URDU MAJLIS FORUM  

واپسی   URDU MAJLIS FORUM > ::: مجلسِ مذہب اور نظریات ::: > اسلامی مہینے > ماہ ذی الحجہ اور حج


ماہ ذی الحجہ اور حج :: ماہ ذی الحجہ کی فضیلت ، حج ، قربانی اور عید الاضحیٰ کے احکام ، فضائل و مسائل ::

جواب پوسٹ کریں
 
موضوع کے اختیارات ظاہری انداز
پرانا 29-11-08, 12:55 PM   #1
Abu Abdullah
-: ماہر :-
 
تاریخ شمولیت: 2007-11-07
قیام: الخبر
جنس: male
پوسٹس: 858
پوائنٹس: 44
Abu Abdullah Abu Abdullah Abu Abdullah Abu Abdullah Abu Abdullah Abu Abdullah Abu Abdullah Abu Abdullah Abu Abdullah Abu Abdullah Abu Abdullah
Abu Abdullah کی طرف بذریعہ MSN  پیغام ارسال کریں Abu Abdullah کی طرف بذریعہ yahoo پیغام ارسال کریں
حج سے متعلق ایک سبق آموز واقعہ

بسم اللہ الرحمن الرحیم

حج سے متعلق ایک سبق آموز واقعہ

حضرت ابراہیم علیہ السلام نے آج سے ہزار ہا سال قبل اللہ تعالی کے حضور یہ دعا کی تھی کہ

ربنا انی اسکنت من ذریتی بواد غیرذی زرع عند بیتک المحرم ربنا لیقیمو الصلاۃ فاجعل افئدۃ من الناس تہوی الیہم ورزقھم من الثمرات لعلھم یشکرون {ابراہیم۳۷}

پروردگار؟ میں نے ایک بے آب وگیاہ وادی میں اپنی اولاد کوتیرے محترم گھرکے پاس لابسایا ہے یہ میں نےاسلئے کیا ہے کہ یہ لوگ یہاں نمازقائم کریں ، لہذا تولوگوں کے دلوں کو انکا مشتاق بنااور انہیں کھانےکو پھل دے ، شاید کہ یہ شکرگزار بنیں ۔

ایک سچے مومن کے دل سے نکلی ہوئی اس دعا کو اللہ تعالی نے شرف قبولیت بخشا جسکا اثرآج ہر شخص دیکہ رہاہےکہ دنیا کےگوشےگوشے ، چپے چپے اور کونےکونےسےمسلمان اس گھرکارخ کررہے ہیں ؛ اورجو یہاں تک نہیں پہنچ پاتے وہ یہاں تک پہنچنےکیلئےکوشاں اورخواہش مند رہتے ہیں ۔

ایسےسچےایمان والےبھی آپکوملیں گےجویھاںتک پہنچنےاوراس گھرکوایک نظردیکھنے کیلئےاپنا سب کچہ قربان کردینا چاہتے ہیں ، ہمارے بزرگوں نےاسلسلےمیں عجیب وغریب مثالیں چھوڑی ہیں ۔ انہی میں سےایک مثال ذيل کا واقعہ بھی ہے//

مغربی افریقہ کےآخری کنارے پرواقع ایک ملک ہےجسے جمہوریت جامبیا کہتے ہیں اسکا دارالحکومت بانجول ہے یہ سفرنامہ وہیں کےرہنے والےشیخ عثمان دابونامی ایک حاجی کا ہے ۔ آج سے تقریبا ستر{۷۰ }سال {قبل} اپنے دار الحکومت بانجول سے افریقہ کے براعظم کو مغرب سے مشرق تک طے کرتے ہوئے یہ پانچ ساتھی مکہ مکرمہ کیلئے روانہ ہوئے ۔ راستے میں زیادہ ترسفر پیدل طے کیا بہت معمولی مسافت ایسی ہو گی جو جانوروں پر سوار ہوکر طے کیا ہوگا ۔ یہاں تک کہ بحر احمر کے کنارے پہنچ کر وہاں سے کشتی پر سوار ہوۓ اور جدہ پہنچے ، حاجی عثمان کا بیان ہے کہ ہم لوگوں نے يہ مسافت دوسال سے زیادہ مدت میں طے کی ، اثنائے سفر کبھی کبھار کسی شہر میں رک کر زاد سفر کیلئے محنت ومزدوری بھی کرنی پڑی ، جب ضرورت بھر کا سامان حاصل ہو جا تا تو پھر سفر شروع کردیتے ، انکا یہ سفر اپنے اندر بہت سے عجیب واقعات اور درس وعبرت لئے ہوئے ہے ۔

یہ سفر کیوں ؟ اولا تو اس واقعہ کو پڑ ھنے والوں کے ذہن میں یہ سوال اٹہ سکتا ہے کہ آخر حج تو اسی شخص پر فرض ہے جسکے پاس زاد سفر اور دیگر خرچ کیلئے سامان موجود ہو ۔ ليکن ان ساتھيوں نے تنگ دستی کے باوجود اس قدر تکلیف وپریشانی کیوں برداشت کی ؟

پوچھنے پر حاجی عثمان نے {جو شایدآج مرحوم ہوچکے ہونگے} یہ جواب دیا کہ یہ بات سچ ہے لیکن ایک دن ہم اور ہمارے ساتھی آپس میں بیٹھکر حضرت ابراہیم خلیل علیہ الصلاۃ والسلام کا قصہ دہرارہئے تھے کہ وہ اپنے بیوی بچے کو لیکر بن کھیتی والی وادی میں اللہ کے محترم گھر کے پاس کسطرح پہنچے ۔

یہ سنکر ہمارے ایک ساتھی نے جذبات بھرے انداز میں کہا کہ ہم لوگ ابھی جوان ، صحت مند اور طاقت ور ہیں ،اگر اس گھر کی زیارت میں کوتاہی سے کام لیا تو اللہ تعالی کے نزدیک ہم کیا عذر پیش کریں گے خاص کر آنے والے ایام میں کمزوری کا ہی سامنا کر پڑے گا ، پھر تاخیر کیوں کریں ؟ چناچہ اس نے ہمارے جذبات کو بھڑکایا ، اور اللہ تعالی پر بھروسہ کرکے سفرپرابھارا ۔

سفر کی ابتدا:
ہم پانچ آدمی گھرسے بیت اللہ کی زیارت کی غرض سے نکلے ، ہمارے ساتہ صرف اتنا توشہ تھا جوصرف ایک ہفتہ کیلئے کافی ہو سکتا تہا ، ہمارا اصل مقصد بیت اللہ کا حج اور حکم الہی کو پورا کرنا تھا ، راستے میں ہمیں ایسی پریشانی ، تنگی اور مصیبت کا سا منا کرنا پڑا کہ اسکا علم اللہ کے علاوہ کسی اور کو نہیں ہے ۔ کئی راتیں تو ہم اسقدر بھوک کی حالت میں گزارے کہ موت سامنے نظر آرہی تھی ، کتنی راتیں تو اس حال میں گزارے کہ درندوں کے خوف سے نید کیلئے پلک بھی نہ چھپکتی تھی اور کتنی راتیں ڈاکووں کے خوف سے اس طرح گزارنی پڑیں کہ خوف و ہراس ہر طرف سے ہمارے گرد گھیرا ڈالے ہوئے تھے۔

سفر کے بعض حادثات:
{۱} شیخ عثمان بیان کرتے ہیں کہ دوران سفر ایک رات مجھے کسی زیریلے جانور نے ڈنگ ماردیاجسکی وجہ سے مجھے اسقدر تیز بخاراور سخت دردکا سامنا کرنا پڑا کہ نہ چلنا ممکن رہا اور نہ ہی سونا ، حتی کہ موت کے آثار میری رگوں میں دوڑنے لگے ۔


چنانچہ ہمیں ایک جگہ قیام کرنا پڑا ۔ قیام کے دوران ہمارے ساتھی مجھے چھوڑ کر کام پر چلے جاتے ، میں اکیلئے دن بھر ايک درخت کے نیچے لیٹا رہتا ایک دن تنھائی میں شیطان نے میرے دل میں یہ وسوسہ ڈالا کہ کیا تیرے لئے یہی بہتر نہ تھا کہ تواپنے گھر میں ہو تا ، تو اپنے آپ پر اتنا بوجہ کیوں ڈال رہا ہے جسکی تیرے پاس طاقت نہیں ہے ؟

کیا تجھے معلوم نہیں ہے کہ اللہ تعا لی نے حج صرف اسی شخص پر فرض کیا ہے جو صاحب استطاعت ہو ؟ وغیرہ

چنانچہ ان خیالات سے متاثر ہوکر میرا نفس سست پڑنے لگا اور قريب تھا کہ میں اپنی ہمت کھو بیٹھتا ، میرے ساتھی شام کے وقت جب واپس ہوئے تو ان میں سے ایک نے میرے غمزدہ چہرے کی طرف دیکھا اور میری خیریت دریافت کی ، میں اسکی طرف متوجہ ہوا اور جلدی سے آنکھوں میں بھرے آنسوکو صاف کرلیا ، شاید اس نے میری داخلی کیفیت کو محسوس کرلیا ، چنانچہ اس نے مجہ سے کہا : اٹھو ، وضوکرو اور نماز پڑھو یقین رکھو کہ انشاءاللہ تمہیں خیر وبھلائی ہی حاصل ہوگی۔

کیونکہ ارشاد باری تعالی ہے :

واستعینوا بالصبری والصلاۃ وانھالکبیرۃالا علی الخاشعین ، الذین یظنون انہم ملاقواربہم وانہم الیہ راجعون { البقرۃ :٤٥/٤٦}


ترجعہ : اور صبراور نماز کے ساتہ مدد طلب کرو يہ چيز شاق ہے ، مگرڈر رکھنے والوں پر ۔ جو جا نتے ہيں کہ بے شک وہ اپنے رب سے ملا قات کرنے والے اور يقينا وہ اسی کی طرف لوٹ کرجانے والے ہیں ۔

چنانچہ میں اٹھا وضوکیا اور نماز پڑھی جسکے بعد میرے دل کو اطمینان حاصل ہوا اور الحمد للہ وہ غم وحزن جو مجھے لاحق ہوا تھا جاتا رہا ۔

{۲} پانچ آدمیوں پر مشتمل اس قافلے کو شوق حرم دھکے دئے جارہاتھا جسکی وجہ سے سفر کی تھکان و پریشانی ہیچ معلوم ہوتی تھی ، راستے کی خطرناکی وسختی ایک معمولی سی چیز تھی ، حاجی عثمان کہتے ہیں کہ حرمین شریفین پہنچنے کے شوق میں چلتے چلتے اور تکلیفیں ومصیبتیں جھیلتے جھیلتے ہمارے تین ساتھی ہمارا ساتہ چھوڑ گئے اور اپنے رب کے محترم گھر تک پہنچنےسے پہلے ہی اس سے جا ملے ، ان میں تیسرے ساتھی کا انتقال سمندری سفر میں ہوا ، اسے جب یہ محسوس ہونے لگا کہ اب اسکی اجل قریب ہے تو اپنے دونوں ساتھیوں کو اس نے ایک عجیب وغریب وصیت کی ، اسنے کہا : جب مسجد حرام پہنچ جا نا تو اللہ تعالی سے عرض کردینا کہ میں اس سے ملاقات کا بڑا مشتاق تھا اور اللہ تعالی سے میرے لیئے یہ دعا کرنا کہ مجھے او رمیری والدہ کو جنت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت نصیب فرمائے۔

قسمت کی خوبی دیکھئے ٹوٹی کہاں کمند ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دوچارہاتہ جب کہ لب بام رہ گیا ،

{3} شیخ عثمان بیان کرتے ہیں کہ جب میرا تیسرا ساتھی بھی ساتہ چھوڑ گیا تو مجھے سخت غم لاحق ہوا اور بڑی فکر دامن گیر ہوئی ،
بلکہ یہ پریشانی میرے نزدیک راستے کی تمام پریشانیوں سے بڑی تھی کیونکہ وہ ہم میں سب سے زیادہ صبر والا اور طاقتورتھا ، اب مجھے یہ خوف لاحق ہوا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ مسجد حرام پہنچنے سے قبل میری بھی موت واقع ہو جائے ، چنانچہ میں آنے والے دنوں اور گھنٹوں کا اسطرح شمار کررہاتھا گویا کہ میں چنگاریوں پر بیٹھا ہوا ہوں ۔


{٤} جب ہم باقی دوساتھی جدہ پہنچے تو میری طبیعت خراب ہو گئی اور اسقدر بگڑگئی کہ مجھے موت سامنے دکھائی دینے لگی ، اب مجھے یہ ڈرمحسوس ہوا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ مکہ مکرمہ پہنچنے سے قبل میں بھی اس دنیا سے رخصت ہو جاوں ، چنانچہ میں نے اپنے ساتھی کو یہ وصیت کی کہ اگر میرا انتقال ہو جائے تو مجھےمیرے احرام ہی میں کفنانا اور جھاں تک ہوسکے مجھے مکہ مکرمہ کے قریب لے جاکر دفن کرنا ، شاید کہ اللہ تعالی مجھے بھی اپنے نیک بندوں میں داخل اور میرے اجر میں اضافہ کردے ۔
سفر کا خاتمہ : وعدۂ وصل چوں شود نزدیک ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آتش شوق تیزمی گردد ۔
شیخ عثمان دابو بیان کرتے ہیں کہ ہم لوگ جدہ میں چند دن ٹھہرکر مکہ کے لئے روانہ ہوۓ ۔ ہماری نبض تیز چل رہی تھی ، چہرے سے خوشی کے آثار ظاہر تھے ، شوق و محبت ہمیں دھکے دے رہی تھی ، یہاں تک کہ ہم مسجد حرام پہنچ گئے ۔


قصہ بيان کر نے والے کہتے ہیں کہ یہ کہکر شیخ عثمان چند لمحے کیلئے خاموش ہو ئے ، انکی آواز بھرا گئی ، آنکھوں ميں آنسو آگئے اور کہنے لگے کہ اللہ کی قسم جس وقت ہماری نظر کعبہ مشرفہ پر پڑی ہے اس وقت ہمیں جو دلی سکون ، قلبی لذت اور خوشی حاصل ہوئی ہے وہ کبھی بھی حاصل نہیں ہوئی ، جیسے میری نظر کعبہ مشرفہ پر پڑی میں فورا اللہ تعالی کیلئے سجدہ میں گر گیا اور شدت جذبات میں پھوٹ پھوٹ کر اسطرح رونے لگا کہ جسطرح بچے روتے ہیں ، {چوآتاہےخوشی کی انتہاپر ۔۔۔۔۔۔۔۔ بہت روئے تھے اس آنسو کی خاطر}

پھر میں نے اپنے ان ساتھیوں کو یاد کیا جنہیں مسجد حرام تک پہنچنا نصیب نہ ہو سگا ۔ ہم نے اللہ تعا لی کی اس نعمت پر اسکا شکریہ اداکیا اور دعا کی کہ انکے اس سفر کو قبول فرمائے ۔ اجروثواب سے محروم نہ کرے ، انہیں اور ہمیں راستی اور عزت کی بیٹھک میں قدرت والے بادشاہ کے پاس جگہ دے ۔ { فی البناء الدعوی للشیخ احمد العویان ص١٤٦ ۔ ١٤٩ }

فوائد وعبر:

1 / حضرت ابرہیم علیہ السلام کی دعا کی قبولیت' {فاجعل أفئدۃ من الناس تہوي الیہم} پس تو کچہ لوگوں کے دلوں کو ان کی طرف مائل کردے ،
چناچہ آج کوئی مومن بندہ ايسا نہیں ہے جسکا دل خانہ کعبہ کی طرف مائل نہ ہواور وہاں حاضر ہونے کا شوق نہ رکھتا ہو۔


2 / جولوگ حج کو دنیاوی ضرورت کا بہانہ کر کے مؤ خرکرتے رہتے ہیں انکیلئے درس وعبرت۔
من اراد الحج فلیتعجل فانہ قد یمرض المریض وتضل الضالۃ وتعرض الحاجۃ ،
{ ابن ماجہ 3883۔ احمد33 ٢١٤ عن ابن عباس }

جوحج کرنا چا ہتا ہے وہ جلدی کرے کيونکہ ہوسکتا ہے کہ آدمی بيمار ہوجاۓ ، سواری گم ہوجاۓ يا کوئی ضرورت درپيش آجاۓ۔

3 / حج تو فرض صاحب استطاعت پر ہے لیکن عدم استطاعت کے باوجود اگر کوئی شخص حج کرلیتا ہے اور اسکے حج کرنے سے کسی بڑی ذمہ داری پر فرق نہیں پڑتا تو اسکا حج صحیح اور قابل قدر ہے ، فأولئک کان سعیہم مشکورا{الاسراء١٩} پس يہی لوگ ہيں جن کی کوشش کی اللہ کے ہاں پوری قدر دانی کی جاۓ گی ۔
وسارعوا الی مغفرۃ من ربکم وجنۃ عرضہا السماوات والارض اعدت للمتقین{آل عمران ١٣٣}

اور اپنے رب کی بخشش کی طرف اور اس جنت کی طرف دوڑو جس کا عرض آسمانوں اور زمين کے برابر ہے ، جوپرہيز گاروں کے ليے تيار کی گئی ہے ۔

٤ / دین کے راستے میں تکلیفیں اور آزمائشیں آتی ہیں جن سے نپٹنا ہر مومن کا فرض ہے ۔

5 / نفس اور شیطان مومن بندہ کو راہ حق سے روکنا اور بھٹکانا چاہتے ہیں ۔
ومن اضل ممن اتبع ہواہ بغیر ھدی من اللہ {القصص٥٠} اور اس سے بڑھ کر بہکا ہوا کون ہے؟ جواپنی خواہش کے پيچھےپڑا ہوا ہو بغير اللہ کی رہنمائی کے ۔


الشیطان یعد کم الفقر ویامرکم بالفحشاء واللہ یعد کم مغفرۃ منھ وفضلا { البقرۃ 2٦8}

شيطان تمہيں فقيری سے دھمکا تا ہے اور بے حيائی کاحکم ديتا ہے ، اور اللہ تعالی تم سے اپنی بخشش اور فضل کا وعدہ کرتا ہے ۔

٦ / نماز ایک مومن کیلئے مصائب میں بہترین معاون ہے ۔
کان اذاحزبہ امر صلی{ سنن ابوداود عن حذیفہ} جب کسی کام کی فکر لاحق ہوتی تو نمازکا سہارا ليتے ۔

واستعینوابالصبروالصلاۃ وانہالکبیرۃ الاعلی الخاشعین{البقرة ٤٥} اور صبر اور نماز کے ساتہ مدد طلب کرو يہ چيز شاق ہے ، مگر ڈر رکھنے والوں پر ۔

7 / اچھے اور سچے ایمان والے ساتھیوں کی اہمیت کہ وہ مشکل وقت میں ساتہ دينے اور دین پر ثابت قدم رہنے کی تلقین کرتے ہیں ، وتواصوابالحق وتواصوابالصبر{العصر٣} اور{جنہوں نے} آپس ميں حق کی وصيت کی اور ايک دوسرے کو صبر کی نصيحت کی ۔

8 / کسی چیز کی سچھی محبت اس راستے کی ہر مصیبت و پریشانی کو آسان بنادیتی ہے۔

9 / ہمارے بزرگوں نے حج کیلئے کس قدر تکلیفیں پرداشت کیں لیکن آج ہر قسم کی سہولت فراہم ہونے کے باوجود ہم کس قدر کوتاہ ہیں ۔

10 / کسی بھی نعمت کے حاصل ہونے پر سجدۂ شکر ۔
کان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اذاجاءہ امر سرورا او بشربہ خرساجدا شاکرا للہ تعالی ۔

{ ابوداود، الترمذی عن ابی بکرۃ} جب اللہ کے رسول صلی اللہ عليہ وسلم کو کسی چيز کی خوشخبری دی جاتی تو اللہ تعالی کے شکريہ کے طور پر آپ فورا سجدے ميں گر پڑتے۔

اسم المقالة : حج سے متعلق ایک سبق آموز واقعہ


تحرير المقالة: شیخ ابو کلیم فیضی الغاط
Abu Abdullah آف لائن ہے   یہ اقتباس دیں
پرانا 29-11-08, 05:16 PM   #2
مجیب منصور
-: منفرد :-
 
مجیب منصور کی نمائندہ تصویر
 
تاریخ شمولیت: 2008-01-29
قیام: خیرپور
جنس: male
عمر: 31
پوسٹس: 2,129
پوائنٹس: 154
مجیب منصور مجیب منصور مجیب منصور مجیب منصور مجیب منصور مجیب منصور مجیب منصور مجیب منصور مجیب منصور مجیب منصور مجیب منصور
مجیب منصور کی طرف بذریعہ MSN  پیغام ارسال کریں مجیب منصور کی طرف بذریعہ yahoo پیغام ارسال کریں
ایمان پرور وسبق آموزاور نصیحت آفریں واقعہ شیئر کرنے پر ۔۔۔۔جزاک اللہ احسن الجزاء ۔ابو عبداللہ صاحب
مجیب منصور آف لائن ہے   یہ اقتباس دیں
ان 4 ارکان نے اس مفید پوسٹ کے لیے مجیب منصور کا شکریہ ادا کیا ہے
پرانا 29-11-08, 05:42 PM   #3
ابن عمر
 
تاریخ شمولیت: 2006-11-16
قیام: ارض الحرمین
جنس: male
پوسٹس: 13,349
پوائنٹس: 4837
ابن عمر ابن عمر ابن عمر ابن عمر ابن عمر ابن عمر ابن عمر ابن عمر ابن عمر ابن عمر ابن عمر
ابن عمر کی طرف بذریعہ MSN  پیغام ارسال کریں ابن عمر کی طرف بذریعہ yahoo پیغام ارسال کریں ابن عمر کی طرف بذریعہ Skype  پیغام ارسال کریں
جزاک اللہ خیراً
ابن عمر آف لائن ہے   یہ اقتباس دیں
ان 3 ارکان نے اس مفید پوسٹ کے لیے ابن عمر کا شکریہ ادا کیا ہے
پرانا 29-11-08, 07:47 PM   #4
دانیال ابیر
-: مبتدی :-
 
دانیال ابیر کی نمائندہ تصویر
 
تاریخ شمولیت: 2008-09-10
قیام: پاکستان
جنس: male
عمر: 30
پوسٹس: 8,420
پوائنٹس: 0
دانیال ابیر
دانیال ابیر کی طرف بذریعہ MSN  پیغام ارسال کریں دانیال ابیر کی طرف بذریعہ yahoo پیغام ارسال کریں دانیال ابیر کی طرف بذریعہ Skype  پیغام ارسال کریں
جزاک اللہ بھائی

ہمیشہ خوش رہیئے
دانیال ابیر آف لائن ہے   یہ اقتباس دیں
ان 3 ارکان نے اس مفید پوسٹ کے لیے دانیال ابیر کا شکریہ ادا کیا ہے
پرانا 29-11-08, 08:14 PM   #5
mahajawad1
--- V . I . P ---
 
mahajawad1 کی نمائندہ تصویر
 
تاریخ شمولیت: 2008-08-05
قیام: کینیڈا
جنس: female
پوسٹس: 451
پوائنٹس: 671
mahajawad1 mahajawad1 mahajawad1 mahajawad1 mahajawad1 mahajawad1 mahajawad1 mahajawad1 mahajawad1 mahajawad1 mahajawad1
سبحان اللہ۔ بہت بہترین اور ایمان افروز تحریر شئیر کی ہے آپ نے بھائی۔جزاک اللہ خیر۔
mahajawad1 آف لائن ہے   یہ اقتباس دیں
ان 5 ارکان نے اس مفید پوسٹ کے لیے mahajawad1 کا شکریہ ادا کیا ہے
پرانا 05-11-11, 07:30 AM   #6
ام نور العين
-: ممتاز :-
روحی فداک یا رسول اللہ ﷺ

 
ام نور العين کی نمائندہ تصویر
 
تاریخ شمولیت: 2009-03-30
قیام: پاک سرزمین
جنس: female
پوسٹس: 15,332
پوائنٹس: 9673
ام نور العين ام نور العين ام نور العين ام نور العين ام نور العين ام نور العين ام نور العين ام نور العين ام نور العين ام نور العين ام نور العين
بہت موثر !
جزاك الله خيرا وبارك فيك۔
ام نور العين آف لائن ہے   یہ اقتباس دیں
ان 4 ارکان نے اس مفید پوسٹ کے لیے ام نور العين کا شکریہ ادا کیا ہے
پرانا 05-11-11, 02:42 PM   #7
Baber Tanweer
-: رکن مکتبہ اسلامیہ :-
 
تاریخ شمولیت: 2010-12-20
جنس: male
پوسٹس: 1,448
پوائنٹس: 2864
Baber Tanweer Baber Tanweer Baber Tanweer Baber Tanweer Baber Tanweer Baber Tanweer Baber Tanweer Baber Tanweer Baber Tanweer Baber Tanweer Baber Tanweer
جزاک اللہ خیرا بھائ ابو عبداللہ۔
Baber Tanweer آف لائن ہے   یہ اقتباس دیں
ان 3 ارکان نے اس مفید پوسٹ کے لیے Baber Tanweer کا شکریہ ادا کیا ہے
پرانا 15-04-12, 05:28 PM   #8
جاسم منیر
Web Master
 
جاسم منیر کی نمائندہ تصویر
 
تاریخ شمولیت: 2009-09-17
قیام: کویت (آبائی مقام: لاہور، پاکستان)
جنس: male
پوسٹس: 4,449
پوائنٹس: 2089
جاسم منیر جاسم منیر جاسم منیر جاسم منیر جاسم منیر جاسم منیر جاسم منیر جاسم منیر جاسم منیر جاسم منیر جاسم منیر
جاسم منیر کی طرف بذریعہ yahoo پیغام ارسال کریں
بہت ایمان افروز تحریر ہے۔
جزاکم اللہ خیرا
جاسم منیر آف لائن ہے   یہ اقتباس دیں
ان 3 ارکان نے اس مفید پوسٹ کے لیے جاسم منیر کا شکریہ ادا کیا ہے
پرانا 10-05-12, 11:56 AM   #9
ساجد تاج
-: ممتاز :-
بُرائی اپنے اندر اور اچھائی دوسروں میں تلاش کرو
 
ساجد تاج کی نمائندہ تصویر
 
تاریخ شمولیت: 2008-11-24
قیام: لاہور
جنس: male
پوسٹس: 35,475
پوائنٹس: 10576
ساجد تاج ساجد تاج ساجد تاج ساجد تاج ساجد تاج ساجد تاج ساجد تاج ساجد تاج ساجد تاج ساجد تاج ساجد تاج
ساجد تاج کی طرف بذریعہ MSN  پیغام ارسال کریں ساجد تاج کی طرف بذریعہ yahoo پیغام ارسال کریں
جزاکم اللہ خیرا
ساجد تاج آف لائن ہے   یہ اقتباس دیں
ان 2 ارکان نے اس مفید پوسٹ کے لیے ساجد تاج کا شکریہ ادا کیا ہے
پرانا 10-05-12, 01:44 PM   #10
ume soban
-: رکن مکتبہ اسلامیہ :-
 
ume soban کی نمائندہ تصویر
 
تاریخ شمولیت: 2012-02-14
جنس: female
پوسٹس: 4,277
پوائنٹس: 4295
ume soban ume soban ume soban ume soban ume soban ume soban ume soban ume soban ume soban ume soban ume soban
جزاک اللہ خیراً ۔۔۔
ume soban آن لائن ہے   یہ اقتباس دیں
ان 3 ارکان نے اس مفید پوسٹ کے لیے ume soban کا شکریہ ادا کیا ہے
پرانا 10-05-12, 01:45 PM   #11
ume soban
-: رکن مکتبہ اسلامیہ :-
 
ume soban کی نمائندہ تصویر
 
تاریخ شمولیت: 2012-02-14
جنس: female
پوسٹس: 4,277
پوائنٹس: 4295
ume soban ume soban ume soban ume soban ume soban ume soban ume soban ume soban ume soban ume soban ume soban
جزاک اللہ خیراً ۔
ume soban آن لائن ہے   یہ اقتباس دیں
ان 3 ارکان نے اس مفید پوسٹ کے لیے ume soban کا شکریہ ادا کیا ہے
پرانا 13-05-12, 04:32 PM   #12
ام محمد
-: منفرد :-
 
ام محمد کی نمائندہ تصویر
 
تاریخ شمولیت: 2012-02-01
جنس: female
پوسٹس: 1,108
پوائنٹس: 3244
ام محمد ام محمد ام محمد ام محمد ام محمد ام محمد ام محمد ام محمد ام محمد ام محمد ام محمد
جزاک اللہ خیرا
ام محمد آف لائن ہے   یہ اقتباس دیں
ان 3 ارکان نے اس مفید پوسٹ کے لیے ام محمد کا شکریہ ادا کیا ہے
پرانا 17-05-12, 02:57 PM   #13
محمد آصف مغل
-: منتظر :-
 
تاریخ شمولیت: 2011-11-18
قیام: رانا ٹاؤن جی ٹی روڈ لاہور
جنس: male
عمر: 43
پوسٹس: 3,856
پوائنٹس: 0
محمد آصف مغل محمد آصف مغل محمد آصف مغل محمد آصف مغل محمد آصف مغل محمد آصف مغل محمد آصف مغل محمد آصف مغل محمد آصف مغل محمد آصف مغل محمد آصف مغل
محمد آصف مغل کی طرف بذریعہ ICQ  پیغام ارسال کریں محمد آصف مغل کی طرف بذریعہ AIM پیغام ارسال کریں محمد آصف مغل کی طرف بذریعہ Skype  پیغام ارسال کریں
اللہ کرے ’’شوق مجلس‘‘ اور زیادہ۔
محمد آصف مغل آف لائن ہے   یہ اقتباس دیں
جواب پوسٹ کریں

Bookmarks

ٹیگز
حج, آموز, سبق, متعلق, واقعہ

موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز

پوسٹ کرنے کے قوانین
You may not post new threads
You may not post replies
You may not post attachments
You may not edit your posts

سمائلز آف ہے
[IMG] کوڈ آن ہے
HTML کوڈ آف ہے

قوانین
فورم منتخب کریں

مشابہ موضوعات
موضوع مصنف فورم جوابات آخری پیغام
اسلامی قیادتیں۔۔۔اب یا کبھی نہیں حنیف المسلم اسلامی متفرقات 12 07-07-10 02:34 PM
علوم الحدیث: ایک تعارف رفی ویب سائٹس پر تبصرے 8 30-09-09 08:00 PM
عامر لیاقت کی توبہ!!! ناصر الدین حالاتِ حاضرہ 17 29-08-09 02:55 AM
قرآن اوربائبل سائنس کی روشنی میں(قسط نمبر 1) اعجاز علی شاہ اسلام اور سائنس 11 21-02-09 02:49 PM
بادشاہوں اور امراء کے نام نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے خطوط محمد نعیم سیرت النبی (ص) : الرحیق المختوم 0 23-06-08 10:29 PM


فورم کے تمام اوقات GMT +3 کے مطابق . وقت ہے ابھی 05:48 AM


Powered by vBulletin Version 3.8.7
® Copyright ©2000 - 2013, Jelsoft Enterprises Ltd. Urdu Translation by A.REHMAN
User Alert System provided by Advanced User Tagging (Lite) - vBulletin Mods & Addons Copyright © 2013 DragonByte Technologies Ltd.
Contact admin : admin@urduvb.com