجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں، جو ان کو نیک کاموں کا حکم دیتا ہے اور بری باتوں سے منع کرتا ہے۔ پاک چیزوں کو ان کے لیے حلال کرتا ہے اور ناپاک چیزوں کو ان پر حرام کرتا ہے اور ان کے بوجھ ان سے اتارتا ہے اور جن طوقوں میں جکڑے ہوئے تھے، ان سے نجات دلاتا ہے، پس جو لوگ اس پر ایمان لاتے ہیں اور اس کا ساتھ دیتے ہیں، اس کی مدد کرتے ہیں اور جو نور اس کے ساتھ نازل ہوا اس کا اتباع کرتے ہیں، وہی لوگ کامیاب ہیں۔‘‘

نعمت اللہ
24-12-12, 11:17 AM
جب وہ شخص ان ناپاک اور خبیث چیزوں کے ساتھ لتھڑا رہے جو شیطان کو پسند ہیں یا حماموں اور کوڑے کرکٹ کے گندے ڈھیروں میں پڑا رہے جہاں شیطان موجود رہتے ہیں یا سانپوں بچھوئوں اور بھڑوں کو اور کتے کے کانوں کو جو کہ پلید اور خبیث چیزیں ہیں کھا جائے یا پیشاب یا دوسری نجاستیں پیتا ہو جنہیں شیطان پسند کرتا ہے۔ یا اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور سے دعا کرے اور مخلوقات سے داد خواہی کرے اور ان کی طرف توجہ کرے یا اپنے پیرومرشد کی جانب سجدہ کرے اور خالص رب العالمین کا مطیع و عبادت گزار نہ ہو یا کتوں اور آگ کے ساتھ میل جول رکھے یا گندگی کے ڈھیروں اور پلید جگہوں میں پڑا رہے۔ خاص طور پر قبرستان اور یہود نصاریٰ یا مشرکین و کفار کی قبروں کی طرف آمد و رفت رکھے ، یا قرآن سننے کو ناپسند کرے اور اس سے نفرت کرے اور اس پر سرودوں اور شعروں کے سننے کو ترجیح دے اور شیطانی آلاتِ طرب کے سننے کو کلام الرحمن کے سننے پر فوقیت دے تو یہ اولیاء شیطان کی علامتیں ہیں نہ کہ اولیاء رحمن کی۔
سیدنا عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ تم میں سے کوئی شخص اپنے آپ کے متعلق سوال کرے تو قرآن سے کرے اگر وہ قرآن سے محبت رکھتا ہوگا تو اللہ سے محبت ہوگی۔ اگر قرآن سے بغض رکھتا ہے تو اللہ اور رسول سے بغض رکھتا ہوگا۔
سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اگر ہمارے دل پاک ہوں تو اللہ عزوجل کے قرآن سے کبھی سیر نہ ہوں۔
ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ذکرِ الٰہی دل میں ایمان کی اس طرح نشوونما کرتا ہے جس طرح پانی سبزی کی۔ اور گانا نفاق کی اس طرح نشوونما کرتا ہے جیسے پانی سبزی کی۔

نعمت اللہ
24-12-12, 11:26 AM
اور اگر وہ شخص ایمان کے باطنی حقائق سے آگاہ ہو، احوالِ رحمانی اور احوالِ شیطانی میں فرق کر سکتا ہو تو سمجھو کہ اللہ تعالیٰ نے اس کے دل میں نور ایمان ڈال دیا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّـهَ وَآمِنُوا بِرَسُولِهِ يُؤْتِكُمْ كِفْلَيْنِ مِن رَّحْمَتِهِ وَيَجْعَل لَّكُمْ نُورًا تَمْشُونَ بِهِ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ۚ وَاللَّـهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ ﴿٢٨﴾
الحدید
’’اے ایمان والو! اللہ سے ڈرتے رہو اور اس رسول پر ایمان لائو وہ تمہیں اپنی رحمت سے دو حصے بخشے گا اور تمہارے لیے ایسا نور پیدا کرے کا جس کے ذریعے تم چلو پھرو اور تمہیں معاف کر دے گا، اللہ تعالیٰ بخشنے والا رحم کرنے والا ہے۔‘‘
اور فرمایا:
وَكَذَٰلِكَ أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ رُوحًا مِّنْ أَمْرِنَا ۚ مَا كُنتَ تَدْرِي مَا الْكِتَابُ وَلَا الْإِيمَانُ وَلَـٰكِن جَعَلْنَاهُ نُورًا نَّهْدِي بِهِ مَن نَّشَاءُ مِنْ عِبَادِنَا ۚ وَإِنَّكَ لَتَهْدِي إِلَىٰ صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ ﴿٥٢﴾
شوری
’’اور اسی طرح بھیجاہم نے تیری طرف ایک فرشتہ اپنے حکم سے، تونہ جانتاتھا کہ کتاب اور ایمان کیا ہے لیکن ہم نے اسے ایک نور بنا دیا ہے اس کے ذریعے ہم اپنے بندوں میں سے جسے چاہتے ہیں راہ پر لاتے ہیں۔‘‘
تو ایسا شخص ان مومنین میں سے ہوتا ہے جن کے بارے میں وہ حدیث آئی ہے، جسے ترمذی نے سیدناابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’مومن کی فراست سے ڈرو کیونکہ وہ اللہ کے نور سے دیکھتا ہے۔‘‘
(ترمذی کتاب التفسیر، سورۃ الحجر، رقم: ۳۱۲۷ ۔ وقال ھذا حدیث غریب)
ترمذی نے کہا یہ حدیث حسن ہے اور اس سے پہلے اس حدیث کا ذکر آچکا ہے جو صحیح بخاری اور دیگر کتابوں میں ہے، جس میں فرمایا ہے کہ ’’میرا بندہ نوافل کے ذریعے سے میرا قرب حاصل کرتا ہے۔ حتیٰ کہ میں اس سے محبت کرنے لگ جاتا ہوں۔ جب اس سے محبت کرتا ہوں تو میں اس کا کان بن جاتا ہوں، جس سے وہ سنتا ہے، اس کی آنکھ بن جاتا ہوں، جس سے وہ دیکھتا ہے، اس کا ہاتھ بن جاتا ہوں، جس سے وہ پکڑتا ہے، اس کا پائوں بن جاتا ہوں، جس کے ساتھ وہ چلتا ہے،] چنانچہ مجھی سے سنتا ہے، مجھی سے دیکھتا ہے، مجھی سے پکڑتا ہے اور مجھی سے چلتا ہے]۔ اگر مجھ سے سوال کرتا ہے تو میں اسے دے دیتا ہوں۔ اگر مجھ سے پناہ مانگتا ہے تو میں اسے پناہ دے دیتا ہوں اور جو کچھ بھی مجھے کرنا ہو، اس میں سے کسی چیز پر مجھے اس درجہ تردد نہیں ہوتا، جتنا اس بندۂ مومن کی روح قبض کرنے کے وقت ہوتا ہے۔ وہ موت کو ناپسند کرتا ہے اور اس کی دل آزاری مجھے ناپسند ہے حالانکہ اس کے لیے اس سے چارہ نہیں۔
(بخاری، کتاب الرقاق، باب التواضع ، رقم الحدیث: ۶۵۰۲۔ (قوسین کے مابین کے الفاظ صحیح بخاری کے نہیں ہیں))
جب کوئی بندہ ان حضرات میں سے ہو تو وہ اولیائِ رحمن اور اولیائِ شیطان کے احوال کے درمیان اسی طرح فرق کرتا ہے، جس طرح صرّاف کھرے اور کھوٹے درہم میں تمیز کرتا ہے اور جس طرح گھوڑوں کو پہچاننے والا اچھے اور خراب گھوڑے میں فرق پہچان لیتا ہے اور جس طرح فن سپہ گری کا ماہر، بہادر اور ڈرپوک آدمی کے درمیان امتیاز کر لیتا ہے اور جس طرح سچے نبی اور متنبی (جھوٹے نبی) کے درمیان فرق کرنا واجب ہے۔چنانچہ محمد صادق و امین رسول رب العالمین صلی اللہ علیہ وسلم ، موسیٰ، مسیح اور دیگر انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام میں اور مسیلمہ کذاب، اسود عنسی، طلیحہ اسدی، حارث دمشقی اور پاپائے رومی وغیرہ جھوٹوں میں فرق کیا جاتا ہے۔ اسی طرح اللہ کے متقی اولیاء اور شیطان کے گمراہ دوستوں کے درمیان فرق کیا جانا بھی واجب ہوگا۔

نعمت اللہ
04-01-13, 07:14 AM
حقیقت دین یعنی دینِ رب العالمین کی حقیقت تو وہ چیز ہے جس پر انبیا و مرسلین کا اتفاق ہے۔ اگرچہ ان میں ہر ایک کے لیے جداگانہ شریعت ومنہاج ہے یعنی فروعات مختلف ہیں۔

نعمت اللہ
04-01-13, 07:24 AM
راہ کے لیے قرآن کریم میں شرعۃ کا لفظ آیا ہے، جس سے مراد شریعت ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
لِكُلٍّ جَعَلْنَا مِنكُمْ شِرْعَةً وَمِنْهَاجًا ﴿٤٨﴾
المائدہ
’’تم میں سے ہر ایک فریق کے لیے ہم نے ایک شریعت ٹھہرائی اور طریقہ خاص۔‘‘
نیز فرمایا:
ثُمَّ جَعَلْنَاكَ عَلَىٰ شَرِيعَةٍ مِّنَ الْأَمْرِ فَاتَّبِعْهَا وَلَا تَتَّبِعْ أَهْوَاءَ الَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ ﴿١٨﴾ إِنَّهُمْ لَن يُغْنُوا عَنكَ مِنَ اللَّـهِ شَيْئًا ۚ وَإِنَّ الظَّالِمِينَ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاءُ بَعْضٍ ۖ وَاللَّـهُ وَلِيُّ الْمُتَّقِينَ ﴿١٩﴾
الجاثیہ
’’پھر اے پیغمبر! ہم نے تم کو دین میں ایک شریعت پر لگا دیا ہے تو تم اس راستے پر چلے جائو اور ان نادانوں کی خواہشوں کے پیچھے نہ چلو، اللہ کے مقابلے میں یہ لوگ تمہارے کسی کام نہیں آسکتے اور ظالم لوگ ایک دوسرے کے دوست ہیں اور پرہیز گاروں کا دوست وکار ساز اللہ ہے۔
منہاج راستے کو کہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:


وَأَن لَّوِ اسْتَقَامُوا عَلَى الطَّرِيقَةِ لَأَسْقَيْنَاهُم مَّاءً غَدَقًا ﴿١٦﴾ لِّنَفْتِنَهُمْ فِيهِ ۚ وَمَن يُعْرِضْ عَن ذِكْرِ رَبِّهِ يَسْلُكْهُ عَذَابًا صَعَدًا ﴿١٧﴾
الجن

’’اور (اے پیغمبر! ان لوگوں کو کہو) اگر یہ سیدھے رستے پر قائم رہتے تو ہم ان کو وافر پانی سے سیراب کرتے تاکہ اس نعمت میں ان کی شکر گزاری کا امتحان کریں اور جو شخص اپنے پروردگار کی یاد سے روگردانی کرے گا۔ تو وہ اس کو سخت عذاب میں داخل کرے گا۔‘‘
شریعت بمنزلہ دریا کے گھاٹ کے ہے اور منہاج اس وادی کو کہتے ہیں جس میں وہ بہتا ہے۔
منزلِ مقصود دین کی حقیقت ہے۔ یعنی اللہ وحدہ لاشریک کی عبادت ہے۔ یہ دین اسلام کی حقیقت ہے اور اس کے معنی یہ ہیں کہ بندہ اللہ رب العالمین کے سامنے گردن نہاد ہوجائے اور اس کے سوا کسی کے سامنے سر نہ جھکائے۔ جو شخص اللہ کے سوا کسی کے سامنے گردن نہاد ہوتا ہے وہ مشرک ہے اور اللہ تعالیٰ اس شخص کو نہیں بخشتا جو اس سے شرک کرے۔ جو شخص اللہ تعالیٰ کے سامنے گردن نہاد نہ ہو بلکہ اس کی عبادت سے برسبیل تکبر روگردانی کرے۔ وہ ان لوگوں میں سے ہے، جن کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:
إِنَّ الَّذِينَ يَسْتَكْبِرُونَ عَنْ عِبَادَتِي سَيَدْخُلُونَ جَهَنَّمَ دَاخِرِينَ ﴿٦٠﴾
غافر

’’جو لوگ میری عبادت سے سرتابی کرتے ہیں۔ عنقریب (مرنے کے بعد) ذلیل و خوار ہو کر جہنم میں داخل ہوں گے۔‘‘

نعمت اللہ
04-01-13, 07:52 AM
دین اسلام پہلے اور پچھلے تمام نبیوں علیہم السلام اور رسولوںعلیہم السلام کا مذہب ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَمَن يَبْتَغِ غَيْرَ الْإِسْلَامِ دِينًا فَلَن يُقْبَلَ مِنْهُ ﴿٨٥﴾
آل عمران

’’اور جو شخص اسلام کے سوا کوئی مذہب تلاش کرے تو اس سے ہرگز قبول نہ کیا جائے گا۔‘‘
یہ آیت ہر زمانہ اور ہر جگہ کے لیے عام ہے۔ چنانچہ سیدنانوح علیہ السلام ، سیدناابراہیم علیہ السلام ، سیدنایعقوب علیہ السلام ، ان کی اولاد، سیدناموسیٰ علیہ السلام ، اور سیدناعیسیٰ علیہ السلام اور ان کے حواری سب کا دین اسلام تھا جو اللہ وحدہ لاشریک کی عبادت سے عبارت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے سیدنانوح علیہ السلام کے متعلق فرمایا ہے: کہ انہوں نے کہا!
يَا قَوْمِ إِن كَانَ كَبُرَ عَلَيْكُم مَّقَامِي وَتَذْكِيرِي بِآيَاتِ اللَّـهِ فَعَلَى اللَّـهِ تَوَكَّلْتُ فَأَجْمِعُوا أَمْرَكُمْ وَشُرَكَاءَكُمْ ثُمَّ لَا يَكُنْ أَمْرُكُمْ عَلَيْكُمْ غُمَّةً ثُمَّ اقْضُوا إِلَيَّ وَلَا تُنظِرُونِ ﴿٧١﴾ فَإِن تَوَلَّيْتُمْ فَمَا سَأَلْتُكُم مِّنْ أَجْرٍ ۖ إِنْ أَجْرِيَ إِلَّا عَلَى اللَّـهِ ۖ وَأُمِرْتُ أَنْ أَكُونَ مِنَ الْمُسْلِمِينَ ﴿٧٢﴾
یونس
’’اے میری قوم! اگر میرا رہنا اور اللہ کی آیتیں پڑھ پڑھ کر سمجھانا تم پر گراں گزرتا ہے تو میرا بھروسہ اللہ ہی پر ہے، پس تم اور تمہارے ٹھہرائے ہوئے شریک سب مل کر اپنی ایک بات ٹھہرالو پھر تمہاری وہ بات تم میں کسی پر مخفی نہ رہے تاکہ سب اس تدبیر کی تکمیل میں شریک ہوسکیں۔ پھر جو کچھ تم کو کرنا ہے میرے ساتھ کر گزرو اور مجھے مہلت نہ دو۔ پھر اگر تم میرے سمجھانے سے منہ موڑ بیٹھے تو میں نے تم سے کچھ مزدوری تو مانگی نہ تھی میری مزدوری تو بس اللہ پر ہے اور مجھ کو حکم دیا گیا ہے کہ میں اس کے فرمانبرداروں میں ہوں۔‘‘
اور فرمایا:
وَمَن يَرْغَبُ عَن مِّلَّةِ إِبْرَاهِيمَ إِلَّا مَن سَفِهَ نَفْسَهُ ۚ وَلَقَدِ اصْطَفَيْنَاهُ فِي الدُّنْيَا ۖ وَإِنَّهُ فِي الْآخِرَةِ لَمِنَ الصَّالِحِينَ ﴿١٣٠﴾ إِذْ قَالَ لَهُ رَبُّهُ أَسْلِمْ ۖ قَالَ أَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعَالَمِينَ ﴿١٣١﴾ وَوَصَّىٰ بِهَا إِبْرَاهِيمُ بَنِيهِ وَيَعْقُوبُ يَا بَنِيَّ إِنَّ اللَّـهَ اصْطَفَىٰ لَكُمُ الدِّينَ فَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنتُم مُّسْلِمُونَ ﴿١٣٢﴾ البقرہ
’’اور کون ہے جو ابراہیم کے طریقے سے انحراف کرے مگروہی جس کی عقل ماری گئی ہو اور بے شک ہم نے ان کو دنیا میں بھی انتخاب کر لیا تھا اور آخرت میں بھی وہ نیکوں کے زمرے میں ہوں گے، جب ان سے ان کے پروردگار نے کہاکہ ہماری ہی فرمانبرداری کرو تو جواب میں اس نے عرض کیا کہ میں سارے جہاں کے پروردگار کا فرمانبردار ہوا اور اس طریقے کی نسبت ابراہیم اپنے بیٹوں کو وصیت کر گئے اور یعقوب بھی کہ بیٹا اللہ نے تمہارے اس دین کو تمہارے لیے پسند فرمایا ہے، پس تم مسلمان ہی مرنا۔‘‘
اور فرمایا:
وَقَالَ مُوْسٰى يٰقَوْمِ اِنْ كُنْتُمْ اٰمَنْتُمْ بِاللہِ فَعَلَيْہِ تَوَكَّلُوْٓا اِنْ كُنْتُمْ مُّسْلِمِيْنَ۸۴
یونس
’’اور موسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم سے فرمایا۔ اے میری قوم! اگر تم اللہ پر ایمان لائے ہو تو اسی پر بھروسہ کرو۔ اگر تم مسلم ہو۔"
اور جادوگروں نے (ایمان لانے کے بعد) کہا:
رَبَّنَآ اَفْرِغْ عَلَيْنَا صَبْرًا وَتَوَفَّنَا مُسْلِـمِيْنَ۱۲۶ۧ
الاعراف

’’اے ہمارے پروردگار! ہم پر صبر کے دھانے کھول دے اور فرمانبرداری کی حالت میں ہمیں دنیا سے اٹھالے۔‘‘

یوسف علیہ السلام نے فرمایا:
تَوَفَّنِيْ مُسْلِمًا وَّاَلْحِقْنِيْ بِالصّٰلِحِيْنَ۱۰۱
یوسف

’مجھے بحالت ِ اسلام دنیا سے اٹھا اور نیک لوگوں کے ساتھ میرا ساتھ کر۔‘‘
بلقیس نے کہا:
وَاَسْلَمْتُ مَعَ سُلَيْمٰنَ لِلہِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ۴۴ۧ
النمل

’’میں سلیمان کے ساتھ پروردگار کے لئے اسلام لائی۔‘‘
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

يَحْكُمُ بِہَا النَّبِيُّوْنَ الَّذِيْنَ اَسْلَمُوْا لِلَّذِيْنَ ہَادُوْا وَالرَّبّٰنِيُّوْنَ وَالْاَحْبَارُ
المائدہ
’’اسلام کے علمبردار انبیاء اسی کے مطابق یہودیوں کو حکم دیتے چلے آئے ہیں اور مشائخ و علماء بھی۔‘‘
اور حواریوں نے کہا:
اٰمَنَّا بِاللہِۚ وَاشْہَدْ بِاَنَّا مُسْلِمُوْنَ
آل عمران:۳؍۵۲
’’ہم خدا کے ساتھ ایمان لائے اور گواہ رہو کہ ہم مسلم ہیں۔‘‘

پس انبیاء علیہ السلام کا دین ایک ہے۔ خواہ شریعتیں مختلف النوع ہوں۔ جیسا کہ صحیحین میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
الانبیاء اخوة للعلات امہاتھم شتی و دینہم واحد۔
’’ہم انبیاء کی جماعت ہیں ہمارا دین ایک ہے۔‘‘

(طویل حدیث سے اقتباس ہے صحیح بخاری کتاب احادیث الانبیاء باب واذکر فی الکتاب مریم ۳۴۴۳۔ و مسلم کتاب الفضائل حدیث ۱۴۵۔ الفرقان کے مطبوعہ نسخوں میں صحیحین کے حوالہ سے ’’انامعشرالانبیاء دیننا واحد‘‘ کے الفاظ ہیں جو غالباً روایت بالمعنی کی قبیل سے ہیں۔ازھر عفی عنہ۔ )
اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
شَرَعَ لَكُمْ مِّنَ الدِّيْنِ مَا وَصّٰى بِہ نُوْحًا وَّالَّذِيْٓ اَوْحَيْنَآ اِلَيْكَ وَمَا وَصَّيْنَا بِہٓ اِبْرٰہِيْمَ وَمُوْسٰى وَعِيْسٰٓى اَنْ اَقِيْمُوا الدِّيْنَ وَلَا تَتَفَرَّقُوْا فِيْہِۭ كَبُرَ عَلَي الْمُشْرِكِيْنَ مَا تَدْعُوْہُمْ اِلَيْہِۭ
شوریٰ
’’تمہارے لیے اللہ تعالیٰ نے دین کا وہی راستہ ٹھہرایا ہے، جس کی وصیت اس نے نوح کو کی تھی اور اس پرچلنے کا حکم اے پیغمبر! ہم نے تمہاری طرف بھی بھیجا ہے اور اس پرچلنے کا حکم ہم نے ابراہیم، موسیٰ علیہ السلام اور عیسیٰ علیہ السلام کو دیا اور وہ رستہ یہ ہے کہ دین کو قائم کرو۔ اس میں تفرقہ نہ ڈالو، اے پیغمبر! جس بات کی طرف تم دعوت دیتے ہو وہ مشرکین کو شاق گزرتی ہے۔‘‘
اور فرمایا:
يَا أَيُّهَا الرُّسُلُ كُلُوا مِنَ الطَّيِّبَاتِ وَاعْمَلُوا صَالِحًا ۖ إِنِّي بِمَا تَعْمَلُونَ عَلِيمٌ ﴿٥١﴾ وَإِنَّ هَـٰذِهِ أُمَّتُكُمْ أُمَّةً وَاحِدَةً وَأَنَا رَبُّكُمْ فَاتَّقُونِ ﴿٥٢﴾ فَتَقَطَّعُوا أَمْرَهُم بَيْنَهُمْ زُبُرًا ۖ كُلُّ حِزْبٍ بِمَا لَدَيْهِمْ فَرِحُونَ ﴿٥٣﴾
المومنون

’’اے گروہ پیغمبراں! پاکیزہ چیزیں کھائو اور نیک کام کرو جو کچھ تم کرتے ہو، اس سے میں واقف ہوں۔ تمہاری یہ جماعت ایک ہی جماعت ہے اور میں تمہارا پروردگار ہوں، پس مجھی سے ڈرو۔ پھر (لوگوں نے آپس میں پھوٹ کر کے) اپنا اپنا دین جدا جدا کر لیا۔اب ہر گروہ اپنے پاس کی چیز پر خوش ہے۔‘‘

نعمت اللہ
04-01-13, 08:01 AM
سلف صالحین، ائمہ مجتہدین اور تمام اولیاء اللہ کا اس پر اتفاق ہے کہ انبیاء علیہم السلام ان اولیاء سے افضل ہیں جو انبیاء نہ ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے جن سعادت مندوں پر انعام فرمایا ہے۔ ان کے چار مراتب قرار دئیے ہیں چنانچہ فرمایا:
وَمَن يُطِعِ اللَّـهَ وَالرَّسُولَ فَأُولَـٰئِكَ مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّـهُ عَلَيْهِم مِّنَ النَّبِيِّينَ وَالصِّدِّيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ وَالصَّالِحِينَ ۚ وَحَسُنَ أُولَـٰئِكَ رَفِيقًا ﴿٦٩﴾
النساء
’’جو لوگ اللہ اور رسول کی اطاعت کریں وہ ان لوگوں کے ساتھ ہوں گے جن پر اللہ تعالیٰ نے انعام فرمایا یعنی انبیاء، صدیق، شہید اور صالحین اور یہ لوگ کتنے اچھے رفیق ہیں۔‘‘
اور حدیث میں ہے:
ما طلعت الشمس ولا غربت علی احد بعد النبیین والمرسلین افضل من ابی بکر
کہ نبیوںاور رسولوں علیہم السلام کے بعد کسی ایسے شخص پر سورج نہ طلوع ہوا اور نہ غروب جو کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ سے افضل ہو۔
(مجمع الزوائد، ج ۹، ص ۴۴)
اور تمام امتوں سے افضل محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی امت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
کُنْتُمْ خَیْرَ اُمَّۃٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاس۔
آل عمران
’’تم بہترین امت ہو جسے لوگوں کے لیے ظاہر کیا گیا ہے۔‘‘
اور فرمایا:
ثُمَّ اَوْرَثْنَا الْکِتٰبَ الَّذِیْنَ اصْطَفَیْنَا مِنْ عِبَادِنَا ۔
الفاطر
’’پھر ہم نے ان لوگوں کو کتاب کا وارث بنایا جن کا ہم نے انتخاب کیا تھا۔‘‘
مسند (احمد) میں وارد حدیث میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
اَنْتُمْ تُوَفُّوْنَ سَبْعِیْنَ اُمَّۃً اَنْتُمْ خَیْرُھَا وَاَکْرَمُھَا عَلیَ اللہِ۔
(ابن ماجہ کتاب الزھد باب صفۃ امۃ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ، ترمذی کتاب التفسیر تفسیر سورۃ آل عمران، رقم ۳۰۰۱۔)
’’تم ستر (۷۰) امتوں کی گنتی پوری کرنے والے ہو اور ان سب سے بہتر اور اللہ تعالیٰ کے ہاں مکرم بھی ہو۔‘‘
حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں بھی افضل ترین قرنِ اوّل ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے متعدد سندوں کے ساتھ ثابت ہے کہ جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خیر القرون القرن الذی بعثت فیہ ثم الذین یلونہم ثم الذین یلونہم ’’تمام قرون میں سے وہ قرن افضل ہے، جس میں، میں مبعوث ہوا ، پھر وہ لوگ جو اس قرن والوں سے متصل ہیں اور پھر ان کے بعد آنے والے لوگ‘‘ اور یہ حدیث صحیحین میں کئی طرق سے ثابت ہے۔
(بخاری کتاب الشھادات ، باب لایشھد علی شھادۃ جوراذا شھدرقم ۲۔۲۶۵۱۔ و مسلم کتاب الفضائل باب فضائل الصحابہ ثم الذین یلونھم رقم: ۶۴۶۹۔)
صحیحین ہی میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’میرے صحابیوں کو گالی نہ دو کیونکہ مجھے اس ذات کی قسم ہے، جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اگر تم میں سے کوئی آدمی اُحد پہاڑ کے برابر سونا بھی خرچ کر ڈالے تو ان (صحابہ رضی اللہ عنہم ) کے مٹھی بھر یا اس سے بھی آدھے کو نہیں پہنچ سکتا۔‘‘
(بخاری کتاب المناقب باب قول النبی لوکنت متخذاخلیلا ، رقم: ۳۶۷۳، مسلم کتاب الفضائل باب تحریم سب الصحابہ رقم: ۶۴۸۷۔)
مہاجرین و انصار میں سے سابقون الاوّلون تمام صحابہ میں افضل ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
لَا يَسْتَوِي مِنكُم مَّنْ أَنفَقَ مِن قَبْلِ الْفَتْحِ وَقَاتَلَ ۚ أُولَـٰئِكَ أَعْظَمُ دَرَجَةً مِّنَ الَّذِينَ أَنفَقُوا مِن بَعْدُ وَقَاتَلُوا ۚ وَكُلًّا وَعَدَ اللَّـهُ الْحُسْنَىٰ ۚ وَاللَّـهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ ﴿١٠﴾
الحدید
’’تم میں سے جن لوگوں نے فتح سے قبل مال خرچ کیا اور جہاد کیا (اوروں کے) برابر نہیں بلکہ وہ درجے میں ان لوگوں سے بڑے ہیں، جنہوں نے بعد میں مال خرچ کیا اور جہاد کیا اور بھلائی کا وعدہ تو اللہ تعالیٰ نے ان دونوں جماعتوں میں سے ہر ایک کے ساتھ کر رکھا ہے۔‘‘
اور فرمایا:
وَالسّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ مِنَ الْمُہٰجِرِيْنَ وَالْاَنْصَارِ وَالَّذِيْنَ اتَّبَعُوْھُمْ بِـاِحْسَانٍ۰ رَّضِيَ اللہُ عَنْھُمْ وَرَضُوْا عَنْہُ
التوبہ
’’مہاجرین و انصار میں سے جن لوگوں نے سبقت کی (اور سب سے پہلے ایمان لائے) اور جو لوگ نیکی کرنے میں ان کے قدم بقدم چلے، اللہ تعالیٰ ان سے اور وہ اللہ تعالیٰ سے راضی ہوگئے۔‘‘
سابقون الاولون وہ ہیں جنہوں نے فتح سے قبل مال خرچ کیے اور لڑائیاں لڑیں اور فتح سے مراد صلح حدیبیہ ہے کیونکہ وہ مکہ کی فتح کا آغاز ہے۔ اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی:
اِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُّبِيْنًا۱ۙ لِّيَغْفِرَ لَكَ اللہُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْۢبِكَ وَمَا تَاَخَّرَ
الفتح
’’اے پیغمبر! ہم نے تمہیں فتح مبین عطا کی تاکہ اللہ تمہارے اگلے اور پچھلے گناہ معاف کرے۔‘‘
لوگوں نے عرض کی ’’یارسول اللہ! کیا یہ فتح ہے‘‘ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں۔
(ابوداؤد ، کتاب الجہاد باب فیمن اسھم لھم سھم۔ مسند احمد، ج ۳، ص ۴۲۰، دارقطنی حاکم۔)
سابقین اوّلین میں سے بھی خلفاء اربعہ افضل ہیں اور ان چاروں میں ابوبکر افضل ہیں، پھر عمر افضل ہیں، پھر صحابہ رضی اللہ عنہم اور ان کے مخلص تابعین ، ائمہ کرام اور جمہور امت کے ہاں یہی معروف ہے۔ اس کے دلائل بسط و تفصیل کے ساتھ ہم نے اپنی ایک اور کتاب (منہاج اہل السنۃ النبویہ فی نقض کلام الشیعۃ والقدریۃ) میں بیان کر دئیے ہیں۔
الغرض یہ حقیقت تو اہلِ سنت اور اہلِ تشیع کی تمام جماعتوں کے نزدیک مسلم ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد امت کی افضل ترین شخصیت خلفاء ہی میں سے ایک ہے۔ صحابہ رضی اللہ عنہم کے بعد آنے والی کوئی ہستی صحابہ رضی اللہ عنہم سے افضل نہیں ہوسکتی اور اولیاء اللہ میں سے افضل وہی ہے جسے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی لائی ہوئی شریعت کا سب سے زیادہ علم ہو اور اس کی پیروی میں سب سے آگے ہو۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ، رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کے سمجھنے اور اس کی پیروی کرنے میں تمام امت میں سب سے کامل ہیں اور ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ علم و عمل کے لحاظ سے سب سے افضل ہیں لہٰذا وہ اولیاء اللہ میں سے افضل ترین ہیں اس لیے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت تمام امتوں میں سے افضل ہے اور اس میں سے افضل ترین محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ ہیں اور ان میں سے افضل سیدناابوبکر رضی اللہ عنہ ہیں۔

نعمت اللہ
04-01-13, 08:03 AM
ایک غلط روجماعت نے خاتم الانبیاء پر قیاس کرتے ہوئے یہ کہہ دیا کہ خاتم الاولیاء، افضل الاولیاء ہے حالانکہ خاتم الاولیاء کا ذکر تک بھی مشائخ متقدمین میں سے بجز محمد بن علی الحکیم ترمذی کے کسی نے نہیں کیا۔ انہوں نے ایک کتاب تصنیف کی اور اس میں کئی جگہ غلطیاں کی ہیں، پھر متاخرین میں سے ایک گروہ ایسا پیدا ہوا، جس میں سے ہر ایک شخص اس کا مدعی ہوا کہ وہ خاتم الاولیاء ہے۔ ان میں سے بعض کا یہ دعویٰ ہے کہ علم باللہ کے لحاظ سے خاتم الاولیاء ، خاتم الانبیاء سے افضل ہے اور انبیاءعلیہم السلام اس کے ذریعہ علم باللہ حاصل کرتے ہیں۔ جیسا کہ ابنِ عربی، صاحب ’’فتوحات مکیہ‘‘ اور کتاب الفصوص کا خیال ہے اور اس میں انہوں نے شریعت اور عقل کے بھی خلاف کیا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ انبیاء و اولیاء کے بھی یہ کہنا کہ (علم باللہ کے لحاظ سے خاتم الاولیاء ، خاتم الانبیاء سے افضل ہے اور انبیاء خاتم الاولیاء سے علم باللہ حاصل کرتے ہیں) تو ایسے ہی ہے جیسے کہ یوں کہے ’’ان کے نیچے سے چھت گر کر آپڑی۔‘‘ تو یہی کہا جاسکتا ہے کہ نہ عقل نہ قرآن۔(یعنی ایسا کہنا قرآن سے بھی مطابقت نہیں رکھتا جس میں ہے: خرعلیہم السقف من فوقہم۔ ان پر اوپر سے چھت آگری اور عقل کے بھی خلاف ہے۔ اس لئے کہ چھت اوپر ہوتی ہے۔ اسی طرح ان لوگوںکا یہ کہنا کہ کوئی ولی خاتم الانبیاء سے بھی افضل ہو سکتا ہے، عقل اور قرآن دونوں کے خلاف ہے)۔

نعمت اللہ
04-01-13, 08:07 AM
اس لیے کہ اپنے اپنے زمانہ کے انبیاء علیہم الصلوٰۃوالسلام بھی اس امت کے اولیاء سے افضل ہیں اور یہ کس طرح ممکن ہے کہ تمام انبیاء اور اولیاء اس شخص سے علم باللہ حاصل کریں جو اِن کے بعد آنے والا ہو اور خاتم اولیاء ہونے کا مدعی ہو اور یہ بھی نہیں کہ جو ولی تمام اولیاء کے بعد میں آئے وہ تمام اولیاءسے بھی افضل ہو جیسا کہ آخری نبی ان تمام سے افضل ہے اس لئے کہ آخری نبی کا افضل ہونا تو نصوص سے ثابت ہے، چنانچہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے:
اَنَا سَیِّدُ وُلْدِ اٰدَمَ وَلاَ فَخْرَ
’’میں اولاد آدم کا سردار ہوں اور یہ کہنا بطور فخر نہیں۔‘‘
(بخاری کتاب الانبیاء باب ولقد ارسلنا نوحا الی قومہ مسلم کتاب الایمان باب ادنی اہل الجنۃ منزلۃ فیہا۔ ترمذی کتاب المناقب باب سلوا اللہ لی الوسیلۃ ۔ رقم: ۳۶۱۵… مسند احمد ، ج ۲، ص ۴۳۰، ۴۳۵۔)
نیز جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ میں جنت کے دروازے کے پاس آئوں گا اور اس کے کھولنے کا مطالبہ کروں گا۔ خازن کہے گا۔ ’’آپ کون ہیں؟‘‘ میں کہوں گا ’’محمد!‘‘ تو خازن کہے گا کہ ’’مجھے یہی حکم دیا گیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے کسی کے لیے دروازہ نہ کھولوں۔‘‘
شب ِ معراج کو اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا درجہ تمام انبیاء علیہم السلام سے بلند کر دیا
(صحیح مسلم، کتاب الایمان باب فی قول النبی انا اول الناس رقم الحدیث ۴۸۶۔)
تِلْکَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَھُمْ عَلٰی بَعْضٍ مِنْھُمْ مَّنْ کَلَّمَ اللہُ وَ رَفَعَ بَعْضَھُمْ دَرَجٰتٍ ۔‘
البقرہ
’’ہم نے بعض انبیاء کو بعض پرفضیلت دی ہے۔ ان میں سے بعض کے ساتھ اللہ تعالیٰ کلام فرماتے ہیں اور بعض کے درجے بلند ہیں۔‘
اس آیت کے سب سے زیادہ مستحق جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔

نعمت اللہ
04-01-13, 08:24 AM
اس کے علاوہ اور بہت سے دلائل ہیں سب انبیاء کے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی آتی تھی اور خصوصاً محمد صلی اللہ علیہ وسلم وہ اپنی نبوت میں کسی اور کے محتاج نہیں، ان کی شریعت کسی سابق و لاحق کی محتاج نہیں۔ بخلاف دوسروں کے۔ چنانچہ مسیح علیہ السلام نے اپنی شریعت میں اکثر تورات کا حوالہ دیا ہے اور وہ خود صرف شریعت ِ موسوی کی تکمیل کے لیے آئے تھے۔ چنانچہ نصاریٰ مسیح علیہ السلام سے پہلے کی نبوتوں تورات و زبور اور چوبیس کے چوبیس نبیوں کے محتاج تھے۔ ہم سے پہلی امتیں محدّثین و ملہمین کی محتاج ہوتی تھیں لیکن امت ِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے اس سے مستغنی کر دیا ہے۔ ان کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نہ کسی نبی کی ضرورت باقی ہے اور نہ کسی محدّث کی بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات میں اللہ تعالیٰ نے وہ تمام فضائل و معارف اور اعمالِ صالحہ جو کہ دیگر انبیاء میں متفرق طور پر موجود تھے جمع کر دئیے ہیں۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جو فضیلت بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا ہوئی ہے، تو اس کاسبب آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وہ کرم ہے جو اس نے ان پر احکام و شریعت نازل کر کے فرمایا اور جو کچھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بھیجا (اور) یہ سب کچھ کسی بشر کی وساطت سے نہیں ہوا۔
بخلاف اولیاء کے جن کو اگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت پہنچ چکی ہو تو وہ صرف جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اتباع سے ولی اللہ بن سکتے ہیں اور ان کو ہدایت اور دین حق حاصل ہوگاتو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وساطت سے حاصل ہوگا۔ علیٰ ہذا القیاس جس شخص کو کسی رسول کی رسالت بھی پہنچی ہو۔ وہ اس رسول کے اتباع کے بغیر ولی نہیں بن سکتا اور جو یہ دعویٰ کرے کہ بعض اولیاء ایسے بھی ہیں، جن کو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت پہنچی ہے لیکن اللہ تعالیٰ کی طرف جانے کے بعض رستے ان کے پاس ایسے ہیں۔ جن میں وہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے محتاج نہیں ہیں، وہ شخص کافر اور بے دین ہے۔

نعمت اللہ
04-01-13, 08:27 AM
اور جو شخص یہ کہے کہ میں علمِ ظاہر میں تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا محتاج ہوں لیکن علمِ باطن میں نہیں ہوں۔ علمِ شریعت میں محتاجہوں اور علمِ حقیقت میں ان سے مستغنی ہوں۔ وہ شخص ان یہود و نصاریٰ سے بدتر ہے جو یہ کہتے ہیں کہ محمد( صلی اللہ علیہ وسلم ) ناخواندہ لوگوں کی طرف رسول بنا کر بھیجے گئے ہیں نہ کہ اہلِ کتاب کی طرف اس لئے کہ یہود و نصاریٰ، رسالت کے ایک حصہ پر ایمان لائے اور ایک سے انکار کیا، اس وجہ سے کافر قرار پائے، اسی طرح یہ شخص جو کہتا ہے کہ محمد( صلی اللہ علیہ وسلم )علم ظاہر کے ساتھ مبعوث ہوئے ہیں نہ کہ علم باطن کے ساتھ، ایک حصہ پر ایمان لاتا ہے اور دوسرے سے انکار کرتا ہے۔ اس وجہ سے کافر ہے اور یہ شخص یہود ونصاریٰ سے بدتر کافر ہے، اس وجہ سے کہ علمِ باطن دلوں کے ایمان اور دلوں کے معارف و احوال کا علم ۔ ایمان کے حقائق باطنہ کا علم ہے اور یہ اسلام کے صرف ظاہری اعمال کے علم سے اشرف و افضل ہے تو جب یہ شخص یہ دعویٰ کرتا ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ان ظاہری امور سے و اقف ہیں نہ کہ حقائق ایمان سے اور وہ ان حقائق کو کتاب و سنت سے اخذ نہیں کرتا۔ وہ اس امر کا دعویدار ہے کہ جو حصہ اسے رسول کی وساطت سے حاصل ہوا ہے، وہ دوسرے حصے سے کمتر ہے اور یہ اس شخص سے بدتر ہے جو کہتا ہے کہ ’’میں بعض پر ایمان لاتا ہوں اور بعض کا انکار کرتا ہوں۔‘‘ لیکن یہ دعویٰ نہیں کرتا کہ جس حصہ پر میں ایمان لاتا ہوں۔ وہ دونوں حصوں میں سے کمتر حصہ ہے جب کہ ان ملاحدہ کا یہ دعویٰ ہے کہ ولایت نبوت سے افضل ہے۔ لوگوں کو دھوکہ دیتے ہیں اور کہتے ہیں: محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ولایت ان کی نبوت سے افضل ہے اور یہ شعر پڑھتے۔
مَقَامُ النَّبُوَّۃِ فِی بَرْزَخِ
فُوَیْقَ الرَّسُوْلِ وَدُوْنَ الْوَلِیِ
’’اور مقام نبوت درمیان ’’برزخ‘‘ میں ہے رسول سے کچھ بلند تر اور ولی سے کم۔‘‘

نعمت اللہ
04-01-13, 08:28 AM
اور یہ کہتے ہیں کہ ہم محمد( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی ولایت میں جو کہ ان کی رسالت سے بزرگ تر ہے شریک ہیں حالانکہ ان لوگوں کا یہ دعویٰ ان کی عظیم ترین گمراہی پر مبنی ہے کیونکہ ولایت میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے مثیل ابراہیم اور موسیٰ علیہم السلام تک نہ ہوسکے۔ چہ جائیے کہ یہ ملحد ولایت میں ان کے مثیل ہوں۔ ہر رسول نبی اور ہر نبی ولی ہوتا ہے۔ پس رسول نبی بھی ہوتا ہے اور ولی بھی۔ رسالت میں نبوت اور نبوت میں ولایت شامل ہوتی ہے۔ پس یہ کس طرح ممکن ہے کہ رسول کی ولایت جو اس کی نبوت کے ضمن میں داخل ہے، اس کی ولایت پر مشتمل نبوت سے افضل ہو۔ اگر وہ فرض کریں کہ رسول کو صرف نبی بنایا گیا ہے، ولی نہیں بنایا گیا تو یہ فرض محال ہے کیونکہ نبی ہونے کی صورت میں ممکن نہیں کہ ولی اللہ نہ ہو۔ رسول کی نبوت اس کی ولایت سے خالی نہیں ہوتی اور اگر یہ فرض کر لیا جائے کہ وہ خالی ہے تو بھی کوئی شخص رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ولایت میں اس کا مثیل نہیں ہوسکتا۔

نعمت اللہ
04-01-13, 08:31 AM
صاحب الفصوص ابنِ عربی کی طرح ان لوگوں کا بھی یہی قول ہے کہ وہ اسی کان سے حاصل کرتے ہیں جس سے وہ فرشتہ حاصل کرتا ہے جس کے ذریعہ رسول کی طرف وحی ہوتی ہے۔اس لیے کہ انہوں نے بے دین فلسفیوں کا عقیدہ اختیار کیا، پھر اس عقیدے کو مکاشفہ کے قالب میں ڈھال کر پیش کیا۔
چنانچہ اہل فلسفہ کا عقیدہ ہے کہ افلاک قدیم اور ازلی ہیں۔ ان کی ایک علت ہے جو ان سے مشابہت رکھتی ہے جیسا کہ ارسطو اور اس کے پیروئوں کا قول ہے یا ان کا کوئی موجب بذاتہٖ ہے جیسا کہ ان کے اخلاف ابن سینا اور اس جیسے فلاسفہ کا خیال ہے۔ یہ لوگ پروردگارِ عالم (جل شانہ، و عزاسمہ) کے متعلق یہ عقیدہ نہیں رکھتے کہ اس نے آسمانوں اور زمینوں کو چھ دن میں پیدا کیا اور نہ ان کا یہ عقیدہ ہے کہ اس نے اشیاء کو اپنی مشیئت و قدرت سے پیدا کیا ہے۔ وہ اس کے بھی قائل نہیں ہیں کہ اللہ تعالیٰ کو جزئیات کا علم ہے بلکہ وہ یا تو ارسطو کی طرح مطلقاً اس کے علم ہی کے منکر ہیں یا یہ کہتے ہیں کہ وہ امورِ متغیرہ میں سے صرف کلیات کا علم رکھتا ہے۔ جیسا کہ ابنِ سینا کا قول ہے اور یہ قول بھی حقیقت میں اللہ تعالیٰ کے علم سے انکار کے مترادف ہے۔ کیونکہ جو چیز بھی خارج میں موجود ہے۔ وہ معین جزئی ہے۔ افلاک میں سے ہر ایک معین جزئی ہے۔ یہی حال تمام اعیان اور ان کے افعال و صفات کا ہے۔ پس جسے کلیات کے سوا کسی چیز کا علم نہ ہو، اس کو حقیقت میں موجودات کا کچھ بھی علم نہیں ہوسکتا۔ کلیات کا وجود تو صرف ذہنوں میں ہوتا ہے، ان کی کوئی معین صورت نہیں ہوتی۔ اس طرح کے فلسفیوں کے متعلق تفصیل کے ساتھ گفتگو دوسرے مقام پر ’’درء تعارض العقل والنقل‘‘ اور دیگر کتابوں میں، کی جاچکی ہے۔ ان لوگوں کا کفر یہود و نصاریٰ کے کفر سے بڑھ کر ہے بلکہ یہ تو مشرکینِ عرب سے بھی بدتر ہیں کیونکہ وہ تمام لوگ یہ کہتے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمینوں کو پیدا کیا ہے۔ نیز وہ مانتے تھے کہ اس نے مخلوقات کو مشیئت و قدرت سے پیدا کیا۔ ارسطو اور اس کی طرح کے یونانی فلسفی ستاروں اور بتوں کو پوجتے تھے۔ فرشتوں اور پیغمبروں سے ناآشنا تھے۔ چنانچہ ارسطو کی کتابوں میں اس کا کوئی تذکرہ موجود نہیں ہے۔ ان لوگوں کا علم زیادہ تر ’’طبیعیات‘‘ میں ہے۔ ’’الٰہیات‘‘ میں جب وہ قدم رکھتے ہیں تو زیادہ غلطی کرتے ہیں اور کم کم درستی کی طرف آتے ہیں۔ ان کے مقابلے میں یہود و نصاریٰ نسخ و تبدیل کے بعد بھی ان کی بہ نسبت علومِ الٰہیات سے بہت زیادہ واقفیت رکھتے ہیں۔

نعمت اللہ
04-01-13, 08:32 AM
لیکن ابن سینا کی طرح متاخرین اہلِ فلسفہ نے ان قدیم فلسفیوں اور پیغمبروں کی تعلیمات کو باہم ملا کر ایک معجون سا بنا دینا چاہا۔ان لوگوں نے کچھ اصول جہمیہ کے اور کچھ معتزلہ کے لے لیے اور ایک ایسا مذہب تیار کیا، جس سے اہلِ مذاہب کے فلسفی خود کو کسی حد تک منسوب کرتے ہیں۔ اس مذہب کی خرابیوں اور تناقضات کا ذکر ایک حد تک ہم نے کسی دوسری جگہ پر کر دیا ہے۔ ان لوگوں نے جب دیکھا کہ سیدناموسیٰ علیہ السلام ، سیدناعیسیٰ علیہ السلام اور جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت چھارہی ہے۔ ساری دنیا میں ان کی تعلیم کو غلبہ حاصل ہورہا ہے۔ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مشن ان تمام مشنوں پر فوقیت حاصل کرچکاہے۔ جنہوں نے معمورۂ عالم میں گونج پیدا کی ہے اور جب انہوں نے دیکھا کہ انبیاء ملائکہ اور جنوں کا ذکر بھی کرتے ہیں تو انہوں نے اس تعلیم اور اپنے ان یونانی اسلاف کی تعلیم کو جمع کر دینا چاہا جو اللہ تعالیٰ کے اس کے فرشتوں، کتابوں، اس کے پیغمبروں اور یومِ آخرت کے متعلق علم سے اس درجہ دور ہیں کہ ان کی بے علمی کی نظیر ساری مخلوقات میں اور کہیں نہیں ملتی ۔ ان لوگوں نے دس عقول ثابت کرنے کی کوشش کی جن کا نام انہوں نے مجردّات اور مفارقات رکھا۔ اس کی اصل بدن اور روح کی جدائی ہے۔ انہوں نے ان مفارقات کا یہ نام اس لیے قرار دیا کہ وہ مادہ سے جدا اور اس سے خالی (متجرد) ہیں۔ انہوں نے ہر فلک کے لیے روح بھی ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔ اکثر فلسفی افلاک کو اعراض قرار دیتے ہیں اور بعض ان کو جواہر کہتے ہیں۔ یہ مجردات جن کو ثابت کرنے کے لیے ان لوگوں نے ایڑی چوٹی کا زور لگایا ہے۔ ازروئے تحقیق محض ذہنی چیزیں ہیں۔ جن کا کوئی معین وجود نہیں ہے۔ جیسا کہ ارسطو کے پیروئوں نے مجرد اعداد کو ثابت کرنے کی کوشش کی اور جس طرح اصحاب افلاطون نے بھی مثل افلاطونیہ مجردہ کو ثابت کیا ہے اور جیسا کہ انہوں نے صورت سےمجرد ھیولیٰ ثابت کیا ہے اور مادہ مجرد اور خلاء مجرد کو ثابت کیا ہے۔ ان میں جو بھی حاذق فلسفی تھے۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ ان چیزوں کا وجود ذہنی اور خیالی ہے، خارج میں کوئی وجود نہیں ہے۔

نعمت اللہ
04-01-13, 08:40 AM
تو جب ابن سینا جیسے متاخرین فلاسفہ نے نبوت کو اپنے فاسد اصول کے مطابق ثابت کرنا چاہا تو یہ خیال کیا کہ نبوت کے تین خصائص ہیں، جو شخص ان تین خصائص سے متصف ہوگا۔ وہ نبی ہوگا۔
ایک یہ کہ اس میں قوت علمی ہو، جسے وہ قوت قدسی کہتے ہیں۔ اس کے ذریعے سے وہ بغیر سیکھے، علم حاصل کر سکے۔
دوسرے اس میں قوت تخییلی ہو کہ جو کچھ وہ اپنے دل میں سمجھے اس کو تخیل کے قالب میں اس طرح ڈھالے کہ اس کو اپنے دل میں اس طریق پرصورتیں نظر آئیں اور آوازیں سنائی دیں جیسے کوئی خواب کی حالت میں دیکھتا اور سنتا ہے حالانکہ اس کا خارج میں کوئی وجود نہیں ہوتا۔
ان لوگوں کا خیال ہے کہ یہی صورتیں اللہ کے فرشتے ہیں اور یہ آوازیں اللہ تعالیٰ کا کلام ہے۔
تیسرے یہ کہ اس شخص میں قوت فعالہ ہو۔ جس سے وہ ہیولیٰ عالم میں تاثیر پیداکرے۔ یہ لوگ انبیاءعلیہم السلام کے معجزات، اولیاء کی کراما ت اور جادوگروں کے خرقِ عادات کو نفسانی قوتوں کا اثر قرار دیتے ہیں اور ان میں سے جو کچھ ان کے اصول کے موافق ہو، اس کا اقرار کر لیتے ہیں مثلاً عصائے موسوی کا اژدھابن جانا، بخلاف چاندکے دو نیم ہوجانے اور اسی قسم کے دیگر معجزات کے کہ وہ ان کے وجود کا انکار کرتے ہیں۔
ایسے لوگوں کے متعلق ہم کئی جگہ پر تفصیل کے ساتھ کلام کرچکے ہیں اور بیان کرچکے ہیں کہ ان کا یہ کلام فاسد ترین کلام ہے اور جو خصائص ان لوگوں نے نبوت کے لیے قرار دئیے ہیں۔ اس سے بڑے خصائص عام لوگوں کو اور انبیاء کے کمترین پیروئوں کو بھی حاصل ہوسکتے ہیں اور جن فرشتوں کے متعلق انبیاء نے خبر دی ہے۔ وہ زندہ ہیں۔ باتیں کرتے ہیں اللہ کی مخلوقات میں عظیم ترین ہیں اور کثیرالتعداد ہیں۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرما دیا ہے:
وَمَا یَعْلَمُ جُنُوْدَ رَبِّکَ اِلَّا ہُوَ ۔
المدثر: ۷۴؍۳۱)
’’اور تیرے پروردگار کی فوجوں کو اس کے سوا کوئی نہیں جانتا۔‘‘
وہ صرف دس نہیں ہیں اور نہ اعراض ہیں۔ خاص طور پر ان لوگوں کا یہ دعویٰ تو بالکل باطل ہے کہ صادرِ اوّل، عقلِ اوّل ہے اور اسی سے وہ سب کچھ نکلا ہے جو کہ اس کے سوا ہے۔ ان لوگوں کے نزدیک یہی عقل اوّل اللہ کے سوا سب کی پروردگار ہے۔ اسی طرح ہر ایک عقل اپنے ماتحت کی پروردگار ہے اور دسویں عقل فعال ان سب چیزوں کی پروردگار ہے جو کہ چاند والے آسمان کے نیچے ہیں۔ ان سب باتوں کی خرابیاں عیاں ہے اور رسولوں کے لائے ہوئے دینِ حق سے ان عقائد کا بُعد و انحراف کھلی ہوئی حقیقت ہے۔ حقیقت میں کوئی فرشتہ بھی اللہ کے ماسوا پیدا کرنے والا نہیں ہے۔ یہ لوگ اس بات کا دعویٰ کرتے ہیں کہ اس عقل اول اور اس کا ذکر اس حدیث میں ہے:
اِنَّ اَوَّلَ مَا خَلَقَ اللہُ الْعَقْلُ فَقَالَ لَہ اَقْبِلْ فَاَقْبَلَ فَقَالَ لَہ اَدْبِرْ فَاَدْبَرَ فَقَالَ وَعِزَّتِیْ مَا خَلَقْتُ خَلْقًا اَکْرَمَ عَلَیَّ مِنْکَ فَبِکَ اٰخُذُ وَبِکَ اُعْطِیْ وَلَکَ الثَّوَابُ وَعَلَیْکَ الْعِقَاب۔
(موضوعات لابن الجوزی۔)
’’سب سے پہلے اللہ تعالیٰ نے عقل کو پیدا کیا اور اس سے فرمایا کہ سامنے آ تو وہ سامنے آگئی تو پھر اس سے فرمایا کہ پیچھے جا تو پیچھے چلی گئی تو اس پر فرمایا مجھے اپنی عزت کی قسم ہے کہ تو مجھے اپنی تمام مخلوقات سے زیادہ عزیز ہے۔ تیری وجہ سے مواخذہ کروں گا اور تیری وجہ سے عطا کروں گا، تیرے لئے ثواب ہے اور تمہیں پر عذاب۔‘‘
اس عقل کو قلم بھی کہتے ہیں کیونکہ ایک روایت یہ بھی ہے:
اِنَّ اَوَّلَ مَا خَلَقَ اللہُ الْقَلَمُ۔
’’سب سے اول اللہ تعالیٰ نے قلم کو پیدا کیا۔‘‘
(ابوداؤد کتاب السنۃ باب القدر رقم: ۴۷۰۰، ترمذی کتاب القدر باب اعظام امرالایمان رقم: ۲۱۵۵، مسند احمد ج ۵، ص ۳۱۷۔)
یہ ترمذی کی روایت ہے۔ اور عقل کے متعلق ان کی ذکر کردہ حدیث پہچان رکھنے و الوں کے نزدیک موضوع ہے جیسا کہ ابوحاتم بستی، ابوالحسن دارقطنی اور ابن جوزی وغیرہ نے ذکر کیا ہے اور یہ حدیث کی کسی معتبر کتاب میں موجود نہیں ہے۔ اس کے باوجود اگر یہ حدیث ثابت بھی ہوجاتی جب بھی اس کے الفاظ خود انہی کے خلاف دلیل ہیں کیونکہ اس کے الفاظ یہ ہیں:
اَوَّلُ مَا خَلَقَ اللہُ الْعَقْلَ قَالَ لَہ اور یوں بھی روایت کیا ہے۔ لَمَّا خَلَقَ اللہُ الْعَقْلَ قَالَ لَہ پس حدیث کا معنی یہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے عقل کو پیدا کرنے کی ابتدائی ساعات ہی میں اس سے خطاب فرمایا۔ اس حدیث کے یہ معنی نہیں ہیں کہ عقل سب سے پہلی مخلوق ہے۔ لفظ اول ظرف ہونے کی وجہ سے منصوب ہے۔ جیسا کہ روایت ِ ثانیہ کا لفظ لمّا ہے اور پوری حدیث پر غور کیا جائے تو معنی اور بھی واضح ہوجاتے ہیں۔
مَا خَلَقْتُ خَلْقًا اَکْرَمَ عَلَیَّ مِنْکَ۔
’’میں نے کوئی ایسی چیز پیدا نہیں کی جو مجھے تجھ سے زیادہ عزیز ہو۔‘‘
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس سے پہلے بھی کچھ چیزیں پیدا کی تھیں، پھر فرمایا:
فَبِکَ اٰخُدُ وَبِکَ اُعْطِیْ وَلَکَ الثَّوَابُ وَعَلَیْکَ الْعِقَابُ
’’تیری بنیاد پر مواخذہ کروں گا اور تیری وجہ سے عطا کروں گا، تیرے لئے ہی ثواب ہے اور تمہیں پر عذاب ہے‘‘۔
تو یہاں اعراض کے چار انواع بیان کیے حالانکہ ان فلسفیوں کی یہ رائے ہے کہ عالمِ علوی و عالمِ سفلی کے تمام جواہر عقل سے صادر ہوئے ہیں، تو ان کا باہمی ربط کیا ہوا؟
ببیں تفاوت راہ از کجا است تابہ کُجا!

نعمت اللہ
04-01-13, 08:44 AM
متاخرین اہلِ فلسفہ نے یہ ٹھوکر اس وجہ سے کھائی کہ لفظ عقل کا مفہوم اہلِ اسلام کی زبان میں اور تھا اور یونانی فلسفیوں کی زبان میں کچھ اور۔ مسلمانوں کی زبان میں لفظ عقل {عَقَلَ یَعْقِلُ عَقْلًا} کا مصدر ہے۔ جیسا کہ قرآن کریم میں ہے:
وَقَالُوْا لَوْ كُنَّا نَسْمَعُ اَوْ نَعْقِلُ مَا كُنَّا فِيْٓ اَصْحٰبِ السَّعِيْرِ۱۰
الملک
’’اگر ہم سنتے یا عقل سے کام لیتے تو اہل دوزخ میں سے نہ ہوتے۔‘‘
اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّقَوْمٍ يَّعْقِلُوْنَ
النحل
’’اس امر میں عقل والوں کے لیے نشانیاں ہیں۔‘‘
اَفَلَمْ يَسِيْرُوْا فِي الْاَرْضِ فَتَكُوْنَ لَہُمْ قُلُوْبٌ يَّعْقِلُوْنَ بِہَآ اَوْ اٰذَانٌ يَّسْمَعُوْنَ بِہَا۰ۚ
الحج
’’کیا وہ زمین میں سیر نہیں کرتے کہ ان کے دل ہوں، جن کے ذریعہ وہ سمجھیں اور کان ہوں جن سے وہ سنیں۔‘‘
اور عقل سے مراد وہ قوت غزیری بھی ہے جو کہ اللہ تعالیٰ نے انسان میں رکھی ہے تاکہ وہ اس کے ذریعے سے سمجھے اور فلسفیوں کے نزدیک عقل عاقل کی مانند ایک جوہر ہے جو بنفسہ قائم ہے اور یہ خیال پیغمبروں اور قرآن کی زبان کے مطابق نہیں ہے۔ عالمِ خلق بھی ان کے نزدیک جیسا کہ ابوحامد نے ذکر کیا ہے۔ عالم اجسام ہے اور عقل اور نفوس کو وہ عالم الامر سے تعبیر کرتا ہے اور کبھی عقل کو عالمِ جبروت اور نفوس کو عالمِ ملکوت سے موسوم کیا جاتا ہے اور اجسام کو عالمِ الملک سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ ان حالات میں وہ شخص جو پیغمبروں کی زبان سے واقف نہ ہو۔ کتاب و سنت کے معنی نہ جانتا ہو۔ وہ یہ گمان کر بیٹھتا ہے کہ کتاب و سنت میں ملک ملکوت اور جبروت کا جو ذکر آیا ہے اس کا مفہوم وہی ہے، جو یونان کے فلسفیوں کی زبان میں ہے۔ حالانکہ نفس الامر میں ایسا نہیں ہے۔
اسی طرح یہ لوگ اہل اسلام کے ساتھ تلبیس اور دھوکہ کرتے ہیں مثلاً کہتے ہیں کہ فلک محدث یعنی معلول ہے حالانکہ وہ اسے قدیم بھی مانتے ہیں اور محدث وہی ہوتا ہے، جو پیدا ہونے سے پہلے معدوم رہ چکا ہو۔ عرب کی زبان اور کسی اور زبان میں قدیم ازلی کو محدث سے موسوم نہیں کیا گیا۔ اللہ تعالیٰ نے خبر دی ہے کہ وہ ہر چیز کا خالق ہے اور ہر مخلوق محدث ہے اور ہر محدث عدم سے وجود میں آیا ہے۔ ان لوگوں کے ساتھ اہلِ کلام یعنی جہمیہ و معتزلہ نے ناتمام سا مناظرہ کیا ہے، جس میں نہ تو انہوں نے پیغمبر کی بتائی ہوئی بات کا تعارف کروایا اور نہ قضا یا عقلیہ کو ثابت کر سکے۔ سو نہ تو وہ اسلام کے لیے باعث ِ نصرت ہوئے اور نہ دشمنوں کو شکست دے سکے بلکہ بعض فاسد آراء میں وہ فلسفیوں کے ہم نوا ہوگئے اور معقولات میں سے بعض درست باتوں میں ان سے اختلاف کرتے رہے، سو ان جہمیہ اور معتزلہ کا عقلی و نقلی علوم میں کوتا دست ہونا، اہلِ فلسفہ کی گمراہی کی تقویت کا سبب بن گیا۔ جیسا کہ کسی دوسرے مقام پر تفصیل کے ساتھ بیان کیا جاچکا ہے۔

نعمت اللہ
04-01-13, 08:46 AM
فلسفہ و حکمت کے یہ مدعی کبھی یہ عقیدہ ظاہر کرتے ہیں کہ جبریل محض ایک خیال ہے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نفس میں شکل اختیار کر لیتا ہے اور خیال عقل کے تابع ہوتا ہے۔ پھر ان ملحد فلسفیوں کے بھائی وال ملحد صوفی آئے اور یہ دعویٰ کرنے لگے کہ ہم اولیاء اللہ ہیں اور اولیاء اللہ انبیا سے افضل ہیں اور وہ بلاواسطہ اللہ تعالیٰ سے علم حاصل کرتے ہیں جیسا کہ ابنِ عربی صاحب ِ ’’فتوحات‘‘ و ’’فصوص‘‘، اس کا کہنا ہے کہ وہ اسی کان سے دولت ِ علم حاصل کرتا ہے، جس سے وہ فرشتہ حاصل کرتا ہے ، جو رسول کی طرف وحی لاتا ہے اس کی رائے میں کان سے مراد عقل اور فرشتہ سے مراد خیال ہے اور خیال عقل کے تابع ہے اور وہ بزعمِ خود اس سے علم حاصل کرتا ہے، جو خیال کی بھی اصل ہے اور خود رسول خیال سے علم حاصل کرتا ہے۔ اس لیے وہ اپنے آپ میں نبی پر فائق بن جاتا ہے، اگر نبی کے خواص وہ ہوں جو کہ انہوں نے ذکر کیے ہیں تو وہ ولی سے افضل ہونا تو درکنار اس کا ہم جنس بھی نہیں ہوسکتاتو یہ کیسے ممکن ہے؟ جبکہ یہ خواص تو عام مسلمانوں کو بھی حاصل ہو سکتے ہیں۔
اور (امرِ واقعہ یہ ہے کہ) نبوت اس سے برتر حقیقت ہے۔ اس لئے ابنِ عربی اور اس کی طرح کے لوگ اگرچہ مدعی تو اس امر کے ہیں کہ وہ صوفی ہیں لیکن حقیقت میں وہ ملحد فلسفی صوفی ہیں۔ وہ اہلِ علم کلام صوفی نہیں ہیں چہ جائیکہ وہ ان مشائخ میں سے ہوں جو کتاب و سنت کے پابند ہیں جیسے فضیل ابن عیاض، ابراہیم ابن ادھم، ابوسلیمان دارانی، معروف کرخی۔ جنید بن محمد اور سہل بن عبداللہ تستری(اور ان کی طرح کے مشائخ اہلِ حق ) رضوان اللہ علیہم اجمعین ۔

نعمت اللہ
04-01-13, 08:51 AM
اللہ تعالیٰ نے قرآنِ کریم میں فرشتوں کی جو صفات بیان فرمائی ہیں۔ وہ بھی ان لوگوں کے قول کے بالکل برعکس ہیں۔ مثلاً اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:
وَقَالُوا اتَّخَذَ الرَّحْمَـٰنُ وَلَدًا ۗ سُبْحَانَهُ ۚ بَلْ عِبَادٌ مُّكْرَمُونَ ﴿٢٦﴾ لَا يَسْبِقُونَهُ بِالْقَوْلِ وَهُم بِأَمْرِهِ يَعْمَلُونَ ﴿٢٧﴾ يَعْلَمُ مَا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ وَلَا يَشْفَعُونَ إِلَّا لِمَنِ ارْتَضَىٰ وَهُم مِّنْ خَشْيَتِهِ مُشْفِقُونَ ﴿٢٨﴾
سورہ الانبیاء
’’کہتے ہیں کہ اللہ کی اولاد بھی ہے حالانکہ اللہ تعالیٰ اس سے پاک ہے جن کو وہ اولاد سمجھتے ہیں، وہ اولاد نہیں بلکہ باعزت بندے ہیں، اللہ تعالیٰ کے فرمان سے تجاوز نہیں کرتے اور اسی کے حکم کے تحت کام کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ وہ سب کچھ جانتا ہے جو ان کے روبرو ہے اور جو ان سے پہلے ہوا ہے اور اسی کی سفارش کرتے ہیں، جس کے لیے سفارش اللہ تعالیٰ کو منظور ہو اور وہ اس کے ڈر سے دبکے رہتے ہیں۔‘‘
پھر فرمایا:
وَمَنْ يَّقُلْ مِنْہُمْ اِنِّىْٓ اِلٰہٌ مِّنْ دُوْنِہ فَذٰلِكَ نَجْزِيْہِ جَہَنَّمَ ۭ كَذٰلِكَ نَجْزِي الظّٰلِــمِيْنَ
انبیاء
’’اور ان میں سے جو یہ کہہ دے کہ میں اس کے علاوہ معبود ہوں، اسے ہم جہنم کی سزا دیتے ہیں اور اسی طرح ہم ظالموں کو ان کے اعمال کا بدلہ دیا کرتے ہیں۔‘‘
نیز فرمایا:
وَكَمْ مِّنْ مَّلَكٍ فِي السَّمٰوٰتِ لَا تُغْـنِيْ شَفَاعَتُہُمْ شَـيْــــًٔــا اِلَّا مِنْۢ بَعْدِ اَنْ يَّاْذَنَ اللہُ لِمَنْ يَّشَاۗءُ وَيَرْضٰى
النجم
’’آسمانوں میں کتنے فرشتے ہیں جن میں سے کسی کی سفارش اس وقت تک کارگر نہیں ہوسکتی جب تک اللہ تعالیٰ جس کے لیے چاہے اور پسند کرے سفارش کی اجازت نہ دے۔‘‘
اور فرمایا:
قُلِ ادْعُوا الَّذِينَ زَعَمْتُم مِّن دُونِ اللَّـهِ ۖ لَا يَمْلِكُونَ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ فِي السَّمَاوَاتِ وَلَا فِي الْأَرْضِ وَمَا لَهُمْ فِيهِمَا مِن شِرْكٍ وَمَا لَهُ مِنْهُم مِّن ظَهِيرٍ ﴿٢٢﴾
وَلَا تَنفَعُ الشَّفَاعَةُ عِندَهُ إِلَّا لِمَنْ أَذِنَ لَهُ ۚ ﴿٢٣﴾
سبا
’’کہو کہ جن لوگوں کو تم اللہ کے سوا کچھ سمجھتے ہو، ان کو بلائو ان کو آسمانوں اور زمینوں میں ذرہ بھر اختیار حاصل نہیں ہے، نہ تو ان دونوں میں ان کا کچھ ساجھا ہے اور نہ ان کی تخلیق میں وہ اللہ کے مددگار ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں کوئی سفارش سودمند نہیں ہوگی مگر جس کے لیے وہ خود اجازت دے۔‘‘

نعمت اللہ
04-01-13, 09:09 AM
اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:
وَلَهُ مَن فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۚ وَمَنْ عِندَهُ لَا يَسْتَكْبِرُونَ عَنْ عِبَادَتِهِ وَلَا يَسْتَحْسِرُونَ ﴿١٩﴾ يُسَبِّحُونَ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ لَا يَفْتُرُونَ ﴿٢٠﴾
الانبیاء
’’آسمانوں اور زمینوں میں جو کوئی ہے سب اُسی کے (مملوک) ہیں اور جو فرشتے اس کے پاس ہیں، اس کی عبادت سے نہ تو ازراہِ تکبر منہ موڑتے ہیں اور نہ تھکتے ہیں، دن رات تسبیحیں کہتے رہتے ہیں اور ذرا سست نہیں پڑتے۔‘‘
اللہ تعالیٰ نے خبر دی ہے کہ فرشتے ابراہیم علیہ السلام کے پاس انسانی صورت میں آئے اور فرشتہ مریم [ کے سامنے کامل الخلقت بشر کی صورت میں سامنے ہوا اور جبریل علیہ السلام نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے دحیہ کلبی کی صورت میں اور اعرابی کی صورت میں ظاہر ہوا کرتے تھے۔ لوگوں کو بھی ایسا ہی دکھائی دیتا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے جبریل علیہ السلام کی یہ صفت بیان کی ہے کہ:
ذِيْ قُوَّۃٍعِنْدَذِي الْعَرْشِ مَكِيْنٍ۲۰ۙ مُّطَاعٍ ثَمَّ اَمِيْنٍ۲۱ۭ
التکویر
وہ صاحب قوت ہے اور ربِ عرش کے ہاں بڑے مرتبہ والا ہے، فرشتوں کا افسر ہے اور بڑا امانتدار ہے۔
وَلَقَدْ رَاٰہُ بِالْاُفُقِ الْمُبِيْنِ
۲۳ۚالتکویر
اور یہ کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں آسمانوں کے مطلع صاف میں دیکھا ہے۔
نیز اللہ تعالیٰ نے جبریل علیہ السلام کے متعلق فرمایا کہ وہ:
شَدِيدُ الْقُوَىٰ ﴿٥﴾ ذُو مِرَّةٍ فَاسْتَوَىٰ ﴿٦﴾ وَهُوَ بِالْأُفُقِ الْأَعْلَىٰ ﴿٧﴾ ثُمَّ دَنَا فَتَدَلَّىٰ ﴿٨﴾ فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَىٰ ﴿٩﴾ فَأَوْحَىٰ إِلَىٰ عَبْدِهِ مَا أَوْحَىٰ ﴿١٠﴾ مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَأَىٰ ﴿١١﴾ أَفَتُمَارُونَهُ عَلَىٰ مَا يَرَىٰ ﴿١٢﴾ وَلَقَدْ رَآهُ نَزْلَةً أُخْرَىٰ ﴿١٣﴾ عِندَ سِدْرَةِ الْمُنتَهَىٰ ﴿١٤﴾ عِندَهَا جَنَّةُ الْمَأْوَىٰ ﴿١٥﴾ إِذْ يَغْشَى السِّدْرَةَ مَا يَغْشَىٰ ﴿١٦﴾ مَا زَاغَ الْبَصَرُ وَمَا طَغَىٰ ﴿١٧﴾ لَقَدْ رَأَىٰ مِنْ آيَاتِ رَبِّهِ الْكُبْرَىٰ ﴿١٨﴾
النجم
’’زبردست قوت والا زور آور ہے پس پورا نظر آیا اور وہ آسمان کی ایک اچھی اونچی جگہ میں تھا۔ پھر وہ قریب ہوا اور اس قدر جھکا کہ دو کمان کی قدر فاصلہ رہ گیا بلکہ اس سے بھی کم، اس وقت اللہ نے اپنے بندے کی طرف جو وحی کرنی تھی سو کی، پیغمبر نے جو کچھ دیکھا تھا۔ دل نے اس میں کچھ جھوٹ نہیں ملایا۔ کیا تم اس کے ساتھ اس چیز کے بارے میں جھگڑتے ہو جو اس نے دیکھی اور بےشک پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم نے جبریل کو ایک بار اور بھی دیکھا سدرۃ المنتہیٰ کے پاس جس کے نزدیک ہی جنت الماویٰ ہے۔ جب کہ سدرہ پر چھا رہا تھا جو چھا رہا تھا۔ اس وقت بھی پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی نگاہ نہ بہکی اور نہ حد سے بڑھی۔ بے شک پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت اپنے پروردگار کی بڑی بڑی نشانیاں دیکھیں۔‘‘
صحیحین میں ہے کہ اُمّ المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ طیبہ طاہرہ rنے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جبریل علیہ السلام کو ان کی اصلی صورت میں صرف دو مرتبہ دیکھا ہے، یعنی ایک اُفقِ اعلیٰ میں اور دوسری مرتبہ سدرۃ المنتہیٰ کے پاس۔
(بخاری کتاب التفسیر، تفسیر سورہ نجم حدیث۴۸۵۵، مسلم کتاب الایمان، باب قولہ تعالیٰ ولقدراہ نزلۃ اخری حدیث۱۷۷)
ایک اور مقام پر جبریل علیہ السلام کی یہ صفت بیان کی گئی ہے کہ وہ روحِ امین ہے اور وہی روحِ اقدس ہے، یہ اور اس طرح کی دوسری صفات بتا رہی ہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کی عظیم ترین ذی حیات اور ذی عقل مخلوقات میں سے ہے۔ وہ جو ہر قائم بنفسہ ہے نہ کہ نبی کے نفس میں ایک خیال، جیسا کہ ان بے دین فلاسفہ کا، ولایت کے مدعیوں کا، اور نبی سے زیادہ عالم ہونے کا دعویٰ رکھنے والوں کا عقیدہ ہے۔ ان لوگوں کی تحقیق کی غایت اصولِ ایمان کا انکار ہے اس لئے کہ اصول ایمان تو یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ، اس کے فرشتوں، اس کی کتابوں، اس کے رسولوں اور روزِقیامت پر ایمان لاتے۔ ان لوگوں کا عقیدہ فی الحقیقت خالق کا انکار ہےکیونکہ انہوں نے مخلوق کے وجود ہی کو خالق کا وجود قرار دے دیا ہے اور کہتے ہیں کہ وجود ایک ہی ہے۔ واحد بالعین اور واحد بالنوع میں امتیاز نہیں کرتے کیونکہ موجودات وجود کے مسمی میں اس طرح شریک ہیں، جس طرح تمام لوگ (اناسی) انسان کے مسمیٰ ہیں اور حیوانات حیوان کے مسمیٰ میں شریک ہیں لیکن یہ مشترک کلی صرف ذہن میں مشترک کلی ہے جو حیوانیت انسان کے ساتھ قائم ہے، وہ اس حیوانیت کی عین نہیں ہے جو کہ گھوڑے کے ساتھ قائم ہے اور آسمانوں کا وجود بعینہ انسان کا وجود نہیں ہے۔ پس خالق جل جلالہ کا وجود ہرگز اپنی مخلوقات کے وجود کی طرح نہیں ہے۔
اور حقیقت میں ان بے دینوں کا عقیدہ وہی ہے جو فرعون کا عقیدہ تھا، جس نے صانع کو معطل قرار دیا۔ وہ اس موجود و مشہود کا منکر نہیں تھا لیکن اس کا دعویٰ تھا کہ وہ موجود بنفسہ ہے، اس کا کوئی بنانے والا نہیں ہے۔ اور ان لوگوں نے اس امر میں اس کی موافقت کی لیکن اس پر یہ دعویٰ مستزاد ہوا کہ وہی اللہ ہے چنانچہ وہ اس (فرعون) سے بھی زیادہ گمراہ ٹھہرے۔ اگرچہ اس کا یہ قول بہ ظاہر ان کے قول سے زیادہ فاسد ہےپ اسی لئے ان لوگوں نے قرار دیا کہ بتوں کو پوجنے والے بھی حقیقت میں اللہ ہی کو پوجتے ہیں نیز کہتے ہیں کہ جب فرعون حکومت کے منصب پر متمکن اور صاحب سیف تھا، اگرچہ وہ قانون کی اصطلاح میں ظالم تھا۔ تو اس نے کہا: میں تمہارا پروردگارِ اعلیٰ ہوں۔
یعنی اگرچہ تمام لوگ کسی نہ کسی نسبت سے رب ہیں تاہم میں تم سب سے بلند تر ہوں۔ کیونکہ ظاہر میں مجھے تم پر حکومت دی گئی ہے (لیکن ان بے دین متکلموں نے فرعون کے ان الفاظ سے بھی اپنے عقائدِ فاسدہ کا الو سیدھا کرنے کی کوشش کر ہی دی) اور کہا کہ جب جادوگروں کو اپنے دعویٰ میں فرعون کی صداقت کا علم ہو گیا تو انہوں نے اس مسئلہ میں اس کے قول کو مان لیا۔ اور کہا:

فَاقْضِ مَآ اَنْتَ قَاضٍ اِنَّمَا تَقْضِيْ ہٰذِہِ الْحَيٰوۃَ الدُّنْيَا۷۲ۭ
طٰہ
’’توجو چاہتاہے کرگزر کہ تواس زندگی میں چلاسکتاہے۔‘‘
(ان لوگوں نے اس واقعہ سے یہ دلیل اخذ کی) کہ فرعون کا یہ قول صحیح ثابت ہوا کہ:
اَنَا رَبُّکُمُ الْاَعْلٰی۔
النازعات
’’میں تمہارا پروردگارِ اعلیٰ ہوں۔‘‘

نعمت اللہ
04-01-13, 09:15 AM
پھر ان لوگوں نے روزِ قیامت کی حقیقت سے بھی انکار کیا چنانچہ ان کا عقیدہ ہے کہ اہل النّار بھی اہلِ جنت کی طرح لطف اندوز ہوں گے۔ ان لوگوں کا دعویٰ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے خاص الخاص اولیاء کا بھی خلاصہ ہیں اور وہ انبیاء سے افضل ہیں۔ اور انبیاء علیہم السلام بھی انہی کے چراغ کی لو میں اللہ کی معرفت حاصل کرتے ہیں۔ لیکن اس کے باوصف یہ لوگ اللہ تعالیٰ، روزِ قیامت، اللہ کے فرشتوں، اس کی کتابوں اور اس کے پیغمبر کے منکر ہو گئے۔
یہ مقام ان لوگوں کے الحاد کے تفصیلی بیان کا نہیں ہے لیکن اولیاء اللہ کے متعلق تذکرہ تھا اور اولیاء رحمن اور اولیاء شیطا ن کے درمیان فرق واضح کرنا مقصود تھا۔ نیز یہ لوگ تمام لوگوں سے بڑھ کر اللہ کے ولی ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں جبکہ حقیقۃً وہ شیطان کے ولی ہیں لہٰذا ہم نے بطور تنبیہ کچھ ذکر کر دیا۔
الغرض ان کا کلام زیادہ تر شیطانی حالات میں ہوتا ہے اور یہ بھی اسی طرح کہتے ہیں جیسے ’’صاحب ِ فتوحات‘‘ (ابن عربی) نے کہا (باب ارض الحقیقة) یہ زمین حقیقت کا بیان۔ اور کہتے ہیں کہ یہ درحقیقت ارض خیال ہی ہے۔ اس سے تمہیں معلوم ہو گا کہ جس حقیقت کے بارے میں وہ کلام کرتا ہے، وہ خیال ہے اور شیطان کے تصرّف کا محل۔ کیونکہ شیطان انسان کے خیال میں خلافِ واقعہ صورتیں بنا کر ظاہر کرتا ہے۔

نعمت اللہ
04-01-13, 09:17 AM
ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
وَمَنْ يَّعْشُ عَنْ ذِكْرِ الرَّحْمٰنِ نُـقَيِّضْ لَہ شَيْطٰنًا فَہُوَلَہ قَرِيْنٌ۳۶ وَاِنَّہُمْ لَيَصُدُّوْنَہُمْ عَنِ السَّبِيْلِ وَيَحْسَبُوْنَ اَنَّہُمْ مُّہْتَدُوْنَ۳۷ حَتّٰٓي اِذَا جَاۗءَنَا قَالَ يٰلَيْتَ بَيْنِيْ وَبَيْنَكَ بُعْدَ الْمَشْرِقَيْنِ فَبِئْسَ الْقَرِيْنُ۳۸ وَلَنْ يَّنْفَعَكُمُ الْيَوْمَ اِذْ ظَّلَمْتُمْ اَنَّكُمْ فِي الْعَذَابِ مُشْتَرِكُوْنَ۳۹
الزخرف

’’اور جو شخص رحمن کی یاد سے اغماض کرتا ہے ہم اس پر ایک شیطان تعینات کر دیتے ہیں۔ وہ اس کے ساتھ رہتا ہے اور شیاطین انہیں اللہ کی راہ سے روکتے رہتے ہیں۔ تاہم گناہ گار اپنے آپ کو راہ راست پر سمجھتے ہیں، یہاں تک کہ جب گناہ گار ہمارے جناب محمد رسول اللہ میں حاضر ہوگا تو وہ اپنے ساتھی شیطان کو دیکھ کر کہے گا۔ اے کاش! میرے اور تمہارے درمیان مشرق اور مغرب کا فاصلہ رہا ہوتا۔ سو بہت ہی برا ساتھ ہے اور جب کہ تم نے ظلم کیا ہے،تو آج یہ بات کچھ فائدہ نہ دے گی کہ تم عذاب میں باہم شریک ہو۔‘‘
اور فرمایا:
إِنَّ اللَّـهَ لَا يَغْفِرُ أَن يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَٰلِكَ لِمَن يَشَاءُ ۚ وَمَن يُشْرِكْ بِاللَّـهِ فَقَدْ ضَلَّ ضَلَالًا بَعِيدًا ﴿١١٦﴾ إِن يَدْعُونَ مِن دُونِهِ إِلَّا إِنَاثًا وَإِن يَدْعُونَ إِلَّا شَيْطَانًا مَّرِيدًا ﴿١١٧﴾ لَّعَنَهُ اللَّـهُ ۘ وَقَالَ لَأَتَّخِذَنَّ مِنْ عِبَادِكَ نَصِيبًا مَّفْرُوضًا ﴿١١٨﴾ وَلَأُضِلَّنَّهُمْ وَلَأُمَنِّيَنَّهُمْ وَلَآمُرَنَّهُمْ فَلَيُبَتِّكُنَّ آذَانَ الْأَنْعَامِ وَلَآمُرَنَّهُمْ فَلَيُغَيِّرُنَّ خَلْقَ اللَّـهِ ۚ وَمَن يَتَّخِذِ الشَّيْطَانَ وَلِيًّا مِّن دُونِ اللَّـهِ فَقَدْ خَسِرَ خُسْرَانًا مُّبِينًا ﴿١١٩﴾ يَعِدُهُمْ وَيُمَنِّيهِمْ ۖ وَمَا يَعِدُهُمُ الشَّيْطَانُ إِلَّا غُرُورًا ﴿١٢٠﴾
النساء
’’اللہ تعالیٰ یہ تو معاف نہیں کرتا کہ کسی کو اس کے ساتھ شریک گردانا جائے۔ البتہ اس سے کم جس کو چاہے معاف کرے اور جس نے اللہ کے ساتھ شریک گردانا وہ دور بھٹک گیا، یہ اللہ کے سوا تو بس عورتوں ہی کو پکارتے ہیں اور شیطان سرکش ہی کو پکارتے ہیں۔ جس کو اللہ نے پھٹکار دیا اور وہ لگا کہنے کہ میں تو تیرے بندوں سے ایک حصہ ضرور لیا کروں گا اور ان کو ضرور ہی بہکائوں گا اور ان کو امیدیں ضرور دلائوں گا اور ان کوضرور حکم کروں گا، وہ جانوروں کے کان ضرور چیرا کریں گے اور ان کو سمجھائوں گا تو وہ اللہ کی بنائی ہوئی صورتوں کو ضرور بدلا کریں گے اور جو شخص اللہ کے سوا شیطان کو دوست بنائے تو وہ صریح گھاٹے میں آگیا۔ شیطان ان کو وعدے دیتا ہے اور ان کو امیدیں دلاتا ہے اور شیطان ان سے جو وعدہ کرتا ہے، وہ نرا دھوکا ہے۔‘‘
اور فرمایا:
وَقَالَ الشَّيْطَانُ لَمَّا قُضِيَ الْأَمْرُ إِنَّ اللَّـهَ وَعَدَكُمْ وَعْدَ الْحَقِّ وَوَعَدتُّكُمْ فَأَخْلَفْتُكُمْ ۖ وَمَا كَانَ لِيَ عَلَيْكُم مِّن سُلْطَانٍ إِلَّا أَن دَعَوْتُكُمْ فَاسْتَجَبْتُمْ لِي ۖ فَلَا تَلُومُونِي وَلُومُوا أَنفُسَكُم ۖ مَّا أَنَا بِمُصْرِخِكُمْ وَمَا أَنتُم بِمُصْرِخِيَّ ۖ إِنِّي كَفَرْتُ بِمَا أَشْرَكْتُمُونِ مِن قَبْلُ ۗ إِنَّ الظَّالِمِينَ لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ ﴿٢٢﴾
ابراہیم
’’اور جب فیصلہ ہوچکے گا تو شیطان کہے گا کہ اللہ نے تم سے سچا وعدہ کیا تھا اور وعدہ تو تم سے میں نے بھی کیا تھا مگر میں نے تمہارے ساتھ وعدہ خلافی کی اور تم پر میری کچھ زبردستی تو تھی نہیں بات اتنی ہی تھی کہ میں نے تم کو بلایا اور تم نے میرا کہنا مان لیا تو اب مجھے الزام نہ دو بلکہ اپنے آپ کو دو نہ تو میں تمہاری فریاد رسی کر سکتا ہوں اور نہ تم میری فریاد کو پہنچ سکتے ہو۔ میں تو مانتا ہی نہیں کہ تم مجھ کو پہلے شریک بناتے تھے، اس میں شک نہیں کہ جو لوگ نافرمان ہیں، ان کو بڑا درد ناک عذاب ہوگا۔‘‘
اور فرمایا:
وَإِذْ زَيَّنَ لَهُمُ الشَّيْطَانُ أَعْمَالَهُمْ وَقَالَ لَا غَالِبَ لَكُمُ الْيَوْمَ مِنَ النَّاسِ وَإِنِّي جَارٌ لَّكُمْ ۖ فَلَمَّا تَرَاءَتِ الْفِئَتَانِ نَكَصَ عَلَىٰ عَقِبَيْهِ وَقَالَ إِنِّي بَرِيءٌ مِّنكُمْ إِنِّي أَرَىٰ مَا لَا تَرَوْنَ إِنِّي أَخَافُ اللَّـهَ ۚ وَاللَّـهُ شَدِيدُ الْعِقَابِ ﴿٤٨﴾
الانفال
’’اور جب شیطان نے ان کی حرکات ان کو عمدہ کر دکھائیں اور کہا کہ آج لوگوں میں کوئی ایسا نہیں جو تم پر غالب آسکے اور میں تمہارا پشت پناہ ہوں۔ پھر جب دونوں فوجیں آمنے سامنے آئیں، اپنے الٹے پائوں چلتا بنا اور لگا کہنے کہ مجھ کو تم سے سروکار نہیں۔ میں وہ چیز دیکھ رہا ہوں جو تم کو نہیں سوجھ پڑتی، میں تو اللہ سے ڈرتا ہوں اور اللہ کی مار بڑی سخت ہے۔‘‘
اور صحیح حدیث میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جبریل علیہ السلام کو دیکھا کہ وہ بدر میں فرشتوں کی صف بندی کر رہے تھے اور جب شیاطین نے اللہ کے ان فرشتوں کو دیکھا جن کے ذریعہ اللہ تعالیٰ مومن بندوں کی مدد فرماتا ہے تو وہ بھاگ کھڑے ہوئے۔
(موطا امام مالک ، کتاب الحج باب جامع الحج۔ حدیث:۳۴۵۔)
اور اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں کی فرشتوں کے ذریعہ مدد فرماتا ہے۔ فرمایا:
اِذْ يُوْحِيْ رَبُّكَ اِلَى الْمَلٰۗىِٕكَۃِ اَنِّىْ مَعَكُمْ فَثَبِّتُوا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا
الانفال
’’اے پیغمبر! اس وقت کو یاد کرو، جب تمہارا پروردگار فرشتوں کی طرف وحی بھیج رہا تھا کہ میں تمہارے ساتھ ہوں، پس مسلمانوں کو جمائے رکھو۔‘‘
اور فرمایا:
يٰٓاَيُّہَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اذْكُرُوْا نِعْمَۃَ اللہِ عَلَيْكُمْ اِذْ جَاۗءَتْكُمْ جُنُوْدٌ فَاَرْسَلْنَا عَلَيْہِمْ رِيْحًا وَّجُنُوْدًا لَّمْ تَرَوْہَا
الاحزاب
’’اے مسلمانو! اللہ تعالیٰ کی اس نعمت کو یاد کرو ، جب کہ تمہارے پاس فوجیں آئیں تو ہم نے ان پر طوفانِ ہوا بھیجا اور وہ فوجیں بھیجیں جنہیں تم نے نہیں دیکھا تھا۔‘‘
اور فرمایا:
اِذْ يَقُوْلُ لِصَاحِبِہ لَا تَحْزَنْ اِنَّ اللہَ مَعَنَا فَاَنْزَلَ اللہُ سَكِيْـنَتَہ عَلَيْہِ وَاَيَّدَہ بِجُنُوْدٍ لَّمْ تَرَوْہَا
التوبۃ
’’جب پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دوست (ابوبکر رضی اللہ عنہ ) سے کہہ رہے تھے کچھ فکر نہ کرو بے شک اللہ تعالیٰ ہمارے ساتھ ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر پر تسلی نازل کی اور اسے ان فوجوں کے ذریعے مدد دی جن کو تم نے نہیں دیکھا۔‘‘
اور فرمایا:
اِذْ تَقُوْلُ لِلْمُؤْمِنِيْنَ اَلَنْ يَّكْفِيَكُمْ اَنْ يُـمِدَّكُمْ رَبُّكُمْ بِثَلٰثَۃِ اٰلٰفٍ مِّنَ الْمَلٰۗىِٕكَۃِ مُنْزَلِيْنَ۱۲۴ۭ بَلٰٓى۰ۙ اِنْ تَصْبِرُوْا وَتَتَّقُوْا وَيَاْتُوْكُمْ مِّنْ فَوْرِھِمْ ھٰذَا يُمْدِدْكُمْ رَبُّكُمْ بِخَمْسَۃِ اٰلٰفٍ مِّنَ الْمَلٰۗىِٕكَۃِ مُسَوِّمِيْنَ۱۲۵
آل عمران
’’اے پیغمبر! (جنگ بدر کا وہی واقعہ یاد کرو) جب تم مسلمانوں سے کہہ رہے تھے کہ کیا تم کو اتنا کافی نہیں کہ تمہارا پروردگار تین ہزار فرشتے بھیج کر تمہاری مدد کرے بلکہ اگر تم ثابت قدم رہو اور تقویٰ اختیار کیے رکھو اور دشمن ابھی اسی دم تم پر چڑھ آئیں تو تمہارا پروردگار پانچ ہزار ایسے فرشتے بھیج کر تمہاری مدد کرے گا۔ جو جنگی نشان سے آراستہ ہوں گے۔‘‘

نعمت اللہ
04-01-13, 09:33 AM
ایسے لوگوں کے پاس روحیں آکر باتیں کرتی ہیں اور ان کے سامنے معین صورت میں ظاہر ہوتی ہیں۔ یہ ارواح جن اور شیطان ہوتے ہیں۔ جنہیں یہ نادان فرشتے سمجھ بیٹھتے ہیں۔ بتوں اور ستاروں کے پجاریوں سے بھی اسی طرح کی ارواح مخاطب ہوتی ہیں۔ ظہور اسلام کے بعد سب سے پہلے جن لوگوں نے یہ دھوکا کھایا۔ ان میں ایک مختار بن ابی عبید تھا۔ جس کے متعلق نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر دی ہے۔ مسلم میں صحیح حدیث ہے کہ جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
سَیَکُوْنُ فِیْ ثَقِیْفٍ کَذَّابٌ وَمُبِیْرٌ
’’بنی ثقیف میں ایک جھوٹا ہوگا اور ایک مفسد۔‘‘
(مسلم کتاب الفضائل باب ذکر کذاب ثقیف و مبیرھا ، رقم: ۲۵۴۵، مسند احمد ، ج ۲ ، ص ۲۶، عن عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہما)
کذّاب مختار بن ابی عبید تھا اور مفسد حجاج بن یوسف تھا۔ چنانچہ ابن عمر رضی اللہ عنہ اور ابنِ عباس رضی اللہ عنہ سے کہا گیا کہ مختار کا دعویٰ ہے کہ اس پر کچھ نازل ہوتا ہے تو انہوں نے فرمایا کہ وہ ٹھیک کہتا ہے، اس پر شیطان نازل ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:
ہَلْ اُنَبِّئُكُمْ عَلٰي مَنْ تَنَزَّلُ الشَّيٰطِيْنُ۲۲۱ۭ تَنَزَّلُ عَلٰي كُلِّ اَفَّاكٍ اَثِـيْمٍ۲۲۲ۙ
الشعراء
’’کیا میں تمہیں بتائوں کن لوگوں پر شیطان اترا کرتے ہیں۔ وہ جھوٹے اور بدکردار پر اترا کرتے ہیں۔‘‘
ایک اور صاحب سے کہا گیا کہ مختار کو اپنی طرف وحی آنے کا دعویٰ ہے تو انہوں نے کہا: اللہ تعالیٰ فرماتاہے:
وَاِنَّ الشَّيٰطِيْنَ لَيُوْحُوْنَ اِلٰٓي اَوْلِيٰۗـــِٕــہِمْ لِيُجَادِلُوْكُمْ
۰ۚ
الانعام
’’شیطان اپنے دوستوں کی طرف وحی بھیجتے ہیں تاکہ وہ تم سے جھگڑا کریں۔‘‘
انہی ارواحِ شیطانیہ میں سے وہ روح بھی ہے جس کے متعلق صاحب ِ ’’فتوحات‘‘ کا دعویٰ ہے کہ اس نے اس کی طرف اس کتاب کا القا کیا ہے۔ اسی لیے وہ قسم قسم کی، خلوتوں، خاص کھانوں اور خاص چیزوں کا ذکر کرتا ہے یہ چیزیں ان اُمور میں سے تھیں جو باتیں اس شخص کے جنوں اور شیاطین کے ساتھ تعلق کا راستہ کھولتی ہیں اور وہ یہ گمان کر لیتے ہیں کہ یہ اولیاء کی کرامات ہیں، حالانکہ وہ شیطانی حالات ہیں۔ میں ان لوگوں میں سے بعض کو جانتا ہوں۔ بعض ایسے ہیں جو ہوا میں دور تک اڑتے چلے جاتے ہیں اور پھر واپس آجاتے ہیں۔ بعض کے پاس مسروقہ مال لایا جاتا تھا۔ جسے شیاطین ہی چراتے تھے اور شیاطین ہی وہ مال اس کے پاس لاتے تھے اور بعض کو شیطان اس مال کے عوض جو وہ لوگوں سے حاصل کرتے تھے چوری کا سراغ دیتے تھے۔ یا اس عطیہ کے عوض جو انہیں سراغ دینے کی صورت میں ملتا۔ اس طرح کے بہت سے واقعات ہوتے رہتے ہیں چونکہ ان لوگوں کے احوال شیطانی ہیں، اس لیے وہ انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کی مخالفت کرتے ہیں جیسا کہ صاحب ’’فتوحاتِ مکیہ‘‘ و ’’فصوص‘‘ اور اس کی طرح کے دوسرے مصنفین کی تحریروں میں پایا جاتا ہے۔ قومِ نوح علیہ السلام ، قومِ ہود علیہ السلام ، اور فرعون وغیرہ کفار کی مدح کی گئی ہے اور نوح علیہ السلام ، ابراہیم، موسیٰ علیہ السلام اورہارون علیہ السلام جیسے انبیاء علیہ السلام کی تنقیص بیان کی گئی ہے۔ ان مسلمان شیوخ کی مذمت کی گئی ہے جو اہلِ اسلام کے نزدیک محمود و محترم ہیں، مثلاً جنید بن محمد رحمہ اللہ اور سہل بن عبداللہ تستری رحمہ اللہ اور مدح کی جاتی ہے تو ان لوگوں کی جن کو مسلمان برا سمجھتے تھے۔ مثلاً حلاج اور اس قماش کے دوسرے لوگ۔ جیسا کہ اس نے اپنی ’’تجلیات‘‘ خیالیہ و شیطانیہ‘‘ میں ذکر کیا ہے۔

نعمت اللہ
04-01-13, 09:35 AM
جنید قدس اللہ روحہ ائمہ ھدی میں سے تھے۔ آپ سے پوچھا گیا کہ توحید کیا ہے؟ تو آپ نے فرمایا کہ حدوث کو قِدم سے علیحدہ ماننا۔ اس طرح آپ نے واضح فرمایا کہ توحید یہ ہے کہ قدیم اور محدث اور خالق و مخلوق میں امتیاز کیا جائے۔
جبکہ صاحب ِ ’’فصوص‘‘ نے اس کا انکار کیا اور اپنے خیالی و شیطانی مخاطبہ میں کہا ’’اے جنید! محدث و قدیم میں امتیاز تو وہی کر سکتا ہے جو نہ محدث ہو نہ قدیم۔‘‘ جنید کے ’’محدث اور قدیم میں تمیز کو توحید قرار دینے کے قول کو ابن عربی نے غلط قرار دیا۔ کیونکہ اس کے نزدیک محدث کا وجود بعینہ قدیم کا وجود ہے۔
جیسا کہ اس کتاب فصوص میں لکھا ہے کہ ’’اللہ تعالیٰ کے اسمائے حسنیٰ میں علی (بلند) ہے۔ کس پر بلند؟ وہاں اس کے سوا کوئی ہے ہی نہیں اور کس چیز سے بلند حالانکہ جو کچھ ہے وہ خود ہی تو ہے۔ پس اس کی بلندی خود اس کے لیے ہے اور وہ عین موجودات ہے اور جن چیزوں کو محدثات کہا جاتا ہے، وہ بھی اپنی ذات میں بلند ہیں اور وہ اس کے سوا کچھ نہیں۔‘‘
آگے چل کر لکھتا ہے: ’’وہی عین باطن اور وہی عین ظاہر ہے اس کے سوا وہاں تو کوئی دوسرا موجود ہی نہیں جو اسے دیکھے۔ اس کے سوا کوئی بھی نہیں جو اس کے متعلق کوئی بات کرے اور وہی ابوسعید خراز اور دیگر اسماء محدثات کا مسمیٰ ہے۔‘‘
اس ملحد سے کہنا چاہیے کہ دو چیزوں کے درمیان علم اور قول کے ساتھ امتیاز کرنے والے کے لیے یہ کوئی شرط نہیں ہے کہ وہ ان دو چیزوں میں سے نہ ہو اور کوئی تیسرا وجود ہو۔ ہر آدمی اپنے آپ اور دوسرے شخص کے درمیان امتیاز کرتا ہے حالانکہ وہ ثالث نہیں ہوتا۔ بندے کو معلوم ہوتا ہے کہ وہ بندہ ہے اور وہ اپنے نفس اور اپنے خالق کے درمیان امتیاز کرتا ہے، خالق جل جلالہ اپنے آپ اور اپنی مخلوقات کے مابین امتیاز کرتا ہے اور جانتا ہے کہ وہ ان کا پروردگار ہے اور وہ اس کے بندے ہیں جیسا کہ قرآن میں کئی جگہ اس نے فرمایا ہے لیکن قرآن سے استشہاد تو اہل ایمان کے لیے کیا جاتا ہے جو ظاہراً و باطناً اس کو مانتے ہیں۔

نعمت اللہ
04-01-13, 09:38 AM
رہے یہ ملاحدہ! سو ان کا وہی دعویٰ ہے جو تلمسانی کا ہے، وہ ان کے ’’اتحاد‘‘ میں سب سے زیادہ ماہر ہے۔ جب اس کے سامنے ’’فصوص‘‘ پڑھی گئی اور اس سے کہا گیا کہ قرآن تمہارے ’’فصوص‘‘ کا مخالف ہے تو اس نے کہا قرآن سارے کا سارا شرک ہے اور توحید ہمارے کلام میں ہے۔ اس سے کہا گیا کہ اگر وجود ایک ہے تو بیوی سے جماع کیوں جائز اور بہن کے ساتھ کیوں حرام ہے، کہاکہ ’’ہمارے نزدیک سب حلال ہے لیکن چونکہ یہ محجوبین حرام کہتے ہیں، اس لیے ہم بھی کہہ دیتے ہیں کہ تم پر حرام ہے۔‘‘
یہ قول، کفرِ عظیم ہونے کے ساتھ ساتھ اپنی تردید آپ کر رہا ہے کیونکہ جب وجود ہی ایک ہو تو حاجب کون ہے اور محجوب کون؟
یہی وجہ ہے کہ ان کے ایک شیخ نے اپنے مرید سے کہا: ’’جس نے تم سے یہ کہا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی اور وجود ہے تو اس نے جھوٹ کہا ہے‘‘مرید نے کہا ’’جھوٹ کہنے والا کون ہوا‘‘؟ اسی طرح انہوں نے کسی دوسرے کو کہا ’’یہ مظاہر ہیں‘‘ تو اس نے کہا ’’مظاہر ظاہر کے غیر ہیں یا وہی ہیں۔ اگر غیر ہیں تو تم بھی دوئی کے قائل ہوگئے اور اگر وہی ہیں تو کوئی فرق نہ ہوا۔‘‘
(جب نسبت لازم آئی تو دو وجود ثابت ہوگئے اور اگر نسبت اٹھا دی جائے تو جھوٹ کہنے والا (معاذاللہ) اللہ کا جزو ہوا۔ (مترجم))
کسی دوسرے مقام پر ہم تفصیل کے ساتھ ان لوگوں کے ’’اسرار و رموز‘‘ کا پول کھول چکے ہیں اور ان میں سے ہر ایک کے قول کی حقیقت بیان کرچکے ہیں۔ صاحب ِ فصوص کہتا ہے کہ معدوم بھی ایک چیز ہے اور اس پر وجودِ حق کا فیضان ہوا۔ سو وہ وجود و ثبوت کے درمیان فرق کرتا ہے۔ معتزلہ بھی کہتے ہیں کہ معدوم ایک چیز ثابت تھی لیکن یہ لوگ بایں ہمہ ضلالت صاحب ِ ’’فصوص‘‘ سے بہتر ہیں کیونکہ وہ کہتے ہیں کہ پروردگار نے عدم میں ثابت اشیاء کے لیے جو وجود تخلیق کیا وو پروردگار کا اپنا وجود نہیں ہے۔ بخلاف اس کے صاحب ’’فصوص‘‘ کا دعویٰ ہے کہ ان چیزوں پر بعینہ پروردگار کے وجود کا فیضان ہوا، اس کے نزدیک مخلوق کا وجود ہی نہیں جو خالق کے وجود سے علیحدہ ہو۔

نعمت اللہ
04-01-13, 09:39 AM
ازبسکہ صاحب ’’فصوص‘‘ کا دوست صدر قونوی جو کہ فلسفہ سے زیادہ قریب تھا، مطلق و معین میں فرق کرتا ہے۔ اس نے اس بات کا اقرار نہیں کیا کہ معدوم کوئی چیز ہے لیکن حق کو وجود مطلق قرار دیا اور ایک کتاب لکھی جس کا نام ’’مفتاحِ غیب الجمع والوجود‘‘ ہے۔
یہ قول خالق کو اور بھی زیادہ معطل اور معدوم قرار دیتا ہے کیونکہ مطلق بشرط اطلاق، کلی عقلی ہے، اس لیے محض ذہنی ہے اعیان میں اس کا وجود ہی نہیں اور مطلق لابشرط شی کلی طبیعی ہے۔ اگر یہ کہا جائے کہ وہ خارج میں موجود ہے تو خارج میںصرف بصورت معین ہوسکتا ہے چنانچہ جو شخص اس کا قائل ہے کہ وہ خارج میں ثابت ہے۔ اس کے مذہب میں وہ معین کا جزو ٹھہرا۔ پس اس سے لازم آتا ہے کہ یا تو پروردگار کا وجود خارج میں محال ہے یا مخلوقات کے وجود کا جزو ہے، یا مخلوقات کے وجود کا عین ہے۔ اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ آیا جزو، کل کو پیدا کر سکتا ہے؟ یا کوئی چیز اپنے آپ کو پیدا کر سکتی ہے؟ یا عدم وجود کا خالق ہو سکتا ہے؟ یا کسی چیزکا ایک حصہ اس کے تمام جسم کا خالق ہوسکتا ہے؟۔

نعمت اللہ
04-01-13, 09:42 AM
یہ لوگ حلول کے لفظ سے اس لیے بھاگتے ہیں کہ وہ حال اور محل کا مقتضی ہے، اتحاد کے لفظ سے اس لیے گریزاں ہیں کہ وہ دو چیزوں کو مستلزم ہے۔ جن میں سے ایک دوسرے سے متحد ہوگئی ہو حالانکہ ان کے نزدیک وجود صرف ایک ہے۔ کہتے ہیں کہ نصاریٰ اس لیے کافر ہوگئے ہیں کہ انہوں نے خصوصیت کے ساتھ مسیح کو اللہ قرار دیا۔اگر وہ ہر چیز کو اللہ کہہ دیتے تو کافر نہ ہوتے۔
وعلی ھٰذا القیاس وہ بت پرستوں کی بھی یہ غلطی بتاتے ہیں کہ وہ بعض مظاہر کی پرستش کرتے ہیں اور بعض کی نہیں کرتے۔ اگر تمام مظاہر کی پوجا کرتے تو ان کے نزدیک خطا کار نہ ٹھہرتے۔ ان کے نزدیک عارف محقق کے لیے بتوں کی پوجا مضر نہیں ہے۔ قطع نظر اس سے کہ یہ عقیدہ کفرِ عظیم ہے۔ اس میں وہ علّت تناقض بھی موجود ہے۔ جو ہمیشہ ان گمراہوں کے گلے کا ہار رہتی ہے۔ کوئی ان سے پوچھے کہ خطا کار نصاریٰ اور خطا کار بت پرست آخر کون ہیں؟ اللہ ہیں یا اس سے کوئی جدا چیز ہیں ؟
لیکن وہ تو کہتے ہیں کہ پروردگار میں وہ تمام نقائص موجود ہیں جو مخلوق میں ہوتے ہیں اور مخلوقات میں بھی وہ تمام کمالات موجود ہیں جن سے ذاتِ خالق متصف ہے اور صاحب ِ ’’فصوص‘‘ کے اس قول کے حامی ہیں کہ {عَلِیٌّ لِنَفْسِہ} وہ ہوتا ہے جس کا کمال تمام نعوتِ وجودیہ اور نسب عدمیہ کا جامع ہو خواہ وہ اوصاف رواج ، عقل اور شرع کے نزدیک ممدوح ہوں یا مذموم اور یہ صرف اللہ کے مسمی کا خاصہ ہے۔‘‘
باوجود اس کفر کے ان لوگوں پر سے تناقض کا اعتراض رفع نہیں ہوتا کیونکہ حس و عقل دونوں کے نزدیک یہ چیز بعینہ وہ چیز نہیں۔ یہ لوگ تلمسانی کے اس قول کے بھی حامی ہیں کہ ’’ہمارے نزدیک کشف کے ذریعہ ایسی چیزیں ثابت ہوتی ہیں جو صریح عقل سے متناقض ہوتی ہیں۔‘‘ اورکہتے ہیں کہ جو شخص تحقیق کا طالب ہو (یعنی ان کی تحقیق کا) اسے چاہیے کہ عقل و شرع کو خیر باد کہہ دے۔
میں نے ایک ایسے اعتقاد رکھنے والے شخص سے دورانِ گفتگو ایک مرتبہ کہا بھی تھا کہ یہ یقینی امر ہے کہ انبیاء علیہم السلام کا کشف دوسروں کے کشف سے زیادہ بڑا اور کامل ہوتا ہے اور ان کی دی ہوئی خبر دوسروں کی خبر سے صادق تر ہوتی ہے۔ انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام ایسی چیزوں کی خبر دیتے ہیں۔ جن کی معرفت سے لوگوں کی عقلیں عاجز ہوتی ہیں۔ ایسی خبر نہیں دیتے جسے لوگ اپنی عقل کے ذریعے معلوم کر لیں کہ وہ ممتنع ہے۔ چنانچہ وہ ایسی خبریں دیتے ہیں جو عقلاً جائز ہوتی ہیں نہ کہ عقلاً محال ہوں بلکہ یہ ممتنع ہے کہ رسول کی دی ہوئی خبریں عقل صریح کے مناقض ہوں۔ یہ بھی ممتنع ہے کہ دو قطعی دلیلوں میں تعارض ہو۔ خواہ وہ دونوں عقلی ہوں یا سمعی یا ان میں سے ایک عقلی ہو اور دوسری سمعی۔ پس اس شخص کا کیا حال ہوگا، جو دعویٰ کرے کہ اس کا کشف عقل و شرعِ صریح کا مناقض ہے۔
کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ یہ لوگ جان بوجھ کر جھوٹ نہیں کہتے لیکن بعض چیزیں جو ان کے نفس میں ہوتی ہیں، خیالی صورت بن کر ان کے سامنے آتی ہیں اور وہ خیال کر لیتے ہیں کہ وہ خارج میں موجود ہیں۔ کبھی وہ ایسی چیزیں دیکھتے ہیں جو خارج میں موجود ہوتی ہیں لیکن وہ انہیں کراماتِ صالحین میں سے شمار کرتے ہیں حالانکہ وہ تلبیساتِ شیاطین میں سے ہوتی ہیں۔
وحدت الوجود کے قائل کبھی اولیاء کو انبیاء پر ترجیح دے دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ نبوت منقطع نہیں ہوتی جیسا کہ ابنِ سبعین وغیرہ سے مذکور ہے۔

نعمت اللہ
04-01-13, 09:45 AM
ً یہ لوگ شہود کے تین مراتب قرار دیتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ بندے کو پہلے طاعت و معصیت کا شہود حاصل ہوتا ہے۔ پھر طاعت بلا معصیت کا اور آخر کار اس درجہ کا شہود ہوتا ہے جہاں نہ طاعت ہو نہ معصیت۔ شہود اوّل صحیح شہود ہے اور وہ طاعات و معاصی کے درمیان فرق کرتا ہے۔ رہا شہود ثانی سو اس سے وہ شہودِ قدر مراد لیتے ہیں جیسا کہ ان لوگوں میں سے بعض کہتے ہیں، میں اس پروردگار کا منکر ہوں جس کی نافرمانی ہوتی ہو۔ ایسے لوگوں کا دعویٰ ہے کہ معصیت مشیئت الٰہی کی مخالفت سے عبارت ہے اور ساری مخلوقات مشیئت کے حکم کے ماتحت ہے۔ ان کا شاعر کہتا ہے۔
اَصْبَحْتُ مُنْفَعِلاً لِمَا تَخْتَارُہ
مِنِّیْ فَفِعْلِیْ کُلُّہ طَاعَاتُ
’’مجھ سے وہی فعل سرزد ہوتا ہے جس کا مجھ سے سرزد ہونا تجھے پسند ہو۔ اس لیے میرے تمام کام اطاعات ہی ہیں۔‘‘

نعمت اللہ
03-02-13, 11:29 AM
ظاہر ہے کہ یہ اس امر کے سراسر خلاف ہے جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے رسول مبعوث فرمائے اور کتابیں نازل فرمائیں۔ اس لیے وہ معصیت جو کہ مذمت کی مستحق اور عذاب کی موجب ہے۔ اللہ تعالیٰ کے اور اس کے رسول کے حکم کی مخالفت سے عبارت ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:
تِلْكَ حُدُوْدُ اللہِ۰ۭ وَمَنْ يُّطِعِ اللہَ وَرَسُوْلَہ يُدْخِلْہُ جَنّٰتٍ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِھَا الْاَنْھٰرُ خٰلِدِيْنَ فِيْھَا۰ۭ وَذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيْمُ۱۳ وَمَنْ يَّعْصِ اللہَ وَرَسُوْلَہ وَيَتَعَدَّ حُدُوْدَہ يُدْخِلْہُ نَارًا خَالِدًا فِيْھَا۰۠ وَلَہ عَذَابٌ مُّہِيْنٌ
النساء
’’یہ اللہ کی حدود ہیں جو شخص اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے۔ اسے وہ ایسے باغات میں داخل کرے گا۔ جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی۔ ان میں سدا رہیں گے اور یہ بڑی کامیابی ہے اور جو شخص اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے گا اور اس کی حدوں سے تجاوز کرے گا اسے وہ دوزخ میں داخل کرے گا۔ جس میں اسے ہمیشہ رہنا ہوگا اور اس کے لیے ذلیل کرنے والا عذاب ہے۔‘‘
عنقریب ہم ارادہ کونیہ و دینیہ اور امرِ کونی و دینی کے درمیان فرق بیان کریں گے۔ صوفیاء کی ایک جماعت کو اس مسئلے میں اشتباہ ہوا تھا تو جنید رحمہ اللہ نے اس کو کھول کر بیان کر دیا۔ جو شخص اس مسئلے میں جنید کی پیروی کرے گا۔ وہ سیدھی راہ پر ہوگا اور جو اس کی مخالفت کرے گا گمراہ ہوگا۔ وہ کہتے ہیں کہ تمام امور اللہ کی قدرت و مشیئت سے ہوتے ہیں اور اسی کے شہود میں ہوتے ہیں۔ یہ توحید ہے اس کا نام وہ ’’جمع اوّل‘‘ رکھتے ہیں۔ جنید نے ان سے بیان کیا ہے کہ فرقِ ثانی کا شہود بھی لازمی ہے اور وہ یہ ہے کہ گو تمام اشیاء اللہ کی مشیئت و قدرت اور اس کی مخلوق ہونے میں مشترک ہیں لیکن جس چیز کا وہ حکم کرتا ہے اور جس چیز کو وہ پسند کرتا اور راضی ہوتا ہے، اس میں اور اس چیز میں جسے اس نے ممنوع، مکروہ اور موجب ِ ناراضی قرار دیا ہے، فرق کرنا ضروری ہے اور اللہ کے دوستوں اور دشمنوں کے مابین فرق کرنابھی لازمی ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:

اَفَنَجْعَلُ الْمُسْلِمِيْنَ كَالْمُجْرِمِيْنَ۳۵ۭ مَا لَكُمْ۰۪ كَيْفَ تَحْكُمُوْنَ۳۶ۚ
القلم
’’کیا ہم مسلمین کو مجرموں کی طرح قرار دیں گے تمہیں کیا ہوگیا ہے تم کیسے کیسے فیصلے گھڑتے ہو۔‘‘
اور فرمایا:
اَمْ نَجْعَلُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ كَالْمُفْسِدِيْنَ فِي الْاَرْضِ۰ۡاَمْ نَجْعَلُ الْمُتَّقِيْنَ كَالْفُجَّارِ۲۸
ص
’’کیا ہم ان لوگوں کو جو ایمان لائے ہیں اور کام بھی اچھے کرتے ہیں۔ ان لوگوں جیسا کر کے رکھیں گے جو زمین میں فساد کرتے ہیں یا ہم ایسا کر دیں گے کہ متقین کے ساتھ اس طرح کا برتائو کریں جو ہم گناہ گاروں کے ساتھ کریں گے؟‘‘
اور فرمایا:
اَمْ حَسِبَ الَّذِيْنَ اجْتَرَحُوا السَّيِّاٰتِ اَنْ نَّجْعَلَہُمْ كَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ۰ۙ سَوَاۗءً مَّحْيَاہُمْ وَمَمَاتُہُمْ۰ۭ سَاۗءَ مَا يَحْكُمُوْنَ۲۱ۧ
الجاثیہ
’’کیا جن لوگوں نے برے کام کیے ہیں، ان کو ہم ان لوگوں جیسا کر کے رکھیں گے جو ایمان بھی لائے اور کام بھی اچھے کرتے تھے۔ کیا ان دونوں جماعتوں کا جینا مرنا برابر ہوگا؟ یہ لوگ کیا ہی برے حکم لگایاکرتے ہیں۔‘‘
اور فرمایا:
وَمَا يَسْتَوِي الْاَعْمٰى وَالْبَصِيْرُ۰ۥۙ وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَلَا الْمُسِيْۗءُ۰ۭ قَلِيْلًا مَّا تَتَذَكَّرُوْنَ۵۸
المومن
’’اندھا اور آنکھوں والا برابر نہیں ہوسکتا اور مومن و نیکوکار کے ساتھ بدکردار کی برابری نہیں ہوسکتی مگر تم لوگ بہت کم غور کرتے ہو۔‘‘
اسی لیے امت کے ائمہ اور سلف صالحین کا مذہب یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ ہر ایک چیز کا پیدا کرنے والا، اس کا پالنے والا اور اس کا مالک ہے، جو کچھ وہ چاہتا ہے ہوتا ہے اور جو نہیں چاہتا نہیں ہوتا۔ اس کے سوا کوئی پروردگار نہیں۔ اس کے ساتھ ہی اس نے اطاعت کا حکم دیا اور نافرمانی سے منع کیا ہے۔ وہ فساد کو پسند نہیں کرتا، اپنے بندوں کے لیے کفر پسند نہیں کرتا۔ بری باتوں کا حکم نہیں دیتا۔ گو اس کی مشیئت کے ساتھ کیوں نہ واقع ہوں مگر وہ اسے محبوب و مرغوب نہیں ہوسکتیں بلکہ مبغوض ہیں اور ان کا مرتکب لائقِ مذمت اور سزا وارِ عذاب ہے۔
رہا تیسرا مرتبہ جس میں نہ اطاعت کا شہود ہے اور نہ معصیت کا۔ ان لوگوں کے نزدیک ایک ہی وجود ہوتا ہے اور بس۔ اور اسے وہ تحقیق ولایت کی انتہا سمجھتے ہیں حالانکہ درحقیقت وہ اللہ کے اسماء و آیات میں الحاد اور اللہ تعالیٰ سے دشمنی کی انتہا ہے۔ یہ مشہد (نکتہ نظر) رکھنے والا آدمی یہود و نصاریٰ اور تمام کُفّار کو دوست قرار دیتا ہے حالانکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایاہے:

وَمَنْ يَّتَوَلَّہُمْ مِّنْكُمْ فَاِنَّہ مِنْہُمْ
المائدہ
’’تم میں جو ان سے دوستی رکھے گا، وہ ان ہی میں سے ہوگا۔‘‘
جوشرک اور بت پرستی سے اظہار براءت نہیںکرتاوہ خلیل علیہ الصلوٰۃ والسلام کی ملت سے خارج ہوجاتا ہے:
ارشاد باری تعالیٰ ہے:
قَدْ كَانَتْ لَكُمْ اُسْوَۃٌ حَسَـنَۃٌ فِيْٓ اِبْرٰہِيْمَ وَالَّذِيْنَ مَعَہ۰ۚ اِذْ قَالُوْا لِقَوْمِہِمْ اِنَّا بُرَءٰۗؤُا مِنْكُمْ وَمِمَّا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللہِ۰ۡكَفَرْنَا بِكُمْ وَبَدَا بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمُ الْعَدَاوَۃُ وَالْبَغْضَاۗءُ اَبَدًا حَتّٰى تُؤْمِنُوْا بِاللہِ وَحْدَہٓ
الممتحنہ
’’تمہارے لیے ابراہیم علیہ السلام اور اس کے ساتھیوں کا اچھا نمونہ پیش ہوچکا ہے، جب کہ انہوں نے اپنی قوم سے کہہ دیا تھا کہ ہم تم سے اور اللہ کے سوا جن جن چیزوں کی تم پوجا کرتے ہو، ان سے بیزار ہیں۔ تمہارے عقیدوں کو ہم نہیں مانتے، تم میں اور ہم میں ہمیشہ کے لیے عداوت اور دشمنی قائم ہوگئی ہے، حتیٰ کہ تم اکیلے اللہ کے ساتھ ایمان لے آئو۔‘‘
نیز ابراہیم علیہ السلام نے اپنی قوم مشرکین سے کہا:

اَفَرَءَيْتُمْ مَّا كُنْتُمْ تَعْبُدُوْنَ ۷۵ۙ اَنْتُمْ وَاٰبَاۗؤُكُمُ الْاَقْدَمُوْنَ ۷۶ۡۖ فَاِنَّہُمْ عَدُوٌّ لِّيْٓ اِلَّا رَبَّ الْعٰلَمِيْنَ ۷۷ۙ
الشعراء
’’تمہیں کچھ خبر بھی ہے، جن چیزوں کو تم اور تمہارے اگلے آبائو اجداد پوجتے چلے آئے ہیں، وہ میرے دشمن ہیں، ہاں میرا دوست ہے تو پروردگار عالم ہے۔‘‘
اور فرمایا:
لَا تَجِدُ قَوْمًا يُّؤْمِنُوْنَ بِاللہِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ يُوَاۗدُّوْنَ مَنْ حَاۗدَّ اللہَ وَرَسُوْلَہوَلَوْ كَانُوْٓا اٰبَاۗءَہُمْ اَوْ اَبْنَاۗءَہُمْ اَوْ اِخْوَانَہُمْ اَوْ عَشِيْرَتَہُمْ ۰ۭ اُولٰۗىِٕكَ كَتَبَ فِيْ قُلُوْبِہِمُ الْاِيْمَانَ وَاَيَّدَہُمْ بِرُوْحٍ مِّنْہُ ۰ۭ
المجادلہ
’’جو لوگ اللہ تعالیٰ اور روزِ قیامت پر ایمان رکھتے ہیں۔ ان کو تم ایسے لوگوں سے یارانہ گانٹھے ہوئے کبھی نہ پائو گے، جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے مخالف ہیں۔ خواہ وہ ان کے باپ دادا، بیٹے بیٹیاں، بھائی بہن اور ان کے کنبے ہی کے کیوں نہ ہوں، ان لوگوں کے دلوں میں اللہ تعالیٰ نے ایمان کا نقش کر دیا ہے اور اپنے فیضانِ غیبی سے ان کی تائید کی ہے۔‘‘
ان لوگوں میں سے بعض نے اپنے مذہب پر کتابیں اور قصیدے لکھے ہیں۔ ابن الفارض نے ایک قصیدہ ’’نظم السلوک‘‘ کے نام سے لکھا ہے۔ جس میں وہ کہتا ہے۔
لَھَا صَلَوَاتِیْ بِالْمُقَامِ اُقِیْمُھَا
وَأَشْھَدُ فِیْھَا اَنَّھَا لِیْ صَلَّتِ
میری وہ نمازیں جو میں مقام ابراہیم پر ادا کرتا ہوں، اسی کے لیے ہیں اور دوران نماز مجھ پر شہود ہوتا ہے کہ اس نے میرے لیے نماز ادا کی۔
کِلَانَا مُصَلٍّ وَاحِدٌ سَاجِدٌ اِلٰی
حَقِیْقَتِہ بِالْجَمْعِ فِیْ کُلِّ سَجْدَئہ
ہم دونوں ایک نمازی ہیں۔ جو مزدلفہ میں اس کی حقیقت کی طرف ہر ایک سجدے میں سجدہ کناں ہوتے ہیں۔
وَ مَا کَانَ لِیْ اُصَلِّیْ سَوَائِیْ وَلَمْ تَکُنْ
صَلَاتِیْ لِغَیْرِیْ فِیْ اَدَائِ کُلِ رَکْعَئہ
میرے لیے میرے سوا کسی اور نے نماز نہیں پڑھی اور نہ ہر رکعت کی ادائیگی کے دوران میری نماز میرے سوا کسی اور کے لیے تھی۔
آگے چل کر کہتا ہے:
وَمَا زِلْتُ اِیَّاھَا وَاِیَّایَ لَمْ تَزَلْ
وَلاَ فَرْقَ بَلْ ذَاتِیْ لِذَاتِیْ صَلَّت
میں ہمیشہ سے اس ذات کا عین ہوں اور وہ ہمیشہ سے میری ذات کا عین ہے اور میری ذات نے میری ہی ذات کے لیے نماز ادا کی۔
اِنِّیْ رَسُوْلًا کُنْتُ مِّنِّیْ مُرْسَلًا
وَ ذَاتِیْ بِاٰیَاتِیْ عَلَیَّ اسْتَدَلَّتِ
خود ہی رسول اورخود ہی اپنی طرف رسول بھیجنے والاہوں اور میری ہی ذات میری ہی آیات کے ساتھ مجھ پر استدلال کرتی ہے۔
فَاِنْ دُعِیَت کُنْتُ الْمُجِیْبَ وَاِنْ اَکُنْ
مُنَادًی اَجَابَتْ مَنْ دَعَانِیْ وَلَبَّت
اگر اسے بلایا گیا تو میں ہی جواب دینے والا ہوں گا اور اگر مجھے آواز دی گئی تو مجھے بلانے گو وہ جواب دے گی اور لبیک کہے گی۔
اسی طرح اور بہت سی باتیں کرتا ہے۔ اسی لیے یہی شاعر مرتے وقت یہ شعر کہہ رہا تھا:
اِنْ کَانَ مَنْزِلَتِیْ فِی الْحُبِّ عِنْدَکُمْ
مَاقَدْ لَقِیْتُ فَقَدْ ضَیَّعْتُ اَیَّامِیْ
اگر راہ و رسمِ محبت میں تمہارے ہاں ہماری یہی قدرومنزلت ہے جو کہ مجھے مل چکی ہے تو میں نے اپنی عمر ضائع کر ڈالی۔
اُمْنِیَّۃٌ ظَفَرَتْ نَفْسِیْ بِھَا زَمَنًا
وَ الْیَوْمَ أَحْسِبُھَا اَضْغَاثُ اَحْلَامٍ
جس آرزو میں میرا نفس ایک عرصہ تک بامراد رہا لیکن آج اسے میں خوابِ پریشاں سمجھ رہا ہوں۔
وہ خیال کرتا رہتا تھا کہ وہ اللہ ہے لیکن جب فرشتے اس کی روح قبض کرنے کے لیے آموجود ہوئے تو اس پر اپنے خیالات کا باطل ہونا منکشف ہوا۔
اور یہ لوگ منجملہ اس گروہ میں سے ہیں جن کے متعلق اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے فرمایا:
اَفَمَنْ زُيِّنَ لَہ سُوْۗءُ عَمَلِہ فَرَاٰہُ حَسَـنًا ۰ۭ فَاِنَّ اللہَ يُضِلُّ مَنْ يَّشَاۗءُ وَيَہْدِيْ مَنْ يَّشَاۗءُ ۰ۡۖ فَلَا تَذْہَبْ نَفْسُكَ عَلَيْہِمْ حَسَرٰتٍ ۰ۭ اِنَّ اللہَ عَلِـيْمٌۢ بِمَا يَصْنَعُوْنَ ۸
الفاطر
’’کیا وہ شخص جسے اس کا بدعمل، مزین کر کے دکھایا گیا اور وہ اسے اچھا سمجھنے لگا (بھلا محسن متقی کی مانند ہوسکتا ہے) بات یہ ہے کہ اللہ جسے چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے راہ راست کی ہدایت فرماتا ہے۔ (اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ) ان لوگوں پر حسرت میں کہیں تمہاری جان ہی نہ جاتی رہے۔ (تم صبر کرو) اللہ خوب جانتا ہے جو یہ کرتے ہیں۔‘‘
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
سَبَّحَ لِلہِ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ۰ۭ وَہُوَالْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ ۱
الحدید
’’جو مخلوقات آسمانوں میں ہے اور جو مخلوقات زمین میں ہے۔ سب اللہ تعالیٰ کی تسبیح میں لگی ہوئی ہے اور وہ زبردست، دانا ہے۔‘‘
تو جو کچھ زمینوں اور آسمانوں میں ہے۔ وہ اللہ کی تسبیح بیان کرتا ہے۔ وہ خود اللہ نہیں ہے اور فرمایا:
لَہ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ۰ۚ يُـحْی وَيُمِيْتُ ۰ۚ وَہُوَعَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ ۲ ہُوَالْاَوَّلُ وَالْاٰخِرُ وَالظَّاہِرُ وَالْبَاطِنُ ۰ۚ وَہُوَبِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيْمٌ ۳
الحدید
’’آسمانوں اور زمینوں کی بادشاہی اسی کی ہے، وہ زندہ کرتا اور مارتا ہے اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے، وہ اوّل ہے، وہ آخر ہے، وہ ظاہر ہے، وہ باطن ہے اور وہ ہر چیز سے واقف ہے۔‘‘
صحیح مسلم میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے کہ آپ اپنی دعا میں کہا کرتے تھے:
اَللّٰھُمَّ رَبَّ السَّمٰوَاتِ السَّبْعِ وَرَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ رَبَّنَا وَ رَبَّ کُلِّ شَیْءٍ فَالِقَ الْحَبِّ وَالنَّوٰی مُنْزِلَ التَّوْرَاۃِ وَالْاِنْجِیْلِ وَالْقُرْاٰنِ اَعُوْذُبِکَ مِنْ شَرِّکُلِّ دَآبَّۃٍ اَنْتَ اٰخِذٌ بِنَاصِیَتِھَا اَنْتَ الْاَوَّلُ فَلَیْسَ قَبْلَکَ شَیْءٌ وَاَنْتَ الْاٰخِرُ فَلَیْسَ بَعْدَکَ شَیْءٌ وَاَنْتَ الظَّاہِرُ فَلَیْسَ فَوْقَکَ شَیْءٌ وَاَنْتَ الْبَاطِنُ فَلَیْسَ دُوْنَکَ شَیْءٌ اِقْضِ عَنِّی الدَّیْنَ وَاَغْنِنِیْ مِنَ الْفَقْرِ
(مسلم، کتاب الذکر، باب مایقول عندالنوم واخذ المضجع رقم: ۶۸۸۹، ابوداؤد، کتاب الادب، باب مایقول عندالنوم، رقم: ۵۰۵۱، ترمذی، کتاب الدعوات، باب الدعاء الذی علمہ صلی اللہ علیہ وسلم فاطمۃ مسند احمد (۲؍۳۸۱))
اے سات آسمانوں اور عرشِ عظیم کے مالک! ہمارے پروردگار اور ہر چیز کے پالنے والے! بیج اور گٹھلی کے پھاڑنے والے! تورات انجیل اور قرآن کے نازل کرنے والے! میں ہر اس جانور کے شر سے جس کی چوٹی تیرے ہاتھ میں ہے، تیرے پاس پناہ لیتا ہوں تو اوّل ہے تجھ سے پہلے کوئی نہیں تو آخر ہے تجھ سے بعد کوئی نہیں، تو ظاہر ہے تجھ سے بلند تر کوئی نہیں، تو باطن ہے تجھ سے پرے کوئی نہیں، مجھ سے قرضہ ادا کر دے اور مجھے فقر سے نجات دے کر غنی کر دے۔‘‘
اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

ہُوَالَّذِيْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ فِيْ سِـتَّۃِ اَيَّامٍ ثُمَّ اسْـتَوٰى عَلَي الْعَرْشِ ۰ۭ يَعْلَمُ مَا يَـلِجُ فِي الْاَرْضِ وَمَا يَخْــرُجُ مِنْہَا وَمَا يَنْزِلُ مِنَ السَّمَاۗءِ وَمَا يَعْرُجُ فِيْہَا ۰ۭ وَہُوَمَعَكُمْ اَيْنَ مَا كُنْتُمْ ۰ۭ وَاللہُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِيْرٌ ۴
الحدید
’’وہی ہے جس نے چھ دن میں آسمانوں کو اور زمینوں کو پیدا کیا، پھر عرش پر مستوی ہوا، جو چیز زمین میں داخل ہوتی، جو چیز زمین سے باہر آتی اور جو چیز آسمان سے اترتی اور جو چیز آسمان کی طرف چڑھتی ہے، اسے وہ جانتا ہے اور تم لوگ جہاں کہیں ہو، وہ تمہارے ساتھ ہے، اور جو کچھ تم کیا کرتے ہو، اللہ اس کو دیکھ رہا ہے۔‘‘
سو اللہ تعالیٰ نے فرمادیا ہے کہ آسمان اور زمین اور دوسرے مقام پر یہ بھی آیا ہے کہ ان کے مابین جو کچھ بھی ہے وہ مخلوق ہے اور اس کی تسبیح میں مصروف ہے۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے خبر دی ہے کہ وہ ہر چیز کو جانتا ہے۔

نعمت اللہ
03-02-13, 12:00 PM
رہا اللہ تعالیٰ کا قول {وَھُوَ مَعَکُمْ} سو اس میں لفظ مَعَ لغت عرب میں اس کا مقتضی نہیں ہے کہ ایک چیز دوسری سے ملی ہوئی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
اتَّقُوا اللہَ وَ کُوْنُوْا مَعَ الصّٰدِقِیْنَ ۔
توبہ
’’اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور سچوں کے ساتھ رہو۔‘‘
اور فرمایا:
مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہِ ۰ۭ وَالَّذِيْنَ مَعَہ اَشِدَّاۗءُ عَلَي الْكُفَّارِ
الفتح
’’محمد اللہ کے رسول ہے اور جو لوگ ان کے ساتھ ہیں کفار پر سخت ہیں۔‘‘
اور فرمایا:
وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مِنْۢ بَعْدُ وَہَاجَرُوْا وَجٰہَدُوْا مَعَكُمْ فَاُولٰۗىِٕكَ مِنْكُمْ
الانفال
’’جو لوگ بعد میں ایمان لائے اور جنہوں نے ہجرت کی اور تمہارے ساتھ ہو کر جہاد کیا وہ تم میں سے ہیں۔‘‘
لفظ مَعَ قرآن میں عام اور خاص دونوں معنوں میں آیا ہے ۔ عام اس آیت میں ہے اور آیہ مجادلہ میں ہے:
اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللہَ يَعْلَمُ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَمَا فِي الْاَرْضِ ۰ۭ مَا يَكُوْنُ مِنْ نَّجْوٰى ثَلٰثَۃٍ اِلَّا ہُوَرَابِعُہُمْ وَلَا خَمْسَۃٍ اِلَّا ہُوَسَادِسُہُمْ وَلَآ اَدْنٰى مِنْ ذٰلِكَ وَلَآ اَكْثَرَ اِلَّا ہُوَمَعَہُمْ اَيْنَ مَا كَانُوْا ۰ۚ ثُمَّ يُنَبِّئُہُمْ بِمَا عَمِلُوْا يَوْمَ الْقِيٰمَۃِ ۰ۭ اِنَّ اللہَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيْمٌ ۷
المجادلہ
’’کیا تم نہیں جانتے کہ جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے، اللہ کو سب معلوم ہے۔ جب تین آدمیوں کے درمیان سرگوشی ہوتی ہے تو ضرور ان کا چوتھا وہ ہوتا ہے اور اگر پانچ میں ہو تو ضرور ان کا چھٹا وہ ہوتا ہے اور اس سے کم ہوں یا زیادہ اور کہیں بھی ہوں، وہ ضرور ان کے ساتھ ہوتا ہے۔پھر قیامت کے دن وہ ان کو جتا دے گا۔ اللہ ضرور ہر ایک چیز سے واقف ہے۔‘‘
اس آیت کی ابتدا بھی علم کے ذکر سے فرمائی اور اسے ختم بھی علم کے ذکر کے ساتھ کیا۔ اسی لیے ابن عباس رضی اللہ عنہ ، ضحاک، سفیان ثوری اور احمد بن حنبل فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کے ساتھ ازروئے علم ہے، دوسری معیت خاصہ ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
اِنَّ اللہَ مَعَ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا وَّ الَّذِیْنَ ھُمْ مُّحْسِنُوْنَ ۔
النحل
’’اللہ تعالیٰ ان کے ساتھ ہے جو متقی ہیں اور احسان کرنے والے ہیں۔‘‘
اللہ تعالیٰ موسیٰ علیہ السلام سے فرماتا ہے:
اِنَّنِيْ مَعَكُمَآ اَسْمَعُ وَاَرٰى ۴۶
طٰہ
’’میں یقینا تم دونوں کے ساتھ ہوں۔ سنتا ہوں اور دیکھتا ہوں۔‘‘
اور فرمایا:
اِذْ يَقُوْلُ لِصَاحِبِہ لَا تَحْزَنْ اِنَّ اللہَ مَعَنَا ۰ۚ
التوبہ
’’جب وہ اپنے دوست سے کہہ رہا تھا، ڈرو مت! اللہ ہمارے ساتھ ہے۔‘‘
یہاں نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ مراد ہیں۔ سو اللہ تعالیٰ فرعون کے ساتھ نہیں بلکہ موسیٰ علیہ السلام و ہارون علیہ السلام کے ساتھ ہے اور ابوجہل اور اپنے دوسرے دشمنوں کے ساتھ نہیں بلکہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے دوست ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ ہے اور ان لوگوں کے ساتھ ہے جو متقی ہیں اور ان لوگوں کے ساتھ ہے جو احسان کرنے والے ہیں نہ کہ ظالم اور تعدّی پیشہ ہیں۔ اگر معیت کے معنی یہ ہوں کہ وہ بذاتہ ہر جگہ ہوتا ہے تو اس سے خبرِ خاص و خبرِ عام کا تناقض لازم آتا ہے۔ اس لیے صحیح معنی یہ ہوں گے کہ اللہ تعالیٰ ازروئے نصر ت و تائید ان لوگوں کے ساتھ ہے اور ان لوگوں کے ساتھ نہیں ہے اور فرمایا:
وَہُوَالَّذِيْ فِي السَّمَاۗءِ اِلٰہٌ وَّفِي الْاَرْضِ اِلٰہٌ ۰ۭ
الزخرف
’’اللہ تعالیٰ وہ ذات ہے کہ آسمان میں بھی معبود ہے اور زمین میں بھی معبود ہے۔‘‘
یعنی اُن مخلوقات کا بھی معبود ہے جو آسمانوں میں ہیں اور ان کا بھی الٰہ ہے جو زمین میں ہیں۔ چنانچہ فرمایا:
وَلَہُ الْمَثَلُ الْاَعْلٰى فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ۰ۚ وَہُوَالْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ ۲۷ۧ
الروم
’’آسمانوں اور زمینوں میں عمدہ سے عمدہ باتیں اس کی شان کے شایاں ہیں اور وہ زبردست ہے صاحب ِ حکمت ہے۔‘‘
اسی طرح اللہ کا فرمان ہے:
وَہُوَاللہُ فِي السَّمٰوٰتِ وَفِي الْاَرْضِ ۰ۭ
الانعام
اس کی تفسیر امام احمد اور دیگر ائمہِ علم نے اس طرح کی ہے کہ وہ آسمانوں اور زمین میں معبود ہے، امت کے سلف اور اس کے اماموں کا اس پر اتفاق ہے کہ رب تعالیٰ اپنی مخلوقات سے جدا ہے۔ اس کے اوصاف وہی ہیں جو کہ اس نے خود بیان کیے ہیں اور جو کہ اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے بتائے ہیں۔ ان میں کسی طرح کی تحریف، تعطیل، تمثیل یا کیفیت کی تعیین جائز نہیں۔ وہ صفاتِ نقص سے نہیں بلکہ صفاتِ کمال سے متصف ہے اور یہ معلوم ہی ہے کہ اس کی مثل کوئی نہیں اور اس کی صفات کمال میں سے کوئی اس کا ہمسر نہیں، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرما دیا ہے:
قُلْ ہُوَاللہُ اَحَدٌ ۱ۚ اَللہُ الصَّمَدُ ۲ۚ لَمْ يَلِدْ ۰ۥۙ وَلَمْ يُوْلَدْ ۳ۙ وَلَمْ يَكُنْ لَّہ كُفُوًا اَحَدٌ ۴ۧ
’’اے پیغمبر ! کہو کہ وہ اللہ ایک ہے۔ اللہ بے نیاز ہے نہ اس سے کوئی پیدا ہوا اور نہ وہ کسی سے پیدا ہوا ہے۔ اور نہ کوئی اس کے برابر کا ہے۔‘‘
اخلاص
ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ’’الصمد‘‘ وہ علیم ہے جو اپنے علم میں کامل ہو۔ وہ عظیم ہے جو اپنی عظمت میں کامل ہو۔ وہ قدیر ہے جو اپنی قدرت میں کامل ہو۔ وہ حکیم ہے جو اپنی حکمت میں کامل ہو اور وہ سرور ہے جو اپنی سروری میں کامل ہو۔
ابن مسعود رضی اللہ عنہ اور دوسرے صحابہ فرماتے ہیں کہ صمد وہ ہے جس کا جوف (کھوکھلاپن) نہ ہو اور احد وہ ہے جس کی نظیر نہ ہو۔ اللہ تعالیٰ کا نام ’’صمد‘‘ صفاتِ کمال سے متصف ہونے اور نقائص سے مبرّا ہونے کو متضمن ہے۔ اور اسی کا نام ’’احد‘‘ اس صفت کو متضمن ہے کہ اس کی مثل کوئی نہیں۔ اس مسئلے پر ہم سورۂ اخلاص کی تفسیر اور اس سورہ کے ثلث قرآن کے برابر ہونے کے مسئلہ کی توضیح کرتے ہوئے تفصیل کے ساتھ بحث کرچکے ہیں۔

نعمت اللہ
03-02-13, 12:20 PM
بہت سے لوگوں پر حقائقِ امر یہ دینیہ ایمانیہ اور حقائقِ خلقیہ کونیہ قدریہ باہم مشتبہ ہوجاتے ہیں۔ (اوّل الذکر دین و ایمان کے ساتھ اور ثانی الذکر تقدیر و تکوین کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں) اور خلق و امر دونوں اللہ سبحانہ و تعالیٰ ہی کے ہاتھ میں ہیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:
اِنَّ رَبَّكُمُ اللہُ الَّذِيْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ فِيْ سِـتَّۃِ اَيَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَي الْعَرْشِ ۰ۣ يُغْشِي الَّيْلَ النَّہَارَ يَطْلُبُہ حَثِيْثًا ۰ۙ وَّالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ وَالنُّجُوْمَ مُسَخَّرٰت بِاَمْرِہ ۰ۭ اَلَا لَہُ الْخَلْقُ وَالْاَمْرُ ۰ۭ تَبٰرَكَ اللہُ رَبُّ الْعٰلَمِيْنَ ۵۴
الاعراف
’’بے شک تمہارا پروردگار وہی اللہ ہے جس نے چھ دن میں آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا۔ پھر عرش پر مستوی ہوا۔ وہی رات کو دن کا پردہ بناتا ہے جو اس کے پیچھے لے کر چلی آتی ہے، اسی نے آفتاب و ماہتاب اور ستاروں کو پیدا کیا کہ یہ سب زیرِ فرمان الٰہی ہیں، سن رکھو کہ اللہ ہی کی خلق ہے اور اللہ ہی کا حکم۔ اللہ جو دنیا جہان کا پالنے والا ہے بابرکت ہے۔‘‘
سو اللہ سبحانہ و تعالیٰ ہر چیز کا پیدا کرنے والا ہے اور اس کا پروردگار اور بادشاہ ہے۔ اس کے سوا کوئی خالق نہیں۔ا س کے سوا کوئی پالنے والا نہیں۔ جو چاہتا ہے ہوتا ہے اور جو نہیں چاہتا نہیں ہوتا۔ جو حرکت و سکون معرضِ وجود میں آتی ہے، اس کے حکم، اسی کی تقدیر، اسی کی مشیئت، اسی کی قدرت اور اسی کے پیدا کرنے سے آتی ہے۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے اپنی اور اپنے رسولوں کی اطاعت کا حکم دیا ہے۔ نیز اپنی اور اپنے پیغمبروں کی نافرمانی سے منع فرمایا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے توحید و اخلاص کا حکم دیا اور اپنے ساتھ شرک کرنے سے منع کیا ہے چنانچہ سب سے بڑی نیکی توحید اور سب سے بڑی بدی اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

اِنَّ اللہَ لَا يَغْفِرُ اَنْ يُّشْرَكَ بِہ وَيَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِكَ لِمَنْ يَّشَاۗءُ ۰ۚ
النساء
’’اللہ تعالیٰ یہ نہیں بخشتا کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرایا جائے اور اس سے کم درجے کے گناہ جس کو چاہے بخش دیتا ہے۔‘‘
اور فرمایا:
وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَّتَّخِذُ مِنْ دُوْنِ اللہِ اَنْدَادًا يُّحِبُّوْنَہُمْ كَحُبِّ اللہِ ۰ۭ وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اَشَدُّ حُبًّا لِّلہِ ۰ۭ
البقرہ
’’بعض لوگ اللہ کو چھوڑ کر اوروں کو معبود بناتے ہیں جن سے وہ ایسی محبت کرتے ہیں جیسی محبت اللہ تعالیٰ کے ساتھ ہونی چاہیے اور جو لوگ ایمان والے ہیں وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ اس سے بھی زیادہ محبت کرتے ہیں۔‘‘
صحیحین میں ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے آپ فرماتے ہیں، میں نے عرض کیا ’’یارسول اللہ! کون سا گناہ سب سے بڑا ہے۔‘‘ جناب محمد رسول اللہ نے فرمایا ’’یہ کہ تو اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک ٹھہرائے حالانکہ تجھے اس نے پیدا کیا ہے۔‘‘۔ میں نے عرض کیا پھر کون سا؟ فرمایا ’’یہ کہ تو اپنی اولاد کو اس ڈر سے قتل کر ڈالے کہ وہ تیرے ساتھ کھانا کھائے گی۔‘‘ میں نے عرض کیا پھر کون سا؟ فرمایا ’’یہ کہ تو اپنے پڑوسی کی بیوی کے ساتھ بدکاری کرے۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے اس کی تصدیق اس آیت میں فرمائی ہے:
وَالَّذِيْنَ لَا يَدْعُوْنَ مَعَ اللہِ اِلٰــہًا اٰخَرَ وَلَا يَقْتُلُوْنَ النَّفْسَ الَّتِيْ حَرَّمَ اللہُ اِلَّا بِالْحَقِّ وَلَا يَزْنُوْنَ ۰ۚ وَمَنْ يَّفْعَلْ ذٰلِكَ يَلْقَ اَثَامًا ۶۸ۙ يُّضٰعَفْ لَہُ الْعَذَابُ يَوْمَ الْقِيٰمَۃِ وَيَخْلُدْ فِيْہ مُہَانًا ۶۹ۤۖ اِلَّا مَنْ تَابَ وَاٰمَنَ وَعَمِلَ عَمَلًا صَالِحًا فَاُولٰۗىِٕكَ يُبَدِّلُ اللہُ سَـيِّاٰتِہِمْ حَسَنٰتٍ ۰ۭ وَكَانَ اللہُ غَفُوْرًا رَّحِيْمًا ۷۰
الفرقان
’’اور وہ جو اللہ کے ساتھ کسی دوسرے معبود کو نہ پکاریں اور ناحق کسی شخص کو جان سے نہ ماریں کہ جسے اللہ نے حرام کر رکھا ہے اور نہ زنا کے مرتکب ہوں، اور جو مذکورہ بالا گناہوں کا ارتکاب کرے گا وہ اپنے گناہوں کا خمیازہ بھگتے گا۔ قیامت کے دن اسے دہرا عذاب دیا جائے گا اور ذلیل و خوار ہو کر اسی میں ہمیشہ رہے گا مگر جس نے توبہ کی، ایمان لایا اور نیک کام کیے، ایسے لوگوں کے گناہوں کو اللہ نیکیوں سے بدل دے گا اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘
(بخاری، کتاب التفسیر، تفسیر سورۃ البقرہ و تفسیر سورۃ فرقان، رقم: ۴۷۶۱، مسلم، کتاب الایمان، باب کون الشرک اقبح الذنوب۔ رقم: ۲۵۸۔)
اللہ تبارک و تعالیٰ نے عدل و احسان اور اقارب کو مالی امداد دینے کا حکم فرمایا اور بے حیائی، ناشائستگی اور ایک دوسرے پر زیادتی کرنے سے منع کیا ہے۔ اس نے یہ بھی بتایا ہے کہ وہ متقی، محسن، عادل بہت توبہ کرنے والے، پاک صاف رہنے والے لوگوں اور ایسے لوگوں سے محبت کرتا ہے جو اس کی راہ میں صف بہ صف کھڑے ہو کر جہاد کرتے ہوئے ایسے معلوم ہوتے ہیں گویا وہ سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہیں۔ جس چیز سے اس نے منع کر دیا ہے، اس کا ارتکاب اسے بہت ناپسند ہوتا ہے۔ چنانچہ اس نے سورۃ الاسرائیل میں فرمایا:
کُلُّ ذٰلِکَ کَانَ سَیِّئُہ عِنْدَ رَبِّکَ مَکْرُوْھًا
اسرائیل
’’ان سب باتوں میں جو بری باتیں ہیں، وہ تیرے پروردگار کو ناپسند ہیں۔‘‘
اس سے پہلے شرک اور والدین کی نافرمانی سے منع فرمایا اور قرابت والوں کو ان کے حقوق ادا کرنے کا حکم دیا۔ اسراف سے بھی روکا اور بخل سے بھی۔ انہی کے ذکر کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:
کُلُّ ذٰلِکَ کَانَ سَیِّئُہ عِنْدَ رَبِّکَ مَکْرُوْھًا
اسرائیل
’’ان سب باتوں میں جو بری باتیں ہیں، وہ تیرے پروردگار کو ناپسند ہیں۔‘‘
اللہ سبحانہ و تعالیٰ فساد کو پسند نہیں کرتا، اور اپنے بندو ںسے کفر پر راضی نہیں ہوتا۔ بندے کو حکم ہے کہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ہمیشہ توبہ کیا کرے۔ چنانچہ فرمایا:
وَتُوْبُوْا اِلَی اللہِ جَمِیْعًااَیُّھَاالْمُؤْم ِنُوْنَ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَ
النور
’’اے مومنو! سب اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں توبہ کرو، تاکہ تم کو نجات ملے۔‘‘
صحیح بخاری میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا:
اَیُّھَا النَّاسُ تُوْبُوْا اِلٰی رَبِّکُمْ فَوَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہ اِنِّیْ لَاَسْتَغْفِرُ اللہَ وَاَتُوْبُ اِلَیْہِ فِی الْیَوْمِ اَکْثَرَ مِنْ سَبْعِیْنَ مَرَّۃً
(بخاری ، کتاب الدعوات، باب استغفار النبی صلی اللہ علیہ وسلم فی الیوم واللیلۃ رقم: ۶۳۰۷، نسائی، عمل الیوم واللیلۃ۔)
’’اے لوگو! اپنے پروردگار کی بارگاہ میں توبہ کرو، مجھے اس ذات کی قسم ہے جس کے قبضہ میں میری جان ہے کہ میں دن میں ستر مرتبہ سے زیادہ اللہ تعالیٰ سے معافی مانگتا اور اس کی بارگاہ میں توبہ کرتا ہوں۔‘‘
صحیح مسلم میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا:
اِنَّہ لَیُغَانُ عَلٰی قَلْبِیْ وَاِنِّیْ لَاسْتَغْفِرُ اللہَ فِی الْیَوْمِ مِائَۃَ مَرَّۃٍ
(مسلم، کتاب الذکر، باب استحباب الاستغفار والاستکثار رقم: ۶۸۵۸، ابوداؤد، کتاب الصلاۃ، باب فی الاستغفار، رقم: ۱۵۱۵۔)
’’یعنی میرے دل پر پردہ سا آجاتا ہے اور میں دن میں سو بار اللہ سے استغفار کرتا ہوں۔‘‘
سنن میں ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا ’’کہ ہم شمار کرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک مجلس میں سو مرتبہ (یا یہ کہا کہ سو سے زیادہ مرتبہ) کہا کرتے تھے۔
رَبِّ اغْفِرْلِیْ وَتُبْ عَلَیَّ اِنَّکَ اَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ
(ابوداؤد، کتاب الصلاۃ، باب فی الاستغفار رقم: ۱۵۱۶، ترمذی کتاب الدعوات، باب مایقول اذا قام من مجلسہ، رقم: ۳۴۳۴، مسند احمد ۲؍۸۴۔)
’’اے میرے پروردگار میرے گناہوں کو بخش دے۔ میری توبہ قبول فرما! بےشک تو توبہ قبول کرنے والا اور رحم کرنے والا ہے۔‘‘
اور اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ بندے اپنے نیک اعمال استغفار پر ختم کیا کریں۔ چنانچہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز سے سلام پھیرتے تھے تو تین مرتبہ استغفار پڑھا کرتے تھے اور کہا کرتے تھے:
اَللّٰھُمَّ اَنتَ السَّلَامُ وَمِنکَ السَّلَامُ تَبَارَکتَ یَا ذَاالجَلَالِ وَالاِکرَامِ
(مسلم ، کتاب المساجد، باب استحباب الذکر، ۱۳۳۴۔)
’’اے اللہ تو سلام ہے اور تجھی سے سلامتی ہے، اے بزرگ اور بخشش والے تو بابرکت ہے۔‘‘
جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث صحیح میں ثابت ہے۔
نیز اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
وَالْمُسْتَغْفِرِیْنَ بِالْاَسْحَارِ۔
آل عمران
’’اور سحر کے وقت استغفار کرنے والے ۔‘‘
چنانچہ اس نے اپنے بندوں کو حکم دیا کہ رات کو نماز پڑھیں اور سحری کے وقت استغفار کیا کریں۔ اسی طرح سورة المزمل، جس کا نام سورة قیام اللیل بھی ہے، کا اختتام ان الفاظ پر کیا:
وَاسْتَغْفِرُوا اللہَ اِنَّ اللہَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ ۔
المزمل
’’اور اللہ تعالیٰ سے استغفار کرو، بے شک اللہ تعالیٰ بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘
حج کے متعلق فرمایا:
فَاِذَآ اَفَضْتُمْ مِّنْ عَرَفٰتٍ فَاذْكُرُوا اللہَ عِنْدَ الْمَشْعَرِ الْحَرَامِ ۰۠ وَاذْكُرُوْہُ كَـمَا ھَدٰىكُمْ ۰ۚ وَاِنْ كُنْتُمْ مِّنْ قَبْلِہ لَمِنَ الضَّاۗلِّيْنَ ۱۹۸ ثُمَّ اَفِيْضُوْا مِنْ حَيْثُ اَفَاضَ النَّاسُ وَاسْتَغْفِرُوا اللہَ ۰ۭ اِنَّ اللہَ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ ۱۹۹
البقرہ
’’پھر جب عرفات سے لوٹو تو مشعرالحرام میں ٹھہر کر اللہ کی یاد کرو اور اس کی یاد اس طریق پر کرو ، جو اللہ نے تم کو بتایا ہے اور اس سے پہلے تم ضرور گمراہوں میں سے تھے۔ پھر جس جگہ سے لوگ چلیں تم بھی وہیں سے چلو اور اللہ سے مغفرت چاہو۔ بے شک اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘
جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم غزوئہ تبوک پر روانہ ہوئے، اور یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا آخری غزوہ تھا، تو اس کے آخر میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں:
لَقَدْ تَّابَ اللہُ عَلَي النَّبِيِّ وَالْمُہٰجِرِيْنَ وَالْاَنْصَارِ الَّذِيْنَ اتَّبَعُوْہُ فِيْ سَاعَۃِ الْعُسْرَۃِ مِنْۢ بَعْدِ مَا كَادَ يَزِيْغُ قُلُوْبُ فَرِيْقٍ مِّنْھُمْ ثُمَّ تَابَ عَلَيْہِمْ ۰ۭ اِنَّہ بِہِمْ رَءُوْفٌ رَّحِيْمٌ ۱۱۷ۙ وَّعَلَي الثَّلٰثَۃِ الَّذِيْنَ خُلِّفُوْا ۰ۭ حَتّٰٓي اِذَا ضَاقَتْ عَلَيْہِمُ الْاَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ وَضَاقَتْ عَلَيْہِمْ اَنْفُسُھُمْ وَظَنُّوْٓا اَنْ لَّا مَلْجَاَ مِنَ اللہِ اِلَّآ اِلَيْہِ ۰ۭ ثُمَّ تَابَ عَلَيْہِمْ لِيَتُوْبُوْا ۰ۭ اِنَّ اللہَ ھُوَالتَّوَّابُ الرَّحِيْمُ ۱۱۸ۧ
التوبہ
’’البتہ اللہ تعالیٰ نے پیغمبر پر بڑا ہی فضل کیا اور مہاجرین و انصار پر جنہوں نے تنگدستی کے وقت میں پیغمبر کا ساتھ دیا۔ جب کہ ان میں سے بعض کے دل ڈگمگا چلے تھے پھر اس نے ان پر اپنا فضل کیا، اس میں شک نہیں کہ اللہ ان سب پر نہایت درجے مہربان اور رحیم ہے اور ان تین پر بھی جن کا معاملہ التواء میں رکھا گیا تھا۔ یہاں تک کہ جب زمین باوجود فراخی کے ان پر تنگی کرنے لگی اور وہ اپنی جان سے بھی تنگ آگئے تھے اور سمجھ گئے کہ اللہ سے خود اسی کے سوا اور کوئی جائے پناہ نہیں۔ پھر اللہ نے ان کی توبہ قبول کی تاکہ وہ توبہ کرتے رہیں، بے شک اللہ بڑا ہی توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے۔‘‘
اور یہ آیات آخر میں نازل ہونے والی آیات میں سے ہیں۔ بعض یہ بھی کہتے ہیں کہ سب سے آخر یہ سورت نازل ہوئی:
اِذَا جَاۗءَ نَصْرُ اللہِ وَالْفَتْحُ ۱ۙ وَرَاَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُوْنَ فِيْ دِيْنِ اللہِ اَفْوَاجًا ۲ۙ فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَاسْتَغْفِرْہُ اِنَّہ كَانَ تَوَّابًا ۳ۧ
النصر
’’جب اللہ کی مدد آپہنچی اور مکہ فتح ہوگیا اور تم نے لوگوں کو دیکھ لیا کہ اللہ کے دین میں جوق در جوق داخل ہورہے ہیں تو تم اپنے پروردگار کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح و تقدیس میں مشغول ہوجائو اور اس سے گناہ کی معافی مانگو۔ بے شک وہ بڑا توبہ قبول کرنے والا ہے۔‘‘
اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر کو حکم دیا کہ وہ اپنے کام کو تسبیح و استغفار پر ختم کرے۔ صحیحین میں اُمّ المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ طیبہ طاہرہ rسے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم رکوع وسجود میںقرآن کریم کے ارشاد کی تعمیل کرتے ہوئے یہ دُعا پڑھا کرتے تھے۔
سُبحَانَکَ اللّٰھُمَّ رَبَّنَا وَبِحَمدِکَ اَللّٰھُمَّ اغفِرلِی
(بخاری، کتاب الاذان ، باب الدعاء فی الرکوع، رقم: ۷۹۴، ومسلم کتاب الصلاۃ، باب مایقال فی الرکوع والسجود رقم: ۱۰۸۵، مسند احمد ۴؍۴۳۔)
’’اے اللہ ہمارے پروردگار! میں تیری تسبیح و تقدیس بیان کرتا ہوں اور تیری حمد بیان کرتا ہوں، اے اللہ مجھے بخش دے۔‘‘
صحیحین میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کہا کرتے تھے:

اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِیْ خَطِیْئَتِیْ وَجَھْلِیْ وَاِسْرَافِیْ فِیْ اَمْرِیْ وَمَا اَنْتَ اَعْلَمُ بِہ مِنِّیْ۔ اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِیْ ھَزْلِیْ وَجِدِّیْ وَخَطَئِیْ وَعَمدِیْ وَکُلُّ ذٰلِکَ عِنْدِیْ۔ اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِیْ مَاقَدَّمْتُ وَمَا اَخَّرْتُ وَمَا اَسْرَرْتُ وَمَا اَعْلَنْتُ لَا اِلٰہَ اِلَّا اَنْتَ
(بخاری، کتاب الدعوات باب قول النبی ، اغفرلی، مسلم ، کتاب الذکروالدعاء باب التعوذ من شرما عمل رقم: ۶۹۰۱، مسند احمد ۴؍ ۴۱۷۔)
’’اے اللہ میری خطا معاف فرما اور میری جہالت اور میرے اسراف سے درگذر فرما اور اس بات سے درگذر فرما جو کہ تجھے میری نسبت زیادہ اچھی طرح معلوم ہے، اے اللہ! میری ہنسی مذاق کی باتوں اور مرے سوچے سمجھے ہوئے کاموں میں میری بھول چوک کے قصوروں اور میرے دیدہ و دانستہ گناہوں کو بخش دے، اللہ میرے ان تمام گناہوں کو بخش دے جو کہ میں نے پہلے کیے ہیں اور جو پیچھے کیے ہیں اور جو پوشیدگی میں کیے ہیں اور جو کھلم کھلا کیے ہیں، تیرے سوا کوئی معبود نہیں۔‘‘
صحیحین میں ہے کہ سیدناابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ مجھے وہ دعا سکھا دیجیے جو میں نماز میں پڑھا کروں؟ فرمایا یہ پڑھا کرو:
اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ ظَلَمْتُ نَفْسِیْ ظُلْمًا کَثِیْرًا وَلَا یَغْفِرُ الذُّنُوْبَ اِلَّا اَنْتَ فَاغْفِرْلِیْ مَغْفِرَۃً مِنْ عِنْدِکَ وَارْحَمْنِیْ اِنَّکَ اَنْتَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ۔
’’اے اللہ! میں نے اپنی جان پر بہت ظلم کیا ہے اور تیرے سوا کوئی گناہوں کو معاف نہیں کر سکتا، اپنی خاص مغفرت سے میرے گناہ بخش دے اور مجھ پر رحم فرما۔ بے شک تو بہت بخشنے والا مہربان ہے
(بخاری، کتاب الاذان، باب الدعاء قبل السلام ۸۳۴، مسلم کتاب الذکر والدعاء باب الدعوات والتعوذ رقم: ۶۸۶۹۔)
سنن میں (مثلاً سنن ترمذی، سنن ابی دائود وغیرہ یعنی حدیث کی وہ کتابیں جو بخاری مسلم کے سوا ہیں۔) سیدناابوبکر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے عرض کیا کہ یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھے وہ دعا سکھا دیجیے جو میں صبح و شام پڑھا کروں؟ فرمایا یہ پڑھا کرو۔
اَللّٰھُمَّ فَاطِرَالسَّمٰوَاتِ وَالْاَرْضِ عَالِمَ الْغَیْبِ وَالشَّھَادَۃِ رَبَّ کُلِّ شَیْءٍ وَمَلِیْکَہ اَشْھَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اَنْتَ اَعُوْذُبِکَ مِنْ شَرِّ نَفْسِیْ وَمِنْ شَرِّالشَّیْطٰنِ وَشِرْکِہ وَاَنْ اَقْتَرِفَ عَلٰی نَفْسِیْ سُوْئً اَوْ اَجُرَّہ اِلٰی مُسْلِمٍ
(مسند احمد، ۱؍۹۔۱۰۔۱۴، الادب المفرد، رقم الحدیث: ۱۲۰۲، النسائی عمل الیوم واللیلۃ۔)
’’اے آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے غیب اور آشکارا کے جاننے والے ہر چیز کے پروردگار و مالک! میں گواہی دیتا ہوں کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں ہے میں اپنے نفس کی شر سے اور شیطان کی شر اور اس کے شرک سے تیرے پاس پناہ لیتا ہوں اور اس بات سے بھی پناہ مانگتا ہوں کہ میں اپنی جان پر کسی برائی کا وبال لوں یا کسی دوسرے مسلمان کی طرف کھینچ لے جائوں۔‘‘
جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوبکر رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ یہ دعا صبح و شام اور بستر پر لیٹتے وقت پڑھا کرو۔ ان آیات و احادیث سے ثابت ہوتا ہے کہ کسی شخص کے لیے یہ خیال کرنا جائز نہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں توبہ کرنے اور گناہوں کی معافی مانگنے سے مستغنی ہے بلکہ ہر شخص ہمیشہ کے لیے توبہ و استغفار کا محتاج ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے۔
وَ حَمَلَہَا الْاِنْسَانُ ۰ ۭاِنَّہ كَانَ ظَلُوْمًا جَہُوْلًا ۷۲ۙ لِّيُعَذِّبَ اللہُ الْمُنٰفِقِيْنَ وَالْمُنٰفِقٰتِ وَالْمُشْرِكِيْنَ وَالْمُشْرِكٰتِ وَيَتُوْبَ اللہُ عَلَي الْمُؤْمِنِيْنَ وَالْمُؤْمِنٰتِ ۰ۭ وَكَانَ اللہُ غَفُوْرًا رَّحِيْمًا ۷۳ۧ
الاحزاب
’’اور اس بارِ امانت کو انسان نے اٹھا لیا۔ بے شک وہ اکھڑ اور بے سمجھ ہے، اس کا نتیجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ منافق مردوںاورمنافق عورتوں ، مشرک مردوں اور مشرک عورتوں کو عذاب دے گا اور مومن عورتوں اور مردوں کی توبہ قبول کرے گا، اللہ تعالیٰ بہت بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘
سو انسان ظالم اور جاہل ہے اور مومنین و مومنات کی غایت توبہ ہے اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں اپنے نیک بندوں کے توبہ کرنے اور اللہ تعالیٰ کے ان کو بخش دینے کا ذکر فرمایا ہے۔
صحیح بخاری میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا’’کوئی شخص اپنے عمل سے جنت میں نہیں جائے گا۔‘‘ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا ’’یارسول اللہ کیا آپ بھی؟‘‘ فرمایا میں بھی جنت میں داخل نہ ہوسکوں گا، الا یہ کہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل و رحمت سے مجھے ڈھانپ لے
(بخاری، کتاب المرضی، باب تمنی المریض الموت، رقم: ۵۶۷۳، مسلم کتاب صفات المنافقین، باب لن یدخل احدالجنۃبعملہ رقم: ۷۱۱۱۔)
یہ حدیث قرآن کریم کی اس آیت کی منافی نہیں ہے:
كُلُوْا وَاشْرَبُوْا ہَنِيْۗـــــًٔــــۢا بِمَآ اَسْلَفْتُمْ فِي الْاَيَّامِ الْخَالِيَۃِ ۲۴
الحاقہ
’’گذشتہ ایام میں تم نے جو اعمال کیے ہیں، ان کے بسبب مزے سے کھائو اور پیو۔‘‘
کیونکہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے مقابلہ و معاوضہ کی (با) کی نفی کی ہے، نہ کہ (با) سببیہ کی اور قرآن نے (با) سببیہ کا اثبات کیا ہے۔ کسی نے جو یہ کہا ہے کہ {اِذَا اَحَبَّ اللہُ عَبْدًا لَمْ تَضُرَّۃُ الذُّنُوْبُ} (جب اللہ تعالیٰ کسی بندے سے محبت کرتا ہے تو گناہ اسے نقصان نہیں پہنچا سکتے) تو اس کے معنی یہ ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ کسی بندے سے محبت کرتا ہے تو اس کے دل میں توبہ و استغفار کرنے کا خیال پیدا کر دیتا ہے اور وہ گناہوں پر اصرار نہیں کرتا۔ اور جو شخص یہ سمجھتا ہے کہ گناہ اس شخص کو بھی نقصان نہیں پہنچا سکتے، جو ان پر اصرار کرے۔ وہ گمراہ ہے کتاب و سنت اور اجماع سلف صالحین اور ائمہ مجتہدین کا مخالف ہے بلکہ امرِ واقع یہ ہے کہ جو شخص ذرہ برابر نیکی کرے گا، اسے دیکھ لے گا اور جو ذرہ برابر برائی کرے گا، اسے بھی دیکھ لے گا اور اللہ کے جن بندوں کی مدح کی گئی ہے، وہ اللہ تعالیٰ کے اس قولِ مبارک میں مذکور ہیں:
وَسَارِعُوْٓا اِلٰى مَغْفِرَۃٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَجَنَّۃٍ عَرْضُھَا السَّمٰوٰتُ وَالْاَرْضُ ۰ۙ اُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِيْنَ ۱۳۳ۙ الَّذِيْنَ يُنْفِقُوْنَ فِي السَّرَّاۗءِ وَالضَّرَّاۗءِ وَالْكٰظِمِيْنَ الْغَيْظَ وَالْعَافِيْنَ عَنِ النَّاسِ ۰ۭ وَاللہُ يُحِبُّ الْمُحْسِـنِيْنَ ۱۳۴ۚ وَالَّذِيْنَ اِذَا فَعَلُوْا فَاحِشَۃً اَوْ ظَلَمُوْٓا اَنْفُسَھُمْ ذَكَرُوا اللہَ فَاسْتَغْفَرُوْا لِذُنُوْبِھِمْ ۰۠ وَمَنْ يَّغْفِرُ الذُّنُوْبَ اِلَّا اللہُ ۰ۣ۠ وَلَمْ يُصِرُّوْا عَلٰي مَا فَعَلُوْا وَھُمْ يَعْلَمُوْنَ ۱۳۵
آل عمران
’’اور اپنے پروردگار کی مغفرت اور جنت کی طرف لپکو جس کا پھیلائو اتنا بڑا ہے جیسے زمین و آسمان کا پھیلائو۔ سجی سجائی ان پرہیزگاروں کے لیے تیار ہے جو خوشحالی اور تنگدستی دونوں حالتوں میں اللہ کے نام خرچ کرتے اور غصے کو ضبط کرتے اور لوگوں کے قصوروں سے درگزر کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ نیکی کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے اور وہ لوگ جو ایسے نیک دل ہیں کہ بہ تقاضائے بشریت جب کوئی بے حیائی کا کام کر بیٹھتے ہیں یا کوئی بے جا بات کر کے اپنا یعنی اپنے دین کا کچھ نقصان کر لیتے ہیں تو اللہ کو یاد کر کے اپنے گناہوں کی معافی مانگنے لگتے ہیں اور اللہ کے سوا اپنے بندوں کے گناہوں کا معاف کرنے والا ہے ہی کون اور جو اپنے کیے پر دیدہ و دانستہ اصرار نہیں کرتے۔‘‘

نعمت اللہ
03-02-13, 12:33 PM
جس شخص کا یہ خیال ہے کہ تقدیر گناہ گاروں کے لیے حجت ہے تو وہ ان مشرکین کی جنس سے ہے جن کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
سَيَقُوْلُ الَّذِيْنَ اَشْرَكُوْا لَوْ شَاۗءَ اللہُ مَآ اَشْرَكْنَا وَلَآ اٰبَاۗؤُنَا وَلَا حَرَّمْنَا مِنْ شَيْءٍ ۰ۭ
’’مشرکین کہیں گے کہ اگر اللہ چاہتا تو ہم شرک نہ کرتے اور نہ ہمارے باپ دادا ایسا کرتے اور نہ ہم کسی حلال چیز کو حرام کرتے۔‘‘
الانعام
اللہ تعالیٰ نے ان کے جواب میں فرمایا:
كَذٰلِكَ كَذَّبَ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِہِمْ حَتّٰي ذَاقُوْا بَاْسَـنَا ۰ۭ قُلْ ہَلْ عِنْدَكُمْ مِّنْ عِلْمٍ فَتُخْرِجُوْہُ لَنَا ۰ۭ اِنْ تَتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ وَاِنْ اَنْتُمْ اِلَّا تَخْرُصُوْنَ ۱۴۸ قُلْ فَلِلّٰہِ الْحُجَّۃُ الْبَالِغَۃُ ۰ۚ فَلَوْ شَاۗءَ لَہَدٰىكُمْ اَجْمَعِيْنَ ۱۴۹
الانعام
’’اسی طرح جو لوگ ان سے پہلے ہو گذرے ہیں، جھٹلاتے رہے ہیں، حتیٰ کہ انہوں نے ہمارے عذاب کا مزا چکھا، اے پیغمبر! ان سے پوچھو کہ تمہارے پاس کوئی سند بھی ہے کہ اس کو ہمارے لیے نکالو۔ تم تو نرے وہموں پر چلتے اور نری اٹکلیں ہی دوڑاتے ہو۔ اے پیغمبر! ان سے کہو کہ اللہ کی حجت کامل ہے۔ وہ چاہتا تو تم سب کو رستہ دکھا دیتا۔‘‘
اگر تقدیر کسی کے لیے حجت ہوسکتی تو اللہ تعالیٰ پیغمبروں کے جھٹلانے والوں کو عذاب نہ دیتا اور قومِ نوح، عاد، ثمود، قومِ لوط اور قومِ فرعون عذاب الٰہی سے ہلاک نہ ہوتیں اور زیادتی کرنے والوں پر حدیں قائم کرنے کا حکم نہ دیا جاتا۔ تقدیر کو حجت وہی بنا سکتا ہے جو اپنی خواہش کا پیرو ہو اور اللہ تعالیٰ کی بتائی ہوئی راہ سے منحرف ہو۔ جو شخص تقدیر کو گناہ گاروں کے لیے حجت سمجھتا ہے، وہ ان سے مذمت اور عذاب کو اٹھا دیتا ہے۔ اس کو چاہیے کہ جب اس پر کوئی شخص تعدی کرے تو وہ اس کی نہ مذمت کرے اور نہ اس کو تکلیف پہنچائے بلکہ اس کے نزدیک لذت دینے والی اور دُکھ پہنچانے والی چیز برابر ہونی چاہیے۔ اس کے ساتھ کوئی برائی کرے یا نیکی، اس کے نزدیک کوئی فرق نہیں اور یہ امر طبعاً، عقلاً اور شرعاً محال ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
اَمْ نَجْعَلُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ كَالْمُفْسِدِيْنَ فِي الْاَرْضِ ۰ۡاَمْ نَجْعَلُ الْمُتَّقِيْنَ كَالْفُجَّارِ ۲۸
ص
’’کیا ہم ایمان لانے والوں اور نیک کام کرنے والوں کو ان لوگوں کی طرح کر کے رکھیں گے جو زمین میں فساد کرتے ہیں یا ہم متقین کو گناہ گاروں کی طرح قرار دیں گے۔‘‘
پھر فرمایا:
اَفَنَجْعَلُ الْمُسْلِمِيْنَ كَالْمُجْرِمِيْنَ ۳۵ۭ
ن
’’کیا ہم مسلمین کو مجرمین کی طرح رکھیں گے۔‘‘
نیز فرمایا:
اَمْ حَسِبَ الَّذِيْنَ اجْتَرَحُوا السَّيِّاٰتِ اَنْ نَّجْعَلَہُمْ كَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ ۰ۙ سَوَاۗءً مَّحْيَاہُمْ وَمَمَاتُہُمْ ۰ۭ سَاۗءَ مَا يَحْكُمُوْنَ ۲۱ۧ
الجاثیہ
’’کیا جن لوگوں نے برے کام کیے ہیں، ان کو ہم ان لوگوں جیسا کر کے رکھیں گے، جو ایمان بھی لائے اور کام بھی اچھے کرتے تھے۔ کیا ان دونوں جماعتوں کا جینا مرنا ایک برابر ہوگا؟ یہ لوگ کیا ہی برے حکم لگایا کرتے ہیں۔‘‘
اور فرمایا:
اَفَحَسِبْتُمْ اَنَّمَا خَلَقْنٰكُمْ عَبَثًا وَّاَنَّكُمْ اِلَيْنَا لَا تُرْجَعُوْنَ ۱۱۵
المومنون
’’کیا تمہارا یہ خیال ہے کہ ہم نے تمہیں بے مقصد پید اکر دیا ہے اور کیا تم ہماری طرف نہ لوٹائے جائو گے۔‘‘
اور فرمایا:
اَيَحْسَبُ الْاِنْسَانُ اَنْ يُّتْرَكَ سُدًى ۳۶ۭ
القیامۃ
’’کیا انسان یہ خیال کرتا ہے کہ وہ یونہی چھوڑ دیا جائے گا ۔‘‘(یعنی مہمل ہے جو امرونہی کا مکلف نہ ہو۔)
صحیحین میں ثابت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آدم علیہ السلام اور موسیٰ علیہ السلام کی آپس میں بحث ہوئی۔ اس طرح کہ موسیٰ علیہ السلام نے کہا اے آدم! آپ ابوالبشر ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنے ہاتھ سے پیدا کیا اور آپ میں روح پھونکی۔ اپنے فرشتوں سے آپ کے لیے سجدہ کرایا۔ اس کے باوجود آپ نے اپنے آپ کو اور ہم کو جنت سے نکالا۔ آدم علیہ السلام نے جواب دیا۔ آپ وہ موسیٰ علیہ السلام ہیں، جنہیں اللہ نے صفت ِ کلیمی سے منتخب فرمایا، اپنے ہاتھ سے آپ کے لیے تورات لکھی۔ ذرا یہ تو فرمائیے کہ میری پیدائش سے کتنی مدت پہلے آپ نے یہ آیت لکھی ہوئی دیکھی
وَعَصٰی آدَمُ رَبَّہ فَغَوٰی
طہٰ
’’آدم نے اپنے پروردگار کی نافرمانی کی پس وہ بھٹک گیا۔‘‘
موسیٰ علیہ السلام نے جواب دیا کہ چالیس سال پہلے فرمایا تو پھر آپ مجھے ایک ایسی بات پر کیوں ملامت کرتے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے میری پیدائش سے چالیس سال پہلے میری تقدیر میں لکھ دی تھی۔ جناب محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ آدم علیہ السلام موسیٰ علیہ السلام پر دلیل میں غالب آگئے
(بخاری، کتاب الانبیاء، باب وفات موسیٰ، رقم: ۳۴۰۹، مسلم ، کتاب القدر، باب حجاج آدم و موسیٰ، رقم: ۲۷۴۲، ابوداؤد، کتاب السنۃ، باب فی القدر، رقم: ۴۷۰۲۔)
اس حدیث کے بارے میں دو گروہ گمراہ ہوئے ہیں۔ ایک گروہ نے اس حدیث سے اس بِنا پر انکار ہی کر دیا کہ ان کے خیال میں یہ حدیث نافرمانیوں کا ارتکاب کرنے والوں کو مذمت اور عذاب سے بربنائے تقدیر بری قرار دیتی ہے۔
دوسرا گروہ پہلے گروہ سے بھی بدتر ہے۔ وہ تقدیر کو حجت قرار دیتے ہیں۔ کبھی یہ کہتے ہیں کہ تقدیر ان اہلِ حقیقت کے لیے حجت ہے جن کو اس کا شہود حاصل ہے یا ان لوگوں کے لیے جن کی رائے یہ ہے کہ وہ فعل پر قادر ہی نہیں ہیں۔ بعض کہتے ہیں کہ آدم علیہ السلام سیدناموسی علیہ السلام پر دلیل میں اس لئے غالب ہوئے کہ وہ ان کے باپ ہیں یا اس لیے کہ وہ توبہ کرچکے تھے یا اس لیے کہ گناہ ایک شریعت کے زمانے میں ہوا تھا اور ملامت دوسری شریعت کے دور میں یا اس لیے کہ یہ دنیا میں ہوگا نہ کہ قیامت میں۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ سب تاویلات باطل ہیں۔
حدیث کے معنی یہ ہیں کہ موسیٰ علیہ السلام نے اپنے باپ کو محض اس وجہ سے ملامت کیا کہ شجرہِ ممنوعہ سے اس کے پھل کھانے کی وجہ سے اس کی آئندہ نسلوں کو تکلیفیں پہنچیں۔ اسی لیے موسیٰ علیہ السلام نے آدم علیہ السلام سے کہا کہ آپ نے ہمیں اور اپنے آپ کو کیوں جنت سے نکال دیا۔ یہ ملامت محض اس وجہ سے نہیں کہ آدم علیہ السلام نے گناہ کیا اور توبہ کی کیونکہ موسیٰ علیہ السلام کو معلوم تھا کہ گناہ سے توبہ کرنے والا مستحقِ ملامت نہیں ہوتا۔ اور وہ توبہ بھی کر چکے تھے۔ نیز اگر آدم علیہ السلام کا یہ عقیدہ ہوتا کہ تقدیر کی وجہ سے وہ ملامت سے بری ہوگئے ہیں تو وہ یہ نہ کہتے:
رَبَّنَا ظَلَمْنَآ اَنْفُسَـنَا ۰۫ وَاِنْ لَّمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَكُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِيْنَ ۲۳
الاعراف
’’اے ہمارے پروردگار! ہم نے اپنے نفسوں پر ظلم کیا اور اگر تو مغفرت نہ کرے اور ہم پر رحم نہ کرے تو ہم زیاں کاروں میں سے ہوجائیں گے۔‘‘
مومن کو حکم ہے کہ مصائب آئیں تو صبر کرے اور راضی برضا ہوجائے اور اگر گناہ سرزد ہو جائے تو معافی مانگے توبہ کرے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
فَاصْبِرْ اِنَّ وَعْدَ اللہِ حَقٌّ وَّاسْتَـغْفِرْ لِذَنْۢبِكَ
الغافر
’’صبر کرو اللہ کا وعدہ سچا ہے اور اپنے گناہوں سے معافی مانگ۔‘‘
سو مصائب پر صبر کرنے اور معائب (گناہوں) پر استغفار کرنے کا حکم فرمایا :
نیز اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
مَآ اَصَابَ مِنْ مُّصِيْبَۃٍ اِلَّا بِـاِذْنِ اللہِ ۰ۭ وَمَنْ يُّؤْمِنْۢ بِاللہِ يَہْدِ قَلْبَہ ۰ۭ
التغابن
’’جو بھی مصیبت آتی ہے تو اللہ کے حکم سے آتی ہے اور جو اللہ پر ایمان لاتا ہے، اللہ اس کے دل کو ہدایت عطا فرماتا ہے۔‘‘
ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ یہ وہ شخص ہوتا ہے، جسے مصیبت پہنچے تو وہ سمجھ لیتا ہے کہ وہ اللہ کی طرف سے ہے تو وہ راضی ہوجاتا ہے اور پیکر تسلیم ورضا بن جاتا ہے۔ چنانچہ جب مومنین پر بیماری، افلاس اور بدحالی وغیرہ کی مصیبت آجائے تو وہ اللہ کے حکم پر صبر کرتے ہیں۔ اگرچہ یہ مصیبت کسی اور کے گناہ کے باعث ہو۔ مثلاً کسی کے باپ نے گناہوں میں مال خرچ کر ڈالا اور اس کی اولاد اس وجہ سے محتاج ہوگئی تو اولاد کو مصیبت پر صبر کرنا چاہیے اور جب وہ اپنے مفادات تلف ہونے پر باپ کو ملامت کرنے لگیں تو ان کے لیے تقدیر کا ذکر کیا جائے گا۔
علماء کا اتفاق ہے کہ صبر واجب ہے اور اس سے بھی اعلیٰ درجہ اللہ کے حکم کے ساتھ راضی ہونا ہے۔ بعض کے نزدیک رضا بھی واجب ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ مستحب ہے اور یہی صحیح ہے اور اس سے بلند تر مقام اس امر کا ہے کہ انسان مصیبت کے موقع پر شکر کرے اور مصیبت کو اس بنا پر نعمت ِ الٰہی سمجھے کہ اس مصیبت کی وجہ سے اس کے گناہ دُور ہوتے ہیں اور اس کے درجے بلند ہوتے ہیں۔ وہ اللہ کی طرف جھکتا ہے۔ اس کے سامنے گڑگڑاتا ہے۔ مخلوقات سے امیدیں منقطع کر کے خالص باری تعالیٰ کی ذات پر توکل کر لیتا ہے۔
رہے گمراہ اور سرکش لوگ وہ تو گناہ کرنے اور اپنی خواہشوں کا اتبا ع کرتے وقت تقدیر کو حجت بناتے ہیں لیکن جب اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے نیکیاں سرزد ہونے لگیں تو وہ انہیں اپنی فضیلت کا نتیجہ سمجھتے ہیں چنانچہ کسی عالم نے کہا کہ تو طاعت کے وقت تو قدری ہے
(قدری جویہ کہے ۔ تقدیر الٰہی کا وجود نہیں انسان مختار مطلق ہے۔)
اور نافرمانی کے وقت جبری
(جبری وہ ہوتا ہے جو کہے کہ انسان مجبور محض ہے۔)
جو مذہب تیری خواہش کے موافق ہوجائے تو اسی کا ہورہتا ہے، اچھے لوگ اور ہدایت یافتہ لوگ جب نیکی کرتے ہیں تو ان کو یہ شہود ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے یہ نیکی کرائی ہے۔ وہی ہے جس نے ان پر انعام فرمایا۔ ان کو مسلمان بنایا۔ ان کو پابندِ نماز کیا۔ ان کے دل میں تقویٰ ڈالا۔ اس کی توفیق کے سوا کسی کو طاقت و توانائی نہیں ہے۔ ان اہلِ ہدایت و ارشاد کو اللہ تعالیٰ تقدیر کے شہود کے (۳)ذریعے سے خود پسندی، احسان جتلانے اور دکھ دینے، جیسی موذی عادتوں سے بچاتا ہے اور جب ایسے لوگ کوئی برا کام کر بیٹھتے ہیں تو اللہ تعالیٰ سے معافی مانگتے اور اس کی بارگاہ میں اس گناہ سے توبہ کرتے ہیں۔
(جب وہ کسی کے ساتھ نیکی کرتے ہیں تو وہ یہ سمجھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے یہ امر تقدیر میں لکھ رکھا تھا کہ ہم فلاں شخص کے ساتھ یہ نیکی کریں گے، اس وجہ سے ان کے دل میں فخر نہیں پیدا ہوتا اور نہ احسان جتانے کے فعل مذموم کا ارتکاب کرتے ہیں۔)
صحیح بخاری میں سیدنا شداد بن اوس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔ آپ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سید الاستغفار یہ ہے کہ بندہ یہ دعا پڑھے۔

اَللّٰھُمَّ اَنْتَ رَبِیْ لَا اِلٰہَ اِلَّا اَنْتَ خَلَقْتَنِیْ وَاَنَا عَبْدُکَ وَاَنَا عَلٰی عَھْدِکَ وَوَعْدِکَ مَا اسْتَطَعْتُ اَعُوْذُبِکَ مِنْ شَرِّمَا صَنَعْتُ اَبُوْئُ لَکَ بِنِعْمَتِکَ عَلَیَّ وَاَبُوْئُ بِذَنْبِیْ فَاغْفِرْلِیْ فَاِنَّہ لَا یَغْفِرُ الذُّنُوْبَ اِلَّا اَنْتَ
(بخاری ، کتاب الدعوات، باب افضل الاستغفار، رقم: ۶۳۰۶، ترمذی، کتاب الدعوات۔مسند احمد (۴؍۲۲۱))
’’اے اللہ! تو میرا پروردگار ہے تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں تو نے مجھے پیدا کیا میں تیرا بندہ ہوں، جہاں تک مجھ میں طاقت ہے میں تیرے عہد و وعدہ پر قائم ہوں، اپنے کیے کی برائی سے میں تیرے پاس پناہ لیتا ہوں، تیرے فضل و کرم سے جو کہ مجھ پر ہے، میں اقرار کرتا ہوں اور اپنے گناہوں کا اعتراف کرتا ہوں تو مجھے معاف کر دے کیونکہ تیرے سوا کوئی نہیں جو گناہوں کو معاف کرے۔ جو شخص یقین کے ساتھ صبح کے وقت یہ دعا پڑھے اور اسی رات مر جائے تو وہ جنت میں داخل ہوگا۔‘‘
اور صحیح حدیث میں ہے کہ سیدناابوذر رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا کہ جناب محمد رسول اللہ انور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ:
’’اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے۔ اے میرے بندو! میں نے ظلم کو اپنے آپ پر حرام کر دیا اور تمہارے مابین بھی ظلم کی تحریم کر دی ہے۔ اس لیے ایک دوسرے پر ظلم نہ کرو، اے میرے بندو! دن رات تم سے خطائیں سرزد ہوتی ہیں اور میں سارے گناہ معاف کر دیتا ہوں۔ اور پرواہ نہیں کرتا سو مجھ سے مغفرت طلب کرو میں تمہیں معاف کر دوں۔ اے میرے بندو! تم سب بھوکے ہو۔ سوائے اس کے جسے میں کھانا کھلا دوں۔ اس لیے مجھ سے کھانا مانگو کہ میں تمہیں کھانا دوں۔ اے میرے بندو! تم سب ننگے ہو مگر وہ ننگا نہیں جسے میں کپڑا پہنا دوں، اس لیے مجھ سے ہی کپڑا مانگو کہ میں تم کو کپڑا پہنا دوں۔ اے میرے بندو! تم سب رستہ بھول جانے والے ہو مگر وہ گمراہ نہیں جسے میں رستہ بتا دوں۔ مجھی سے رستہ معلوم کرنے کے لیے دعا کرو۔ میں تمہیں رستہ بتا دوں۔ اے میرے بندو! میرا نقصان کرنا تمہاری پہنچ میں نہیں کہ مجھے نقصان پہنچا سکو اور میری نفع رسانی بھی تمہاری پہنچ میں نہیں کہ مجھے فائدہ پہنچا سکو۔ اے میرے بندو! اگر تمہارا پہلا اور تمہارا آخری فرد اور تمہارا انسان اور جن یعنی ساری کی ساری مخلوقات بدرجہ اتم متقی اور پاکیزہ دل ہوجائے تو اس سے میری بادشاہی میں کوئی زیادتی نہیں ہوسکتی۔ اے میرے بندو! اگر تم سب کے سب انتہا درجے کے بدکردار اور سیاہ کار بن جائو تو میری بادشاہی میں کوئی کمی واقع نہیں ہوسکتی۔ اے میرے بندو! اگر تمہارے پہلے اور تمہارے آخری اور تمہارے انسان اور تمہارے جن سب کے سب کسی ایک میدان میں جمع ہوکر مجھ سے مانگنا شروع کریں اور میں ہر ایک کو اس کی منہ مانگی مرادیں دے دوں تو میرے خزانوں میں اسی طرح کوئی کمی نہیں آسکتی۔ جس طرح ایک سوئی کو سمندر میں ایک دفعہ ڈبو کر نکال لینے سے سمندر کی حیثیت آبی میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ میرے بندو! یہی بات ہے کہ یہ تمہارے ہی اعمال ہیں جن کو میں شمار کرتا ہوں اور پھر پورے طور پر تمہیں لوٹا دیتا ہوں۔ سو جو شخص بھلائی دیکھے وہ اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کرے اور جو شخص اس کے سوا کچھ اور دیکھے تو وہ اپنے آپ ہی کو ملامت کرے۔‘‘
(مسلم کتاب البروالصلۃ باب تحریم الظلم رقم: ۶۵۷۲، ترمذی کتاب صفۃ القیامۃ باب ماجاء فی شدۃ الوعید للمتکبرین، رقم: ۳۴۹۵)
پس اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ اگر بندہ بھلائی دیکھے تو اللہ تعالیٰ کی حمد کہے اور اگر برائی دیکھے تو اپنے آپ ہی کو ملامت کرے۔
بہت سے لوگ زبانِ ’’حقیقت‘‘ سے گفتگو تو کرتے ہیں لیکن اس قدر امتیاز نہیں کر سکتے کہ ایک حقیقت کونیہ قدریہ ہے۔ جس کا تعلق اللہ تعالیٰ کی تخلیق اور مشیئت کے ساتھ ہے اور ایک حقیقت دینیہ امریہ ہے جو اللہ تعالیٰ کی خوشنودی اور اس کی محبت سے تعلق رکھتی ہے۔ اسی طرح وہ حقیقت دینیہ جس کا حکم اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبروں کی زبان سے فرمایا ہے، کی پابندی کرنے والے میں اور اس دوسرے شخص کے درمیان فرق روا نہیں رکھتے جو کہ اپنے ذوق ووجدان کی پابندی کرتا اور کتاب و سنت کا لحاظ نہیں کرتا۔یہی حال لفظ شریعت کا ہے، بہت سے لوگ اس پر بحث تو کرتے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہونے والی شریعت اور حاکم کے حکم کے مابین فرق نہیں کرتے حالانکہ اوّل الذکر کتاب و سنت کی بتائی ہوئی شریعت ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے سے بھیجی ہے۔ اس سے کسی مخلوق کو خروج جائز نہیں اور اس سے وہی خروج کرتا ہے جو کافر ہو۔ آخرالذکر وہ ہے جس کی صحت و سقم یقینی امر نہیں ہے کیونکہ حاکم کبھی ٹھیک فیصلہ کرتا ہے کبھی خطا کرتا ہے۔ یہ بھی اس وقت جب کہ وہ عالم و عادل ہو۔

نعمت اللہ
09-02-13, 07:55 AM
قاضیوں(ججوں) کی تین قسمیں
ورنہ سنن میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے کہ جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
القضاة ثلاثةقاضیان فی النار و قاض فی الجنة رجل علم الحق و قضی بہ فھو فی الجنة و رجل قضی للناس علی جہل فھو فی النار و رجل علم الحق تقضی بغیرہ فھو فی النار
’’قاضیوں کی تین قسمیں ہیں۔ ان میں سے دو دوزخی ہیں اور ایک جنتی۔ جس آدمی کو حق معلوم ہوگیا اور اس نے حق ہی پر فیصلہ دے دیا وہ جنتی ہے۔ جس آدمی نے جہالت میں فیصلہ کر دیا وہ دوزخی ہے اور جس کو حق معلوم ہوگیا اور فیصلہ اس کے خلاف دے دیا۔ وہ بھی دوزخی ہے۔‘‘
(ابوداؤد، کتاب الاقضیة، باب القاضی، یخطی ، رقم : ۳۵۷۳، ترمذی کتاب الاحکام، باب ماجاء عن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فی القاضی، رقم: ۱۳۲۲، ابن ماجہ، کتاب الحکام، باب الحاکم یجتھد فیصیب الحق رقم: ۲۳۱۵۔)

عالم و عادل قاضیوں میں سب سے افضل سردار بنی آدم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تھے۔
صحیحین میں ان سے ثابت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’تم لوگ اپنے جھگڑے میرے پاس لاتے ہو اور ممکن ہے تم میں سے بعض دوسرے کی بہ نسبت حجت پیش کرنے میں زیادہ ہوشیار ہوں۔ بہرحال میں تو فیصلہ اس کے مطابق دیتا ہوں جو کہ میں سن لوں۔ اس لیے جس شخص کے حق میں یہ فیصلہ دے دیا جائے کہ اسے اپنے بھائی کے حق میں سے کچھ ناجائز طور پر مل گیا ہو تو وہ نہ لے کیونکہ وہ آگ کا ٹکڑا ہے
(بخاری ، کتاب المظالم، باب اثم من خاصم فی باطل وھو یعلم۔ رقم: ۲۴۵۸، مسلم، کتاب الاقضیۃ، باب بیان ان حکم الحاکم لایغیر الباطن، رقم: ۴۴۷۳، مؤطا کتاب الاقضیۃ۔)

نعمت اللہ
21-02-13, 02:10 PM
سیدالانام جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ اگر کسی کے حق میں اس کا بیان سن کر کچھ فیصلہ ہوجائے اور حقیقت میں اس شخص کا حق نہ ہو تو اس کے لیے لینا جائز نہیں۔ کیونکہ اس سے اس کو دوزخ کا ایک ٹکڑا کاٹ کر دیا جاتا ہے۔ یہ حدیث متفق علیہ ہے۔ مطلق املاک کے بارے میں علماء کا اتفاق ہے کہ جب اپنے خیال میں شہادت و اقرار کی مثل شرعی حجت کی بناء پر کوئی فیصلہ کر دے اور حقیقت، ظاہر کے خلاف ہو تو جس کے حق میں فیصلہ کر دیا جائے اس فیصلے کے مطابق چیز لے لینا حرام ہے۔ اگر عقود مثلاً نکاح اور فسخ نکاح کے بارے میں بھی ایسا فیصلہ صادر ہوجائے تو اکثر علماء یہ کہتے ہیں کہ جس شخص کے حق میں فیصلہ ہو جائے وہ فیصلہ سے فائدہ نہ اٹھائے۔ امام مالک، امام شافعی، امام احمد بن حنبل کا یہی مذہب ہے اور ابوحنیفہ رحمہ اللہ نے دو قسموں میں فرق کیا ہے۔

اس لئے جب لفظ شرع و شریعت سے مراد کتاب و سنت ہو تو اولیاء اللہ میں سے کسی کے لیے یہ جائز نہیں ہے اور نہ کسی اور کو اس کا اختیار ہے کہ اس سے خروج کرے اور جس کا خیال ہو کہ اولیاء اللہ میں سے کسی کو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ظاہری و باطنی متابعت کئے بغیر اللہ تعالیٰ کی طرف جانے کا رستہ معلوم ہے جو ظاہری باطنی طور پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کے علاوہ ہے اور وہ ظاہراً و باطناً آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع نہ کرے تو وہ کافر ہے۔

نعمت اللہ
21-02-13, 02:11 PM
جو شخص اس مسئلے میں موسیٰ و خضر علیہما السلام کے قصہ سے استدلال کرتا ہے۔ وہ دو وجوہ سے غلطی پر ہے۔
ایک یہ کہ نہ تو سیدناموسیٰ علیہ السلام، خضر علیہ السلام کی طرف مبعوث تھے اور نہ خضر علیہ السلام پر ان کی پیروی واجب تھی۔ موسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کی طرف بھیجے گئے تھے اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت تمام جن و انسان کے لیے ہے۔
اور اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہء رسالت کو کوئی ایسی شخصیت بھی پالے جو خضر علیہ السلام سے بھی افضل ہو مثلاً سیدناابراہیم، سیدناموسیٰ اور سیدناعیسیٰ علیہم السلام تو اس پر بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اتباع واجب ہوگا تو خضر علیہ السلام خواہ نبی ہوں یا ولی کیوں کر اتباع نہ کریں گے، یہی وجہ ہے کہ خضر علیہ السلام نے سیدناموسیٰ علیہ السلام سے کہا تھا:
انا علی علم من علم الہ علمنیہ اللہ لا تعلمہ و انت علی علم من علمہ اللہ علمکہ اللہ لا اعلمہ
کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے علم میں سے کچھ مجھے سکھا دیا ہے جو آپ کو معلوم نہیں ، اور اسی نے اپنے علم سے کچھ آپ کوسکھا دیا ہے، جس سے میں آگاہ نہیں۔
(بخاری کتاب العلم باب ماذکر فی ذہاب موسیٰ فی البحر رقم: ۷۳، مسلم کتاب الفضائل، باب فضائل خضر رقم: ۶۱۶۳۔)

نعمت اللہ
21-02-13, 02:12 PM
جن و انسان میں سے جس کسی تک بھی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت پہنچ چکی ہو تو اسے اس طرح کی بات کرنا روا نہیں۔
دوسرے جو کچھ خضر علیہ السلام نے کیا تھا وہ سیدناموسیٰ علیہ السلام کی شریعت کے خلاف نہیں تھا اور سیدناموسیٰ علیہ السلام کو وہ اسباب معلوم نہیں تھے۔ جن کی بنا پر وہ کام جائز تھے۔ جب خضر علیہ السلام نے وہ اسباب بیان کر دئیے تو سیدناموسیٰ علیہ السلام نے اس پر ان کی موافقت کی۔ کیونکہ ظالم و غاصب کے قبضے کے ڈر سے کشتی توڑنے اور پھر اس کی مرمت کردینے میں کشتی والوں کی مصلحت کا لحاظ اور ان پر احسان تھا اور یہ جائزہے۔ اور حملہ آور موذی کو خواہ وہ چھوٹا ہی کیوں نہ ہو اور جس کو قتل کیے بغیر اس کے والدین کفر سے نہ بچ سکیں، اس کا قتل جائز ہے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے نجدہ حروری نے پوچھا کہ بچوں کے قتل کے متعلق آپ کی کیا رائے ہے؟ تو فرمایا کہ اگر آپ کو ان کے متعلق وہ بات معلوم ہوجائے جو خضر علیہ السلام کو بچے کے متعلق معلوم تھی تو ان کو قتل کر ڈالیے ورنہ قتل نہ کریں
(مسلم کتاب الجہاد، باب نساء الغازیات، مسند احمد، ۱؍۳۰۸)
رہا بلامعاوضہ یتیم کے ساتھ احسان کرنا اور بھوک پر صبر کرنا تو یہ اعمالِ صالح میں سے ہے۔ اس میں کوئی امر شریعت ِ الٰہی کے خلاف نہ تھا۔
ائمہ کی تقلید نہ واجب ہے نہ حرام

نعمت اللہ
21-02-13, 02:13 PM
لیکن جب شریعت سے مراد حاکم کا فیصلہ ہو تو وہ کبھی عادل ہوتا ہے۔ کبھی ظالم ہوتا ہے۔ کبھی درست ہوتا ہے اور کبھی غلطی کرتا ہے۔ کبھی شریعت سے ابوحنیفہ، ثوری، مالک بن انس، اوزاعی، لیث بن سعد، شافعی، احمد، اسحاق، دائود (رحمہم اللہ) وغیرہ ائمہ فقہ کا قول مراد ہوتا ہے۔ سو یہ لوگ اپنے اقوال کے لیے کتاب و سنت سے دلیل لیتے ہیں۔ جب کوئی شخص ان میں سے کسی کی تقلید جائز طور پر کرے تو جائز ہے اور اگر اس کی تقلید نہ کرے تو کسی اور کی تقلید بشرطِ گنجائش کر لے تو جائز ہے۔ ان میں سے کسی ایک کا اتباع تمام امت پر اس طرح واجب نہیں ہے۔ جس طرح رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی واجب ہے اور نہ ان میں سے کسی کی تقلید اس شخص کی تقلید کی طرح حرام ہے جو کہ بغیر علم کے بحث کرتا ہے۔
رہا وہ شخص جو شریعت کی طرف وہ امور منسوب کرتا ہے جو شریعت میں نہیں مثلاً من گھڑت احادیث، اللہ کی مراد کے برخلاف تاویلات باطلہ وغیرہ تویہ تو شریعت میں تبدیلی کے مترادف ہے۔ اس صورت میں شرعِ منزل، شرعِ مؤول اور شرعِ مبدّل کے درمیان فرق کرنا، اسی طرح ضروری ہے۔ جس طرح حقیقت ِ کونیہ اور حقیقت دینیہ امر یہ کے مابین فرق کرنا ضروری ہے اور جس طرح ان مسائل میں جس کی دلیل کتاب و سنت سے لی گئی ہو اور ان مسائل میں جس میں کسی کے ذوق اور وجدان پر اکتفا کیا گیا ہو ، فرق کرنا لازمی ہے۔

نعمت اللہ
25-03-13, 07:39 AM
تکوینی اور دینی اُمور میں فرق کی اہمیت

اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں اس ’’ارادہ‘‘، ’’امر‘‘ ، ’’قضاء‘‘ ، ’’اذن‘‘ و ’’تحریم‘‘ ’’بعث‘‘ و ’’ارسال‘‘، ’’کلام‘‘ و’’جعل‘‘ میں جو تکوینی ہے اور جسے اس نے مقدر کیا اور اس کا فیصلہ فرمایا۔ اگرچہ اس کا حکم نہ دیا، نہ اس کو پسند کیا اور نہ اس کے کرنے والوں کو ثواب دیتا ہو اور نہ انہیں اپنے متقی اولیاء میں سے کرتا ہو۔ اور اس ارادہ، قضا، امر، اذن و تحریم، ارسال، کلام اور جعل میں فرق کیا ہے جو دینی ہے اور جس کا اس نے حکم دیا، اسے مشروع کیا اور پسند کیا۔ اس کی تعمیل کرنے والے سے محبت کرتا ہے انہیں ثواب عطا فرماتا ، انہیں عزت دیتا اور انہیں اپنے متقی اولیاء، کامران لشکر اور بامراد جماعت میں سے کرتا ہے۔
اور یہ فرق ان عظیم ترین امور میں سے ہے، جن کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کے دوستوں اور اس کے دشمنوں میں امتیاز کیا جاتا ہے۔ لہٰذا جس کو اللہ تعالیٰ نے ان اعمال کی توفیق ارزاں کی جو کہ اسے محبوب وپسندیدہ ہوں اور وہ شخص اسی حالت میں مر جائے۔ وہ اللہ تعالیٰ کے دوستوں میں سے ہے اور جس کے کام ایسے ہوں، جن سے پروردگار ناراض ہو اور مرتے دم تک ایسے ہی افعال کا ارتکاب کرتا رہے تو وہ اس کے دشمنوں میں سے ہے۔
چنانچہ ارادۂ کونیہ اللہ تعالیٰ کی اس مشیئت کا نام ہے جو اس کی مخلوق کے لیے ہوتی ہے اور تمام مخلوقات اس کی مشیئت اور اس کے ارادۂ کونیہ میں شامل ہے۔
جب کہ ارادہِ دینیہ اس کی محبت اور رضا کو شامل ہے۔ اور ان امور کو شامل ہے جن کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا اور انہیں دین اور شریعت قرار دیا ہے۔ یہ ایمان اور عمل صالح کے ساتھ مختص ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

فَمَنْ يُّرِدِ اللہُ اَنْ يَّہْدِيَہ يَشْرَحْ صَدْرَہ لِلْاِسْلَامِ ۰ۚ وَمَنْ يُّرِدْ اَنْ يُّضِلَّہ يَجْعَلْ صَدْرَہ ضَيِّقًاحَرَجًاكَاَنَّمَا يَصَّعَّدُ فِي السَّمَاۗءِ
الانعام

’’جس شخص کو اللہ تعالیٰ ہدایت دینے کا ارادہ کرتا ہے، اس کے سینے کو وہ اسلام کے لیے کھول دیتا ہے اور جسے وہ گمراہ کرنے کاارادہ کرتا ہے اس کے سینے کو وہ تنگ اور بھچا ہوا کر دیتا ہے گویا اسے آسمان پر چڑھنا پڑھ رہا ہے۔‘‘

نوح علیہ السلام نے اپنی قوم سے فرمایا:
وَلَا يَنْفَعُكُمْ نُصْحِيْٓ اِنْ اَرَدْتُّ اَنْ اَنْصَحَ لَكُمْ اِنْ كَانَ اللہُ يُرِيْدُ اَنْ يُّغْوِيَكُمْ ۰ۭ
ھود

’’میری خیر خواہی تمہیں کچھ فائدہ نہیں دے سکتی، اگر اللہ تمہیں کرنے کا ارادہ کرتا ہو۔‘‘

اللہ تعالیٰ نے فرمایاہے:
وَاِذَآ اَرَادَ اللہُ بِقَوْمٍ سُوْۗءًا فَلَا مَرَدَّ لَہ ۰ۚ وَمَا لَہُمْ مِّنْ دُوْنِہ مِنْ وَّالٍ
الرعد

’’جب اللہ تعالیٰ کسی قوم پر کوئی مصیبت ڈالنے کا ارادہ کرتا ہے تو وہ ٹل نہیں سکتی اور اللہ کے سوا ان لوگوں کا کوئی حامی و مددگار بھی نہیں ۔‘‘

اور دوسرے پارے میں فرمایا:
وَمَنْ كَانَ مَرِيْضًا اَوْ عَلٰي سَفَرٍ فَعِدَّۃٌ مِّنْ اَيَّامٍ اُخَرَ ۰ۭ يُرِيْدُ اللہُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَلَا يُرِيْدُ بِكُمُ الْعُسْرَ ۰ۡ
البقرہ

’’اور جو شخص بیمار ہو یا سفر پرہو تو دوسرے ایام میں سے اتنے ہی دن شمار کر کے روزہ رکھ لے۔ اللہ تعالیٰ تمہارے ساتھ آسانی کا ارادہ رکھتا ہے اور تمہارے ساتھ سختی کا ارادہ نہیں رکھتا۔‘‘

اور فرمایا:
مَا يُرِيْدُ اللہُ لِيَجْعَلَ عَلَيْكُمْ مِّنْ حَرَج وَّلٰكِنْ يُّرِيْدُ لِيُطَہِّرَكُمْ وَلِيُتِمَّ نِعْمَتَہ عَلَيْكُمْ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ ۶
المائدہ

’’اللہ تعالیٰ کا تم پر کسی طرح کی تنگی کرنے کا ارادہ نہیں بلکہ اس کا ارادہ ہے کہ تم پر اپنا احسان پورا کرے تاکہ تم شکر کرو۔‘‘

نکاح کے حلال اور حرام امور کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:
يُرِيْدُ اللہُ لِيُـبَيِّنَ لَكُمْ وَيَہْدِيَكُمْ سُنَنَ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ وَيَتُوْبَ عَلَيْكُمْ ۰ۭ وَاللہُ عَلِيْمٌ حَكِيْمٌ ۲۶ وَاللہُ يُرِيْدُ اَنْ يَّتُوْبَ عَلَيْكُمْ ۰ۣ وَيُرِيْدُ الَّذِيْنَ يَتَّبِعُوْنَ الشَّہَوٰتِ اَنْ تَمِيْلُوْا مَيْلًا عَظِيْمًا ۲۷ يُرِيْدُ اللہُ اَنْ يُخَفِّفَ عَنْكُمْ ۰ۚ وَخُلِقَ الْاِنْسَانُ ضَعِيْفًا ۲۸
النساء

’’اللہ کا ارادہ ہے کہ جو لوگ تم سے پہلے ہو گزرے ہیں۔ ان کے طریقے تمہارے سامنے کھول کھول کر بیان کرے اور تم کو انہی کے طریقوں پر چلائے اور تم پر مہر کی نظر رکھے اور جو لوگ نفسانی خواہشوں کے پیچھے پڑے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ تم راہِ راست سے بھٹک کر بہت دور جا پڑو۔ اللہ کا ارادہ ہے کہ تم پر سے بوجھ ہلکا کرے اور انسان کمزور پیدا کیا گیا ہے۔‘‘

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کو امر و نہی ارشاد فرماتے ہوئے فرمایا:
اِنَّمَا يُرِيْدُ اللہُ لِيُذْہِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ اَہْلَ الْبَيْتِ وَيُطَہِّرَكُمْ تَطْہِيْرًا ۳۳ۚ
الاحزاب

’’اے اہل بیت! اللہ تعالیٰ کا ارادہ ہے کہ تم سے ہر طرح کی گندگی دور کر دے اور تمہیں اچھی طرح پاک کر دے۔‘‘

اس سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تم کو ایسی باتوں کا حکم دیا ہے۔ جن سے تمہاری گندگی دور ہوجائے اور تم صاف ستھرے ہوجائو۔ یعنی گندگی کو دور کرنے والے کاموں کا حکم دے دیا گیا ہے جس نے اس حکم کی اطاعت کی وہ پاک ہوجائے گا۔ اس سے گندگی دور ہوجائے گی اس کی نافرمانی کرنے والے کے برخلاف (کہ اس کی تطہیر نہ ہوگی)

نعمت اللہ
25-03-13, 07:46 AM
امر کونی و امر دینی


رہی امر کی بحث سو امرِ کونی کے متعلق فرمایا:
اِنَّمَا قَوْلُــنَا لِشَيْءٍ اِذَآ اَرَدْنٰہُ اَنْ نَّقُوْلَ لَہ كُنْ فَيَكُوْنُ ۴۰ۧ
سورۃ النحل

’’یہی بات ہے کہ کسی چیز کے لیے ہمارا امر یہ ہے کہ جب اس کا ارادہ کریں تو ہم اس کے لیے کہیں کہ ہو جا، پس ہوجائے۔‘‘

اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
وَمَآ اَمْرُنَآ اِلَّا وَاحِدَۃٌ كَلَمْح ٍبِالْبَصَرِ ۵۰
القمر

’’ہمارا امر تو بس ایک بات ہوتی ہے جیسے آنکھ کا جھپکانا۔‘‘

اور فرمایا:
اَتٰىھَآ اَمْرُنَالَيْلًا اَوْ نَہَارًا فَجَعَلْنٰھَا حَصِيْدًا كَاَنْ لَّمْ تَغْنَ بِالْاَمْسِ ۰ۭ
یونس

’’اس سرزمین پر ہمارا امر دن یا رات کو پہنچا تو اسے کٹی ہوئی کھیتی کی مانند کر دیا گویا ایک دن پہلے اس کا نام و نشان نہ تھا۔‘‘

امرِ دینی کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
اِنَّ اللہَ يَاْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْاِحْسَانِ وَاِيْتَاۗئِ ذِي الْقُرْبٰى وَيَنْہٰى عَنِ الْفَحْشَاۗءِ وَالْمُنْكَرِ وَالْبَغْيِ ۰ۚ يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ ۹۰
النحل

’’اللہ تم کو انصاف کرنے کا حکم دیتا ہے اور احسان کرنے کا اور قرابت والوں کو مالی امداد دینے کا اور بے حیائی کے ناشائستہ کاموں اور ایک دوسرے پر زیادتی کرنے سے منع فرماتا ہے۔ تم لوگوں کو نصیحت کرتا ہے تاکہ تم ان باتوں کا خیال رکھو۔‘‘

اور فرمایا:
اِنَّ اللہَ يَاْمُرُكُمْ اَنْ تُؤَدُّوا الْاَمٰنٰتِ اِلٰٓى اَھْلِھَا ۰ۙ وَاِذَا حَكَمْتُمْ بَيْنَ النَّاسِ اَنْ تَحْكُمُوْا بِالْعَدْلِ ۰ۭ اِنَّ اللہَ نِعِمَّا يَعِظُكُمْ بِہ ۰ۭ اِنَّ اللہَ كَانَ سَمِيْعًۢا بَصِيْرًا ۵۸
النساء

’’اللہ تعالیٰ تم کو حکم دیتا ہے کہ امانتیں ان کے مالکوں کو ادا کر دیا کرو اور جب لوگوں کے درمیان حکم بنو تو انصاف کے ساتھ فیصلہ کرو۔ بے شک اللہ تعالیٰ تمہیں اچھی نصیحتیں کرتا ہے، بے شک اللہ تعالیٰ سننے والا اور دیکھنے والا ہے۔‘‘

نعمت اللہ
25-03-13, 07:54 AM
اذن کونی و قدری و اذن دینی و شرعی

اذنِ کونی کے متعلق فرمایا:
وَمَا ھُمْ بِضَاۗرِّيْنَ بِہ مِنْ اَحَدٍ اِلَّا بِـاِذْنِ اللہِ
البقرہ

’’اور وہ کسی کو اللہ تعالیٰ کے اذن کے سوا نقصان نہیں پہنچا سکتے۔‘‘

یہاں اذن سے مراد اللہ تعالیٰ کی مشیئت و قدرت ہے۔ ورنہ سحر کو اللہ تعالیٰ نے ہرگز مباح نہیں کیا۔

اذنِ دینی کے متعلق فرمایا:
اَمْ لَہُمْ شُرَكٰۗؤُا شَرَعُوْا لَہُمْ مِّنَ الدِّيْنِ مَا لَمْ يَاْذَنْۢ بِہِ اللہُ ۰ۭ
الشوریٰ

’’کیا ان لوگوں نے اللہ کے شریک بنا رکھے ہیں، جنہوں نے ان کے لیے دین کا ایک رستہ تیار کیا ہے، جس کا اللہ نے اذن نہیں دیا۔‘‘

اور فرمایا:
اِنَّآ اَرْسَلْنٰكَ شَاہِدًا وَّمُبَشِّرًا وَّنَذِيْرًا ۴۵ۙ وَّدَاعِيًا اِلَى اللہِ بِـاِذْنِہ
الاحزاب

’’ہم نے تجھے گواہی دینے والا، بشارت دینے والا، عذابِ الٰہی سے ڈرانے والا، اللہ تعالیٰ کی طرف اس کے اذن سے بلانے والا بنا کر بھیجا ہے۔‘‘

اور فرمایا:
وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا لِيُطَاعَ بِـاِذْنِ اللہِ ۰ۭ
النساء

’’ہم نے جو بھی رسول بھیجا ہے، وہ محض اس لیے بھیجا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے اذن کے ساتھ اس کی اطاعت کی جائے۔‘‘

اور فرمایا:
مَا قَطَعْتُمْ مِّنْ لِّيْنَۃٍ اَوْ تَرَكْتُمُوْہَا قَاۗىِٕمَۃً عَلٰٓي اُصُوْلِہَا فَبِـاِذْنِ اللہِ
الحشر

’’اے مسلمانو! کھجوروں کے جو درخت تم نے کاٹ ڈالے ہیں یا ان کی جڑوں پر قائم چھوڑ دئیے ہیں، وہ سب اللہ تعالیٰ کے اذن کے ساتھ ہوا۔‘‘