>URDU MAJLIS FORUM
 

واپسی   URDU MAJLIS FORUM > ::: مجلسِ مذہب اور نظریات ::: > سیرتِ اسلامی > مسلم شخصیات


مسلم شخصیات :: علماء کرام و اکابرینِ امت اور معروف تاریخی مسلم شخصیات کا تعارف ::

جواب پوسٹ کریں
 
موضوع کے اختیارات ظاہری انداز
پرانا 25-08-10, 06:48 AM   #1
ابن عمر
 
تاریخ شمولیت: 2006-11-16
قیام: ارض الحرمین
جنس: male
پوسٹس: 13,353
پوائنٹس: 5206
ابن عمر ابن عمر ابن عمر ابن عمر ابن عمر ابن عمر ابن عمر ابن عمر ابن عمر ابن عمر ابن عمر
ابن عمر کی طرف بذریعہ MSN  پیغام ارسال کریں ابن عمر کی طرف بذریعہ yahoo پیغام ارسال کریں ابن عمر کی طرف بذریعہ Skype  پیغام ارسال کریں
استاذ العلماء شیخ الحدیث مولانا عبدالحلیم رحمہ اللہ کی یاد میں

یاد رفتگان
استاذ العلماءشیخ الحدیث مولانا عبدالحلیم رحمہ اللہ کی یاد میں

زندگی میں بعض یادیں صفحہ قرطاس پر لاتے ہوئے بڑی مشکل پیش آتی ہیں ایسی ہی کیفیت اس وقت میرے دل و دماغ پر بھی طاری ہے ذہن اور جسم بے حد تھکے ہوئے ہیں ۔ استاذ العلماءشیخ الحدیث مولانا عبدالحلیم کی محبت و شفقت اور خلوص ہمارے لیے انتہائی قیمتی اثاثہ تھا ۔ آپ کو مرحوم لکھتے ہوئے ہاتھ کانپتے ہیں ، آنکھیں پرنم ، خیالات منتشر اور بے چینی و پریشانی کے لمحات میں چند صفحات لکھنے کی جستجو ہے ۔ آپ کے بارے میں آپ کے صاحب علم و فضل نامور تلامذہ اور ملک کی مایہ ناز ادبی ، علمی شخصیات آپ کی زندگی کے مختلف ادوار پر مضامین لکھیں گی ۔ کیونکہ سلف صالحین نے ایک عالم حقیقی کے جو اوصاف بیان کےے ہیں وہ مولانا میں بدرجہ اتم موجود تھے ۔ مثال کے طور پر ابن مبارک رحمہ اللہ سے پوچھا گیا کہ علماءکی پہچان کی کوئی نشانی ہے ؟ تو انہوں نے فرمایا کہ عالم وہ ہے جو اپنے علم پر عمل کرے اور اپنے علم اور عمل کو تھوڑا سمجھے دوسروں کے علم میں رغبت کرے اور حق جس کی طرف سے بھی اس کے پاس آتا ہو اسے قبول کرے اور جہاں بھی اسے علم ملے تو اسے حاصل کرے

اسی طرح حضرت فضل بن عیاض رحمہ اللہ نے فقیہ کے بارے میں فرمایا :
انما الفقیہ الذی انطقتہ الخشیة واسکتة الخشیة ، ان قال قال بکتاب اللہ والسنة وان سکت سکن بالکتاب والسنة ، وان اشتبہ علیہ وقف عندہ وردابی عالمہ ” یقینا فقیہہ وہ ہے جس کو اللہ تعالیٰ کا خوف گویا کرے اور اللہ تعالیٰ کا خوف خاموش کر دے ۔ “ اگر وہ بات کرتا ہے تو قرآن و سنت کی بات کرتا ہے اور اگر خاموش ہوتا ہے تو قرآن و سنت پر خاموش ہوتا ہے اگر اس پر کوئی مسئلہ مشتبہ ہو جائے تو بحث و تمحیص سے رک جاتا ہے اور اسے عالم کے پاس بھیج دیتا ہے ۔ مذکورہ بالا اوصاف سے اللہ تعالیٰ نے شیخ کو بھی نوازا تھا ۔ آپ بیک وقت مدرس ، محقق ، مورخ ، دانشور ، مبصر و نقاد ، جامع المعقول والمنقول ، قادر الکلام متکلم بھی تھے ۔ ان کے ابتدائی حالات حاضر ہیں جو میں دوران تعلیم مختلف مواقع پر ان سے پوچھ کر آہستہ آہستہ احاطہ تحریر میں محفوظ کرتا رہا ہوں ۔

جائے پیدائش ، مختصر خاندانی حالات :
یکم جنوری 1940ءکو منڈی عثمان والا ضلع قصور میں جماعت اہلحدیث کے بے باک خطیب ، مناظر اور سیمابی شخصیت کے مالک اور احرار کے سرگرم رکن مولانا عبدالرحیم کوٹلوی بن حاجر قمر دین کے گھر جنم لیا ۔ مولانا عبدالرحیم نے جامعہ محمدیہ لکھوکے ضلع فیروز پور بھارت میں زیر تعلیم رہ کر دینی تعلیم کی تکمیل کی ۔ جب پہلی مرتبہ 1929 ءمیں مولانا محمد علی لکھوی مدینہ منورہ میں ہجرت کر کے جانے لگے تو مولانا عبدالرحیم بھی ان کے ساتھ ہی تھے ۔ انہوں نے وہیں مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں روضہ ریاض الجنۃ میں صحیحین ( مسلم ، بخاری شریف ) پڑھیں ۔ فراغت کے بعد مراجعت ہوئی ۔ منڈی عثمان والا روڈے میں اقامت گزیں ہو گئے اور وہاں کی مرکزی مسجد میں امامت و خطابت اور تدریس کا فریضہ سر انجام دیتے رہے بعد ازاں کھڈیاں خاص اور پتوکی میں بھی دعوت و تبلیغ کا فریضہ عرصہ دراز تک سر انجام دیا ۔ ادھر ہی وفات ہوئی ۔ مولانا عبدالحلیم نے ابتدائی دینی تعلیم اور ناظرہ قرآن پاک وغیرہ تو گھر میں والد گرامی سے پڑھا ۔ مڈل تک عثمان والا میں زیر تعلیم رہے ۔ پھر 1953 ءمیں کھڈیاں خاص سے میٹرک کا امتحان اعلیٰ نمبروں میں پاس کیا ۔ شیخ صاحب ذہین و فطین تھے ۔ ذہانت کی وجہ سے سکول کے تمام اساتذہ ان سے بڑی محبت کرتے ۔ آپ کے اساتذہ نے آپ کے والد گرامی کو مشورہ دیا کہ آپ کو مزید پڑھنے دیا جائے ۔ مگر آپ کے والد گرامی آپ کو صرف قرآن و سنت کی تعلیم کیلئے وقف کرنا چاہتے تھے ۔ انہوں نے آپ کی ہر قدم پر نگرانی کی ، اخلاق و عادات اور تعلیم کے بارے میں ذرا سی سستی اور غفلت بھی برداشت نہیں کرتے تھے ۔

تحصیل علم و تکمیل :
آپ نے صرف تیرہ سال کی عمر میں میٹرک کا امتحان پاس کیا تو آپ کے والد گرامی نے انہیں کالج میں داخل کروانے کی بجائے مدرسہ محمدیہ حفظ القرآن والحدیث میر محمدی قصور حضرت حافظ محمد یحییٰ عزیز میر محمدی حفظہ اللہ کی سرپرستی میں داخل کروا دیا ۔ ایک سال میں ادھر ترجمۃ القرآن و دیگر ابتدائی صرف و نحو وغیرہ کی کتب پڑھیں ۔ پھر جامعہ محمدیہ اوکاڑہ میں1955 ءمیں داخلہ لیا ۔ دوسری کلاس کا امتحان ادھر ہی پاس کیا اور 1956 میں مدرسہ تقویۃ الاسلام غزنویہ لاہور میں داخلہ لیا ادھر رہ کر ہی اپنی تعلیم مکمل کی دوران تعلیم 1958 ءمیں فاضل عربی کا امتحان لاہور بورڈ میں تیسری پوزیشن کے ساتھ پاس کیا ۔ یاد رہے کہ اس سال فاضل عربی کے امتحان میں تقریبا 216 لڑکوں میں سے صرف 16 لڑکے پاس ہوئے تھے ۔ 1959 ءمیں جامعہ تقویۃ الاسلام کے مہتمم برصغیر پاک و ہند کے نامور سیاست دان اور مذہبی رہنما مولانا سید محمد داؤد غزنوی رحمہ اللہ کے دست مبارک سے سند فراغت حاصل کی ۔ بخاری شریف کی دوبارہ تعلیم کے حصول کی غرض سے 1960ءمیں جامعہ محمدیہ اوکاڑہ میں داخلہ لیا اور فارغ التحصیل ہوئے ۔

اساتذہ کرام :
حافظ محمد یحییٰ میر محمدی ، شیخ الحدیث عبدالرشید مجاہد آبادی ، مولانا حافظ عبدالرشید گوہڑوی ، مولانا شریف اللہ خان سواتی ، مولانا محمد خان ، شیخ الحدیث حافظ محمد اسحاق حسینوی ، شیخ الحدیث حافظ محمد عبداللہ بڈھیمالوی اور محدث زماں حافظ محمد گوندلوی جیسی نامور شخصیات شامل ہیں ۔

رفقائے مدارس :
دارالعلوم تقویۃ الاسلام غزنویہ لاہور اور جامعہ اوکاڑہ میں درس بخاری کے آپ کے رفقاءمیں مولانا محمد رفیق ججھ کلاں ( حال گوجرانوالہ ) مولانا ماسٹر محمد شریف ججھ کلاں اوکاڑہ ، مولانا محمد بن عبداللہ شجاع آبادی ، شیخ الحدیث دارالحدیث ملتان ، مولانا حافظ محمد اسمٰعیل اسد حافظ آبادی ، مولانا محمد اسحاق قادر آبادی ، مولانا محمد بشیر سیالکوٹی اسلام آباد ، حافظ محمد بن مولانا محی الدین لکھوی رحمہ اللہ ، قاری محمد رفیق اوکاڑوی شامل ہیں ۔
امامت و خطابت اور تدریسی سرگرمیاں :

جامعہ محمدیہ اوکاڑہ سے فارغ التحصیل ہونے کے بعد شام کوٹ ضلع قصور کی مرکزی مسجد غربی اہلحدیث میں بطور خطیب و مدرس کی ذمہ داری کا آغاز کیا ۔ پھر 1965 ءکو شام کوٹ نو میں الگ مسجد فردوس اہلحدیث کا سنگ بنیاد رکھا اس میں 1971ءتک قرآن و سنت کی تعلیم عوام الناس کو وعظ و تذکیر اور تدریس کی صورت میں دی جامعہ محمدیہ اوکاڑہ میں فاضل عربی کی تیاری کروانے کی غرض سے آپ کو 1972 ءمیں مفکر اسلام مولانا معین الدین لکھوی حفظہ اللہ نے اپنے ادارے میں واپس بلایا ۔ جامعہ کے طلبہ پر آپ نے اس قدر محنت کی فاضل عربی کے سالانہ امتحان میں طلبہ سو فیصد نمایاں کامیابی حاصل کرتے رہے ۔ جو کہ تاحال جاری تھی ۔ شیخ الحدیث مولانا محمد عبداللہ امجد چھتوی حفظہ اللہ کی جامعہ محمدیہ اوکاڑہ سے علیحدگی کے بعد آپ کو بخاری شریف کی تدریس کی ذمہ داری 1980 ءمیں دی گئی ۔ جو کہ تادم آخر آپ نے ادا فرمائی ۔ اسی طرح خواتین کے مدرسہ تعلیم الصالحات محلہ دارالسلام اوکاڑہ میں ایک عرصہ تک پڑھاتے رہے بالآخر اپنی بیماری کی وجہ سے ادھر 5 جولائی 1999 ءکو پڑھانے کا سلسلہ ترک کر دیا ۔ تقریبا گزشتہ تین سال سے فجر کی نماز کے بعد گھر میں کچھ نوجوان علماءجن میں مولانا عبدالغفور عاصم اور مولانا محمد عثمان غنی شامل ہیں بخاری شریف پڑھنے کی غرض سے ہر روز آتے جن کا سبق کتاب الدعا اور مدرسہ میں طلباءکا سبق کتاب الصلوٰۃ پر تھا کہ آخری وقت آ گیا ۔ خطابت کے حوالے سے عرض ہے کہ 1977 ءتا 1997 ءتقریبا بیس برس خطبہ جمعۃ المبارک دارالحدیث محمدیہ عام خاص باغ ملتان اور مرکزی جامع مسجد فریدیہ اہلحدیث قصور میں 1996 ءتا 1999 ءتک رہا ۔

رشتہ ازدواج اور اولاد :
مولانا عبدالرحیم کوٹلوی اپنے نور چشم مولانا عبدالحلیم کے لیے رشتے کی تلاش کی غرض سے شیخ الحدیث مولانا حافظ محمد عبداللہ بڈھیمالوی رحمہ اللہ سے ملنے اوکاڑہ میں آئے اور پوچھا کہ آپ نے صاحبزادی کی کسی جگہ نسبت وغیرہ تو نہیں کی ۔ مولانا فرمانے لگے نہیں آپ نے کہا کہ آپ مجھے کسی گھر کا پتہ دیں گے ۔ بہتر ہے کہ آپ ہی مجھے اپنی بیٹی کا رشتہ میرے بیٹے عبدالحلیم کیلئے عنایت کر دیں جسے مولانا صاحب نے ہاں کر دی ۔ 1961 ءمیں رشتہ ازدواج میں منسلک ہو گئے ۔ آپ کی اولاد میں حافظ عبدالوحید امریکہ ، ڈاکٹر عبدالکبیر محسن راولپنڈی ، عبدالباسط ، محمد عمران ، عبدالحئی عابد اور ایک بیٹی شامل ہیں ۔

دوران امامت و خطابت قصہ تعویذ :
تعویذ فروشی سے پرہیز کرتے تھے ۔ ایک دفعہ کا واقعہ انہوں نے ہمیں دوران تعلیم بتایا کہ جب شام کوٹ میں رہائش پذیر تھا ایک دن ایک نمازی جس کا نام اب یاد نہیں آ کر کہنے لگا کہ ہماری بھینس دودھ نہیں دے رہی کوئی تعویذ وغیرہ بنا دیں آپ نے انکار کیا اس نے بہت اصرار کیا ۔ فرمانے لگے کہ میں نے ایک کاغذ کے اوپر لکھ کر یہ جملہ دیا کہ بھینس دودھ دے دو شام کو آدمی بالٹی میں دودھ لے کر آ گیا اور کہنے لگا آپ تو تعویذ بنا کر نہیں دے رہے تھے ۔ تعویذ جو آپ نے لکھ کر دیا اس خوشی میں دودھ لے کر آیا ہوں ۔ استاد محترم فرمایا کرتے تھے کہ دنیا میں دو کام ایسے ہیں جن کو اپنانے سے کاروبار خوب فروغ پاتا ہے اس کیلئے محنت اور جدوجہد کی ضرورت نہیں پڑتی ۔ ایک زمین پر ( مٹی کی ڈھیری ) پر جھنڈا لگا کر بیٹھنے اور دوسرا تعویذ فروشی سے ۔

علمی غرور سے مبرا :
مولانا شیخ ایک بلند پایا عالم ، محقق ، ادیب تھے ۔ مگر اس کے باوجود ان کے مزاج میں غایت درجے کی سادگی تھی ۔ آپ نے اپنے نام کے ساتھ زندگی بھر مولانا یا شیخ الحدیث کا اضافہ نہیں کیا نہ کبھی گفتگو میں علمی رعب ڈالتے بلکہ دلائل و براہین کے حوالے سے سمجھاتے ۔

تحمل ، حلم اور بردباری :
تواضع و انکساری ، متانت و سنجیدگی اور تحمل و بردباری یہ تمام اوصاف حسنہ حضرت صاحب میں کوٹ کوٹ کر بھرے ہوئے تھے ۔ تحمل اور بردباری اور حلم اتنا تھا کہ بڑے سے بڑا مخالف آدمی آ جاتا اور آپ سے بات کرتا تو آپ تحمل اور حوصلے سے اس کی بات سنتے اور جب اس کا غصہ ٹھنڈا ہو جاتا تو پھر آپ اس کو مطمئن کرتے ۔ شدید ترین اختلاف میں بھی آپ نرم سے نرم الفاظ اختیار کرتے اور راہ اعتدال پر قائم رہنے کی پوری کوشش فرماتے ، ذاتیات میں بالکل نہیں پڑتے تھے ۔ آپ نے ہمیشہ ادفع بالتی ھی احسن کا نقشہ پیش کیا ۔

بحیثیت معلم و مدرس :
آپ کا جو انداز تدریس تھا وہ آپ ہی کا خاصہ ہے جو بات بھی کرتے دلیل کے ساتھ کرتے آپ کے درس میں اخلاص تھا یہی وجہ تھی کہ جو بات بھی آپ کے منہ سے نکلتی تو فوری طور پر طلبہ کے ذہن نشین ہو جاتی ۔ اگر کوئی عام آدمی چند منٹوں کے لیے آپ کے درس میں شریک ہوتا تو بہت کچھ اپنے ساتھ لے جاتا ۔ آپ کا طریقہ تدریس یہ ہوتا کہ پہلے سارے باب کی عبارت پڑھتے یا کسی سے پڑھواتے ، پھر باب سے متعلقہ مسائل ایسے انداز میں بیان کرتے کہ تشنگی ہو جاتی آخر میں مشکل الفاظ کی وضاحت فرماتے ۔ اختلافی مسائل میں آپ کا طریقہ یہ ہوتا کہ پہلے آئمہ کی رائے اور ان کے دلائل تفصیل کے ساتھ بیان کرتے پھر ترجیح کے دلائل بیان فرماتے تھے ۔ درس کے دوران شاگردوں پر پوری توجہ ہوتی ، طلبہ جتنے مرضی سوالات کرتے آپ نے کبھی ان کو منع یا ڈانٹا نہیں تھا ۔

طلبہ اور جامعہ کے اساتذہ سے ان کا رویہ :
وہ اپنے طلبہ سے بے پناہ محبت کرتے تھے طلبہ ان پر اس حد تک اعتماد کرتے تھے کہ اپنے والدین کے خلاف تو بغاوت پر آمادہ ہو جاتے تھے ۔ مگر شیخ کی نصیحتوں پر عمل کرنے کو اپنے لیے فرض عین سمجھتے تھے ۔ ان کی گفتگو اس قدر سحر انگیز ہوتی تھی کہ بغاوت پر آمادہ طلبہ کو بھی چند منٹوں میں ٹھنڈا کر دیتی تھی ۔ انہوں نے اپنے آپ کو بڑا نہیں سمجھا بلکہ اساتذہ کرام کے ساتھ دوستانہ تعلق قائم رکھا اسی طرح جامعہ کے دیگر ملازمین سے بھی رویہ مثالی تھا ۔

عمل کے میدان میں :
تقویٰ اور پرہیز گاری کے اثرات آپ کے چہرے سے ظاہر ہوتے تھے ۔ آپ کے چہرے پر ایک قسم کی نورانیت تھی اس حدیث کے مصداق تھے کہ اذا راو ذکروا اللہ آپ نماز بڑی عاجزی سے پڑھتے ، آپ سے گفتگو کرنے میں خوشی محسوس ہوتی ۔ آپ کے پاس بیٹھنے سے دل کو سکون ملتا ۔ میں نے دوران تعلیم ان سے پوچھا استاد محترم مدرسہ کے حوالے سے کوئی نصیحت فرمانے لگے کہ چھوٹے بچوں کو اپنے پاس نہیں بٹھانا اور نہ خود ان میں جا کر بیٹھنا ، نہ ہی کسی لڑکے کو ادھار دینا ۔

اسلاف کی رائے کا احترام :
ایک بات جو میں نے ذاتی طور پر ان کے علوم کے خصوصی امتیاز کے طور پر محسوس کی وہ ان کا اسلاف سے گہرا تعلق اور ان کی رائے کا احترام تھا ۔ میں نے کبھی نہیں دیکھا کہ مولانا نے اپنے استدلال پر سلف صالحین اور بزرگان دین کا حوالہ نہ دیا ہو ۔ وہ صفحہ اور سطر بھی بتاتے کہ فلاں کتاب میں فلاں مسئلہ درج کیا ہے ۔ ان کا حافظہ علمائے اسلاف کی یاد دلاتا تھا ۔ ایسے لوگ خال خال ہی ہوتے ہیں ۔ راسخون فی العلم کی عملی تصویر بھی تھے ۔ اسلاف کے بعض اعمال کو اپنانے کی نصیحت فرماتے ۔

حصول علم کا ذوق :
مولانا مرحوم کی تصانیف کا جن لوگوں نے مطالعہ کیا ہے تو ان کو یہ معلوم ہو گا کہ آپ کتنے بڑے محقق عالم تھے ۔ وہ جس طرح دینی مسائل میں تحقیق کرتے تھے ۔ اسی طرح سیاسی معاملات اور دوسرے مسائل میں بھی آپ کے تبصرے حقیقت پر مبنی ہوتے تھے ۔ جو سننے والوں کی آنکھیں کھول دیتے تھے ۔ تفسیر ، تاویل آیات ، روایت و درایت اور فقہی مسائل کے ساتھ حالات پر ان کے جوابات مدلل ہوتے ہیں ، روزنامہ نوائے وقت ان کا پسندیدہ اخبار تھا ۔ ہفت روزہ کراچی سمیت جماعتی رسائل و جرائد کا باقاعدہ مطالعہ کرتے تھے ۔

فروعی مسائل میں اعتدال :
مولانا صاحب ہمیشہ فروعی اختلافات میں بہترین راستہ نکال لیتے تھے کبھی کسی پر طعن و تشنیع نہیں کی اور نہ کسی کے بارے میں غلط زبان استعمال کی ، عالمانہ انداز میں کسی پر تنقید کرتے تھے ۔ مگر اشتعال سے ہمیشہ دور رہے ان کے نصائح بھی انہیں باتوں کا مرقع ہوا کرتے تھے ۔ فروعی مسائل میں ان کا کہنا تھا کہ دین کے کسی حکم اور دین کے کسی امام کو اپنے اصل مقام سے نہ بڑھاؤ اور نہ گھٹاؤ مگر افسوس ہے کہ آج تفریق و تخریب اور فرقہ وارانہ عصبیت کی وجہ سے کچھ لوگوں نے قولاً نہیں مگر عملاً آئمہ دین اور فقہا و مجتہدین کو ارباب من دون اللہ کا درجہ دے دیا ہے اور کچھ لوگوں نے اپنے آپ کو ہر چیز میں خود کفیل اور مستفنی عن المجتہدین سمجھ کر بے نیازی کا طریقہ اختیار کر لیا ہے ۔

مہمان نوازی :
مہمانوں کی خدمت اور عزت افزائی آپ کی زندگی کا معمول تھا ۔ ذاتی یا جامعہ کا مہمان ہو ہر ایک سے خندہ پیشانی سے پیش آتے ۔ اور فرمایا کرتے مہمان اللہ کی رحمت ہوتے ہیں یہ لوگ دور دراز سے محبتیں اور عقیدت لے کر ہمارے پاس آتے ہیں ۔ ان کا احترام بہت ضروری ہے کیونکہ مہمان نوازی سنت انبیاءہے ۔ خصوصا حضرت ابراہیم علیہ السلام بڑے مہمان نواز تھے ۔ خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے جو شخص اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو اسے چاہیے کہ اپنے مہمان کا اکرام کرے ۔ اکرام سے مراد مرغن غذائیں ، ذائقے دار کھانے اور انواع و اقسام کے پھل نہیں بلکہ جو کچھ آسانی سے یا جو کچھ گھر میں موجود ہوتا مثلا چنے کی دال ، دہی وغیرہ مہمان کے سامنے دستر خوان کی رونق بنا دی جاتی ۔ حقیقت یہ ہے کہ آج اس بات کا بھی علماءمیں فقدان ہے ۔

انڈے کی ٹکی کا دل چسپ واقعہ :
دارالعلوم تقویۃ الاسلام لاہور میں جب آپ زیر تعلیم تھے ۔ اس کے حوالے سے یہ واقعہ آپ نے مجھے 2001 ءکو جب میں ہفت روزہ تنظیم اہلحدیث لاہور کے لیے انٹرویو لینے کیلئے اوکاڑہ گیا تو سنایا ۔ فرمانے لگے مولانا محمد خان سواتی جو میرے بڑے مشفق استاد تھے میں اکثر اوقات ان کے پاس ادب وغیرہ کی کتب پڑھتا رہتا تھا ۔ مولانا گھر سے کھانا لے کر آتے تھے میں نے اپنے ساتھیوں سے کہہ رکھا تھا کہ میرا کھانا لے کر رکھ لو ۔ میں سبق پڑھ کر کھا لوں گا ایک دن انہوں نے کھانا کھانے کی اپنے ساتھ دعوت دی ۔ میں نے قبول کر لی ۔ روٹیوں کے اوپر انڈے کی ٹکی بنی ہوئی تھی ۔ میں اسے روٹی سمجھ کر کھا گیا استاد محترم بھی حیران تھے اور میں خود بھی جب کھا چکا تو مجھے پتہ چلا کہ یہ انڈا تھا جب کبھی یہ واقعہ یاد آتا تو آج بھی زیر لب مسکرانے لگ جاتا ہوں ۔

پانچ وتر کی ادائیگی :
ہر ماہ رمضان المبارک کو جامعہ محمدیہ اوکاڑہ کے لیے تعاون کی غرض سے ہمارے ہاں مرکزی جامع مسجد محمدی اہلحدیث کوٹ رادھا کشن میں تشریف لاتے ۔ آج سے کوئی دس سال قبل کا واقعہ ہے کہ آپ کو قاری صاحب نے نماز وتر کی ادائیگی کے لیے کہا عام طور پر ہمارے نمازی حضرات ایک وتر پر ہی اکتفا کرتے ہیں اور ماہ رمضان المبارک میں باجماعت وتر تین ہی ادا ہوتے ہیں ۔ آپ نے تین کی بجائے پانچ وتر پڑھائے ، جس سے نمازیوں اور خواتین میں کافی بے چینی محسوس کی گئی کچھ حضرات تو کہہ رہے تھے کہ آپ نے پانچ کیوں پڑھائے بعض کہہ رہے تھے کہ آپ بھول گئے اور بعض نے تین ہی ادا کر لیے ، مسجد میں عجیب دلچسپ ماحول کا سماں تھا ۔ میں نے اور بعض نمازیوں نے آپ سے دریافت کیا کہ آپ نے پانچ پڑھانے تھے تو پہلے بتا دیتے فرمانے لگے ہو سکتا ہے کوئی جماعت سے پڑھتا نہ پڑھتا میں نے سوچا کہ آج انہیں پانچ وتر پڑھادوں تا کہ یاد رکھیں کہ پانچ وتر پڑھنے بھی سنت ہیں ۔

تراجم اور تصانیف :
امام الہند حضرت مولاناابوالکلام آزاد رحمہ اللہ فرمایا کرتے تھے کہ تصنیف ، تدریس اور تقریر کی خوبیاں اور اوصاف کا بیک وقت کسی ایک شخص میں جمع ہونا ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہے کوئی عالم مصنف ہے تو مدرس نہیں ، بہترین مدرس ہے تو مقرر نہیں اور اگر میدان خطابت کا شہسوار ہے تو تصنیف کے میدان میں نہیں چل سکتا ۔ مگر اللہ تعالیٰ نے آپ کو تینوں اوصاف بالا سے نوازا تھا ۔
1 میلاد مروجہ کی شرعی حیثیت : طالب علمی کے آخری دور میں ایک رسالہ لکھا جسے مرکزی جمعیت اہلحدیث پاکستان نے کئی بار شائع کیا اور ملک بھر میں مفت تقسیم کیا ہے ۔
2 فضائل علم و علماء : حافظ ابن قیم رحمہ اللہ کی کتاب ” مفتاح دارلسعادہ “ کا اردو ترجمہ کیا ۔ ( مطبوعہ )
3 الکامل للمبرد کا ترجمہ : فاضل عربی کے نصاب سے باب الخوارج تبدیل کر کے غالبا 1974 ءمیں الکامل للمبرد کے ابواب ضرب الامثال کے کچھ حصہ جات نصاب میں شامل کئے گئے ۔ اس وقت اصل کتاب کا حصول بھی مشکل تھا اس دور میں آپ نے اصل کتاب کا ترجمہ مع اصل عبارت تحریر کیا ۔ جو تاحال نصاب میں شامل ہے ۔
4 اسلامی آداب : جس میں روزمرہ کے معمولات زندگی قرآن و سنت کی روشنی میں بیان کئے گئے ہیں ۔
5 مشکوٰۃ شریف مؤلف امام ولی الدین محمد بن عبداللہ الخطیب العمری متوفی 743ھ کا ترجمہ مولانا عبدالحلیم علوی فاضل عربی کے نام سے کیا جو تاحال مکتبہ رحمانیہ اردو بازار لاہور سے شائع ہو رہا ہے ۔
6 شیخ الحدیث مولانا عطاءاللہ حنیف رحمہ اللہ کی سرپرستی میں علمائے اہل حدیث کے تراجم پر کافی محنت کی اور ایک ضیخم کتاب تیار ہو گئی تھی لیکن شائع نہ ہو سکی ۔
7 اعجاز القرآن نامی کتاب علامہ نعیم الحمصی کی تالیف کردہ مصر سے طبع ہو کر پاکستان میں 1962 ءمیں آئی تھی ۔ جس میں ہر صدی میں اعجاز القرآن پر لکھنے والوں کا تنقیدی جائزہ لیا گیا تھا ۔ یہ اپنے موضوع پر ایک جامع کتاب تھی ، شیخ الحدیث مولانا عطاءاللہ حنیف بھوجیانی رحمہ اللہ کی توجہ دلوانے پر اس کا ترجمہ کیا جو کہ تقریبا چھ ماہ تک مسلسل ماہنامہ پیام حق کراچی میں قسط وار شائع ہوا مستقل طور پر کتاب شائع نہیں ہو سکی ۔
8 توفیق الباری شرح صحیح بخاری شریف : توفیق الباری کے آغاز میں استاد محترم لکھتے ہیں کہ بندہ نے 1400 ھ کو بخاری شریف کا درس دینا شروع کیا تھا ۔ بحمدہ تعالیٰ تحدیث نعمت کے طور پر عرض ہے کہ ان سطور کی ترقیم تک پچیسواں دور اختتام پذیر ہوا ہے ۔ جبکہ بنات کے ایک مدرسہ میں بھی تواتر دس بار بخاری شریف پڑھائی ہے ۔ مجموعی طور پر پینتیس ، چھتیس بار بخاری شریف ختم کرنے کی اللہ پاک نے سعادت نصیب فرمائی ہے ۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ بندہ ناچیز سے پہلے علم کے اساطین بخاری شریف کا درس دیا کرتے تھے ۔ بندہ علم و عمل کے اعتبار سے کسی طور پر خود کو اس امر کا اہل نہیں پاتا تھا ۔ اور پھر دوران تعلیم اور بعد از تعلیم بخاری شریف پڑھانے والوں کے تذکرے مجھ جیسے علم و عمل سے گنہگار انسان کیلئے درس بخاری کا تصور ہی رونگٹے کھڑے کرنے کےلئے کافی تھا ۔ پھر ایک ایسے جامعہ میں جس کا شاندار ماضی ہوتابناک حال ہو ۔ خود کو بہت کوتاہ خیال کرتا تھا اور نہ چل سکنے کا اندیشہ عزم کو متزلزل کیے دیتا تھا ۔ ایک سرسری اندازہ کے مطابق سات ، آٹھ صد طلبہ اور تین صد کے قریب طالبات نے بخاری شریف پڑھی ہے ۔ ان میں ہر طرح کے طلباءشامل رہے ہیں ۔ ذہین سے ذہین تر بھی ایسے بھی جو بلوغ المرام سے لے کر بخاری شریف تک احادیث مبارکہ کی سماعت ہی کرتے رہتے ہیں ۔ اور بھول کر بھی نہ قرات حدیث کرتے ہیں اور نہ ہی استاد صاحب کو کسی سوال کا جواب دینے کی زحمت کرتے ہیں ۔ ہمارے ایک استاد صاحب ایسے لائق طالب علموں کو ہیولیٰ کہا کرتے تھے ۔ ہیولیٰ ایسی گوندھی ہوئی مٹی کو کہتے ہیں جس سے کمہار برتن تیار کرتا ہے کبھی اس سے پیالہ بنا رہا ہے ، کبھی لوٹا تیار کر رہا ، اور وہ ہیولیٰ اس کے ہاتھوں لاچار و بے بس ہر شکل اختیار کرنے پر مجبور ہوتا ہے ۔ بحمداللہ میں نے اپنے طلباءکے اعتراضات کا کبھی برا نہیں منایا بلکہ ہمیشہ ان کی حوصلہ افزائی کی ہے ۔ ہمارے ایک استاد صاحب فرمایا کرتے تھے کہ آج جبکہ میں تمہیں پڑھا رہا ہوں تمہارا شاگرد ہوں اور کل جب تمہارا سبق سنوں گا ، تمہارا استاد ہوں گا ۔ اس وقت ان باتوں کی سمجھ نہیں آتی تھی ۔ تدریس کے دوران اس کی افادیت کا پتہ چلا کہ استاد کا کام سبق کے معاملہ میں اپنے شاگرد کو مطمئن کرنا ہے ۔ خواہ پندرہ یا بیس بار اپنا سبق پوچھے اور ہر طرح کے شکوک و شبہات کو دور کرتا ہے تا کہ اگر اگلے دن جب استاد سبق سنے وہ یہ نہ کہہ سکے کہ مجھے سمجھ نہیں آئی تھی آپ نے یہ باتیں تو بتلائی ہی نہ تھیں ۔

طالب علم کو طلب علم میں کوئی شرمندگی یا حیاءنہیں کرنا چاہیے ۔ کہ میں نے اگر یہ بات پوچھی تو میرے ہم درس میرا مذاق اڑائیں گے ۔ کہ ایسی آسان بات کا بھی اس کو پتہ نہیں ہے اسی لیے امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ علم کے بارے میں حیاءاور شرم کرنے والا طالب علم یا تکبر کی وجہ سے علم کی بات استاد سے نہ پوچھنے والا علم حاصل نہیں کر سکتا ۔
اخی لا تنال العلم الابستۃ
سائنبیک عن تفصیلھا بیان
ذکاءو حرص واجتھادو صحۃ
وصحبۃ استاد وطول زمان
اسی لیے کہا جاتا ہے السائل کالاعمیٰ ذہن میں جو صحیح یا غلط بات کھٹکے استاد صاحب سے اس کی وضاحت کروا لینی چاہیے ۔
بحوالہ: ہفت روزہ اھلحدیث
مضمون نگار :: جناب حکیم محمد یحیٰی عزیز ( ڈاھروی )
ابن عمر آف لائن ہے   یہ اقتباس دیں
ان 6 ارکان نے اس مفید پوسٹ کے لیے ابن عمر کا شکریہ ادا کیا ہے
پرانا 25-08-10, 06:00 PM   #2
ام نور العين
-: ركن مجلس علماء :-
روحی فداک یا رسول اللہ ﷺ
 
ام نور العين کی نمائندہ تصویر
 
تاریخ شمولیت: 2009-03-30
قیام: پاک سرزمین
جنس: female
پوسٹس: 18,121
پوائنٹس: 17248
ام نور العين ام نور العين ام نور العين ام نور العين ام نور العين ام نور العين ام نور العين ام نور العين ام نور العين ام نور العين ام نور العين
جزاکم اللہ خیرا وبارک فیکم

اقتباس:
فضائل علم و علماء : حافظ ابن قیم رحمہ اللہ کی کتاب ” مفتاح دارلسعادہ “ کا اردو ترجمہ کیا ۔ ( مطبوعہ )
کیا مولانا عبد الحلیم رحمہ اللہ کی یہ کتاب نیٹ پر دستیاب ہے؟
ام نور العين آف لائن ہے   یہ اقتباس دیں
پرانا 31-08-10, 06:39 PM   #3
dani
-: ممتاز :-
Love Islam , Love Pakistan

 
dani کی نمائندہ تصویر
 
تاریخ شمولیت: 2009-10-16
قیام: پاکستان
جنس: male
پوسٹس: 3,534
پوائنٹس: 991
dani dani dani dani dani dani dani dani dani dani dani
جزاک اللہ خیرا
dani آف لائن ہے   یہ اقتباس دیں
پرانا 15-09-10, 10:18 PM   #4
ام نور العين
-: ركن مجلس علماء :-
روحی فداک یا رسول اللہ ﷺ
 
ام نور العين کی نمائندہ تصویر
 
تاریخ شمولیت: 2009-03-30
قیام: پاک سرزمین
جنس: female
پوسٹس: 18,121
پوائنٹس: 17248
ام نور العين ام نور العين ام نور العين ام نور العين ام نور العين ام نور العين ام نور العين ام نور العين ام نور العين ام نور العين ام نور العين
اقتباس:
ام نور العين نے لکھا ہے ۔۔ پیغام کا مشاھدہ کریں
جزاکم اللہ خیرا وبارک فیکم
کیا مولانا عبد الحلیم رحمہ اللہ کی یہ کتاب نیٹ پر دستیاب ہے؟
؟؟؟
ام نور العين آف لائن ہے   یہ اقتباس دیں
جواب پوسٹ کریں

Bookmarks

ٹیگز
شیخ, استاذ, الحدیث, العلماء, رحمہ اللہ, عبدالحلیم, مولانا, یاد

موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز

پوسٹ کرنے کے قوانین
You may not post new threads
You may not post replies
You may not post attachments
You may not edit your posts

سمائلز آن ہے
[IMG] کوڈ آن ہے
HTML کوڈ آف ہے

قوانین
فورم منتخب کریں

مشابہ موضوعات
موضوع مصنف فورم جوابات آخری پیغام
علم اختلاف کے سات مسائل رفیق طاھر اسلامی متفرقات 1 05-06-12 08:51 PM
اسلامی قیادتیں۔۔۔اب یا کبھی نہیں حنیف المسلم اسلامی متفرقات 12 07-07-10 02:34 PM
ڈارون کا نظریہٴ ارتقاء ایک دھوکہ ایک فریب طارق اقبال اسلام اور سائنس 4 05-07-10 10:44 AM
توضیح الکلام فی وجوب القراۃ خلف الامام مسلم اسلامی کتب 2 28-03-10 02:23 PM
حضرت شاہ ولی اللہ (رح) اور شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری القلم متفرقات 0 09-03-09 12:46 PM


فورم کے تمام اوقات GMT +3 کے مطابق . وقت ہے ابھی 11:20 AM


Powered by vBulletin Version 3.8.7
® Copyright ©2000 - 2014, Jelsoft Enterprises Ltd. Urdu Translation by A.REHMAN
User Alert System provided by Advanced User Tagging (Lite) - vBulletin Mods & Addons Copyright © 2014 DragonByte Technologies Ltd.
Contact admin : admin@urduvb.com