PDA

View Full Version : دشمن کو قتل کر دوں گا !!!


رفی
29-03-09, 10:16 PM
السلام علیکم!

اگر ہم درگذر سے کام لیں تو چھوٹی چھوٹی معمولی باتیں بڑھ کر کبھی بڑے جھگڑے نہ بنیں، جو پھیل کر خاندانی دشمنیوں میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔

اگر درگذر سے کام لیا جائے تو نہ صرف ایسی دشمنیوں کا فوری تدارک ہو بلکہ دشمنیاں دوستی میں تبدیل ہونا شروع ہو جائیں، جیسے ایک واقعہ بیان کیا جاتا ہے کہ دو رشتہ داروں میں دشمنی تھی، دوسرے کے بارے میں ایک نے کہا کہ عنقریب میں اپنے دشمن کو قتل کر دوں گا! دوسرے کو جب اس بات کا پتہ چلا تو وہ اور زیادہ مشتعل ہوا۔

مگر قتل کی دھمکی دینے والے نے جو طریقہ اختیار کیا وہ بالکل اس کے برعکس تھا جو اس نے کہا تھا، اس نے اپنے دشمن پر پے درپے احسانات کرنے شروع کر دیئے۔ جب دشمن کسی مصیبت میں پھنسا تو نجات دلائی، اس کی دکان کو آگ لگی تو نہ صرف جان پر کھیل کر آگ بجھائی بلکہ مالی تعاون کی پیشکش بھی کی، بیمار پڑگیا تو اس کی خوب تیمارداری کی۔

آخر وہی دشمن اس کے احسانات سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکا اور رو رو کر اپنے کئے کی معافی مانگی۔ قتل کی دھمکی دینے والا بولا کہ تم پریشان نہ ہو میں نے تو پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ اپنے دشمن کو قتل کر دوں گا، سو میں نے اسے قتل کر دیا، دشمن تو ختم ہو چکا، اب تم جو باقی ہو تو تم تو میرے دوست ہو!

دانیال ابیر
30-03-09, 12:27 AM
واہ کیا بات ہے

sjk
30-03-09, 01:43 AM
جزاک اللہ خیرا رفی بھائی یہی ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوہ حسنہ تھا اللہ ہم سب کو بھی اس پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے (آمین

رفی
30-03-09, 09:06 AM
جزاک اللہ خیرا رفی بھائی یہی ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوہ حسنہ تھا اللہ ہم سب کو بھی اس پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے (آمین

آمین ثم آمین

حیدرآبادی
30-03-09, 09:40 AM
بہت خوب رفی پاشا بھائی :00001:
اگر آپ ہمیں ایسا دوست دلا دیں تو ہم دس بار ذبح ہونے تیار ہیں :00005: :00026:

رفی
30-03-09, 10:09 AM
بہت خوب رفی پاشا بھائی :00001:
اگر آپ ہمیں ایسا دوست دلا دیں تو ہم دس بار ذبح ہونے تیار ہیں :00005: :00026:

ارے بھائی ایک اور واقعہ سنیں!

ایک آدمی سفر پر جا رہا تھا، کہ ایک گاؤں یا شہر سے گذرتے ہوئے اسے یاد آیا کہ یہاں پر اسکا ایک پُرانا دوست رہتا ہے، رات کا وقت تھا، ایسے میں جب اس نے اپنے دوست کے گھر دستک دی تو اس نے اندر سے پوچھا کون ہے، اس نے اپنا نام بتایا، تو دوست تھوڑی دیر بعد تیار ہو کر باہر نکلا۔ اس کے ایک ہاتھ میں تلوار اور دوسرے میں ایک تھیلا تھا!

دوست کو دیکھر کر اسے گلے ملا اور کہا کہ اتنی رات گئے تم یہاں! خیریت تو ہے؟ اگر دشمن تمھارے پیچھے ہے تو میں‌ اپنی جان کی بازی لگانے کے لیے تیار ہوں، اور اگر تمھیں کوئی مالی پریشانی تو یہ رقم سے بھرا تھیلا حاضر ہے!!!


اب بتائیں، آپ خود ایسا دوست بننے کو تیار ہیں‌ کیا؟

حیدرآبادی
30-03-09, 10:43 AM
رفی پاشا بھائی
ایک تو میرے پاس تلوار نہیں ہے اور دوسرے رقم سے بھرا تھیلا پانے ہی کے لئے تو میں دوست کی تلاش میں ہوں :00003: :00032:

رفی
30-03-09, 01:55 PM
رفی پاشا بھائی
ایک تو میرے پاس تلوار نہیں ہے اور دوسرے رقم سے بھرا تھیلا پانے ہی کے لئے تو میں دوست کی تلاش میں ہوں :00003: :00032:

شاید اسی طرح کی دوستی کے متلاشیوں کے لیے احمد فراز یہ کہہ گئے ہیں:


دوست بن کر بھی نہیں ساتھ نبھانے والا
وہی انداز ہے ظالم کا زمانے والا

اب اسے لوگ سمجھتے ہیں گرفتار مرا
سخت نادم ہے مجھے دام میں لانے والا

صبحدم چھوڑ گیا نکہتِ گل کی صورت
رات کو غنچہء دل میں سمٹ آنے والا

کیا کہیں کتنے مراسم تھے ہمارے اس سے
وہ جو اک شخص ہے منہ پھیر کے جانے والا

تیرے ہوتے ہوئے آ جاتی تھی ساری دنیا
آج تنہا ہوں تو کوئی نہیں آنے والا

منتظر کس کا ہوں ٹوٹی ہوئی دہلیز پہ میں
کون آئے گا یہاں کون ہے آنے والا

کیا خبر تھی جو مری جاں میں گھلا ہے اتنا
ہے وہی مجھ کو سرِ دار بھی لانے والا

میں نے دیکھا ہے بہاروں میں چمن کو جلتے
ہے کوئی خواب کی تعبیر بتانے والا

تم تکلف کو بھی اخلاص سمجھتے ہو فراز
دوست ہوتا نہیں ہر ہاتھ ملانے والا

حیدرآبادی
30-03-09, 02:29 PM
کیا خبر تھی جو مری جاں میں گھلا ہے اتنا
ہے وہی مجھ کو سرِ دار بھی لانے والا

رفی پاشا بھائی ، ہم اقتباس کردہ بالا شعر کو کچھ یوں پڑھا کیا کرتے ہیں :

کیا خبر تھی جو تری جاں میں گھپلا ہے اتنا
ہے تو ہی مجھ کو سرِ دار بھی لانے والا

:00005:

فرینڈ
30-03-09, 04:39 PM
رفی بھائی بہت اچھی تحریر ہے۔۔۔۔ماشاءاللہ! اچھی شئیرنگ نہایت شکریہ!

ساجد تاج
30-03-09, 08:15 PM
شیئر کرنے کے لیے شکریہ بھائی