![]() |
|
|||||||
| دیس پردیس :: دیس پردیس کی کہانی آپ کی اپنی زبانی :: |
![]() |
|
|
موضوع کے اختیارات | ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
-: منفرد :-
![]() ![]() ![]() ![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: 2009-04-11
آئی ڈی نمبر: 1271
جنس: male
پوسٹس: 1,473
پوائنٹس: 13
![]() ![]() ![]() ![]() ![]() ![]() ![]() |
** خواتین کی جنت**
خواتین کی جنت السلام علیکم زیر نظر تحریر ادب کا ایک شئہ پارہ ہوسکتی ہے۔ لیکن رائیٹر کے خیالات سے ہم سب کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ اڈمن حضرات سے گذارش ہے کہ اگر کچھ مواد نازیبا اور کانٹروارشیل لگے تو اتنا "پارٹ" ڈیلیٹ کردیں۔ ویسے مجھے عام طور پر تو ایسی کوئی بات نہیںلگتی "لیکن پھر بھی" ہمارے ایک بزرگ دوست جو خیر سے شاعر بھی ہیں اور اس دورِ بے ادبی میں اپنے آپ کوشاعرجتانا عار نہیںسمجھتے کا قول ہے کہ سعودی عرب خواتین کی جنت ہے۔“ ہم نے ”احمقوں کی جنت“ والا محاورہ تو سنا تھا لیکن ”خواتین کی جنت“ کے اس نئے نویلے مقولہ پر بے ساختہ چونک پڑے۔ سنتے تو یہی آئے تھے کہ اسی صنف کی حماقتوں کی عوض ہمارے جّدِ امجد کو جنت سے نکلنا پڑا تھا اور اب ان کی عیاری دیکھئے کہ دنیا میں اپنے لئے ایک نئی جنت بھی بسالی۔ ہمارے ایک دیرینہ استاد جب بھی اپنی محرومیوں کا شکوہ لے کر بیٹھ جاتے تو ہمیشہ ہمیں اس طرح کوسنی دیتے کہ ” اگر تماری دادی میرے دادا کو نہ بہکاتیں تو آج ہم جنت میں مزے لوٹ رہے ہوتے “ ۔ استادِ محترم وقت بے وقت ہمیںیہی گھٹی پلاتے رہے کہ انکے دادا آدم کو جنت سے نکلوانے میں سارا قصور ہماری دادی حوا کا ہی تھا۔ چنانچہ ہم بھی جنت سے نکالے جانے کا سار ا دوش صنف نازک کی نا سمجھی کو ہی دیتے رہے کہ خود بھی ڈوبیں اور ہم کو بھی لے ڈوبا۔ ہم اکثر اوقات اپنے استاد کی لعن طعن پر کڑھتے رہتے تھے اور سوچتے رہتے تھے کہ اس بات کی تحقیق کے لئے ضرور ایک کمیشن بٹھایا جانا چاہئے کہ ¾جنت سے نکلوانے کے اصل ذمہ دار کون ہیں ”آیا استاد محترم کے دادا مکرم کہ ہماری دادی معظمہ؟“۔ بعد کو انتہائی با وثوق ذرائع سے یہ بات ہمارے علم میں آئی کہ بیچاری دادی حوا پر تویہ الزام ناحق ہے ورنہ شیطانِ رجیم نے دونوں کو ایک ساتھ ورغلایا تھا اور دادا آدم بھی اس معصیت میں دادی حواکے برابر کے شریک کار تھے۔ یہ اور بات ہے ۔بعد کو ان کے ہی اخلاف میں سے کچھ نے اپنی قوامیت کا فائدہ اٹھاتے ہوے سارا الزام عورت کے سر تھوپ دیا۔ لہذا اس دلیل کی بنیاد پر ہم اپنے اسلاف کے برخلاف ’مساواتِ زن و شو‘ بلکہ ’زن‘ کے اپنے ’شو ‘ پر ایک درجَہ فوقیت کے اسی لئے قائل ہوئے کہ حضرتِ مرد میں بھی بہکنے کی اسی درجَہ صلاحیت ہے جتنی کہ عورت میں۔ ہماری اس تاویل پر وہ احباب جنہیں حقیقت پسندی سے سخت گریز ہے ہمیں ”ناخلف“ اور ”زن مرید“ کہنے پر بھی دریغ نہ کیا۔ دراصل انسان کا ذہنِ رسا اپنے تخیل میں کچھ تشبیہات بنا لیتا ہے۔ اگر دنیا میں انتہائی آرام و آسائش اور پورے لوازمات ِ زندگی کے ساتھ گزر بسر ہونے لگے تو اسی کو جنت سمجھ بیٹھتا ہے۔ جب کہ جنت اور دوزخ کے وجود پر یقین کے معاملہ میں صرف خدائی صحیفوں اور رسولوں کی انزار و بشارتوں پر ایمان لانے پر ہی موقوف ہے۔ ورنہ آج تک کسی زی نفس نے جنت ودوزخ کے حال و احوال کا جیتے جی بہ نفسِ نفیس مشاہدہ کرنے کا دعوہ نہیں کیا۔ نہ ہی ازل سے راہ ِ عدم کو سدھارنے والے کروڑوں انسانوں میں سے کسی نے پلٹ کر اپنے تجربات اہل دنیا کے سامنے بیان کئے۔ سارا معاملہ بس ایمان بالغیب پر ہی ٹکا ہوا ہے۔ جو بے دین ہیں انہیں تو اس بات کی چنداں فکر ہی نہیں ہے کہ ایک دن مرکر اٹھنا بھی ہے اور اپنے حسب اعمال جنت یا دوزخ میں جانا بھی ہے۔ چنانچہ ایسے لوگ دنیا ہی میں جنت کے مزے لوٹنے کو ادھیڑبن میں لگے رہتے ہیں یہ سوچ کر کہ ہم کو معلوم ہے جنت کی حقیقت لیکن دل کے بہلانے کو غالب یہ خیال اچھا ہے گردشِ دوراں کے ساتھ ساتھ جب قادر مطلق نے غیر ذی زرعہ صحرا ءِسعودی عرب میں تیل کے دریا بہا دئے تو افراطِ زر کی یوں ریل پیل ہوئی کہ اس بازار میں دنیا کے سب کھرے کھوٹے سکئہ کل دار کی طرح چل نکلے۔ اور خصوصاً مشرقِ وسطی میں خوشحالی کی ایسی بہار کھلی کہ گویا چاروں اورہن برسنے لگا۔ جب ہماری طرح کے تیسری دنیا کے تیسرے درجَہ کے نکمے نوجوان اپنی بے روزگاری سے تنگ آکر ’ واصلِ سعودی عرب‘ ہوئے تو برِصغیر میں گھر گھر خوشحالی کا دور دورہ ہوگیا۔ اقتصادی حالات بدلتے ہیں تو سماجی اقدار بھی بدل جاتی ہیں۔ جب ان خلیجی ممالک میں ملازم ناکتخدے شادی خانہ آبادی کے خواہاں ہوتے ہیں تو پھر کیا کہ ہر سمت سے گویا ایک سے ایک حسین اور اعلی تعلیمیافتہ لٹرکیوں کے رشتوں کا مینہ برسنے لگتاہے۔ ہمارے ساتھ بھی ایسا ہی کچھ معاملہ ہوا ۔ کسی نے نہیں پوچھا کہ ہماری اہلیت یا صلاحیت کیا ہے یا ہمارے حال وماضی کا ریکارڈ کیسا ہے۔ جبکہ ضرورتِ رشتہ کا اشتہار کے لئے ہم نے پورے سامانِ دروغ بانی کے ساتھ اپنی اسم نویسی شائع کی تھی اور ہم ساتھ میں ببانگ دُہل یہ بھی کہتے رہے اگر کام و پتہ پوچھیں تو قاصد اتنا کہہ دینا کماتے ریال رہتے سعودیہ میں ہیں ویسے بھی لوگ اچھی طرح جاننے لگے ہیں کہ گھورا کریدنے سے ٹھکریاں ہی برآمد ہوتی ہیں۔ جب آم کھانے سے کام ہے تو گٹھلیاں کیوں گنیں۔ تارکینِ وطن کا عرب ممالک میں ملازم ہونا ہی بہت بڑا ہنر ہوتا ہے۔ جہاں’پیٹرو گنگا ‘میں ڈبکی لگاتے ہی آدمی کندن بن جاتا ہے ۔ اور ریالات کی چکا چوند میں لڑکی والوں کی بصارت تو کجا بصیرت بھی سلب ہوجاتی ہے۔ اور امیدوار دامادکی ساری نالائقوں سے محض اس بنا پر صرفِ نظر کرلیا جات ہے کہ یہ” حاملِ فیملی ویزا“ ہے۔ اور ایسے ہی عقل کے مارے بلا جھجک اپنے ’سینے کا پتھر‘ ان جیالے مہاجرین کے پلًے باندھ دیتے ہیں ۔ یوں تو فی زمانہ لڑکی کا سعودی عرب میں داخلہ ہی خاندان والوں کی بہت بڑی فوز وفلاح اور سچی عزت مانا جاتا ہے۔ ان دنوں لڑکی والے اتنے بھی ”وہ“ نہیں ہیں کہ اپنے نفع ونقصان کو خوب نہ سمجھتے ہوں چنانچہ ہمیں انکی نادانی پر شک کرنے کی چنداں ضرورت بھی نہیں۔ یہی بات کیا قابلِ غور نہیں کہ کسی زمانے میں صرف محلہ سے محلہ دلہن کو وداع کرتے ہوئے والدین کی آنکھیںاشک بار ہو جاتی تھیں اور زار زار رویا کرتے تھے ۔لیکن اب پیٹی کو ہزروں میل دور دراز صحرا رسید کرتے ہوئے دلوں میں لڈو پھوٹتے ہیں ۔ اب اس کے برعکس اپنے بیٹے کو جدا کرتے ہوئے والدین دھاڑیں مار مار کر رو رہے ہیں کہ انکالخت جگر”بیوی کو پیارا “ ہوچکا۔ ایسے مناظر ایرپورٹ پر بار بار دیکھنے کو ملتے ہیں کہ دُلہے کے ماں باپ تو گریہ وزار ہیں اور دلہن والے باوجود جہاز کے نظروں سے اوجھل ہونے کے خوشی اور انبساط سے بس ہاتھ ہلائے ہی جارہے ہیں۔ کہ بس ایک فضائی اڑان اوربیٹی جنت میں۔ ویسے بھی خواتین کی ضروریاتِ و لوازماتِ جنت بہت مختصرہوتی ہیں ۔ چنانچہ انکی جنت بھی بڑی آسانی سے جہاں چاہے بس جاتی ہے۔ ایک عدد تابعدار شوہر اچھی سی کار متعدد زیورات کے سیٹ ہر طرح کے آرام و اسائیش سے آراستہ گھر گھریلو کام کاج سے برات اور سسرالی رشتہ داروں سے نجات بس یہی کچھ انکی جنت کا سامان ہے۔ اسی لحاظ سے تو سعودی عرب خواتیں کے لئے جنت ہی ۔ سعودیہ کی سرزمین پر لینڈ ہوتے ہی مرد حضرات اپنی گھڑیوں کو مقامی وقت کے مطابق درست کرلیتے ہیں لیکن خواتین روز اول سے ہی طلوع آفتاب کا وقت نماز ظہر کی اذان سے شمار کرنے لگتی ہیں ¾ اب نصف النہار تک سوتے پڑے رہئے کوئی بازپرس کرنے والا نہیں۔حضرتِ شوہر بھی اس قدر پولائٹ ہیں کہ بیگم کی نیند میں خلل انداز ہوئے بغیر دبے پاوں دفتر سدھارتے ہیں ۔ پہلی بات تو یہ کہ کہتے ہیں جنت سلامتی کا گھر ہے۔ اور یہی سلامتی یہی راحت ِ قلب خواتین کویہاں بدرجَہ غایت میسر ہے۔ نہ ساس سُسر کا جھنجٹ نہ نندوں کی چخ چخ نہ جیٹھ جٹھانی کے بکھیڑے نہ دیوروں کے ہنگامے۔ جب پورا ”مردِ مسلم“ ہی اپنے قبضہ میں ہوتو پھرغم کاہے کا۔ مستزاد یہ کہ پر سکون فضاءمیں بیگمات ایر کنڈیشنڈ فلیٹوں میں اس شان سے متمکن ہیں گویا کسی عظیم سلطنت کی ملکہ ہوں۔ جنت میں نہ دھوم کی گرمی ستاتی ہے نہ جاڑے کی ٹھٹر یہی عیش انکے بھی ہیں۔ جبکہ سب جانتے ہیں کہ سعودی عرب کے موسم انتہائی شدید ہوتے ہیں موسم گرما میں چلچلاتی دھوپ میں لو کے تھپیڑے ایسا لگتا ہے جیسے بھٹے میں جھونک دیا گیا ہو۔ اور موسم سرما بھی کچھ کم نہیں ٹھٹرا دینے والی سرد یخ بستہ ہوائیں ہڈیوں کے گودے کو بھی منجمد کردیں۔ بیچارے مردوں کے دفاتر لاکھ ایرکنڈیشنڈ ہوں یا انکی کاریں اپنے کاروبار کی دوڑ دھوپ میں موسم کا عذاب تو سہتے ہی رہتے ہیں۔ لیکن مکمل پرئی ویسی کے ماحول میں عزلت گزینوں کے ناز ونعم کے کیا کہنے کہ ہر دم ٹھنڈے گرم پانی کی فراوانی صاف ستھرا ہر قسم کے آلات سے آراستہ کچن ۔ اپنے ملک میں تو دو وقت کی روٹی بنانے کے لئے ہزاروں پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں۔ بالٹیوں سے پانی ڈھوئیے سیل بتے پر مسالے پیسئے دھواں دار چولہے کے عقوبت خانے تب کہیں جاکر کھانا بنتا ہے۔ یہ تو حضرت ابراھیم ؑ کی دعاووں کا طفیل ہے کہ یہاں خواہ موسم کوئی بھی ہو دنیا بھر کے موسمی میوے ہر وقت دستیاب۔ نہ صرف یہ بلکہ دنیا کے مختلف ممالک کے رسٹورنٹ کی وہ بھرمار کہ ہمہ اقسام کے کھانے چوبیس گھنٹے حاضر۔ موڈ بنا تو کھانا بنائیے ورنہ صرف ایک فون کی پہنچ پر میاں دفتر سے واپسی پر بندھا بندھایا کھانا لئے موجود۔ اگر فریج میں باسی سالن بھی میسر ہوتو بقالہ پر تیار مشینی روٹی ہر وقت اپنی دسترس میں۔ وال تو وال کارپٹ اور رنگ بر نگے پردوں سے مزین گھر میں نہ بہت زیادہ جھاڑ پونچھ کی حاجت نہ برتن اور کپڑوں کی دھلائی کی مشقت۔ نہ پکوان کے لئے مسالے پیسنے کی زحمت ہر کام کے لئے ایک مشین حاضر گھنٹوں کا کام منٹوں میں نمٹاکر میاں کی غیر موجودگی میں سارا دن ٹی وی پر ہر طرح کے تفریح سے دل بہلائیے، ڈش چیانلوں پر دنیا بھر کی سیر کیجیئے۔ نہ تنہائی کا دکھ نہ بیزارگی کا احساس۔ دفتر سے لوٹتے ہی تھکا ماندا شوہر چاق و چوبند شوفر کا روپ دھار لیتا ہے بس نکیل ہاتھ میں رکھئے اورحکم دیتے رہئے سعادت مندی کا یہ عالم کہ اشارہ ابرو کا منتظرآپکی ہر خواہش پر جان نچھاور کرنے کو تیار۔ شام کی حسین ساعتوں میں باغوں اور بازاروں میں گھومتے رہئے ۔ پارکوں کی چہل پہل اور بازاروں کے رونقوں کا تو کوئی جواب ہی نہیں۔ خصوصاً جوبات ہر دم خواتین کو مسرت سے ہمکنار کرتی رہتی ہے وہ یہاں کے سونے کے بازار ہی توہیں۔جہاں ہر طرح کے چمچماتے جگمگاتے زیورات کے انبار روح کو انبساط بخشتے رہتے ہیں۔ ادھر دل میں کسی زیور کی خواہش جاگی میاں نے جیوئلری کی دکان حاضر کردی۔ کہنی کہنی تک سنہری کنگن اور چوڑیاں ہمہ اقسام کے زیور طلائی نکلسوں کا بوجھ گلے میں گراں بار بھی نہ لگے۔ ایسے ایسے جدید وضع کے زیورماضی میں بھلا سواے رئیس زادیوں کے کسے نصیب ہوئے ہونگے۔ ہمارے ا یک واقف کار بینک ملازم کی اہلیہ جونہی یہاں کی سرزمیں پر قدم رنجہ ہوئیں وہ سیدے ایرپورٹ سے سونا بازار پہنچے اور سو تولے زیور سے اپنی بیگم کو لاد دیا گویا کوئی نذر پوری کی ہو۔ ہمارے ایک اوردوست نے جب اپنی بیگم کو یہ داستان ’الفت‘ سنائی تو وہ حسرت سے میاں کا منہ تکنے لگیں۔ ان ہی دوست کا خیال ہے کہ ”اگر سونے کی اینٹ ناریل کے رسًے سے باندھ کرخواتین کے گلے میں ڈالدی جائے تب بھی ہر گز نہ کہیں گی کہ یہ بوجھ گرانبارہے۔اہل جنت کو سونے کے زیورات و کنگن تو حیات بعد الممات ہی دستیاب ہونگے لیکن جیتے جی کی یہ مسرتیں کم خوش نصیبوں کا ہی مقدر ہیں۔ یوں توخوش نصیبوں کی دنیا میں کمی نہیں لیکن کئی ایک کی صورتوں سے صدا ناشکری ہی ٹپکتی رہتی ہے لیکن سعودی عرب میں مقیم خواتین کے ظاہر وباطن سے یہاں کی نعمتوں اور آسودہ حالی کا بے محابا اظہار ہونے لگتاہے۔چند ہی دنوں کے عیش و آرام سے جسم پر فربہی اورچہروں پر آسودگی کی رونق چھانے لگتی ہے۔ مرد حضرات کے چہروںپر بھی یہ آ ب و تاب با دلِ نا خواستہ آہی جاتی ہے جو ہمیشہ خصارے کاہی باعث نبتی ہے۔ آپ اگر سعودی پلٹ ہوں اور خواہ چہرے پر چاہے جتنی مسکینی طاری کرلیں وطن عزیز میں ہر فرد تاڑلیتا ہے کہ جناب باہر سے لوٹے ہیں اور ہر ایک آپکی خوشحالی میں حصہ مانگنا اپنا حق سمجھتا ہے۔ سعودی عرب میں خواتین کو دیکھ کر انکی قناعت پسندی پر ہمیں یقین سا ہوچلا ہے کیوں کہ عام طور پر یہ غلط فہمی ہے کہ خواتین بہت حریص ہوتی ہیں اگریہ سچ ہوتا تو یہ چند کلیوں پر کیسے قناعت کر لیتں اور اپنے ماحول کو کیونکرجنت بنالیتیں۔ بہر حال یہ بات تو طئے ہے کہ عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی کے مصداق خواتین اگر دل میں ٹھان لیں تو اپنے طور طریقہ سے جب چاہیںاپنی زندگی کو جنت اور اپنے شریک حیات کی زندگی کو جہنم بنا سکتی ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ابونبیل خواجہ مسیح الدین
|
|
Share
|
| ان 4 ارکان نے اس مفید پوسٹ کے لیے ابوطلحہ کا شکریہ ادا کیا ہے |
|
|
#2 |
|
-: منبر :-
![]() ![]() ![]() ![]() ![]() ![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: 2007-08-08
آئی ڈی نمبر: 187
قیام: مكة المكرمة
جنس: maleعمر: 35
پوسٹس: 7,627
پوائنٹس: 56
![]() ![]() ![]() ![]() ![]() ![]() ![]() ![]() ![]() ![]() ![]() |
عمدہ شیئرنگ ہے، لیکن صرف تصویر کے ایک رُخ پر روشنی ڈالی گئی ہے، عرب ممالک اور خصوصاً سعودیہ میں برسرِروزگار افراد کو تو اب لڑکی والے رشتہ دینے سے بھی ہچکچاتے ہیں۔ یہ بھی صحیح ہے کہ اکثر و پیشتر خواتین کا رہن سہن بالکل مندرجہ بالا تحریر کے مطابق ہے لیکن دوسری طرف ایسی خواتین بھی ہیں جنہوں نے گھر گرہستی کا بوجھ روایتی طریقے سے سنبھال رکھا ہے، نہ صرف شوہر بلکہ بچوں کی ناز برداریاں بھی برداشت کرتے ہوئے صبح سے شام تک گھن چکر بنی رہتی ہیں۔ شوہر تو روزانہ آفس اور بچے روزانہ سکول چلے جاتے ہیں جبکہ خاتونِ خانہ کو صرف ویک اینڈز پر باہر جانے کا موقع ملتا ہے۔ اور اگر صاحبِ خانہ کی کمائی کم ہو تو یہ نوبت مہینوں میں ایک آدھ بار ہی آتی ہے۔ امیر غریب اور متوسط طبقات ہر جگہ پائے جاتے ہیں اور سب کا لائف سٹائل بھی الگ الگ ہوتا ہے۔ بیگمات کی صبح ظہر کے وقت کا ہونا تو ہر طبقے میں مشترک ہے لیکن یہ نہیں سوچا جاتا کہ ان کی رات ہوئی بھی تھی یا نہیں؟ ڈیڑھ بجے تک گھر کے کام کاج نپٹا کر بچوں کو ڈرا دھمکا کر سلانا پھر خود سونا، چھ بجے بچوں کو سکول کے لیے تیار کروانا تو سات بجے صاحب کو ناشتہ دینا، اور پھر رات گئے تک وہی دھما چوکڑی! ایسے میں آرام کا وقت وہی بچتا ہے جو کہ صاحب کے آفس جانے سے بچوں کے سکول سے واپس آنے کے درمیان ہوتا ہے۔
|
|
Share
|
|
|
#3 | |
|
-: منفرد :-
![]() ![]() ![]() ![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: 2009-04-11
آئی ڈی نمبر: 1271
جنس: male
پوسٹس: 1,473
پوائنٹس: 13
![]() ![]() ![]() ![]() ![]() ![]() ![]() |
اقتباس:
میں آپکی تمام باتوں سے اتفاق کرونگا۔ یہ ادبی شہ پارہ ہے اور اسکو آپ طنز و مزاح کی کیٹیگری میں بھی شفٹ کرسکتے ہیں۔ مجھے خود اسکے حقائق سے اتفاق نہیں۔ یہ تو اپنا اپنا معاملہ ہے کہ مصداق "جو جیسا چاہے ویسا اپنا گھر بناتا ہے" موصوف نے اپنی "آپ بیتی بیان کی ہوگی" میرا تو "خدانخواستہ" اسطرح سے گھر بسانے کا بالکل بھی ارادہ نہیںہے۔ دیکھیںآگے آگے ہوتا ہے کیا۔ اللہ خیر کرے۔۔۔ | |
|
Share
|
| اس رکن نے اس مفید پوسٹ کے لیے ابوطلحہ کا شکریہ ادا کیا ہے |
|
|
#4 | |
|
-: منفرد :-
![]() ![]() ![]() ![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: 2009-04-11
آئی ڈی نمبر: 1271
جنس: male
پوسٹس: 1,473
پوائنٹس: 13
![]() ![]() ![]() ![]() ![]() ![]() ![]() |
اقتباس:
بلکہ یہ ایک بالکل بھی حقائق پر مبنی بات ہوگئی ہے۔ ہر جگہ کا تو پتہ نہیںلیکن آجکل باہر کی دنیا کے نوشاووں کا ویسا ڈیمانڈ نہیںرہا جیسا پہلے رہتا تھا۔ اب تو باہر والے کا حساب ایسا ہوگیا ہے کہ جس طرح سے لڑکی سسرال جاتی ہے۔لڑکے خود "سعودی سسرال" کو غلامی کی دامادی کا طوق اپنے گلے میںسجائے رکھتا ہے۔تب ایسے دامادوں سے سسرال بھی عام طور پر "نالاں" رہتے ہیںکہ بڑی سے بڑی تقریب میں شرکت مشکوک رہتی ہے۔ اور ویسے بھی فیملی ویزا وغیرہ ایسے چکر ہیں کہ "خواتین کی جنت" پتہ نہیںبنے یا نہ بنے۔۔لیکن ٹائم بئینگ۔۔۔زندگی جہنم ضرور بن سکتی ہے اگر شادی کے بعد لڑکا فوری طور پر اپنی زوجہ محترمہ کو ساتھ نہ لے جائے۔ (جو کہ ہر لحاظ سے ضروری ہے) | |
|
Share
|
|
|
#5 | |
|
-: رکن مکتبہ اسلامیہ :-
![]() ![]() ![]() ![]() ![]() ![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: 2009-03-30
آئی ڈی نمبر: 1252
جنس: female
پوسٹس: 4,709
پوائنٹس: 56
![]() ![]() ![]() ![]() ![]() ![]() ![]() ![]() ![]() ![]() ![]() |
السلام علیکم
بہت اچھی تحریر ہے ۔ لطیف انداز میں بات کہی گئی ہے ۔ اقتباس:
یہاں پاکستان میں بھی کچھ فیمینسٹ یہی راگ الاپتے ہیں کہ حضرت حواء علیھا السلام کوخروج جنت کے لیے مطعون کر کے عورت کو مطعون کیا جاتا ہے اور یہ بھی کہ قرآن مجید یا نصوص سے ایسا کچھ ثابت نہیں ۔ مگر حقائق یہی ہیں کہ یہ بات مستند نصوص سے ثابت ہے ۔اور کسی قوام کا اس میں کوئی قصور نہیں ۔ اب عورت کے عزت واحترام کے مطالبے کا یہ مطلب نہیں کہ وہ معصوم عن الخطا ہے اور کبھی کچھ غلط کرتی ہی نہیں ۔ | |
|
Share
|
![]() |
| Bookmarks |
| ٹیگز |
| خواتین, جنت |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | |
|
|
مشابہ موضوعات
|
||||
| موضوع | مصنف | فورم | جوابات | آخری پیغام |
| ویب ہوسٹنگ گائیڈ۔۔۔ویب ہوسٹنگ خریدنے کے خواہشمند افراد کے لیے ایک رہنما تحریر | علمدار | ویب ڈیزائننگ | 10 | 13-04-10 12:56 AM |
| میری اپنی بھولی بسری یادیں،!!! میرا بچپن-1 | عبدالرحمن سید | ادبی مجلس | 47 | 01-02-10 08:17 PM |
| نیا افسانہ | ابن مبارک | حالاتِ حاضرہ | 3 | 30-05-09 07:16 AM |
| البریلویہ ۔ بریلویت تاریخ و عقائد (مکمل کتاب) | محمد نعیم | اسلامی کتب | 19 | 19-05-08 05:57 PM |