PDA

View Full Version : غزل اس نے چھیڑی


پیاسا صحرا
29-11-08, 03:45 PM
نہ سیو ھونٹ نہ خوابوں میں صدا دو ھم کو
مصلحت کا یہ تقاضا ھے ، بھلا دو ھم کو

جرم سقراط سے ھٹ کر نہ سزا دو ھم کو
زہر رکھا ھے تو یہ آب بقا دو ھم کو

بستیاں آگ میں بہہ جائیں کہ پتھر برسیں
ھم اگر سوئے ھوئے ھیں جگا دو ھم کو

ھم حقیقت ھیں تو تسلیم نہ کرنے کا سبب ؟
ہاں اگر حرف غلط ھیں تو مٹادو ھم کو

خضر مشہور ھو الیاس بنے پھرتے ھو
کب سے ھم گم سم ھیں ھمارا تو پتہ دو ھم کو

زیست ھے اس سحرو شام سے بیزار و زبوں
لالہ گل کی طرح رنگ قبا دو ھم کو

شورش عشق میں ھے حسن برابر کا شریک
سوچ کر جرم تمنا کی سزا دو ھم کو

احسان دانش

پیاسا صحرا
29-11-08, 03:46 PM
جبیں کی دھول ، جگر کی جلن چھپائے گا
شروع عشق ھے وہ فطرتاً چھپائے گا

دمک رھا ھے جو نس نس کی تشنگی سے بدن
اس آگ کو نہ تیرا پیراھن چھپائے گا

ترا علاج شفاگاہ عصر نو میں نہیں
خرد کے گھاؤ تو دیوانہ پن چھپائے گا

حصار ضبط ھے ابر رواں کی پرچھائیں
ملال روح کو کب تک بدن چھپائے گا

نظر کا فرد عمل سے ھے سلسلہ درکار
یقیں نہ کر ، یہ سیاہی کفن چھپائے گا

کسے خبر تھی کہ یہ دور خود غرض اک دن
جنوں سے قیمت دار و رسن چھپائے گا

ترا غبار زمیں پر اترنے والا ھے
کہاں تک اب یہ بگولا تھکن چھپائے گا
احسان دانش

پیاسا صحرا
29-11-08, 03:46 PM
یوں اس پہ مری عرض تمنا کا اثر تھا
جیسے کوئی سورج کی تپش میں گل تر تھا

اٹھتی تھیں دریچوں میں ھماری بھی نگاھیں
اپنا بھی کبھی شہر نگاراں میں گزرتھا

ھم جس کے تغافل کی شکایت کو گئے تھے
آنکھ اس نے اٹھائی تو جہاں زیر و زبر تھا

شانوں پہ کبھی تھے ترے بھیگے ھوئے رخسار
آنکھوں پہ کبھی میری ترا دامن تر تھا

خوشبو سے معطر ھے ابھی تک وہ گزرگاہ
صدیوں سے یہاں جیسے بہاروں کا نگر تھا

ھے ان کے سراپا کی طرح خوش قد و خوش رنگ
وہ سرو کا پودا جو سر راہ گزر تھا

قطرے کی ترائی میں تھے طوفاں کے نشیمن
ذرے کے احاطے میں بگولوں کا بھنور تھا
احسان دانش

پیاسا صحرا
29-11-08, 03:47 PM
کبھی کبھی جو وہ غربت کدے میں آئے ھیں
مرے بہے ھوئے آنسو جبیں پہ لائے ھیں

نہ سر گزشت سفر پوچھ مختصر یہ ھے
کہ اپنے نقش قدم ھم نے خود مٹائے ھیں

نظر نہ توڑ سکی آنسوؤں کی چلمن کو
وہ روز اگرچہ مرے آئینے میں آئے ھیں

اس ایک شمع سے اترے ھیں بام و در کے لباس
اس ایک لو نے بڑے " پھول بن " جلائے ھیں

یہ دوپہر ، یہ زمیں پر لپا ھوا سورج
کہیں درخت نہ دیوارو در کے سائے ھیں

کلی کلی میں ھے دھرتی کے دودھ کی خوشبو
تمام پھول اسی ایک ماں کے جائے ھیں

نطر خلاؤں پہ اور انتظار بے وعدہ
بہ ایں عمل بھی وہ آنکھوں میں جھلملائے ھیں
احسان دانش

پیاسا صحرا
29-11-08, 03:48 PM
رنگ تہذیب و تمدن کے شناسا ھم بھی ھیں
صورت آئینہ مرھون تماشا ھم بھی ھیں

حال و مستقبل کا کیا ھم کو سبق دیتے ھیں
اس قدر تو واقف امروز و فردا ھم بھی ھیں

بادل نخواستہ ھنستے ھیں دنیا کیلیے
ورنہ یہ سچ ھے پشیماں ھم بھی ھیں

کچھ سفینے ھیں کہ طوفاں سے ھے جن کی ساز باز
دیکھنے والوں میں اک بیرون دریا ھم بھی ھیں

دیکھنا ھے تو دیکھ لو اٹھتی ھوئی محفل کا رنگ
صبح کے بجھتے چراغوں کا سنبھالا ھم بھی ھیں

کاگذی ملبوس میں ابھری ھے ہر شکل حیات
ریت کی چادر پہ اک نقش کف پا ھم بھی ھیں

جابجا بکھرے نظر آتے ھیں آثار قدیم
پی گئیں جس کو گگزر گاھین وہ دریا ھم بھی ھیں
احسان دانش

پیاسا صحرا
29-11-08, 03:48 PM
وفا کا عہد تھا دل کو سنبھالنے کیلیے
وہ ھنس پڑے مجھے مشکل میں ڈالنے کیلیے

بندھا ھوا ھے ، بہاروں کا اب وھیں تانتا
جہاں رکا تھا میں کانٹے نکالنے کیلیے

کوئی نسیم کا نغمہ ، کوئی شمیم کا راگ
فضا کو امن کے قالب میں ڈھالنے کیلیے

خدا نکردہ ، زمین پاؤں سے اگر کھسکی
بڑھیں گے تند بگولے سنبھالنے کیلیے

اتر پڑے ھیں کدھر سے یہ آندھیوں کے جلوس
سمندروں سے جزیرے نکالنے کیلیے

تری سلیقہ ترتیب نو کا کیا کہنا
ھمیں تھے قریہ ء دل سے نکالنے کیلیے

کبھی ھماری ضرورت پڑے گی دنیا کو
دلوں کی برف کو شعلوں میں ڈھالنے کیلیے
احسان دانش

پیاسا صحرا
29-11-08, 03:49 PM
کچھ لوگ جو سوار ھیں کاغذ کی ناؤ پر
تہمت تراشتے ھیں ھوا کے دباؤ پر

موسم ھے سرد مہر ، لہو ھے جماؤ پر
چوپال چپ ھے ، بھیڑ لگی ھے الاؤ پر

سب چاندنی سے خوش ھیں ، کسی کو خبر نہیں
پھاہا ھے مہتاب کا گردوں کے گھاؤ پر

اب وہ کسی بساط کی فہرست میں نہیں
جن منچلوں نے جان لگا دی تھی داؤ پر

سورج کے سامنے ھیں نئے دن کے مرحلے
اب رات جا چکی ھے گزشتہ پڑاؤ پر

گلدان پر ھے نرم سویرے کی زرد دھوپ
حلقہ بنا ھے کانپتی کرنوں کا گھاؤ پر

یوں خود فریبیوں میں سفر ھو رھا ھے طے
بیٹھے ھیں پل پہ اور نظر ھے بہاؤ پر


احسان دانش

پیاسا صحرا
29-11-08, 03:49 PM
گردش جام نہیں ، گردش ایام تو ھے
سعی ناکام سہی ، پھر بھی کوئی کام تو ھے

دل کی بے تابی کا آخر کہیں انجام تو ھے
میری قسمت میں نہیں ، دہر میں آرام تو ھے

مائل لطف و کرم حسن دلآرام تو ھے
میری خاطر نہ سہی ، کوئی سر بام تو ھے

تو نہیں میرا مسیحا ، میرا قاتل ھی سہی
مجھ سے وابستہ کسی طور ترا نام تو ھے

حلقہ موج میں ایک اور سفینہ آیا
ساحل بحر پر کہرام کا ہنگام تو ھے
تنگ دستو ، تہی دامانو ، کرو شکر خدا
مئے گلفام نہیں ھے ، شفق شام تو ھے
احمد راہی

فرینڈ
29-11-08, 03:50 PM
بہت خوب شاعری کی ہے۔۔۔۔!:00001:

پیاسا صحرا
29-11-08, 03:50 PM
عام ھے کوچہ و بازار میں سرکار کی بات
اب سر راہ بھی ھوتی ھے ، سردار کی بات

ھم جو کرتے ھیں کہیں مصر کے بازار کی بات
لوگ پا لیتے ھیں یوسف کے خریدار کی بات

مدتوں لب پہ رھی نرگس بیمار کی بات
کیجیئے اہل چمن ، اب خلش خار کی بات

غنچے دل تنگ ،ھوا بند ، نشیمن ویراں
باعث مرگ ھے مرے لیے غم خوار کی بات

بوئے گل لے کے صبا کنج قفس تک پہنچی
لاکھ پردوں میں بھی پھیلی شب گلزار کی بات

زندگی درد میں ڈوبی ھوئی لے ھے راہی
ایسے عالم میں کسے یاد رھے پیار کی بات

احمد راہی

پیاسا صحرا
29-11-08, 03:51 PM
بہت خوب شاعری کی ہے۔۔۔۔!:00001:

بہنا یہ میری نہیں ھے یہ تو صرف انتخاب ھے ۔ بہر حال پسند کرنے کیلیے شکریہ

پیاسا صحرا
29-11-08, 03:52 PM
طویل راتوں کی خامشی میں مری فغاں تھک کے سو گئ ھے
تمہاری آنکھوں نے جو کہی تھی وہ داستاں تھک کے سو گئ ھے

مرے خیالوں میں آج بھی خواب عہد رفتہ کے جاگتے ھیں
تمہارے پہلو میں خواہش یاد پاستاں تھک کے سو گئ ھے

گلہ نہیں تجھ سے زندگی کے وہ نظریے ھی بدل گئے ھیں
مری وفا ، وہ ترے تغافل کی نوحہ خواں تھک سو گئ ھے

سحر کی امید اب کسے ھے ،سحر کی امید ھو بھی کیسے
کہ زیست امید و نا امیدی کے درمیاں تھک کے سو گئ ھے

نہ جانے کس ادھیڑ بن میں الجھ گیا ھوں کہ مجھ کو راہی
خبر نہیں کچھ ، وہ آرزوئے سکوں کہاں تھک کے سو گئ ھے
احمد راہی

پیاسا صحرا
29-11-08, 03:52 PM
کوئی بتلائے کہ کیا ھیں یارو
ھم بگولے کہ ھوا ھیں یارو

تنگ ھے وسعت صحرائے جنوں
ولولے دل کے سوا ھیں یارو

سرد و بے رنگ ھے ذرہ ذرہ
گرمئ رنگ صدا ھیں یارو

شبنمستان گل نغمہ میں
نکہت صبح وفا ھیں یارو

جلنے والوں کے جگر ھیں دل ھیں
کھلنے والوں کی ادا ھیں یارو

جن کے قدموں سے ھیں گلزار یہ دشت
ھم وھی آبلہ پا ھیں یارو
احمد راہی

پیاسا صحرا
29-11-08, 03:53 PM
کبھی حیات کا غم ھے ، کبھی ترا غم ھے
ھر ایک رنگ میں ناکامیوں کا ماتم ھے

خیال تھا ترے پہلو میں کچھ سکون ھو گا
مگر یہاں بھی وہی اضطراب پیہم ھے

مرے حبیب مری مسکراہٹوں پہ نہ جا
خدا گواہ ، مجھے آج بھی ترا غم ھے

سحر سے رشتہء امید باندھنے والے
چراغ زیست کی لو شام ھی سے مدھم ھے

یہ کس مقام پہ لے آئی زندگی راہی
قدم قدم پہ جہاں بے بسی کا عالم ھے
احمد راہی

پیاسا صحرا
29-11-08, 03:53 PM
کوئی حسرت بھی نہیں ، کوئی تمنا بھی نہیں
دل وہ آنسو جو کسی آنکھ سے چھلکا بھی نہیں

روٹھ کر بیٹھ گئ ہمت دشوار پسند
راہ میں اب کوئی جلتا ھوا صحرا بھی نہیں

آگے کچھ لوگ ھمیں دیکھ کے ھنس دیتے تھے
اب یہ عالم ھے کہ کوئی دیکھنے والا بھی نہیں

درد وہ آگ کہ بجھتی نہیں جلتی بھی نہیں
یاد وہ زخم کہ بھرتا نہیں ، رستا بھی نہیں

باد باں کھول کے بیٹھے ھیں سفینوں والے
پار اترنے کے لیے ہلکا سا جھونکا بھی نہیں

احمد راہی

فرینڈ
29-11-08, 04:11 PM
بہنا یہ میری نہیں ھے یہ تو صرف انتخاب ھے ۔ بہر حال پسند کرنے کیلیے شکریہ

میں نے اسی کو کہا ہے،مگر آپکی شئیرنگ بھی تو اچھی ہے نہ!

پیاسا صحرا
29-11-08, 04:18 PM
میں نے اسی کو کہا ہے،مگر آپکی شئیرنگ بھی تو اچھی ہے نہ!

شکریہ بہنا

ساجد تاج
16-01-09, 09:13 AM
شکریہ شیئرنگ کے لیے بہت خوب