URDU MAJLIS FORUM  

واپسی   URDU MAJLIS FORUM > ::: مجلسِ مذہب اور نظریات ::: > تاریخ اسلام / اسلامی واقعات


تاریخ اسلام / اسلامی واقعات :: اسلامی فنِ تاریخ ، مسلمان مورخین کی تاریخ نگاری ، مستشرقین کی مغالطہ انگیزیوں کا ردّ ، دورِ نبوی (ص) اور خیرالقرون سے دورِ حاضر تک چنندہ مستند اسلامی واقعات ::

موضوع مقفل کیا گیا
 
موضوع کے اختیارات ظاہری انداز
پرانا 09-02-10, 12:25 AM   #1
ام نور العين
-: رکن مکتبہ اسلامیہ :-
 
تاریخ شمولیت: 2009-03-30
آئی ڈی نمبر: 1252
جنس: female
پوسٹس: 4,709

پوائنٹس: 56 ام نور العين ام نور العين ام نور العين ام نور العين ام نور العين ام نور العين ام نور العين ام نور العين ام نور العين ام نور العين ام نور العين
Thread Bst علامہ اقبال اور سنت نبوی


علامہ اقبال اور سنت نبوی


عام طور پر ايك گروه علامہ اقبال كو منكرين سنت ميں شمار كرتا ہے حالانکہ ان كى نظم ونثر گواہ ہے کہ وه دين مبين ميں سنت كو شرعى حجت مانتے تھے ۔

1 _ايك خط ميں نشان ہلال کے بارے میں حديث سے استدلال كرتے ہیں: "تمام امت كا صديوں سے اس پر اجماع ہے جن اسلامى قوموں كا نشان اور ہے ، وہ اس نشان پر کبھی معترض نہیں ہوئیں ، اور حديث صحيح ہے کہ ميرى امت كا اجماع كبھی ضلالت پر نہیں ہو گا ۔ اس واسطے اس كو (يعنى نشانِ ہلال كو ضلالت تصور كرنا درست نہیں ہے" ۔( اقبال نامہ ج1، ص 337)

2 _ "ان (احاديث ) میں ایسے بیش بہا اصول ہیں کہ سوسائٹی باوجود اپنی ترقى اور تعلى کے اب تک ان بلندیوں تک نہیں پہنچی ۔" (حوالہء مذکور ص 102)

3 _ ایک مرتبہ ايك صاحب نے ان ( علامہ اقبال) کے سامنے بڑے اچنبھےکے انداز میں اس حديث كا ذكر كيا جس ميں بيان ہوا ہے کہ

رسول اللہ صلى اللہ عليہ وسلم "اصحاب ثلاثہ" (حضرات ابو بكر ، عمر، عثمان رضي اللہ عنہم ) کے ساتھ احد پہاڑ پر تشریف رکھتے تھے، اتنے ميں احد لرزنے لگا، اور حضور صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمایا : "ٹھہر جا ، تیرے اوپر ایک نبی ، ایک صدیق اور دو شہداء کےسوا کوئی نہیں ہے "۔ اس پر پہاڑساکن ہو گیا۔

اقبال نے حدیث سنتے ہی کہا : "اس ميں اچنبھے کی کون سی بات ہے ؟ ميں اس کو استعارہ يا مجاز نہیں بلكہ ايك مادى حقيقت سمجھتا ہوں ، اور ميرے نزديك اس كے لیے کسی تاویل کی ضرورت نہیں ہے ۔اگر تم حقائق سے آگاہ ہوتے تو تمہیں معلوم ہوتا کہ ایک نبی کے نیچے مادے کے بڑے بڑے تودے بھی لرز اٹھتے ہیں ، مجازی نہیں، واقعی لرز اٹھتے ہیں ۔" (جوہرِ اقبال، ص 38، نيز اقبالِ كامل ص 64 تا ص 66)

جاری ہے ۔۔۔۔۔

اقتباس از : عظمتِ حديث : تاليف: مولانا عبدالغفار حسن رحمانى عمر پوری (تغمدہ اللہ برحمتہ ) ، ص 301، ناشر : دارالعلم، آب پارہ مارکیٹ، اسلام آباد ۔
ام نور العين آف لائن ہے Member's Picture Albums   Share
ان 12 ارکان نے اس مفید پوسٹ کے لیے ام نور العين کا شکریہ ادا کیا ہے
پرانا 09-02-10, 12:50 AM   #2
ام نور العين
-: رکن مکتبہ اسلامیہ :-
 
تاریخ شمولیت: 2009-03-30
آئی ڈی نمبر: 1252
جنس: female
پوسٹس: 4,709

پوائنٹس: 56 ام نور العين ام نور العين ام نور العين ام نور العين ام نور العين ام نور العين ام نور العين ام نور العين ام نور العين ام نور العين ام نور العين
2ـ علامہ اقبال اور سنت نبوی

4ـ شعر اقبال :
از بلا ترسى حديث مصطفٰى است

مرد را روزِ بلا روز صفا است
( چراغِ رہ اسلامى قانون نمبر ، بحوالہ اقبال نامہ ج 1، ص 152)

مسلمانوں کے زوال كا سبب بيان كرتے ہوئے لکھتے ہیں كہ مسلمانوں کے زوال کا سبب سنت نبوى كو چھوڑ دینا ہے ۔

تا شعارِ مصطفى از دست رفت

قومِ را رمزِ حيات از دست رفت
(حوالہ مذكور)

لا نبي بعدى ز احسانِ خدا است

پردہء ناموسِ دینِ مصطفٰی است

(از تلميحاتِ اقبال : مؤلفہ پروفیسر ڈاکٹر اکبر حسین صاحب، بحوالہء رموزِ بے خودی ص 102)

اسى شعر ميں اس روايت كى طرف اشارہ ہے ۔

عن سعد بن وقاص رضي الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لعلي : أنت منى بمنزلة هارون من موسى ، الا أنه لا نبي بعدي ۔(متفق عليہ) \

يعنى حضرت سعد رضی اللہ عنہ سے روايت ہے کہ رسول اللہ صلى اللہ عليہ وسلم نے حضرت علي رضي اللہ عنہ سے فرمایا کہ تم ميرے ليے ايسے ہو جیسے موسى عليہ السلام كے ليے ہارون عليہ السلام تھے الا یہ کہ ميرے بعد كوئى نبى نہیں ہے ۔

جاری ہے ۔۔۔۔
ام نور العين آف لائن ہے Member's Picture Albums   Share
ان 9 ارکان نے اس مفید پوسٹ کے لیے ام نور العين کا شکریہ ادا کیا ہے
پرانا 09-02-10, 01:02 AM   #3
ام نور العين
-: رکن مکتبہ اسلامیہ :-
 
تاریخ شمولیت: 2009-03-30
آئی ڈی نمبر: 1252
جنس: female
پوسٹس: 4,709

پوائنٹس: 56 ام نور العين ام نور العين ام نور العين ام نور العين ام نور العين ام نور العين ام نور العين ام نور العين ام نور العين ام نور العين ام نور العين
آں امنّ النّاس بر مولائے ما

آں کلیم اول سینائے ما
( حوالہ مذكور: ص 156)

اس شعر ميں حضرت ابو بكر صديق كے فضائل میں جو روایت ہے اس كى طرف اشارہ ہے :

ان من أمن الناس علي في صحبته أبو بكر ، ولو كنت متخذا خليلا لاتخذت أبابكر خليلا ۔ (متفق عليه)

يعنى رسول اكرم صلى اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ لوگوں میں حسن سلوک کے اعتبار سے سب سے زیادہ احسان مجھ پر ابوبکر نے کیا ہے ، اگر میں کسی کو ( اللہ تعالی کے علاوہ ) خلیل بناتا تو ابوبکر کو خلیل بناتا ۔

مزيد ايك شعر ملاحظہ ہو :

بمصطفى برساں خویش را کہ دیں ہمہ اوست

گر بہ او نہ رسیدی تمام بو لہبی است


اقتباس از : عظمتِ حديث : تاليف: مولانا عبدالغفار حسن رحمانى عمر پوری (تغمدہ اللہ برحمتہ ) ، ص -302 301، ناشر : دارالعلم، آب پارہ مارکیٹ، اسلام آباد ۔
ام نور العين آف لائن ہے Member's Picture Albums   Share
ان 11 ارکان نے اس مفید پوسٹ کے لیے ام نور العين کا شکریہ ادا کیا ہے
پرانا 12-02-10, 02:55 AM   #4
Muhammad zahid bin faiz
-: منفرد :-
 
تاریخ شمولیت: 2010-01-02
آئی ڈی نمبر: 1770
جنس: male
پوسٹس: 1,142

پوائنٹس: 4 Muhammad zahid bin faiz
جی سسٹر آپ نے ٹھیک لکھا ہے علامہ اقبال کی شاعری میں توحید کی جھلک نظر آتی ہے۔اور یہی وجہ ہے کے علماء کی اکثریت انہی کی اشعار کو اپنی تقاریر میں کہتے ہوئے نظر آتے ہیں۔

لیکن ایک شعر ہے جو میری سمجھ میں‌نہیں آ رہا پلیز سمجھا دیں۔

جس کا آخری مصرعہ ہے
،،اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد،،،
اس کا کیا مقصد ہے نعوز با اللہ کیا کربلا سے پہلے اسلام زندہ نہیں تھا؟؟؟؟
Muhammad zahid bin faiz آف لائن ہے Member's Picture Albums   Share
ان 2 ارکان نے اس مفید پوسٹ کے لیے Muhammad zahid bin faiz کا شکریہ ادا کیا ہے
پرانا 12-02-10, 03:04 AM   #5
ام نور العين
-: رکن مکتبہ اسلامیہ :-
 
تاریخ شمولیت: 2009-03-30
آئی ڈی نمبر: 1252
جنس: female
پوسٹس: 4,709

پوائنٹس: 56 ام نور العين ام نور العين ام نور العين ام نور العين ام نور العين ام نور العين ام نور العين ام نور العين ام نور العين ام نور العين ام نور العين
اقتباس:
muhammad zahid bin faiz نے لکھا ہے ۔۔ پیغام کا مشاھدہ کریں
جی سسٹر آپ نے ٹھیک لکھا ہے علامہ اقبال کی شاعری میں توحید کی جھلک نظر آتی ہے۔اور یہی وجہ ہے کے علماء کی اکثریت انہی کی اشعار کو اپنی تقاریر میں کہتے ہوئے نظر آتے ہیں۔

لیکن ایک شعر ہے جو میری سمجھ میں‌نہیں آ رہا پلیز سمجھا دیں۔

جس کا آخری مصرعہ ہے
،،اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد،،،
اس کا کیا مقصد ہے نعوز با اللہ کیا کربلا سے پہلے اسلام زندہ نہیں تھا؟؟؟؟
قتل حسین اصل میں مرگِ یزید ہے
اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد

یہ شعر اقبال کا نہیں ہے !
ام نور العين آف لائن ہے Member's Picture Albums   Share
ان 5 ارکان نے اس مفید پوسٹ کے لیے ام نور العين کا شکریہ ادا کیا ہے
پرانا 12-02-10, 07:00 PM   #6
جاسم منیر
-: منفرد :-
 
تاریخ شمولیت: 2009-09-17
آئی ڈی نمبر: 1578
قیام: کویت (آبائی مقام: لاہور، پاکستان)
جنس: male
پوسٹس: 1,127

پوائنٹس: 14 جاسم منیر جاسم منیر جاسم منیر جاسم منیر جاسم منیر جاسم منیر جاسم منیر جاسم منیر
جاسم منیر کی طرف بذریعہ yahoo پیغام ارسال کریں
جزاک اللہ خیر عین سسٹر
جاسم منیر آف لائن ہے Member's Picture Albums   Share
ان 2 ارکان نے اس مفید پوسٹ کے لیے جاسم منیر کا شکریہ ادا کیا ہے
پرانا 18-02-10, 01:53 PM   #7
dani
-: ماہر :-
 
تاریخ شمولیت: 2009-10-16
آئی ڈی نمبر: 1630
قیام: پاکستان
جنس: male
پوسٹس: 1,222

پوائنٹس: 23 dani dani dani dani dani dani dani dani dani dani dani
اقتباس:
عين نے لکھا ہے ۔۔ پیغام کا مشاھدہ کریں

علامہ اقبال اور سنت نبوی



3 _ ایک مرتبہ ايك صاحب نے ان ( علامہ اقبال) کے سامنے بڑے اچنبھےکے انداز میں اس حديث كا ذكر كيا جس ميں بيان ہوا ہے کہ

رسول اللہ صلى اللہ عليہ وسلم "اصحاب ثلاثہ" (حضرات ابو بكر ، عمر، عثمان رضي اللہ عنہم ) کے ساتھ احد پہاڑ پر تشریف رکھتے تھے، اتنے ميں احد لرزنے لگا، اور حضور صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمایا : "ٹھہر جا ، تیرے اوپر ایک نبی ، ایک صدیق اور دو شہداء کےسوا کوئی نہیں ہے "۔ اس پر پہاڑساکن ہو گیا۔

اقبال نے حدیث سنتے ہی کہا : "اس ميں اچنبھے کی کون سی بات ہے ؟ ميں اس کو استعارہ يا مجاز نہیں بلكہ ايك مادى حقيقت سمجھتا ہوں ، اور ميرے نزديك اس كے لیے کسی تاویل کی ضرورت نہیں ہے ۔اگر تم حقائق سے آگاہ ہوتے تو تمہیں معلوم ہوتا کہ ایک نبی کے نیچے مادے کے بڑے بڑے تودے بھی لرز اٹھتے ہیں ، مجازی نہیں، واقعی لرز اٹھتے ہیں ۔" (جوہرِ اقبال، ص 38، نيز اقبالِ كامل ص 64 تا ص 66)

جاری ہے ۔۔۔۔۔

اقتباس از : عظمتِ حديث : تاليف: مولانا عبدالغفار حسن رحمانى عمر پوری (تغمدہ اللہ برحمتہ ) ، ص 301، ناشر : دارالعلم، آب پارہ مارکیٹ، اسلام آباد ۔[/size]

اس میں ان کے لیے نصیحت ہے جو قرآنی آیات اور احادیث کی عجیب تاویلیں کرتے ہیں ۔ فلسفہ جان کر بھی اقبا ل نے حدیث کو مجازا لے کراس کی تاویل نہیں کی۔

اقتباس:
عين نے لکھا ہے ۔۔ پیغام کا مشاھدہ کریں
قتل حسین اصل میں مرگِ یزید ہے
اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد

یہ شعر اقبال کا نہیں ہے !
مولانا محمد علی جوہر کا ہے
dani آف لائن ہے Member's Picture Albums   Share
ان 7 ارکان نے اس مفید پوسٹ کے لیے dani کا شکریہ ادا کیا ہے
پرانا 23-02-10, 02:24 PM   #8
رفی
-: منبر :-
 
تاریخ شمولیت: 2007-08-08
آئی ڈی نمبر: 187
قیام: مكة المكرمة
جنس: male
عمر: 35
پوسٹس: 7,627

پوائنٹس: 56 رفی رفی رفی رفی رفی رفی رفی رفی رفی رفی رفی

ایوارڈز شوکیس

کچھ غیر متعلق مراسلات یہاں منتقل کئے گئے ہیں
اقبال کے اشعار اور توحید
رفی آف لائن ہے Member's Picture Albums   Share
ان 4 ارکان نے اس مفید پوسٹ کے لیے رفی کا شکریہ ادا کیا ہے
پرانا 24-02-10, 10:36 PM   #9
الطحاوی
-: منفرد :-
 
تاریخ شمولیت: 2008-12-05
آئی ڈی نمبر: 1041
قیام: سارے جہاں سے اچھا ہندوستان ہمارا
جنس: male
پوسٹس: 1,520

پوائنٹس: 10 الطحاوی الطحاوی الطحاوی الطحاوی
دور حیات آئے گا قاتل، قضا کے بعد
ہے ابتدا ہماری تری انتہا کے بعد

جینا وہ کیا کہ دل میں نہ ہو تیری آرزو
باقی ہے موت ہی دلِ بے مدعا کے بعد

تجھ سے مقابلے کی کسے تاب ہے ولے
میرا لہو بھی خوب ہے تیری حنا کے بعد

لذت ہنوز مائدہء عشق میں نہیں
آتا ہے لطفِ جرمِ تمنا سزا کے بعد

قتلِ حسین اصل میں مرگِ یزید ہے
اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد

مولانا محمد علی جوہر کی یہ مکمل غزل پیش خدمت ہے۔جس کے ایک شعرپر بحث ومباحثہ ہورہاہے۔ویسے اگر تھوڑاحسن ظن اورشاعر کو گھماپھراکر اپنی بات کہنے کے حق کو ماناجائے تواس شعرجس پر اعتراض ہے اس کی بھی اچھی تاویل ہوسکتی ہے۔
شعر کا یہ مطلب بھی لیاجاسکتاہے کہ اسلام کے عروج کیلئے بڑی قربانی کی ضرورت ہے اورجب جب مسلمانوں نے بڑی قربانیاں دی ہیں اسلام اوراس کے طفیل میں خود مسلمانوں کو عروج حاصل ہواہے۔ اس شعر میں انہوں نے اہل حق کے استعارے کے طورپر امام حسین اوراہل باطل کیلئے یزید کو اوراہل حق وباطل کے درمیان معرکہ کیلئے واقعہ کربلاکوبطوراستعارہ استعمال کیاہے۔اب ان کا یہ استعارہ مستعار لیناکہاں تک درست ہے اس پر بات ہوسکتی ہے۔لیکن کم ازکم مولانا محمد علی جوہر کو صرف اس شعر کی وجہ سے شیعت سے متاثر قراردینادرست نہیں ہے۔جب کہ اس کی ایک بہترتاویل بھی ہوسکتی ہو۔
الطحاوی آف لائن ہے Member's Picture Albums   Share
اس رکن نے اس مفید پوسٹ کے لیے الطحاوی کا شکریہ ادا کیا ہے
موضوع مقفل کیا گیا

Bookmarks

ٹیگز
دار العلم, دارالعلم, حدیث, حجیت, حسن, اقبال, انکار, رحمانی, عبدالغفار, عبدالغفار حسن, عظمت, عظمت حدیث, عمرپوری, علامہ, سنت, منکر, نبوی

موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز

پوسٹ کرنے کے قوانین
You may not post new threads
You may not post replies
You may not post attachments
You may not edit your posts

سمائلز آن ہے
[IMG] کوڈ آن ہے
HTML کوڈ آف ہے

قوانین
فورم منتخب کریں

مشابہ موضوعات
موضوع مصنف فورم جوابات آخری پیغام
شب برات كا جشن اور اس كا حكم شداد ماہِ شعبان المعظم 13 28-07-10 01:03 PM
صفر كا مہينہ عتیق الرحمٰن ماہِ صفر 2 18-01-10 05:05 PM
جشن ميلاد النبى كا حكم شداد ماہِ ربیع الاوّل 45 05-11-09 02:17 PM
البریلویہ ۔ بریلویت تاریخ و عقائد (مکمل کتاب) محمد نعیم اسلامی کتب 19 19-05-08 05:57 PM
حضرت یزید رحمہ اللہ اور رافضی سازش عُکاشہ ماہِ محرم الحرام 0 05-01-08 01:30 AM


فورم کے تمام اوقات GMT +3 کے مطابق . وقت ہے ابھی 07:46 PM


URDU MAJLIS FORUM


Powered by vBulletin Version 3.8.5
® Copyright ©2000 - 2010, Jelsoft Enterprises Ltd. Urdu Translation by A.REHMAN
Contact admin : admin@urduvb.com
Page Rank