>URDU MAJLIS FORUM
 

واپسی   URDU MAJLIS FORUM > ::: مجلسِ شعر و ادب ::: > ادبِ لطیف > نقد و نظر


نقد و نظر تبصرہء کتب ، اردو زبان و ادب سے متعلق تحقیق و تنقید

موضوع مقفل کیا گیا
 
موضوع کے اختیارات ظاہری انداز
پرانا 20-02-10, 10:33 AM   #1
شاہد نزیر
-: رکن مکتبہ اسلامیہ :-
 
شاہد نزیر کی نمائندہ تصویر
 
تاریخ شمولیت: 2009-06-16
قیام: کراچی
جنس: male
پوسٹس: 728
پوائنٹس: 378
شاہد نزیر شاہد نزیر شاہد نزیر شاہد نزیر شاہد نزیر شاہد نزیر شاہد نزیر شاہد نزیر شاہد نزیر شاہد نزیر شاہد نزیر
Thread Bst اقبال کے اشعار اور توحید

اقتباس:
muhammad zahid bin faiz نے لکھا ہے ۔۔ پیغام کا مشاھدہ کریں
جی سسٹر آپ نے ٹھیک لکھا ہے علامہ اقبال کی شاعری میں توحید کی جھلک نظر آتی ہے۔اور یہی وجہ ہے کے علماء کی اکثریت انہی کی اشعار کو اپنی تقاریر میں کہتے ہوئے نظر آتے ہیں۔


اقبال کی شاعری میں توحید سے ناواقفیت کا بھی بہت بڑا عنصر پایا جاتا ہے۔
اقبال کا ایک مشہور شعر ملاحظہ ہو

خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے خدا بندے سے خود پوچھے کہ بتا تیری رضا کیا ہے۔

اقبال یہاں شاید یہ کہنا چاہتے ہیں کہ رضاعت اور عبادت سے انسان اس مقام پر بھی پہنچ سکتا ہے جہاں اللہ اپنے اس خاص بندے کے بارے میں کوئی فیصلہ کرنے سے پہلے خود اپنے بندے سے اسکی مرضی پوچھے گا۔ نعوذباللہ من ذالک

اس سے بڑھ کر توحید سے جہالت کی مثال کیا ہوگی!!! اس شعر سے ایک تو یہ بات ثابت ہوئی کہ اقبال قرآن اور حدیث والی توحید سے ناواقف تھے اور دوسری بات یہ ثابت ہوئی کہ وہ ایک صوفی تھے کیونکہ ایسے عقیدے صوفیوں کے علاوہ کوئی نہیں رکھتا۔

مذکورہ شعر کے برعکس قرآن اور حدیث کے نصوص سے یہ ثابت ہے کہ اللہ رب العالمین نے مخلوق کو پیداکرنے سے پانچ سو سال قبل ہی انکی تقدیر لکھ دی تھی اور ایک دوسری حدیث کا مفہوم ہے کہ تقدیر کی سیاہی خشک ہو چکی ہے اور ہر انسان کا فیصلہ ہوچکا ہے کہ وہ جہنم میں جائے گا یہ جنت میں۔

جب اللہ نے مخلوق کی تقدیر اس وقت لکھی جب اسے پیدا بھی نہیں فرمایا تھا تو اس سے تقدیر کے بارے میں اسکی رضا پوچھنے کا کیا مطلب ہے ؟؟؟؟

انسانوں میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھکر اللہ رب العالمین کے نزدیک کسی کا مقام نہیں۔ اگر ہم فرض کریں کہ اقبال اپنے اس شعر میں خودی کی بلندی کے جس مقام کا زکر کر رہے ہیں اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم فائز تھے تو برائے مہربانی کوئی صاحب ہمیں وہ حدیث یا قرآن کی آیت سنائے جس میں اللہ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تقدیر لکھنے سے پہلے اپنے نبی کی رضا دریافت کی ہو۔

اسکے علاوہ بھی اقبال کے کئی اشعار ایسے ہیں جو توحید کی دھجیان بکھیرتے ہیں۔
شاہد نزیر آف لائن ہے  
ان 5 ارکان نے اس مفید پوسٹ کے لیے شاہد نزیر کا شکریہ ادا کیا ہے
پرانا 20-02-10, 02:27 PM   #2
منہج سلف
-: منفرد :-
امن کے ساتھ ہر ملک میں رہیں یہ ہی اسلام کا پیغام ہے
 
منہج سلف کی نمائندہ تصویر
 
تاریخ شمولیت: 2007-08-09
قیام: المملکت البرطانیہ
جنس: male
پوسٹس: 4,924
پوائنٹس: 498
منہج سلف منہج سلف منہج سلف منہج سلف منہج سلف منہج سلف منہج سلف منہج سلف منہج سلف منہج سلف منہج سلف
منہج سلف کی طرف بذریعہ MSN  پیغام ارسال کریں
السلام علیکم۔ بھائی مجھے تو شعر شاعری سے کوئی لگاؤ نہیں
آپ ہی علامہ اقبال رحمۃ اللہ کے وہ شعر یہاں پیش کریں جو توحید کے خلاف ہوں۔
ہمارے علم میں اضافہ ہوگا ان شاءاللہ
منہج سلف آف لائن ہے  
ان 2 ارکان نے اس مفید پوسٹ کے لیے منہج سلف کا شکریہ ادا کیا ہے
پرانا 20-02-10, 02:43 PM   #3
رفی
منتظمِ اعلیٰ
 
رفی کی نمائندہ تصویر
 
تاریخ شمولیت: 2007-08-08
قیام: مكة المكرمة
جنس: male
عمر: 38
پوسٹس: 10,825
پوائنٹس: 5212
رفی رفی رفی رفی رفی رفی رفی رفی رفی رفی رفی
سورة القارعة میں ہے: ﴿فاما من ثقلت موازینہ فہو فی عیشة راضیة)

خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خدا بندے سے خود پوچھے کہ بتا تیری رضا کیا ہے۔


میرے خیال میں تو یہ شعر اسی آیت کی تفسیر بیان کرتا ہے۔
__________________
رفی آف لائن ہے  
اس رکن نے اس مفید پوسٹ کے لیے رفی کا شکریہ ادا کیا ہے
پرانا 20-02-10, 05:55 PM   #4
محمد ارسلان
-: Banned :-
 
تاریخ شمولیت: 2010-01-02
جنس: male
پوسٹس: 10,418
پوائنٹس: 0
محمد ارسلان محمد ارسلان محمد ارسلان محمد ارسلان محمد ارسلان محمد ارسلان محمد ارسلان محمد ارسلان محمد ارسلان محمد ارسلان محمد ارسلان
محمد ارسلان کی طرف بذریعہ yahoo پیغام ارسال کریں محمد ارسلان کی طرف بذریعہ Skype  پیغام ارسال کریں
اقتباس:
شاہد نزیر نے لکھا ہے ۔۔ پیغام کا مشاھدہ کریں
اقبال کی شاعری میں توحید سے ناواقفیت کا بھی بہت بڑا عنصر پایا جاتا ہے۔
اقبال کا ایک مشہور شعر ملاحظہ ہو

خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے خدا بندے سے خود پوچھے کہ بتا تیری رضا کیا ہے۔

اقبال یہاں شاید یہ کہنا چاہتے ہیں کہ رضاعت اور عبادت سے انسان اس مقام پر بھی پہنچ سکتا ہے جہاں اللہ اپنے اس خاص بندے کے بارے میں کوئی فیصلہ کرنے سے پہلے خود اپنے بندے سے اسکی مرضی پوچھے گا۔ نعوذباللہ من ذالک

اس سے بڑھ کر توحید سے جہالت کی مثال کیا ہوگی!!! اس شعر سے ایک تو یہ بات ثابت ہوئی کہ اقبال قرآن اور حدیث والی توحید سے ناواقف تھے اور دوسری بات یہ ثابت ہوئی کہ وہ ایک صوفی تھے کیونکہ ایسے عقیدے صوفیوں کے علاوہ کوئی نہیں رکھتا۔

مذکورہ شعر کے برعکس قرآن اور حدیث کے نصوص سے یہ ثابت ہے کہ اللہ رب العالمین نے مخلوق کو پیداکرنے سے پانچ سو سال قبل ہی انکی تقدیر لکھ دی تھی اور ایک دوسری حدیث کا مفہوم ہے کہ تقدیر کی سیاہی خشک ہو چکی ہے اور ہر انسان کا فیصلہ ہوچکا ہے کہ وہ جہنم میں جائے گا یہ جنت میں۔

جب اللہ نے مخلوق کی تقدیر اس وقت لکھی جب اسے پیدا بھی نہیں فرمایا تھا تو اس سے تقدیر کے بارے میں اسکی رضا پوچھنے کا کیا مطلب ہے ؟؟؟؟

انسانوں میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھکر اللہ رب العالمین کے نزدیک کسی کا مقام نہیں۔ اگر ہم فرض کریں کہ اقبال اپنے اس شعر میں خودی کی بلندی کے جس مقام کا زکر کر رہے ہیں اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم فائز تھے تو برائے مہربانی کوئی صاحب ہمیں وہ حدیث یا قرآن کی آیت سنائے جس میں اللہ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تقدیر لکھنے سے پہلے اپنے نبی کی رضا دریافت کی ہو۔

اسکے علاوہ بھی اقبال کے کئی اشعار ایسے ہیں جو توحید کی دھجیان بکھیرتے ہیں۔

آپ نے حق بات لیکھی ہے بھائی جان

واقعی اقبال کے کئی شعر اللہ کی کتاب سے ٹکراتے ہیں
محمد ارسلان آف لائن ہے  
پرانا 20-02-10, 05:57 PM   #5
محمد ارسلان
-: Banned :-
 
تاریخ شمولیت: 2010-01-02
جنس: male
پوسٹس: 10,418
پوائنٹس: 0
محمد ارسلان محمد ارسلان محمد ارسلان محمد ارسلان محمد ارسلان محمد ارسلان محمد ارسلان محمد ارسلان محمد ارسلان محمد ارسلان محمد ارسلان
محمد ارسلان کی طرف بذریعہ yahoo پیغام ارسال کریں محمد ارسلان کی طرف بذریعہ Skype  پیغام ارسال کریں
اقتباس:
عتیق الرحمٰن نے لکھا ہے ۔۔ پیغام کا مشاھدہ کریں
السلام علیکم۔ بھائی مجھے تو شعر شاعری سے کوئی لگاؤ نہیں
آپ ہی علامہ اقبال رحمۃ اللہ کے وہ شعر یہاں پیش کریں جو توحید کے خلاف ہوں۔
ہمارے علم میں اضافہ ہوگا ان شاءاللہ

اس بھائی نے بلکل ٹھیک کہا ہے واقعی آپ اور بھی شعر کا بتایں تاکہ ہمارے علم میں اضافہ ہو۔
محمد ارسلان آف لائن ہے  
پرانا 20-02-10, 05:58 PM   #6
محمد ارسلان
-: Banned :-
 
تاریخ شمولیت: 2010-01-02
جنس: male
پوسٹس: 10,418
پوائنٹس: 0
محمد ارسلان محمد ارسلان محمد ارسلان محمد ارسلان محمد ارسلان محمد ارسلان محمد ارسلان محمد ارسلان محمد ارسلان محمد ارسلان محمد ارسلان
محمد ارسلان کی طرف بذریعہ yahoo پیغام ارسال کریں محمد ارسلان کی طرف بذریعہ Skype  پیغام ارسال کریں
اقتباس:
رفی نے لکھا ہے ۔۔ پیغام کا مشاھدہ کریں
سورة القارعة میں ہے: ﴿فاما من ثقلت موازینہ فہو فی عیشة راضیة)

خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خدا بندے سے خود پوچھے کہ بتا تیری رضا کیا ہے۔


میرے خیال میں تو یہ شعر اسی آیت کی تفسیر بیان کرتا ہے۔
آپ سے گزارش ہے رفی بھائی

کہ آپ زرا تفصیل سے بتاہیں۔
محمد ارسلان آف لائن ہے  
پرانا 20-02-10, 07:15 PM   #7
ام نور العين
-: ركن مجلس علماء :-
روحی فداک یا رسول اللہ ﷺ
 
ام نور العين کی نمائندہ تصویر
 
تاریخ شمولیت: 2009-03-30
قیام: پاک سرزمین
جنس: female
پوسٹس: 18,118
پوائنٹس: 17209
ام نور العين ام نور العين ام نور العين ام نور العين ام نور العين ام نور العين ام نور العين ام نور العين ام نور العين ام نور العين ام نور العين
السلام علیکم بھائی شاہد نذیر ۔
اگر آپ وضاحت سے اپنا نکتہ نظر اقبال کے اشعار سے مثالوں سمیت پیش کرسکیں تو یقینا ہم سب کی معلومات میں اضافہ ہو گا ۔
__________________

روحی فداک یا رسول اللہ ﷺ
********
رحمک اللہ یا اخی عبدالرحمن بن عبدالجبار و غفر لک و اسکنک الفردوس
********
ام نور العين آف لائن ہے  
ان 3 ارکان نے اس مفید پوسٹ کے لیے ام نور العين کا شکریہ ادا کیا ہے
پرانا 20-02-10, 10:24 PM   #8
محمد زاہد بن فیض
-: منفرد :-
 
محمد زاہد بن فیض کی نمائندہ تصویر
 
تاریخ شمولیت: 2010-01-02
جنس: male
پوسٹس: 3,690
پوائنٹس: 796
محمد زاہد بن فیض محمد زاہد بن فیض محمد زاہد بن فیض محمد زاہد بن فیض محمد زاہد بن فیض محمد زاہد بن فیض محمد زاہد بن فیض محمد زاہد بن فیض محمد زاہد بن فیض محمد زاہد بن فیض محمد زاہد بن فیض
اور علامہ اقبال کا یہ شعر بھی عجیب و غریب ہے کہ

اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد
نعوز با اللہ کیا کربلا سے پہلے اسلام مردہ حالت میں تھا۔؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟ ؟
یا یہ بات ہو سکتی ہھے کہ ہمیں‌ اس کا مطلب سمجھ میں‌نہ آیا ہو لیکن اگر کسی بھائی یا بہن کو اس کی انفارمیشن ہو تو ضرور بتا ئیں۔۔شکریہ
محمد زاہد بن فیض آف لائن ہے  
پرانا 21-02-10, 09:09 AM   #9
رفی
منتظمِ اعلیٰ
 
رفی کی نمائندہ تصویر
 
تاریخ شمولیت: 2007-08-08
قیام: مكة المكرمة
جنس: male
عمر: 38
پوسٹس: 10,825
پوائنٹس: 5212
رفی رفی رفی رفی رفی رفی رفی رفی رفی رفی رفی
اقتباس:
رفی نے لکھا ہے ۔۔ پیغام کا مشاھدہ کریں
سورة القارعة میں ہے: ﴿فاما من ثقلت موازینہ فہو فی عیشة راضیة)

خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خدا بندے سے خود پوچھے کہ بتا تیری رضا کیا ہے۔


میرے خیال میں تو یہ شعر اسی آیت کی تفسیر بیان کرتا ہے۔
اقتباس:
muhammad arslan نے لکھا ہے ۔۔ پیغام کا مشاھدہ کریں
آپ سے گزارش ہے رفی بھائی

کہ آپ زرا تفصیل سے بتاہیں۔
علامہ اقبال رحمۃ اللہ علیہ کو سمجھنا تو ہر ایک کے بس کی بات نہیں البتہ انہیں اپنانا بہت آسان ہے یہی وجہ ہے کہ اس عظیم اسلامی شاعر کو ہر مکتبہء فکر، ہر فرقہ اپنے نکتہ نظر سے دیکھتا ہے۔ لیکن کیا یہ حقیقت نہیں کہ پاکستان صرف اور صرف اقبال کے خوابوں کی تعبیر ہے وہی اقبال جس نے "سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا" کہا تھا، اور جس کو لے کر آج بھی اہلِ ہندوستاں اقبال کو اپنا قومی شاعر تسلیم کرتے ہیں۔ رہی بات پاکستان کی تو یہاں تو بچہ سکول جاتا ہے تو اس کا تعارف "لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری" کے ذریعے اقبال سے ہوتا ہے، مگر جب بچے کو اقبال کے بارے میں نصابی کتب میں بتایا جاتا ہے تو پہلا جملہ کچھ یوں ہوتا ہے "وہ ایک عظیم صوفی منش انسان تھے"۔ یہ تاثر ہر ایک کے ذہن میں رچ بس جاتا ہے کہ شاید علامہ اقبال کی شاعری بھی بلھے شاہ، غلام فرید، جامی وغیرہ کی طرز پر صوفی ازم کا پرچار کرتی ہوگی، لیکن اقبال کے قول و عمل کے سنجیدگی سے مشاہدہ کرنے پر یہ تاثر زائل ہو جاتا ہے اور اس کی جگہ ایک راسخ موحد کی شکل میں وہ شاعر نظر آتا ہے جس کی شاعری نے حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کے بعد مسلمانوں کے اندر نئی روح نیا جذبہ اور نیا ولولہ پیدا کر دیا۔ اس عظیم شاعر کو سمجھنے کے لیے صرف ایک لفظ خودی پر دھیان دینے کی ضرورت ہے جو کہ مذکورہ شعر میں بھی موجود ہے :

خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خدا بندے سے خود پوچھے ، بتا تیری رضا کیا ہے

مگر خودی کیا ہے اس کی تعریف خود اقبال فرماتے ہیں:


خودی کا سر نہاں لا الہ الا اللہ
خودی ہے تیغ فساں لا الہ الا اللہ

یہ دور اپنے براھیم کی تلاش میں ہے
صنم کدہ ہے جہاں لا الہ الا اللہ

اگر چہ بت ہیں جماعت کی آستینوں میں
مجھے ہے حکم اذاں لا الہ الا اللہ

یہ نغمہ فصل گل و لا لہ کا نہیں پابند
بہار ہو کہ خزاں لا الہ الا اللہ

کیا ہے تو نے متاع غرور کا سودا
فریب سو دو زیاں لا الہ الا اللہ


بہ الفاظِ دیگر خودی معراج ہے اس مقام کی جہاں اللہ کی طرف ایک ہاتھ بڑھانے سے وہ دو ہاتھ بڑھاتا ہے، اگر ایک قدم اٹھاؤ تو دس قدم اٹھاتا ہے، اگر چل کر جاؤ تو وہ دوڑ کر آتا ہے۔ میرے خیال میں تو شاید ایک مومن کی رضا یہی ہوتی ہے کہ اس کا مشکل کشاء خود اس کی حاجت روائی کو آئے۔ مگر خودی کو گروی رکھ کر وسیلوں کی تلاش میں بھٹکتے لوگوں کو اس کی سمجھ نہیں آسکتی۔

ایک اچھے مبلغ کی خوبی یہی ہوتی ہے کہ ہر سننے والا یہی سمجھتا ہے کہ شاید اسے ہی مخاطب کیا جا رہا ہے اور یہی خوبی اقبال کے ہاں بھی ہے جو انہیں متنازعہ بنا دیتی ہے مگر کھلے دل اور روشن دماغ سے اگر اس کا احاطہ کیا جائے تو سمجھنے والا سمجھ لیتا ہے کہ مخاطب کون ہے اور مدعا کیا ہے۔
__________________
رفی آف لائن ہے  
ان 6 ارکان نے اس مفید پوسٹ کے لیے رفی کا شکریہ ادا کیا ہے
پرانا 21-02-10, 09:11 AM   #10
ابومصعب
-: منفرد :-
 
تاریخ شمولیت: 2009-04-11
جنس: male
پوسٹس: 4,064
پوائنٹس: 1664
ابومصعب ابومصعب ابومصعب ابومصعب ابومصعب ابومصعب ابومصعب ابومصعب ابومصعب ابومصعب ابومصعب
السلام علیکم
میں یہاں‌آپکی بات سے اتفاق نہیں‌کرونگا۔
علامہ اقبال کی شاعری ادب کا حصہ ہے، اور جب بات شعر میں کہی جاتی ہے اسکے ظاہری الفاظ کو لیکر کبھی بھی اسکو کوئی بھی معنیٰ نہیں‌پہنایا جاسکتا ہے۔

"پاسبان ملگئے کعبہ کو صنم خانے سے"

اس شعر کو سمجھے بنا اگر "سمھیں" تب اسکے بھی ایسے ہی معنیٰ‌نکل سکتے ہیں‌جیسے ہم یہاں
"خودی کو کر بلند اتنا کے شعر سے نکالنا چاہتے ہیں۔

"یہ بات کسی کو نہیں‌معلوم کہ مومن
قاری نظرآتا ہے حقیقت میں‌ہے قرآن"

یہاں‌بھی ہم کہیں‌سے کہیں‌نکل سکتے ہیں کہ "کسی کو نہیں معلوم کا کیا مطلب ہے" وغیرہ وغیرہ۔

علامہ اقبال ایک انسان تھے فرشتہ نہیں۔
ان سے غلطیوں‌کا صدور ممکن ہے، وہ بشر ہی‌ تھے۔
لیکن عام طور پر ان پر جہالت کا الزام نہیں‌لگتا۔
لیکن الگ الگ انداز اور نظریائے فکر ہوسکتے ہیں۔

خاص طور پر جب ہم ادب پر بات کر رہے ہیں تو معنی و مفہوم کچھ اور ہی ہوتے ہیں‌بعض اوقات۔۔۔۔۔

جزاک اللہ‌خیر
__________________







آخری مرتبہ ترمیم کی گئی بذریعہ ابومصعب : بوقت 09:13 AM مؤرخہ 21-02-10
ابومصعب آف لائن ہے  
اس رکن نے اس مفید پوسٹ کے لیے ابومصعب کا شکریہ ادا کیا ہے
پرانا 21-02-10, 09:11 AM   #11
منہج سلف
-: منفرد :-
امن کے ساتھ ہر ملک میں رہیں یہ ہی اسلام کا پیغام ہے
 
منہج سلف کی نمائندہ تصویر
 
تاریخ شمولیت: 2007-08-09
قیام: المملکت البرطانیہ
جنس: male
پوسٹس: 4,924
پوائنٹس: 498
منہج سلف منہج سلف منہج سلف منہج سلف منہج سلف منہج سلف منہج سلف منہج سلف منہج سلف منہج سلف منہج سلف
منہج سلف کی طرف بذریعہ MSN  پیغام ارسال کریں
اقتباس:
Muhammad zahid bin faiz نے لکھا ہے ۔۔ پیغام کا مشاھدہ کریں
اور علامہ اقبال کا یہ شعر بھی عجیب و غریب ہے کہ

اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد
نعوز با اللہ کیا کربلا سے پہلے اسلام مردہ حالت میں تھا۔؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟ ؟
یا یہ بات ہو سکتی ہھے کہ ہمیں‌ اس کا مطلب سمجھ میں‌نہ آیا ہو لیکن اگر کسی بھائی یا بہن کو اس کی انفارمیشن ہو تو ضرور بتا ئیں۔۔شکریہ
السلام علیکم
کچھ سال پہلے باذوق بھائی نے ایک اور فورم پر اس شعر سے متعلق بحث کی تھی۔ اب اس کا لنک تو یاد نہیں ، آپ باذوق بھائی کے بلاگ پر یہاں پڑھیں۔ معلومات میں اضافہ ہوگا ان شاءاللہ
اسلام زندہ ہوتا ہے کربلا کے بعد ۔۔۔؟
منہج سلف آف لائن ہے  
ان 4 ارکان نے اس مفید پوسٹ کے لیے منہج سلف کا شکریہ ادا کیا ہے
پرانا 22-02-10, 02:10 AM   #12
أبو عبدالله
-: رکن مکتبہ اسلامیہ :-
 
أبو عبدالله کی نمائندہ تصویر
 
تاریخ شمولیت: 2008-03-16
جنس: male
پوسٹس: 959
پوائنٹس: 317
أبو عبدالله أبو عبدالله أبو عبدالله أبو عبدالله أبو عبدالله أبو عبدالله أبو عبدالله أبو عبدالله أبو عبدالله أبو عبدالله أبو عبدالله
اقتباس:
dani نے لکھا ہے ۔۔ پیغام کا مشاھدہ کریں

اس میں ان کے لیے نصیحت ہے جو قرآنی آیات اور احادیث کی عجیب تاویلیں کرتے ہیں ۔ فلسفہ جان کر بھی اقبا ل نے حدیث کو مجازا لے کراس کی تاویل نہیں کی۔



مولانا محمد علی جوہر کا ہے
اس کا کیا ثبوت ہے کہ یہ شعر مولانا محمد علی جوہر کا ہے ۔ کیا کوئی حوالہ مل سکتا ہے ؟
أبو عبدالله آف لائن ہے  
پرانا 23-02-10, 03:38 AM   #13
کنعان
-: منفرد :-
Lahore, United Arabs Emirates, United Kindgom
 
کنعان کی نمائندہ تصویر
 
تاریخ شمولیت: 2009-05-18
قیام: انگلینڈ
جنس: male
پوسٹس: 2,606
پوائنٹس: 886
کنعان پوائنٹ بند ہیں
ویسے یہ شعر علامہ اقبال کا نہیں ہے ۔ بلکہ مولانا محمد علی جوہر کا ہے ۔



قتل حسین اصل میں مرگِ یزید ہے
اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد

اس شعر سے متعلق ڈاکٹر محمد یوسف نگرامی کا ایک اقتباس پڑھ لیں ؛

( بحوالہ : الشیعہ فی المیزان ۔ اُردو ترجمہ : ڈاکٹر محمد یوسف نگرامی ، صفحہ نمبر 30 تا 38 ۔ مطبوعہ : دہلی 1989


-------
__________________
اسلام میں ‘‘یا یہ یا وہ ‘‘ نہیں ہے۔ اسلام کے اصول روز حشر تک کے لیئے اٹل ہیں
کنعان آف لائن ہے  
پرانا 23-02-10, 09:05 AM   #14
شاہد نزیر
-: رکن مکتبہ اسلامیہ :-
 
شاہد نزیر کی نمائندہ تصویر
 
تاریخ شمولیت: 2009-06-16
قیام: کراچی
جنس: male
پوسٹس: 728
پوائنٹس: 378
شاہد نزیر شاہد نزیر شاہد نزیر شاہد نزیر شاہد نزیر شاہد نزیر شاہد نزیر شاہد نزیر شاہد نزیر شاہد نزیر شاہد نزیر
اقتباس:
رفی نے لکھا ہے ۔۔ پیغام کا مشاھدہ کریں
علامہ اقبال رحمۃ اللہ علیہ کو سمجھنا تو ہر ایک کے بس کی بات نہیں البتہ انہیں اپنانا بہت آسان ہے یہی وجہ ہے کہ اس عظیم اسلامی شاعر کو ہر مکتبہء فکر، ہر فرقہ اپنے نکتہ نظر سے دیکھتا ہے۔ لیکن کیا یہ حقیقت نہیں کہ پاکستان صرف اور صرف اقبال کے خوابوں کی تعبیر ہے وہی اقبال جس نے "سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا" کہا تھا، اور جس کو لے کر آج بھی اہلِ ہندوستاں اقبال کو اپنا قومی شاعر تسلیم کرتے ہیں۔ رہی بات پاکستان کی تو یہاں تو بچہ سکول جاتا ہے تو اس کا تعارف "لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری" کے ذریعے اقبال سے ہوتا ہے، مگر جب بچے کو اقبال کے بارے میں نصابی کتب میں بتایا جاتا ہے تو پہلا جملہ کچھ یوں ہوتا ہے "وہ ایک عظیم صوفی منش انسان تھے"۔ یہ تاثر ہر ایک کے ذہن میں رچ بس جاتا ہے کہ شاید علامہ اقبال کی شاعری بھی بلھے شاہ، غلام فرید، جامی وغیرہ کی طرز پر صوفی ازم کا پرچار کرتی ہوگی، لیکن اقبال کے قول و عمل کے سنجیدگی سے مشاہدہ کرنے پر یہ تاثر زائل ہو جاتا ہے اور اس کی جگہ ایک راسخ موحد کی شکل میں وہ شاعر نظر آتا ہے جس کی شاعری نے حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کے بعد مسلمانوں کے اندر نئی روح نیا جذبہ اور نیا ولولہ پیدا کر دیا۔ اس عظیم شاعر کو سمجھنے کے لیے صرف ایک لفظ خودی پر دھیان دینے کی ضرورت ہے جو کہ مذکورہ شعر میں بھی موجود ہے :

خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خدا بندے سے خود پوچھے ، بتا تیری رضا کیا ہے

مگر خودی کیا ہے اس کی تعریف خود اقبال فرماتے ہیں:


خودی کا سر نہاں لا الہ الا اللہ
خودی ہے تیغ فساں لا الہ الا اللہ

یہ دور اپنے براھیم کی تلاش میں ہے
صنم کدہ ہے جہاں لا الہ الا اللہ

اگر چہ بت ہیں جماعت کی آستینوں میں
مجھے ہے حکم اذاں لا الہ الا اللہ

یہ نغمہ فصل گل و لا لہ کا نہیں پابند
بہار ہو کہ خزاں لا الہ الا اللہ

کیا ہے تو نے متاع غرور کا سودا
فریب سو دو زیاں لا الہ الا اللہ


بہ الفاظِ دیگر خودی معراج ہے اس مقام کی جہاں اللہ کی طرف ایک ہاتھ بڑھانے سے وہ دو ہاتھ بڑھاتا ہے، اگر ایک قدم اٹھاؤ تو دس قدم اٹھاتا ہے، اگر چل کر جاؤ تو وہ دوڑ کر آتا ہے۔ میرے خیال میں تو شاید ایک مومن کی رضا یہی ہوتی ہے کہ اس کا مشکل کشاء خود اس کی حاجت روائی کو آئے۔ مگر خودی کو گروی رکھ کر وسیلوں کی تلاش میں بھٹکتے لوگوں کو اس کی سمجھ نہیں آسکتی۔

ایک اچھے مبلغ کی خوبی یہی ہوتی ہے کہ ہر سننے والا یہی سمجھتا ہے کہ شاید اسے ہی مخاطب کیا جا رہا ہے اور یہی خوبی اقبال کے ہاں بھی ہے جو انہیں متنازعہ بنا دیتی ہے مگر کھلے دل اور روشن دماغ سے اگر اس کا احاطہ کیا جائے تو سمجھنے والا سمجھ لیتا ہے کہ مخاطب کون ہے اور مدعا کیا ہے۔
السلام علیکم ورحمتہ اللہ

رفی بھائی بہت شکریہ کہ آپ نے تفصیلاً اپنے نقطہ نظر کو واضح کیا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ شاعر کی شاعری کو سمجھنا اور بالکل وہی مفہوم بیان کرنا جوکہ شعر لکھتے وقت شاعر کے پیش نظر تھا ، بہت ہی مشکل کام ہے۔لیکن اس کی کوئی خاص ضرورت بھی نہیں ہے کیونکہ ہم اقبال کے شعر کے ظاہر پر بات کررہے ہیں اور اس واضح مفہوم پر اعترا ض کر رہے ہیں جو شعر پڑھتے ہوئے ہر قاری کے زہن میں پیدا ہوتاہے۔ ہمیں اس سے کوئی غرض نہیں کہ اقبال کس قسم کے عقیدہ کے مالک تھے لیکن یہ سچ ہے کہ انکے کئی اشعار عقیدہ توحید کے خلاف ہیں۔

آپ نے متنازعہ شعر کے دفاع میں خودی کے معنی بیان کرنے کی کوشش کی ہے اسکی تشریح بھی اقبال ہی کے دیگر اشعارسے کی ہے اور خودی کے معنی اقبال نے لاالہ اللہ بیان کئے ہیں۔ لیکن رفی بھائی یہ بات یاد رہے کہ میرا اعتراض ہر گز لفظ خودی پر نہیں تھا بلکہ اصل اعتراض اشعار کے ان جملوں پر تھا جن میں اللہ رب العالمین جوکہ ہر عیب اور نقص سے پاک ہے کی طرف نقص اور عیب منسوب کیا گیا ہے۔ کیا بندے کا ایک ایسے مقام پر پہنچ جاناجہاں نعوذباللہ ، اللہ کو بھی اسکی تقدیر کیلئے اس کی رضا کی ضرورت درپیش ہو چاہے اس بندے سے محبت میں ہی کیوں نہ سہی۔ کیا اللہ کی طرف عیب منسوب کرنا نہیں ؟؟؟! کیا اقبال کے اس شعر کا اس کے علاوہ بھی کوئی مفہوم بنتا ہے کہ خودی کے مقام پر اللہ بندے کی رضا کا محتاج ہوجاتاہے ۔ نعوذباللہ من ذالک

رفی بھائی آپ سے درخواست ہے کہ اس متنازعہ شعر سے جو مفہوم آپکو سمجھ میں آتا ہے وہ بیان کریں۔ شعر میں موجود کسی ایک لفظ کی تشریح مت کیجئے گابلکہ پورے شعر کا مفہوم بیان کیجئے گا۔

اقبال کو موحد شاعر کہنا ظلم ہے اور وہ بھی اس صورت میں کے انکی شاعری میں کئی ایک متنازعہ اشعار میں موجود ہیں۔ انشاء اللہ ایک یادو دن میں ، میں اقبال کے ایک اور نئے شعر کے ساتھ حاضر خدمت ہونگا جس کی زد ، براہ راست عقیدہ توحید پر پڑتی ہے اور اسکے بعد فیصلہ آپ پر چھوڑوں گا کہ کیا اسکے بعد بھی اقبال ایک موحد شاعر تھا۔

یہاں میں یہ بھی واضح کردوں کے اقبال کے اشعار کو ہر فرقہ اسلئے اپنے اپنے نقطہ نظر سے دیکھتا ہے کہ اقبال کی شاعری حق اور باطل دونوں طرح کے نظریات پر مشتمل ہے۔ اس میں سے جس فرقہ کو جو پسند آتا ہے وہ لے لیتا ہے۔ جسکی ایک مثال میں پیش کرچکا ہوں اور دوسری مثال کیلئے انتظار کیجئے۔ والسلام


آخری مرتبہ ترمیم کی گئی بذریعہ شاہد نزیر : بوقت 09:07 AM مؤرخہ 23-02-10
شاہد نزیر آف لائن ہے  
ان 2 ارکان نے اس مفید پوسٹ کے لیے شاہد نزیر کا شکریہ ادا کیا ہے
پرانا 23-02-10, 09:15 AM   #15
رفی
منتظمِ اعلیٰ
 
رفی کی نمائندہ تصویر
 
تاریخ شمولیت: 2007-08-08
قیام: مكة المكرمة
جنس: male
عمر: 38
پوسٹس: 10,825
پوائنٹس: 5212
رفی رفی رفی رفی رفی رفی رفی رفی رفی رفی رفی
اقتباس:
شاہد نزیر نے لکھا ہے ۔۔ پیغام کا مشاھدہ کریں
السلام علیکم ورحمتہ اللہ


رفی بھائی آپ سے درخواست ہے کہ اس متنازعہ شعر سے جو مفہوم آپکو سمجھ میں آتا ہے وہ بیان کریں۔ شعر میں موجود کسی ایک لفظ کی تشریح مت کیجئے گابلکہ پورے شعر کا مفہوم بیان کیجئے گا۔


و علیکم السلام!

بھائی اسی تھریڈ کی پوسٹ نمبر 3 میں‌ اس شعر کے متعلق اپنا نکتہ نظر بتا چکا ہوں، کہ خودی یعنی لا الہ اللہ کو اپنا لیا جائے تو یقیناً میزان کا پلڑا بھاری ہو جائے گا۔ اور پھر جس کا میزان بھاری ہو گا اس سے اللہ کا وعدہ ہے کہ اپنی رضا کے مطابق وہ ابدی زندگی گذاریں گے۔
__________________
رفی آف لائن ہے  
موضوع مقفل کیا گیا

Bookmarks

ٹیگز
اشعار, ادب, ادبی انتخاب, ادبی مجلس, اردو, اردو ادب, اردو نثر, اقبال, انتخاب, توحید, مجلس ادب, نثر, نثری ادب

موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز

پوسٹ کرنے کے قوانین
You may not post new threads
You may not post replies
You may not post attachments
You may not edit your posts

سمائلز آن ہے
[IMG] کوڈ آن ہے
HTML کوڈ آف ہے

قوانین
فورم منتخب کریں

مشابہ موضوعات
موضوع مصنف فورم جوابات آخری پیغام
اصلی اہل سنت (مکمل رسالہ) محمد نعیم اردو یونیکوڈ کتب 2 05-02-14 01:17 PM
میری اپنی بھولی بسری یادیں،!!! میرا بچپن-1 عبدالرحمن سید ادبی مجلس 48 18-12-11 07:31 PM
تعدّد ازواج Abu Abdullah اتباعِ قرآن و سنت 2 29-10-10 08:08 AM
انٹرنیٹ کی آزادی کے بارے میں وزیرِ خارجہ ہلیری روڈھم کلنٹن کی تقریر fawad حالاتِ حاضرہ 3 25-01-10 12:47 PM
البریلویہ ۔ بریلویت تاریخ و عقائد (مکمل کتاب) محمد نعیم اردو یونیکوڈ کتب 19 19-05-08 05:57 PM


فورم کے تمام اوقات GMT +3 کے مطابق . وقت ہے ابھی 06:27 PM


Powered by vBulletin Version 3.8.7
® Copyright ©2000 - 2014, Jelsoft Enterprises Ltd. Urdu Translation by A.REHMAN
User Alert System provided by Advanced User Tagging (Lite) - vBulletin Mods & Addons Copyright © 2014 DragonByte Technologies Ltd.
Contact admin : admin@urduvb.com