irum
19-08-09, 06:13 PM
http://i217.photobucket.com/albums/cc52/irum-angel/islam/1_1171032769.gif
وٹامن کی دریافت
1944ءتک وٹامنز کی مقبولیت اس حد تک بڑھ چکی تھی کہ صرف ایک سال میں دوا سازوں نے بیس کروڑ ڈالر کی وٹامنز فروخت کیں۔ اس کی کئی وجوہات تھیں۔ ڈاکٹروں نے وٹامنز کا استعمال پہلے سے زیادہ کردیا تھا اور عوام نے انہیں زیادہ سے زیادہ خریدا۔ سب سے بڑی وجہ یہ تھی کہ زمانہ جنگ نے حیات بخش دوائوں کی اہمیت اور ضرورت کو پہلے سے کہیں زیادہ بڑھا دیا تھا۔ امریکا کی بحری اور بری فوجیں جو انتہائی شمالی علاقوں یا گرم ملکوں میں جنگی خدمات انجام دے رہی تھیں۔ ان کی حفاظت کے لیے ان کی حکومت وٹامنز بھاری مقدار میں خریدتیں کیوں کہ ان مقامات پر امریکی فوجوں میں جو ایسی انتہائی سرد یا گرم آب و ہوا کے عادی نہ تھے۔ ان میں حیاتین کی کمی کے عارضے پیدا ہوجانے کے قوی امکانات تھے۔
اس کے علاوہ ریڈکراس سوسائٹی نے بھی حیاتین خریدیں اور جنگ زدہ ملکوں کے ان بیمار فوجیوں اور شہریوں کے لیے بھیجیں جو مختلف امراض میں مبتلا تھے۔ اس ادارے نے دس کروڑ تیس لاکھ ڈالر کی قیمت کی وٹامنز اس مقصد کے لیے خریدیں۔
یہی وہ سال بھی تھا جب امریکی حکومت کو خود اپنے شہریوں کی صحت پر بطور خاص توجہ دینی پڑی۔ لاکھوں آدمی جنگی صنعتوں میں کام کررہے تھے اور ان کی خدمات جنگ کو جاری رکھنے اور جمہوری نظام حکومت کی بقا کے لیے ضروری تھیں اس کے علاوہ بہت سے ڈاکٹر فوجوں میں بھرتی ہوکر چلے گئے تھے جس سے اندرون ملک ڈاکٹروں کی کمی ہوگئی تھی۔ حکومت جانتی تھی کہ عوام کو حتی الامکان صحت مند رکھنا بہت ضروری ہے تاکہ امراض کو ان پر حملہ کرنے کا کم سے کم موقع مل سکے۔ لہٰذا حکومت نے غذا تیار کرنے والوں کو ہدایت کی کہ جو غذائیں تیار کی جائیں ان میں مصنوعی وٹامنز کی مناسب مقدار شامل کی جائے تاکہ وہ غذائیت اور اہم غذائی اجزاءبرقرار رہیں جو غذائوں کو ذخیرہ کرنے‘ ڈبوں میں بھرنے‘ پسینے اور صاف کرنے سے ضائع ہوجاتے ہیں۔ غذا تیار کرنے والوں نے یہ مشورہ جلد ہی قبول کرلیا۔ آٹا پیسنے والوں اور ڈبل روٹی بنانے والوں نے مرکب ”بی“ کی وٹامنز بھاری مقدار میں خریدیں اور ان سے اپنے آٹے اور روٹیوں میں تازہ قوت داخل کی۔ ہلکے مشروب میں وٹامن ”جے“ کا اضافہ کیا گیا۔ مصنوعی مکھن بنانے والوں نے اپنی مصنوعات میں وٹامن ”الف“ شامل کی۔ شیرخانوں میں وٹامن ”ڈی“ کی مدد سے دودھ کی قوت بڑھائی گئی۔
اس اثنا میں مزید تحقیق جاری رہی جس سے ڈاکٹر نئے تحقیقی میدانوں میں داخل ہوئے۔ آج کل وہ تجربے کررہے ہیں کہ حیاتین کو قوت کی کمی سے پیدا ہونے والی بیماریوں کے علاوہ دوسرے امراض کا علاج کرنے یا علاج میں مدد دینے کے لیے بھی استعمال کیا جاسکے۔
ایک کم عمر لڑکے کا واقعہ ہمارے سامنے ہے یہ ایک قطعی انوکھی بیماری کا شکار تھا جو عموماً کسی کو نہیں ہوا کرتی۔ جب یہ لڑکا پانچ سال کا تھا تو اس کی ٹانگوں کے رگ اور پٹھے دھیرے دھیرے سخت ہونے لگے‘ کسی وجہ سے اس کا جسم ضرورت سے زیادہ کیلشیم پیدا کرکے جمع کررہا تھا۔ ڈاکٹر اس انوکھی بیماری کو سمجھ تو گئے مگر اس کا کوئی علاج انہیں معلوم نہ تھا۔ وہ سمجھتے تھے یہ بیماری خودبخود اپنا دائرہ مکمل کر لے گی اور پھر پورا جسم پتھر ہوجائے گا اور لڑکا مرجائے گا پھر بھی انہوں نے اس لڑکے کی مدد کرنے کی کوشش کی۔ 1943ءمیں جب اس لڑکے کی بیماری اتنی شدت اختیار کر گئی کہ چلنا پھرنا قطعی ممکن نہ رہا تو اس کے والدین اسے شکاگو کے (چلڈرن میموریل ہاسپٹل) میں لے گئے۔
”کیا ہسپتال کے ڈاکٹر مجھے اچھا کردیں گے؟“ لڑکے نے اپنی ماں سے پوچھا۔ اس کی کتنی تمنا تھی کہ وہ بھی دوسرے لڑکوں کی طرح چلے پھرے‘ دوڑے اور کھیلے کودے۔
اس کی ماں نے کہا۔ ”بیٹے مجھے امید ہے اسی خیال سے ہم تمہیں ہسپتال لے جارہے ہیں۔“ وہ اسے یہ بتانے کی قوت نہیں رکھتی تھی کہ اس کے بارے میں کوئی امید باقی نہیں رہی۔
ہسپتال میں ڈاکٹروں نے پوری کوشش کی۔ انہوں نے اس کی ٹانگوں کا آپریشن کیا۔ اس کے رگ پٹھوں کو پھیلایا ان میں جمع شدہ کیلشیم کو الگ کیا جو پٹھوں کے اکڑنے کا باعث تھا انہوں نے اس کا عکس ریزی علاج کیا۔لیکن کوئی افاقہ نہ ہوا۔ کئی سال کے مسلسل علاج کے بعد بھی لڑکے کی حالت بد سے بدتر ہوتی رہی۔
تب ڈاکٹروں نے ”حیاتین ای “ (Vitamin E)کو آزمانے کا فیصلہ کیا جو ہڈیوں سے ملے ہوئے رگ پٹھوں پر اثر ڈالنے کے لیے مشہور ہے۔ ڈاکٹروں نے سوچا ممکن ہے یہ حیاتین اس لڑکے کی بیماری میں کچھ فائدہ پہنچائے اور اگر اس سے برائے نام بھی مدد ملے جب بھی اسے آزمانا مناسب ہے۔
انہوں نے لڑکے کو ”وٹامن ای“ کی خوراکیں پوری توجہ اور باقاعدگی سے دینی شروع کیں۔ چند ہفتوں کے بعد اس کی حالت میں خفیف سی تبدیلی دکھائی دی۔ انہوں نے یہ علاج جاری رکھا۔ بالآخر حیرت انگیز افاقہ نظر آنے لگا۔ لڑکا صحت مندی کی طرف لوٹنے لگا۔ اس کے پٹھوں کا کیلشیم دھیرے دھیرے اپنی جگہ چھوڑنے لگا۔ کئی مہینے کی مسلسل کوشش سے اس کی ٹانگوں کی پتھر جیسی کیفیت رفتہ رفتہ ختم ہونے لگی اور پھر ایک دن ڈاکٹروں میں مسرت کی لہر دوڑ گئی اس دن لڑکے نے بتایا کہ وہ اپنی ٹانگوں کے پٹھوں کو موڑ سکتا ہے۔
ایک صبح جب ایک ڈاکٹر اسے دیکھنے آیا تو بچے نے دریافت کیا۔ ”کیا آج میں چلنے کی کوشش کرسکتا ہوں؟“
ڈاکٹر نے کہا۔ ”یقیناً آئو کوشش کر دیکھیں۔“
ڈاکٹر اور نرس نے بچے کو اوپر اٹھنے میں مدد دی۔ ان کے اوپر جھکے جھکے اس نے اپنی ٹانگیں بڑے چائو کے ساتھ آگے بڑھائیں۔ وہ تھوڑا سا چلنے میں کامیاب ہوگیا۔ چار سال میں پہلی بار وہ اتنا چل پایا تھا۔
اس کی آنکھیں چمک اٹھیں۔ ”کسی دن میں بھی دوسرے لڑکوں کی طرح ہوجائوں گا۔“ وہ خوشی سے چلانے لگا۔
ڈاکٹر نے کہا۔ ”ہاں ہاں۔ ضرور‘ کیوں نہیں۔“
ڈاکٹر اور نرس شگفتگی سے مسکرا رہے تھے۔ انہوں نے اس لڑکے پر اتنے دن تک شبانہ روز محنت کی تھی۔ کتنی توجہ صرف کرنی پڑی تھی اور اب ان کے سامنے ان کے نتائج سے بھی کہیں بہتر نتائج تھے۔
”میرا خیال ہے کہ اب سے تقریباً دو سال کے اندر تم گیند کھیلو گے۔ دوڑو گے اور ہر وہ کام کرو گے جو دوسرے لڑکے کرتے ہیں۔“ ڈاکٹر نے کہا۔”اور اس سے بھی بہت پہلے تم بغیر سہارے کے چلنے لگو گے۔ لیکن تمہیں جلد بازی سے کام نہیں لینا چاہئے۔ تمہیں یہ بیماری کئی سال تک رہی ہے اور اس پر پورا قابو پانے میں ابھی کئی سال لگیں گے۔“
”وٹامن ای“ نے مرض کو مسخر کرلیا تھا۔ اس لڑکے کا علاج کرکے اور جسم کے اندر کیلشیم کے غیر ضروری ذخیروں پر اس کا اثر دیکھ کر ڈاکٹروں نے غیر معمولی قوتوں والی وٹامنز کے متعلق بہت کچھ نیا علم حاصل کرلیا اور انہیں یہ معلوم ہوگیا تھا کہ وہ کس طرح لوگوں کی مدد کرسکتے ہیں؟
وٹامن کی دوسری قسموں کی تلاش بھی جاری ہے۔وٹامن ”ب“ اس وقت کی ”قلت الدم“ کی چند ایسی مہلک بیماریوں کے علاج میں مدد کررہی ہے جنہیں پہلے ناممکن العلاج تصور کیا جاتا تھا۔
حیران کن وٹامن کے بارے میں اور زیادہ معلومات کی تلاش جاری ہے اور اس وقت تک جاری رہے گی جب تک کہ وٹامن کے متعلق مکمل تفصیل عیاں نہیں ہوجاتی اور سوال یہ بھی ہے کہ کیا اللہ کی تمام نعمتوں کو کبھی مکمل طور پر دریافت کیا جانا ممکن ہوگا؟
اقتباس از : سید عجائب الحسن
وٹامن کی دریافت
1944ءتک وٹامنز کی مقبولیت اس حد تک بڑھ چکی تھی کہ صرف ایک سال میں دوا سازوں نے بیس کروڑ ڈالر کی وٹامنز فروخت کیں۔ اس کی کئی وجوہات تھیں۔ ڈاکٹروں نے وٹامنز کا استعمال پہلے سے زیادہ کردیا تھا اور عوام نے انہیں زیادہ سے زیادہ خریدا۔ سب سے بڑی وجہ یہ تھی کہ زمانہ جنگ نے حیات بخش دوائوں کی اہمیت اور ضرورت کو پہلے سے کہیں زیادہ بڑھا دیا تھا۔ امریکا کی بحری اور بری فوجیں جو انتہائی شمالی علاقوں یا گرم ملکوں میں جنگی خدمات انجام دے رہی تھیں۔ ان کی حفاظت کے لیے ان کی حکومت وٹامنز بھاری مقدار میں خریدتیں کیوں کہ ان مقامات پر امریکی فوجوں میں جو ایسی انتہائی سرد یا گرم آب و ہوا کے عادی نہ تھے۔ ان میں حیاتین کی کمی کے عارضے پیدا ہوجانے کے قوی امکانات تھے۔
اس کے علاوہ ریڈکراس سوسائٹی نے بھی حیاتین خریدیں اور جنگ زدہ ملکوں کے ان بیمار فوجیوں اور شہریوں کے لیے بھیجیں جو مختلف امراض میں مبتلا تھے۔ اس ادارے نے دس کروڑ تیس لاکھ ڈالر کی قیمت کی وٹامنز اس مقصد کے لیے خریدیں۔
یہی وہ سال بھی تھا جب امریکی حکومت کو خود اپنے شہریوں کی صحت پر بطور خاص توجہ دینی پڑی۔ لاکھوں آدمی جنگی صنعتوں میں کام کررہے تھے اور ان کی خدمات جنگ کو جاری رکھنے اور جمہوری نظام حکومت کی بقا کے لیے ضروری تھیں اس کے علاوہ بہت سے ڈاکٹر فوجوں میں بھرتی ہوکر چلے گئے تھے جس سے اندرون ملک ڈاکٹروں کی کمی ہوگئی تھی۔ حکومت جانتی تھی کہ عوام کو حتی الامکان صحت مند رکھنا بہت ضروری ہے تاکہ امراض کو ان پر حملہ کرنے کا کم سے کم موقع مل سکے۔ لہٰذا حکومت نے غذا تیار کرنے والوں کو ہدایت کی کہ جو غذائیں تیار کی جائیں ان میں مصنوعی وٹامنز کی مناسب مقدار شامل کی جائے تاکہ وہ غذائیت اور اہم غذائی اجزاءبرقرار رہیں جو غذائوں کو ذخیرہ کرنے‘ ڈبوں میں بھرنے‘ پسینے اور صاف کرنے سے ضائع ہوجاتے ہیں۔ غذا تیار کرنے والوں نے یہ مشورہ جلد ہی قبول کرلیا۔ آٹا پیسنے والوں اور ڈبل روٹی بنانے والوں نے مرکب ”بی“ کی وٹامنز بھاری مقدار میں خریدیں اور ان سے اپنے آٹے اور روٹیوں میں تازہ قوت داخل کی۔ ہلکے مشروب میں وٹامن ”جے“ کا اضافہ کیا گیا۔ مصنوعی مکھن بنانے والوں نے اپنی مصنوعات میں وٹامن ”الف“ شامل کی۔ شیرخانوں میں وٹامن ”ڈی“ کی مدد سے دودھ کی قوت بڑھائی گئی۔
اس اثنا میں مزید تحقیق جاری رہی جس سے ڈاکٹر نئے تحقیقی میدانوں میں داخل ہوئے۔ آج کل وہ تجربے کررہے ہیں کہ حیاتین کو قوت کی کمی سے پیدا ہونے والی بیماریوں کے علاوہ دوسرے امراض کا علاج کرنے یا علاج میں مدد دینے کے لیے بھی استعمال کیا جاسکے۔
ایک کم عمر لڑکے کا واقعہ ہمارے سامنے ہے یہ ایک قطعی انوکھی بیماری کا شکار تھا جو عموماً کسی کو نہیں ہوا کرتی۔ جب یہ لڑکا پانچ سال کا تھا تو اس کی ٹانگوں کے رگ اور پٹھے دھیرے دھیرے سخت ہونے لگے‘ کسی وجہ سے اس کا جسم ضرورت سے زیادہ کیلشیم پیدا کرکے جمع کررہا تھا۔ ڈاکٹر اس انوکھی بیماری کو سمجھ تو گئے مگر اس کا کوئی علاج انہیں معلوم نہ تھا۔ وہ سمجھتے تھے یہ بیماری خودبخود اپنا دائرہ مکمل کر لے گی اور پھر پورا جسم پتھر ہوجائے گا اور لڑکا مرجائے گا پھر بھی انہوں نے اس لڑکے کی مدد کرنے کی کوشش کی۔ 1943ءمیں جب اس لڑکے کی بیماری اتنی شدت اختیار کر گئی کہ چلنا پھرنا قطعی ممکن نہ رہا تو اس کے والدین اسے شکاگو کے (چلڈرن میموریل ہاسپٹل) میں لے گئے۔
”کیا ہسپتال کے ڈاکٹر مجھے اچھا کردیں گے؟“ لڑکے نے اپنی ماں سے پوچھا۔ اس کی کتنی تمنا تھی کہ وہ بھی دوسرے لڑکوں کی طرح چلے پھرے‘ دوڑے اور کھیلے کودے۔
اس کی ماں نے کہا۔ ”بیٹے مجھے امید ہے اسی خیال سے ہم تمہیں ہسپتال لے جارہے ہیں۔“ وہ اسے یہ بتانے کی قوت نہیں رکھتی تھی کہ اس کے بارے میں کوئی امید باقی نہیں رہی۔
ہسپتال میں ڈاکٹروں نے پوری کوشش کی۔ انہوں نے اس کی ٹانگوں کا آپریشن کیا۔ اس کے رگ پٹھوں کو پھیلایا ان میں جمع شدہ کیلشیم کو الگ کیا جو پٹھوں کے اکڑنے کا باعث تھا انہوں نے اس کا عکس ریزی علاج کیا۔لیکن کوئی افاقہ نہ ہوا۔ کئی سال کے مسلسل علاج کے بعد بھی لڑکے کی حالت بد سے بدتر ہوتی رہی۔
تب ڈاکٹروں نے ”حیاتین ای “ (Vitamin E)کو آزمانے کا فیصلہ کیا جو ہڈیوں سے ملے ہوئے رگ پٹھوں پر اثر ڈالنے کے لیے مشہور ہے۔ ڈاکٹروں نے سوچا ممکن ہے یہ حیاتین اس لڑکے کی بیماری میں کچھ فائدہ پہنچائے اور اگر اس سے برائے نام بھی مدد ملے جب بھی اسے آزمانا مناسب ہے۔
انہوں نے لڑکے کو ”وٹامن ای“ کی خوراکیں پوری توجہ اور باقاعدگی سے دینی شروع کیں۔ چند ہفتوں کے بعد اس کی حالت میں خفیف سی تبدیلی دکھائی دی۔ انہوں نے یہ علاج جاری رکھا۔ بالآخر حیرت انگیز افاقہ نظر آنے لگا۔ لڑکا صحت مندی کی طرف لوٹنے لگا۔ اس کے پٹھوں کا کیلشیم دھیرے دھیرے اپنی جگہ چھوڑنے لگا۔ کئی مہینے کی مسلسل کوشش سے اس کی ٹانگوں کی پتھر جیسی کیفیت رفتہ رفتہ ختم ہونے لگی اور پھر ایک دن ڈاکٹروں میں مسرت کی لہر دوڑ گئی اس دن لڑکے نے بتایا کہ وہ اپنی ٹانگوں کے پٹھوں کو موڑ سکتا ہے۔
ایک صبح جب ایک ڈاکٹر اسے دیکھنے آیا تو بچے نے دریافت کیا۔ ”کیا آج میں چلنے کی کوشش کرسکتا ہوں؟“
ڈاکٹر نے کہا۔ ”یقیناً آئو کوشش کر دیکھیں۔“
ڈاکٹر اور نرس نے بچے کو اوپر اٹھنے میں مدد دی۔ ان کے اوپر جھکے جھکے اس نے اپنی ٹانگیں بڑے چائو کے ساتھ آگے بڑھائیں۔ وہ تھوڑا سا چلنے میں کامیاب ہوگیا۔ چار سال میں پہلی بار وہ اتنا چل پایا تھا۔
اس کی آنکھیں چمک اٹھیں۔ ”کسی دن میں بھی دوسرے لڑکوں کی طرح ہوجائوں گا۔“ وہ خوشی سے چلانے لگا۔
ڈاکٹر نے کہا۔ ”ہاں ہاں۔ ضرور‘ کیوں نہیں۔“
ڈاکٹر اور نرس شگفتگی سے مسکرا رہے تھے۔ انہوں نے اس لڑکے پر اتنے دن تک شبانہ روز محنت کی تھی۔ کتنی توجہ صرف کرنی پڑی تھی اور اب ان کے سامنے ان کے نتائج سے بھی کہیں بہتر نتائج تھے۔
”میرا خیال ہے کہ اب سے تقریباً دو سال کے اندر تم گیند کھیلو گے۔ دوڑو گے اور ہر وہ کام کرو گے جو دوسرے لڑکے کرتے ہیں۔“ ڈاکٹر نے کہا۔”اور اس سے بھی بہت پہلے تم بغیر سہارے کے چلنے لگو گے۔ لیکن تمہیں جلد بازی سے کام نہیں لینا چاہئے۔ تمہیں یہ بیماری کئی سال تک رہی ہے اور اس پر پورا قابو پانے میں ابھی کئی سال لگیں گے۔“
”وٹامن ای“ نے مرض کو مسخر کرلیا تھا۔ اس لڑکے کا علاج کرکے اور جسم کے اندر کیلشیم کے غیر ضروری ذخیروں پر اس کا اثر دیکھ کر ڈاکٹروں نے غیر معمولی قوتوں والی وٹامنز کے متعلق بہت کچھ نیا علم حاصل کرلیا اور انہیں یہ معلوم ہوگیا تھا کہ وہ کس طرح لوگوں کی مدد کرسکتے ہیں؟
وٹامن کی دوسری قسموں کی تلاش بھی جاری ہے۔وٹامن ”ب“ اس وقت کی ”قلت الدم“ کی چند ایسی مہلک بیماریوں کے علاج میں مدد کررہی ہے جنہیں پہلے ناممکن العلاج تصور کیا جاتا تھا۔
حیران کن وٹامن کے بارے میں اور زیادہ معلومات کی تلاش جاری ہے اور اس وقت تک جاری رہے گی جب تک کہ وٹامن کے متعلق مکمل تفصیل عیاں نہیں ہوجاتی اور سوال یہ بھی ہے کہ کیا اللہ کی تمام نعمتوں کو کبھی مکمل طور پر دریافت کیا جانا ممکن ہوگا؟
اقتباس از : سید عجائب الحسن