URDU MAJLIS FORUM  

واپسی   URDU MAJLIS FORUM > ::: مجلسِ مذہب اور نظریات ::: > حدیث - شریعت کا دوسرا اہم ستون


حدیث - شریعت کا دوسرا اہم ستون :: وحیِ خفی (حدیث : وحیِ غیر متلو) کی اہمیت ، افادیت اور متعلقہ تفصیلات ::

موضوع مقفل کیا گیا
 
موضوع کے اختیارات ظاہری انداز
پرانا 02-02-10, 12:50 AM   #1
bheram
-: محسن :-
 
تاریخ شمولیت: 2009-12-18
آئی ڈی نمبر: 1739
جنس: male
پوسٹس: 261

پوائنٹس: 0 bheram
Hot تبرکاتِ نبوی سے متعلق احادیث

’’حضرت مسور بن مخرمہ اور مروان رضی اﷲ عنہما سے روایت ہے، عروہ بن مسعود (جب بارگاہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں کفار کا وکیل بن کر آیا تو) صحابہ کرام رضی اللہ عنھم (کے معمولاتِ تعظیم مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کو دیکھتا رہا کہ جب بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنا لعاب دہن پھینکتے تو کوئی نہ کوئی صحابی اسے اپنے ہاتھ پر لے لیتا تھا جسے وہ اپنے چہرے اور بدن پر مل لیتا تھا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کسی بات کا حکم دیتے ہیں تو اس کی فوراً تعمیل کی جاتی تھی۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وضو فرماتے ہیں تو لوگ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے استعمال شدہ پانی کو حاصل کرنے کے لئے ایک دوسرے پر ٹوٹ پڑتے تھے۔ (اور ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش کرتے تھے ہر ایک کی کوشش ہوتی تھی کہ یہ پانی میں حاصل کروں) جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گفتگو فرماتے ہیں تو صحابہ کرام اپنی آوازوں کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے پست رکھتے تھے اور انتہائی تعظیم کے باعث آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف نظر جما کر بھی نہیں دیکھتے تھے۔ اس کے بعد عروہ اپنے ساتھیوں کی طرف لوٹ گیا اور ان سے کہنے لگا : اے قوم! اﷲ ربّ العزت کی قسم! میں (بڑے بڑے عظیم الشان) بادشاہوں کے درباروں میں وفد لے کر گیا ہوں، میں قیصر و کسری اور نجاشی جیسے بادشاہوں کے درباروں میں حاضر ہوا ہوں۔ لیکن خدا کی قسم! میں نے کوئی ایسا بادشاہ نہیں دیکھا کہ اس کے درباری اس کی اس طرح تعظیم کرتے ہوں جیسے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ کرام محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعظیم کرتے ہیں۔ خدا کی قسم! جب وہ تھوکتے ہیں تو ان کا لعاب دہن کسی نہ کسی شخص کی ہتھیلی پر ہی گرتا ہے، جسے وہ اپنے چہرے اور بدن پر مل لیتا ہے۔ جب وہ کوئی حکم دیتے ہیں تو فوراً ان کے حکم کی تعمیل ہوتی ہے، جب وہ وضو فرماتے ہیں تو یوں محسوس ہونے لگتا ہے کہ لوگ وضو کا استعمال شدہ پانی حاصل کرنے کے لئے ایک دوسرے کے ساتھ لڑنے مرنے پر آمادہ ہو جائیں گے وہ ان کی بارگاہ میں اپنی آوازوں کو پست رکھتے ہیں، اور غایت تعظیم کے باعث وہ ان کی طرف آنکھ بھر کر دیکھ نہیں سکتے۔‘‘

أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب : الشروط، باب : الشروط في الجهاد والمصالحة مع أهل الحرب وکتابة، 2 / 974، الرقم : 2581، وأحمد بن حنبل في المسند، 4 / 329، وابن حبان في الصحيح، 11 / 216، الرقم : 4872، والطبراني في المعجم الکبير، 20 / 9، الرقم : 13، والبيهقي في السنن الکبري، 9 / 220.
.................................................. .................................................. ..............................................

’’حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ جب حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مقام جمرہ پر کنکریاں ماریں اور اپنی قربانی کا فریضہ ادا فرما لیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سر انور کا دایاں حصہ حجام کے سامنے کر دیا، اس نے بال مبارک مونڈے پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کو بلایا اور ان کو وہ بال عطا فرمائے، اِس کے بعد حجام کے سامنے (سر انور کی) بائیں جانب کی اور فرمایا : یہ بھی مونڈو، اس نے ادھر کے بال مبارک بھی مونڈ دیئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ بال بھی حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کو عطا فرمائے اور فرمایا : یہ بال لوگوں میں تقسیم کر دو۔‘‘

أخرجه مسلم في الصحيح، کتاب : الحج، باب : بيان أن السنة يوم النحر أن يرمي ثم ينحر ثم يحلق، 2 / 948، الرقم : 1305، والترمذي فيالسنن، کتاب : الحج عن رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم، باب : ما جاء بأي جانب الرأس يبدأ في الحلق، 3 / 255، الرقم : 912، وأبوداود في السنن، کتاب : المناسک، باب : الحلق والتقصير، 2 / 203، الرقم : 1981، والنسائي في السنن الکبري، 2 / 449، الرقم : 4114، وأحمد بن حنبل في المسند، 3 / 111، الرقم : 12113، وابن حبان في الصحيح، 9 / 191، الرقم : 1743، وابن خزيمة في الصحيح، 4 / 299، الرقم : 2928، والحاکم في المستدرک، 1 / 647، الرقم : 1743، وَ قَالَ الْحَاکِمُ : هَذَا حَدِيْثٌ صَحِيْحٌ.
.................................................. .................................................. ..............................................
’’حضرت انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے دیکھا : حجام آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سر مبارک کی حجامت بنا رہا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ کرام رضی اللہ عنھم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گرد گھوم رہے تھے اور ان (میں سے ہر ایک) کی یہ کوشش تھی کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا کوئی ایک بال مبارک بھی زمین پر گرنے نہ پائے بلکہ ان میں سے کسی نہ کسی کے ہاتھ میں آ جائے۔‘‘

أخرجه مسلم في الصحيح، کتاب : الفضائل، باب : قرب النبي صلي الله عليه وآله وسلم من الناس وتبرکهم به، 4 / 1812، الرقم : 2325، وأحمد بن حنبل في المسند، 3 / 133، 137، الرقم : 12423، وعبد بن حميد في المسند، 1 / 380، الرقم : 1273.ٰ
bheram آف لائن ہے Member's Picture Albums   Share
پرانا 02-02-10, 12:58 AM   #2
bheram
-: محسن :-
 
تاریخ شمولیت: 2009-12-18
آئی ڈی نمبر: 1739
جنس: male
پوسٹس: 261

پوائنٹس: 0 bheram
’’حضرت ابن سیرین رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے حصرت عبیدہ سے کہا : ہمارے پاس حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کچھ موئے مبارک ہیں جنہیں ہم نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے یا حضرت انس کے گھر والوں سے حاصل کیا ہے۔ حضرت عبیدہ نے فرمایا : اگر ان میں سے ایک موئے مبارک بھی میرے پاس ہوتا تو وہ مجھے دنیا (اور جو کچھ اس دنیا میں ہے ان سب) سے کہیں زیادہ محبوب ہوتا۔‘‘

أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب : الوضوء، باب : الماء الذي يغسل به شعرا الإنسان وکان عطاء لا يري، 1 / 75، الرقم : 168، والبيهقي في السنن الکبري، 7 / 67، الرقم : 13188.
.................................................. .................................................. ..............................................
’’حضرت اسماء بنت ابوبکر رضی اﷲ عنھما کے غلام حضرت عبداﷲ ایک طویل روایت میں بیان کرتے ہیں کہ مجھے حضرت اسماء رضی اﷲ عنھا نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جبّہ مبارک کے متعلق بتایا اور فرمایا : یہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا جبّہ مبارک ہے اور پھر انہوں نے ایک جبّہ نکال کر دکھایا جو موٹا دھاری دار کسروانی (کسریٰ کے بادشاہ کی طرف منسوب ہے) جبّہ تھا جس کا گریبان دیباج کا تھا اور اس کے دامنوں پر دیباج کے سنجاف تھے حضرت اسماء رضی اﷲ عنھا نے فرمایا : یہ مبارک جبّہ حضرت عائشہ رضی اﷲ عنھا کے پاس ان کی وفات تک محفوظ رہا، جب ان کی وفات ہوئی تویہ میں نے لے لیا۔ یہی وہ مبارک جبّہ ہے جسے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پہنتے تھے۔ سو ہم اسے دھو کر اس کا پانی بیماروں کو پلاتے ہیں اور اس کے ذریعے شفا طلب کی جاتی ہے۔‘‘

أخرجه مسلم في الصحيح، کتاب : اللباس والزينة، باب : تحريم استعمال إناء الذهب والفضة علي الرجال، 3 / 1641، الرقم : 2069، وأبو داود في السنن، کتاب : اللباس، باب : الرخصة في العلم وخيط الحرير، 4 / 49، الرقم : 4054، والبيهقي في السنن الکبري، 2 / 423، الرقم : 4010، وفي شعب الإيمان 5 / 141، الرقم : 6108، وأبو عوانة في المسند، 1 / 230، الرقم : 511، وابن راهويه في المسند، 1 / 133، الرقم : 30.
.................................................. .................................................. ...............................................
’’حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت اُم سُلیم رضی اﷲ عنہا کے گھر تشریف لے جاتے اور ان کے بچھونے پر سو جاتے جبکہ وہ گھر میں نہیں ہوتی تھیں۔ ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے اور اُن کے بچھونے پر سو گئے، وہ آئیں تو ان سے کہا گیا : حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تمہارے گھر میں تمہارے بچھونے پر آرام فرما ہیں۔ یہ سن کر وہ (فورًا) گھر آئیں دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پسینہ مبارک آیا ہوا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا پسینہ مبارک چمڑے کے بستر پر جمع ہو گیا ہے۔ حضرت اُمّ سُلیم نے اپنی بوتل کھولی اور پسینہ مبارک پونچھ پونچھ کر بوتل میں جمع کرنے لگیں۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اچانک اٹھ بیٹھے اور فرمایا : اے اُمّ سُلیم! کیا کر رہی ہو؟ انہوں نے عرض کیا : یا رسول اللہ! ہم اس (پسینہ مبارک) سے اپنے بچوں کے لئے برکت حاصل کریں گے (اور اسے بطور خوشبو استعمال کریں گے)۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تو نے ٹھیک کیا ہے۔‘‘

أخرجه مسلم في الصحيح، کتاب : الفضائل، باب : طيب عرق النبي صلي الله عليه وآله وسلم والتبرک به، 4 / 1815، الرقم : 2331، وأحمد بن حنبل في المسند، 3 / 221، الرقم : 1334 / 1339.
.................................................. .................................................. ...............................................
bheram آف لائن ہے Member's Picture Albums   Share
پرانا 02-02-10, 08:47 AM   #3
رفی
-: منبر :-
 
تاریخ شمولیت: 2007-08-08
آئی ڈی نمبر: 187
قیام: مكة المكرمة
جنس: male
عمر: 35
پوسٹس: 7,627

پوائنٹس: 56 رفی رفی رفی رفی رفی رفی رفی رفی رفی رفی رفی

ایوارڈز شوکیس

اس کا جواب یہاں دیا جا چکا ہے :

تبرکاتِ نبوی سے متعلق احادیث کی اصل حقیقت
رفی آف لائن ہے Member's Picture Albums   Share
ان 6 ارکان نے اس مفید پوسٹ کے لیے رفی کا شکریہ ادا کیا ہے
موضوع مقفل کیا گیا

Bookmarks

ٹیگز
احادیث, سے, تبرکاتِ, متعلق, نبوی

موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز

پوسٹ کرنے کے قوانین
You may not post new threads
You may not post replies
You may not post attachments
You may not edit your posts

سمائلز آن ہے
[IMG] کوڈ آن ہے
HTML کوڈ آف ہے

قوانین
فورم منتخب کریں

مشابہ موضوعات
موضوع مصنف فورم جوابات آخری پیغام
ایک دیوانہ فقیر اور حسین دوشیزہ،!!! ایک سچی کہانی عبدالرحمن سید ادبی مجلس 17 28-02-10 11:47 AM
جشن ميلاد النبى كا حكم شداد ماہِ ربیع الاوّل 45 05-11-09 02:17 PM
پوپ کی ہرزہ سرائی عتیق الرحمٰن تاریخ اسلام / اسلامی واقعات 4 10-06-09 10:26 PM
نیا افسانہ ابن مبارک حالاتِ حاضرہ 3 30-05-09 07:16 AM
اصلی اہل سنت (مکمل رسالہ) محمد نعیم اسلامی کتب 0 07-05-08 11:07 PM


فورم کے تمام اوقات GMT +3 کے مطابق . وقت ہے ابھی 07:17 PM


URDU MAJLIS FORUM


Powered by vBulletin Version 3.8.5
® Copyright ©2000 - 2010, Jelsoft Enterprises Ltd. Urdu Translation by A.REHMAN
Contact admin : admin@urduvb.com
Page Rank