>URDU MAJLIS FORUM
 

واپسی   URDU MAJLIS FORUM > ::: مجلسِ شعر و ادب ::: > ادبِ لطیف > ادبی مجلس


ادبی مجلس اراکینِ مجلس کی نثری ادبی تحریریں

جواب پوسٹ کریں
 
موضوع کے اختیارات ظاہری انداز
پرانا 28-01-10, 05:17 PM   #1
عبدالرحمن سید
-: محسن :-
 
عبدالرحمن سید کی نمائندہ تصویر
 
تاریخ شمولیت: 2007-11-06
قیام: Jeddah, Saudi Arabia.
جنس: male
عمر: 63
پوسٹس: 201
پوائنٹس: 473
عبدالرحمن سید عبدالرحمن سید عبدالرحمن سید عبدالرحمن سید عبدالرحمن سید عبدالرحمن سید عبدالرحمن سید عبدالرحمن سید عبدالرحمن سید عبدالرحمن سید عبدالرحمن سید
عبدالرحمن سید کی طرف بذریعہ MSN  پیغام ارسال کریں عبدالرحمن سید کی طرف بذریعہ yahoo پیغام ارسال کریں
میری اپنی بھولی بسری یادیں،!!! میرا بچپن-1

مجھے دراصل بچپن سے ھی ادب اور آرٹ کا جنون کی حد تک شوقین تھا اور یہ شوق مجھے راولپنڈی کے کینٹ پبلک اسکول، صدر سے شروع ھوا جہاں پر میں نے پرائمری تعلیم حاصل کی تھی اور میں اس اسکول کو کبھی نہیں بھول سکتا ھوں، جہاں میرا یہ شوق پروان چڑھا - یہ1955 سے 1958کا زمانہ تھا-اسکی چند مخصوص وجوھات بھی تھیں کاش کہ ھمارے تمام تعلیمی ادارے بھی ان ھی خصوصیات کے حامل ھوتے

- سب سے پہلے تو مین یہ کہونگا کہ جتنے بھی وھاں استاد اور منتظمین تھے سب کے سب تجربہ کار اور پرخلوص تھے اور انہیں یہ اچھی طرح علم تھا کہ بچوں کی بنیادی تربیت کیسی ھونی چاھئے -

- اس وقت کے لحاظ سے اتنے اعلیٰ ذوق رکھنے والے استاد شاید ھی کہیں خوابوں میں ملیں، یہ احساس مجھے بعد میں بڑی کلاسوں میں جانے کے بعد ھوا ، کیونکہ اس وقت 5 سے 8 سال کی عمر تک کے بچوں کو اتنا شعور کہاں ھوتا ھے، جو اچھے برے میں کوئی تمیز کر سکیں، پھر اتنی عمر کے بچوں کا مستقبل بھی تو صرف استادوں اور والدیں کے ھاتھوں میں ھوتا ھے -

میں یہ بتا رھا تھا بچوں کی ابتدائی تعلیم کے بارے میں اور میری یہ خوش قسمتی تھی کہ میری ابتدائی تعلیم ایک اچھے تعلیمی ادارے سے شروع ھوئی،

کبھی کڑاکے کی سردی اور کبھی شدید گرمیوں کی تپش، میں اس سے بےخبر روزانہ گلے میں بستہ ٹانگے ھاتھ میں لکڑی کی تختی اٹھائے،صبح سویرے ناشتہ کرکے چھوٹی بہن کا ھاتھ پکڑے، اپنے اسکول کی طرف پیدل جانا میرا یہ روز کا معمول تھا - اسکول سے واپسی بھی اسی انداز سے رھتی تھی - اور روز پیدل تقریباً 6 یا 7 کلو میٹر کا آنا جانا رھتا تھا -

گھر پر دوپہر کا کھانا کھا کر کچھ دیر آرام کرنے کے بعد اسکول کے گھر کا کام کیا اور ھم اپنے والد صاحب کا انتظار بہت بےچینی سے کرتے رھتے تھے، کہ وہ ھمیں کب باھر گھومانے لے جائیں کیونکہ وہ ھمیں بلا ناغہ روزانہ دفتر سے واپس آکر کچھ دیر آرام کرنے کے بعد ھمیں پیدل گھومانے ریس کورس گراونڈ میں گھومانے لے جاتے تھےجو کہ گھر سے بہت قریب تھا، اس دوراں والدہ صاحبہ کھانے وغیرہ کی تیاری کرتیں اور ھمیں والد صاحب مغرب کی نماز سے پہلے واپس گھر لےآتے، نماز سے فارغ ھو کر ھمیں کچھ پڑھاتے اور اسکول کا کام دیکھتے -
اسی اثناء مین عشاء کی نماز کا وقت ھو جاتا، والد صاحب تو عشاء کی نماز پڑھنے باھر چلے جاتے اور ھم بہن بھائی کچھ دیر اپتی والدہ کے ساتھ خوب لاڈ پیار کرتے اور والدہ بھی ھمارے ساتھ خوب ہنستی بولتی، کھیلتی رھتیں اور بعد میں جیسے ھی والد صاحب عشاء کی نماز پڑھکر واپس آتے، والدہ فوراً دستر خوان لگاتیں اور کھانے کے بعد والد اور والدہ ھماری ضد کرنے پر روزانہ کہانی سناتے اور ھمیں پتہ ھی نہ چلتا کہ کب ھم سو گئے صبح ھو نے پر والدہ ھمیں اُٹھاتیں اسکول جانے کے لئے، اور روز کی طرح پھر زندگی اسی طرح رواں دواں رھتی -
وہ ماں کا دُولار اور لاڈ پیار جب بھی یاد آتا ھے تو آنکھوں میں آنسو آجاتے ھین، وہ بچپن کی ھماری معصومیت اور ماں کا گلے لگانا، کھیلنا مسکرانا ھمارے پیچھے بھاگنا وہ کیا دن تھے، جب بھی وہ دن یاد آتے ھیں کلیجہ منہ کو آتا ھے،

آج میری والدہ جو اب کافی ضعیف ھیں، وہ کراچی میں اپنے گھر میں مجھ سے چھوٹے اور منجھلے بھائی اور انکے بیوی بچوں کے ساتھ ھیں، اور میں اور سب سے چھوٹا بھائی اپنی فیملی کے ساتھ پردیس میں ھیں، اور اپنی والدہ کی خدمت کیا کریں بس ٹیلیفوں پر گفتگو کر لیتے ھیں، ایک دفعہ عمرے کی سعادت آنہیں حاصل ھوئی، مگر حج وہ نہیں کر سکیں کیونکہ انکا کہنا یہ تھا کہ جب تک آنکی سب سے چھوٹی بیٹی یعنی میرے چھوٹی بہں کی شادی نہیں ھو جاتی، اس وقت تک وہ حج نہیں کر سکتیں-
بہن کی شادی پچھلے سال نومبر میں ھو گئی - اب انشااللٌہ انہیں ھم دونوں بھائی انہیں اس سال حج کرانے کا ارادہ ھے اللٌہ تعالیٰ ھمیں انکی خدمت کا موقع دے، آمین-

اب میں یہ سوچتا ھوں کہ میں کتنے عر صہ سے باھر ھوں، کیا میں نے اپنی ماں کے ساتھ انصاف کیا، ھر سال چھٹی جانے سے یا کچھ پیسے ان کے ھاتھ میں رکھنے کیا میرا فرض پورا ھوگیا، جبکہ والد صاحب کو بھی گزرے ھوئے بھی 17 سال بیت چکے ھیں، اور اتنا بدقسمت ھوں ان کے جنازے کو کاندھا بھی نہ دے سکا کیونکہ میں اس وقت 1990 میں جدہ میں تھا اور مجھے والد کی انتقال کی خبر گھر والوں نے نہیں دی تھی، اور دوسروں کو منع بھی کیا ھوا تھا اس کی ایک وجہ یہ تھی کہ والد صاحب اور میں ایک دوسرے کو بہت چاھتے تھے اور دوسرے 12 دن ھی ھوئے تھے پاکستاں سے آکر اور میرے بچے اس وقت پاکستان میں تھے آج تک مجھے اس بات کا دکھ ھے-

ان تمام باتوں کے باوجود بھی میری والدہ مجھ سمیت تمام بہن بھائیوں اور انکے تمام بچوں سے بہت محبت کرتی ھیں، جب بھی میں اپنی فیملی کے ساتھ چھٹی پاکستان جاتا ھوں، وہ مجھے اور میرے بچوں کو گلے لگا کر خوب روتی ھیں ، میری کوشش یہی ھوتی ھے کہ زیادہ تر وقت ان کے ساتھ گزاروں،
ان کے ساتھ رہ کر مجھے وہ اپنے تمام بچپن کی باتیں یاد آجاتی وہ اُن کا لاڈ کرنا گلے سے لگانا، ھمارے ساتھ گھر میں کھیلنا ھمارے پیچھے پیچھے بھاگنا کبھی ھم میں سے کوئی بیمار ھوجائے تو ساری ساری رات انکا جاگنا، بس یہ سب آنکھیں بند کئے سوچتا رھتا ھوں -

میں بس چھٹیوں میں ان کو دیکھتا ھی رھتا ھوں، ساتھ بچپن کی باتیں اُن سے پوچھتا بھی رھتا اور ساتھ اپنے بچپن کی تصویریں بھی دیکھتا رھتا ھوں جو انہوں نے سنبھال کر رکھی ھوئی ھیں، کئی باتیں میرے بچپن کی مجھے خود انکی زبانی ھی پتہ چلی ھیں اور پھر تمام بچپن کی باتیں ذہن میں ایک فلم کی طرح گھوتی رھتی ھیں
والدین کی خدمت جتنی بھی کی جائے کم ھے یہ احساس ھمیں اس وقت ھوتا ھے کہ جب ھمارے بچے بڑے ھو کر ھماری باتوں کو اور نصیحتوں کو رد کردیتے ھیں -!!!!!!!

بچپن، لڑکپں، جوانی اور بڑھاپا، انسان ان ھی تمام ادوار سے گزرتا ھوا اپنی آخری منزل کی طرف بڑھتا ھے،!!!!

- بچپن گھر کے حوالے
- لڑکپں باھر کے حوالے
- جوانی خود کے حوالے
- بڑھاپا اللٌہ کے حوالے

میری کوشش یہی ھوگی کہ ھر ایک دور کو انکے تمام مثبت اور منفی حقائق سے روشناس کراؤں، جن سے ماضی میں خود دو چار ھوا ھوں -
ویسے یہ بہت مشکل ھے کہ اپنے گزرے ھوئے کل کو سامنے لانا، خاص طور سے منفی پہلو کو -

اکثر ھم اپنی بری عادتوں اور نقصانات سے پردہ نہیں اٹھاتے، جو کہ بالکل غلط ھے کم از کم ھمیں ان اپنی تمام برائیوں اور نقصانات سے لوگوں کے علم میں لانا چاھئے تاکہ جو تکلیفیں آپ نے ان برائیوں اور نقصانات سے اٹھائی ھیں، دوسرے لوگ ان سے بچیں اور خسارہ نہ اٹھائیں -

ھاں تو دوستوں بات ھو رھی تھی بچپن کی معصومیت کی، اس دور میں ھر ایک کا بچپن دوسروں کے رحم و کرم پر ھوتا ھے، چاھے تو اسے بگاڑ دیں چاھے تو سنوار دیں-

ھم سب کا یہ فرض ھے کہ ھر کسی کے بچپن کی معصومیت سے نہ کھیلیں بلکہ اپنا فرض سمجھتے ھوئے ان کی تربیت ایک اچھے ماحول میں ترتیب دے کر ان کے مستقبل کو بہتر سے بہتر بنانے کی کوشش کریں، کیونکہ آج کے یہ معصوم کل کے ھمارے ملک کا روشن مستقبل ھیں،!!!!!!

میں اپنے بچپن کی کچھ یادداشت کے حوالے سے خود پر گزرے ھوئے اصل حقائق کی روشنی میں چند اھم نکات کو پیش کرنے کی کوشش کررھا ھوں - تاکہ پڑھنے والوں کو صحیح حقیقت کا علم ھو اور وہ اپنی سمجھ کے مطابق بہتر سے بہتر کوشش اپنی آنے والی نئی نسلوں کی تربیت کیلئے کرسکیں -

میں نے گذشتہ باب میں اپنے پرائمری اسکول کے بارے میں تحریر کیا تھا، جو ایک واقعی مثالی اسکول تھا وھاں میں نے اپنے بچپن کے تین سال بہت ھی ایک منظم اور صحیح تربیت کے دائرے میں گزارے، جسکا فائدہ مجھے اپنے ھر اچھے برے دور میں ھوا -

وہاں اسلامی تعلیمات کے لیے روزانہ ایک مخصوص پیریڈ ھوا کرتا تھا، جس میں قران کی تعلیم بہت عمدہ طریقے سے بمعہ ترجمہ اور تفسیر کے دی جاتی تھی، جو قرآنی سورتیں مجھے اب تک یاد ھیں یہ وھیں کی عنایت ھے، اس کے علاوہ سیرت نبوی اور تمام اسلامی اصولوں کو اتنے خوبصورت طریقوں سے ھر بچے کے ذہن میں اس طرح بٹھادیا جاتا تھا کہ شاید ھی کوئی بھول سکے-

دوسرے اس اسکول میں پانچویں جماعت تک لکڑی کی تختی پر لکڑی کے قلم سے اردو رسم الخط کی تربیت دیتے تھے - اور ھر کام کالی سلیٹ پر بچے چاک سے لکھا کرتے، اس کے علاوہ انگلش کے لئے چار لائنوں والی کاپی پر پنسل سے پریکٹس کرائی جاتی تھی، وھاں پر پانچویں جماعت تک کوئی فاونٹین پین استعمال کرنے کی اجازت نہیں تھی- اور حساب کے کام کیلئے بھی صرف اور صرف پنسل ھی کی اجازت تھی -

تیسری خصوصیت جو سب سے اچھی یہ تھی کہ روزانہ اسمبلی کے دوران ھر کلاس کے بچوں کے ھاتھ کے ناخونوں، بالوں کو، لباس کو اور جوتے تک بہت سختی سے چیک کئے جاتے تھے، اگر کسی بچے میں کوئی بھی ذرہ سی بھی چیکنگ کے دوران غلطی پائی گئی تو فوراً لائن سے نکال دیا جاتا تھا اور سب کے سامنے اسی وقت غلطی کے مناسبت سے سزا ملتی تھی اور ایسا بہت کم ھوتا تھا، کیونکہ ھر بچہ گھر سے مکمل طور سے تیار ھو کر آتا کرتا اور اس میں والدیں خود بچے کو تمام تیاریوں کے ساتھ بچوں کو صاف ستھرائی کے ساتھ اسکول میں بھیجا کرتے تھے اور بچوں کو بھی فکر رھتی تھی-

چوتھی بات بچوں کی صحت کے اعتبار سے ھر کلاس کا ایک الگ سے پی ٹی کا بھی پیریڈ لازمی تھا، جہاں بچوں کو ورزش کی تربیت دی جاتی تھی، اور سکھانے والے بہترین ماھرین چنے ھوئے تھے، اور بہت سے کھیلوں کی تربیت بھی دی جاتی تھی جن سے بچے بھی خوشی سے سالانہ کھیلوں میں حصہ بھی لیتے تھے-

ایک اور خوبی ان استادوں میں یہ تھی کہ وہ خود بھی باقاعدہ ڈسپلین کی پابندی کرتے تھے میں نے کبھی انھیں آپس میں بیہودہ مذاق یا گالی گلوچ کرتے نہیں پایا اور اس کے علاوہ کبھی اسکول کے احاطے میں یا کلاس روم میں سگریٹ پیتے ھوئے نہیں دیکھا،

اب آپ یہ بتائیے کہ کیا اب ھمارے بچوں کی بنیادی تعلیم کیلئے کیا یہ تمام خصوصیات ھمارے بچوں کے اسکولوں میں موجود ھیں، کیا ھمارے بچون کے اُستاد حضرات ان اصولوں پر گامزن ھیں ؟؟؟؟؟؟؟؟

1958 میں اس اسکول کو مجھے مجبوراً الوداع کہنا پڑا، کیونکہ والد صاحب کا تبادلہ کراچی ھوچکا تھا، اس اسکول کو چھوڑتے وقت مجھے یاد ھے کہ بہت دکھ ھوا تھا، جبکہ میری عمر صرف 8 سال کے لگ بھگ تھی اور آج تک مجھے اس کا بہت ملال ھے، کیونکہ اسکے بعد مجھے ایسے اسکول کا ماحول نہیں مل سکا -

اُس وقت کے دور میں اتنی سہولتیں تو نہیں تھیں لیکن لوگوں کے پاس دوسروں کے لئے وقت تھا اپنی ھر دکھ تکلیف ایک دوسرے کے ساتھ شیئر کرتے تھے، اور ایک دوسرے کے کام آتے تھے-

وہ سادہ سی، قناعت پسند اور پرسکون زندگی جہاں پر ایک محدود اپنی ضروریات تھیں - اور زندگی بہت خوش و خرم سے گزری رھی تھی،!!!!!!
__________________
جاری ھے،!!!!
عبدالرحمن سید آف لائن ہے   یہ اقتباس دیں
ان 7 ارکان نے اس مفید پوسٹ کے لیے عبدالرحمن سید کا شکریہ ادا کیا ہے
پرانا 28-01-10, 06:27 PM   #2
عبدالرحمن سید
-: محسن :-
 
عبدالرحمن سید کی نمائندہ تصویر
 
تاریخ شمولیت: 2007-11-06
قیام: Jeddah, Saudi Arabia.
جنس: male
عمر: 63
پوسٹس: 201
پوائنٹس: 473
عبدالرحمن سید عبدالرحمن سید عبدالرحمن سید عبدالرحمن سید عبدالرحمن سید عبدالرحمن سید عبدالرحمن سید عبدالرحمن سید عبدالرحمن سید عبدالرحمن سید عبدالرحمن سید
عبدالرحمن سید کی طرف بذریعہ MSN  پیغام ارسال کریں عبدالرحمن سید کی طرف بذریعہ yahoo پیغام ارسال کریں
میری اپنی بھولی بسری یادیں،!!! میرا بچپن-2

1958میں اس اسکول کو مجھے مجبوراً الوداع کہنا پڑا، کیونکہ والد صاحب کا تبادلہ کراچی ھوچکا تھا، اس اسکول کو چھوڑتے وقت مجھے یاد ھے کہ بہت دکھ ھوا تھا، جبکہ میری عمر صرف 8 سال کے لگ بھگ تھی اور آج تک مجھے اس کا بہت ملال ھے، کیونکہ اسکے بعد مجھے ایسے اسکول کا ماحول نہیں مل سکا -

تیزگام اپنی منزل کی طرف تیزی سے رواں دواں تھی اور میں ٹرین کی کھڑکی کے پاس بیٹھا، باھر سامنے کے مناظر کو بہت تیزی کے ساتھ مخالف سمت کی طرف بھاگتے ھوئے بڑے انہماک سے دیکھ رھا تھا، عمر تقریباً آٹھ برس کے لگ بھگ ھوگی، ویسے بھی مجھے، کوئی بھی سواری ھو بس ھو کوئی کار یا ٹیکسی یا پھر کوئی گھوڑا گاڑی ھی کیوں نہ ھو ھمیشہ ایک کنارے بیٹھنے کا شوق رھا ھے، کیونکہ مجھے شروع بچپن سے ھی سفر کے دوران باھر کا منظر دل کو بہت اچھا لگتا تھا اور یہ ھمیشہ خواہش رھی کہ یہ سفر کبھی ختم نہ ھو، جو اب تک قائم ھے، اور اب تک سفر میں ھی ھوں -پہلے تو والدیں سے ضد کرکے ایک کونا پکڑ کر بیٹھا کرتا تھا اور اب درخواست کرکے کونے کی سیٹ لینے کی کوشش کرتا ھوں، کھڑکی کے پاس بیٹھنے کا ایک الگ ھی مزا ھے، کیونکہ اس سے چاھے کوئی بھی سواری ھو، اندر کے ماحول سے نکل کر انسان باھر کی دنیا میں گم ھو جاتا ھے، ایسا لگتا ھے کہ ھم بھی باھر کا ایک حصہ ھیں، شاید سب لوگ بھی میری طرح ایسا ھی سوچتے ھوں گے -

ایک بات کا تو میں یہاں ذکر ضرور کرونگا کہ میری اللٌہ تعالیٰ نےدیر یا سویر لیکن تقریباً تمام خواہشات کو پورا ضرور کیا، اور مجھے اس کا تو مکمل یقین ھے کہ اگر آپ نیک نیتی سے کوئی دل سےخواھش کریں تو اس کی تعبیر حقیقت میں ضرور ملتی ھے -

اس وقت تیزگام سے راولپنڈی سے کراچی کا سفر تقریباً 24 سے 25 گھنٹے میں مکمل ھوتا تھا، والدین کی زبانی مجھے معلوم ھوا کہ ٹرین کا میرا یہ پانچواں سفر ھے، کیونکہ والد صاحب کا ھر دو تین سال بعد تبادلہ ضرور ھوتا رھتا تھا، کراچی اور راولپنڈی کے درمیان، پچھلے سفر کا کچھ کچھ دھندلا سا یاد ھے شاید 5 سال کی عمر ھوگی اور کراچی کا اپنا گھر بھی ھلکا ھلکا ذہن میں خاکہ بھی ھے،!!!!!

خیر بات ھورھی تھی اپنے تیزگام کے سفر کی، ھر سفر میں ھر مختلف موسموں کا لطف اٹھانے کو بھی ملا، سرسبز لہلہاتے کھیت خاص طور سے گندم اور مکئی کے سرسبز شاداب کھیت، تو کبھی پیلے پیلے سرسوں کے لہراتے ھوئے کھیت، کبھی کبھی فصلوں کی کٹائی کے وقت سب مردوں، عورتوں اور بچوں، چھوٹے بڑوں کو دیکھ کر اتنی خوشی ھوتی تھی کہ میں بتا نہیں سکتا، اکثر وہ ٹرین کو دیکھ ھاتھ ہلاتے، تو میں بھی خوشی سے ھلاتا، ایسا لگتا جیسے وہ مجھے الوداع کہہ رھے ھوں اس وعدے پر کہ میں دوبارہ واپس آؤں، وہ سب مجھے اپنے سے لگتے تھے،!!!!!

میں ھمیشہ اسی انتطار ھی میں رھتا تھا کہ دوبارہ ٹرین کا سفر کب ھوگا کیونکہ سرسبز کھیتوں کے علاوہ اور بھی کئی چیزیں مجھے بار بار یاد آتی تھین، موسمبی مالٹے سنگتروں کے باغات جب سامنے سے گزرتے تو دل چاھتا تھا کہ کود جاؤں اور باغوں میں جاکر خوب کھیلوں اور موسمبیوں مالٹوں کو توڑ توڑ کر کھاؤں، اس کے علاوہ دریاؤں اور انکے پلوں پر سے گزرتے ھوئے ایک عجیب سی خوشی محسوس ھوتی تھی اور ٹرین کی ایک مخصوص آواز کھٹ کھٹا کھٹ مختلف جگہاؤں پر اپنی مخصوص آوازوں کے سر بدل دیتی تھی کھیتوں میں ایک الگ آواز، دریاؤں کے پلوں پر کوئی اور طرز، اور شہروں کے بیچ میں سے گزرتی ھوئی ایک نئے سروں میں سیٹی بجاتی شور مچاتی گزر رھی ھوتی تھی - کیا خوبصورت لگتا تھا کبھی کبھی تو ایک خوف سا بھی لگتا تھا جب ھماری ٹرین کسی سرنگ میں سے گزر رھی ھوتی تھی، ایک دم اندھیرا ھو جانا، اور ٹرین کی آواز میں بھی ایک ھلکا سا ڈراونی تاثر، ساتھ ھلکی سی لایٹ بھی کمپارٹمنٹ میں آن ھو جاتی، اور سب کے چہرے ایک عجیب سا ڈرا ڈرا سا ماحول بن جاتے، اور میں پھر بھی اس ماحول میں ھلکے خوف کے ساتھ لطف اندوز بھی ھوتا رہتا -

اس وقت تیزگام صرف بڑے بڑے اسٹیشن پر ھی رکا کرتی تھی، مجھ پر وہاں کے مختلف حاکروں اور قلیوں کی آوازیں بھی ایک خوشی کا تاثر چھوڑتی تھیں، چاھے رات کا وقت ھو یا دن کی روشنی ھو ھر وقت ٹرین کے رکتے رکتے وھی ایک ھی قسم کی آوازیں شروع ھوجاتیں -

کبھی “ چائے گرم “ تو ساتھ ھی “ کھانا گرم“ اور کبھی“ آلو چنے کی چاٹ“ کسی اسٹیشن پر “ملتانی حافظ جی کا سوہن حلوہ“ تو کہیں “حیدراباد کی چوڑیاں“ اور گرمیوں میں “ ٹھنڈی بوتل “ تو کبھی “لسی اور دودھ کی بوتلیں“ بھی لوگ بیچتے نظر آتے، میرا دل تو بہت چاھتا تھا کہ یہ چیزیں خرید کر کھاؤں لیکن والد صاحب کی ڈانٹ کی وجہ سے مجبور تھا، بس وہ ھمیشہ گھر سے ساتھ لائی ھوئی چیزوں پر ھی گزارا کرتے- اور کبھی بھی مجھے اسٹیشن پر اترنے بھی نہیں دیا - مگر یہ سارے شوق بعد میں ضرور پورے کئے جب کچھ بڑ ا ھوا اور دوستوں کے ساتھ ٹرین میں سفر کی اجازت ملی،!!!!!!

گھر کی بنائی ھوئی چیزوں میں زیادہ تر قیمہ، پراٹھے اور اچار یا چٹنی دوپہر یا رات کے کھانے کیلئے اور چھوٹے بہن بھائی کیلئے علیحٰدہ سے دودھ اور ان کے مطلب کی چیزوں کا بھی انتظام ھوتا تھا، اس کے علاوہ جب کبھی میں باھر کی چیزوں کیلئے ضد کرتا یا پھر والد صاحب کی فرمائش پر، کچھ پھل، چیوڑہ دال سیو اور خشک میوہ جات راستہ بھر میں والدہ اپنی ایک ٹوکری سے وقفے وقفے سے نکالتی رھتیں مگر مجھے کبھی بھی باھر کی چیزیں کھانے نہیں دیتے تھے،!!!!!!

تیزگام سندھ کے صحراؤں کو عبور کرتی ھوئی اپنی مخصوص سروں میں سیٹیاں بجاتی ھوئی کھٹ کھٹا کھٹ بہت تیزی کے ساتھ اپنی منزل کی طرف رواں دواں تھی - دوسرے دن کی روشنی چاروں طرف پھیل چکی تھی،
چلتی ٹرین میں منہ ھاتھ دھونا بہت مشکل ھوتا ھے لیکن والد کسی نہ کسی طرح سے منہ ھاتھ دھلوا ھی دیا، پھر ڈبل روٹی اور شاید مکھن یا جام وغیرہ سے ناشتہ کرکے فارغ ھوئے ، کسی اسٹیشن سے والد صاحب نے کیتلی میں چائے بھروا لی تھی، اور شاید دودھ بھی ایک بڑے گلاس میں ٌلے چکے تھے، جو ھم چھوٹے بہن بھائیوں کیلئے تھا -

میں یہ بالکل نہیں چاہتا تھا کہ اس تیزگام کا سفر کبھی ختم ھو، والد صاحب کی زبانی ھی پتہ چلا کہ اب ھم کراچی پہتچنے والے ھیں، کراچی کے کینٹ اسٹیشن کے نزدیک پہنچنے سیے پہلے ٹرین کی رفتار کچھ دھیمی ھو رھی تھی اور والد اور والدہ اپنا سارا سامان سمیٹنے میں مصروف تھے، ھم بہں بھائی ٹرین کی کھڑکی سے باھر دیکھنے میں مگن تھے، اور میں کسی فلاسفر کی ظرح اپنی بہن کو شہر کی باتیں بنا کر اسے مرعوب کرنے کی ناکام کوشش کررھا تھا ،جبکہ مجھے خود کچھ معلوم نہیں تھا، وہ بھی میری کسی بات کو تسلیم ھی نہیں کرتی تھی کیونکہ وہ مجھ سے کہیں زیادہ سقراط کی بھتیجی تھی،!!!!

اکثر ھم دونوں کے درمیان جھگڑا ھی رھتا تھا ھاں اگر کوئی کام پڑ جائے تو خوش آمد کرنے سے نہیں چوکتی تھی، وہ مجھ سے تقریباً دو سال چھوٹی تھی - ویسے ھم دونوں بہن بھائی میں محبت بھی بہت تھی، ساتھ کھیلتے ساتھ لڑتے جھگڑتے پھر ایک دوسرے کو منا بھی لیتے تھے، تیسری تو بہت چھوٹی تھی -

ٹرین پلیٹ فارم پر آہستہ آھستہ رک رھی تھی باھر لوگوں کا ایک ھجوم تھا، قلی اپنے چکروں میں پھر رھے تھے اور کچھ اپنے رشتہ داروں اور جاننے والوں کو لینے آئے تھے، کچھ ھاتھ ھلا رھے تھے کچھ ٹرین میں جھانک رھے تھے کہ شاید جاننے والے پر نظر پڑ جائے، میں بھی سوچ رھا تھا کہ ھمیں بھی کوئی لینے والا آیا ھوگا، لیکن میرا اندازہ غلط نکلا، ابا جی نے کسی کو اطلاع ھی نہیں دی تھی، بہرحال اتنا زیادہ سامان اور صرف دو قلی، جو ھمارا سارا سامان اٹھائے ھوئے تھے، ان کے پیچھے پیچھے ھم سب چلتے ھوئے اسٹیشن کے باھر نکل آئے،!!!!

باھر کا منظر بھی معمول کی طرح لوگوں کا ایک ھجوم اور اس وقت تانگے والے، سائیکل رکشہ والے، گدھا گاڑی والے، آواریں لگا لگا کر اپنے پاس بلا رھے تھے، دو چار تو والد صاحب کے آگے پیچھے بھی منڈلا رھے تھے، مگر والد صاحب بچتے بچاتے ان سے اول فول بکتے ھوئے، ایک گدھا گاڑی کے پاس جاکر رک گئے، قلیوں کو کچھ دے دلا کر فارغ کیا اور بھر گدھا گاڑی والے سے بات کرنے لگے شاید سامان لے جانے کیلئے،!!!!

میری نظریں تو سامنے کھڑی ھوئی ٹراموں پر ٹکی ھوئی تھیں، بالکل ٹرین کی طرح سڑک کے اوپر باری باری پٹری پر ٹن ٹن کرتی ھوئی چل رھی تھیں، مین حیران بھی تھا اور شاید یہ سوچ رھا تھا کہ اگر والد صاحب ا اس ٹرام میں بیٹھ کر گھر جائیں تو کتنا مزا آے، باھر اس کے علاوہ اس وقت کی ٹیکسیاں جو بہت بڑی بڑی تھیں اور کچھ بسیں بھی نظر آرھی تھیں، جن کے آگے پیچھے سے دھواں بھی اٹھ رھا تھا اور پوری بس تھرتھراتی ھوئی کانپ بھی رھی تھی اور جو بسیں خاموش تھیں انکے ڈرائیور شاید بس کو اسٹارٹ کرنے کیلیئے آگےایک سریہ سا ڈال کر بار بار گھمارھے تھے، اس وقت ھر موٹرگاڑی کو اسی طرح اسٹارٹ کیا جاتا تھا،

مگر میری امیدوں پر پانی پھر ھی گیا جب ابٌا حضور نے چلا کر کہا چلو بیٹھو، میں نے گھبرا کر جو مڑ کے دیکھا تو کیا دیکھتا ھوں سارا سامان گدھا گاڑی پر جم چکا تھا اور والدہ اپنا کالا برقعہ سنبھالتی ھوئی اوپر سامان کےاوپر بیٹھنے کی کوشش کررھی تھیں پھر ابٌا جی نے گود میں اٹھا کر ھم بہن بھائی کو اوپر بڑی مشکل سے بٹھایا اور خود گدھا گاڑی چلانے والے کے برابر بیٹھ گئے اور پھر چلاچل گدھا بیچارہ ساری مخلوق بمعہ سامان کو لئے گاڑی بان کے اشارے پر گاڑی کھینچنے کی کوشش کر رھا تھا، بڑی مشکل سے کچھ لوگوں نے گدھا گاڑی کو دھکا لگا کر بےچارے گدھے کو گاڑی کھینچنے میں مدد کی -

بس پھر کیا تھا گدھے نے اپنی چال دکھائی اور آہستہ آہستہ دوڑنا شروع کردیا، گاڑی بان بھی اپنی ایک مخصوص بولی میں گنگناتا ھوا ساتھ ساتھ گدھے کو بھی لگام تھامے ھدایتیں دیتے ھوئے مست تھا، اس وقت اسے مشکل پیش آتی جب کوئی چوراھا سامنے آجاتا، اگر کوئی سپاھی ھماری طرف کا ٹریفک روک کر دوسری طرف کی گاڑیوں کے جانے کا اشارا کرتا، کیونکہ اسے گدھے کو روکنے اور دوبارہ بھگانے میں بہت مشکل درپیش آتی تھی،!!!

اس زمانے میں کوئی بھی الیکٹرونک سگنل نہیں ھوا کرتا تھا ، بس آپ ھر چوراھے پر سفید وردی پہنے ھوئے ایک سپاھی خود ھی ٹریفک کنٹرول کررھا ھوئے ناچ رھا ھوتا تھا - ایک عجیب سا منظر تھا، ھماری گدھا گاڑی روڈ پر دوڑی جارھی تھی اور چاروں طرف بھی ساتھ ساتھ گھوڑا گاڑیاں گدھا گاڑیاں ساتھ اُونٹ گاڑیاں بھی، سائیکل والے، سائیکل رکشہ والے کچھ اس وقت کے ٹرک، بسیں، پوں پوں کرتی کھڑکھڑاتی ھوئی چل رھی تھیں، اس وقت کے سادے لوگ بس دیکھتے اور ھمیں دیکھ کر مسکراتے ھاتھ ہلاتے ھوئے گزر رھے تھے، کبھی کبھی کوئی گڑھا وغیرہ آجاتا تو ھم سب سامان سمیت اوپر اچھل جاتے،اگر آج کل کی نظروں سے دیکھو تو ایسا لگے جیسے کوئی “ٹام اینڈ جیری“ کی کارٹون فلم چل رھی ھو - چھوٹی چھوٹی، ٹوٹی پھوٹی سڑکیں اور ھر قدم پر مختلف قسم کے گڈھے، اس پر یہ خودکار سواریاں !!!!!!!

بڑی مشکل سے یہ شاھی سواری منزل پر پہنچی، حالت خراب ھو چکی تھی سب پرزے ڈھیلے ھو چکے تھے، پہنچنے سے پہلے ھی کچھ بچوں کو گدھا گاڑی کے ساتھ ساتھ بھاگتے دیکھ رھا تھا اور گاڑی کے رکتے ھی کئی لوگ بھی نزدیک آگئے اور سامان اتارنے میں مدد کرنے لگے دو تین عورتیں آئیں اور والدہ کو اور چھوٹی بہنوں کو ساتھ لے گئیں اور گدھاگاڑی کے سامنے ابٌاجی کے پاس لوگوں کو سامان اتارتے دیکھ رھا تھا اور مجھے بھی لوگ پیار سے بلارھے تھے شاید یہ سب والد صاحب کے دوست تھے،!!!!!!

میں بھی بہت تھکا ھوا لگ رھا تھا، شام ھونے والی تھی ابٌاجی میرا ہاتھ تھامے مجھے نئے گھر کی طرف لے جارھے تھے اور میں غنودگی میں ان کے ساتھ بڑی مشکل سے چل رھا تھا، پھر پتہ ھی نہیں چلا کہ کب آنکھ لگ گئی، رات کے نہ جانے کس وقت والدہ نے کھانے کیلئے اُٹھایا دیکھا تو ایک لالٹین جل رھی تھی، شاید لوگوں کے گھروں سے کچھ کھانا آیا ھوا تھا ، سب کھانے میں مصروف تھے اور میں کھانے کے ساتھ ساتھ اپنے اسکول کے بارے میں اور وھاں کے اپنے دوستوں کے بارے میں سوچ رھا تھا جنہیں میں بہت دور چھوڑ آیا تھا - !!!!!
__________________

آخری مرتبہ ترمیم کی گئی بذریعہ عبدالرحمن سید : بوقت 06:28 PM مؤرخہ 28-01-10
عبدالرحمن سید آف لائن ہے   یہ اقتباس دیں
ان 3 ارکان نے اس مفید پوسٹ کے لیے عبدالرحمن سید کا شکریہ ادا کیا ہے
پرانا 28-01-10, 06:35 PM   #3
عبدالرحمن سید
-: محسن :-
 
عبدالرحمن سید کی نمائندہ تصویر
 
تاریخ شمولیت: 2007-11-06
قیام: Jeddah, Saudi Arabia.
جنس: male
عمر: 63
پوسٹس: 201
پوائنٹس: 473
عبدالرحمن سید عبدالرحمن سید عبدالرحمن سید عبدالرحمن سید عبدالرحمن سید عبدالرحمن سید عبدالرحمن سید عبدالرحمن سید عبدالرحمن سید عبدالرحمن سید عبدالرحمن سید
عبدالرحمن سید کی طرف بذریعہ MSN  پیغام ارسال کریں عبدالرحمن سید کی طرف بذریعہ yahoo پیغام ارسال کریں
میری اپنی بھولی بسری یادیں،!!! میرا بچپن-3

میں بھی بہت تھکا ھوا لگ رھا تھا، شام ھونے والی تھی ابٌاجی میرا ہاتھ تھامے مجھے نئے گھر کی طرف لے جارھے تھے اور میں غنودگی میں ان کے ساتھ بڑی مشکل سے چل رھا تھا، پھر پتہ ھی نہیں چلا کہ کب آنکھ لگ گئی، رات کے نہ جانے کس وقت والدہ نے کھانے کیلئے اُٹھایا دیکھا تو ایک لالٹین جل رھی تھی، شاید لوگون کے گھروں سے کچھ کھانا آیا ھوا تھا ، سب کھانے میں مصروف تھے اور میں کھانے کے ساتھ ساتھ اپنے اسکول کے بارے میں اور وھاں کے اپنے دوستوں کے بارے میں سوچ رھا تھا جنہیں میں بہت دور چھوڑ آیا تھا - !!!!!!!!!

تھکان کے وجہ سے صبح اٹھنے میں مجھے بہت مشکل پیش آئی، ورنہ چاھے کچھ بھی ھوجائے صبح جلدی اٹھنے کی ایک عادت تھی، چاھے چھٹی کا دن ھی کیوں نہ ھو، مگر دو دن کی تھکان کی وجہ سے اٹھتے اٹھتے کافی دور ھو چکی تھی، چاروں طرف ساماں بکھرا ھوا تھا، والدہ ھماری کچھ اور محلےکی عورتوں کے ساتھ مل کر ساماں کو ترتیب دے کر قرینے سے رکھ رھی تھیں، اور چند چھوٹے بڑے بچے میرے چاروں طرف مجھے اپنی طرف توجہ دلانے کی کوشش میں لگے ھوئے تھے تاکہ ان کی دوستی کے حلقے کا ممبر بن جاؤں، کچھ بچے دور سے ھی کھڑے مجھے دیکھ کر ہنس رھے تھے، جیسے میں کوئی کسی اور دنیا کی مخلوق ھوں -

مجھے کچھ کچھ تین سال پہلے کی دھندلی سی تصویر نمایاں ھوتی نظر آرھی تھی، جب میں شاید تقریباً پانچ سال کا تھا، اور والدہ اور دوسرے بھی مجھے یاد دلانے کی کوشش میں مصروف تھے، جو مجھے آھستہ آھستہ ذہن کے ایک گوشے میں کچھ بھولے بسری باتیں کروٹ لے رھی تھیں - بہرحال کچھ جاننے کی کوشش میں باھر کی طرف رخ کیا اور اس نئی جگہ کو اپنا پن دینے کے لئے آس پاس کا نظارہ کرنا شروع کیا، کچھ میرے ھم عمر بچے بھی ساتھ رھے، جیسے وہ مجھے گائیڈ بن کر کسی کھنڈرات کی سیر کرارھے ھوں اور ساتھ ساتھ کمنٹری بھی چل رھی تھی،
آٹھ سال کی میری عمر اور نئی جگہ نئے لوگ نئے شہر میں ایک پرانا محلہ، نہ بجلی، نہ پانی کی سہولت، میں تو کچھ پریشان سا ھوگیا،!!!!!
کیونکہ جہاں سے ھم سب آئے تھے وھاں پکے دو کمرے کا سرخ اینٹوں کا بنا ھوا کوارٹر تھا، پانی اور بجلی کا آرام تھا چمنی والی انگیٹھیاں دونوں کمروں میں تھیں، کیونکہ وھاں سردی بہت ھوتی تھی، سردیوں میں ھم سب انگیٹھی کے چاروں طرف بیٹھ کر ٹھنڈ سے بے فکر خوب والدین کے ساتھ لاڈ پیار میں لگے رھتے، کیا سہانا وقت تھا - اب نہ جانے کیوں رھنے کیلئے اس جگہ کو ابا جی نے منتخب کیا، ایک کچی آبادی میں، شاید سرکار سے مکان کا کرایہ وصول کرنے کیلئے انہوں نے اپنے لئے گورنمنٹ کی دیوار کے کنارے ایک مٹی کا کچا سا مکان بنایا تھا - وھاں پر چند اور بھی اسی طرح کے گھر تھے، لیکن سب سہولتوں سے محروم تھے - گلیاں بھی ٹیڑھی میڑھی، کچھ گھروں کی دیواریں ٹوٹی پھوٹی اور اوپر سے شور مچاتے بچے، اس ماحول کا تو میں بالکل عادی نہیں تھا -

اب کرتے کیا نہ کرتے مجبوری تھی جہاں والدین وہاں ھم، میں دو تین دن تک تو پریشان ھی رھا، اور اپنے آپ کو بہلانے کی بھی کوشش کرتا رھا، نہ کوئی مطلب کا دوست تھا، اور نہ دل مانتا تھا کہ کسی سے دوستی کروں، ایک چرچڑا پن محسوس کرنے لگا تھا -

لیکن بعد میں مجھے اس جگہ سے ایسی محبت ھوئی کہ اب جب بھی پاکستان چھٹی جاتا ھوں میں وھاں کا ضرور ایک چکر لگاتا ھوں اور اپنے کھوئے ھوئےمعصوم بچپن سے لیکر جوانی تک کی حسین یادوں کو ڈھونڈنے کی کوشش کرتا ھوں - وہ علاقہ اب بھی گلیوں اور کوچوں کے حساب سے ویسا ھی ھے لیکن کافی بہتری بھی آگئی ھے، پانی بجلی اور سوئی گیس کی سہولت موجود ھے، اور تقریباً تمام مکان پکے سمنٹ کے بن چکے ھیں اور ھمارا مکان اب کسی اور کی ملکیت ھے اس نے بھی اچھا خاصا مکان بنا لیا ھے - کاش کہ وہ مجھے یہ میرا مکان مجھے بیچ دیں، کاش کہ میرے پاس اتنا پیسا ھو کہ اس مکان کو خرید سکوں،!!!!!!

میں جب بھی اس اپنے پرانے محلے کی طرف جاتا ھوں، تو میں اپنے آپ کو چاروں طرف وھی خوشبو سے بھری ھوئی یادوں میں گھرا ھوا پاتا ھوں - یہاں میں نے تقریباً اپنی زندگی کے خوبصورت اور حسین یادوں کے ساتھ دس سال گزارے ھیں، مجھے اس علاقہ کو والدیں کی خواھش کی مطابق 18 سال کی عمر میں چھوڑنا پڑا، لیکن میں اب تک ذہنی طور پر وھیں ھوں -

کاش کہ وہ وقت دوبارہ واپس آجائے کاش !!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!

جاری ھے،!!!!
عبدالرحمن سید آف لائن ہے   یہ اقتباس دیں
ان 3 ارکان نے اس مفید پوسٹ کے لیے عبدالرحمن سید کا شکریہ ادا کیا ہے
پرانا 28-01-10, 06:47 PM   #4
عبدالرحمن سید
-: محسن :-
 
عبدالرحمن سید کی نمائندہ تصویر
 
تاریخ شمولیت: 2007-11-06
قیام: Jeddah, Saudi Arabia.
جنس: male
عمر: 63
پوسٹس: 201
پوائنٹس: 473
عبدالرحمن سید عبدالرحمن سید عبدالرحمن سید عبدالرحمن سید عبدالرحمن سید عبدالرحمن سید عبدالرحمن سید عبدالرحمن سید عبدالرحمن سید عبدالرحمن سید عبدالرحمن سید
عبدالرحمن سید کی طرف بذریعہ MSN  پیغام ارسال کریں عبدالرحمن سید کی طرف بذریعہ yahoo پیغام ارسال کریں
میری اپنی بھولی بسری یادیں،!!! میرا بچپن-4

میں جب بھی اس اپنے پرانے محلے کی طرف جاتا ھوں، تو میں اپنے آپ کو چاروں طرف وھی خوشبو سے بھری ھوئی یادوں میں گھرا ھوا پاتا ھوں - یہاں میں نے تقریباً اپنی زندگی کے خوبصورت اور حسین یادوں کے ساتھ دس سال گزارے ھیں، مجھے اس علاقہ کو والدیں کی خواھش کی مطابق 18 سال کی عمر میں چھوڑنا پڑا، لیکن میں اب تک ذہنی طور پر وھیں ھوں -
کاش کہ وہ وقت دوبارہ واپس آجائے کاش !!!!!!!!


نئی جگہ نئے محلہ میں آئے ھوئے بھی ایک ھفتہ گزر چکا تھا، لیکن تمام کوششوں کے باوجود دل کا لگانا مشکل نطر آرھا تھا، پنڈی میں پانچویں جماعت کی پڑھائی ادھوری چھوڑکر آنا پڑا تھا، اس لئے والد صاحب میرے داخلے کیلئے بہت پریشان لگتے تھے، روز وہ دفتر سے چھٹی لے کر آتے، جب تک والدہ مجھے تیار کراتیں اور پھر والد صاحب کے ساتھ انکے پیچھے پیچھے کچھ کتابوں اور کاپیوں سے بھرا بستہ گلے میں لٹکائے، چل کیا دیتا بلکہ بھاگنا پڑتا، کیونکہ ان کی رفتار بہت تیز تھی، شاید انہیں واپس دفتر بھی جانا ھوتا تھا،
راستے میں محلٌے کے بچے بھی مجھے دیکھ کر مسکراتے، اور مجھے اپنی طرف راغب کرنے کی کوشش بھی کرتے تاکہ میں بھی انکی “بچہ کمیٹی“ کا ممبر بن جاؤں مگر والد نے تو بہت سختی سے پابندی لگائی تھی کہ خبردار اگر ان بچوں کے ساتھ اگر میں کھیلا تو،!!!! میری ٹانگیں ٹوٹنے کا اندیشہ تھا، مجھے انکے غصہ سے ویسے بھی بہت ڈر بھی لگتا تھا، لیکن آھستہ آھستہ ان بچوں کی حرکتیں بھی مجھے اچھی لگنے لگی تھی اور باوجود والدہ کے منع کرنے پر روزانہ کسی نہ کسی بہانے خاموشی سے کھسک لیتا تھا اور انکے ساتھ اس زمانے کے کھیل کھیلتا رھتا کبھی گلی ڈنڈا کبھی کنچہ کی گولیاں، پٹھو گرم، اور کبھی پتنگ بازی وغیرہ وغیرہ اور جیسے ھی اباجی کو دفتر سے واپس آتا دیکھتا ایسی دوڑ لگاتا کہ شاید اگر اسی طرح کسی ریس میں حصہ لوں تو اوٌل پوزیشن پر رھوں،!!!!

گھر پہنچتے ھی ھاتھ پیر دھوئے اور فوراً کوئی بھی کتاب اٹھا کر اس طرح پڑھنے لگا جیسے میں ھی دنیا کا سب سے بڑا پڑھاکو ھوں ، اباجی جیسے ھی گھر پہنچتے اور مجھے پیار سے دیکھتے ھوئے والدہ سے کہتے دیکھا مین نہ کہتا تھا کہ ھمارا یہ بچہ ھمارا نام ضرور روشن کریگا، والدہ معنی خیز نگاھوں سے مجھے دیکھتیں اور مسکرا کر والد صاحب کی ھاں میں ھاں ملاتیں، جبکہ انہیں پتہ تھا کہ میں ابھی ابھی باھر سے بھاگ کر آیا ھوں،!!!!!
میری والدہ میری ھر شرارتوں کو اباجی سے ھمیشہ چھپا کر مجھے پٹنے سے بچا لیتی تھیں اور ھر دفعہ خبردار بھی کرتی تھیں کہ اگر آئندہ تم نے کوئی شرارت کی یا دوبارہ گندے بچوں کے ساتھ کھیلے تو تمھارے ابا جی سے شکایت لگادوں گی، لیکن میں انکی تمام نصیحتوں کو رد کردیتا کیونکہ مجھے والدہ کی عادت معلوم تھی کہ وہ مجھے ھمیشہ میری تمام حرکتوں کو اباجی سے پوشیدہ رکھتی تھیں-

والدصاحب چاھتے تھے کہ کہیں نزدیک اسکول میں میرا داخلہ ھو جائے، لیکن مشکل یہ تھی کہ ھر اسکول میں تقریباً داخلے بند ھو چکے تھے اور وہ مجھے دور بھیجنا نہیں چاھتے، اسی چکر میں ایک مہینہ گزرچکا تھا اور میرا دل بھی پڑھائی سے آھستہ آھستہ اُچاٹ ھوتا جارھا تھا، کیونکہ اب ایک مہینے کے اندر ھی باھر بچوں کے ساتھ کھیلنے میں زیادہ دلچسپی لینے لگا تھا، دل میں اب یہی خواھش جنم لے رھی تھی کہ داخلہ نہ ھو تو بہتر ھے -

آخر بکرے کی ماں کب تک خیر مناتی ایک دن چھری کے نیچے آنا ھی تھا، اور مجھے ایک گورنمنٹ پرائمری اسکول میں داخلہ مل ھی گیا، اور کھیلنے کودنے کے میرے تمام خواب چکنا چور ھوکر رہ گئے، مجھے دکھ تو بہت ھوا، لیکن مرتا نہ کیا کرتا اسکول میں جانا شروع کردیا لیکن بالکل بے دلی کے ساتھ، وھاں اسکول میں ایک الگ ھی بھیڑچال دیکھنے کو ملی، کوئی بھی ڈھنگ کا بچہ نظر نہیں آیا، اور اس پر سارے استاد بھی سونے پر سھاگہ تھے اور اسکول کی تو نہ ھی پوچھیں کوئی بھی کل سیدھی نہیں تھی، ٹوٹی پھوٹی دیواریں اور جھولتی کھڑکیاں، میز کرسیاں بالکل غائب، کلاسوں میں پھٹی ھوئی دریاں وہ بھی بے ترتیبی سے بچھی ھوئی، باھر کا مین گیٹ سرے سے ھی ندارد، اور کیا کیا تعریف کروں، قسمت میں جو لکھا تھا بھگتنے کو تیار، اب کیا کرتے روز اسکول جانے لگے،!!!!

میں تو اب بُری طرح پھنس چکا تھا، نہ چاھتے ھوئے بھی اسکول جارھا تھا اور وھاں کے شیطاں بچوں سے واسطہ، کلاس میں بیٹھتے ھی ایک ھنگامہ شروع ھوجاتا، کلاس ٹیچر کی تو کیا کہیئے، انھیں کوئی فکر نہیں تھی، آتے ھی حاضری لیتے، پھر کہتے کہ فلاں صفحہ کھولو اور زبانی یاد کرو، بس یہ کہہ کر باھر نکل جاتے اور دوسرے پیریڈ میں ھی واپس آتے، اُس وقت تک کلاس کا حال بےحال ھوجاتا، آتے ھی چھڑی سے سب کو ڈانٹنے لگتے اور ایک دو کو سزا بھی ملتی، کسی کو مرغا بنا دیتے اور کسی کو چھڑی سے ھی دو چار لگادیتے اور ھر دفعہ میں ھی پھنس جاتا تھا، کیونکہ اس پانچویں کلاس کے تمام بچے صحیح منجھے ھوئے فنکار تھے، شرارت کوئی اور کرتا اور ھمیشہ مجھے ھی پھنسا دیتے اور سارے ملے ھوئے تھے کیونکہ سب مل کر میری طرف اشارہ کرکے گواھی بھی دیتے، ماسٹرصاحب کو میں کیا یقیں دلاتا، ان کا شکار میں بن ھی جاتا اور پھر تمام کلاس مجھ پر ھنس رھی ھوتی تھی،!!!!

اگر ایک ایک ان کی حرکتیں لکھنے بیٹھوں تو سب کچھ ان سب کی شرارتوں کے ھی نطر ھوجائے، گھروں سے وہ لوگ ربڑ بینڈ اور چھوٹے چھوٹے پتھر اپنے اپنے بستوں میں بھر کر لاتے تھے اور پھر کلاس روم میں ھی دوسروں کو غلیل کی طرح نشانہ لگا کر خوب وار کرتے، اور زیادہ تر میں ھی نشانہ بنتا بھی اور سزا کیلئے بھی ان ھی لڑکوں کی وجہ سے مجھے کھڑا ھونا پڑتا،!!!!

اکثر لڑکے تو ایک دوسروں کی کاپیاں اور کتابیں بھی چھپا دیتے، میرے ساتھ تو کچھ زیادہ ھی ھوتا تھا اور ایک دن تو ان لڑکوں نے مل کر حد ھی کردی، کہ کلاس ٹیچر نے مجھے کلاس سے یہ کہہ کر نکال دیا کہ اپنے والد کو یہاں لے کر آو تو کلاس میں داخل ھونا ورنہ نہیں،!!!!! کیونکہ میرے پاس وہ مطلوبہ کاپی نہیں تھی، جبکہ مجھے اچھی طرح یاد تھا کہ میں نے تمام ھوم ورک مکمل کرکے اپنے بستے میں ھی رکھی تھی، یقیناً یہ لڑکوں کی ھی شرارت تھی، !!!!!!!!


کہاں لا بٹھایا مجھے یہاں، گھورتے لڑکے شکاری جیسے
کیسی جماعت ھے یہاں، چھیڑتے بچے مکاری جیسے

ھمارے لئے فرشی پیوند دری، اُنھیں عرشی میز کرسی
لگے شاھی دربار کا میلہ، اوپر شاہ نیچے درباری جیسے

ڈنڈا ھاتھوں میں وہ گھماتے، غصٌہ غضب کا وہ دکھاتے
دیکھو لگے وہ دور سے جٌلاد، تلوار لئے دو دھاری جیسے

میری حالت تو خراب ھوگئی، کلاس سے نکل کر ایک قریبی پارک میں بیٹھ کر سوچتا رھا اور روتا رھا، سمجھ میں نہیں آرھا تھا کہ گھر جاکر اباجی سے کیا کہوں گا، ان سے تو مجھے بہت ڈر لگتا تھا،!!!!!!

جاری ھے،!!!
--------------------------------------------------------------------------
عبدالرحمن سید آف لائن ہے   یہ اقتباس دیں
ان 3 ارکان نے اس مفید پوسٹ کے لیے عبدالرحمن سید کا شکریہ ادا کیا ہے
پرانا 28-01-10, 06:59 PM   #5
عبدالرحمن سید
-: محسن :-
 
عبدالرحمن سید کی نمائندہ تصویر
 
تاریخ شمولیت: 2007-11-06
قیام: Jeddah, Saudi Arabia.
جنس: male
عمر: 63
پوسٹس: 201
پوائنٹس: 473
عبدالرحمن سید عبدالرحمن سید عبدالرحمن سید عبدالرحمن سید عبدالرحمن سید عبدالرحمن سید عبدالرحمن سید عبدالرحمن سید عبدالرحمن سید عبدالرحمن سید عبدالرحمن سید
عبدالرحمن سید کی طرف بذریعہ MSN  پیغام ارسال کریں عبدالرحمن سید کی طرف بذریعہ yahoo پیغام ارسال کریں
میری اپنی بھولی بسری یادیں،!!! میرا بچپن-5

میری حالت تو خراب ھوگئی، کلاس سے نکل کر ایک قریبی پارک میں بیٹھ کر سوچتا رھا اور روتا رھا، سمجھ میں نہیں آرھا تھا کہ گھر جاکر اباجی سے کیا کہوں گا، ان سے تو مجھے بہت ڈر لگتا تھا،!!!!!!

مجھے بچپن سے ھی اردو میں لکھنے کا بہت شوق تھا، جسکی وجہ خاص طور سے میرا وہ راولپنڈی کا اسکول تھا جہاں پر لکڑی کی تختی پر لکڑی کے قلم سے اردو رسم الخط لکھنے کا فن سکھایا گیا اور ساتھ ھی انگلش اور اسلامی تعلیمات بمعہ قران شریف کا مطالعہ اسکے صحیح تلفظ اور تشریح و ترجمہ کے ساتھ جو اوٌل جماعت سے لے کر جماعت پنجم تک باقاعدگی سے درس و تدریب دی جاتی تھی جو کہ ماہرین اساتذہ کی نگرانی میں تربیت دی گئی، جسکا کہ میں اس تعلیمی ادارہ کا تہہ دل سے مشکور ھوں اور دعا کرتا ھوں کہ ھمارے تمام تعلیمی ادارے بھی اسی طرح کے منظم انتظامیہ کے اصولوں کو اپنایں اور ھماری آنے والی نسلوں کا مستقبل روشن کرنے کی کوشش کریں -

آج کل تو پہلی جماعت سے ھی بچوں کو سستے قسم کے کے بال پین پکڑا دئیے جاتے ھیں جس کی وجہ سے اردو کی لکھائی میں خوشخط نہیں ھوتی اور کوئی اسلامی تعلیم بھی صحیح طریقہ سے نہیں دی جاتی، جب ھمارے بچوں کی بنیادی تعلیم ھی مضبوط نہیں ھو گی تو ھمارے بچے مستقبل کے بہترین معمار کیسے بن سکیں گے -

بعض اوقات ایسا بھی ھوتا ھے کہ جیسے میرے ساتھ ھوا کہ اسکول بدلتے وقت یا نئے داخلے کے وقت اس بات کا خیال نہیں رکھا جاتا کہ اس کا معیار انکے بچے کی تعلیم کیلئے کیسا رھے گا اور نہ ھی والدین اسکول جاکر بچے کی پڑھائی کے بارے میں معلومات کرتے ھیں -

اسی وجہ سے میرے پانچویں جماعت کا ایک پورا سال ضائع ھوا، جس کا اثر میری سیکنڈری اسکول کی تمام تعلیم پر بہت خراب پڑا اور جب اگر ایک اچھی عادت بگڑ جائے تو اسکا سدھارنا بہت مشکل ھوتا ھے - اس زمانے میں زیادہ تر سرکاری تعلیمی ادارے بہت اچھے معیار کے تھے لیکن بدقسمتی سے مجھے تمام سرکاری اسکولوں میں جگہ نہ ھونے کی وجہ داخلہ نہ مل سکا اور مجبوراً والد صاحب نے ایک گورنمنٹ کے ٹاؤن کمیٹی کے سب سے نچلے درجے کے اسکول میں داخل کرادیا، ان کا یہ مقصد تھا کہ میرا سال ضائع نہ ھو، مگر اس ایک سال کی وجہ سے مجھے اسکا خمیازہ اپنی زندگی پر ایسا اثرانداز ھوا کہ میں اپنے تعلیمی معیار کو صحیح مقام نہیں دے سکا اور والد صاحب کی خواھش کے مطابق اپنی اعلیٰ تعلیم کو مکمل نہ کرسکا، وہ چاھتے تھے کہ میں چارٹرڈ اکاونٹنٹ بنوں یا اکاونٹس میں ماسٹر کروں، جوکہ نہ ھوسکا، لیکن شکر ھے اس مالک کا کہ اب تک عزٌت کے ساتھ بات بنی ھوئی ھے جبکہ میں واقعی اس قابل نہیں ھوں -

والد صاحب نے ایک تو اس اسکول میں داخل تو کرادیا لیکن پورا سال خبر نہ لی کہ میں اسکول میں کیا کررھا ھوں، اور دوسرے انکا غصٌہ اتنا شدید تھا کہ کچھ کہنے کی ھمت ھی نہیں ھوتی تھی اور میں ان سے جھوٹ پہ جھوٹ بولتا چلا گیا اور جھوٹ کو نبھانے کیلئے مزید لاکھوں جھوٹ اور ساتھ یہی جھوٹ کی عادت چوری کی شکل میں تبدیل ھوگئی اور بہت سی خراب عادتوں نے بھی جنم لے لیا -

ایک بات کا میں اضافہ کرنا چاھوں گا، کہ یہ اللٌہ تعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکر ھے کہ یہ چوری کی عادت گھر تک ھی محدود رھی، مثلاً جھوٹ بول کر والدہ سے کوئی بھی مجبوری بنا کر پیسے اینٹھ لینا یا گھر کا سودا لاتے وقت سودے میں چھوٹی موٹی ھیرا پھیری سے پیسے بچا لینا،

کیونکہ یہ صرف ایک جھوٹ کئی جھوٹ کو جنم لیتا ھے اور پھر آھستہ آھستہ دوسری ھی غلط ضروریات کی طرف لے جاتا ھے جسے پورا کرنے کیلئے انسان غلط وسائل کی طرف راغب ھو جاتا ھے،!!!!!

میرا مقصد ھماری آئندہ آنے والی نسلوں کے والدین کو بس یہی پیغام پہنچانا ھے کہ وہ کچھ اس سے سبق سیکھیں اور اپنے بچوں کا مستقبل تاریک ھونے سے بچائیں،!!!!!!!!!!!!!!!!!!

ھاں تو کہانی وھیں سے شروع کرتا ھوں جہان پہلے ختم کی تھی،!!!!!!

اکثر لڑکے تو ایک دوسروں کی کاپیاں اور کتابیں بھی چھپا دیتے، میرے ساتھ تو کچھ زیادہ ھی ھوتا تھا اور ایک دن تو ان لڑکوں نے مل کر حد ھی کردی، کہ کلاس ٹیچر نے مجھے کلاس سے یہ کہہ کر نکال دیا کہ اپنے والد کو یہاں لے کر آو تو کلاس میں داخل ھونا ورنہ نہیں،!!!!! کیونکہ میرے پاس وہ مطلوبہ کاپی نہیں تھی، جبکہ مجھے اچھی طرح یاد تھا کہ میں نے تمام ھوم ورک مکمل کرکے اپنے بستے میں ھی رکھی تھی، یقیناً یہ لڑکوں کی ھی شرارت تھی، !!!!!!!!

میری حالت تو خراب ھوگئی، کلاس سے نکل کر ایک قریبی پارک میں بیٹھ کر سوچتا رھا اور روتا رھا، سمجھ میں نہیں آرھا تھا کہ گھر جاکر اباجی سے کیا کہوں گا، ان سے تو مجھے بہت ڈر لگتا تھا،!!!!!!

پارک جو گھر اور اسکول کے قریب تھا، وہ ایک بہت بڑے گول سے چوراھے کے درمیان میں بنا ھوا تھا اور چاروں طرف سے موٹرگاڑیاں، تانگے،سائیکل رکشہ وغیرہ یعنی ھر قسم کی سواریاں اپنی مخصوص آوازوں کے ساتھ چکر لگاتی ھوئی اپنی سمت کی طرف چلی جارھی تھیں -

مگر میں تمام گاڑیوں کے شور شرابے سے بےخبر اپنا بستہ سر کے نیچے دبائے، سبز گھاس پر آنے والی مشکل گھڑی کے بارے میں سوچ رھا تھا کہ اب میں گھر پر کیا کہونگا، کلاس ٹیچر نے تو کلاس سے یہ کہہ کر نکال دیا کہ اپنے والد کو بلا کر لاؤ تو اسکول میں داخل ھوسکتے ھو ورنہ نہیں !!!!!!!!!

کوئی حل سمجھ میں نہیں آرھا تھا، والد کا خوف ھی اتنا تھا کہ کچھ سوچنے کی گنجائش ھی نہیں تھی، اگر کلاس ٹیچر کا پیغام سناتا ھوں تو ابا جی پہلے مجھے مارتے اور پھر اسکول کی طرف رخ کرتے، اور واپسی پر بھی میری زبردست پٹائی ھونے کی پیشین گوئی بھی تھی، والدہ کو کہہ کر میں ان کی مزید پریشانیوں میں اضافہ نہیں کرنا چاھتا تھا، پہلے ھی میں نے انہیں بہت پریشاں کیا ھوا تھا -

سوچتے سوچتے میری آنکھ لگ گئی، ایک دم میری آنکھ کھلی جب مالی نے پانی کے چھیٹے میرے منہ پر مارے، نہ جانے وہ کیا سمجھ بیٹھا تھا، میں گھبرا کے آٹھا تو اس کے جان میں جان آئی، اس نے ھاتھ کے اشاروں سے میری خیریت پوچھی اور اپنے کام پر لگ گیا، اور میں نے اپنے کپڑے وغیرہ اچھی طرح جھاڑے، سورج کے رخ سے وقت کا اندازہ لگایا، اپنے بستہ کو کاندھے پر لٹکایا اور گھر کی طرف خراماں خراماں چلنے کی ناکام سی کوشش کی کیونکہ آج تو اپنے قدم بھی ساتھ نہین دے رھے تھے، ساتھ ساتھ منصوبہ کی پلاننگ بھی کرتا جارھا تھا کہ اگلا قدم کیا ھوگا -

گھر پہنچتے ھی والدہ گھبرا گئیں اور مجھ سے کئی سوال ایک دم پوچھ ڈالے، کہ آج اتنی جلدی کیوں آگئے، طبعیت تو ٹھیک ھے کیا ھوا کیا نہیں ھوا، میری پہلے ھی سے مسکین شکل بنی ھوئی تھی اور پھر میرا فوراً ھی شیطانی دماغ کا سوئچ بھی آن ھو گیا، اور پھر جھوٹ کی پٹاری کھل گئی، جواباً عرض کیا کہ کلاس میں سردی لگ رھی تھی اور بخار چڑھ گیا تھا، اور کچھ چہرے پر غصہ کا لبادہ بھی چڑھا لیا، والدہ کے سامنے تو میں شیر بن جاتا تھا اور ابٌاجی کے سامنے تو بالکل بھیگی بلی کی طرح میاؤں، منہ سے آواز نہین نکلتی، والدہ پریشان ھوگئی اور کچھ گھریلو دوائی دی اور کمبل اڑھا کر لٹا دیا،!!!!!!

لیٹ تو گیا لیکن بہت سخت بھوک لگی ھوئی تھی، والدہ نے بڑے اسرار کے بعد ساگودانے کی کھیر بنا کر دی اور پھر بعد میں کڑوا سا جوشاندہ بھی لے آئی، مجبوراً یہ دن بھی دیکھنا پڑا، والدہ ھماری اباجی کا انتظار کرنے لگی کہ وہ آئیں تو ڈاکٹر کے پاس لےجائیں -
اباجی کی آواز آئی تو میری تو جان ھی جیسے نکل گئی، اب کیا کروں، والد صاحب اکثر دوپہر کے تین بجے تک آتے تھے، کھانا کھا کر کچھ دیر کیلئے سوجاتے پھر شام کو دوسری مصروفیات میں مشغول ھو جاتے، جو آگے چل کر تفصیل سے لکھونگا، جس میں میرا بھی بہت بڑا کردار ھے -

اب کیا کروں خاموش ھی رھا، مجھے کچھ احساس ھوا کہ انہوں نے ڈاکٹر کی طرح نبض ٹٹولی اور والدہ سے کہا، کچھ نہیں ھے طبیعت بالکل صحیح ھے، ایسے ھی ڈرامہ کررھا ھے، اسے کھانا دو، ابھی ٹھیک ھوجائےگا، میری کچھ طبعیت بحال ھوئی کیونکہ بہت سخت بھوک لگ رھی تھی، اور شیطانی دماغ کی مکمل پلاننگ ھو چکی تھی کہ اگلا قدم کیا ھونا چاھئے -

کھانا وغیرہ کھایا اور روز کی طرح کتاب کھول کر پڑھنے بیٹھ گیا تاکہ اباجی کو کسی بات کا احساس نہ ھو، اب مکمل پلاننگ تو ھو چکی تھی وہ یہ کہ روز اسکول کیلئے تیار ھو کر جانا تو ھے لیکن اسکول کے بجائے کہیں اور کا چکر لگاؤں اور اسکول کے واپسی کے وقت گھر آجاؤں، شکر اس بات کا یہ تھا کہ میرے اسکول میں اپنے محلے کا کوئی بچہ نہیں پڑھتا تھا، کہ کہیں سے بھی کسی بات کا پتہ چل سکے،

آگے کیا ھوتا ھے وہ کچھ زیادہ ھی ھولناک ھے، کیا آپ سوچ سکتے ھیں کہ میں پورے دس مہینے تک اسکول کے بجائے کہیں اور گل چھرے اڑاتا رھا، اور اتفاق سے والد صاحب نے ایک دن بھی اسکول میں آکر کوئی بھی خبر نہ لی !!!!!!!!!!!

-----------------------------------------------------------------جاری ھے---------
عبدالرحمن سید آف لائن ہے   یہ اقتباس دیں
ان 3 ارکان نے اس مفید پوسٹ کے لیے عبدالرحمن سید کا شکریہ ادا کیا ہے
پرانا 28-01-10, 07:11 PM   #6
عبدالرحمن سید
-: محسن :-
 
عبدالرحمن سید کی نمائندہ تصویر
 
تاریخ شمولیت: 2007-11-06
قیام: Jeddah, Saudi Arabia.
جنس: male
عمر: 63
پوسٹس: 201
پوائنٹس: 473
عبدالرحمن سید عبدالرحمن سید عبدالرحمن سید عبدالرحمن سید عبدالرحمن سید عبدالرحمن سید عبدالرحمن سید عبدالرحمن سید عبدالرحمن سید عبدالرحمن سید عبدالرحمن سید
عبدالرحمن سید کی طرف بذریعہ MSN  پیغام ارسال کریں عبدالرحمن سید کی طرف بذریعہ yahoo پیغام ارسال کریں
میری اپنی بھولی بسری یادیں،!!! میرا بچپن-6

آگے کیا ھوتا ھے وہ کچھ زیادہ ھی ھولناک ھے، کیا آپ سوچ سکتے ھیں کہ میں پورے دس مہینے تک اسکول کے بجائے کہیں اور گل چھرے اڑاتا رھا، اور اتفاق سے والد صاحب نے ایک دن بھی اسکول میں آکر کوئی بھی خبر نہ لی !!!!!!!!!!!

اس وقت غالباً 1959 میں میری عمر تقریباً نو یا دس سال کے لگ بھگ ھوگی، میں کبھی یہ سوچ بھی نہین سکتا تھا کہ اس طرح کا واقعہ بھی میری اس عمر میں پیش آئے گا، رات بھر میں دوسرے دن کے بارے مین سوچنے لگا کہ کیا کروں اور یہی سوچتے سوچتے سو گیا، سونے سے پہلے میرے کان میں اباجی کچھ باتیں سنائی بھی دیں، جو وہ والدہ سے چپکے چپکے کہہ رھے تھے کہ آج ھمارے لاڈلے کے کچھ رنگ بدلے بدلے سے نظر آتے ھیں، کیونکہ کوئی کسی قسم کی شرارت یا آج کوئی ھنگامہ بھی نہیں ھوا، لگتا ھے کہ نواب صاحب کچھ سدھر گئے ھیں،!!!

انہیں کیا معلوم کے ھم پر کیا قیامت گزر گئی، سدھرنا تو دور کی بات ھے، مجھے اپنی فکر لگ گئی کہ نہ جانے یہ اپنی زندگی کی ڈوبتی ناؤ کہاں تک بہا کر لے جائے گئی، نہ تو کسی کو اپنا رازدار بنایا اور نہ ھی کسی نے مجھ سے پوچھنے کی زحمت گوارہ کی کہ آج بدلے بدلے سے سرکار کیوں نظر آتے ھیں، سب محلے کے بچٌے بھی میرا پوچھ کر چلے گئے آج سارے محلے کےمیرے ھم عمر کے بچے بھی اداس تھے کیونکہ میں ان سب کا لیڈر تھا اور آج پورا دن گھر سے باھر بھی نہیں نکلا تھا اور نہ ھی کسی دوست کے ساتھ بات کی تھی، سب دوست تھک ھار کر اپنے اپنے گھروں میں چلے گئے، گھر پر بھی کچھ کے والدین آئے اور اباجی سے میرے متعلق پوچھا بھی کہ آج میں انہیں نظر نہیں آیا، میں ذرا اپنے ھم عمر کے بچوں میں قدرتی کچھ مقبول تھا کہ وہ میرے بغیر کوئی کھیل کھیلتے نہیں تھے اور نہ ھی کوئی شرارت کا منصوبہ بناتے تھے ، چھوٹا سا محلہ تھا اور سب محلہ کے لوگ ایک دوسرے سے واقف بھی تھے،
جہاں کچھ لوگ میری شرارتوں کی وجہ سے مجھ سے اپنے بچوں کو دور رکھنے کی کوشش کرتے تھے، وھاں کچھ اور ایسی فیملیز بھی تھیں جو مجھے بہت چاھتے بھی تھے، اس زمانے میں مجھے اچھی طرح یاد ھے کہ زیادہ تر لوگ اپنے گھروں کے میں دروازے یا مرکزی دروازے کبھی بھی بند نہیں کرتے تھے، ھم تمام بچے اکثر رات کو آنکھ مچولی جس میں ھمارے ساتھ بڑے بچے بھی شامل ھو جاتے تھے، خوب کھیلتے اور کسی نہ کسی کے گھر میں چھپ جاتے تھے، سب کے گھر کھلے ھوتے تھے، کبھی بھی کسی گھر سے کوئی چیز نہین اٹھائی یا چوری کی خبر کوئی سننے میں آئی اور سب لڑکیاں اور لڑکے مل کر کھیلتے تھے اور کبھی بھی کسی کے دل میں کوئے ایسا ویسا برا خیال نہیں آتا تھا،

سب بڑے بوڑھے الگ میدان میں اپنے اپنے گھروں سے چارپائیاں لاکر بچھاتے اور ساتھ حقہ گڑگڑاتے ھوئے رات گئے تک چوپالوں کی طرح دنیا داری کی باتیں کرتے کبھی سیاست کی اور کبھی اسلام کے موضوع پر بھی بحث شروع ھوجاتی اور عورتیں الگ کسی نہ کسی کے گھر کے صحن میں بیٹھی اپنے معمول کے دکھڑے ایک دوسرے کو سناتی رھتی لیکن یہ ضرور تھا کہ گھر کی بڑی بوڑھی الگ بیٹھی ھوتیں اور ان کی بہویں الگ ساس بہو کے معمول کا رونا دھونا اور ایک دوسرے کی بہوؤں کی شکایات کرتی رھتیں جو ازل سے قائم ھے اور ابد تک رھے گا، دنیا بدل گئی زمانہ کہاں سے کہاں تک پہنچ گیا لیکن ساس بہو کا نازک مسئلہ ابھی تک نہیں بدلا -

اُس وقت لوگوں کے پاس اچھا خاصہ وقت تھا ایک دوسرے کے ھر دکھ درد میں کام آتے تھے، کوئی ناراض ھو جائے تو گھر جاکر ایک دوسرے کی غلط فہمیاں دور کرتے تھے، اور گلے لگاتے تھے اور ایک خاص بات تھی کہ اذان کے ھوتے ھی تمام مرد حضرات جو بھی محلہ میں موجود ھوں، وہاں کی ایک چھوٹی سی مسجد میں چلے جاتے اور ایک ساتھ باجماعت نماز بھی پڑھتے تھے اور پیچھے ھم بچوں کی بھی ایک صف بن جاتی تھی، عورتیں اپنے اپنے گھروں میں اپنی لڑکیوں کو ساتھ لے کر نماز پڑھتیں، اس محلے میں ھر پاکستان کے صوبوں پنجاب، سرحد، بلوچستان اور سندھ کے تقریباً تمام شہروں کے لوگ آباد تھے اور مھاجر بھی تھے، ساتھ ھی کچھ غیر مسلم بھی تھے، لیکن کبھی بھی کسی کا کوئی جھگڑا یا آپس میں اختلاف نہیں دیکھا گیا، سب بہت پیار اور محبت سے رھتے تھے، جو آجکل ایک خواب سا لگتا تھا -

کچھ یکجہتی اور آپس کے خلوص کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ اس زمانے میں کسی کے پاس ریڈیو تک نہیں تھا نہ ھی آج کی طرح کمپیوٹر تھا اور نہ ھی پاکستان میں کوئی ٹیلیویژن اسٹیشن تھا ، اکثر لوگ کبھی کوئی خاص مسلئہ ھو تو ایک نزدیکی ایک ھوٹل میں جاکر کے خبریں سن لیا کرتے تھے، کئی لوگوں کو یہ تک پتہ نہیں تھا کہ مارشل لاء کیا ھوتا ھے (جبکہ ان دنوں جرنل ایوب خان کا مارشل لاء لگا ھوا تھا) - اور کسی کو رات میں کوئی تکلیف یا پریشانی ھو جائے تو سب ایک جگہ جمع ھوکر ایک دوسرے کی مدد کرتے تھے -

‌بات کیا ھو رھی تھی کہاں پہنچ گئی، ھاں تو دوسرے دن حسب معمول اسکول جانے کیلئے والدہ نے اٹھایا، تیار ھو کر ناشتہ وغیرہ سے فارغ ھوا اور بستہ گلے میں لٹکا کر باھر نکلنے سے پہلے والدہ سے اسکول کی فیس جو اس وقت 5 پانچ آنے تھی انہوں نے مجھے 6 چھ آنے ایک رومال میں باندھ کر دئیے، اور کہا سنبھال کر لے جانا گما نہیں دینا، یہ دوسرا مہینہ تھا، پیسے رومال کے ساتھ جیب میں ڈالے اور باھر نکل گیا - والد صاحب تو صبح تڑکے ھی نکل جاتے - ان سے صبح ملاقات نہیں ھوتی تھی ورنہ وہ مجھے پہلے اسکول چھوڑتے، بعد میں دفتر جاتے، جو کہ میرے حق میں بہتر نہ تھا ورنہ ساری پول ھی کھل جاتی-

بہرحال میں بمعہ بستہ، اسکول کی یونیفارم پہنے اسکول کیلئے نکلا، محلے کی چھوٹی چھوٹی گلیوں سے ھوتا ھوا لوگوں سے علیک سلیک کرتا ھوا بڑی سڑک پر آگیا سب دوسرے اسکول کے بچے بھی میرے ساتھ تھے ھر ایک کے مختلف اسکول تھے، میرا اسکول چونکہ کچھ دور تھا، اس لئے میں آخر میں ھی رہ جاتا تھا کیونکہ کوئی بھی ھمارے محلے کا بچہ میرے اسکول میں نہیں پڑھتا تھا، اب کہاں میرا اسکول، وہاں جاتے ھوئے ڈر بھی رہا تھا - کیونکہ ٹیچر نے سختی سے منع کردیا تھا کہ والد کے بغیر اس اسکول میں داخل نہ ھونا ورنہ !!!!!! پتہ نہیں کیا کیا کہا تھا -

اسی ڈر سے فوراً میں نے ایک فیصلہ کرتے ھوئے اپنا راستہ بدل لیا اور ایک چاٹ کے ٹھیلے پر رک گیا، ایک آنے کی اس وقت اسپشل چنے اور دھی بڑے کی چاٹ آتی تھی، آرڈر دیا، اور مزے لے کر کھاتا رھا، آج میں بہت مالدار تھا، کیونکہ میرے پاس چھ 6 آنے تھے، چاٹ کھا کر آگے بس اسٹاپ پر پہنچا وھاں ایک صدر جانے کی بس آئی بس میں چڑھ گیا کنڈکٹر نے ٹکٹ کا پوچھا تو ایک آنہ تھما دیا، اس وقت ایک طرف کا ٹکٹ کم سے کم ایک آنہ تھا یعنی ایک روپے میں 16 مرتبہ آ جا سکتے تھے، ایک جگہ بس رکی جہاں میلہ لگا ھوا تھا، جھولے، سرکس وغیرہ، فوراً بس سے اتر گیا، میں خود حیران تھا کہ یہ میلہ تو شام کو شروع ھوتا ھے آج صبح سے ھی شروع ھوگیا، معلوم ھوا کہ بہت زیادہ رش ھونے کی وجہ سے وقت بڑھا دیا گیا ھے، پہلے تو باھر اسٹیج کے ساتھ کھڑا ناچ گانا دیکھتا رھا، اس سے پہلے بھی والدین کے ساتھ یہاں سرکس دیکھنے آچکا تھا - میرے پاس 4 چار آنے اب بھی بچے ھوئے تھے ، دو 2 آنے کا بچوں کا آدھا ٹکٹ لیا اور سرکس دیکھنے کیلئے اندر ڈرتے ڈرتے گھس گیا ادھر ادھر بھی دیکھ رھا تھا کہ کہیں کوئی جاننے والا تو نہیں ھے، اسی گھبراھٹ میں پورا سرکس دیکھا سب کچھ وھی تھا جو پہلے والدین کے ساتھ دیکھ چکا تھا،

سرکس ختم ھوا تو فوراً میں نے واپسی کا سوچا اسی نمبر کی بس میں واپس ھوا اور اپنے اسٹاپ پر اتر گیا، ایک آنہ اور ختم ھوگیا باقی ایک آنہ اب بھی بچہ ھوا تھا سوچا کہ یہ کل کام آئے گا اور جلدی جلدی گھر کی طرف میں قدم بڑھا رھا تھا، کیونکہ اسکول کا وقت بھی ختم ھونے والا تھا!!!!!!!!!

جاری ھے،!!!!!
عبدالرحمن سید آف لائن ہے   یہ اقتباس دیں
ان 2 ارکان نے اس مفید پوسٹ کے لیے عبدالرحمن سید کا شکریہ ادا کیا ہے
پرانا 28-01-10, 07:24 PM   #7
عبدالرحمن سید
-: محسن :-
 
عبدالرحمن سید کی نمائندہ تصویر
 
تاریخ شمولیت: 2007-11-06
قیام: Jeddah, Saudi Arabia.
جنس: male
عمر: 63
پوسٹس: 201
پوائنٹس: 473
عبدالرحمن سید عبدالرحمن سید عبدالرحمن سید عبدالرحمن سید عبدالرحمن سید عبدالرحمن سید عبدالرحمن سید عبدالرحمن سید عبدالرحمن سید عبدالرحمن سید عبدالرحمن سید
عبدالرحمن سید کی طرف بذریعہ MSN  پیغام ارسال کریں عبدالرحمن سید کی طرف بذریعہ yahoo پیغام ارسال کریں
میری اپنی بھولی بسری یادیں،!!! میرا بچپن-7

سرکس ختم ھوا تو فوراً میں نے واپسی کا سوچا اسی نمبر کی بس میں واپس ھوا اور اپنے اسٹاپ پر اتر گیا، ایک آنہ اور ختم ھوگیا باقی ایک آنہ اب بھی بچہ ھوا تھا سوچا کہ یہ کل کام آئے گا اور جلدی جلدی گھر کی طرف میں قدم بڑھا رھا تھا، کیونکہ اسکول کا وقت بھی ختم ھونے والا تھا!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!

جلدی جلدی قدم بڑھاتا ھوا گھر پہنچا، اور وقت پر گھر پہنچ کر سکون کا سانس لیا، لیکن میں ایک عجیب کشمکش میں مبتلا تھا کہ آگے کیا ھوگا، کب تک میں اسکول سے بھاگتا رھوں گا، یہ بھی مجھے علم تھا کہ آخر ایک نہ ایک دن تو پکڑا ھی جاؤں گا، مگر کیا کرتا والد کا ڈر دل میں ایسا بیٹھا ھوا تھا کہ ھمت ھی نہیں پڑی کہ ان سے کسی بھی معاملے میں کوئی شکایت یا کوئی رائے دے سکوں -

اسی طرح روز ھی گھر سے بستہ گلے میں ڈال کر نکلتا، سب سے روز کی طرح سلام اور دعائیں لیتا ھوا، اور راستہ ھی میں سوچ کر کسی نہ معلوم منزل کی طرف روانہ ھو جاتا، کبھی سمندر کے کنارے، کبھی بسوں اور ٹراموں میں سفر کرتا ھوا مختلف جگہوں کی سیر کرتا رھا، اس ظرح تقریباً تمام کراچی کی مشہور جگہوں سے بھی واقف ھو چکا تھا، اور ویسے بھی اس وقت کراچی اتنا بڑا نہیں تھا، کئی دفعہ دیر بھی ھوئی، والدہ سے ڈانٹ بھی کھائی، لیکن کوشش یہی رھتی تھی کہ اباجی کے آنے سے پہلے پہلے گھر واپس پہنچ جاؤں -

اب روز بروز فکر بھی لگی رھتی تھی کہ اگر کسی بھی وقت اباجی کو پتہ چل گیا تو قیامت آجائے گی، اسکے علاوہ روز مجھے جھوٹ بول کر والدہ سے کچھ پیسے اینٹھ لیا کرتا تھا کہ آج فلاں فنکشن ھے ٹیچر نے چندہ منگوایا ھے، کبھی پکنک کے بہانے سے، کبھی کتابیں اور کاپیاں کبھی پنسل اور ربڑ کبھی اور ماہانہ فیس میں تو میں نے خود ھی اضافہ بھی کردیا تھا، اسکول کی ضرورتوں کا بہانہ کرکے کچھ نہ کچھ والدہ سے وصول کرلیتا تھا جسکی بعد میں والد صاحب سے رضامندی بھی مل جاتی تھی،کیونکہ والد صاحب یہی سمجھتے تھے کہ میں بہت شوق سے پڑھ رھا ھوں!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!

ایسا لگتا تھا کہ جیسے میں ایک دلدل میں پھنستا چلاجارھا ھوں، ایک دن یا دو دن کی بات تو تھی نہیں، ھر روز جھوٹ پہ جھوٹ کا اضافہ ھوتا جارھا تھا، لکن کمال کی بات تھی کہ میں نے گھر پر کسی کو کسی قسم کا شک بھی نہیں ھونے دیا،اور گھر پر وہی تاثر کہ معمول کے مطابق اسکول کا کام گھر پر کرنا، کتابیں پڑھنا، جس سے والد صاحب کو تسلی رھتی تھی،

یونہی سلسلہ چلتا رھا، اور میں نے اس دوران پورے شھر کو اچھی طرح کھنگال بھی لیا، جسکا مجھے بعد میں مالی فائدہ بھی ھوا، مجھے یہ مکمل طور پر پتہ چل گیا تھا کہ کون سی چیز کہاں ملتی ھے اور کون کون سی مشہور عمارتیں، بازار، اور گھومنے پھرنے کی جگہ کہاں کہاں پر ھیں، اور میری عادت اتنی بگڑ چکی تھی کہ میں تو اب بغیر گھومنے پھرنے کے رہ بھی نہیں سکتا تھا، ایک اور شوق سینما دیکھنے کا بھی لگا لیا تھا، مگر اس کے لئے خاص طور سے کوئی بہانہ کرنا پڑتا تھا، کہ آج اسکول میں فنکشن ھے یا اسکول پکنک پر جارھا ھے وغیرہ وغیرہ !!

اس زمانے میں سنیما کا ٹکٹ چار آنے سے لے کر ایک روپے تک ھوتا تھا اور بلیک اینڈ وہائٹ انڈین اور پاکستانی فلمیں دکھائی جاتیں تھیں اور فلموں کا معیار بھی بہت اچھا تھا، لیکن عموماً بچوں کا فلمیں دیکھنا بہت ھی بُرا سمجھا جاتا تھا، اس وقت عام اوسط طبقہ کی تنخواھیں بھی 50روپے سے لے کر زیادہ سے زیادہ 150روپے ھوا کرتی تھی، اور لوگ بہت خوش تھے اور اچھی طرح گزارہ بھی کرلیتے تھے، ھمارے والد صاحب کی تنخواہ بھی تقریباً 125 روپے تھی، اس میں سے بھی اس وقت کچھ پیسے وغیرہ لوگ جمع ھر مہینے جمع کرلیتے تھے، اس زمانے میں لوگ پوسٹ آفس کے سیونگ اکاونٹ میں پیسہ جمع کراتے تھے، اس کی خاص وجہ ھمارا رھن سہن تھا جو کہ بہت سادہ تھا، عام طور سے لوگ مٹکوں کا پانی پیا کرتے، گھر میں لکڑی کے چولہوں پر اور مٹی کی ھانڈیوں میں کھانا پکتا تھا، پانی ھم لوگ دور سے بھر کر لاتے تھے یا ماشکی کمر کے پیچھے چمڑے کی مشکیزہ اٹھائے چار آنے میں بیچتے تھے - اور جلانے کی لکڑی ٹال والے دو روپے فی من کے حساب سے گھر پہنچا کر جاتے تھے - گرمیوں میں ھاتھوں کے بنے پنکھوں سے اپنا پسینہ خشک کرتے اور صحن میں مچھردانی لگا کر سوتے تھے-

اس بات سے ھم یہ خوب اچھے طرح اندازہ لگا سکتے ھیں کہ اس وقت دودھ کی قیمت 6 آنے سیر ، بڑے گوشت کی قیمت ایک روپے اور چھوٹے گوشت کی قیمت دو سے ڈھائی روپے سیر ھوتی تھی اور چھوٹے بکرے کا گوشت بہت ھی کم کھایا جاتا تھا، مرغی بھی بہت سستی تھی یعن تقریباً شاید دو یا ڈھائی روپے سے زیادہ کی نہیں ھوگی

اسکے علاوہ میرا اسکول کا یونیفارم پانچ روپے سے لیکر زیادہ سے زیادہ دس روپے کا آتا تھا، اور والد صاحب صرف سال میں شاید دو دفعہ سے زیادہ نئے کپڑے نہیں بنائے وہ بھی عید یا بقرعید پر بس، اور سال بھر وھی کپڑے چلتے تھے، اس سے ھم اپنی اس وقت کی سادہ سی پرسکون زندگی کے بارے میں اندازہ لگا سکتے ھیں کہ کم وسائل، کم ضرورتیں، اور محدود خواھشات میں کتنی خوشیاں پوشیدہ تھیں!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!

بات پھر کہاں سے کہاں نکل گئی، معذرت چاھتا ھوں،

میں اس لئے بار بار ساتھ چند ایک ایسے حوالے بھی دیتا ھوں تاکہ لوگ میرے متعلق کوئی غلط رائے نہ قائم کرلیں، جبکہ اس کہانی سے چاھے کوئی بھی ھو منفی انداز میں سوچ سکتا ھے، میرا ایک مقصد یہ بھی ھے کہ ھم اپنی آنے والی نسلوں کی تربیت کیلئے ان تحریروں سے کچھ حاصل کرسکیں -

شاید ھی کوئی اس بات پر یقیں کرے، کہ میرے بچپن کے حالات نے ایسا ایک الگ ھی رُخ موڑا کہ صرف وھی میری یہ حقیقت کو مان سکتے ھیں جو اس وقت میرے ساتھ تھے، اگر وہ اسے پڑھیں تو شاید انہیں یاد بھی آجائے- اس محلے میں اب تک وہ پرانے میرے ساتھ کے چند لوگ اب تک موجود بھی ھیں، جو میری اس حقیقت کو جانتے بھی ھیں اور جب بھی میں وھاں جاتا ھوں تو بہت گرمجوشی سے ملتے ھیں اور ھم پرانی باتوں کو یاد بھی کرتے ھیں، زیادہ تر لوگ اس محلے کو چھوڑ کر یا تو باھر چلے گئے ھیں یا پھر کہیں دوسری جگہ شفٹ ھو گئے ھیں،

لیکن مجھے امید ھے کوئی نہ کوئی تو ضرور پڑھ رھا ھوگا، کچھ رشتہ داروں نے تو پڑھنا بھی شروع کردیا ھے، اور انہیں میرے ان کارناموں پر بہت حیرت بھی ھے، کہ کوئی ایسا بھی دنیا میں موجود ھے جس نے اپنی زندگی کے ھر اچھے اور برے پہلو کو لوگوں کے سامنے ایک کھلی کتاب کی طرح رکھ دیا ھے -

بات ھو رھی تھی کہ میں روز بہ روز ایک جھوٹ کی وجہ سے مشکلات میں دھنستا چلا جارھا تھا، اور اس جھوٹ کو نبھانے کیلئے، مزید جھوٹ پہ جھوٹ بولتا چلا جارھا تھا، والدین بالکل اس بات سے بے خبر مطمئن بیٹھے تھے، اور میں ان کی اس اطمنان ھی کی وجہ سے غلط راستہ اختیار کئے ھوئے تھا، کیونکہ والد کا خوف اتنا تھا کہ یہ سچ کہنے کے قابل نہیں تھا کہ کلاس ٹیچر نے اسکول سے نکال دیا ھے اور بغیر اباجی کے اسکول میں داخل نہیں ھونے دیں گے جبکہ میں بالکل بے قصور تھا یہ سب دوسرے لڑکے جو مجھے نہیں چاھتے تھے، اور ان سب کی یہی کوشش رھی کہ میں بس ٹیچر کا پسندیدہ اسٹوڈنٹ نہ بنوں اور وہ سب مل کر مجھے اپنی کی ھوئی شرارت میرے نام کردیتے تھے اور اس طرح مجھے اسکول سے وہ سب نکالنے میں کامیاب بھی ھوگئے اور یہ بات میں اپنے والد سے بالکل نہیں کہہ سکا اور ان مشکلات میں پھنس گیا -

اب تو روز کی ایک عادت سی ھو گئی تھی، گھر سے اسکول کے لئے نکلنا، کچھ نہ کچھ کوئی نہ کوئی بہانہ کرکے والدہ سے پیسے لےلینا روز کا معمول بن چکا تھا، کیونکہ راستہ کے خرچے جو پورے کرنے تھے، ھر رات دوسرے دن کا منصوبہ تیار کرنا اور صبح ھوتے ھی نئی منزل کی طرف روانہ ھوجاتا تھا، کبھی کبھی تو میرے پاس پیسے بھی نہیں ھوتے تھے مگر یہ شیطانی دماغ کوئی نہ کوئی چکر ضرور چلالیتا، کئی دفعہ بس میں اگر کسی کنڈکٹر نے ٹکٹ کا پوچھتا تو فوراً معصوم شکل بنا کر کہتا کہ لیڈیز میں اماں کے پاس ھے، کئی شریف تو یقین کرلیتے لیکن کچھ تو کیکر کے کانٹے سے بھی زیادہ تیز نکلتے وہ تو فوراً تصدیق کیلئے لیڈیز میں چلے جاتے، میں تو ھر وقت، ھر موقع کیلئے بالکل تیار رہتا، فوراً اس سے پہلے کہ کنڈکٹر واپس آئے میں پچھلے گیٹ سے رفوچکر، بعض دفعہ تو میں چلتی بس سے چھلانگ بھی لگا لیتا تھا اگر بس کی رفتار کم ھوتی جب ورنہ نہیں ، اب تو عادت سی ھوگئی تھی چلتی بس میں چڑھنے اور اترنے کی، کئی دفعہ تو کنڈکٹر کو میں سچ ھی بتا دیتا، کئی شریف ھوتے تو چھوڑ دیتے مگر کئی کیکر کے بیج ھوتے جو بس سے ھی اتار دیتے تھے،

مجھے بھی کافی اندازہ ھوگیا تھا کہ کون سی بس میں کونسا کنڈکٹر ھے اس لئے مین خود بھی احتیاط کرتا تھا کہ کسی خرانٹ کنڈکٹر کے دوبارہ ھتٌے نہ چڑھ جاؤں، ایک دفعہ ایک بس کے کنڈکٹر نے مجھے پکڑ لیا اور ساتھ ایک پولیس والے کے حوالے بھی کردیا یہہ کھ کر کہ یہ لڑکا اسکول سے بھاگا ھوا ھے، بس اپنی تو جان ھی نکل گئی، بڑی منت سماجت کی لیکن اس پولیس والے نے نہیں چھوڑا، مجھے لئے لئے پھرتا رھا اور ٹھیلے والوں سے بھتہ بھی وصول کرتا رھا، اور پھل وغیرہ بھی سمیٹتا رھا، اور مجھے بالکل خاموش رھنے کیلئے کہا، لوگ شاید مجھے اسکا بیٹا سمجھ رھے تھے اور مجھے بھی پیار سے لوگ شاید پولیس والے کے خوف سے یا شاید ترس کھا کر کوئی نہ کوئی چیز کھانے کیلئے دے رھے تھے، میرے تو اور مزے آگئے مگر ساتھ گھبراہٹ بھی تھی کہ اگر یہ واقعی مجھے میرے گھر لے گیا تو میری تو شامت ھی آجائے گی، کافی اس سے جان چھڑانے کی کوشش کی لیکن اس نے تو میرا ھاتھ بہت مضبوطی سے پکڑا ھوا تھا کہ چھڑانا میرے بس کی بات نہیں، اس نے مجھے بھی دھمکی دی تھی کہ ایک روپے کا نوٹ اپنے گھر سے دلادے ورنہ تھانے میں بند کردونگا،!!!!!

ارے بھئی کس مشکل میں جان اٹک گئی، آخر ایک بیت الخلا نظر آیا، مین نے موقع جان کر رفع حاجت کی درخواست کی، اس نے اجازت دے دی اور کہا فوراً جلدی سے فارغ ھوکر آؤ، اور وہ گیٹ پر کھڑا ھوکر وھاں کے خاکروب سے بھی کچھ اینٹھنے کے چکر میں لگ گیا کیونکہ وہاں لوگ کچھ نہ کچھ پیسے خاکروب کو دیتے رہتے تھے، اور خاکروب پولیس والے کو ایک دوسرے کونے مین لے گیا شاید بھتہ دینے کے چکر میں، میں یہ سب اندر راہداری سے سب کچھ دیکھ رہا تھا، موقع کو غنیمت جانا اور چپکے سے نکل لیا اور آگے تھوڑا جاکر سرپٹ دوڑنا شروع کردیا کافی دور جاکر پیچھے دیکھ کر یہ اطمنان کر لیا کہ پولیس والا تو کہیں پیچھے نہیں آرھا، پھر سکون کا سانس لیا اور جب کچھ سانسیں بحال ھوئی تو میں یہ سوچنے لگا کہ یہ پولیس والے تو بھنگیوں کو بھی نہیں بخشتے تو دوسروں کو کہاں چھوڑتے ھونگے !!!!!!!!!!!!!!!

اسکے بعد میں نے اس راستہ پر جانا ھی چھوڑدیا اور ساتھ اپنا بستہ بھی کہیں نہ کہیں چھپا کر جاتا تھا کہ کہیں دوبارہ پھر سے اس پولیس والے سے ٹاکرا ھی نہ ھوجائے اور دوسرا راستہ اختیار کرلیا کہ اس اسٹاپ کے بجائے اب میں نے کینٹ اسٹیشن کی طرف جانا شروع کردیا جو کچھ فاصلہ پر تھا، وہاں بس کے بجائے ٹرام میں سفر کرنے لگا، مگر میں جب بھی کسی پولیس والے کو دیکھتا تھا تو میری جان ھی نکل جاتی کیونکہ تمام پولیس والے مجھے ایک جیسے ھی لگتے تھے!!!!

جاری ھے،!!!!!
--------------------------------------------------------------------------
عبدالرحمن سید آف لائن ہے   یہ اقتباس دیں
ان 2 ارکان نے اس مفید پوسٹ کے لیے عبدالرحمن سید کا شکریہ ادا کیا ہے
پرانا 28-01-10, 07:34 PM   #8
عبدالرحمن سید
-: محسن :-
 
عبدالرحمن سید کی نمائندہ تصویر
 
تاریخ شمولیت: 2007-11-06
قیام: Jeddah, Saudi Arabia.
جنس: male
عمر: 63
پوسٹس: 201
پوائنٹس: 473
عبدالرحمن سید عبدالرحمن سید عبدالرحمن سید عبدالرحمن سید عبدالرحمن سید عبدالرحمن سید عبدالرحمن سید عبدالرحمن سید عبدالرحمن سید عبدالرحمن سید عبدالرحمن سید
عبدالرحمن سید کی طرف بذریعہ MSN  پیغام ارسال کریں عبدالرحمن سید کی طرف بذریعہ yahoo پیغام ارسال کریں
میری اپنی بھولی بسری یادیں،!!! میرا بچپن-8

اسکے بعد میں نے اس راستہ پر جانا ھی چھوڑدیا اور ساتھ اپنا بستہ بھی کہیں نہ کہیں چھپا کر جاتا تھا کہ کہین دوبارہ پھر سے اس پولیس والے سے ٹاکرا ھی نہ ھوجائے اور دوسرا راستہ اختیار کرلیا کہ اس اسٹاپ کے بجائے اب میں نے کینٹ اسٹیشن کی طرف جانا شروع کردیا جو کچھ فاصلہ پر تھا، وہاں بس کے بجائے ٹرام میں سفر کرنے لگا، مگر میں جب بھی کسی پولیس والے کو دیکھتا تھا تو میری جان ھی نکل جاتی کیونکہ تمام پولیس والے مجھے ایک جیسے ھی لگتے تھے -!!!!!!!

اس وقت اسٹوڈنٹ سفری کارڈ کی سہولت نہیں تھی ورنہ میری سفر کی رینج اور کافی حد تک آگے بڑھ جاتی - اگر میرے پاس اس وقت چار آنے یعنی اُس وقت کے 16 پیسے اور اب کے 25 پیسے ھوتے تھے تو میں پورے کراچی کے شہر کا چکر لگا سکتا تھا اور اگر ایک آنہ مزید ھوتا تو ایک چھوٹا موٹا لنچ کسی بھی تندور والے ڈھابے پر کرسکتا تھا اور اگر لنچ نہ بھی کرتا تو کم از کم اپنے مطلب کی چار چیزیں چاٹ، چورن اور ٹافی وغیرہ ایک پیسے کی ایک، سے گزارا ضرور کر لیتا -

اسکول کے جیب خرچ کے لئے اس وقت ھمیں دو پیسے مشکل سے روزانہ ملتے تھے، اگر ایک آنہ مل جاتا تو ھم خوشی سے پھولے نہیں سماتے تھے اور دوسرے بچوں کو وہ ایک آنہ دکھا کر شو بھگارتے تھے، اور عید بقر عید پر اگر کوئی مہمان اگر عیدی دے تو وہ فی کس دو آنے یا چار آنے سے زیادہ کوئی نہیں دیتا تھا، لیکن وہ بھی والدہ ھم سے واپس لے لیتی تھیں، اسکے بدلے میں صرف ایک آنہ ملتا تھا، اسی میں ھم بچے اس وقت خوش رھتے تھے-

اس وقت کی زندگی میں ایک سکون تھا، ھر کوئی خوش اور مطمئن تھا، کم آمدنی تھی کم خرچہ تھا، پورے سال نئے کپڑے بنے یا نہ بنے لیکن عید کے لئے والدین اپنے بچوں کو نئے کپڑ ے ضرور بنواتے تھے، پورا سال ھم تمام بچے رمضان کی عید اور بقر عید کا بے چینی سے انتظار کرتے تھے، کیونکہ ھم سب بچوں کو نئے کپڑوں کے ساتھ عیدی اور اس کے علاوہ اس دن کچھ آزادی بھی ملتی تھی، اس عید کے دن ھم بچے ایک دوسرے کو اپنے نئے کپڑے دکھاتے پھرتے ھر گھر میں گروپ کی شکل میں بھاگتے پھرتے، بڑے بزرگوں کی دعائیں لیتے، پورا محلہ بچوں کی وجہ سے ایک رونق میلہ کی طرح جگمگا رھا ھوتا، جیسے کسی شادی کا سماں ھو -!!!!

عیدالفطر کے دن ایک دوسرے کے گھروں میں مختلف قسم کی شیرینیاں تقسیم ھوتیں، سیویاں، شیر قورمہ۔ حلوہ جات وغیرہ، اور ساتھ مہمانوں کی ایک دوسرے کے گھر آمد، لوگ مہمانوں کے آنے سے خوش ھوتے تھے اور کافی خاطر مدارات کرتے تھے، اسی طرح بقر عید پر بھی ھوتا تھا فرق صرف اتنا ھوتا کہ مٹھائیوں کے بجائے گوشت گھروں میں تقسیم ھورھا ھوتا، تقریباً ھر محلہ میں جھولے والے، مداری اور دوسرے کھلونے بیچنے والے آجاتے، جس سے محلے کی رونقیں دوبالا ھوجاتیں-!!!!!

ھر گھر میں لوگ اپنے چھوٹے سے صحن میں کیاریاں ضرور لگاتے اور کوئی نہ کوئی جانور یا پرندے پالنے کا بھی بہت شوق تھا ، کچھ تو کبوتربازی کا بھی شوق رکھتے تھے اپنی نازک اور کمزور چھتوں پر اس شوق کو پروان چڑھاتے تھے، ساتھ ڈانٹ بھی پڑ رھی ھوتی تھی -

غرض کہ اس وقت یہ چھوٹی چھوٹی خوشیاں ھم سب کو میسر تھی، اکثر جھگڑا بھی ھوتا تھا کبھی کبھی زیادہ بھی ھوجاتا تھا، گالیوں تک کی نوبت آجاتی تھی لیکن یہ بھی ایک اپنی زندگی کا حصہ تھی، اسکے بغیر بھی زندگی پھیکی لگتی، مگر لوگ فوراً مل جل کر پھر سے ایک دوسرے کو گلے لگاتے اور پھر وھی خوشیاں چہکنے لگتیں، بچے بھی لڑتے شرارتیں کرتیں لیکن بچوں کی وجہ سے والدین یا انکے بڑے کبھی ایک دوسرے سے جھگڑا نہیں کرتے تھے بلکہ اپنے اپنے بچوں کو پیار سے مناتے اور دوسرے بچوں کو بلا کر آپس میں صلح بھی کرادیتے تھے -

میں بھی اسی رونق کا حصہ تھا اور محلے کا ھر فرد دوسرے بچوں کی طرح مجھے بھی پیار بہت کرتے تھے، بلکہ اپنے بچوں کو میری مثال دے کر ڈانٹتے تھے کہ دیکھو وہ بھی تو بچہ ھے اسکول روزانہ جاتا ھے اور کتنے اچھے نمبر لاتا ھے، کیونکہ میں نے ھر ماھانہ ٹیسٹ اور سہہ ماھی، ششماہی امتحانات کو یقینی بنانے کیلئے اپنی طرف سے بازار سے سادہ رزلٹ کارڈ خرید کر ساتھ باھر ھی اپنے ھاتھ سے ھر مضمون میں اچھے نمبر لگاکر اچھی پوزیشن لکھ کر ساتھ ھی اپنی طرف سے کلاس ٹیچر اور ہیڈ ماسٹر کے دستخط کرکے والدہ کو پہلے دکھاتا تو وہ بہت خوش ھوتیں اور پھر والد کو دکھاتیں، میں چھپ کر سنتا کہ کیا بات ھورھی ھے کہیں والد کو شک تو نہیں ھوا مگر کمال ھے اپنی ھنرمندی کی کہ ھر مضمون میں مختلف نمبر لکھتا بلکہ ایک دو مضمون میں نمبر کم بھی کردیتا اور ساتھ لکھتا کہ ( اس مضمون میں سخت محنت کی ضرورت ھے) جسکی ڈانٹ ابا جی سے مجھے پڑتی بھی لیکن اس وعدہ پر جان چھوٹ جاتی کہ اگلی دفعہ اچھے نمبر لاؤنگا اور واقعی اس وعدہ کو پورا بھی کرلیتا اور یہ سب کچھ میرے ھی ھاتھ میں تھا، کیونکہ اسکول بھی میں،!!! اسٹوڈنٹ بھی میں،!!! ھیڈماسٹر بھی میں!!! اور استاد بھی میں،!!!! اور سب سے بڑھ کر استادوں کا استاد بھی میں،!!!!!!

تعجب اس بات کا تھا کہ والد صاحب کو کبھی شک بھی نہیں ھوا کہ اسکول کی مہر کہاں ھے اور لکھائی بھی میری وہ پہچان نہیں سکے، جبکہ وہ یہ کہتے بھی تھے کہ میں تمھارے اسکول تمہارے ٹیچر کا شکریہ ادا کرنے ضرور آؤنگا، مگر میں گھبرا جاتا اور دعا کرتا کہ وہ اسکول کبھی نہ آئیں، یہ سوچ کر میری جان ھی نکل جاتی-

لیکن اس وعدہ پر جان چھوٹ جاتی کہ اگلی دفعہ اچھے نمبر لاؤنگا اور واقعی اس وعدہ کو پورا بھی کرلیتا،!!!!!

میں نے تو اسکول کے بہانے کہیں اور ھی رونق لگائی ھوئی تھی، اور محلے میں کسی کو بھی اس بات کی خبر نہ تھی کہ میں باھر کیا گل کھلا رھا ھوں جبکہ مجھے اس کا انجام کا پتہ تھا کہ جس دن کسی نے دیکھ لیا اور اباجی کو پتہ چل گیا تو میرا حشر کیا وہ کریں گے اس کا اندازہ میں جانتا تھا، مگر بکرے کی ماں کب تک خیر منائے گی، اتفاق یہ دیکھیں کہ جب سالانہ امتحان کے نتیجہ کا وقت آیا تو ابا جی کو شک ھوا اور انہوں نے خاموشی سے جاکر اسکول میں معلومات حاصل کی، انہیں وہاں کیا ملتا، وہاں تو میرا نام و نشان ھی نہ تھا !!!

نہ جانے اسکول کا ایک پورے سال کا پانچویں کلاس کا مکمل سیشن اتنی جلدی کیسے گزر گیا کہ پتہ ھی نہ چلا، اب وہ وقت سامنے تھا کہ کبھی بھی کچھ بھی میرے لئے ایک خطرناک صورتحال پیش آسکتی تھی -
اب تو روز بروز میری پریشانیوں میں اضافہ ھوتا چلا جارھا تھا کہ نہ جانے کس وقت میرا سارا بھانڈا پھوٹ جائے، سالانہ امتحانات ختم ھوچکے تھے، میں نے بھی جعلی طریقوں سے پچھلے سہ ماھی اور ششماھی امتحانات کی طرح یہ سالانہ امتحانات بھی دے چکا تھا، اس وقت امتحانات کے پیپر سائکلواسٹایئل کی مشین سے پرنٹ ھوتے تھے، بس ایک دفعہ سائکلواسٹائل پیپر کو ٹائپ کرکے مشین میں ڈالدیں اور اپنے حساب سے جتنی بھی کاپی چاھئے، نکال سکتے تھے- اور اکثر بک اسٹالز پر پرانے امتحانات کے پیپرز وغیرہ پریکٹس کےلئے ملتے تھے،

اسی کا میں نے فائدہ اٹھایا، اور انہیں مختلف مضامیں کے پیپرز کر خرید کر اسکے پرانے سال کو احتیاط کے ساتھ کالی سیاھی سے نئے سال میں تبدیل کرکے اور لڑکوں سے مکمل امتحانات کا ٹائم ٹیبل پوچھ کر باقائدہ تمام امتحانات ایک پارک میں بیٹھ کردیئے اور ساتھ ھی انکے نمبرز بھی خود دیئے اور بعد میں وھی نمبر بازار سے سادہ کارڈ پر لکھ کر گھر پر دکھاتا رھا، ابا جی نے بھی کوئی شک نہ کیا، جبکہ اگر وہ کسی کو دکھاتے یا تھوڑا سا بھی دماغ پر زور ڈالتے، تو انہیں معلوم ھو جاتا، وہ باقائدہ ان پیپرز کا دوبارہ مجھ سے ھر سوال کا جواب چیک کرتے رھے، جسکی میں پہلے ھی سے تیاری کرلیتا تھا اور مطمئین ھوجاتے، اسکے علاوہ وہ تمام محلے کے لوگوں سے بھی میری بہت تعریف کرتے رھتے، ساتھ ھی انہیں مجھ جیسی اولاد پر فخر بھی تھا، اور دوسری طرف میں انکے بھروسے اور انکے خوابوں کی تعبیر کو چکنا چور کرتا چلاجارھا تھا !!!!!!!!!!!!!!!

آخر وہ دن آھی گیا جس کا ڈر تھا، میرے سالانہ امتحان کے رزلٹ کارڈ بنانے سے پہلے ھی والد صاحب اچانک اسکول پہنچ گئے، وہاں پہنچ کر پانچویں کلاس میں پہلے مجھے ڈھونڈتے رھے، میں ھوتا تو ملتا، کسی کو بھی میرے بارے میں معلوم نہیں تھا، پھر سیدھا ہیڈ ماسٹر کے کمرے میں پہنچ گئے، اور وہ بھی سیدھا دفتر سے اپنی فوجی وردی میں پہنچے، ہیڈ ماسٹر بھی گھبرا گئے کیونکہ اس وقت مارشل لا کا دور چل رھا تھا، یہ ساری تفصیل کا علم مجھے بعد میں اپنے والد کی زبانی ھی معلوم ھوا، وہ جب تک فوج سے ریٹائر نہیں ھوئے اس واقعہ کا ذکر بار بار کرتے رھے، جب تک کہ میرے سدھرنے کا انکو مکمل یقین نہیں ھوگیا -

ھیڈماسٹر نے فوراً کلاس ٹیچر کو اپنے کمرے میں بلوایا اور تمام تفصیل بتائی، تمام رکارڈ پانچویں کلاس کا طلب کیا، تمام تحقیق کے بعد والد صاحب کو بتایا گیا کہ جناب آپ کے صاحبزادے کا تو داخلے کے ایک مہینے بعد ھی غیرحاضری اور نامناسب رویہ کی وجہ سے اسکول سے نام خارج کردیا گیا تھا اور تعجب ھے کہ آج اتنے عرصہ کے بعد اپنے بچے کی خیریت معلوم کرنے آئے ھیں، جبکہ سالانہ امتحان کے نتیجہ کو بھی نکلے ھوئے بھی ایک ہفتہ سے زیادہ گزر چکا ھے، بہت افسوس کی بات ھے اور نہ جانے انہیں کیا کیا کہتے رھے، اور میں نے شاید دو دن کے بعد کا کہا تھا کہ پرسوں تک نتیجہ نکلے گا -
وہ اس وقت ساری روداد ھیڈماسٹر اور کلاس ٹیچر کی زبانی سنتے رھے اور اندر ھی اندر غصہ کو برداشت کرتے رھے، اور ان سے کہا کہ میں اسی وقت اسے ڈھونڈ کر لاتا ھوں اور آپ اسے میرے سامنے یہ تمام تفصیل بتائیے گا، وھاں سے سیدھا وہ گھر پر آئے، اور اتفاق سے میں کچھ ناساز طبیعت کا بہانہ کرکے گھر پر ھی موجود تھا، والد صاحب گھر پر پہنچے اور حسب معمول میں نے کوئی خاص تاثر نہیں لیا کیونکہ کبھی کبھی دفتر سے گھر کسی کام سے آکر واپس چلے جاتے تھے، ویسے میری چھٹی حس مجھے خبردار کررھی تھی کہ بیٹا آج چھری کے نیچے آئے ھی آئے، بہت خیر منالی -

والد صاحب نے واقعی نہ جانے کس طرح اپنے غصٌہ کو قابو میں کیا ھوا تھا، بالکل بھی یہ محسوس نہیں ھونے دیا کہ ان پر کیا بیت رھی ھے، میرے پاس بڑے پیار سے آئے اور کہنے لگے کہ کیوں بیٹا آج اسکول نہیں گئے، میں نے بھی جواباً کہا کہ اباجی آج کچھ طبعیت ٹھیک نہیں ھے اور ویسے بھی آج کل سالانہ رزلٹ کی تیاری کی وجہ سے بھی کوئی پڑھائی نہیں ھو رھی، اباجی نے بڑے اطمناں سے جواب دیا کوئی بات نہیں، چلو ذرا میرے ساتھ بازار، کچھ تمہیں گھر کا سودا دلادوں، پھر میں واپس دفتر چلا جاؤنگا،

میں نے کپڑے تبدیل کئے اور ان کے ساتھ چل پڑا، لیکن راستہ میں یہی سوچ رھا تھا کہ اباجی کی آواز میں کچھ تبدیلی سی لگ رھی تھی اور جو وہ کہہ رھے تھے زبان انکا ساتھ نہیں دے رھی تھی، وہ بالکل خاموش آگے آگے چل رھے تھےاور میں انکے پیچھے، دل نے ویسے گھبرانا شروع بھی کردیا اور مجھے ان کی چال اور خاموشی سے کچھ کچھ یہ یقین ھوتا جارھا تھا کہ آج دال میں کچھ کالا ضرور ھے -

جیسے ھی انہوں نے میرے اسکول کی طرف رخ موڑا، اور میں اس سے پہلے کہ بھاگنے کی کوشش کرتا فوراً انہوں نے مضبوطی سے میرا ھاتھ پکڑ لیا، کہاں میرے نازک ھاتھ اور کہاں انکے فوجی ھاتھ، کوشش کے باوجود چھڑا نہ سکا اور وہ مجھے اپنی تیز رفتاری سے اسکول کے ھیڈماسٹر کے کمرے میں اجازت لیئے بغیر ھی اندر داخل ھو گئے!!!!!!!!،

ھیڈماسٹر کے کمرے سے واپسی کا سفر اپنے گھر تک اور گھر پر میرے والد صاحب کے ہاتھوں سے میرا جو حشر ھوا وہ بہت ھی دردناک اور خوفناک حدکے پار تھا، اور سونے پر سہاگہ یہ کہ تمام محلے والوں کو بلا کر اور میرے تمام محلے کے دوستوں بمعہ انکے پورے خاندان کے، گھر کے صحن کے عین درمیان میں، میں اور اباجی اور چاروں طرف تمام محلے کا مجمع، جیسے کوئی مداری کا تماشہ ھورھا ھو -

مجھے اس وقت اپنی وہ تمام حرکتیں ایک اسکرین کی طرح سامنے یاد آتی جارھی تھیں، جسکی وجہ سے مجھے آج یہ دن دیکھنا پڑرھا تھا؛ اور سب سے زیادہ شرمندگی اس بات کی تھی کہ سب لوگوں کے سامنے میری کیا عزت رہ جائے گی، کتنا محلے والوں کو مجھ پر فخر تھا، اپنے بچوں کو ان کی ھر غلطی پر میری مثالیں دیتے تھے -

آج وھی مثالی بچے کی ساری عزت اترنے والی تھی!!!!!!!!!!!!!!

دس پندرہ منٹ تک سب محلے والوں کا انتظار بھی کیا اور سب کے سامنے میری تمام حرکتوں کے بارے میں تفصیل سے بتایا ساتھ یہ بھی اعلان کیا کہ اگر کوئی بھی میرے بیٹے پر اگر ترس کھا کر اگر بچانے آئے گا تو وہ بھی ساتھ اسکے سزا پائےگا، ساری دنیا خاموش تھی لیکن میری والدہ اور بہنیں زور زور ست چیخ چیخ کر رو رھی تھی، جنہیں اباجی نے گھر میں بند کردیا تھا مگر وہ کھڑکی سے سب کچھ دیکھ رھی تھیں ، اور لوگوں سے رو رو کر یہی کہہ رھی تھی کہ خدارا میرے بچے کو بچاؤ ورنہ وہ مر جائے گا !!!

ماں ماں ھوتی ھے اس کی عظمت کو سلام، میں تو اپنے کئے ھؤے حرکتوں کی سزا بھگتنے کو تیار تھا، لیکن ماں کو اپنے بیٹے کی ایک ذرا سی بھی تکلیف برداشت نہیں تھی!!!!!!!!!

سارے لوگ خاموش تھے اور اس میں سے بھی کئی لوگوں نے کوشش بھی کی مجھے بچانے کیلئے مگر اباجی کا غصہ دیکھ کر واپس پیچھے ھوگے اور تماشہ دیکھنے کو تیار کھڑے ھوگئے ایک دائرہ بنا کر !!!!!!!!!

آج اس وقت بھی میری آنکھوں میں آنسو آرھے ھیں، سارا منظر میری آنکھوں کے سامنے نظر آرھا ھے،

جب ھیڈماسٹر صاحب کے کمرے سے ساری اپنی روداد سن کر نکلے تو اب تو یہ طے تھا کہ جو حشر اپنا ھونا تھا، واپسی پر سارے راستے میں پٹتا ھوا آیا، ساتھ بہت سی بڑی بڑی گالیاں سنائی دیں جو میں نے زندگی میں کبھی نہین سنی تھیں، مگر میں بالکل خاموشی سے پٹتا ھوا گرتے پڑتے جارھا تھا ساتھ اوئی ھائے کی آوازیں بھی منہ سے نکل رھی تھیں، اب تو شکنجہ میں آھی گئے تھے، اور بکری کی ماں کی خیر کا وقت بھی ختم ھوچکا تھا ، کچھ اتنے عرصہ میں ڈھیٹ پنا بھی آچکا تھا، آخر کب تک، ایک نہ ایک دن تو یہ وقت آنا ھی تھا، جس کے لئے میں پوری طرح تیار تھا، بھاگنے کا بھی پروگرام تھا لیکن بھاگ کر کہاں جاتا، اس چھوٹی سی عمر میں بہت مشکل تھا -

بس گھر پہنچتے ھی اباجی نے مجمع لگالیا، جیساکہ میں نے پہلے لکھا تھا اور زندگی میں، میں کبھی بھی اس واقعہ کو بھول نہیں سکتا، شاید ھی کوئی ایسا ھوگا جس کے ساتھ یہ سلوک ھوا ھوگا، بہرحال میں مجمع کے درمیان صحن کے بیچوں بیچ اور اُوپر سے والد صاحب کا شدید ترین غصہ جو شاید ھی میں نے کنھی دیکھا ھو، اور ان کے ھاتھ میں ایک اچانک پتہ نہیں کہاں سے چھڑی ھاتھ لگ گئی، میری تو جان ھی نکل گئی، پھر میرے نزدیک جیسے ھی آئے میری تو چیخ ھی نکل گئی، فوراً ھی میرے کپڑے زبردستی اتاردیئے اور اوپر سے پانی کا چھڑکاؤ کردیا، ساری مٹی کیچڑ میں تبدیل ھوگئی اور پھر انہوں نے آؤ دیکھا نہ تاؤ، چھڑی کی برسات مجھ پر کردی، ساتھ پانی کا چھڑکاؤ بھی جاری رھا اگر میری جگہ کوئی اور ھوتا تو شاید مر ھی جاتا،!!!!!

اتفاقاً باھر سے کوئی دو تین آدمی بھاگتے ھوے آئے اور والد صاحب کو برا بھلا کہتے ھوئے مجھے آن کے ھاتھوں سے چھڑاکر عورتوں کے حوالے کردیا اس وقت میں کیچڑ میں لت پت اور بری طرح سسکیاں لے رھا تھا، ان آدمیوں نے شاید تمام مجمع کو بھی خوب لعن طعن کی اور سب کو بھگا دیا اور وہ والد صاحب کو باھر لے گئے اور مجھے بعد میں پتہ چلا کہ والد صاحب بھی آنسوؤں سے رو رھے تھے، وہ لوگ تو میرے لئے فرشتے نکلے ورنہ تو میرا کام تمام ھو ھی جانا تھا -

مجھے اس وقت تھوڑا سا ھوش آیا جب مجھے چند عورتیں مل کر نہلا رھی تھیں اور پھر مجھے نہلا دھلا کر بستر پر لٹا دیا گیا، والدہ مجھے اپنے گود میں سر رکھ کر بہت رو رھی تھیں ساتھ چند خاص محلے کی عورتیں بھی تھیں اور وہ سب والدہ کو دلاسہ بھی دے رھی تھیں اور اندر کمرے میں آنے کی اجازت کسی کو بھی نہیں تھی جبکہ باھر پورے محلےکا مجمع لگا ھوا تھا، انہیں فرشتہ صفت لوگوں نے فوراً قریبی ڈاکٹر کو بلوایا، اس نے اایک انجکشن لگایا، ساتھ جگہ جگہ دوائی بھی لگائی اور کچھ دوائیاں بھی اسی وقت پلائی،

ڈاکٹر صاحب یہ سمجھے کے شاید میرا کوئی حادثہ وغیرہ ھوگیا ھے، کیونکہ میری حالت ھی کچھ ایسی تھی، آنکھیں سوجی ھوئی، جسم پر ھرطرف چھڑی کے مار کے نشان، منہ بھی سوجا ھوا ایسا لگتا تھا کہ جیسے باکسنگ کے رنگ سے کوئی باکسر ناک آوٹ ھو کر نکلا ھو ، میرا پورا جسم بری طرح درد کررھا تھا، آنکھیں کھل نہیں رھی تھیں، بہرحال ڈاکٹر نے تسٌلی دے دی تھی کہ کوئی خطرے کی بات نہیں ھے -

باھر سب کو مجھ سے ملنے کی بےچینی لگی ھوئی تھی، کسی کو بھی اس بات کا یقین نہیں تھا کہ میں ایسا بھی کر سکتا ھوں، کیونکہ میں ‌تقریباً ھر گھر میں مقبول تھا اور ھر کوئی میرے ساتھ ھی کھیلنا چاھتا تھا، اور میں اس وقت تک سب بچوں کا ایک ھیرو تھا، میں جب ان کے ساتھ نہیں ھوتا تو کوئی منظم کھیل نہیں ھوتا تھا، سب میرے لئے افسردہ تھے -

رات کو والد صاحب میرے پاس آئے اور مجھے گلے سے لگالیا ساتھ انکی آنکھوں میں آنسو بھی تھے، میں بھی انہیں دیکھ کر رو پڑا !!!!!

اس سے پہلے کہ میں اپنی کہانی کو اگلے موڑ میں داخل کروں، میں چاھتا ھوں کہ اس وقت کے چند مختصراً سخت قسم کے رسم و رواج بتاتا چلوں، جو اب اس معاشرے میں بہت ھی کم نظر آتے ھیں!!!!!!!!!!

آج والد صاحب کو ھم سے بچھڑے ھوئے تقریباً 18 سال سے زیادہ ھوچکے ھیں، لیکن ان کی یاد اکثر بہت تڑپاتی ھے، وہ جتنے غصہ والے تھے اتنا ھی وہ دل کے اندر سے نرم تھے، لیکن غصہ کے وقت انہیں کچھ بھی دکھائی نہیں دیتا تھا جو کہ بالکل غلط تھا مگر اس وقت کے لحاظ سے آج کی بنسبت لوگوں کا رجحان اپنے بچوں کی تربیت کےلئے بالکل ھی مختلف تھا، اس وقت ھر خاندان میں جو بھی بزرگ تھے سب انکا بہت احترام کرتے تھے اور ھر کوئی انکے ھر فیصلے پر اپنا سر جھکا دینا ھی اپنی سعادتمندی سمجھتا تھا، چاھے وہ فیصلہ غلط ھی کیوں ھی نہ ھو، یہاں تک کہ خود والد اپنے بچوں یا کسی اور مسلئے میں بھی کوئی فیصلہ نہیں کرسکتا تھا اگر بچوں کے دادا حیات ھوں، اب بھی کئی خاندانوں میں یہی رواج چل رھا ھے،

اسوقت میں نے اپنے بچپن کے دور میں والدہ کو بھی سب کے ساتھ کھانا کھاتے نہیں دیکھا، سب سے پہلے وہ ھم سب بہں بھائیوں اور ساتھ والد کےلئے کھانا لگاتی تھیں اور خود ھاتھ کا پنکھا لئے سب کو اپنے ھاتھوں سے ھر ایک کی پلیٹ میں ضرورت کے مظابق دال یا گوشت کا سالن ڈالتی رھتیں، اور ھم سب ان ھی کی ھدایت پر بہت ھی کفایت شعاری سے کسی بھی سالن کو روٹی یا چاول کے ساتھ استعمال کرتے تھے، وہ ھر ایک کو برابر برابر کھانا تقسیم کرتی تھیں، اور ضرورت سے زیادہ مانگنے پر ڈانٹ بھی پڑتی، مگر میں کچھ زیادہ ھی اسرار کرتا اور اکثر کہہ بھی دیتا “وہ ھانڈی میں سالن بچا ھوا تو ھے وہ مجھے کیوں نہیں دیتیں“ بعض اوقات وہ بھی مجھے اپنی مامتا کی محبت میں وہ ھانڈی بھی صاف کر کے میری پلیٹ میں ڈال دیتیں، مگر میں اس سے بےخبر رھتا کیونکہ وہ سب سے آخر میں سب کو کھانا کھلانے کےبعد اکیلی چولھے کے پاس بیٹھ کر کھانا کھاتیں، اگر کچھ بچ گیا تو ورنہ وہ خالی کل کی باسی سوکھی روٹی ھی، اچار یا چٹنی سے لگا کر کھاتیں، مگر وہ کبھی کسی سے کچھ نہیں کہتی تھیں !!!!!!!!!! اور ھم سب اس سے بےخبر اپنی ھی دھں میں مگن رھتے -
کیا ماں کی ممتا کی عظمت ھے، اسے لاکھوں سلام !!!!

اُس وقت ماں کے اوپر ھی سارے گھر کا دارومدار ھوتا تھا گھر کی ساری صفائی سے لیکر کھانا پکانے اور کھلانے تک، بمعہ شوھر اور بچوں کی ھر ضرورت اور خدمت کو پورا کرنے میں سارا سارا دن وہ مشغول رھتیں، چاھے وہ کتنی ھی تکلیف میں کیوں نہ ھو، ابھی بھی کئی مائیں اپنی اسی پرانی ڈگر پر چل رھی ھیں، جس کی وجہ سے کئی گھروں کا سکون ابتک قائم ھے، ورنہ اجکل کی زیادہ تر عورتیں تو بچوں کے سامنے ھی طلاق کا مطالبہ کرتیں ھیں، دوسری باتیں تو چھوڑیں، انہیں نہ اپنے شوھر سے کوئی غرض ھوتی ھے نہ ھی اپنے بچوں سے جس کے ذمہ دار مرد حضرات بھی ھیں، چاھے غلطی کسی کی بھی ھو -

پہلے ایسا بہت ھی کم ھوتا تھا کہ بچوں کے سامنے کوئی بھی میاں بیوی آپس میں لڑائی جھگڑا کریں، بڑوں کی اگر کوئی بات بھی ھورھی ھو تو ھمیں بھگا دیا جاتا تھا، لیکن میں اکثر اسی فراق میں لگا رھتا تھا کہ کیا بات ھورھی ھے، اکثر یہ بھی دیکھا گیا کہ اگر میاں بیوی کے بڑے بزرگ اگر ساتھ موجود ھوں تو مجال ھے کہ گھر کی بہو ان کے سامنے اپنے شوھر کے ساتھ بیٹھ جائے یا زور زور سے باتیں کرے، بلکہ دیکھا گیا ھے کہ اکثر گھر کی عورتیں بزرگوں کے سامنے بیٹھتی تک نہیں تھیں اور بس ھاتھ کا پنکھا لئے انھیں گرمیوں میں جھلا کرتیں تھیں، اور بچے بالکل ادب سے ان سب کا احترام کرتے اور باھے نکلتے ھی اپنی اوقات میں آجاتے یعنی شور ھنگامہ شروع ھوجاتا،!!!!!

میں یہ تو نہیں کہہ سکتا کہ اُس وقت کے دور میں کوئی خرابی ھی نہیں تھی، کچھ اچھائیاں تھیں تو کچھ یقیناً برائیاں بھی ھونگی، لیکن جو کچھ بھی مجھ پر گزری یا جو کچھ بھی میں نے اس وقت دیکھا اور جو بھی مجھے یاد ھے میں پوری ایمانداری سے اپنی اس تحریر میں منتقل کرتا جارھا ھوں، میں کچھ ماضی کے خوابوں سے جڑے چند یادوں کا مختصر سا تعارفی خاکہ پیش کررھا ھوں، جو آگے تفصیل سے بیان کرونگا -

ایک وقت وہ بھی تھا جب میں نے اپنے ایک دوست کے ساتھ مل کر اس شوق کو اپنے مستقبل کے کیرئیر کی طرف راغب کرلیا تھا، میرے دوستوں میں ایک دوست جو بہتریں اردو اور انگلش کے ھر قسم کے رسم الخط لکھنے میں ماھر تھے، ان کے ساتھ مل کر “حسنی آرٹس اینڈ پینٹرز“ کے نام سے ایک دکان کھولی اور وہ ایک معاش کا بھی ذریعہ بھی بن گیا، جہاں ھمیں دکانوں کے مختلف سائن بورڈ، سینماوں کے فرنٹ اور چھوٹے اشتہاروں کے بورڈ، سینما سلائڈز وغیرہ بنانے کے کافی آرڈر ملتے تھے اور خاص طور سے الیکشن کے زمانے میں تو ھماری چاندی ھوتی تھی، کیونکہ اس وقت ھمیں انکے بڑے چھوٹے بینرز اور پمفلٹ لکھنے کے منہ مانگے دام ملتے تھے،

اس وقت تمام لکھائی زیادہ تر اردو میں ھی ھوتی تھی، اردو لکھائی سے زیادہ تو میں تصویریں بڑے بڑے بورڈز پر اپنے ھاتھ سے ھی پینٹ کیا کرتا تھا، جو کہ بچپن سے ھی مجھے اردو خوشخطی کے ساتھ ساتھ تصویریں بھی بنانے کا بے حد شوق تھا مگر والد صاحب کو میرا یہ شوق پسند نہیں تھا، اس کے ساتھ ایک اور بھی شوق اسٹیج ڈرامے ترتیب دینا اور منعقد کرنا بھی بچپن سے ھی شوق رھا، اس کے علاؤہ کالج کے میگزین میں بھی کوشش رھی کچھ افسانے لکھنے کی، لیکن وہ بھی زیادہ دن نہ چل سکا اور کچھ اخباروں اور دوسرے ادبی اور فلمی رسالوں کی زینت بننے کی بھی کوشش کی اس کے علاوہ ایک آدھ فلم کے اسکرین پلے لکھنے کا موقع بھی ھاتھ لگا وہ بھی والد صاحب کے غصہ کی نذر ھوگیا، یہ بھی ایک لمبی کہانی ھے، جو اپنے تسلسل کے ساتھ ھی منظرعام پر آئے گی- اور ساتھ ھی اپنے پیار اور محبت سے جڑی ایک لمبی داستان جس کے خواب کی تعبیر نہ مل سکی، اس دور سے جب میں گزرونگا تو شاید سب کو اس میں اپنے اپنے خواب بھی نظر آجائیں -

پہلے گلی محلوں میں بچوں کے ساتھ مل کر چھوٹے چھوٹے مزاحیہ خاکوں کی ابتدا کی پھر ساتھ ھی تمام محلے کے بچوں اور بہن بھائیوں کو لے کر ریڈیو پاکستان جاتا رھا، جہاں پہلے ھی سے “انٹری پاس“ لے کر بچوں کے پروگراموں میں حصہ بھی لیتا تھا اور اپنے علاؤہ تمام بچوں کی آواز کا آڈیشن یعنی ٹیسٹ کرواکر پروگرام میں قومی نغمے، حمد اور نعتیں سنانے میں حصہ دلواتا بھی تھا جو براہ راست نشر بھی ھوتے تھے اور تمام محلہ کے لوگ ریڈیو پر ھم سب کو براہ راست سنتے بھی تھے یہاں تک تو اجازت ملی،
لیکن جب بڑے ھوکر ھم سب دوستوں نے مل کر شوقیہ اسٹیج شوز شروع کئے تو بہت ھی مشکل پیش آئی کیونکہ والد صاحب کو یہ قطعی ناپسند تھا -!!!!!

جسے مجبوراً والد صاحب کی تنبیہ پر ھر اپنا ادب آرٹ اور مصوری کو 18 سے 20 سال کی عمر کے درمیان میں خیر باد کہنا پڑا اور انہیں کے پیشے سے منسلک ھوکر رہ گیا اور اب تک اکاونٹس کے پیشے میں ھی ھوں،

کہانی پھر سے وہاں سے شروع کررھا ھوں جہاں سے سلسلہ ٹوٹا تھا،!!!!!!

رات کو والد صاحب میرے پاس آئے اور مجھے گلے سے لگالیا ساتھ انکی آنکھوں میں آنسو بھی تھے، میں بھی انہیں دیکھ کر رو پڑا !!!!!!!!!!!!!

میری اس وقت بھی سسکیاں نکل رھی تھیں، پورے جسم میں بہت درد تھا، لیکن جب اباجی نے گلے لگایا تو اس درد کا احساس کچھ قدرے کم ھوا، انکی آنکھوں میں جو آنسو امڈ رھے تھے اس سے پہلے کبھی میں نے انہیں اس حالت میں نہیں دیکھا،

وہ اپنی گھُٹی ھوئی آواز میں یہی بول رھے تھے کہ “ تو مجھے کیوں تنگ کرتا ھے، مجھے آج سے اپنا دوست سمجھ اور ھر بات مجھے اچھی یا بری بات ضرور بتایا کرو“ اور شاید یہ بھی کہ رھے تھے کہ مجھے معاف کردینا بیٹا،!!!!!

اس دن کے بعد انہوں نے مجھے ڈانٹا ضرور لیکن کبھی ھاتھ نہیں اٹھایا، اسی وجہ سے میرے اندر بھی شاید ایک تبدیلی سی آگئی تھی-!!!!!!!

اب مسلئہ یہ تھا کہ محلے میں مجھے کسی کے گھر جاتے ھوئے بھی ایک شرمندگی محسوس ھوتی تھی - کافی دنون تک اپنے آپ کو گھر میں ھی مقیٌد رکھا آہستہ آہستہ جب کچھ طبعیت سنبھلی، تو والد صاحب بہت پیار سے مجھے اسی پرائمری اسکول میں لے گئے اور پانچویں کلاس میں داخلہ دلادیا - شاید کوئی پھر سے مجبوری رھی ھوگی یا کہیں داخلہ نہ مل سکا ھو -

وھاں جاکر میں نے دیکھا کہ حالات کچھ بدل سے گئے ھیں، شکر ادا کیا جب میں نے ان لڑکوں کو وہاں نہ پایا، کیونکہ سب وہاں سے رخصت ھوگئے تھے یعنی چھٹی کلاس کیلئے انہیں دوسرے سیکنڈری اسکول میں داخلہ لینا پڑا ھوگا، اور یہ دیکھ کر اور بھی زیادہ خوشی ھوئی کہ وہاں کا ماحول بھی بہت بہتر نطر آتا تھا، لیکن بعد میں مجھے کلاس کے مانیٹر شعیب، جو میری پچھلے سال کی کہانی جانتا تھا، اس نے مجھے بہت تسلی دی اور میں اس لڑکے کا شکر گزار ھون کہ اس نے اس کلاس میں میرے علاوہ کسی کے ساتھ بھی زیادتی نہیں ھونے دی اور بعد میں میرا اچھا دوست بن گیا، اس کے علاوہ اور بھی دوست تھے لیکن یہ مجھے سب سے اچھا لگا، بعد میں دو اور دوست حسیب بیگ اور حفیظ اللٌہ بھی بنے تھے جو میرے لئے ایک مشعل راہ ثابت ھوئے اور خوش قسمتی سے انکا ساتھ دوسرے سیکنڈری اسکول میں بھی رھا،

دوبارہ میں نے ایک بالکل نئے جذبے کے ساتھ پڑھائی شروع کی وہاں کے کلاس تیچر شفیع صاحب نے خوب محنت سے پیار سے اور ایک منظم طریقہ کار سے ھمیں پڑھانا شروع کیا جس کےلئے مجھے خود حیرانگی ھورھی تھی کہ کیا یہ وھی اسکول ھے یا کوئی خواب دیکھ رھا ھوں

اللٌہ کا شکر تھا کہ جن سے پہلے میں نظریں چرارھا تھا اب کچھ نظریں ملا کر بات کرنے لگا تھا، لیکن کچھ ایسے بھی تھے کہ مجھ سے اب تک نالاں تھے اور اپنے بچوں کو مجھ سے دور رکھتے تھے، جس کا مجھے بہت دکھ ھوتا تھا، جن بچوں کا میں ھیرو کہلاتا تھا اب میں ان کے لئے بالکل زیرو تھا، وہ اکثر میرا مذاق اڑاتے اور میں اپنی گردن نیچے کئے خاموشی سے انکے سامنے نکل جاتا، میرا دل تو بہت چاھتا تھا کے پھر سے پہلے کی طرح میں ان کے ساتھ کھیلوں، لیکن اب ان کی نظر میں میری وہ عزت نہیں رھی تھی،

یہ اللٌہ تعلیٰ کا لاکھ لاکھ شکر تھا کہ اب پڑھائی بہت اچھی چل رھی تھی اور روزانہ باقاعدگی سے اسکول جارھا تھا اور ساتھ ساتھ ماہانہ ٹیسٹ اور دوسرے سہہ ماھی اور ششماھی امتحانات بھی اچھے نمبروں سے اچھی پوزیشن حاصل کی شاید کلاس مین ساتویں یا آتھویں پوزیشن پر رھا، میرے کلاس کے دوستوں نے بھی میرا بہت اچھا ساتھ دیا، اب تو والد صاحب بھی اسکول کا چکر لگاتے تھے اور کلاس ٹیچر اور ھیڈ ماسٹر صاحب سے ملکر میری طرف سے تسلی پا کر چلے جاتے تھے، اور اکثر ھر دوسرے تیسرے روز گھر پر مجھے وہ پڑھاتے بھی تھے، مگر اب تک محلے میں چند ایک کو میرا اب تک یقیں نہیں آیا تھا کہ واقعی میں اب سدھر گیا ھوں،

چھ مہینے گزرنے کے بعد بھی میں اپنے محلے میں اپنا اعتماد بحال نہیں کرسکا تھا، شام کو میرا دل بہت چاھتا کہ میں سب کے ساتھ کھیلوں اور خوب باتیں کروں جو بھی میرے ساتھ بات بھی کرنے آتے تو سب انکا بھی مذاق اڑانے لگتے، والدیں اس سے بے خبر تھے اور میں نے بھی انہیں کچھ نہیں بتایا تھا اور اب گھر پر پہلے کی طرح کوئی محلے کے بچوں کی رونق نہیں تھی، بہرحال مجھے اس بات کا بہت دکھ تھا، والدہ مجھے کافی وقت دیتی تھیں اور ھمیشہ میرے بجھے ھوئے دل کو بہلانے کی کوشش میں لگی رھتی لگتا تھا کہ میری ماں کو میرے اندرون دل کی حالت پتہ تھی -

اب تو میں کتابوں اور اسکول کی حد تک محدود ھوکر رہ گیا تھا، میں گھر آکر باھر نکلنا بھی چھوڑدیا تھا صرف والد صاحب کے ساتھ ھی باھر سودا وغیرہ لینے نکلتا تھا، کیونکہ ان کے سامنے محلے کے بچے مجھے چھیڑنے سے گریز کرتے تھے، میرے دل میں اہستہ آہستہ ایک بزدلی کا خوف بیٹھتا جارھا تھا، اسکول جاتے وقت اور واپسی پر بھی مین ڈرتا ڈرتا باھر نکلتا تھا اور تیز تیز چلتا تھا تاکہ کوئی مجھے کوئی پیچھے سے آواز نہ کسے یا چھیڑے، اور اس طرح روز بروز بجھے لگتا تھا کہ میں ایک نفسیاتی مریض بنتا جارھا ھوں، سوتے سوتے میں اکثر چیخ مار کر اٹھ جاتا تھا اور والدہ میرے پاس دوڑ کر آتیں اور گود میں میرا سر رکھ کر مجھ پر پڑھ کر دم بھی کرتی تھیں اور پھر میں انکی گود میں سر رکھ کر سوجاتا تھا- پھر مجھے سلا کر چادر اڑھا کر پھر وہ بھی سو جاتی تھیں، بعد مین سب کچھ ٹھیک ھو گیا لیکن وہ خواب میں چیخ کر ڈر کے اٹھنے کی بیماری ابھی تک نہیں گئی -!!!!!

خیر اب تو میں دس سال کی عمر میں داخل ھورھا تھا اور دل اب تک بےچین تھا کئی دفعہ کوشش بھی کی باھر جاؤں لیکن ھمت نہیں پڑتی تھی، والدہ بھی باھر بھیجنے کی کوشش کرتیں لیکن دروازے سے جاکر واپس آجاتا، آخر ایک دن کچھ ھمت پکڑی اور باھر نکلا اور جیسے ھی بڑی گلی میں داخل ھوا تو کچھ نے مجھے دیکھ لیا اور شروع ھوگئے میرا مذاق اڑانے اور ایک نے تو میرے نزدیک آکر کچھ برے الفاظ کہے اور مجھے دھکا دے کر لگا میرے گریبان میں ھاتھ ڈالنے،!!!!!

اس سے پہلے کہ وہ میرے گریبان کو چھوتا ایک لڑکی میرے اور اسکے درمیاں آگئی اور زور کا چانٹا اس لڑکے کے منہ پر دھر دیا اور وہ لڑکا اپنے گال سہلاتا ھوا بھاگ کھڑا ھوا، میں ایک دم گھبرا گیا کہ یہ کون سی ھستی آگئی، پہلے تو یہ چہرہ یہاں کبھی نہیں دیکھا تھا، مجھ سے عمر میں بڑی بھی لگ رھی تھی اور الٹا مجھے ڈانٹنے لگی کہ تم کتنے بزدل ھو اس لڑکے کا مقابلہ نہیں کرسکتے، میں کیا جواب دیتا میں تو پہلے ھی ھکا بکا ھو کر اسے دیکھ رھا تھا کہ اسے مجھ سے ھمدردی کیسے ھو گئی جان نہ پہچان شاید کسی کہ مہمان آئے ھوئے ھوں،

اس سے پہلے کہ میں کچھ اور ذہن پر زور ڈالتا، اس نے فوراً میرا ھاتھ پکڑا اور وہ جیسے ھی مڑی اسکے پہچھے شاید اسکی چھوٹی بہن کھڑی نظر آئی جو دیکھ کر مجھے مسکرارھی تھی، وہ چھوٹی سی مجھے بڑے غور سے اور مسکراتے ھوئے دیکھ رھی تھی اور جسے دیکھ کر ایک عجیب سی میرے دل میں ایک خوشی کی لہر دوڑ گئی، !!!!!!!!!!!!!

وہ بڑی میرا ھاتھ پکڑے آگے آگے چل رھی تھی اور چھوٹی پیچھے پیچھے مسکراتی چل رھی تھی میں حیران پریشان، سوچتا ھوا ان کے ساتھ چل رھا تھا کہ یہ کون ھو سکتی ھیں؟؟؟؟؟

جاری ھے،!!!!
عبدالرحمن سید آف لائن ہے   یہ اقتباس دیں
ان 2 ارکان نے اس مفید پوسٹ کے لیے عبدالرحمن سید کا شکریہ ادا کیا ہے
پرانا 28-01-10, 08:13 PM   #9
عبدالرحمن سید
-: محسن :-
 
عبدالرحمن سید کی نمائندہ تصویر
 
تاریخ شمولیت: 2007-11-06
قیام: Jeddah, Saudi Arabia.
جنس: male
عمر: 63
پوسٹس: 201
پوائنٹس: 473
عبدالرحمن سید عبدالرحمن سید عبدالرحمن سید عبدالرحمن سید عبدالرحمن سید عبدالرحمن سید عبدالرحمن سید عبدالرحمن سید عبدالرحمن سید عبدالرحمن سید عبدالرحمن سید
عبدالرحمن سید کی طرف بذریعہ MSN  پیغام ارسال کریں عبدالرحمن سید کی طرف بذریعہ yahoo پیغام ارسال کریں
میری اپنی بھولی بسری یادیں،!!! میرا بچپن-9

وہ بڑی میرا ھاتھ پکڑے آگے آگے چل رھی تھی اور چھوٹی پیچھے پیچھے مسکراتی چل رھی تھی میں حیران پریشان، سوچتا ھوا ان کے ساتھ چل رھا تھا کہ یہ کون ھو سکتی ھیں ؟؟؟؟؟؟

میں تو پہلے ڈر ھی گیا کہ کہیں یہ مجھے پکڑ کر میرے گھر میری شکایت کرنے جارھی ھیں، اور واقعی وہ بڑی مجھے پکڑے میرے گھر ھی لے گئی، وہاں ان کی والدہ میری والدہ کے ساتھ بیٹھی باتیں کررھی تھیں اور بڑی تو فوراً تنک کر بولی کہ خالہ اپنے اس لاڈلے بیٹے کو سمجھا دیں کہ گلی میں فالتو لڑکوں کے منہ نہ لگا نہ کرے، چھوٹی تو اپنی اماں کے پاس خاموشی سے بیٹھ گئی اور میں اپنی والدہ کے کہنے پر ھاتھ منہ دھونے اور کپڑے بدلنے چلاگیا کیونکہ اس لڑکے کی مڈبھیڑ کی وجہ سے کچھ حالات خراب ھوگئی تھی -!!!!!

ًمیں بالکل شش وپنج میں تھا کہ یہ آخر ماجرا کیا ھے اور یہ کون ھیں کہاں سے آئی ھیں اور مجھے کیسے جانتی تھیں کہ راستے میں ھی مجھے پکڑ اس لڑکے سے جان چھڑا کر گھر لے آئیں، بعد میں والدہ ھی سے معلوم ھوا کہ جو پچھلے مہینے میں دوسری گلی کے نکڑ والے مکان میں نئی فیملی آئی ھے، یہ وھی لوگ ھیں، میں زیادہ پنچایت میں بھی نہیں گیا، اس وقت مجھے کسی کے تعارف کا بھی کوئی شوق نہیں تھا میں اور کوئی مزید تفصیل میں پڑے بغیر اپنی پڑھائی کی طرف لگ گیا،!!!!!

اب تو بالکل باھر جانے کو دل نہیں کرتا تھا، سب پرانے دوست اب ویسے ھی مجھ سے دور رھتے تھے، حالانکہ میرا دل بہت چاھتا تھا کہ میں دوبارہ سے ان کے ساتھ مل کر کھیلوں اور پہلے کی طرح محلے کی رونق بنوں، والدین میری خاموشی سے بہت پریشان تھے، کیونکہ میرا اب روز کا معمول صرف اسکول جانا، گھر پر کھانا کھانا اور کچھ دیر اپنے ھی بہن بھائیوں کے ساتھ صحن میں کھیل کر اپنی پڑھائی میں لگ جانا، اس کے علاوہ بس اپنے اوپر ایک خاموشی کا لبادہ اوڑھ لیا تھا اور ایک چپ سی لگا لی تھی، بس یہی سوچتا رھتا تھا کہ اب میں سب کی نظروں میں کیوں اتنا گر گیا ھوں، اور روز بروز ایک نفسیاتی مرض کا شکار ھوتا جارھا تھا اور کمزوری بھی محسوس کررھا تھا اکثر سوتے میں ڈر کر اٹھ جانا روز کا معمول بن چکا تھا -!!!!!

اباجی ھمیشہ گھر میں دو تیں بکریاں اور کئی مرغیاں ضرور پالتے تھے، اوراس وقت ھم بچوں نے بکری کا دودھ کثرت سے پیا، ان ھی میں سے جب بکری کے بچے جب بڑے ھوجاتے تو ایک بکرا قربانی کے لئے تیار کرتے تھے، لیکن قربانی کے وقت ھم سب کو رونا آجاتا تھا کیونکہ پورا ایک سال ھم ان بکری کے بچوں سے اتنا مانوس ھوجاتے تھے کہ ان کی کوئی تکلیف دیکھی نہیں جاتی تھی، اسکے علاوہ اباجی خود ھی شام کو بکریاں چرانے چلے جاتے تھے اور کبھی کبھی ھم بچے بھی مل کر ساتھ ھو لیتے تھے،!!!!

لیکن جب سے میں نے خاموشی اختیار کی وہ کچھ زیادہ پریشاں ھوگئے اور بعض اوقات تو میرے ھاتھ پیر ٹھنڈے پڑ جاتے اور میں والدہ کی گود سر رکھ کہتا امی دیکھو مجھے کیا ھورھا ھے، سورہ یاسین پڑھنے کیلئے کہتا کبھی زیادہ طبیعت خراب ھوتی تو ھمارے نئے محلے دار کے یہاں سے بلوالیتی، وھاں سے دونوں لڑکیاں اور ان کی اماں ساتھ کبھی کبھی ان کی نانی اماں بھی لاٹھی ٹیکتی ھوئی پہنچ جاتیں، پھر دیسی ٹوٹکے سے علاج شروع ھوجاتا، ھماری والدہ بھی ان لوگوں کے آنے سے کچھ سکون میں نطر آتیں، اور قدرتی میری طبعیت بھی ٹھیک ھو جاتی،!!!!!

آھستہ آھستہ میں اور ھمارے سب گھر والے اس فیملی سے مانوس ھوتے جارھے تھے اور بالکل ایسا لگنے لگا تھا جیسے آپس میں ھم لوگ کوئی بہت قریبی رشتہ دار ھوں!!!

شاید ایک وجہ یہ بھی رھی ھو کہ والدہ کو ان سے ایک بہت میری طبعیت کے حوالے سے ایک فکر ختم ھوگئی تھی کیونکہ ان کے ساتھ کی وجہ سے میں کچھ بہتر ھوتا جارھا تھا اور زیادہ تر ھمارے گھر پر وقت گزارتیں دوسری وجہ ان کا کوئی بیٹا نھیں تھا اور شاید ان کی والدہ کو میرے روپ میں ایک بیٹا دکھائی دے رھا ھو -

پھر بڑی باجی کے اصرار پر ھم تینوں باھر بھی کھیلنے کیلئے نکلنے لگے لیکں شروع شروع میں مجھے بہت ڈر لگا تھا باھر کے لڑکوں کی وجہ سے اور احساس محرومی کا شکار تھا، لیکن بڑی باجی کی وجہ سے بہت کچھ ھمت آگئی تھی اور دوبارہ میں اس قابل ھوگیا تھا کہ کسی بھی آنکھ میں آنکھ ڈال کر بات کر سکتا تھا، اس طرح میں آھستہ آھستہ مجھ میں خود اعتمادی بھی آگئی تھی اور اب ھمارے گروپ میں اور لڑکے اور لڑکیاں بھی شامل ھو گئے، جو کبھی میرے خلاف چلے گئے تھے، لیکن پھر بھی چند لڑکے اب تک مجھ سے نالاں تھے، مگر انکی ھمت نھیں پڑتی تھی کہ ھمارے گروپ کو پریشان کریں،

یہ مکمل تبدیلی ان دونوں نئی لڑکیوں کی بدولت ھی تھا کیونکہ ان کا رویٌہ بہت اچھا تھا اور وہ بہت ھی سلجھی ھوئی باتیں کرتیں تھیں اس کے علاوہ انہوں نے تمام بچوں میں نئے نئے کھیلوں کا اضافہ کرایا، اس محلے میں اس وقت صرف دو یا تین گھروں میں ریڈیو ھوا کرتا تھا اور ھم سب بچے شام کو کھیل کود کے بعد ان کے گھر ریڈیو سننے جاتے تھے، خاص طور سے اس وقت ھفتہ کی رات کو “اسٹوڈیو نمبر9“ رات کے 9 بجے ھی ریڈیو پاکستاں سے ایک نیا ڈرامہ نشر ھوتا تھا اور ھر منگل کی شب 9 بجے یا ساڑے 9 بجےمختلف مزاحیہ خاکوں پر مبنی ایک پروگرام “دھنک“ آیا کرتا، جس کا نام بعد میں “کہکشاں“ ھوگیا تھا، یہ ھم تمام پروگرام ان کے گھر بیٹھ کر سنتے تھے،

ٹیلیویژن کے بارے میں اس وقت کوئی تصور بھی نہیں تھا، لیکن یہ ضرور بڑے تعجب سے یہ سنا کرتے تھے کے ولایت میں ایک ریڈیو ایسا بھی ھے جس کے سامنے فوٹو بھی نظر آتی ھے، ھماری بڑی باجی تو اب سب کی لیڈر بن چکی تھیں اور انکی زبان سے جو الفاظ نکلتے تھے وہ بہت ھی زیادہ شائستہ اور مودب ھوتے تھے، اس کے علاوہ ان دونوں کے رکھ رکھاؤ اور ان کے نفیس اور صاف ستھرے لباس، جس کی وجہ سے سب بچے ان سے مرعوب بھی تھے، ان کی دوسری پوزیشن میں انکی چھوٹی بہن تھی، وہ بھی باتیں بہت کرتی تھی اور ساتھ وہ بھی اپنی بڑی بہن کی طرح خوش مزاج مگر تھوڑی سی خودار قسم کی یعنی کسی کو زیادہ خاطر میں میں نہیں لاتی تھی،

بہرحال کم از کم اس بات کی تو خوشی تھی کہ ان کی وجہ سے اس محلے کے بچوں کو ایک سدھرنے کا موقعہ مل گیا تھا اور ان کے والدین بھی خوش تھے، اس کے علاوہ وہ بچوں کو بنیادی تعلیم کا بھی درس پڑھاتی بھی رھیں، غرض کہ وہ ھر ایک کو بولنے کا صحیح طریقہ کار اس کے صحیح تلفظ بیانی پر بہت زیادہ زور دیتی تھیں، بچوں کو تفریحی طور پر چھوٹے چھوٹے ڈرامے کھیل اور قومی نغمے کی پریکٹس بھی کراتیں تھیں، جس کی وجہ سے میں نے بچوں کو ریڈیو پاکستان کے بچوں کے پروگراموں میں لےجانا شروع کیا، جہاں پر اس وقت، بڑے بڑے فنکاروں ظفرصدیقی، منی باجی، ارش منیر، عبدالماجد، محمود علی، ظلعت حسین اور دوسروں کے ساتھ بچوں کے پروگراموں مین حصہ بھی لیتے رھے،!!!!!

ھمارے محلے کی رونق بھی کچھ زیادہ بڑھ گئی بچوں کو ایک نئی طرز کے کھیلوں میں دلچسپیاں بڑھ رھی تھیں جس میں معلوماتی باتیں بھی تھیں بہت کم بچے تھے جو ھمارے ساتھ نہیں تھے، ھر عید پر بچوں کا ایک رونق میلہ لگ جاتا اور محلے کے بچوں کی ایک اکثریت سلیقہ شعار اور پڑھنے کی طرف رجحان زیادہ ھوگیا، پھر ھم تینوں ھی مل کر تمام بچوں کی ٹیم کی نگرانی کرتے اور کھیل کے وقت کھیل اور پڑھائی کے وقت پڑھائی کرنا شروع ھوگئے اور محلے والوں کی نظر میں وھی مقام جو پہلے کبھی تھا واپس مجھے مل گیا اور اب تو ھمیں بہت عزت دیتے تھے، لوگ پرانی باتوں کو بھول چکے تھے اور ھم تینوں ھی اس وقت سب کے استاد تھے،!!!!!

اباجی اب بہت مطمئین تھے، والدہ بھی بہت خوش تھیں، اسی دوران والد صاحب نے ایک پرچون کی دکان کھول کر میری ذمہ داری میں ایک اور مزید اضافہ کردیا، جو عین محلے کی درمیان تھی، اسکول بھی ساتھ ساتھ بہت اچھا چل رھا تھا اور ھر چیز اپنے معمول پر آگئی تھی، ایک محلے میں اپنی ایک دکان کا اضافہ ھوگیا تھا اور جس کی وجہ سے میرا اب زیادہ تر وقت دکان پر ھی گزرتا تھا اور کچھ بہت سی نئی کہانیوں نے کئی رخ موڑے جس کا آگے ذکر کرونگا-!!!!!!

جب سے دکان کھلی، شروع میں تو کچھ دنوں تک والد صاحب کے ساتھ ٹریننگ کرتا رھا بعد میں جب ریٹ وغیرہ کا صحیح طور پر اندازہ ھوگیا تو میری ڈیوٹی کا ایک مستقل شیڈول بن گیا روزانہ اسکول سے گھر آتا کھانا وغیرہ کھاکر سیدھا دکان کھولتا، لکڑی کے کھوکے کی طرح دکان تھی، بیٹھتے ھی ھلکے سے جھکولے کھانا شروع کردیتی تھی پہلے دکان کے نیچے کا پلڑا کھولتا تھا جو اپنے دو پایوں پر ٹکتے تھے، پھر اوپر کا پلڑا نیچے والے پلڑے کا اوپر کھڑے ھوکر کھولتا تھا اور پھر نیچے کے پلڑے پر تمام بچوں کی ٹافیاں اور بسکٹ وغیرہ کی برنیاں ترتیب سے سجا دیتا اور ساتھ ھی ایک ترازو جو ایک اسٹینڈ کے ساتھ تھا اسی لکڑی کے پلڑے پر درمیان میں رکھ لیتا اور اندر دکان کے سارے سامان پر ایک دفعہ کپڑا مار کر صفائی بھی کرتا اور جب تک ایک اچھی خاصی بھیڑ لگ جاتی اور ایک شور مچ جاتا، سب اتنی جلدی میں ھوتے کہ ھر ایک یہی کہتا کہ میں پہلے آیا تھا مجھے پہلے دو -!!!!

اس محلے میں یہ ایک ھی پہلی دکان تھی، جو لوگوں کی خواھش پر اباجی نے کھولی تھی، اباجی جب دفتر سے واپس گھر آتے تو سب سے پہلے سیدھا دکاں پر ایک نظر مارتے ھوئے گھر پہنچ جاتے اور گھر جاکر کچھ دیر کیلئے آرام کرتے اور عصر کی نماز پڑھ کر دکان کا رخ کرتے تو جاکر کہیں میری جان چھوٹ جاتی، اس وقت تک اپنی بچوں کی ٹیم میرا انتطار کرتی رھتی اور دکاں کے چاروں طرف منڈالاتی رھتی اس طرح ایک لالچ بھی ان کو دکان کے پاس رکھتی کیونکہ اکثر میں ان میں ٹافیاں اور بسکٹ وغیرہ تقسیم بھی کرتا رھتا، سارا دن ٹوٹے بسکٹ اور ٹافیاں وغیرہ جو ٹوٹ جاتیں میں الگ کرتا جاتا اور ابا جی کو دکھا کر لے جاتا اور ھم سب بچے مل جل کر کھاتے، لیکں تھوڑی ساتھ بےایمانی یہ کرتا کہ خود بھی ھاتھ سے بسکٹ ٹافیاں توڑ لیتا تاکہ تمام دوستوں میں پوری ھوجائے-

عصر اور مغرب کے درمیان خوب کھیلتے اور مغرب کے بعد گھر پہنچ کر ھاتھ منہ دھو کر یا کبھی نماز پڑھ کر سیدھا کتابیں پڑھنے بیٹھ جاتے، محلے میں ایک چھوٹی سی مسجد بھی تھی، جہاں چھوٹے بڑے سب پانچوں وقت کی نمازیں بھی پڑھتے تھے اور رمضان کے مہینے میں تو بہت ھی زیادہ رونق ھوتی تھی، ھر گھر سے کچھ نہ کچھ مسجد میں مغرب سے پہلے ھی مختلف قسم کے پکوان پکوڑے، سموسے، آلو چھولے، دھی بڑے اور روح افزا، نورس، اور لیمن اس کے علاوہ نہ جانے کیا کیا جمع ھو جاتا، اور روزہ کھولتے وقت اور نماز کے بعد بھی ھم سب بچے کھاتے ھی رھتے، پھر کھیل میں لگ جاتے، جب تک عشاء اور تراویح کا وقت ھوجاتا پھر تراویح کے ختم ھوتے ھی فوراً گھر کا رخ کرتے کھا پی کر سو جاتے، صبح سحری میں خاص طور سے اٹھتا تھا کبھی روزہ رکھ لیتا کبھی نہیں مگر افطاری کے وقت بغیر کسی عذر کے پہنچ جاتا، اور سارے دوست بھی وہیں موجود ھوتے، رمضانوں میں دکان کے اوقات ذرا مختلف ھوتے تھے،

دکان میں ابا جی نے ادھار لینے والوں کیلئے ایک الگ رجسٹر کھولا ھوا تھا، مجھے خاص طور سے یہ تاکید تھی کہ کبھی بھی ادھار کسی ایسے کو مت دینا جس کا کہ رجسٹر میں نام نہ ھو، مگر بعض اوقات چھوٹے بچے یا ان کی اماں اکر منت سماجت کرتیں جن کو ادھار دینے سے منع کیا ھوا ھوتا، میں بالکل ان کی باتوں سے مجبور ھوکر ادھار سودا دے تو دیتا لیکن رجسٹر میں نہیں لکھتا تھا، بس اسی طرح اکثر لوگ مجھ سے ناجائز فائدہ اتھاتے، کوئی نہ کوئی دکھڑا سنا کر مجھ سے سودا لے جاتے،

والد صاحب بھی اتنا زیادہ خیال نہیں کرتے تھے شام کو وہ آکر حساب کتاب بھی کرتے اور دن بھر کی جو بھی کمائی ھوتی کچھ ریزگاری چھوڑ کر باقی اپنی جیب میں رکھ لیتے، ایک ادھ دفعہ پکڑا بھی گیا کہ ایک دم وہ آگئے جب میں کسی کو بغیر لکھے ادھار سودا پکڑا رھا تھا، بس پھر دو چار ڈانٹ کھانی اور آیندہ کے لئے محتاط رھنے کے وعدہ پر جان چھوٹ جاتی، وہ بھی اکثر درگزر کردیتے تھے کیونکہ وہ خود بھی کافی لوگوں کی اسی طرح مدد کیا کرتے تھے مگر مجھے یہ ضرور تاکید کرتے کے بیٹا اگر کسی کو بغیر لکھے دیتے ھو تو مجھ سے پوشیدہ مت رکھو، اور کبھی جھوٹ مت بولا کرو -

لیکن میں بھی اکثر نمکین بسکٹ اور کچھ پسندیدہ ٹافیاں چپکے چپکے کھاتا ھی رھتا تھا، اور میرے دکان پر گاھک سے زیادہ مفت خورے موجود ھوتے تھے ، میں بھی انہیں کچھ نہیں کہتا تھا بلکہ مجھے ان پر ترس آتا تھا اور میں ‌ان کی مطلوبہ ضرورت پوری بھی کردیتا تھا، کیونکہ وہاں پر اکثریت کافی غریب لوگوں کی تھی -

ایک دفعہ ایک کباڑی والا میرے پاس آیا اور کہنے لگا کہ “تمھاری اماں نے ترازو منگایا ھے کیونکہ وہ کچھ ردی پیپر بیچنا چاھتی ھیں اور میرے پاس ترازو نہیں ھے میں نے بغیر تصدیق کئے ترازو اسے تھما دیا ادھر سودا تولنے کیلئے مجھے پریشانی ھورھی تھی، جب کافی دیر ھوگئی تو مجھے فکر ھوئی کہ کہیں کچھ گڑبڑ تو نہیں فوراً دکان سے اتر کر کسی دوست کو شاید بٹھا کر گھر بھاگا، اماں سے پوچھا کہ آپ نے ترازو منگایا تھا، انہوں نے کہا کہ نہیں، میری تو جان ھی نکل گئی اس سے پہلے کہ وہ کچھ کہتیں میں سرپٹ دوڑا اور اس کباڑئیے کو دھونڈنے نکل گیا، ایک محلے سے دوسرے محلے کافی دور نکل گیا لیکن اس کا کہیں پتہ نہیں چلا، میں بہت پریشان اب کیا کروں اباجی کو کیا جواب دوں گا، میں اب گھر جانے سے بھی ڈر رھا تھا !!!!!!!!!!!

وھاں اباجی اور دوسرے لوگ پریشان مجھے ڈھونڈتے پھر رھے تھے اور والدہ بےچاری گھر پر میرے لئے رو رھی تھیں !!!!!!!!!!!!!

خوامخواہ ایک نئی مصیبت گلے لگالی، تھک ھار کر واپس اپنے گھر کی طرف واپس نکلا، اس کمبخت کباڑی والے کو ڈھونڈتے ڈھونڈتے جو میرا ترازو دھوکے سے میری دکان سے لے گیا تھا، شام ھونے کو آئی تھی اور میں کافی دور نکل گیا تھا، خیر واپس گھر پہنچتے پہنچتے تقریباً عشاء کا وقت ھوچلا تھا، کچھ تو سمجھے کہ میں ڈر کر شاید چھپ گیا ھوں، جب میں گھر پہنچا تو سب کی جان میں جان آئی، بہرحال والد صاحب کو غصہ تو نہیں آیا، میں تو ڈر ھی گیا تھا کہ کہیں گھر پر جا کر ڈانٹ ھی نہ پڑے، لیکن شکر ھے کہ سب نے گلے لگالیا،
دوسرے دن اباجی نیا ترازو لے آئے، پھر سے وھی رات اور دن معمول کے مطابق گزرنے لگے،روزانہ کی طرح ھر شام کو پھر وھی دوستوں کے ساتھ کھیل میں مشغول ھوگئے، ساتھ گھر پر جو اباجی نے بکریاں پالی ھوئی تھیں، انھیں بھی نزدیکی میدان میں لے جاتا اور ساتھ ھی اپنے دوستوں کے ساتھ کھیلتا بھی رہتا، مغرب ھوتے ھی واپس بکریوں کو لے کر واپس گھر آجاتا -

پانچویں کلاس کے سالانہ امتحاں بھی نزدیک تھے، اور ھم چند دوست جو پانچویں کاامتحان دے رھے تھے اپنی بڑی باجی کی نگرانی میں خوب زور شور سے امتحان کی تیاری میں لگ گئے وہ شاید اس وقت چھٹی کلاس میں تھیں اور چھوٹی شاید پانچویں کلاس میں پڑھ رھی تھی، ھم سب نے اب ایک اپنا کھیلنے اور پڑھنے کا شیڈول بنا لیا تھا، کھیل کا وقت ھم سب نے بہت مختصر کرلیا تھا، اور سب کچھ بڑی کی ھدایت پر ھی ھوتا تھا -

سالانہ امتحان ھوگئے اور اس دفعہ میرے ساتھ ساتھ باقی سب بچے جو پڑھ رھے تھے بہت اچھے نمبروں سے پاس ھوئے اور بہت کم ھی بچے تھے جو ناکام رھے اور انہوں نے ھمارے ساتھ تیاری بھی نہیں کی تھی اور کئی تو بالکل پڑھنے جاتے ھی نہیں تھے، وہ کیا کامیاب ھونگے -

دل میں ایک بہت خوشی تھی کہ اب میں نئے اسکو ل میں جاؤنگا اور والد صاحب بھی میرے اس نتیجہ کی وجہ سے بہت خوش تھے، چھوٹے بہن اور بھائی تو ابھی پرائمری میں چھوٹی کلاسوں میں ھی تھے والد صاحب مجھے سیکنڈری اسکول لے گئے اور وھاں دو تین دن کی تگ و دو کے بعد میرا ٹیسٹ ھوا اور میرا داخلہ چھٹی کلاس میں ھوگیا، مجھے بہت خوشی ھوئی،

1960 کا زمانہ اور10 سال کی عمر، ایک نیا اسکول، نئی کلاس، اور نئے دوست !!!!!! مگر چلو شکر ھوا کہ پرائمری اسکول کا دور ختم ھو گیا،!!!!!!!!
__________________
جاری ھے،!!!!!
عبدالرحمن سید آف لائن ہے   یہ اقتباس دیں
اس رکن نے اس مفید پوسٹ کے لیے عبدالرحمن سید کا شکریہ ادا کیا ہے
پرانا 30-01-10, 09:51 AM   #10
عبدالرحمن سید
-: محسن :-
 
عبدالرحمن سید کی نمائندہ تصویر
 
تاریخ شمولیت: 2007-11-06
قیام: Jeddah, Saudi Arabia.
جنس: male
عمر: 63
پوسٹس: 201
پوائنٹس: 473
عبدالرحمن سید عبدالرحمن سید عبدالرحمن سید عبدالرحمن سید عبدالرحمن سید عبدالرحمن سید عبدالرحمن سید عبدالرحمن سید عبدالرحمن سید عبدالرحمن سید عبدالرحمن سید
عبدالرحمن سید کی طرف بذریعہ MSN  پیغام ارسال کریں عبدالرحمن سید کی طرف بذریعہ yahoo پیغام ارسال کریں
میری اپنی بھولی بسری یادیں،!!! لڑکپن کا دور-1

دل میں ایک بہت خوشی تھی کہ اب میں نئے اسکو ل میں جاؤنگا اور والد صاحب بھی میرے اس نتیجہ کی وجہ سے بہت خوش تھے، چھوٹے بہن اور بھائی تو ابھی پرائمری میں چھوٹی کلاسوں میں ھی تھے والد صاحب مجھے سیکنڈری اسکول لے گئے اور وھاں دو تین دن کی تگ و دو کے بعد میرا ٹیسٹ ھوا اور میرا داخلہ چھٹی کلاس میں ھوگیا، مجھے بہت خوشی ھوئی،

1960 کا زمانہ اور10 سال کی عمر، ایک نیا اسکول، نئی کلاس، اور نئے دوست !!!!!!




آج میرا چھٹی کلاس میں ایک نئے سیکنڈری اسکول میں پہلا دن تھا، گھر سے اسکول تو کچھ فاصلے پر تھا، لیکن خوشی میں پیدل آتے ھوئے اتنی جلدی اسکول پہنچ گیا کہ پتہ ھی نہیں چلا، پہنچتے ھی اپنے اسکول کی عمارت کی طرف دیکھا تو مجھے ایک فخر سا محسوس ھورھا تھا، کیونکہ ایک تو بہت بڑی ڈبل اسٹوری بلڈنگ اور دوسرے اس وقت کے لحاظ سے ایک بہت خوبصورت علاقے میں اس کا وجود تھا، ھر طرف خوبصورت بازار اور سجی سجائی دکانیں اور ساتھ ھی ایک سے ایک حسین بنگلے، اور نذدیک ایک ایرکنڈیشنڈ سینما گھر بھی تھا -

نئے سیکنڈری اسکول میں جاکر تو ایک بالکل ھی نیا ماحول پایا، میں نے اپنی کلاس کے دروازے کے اوپر نام ششم (ب) لکھا دیکھا، کیا ایک عجیب سی خوشی تھی، میں خود کو بھی ایک بڑا بڑا محسوس کر رھا تھا، نیا نیا اسکول کا یونیفارم، قمیض کی جیب پر اسکول کا ایک خوبصورت مونوگرام بنا ھوا، نئے چمکتے کالے جوتے، بار بار ان جوتوں پر سے گرد بھی جھاڑتا رھتا، بچپن سے ایک عادت سی تھی اپنے آپ کو صاف ستھرا رکھنے کی، اس میں میری والدہ کا بہت ہاتھ تھا وہ ھمیشہ ھر شام کو میری اسکول کی تیاری مثلاً یونیفارم، جوتے وغیرہ کو اچھی طرح پہلے سے ھی چیک کرلیتی تھیں اور میں بھی ٹایم ٹیبل کے مطابق دوسرے دن کیلئے اپنے اسکول کے بستے کو تیار کرلیتا تھا -

کلاس روم کی کرسیاں اور میزیں بھی ایک ترتیب سے چار لاٰئنوں میں لگی ھوئی تھیں، وہاں اسکول بلڈنگ کے درمیان ایک خوبصورت سرسبز پارک بھی تھا، غرض کہ اسکول کی ھر چیز مجھے اچھی لگی، ایک اچھی بات تھی کہ لڑکوں کے اسکول کا وقت دوپہر ایک بجے سے شروع ھوتا تھا اور لڑکیوں کو صبح صبح سات بجے کے قریب پہنچنا ھوتا تھا - اسکول کی بلڈنگ کے چاروں طرف ایک بہت لمبی چوڑی باونڈری وال تھی، جہاں ایک طرف کافی پھیلا ھوا صاف ستھرا میدان تھا جہاں ھاف ٹائم میں یا پی ٹی کے پیریڈ میں لڑکے مختلف کھیلوں سے لطف اندوز ھوتے تھے،

میں نے اس اسکول میں کافی محنت سے پڑھائی کی یہاں پانچ سال کا عرصہ ایک مستقل مزاجی سے اور خوب محنت کرکے گزارا اور میٹرک سیکنڈ ڈویژن سے پاس کیا، جو میرا ایک رکارڈ رھا تھا کہ ایک ھی اسکول میں خوب دل لگا کر محنت سے 1960 سے لیکر 1965 تک بغیر کسی وقفہ اور کسی مشکل کے، پورے پانچ سال اطمنان سے مکمل کئے، کچھ تھوڑی بہت شرارتوں کا بھی ساتھ رھا لیکن وہ قابل قبول تھا -

ان پانچ سالوں میں 10 سال کی عمر سے لیکر 15 سال کی عمر تک کس طرح میں نے اپنی زندگی کا سفر طے کیا، بچپن سے لڑکپن کی طرف میری زندگی نے کیا کیا دلچسپ موڑ لئے، وہ سب اگے لکھوں گا، مگر ھو سکتا ھے کہ وقت اور تاریخ کا صحیح اندازہ نہ ھو کیونکہ ذہن میں تو سب کچھ اچھی طرح محفوظ ھے، لیکن حالات اور واقعات کا صحیح وقت کا تعین کرنا ذرا مشکل ھوگا، میں اپنی کوشش ضرور کرونگا کہ ایک بہتر اور صحیح تسلسل کو قائم رکھ سکوں !!!!!!!!!!!!!
پوچھتے پوچھتے جب اپنی نئی کلاس میں جیسے ھی اندر داخل ھوا، کیا دیکھتا ھوں کہ آگے کی تمام سیٹوں پر پہلے ھی سے لڑکوں نے قبضہ کیا ھوا تھا اور زیادہ تر بھاری بھرکم، شاید ان کا کھاتے پیتے گھرانے سے تعلق تھا، اس لئے بغیر کچھ شکوہ کئے میں خاموشی سے پیچھے نکل گیا اور ایک مجھ جیسے ھی دبلے پتلے لڑکے کے اشارہ پر اسکے ساتھ بیٹھ گیا، اور وہ ھی وہاں پر میرا پہلا دوست بنا، ایک ایک ڈیسک پر تین لڑکے ایک ساتھ بیٹھنے کی گنجائش تھی، پھر ایک اور معصوم سا لڑکا ھماری ھی طرح چشمہ لگائے کلاس میں داخل ھوا، وہ بھی اگے جگہ نہ پا کر پیچھے ھماری ھی طرف آتا ھوا دکھائی دیا، اسے بھی ھم نے اشارہ کرکے اپنے پاس ھی جگہ دے دی -

مگر افسوس کی بات یہ تھی کہ ھم تینوں کی ڈیسک سب سے پیچھے تھی اور سامنے بلیک بورڈ بھی صحیح طرح نطر بھی نہیں آرھا تھا، جو چشمے والا دوست تھا اسے بھی نظر نہیں آرھا تھا تو ھم دونوں کو کیا نظر آتا، خیر کچھ ھی دیر میں کلاس ٹیچر، جن سے پہلے ھی والد صاحب کے ساتھ ایک چھوٹا سا تعارف بھی ھوچکا تھا، جناب شیخ سعید صاحب ایک گریں سا گؤن پہنے اندر تشریف لے آئے، فوراً تمام کلاس کھڑی ھوگئی، انہون نے بیٹھنے کا اشارہ کیا اور سب سے پہلے انہوں نے حاضری لی او پھر باری باری پوری کلاس کا تعارف لیا ساتھ ھی اپنا بھی مختصراً تعارف کرایا، لمبے سے قد اور سر کے اوپر آگے سے کچھ گنجا پن، مگر لگتے ھنس مکھ تھے کیونکہ انہوں نے جس طرح ہنستے مسکراتے ھوئے اپنا تعارف کرایا ھم سب بہت خوش تھے، وہ کلاس ٹیچر کے ساتھ انگلش کے شعبہ کے انچارج بھی تھے -

ھر ایک گھنٹے کے بعد ایک نئے مضمون کے ٹیچرز آتے گئے اور سب کے ساتھ اپنا بھی تعارف کراتے رھے، ھمیں اپنے حساب سے ایک اردو کے ٹیچر جن کا نام حسبٌر صاحب اور ایک تاریخ کے ٹیچر جنہیں شاہ صاحب کہتے تھے، دونوں بھی کلاس ٹیچر سعید صاحب کے بعد بہت زیادہ پسند آئے، کیونکہ یہ تینوں بہت زیادہ لڑکوں میں گھل مل جاتے اور ہنس ہنس کر باتیں کرتے تھے، باقی کچھ زیادہ تاثر نہ چھوڑ سکے، دو تین تو بالکل خرانٹ لگتے تھے اور کچھ تو بس نہ اچھے لگے اور نہ ھی برے بس درمانے سے تھے،

بیچ میں ایک وقفہ آدھے گھنٹہ کا بھی ھوا، جس میں ھم تینوں دوستوں نے باھر جاکر اپنی اپنی پسند کی چیزیں لیں اور اسکول کے گارڈن میں بیٹھ کر اپنا اپنا تفصیلی تعارف کرانے لگے !!!!!!
---------------------------------
اب تو ھم تینوں بہت خوش تھے، کیونکہ ھم اب ایک ساتھ ایک ھی ڈیسک پر ایک لائن میں ھی بیٹھتے تھے، اور اتفاق سے ھم تینوں ھم عمر بھی تھے، اسکول ساتھ آنا، ساتھ اسکول میں ھی کھیلنا اور ساتھ ھی ھاف ٹائم میں ایک دوسرے کا ساتھ کھانا پینا اور واپسی میں بھی ساتھ ساتھ رھتا تھا، ایک کا نام شاھد لطیف اور دوسرے کا نام انجم عارف تھا، بعد میں ھمارے ساتھ اور بھی اچھے دوستوں کا اضافہ ھوا جن کا نام کنور آفتاب احمد، فخرعالم، پرویز حمایت، حسیب بیگ، شعیب احمد، حفیط اللٌہ، بدرالمغیز، قابل ذکر ھیں، افسوس اس بات کا ھے کہ کچھ نے تو ھمارا ساتھ آٹھویں کلاس میں پہنچنے سے پہلے ھی چھوڑ دیا تھا اور کچھ ویسے ھی نویں کلاس میں اختیاری مضامین کے جوائن کرنے کی وجہ سے بھی کلاسیں الگ الگ ھوگئی، اور جو دو تیں اچھے دوست رہ بھی گئے تھے وہ بھی میٹرک کرنے کے بعد ایسے غائب ھوئے کہ آج تک مجھے ان سے ملنے کا شدید ارمان ھی رھا ھے، کچھ پرانے دوست ملے بھی لیکن بس کچھ شادی کے بعد اتنی کسی کو فرصت ھی نہ ملی کہ ایک دوسرے کی خیریت معلوم کرتے، لیکن آگے کالجوں اور سروس کے بعد دوست بنے بھی اور بجھڑتے بھی رھے، لیکن جب بھی کسی وقت کا کوئی پرانا ساتھی ملتا ھے تو بہت ھی خوشی ھوتی ھے اور قلبی سکون ملتا ھے -

بہرحال اس اسکول میں آخر تک بہت ھی بہتریں دن گزارے، اس اسکول کی خاص بات یہ تھی کہ وہاں کی انتظامیہ بہت بہتر طریقہ سے طالب علموں کو بہتر پڑھائی اور بہتر سے بہتر تفریحات بھی فراھم کرتی تھی، دو چار کے علاؤہ باقی تمام ٹیچرز بہت زیادہ خوش مزاج ساتھ ھی پڑھانے کےبہترین ماھروں میں سے تھے، ان سب کے پڑھانے کا انداز اتنا شاندار ھوتا تھا کہ دل نہیں چاھتا تھا کوئی بھی ان کی کوئی کلاس مس کردیں اور انکا پڑھایا ھوا سبق ھم کبھی نہیں بھولتے تھے -

اور ھر اسلامی تہواروں کے لئے خاص طور سے انتظام کیا جاتا تھا اور عید میلادالنبی کیلئے تو بہت ھی شاندار اور بڑی شان و شوکت سے منایا جاتا تھا، بڑے بڑے عالم اور مشھور نعت خواں کے علاوہ اسکول سے بھی لڑکوں کو پڑھنے کی دعوت دی جاتی تھی اور مہمان خصوصی بھی آکر بہت حوصلہ افزائی کرتے تھے -

اس کے علاوہ اس اسکول کی انتظامیہ تفریحات کا ساتھ ساتھ مختلف مقابلوں میں حصہ لینے کیلئے قابل لڑکوں اور لڑکیوں کی حوصلہ افزائی بھی کرتی تھی اور ھر ضرورت بھی ساتھ پوری کرتے تھے۔ ھر قومی دن پر مارچ پاسٹ کی سلامی کیلئے سب کو تیاری کے ساتھ بھیجا جاتا تھا اسکول کا اپنا بینڈ گروپ بھی تھا، جو مارچ پاسٹ کے وقت سب سے آگے اپنے اسکول کی نمایندگی میوزک کے ساتھ سلامی کے چبوترے کا سامنے سلامی دیتے ھوئے گرر رھا ھوتا تھا، کیا خوبصورت اسپیشل یونیفانم تیار کئے جاتے تھے، لڑکیوں کا گروپ الگ ھی ھوتا تھا، اور اگر کسی باھر ملک سے کوئی سربراہ آتا تھا تو ھمیں مکمل بینڈ کے ساتھ سڑک کے کنارے اپنے ملک کی جھنڈیوں کے ساتھ ساتھ دوسرے ملک کی جھنڈیوں کو تھما کر آنے والے کے استقبال کیلئے کھڑا کردیا جاتا تھا، اور اس وقت تمام سربراہان اوپر سے کھلی لمبی کار میں آتے تھے، اور ھاتھ ہلا ہلا کر سب کو سلامی کا جواب دیتے تھے، بہت خوبصورت اور حسین منظر لگتا تھا، اس وقت مجھے اچھی طرح یاد ھے کہ کھلی کار میں ھم سب نے اپنے سامنے کئی دفعہ صدر فیلڈ مارشل جرنل ایوب خاں کے ساتھ تقریبا ھر ملک کے سربراہان کو دیکھا، کبھی کبھی تو وہ اپنے مہمان کے ساتھ کار رکوا کر ھم سے ھاتھ ملانے اور شکریہ ادا کرنے آجاتے تھے، اس وقت کتنی خوشی ھوتی تھی کہ ایک ملک کا صدر بالکل ھمارے روبرو کھڑے ھو کر ھم سب سے مل رھے ھیں اور ساتھ دوسرے ملک کے سربراہ بھی ساتھ ھوتے تھے،

ھمیں کیا ھر اسکول کو پہلے ھی سے اطلاع دے دی جاتی تھی کہ ھم نے مین روڈ پر استقبال کےلئے جانا ھے کوئی جگہ بھی خالی نہیں رھتی تھی، تمام سڑکوں پر رنگ برنگی جھنڈیاں لئے چھوٹے بڑے اپنے ملک میں آنے والوں کا عظیم الشان استقبال کرتے نظر آتے تھے-
-----------------------------------
اب کچھ تھوڑا ذرا اسکول کے بعد محلے کے یک جہتی اور رھن سہن کے بارے میں کچھ روشنی ڈال لیں تاکہ کچھ تو ھم اس وقت اور اس زمانے کی اچھائیوں سے سبق لے سکیں، اس وقت بھی وہی لوگ تھے اور آج بھی ھم وہی ھیں، ھم کیوں نہیں اچھے بن سکتے ایک دوسرے کے ساتھ مل جل کر کیوں نہیں رہ سکتے، ایک دوسرے کی کیوں مدد نہیں کرسکتے، پہلے تو فقیر بھی ایک دوسرے فقیر کی مدد کیا کرتے تھے جبکہ اس وقت تو اتنے وسائل اور سہولتیں بھی موجود نہیں تھیں -

اُس وقت کہ لحاظ سے یہ بہت بڑی بات تھی کہ ھمارے لئے ایک ذرا سی خوشی بھی بہت معنی رکھتی تھی اگر ایک پل بھی اگر چھوٹی سی خوشی کا مل جائے تو وہ اپنے حصٌہ کی خوشی بھی لوگوں میں بانٹتے پھرتے تھے، ھم تو پورے محلے کو اطلاع دے دیتے تھے کہ کل بڑے مین روڈ سے صبح 10 بجے صدر صاحب فلانے ملک کے بادشاہ کے ساتھ کھلی کار میں گزریں گے اور ھمارا اسکول کا بینڈ، اسکاوٹس اور کیڈٹس کے ساتھ تمام اسکول وھاں پر موجود ھوگا - ھمارے سے پہلے ھی تمام محلے کے بچے اور بڑے یہاں تک کہ ضعیف لوگ بھی سڑک پر بن سنور کر پہنچ جاتے اور بازار سے جھنڈیاں بھی اپنے پاس سے خرید کر پہنچ جاتے، جیسے کے کسی میلے میں جارھے ھوں -

چاھے کہیں میلہ لگا ھو، یا کہیں جشن عید میلاد النبی کی تقریب ھو، یا کہیں پر کوئی کسی قوالیوں کا مقابلہ ھو، یا کوئی جلسہ جلوس ھو، ھر کوئی یہی چاھتا تھا کہ یہ خبر سب سے پہلے محلے میں جاکر ھر گھر میں اعلان کرادے، اور وقت سے پہلے سب لوگ ایک دوسرے کو اکھٹا کرکےجوق در جوق، ھر محلے سے اکثریت میں پہنچ جاتے تھے، اس کے علاوہ عید اور بقرعید پر ھر خوشیاں ایک ساتھ بانٹتے تھے کوئی بھی فرقہ واریت یا تعصبیت کی کوئی وباء نہیں تھی، محرم کے مہینے میں ھر طبقے کے لوگ جوق در جوق جلسے اور جلوسوں میں اکثریت سے احترام اور ادب کے ساتھ شریک ھوتے تھے اور شہر میں بڑی بڑی بلڈنگوں میں رھنےوالے بھی اپنی اپنی چھتیں فیملیوں کے لئے کھول دیتے تھے اور عورتیں اور بچے آرام سے عَلم اور تعزیئے، زولجناح اور سوگواروں کے جلوسوں کو بہت احترام اور عقیدت سے دیکھا کرتے، پورے پورے محلے ان دنوں خالی ھو جایا کرتے تھے،

آپ اگر مساجد میں نمازیوں کی بات کریں تو، میری ذاتی مشاھدات میں جو بات ھے وہ یہ کہ ھمارے محلے کی اس چھوٹی سی مسجد میں تقریباً ھر نماز میں تمام محلے کے تمام مرد حضرات اور ساتھ بچے بھی باجماعت شامل ھوتے تھے اگر کوئی کسی وجہ سے حاضر نہیں ھوتا تھا تو نماز کے بعد لوگ اس کے گھر جاکر اسکی خیریت بھی دریافت کرتے تھے، ھم بچے چھوٹے بڑے سب سے پہلے مسجد جاکر وضو کرکے نماز کےلئے تیار ھوتے تھے، کچھ تو وہیں کے مولوی صاحب سے قران کا درس اور اسلامی تعلیم لیا کرتے تھے فجر کے بعد ھر نماز سے پہلے اور بعد مسجد کے مولانا صاحب بچوں کو شیڈول کے مطابق درس دیا کرتے تھے اور مولوی صاحب کو تمام محلے والے مل کر ایک جگہ ایمانداری سے چندہ جمع کرکے اس میں سے ھر ماہ کچھ نہ کچھ انکے گزارے کیلئے دیا کرتے تھے، جو بچ جاتا تھا وہ مسجد کی اصلاح اور ضرورت کی چیزیں خریدی جاتی تھیں، اس کے علاوہ تینوں وقت کا کھانا کسی نہ کسی گھر سے پہنچ جاتا تھا اور ھر بچوں کے ختم قران کی تقریب اور عید بقر عیدکے موقع پر مولانا صاحب کے لئے کپڑوں‌ کےجوڑے بھی پہنچ جاتے تھے، اس وقت مولانا صاحب کی بہت عزت ھوتی تھی،

محلے کی صفائی اور فلاح و بہبود کے لئے بھی بڑے بڑے بزرگ مل کر تمام فیصلے کرتے تھے، آپس کے جھگڑے وہیں پر ختم کردیتے تھے اور کسی کو بھی ان بزرگوں کے کسی بھی فیصلے پر کوئی اعتراض نہیں ھوتا تھا کیونکہ ھر کوئی تمام بزرگوں کا تہہ دل سے احترام کرتا تھا -

ھمارے گھر کا صحن کچھ بڑا تھا اس لئے اکثر کسی کے ھاں اگر کوئی تقریب ھو تو اسکا اھتمام ھمارے صحن میں ھوتا تھا اور والد صاحب زیادہ تر لوگوں کے ساتھ مل کر ھر تقریب کی رونق بڑھا دیتے تھے، آج تک اس محلے میں جو لوگ ھیں سب والد صاحب کو بہت یاد کرتیے ھیں، یہ سب کچھ ھمارے محلے کا ھی حال نہیں تھا اُس وقت پاکستان کے ھر محلے کی یہی حالت تھی اگر آپ میں سے کوئی بھی اپنے بزرگوں سے پوچھیں تو میرے اس ذکر کو وہ 100٪ صحیح قبول کریں گے،

مہمانداری کے حساب سے اگر دیکھا جائے، تو ھر کسی کا مہمان پورے محلے کا مہمان ھوتا تھا اور کئی کئی دن تک مہمان ٹھرا کرتے لیکن کسی ایک کا بوجھ نہیں بنتے تھے وہ مہمان تقریباً ھر گھر کا ایک یا دو وقت کے کھانے پر مدعو ضرور ھوتا تھا، اور مجھے تو اگر کوئی گھر پر مہمان آئے تو کچھ زیادہ ھی خوشی ھوتی تھی اور والد صاحب تو اکثر کہتے تھے کہ مہمان اللٌہ کی رحمت ھوتا ھے اور مہمان کے آنے سے گھر میں برکت ھوتی ھے، اور یہ بھی ان کی زبانی سنا کرتے تھے کہ کسی بزرگ کے پاس ھر روز کھانے پر کوئی نہ کوئی مہمان ضرور ھوتا تھا کبھی کوئی مہمان ساتھ نہیں ھوتا تو ڈرتے تھے کہ کہیں کوئی رزق میں کمی نہ ھوجائے، یہی حال سب کا اس وقت یھی خواھش ھوتی تھی کہ ان کے ساتھ کھانے پر کوئی نہ کوئی مہمان ضرور ھو اور لوگ بھی مہمانوں کی خاطر مدارات میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے تھے،

اس زمانے میں لوگوں میں فلمیں دیکھنے کا بھی بہت شوق ھوتا تھا اور ھر ملٹری کے علاقے میں ھر ھفتہ کی رات کو 4 آنے فی کس کے حساب سے ایک اردو یا پنجابی فلم ضرور دکھاتے تھے، اُس وقت کی فلمیں بہت ھی سلجھی ھوئی، اور سبق آموز، مگر بلیک اینڈ وہائٹ ھوتی تھیں، اور لوگوں کے پاس ان چیزوں کے علاوہ کوئی اورتفریح بھی نہیں تھی، ٹیلیوژن تو دور کی بات ھے، ریڈیو تک لوگوں کے پاس نہیں ھوتا تھا، کئی لوگ تو اس وقت بھی ریڈیو کے ڈراموں اور فلموں کے بارے میں بہت برا کہتے تھے اور فلمیں دیکھنے اور ریڈیو سننے پر بہت اعتراض بھی کرتے تھے اور حرام قرار دیتے تھے، لیکن دیکھنے والے ضرور دیکھتے تھے اس میں ھماری فیملی بھی شامل تھی اور ھم بھی والدیں کے ساتھ مہینے میں ایک دفعہ ضرور فلم دیکھنے ملٹری کے علاقہ میں جاتے تھے،!!!!!

اس کہانی کے سلسلے میں آپ اپنی اچھی یا بُری جو بھی رائے ھو، بلا جھجک دے سکتے ھیں تاکہ میں اپنی تحریر کو اپنے پڑھنے والوں اور قدردان دوستوں کے مشوروں کے مطابق کچھ کہانی کی ترتیب میں یا کسی درستگی کے لئے کوئی تبدیلی لاسکوں تو مجھے بہت خوشی ھوگی!!!!!!!!!!!!!!

جاری ھے،!!!!!
عبدالرحمن سید آف لائن ہے   یہ اقتباس دیں
ان 2 ارکان نے اس مفید پوسٹ کے لیے عبدالرحمن سید کا شکریہ ادا کیا ہے
پرانا 30-01-10, 10:08 AM   #11
عبدالرحمن سید
-: محسن :-
 
عبدالرحمن سید کی نمائندہ تصویر
 
تاریخ شمولیت: 2007-11-06
قیام: Jeddah, Saudi Arabia.
جنس: male
عمر: 63
پوسٹس: 201
پوائنٹس: 473
عبدالرحمن سید عبدالرحمن سید عبدالرحمن سید عبدالرحمن سید عبدالرحمن سید عبدالرحمن سید عبدالرحمن سید عبدالرحمن سید عبدالرحمن سید عبدالرحمن سید عبدالرحمن سید
عبدالرحمن سید کی طرف بذریعہ MSN  پیغام ارسال کریں عبدالرحمن سید کی طرف بذریعہ yahoo پیغام ارسال کریں
میری اپنی بھولی بسری یادیں،!!! لڑکپن کا دور-2

اس زمانے میں لوگوں میں فلمیں دیکھنے کا بھی بہت شوق ھوتا تھا اور ھر ملٹری کے علاقے میں ھر ھفتہ کی رات کو 4 آنے فی کس کے حساب سے ایک اردو یا پنجابی فلم ضرور دکھاتے تھے، اُس وقت کی فلمیں بہت ھی سلجھی ھوئی، اور سبق آموز، مگر بلیک اینڈ وہائٹ ھوتی تھیں، اور لوگوں کے پاس ان چیزوں کے علاوہ کوئی اورتفریح بھی نہیں تھی، ٹیلیوژن تو دور کی بات ھے، ریڈیو تک لوگوں کے پاس نہیں ھوتا تھا، کئی لوگ تو اس وقت بھی ریڈیو کے ڈراموں اور فلموں کے بارے میں بہت برا کہتے تھے اور فلمیں دیکھنے اور ریڈیو سننے پر بہت اعتراض بھی کرتے تھے اور حرام قرار دیتے تھے، لیکن دیکھنے والے ضرور دیکھتے تھے اس میں ھماری فیملی بھی شامل تھی اور ھم بھی والدیں کے ساتھ مہینے میں ایک دفعہ ضرور فلم دیکھنے ملٹری کے علاقہ میں جاتے تھے،!!!!!

مجھے بہت ھی زیادہ خوشی ھورھی تھی، جب ایک نئے گورنمنٹ بوائز سیکنڈری اسکول نمبر 2 سے اپنی چھٹی جماعت کا پہلا دن گزار کر آرھا تھا، کافی لمبا راستہ تھا، جلدی جلدی خوشی سے اپنے قدم بڑھا رھا تھا، کچھ دیر تک تو میرے نئے دوستوں نے ساتھ دیا، ایک موڑ پر پہنچ کر ایک دوسرے کو اللٌہ حافظ کہا اور سب اپنے اپنے علاقے کی طرف چل دیئے، میں اپنے گلے میں بستہ ٹانگے ھوئے تیز تیز قدم بڑھاتا ھوا اپنے محلے کی طرف قدم بڑھا رھا تھا، فاصلہ تھا کہ ختم ھی نہیں ھورھا تھا، میں چاھتا تھا کہ گھر پہنچوں اور سب کو اپنے اسکول میں گزارا ھوا آج کے پہلے دن کے بارے میں بتاوں،

جیسے ھی گھر پہنچا شام ھوچکی تھی، ھانپتا ھوا، بغیر یونیفارم بدلے ھوئے شروع ھوگیا، ساری اسکول کی شروع سے روداد سنادی، یہ دیکھے بغیر کے گھر میں کون کون ھے، اور میں اتنا خوش تھا کہ بیان سے باھر ھے، پرائمری کے ایک لمبے سفر سے فارغ ھو کر اب سیکنڈری اسکول میں داخل ھونا بھی میرے لئے ایک فخر کی بات تھی -

وھاں گھر میں والدین اور چھوٹے بہن بھائیوں کے علاوہ بھی ھمارے محلے کی نئی خالہ ابنی دونوں بیٹیوں کے ساتھ موجود تھیں اور اس طرح میرے چہکنے پر ھنس بھی رھی تھیں، میں نے ایک دم خاموش ھوکر سلام کیا اور بھر باھر نکل گیا تاکہ اپنے دوسرے محلے کے دوستوں کو بھی آج کا واقعہ سناوں، سب کو اکھٹا کیا اور کسی کھیل میں حصہ لینے سے پہلے ھی ساری اسکول میں گزری ھوئی کہانی دھرا دی، سارے بچے بھی بہت انہماک سے سن رھے تھے، جیسے میں کوئی بہت بڑے مشن سے واپس آیا ھوں، میں ھی پہلا لڑکا تھا جس نے اس اسکول میں چھٹی کلاس میں داخلہ لیا تھا باقی تمام محلے کے بچے پرائمری اسکول سے ابتک فارغ نہیں ھوئے تھے اگر کوئی پڑھتے بھی تھے تو وہ بہت بڑے لڑکے تھے جو شاید نویں اور دسویں کلاس میں ھونگے اور ویسے بھی وہ ھماری بچہ پارٹی میں نہیں تھے اس لحاظ سے میں سب کا لیڈر بنا ھوا تھا-

والد صاحب نے وہ دکان جو محلے میں کھولی تھی، مجبوراً انہیں بند کرنی پڑی، کیونکہ ایک تو لوگوں نے لیا ھوا پرانا اب تک ادھار چکایا نہیں تھا دوسرے میرے اسکول کے ٹائم ٹیبل کے حساب سے شام کو دکان کھولنا ممکن نہ تھا، کچھ میں نے بھی دکان سے کافی لوگوں کو بغیر لکھے کافی ادھار دیا ھوا تھا اور کچھ چند لوگ زیادہ تر عورتیں اپنے بچوں کے ساتھ مجھے بے وقوف بنا کر یا اپنی دکھ بھری داستان سنا کر مجھ سے ادھار سودا لے جاتیں اور میں اباجی کے ڈر سے رجسٹر میں لکھتا ھی نہیں تھا، اور واقعی بہت سے لوگ بہت ھی زیادہ غریب تھے اور ان میں زیادہ تر کا عیسائی مذہب سے تعلق تھا جنکا ھمارے محلے کے ساتھ ھی مگر ایک الگ سے آبادی تھی، اور ھم سب مسلمان بھی ان سب کا ھر لحاظ سے خیال بھی رکھتے تھے -

بہرحال یہ اچھا ھی ھوا کہ اس سے پہلے کہ کوئی زیادہ نقصان ھوتا اباجی نے مکمل طور سے دکان کو خیرباد کہہ دیا مگر اپنا ادھار وصول کرنے ھر پہلی تاریخ کے آتے ھی رجسٹر اٹھائے ادھار والوں کا دروازہ کھٹکھٹانے ضرور پہنچ جاتے، کچھ لوگوں سے تو ادھار وصول بھی ھوگیا لیکن باقی کا خود اباجی نے بعد میں تنگ آکر میرے خیال میں یا تو معاف کردیا یا شاید بھول ھی گئے اور روزمرہ کے معمول پر آگئے،

اب تو صبح صبح اٹھنے کی اتنی پریشانی نہیں تھی کیونکہ میرے اسکول کا وقت دوپہر کا تھا لیکن ھم سب صبح وقت پر ھی اٹھتے تھے اور والدیں تو فجر کی نماز سے ھی جاگ رھے ھوتے تھے والد صاحب تو قران کی تلاوت میں مصروف رھتے اور کچھ ایک دو حمد و نعت بلند آواز سے پڑھتے تھے اور اڑوس پڑوس کے لوگ بھی بہت شوق سے سنتے تھے بعض تو ان کے سامنے بیٹھ کر بڑے ذوق و شوق سے سنتے، اور ان کا روز کا معمول تھا، فجر کی نماز کے بعد سے دفتر جانے تک، اور انہوں نے اپنی عمر کے آخری وقت تک اپنے اس روز کے معمول کو نہیں چھوڑا اور اکثر گھر کے صحن میں اور مسجد میں بھی میلاد نبی شریف کا باقائدہ اھتمام کراتے تھے اور اس میں تمام محلے کے لوگ شریک ھوتے تھے،اس کے علاوہ عورتیں بھی مل کر ایک الگ سے گھروں میں میلاد شریف کا انتظام کرتی تھیں-

والد صاحب کی ایک نعت ابھی تک میرے کانوں میں گونجتی ھے،

وہ نبیوں میں رحمت لقب پانے والا ٪٪٪ مرادیں غریبوں کی برلانے والا

چھوٹے بہن بھائی صبح کے اسکول میں جاتے تھے، میں چونکہ گھر میں سب سے بڑا تھا اس لئے گھر کے چھوٹے موٹے کام کی ذمہ داری بھی مجھ پر ھی تھی، میرے روز کے معمول میں سے پہلا کام گھر کا سارا پانی بھرنا پڑتا تھا اور پانی کچھ دور کے فاصلے سے لانا پڑتا تھا، محلے کے اور بھی بچے اور بچیاں بھی میری نگرانی میں میرے ساتھ پانی بھرنے جاتے تھے، ایک تو کچھ لوگوں کو مجھ پر بھروسہ بھی تھا اور میں بھی سب کو آوازیں دیتا ھوا نکلتا تھا
اور خالہ کی بڑی بیٹی بھی کبھی کبھار ھمارے ساتھ ھوتی تھیں، جنہیں ھم سب ملکہ باجی کہتے تھے اور ان کی چھوٹی بہن تھی جس کا نام تو شہزادی تھا لیکن ھم سب انہیں زادیہ کے نام سے بلاتے تھے، جب یہ دونوں ھوتی تھیں تو میری اجارہ داری ختم ھوجاتی تھی اور یہ دونوں ھماری لیڈر بن جاتی تھیں - سارے محلے کے بچے ان دونوں سے بہت مرعوب تھے، اور ساتھ میں بھی، میری تو وہ دونوں بالکل ھی نہیں چلنے دیتی تھیں، وہ بڑی تو پورے محلے کی جگ باجی تھیں-

غرض کہ اسکول بھی چلتا رھا اور محلے کی بھی ھم بچوں نے مل کر رونق لگائی ھوئی تھی، میں سب کے ساتھ گھر کا پانی بھی بھرتا اور محلے کے دوسرے گھروں میں بھی جہاں کوئی بچہ موجود نہیں ھوتا تھا ان کا بھی اپنے دوستوں کی مدد سے ان کے گھر کا پانی بھی بھر دیتا،
اس وقت پانی کو لوگ بہت احتیاط سے استعمال کرتے تھے، کیونکہ اس وقت ھمارے محلے میں کوئی آج کی طرح شاور یا نلکے وغیرہ تو نہیں ھوتے تھے، بالٹیوں اور ڈرموں میں پانی بھر کر رکھتے تھے، اور غسل خانہ میں پانی بالٹیوں میں بھر کر رکھتے اور لوٹے یا مگے سے ضرورت کے مطابق پانی کا استعمال کرتے تھے اور پینے کیلئے کچے مٹی کے گھڑوں کو اونچائی پر ڈھک کر رکھا کرتے تھے اس کا پانی ٹھنڈا اور خوب سوندھی سوندھی خوشبو دار ھوتا تھا اور پینے کا صحیح لطف آتا تھا -

آج میں جب یہ سوچتا ھوں کہ جو وقت اتنی جلدی گزر گیا جیسے گزرا ھوا سب کچھ ایک خواب تھا، پلک جھپکتے ھی عمر تمام ھوگئی، کسی نے کیا خوب کہا ھے کہ زندگی ایک پانی کے ایک بلبلے کی ظرح ھے، بلبلہ بنتا ھے اور پل بھر میں ختم ھوجاتا ھے، میں بھی پہلے یہ یقین نہیں کرتا تھا، کبھی کبھی سوچتا تھا کہ یہ ھماری زندگی کا سفر کتنا لمبا ھوگا ، شادی ھوگی بچے ھونگے، وہ بڑے ھونگے، انکی شادی کریں گے، کتنا لمبا عرصہ درکار ھوگا، لیکن آج مجھے یہ احساس ھوتا ھے کہ واقعی زندگی کا سفر لگتا تو بہت طویل ھے، لیکن حقیقت میں دیکھا جائے تو بہت مختصر ھے، !!!!!!!!!!!!!!!!

کبھی کبھی تو میں اپنے آپ کو بہت خوش قسمت انسان سمجھتا ھوں کہ میرے ساتھ زندگی میں کبھی اچھا وقت اور کبھی برا وقت بھی رھا لیکن ان مشکلات سے اللٌہ تعالیٰ نے ھی نجات دلائی اور اور ھمیشہ لوگوں کی نظروں میں ایک عزت بنی رھی، کبھی کبھی میری ھی وجہ سے کچھ غلط فہمیاں پیدا ضرور ھوئی اور بری مصیبتوں میں بھی گھرا رھا، مگر اللٌہ تعالیٰ کا بہت بڑا احسان ھے کہ اس نے مجھے ھر پریشانی سے فوراً چھٹکارا دلایا، یہ سب میری والدہ کی اور بزرگوں کی دعائیں ھی تھیں حالانکہ میں نے شروع میں انکی ممتا کو کئی دفعہ بہت ٹھیس بھی پہنچائی، پھر معافی بھی مانگ کر ان کو گلے لگا کر خوش بھی کرتا رھا اور وہ ھمیشہ میرے لئے روتی ھوئی دعاء کرتی رھیں، وہ سب کچھ شادی سے بہت پہلے کالج کے دور تک، لیکن جب سے پہلی بار نوکری شروع کی اور پہلی تنخواہ ان کے ھاتھ میں رکھی تو مجھے اتنی خوشی اور اتنا سکون ملا کہ میں بیان نہیں کرسکتا، اس کے بعد سے آج تک کبھی بھی ان کا دل دکھانے کی کوشش نہیں کی، چھوٹی موٹی باتیں ضرور ھوئیں ساس اور بہو کے چکر میں، جو ھر گھر میں ھوتا ھے، لیکن زیادہ نہیں !!!! آج بھی جب گھر جاتا ھوں سب سے پہلے ماں کی گود میں اپنا سر رکھ کر روتا ھوں بالکل ایک چھوٹے بچے کی طرح !!!!!!!!!!!!!!!!!

دعاء یہی کرتا ھوں کہ ھر ایک کے ماں باپ کا سایہ ھمیشہ سر پر سلامت رھے !!!!!!!!!!!!!!!!! آمین ٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪

ماں کی دعاء اور ٹھنڈی چھاؤں
عبدالرحمن سید آف لائن ہے   یہ اقتباس دیں
پرانا 30-01-10, 10:30 AM   #12
عبدالرحمن سید
-: محسن :-
 
عبدالرحمن سید کی نمائندہ تصویر
 
تاریخ شمولیت: 2007-11-06
قیام: Jeddah, Saudi Arabia.
جنس: male
عمر: 63
پوسٹس: 201
پوائنٹس: 473
عبدالرحمن سید عبدالرحمن سید عبدالرحمن سید عبدالرحمن سید عبدالرحمن سید عبدالرحمن سید عبدالرحمن سید عبدالرحمن سید عبدالرحمن سید عبدالرحمن سید عبدالرحمن سید
عبدالرحمن سید کی طرف بذریعہ MSN  پیغام ارسال کریں عبدالرحمن سید کی طرف بذریعہ yahoo پیغام ارسال کریں
میری اپنی بھولی بسری یادیں،!!! لڑکپن کا دور-3

دعاء یہی کرتا ھوں کہ ھر ایک کی ماں کا سایہ ھمیشہ سر پر سلامت رھے !!!!!!!!!!!!!!!!! آمین ٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪

ماں کی دعاء اور ٹھنڈی چھاؤں


ان پرانے سادہ اور سہل طور طریقوں میں اپنا ایک سلیقہ حسن، خوشنمائی اور زندگی کا ایک صحیح لطف تھا جو کہ بہت سستا اور دیرپا قائم رھنے کا حامل بھی تھا، ھم بھی زمانے کے دور کے ساتھ اتنی تیری سے بھاگنے لگے کہ اپنی صحیح قدروں، اصولوں اور اپنی روایتوں کے ساتھ ساتھ اپنی اصل پہچان کو بھی پیچھے چھوڑ آئے ھیں -

صرف ایک پانی کی ھی مثال لے لیں کہ پہلے ھم جو پانی دور دور سے اپنے کندھوں پر اور سر پر رکھ کرلاتے تھے تو ھمیں اسکی قدروقیمت کا اندازہ ھوتا تھا، اسی وجہ سے پانی کو ھم اس وقت بہت سنبھال کر اور بہت احتیاط کے ساتھ استعمال کرتے تھے، آج ھمارے گھروں میں باتھ رومز میں واش بیسن کے ساتھ نہانے کےلئے شاور، فلش کےساتھ دھوتے کے لئے الگ سےشاور، آٹو واشنگ مشینوں اور کچن میں بھی میں سنک کےساتھ دو دو نلکے اور ھر ایک میں ٹھنڈے اور گرم پانی کی دو دو لائنیں، جتنی زیادہ سہولتیں ھیں، اس سے زیادہ اس کا بےقدری اور فضول طریقے سے استعمال کی وجہ سے اس کا بالکل کثرت سے ضیاع ھورھا ھے ،

آج میرے گھر میں بھی اسی طرح پانی کے ساتھ ساتھ دوسری چیزوں کا بھی بےجا استعمال ھے بار بار اسی وجہ سے اکثر میرا اسی بات پر جھگڑا بھی ھوتا رھتا ھے، لیکں نئی نسل ھمیں پرانےخیالات کے لوگ اور بےوقوف سمجھتی ھے وہ کہتے ھیں کہ ھمیں نئی سہولتوں سے فائدہ اٹھانا چاھئے آپ لوگ نہ جانے کس دنیا میں رھتے ھیں، مگر میرا جواب یہی ھوتا ھے کہ ھمیں نئی سہولتوں سے فائدہ ضرور اٹھانا چاھئے لیکن اس میں بھی اگر ھم احتیاط کریں تو فضول خرچ سے بچا جاسکتا ھے،

مثلاً پہلے فرد واحد ایک بالٹی پانی سے آرام سے مکمل طور پر آسانی سے غسل کرلیتا تھا لیکن آج ھم شاور ( چھنٌا) کے نیچے خوب مزے سے گنگناتے ھوئے آرام سے دس گنا پانی غسل کرتے ھوئے ضائع کردیتے ھیں، اسکے علاوہ واش بیسن میں تو ھم منہ ھاتھ اس طرح دھوتے ھیں جیسے اباجی نے گھر میں کسی دریا سے مفت کا کنکشن لیا ھوا ھو، اسکے علاوہ برتن اور کپڑے دھوتے وقت تو خواتین بالکل خیال نہیں رکھتیں، نلکوں کو بغیر کسی بریک کے فل کھولے رکھتی ھیں، تاکہ انھیں بار بار نلکوں کو کھولنا اور بند نہ کرنا پڑے، جبکہ ھم خود جانتے ھیں کہ اگر ھم چاھیں تو ایک تھوڑی سی احتیاط کرکے بھی کافی ھر چیز میں بچت کرسکتے ھیں
جس کے ھم سب بھی خود ذمہ دار ھیں، اور ھر ایک چیز کے ضرورت سے زیادہ استعمال کیلئے بھی ھم اوپر جاکر اس کی سزا بھگتیں گے، جسکا کہ ھم سب کو پتہ ھے، لیکن ھم اپنی آنکھیں بند کرلیتے ھیں جیسے کبوتر اپنی آنکھیں‌ بند کرلیتا ھے جب اس پر کسی کے حملے کا خطرہ ھو، کبوتر یہ سمجھتا ھے کہ جیسے اسے آنکھیں بند کرکے کچھ نظر نہیں آرھا تو شاید حملہ کرنے والے کو بھی یہی محسوس ھورھا ھو،

اس وقت جیسا کہ میں نے پہلے بھی ذکر کیا تھا کہ اس وقت ھماری یا کسی کی بھی والدہ جو زیادہ پڑھی لکھی نہیں تھیں لیکن وہ آج کل کی پڑھی لکھی خواتیں سے کہیں زیادہ سمجھدار تھیں کیونکہ وہ اچھی طرح جانتی تھیں کہ جو بھی محدود آمدنی ھے اس کو کس سلیقے سے خرچ کیا جائے کہ اس میں سے کچھ آئندہ کیلئے کچھ بچت بھی ھوجائے، ایک چھوٹی سی مثال صرف کھانے پینے کے حوالے سے، وہ والد کے مشورے سے صرف خشک چیزیں مصالے،چاول، دالیں، آٹا، وغیرہ ضرورت کے مطابق ایک مہینے کیلئے پہلے ھی ایڈوانس میں منگا کر رکھتی تھیں جو تھوک کے بھاؤ والد صاحب لاتے تھے اور بہت ھی سستا پڑتا تھا، باقی روزانہ صرف اس دن کے پکانے کیلئے تازہ چیزیں اتنا ھی منگاتیں، جتنا کہ ضرورت ھوتی تھی -

اب تو روز کے مختلف گھر کے کاموں کی ذمہ داری بھی میرے ھی اُوپر تھی، کیونکہ میرے اسکول کا وقت اب دوپہر کا تھا، روزانہ پہلے پانی بھرنا، پھر گھر کا سودا لانا پھر اسکول وقت قریب ھوجاتا تھا، اور میں اسکول کی تیاری میں لگ جاتا-

گھر کا سودا لانے میں مجھے تقریباً روزانہ آٹھ آنے سے زیادہ نہیں ملتے تھے، اور میں اس میں سے ایک پاؤ قیمہ یا گوشت وہ بھی گائے یا بھینس کا، جو صرف پانچ آنے کا آتا تھا اور ایک آنے کا مصالہ جس میں دو پیاز ھرا دھنیا، پودینا، دو ھری مرچی اور ایک یا دو ٹماٹر اور باقی دو آنے کی اگر کچھ اور سبزی کی ضرورت ھو تو ورنہ وہ بھی مجھے والدہ کو واپس کرنے پڑتے تھے، اس میں سے مجھے صرف دو پیسے اسکول کیلئے ملتے تھے-

ایک پاؤ گوشت یا قیمہ کے ساتھ سبزی یا دال کے ھم سب کیلئے دو وقت کیلئے کافی ھوتا تھا بلکہ اکثر مہمان بھی ھمارے ساتھ شریک ھوتے تھے اور اس میں بھی کافی برکت ھوتی تھی، ایک فایدہ یہ ھوتا تھا کہ تازی چیزیں ھم کھاتے تھے اور ھمیں والدہ ھر ایک کو ضرورت کے مطابق اپنے ھاتھ سے اندازہ کرکے ھر ایک کے پلیٹ میں ڈالتی تھیں،

اگر آج ھم دیکھیں تو ھم خود اندازہ لگا سکتے ھیں کہ کتنا کھانا روز پکتا ھے اور ضائع ھوتا ھے اسکے علاؤہ ڈیپ فریز کیا ھوا ھم کھاتے ھیں، ھمارے اس وقت بھی پیٹ کی گنجائش وھی تھی اور آج بھی وھی ھے بلکہ لوگوں کی پہلے کے وقت میں کچھ زیادہ ھی خوراک ھوا کرتی تھی اور سب خون سیر ھوکر کھاتے تھے-

قیمتوں کو چھوڑ دیں صرف مقدار کو ھی لے لیں، کیا ھم سوچ سکتے ھیں کہ آج ھم ھر چیز کے استعمال میں کتنا اصراف کرتے ھیں اور کتنا ضائع کرتے ھیں،
کیا ھم جانتے ھیں کہ اس کا حساب کس نے، کہاں اور کیسے دینا ھے ؟؟؟؟؟؟؟؟

-----------------------------------------------------------------
اب تو میں روز کے معمول میں کافی دلچسپی لینے لگا تھا، بہت شوق سے گھر کا سودا لانے لگا تھا، ایک چھوٹا سا بازار تو تھا لیکن کافی فاصلے پر تھا، کبھی کبھی اپنے کسی دوست کو بھی ساتھ لے لیتا تھا اور محلے کی ھماری دو تیں خالائیں بھی مجھ پر ھی بھروسہ کرتیں، جیسے ھی مجھے جب وہ گھر سے نکلتا دیکھتیں تو دروازوں پر آجاتیں ارے بیٹا ذرا سننا تو میرے لئے آج یہ چیزیں لا دو کوئی تو اچھی خاصی لسٹ پکڑا دیتیں اور کوئی زبانی ھی فرمائیش کردیتیں، مجھے سب کی چیزوں اور پیسوں کا حساب کتاب بھی رکھنا پڑتا تھا، ایک اچھی بات تھی کہ میری اس وقت کی یاداشت بہت اچھی تھی اور سب کچھ مجھے زبانی یاد بھی رھتا تھا کہ کس نے کیا منگایا تھا، کس نے کتنے پیسے دیئے تھے اور کس کو کتنے واپس کرنے تھے،

وھاں پر تمام محلے میں سب کا ایک اکلوتا لاڈلہ تھا اس کی وجہ یہ بھی تھی کہ کبھی کسی کے کام کیلئے انکار نہیں کرتا تھا، بعض اوقات تو دوسروں کے چکر میں اپنے گھر کا سودا بھول جاتا تھا، پھر دوبارہ بھاگ کر جاتا اور یاد کرکے سودا لا کر اماں کو دیتا اور اماں ھماری انتطار میں ھی بیٹھی رھتیں کب میں پہنچوں اور وہ کب کھانا پکانا شروع کریں کبھی کبھی دوسروں کی وجہ سے ڈانٹ بھی پڑجاتی تھی اور وہ سیدھا شکایت ھماری ملکہ باجی کو لگا دیتی، بس کیا تھا انہوں نے سیدھا میرا کان پکڑنا اور اپنے گھر لے جاتیں اور خوب ڈانٹتی بھی تھیں، اب تو میری دو امٌائیں ھوگئی تھی -

اب تو بعض اوقات اپنے گھر کے بجائے اپنی منہ بولی باجی سے ھر کام کیلئے اجازت لینی پڑتی تھی، اگر میں نے کوئی ان کی مرضی کے خلاف کام کیا تو میری شامت ھی آجاتی تھی، مگر زادیہ میرے لئے اپنی باجی سے لڑتی تھی اور میری جان بچ جاتی تھی، کبھی تو جیسے ھی میں گھر سے نکلا، پتہ نہیں کہاں سے ان کو پتہ چل جاتا، میں ان کے گھر کے دروازے کے سامنے سے بہت احتیاط کے ساتھ نکلنے کی کوشش بھی کرتا تو فوراً ھی نمودار ھوجاتیں اور بس شروع سوالات پر سوالات کہ کہاں چل دیئے حضور ادھر آئیے بس فوراً انہوں نے میرا کان پکڑا اور گھر کے اندرخوب ڈانٹتیں، اگر میں نے کوئی بہانہ کیا تو وہ اسی وقت تصدیق کرنے مجھے میری اماں کے پاس پہنچ جاتیں، اور اگر میں نے کوئی بہانہ کیا ھوتا تو بس میرے کان اور انکا ھاتھ، وہ اس وقت تک نہیں چھوڑتی تھیں جب تک کہ میں توبہ نہ کرلوں،

اب انہوں نے ھی میرے سدھار کی ذمہ داری لے لی تھی کبھی کبھی تو میں ان کی پابندیوں سے تنگ ھوجاتا تھا اور مشکل یہ تھی کہ ھمارے گھر سے باھر نکلنے کیلئے ان کے گھر کے پاس سے ھو کر جانا پڑتا تھا اور اس کے علاوہ اور کوئی راستہ بھی نہیں تھا، کیا کرتا مجبوراً اس ھٹلر باجی کے بغیر اجازت کے جانا مشکل ھوتا تھا جو میرے کھیل کود کے لئے باھر دوسرے لڑکوں کے ساتھ کھیلنے میں رکاوٹ بنتی تھی، جو بعد میں میرے کیرئیر لئے بہت بہتر ثابت ھوا تھا، لیکن اس وقت مجھے یہ روک ٹوک اچھی نہیں لگتی تھی،

مگر جب مجھے محلے سے کوئی کسی کام کیلئے کہتا تو اسی کام کے بہانے ھی میں باھر بھاگنے کی کوشش کرتا مگر راستے میں جانے کہاں سے وہ کسٹم کی ملکہ مجھے ٹکر جاتی اور بغیر اس کی رضامندی کے مشکل ھوجاتا، اس نے مجھے صرف مجھے چند مخصوص گھروں کے کام کےلئے کبھی منع نہیں کیا جہاں کوئی بڑا لڑکا نہیں تھا، یا اور کوئی مجبوری ھو اور بعض اوقات وہ مجھے ساتھ لےکر بازار جاتی اور میرے ساتھ خریداری میں مدد کراتی، اسی وجہ سے میرے والدیں ملکہ باجی سے بہت خوش تھے کہ اس نے میرا سارا کنٹرول سنبھالا ھوا تھا،

شام کے وقت اسکول سے واپس آکر جب ھاتھ منہ دھو کر تازہ دم ھوجاتا، کچھ دیر کے لئے بہں بھائیوں کو ساتھ لے کر باھر کھیلنے نکلتا، ایک بھائی میرے گود میں بھی ھوتا تھا، میرے باھر نکلتے ھی ھٹلر ملکہ بھی اپنی چھوٹی بہن زادیہ کے ساتھ ھمارا انتظار کررھی ھوتی تھی، اور کچھ بچے بھی اپنے گروپ کے جو ملکہ کی سیلیکشن سے منظور شدہ ھوتے وھی ھمارے گروپ مین شامل ھوسکتے تھے اور ایک بات کی تو داد دینی پڑتی تھی کہ وہ ھم سب کو کھیلوں میں اچھے اور خالص معلوماتی کھیل بھی کھلاتی تھیں اور ھمارے گروپ میں با ادب اور اچھے اخلاق کے بچوں کو ھی داخلہ ملتا تھا، دوسرے گروپ بھی تھا جس میں زیادہ تر شرارتی بچے تھے اور وہ سب ھمارے گروپ سے بہت زیادہ حسد کرتے تھے، لیکن ملکہ باجی کی وجہ سے کوئی بھی نزدیک نہیں آتا تھا، اس لئے تمام بچے ان کے شر سے بچے ھوئے تھے وہ دونوں بھی کسی دوسرے اسکول میں پڑھتی تھیں جس کا وقت میرے اسکول کے مطابق تھا، شاید دونوں چھٹی یا ساتویں کلاس مین ھونگی، مجھے یہ صحیح طرح یاد نہیں،

میری شروع سے فطرت رھی تھی کہ مجھ سے کبھی کسی کے کام کیلئے انکار نہیں ھوتا تھا، جیسے تندور پر سے کسی کیلئے روٹی لگوانی ھی کیوں نہ ھو، اسوقت زیادہ تر تندور کی روٹی زیادہ پسند کرتے تھے، شام کو کھیل کود کے فوراً مغرب کی نماز کے بعد اماں ھماری آٹا گوندھ کر رکھتیں اور ساتھ ایک دو اور جو روٹی پکوانے کیلئے میرے نکلنے سے پہلے ھی آٹا گوندھ کر رھتے تھے، میں اپنے چند مددگار دوستوں کو بھی اس کارخیر میں حصہ لینے کی اجازت دیتا تھا وہ بھی میرے ساتھ تندور کی طرف چل دیتے تھے، اس وقت ملکہ باجی کو باھر جانے کی اجازت نہیں ھوتی تھی، انکا بھی کبھی کبھی آٹا گوندھا ھوا مجھے لے جانا پڑتا تھا، ورنہ اکثر ان کی اماں توئے پر ھی چپاتی بناتی تھیں،

تندور پر جاکر سب آٹے کے تھال کپڑے ڈھکے ھوئے لائن میں لگا کر ھم سب کھیلنے لگ جاتے، تندور کچھ دوری پر تھا اور ھٹلر ملکہ باجی سے بھی دور کسی روک ٹوک کے مزے سے کھیلتے تھے اور واپس ابک آدھ گھنٹے سے پہلے ھم سب روٹی لگوا کر فارغ ھوجاتے تھے-

ایک دفعہ مجھے بہت دکھ ھوا کہ جب تندور سے روٹیاں لگا کرگھر پہنچا تو اپنی روٹیاں گھر صحن کے پاس ایک چبوترے کے پاس رکھ کر کسی کے گھر انکی روٹیاں پہنچانے گیا تو میں نہ جانے کیوں وھیں سے آگے واپس گھر آنے کے کہیں اور نکل گیا اور اماں کو روٹیوں کے تھال کے بارے مین نہیں کہا اور وھاں ایک چبوترے پر روٹیاں پڑی رھیں اور ادھر ایک ھماری ایک بکری کا بچہ جسے اس سال ھم قربانی کیلئے تیار کرھے تھے اس نے وہ چبوترے پر پڑی ساری روٹیاں کھالیں اور جیسے ھی میں پہنچا وہ آخری روٹی کھا رھا تھا میں گھبرا گیا اب کیا کروں فوراً وہ خالی تھال لے کر تندور کی طرف بھاگا اور وھاں سے روٹیاں خریدیں اور جلدی جلدی واپس آیا اور کسی کو بتائے بغیر اماں کو تھال پکڑا دیا، اور باھر چلا گیا-

واپس آیا تو عشاء کے بعد کھانے کیلئے بیٹھے تو اماں نے پوچھا خاموشی سے پوچھا کہ یہ روٹیاں ھماری تو نہیں لگتی اور میں نے بھی حیرانگی سے کہا ھوسکتا ھے کہ تندور والے نے شاید غلطی سے دوسرے کی روٹیاں رکھ دیں ھونگی، لیکں رات کو سوتے وقت مجھے اپنے اوپر اور بکرے کے اوپر بہت غصہ آرھا تھا-

صبح ھوئی تو اباجی اور دو تیں محلے دار لوگوں کی آوازیں آرھی تھیں میں نے غور سے سنا تو وہ کہ رھے تھے کہ رات کو بکرے نے کیا کھایا تھا جس کی وجہ سے اسکی یہ حالت ھوگئی، میں فوراً بستر چھوڑا اور بھاگ کر باھر آیا تو دیکھا وہی بکرا مجھے دیکھ رھا تھا جیسے میری کسی غلطی کی نشاندھی کررھا تھا، اسکے منہ سے جھاگ سا نکل رھا تھا اور سب یہی کہہ رھے تھے کہ اب اس کا بچنا مشکل ھے -

-----------------------------------------------------
میرے والد صاحب ایک فوجی تھے اور ان کے ریٹائرمنٹ تک ھم سب نے ملٹری کے ماحول میں ایک اچھا وقت گزارا تھا، اور ھم سب اس ماحول میں اپنے آپ کو محفوظ اور مضبوط سمجھتے تھے،

جیسے ھی اس سے باھر نکلے تو لوگوں کی نفرت اور حسد کی نذر ھوگئے،،،،،،،،،،،،،،،، اور والد صاحب وقت سے پہلے ھی اپنے خالق حقیقی سے جا ملے،!!!!!!

میں اب بھی کبھی کبھی اپی والدہ کو دیکھتا ھوں کہ وہ والد صاحب کے ملٹری دور میں ملے ھوئے میڈل اور تمغوں کو صاف کر رھی ھوتی ھیں اور میں ان کی آنکھوں میں ایک فخر میں چھپی ھوئی چمکتی ھوئی نمی کی جھلک دیکھتا رھتا ھوں، اور مجھے وہ تمام گزارا ھوا بچپن جو ملٹری کی چار دیواری کے اندر گزرا تھا، وہ مجھے یاد آجاتا ھے، اور جب بھی میں پاکستاں چھٹی جاتا ھوں، تو اس پرانے محلے میں ضرور جاتا ھوں جو اب تک تین طرف سے وھی ملٹری کی ایک مضبوط دیوار اپنے شان و شوکت سے پورے محلے کو اپنے آغوش میں لئے ھوئے ھے،

میں اس محلے میں اب جب بھی جاتا ھوں، اس دیوار کو پیار سے دیکھتا ھوا اسکے ساتھ اپنے ھاتھ سے چھوتا ھوا پورے محلے کا ایک چکر لگاتا ھوں، ساتھ ھی اپنے بچپن کو اس دیوار میں ڈھونڈتا ھوں اور مجھے اپنے بچپن کے وقت کی وہ آوازیں اس محلے کا شور سنائی دینے لگتا، کبھی میری ماں کی آوازیں کبھی والد صاحب کی ڈانٹ کبھی ان کا پیار سے پکارنا، دوستوں کا چہچہانا، میرے بہن بھائی کی آوازیں اور میری زندگی کی حسین خوبصورت یادوں کی وہ گنگناہٹ، یہ سب آوازیں مجھے اس دیوار سے ایک ایکو ساونڈ کی طرح میرے کانوں سے ٹکراتیں، اور یہ سب کچھ ایک عقیدت مند کی طرح محسوس کرتا ھوا، اپنی آنکھوں میں ماضی کی یادوں کو لئے واپس آجاتا ھوں،

وہ ملٹری کی دیوار اب تک ویسی ھی ھے مگر محلے میں کافی تبدیلیاں آگئی ھیں، پکے مکان بن گئے ھیں، بجلی، پانی سوئی گیس، اور ٹیلیفوں کی سہولت بھی تقریباً ھر گھر میں ھے، میر گھر جو پہلے تھا اب وہ بھی پکا ھوگیا ھے، اور ھر سہولت ھے، مگر وہ ملٹری کی دیوار اور اس کے کارنر کی دو دیواریں اب تک اسی طرح کھڑی ھیں جو میرے گھر کو دو طرف سے گھیرے ھوئے ھیں اور کارنر میں ابتک وہ پرانا بجلی کا کھمبا ابھی تک ویسے ھی کھڑا ھے جہاں میں کبھی اسکے ٹمٹماتے بلب کے نیچے چارپائی ڈال کر پڑھتا تھا اور کبھی ھمارے اباجی وھاں اپنے محلے کے دوستوں کے ساتھ اپنی چوپال بھی لگاتے تھے، کبھی وھاں پر محلے کے لوگ میلادالنبی کی چھوٹی سی تقریب یا کسی گھرکی شادی کے سلسلے کی کوئی دعوت تقریب، اس دیوار نے میرا مکمل بچپن اور لڑکپن کا سارا دور کا ایک ایک منظر دیکھا ھے، مار بھی اس کے سامنے کھائی ھے اور بہت پیار اور خلوص بھی اسکے سامنے ملا ھے

آج بھی میں کسی فوجی کو وردی میں اپنے سامنے دیکھتا ھوں تو اس فوجی کو سیلوٹ ضرور کرتا ھوں، جیساکہ میرے والد اپنے سے بڑے آفیسر کو دیکھ کر سیلوٹ کرتے تھے،

مجھے اس بات کا بھی فخر ھے کہ اں کے ریزرو فورس میں آنے کے بعد بھی 1965 اور 1971 کی جنگ کے موقع پر انہیں ھم سب بہں بھائیوں والدہ اور محلے کے لوگوں نے فخریہ انداز میں رخصت کیا تھا جب وہ بڑے خوشی سے وردی پہں کر اپنی مکمل کٹ کے ساتھ واگہہ سیکٹر لاھور کے لئے روانہ ھوئے تھے، فوجی وردی میں وہ کیا خوبرو جوان لگتے تھے، اپنے پاک وطن کی ھر پکار پر انہوں نے لبیک کہا تھا !!!!!!

اس وقت بھی میرے آنکھوں میں آنسو بھر آئے ھیں، میں ان کی مخلص شخصیت کو کبھی نہیں بھول سکتا وہ واقعی ایک پرخلوص اور وطن پرست انسان تھے انہوں نے ھمیشہ ھمیں اپنے پیارے وطن سے محبت کرنے کا سبق دیا، مگر مجھے آج تک اس بات کا افسوس ھے کہ میں اتنا بدقسمت تھا کہ اس عظیم انسان کو اپنےایک کاندھے کا سہارا بھی نہ دے سکا کیونکہ میں ان کے انتقال پر ایک مجبوری کی وجہ سے ان کے پاس نہیں تھا، اسی بدنصیبی پر آج تک میں پچھتاتا ھوں!!!!!!!!!!

-------------------------------------------------------------------------
جاری ھے،!!!!
عبدالرحمن سید آف لائن ہے   یہ اقتباس دیں
پرانا 30-01-10, 10:58 AM   #13
عبدالرحمن سید
-: محسن :-
 
عبدالرحمن سید کی نمائندہ تصویر
 
تاریخ شمولیت: 2007-11-06
قیام: Jeddah, Saudi Arabia.
جنس: male
عمر: 63
پوسٹس: 201
پوائنٹس: 473
عبدالرحمن سید عبدالرحمن سید عبدالرحمن سید عبدالرحمن سید عبدالرحمن سید عبدالرحمن سید عبدالرحمن سید عبدالرحمن سید عبدالرحمن سید عبدالرحمن سید عبدالرحمن سید
عبدالرحمن سید کی طرف بذریعہ MSN  پیغام ارسال کریں عبدالرحمن سید کی طرف بذریعہ yahoo پیغام ارسال کریں
میری اپنی بھولی بسری یادیں،!!! لڑکپن کا دور-4

اس وقت بھی میرے آنکھوں میں آنسو بھر آئے ھیں، میں ان کی مخلص شخصیت کو کبھی نہیں بھول سکتا وہ واقعی ایک پرخلوص اور وطن پرست انسان تھے انہوں نے ھمیشہ ھمیں اپنے پیارے وطن سے محبت کرنے کا سبق دیا، مگر مجھے آج تک اس بات کا افسوس ھے کہ میں اتنا بدقسمت تھا کہ اس عظیم انسان کو اپنےایک کاندھے کا سہارا بھی نہ دے سکا کیونکہ میں ان کے انتقال پر ایک مجبوری کی وجہ سے ان کے پاس نہیں تھا، اسی بدنصیبی پر آج تک میں پچھتاتا ھوں!!!!!!!!!!
لڑکپن کا دور-4
آج جب میں اپنی یاداشتوں کے ایک منجمد ذخیرے کی طرف اپنے آپ کو ماضی کے تصورات کی دنیا میں لے جاتا ھوں تو قدرتی وہ یادوں کا منجمد ذخیرہ میری تصوراتی ذہن کے سامنے سے پگھلتا ھوا گزرنے لگتا ھے اور میں اسے اپنے خود ان ہاتھوں سے سمیٹتا ھوا ایک تحریر کے روپ میں ڈھالنے کی کوشش کرتا ھوں،

قیمتوں کو چھوڑ دیں صرف مقدار کو ھی لے لیں، کیا ھم سوچ سکتے ھیں کہ آج ھم ھر چیز کے استعمال میں کتنا اصراف کرتے ھیں اور کتنا ضائع کرتے ھیں،
کیا ھم جانتے ھیں کہ اس کا حساب کس نے، کہاں اور کیسے دینا ھے ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟

کبھی کبھی میں یہ سوچتا ھوں کہ اُس وقت جب اتنے وسائل اور ذرائع نہیں تھے، لوگوں کی اتنی محدود آمدنی تھی، اس کے علاوہ لوگوں میں پڑھے لکھوں کا تناسب بہت کم تھا اور نہ کوئی سیاسی سمجھ بوجھ پائی جاتی تھی، اتنے سادہ لوگ تھے کہ جس نے جیسا کہہ دیا ویسے ھی یقین کرلیا لیکن ان تمام کے باوجود سب لوگ ایک دردمندانہ دل رکھتے تھے، ایک دوسرے کے لئے جان چھڑکنے کیلئے تیار رھتے تھے -

اپنے محلے میں کبھی کبھی ایسا بھی ھوتا تھا کہ اگر کسی کا بچہ یا کوئی بڑا اگر کسی تکلیف یا بیماری میں مبتلا ھو جائے یا باھر کوئی کسی قسم کی چوٹ یا کوئی حادثہ ھوجائے، تو یقیں کریں کہ جس کا بھی وہ بچہ یا رشتہ دار ھے، اسے خبر ھی نہیں ھوتی تھی اور وہ کسی نہ کسی کی کوشش اور ھمدردی کی وجہ سے ڈاکٹر یا اسپتال سے فارغ ھوکر گھر پہنچتا تو اسکے گھر والوں کو خبر ھوتی تھی، بلکہ وہ مخلص لوگ تو سب کو خبردار کر جاتے تھے کہ اس زخمی بچے یا بڑے کی خبر اس کے گھر میں نہ ھو، چاھے وہ کوئی غیر مسلم ھی کیوں نہ ھو -

آج بھی مجھے اس محلے کی ھر گلی اور ھر در و دیوار سے بہت پیار ھے، جب بھی میں وہاں جاتا ھوں وہ لوگ میری بہت عزت کرتیے ھیں اور میرا تعارف اتنے پیار اور خلوص کے ساتھ، دوسرے لوگوں سے اس طرح کراتے ھیں کہ میں خود بھی شرمندہ ھوجاتا ھوں، وہاں اب جو بھی اسوقت کے لوگ باقی ھیں، ان کا رھن سہن، اخلاق پیار اور ایک دوسرے سے محبت ابھی تک ویسے کا ویسا ھی ھے، گھر کے نقشے بدل گئے لیکن لوگوں کے دل نہیں بدلے، ابھی بھی وھی ملٹری کی دیواروں کے آغوش میں اپنے اس محلے کو ایک مضبوط قلعے کی طرح پناہ دئیے ھوئے ھے، وہاں کی پہلے کی ایک چھوٹی سی لکڑی کی بنی ھوئی پرانی مسجد اب ایک خوبصورت سنگ مرمر کے فرش اور خوبصورت نقش و نگار سے آویزاں درو دیوار کے روپ میں ڈھل چکی ھے، یہ بھی ایک وہاں کے لوگوں کی پرخلوص کاوشوں کا ایک نتیجہ ھے،

آس پاس کا علاقہ بہت ماڈرن ھوچکا ھے،جگہ بڑی بڑی کئی منزلہ عمارتیں بن چکی ھیں اور سڑکیں جو سنگل تھیں آج ڈبل بن چکی ھیں، ریلوے لاٰئنوں کے اوپر بھی ایک نیا خوبصورت سا بہت بڑا پل بن چکا ھے جو آس پاس کے علاقوں کو آپس میں ملاتا ھے، ھر جہاں نزدیک ھی ایک چوراھے پر ایک پارک تھا، جو کبھی میرے دکھوں اور غموں کا ایک غمگسار تھا، وھاں جاکر اکثر میں اکیلا کبھی کسی مشکل میں ھوتا تو وھاں بیٹھ کر سوچتا تھا کبھی مستقبل کے پروگرام بھی بناتا تھا اور وھیں کبھی کبھی سو بھی جاتا تھا وہ چوراھے پر ایک بہت بڑا پلوں کا “فلائی اور“ بن چکا ھے، اب بھی خاص طور پر وھاں اسکے نیچے جاکر میں اپنے اس چوراھے کے باغیچہ کو تلاش کرنے کی کوشش کرتا ھوں، جس کی بھینی بھینی خوشبو اب بھی مجھے وھاں جاکر محسوس ھوتی ھے !!!!!!!!!!!!!!

اکثر اپنے اس اسکول کی طرف بھی میں جاتا ھوں اور ان ان راستوں پر جہاں جہاں میرے قدم پڑے ھیں، میں چلتا ھوں اور پہچاننے کی کوشش کرتا ھوں، وہ چھوٹا سا ایک بازار جہاں سے کبھی میں گھر کا اور ساتھ اپنے محلے کا سودا لایا کرتا تھا اب وہ جگی بھی ایک نئے بازار کی جگہ لے چکی ھے، کوئی بھی پرانا جاننے والا اب اس بازار میں نظر نہیں آتا ھے -

سب کچھ بدل چکا ھے لیکن میرا محلہ چند سہولتوں کے اضافہ ساتھ بالکل ویسا ھی ھے، جسے چاروں طرف وھی ملٹری کی دیوار اپنے مضبوط اور محفوظ آغوش میں لئے ھوئے ھے، لوگ اب کچھ سہمے ھوئے سے نطر آتے ھیں کہ اگر یہ ملٹری کی دیوار اگر سرکار نے گرادی تو اس محلہ کا کیا ھوگا، اسے بھی گرادیا جائے گا، اور یہ میری آخری یادوں کا سہارا بھی مجھ سے چھوٹ جائے گا، میں اب اکثر یہ سوچتا ھوں !!!!!!!
-------------------------------------
مجھے افسوس بھی ھے کہ مجھے اپنی کہانی کو بڑھانے میں تھوڑی سی کچھ دشواری یوں پیش آرھی ھے کہ بہت سی ایسی نازک ترین یادداشتیں، جو میرے سیکنڈری اسکول کے وقت سے وابستہ اور بہت ھی زیادہ اھم ھیں، ایک تو میں انکا صحیح وقت اور مقام کا اندازہ کر نہیں پا رھا ھوں، کیونکہ اس میں بیک وقت پانچ مختلف کہانیاں ساتھ ھیں اور انہیں مجھے ساتھ لیکر چلتے ھوئے کچھ مسلئے بھی درپیش آرھے ھیں، کچھ کرداروں کو میں سامنے نہیں لانا چاھتا اور جن کو سامنے لانا چاھتا ھوں انکی رسوائیوں سے ڈرتا بھی ھوں،

تیری رسوائیوں سے ڈرتا ھوں، جب تیرے شہر سے گزرتا ھوں،!!!!!

مگر میں آپ سب سے یہ وعدہ کرتا ھوں کہ کسی کو رسوا کئے بغیر یا کسی کی حق تلفی یا ناراض کئے بغیر اپنی کہانی کو نہایت عمدگی سے آگے بڑھانے کی مکمل کوشش کرونگا،

سیکنڈری اسکول میں جب سے مجھے داخل کرایا گیا، تو میں اپنی تمام ماضی میں گزری ھوئی مشکلات اور مصیبتوں‌ کو بھول چکا تھا، کیونکہ اس اسکول میں تقریباً تین سال بعد ایک پڑھنے کا اچھا ماحول ملا تھا، تمام دوست بھی نفیس ترین اور بااخلاق تھے، جیساکہ میں اس سے پہلے بھی تفصیل سے عرض کرچکا ھوں، حالانکہ یہ بھی ایک گورنمنٹ اسکول ھی تھا، لیکن اس کی انتظامیہ کی تعریف بہت دور دور تک تھی اور یہاں داخلہ بھی بہت مشکل سے ملتا تھا، لیکن والد صاحب نے رابطہ کیا ھمارے محلے کے ایک اس اسکول کے سینیئر سابق طالب علم منیر بھائی سے، جو اس وقت کالج میں تھے،اور انکی ھی سفارش پر داخلہ مل گیا تھا ورنہ میرا اپنی قابلیت سے سیلیکشن ھونا بہت ھی مشکل ھی تھا، کیونکہ میرے مارکس کا وہ اسٹینڈرڈ نہیں تھا، جو اس اسکول میں داخلے کیلئے ضروری تھا، اور کچھ ملٹری کے کوٹہ نے بھی اثر دکھایا تھا،

روز کے معمول بہت اچھی طرح چل رھے تھے، ایک طرف اسکول کی پڑھائی اور دوسری طرف محلے کا رھن سہن اور وہاں کا برتاؤ، تیسرے والدین کی عزت، چوتھے محلے کے دوستوں کے ساتھ الگ ایک اپنی محفل اور اللٌہ تعالیٰ کا شکر تھا کہ میں اپنے آپ کو ھر ماحول میں بالکل فٹ پا رھا تھا، یعنی کہ اپنی زندگی کی گاڑی اپنی صحیح رفتار سے دوڑ رھی تھی، اس میں ھماری ملکہ باجی کا بہت زیادہ ھی عمل و دخل تھا وہ سب سے پہلے ھر ایک کو اخلاق کا بہت اچھا سبق دیتیں اور بعد میں دوسری بات کرتی تھیں، اکثر بچے جو کہ گالیاں بہت بکتے تھے اور نازیبا الفاظوں کا استعمال بے شمار کرتے تھے، اب وہ اچھی اور شائستہ زبان بولنے لگے تھے جو لوگ تو تڑاک سے بولتے تھے اب “آپ جناب“ سے بات کرنے لگے تھے، جسے میں پہلے دل میں ھٹلر باجی کہتا تھا اب میرے لئے ایک محترم ھستی کا مقام رکھتی تھیں اور وہ آج تک میرے دل میں انکا وھی مقام ھے،

بچوں میں لڑائی وغیرہ اب بہت کم ھوتی تھی اور اگر ھوتی بھی تو ملکہ باجی کی وجہ سے فوراً ختم ھوجاتی تھی اور محلے کی رونقیں برقرار رھتی ملکہ باجی نے تو محلے میں ایک گھر میں ھی چھوٹا سا محلے کیلئے اپنے ھی گھر میں ایک ویلفیئر سنٹر ھی کھول لیا تھا، اس میں بچوں کو فری بنیادی تعلیم اور مختلف دستکاری بھی بغیر کسی معاوضے کے سکھاتی تھیں اور اکثر بچے اپنے اسکول کا ھوم ورک کرنے کیلئے بھی ان سے مدد لیا کرتے جس میں ھم سب بڑے بچے بھی انکی مدد میں برابر کے شریک ھوتے، اور خاص طور سے عورتوں میں عیدمیلادالنبی saw کا انتظام بھی خود کرتیں اور وہ بہت ھی اچھی حمد اور نعتیں درود و سلام ،خوبصورت آواز میں پڑھتی تھیں، اور ھر ایک کی خواھش پر ھر گھر میں انتظام کراتی بھی تھیں -

اس محلے کی خوشیاں ایک وقت میں بہت عروج پر تھیں، میں تو اب محلے کا ایک پکا لاڈلا بن چکا تھا، کیونکہ اکثر محلے کے کسی بھی گھر کے کام کیلئے میں نے کبھی بھی انکار نہیں کیا تھا، جب بھی اپنے گھر کے اسی بھی کام کیلئے باھر نکلتا تو شاید ھی کوئی ایسا وقت ھوتا کہ مجھے کوئی آواز نہیں دیتا تھا اور جیسے ھی باھر نکلتا تو ساتھ میرے ملکہ باجی ضرور چل دیتیں، انہیں بھی بازار سے کچھ نہ کچھ لینا ھوتا تھا اور شاید میرے ساتھ وہ اپنے آپ کو محفوظ بھی سمجھتی تھیں، ویسے بھی اس وقت کوئی ایسا خطرہ یا کسی چھیڑ چھاڑ کا نام و نشان نہیں تھا اور سب لوگ عورتوں اور لڑکیوں کا دل سے احترام بھی کرتے تھے -

اپنے گھر سے زیادہ اب میں ان کے گھر میں گزارتا تھا یا وہ دونوں میرے گھر پر موجود ھوتیں، اپنے گھر کے کام سے فارغ ھوکر میری والدہ کابھی ھاتھ بٹاتی تھیں، اور میرے چھوٹے بہن بھائیوں کو بھی سنبھالتی تھیں، اس کی وجہ سے وہ ھمارے والدین کے دلوں میں ایک بہت اچھا مقام بنا چکی تھیں، اور ھماری والدہ کا بھی ان دونوں کے بغیر دل نہیں لگتا تھا، اکثر میں نے دیکھا کہ وہ والدہ کے بالوں میں تیل لگانتی اور کنگھی کرتیں، اور جو بھی کام ھوتا بہت خوشی سے کرتی تھیں، اسی طرح وہ دن اتنی تیزی سے بھاگ رھے تھے کہ پتہ ھی نہیں چل رھا تھا،

اسکول کا پہلا سال تو بہت اچھا گزرا، سالانہ امتحان میں اتنے اچھے نمبر تو نہیں بلکہ قابل قبول ضرور تھے 65٪ کے قریب مارکس لے کے جو اس وقت کی سیکنڈ ڈویژن اور آج کا “بی گریڈ“ کہ سکتے ھیں، بہرحال یہ بھی اللٌہ کا شکر تھا، گھر میں کافی خوشیاں منائی گئیں، چلو ایک سال اور اس اسکول کا بیت گیا اور ساتویں کلاس میں پہنچ گئے، دوستوں کا وھی ھمارا پرانا گروپ تھا اور کلاس ٹیچر بھی وھی جنہیں سب پسند کرتے تھے، اسکے علاوہ باقی سب ٹیچر بھی اپنی اپنی جگہ پر بہت اچھے تھے، 1962 کا سال چل رھا تھا میری عمر اب بارویں سال میں داخل ھوچکی تھیں،

دوسری طرف میرے کچھ بچپن کے شوق بھی میری عمر کے ساتھ ساتھ چل رھے تھے، پہلے کبھی مین اپنی کاپیوں کے اخر میں اردو خوشخطی لکھنے کے ساتھ ساتھ کچھ خیالی تصاویر بھی بنایا کرتا تھا، جو کہ آھستہ آھستہ وہ عادت ایک پختہ مہارت کا روپ لینے لگی تھی اب میں نے باقائدہ طور سے اس شوق کا سامان بھی رکھنے لگا تھا، پنسلیں اور برش اسکے علاوہ پرانے کیلنڈروں کےپیپرز کو بھی استعمال میں لاتا تھا، جس پر سب سے پہلے میں نے علامہ اقبال کی پنسل اسکیچ سے تصویر بنائی اور اسکے بعد قائداعظم کی تصویر پر مزید ھنرمندی دکھائی، جسے سب لوگوں نے بہت پسند کیا اور خود والد صاحب بھی بہت خوش ھوئے اور ھماری ملکہ باجی نے کچھ زیادہ نوٹس نہیں لیا، ان کا کہنا یہ تھا کہ پہلے پڑھائی کی طرف توجہ دو پھر جب وقت بچے تو، اس طرف دھیان دیا کرو، مگر مجھے اس کا تو جنون کی حد تک شوق ھوگیا اور پڑھائی کو بھی ساتھ ساتھ لے کر چل رھا تھا -

بعد میں میں نے ایک بہت بڑی ایک البم بنائی اس میں اخباروں سے فلموں کے اشتہار کاٹ کر ان کی نئے سرے سے مختلف ڈیزاین سے تصویریں چپکا کر ایک نیا رنگ دیا اور اپنے ھاتھ سے خوشخط اردو سے نام وغیرہ لکھ کر مزید خوبصورت بنانے کی کوشش کرنے کی کوشش کی بعد میں مشہور فلم اسٹاروں کی تصویروں کو سامنے رکھ کر پنسل اسکیچ سے شاندار تصویریں بنانے لگا، اس کے علاوہ لوگوں کی تصویریں پر بھی کچھ ھاتھ صاف کرنے لگا، اسلامی کتبے اور خانہ کعبہ، گنبد خضریٰ کی تصویریں پہلی بار رنگین کلر سے برش سے بنائی، جسے بہت ھی زیادہ پسند کیا گیا، اب تو لوگ اور دوست بھی فرمائشیں کرنے لگے تھے، لیکن ابھی بھی تھوڑی سی کسر باقی تھی-

میں چاھتا تھا کہ کسی ماھر آرٹسٹ کے پاس جاکر اپنے اس شوق کو لے کر مزید کچھ اور آگے سیکھوں، مگر والد صاحب بھی یہی کہتے تھے کہ پہلے پڑھائی مکمل کرلو، اس کے بعد کسی اچھے آرٹس کے اسکول میں داخلہ لے لینا، میں نے اب مزید پڑھائی کی طرف زور دینا شروع کردیا، اس کے ساتھ ساتھ اپنا شوق بھی پورا کرتا رھا، لیکن یہ واقعی حیرت کی بات تھی کہ چاھے گرمی کا موسم ھو یا سردی کا میں اپنے شوق کے مشن کو لے کر چلتا رھا اور اکثر رات کو اباجی سے چھپ کر بھی لالٹین کی روشنی میں بھی اپنے شوق کی تکمیل کرتا رھا-

اسی شوق اور روزمرہ کی وھی مصروفیات میں بغیر کسی ردوبدل کے اسی تسلسل کے ساتھ ھنسی خوشی سے بھرا ایک سال اور گزر گیا، اور اسی قابل قبول نمبروں سے ساتویں جماعت کو بھی خیرباد کہہ دیا، لیکن کوشش کے باوجود بھی کوئی اچھی پوزیشن نہ لا سکا، اسکی وجہ بھی میرا آرٹ اور ادب کا شوق تھا، ریڈیو پاکستان کے بچوں کے پروگراموں کے علاوہ بھی میں بچوں کے رسالوں بھی کچھ کہانیاں وغیرہ لکھنے کی کوشش کی، لیکن زیادہ نہیں بس کچھ دن کے بعد زیادہ وقت نہ نکال سکا، قلمی دوستی بھی ساتھ ایک نئے شوق کے میرے ساتھ لگ گئی اخباروں میں بھی ایک نئے نام سے پہچانے لگا جس میں میرا نام “ارمان شاھد“ ھوا کرتا تھا،

1963 کا سال چل رھا تھا عمر میں بھی ساتھ ساتھ ایک سال کا مزید اضافہ ھو گیا، تیرویں سال کے ایک رنگین شوق کے دور میں شامل ھوگیا تھا، اس وقت شکر ھے کہ ھمارے گھر میں ریڈیو بھی والد صاحب خرید لائے ایک اور نئی خوشی ھمارے گھر میں آگئی تھی، اور ساتھ ساتھ اپنے اندر بھی ایک بڑکپن کا غرور سا آگیا تھا اور قد میں بھی اچھا خاصہ اضافہ ھوچکا تھا،!!!!!!!!
------------------------------------------------------------
آٹھویں کلاس میں جانے کے بعد کچھ لگتا تھا کہ طبعیت میں کچھ سنجیدگی سی آگئی تھی، اس دفعہ پہلی بار مجھے ریڈیو پاکستان کے مین گیٹ پر ھی بچوں کے پروگرام میں جانے سے روک دیا گیا کیونکہ میری عمر اب اس بات کی اجازت نہیں دے رھی تھی کہ میں بچوں کے ساتھ اس پروگرام میں حصہ لے سکوں، جس کا مجھے اس دن بہت زیادہ افسوس بھی ھوا، حالانکہ پچھلے ہفتہ، منگل کے دن ھی ان بچوں کے ساتھ جاکر وہیں سے آڈیشن ٹیسٹ دے کر ھی اجازت نامے لئے تھے، اس دن باقی بچے جو میرے ساتھ تھے، وہ میرے بغیر اندر جانے سے کچھ شرما رھے تھے، لیکن میں نے انہیں بڑی مشکل سے راضی کیا کہ میں یہیں باھر کھڑا ھوں جیسے ھی پروگرام ختم ھو یہاں گیٹ کے پاس آجانا،

مگر پھر بھی ایک بچہ تو بالکل ھی اڑ گیا، اتوار کا دن تھا اور ساری دکانیں بند تھیں ویسے بھی اتنی صبح صبح کون دکان کھولتا ھے، میں اس بچے کو ساتھ لے کر برابر میں اردو بازار کے میں دروازے کا سامنے فٹ پاتھ پر بیٹھ کر پروگرام کے ختم ھونے کا انتظار کرتا رھا، جہاں سے ریڈیو پاکستاں کے اندر داخلہ کا مین گیٹ بھی نظر آرھا تھا، اسی انتظار میں یہ سوچتا رھا میرے وہ معصوم بچپن کا وہ دور صرف چار دن کے اندر ھی ختم ھوگیا، پچھلے منگل کو مجھے انہیں لوگوں نے اگلے اتوار کے پچوں کے پروگرام کی اجازت دی تھی اور آج مجھے اندر جانے سے منع ھی کردیا کہ میری عمر زیادہ ھے -

پروگرام ختم ھونے کے بعد سب بچوں کو ساتھ لے کر اپنے گھر کی طرف واپس ھوا، تھوڑی دور چلنے کے بعد صدر سے اپنے علاقے کی بس میں سب بچوں کو باری باری بٹھایا اور جب بس روانہ ھوئی تو کنڈکٹر سے تین ٹکٹ لئے ایک اپنا اور چار بچوں کے آدھے ٹکٹ، کچھ دیر میں اپنا اسٹاپ آگیا اور چاروں بچوں کو باری باری بس سے اتارا اور ابنے محلے کی ظرف سب کو ساتھ لئے چل رھا تھا، آج چال میں وہ ہل چل نہیں تھی، بچے بھی کچھ میری وجہ سے خاموشی سے چل رھے تھے، ورنہ ھمیشہ میں ان بچوں کے ساتھ اچھلتا کودتا، شور مچاتا بالکل سرکس کے مزاحیہ جوکر کی طرح مذاق کرتا ھوا چلتا تھا،

اب یہ پہلی بار ریڈیو پاکستاں کے بچوں کے پروگرام میں داخلہ پر پابندی لگی تھی، اور میں گھر جاکر اپنے آپ کو شیشے میں دیکھ رھا تھا کیا میری شکل اب اس قابل نہیں رھی کہ بچوں کی محفلوں میں شریک ھوسکوں، اس دن سے دل کو ایسا دھچکا لگا کہ چہرے پر ایک بےزاری سی کیفیت محسوس ھونے لگی، اس دن تو مجھے کافی رونا آتا رھا، سب لوگ پوچھتے بھی رھے کہ کیا بات ھے آج چہرے پر بارہ کیوں بجے ھیں، لیکن میں نے کسی کا بھی صحیح طریقے سے جواب نہیں دیا-

میری حالت ملکہ باجی بھی دیکھ رھی تھیں، انہوں نے مجھے پیار سے سمجھایا کہ اب تم 13 سال کے ھونے والے ھو ، اور وھاں تو صرف 12 سال تک کے عمر کے بچوں کی اجازت ھے، تمھیں تو خوش ھونا چاھئے کہ 12 سال کے بعد بھی تمہیں کتنی دفعہ اجازت مل چکی ھے، اب تو تمھیں بڑوں کے پروگراموں میں حصہ لینا چاھئے، میں تمھارے ساتھ چلونگی اور تمھیں کسی نہ کسی کے پروگرام میں حصہ دلا کر ھی رھونگی، لیکن اس وقت تو میں نے بالکل انکار کردیا اور ساتھ یہ بھی کہا کہ آیندہ اس طرف کا تو میں رخ بھی نہیں کرونگا، کئی دنوں تک تو اسکا مجھے بہت افسوس رھا اور اس وقت زیادہ ھوتا جب ھر منگل کی صبح صبح کو بچے تیار ھوکر میرے گھر مجھے ریڈیو پاکستان سے اجازت نامہ لینے کیلئے آجاتے، مگر ان سب کو مایوس ھونا پڑتا یہاں میں نے ان کے ساتھ زیادتی کی، میں چاھتا تو انہیں اجازت نامہ دلوا بھی سکتا تھا لیکن صرف اپنی خود غرضی کی وجہ سے میں نے ان کے معصوم خواھشوں کو کچل کر رکھ دیا تھا -

میں اب اور کچھ زیادہ اپنے آپ کو مشغول رکھنے لگا تھا، آٹھویں جماعت کے امتحانات بھی نزدیک تھے، اسکی تیاری کے ساتھ ساتھ کچھ تھوڑا سا وقت اپنے شوق کی طرف بھی دے رھا تھا اور اپنی تصویروں کی البم کے خالی صفحوں پر اخباروں کی کٹنگ سے مختلف رنگوں سے اپنے ہاتھوں سے پینٹنگ کرتا رھا، جو بھی گھر آتا اسے وہ البم ضرور دکھاتا، اور لوگ بہت تعریف بھی کرتے، زیادہ تر فلموں کے ھی اشتہار ھی ھوتے تھے اور ساتھ ھی پنسل اسکیچ سے تصویریں بنانا بھی تہیں چھوڑا تھا اب تو ایک تقریباً ایک گھنٹے کے اندر اندر ایک تصویر مکمل کر لیتا تھا اور رنگوں کی تصویر جو میں برش کے ساتھ پانی کے کلرز سے بناتا تھا اس کیلئے کچھ اور تھوڑا سا وقت مزید درکار ھوتا تھا -

امتحانات کی تیاری میں والد صاحب کے علاوہ ملکہ باجی میرا ساتھ بہت دیتی تھیں، وہ اور انکی بہں زادیہ بھی اب میرے ھی اسکول میں ھی پڑھ رھی تھیں، لیکن وقت الگ ھی تھے اور شاید وہ نویں کلاس میں اور زادیہ میرے ھی ساتھ آٹھویں کلاس میں پڑھ رھی تھی، بہر حال ھم تینوں امتحانات کی تیاریوں میں لگے رھتے اور جب تھک جاتے تو میرے ساتھ وہ دونوں بیٹھ کر مجھے تصویریں بناتا ھوا دیکھتیں، اور کچھ حیران بھی ھوتیں کہ میری بنائی ھوئی تصویروں میں اتنی بہترین اور صاف مشابہت دیکھ کر پریشان ھوجاتیں حلانکہ مجھے ابھی بھی بہت سی خامیاں نظر آرھی تھیں،

بچوں کیلئے اب مجھے وقت نکالنا بہت مشکل ھورھا تھا، پہلے تو کبھی کبھی ریڈیو پاکستان کے علاوہ ھل پارک، چڑیاگھر یا کبھی سمندر کے کنارے کلفٹن بھی لے جایا کرتا تھا، ساتھ اپنے چھوٹے بہن بھائی بھی ھوتے تھے، مگر ملکہ باجی اور زادیہ کو گھر سے اجازت نہیں ملتی تھی لیکن میں ان کی پوری فیملی کے ساتھ ضرور جاتا تھا، اکثر جب بھی وہ سب کسی تقریب یا فلم دیکھنے یا کہیں گھومنے جارھے ھوتے تھے تو مجھے میرے والدیں سے اجازت لے کر اپنے ساتھ ضرور لے جاتے تھے اور میں بھی ان کے ساتھ خوب خوش رھتا تھا -

بچوں کی خوشی کیلئے مجھے ایک اور شوق کو پالنا پڑا کیونکہ بچے مجھے بہت عزیز تھے، اس شوق کیلئے مجھے کچھ زیادہ ھی محنت کرنی پڑی تھی، !!!!!!!!!
--------------------------------------------------------------
جاری ھے،!!!!!

آخری مرتبہ ترمیم کی گئی بذریعہ عبدالرحمن سید : بوقت 11:06 AM مؤرخہ 30-01-10
عبدالرحمن سید آف لائن ہے   یہ اقتباس دیں
پرانا 30-01-10, 11:37 AM   #14
عبدالرحمن سید
-: محسن :-
 
عبدالرحمن سید کی نمائندہ تصویر
 
تاریخ شمولیت: 2007-11-06
قیام: Jeddah, Saudi Arabia.
جنس: male
عمر: 63
پوسٹس: 201
پوائنٹس: 473
عبدالرحمن سید عبدالرحمن سید عبدالرحمن سید عبدالرحمن سید عبدالرحمن سید عبدالرحمن سید عبدالرحمن سید عبدالرحمن سید عبدالرحمن سید عبدالرحمن سید عبدالرحمن سید
عبدالرحمن سید کی طرف بذریعہ MSN  پیغام ارسال کریں عبدالرحمن سید کی طرف بذریعہ yahoo پیغام ارسال کریں
میری اپنی بھولی بسری یادیں،!!! لڑکپن کا دور-5

بچوں کی خوشی کیلئے مجھے ایک اور شوق کو پالنا پڑا کیونکہ بچے مجھے بہت عزیز تھے، اس شوق کیلئے مجھے کچھ زیادہ ھی محنت کرنی پڑی تھی، !!!!!!!!!

جب سے ریڈیو پاکستان کے دروازے مجھ پر بند ھوئے، میں نے بھی بچوں کے ساتھ باھر نکلنا تقریباً ختم کردیا تھا، اور بس زیادہ تر اپنے ھی محلے میں ھی بچوں کے ساتھ کچھ نہ کچھ محفل جما ھی کرلیا کرتا تھا، لیکن بچوں کو تو باھر جانے میں ھی زیادہ خوشی ھوتی تھی، اور لوگ بھی اپنے بچے میرے حوالے کرکے بےفکر ھو جاتے تھے، مگر بچے مجھے باھر لے جانے کی ضد کرتے، لیکں اب میرا دل بالکل نہیں چاھتا تھا، مگر میں نے بچوں کے لئے کچھ اور ھی سوچ رکھا تھا کہ گھر پر ھی کیوں نہ کچھ انکی دلچسپیوں کا ساماں پیدا کیا جائے،

کبھی کبھی ھمارے محلے میں ایک پتلی تماشے والا آتا تھا، جس میں وہ کئی چارپائیوں کو ساتھ جوڑ کر ایک اسٹیج بناتا، اور پیچھے سے وہ مختلف رنگ برنگی پتلیوں کو دھاگوں کی مدد سے اپنی انگلیوں سے نچاتا تھا، ساتھ ساتھ ان پتلیوں کی حرکتوں اور کرداروں کے مطابق اپنے منہ سے آوازیں بھی نکالتا رھتا، کبھی مغل آعظم اور انارکلی، کبھی مُلا دوپیازہ اور بیربل اور کبھی پاٹےخان کے ساتھ بہت سے دوسرے مزاحیہ کھیل مختلف انداز سے پیش کرتا تھا، جسے محلے کے تمام بوڑھے، جوان، بچے، عورتیں اور مرد سب بڑے شوق سے دیکھتے تھے،

اس پتلی تماشہ کو لوگ سامنے سے دیکھتے تھے اور میں پیچھے جاکر اس پتلی والے کو پتلیاں نچاتے ھوئے اسکے ھاتھوں کو دیکھتا تھا، میں نے بھی اسکی دیکھا دیکھی گھر پر ھی گتے سے کاٹ کر اس پر مختلف رنگون کی مدد سے کرداروں کی ایک نئی شکل کی مختلف قسم کی پتلیاں بنائی، سر، ھاتھوں اور پیروں کو پنوں اور تاروں کی مدد سے اس طرح جوڑا کہ وہ اسانی سے ھل جل سکیں، پھر ان میں سوراخ کرکے مضبوط کالے دھاگوں سے باندھ کر پہلے خود ھی پریکٹس کی، پھر ایک چھوٹا سا اسٹیج اسی طرح چارپائیوں کو جوڑ کر بناکر “بیک گراونڈ“ کو اماں کے کالے برقے سے ڈارک کرتا، آگے پیچھے ڈھکنے کےلئے چادروں سے کام لیتا اور پیچھے سے مختلف کالے دھاگوں سے پتلیوں کے ھاتھ پیر اور سروں کو انگلیوں کی مدد سے حرکت دیتا اور منہ میں ایک سیٹی رکھ کر اسی پتلی تماشے والے کی طرح آوازیں نکالتا، جسے بچوں نے کافی تفریح لی اوا بہت خوش ھوتے رھے،

اس میں مجھے کافی حد تک کچھ کامیابی بھی ھوئی، لیکن اتنی مہارت سے پتلیوں کو چلا نہ سکا مگر بس اپنے کھیل اور بچوں کی تفریح کی حد تک بہت ھی زیادہ بہتر تھا اگر کچھ دں مزید پریکٹس کرتا تو شاید “پتلی ماسٹر“ ھونے کے چانس تھے، اس میں سب سے مشکل کام اپنی تمام انگلیوں کو مختلف زاویوں سے اپنی منہ کی آواز کے ساتھ ساتھ چلانا پڑتا ھے اور ھر انگلی دھاگے کی مدد سے پتلیوں سے جڑی ھوتی تھی، واقعی بہت مشکل کام تھا، جس کو زیادہ دن تک برقرار نہ رکھ سکا ایک وجہ یہ تھی کہ گھر کی چادریں اور اماں کے دو برقے میں خراب کرچکا تھا، جس کی ڈانٹ بہت کھانی پڑی اور دوسرے یہ کہ میری پتلیاں گتے اور کاغذ کی ھوتی تھیں، جو ایک دفعہ چلانے کے بعد دوسے وقت کیلئے بالکل ناکارہ ھو جاتیں، اس لئے مجبوراً مجھے اس کھیل کو ختم کرنا پڑا،

میں یہ ساری تفریح محلے کے بچوں کے لئے اور کچھ اپنی واہ واہ کےساتھ ساتھ اپنا شوق کو بھی پورا کرنے کی کوشش کرتا تھا، اس کے علاوہ بچوں سے یا کسی سے بھی اسکا معاوضہ نہیں لیتا تھا، بس اماں ھماری زندہ باد، کسی نہ کسی طرح انہیں منا کر پیسے کھینچ لیتا تھا، یہ سب کچھ صبح سے لیکر دوپہر اسکول جانے سے پہلے کرتا تھا کیونکہ اس دوران اباجی ڈیوٹی پر اور ھماری ملکہ باجی اور زادیہ اسکول میں ھوتی تھیں، اور کسی کا اتنا ڈر بھی نہیں تھا، اپنے چھوٹے بہن بھائی تو مجھ سے ویسے ھی ڈرتے تھے،

اب پتلی تماشے کے بعد کسی اور نئے کھیل کی فکر میں لگ گیا، وہ کھیل کیا تھا، ایک اور نیا ڈرامہ، جس کے لئے کچھ مہنگا ساماں خریدنا پڑا اور اس کے لئے مجھے کافی جتن کرنے پڑے، جسے اب کبھی سوچتا ھوں تو بہت ہنسی آتی ھے، دن کو اکثر اپنے شوق پورے کرتا اور شام کو اسکول سے واپسی پر اپنی پڑھائی کی طرف دھیاں دیتا تھا، اور باقی روزمرہ کے کام کاج اپنے معمول کے مطابق ھی ھورھے تھے، جیساکہ پہلے ھی میں ذکر کرتا رھا ھوں !!!!!!!!!
----------------------------------------------------
اب ایک اور نئے شوق کے چکر میں، تاکہ بچے کسی نہ کسی طرح خوش رھیں، ایک ھمارے محلے میں ایک آدمی اکثر ایک بڑا سا ڈبہ اپنی سائیکل پر رکھ کر آتا تھا، اس میں پانچ یا چھ دوربین کی طرح لیٹربکس جیسے دیکھنے کیلئے لگے ھوتے تھے، اندر ایک طرف ایک سینما کی طرح ایک پردہ ھوتا، دوسری طرف ایک فلم چلانے کی چھوٹی سی ایک مشین لگی ھوتی تھی، جس پر ایک چرخی کے ساتھ فلم کی ریل لپٹی ھوئی ھوتی اور وہ آدمی اس چرخی کو اپنے ھاتھ سے گھماتا ساتھ ایک شیشہ بھی لگا ھوا تھا جس سے وہ سورج کی روشنی کا عکس مشیں کے عدسے پر ڈالتا جہاں سے فلم کی ریل چل رھی ھوتی تھی، اور اس ڈبے کے اندر اس فلم کا عکس پڑتا اور بچوں سے ایک ایک آنہ لے کر شاید دو یا تیں منٹ کی فلم کا کوئی مار دھاڑ یا کوئی رقص کے سین بغیر آواز کے دکھاتا تھا، اور بچے بہت شوق سے یہ بھی دیکھتے تھے -

مجھے بھی ایک اسی طرح کے شوق کا دورہ پڑا کہ میں کیوں نہ بچوں کو بھی اسی طرح کی ایک اور تفریح فراھم کروں، بس اس کام کی دھن میں بازار جاکر روزانہ کوئی نہ کوئی معلومات لیتے کی کوشش کرتا رھا، مگر جب آخری نتیجہ پر پہنچا کہ مجھے اس شوق کیلئے تو میرے حساب سے کافی رقم درکار ھوگی، میرے منصوبے کے مطابق اس میں کم از کم ایک سو روپے کا نسخہ تھا، جو کہ میرے بس کے بالکل باھر تھا، والد صاحب کی تنخواہ ھی 150 روپے ماھانہ تھی اور وہ پورے گھر کے خرچ پر ھر مہینے 100 روپے سے زیادہ خرچ نہیں کرتے تھے، اور میں اپنے اس شوق کیلئے 100 روپے خرچ کروں یہ تو بالکل ناممکن تھا،

اکثر جب بھی میں فلم دیکھنے جاتا تھا تو مجھے یہ تجسس رھتا تھا کہ پردہ پر حرکت کرتی ھوئی فلم کیسے دکھائی دیتی ھے، میں اکثر بالکل سامنے کا ھی ٹکٹ لیتا تھا اور ان لوگوں کو بےوقوف سمجھتا تھا جو بالکل پیچھے اور گیلری میں بیٹھ کر اور زیادہ پیسے خرچ کرکے فلم دیکھتے تھے، جبکہ اس وقت سب سے آگے چار سے چھ آنے، درمیان میں بارہ آنے، سب سے پیچھے ایک روپیہ اور گیلری کا ٹکٹ صرف سوا روپے سے ڈیڑھ روپے تک ھوتا تھا، میں بھی یہ سوچنے لگا کہ اگر میں بھی کسی طرح ایک چھوٹا سا سینما جیسا بنا لوں اور محلے کے بچوں اور بڑوں سے کچھ نہ کچھ ٹکٹ کےعوض لے کر کچھ گھر کی آمدنی میں بھی اضافہ کرسکتا ھوں، اور یہ بس میں اکیلے ھی اپنے شیخ چلٌی کی طرح اپنے خوابوں کو بنتا رھا،

اور شاید آپ یقیں کریں یا نہ کریں میں نے یہ مہنگا شوق بالکل شیخ چلی کے خوابوں کی طرح مگر حقیقت میں ایک مہینے کے اندر اندر مکمل کیا، سب سے پہلے تو میں نے کچھ اپنے جیب خرچ میں سے کچھ بچائے اور کچھ والدہ سے زبردستی رو دھو کر تین روپے اکھٹے کئے، مگر کسی کو بھی خبر نہ ھونے دیا، اور خاموشی سے روزانہ صبح سودا لانے کے وقت ایک چھوٹا سا ایک دھندا بھی پال لیا، جسکے لئے والدہ سے صرف ٹیوشن پڑھنے کے بہانے سے ایک جھوٹ کا سہارا لیا، اس شرط پر کہ وہ اباجی کو بالکل نہیں بتائیں گی، کیونکہ سالانہ امتحان قریب ھیں اور میں اس دفعہ اچھے نمبر لانا چاھتا ھوں -

اب ایک اس سینما کے شوقیہ منصوبے کو پورا کرنے کیلئے کئی اور منصوبے بنانے پڑے اور وہ بھی بغیر کسی کو بتائے اور نہ ھی ساتھ کسی کو شریک کیا، روز کے معمول کی طرح پہلے گھر کا تمام پانی بھرتا، اور پھر سودا لینے کےلئے روزانہ اب بہت جلدی نکل جاتا تھا اور ایک گھر سے بڑی لکڑی کو اٹھاتا اور نکل پڑتا، پہلے دن میں نے ان تین روپے میں سے ایک روپے کے بغیر پھولے ھوئے غباروں کا پیکٹ خریدا جس میں مختلف کلر اور سائزکے تقریباً 100 عدد ھونگے اور باقی دو روپے کے مختلف کھلونے تھوک کے بھاؤ سے ایک ایک درجن لئے اور کسی اور علاقے میں جاکر تاکہ کسی کو پتہ نہ چلے، وہاں پہنچنے سے پہلے تو کچھ غبارے پھلائے اور لکڑی پر ٹانگے اور کچھ کھلونے بھی لکڑی کے ساتھ ھی لٹکائے اور اس علاقے میں پہنچا تو میرے آس پاس بہت ھی زیادہ بچوں کا رش لگ گیا اور اناً فاناً سارے غبارے جو پُھلا سکا بک گئے اور ساتھ ھی کافی کھلونے بھی بچوں نے خرید لئے، پھر واپس جلدی جلدی سودا لے کر، ایک دکان پر وہ لکڑی اور بچے ھوئے غبارے، کھلونے وغیرہ امانتاً رکھوائے، جہاں سے اکثر سودا لیتا تھا، واپس گھر کی طرف، اماں کو سودے کا حساب دیا اور اسکول جانے کی تیاری میں لگ گیا - اس دن میں نے پیسے گنے تو کل چار روپے بنے اور ابھی تو اور بھی غبارے اور کھلونے باقی تھے،

اسی طرح اب روزانہ ھی مجھے مزید پیسے بڑھانے کی عادت سی ھوگئی اور روزانہ معمول کے مطابق جانا اور تقریباً پندرہ دن تک اسی طرح غبارے اور کھلونے تھوک کے بھاؤ خریدکر اور انہیں بیچ کر مشکل سے بیس روپے تک اکھٹے کئے اور میں بہت تھک بھی گیا اس کے علاؤہ ایک اور دھندا بھی شروع کیا، شب برات کے دن نزدیک تھے اس موقع کو غنیمت جانتے ھوئے میں فوراً تھوک بازار گیا جو بس کے ذریعے صرف آنے اور جانے میں صرف آدھے گھنٹہ کا وقت لگتا تھا، وہاں سے مختلف پٹاخے انار جلیبی اور لہسن پٹاخہ، پُھل جھڑیاں اور مختلف پٹاخے جو بھی مل سکے وہ بیس روپے میں خریدے اور اب روزانہ غباروں کو چھوڑ کر اپنے ھی محلے میں ھی بیچنا شروع کیا لیکں ایک دوسرے دوست کی مدد سے تاکہ ایسا لگے کہ وہ بیچ رھا ھے، اسی طرح میں ایک مہینے میں بہت مشکل سے تقریباً 40 روپے تک بنالئے اور یہ پیسے مختلف بس کے کنڈکٹروں سے دس دس روپے کے نوٹوں کی شکل میں بدلوا بھی لئے مگر اپنے نئے مشن کے لئے تو 100 روپے درکار تھے، اب پھر سوچ میں پڑ گیا کہ کس طرح اپنے سینما کے خواب کو پورا کروں ، ایک مہینہ بھی ھونے والا تھا!!!!!!!

ادھر آٹھویں جماعت کے امتحانات بھی نزدیک آرھے تھے اور میں اپنے شوق کی تکمیل کےلئے اونچی اڑان کے چکر میں لگا ھوا تھا، مگر یہ شاید میری، کیا کہیں کہ خوش قسمتی ھی سمجھ لیں کہ جو اچھے یا برے جو بھی شوق پالے تھے، جن کو میں نے بچپن میں کسی نہ کسی طرح اپنے معمولی وسائل کے ذریعے ھی پورا کرنے کی کوشش کی تھی، ان کی حقیقت میں مجھے اس کی صحیح تعبیر بڑے ھوکر ایک پروفیشنل کیرئیر کے روپ میں ملی بھی، اور کافی حد تک کامیاب بھی رھا، لیکن بس جو اللٌہ تعالٰی کو منظور تھا وھی میرے لئے بہتر ثابت ھوا -
کیونکہ چند مجبوریوں اور کچھ اپنے والد صاحب کی ناپسندیدگی وجہ سے میرے اپنے شوق سے اپنائے ھوئے کیرئیر زیادہ پائیدار ثابت نہیں ھوسکے، اور اس طرح مجھے اپنے تمام شوق کو مکمل طور سے خیرباد کہنا پڑا،!!!!!!!!
------------------------------------------------------------------
اس سے مجھے یہ ضرور سبق ملا کہ اگر انسان شیخ چلی کی طرح خوابوں میں رھنے کے بجائے، اگر صدق دل اور اچھے جذبے سے جتنی محنت کرے گا تو اس سے کہیں زیادہ اللٌہ تعالیٰ اس کا صلہ ضرور دیتا ھے، اُس وقت کے دور میں لوگ محنت ضرور کرتے تھے لیکن زیادہ لالچ نہیں کرتے تھے کچھ وقت اپنے لئے ، اپنے بچوں کے لئے اور دوسروں کے لئے بھی نکالتے تھے اس کے علاوہ اپنی اور اہل و عیال کی صحت اور خوراک کی طرف بھی خاص توجہ دیا کرتے تھے، کم اور بہتر تازہ غذا، ورزش، نماز کی مکمل پابندی اسکے علاوہ رات کو عشاء کی نماز کے بعد کچھ چہل قدمی کرکے، اپنے دوست نمازیوں کے ساتھ نماز سے فارغ ھوکر ایک چھوٹی سی چوپال لگاتے، مسئلے مسائل حل کرتے اور کچھ گپ شپ کرتے اور کوشش یہی ھوتی تھی کہ جلد سے جلد سو جائیں کچھ بزرگ تو یاد الہٰی میں رات بھی گزارتے تھے اور تہجد اور نوافل کی نمازوں کے ساتھ اپنی مسجد میں اللۃ کے ذکر کا اہتمام بھی کرتے تھے-

اس وقت زیادہ تر لوگ اپنے وسائل کے اندر ھی رہ کے اپنی ضروریات کو پورا کرنے کی کوشش کرتے تھے یعنی جتنی چادر ھوتی تھی اتنے ھی اپنے پیر پھیلاتے تھے، بلکہ لوگ تو صدقہ خیرات بھی خوب کرتے تھے اور محلے کے ضرورت مندوں کی مدد بھی کرتے تھے، یہی وجہ تھی کہ آللٌہ تعالیٰ ان کے رزق میں برکت بھی دیتا تھا، اور سکون کے ساتھ ساتھ خوشیوں کا بونس بھی ملتا تھا، اس زمانے میں قلیل آمدنی ھونے کے باوجود لوگوں کے دل بہت وسیع تھے،
ایسے بھی مگر بہت کم لوگ دیکھنے میں آتے تھے جو ھمیشہ پریشان رھتے اور قرضہ میں ڈوبے رھتے اس کی وجہ وہی تھی کہ وہ قدرتی قانون کی پیروی نہیں کرتے تھے، اور اچھے اور متقٌی لوگوں سے دور بھاگتے تھے تاکہ وہ نصیحتیں سننے سے بچ جائیں، مگر بعد میں انہیں کے پاس جاکر ھاتھ بھی خود ھی پھیلاتے تھے -

معاف کیجئے گا کہ کچھ نصیحتوں کی طرف میرا رخ ھوگیا تھا، چلئے اب اصل موضوع پر واپس آتے ھیں !!!!!!!!!!

اس وقت 40 روپے بہت ھوتے تھے،میری خوشی کا کوئی ٹھکانا نہیں تھا، مگر میرے پروجیکٹ کا تخمینہ 100 روپے تک تھا، اس کے علاوہ اور کوئی چارا نہیں تھا کہ اب مجھے اسی بجٹ میں اپنے چھوٹے سے سینما کے پروجیکٹ کو مکمل کرنا تھا، جس سے میں بچوں کو ایک نئی تفریح فراھم کر سکوں لیکن کچھ معلوماتی فلم یا کوئی کارٹون ٹائپ کی فلم ھو تو بچوں کیلئے بہتر ھوتا، اگر اس میں کامیابی ھوتی تو میں نے سوچ رکھا تھا کہ اس کو کمائی کا بھی ذریعہ بھی بنا سکتا ھوں،!!!!!!!!!!

اب ان 40 روپے سے اپنے پروجیکٹ کی تکمیل کیسے ھو، یہ سوچ سوچ کر میں بہت پریشان تھا، لیکن یہ بھی ایک مصمم ارادہ کئے ھوئے تھا، کہ کسی نہ کسی طرح اس شوق کو پورا ضرور کرنا ھے، مگر اس کی خبر کسی کو ھونے بھی نہیں دی ورنہ تو مار ھی پڑنی تھی اور اب تو کافی عرصہ بھی ھوگیا تھا، اچھی طرح پٹائی کھائے ھوئے -

ایک دن بس چل دیا کباڑی بازار اور وہاں اپنے پروجیکٹ کا سامان ڈھونڈنے لگا، ایک جگہ مجھے فلم چلانے کی مشین نظر آئی، مکمل چرخی اور ھاتھ کے ہینڈل کے ساتھ اور کچھ فلموں کی ریلیں بھی پڑی ھوئی تھیں، میں نے اس سے پوچھا کہ اس مشین کی کیا قیمت ھوگی اس نے شاید اس وقت ایک سو روپے سے زیادہ کی ھی بتائی تھی، میں خاموش ھی ھوگیا کیونکہ اسی طرح کی مشین دو مہینے پہلے پوچھی تھی تو اس کی قیمت 50 یا 60 روپے تک کی تھی، میں آگے بڑھ گیا اگے بھی بہت سےکباڑی اپنے ھر ٹھیلے پر مختلف نوعیت کے پرانے زمانے کی چیزیں بیچ رھے تھے، اور کافی رش بھی تھا ھر کوئی اپنی پسند کی چیزوں کے چکر میں تھے،

میں بھی کئی مرتبہ اباجی کے ساتھ یہاں آچکا تھا اور بھاؤ تاؤ کرنے کا گُر بھی انہیں سے سیکھا تھا، کہ اگر کوئی 100 روپے قیمت بتائے تو آپ بھی اسے 10 روپے بتاؤ خاص کر کباڑی کی دکان پر، میں جب اپنے کانوں کو ھاتھ لگا کر آگے بڑھا تو انس نے فوراً مجھ سے پوچھا کہ خریدنے آئے ھو یا تفریح کرنے، میں نے فوراً جواب دیا کہ تم کیا سونا بیچ رھے ھو اس کباڑی کی دکان پر، اس نے غصہ سے کہا کہ کیا جیب میں مال ھے، میں نے فوراً جیب سے صرف 20 روپے نکالے اور ھوا میں لہراتے ھوئے اسے نوٹ دکھائے وہ پھر خاموش ھوگیا اور مجھے بلا کر کہا کے کسی کو نہیں بتانا میں تمھیں اپنا بیٹا سمجھ کر آدھی قیمت میں دے دونگا، مین ‌نے مسکراتے ھوئے کہا کہ میرے پاس تو بس یہی 20 روپے ھیں مجھے افسوس ھے کہ میں یہ نہیں خرید سکتا، شکریہ ادا کرتے ھوئے آگے بڑھا ھی تھا تو اس نے دوبارہ آواز دی اور اُسی مشین کی قیمت 50 روپے سے شروع کرتا ھوا اور20 روپے تک بڑی مشکل سے پہنچا اور ساتھ میں میں نے اس سے فلم بھی مانگی تو اس نے اس کی قیمت 5 روپے شاید مانگی لیکن میں نے کہا کہ اس مشین کے ساتھ ھی 20 روپے میں ھی چاھئے، اور میرے پاس کچھ بھی نہیں ‌ھے جبکہ میرے پاس اور 20 روپے ایک الگ جیب میں رکھے تھے،

آخر جب میں اس کے انکار پراس مشین کو چھوڑ کر کافی آگے نکل گیا اور دوسرے ٹھیلے والے سے اسی طرح کی پروجیکٹر مشین دیکھ ھی رھا تھا تو وھی آدمی میرے پاس آیا اور واپس مجھے لے گیا اور بہت ناراض ھوا کہ تم نے ایک تو مشین کے دام اتنے کم لگائے اور اوپر سے اس کے ساتھ فلم بھی مفت مانگ رھے ھو ، میں نے جواب دیا کہ بھائی میرے پاس اتنے ھی پیسے ھیں اگر دینا ھو تو ورنہ میں جارھا ھوں اور مجھے یہ پکا یقین تھا کہ یہ مجھے اسی قیمت پر ھی دے گا، کیونکہ مجھے پہلے بھی والد صاحب کے ساتھ بار بار بازار جاکر کافی تجربہ ھوگیا تھا کہ کہاں پر کس چیز کی کس قیمت پر بحث کرنی چاھئے، کافی اصرار کے بعد بہت مشکل سے وہ اس بات پر راضی ھوگیا، لیکن بیکار سی فلم گھس پٹی بہت سے جوڑ لگے ھوئے، مجھے دینے لگا، پھر میں نے انکار کردیا آکر میں نے ھی اپنی مرضی سے ایک کارٹون فلم اور ایک جنگلی جانوروں کی فلم لی جو شاید مشکل سے 3منٹ کی ھوگی اور پھر وہاں سے واپس گھر بھاگا، جلدی جلدی سودا لیا اسکول کو بھی دیر ھورھی تھی،

گھر پہنچتے ھی بالکل خاموشی سے اس مشین اور فلم کے تھیلے کو ایک خفیہ جگہ پر چھپایا اور اسکے اُوپر کچھ اور چیزیں رکھ کر یہ اطمنان کرلیا کہ کوئی اور یہاں تک نہیں پہنچ سکتا، پھر اماں کے پاس رونی صورت بناتے ھوئے سودا دیا اور یاد نہیں کہ کیا بہانہ کیا تھا، بہرحال کوئی قابل قبول ھی بہانہ تھا جس کی وجہ سے ڈانٹ نہیں پڑی اور میری ماں تو ویسے ھی بہت سادہ طبیعت کی مالک تھی اور ھمیشہ مجھے اباجی سے ڈانٹ اور مار سے بچاتی تھیں، جس کا میں نے بہت فائدہ اُٹھایا، کیونکہ گھر میں سب بہن بھائیوں میں سب سے بڑا تھا اور اپنی ماں کا لاڈلہ بھی تھا -

جلدی جلدی کچھ کھایا پیا اور تیار ھوکر بستہ گلے میں لٹکایا اور اسکول کی طرف بھاگتا ھوا گیا کیونکہ کافی دیر ھوچکی تھی صرف 15 منٹ باقی تھے، اور پہلے ھاف یعنی لڑکیوں کی چھٹی بھی ھوچکی تھی اور گھر پہنچنے والی تھیں اور میں ابھی تک راستہ میں ھی تھا میرے ساتھ کے دوست کب کے اسکول جاچکے تھے، اور میں لڑکیون کے رش سے بچتا بچاتا بھاگ رھا تھا اور ساتھ ان سب کی ہنسی اور مزاحیہ فقرے بازیاں بھی سن رھا تھا، جو مجھے جانتی بھی تھیں،

پہلے بھی ھمیشہ ان سے راستہ میں ضرور ٹکراؤ ھوتا تھا اور میں اپنے دوستوں کے ساتھ ان کا مزاق اڑاتا ھوا جاتا تھا اور وہ بھی ھمیں اسی طرح جواب دیتیں تھیں اور سب ھم ایک دوسرے کو جانتے بھی تھے کیونکہ زیادہ تر ھمارے محلے کی ھی تھیں اور بہت زیادہ فری تھے، لیکن اس وقت کبھی کسی نے کسی غلط نظر سے کسی بھی لڑکی کو نہیں دیکھا، ان میں ھم تمام دوستوں کی بہنیں بھی شامل ھوتیں تھیں کچھ رشتہ دار بھی اور پھر سب سے بڑھ کر ھماری ٹیم کی استاد لیڈر ملکہ باجی اور ساتھ چھوٹی بہن ان کی اسسٹنٹ اور ھم سب کی بہنیں بھی اس اسکول سے واپسی کے قافلے میں شامل ھوتیں تھیں، سب نے نیلے اور سفید رنگ کے یونیفارم پہنے ھوتے تھے اور ھم لڑکوں نےخاکی پتلوں اور سفید قمیض پہنی ھوتی تھی، ایک عجیب سا خوبصورت سا رنگ برنگا ماحول لگتا تھا کہ سامنے نیلے اور سفید یونیفارم میں ملبوس لڑکیاں اور ھم سفید اور خاکی یونیفارم پہنے مدمقابل ھوتے تو مذاق اور فقرے بازیوں کا سلسلہ شروع ھوجاتا تھا اور اسی طرح ایک قافلہ دوسرے قافلے کو ھنستے ھوئے ایک دوسرے کو ھاتھ ھلاتے ھوئے گزر جاتے مگر کوئی بدتمیزی نہیں ھوتی تھی-

خیر بات ھورھی تھی کہ بھاگم بھاگ میں اس دفعہ بالکل اکیلا ان سب کے بیچوں بیچ بھاگتا ھوا جارھا تھا اور ان سب کو بھی موقعہ مل گیا تھا خوب میرا مذاق اُڑایا اور تنگ بھی بہت کیا لیکن میں نے کسی کی ایک نہ سنی اور بھاگتے بھاگتے اپنے دوستوں کے ریوڑ میں شامل ھو ھی گیا اور دوست بھی خوش ھو گئے تھے کیونکہ میں اپنے دوستوں میں ان کا لیڈر تھا، وہ سمجھے کہ شاید آج میں نہ آؤں، ان کا بھی میرے بغیر دل نہیں لگتا تھا -

اور آخر اسکول کی چھٹی کے بعد تھکا ھارا گھر پہنچا اور بستہ رکھ کر فوراً گھر کے ایک کونے میں اس خفیہ جگہ پر پہنچا جہاں پر وہ پروجیکٹر مشیں اور فلموں کی ریل چھپائی تھی، کیا دیکھتا ھوں کے میرے تمام چھوتے بہن بھائی مل کر اس مشیں کے ساتھ کھیل رھے تھے اور فلم کا رول کو پورا ھی کھول دیا تھا پورے کمرے کا کیا حشر نشر ھوا کہ میں کیا بتاؤں میں تو اس وقت سکتے میں ھی آگیا تھا!!!!!!!
------------------------------------------
میری کہانی کے ہر ایک موڑ پر کوئی نہ کوئی پیغام ضرور پوشیدہ ھے، اس وقت 20 روپے بھی بہت حیثیت رکھتے تھے، اب میں یہاں بھی ایک اور لیکچر شروع کررھا ھوں، تھوڑا برداشت کرنا پڑے گا، جو صرف آپ کو ھی نہیں بلکہ تمام پڑھنے والوں کے لئے بھی، مجھے امید ھے کہ آپ سب کچھ خیال نہیں کریں گے -

میں نے اپنی ایک لگن کو سامنے رکھتے ھوئے ایک چھوٹی سی محنت کرکے چالیس روپے جمع کئے اور میں نے اس بچوں کے سینما پروجیکٹ کی تکمیل کیلئے بھی کم سے کم پیسے خرچ کئے اور اس منصوبے میں ایک حد تک میں کامیاب بھی ھوا، جسکا اگلی قسط میں ذکر کرونگا، میں نے یہ نہیں سوچا کہ یہ غبارے بیچنا یا پٹاخے بیچنا کوئی بری بات ھے بلکہ مجھے ڈر اس بات کا تھا کہ میں کسی کے علم میں لائے بغیر ھی کام کررھا تھا، اور اس کے علاوہ والد صاحب کا خوف کہ میں اپنی پڑھائی کے بجائے اس طرف کیوں جارھا ھوں، جبکہ وہ ھمارے لئے اپنی ایک مختصر سی تنخواہ میں ھمیں تمام سہولتیں مہیا کررھے تھے-

اُس وقت کے لوگوں میں معاوضہ سے زیادہ محنت کرنے کی ایک لگن اور اچھے سے اچھا نتیجہ یا یوں کہہ لیں کہ کم سے کم وقت میں، ایک عمدہ کوالیٹی کو ابھارنے کی کوشش میں لگے رھتے تھے، انہیں یہ یقین تھا کہ جتنی ایمانداری اور جستجو سے وہ کام کریں گے اس سے کہیں زیادہ اللٌہ تعالیٰ ان کے رزق میں برکت دے گا -

آجکل ھمارے اندر یقین نام کی کوئی چیز نہیں ھے، اور بھروسہ تو بالکل اٹھ چکا ھے، تو سوچ لیں کہ برکت کیسے ھوگی، آج ھم روپئے اور پیسے ھی کو اپنا سب کچھ مانتے ھیں، کوالیٹی، ایمانداری اور محنت کی طرف تو کسی کا بھی دھیان ھی نہیں ھے، یعنی کہ اب بالکل ھم لوگ اسکے برعکس چل رھے ھیں،

ایک یہ ھمارے ذہن میں تو بالکل ھی ایک کونہ تو بالکل کورا ھو چکا ھے کہ اگر ھم محنت اور ایمانداری سے کام کریں گے تو اس سے ھماری ھی ذات کو اس کا فائدہ نہیں ھوگا بلکہ اس سے ھم اپنے ملک کی ترقی میں حصہ دار کی حیثیت سے ھر ایک سنگ میل کا نیا اضافہ بھی کریں گے، اگر ھر انفرادی قوت مل کر ایک جان ھوجائیں اور مشترکہ طور سے ایک دوسرے کا ہاتھ پٹائیں تو میں نہیں سمجھتا کہ ھم اپنے ملک کو دنیا کے ترقی یافتہ ملکوں کے صف میں کھڑا نہیں کرسکتے، ھمارے سب کے اندر بہت زیادہ قدرت کی پیدا کی ھوئی خدا داد صلاحیتیں کوٹ کوٹ کر بھری ھوئی ھیں-

ایک سب سے بری خامی یہ ھے کہ ھم اپنے ھر پیشہ کو ایک علیحدہ علیحدہ اسٹینڈرڈ کے پیمانے میں رکھ کر تولتے ھیں، جبکہ پہلے وقت میں کوئی بھی شخص کسی بھی پیشہ کو برا نہیں سمجھتا تھا، جس طرح کہ اب بھی باھر کے ملکوں میں گریجویٹ لوگ ھیں لیکن وہ ڈرائیونگ بھی کررھے ھیں کھیتوں میں کام کررھے ھیں، پٹرول پمپ اور کیفے یا ریسٹورنٹ میں ویٹر اور مزدور، صفائی ستھرای کرنے والے بھی اچھے تعلیم یافتہ ھیں، لیکن وہاں کوئی بھی کسی پیشہ کو برا نہیں سمجھتے، کوئی بھی کام ھو وہ لوگ لگن اور محنت سے اور خوشی سے کرتے ھیں اور ان سے منسلک کسی بھی کام میں ایک اچھے سے اچھا میعار لانے کیلئے اپنی ھر ممکن کوشش کرتے ھیں،

ھمارے محلے میں بھی ھر قسم کے پیشے سے رکھنے والے ایک ساتھ مل جل کر رھتے تھے، اس میں بابو لوگ سوٹ بوٹ میں دفتر جاتے تھے، تو ساتھ وہاں معمار، بڑھئی اور لوہار حضرات بھی تھے، رکشہ،اور ٹیکسی ڈرائیور اس کے علاوہ بس کے کنڈکٹر بھی تھے، گدھا گاڑی چلانے، اور خود ٹھیلے پر سبزی، گوشت اور شربت فالودہ بیچنے والے بھی وہیں رھائیش پذیر تھے، فوجی جوان ھو یا کوئی صوبیدار ھو یا پولیس سے تعلق ،موچی، نائی یا دھوبی بھی گاڑی کے مکینک حضرات بھی ساتھ ھی رھتے تھے اس کے علاوہ گھڑی ریڈیو اور گراموفون کے مکینک بھی موجود تھے ، دو تیں ڈاکٹر بھی تھے ساتھ نرس اور دائیاں بھی تھیں، صفائی کرنے والے بھی موجود تھے، اور ایک اچھی بات یہ تھی کہ ھر ایک اپنے محلے کے لئے بلامعاوضہ خدمات انجام دیتے تھے، صرف اگر باہر سے اگر کسی پرزے کی ضرورت نہ ھو تو وہ بھی وہ بالکل سستے میں دلوا بھی دیتے تھے،

غرض کہ ھر پیشہ سے منسلک لوگوں کی ایک اچھی تعداد موجود تھی، اور سب لوگ اپنے اپنے کاموں سے فارغ ھوکر آتے تو سب ملکر اپنے محلے کی مسجد میں اکھٹا ھو کر نماز باجماعت پڑھتے تھے، اگر کوئی موجود نہ ھوتا تو اسکے گھر جاکر ظبعیت کی خبر گیری کرتے، اور بلاناغہ ھر رات کو سب بڑوں کی ایک بیٹھک ھوتی تھی اور گپ شپ کے علاوہ ایک دوسرے کے مسائل کو حل کرنے کیلئے اپنی اپنی ماھرانہ رائے اور خدمات پیش کرتے تھے، شادی بیاہ سے لیکر گھر کی ریپئر وغیرہ تک میں سب لوگ ایک دوسرے کی مدد کرتے تھے، اور کسی کے ھاں اگر کوئی مہمان آجاتا تو وہ پورے محلے کا مہمان ھوتا، حتیٰ کہ محلے کی نالیاں وغیرہ صاف کرنے کےلئے بھی سب ملکر اپنی خدمات پیش کرتے تھے-

ایسی بات نہیں ھے کہ اب ھمارا وہ جذبہ نہیں رھا یا وہ صلاحتیں ختم ھو گئیں، اب بھی ھم سب میں وھی ماہرانہ صلاحیت اور خصوصیات موجود ھیں، جو پہلے کبھی سامنے اپنے ملک میں موجود تھیں، جیساکہ ھم سب جو آجکل بیرونی ممالک میں اپنی ماھرانہ خدمات انجام دے رھے ھیں اور دوسرے ملک ھماری انہی خصوصیات سے فائدہ بھی اٹھا رھے ھیں، یہاں ھم جتنی محنت کرتے ھیں اگر اسی لگن کے ساتھ اس سے آدھی بھی اگر ھم اپنے ملک میں محنت کریں تو ھمارے ساتھ ساتھ ھمارے ملک کو اتنا فائدہ ھو کہ ھم سوچ بھی نہیں سکتے،

لیکن افسوس کہ ھم سب جو باہر ھیں بہت مجبور ھیں کہ ھمیں اپنی صلاحیتوں کو اپنے ھی ملک میں ابھارنے کا موقع نہیں دیا جاتا، ھر جگہ اچھی پوسٹ کیلئے رشوت کا سہارا لیا جاتا ھے، کیڈٹ اور سول سروسز میں عام لوگوں کے بچوں کا جانا ایک معجزے سے کم نہیں ھے، اگر کوئی ایمانداری سے کوئی کاروبار کرنا چاھتا ھے تو وہ اپنے ھی بڑے اداروں کے پلے ھوئے بدمعاشوں کو بھتہ دیئے بغیر ان کے زیر اثر آئے بغیر کوئی کام شروع نہیں کرسکتے-

یہاں تک کہ بھیک مانگنے والوں کو، فٹ پاتھ پر بیچنے والوں کو، بازار میں ٹھیلا لگانے والوں کو بھی ھر جگہ کی مناسبت سے ماھانہ یا روزانہ یا ھفتہ وار ایک اچھی خاصی رقم وھاں کے علاقے کے مقرر کردہ چیرمین کو ادا کرنی پڑتی ھے چاھے کمائی ھو یا نہ ھو، ھر کوئی انکا کھاتہ پورا کرنے کیلئے بے ایمانی کرنے پر مجبور ھے کیونکہ اگر اس نے مقررہ وقت سے پہلے بھتہ کی رقم نہ چکائی تو وہ اس دھندے سے بے دخل ھو سکتا ھے، یہی حال چھوٹے بڑے ھوٹلوں ریسٹورنٹ اور یا کوئی بھی کاروبار ھو بغیر کھلائے پلائے شروع نہیں کرسکتے اور جو کررھے ھیں وہ دوسروں کو بھتہ تو ضرور دیتے ھیں لیکن سرکار کو انکم ٹیکس دینے سے پیچھے بھاگتے ھیں -

ان کے پیچھے کون کون سے کرم فرما سرگرم ھیں، یہ سب جانتے ہیں، لیکن ھر ایک کی زبان پر ایسا تالا لگا ھوا ھے کہ جسکی چابی لگتا ھے کہ کہیں کھو گئی ھے !!!!!!!!
-------------------------------------
جاری ھے،!!!
عبدالرحمن سید آف لائن ہے   یہ اقتباس دیں
پرانا 30-01-10, 12:19 PM   #15
عبدالرحمن سید
-: محسن :-
 
عبدالرحمن سید کی نمائندہ تصویر
 
تاریخ شمولیت: 2007-11-06
قیام: Jeddah, Saudi Arabia.
جنس: male
عمر: 63
پوسٹس: 201
پوائنٹس: 473
عبدالرحمن سید عبدالرحمن سید عبدالرحمن سید عبدالرحمن سید عبدالرحمن سید عبدالرحمن سید عبدالرحمن سید عبدالرحمن سید عبدالرحمن سید عبدالرحمن سید عبدالرحمن سید
عبدالرحمن سید کی طرف بذریعہ MSN  پیغام ارسال کریں عبدالرحمن سید کی طرف بذریعہ yahoo پیغام ارسال کریں
میری اپنی بھولی بسری یادیں،!!! لڑکپن کا دور-6

ان کے پیچھے کون کون سے کرم فرما سرگرم ھیں، یہ سب جانتے ہیں، لیکن ھر ایک کی زبان پر ایسا تالا لگا ھوا ھے کہ جسکی چابی لگتا ھے کہ کہیں کھو گئی ھے !!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!

معاف کیجئے گا، میں پھر سے اپنے کہانی کے ٹریک سے نیچے اتر گیا تھا، میں پھر دوبارہ وہیں سے سلسلہ جوڑتا ھوں جہاں سے سلسلہ منقطع ھوا تھا،!!!!!

اور آخر اسکول کی چھٹی کے بعد تھکا ھارا گھر پہنچا اور بستہ رکھ کر فوراً گھر کے ایک کونے میں اس خفیہ جگہ پر پہنچا جہاں پر وہ پروجیکٹر مشیں اور فلموں کی ریل چھپائی تھی، کیا دیکھتا ھوں کے میرے تمام چھوتے بہن بھائی مل کر اس مشیں کے ساتھ کھیل رھے تھے اور فلم کا رول کو پورا ھی کھول دیا تھا پورے کمرے کا کیا حشر نشر ھوا کہ میں کیا بتاؤں میں تو اس وقت سکتے میں ھی آگیا تھا!!!!!!!!!!!!!!!!

میں تو یہ دیکھ کر پریشان ھوگیا انہوں نے تومیری ساری محنت پر پانی ھی پھیر دیا تھا، زیادہ زور سے ڈانٹ بھی نہیں سکتا تھا، بڑی مشکل سے پورے فلم کے رول کو سمیٹا اور مشین کے ھینڈل وغیرہ کو اکھٹا کرکے اسی جگہ چھپا دیا اور سب کو خاموشی سے خبردار کیا کہ آئندہ میری کسی بھی چیز کو ھاتھ نہیں لگانا، وہ سب ڈر کر بھاگ تو گئے لیکن مجھے اس بات کا احساس ھوا کہ کہیں یہ سب اباجی سے شکایت نہ لگا دیں، فوراً دوڑا ھوا ان کے پاس پہنچا اور کچھ مکھن لگایا، اور انہیں اس مشین کے بارے میں کسی کو نہ بتانے کا وعدہ لیا،

اس رات تو مجھے بالکل نیند نہیں آئی، بس اپنے اس پروجیکٹ کے بارے میں ھی سوچتا رھا کہ کس طرح اس کو آپریشن میں لایا جائے، صبح ھوتے ھی معمول کے مطابق سب سے پہلے فوراً گھر کا پانی بھرا اور جلدی سے بازار کا سودا خرید لایا، والدہ بھی پریشان کہ آج اسے کیا ھوگیا ھے، اور پھر اپنے پروجیکٹ کی طرف چلا فلم رول کو چرخی پر چڑھایا اور اسے سیٹ کرنے کی جگہ تلاش کی ایک کمرے کا کونے میں ایک میز کے نچلے حصہ کو سینما گھر بنایا، ایک طرف پروجیکٹر مشیں کو ایک چھوٹے سے اسٹول پر رکھا، دوسری طرف سفید دیوار کو اسکرین بنایا، اور میز کے اُوپر ایک بڑی سی چادر ڈال کر کچھ کچھ اندھیرا کرنے میں کامیاب ھوگیا،

پہلے پریمئیر شو پر بہں بھائیوں کو چادر اٹھا کر میز کے نیچے بٹھادیا ایک وقت میں اس میز کے نیچے چھ بچے مشکل ھی سے آسکتے تھے، بہرحال ایک وقت میں چھ بھی کافی تھے، خیر میں نے چرخی گھمائی تو سر پکڑ کر بیٹھ گیا، کیونکہ اسکرین کے اوپر پروجیکٹر کے ذریعے روشنی کیسے پہنچے گی اس کا تو میں نے سرے سے سوچا ھی نہیں تھا اب تو بہن بھائیوں نے تو میرا مذاق اڑانا شروع کردیا، اب کیا کروں اس کا کیا حل نکالوں بجلی کا ایک بلب اندر لگا ھوا تھا، مگر گھر پر تو بجلی تھی ھی نہیں تو بلب کیسے چلتا، ایک کوشش اور کی کہ کھڑکی کھول کر ایک آئینہ سے دھوپ کا عکس پروجیکٹر پر ڈالنے کی ناکام سی کوشش کی، لیکں روشنی کو وھاں تک نہ پہنچا سکا،

دوسرے دن مایوسی سے اپنا لٹکتا ھوا چہرہ لے کر اسی کباڑی کے پاس پہنچا اور ساری کہانی سنائی اس نے جواب دیا کہ ایک صورت ھے کی ایک ٹارچ خریدو اور وہ بھی پاور فل بیٹری والی اسکو تم پروجیکٹر کے ساتھ جوڑ کر اپنا کام چلا سکتے ھو، ھر کباڑی کے پاس ڈھونڈا مگر اس ٹائپ کی ٹارچ نہیں ملی، پھر مجبوراً مجھے نئی ٹارچ خریدنی پڑی اور وہ بیٹری سیل کے ساتھ مجھے 15 روپے کی پڑی،

جلدی جلدی گھر پہنچا اور ٹیبل کے نیچے گُھسا اور کسی کو بتائے بغیر ھی ٹارچ کو مشین کے پیچھے ڈھکن کو کھول کر بیچ میں اس ظرح تاروں سے باندھ کر فکس کیا کہ اسکی روشنی سیدھے مشین کے عدسے پر پڑے اور وہاں سے گزرتی ھوئی فلم کا عکس سامنے کی دیوار پر پڑے، اس میں شکر ھے کہ کامیاب ھوگیا اب دوبارا فلم کے رول کو سیٹ کیا اور ایک سرا چرخی سے لے کر عدسے کے سامنے بنے ھوئے سانچے کے درمیان سے گزارتا ھوا نیچے والی چرخی میں پھنسا دیا اور اب تو خوشی کا ٹھکانا ھی نہ رھا اور فوراً سب بہں بھائیوں کو بلایا جو ابھی اسکول نہیں جاتے تھے دو تو بہنیں اسکول گئی ھوئی تھیں، باقی تین گھر پر ھی ھوتے تھے بہر حال انکو پھر دّعوت دی کہ آجاؤ، اماں کو تو پتہ چل ھی گیا تھا لیکن بےچاری خاموش ھی رھیں ھمیشہ کی طرح، اور سب کو جمع کیا، جس میں دو تین شاید محلے کے بچوں کو بھی شامل کرلیا تھا، کیونکہ وہاں چھ بچوں سے زیادہ کی گنجائش نہیں تھی،

آخر وہ وقت آھی گیا فوراً میں نے ٹارچ کو آن کیا اس کی روشنی جیسے ھی پروجیکٹر سے ھوکر سامنے کی دیوار پر پڑی اور میں نے فوراً ھاتھ سے چرخی کے ھینڈل کو گھمانا شروع کردیا میرا خوشی کے مارے برا حال تھا میرا پروجیکٹ کامیاب ھوگیا تھا سامنے کارٹون فلم حرکت کررھی تھی، لیکں افسوس کہ وہ پردے پر الٹی چل رھی تھی یعنی سر نیچے اور پیر اوپر، پھر میں سر پکڑ کر بیٹھ گیا اور بچوں کا تو پتہ ھی ھے وہ لگے میرا پھر سے مذاق اڑانے، !!!!!!!!!

دیوار کو تو الٹا نہیں کرسکتا تھا، بلکہ پروجیکٹر مشین کو ھی الٹا کردیا، پھر ڈرتے ڈرتے ٹارچ کو آن کیا اور ھینڈل کو گھمایا، پکچر تو سیدھی ھوگئی لیکن ایسا لگ رھا تھا کہ سب کارٹون کے سارے کردار الٹے چل رھے ھوں، ایک اور نئے مسلئے میں پھنس گیا، اور پھر بچوں نے پھر مذاق شروع کردیا، میں نے سب کو ڈانٹ کر بھگادیا، جاتے جاتے تو ایک نے کہا کہ آج تو اباجی سے آپ کی شکایت کریں گے، ایک اور مصیبت، میں مسکین کس کس مورچے کو سنبھالوں، دوبارہ ان سب کو چاکلیٹ کہلانے کے وعدہ پر راضی کرلیا -

دوسرے دن پھر میں اسی کباڑی کے پاس گیا اور غصہ سے سارا ماجرا سنادیا اس نے بھی اسی غصہ کو مجھ پر ھی پلٹا دیا اور کہنے لگا کہ بھائی میرا اس میں کوئی قصور نہیں ھے، الٹی ھو یا سیدھی فلم تو چل رھی ھے نا، اس کو اس کے مکینزم کے بارے میں علم نہیں تھا، کافی بحث کے بعد اس نے آخر میں یہی کہا کہ بھائی خدا کیلئے وہ مشین مجھے واپس لادو، اور اپنے پیسے واپس لے جاؤ، میں وہاں سے مایوسی کی حالت میں نکلا اور سوچا کہ کوئی چھوٹی سی مشکل ھے جو کہ مشیں کو الٹا کرو تو پکچر واپس اپنے ماضی کی ظرف چل پڑتی ھے اور اگر سیدھا رکھو تو پکچر الٹی یعنی سر اُوپر اور پیر نیچے دکھائی دیتے ھیں۔

صدر میں ایک دکان پر ایک کیمرے کی دکان پر ایک چھوٹا سا پروجیکٹر دیکھا تھا، میں نے سوچا کہ شاید وہ دکان والا میری اس گتھی کو سلجا دے، فوراً وہاں پہنچا اور اس سے کہا کہ چچا ایک مشورہ چاھئے، اس نے بھی مزاقاً میری حالت دیکھتے ھوئے کہا کہ یہ شادی کا دفتر نہیں ھے، میں نے ایک دم سے اپنا منہ بنایا اور آگے چل دیا،

پھر اس چچا نے مجھے آواز دی، شاید اسے کچھ میری بے بسی پر رحم آگیا تھا اور مجھ سے معذرت کرتے ھوئے پوچھا بتاؤ کیا مشورہ چاھئے، میں نے ساری کہانی دھرادی، وہ بہت ھنسا اور کہا کہ تھوڑا سا عقل سے کام لو اور کہا کہ فلم کو دوبارا لپیٹو اور اس کے آخری سرے سے فلم کو پروجیکٹر میں لگا کر چلاؤ - اور کہا کہ خیال رکھنا کہ پروجیکٹر میں فلم کو الٹا یعنی سر نیچے اور پیر اوپر کرکے لگاو گے تو پردے پر فلم سیدھی نظر آئے گی -

میں نے دل میں کہا کہ یہ چچا پھر میرے ساتھ مذاق کررھا ھے، بہلا یہ کیسے ھوسکتا ھے کہ فلم کو الٹی ڈالو تو اس کا عکس اسکرین پر سیدھا کیسے نظر آئے گا، اس وقت میرے اس چھوٹے سے دماغ میں تو یہی بات گھسی تھی، بہرحال مجھے اپنا منصوبہ ناکام ھوتا ھی نظر آیا، بس اب یہی سوچنے لگا کہ اب ایک آخری کوشش کرونگا اور پھر بھی کامیاب نہ ھوا تو یہ مشین واپس ھی کردوں گا -!!!!!!!!!!
------------------------------------------------
گھر واپس پھر اس مایوسی کےساتھ آیا اور بغیر مشین کی طرف دیکھے جو میز کے نیچے پڑی میرا مذاق اُڑا رھی تھی، جلدی سے تھوڑا بہت کھانا کھایا اور تیار ھوکر اسکول چلاگیا، وہاں پر بھی بس اپنے اس پروجیکٹ کی ناکامی کے صدمہ سے اداس کلاس روم میں بیٹھا رھا، ہاف ٹائم میں بھی باھر نہیں گیا، گھر واپسی کے وقت بھی میں بہت آہستہ آہستہ واپس گھر کی طرف لوٹ رھا تھا،

دوسرے دن بھی صبح معمول کے مطابق پہلے پانی بھرنے کے بعد سودا لے کر آیا اور بس صرف پروجیکٹر کے ھی بارے میں ھی سوچتا رھا 35 روپے خرچ کر بیٹھا تھا، اور نتیجہ کچھ بھی نہیں، بہرحال میں اکیلا ھی میز کی چادر اٹھا کر مشین کو باھر نکالا اور پھر سوچا کہ کیا حرج ھے اگر چچا کے مذاق کو بھی آزما کر ایک دفعہ دیکھ لیتیے ھیں، فلم کی ریل کو ایک چرخی سے دوسری چرخی کی طرف لپیٹا اور پھر چچا کے کہنے پر ھی اس فلم کی ریل کو الٹی تصویر کے ساتھ ھی پروجیکٹر مشین کے سامنے والے حصے کو کھول کر کھانچے سے گزارتا ھوا ایک سرا نیچے والی چرخی میں پھنسا کر ایک چکر دے کر، ٹارچ کو روشن کیا اور مشین کے ھینڈل کو گھمایا اور سامنے ٹیبل کی طرف دیوار پر دیکھا، تو واقعی حیران رہ گیا، وہی کارٹون فلم بالکل صحیح چل رھی تھی، بس اب تو ھاتھ کے گھمانے پر منحصر تھا، جتنا تیز چلاؤ فلم کے منظر تیز بھگنے لگتے اور آہستہ کرو تو فلم بھی سلوموشن کی طرح دکھائی دیتی -

مگر مجھے یہ منطق اس وقت پھر بھی سمجھ میں نہیں آئی کہ الٹی فلم کے رول سے جب روشنی منعکس ھوکر پردے پر دکھائی دیتی ھے وہ کیسے سیدھی ھو جاتی ھے، میں نے سوچا کہ اب اس منطق کے بارے میں سوچنا کیا، اپنا تو کام ھوگیا، پھر بچوں کو اکھٹا کیا اور جس طرح سینما ھال میں ھوتا ھے، پہلے سب کو گھر کی کھڑکی سے سینما کیلئے ٹکٹ بانٹے، جو میں نے خود اپنے ھاتھ سے ڈیزاین کئے تھے اور پھر کھڑکی کو بند کرکے سب کو کہا کہ دروازے پر لائن میں کھڑے ھوجائیں، میں فوراً دروازے پر پہنچا اور ھر بچے سے ٹکٹ لے کر آدھا پھاڑ کر ھاتھ میں تھمایا اور سب کو میز کے نیچے بٹھا دیا اور پھر میں نے پروجیکٹر کی چرخی کو گھمایا اور ساتھ ھی ٹارچ کو روشن کیا، پھر کیا تھا کارٹون فلم اسٹارٹ، اس وقت بلیک اینڈ وھائٹ فلم ھی ھوا کرتی تھی، تین منٹ کی کی فلم تھی، بچے بڑے خوش ھوئے اس سے زیادہ میں بہت خوش ھوا کہ ایک میری محنت کام آگئی،

بس دوسرے دن سے صبح کے وقت سارے گھر کے کاموں سے فارغ ھوکر بس میں اپنے اس سینما کے پروجیکٹ کو مزید کامیاب بنانے کی دھن میں لگ گیا، شام کے وقت اباجی کا ڈر تھا، اس لئے بس دن کا وقت ھی چُنا تھا، اباجی ڈیوٹی پر اور امآں جی گھر پر، انکو تو پٹانا کوئی مشکل نہیں تھا، مگر وہ روز یہی کہتی تھیں کہ اس فلمی چکر کو بند کردو، ورنہ جس دن تمھارے ابا کو پتہ چل گیا تو تمھاری شامت آجائے گی، مگر انکی اس بات کا مجھے کوئی بھی اثر نہیں ھوتا تھا، اتوار کو ناغہ ھوتا تھا کیونکہ اس دن چھٹی بھی ھوتی تھی،

دن میں روشنی زیادہ ھونے کی وجہ سے مجھے کمرے میں مکمل اندھیرا کرنے کیلئے تمام کھڑکیاں اور دروازوں کو اچھی طرح بند کرنا پڑتا تھا، اب تو روزانہ ھی بڑے شوق سے فلم چلانے کا انتظام کرتا اور بالکل سینماوں کی طرح سینما کے ٹکٹ کی کھڑکی سے ٹکٹ کا بانٹنا، ٹکٹ بھی خود ڈیزاین کرنا اور گیٹ پر جاکر ٹکٹ پھاڑنا اور اندر انھیرے اسی ٹارچ کی روشنی سے بچوں کو انکی جگہ پر بٹھانا اور باقائدہ ایک پوسٹر بھی بنایا تھا جس پر فلم کا ایسے ھی فرضی نام لکھ کر کچھ تصویریں بنا کر لکھ دیتا تھا کہ آج شب کو فلاں سینما میں فلاں فلم دیکھئے اور سینما میں صرف تین منٹ کی ایک ھی کارٹون اور جانوروں کی فلم بار بار دکھاتا رھا اور بچے بھی بور ھوگئے، آخر اس پروجیکٹ کو بھی نظر لگ گئی ایک دوست کو مشین میں کچھ گڑبڑ کی وجہ سے اسے ٹھیک کرانے کو دی اور وہ ساتھ فلم کی ریل بھی دے دی، اس کے بعد اس نے شکل ھی نہیں دکھائی،

اس پروجیکٹ کے بعد پھر سے میں نے تصویریں بنانے کی طرف زیادہ توجہ دینا شروع کردیا، وہ بھی میرا ایک پسندیدہ شوق تھا، مگر ان تمام حرکتوں کی وجہ سے مجھے آٹھویں کلاس کے سالانہ امتحان میں بہت کم نمبر آئے اور ایک مضموں میں فیل بھی ھوگیا، اور مگر مجھے پھر بھی نویں کلاس میں پرموٹ پاس کردیا گیا کیونکہ 33٪ مارکس تھے اور ایک وجہ یہ بھی تھی کہ مجھے سالانہ امتحانات کے دنوں میں ٹائیفایڈ ھوگیا تھا، اور اسی وجہ سے میں والد صاحب کی ڈانٹ سے بچ بھی گیا، لیکن پھر بھی میں نے امتحانات میں بیماری کے باوجود کچھ تھوڑی بہت محنت بھی ضرور کی تھی،

اباجی کو کافی دکھ بھی ھوا تھا لیکن وہ میری حالت دیکھ کر مجھے کافی تسلی دیتے رھے کہ کوئی بات نہیں بیٹا، دل پر مت لینا شکر ھے کہ کم نمبر ھی صحیح لیکن نویں کلاس میں تو پہنچ گیا اور میں بھی کچھ ان دنوں ضرورت سے زیادہ مسکین بن گیا تھا، میں ویسے بھی بچپن سے ھی کچھ ڈرامے بازی کی شوق کی وجہ سے بھی کبھی کبھی ایسا ڈرامہ کھیل جاتا تھا کہ لوگ اسے واقعی حقیقت سمجھتے تھے، کئی دفعہ اپنے اس ڈرامائی حرکتوں کی وجہ سے ھی گھر میں یا باہر کئی دفعہ مشکلوں سے جان بچائی، جن کا ذکر میں پہلے نہ کرسکا کیونکہ کافی ایسی بچپن کی یادداشتیں تھیں، جو میں بھول چکا ھوں، جو مجھے یاد تھیں وہ میں تحریر کرچکا ھوں،

اور ایک بات کا مجھے اب تک تعجب ھے کہ یہ بچپن کے شوق آگے چل کر میرے پروفیشنل کیرئیر میں بھی آئے مگر زیادہ عرصہ میرے ساتھ نہیں رہ سکے، تصویروں کے ساتھ ساتھ میں بچوں کے اخبارات میں بھی چھوٹی چھوٹی نظمیں اور کہانیاں بھی لکھتا تھا، اور قلمی دوستی کا بھی ایک بھوت سوار تھا مگر نام ارمان شاھد تھا، میرے پاس خطوط کا ایک ڈھیر ھوتا تھا اور روزانہ ھر خط کا جواب بھی دینا میرا ایک محبوب مشغلہ تھا اس کے علاؤہ ریڈیو پاکستان سے آڈیشن ٹیسٹ کے لئے دعوت نامہ بھی آیا تھا، مگر افسوس کے اس ٹیسٹ میں پاس نہیں ھوسکا لیکن وہاں کے ریجنل منیجر نے کہا کہ آپ کی آواز میں تھوڑی سی جھجک ھے مگر بول اچھا لیتے ھو، اور ابھی تمھارے عمر بھی کم ھے میں نے جواب دیا کہ سر مجھے اسکرپٹ پڑھتے ھوئے کوئی بھی ڈایلاگ ڈرامائی انداز میں بولنا کچھ مشکل لگتا ھے، مجھے سچویشن بتا دیجئے اور ڈایلاگ دے دیجئے میں یاد کرکے بغیر اسکرپٹ کے بہترین اسکی ادائیگی کرسکتا ھوں، لیکن افسوس کہ انہوں نے کہا کہ بیٹا ریڈیو پاکستان میں مائیک کے سامنے براہ راست بولنا پڑتا ھے یہ کوئی اسٹیج شو نہیں ھے، اور بس یہی جواب دیا کہ آپ کی عمر جب 18 سال کی ھوجائے تو میرے پاس ضرور چلے آنا اگر میں زندہ رھا تو تمھیں ضرور اپنے ڈرامہ میں ضرور ساین کرونگا، ان کا نام شاید زیڈ اے بخاری صاحب تھا، جو بعد میں ریجنل ڈائریکٹر بن گئے تھے -

ریڈیو پاکستان سے تو مایوسی ھوئی لیکن اسکول اور محلے میں چھوٹے چھوٹے ڈرامے اور فنکشن وغیرہ کرکے بھی اپنے شوق میں مزید پختگی لانے کی کوشش میں لگا رھا اور ساتھ ساتھ اخباروں اور بچوں کی دنیا اور نونہال جیسے بچوں کے رسالوں میں کچھ نہ کچھ لکھتا رھا، اس کے علاوہ پینٹنگ اور پنسل اسکیچ اور اخباروں کی کٹنگ سے البم بنانا بھی اپنے شوق کے ساتھ رکھا-

سن 1964 کا نویں کلاس اور تقریباً 14 سال کی عمر ھوگی، اس کلاس میں کافی دوست بھی بچھڑ گئے تھے، کیونکہ کئی دوستوں کو اچھے نمبر لانے کی وجہ سے سائنس میں داخلہ مل گیا تھا اور ھم جیسوں کو کم نمبروں کی وجہ سے آرٹس میں داخلہ مل سکا، غنیمت ھے مل گیا ورنہ تو آٹھویں کلاس میں ھی رھنے کا ڈر تھا !!!!!!!!!!!!!!!!!!

--------------------------------
جاری ھے،!!!!
عبدالرحمن سید آف لائن ہے   یہ اقتباس دیں
ان 2 ارکان نے اس مفید پوسٹ کے لیے عبدالرحمن سید کا شکریہ ادا کیا ہے
جواب پوسٹ کریں

Bookmarks

ٹیگز
بسری, بچپن1, بھولی, ادب, ادبی انتخاب, ادبی مجلس, اردو, اردو ادب, اردو نثر, انتخاب, اپنی, مجلس ادب, میرا, میری, نثر, نثری ادب, یادیں،

موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز

پوسٹ کرنے کے قوانین
You may not post new threads
You may not post replies
You may not post attachments
You may not edit your posts

سمائلز آن ہے
[IMG] کوڈ آن ہے
HTML کوڈ آف ہے

قوانین
فورم منتخب کریں

مشابہ موضوعات
موضوع مصنف فورم جوابات آخری پیغام
میری ماں میری ماں محمد اکبر فیض کلامِ سُخن وَر 6 26-08-13 12:04 AM
اسلامی قیادتیں۔۔۔اب یا کبھی نہیں حنیف المسلم اسلامی متفرقات 12 07-07-10 02:34 PM
جنگ اپنی جگہ وار اپنی جگہ حیدرآبادی شعری مجلس 4 24-06-09 04:13 PM
نیا افسانہ ابن مبارک حالاتِ حاضرہ 3 30-05-09 07:16 AM
قرآن اوربائبل سائنس کی روشنی میں(قسط نمبر 1) اعجاز علی شاہ اسلام اور سائنس 11 21-02-09 02:49 PM


فورم کے تمام اوقات GMT +3 کے مطابق . وقت ہے ابھی 10:04 AM


Powered by vBulletin Version 3.8.7
® Copyright ©2000 - 2014, Jelsoft Enterprises Ltd. Urdu Translation by A.REHMAN
User Alert System provided by Advanced User Tagging (Lite) - vBulletin Mods & Addons Copyright © 2014 DragonByte Technologies Ltd.
Contact admin : admin@urduvb.com