>URDU MAJLIS FORUM
 

واپسی   URDU MAJLIS FORUM > ::: مجلسِ مذہب اور نظریات ::: > سیرتِ اسلامی > سیرتُ النبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم


سیرتُ النبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم :: ضررتِ مطالعہء سیرت، سیرتِ مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے اہم گوشے، اِطاعت و اِتباعِ نبوی ::

جواب پوسٹ کریں
 
موضوع کے اختیارات ظاہری انداز
پرانا 30-10-10, 01:56 AM   #1
شفیق
-: رکن مکتبہ اسلامیہ :-
در جوانی توبہ کردن شیوہ پیغمبری وقت پیری گرگ ظالم تائب
 
شفیق کی نمائندہ تصویر
 
تاریخ شمولیت: 2010-01-24
قیام: مكة المكرمة
جنس: male
پوسٹس: 116
پوائنٹس: 35
شفیق شفیق شفیق شفیق شفیق شفیق شفیق شفیق شفیق شفیق شفیق
شفیق کی طرف بذریعہ yahoo پیغام ارسال کریں شفیق کی طرف بذریعہ Skype  پیغام ارسال کریں
رحمت النبی اور حقوق النبی

نبی ٔ رحمت V

رحمت عالم a کی آمد سے قبل ہی رب عالم نے آپa کے رحمت ہونے کی بشارتیں دنیا کو دے دی تھیں، اسی وجہ سے پورا عالم آپ aکی آمد کا منتظر تھا۔ آپa سے قبل مبعوث ہونے والے نبی اپنی اپنی امتوں کو اس رحمة للعالمین اور عالمگیر نبوت والے پیغمبر پر ایمان لانے کی وصیت کر گئے تھے۔ جیسا کہ بائبل کے سفر استثناء باب:٣٣ کے پہلے اور دو سرے فقرہ میں دی گئی بشارت ہے ؛ جس میں حضرت موسیٰg فرماگئے ہیں :
'' خداوند سیناء سے آیا، اور شعیر سے ان پر طلوع ہوا۔ فاران ہی کے پہاڑ سے وہ جلوہ گر ہوا۔ دس ہزار قدسیوں کے ساتھ آیا، اور اس کے دائیں ہاتھ میں ایک'' آتشی شریعت'' ان کے لیے تھی ۔''1
! رحمة للعالمین حاشیہ ١ ١١٦۔
واقعی آتشی ور امن و امان؛ حلم و تحمل، صبر و برداشت ہی آپ a کی شریعت کے اخلاقی امتیازات میں سے ہے۔ جیسا کہ حضرت زید بن سعنہ bکے واقعہ سے ظاہر ہے۔
یہ ایک بڑے مشہور یہودی عالم تھے۔انہوں نے تورات میںرسول اللہ a کی صفات پڑھ رکھی تھیں۔ آپ a کے صدقِ نبوت کی باقی تمام نشانیاں وہ دیکھ چکے؛ مگر ابھی تک دو نشانیاں پوری ہونی باقی تھیں۔ ایک یہ کہ :'' يَسْبِقُ حِلْمُہ جَہْلَہ۔'' ''آپaکا تحمل آپ a کے غصہ پر غالب ہوگا ۔''دوسری صفت یہ کہ: '' لایزیدہ شدة الجہل علیہ لا حلماً۔''
''ان سے شدت جہالت کے سلوک کے باوجود ان کے حلم میں اضافہ ہی ہوتا چلا جائے گا۔''1
! تفصیل کے لیے دیکھو: سنن الکبری للبہیقی ح ١١٠٦٦؛البدایہ والنہایہ ٣١٠٢.
آپ aکے اخلاق کی مثال:
حضرت عائشہ c فرماتی ہیں:
'' جب کبھی بھی رسول اللہ a کو دو کاموں میں سے ایک کا اختیار دیا گیا، توآپa ان میں سے آسان کو اختیار فرماتے جب تک کہ وہ گناہ نہ ہوتا۔اگر اس میں گناہ ہوتا تو لوگوں میں سب سے زیادہ اس کام سے بچنے والے ہوتے۔ اور رسول اللہaنے کبھی بھی اپنی ذات کے لیے انتقام نہیں لیا، مگر یہ کہ اللہ گ کی حدود کو پامال کیا جارہا ہو، پھر آپa اس کی وجہ سے انتقام نہیں لیتے۔'' 1
! بخاری (٣٣٨٨)کتاب المناقب ؛ باب : صفة النبی V ؛ مسلم (١٣٩٦) کتاب الفضائل باب : مباعدتہ V من الآثام و اختیارہ من المباح ۔
انس b فرماتے ہیں:'' میں نے سفر اور حضر میں رسول اللہ a کی خدمت کی۔ کبھی بھی کسی کام کے کرنے پر یہ نہیں کہا : تم نے یہ کیوں کیا۔ اور نہ ہی نہ کرنے پر یہ کہا : تم نے یہ کام ایسے کیوں نہیں کیا۔''1
! مسلم (٤٣٦٩)کتاب الفضائل ؛ باب رسول اللہ V أحسن الناس خلقاً۔
آپ a بچوں سے کھیل وپیار بھی کرتے تھے۔ انس b فرماتے ہیں :'' رسول اللہ a لوگوں میں سب سے اعلی اخلاق والے تھے۔میرا ایک بھائی تھا، اس کو ابو عمیر کے نام سے پکارا جاتا تھا۔ وہ دودھ چھٹا ہوا تھا۔ کہتے ہیں : جب وہ رسول اللہ a کے پاس آتا، تو آپ a فرماتے:
(( یا أبا عمیر ! ما فعل النغیر.))
اے ابو عمیر! تیری بلبل نے تیرے ساتھ کیا کیا۔''
وہ اس بلبل کے ساتھ کھیلا کرتے تھے۔'' 1
!بخاری (٥٧٨٣) کتاب الدب ؛ باب : النبساط لی الناس ''۔
آپ aکبھی بھی اپنی ذات کے لیے غصہ نہ ہوتے، اور نہ ہی ذاتی انتقام لیتے۔ آپ کو غصہ اس وقت آتا تھا جب اللہ تعالی کے محرمات کو پامال کیا جاتا ہو، اور اس کے لیے بدلہ لیتے۔ آپ a اتنے سخت با حیاء تھے کہ کنواری لڑکی سے زیادہ۔ اپنے صحابہ کے متعلق آپ aکا سینہ بڑا ہی صاف اور کھلا ہواتھا۔کسی ایک کے ساتھ برا سلوک نہ کرتے۔ اور اگر کسی بات پر تنگ ہوتے تو از راہِ تلطف فرماتے: ((تربت یداک))…''تیرے ہاتھ خاک آلود ہوں۔''
آپ aکو امانت اور سچائی بہت ہی محبوب تھے۔ اسی وجہ سے آپa کو دشمن بھی صادق اور امین کہتے تھے۔ اور جھوٹ سے بڑھ کر کوئی چیز آپ کو ناپسندیدہ نہ تھی۔ آپa اپنی زبان کو فالتو باتوں سے روک کررکھتے تھے۔ جب آپaکسی چیز پر خوش ہوتے تو اپنی نگاہوں کو جھکالیتے۔ اور اکثر طور پر آپ کا ہنسنا تبسم کی صورت میں ہوتا تھا۔
آپaکا اپنے صحابہ کرام کے متعلق پوچھا کرتے، اور ان کی ملاقات کو جاتے، اور ان کے احوال دریافت کرتے رہتے۔ اور مشکل اوقات میں ان کی مدد کرتے۔ اور آپ ان کو آپس میں اکھٹا کرتے، اور ان میں تفریق نہیں ڈالتے تھے۔
آپa اچھائی کی تعریف واصلاح کرتے،برائی کو قبیح جانتے، اور اس سے منع کرتے۔
ہمارے رسولa جن کو اللہ تعالیٰ نے تمام جہانوں کے لیے رحمت اور لوگوں کی ہدایت کے لیے انتہائی حریص بناکر بھیجا تھا، اور مومنین پر یہ اللہ کا ایک بہت بڑا احسان تھا کہ ان کا نبی تند خو یا سخت طبیعت نہیں تھا، بلکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کا ذکر ان الفاظ میں کیا ہے :
(لَقَدْ جَآئَ کُمْ رَسُوْل مِّنْ أَنْفُسِکُمْ عَزِیْز عَلَیْْہِ مَا عَنِتُّمْ حَرِیْص عَلَیْْکُم بِالْمُؤْمِنِیْنَ رَؤُوْف رَّحِیْم) (التوبہ:١٢٨)
'' (لوگو!) تمہارے پاس تم ہی میں سے ایک پیغمبر آئے ہیں! تمہاری تکلیف اُن کو گراں معلوم ہوتی ہے اور تمہاری بھلائی کے بہت خواہشمند ہیں اور مؤمنوں پر نہایت شفقت کرنے والے (اور) مہربان ہیں ۔''
آپ aکی نرم دلی اور شفقت و رحمت کو اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف سے خصوصی اکرام وانعام اور رحمت قراردیا ہے، ارشاد فرمایا ہے :
(فَبِمَا رَحْمَةٍ مِّنَ اللّٰہِ لِنْتَ لَہُمْ وَلَوْ کُنْتَ فَظّاً غَلِیْظَ الْقَلْبِ لَانْفَضُّوْا مِنْ حَوْلِکَ فَاعْفُ عَنْہُمْ وَاسْتَغْفِرْ لَہُمْ وَشَاوِرْہُمْ فِیْ الْأَمْرِ فَِذَا عَزَمْتَ فَتَوَکَّلْ عَلَٰی اللّٰہِ ِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الْمُتَوَکِّلِیْنَ)
(آل عمران: ١٥٩)
'' (اے میرے نبی!) اللہ کی مہربانی سے آپ کی اُ فتاد مزاج ان لوگوں کے لیے نرم واقع ہوئی ہے اور اگر آپ بدخو اور سخت دل ہوتے تو یہ آپ کے پاس سے بھاگ کھڑے ہوتے، تو اُن کو معاف کر دیں اور اُن کے لیے (اللہ سے) مغفرت مانگیں اور اپنے کاموں میں اُن سے مشورہ لیا کریں اور جب (کسی کام کا) عزمِ مصمم کر لیں تو اللہ پر بھروسا رکھیں، بیشک اللہ تعالیٰ بھروسا رکھنے والوں کو دوست رکھتا ہے ۔''
ہمارے نبی کریم a جامع الصفات والکمالات، ایک ہمہ گیر شخصیت اور منتظم اور قائد تھے۔ ایسی صفات کا حامل نہ ہی کوئی آیا ہے نہ ہی کوئی آئے گا۔
آپa اعتدال پسند تھے۔اختلاف نہ کرتے۔ حق میں کمی نہ کرتے، اور نہ ہی اس سے تجاوز کرتے۔ اور جب بھی آپa بیٹھتے یا اٹھتے تو اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتے۔
آپa اپنے نفس کو اپنے صحابہ سے کسی چیز میں امتیازی حیثیت نہ دیتے۔ آپa وہیں بیٹھ جاتے جہاں مجلس ختم ہوتی ہو، اور ہر اہل مجلس کو اس کا حق دیتے تھے، یہاں تک کہ کسی کو یہ گمان نہ ہوتا کہ اس سے بڑھ کرکوئی اور رسول اللہ aکے ہاں زیادہ مکرم ہے۔
کبھی بھی آپa کسی سائل کو خالی ہاتھ نہ لوٹاتے۔ اگر آپa کے پاس کچھ نہ ہوتا، تو اس سے نرمی سے بات کرتے۔ آپa کا اخلاق اور عنایت ہر ایک کو شامل تھے۔گویا کہ آپa کو لوگوں کے والد کا مقام حاصل تھا۔ اور سب لوگ آپ aسے قربت حاصل کرنے کی کوشش کرتے، اور تقوی سے ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش کرتے۔
آپ a کی مجلس علم، حیائ، صبر، امانت، اور بردباری کی مجلس ہوتی۔اس میں کوئی شور وشرابہ نہ ہوتا، اس میں نظر، بول اور دیگر ہر طرح کے خطرات سے امن حاصل رہتا۔
آپ aکی مجلس میں ہمیشہ قوم کے بزرگ لوگ اکٹھے رہتے۔وہ آپس میں تقوی کی بنیاد پر نرم برتاؤ کرتے۔ بڑوں کی عزت کرتے، چھوٹوں پر شفقت کرتے۔حاجت مند کی ضرورت پوری کرتے، اجنبی کے ساتھ دوستانہ برتاؤ کر تے۔
قرآن کریم میں نبی ٔاکرم a کے اوصاف مبارکہ اور فضائل حمیدہ جابجا وارد ہوئے ہیں لیکن ان سب کا احاطہ اور تفصیل یہاں مقصود نہیں ہے۔ نبی a کی زندگی اور سیرت پر طنز کرنے والوں کو چاہیے کہ وہ درست دلائل اور تاریخی حقائق کی روشنی میں آپa کی سیرت کا مطالعہ کریں نہ کہ تعصب کے مارے مغربی مستشرقین کی بنائی ہوئی باتوں سے نتائج اخذ کریں۔ نبی ٔ اسلام aکو تو خود خالقِ کائنات نے ''رحمة للعالمین ''کا خطاب عطافرمایا ہے۔ ارشادِ الٰہی ہے :
(وَمَا أَرْسَلْنٰاکَ ِلَّا رَحْمَةً لِّلْعَالَمِیْنَ ) (الانبیاء : ١٠٧)
'' اور ہم نے آپ کو تمام جہانوں کے لیے رحمت (بنا کر) بھیجا ہے ۔''
رسول اللہ a نے اللہ تعالیٰ کی مخلوق پر، خواہ وہ چھوٹے ہوں یا بڑے،مرد ہو ں یا خواتین،کافر ہوں یا مومن، حتی کہ حیوانات اور جمادات سب کے ساتھ شفقت کا برتاؤ کرنے کی ترغیب دی ہے۔ حضرت جریر بن عبد اللہ b کہتے ہیں رسول اللہ aنے فرمایا :
(( لا یرحمہ اللہ ؛ من لا یرحم الناس ))1
! صحیح البخاری(٦٩٦٣) کتاب التوحید ؛ باب قولہ تبارک و تعالی:(قل دعوا اللہ أو ادعوا الرحمن …)۔ ومسلم (٤٣٨٤) کتاب الفضائل ؛باب: رحمتہ V الصبیان و العیال وتواضعہ و فضل ذلک۔
''جو لوگوں پر رحم نہیں کرتا، اللہ تعالیٰ اس پر رحم نہیں کرتے۔''
حضرت ابو موسی اشعری bسے روایت ہے کہ نبی کریم aنے ارشاد فرمایا :
(( لا تدخلوا الجنة حتی تراحموا.))
'' تم اس وقت تک جنت میں داخل نہیں ہوسکتے جب تک باہم ایک دوسرے پر رحم نہ کرنے لگ جاؤ۔'' صحابہ کرامeنے عرض کیا : یا رسول اللہa: ''ہم میں سے ہر ایک رحیم ہے۔'' آپ aنے فرمایا :
((نہ لیس برحمة أحدکم صاحبہ،ولکنھا رحمة العامة)) 1
!مستدرک الحاکم کتاب البر و الصلة حدیث (٧٣٧٩)؛صحیح۔ السنن الکبری (٥٧٨٤ )؛ کتاب القضاة ، باب حکم الحاکم ف دارہ۔ المطالب العالےة کتاب الادب ،باب سعة رحمہ اللہ ؛(١٨٧١)۔ مجمع الزوائد ٨/١١٥ ح ١٣٦٧١ ۔ صحیح۔''صحیح الترغیب والترہیب لللبانی برقم ٢٢٥٣۔
'' اس سے مقصود تم میں سے کسی ایک کی اپنے ساتھی کے ساتھ شفقت نہیں ہے، بلکہ اس سے مراد عام رحمت ہے (جو ہر ایک کو شامل ہو)۔''
اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ رحمت اور شفقت کا دائرہ کار وسیع ہونا چاہیے، تاکہ ہرانسان بلکہ دنیا کی ہر چیز کو شامل ہو، خواہ آپ اس کے حقائق واسرار کو جانتے ہوں یا نہ جانتے ہوں۔ حضرت عبد اللہ بن عمرو بن عاص d سے روایت ہے رسول اللہa نے فرمایا :
(( الراحمون یرحمھم الرحمن،ارحموا من فی الأرض یرحمکم من فی السمآئ.)) 1
! الترمذ (١٨٩٦) کتاب الذبائح، أبواب البر و الصلة باب :ما جاء ف رحمة للمسلمین ؛ حسن صحیح۔ابو داؤد(٤٣١١) کتاب الدب ، باب الرحمة۔
'' رحم کرنے والوں پر اللہ تعالیٰ رحم کرتے ہیں، تم اہل زمین پر رحم کرو، آسمان والا تم پر رحم کرے گا۔''

اگر اس بات پر غور کیا جائے کہ حدیث نبوی ((رحموأ من فی الرض.)) … ''یعنی اہل زمین پر رحم کرو، اس سے کیا مراد ہے ؟ تو اس سے دین کی عظمت اور لوگوں کے لیے رحمت کا عام پیغام واضح ہوجائے گا۔ کیوں کہ جو بھی اس روئے زمین پر بسنے والے ہیں سب کو یہ رحمت شامل ہے۔ اگرچہ وہ کافر ہی کیوں نہ ہوں؛ حیوانات اور جمادات ہی کیوں نہ ہوں۔ کسی بھی ذہن میں یہ سوال ابھر سکتا ہے کہ اگر کافروں کے لیے بھی یہ دین رحمت ہے تو جہاد کیوں کر مشروع کیا گیا ہے ؟
اس کا جواب یہ ہے کہ جہاد مشروع کرنے کی وجہ ان لوگوں کو ختم کرنا ہے جو لوگوں کے اور اللہ تعالی کی رحمت کے درمیان حائل ہوتے ہوں۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں :
(کُنْتُمْ خَیْْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ) (آل عمران:١١٠)
''تم بہترین امت ہو، تمہیں لوگوں کے لیے نکالا گیا ہے۔''
اسلام بغض، حسد،سخت دلی، کینہ پروری اور ان عناصر سے بالکل بری ہے، جن کی وجہ سے انسانیت ہلاکت کے دروازے پر کھڑی ہے۔بے شک وہ پتھر دل، جو رحمت اور شفقت سے نابلد ہیں وہ دل سچے مومن نہیں ہوسکتے۔رسول اللہa فرماتے ہیں:
(( لا تنزع الرحمة لا من شقی.)) 1
! أبو داؤد ، کتاب الدب؛ باب ف الرحمة (٤٣١٢)۔ وصحیح ابن حبان: کتاب البر و الحسان، باب الرحمة (٤٦٧٠)۔الترمذی : باب ما جاء ف رحمة للمسلمین (١٨٩٥)؛ حدیث صحیح ۔
'' بدبخت کے علاوہ کسی کے دل سے رحمت کو ختم نہیں کیا جاتا۔''
آمدہ سطور میں مذکورہ بالا آیت کی روشنی میں آپ a کی حیات و کرداراور سیرت طیبہ کے چند پہلؤوں کو ملاحظہ کیجیے۔شیخ عبد الرحمن السعدی kفرماتے ہیں :
''جس چیز پر یہ دین قائم ہے،وہ شفقت و احسان، رحمت، حسن معاملہ،بھلائی کی دعوت،او رہر ایسی چیز جو اس کے خلاف ہواس سے ممانعت ہے، یہی وہ چیز ہے جس نے اسلام کو بد معاملگی اور بغاوت کے اندھیروں میں ایک چمکتا ہوا نور بنا دیا ہے۔ اور اس کی حرمت کا پاس کرناہی وہ چیز ہے جس نے اسلام کے سب سے گہرے اور قدیم دشمنوں کو اس کاہم نوا بنادیا، یہاں تک کہ وہ اسلام کے سائے میں جگہ پانے لگے۔ یہی وہ مذہب ہے جس نے اپنے ماننے والو ں پر عاطفت اور نرمی کی وہ اعلیٰ مثالیں قائم کیں یہاں تک عفو و احسان ان لوگوں کے دلوں سے ان کے اقوال اور اعمال کے ذریعے چھلکنے لگا۔ انہوں نے اپنے دشمنوں سے بھی ایسا سلوک کیا کہ انہیںاسلام اور مسلمانوں کے سب سے بڑے دوست اور حامی بنادیا۔ اور ان میں سے بعض نے اپنی بصیرت و علم اور قوت ارادی کی بنا پر اسلام قبول کرلیا،اور ان میں سے بعض نے اسلامی احکام کے سامنے اپنے گھٹنے ٹیک دیے،اور اسلامی احکام کو اس عدل و انصاف اور رحمت کی وجہ سے اپنے سابقہ دین کے احکام پر ترجیح دی۔''
١۔ عورتوں پر رحمت اور شفقت :
عورتوں پر شفقت اور رحمت کا معاملہ ایسا معاملہ ہے جس پر مسلمان بجا طور پرہر زمانے میں فخر کرسکتے ہیں۔ ان مثالو ں میں سے ایک یہ ہے کہ:'' کسی جنگ میں آپ a نے ایک عورت کو مقتول پایا، آپa نے اس چیز کو بہت برا جانا کہ عورت کو قتل کیا جائے۔ اور عورتوں، اور بچوں کو قتل کرنے سے منع کیا۔ ''1
! بخاری کتاب الجہاد والسیر ؛ باب قتل الصبیان ف الحرب؛ ح(٢٨٧٢)۔ مسلم کتاب الجہاد والسیر ؛ باب تحریم قتل النساء ": ح (٣٣٦٦)۔ ابن ماجہ کتاب الجہاد باب الغارة (٢٨٣٨)۔
ایک روایت میں ہے :
'' یہ عورت تو اس لائق نہ تھی کہ اس سے قتال کیا جائے ۔'' اور پھر اپنے صحابہ کرام eکی طرف دیکھا، اور ان میں سے ایک کو مخاطب کرکے فرمایا :''جاؤ اور خالد بن ولیدbسے جاکر ملو(انہیں اس وقت رسول اللہa نے ایک غزوہ پر بھیجا ہوا تھا )۔اور ان سے کہو کہ کسی عورت، مزدور اور بچے کو قتل نہ کرنا ۔''1
! ابن حبان : کتاب السیر ، باب تقلید الجرس للدواب ح(٤٨٦٢)؛ حاکم ،کتاب الجہاد ، من حدیث عبد اللہ بن یزید النصاری :ح (٢٤٩٩)۔ المطالب العالےة لابن حجر ، کتاب الجہاد ، باب النہی عن قتل النساء و الولدان و الشیوخ…ح(٢٠٧٧)۔
اور فرمایا:
''میں دو کمزورطبقہ کے لوگوں کا حق مارنے میں حرج سمجھتا ہوں۔ یتیم اور عورت ۔''1
! صحیح ابن حبان: کتاب الحظر و الاباحة؛ باب الزجر عند أکل مال الیتیم ح(٥٦٤٢)؛ حاکم کتاب الایمان ؛ ح(١٩٥٤)۔ ابن ماجة ،کتاب الأدب باب حق الیتیم ح ٢١٧٥)۔
عورت کو کمزور تعبیر کرنے سے مراد اس پر شفقت ہے، اور اس کے ساتھ اچھا سلوک کرنے، بھلائی کرنے اورایذا رسانی سے پرہیز کرنے کی تعلیم ہے ۔'' کہاں ہیں وہ لوگ جو دین اسلام کو سختی اور سنگ دلی کا طعنہ دیتے ہیں؛ ان واقعات کو پڑھ کر ان کی آنکھیں کیوں نہیں کھلتیں ؟
٢۔ بچوں پررحمت :
اسلام میں شفقت اور رحمت کی بے شمار صورتوں میں سے ایک مثال چھوٹے بچوں پر شفقت،ان کے ساتھ عاطفت،ان کے ساتھ محبت،او ران کو ایذا رسانی کی ممانعت کی ہے۔حضرت ابو ہریرہ bفرماتے ہیں :
''نبی کریمa نے حضرت حسن بن علی d کو بوسہ دیا،ان کے قریب ہی حضرت اقرع بن حابس bکھڑے تھے۔کہنے لگے :''میرے دس بیٹے ہیں میں نے کبھی ان میں سے کسی ایک کو بھی بوسہ نہیں دیا۔'' رسول اللہ aنے ان کی طرف دیکھا، اور فرمایا :''جو رحم نہیں کرتا، اس پر رحم نہیں کیا جاتا۔ '' 1
&البخاری ، کتاب الدب ، باب رحمة الولد و تقبیلہ و معانقتہ ح(٥٦٥٧)۔ مسلم کتاب الفضائل، باب رحمتہ V الصبیان والعیال و تواضعہ و فضل ذلک؛ ح (٤٣٨٣)۔
حضرت عائشہ c فرماتی ہیں :
'' کچھ دیہاتی رسول اللہ a کے پاس حاضر ہوئے، اور رسول اللہa سے پوچھا : کیا آپ اپنے بچوں کو چومتے ہیں؟
آپ a نے فرمایا : ''ہاں!
وہ دیہاتی کہنے لگے:''مگر ہم تو اللہ کی قسم ہے اپنے بچوں کو نہیں چومتے۔''
آپa نے ارشادفرمایا: ''کیا اگراللہ تعالیٰ تمہارے دلوں سے رحم کو نکال دے، تو میں کسی چیز کا مالک ہوں۔'' 1
! بخاری کتاب الدب ، باب : رحمة الولد و تقبیلہ و معانقتہ ح(٥٦٥٨)۔ مسند عائشة لابن ابی داؤد ح (٥١)۔شعب الیمان للبیہقح(١٠٥٣٦)۔ الدب المفرد ،باب قتل الصبیان:ح (٩٠)۔
یہ وہ حضرت محمدa ہیں، اور یہ ہے وہ دین اسلام، جس کی یہ تعلیمات ہیں۔ اور حضرت محمد a نہ صرف اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ تعلیمات لوگوں تک پہنچاتے ہیں، بلکہ ان پر عمل کرکے ان کا عملی نمونہ بھی پیش کرتے ہیں۔ یہی وہ ہستی ہیں جن پر یہ بہتان لگایا جاتا ہے کہ : وہ تو ایک دیہاتی اور لڑاکا آدمی تھے، اور خون بہانا ان کا شیوہ اور عادت تھی۔ رحمت اور شفقت کے نام سے بھی ناواقف تھے۔ رسول اللہaپر ایسا الزام لگانے اور بہتان تراشی کرنے والے انتہائی سخت گھاٹے میں ہیں انہیںجان لینا چاہیے کہ اس سفید جھوٹ کی وجہ سے ان کی دنیا اور آخرت خراب ہو سکتی ہے۔
حضرت ابو مسعود بدری b کہتے ہیں :''میں اپنے ایک غلام کو کوڑے سے مار رہا تھا، میں نے پیٹھ کے پیچھے سے ایک آواز سنی،وہ کہہ رہے تھے :''اے ابو مسعو د جان لے۔'' میں غصہ کی وجہ سے اس آواز کو سمجھ نہ سکا،پس جب وہ آدمی میرے قریب ہوگیا،تومیں نے دیکھا کہ وہ رسول اللہa تھے۔ اور فرما رہے تھے :اے ابو مسعود !جان لے کہ اللہ تعالیٰ تجھ پر اس غلام پر تیری قدرت سے بڑھ کر قدرت رکھتے ہیں ۔''میں نے کہا : آج کے بعد میں اپنے غلام کو کبھی بھی سزا نہ دونگا ۔'' مسلم میں ہے :''اگر تم ایسا نہ کرتے(یعنی آئندہ کے لیے نہ مارنے کا عہد نہ کرتے) تو تمہیں آگ چھولیتی۔'' 1
!مسلم ،کتاب الیمان ،باب محبة الممالیک ح(٣٢٢٠)۔ أبوداؤد کتاب الدب ،باب: ما جاء ف حق المملوک ح(٤٥١٣)۔سنن الترمذ ، باب :النہی عن ضرب الخدم و شتمہم ح (١٩٢)۔
ذرا اپنے اللہ کو گواہ بناکر او رعقل و انصاف سے یہ بات بتائیں کہ بچوں کو ایذا رسانی سے بچانے کے لیے جو تنظیمیں بنائی گئی ہیں یہ کب معرض وجود میں آئی ہیں ؟ اور ان سے صدیوں قبل حقوق کے محافظ رحمت عالم a نے کس طرح روحانی اور عملی طور پر اس مشکل کا حل تلاش کیا، اور کس طرح آپ a نے حقوق بھی متعین کیے اور پھر ان کی حفاظت بھی کروائی او رخود بھی کی۔ کیا اگرانصاف کیا جائے تو آپ a اس بات کے سب سے بڑھ کر حق دار نہیں ہیں کہ آپ a کی فضیلت و برتری کے لیے آپ a کی ان مساعی ٔ جمیلہ کا اعتراف کیاجائے جو آپ aنے بچوں کے حقوق کی حفاظت اور ان کو ایذا رسانی سے ممانعت کے لیے کی ہیں ؟ نہ صرف بچوں کے حقوق بلکہ ہر چھوٹے بڑے، جاندار اور بے جان کے حقوق کا تعین آپa کی زبانِمبارک سے ہوا ہے۔ اور اگر اس بات پر غور کیاجائے کہ بچوں کی تربیت کے مرا حل، پرورش کے مراحل، ان کی نگرانی اور دیگر تمام امور میں جس طرح حقوق کا تعین اس وحی والی رسالت ماب زبان نے صدیوں قبل کیا ہے، اس طرح ان حقوق کا تعین نہ کوئی کرسکا ہے، اور نہ ہی قیامت تک کوئی کرسکے گا۔ لہٰذا ہر اس شخص کو جو کسی بھی طرح کے حقوق کی جدوجہد کرنا چاہتا ہو، اسے چاہیے کہ وہ ان حقوق او رآداب کو بابِ نبوت سے لے؛ اوراس کی روشنی میں تمام جدوجہد کرے، اگر وہ اس سے ہٹ کر کوئی کوشش کرے گا تو وہ گمراہ ہوجائے گا؛اور وہ کبھی بھی پائیدار کامیابی حاصل نہیں کرسکے گا۔
بچوں کے ساتھ رسول اللہ a کی شفقت اور رحمت کا عالم یہ تھا کہ اگر کوئی بچہ مر جاتا تواس پر آپ a کی آنکھیں ا شکبار ہوجاتیں۔ حضرت اسامہ بن زیدd سے روایت ہے:
'' آپ aکے پاس آپa کا نواسہ لایا گیا، اور وہ موت کے قریب تھا۔ آپ a کی آنکھیں بہہ پڑیں، اور جناب حضرت سعد b نے(جب یہ حالت دیکھی کہ رسول اللہ aتو نوحہ کرنے سے منع سے کرتے ہیں، اور خود رو رہے ہیں) آپa سے مخاطب ہو کرعرض کیا : یارسول اللہa ! یہ کیا معاملہ ہے ؟ آپ aنے فرمایا: یہ وہ رحمت ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے دلوں میںڈال دی ہے ٫ اور بے شک اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے رحم کرنے والوں پر رحم کرتے ہیں۔'' 1
! البخاری کتاب الجنائز ، باب قول النبV یعذب المیت…ح( ١٢٣٧)۔ مسلم کتاب الجنائز باب البکاء علی المیت ؛ح (١٥٨٢)۔
ایسے ہی نبی ٔکریم a اپنے بیٹے ابراہیم b پر داخل ہوئے،ان کی سانسیں اکھڑ چکی تھیں۔ رسول اللہ a کی آنکھیں اشکبار ہوگئیں۔ یہ دیکھ حضرت عبد الرحمن بن عوفb نے عرض کیا :یا رسول اللہ a! کیا آپ a بھی( ایسے موقع پر) روتے ہیں؟ آپa نے فرمایا : ''اے عبد الرحمن !بے شک یہ رحمت ہے۔ پھر اس کے فوراً بعد فرمایا :'' بے شک آنکھیں بہہ رہی ہیں، اور دل غمگین ہے،اور صرف وہی کچھ کہہ سکتا ہوں جو ہمارے رب کو راضی کردے۔ اے ابراہیم ! ہم تیرے فراق پر غمگین ہیں۔ '' 1
! البخاری ، کتاب الجنائز ، باب قول النبV نا بک لمحزون… ح(١٢٥٤)۔ مسلم کتاب الفضائل باب رحمتہV الصبیان والعیال و تواضعہ و فضل ذلک؛ ح (٤٣٧٩)۔
٣۔ حیوانات کے لیے شفقت و رحمت :
آپ aنہ صرف انسانوں بلکہ جانوروں تک کے ساتھ بھی رحم وکرم فرماتے اورلطف ومحبت کا حکم فرمایاکرتے تھے۔ جس کی چند مثالیں درج ذیل ہیں :
١۔ نبیaکودیکھ کر ایک اونٹ بلبلایا اور اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ آپaنے شفقت کے ساتھ اس کی پیٹھ پر ہاتھ پھیرا تووہ پرسکون ہوگیا۔ پھرآپaنے اس کے مالک کاپتہ کرواکر اسے بلایا،اور فرمایا :
''کیا تم اس جانور سے بدسلوکی کرتے ہوئے اللہ سے نہیں ڈرتے ہو جس نے تمہیں اس کا مالک بنایا ہے ؟ اس نے میرے سامنے تمہاری شکایت کی ہے کہ تم اسے بھوکا رکھتے ہو اورکام زیادہ لیتے ہو۔ ''1
! ابن خزیمة ؛کتاب المناسک ؛ باب : الزجر عن اتخاذ الدواب کراس بوقفہا والمرء راکبہا غیر سائر (٢٣٦٨)۔ ابن حبان ، باب الزجر والباحة ؛ ذکر الزجر عن اتخاذ المرء الدواب کراس (٥٦٩٦)۔ حاکم ف المستدرک، کتاب المناسک (١٥٦٣)۔
٢۔ سواری والے جانوروں کے ساتھ حسن سلوک کاحکم دیتے ہوئے نبیaنے فرمایا :
''ان جانوروں پر صحیح سالم ہونے کی شکل میں سواری کرواورجب ضرورت نہ ہو تو انہیں صحیح وسالم ہی فارغ چھوڑدو۔ اورانہیں بلا ضرورت اپنے لیے کرسی نہ بنالو۔'' 1
مستخرج أب عوانةـمبتدأ کتاب الطہارة ؛بیان یثار التستر بالہدف للمتغوط ح(٣٧١)۔ سنن أب داؤد ـکتاب الجہاد ؛باب ما یؤمر بہ من القیام علی الدواب والبہائم (٢١٩٩)۔
٣۔ نبی aکاگزر ایک ایسے اونٹ کے پاس سے ہوا جس کی پشت اورپیٹ (کمزوری ومشقّت کی وجہ سے)باہم ملے ہوئے تھے۔ یہ دیکھ کر آپ aنے فرمایا :
''ان بے زبان جانوروں کے معاملہ میں اللہ سے ڈرتے رہاکرو۔'' 1
! سنن أب داؤد ،کتاب الجہاد ؛باب ما یؤمر بہ من القیام علی الدواب والبہائم (٢١٩٨)۔ابن خزیمة ،کتاب المناسک؛ باب استحباب الحسان لی الدواب المرکوبة ف العلف والسق (٢٣٦٩)۔
٤۔ نبیaایک صبح کسی کام سے نکلے تودیکھا کہ مسجد کے دروازے پرکسی نے اونٹ بٹھایا ہو ا ہے اورپھر اسی دن شام کو دیکھاکہ وہ اونٹ وہیں پر موجودہے توپوچھاکہ اس کا مالک کون ہے ؟مگر وہ نہ ملا ؛ تو بلاوجہ کسی جانور کوباندھ کربٹھارکھنے سے منع کرتے ہوئے فرمایا :
''ان جانوروں کے معاملہ میں خوفِ الہٰی سے کام لیاکرو۔'' 1
! مسند أحمد بن حنبل /مسند الشامیین من حدیث سہیل بن حنظلة ح(١٧٢٩١)۔ ابن حبان :کتاب البر و الحسان فصل من البر والحسان ح(٥٤٦)۔
٥۔ ایک مرتبہ کسی صحابی نے چڑیا کے گھونسلے سے اس کے دو بچے اٹھالیے،چڑیا نے سروں پر آکر پھڑپھڑانا شروع کردیا۔ نبی aکوجب واقعہ کی خبر ہوئی توآپ نے فرمایا :
''اس کے بچے اٹھاکر اسے کس نے تکلیف پہنچائی ہے۔ ا سکے بچے فوراًاسے واپس لوٹا دو۔'' 1
! سنن أب داؤد ـکتاب الجہاد ؛ ح (٢٣١٤)۔کتاب السیر لب اسحق الفراز ح(٤٠)۔
اورفرمایا:
'' کوئی انسان ایسا نہیں ہے جو کسی چڑیا، یا اس سے بڑھ کر کسی پرندے کو بغیر حق کے قتل کرتاہے، مگر اللہ تعالیٰ قیامت والے دن اس سے اس قتل کے متعلق ضرور سوال کریں گے ۔'' آپa سے پوچھا گیا : اے اللہ کے رسولa! ان کا حق کیا ہے ؟ آپ a نے فرمایا :''اس کا حق یہ ہے کہ اسے ذبح کرے، اور کھائے، صرف اس کا سر توڑ کر پھینک نہ دے۔'' 1
! حاکم کتاب الذبائح ؛ح (٧٦٤١)۔السنن الکبری للنسائ ،کتاب الضحایا : باب من قتل عصفوراً بغیر حقہا ح(٤٤٠٣)۔ معرفة السنن والآثار ،کتاب السیر؛ باب تحریم الاتلاف ما ظفر بہ المسلمون من ذوات الرواح وعقرہ (٥٦٢٨)۔ مسند الشافعی : کتاب قتال المشرکین ح (١٣٨٦)۔
یہ تو وعید اس آدمی کے متعلق ہے جو چڑیا کو ناحق قتل کردے۔اس انسان کے لیے وعید کا کیا حال ہو گا جو کسی انسان کو ناحق قتل کرتا ہے۔
٦۔ ایک بار نبی اکرم aنے چیونٹیوں کاایک گھروندا جلاہوا دیکھا تو ارشاد فرمایا :
''آگ کے خالق اللہ کے سواکسی کو لائق نہیںکہ کسی کوآگ سے عذاب دے۔ ''1
! الأدب المفرد (٣٨٤)ابودائود (٢٦٧٥)''الجہاد ''باب فی ''کراھیة حرق العدو بالنار ''وفی ''الأدب'' (٥٢٦٨)باب فی ''قتل الذر'' اور مستدرک (٢٣٩٤) ریاض الصالحین (١٦١٠)۔
٧۔ رحمت دوجہاںa نے حیوانات کے ساتھ بھلائی کرنے کا حکم دیا ہے، اور ان کو ذبح کرتے وقت تڑپانے سے منع کیا ہے۔ آپa نے فرمایا :
(( ان اللّٰہ کتب الاحسان علی کلّ شیئ، فاذا قتلتم فاحسنوا القتلة، واذا ذبحتم فاحسنوا الذبح، ولیحد أحدکم شفرتہ، ولیرح ذبیحتہ.)) 1
! مسلم کتاب الصید و الذبائح و ما یؤکل من الحیوان ،باب المر بحسان الذبح و القتل (٣٧٠٩)۔ مستخر اب عوانة مبتداء کتاب الجہاد ؛بیان صفة السنة ف الذبح ح(٦٢٣٠)۔صحیح ابن حبان :کتاب الحظر والباحة ـذکر المر بحد الشفار (ح ٥٩٦٧)۔
''اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کے ساتھ احسان کرنے کوفرض قراردیا ہے، لہٰذا اگر تم کسی کو(قصاص میں) قتل کروتواسے بھی اچھے طریقے سے قتل کرواورگر کسی جانور کوذبح کرنا ہو تواسے بھی اچھے طریقے سے ذبح کرو اورتمہیں چاہیے کہ اپنی چھری کوخوب تیز کرلو اورذبیحہ کو(جلد ذبح کرکے )آرام پہنچائو۔''
٨۔ نبی اکرم aکا گزر ایک ایسے شخص کے پاس سے ہوا جو بکری کو لٹاکر، اس کی گردن پر اپنا پائوں رکھے، چھری تیز کررہا تھا ا وربکری یہ سب دیکھ رہی تھی۔ اس پر نبی اکرم aنے فرمایا : ''کیا یہ کام اس سے پہلے نہیں ہوسکتاتھا ؟کیا تو اس بیچاری کی دومرتبہ جان لینا چاہتاہے ؟'' 1
! المعجم الکبیر (ح ١١٧٠١)۔السنن الکبری للبیہق ،کتاب الضحایا؛ باب الذکاة من الحدید وما یکون أخف علی المذکی، و ما یستحب (ح ١٧٧٩٩)۔مصنف عبد الرزاق کتاب المناسک ،سنة الذبح (ح ٨٣٣٩)۔ حاکم ،کتاب الذبائح (ح ٧٦٢٧)۔
٩۔ ایک آدمی نے نبی اکرمaکی خدمت میں عرض کیا:'' اے اللہ کے رسولa ! میں بکری کو ذبح کرتا ہوں تو اس پر بھی رحم کروں؟ ۔'' اس پر نبی اکرم aنے ارشاد فرمایا: '' اگر تم ذبح کی جانے والی بکری پر بھی رحم کروگے تو اللہ تم پر رحم کرے گا۔'' 1
! مصنف ابن أب شیبة کتاب الدب، باب ماذکر ف الرحمة من الثواب (٢٤٨٣٩)۔ مسند أحمد بن حنبل /مسند مکیین حدیث معاوےة بن قرة ح(١٥٢٩١)۔ المعجم الوسط للطبران؛باب اسمہ بشر: ح (٣١٣٧)۔ الأدب المفرد ،باب ارحم من فى الأرض ح(٣٨٦)۔

٤۔ حرام جانوروں کے لیے رحمت:
یہ واقعات توحلال جانوروں سے تعلق رکھتے تھے ؛ جن سے استفادہ کیا جاتا ہے، عین ممکن ہے کہ کسی کے دل میں یہ بات آئے کہ اسلام کی یہ تعلیمات صرف ان سے فائدہ حاصل کرنے کے لیے ہیں۔ جب کہ آپ a سب جہانوں کی تمام مخلوقات کے لیے رحمت ہیں، اور آپ a کی اس رحمت سے کوئی بھی محروم نہیں ہے۔ چنانچہ وہ حرام جانور جو کھانے پینے میںیا سواری اور بوجھ لادنے کے لیے یادیگر کسی غرض میں کام نہیں آتے اسلام نے ان مخلوقات کے لیے بھی رحمت و شفقت اور احسان کا ایک حصہ مقرر کیا ہے۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیںکہ : رسول اللہ a نے فرمایا :
''ایک عورت ایک بلی کی وجہ سے جہنم میں چلی گئی،اس نے بلی کو باندھ کررکھا تھا،نہ ہی اسے کھانا کھلاتی تھی،اور نہ ہی اسے کھلا چھوڑ دیتی تھی تاکہ زمین میں گھوم پھر کچھ کھا لے۔'' اور ایک روایت میں ہے :''اس نے بلی کو قید رکھا، یہاں تک کہ وہ بلی مر گئی،نہ ہی اسے کھانا دیتی تھی، نہ ہی اسے پانی پلاتی تھی،جب کہ اسے بند کرکے رکھا ہوا تھا٫اور نہ ہی اسے کھلا چھوڑتی تھی کہ وہ زمین سے کیڑے مکوڑے کھا لے ۔'' 1
! بخاری : کتاب المساقاة؛ باب فضل سقی الماء ح(٢٢٥٧)۔ مسلم کتاب التوبة باب ف سعة رحمة اللہ تعالیٰ وأنہا…ح(٥٠٥٧)۔ وباب فضل ساقی البہائم المحترمة وطعامہا ح(٤٢٧٥)۔
اس واقعہ میں عذابِ جہنم کی خبر دینے میںبھی آپ aکی شانِ رحمت نمایاں ہے تاکہ لوگ ایساکرنے سے بازرہیں اورمبتلائے عذاب نہ ہوں۔
نبی ٔ اکرمaنے اپنی امت کو رحمت وشفقت اور اس پر اجر وثواب کو جس انداز میں سمجھایا ہے، اس کا اندازہ اس حدیث سے کیا جاسکتا ہے۔ حضرت ابو ہریرہ ص سے روایت ہے کہ رسول اللہ aنے فرمایا:
''ایک آدمی ایک کنویں پر گیا، اوروہ کنویں کے اندر گیا،اور اس سے پانی پیا۔ باہر ایک کتا گرمی اور پیاس سے ہانپ رہا تھا۔ اس آدمی کو کتے پر رحم آگیا، اس نے اپنا موزہ اتارا، اور اس میں پانی نکال کر کتے کو پلایا،اللہ تعالیٰ نے اس کے عمل کو یوں شرفِ قبولیت سے نوازا کہ اس کو اس شفقت کی وجہ سے جنت میں داخل کردیا۔''
آپa نے یہ واقعہ بیان کرچکنے کے بعد ـایک سائل کے جواب میںـ فرمایا : ''ہرجاندار پر ترس کھانا باعث اجر ہے۔'' 1
! مسلم کتاب الصید والذبائح وما یؤکل من الحیوان ؛باب المر بحسان الذبح و القتل ح (٣٧٠٩)۔ ابن حبان : کتاب الفطر و الباحة ح(٥٥٦٧)۔ أبو داؤد کتاب الضحایا ؛باب النہی أن تصبر البہائم ح( ٢٤٤٧) سنن الترمذ أبواب الجنائز : باب ما جاء ف النہی عن المثلی (١٣٦٦)۔
ان ارشادات وتعلیمات کا حامل نبیa بے رحمی،ظلم و تشدد، تخریب کاری اور دہشت گردی کے شائبہ تک سے بری ہے۔
٥۔ کفار کے لیے رحمت :
نبی اکرم a کی بعثت تو خود کفار کے لیے بھی باعث رحمت ہے؛ چنانچہ (وَمَا أَرْسَلْنٰکَ ِلَّا رَحْمَةً لِّلْعَالَمِیْنَ ) کی تفسیر میں حضرت ابن عباس d بیان فرماتے ہیں:
'' جو شخص اللہ اور روزِ قیامت پر ایمان لایا اس کے لیے دنیا و آخرت میں اللہ کی رحمتیں ہیں اور جو شخص اللہ اور اس کے رسولa پر ایمان نہ لایا وہ بھی ]بعثت و برکتِ مصطفیa کے باعث[زمین میں دھنسائے جانے اور آسمان سے پتھر برسائے جانے جیسے ان عذابوں سے محفوظ رہے گا جن میں پہلی امتیں مبتلا کی گئی تھیں۔ '' 1
! مختصر ابن کثیر للرفاعی ٦٥٣۔
ایک روایت میں ہے آپa فرماتے ہیں :
'' جنہوں نے نبیa کی اتباع و پیروی کی اس کے لیے تو آپ aدنیا و آخرت میں رحمت ہیں اور جو آپa کی پیروی نہ کریں وہ بھی زمین میں دھنسائے جانے، شکلیں مسخ کی جانے اور پتھر برسائے جانے جیسے ان عذابوں سے محفوظ رہیں گے جن سے پہلی قومیں دوچار ہوئیں۔'' 1
! ابن کثیر ١٧٦٣ ۔
ایک مرتبہ صحابہ کرامeنے کفار و مشرکین کے ہاتھوں تنگ آکر نبیa سے درخواست کی کہ مشرکین کے لیے بددعاء کریں تو آپa نے ارشاد فرمایا :
'' میں لعنت و بددعاء کرنے کے لیے مبعوث نہیں کیا گیا بلکہ مجھے تو رحمت بنا کر بھیجا گیا ہے۔ '' 1
! مسلم کتاب البر والصلة ؛ باب النہ عن لعن الدواب و غیرہا ، ح ٤٨٠٩۔ الدب المفرد ، باب لعن الکافر ح ٣٣۔
غزوہ تبوک سے واپسپر بعض منافقین نے آپ a کو قتل کرنا چاہا۔ آپ a پر انکی سازش کا راز فاش ہوگیا ؛ صحابہ ث نے آپ a کو مشورہ دیا کہ ان سازش کرنے والوں کو قتل کروادیا جائے لیکن نبی aنے انہیں بھی معاف کردیا اور ساتھ ہی فرمایا:
'' میں نہیں چاہتا کہ لوگ یہ باتیں کریں کہ محمد a پنے ساتھیوں کو قتل کرتا ہے۔'' 1
! بخاری کتاب التفسیر ، باب قولہ تعالیٰ : ( یقولون لئن رجعنا لی المدینة …)۔
نبی ٔاکرم a کی رحمت و شفقت کا اندازہ فتح مکہ کے واقعہ میں نکھر کر سامنے آتا ہے۔ وہ لوگ جنہوں نے نبی a کوذہنی و نفسیاتی اذیتیں پہنچائیں، گالیاں دیں، برا بھلا کہا، آپa کے صحابہ ث پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑ دے ؛ انہیں شہیدتک کیا۔مگر جب آپa دس ہزار صحابہ eکے ساتھ فاتحانہ شان سے مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے،تو آپa نے کیا سلوک فرمایا تھا ؟ اپنے خون کے پیا سے دشمنوں سے مخاطب ہو کر فرمایا :
'' اے قریش کے لوگو! اللہ تعالیٰ نے تمہاری جاہلانہ نخوت اور آباء واجداد پر اِترانے کا غرور آج توڑ دیا ہے۔ سچ یہ ہے کہ سب لوگ ہی حضرت آدم ںکی اولاد ہیں، جنہیں مٹی سے بنایا گیا تھا ۔''پھر آپa نے یہ تلاوت فرمائی :
(یٰاَیُّھَا النَّاسُ اِنَّاخَلَقْنَاکُمْ مِّنْ ذَکَرٍ وَّاُنْثیٰ وَجَعَلْنَاکُمْ شُعُوْباً وَّ قَبَائِلَ لِتَعَارَفُوْا اِنَّ اَکْرَمَکُمْ عِنْدَ اللّٰہِ اَتْقَاکُمْ) (الحجرات: ١٣)
'' اے لوگو! ہم نے تمہیں ایک مردوزن سے پیداکیا، اور تمہارے خاندان وقبیلے بنائے تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچان سکو۔ بیشک تم میں سے اللہ کے یہاں سب سے زیادہ معزز ومکرم وہی ہے جو سب سے زیادہ تقویٰ والا ہے ۔''
اورآخر میں فرمایا : ''جاؤتم آزاد ہو اور آج تم پر کو ئی مواخذہ نہیں۔''1
! السنن الکبری (تفسیر ) سورة الرعد ، قولہ :( جاء الحق و زہق الباطل ) ، ح ١٠٨٥۔ شرح معانی الآثار للطحاو ، کتاب السیر ، ح ٣٥٤٧۔ عمل الیوم واللیلة لابن سن ، باب ما یقول المعتذر لیہ من الجواب ، ح ٣١٧۔ دلائل النبوة ، باب ما قالت النصار حین آمن رسول اللہV ، ح ١٧٨٥۔
آپaحرب و ضرب اور جنگ کے دوران بھی انتہائی رحمدل تھے اوریہی تعلیم اپنے پیروکاروں کودی کہ عین گھمسان کی جنگ اورمیدان کار زارمیں بھی بوڑھوں، عورتوں، راہبوں اور بچوں جیسے جنگ سے غیر متعلقہ انسانی طبقوں کو قتل نہ کرو۔ حضرت انسb فرماتے ہیں کہ نبی اکرمa جب اسلامی افواج کوکسی مہم پر روانہ فرماتے تو انہیں یہ تاکید فرماتے:
'' اللہ کے نام سے اور اسی کے سہارے روانہ ہوجاؤ اور اللہ کے رسول aکی ملّت پر قائم رہنا، کسی عمر رسیدہ بوڑھے، شیر خوار بچے اور کسی عورت کو قتل نہ کرنا، اور مال غنیمت میں خیانت نہ کرنا، اور اپنے غنائم کا خیال رکھنا ؛ اور اصلاح اور احسان کرنا ؛ بے شک اللہ تعالیٰ احسان کرنے والوں سے محبت کرتے ہیں۔'' 1
سنن أب داؤد ، کتاب الجہاد ، باب ف دعاء المشرکین، ح: ٢٢٦١۔
بعض غزوات میں نبی ٔاکرمaکو پتہ چلا کہ کفارکے بچے بھی قتل کیے گئے ہیں تو نبی اکرم a نے ارشاد فرمایا:
'' ان لوگوں کو کیا ہوگیا ہے جو قتل کرنے پر آئے تو انہوں نے بچوں کو بھی قتل کردیا، خبردار! بچوں کو قتل نہ کرو۔''
اوریہ کلمات آپ aنے تین مرتبہ دہرائے۔'' 1
السنن الکبری للبیہق ، کتاب السیر ،جماع أبواب السیر ، باب : ترک القتل من لا قتال فیہ ، ح : ١٦٨٢٢۔ سنن الدارمی ، کتاب السیر ، باب النہ عن قتل النساء ، ح: ٢٤٢٠۔
نبی اکرم a نے تو اپنی افواج کے جرنیلوں کو یہ حکم بھی دے رکھا تھا کہ کفار کے مقابلے کے لیے جائیں تو محاربین افواج کو پہلے اسلام قبول کرنے کی دعوت دیں تاکہ وہ جہنم کی آگ سے بچ جائیں یا پھر اپنی جان و مال کے تحفظ کے بدلے میں جزیہ دینا قبول کرلیں تو وہ اپنے ہی دین پر قائم رہ سکتے ہیں اور اگر یہ دونوں چیزیں قبول نہ ہوں تو پھر ان کے خلاف اعلان جنگ کردیں۔
حضرت ابو بکر صدیق bنے اپنے ایک جرنیل کوشام کی طرف روانہ کرتے ہوئے یہ تاکید فرمائی :
'' میں تمہیں دس باتوں کی وصیت کرتا ہوں:عورت، بچے اور بوڑھے کو قتل نہ کرنا، پھل دار درخت نہ کاٹنا، آباد کھیتوں اور مکانوں کو برباد نہ کرنا، بلا ضرورت کوئی بکری یا اونٹ ذبح نہ کرنا، سوائے کھانے کے لیے، کھجوریں نہ کاٹنا نہ جلانا، غنیمت میں خیانت نہ کرنا، اور پھل لادکر نہ لے جانا۔'' 1
! موطأ امام مالک ، کتاب الجہاد ، باب النہ عن قتل النساء و… ح: ٩٦٧۔ مصنف عبد الرزاق ،کتاب الجہاد ، باب عقر الشجر بأرض العدو ،ح: ٩٠٩٤۔ السنن الکبری ، کتاب السیر ، باب ترک القتل من لا قتال فیہ من الرہب والکبیر وغیرہما، ح : ١٦٨٧٨۔
یہی وجہ ہے کہ برنارڈ شا نے نبیa کو انسانیت کا ''نجات دہندہ ''قرار دیا اور لکھا:
'' ازمنہ وسطیٰ میں عیسائی راہبوں اور پادریوں نے جہالت و تعصّب کی وجہ سے مذہبِ اسلام کی بڑی بھیانک تصویر پیش کی ہے۔ بات یہیں ختم نہیں ہوجاتی۔ انہوں نے تو حضرت محمدa، اور آپa کے مذہب کے خلاف باضابطہ تحریک چلائی۔ انہوں نے حضرت محمدa کو اچھے لفظوں سے یاد نہیں کیا۔ میں نے ان باتوں کا بغور مطالعہ اور مشاہدہ کیا ہے اور میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ حضرت محمد a عیسائیت کے مخالف نہیں، ایک عظیم ہستی اور صحیح معنوں میں ''انسانیت کے نجات دہندہ'' ہیں۔ اور اگر آج آپa دنیا کی زمامِ کار اپنے ہاتھ میں لے لیں تو آپ a تمام مسائل کو بخوبی حل کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں، آپa امن و سلامتی کے پیامبر ہیں۔ ''1
! دیکھو : اسلام اور تعمیر اسلام ص ٥٦۔
****



نبی کریمaکے حقوق

بے شک رسول اللہ a کے امت پر بہت بڑے حقوق ہیں۔ان تمام کابیان اور احاطہ تو یہاں پر ممکن نہیں؛ صرف یاددہانی کے لیے چند ایک کا ذکر کرنا مناسب ہوگا، ان میں سے بعض یہ ہیں:
ادب سے پکارنا:
آپ a کوایسے مخاطب نہ کیا جائے جیسے باقی تمام لوگوں کو مخاطب کیا جاتا ہے، بلکہ آپa کو ادب واحترام سے پکارا جائے۔ پس ایسے کہاجائے :یارسول اللہ، یا نبی اللہ۔ اور ایسے نہ کہا جائے : یا محمد، یا محمد بن عبد اللہ وغیرہ۔ اللہ جل جلالہ فرماتے ہیں :
(لَاتَجْعَلُوا دُعَائَ الرَّسُولِ بَیْْنَکُمْ کَدُعَائِ بَعْضِکُم بَعْضاً)
(الاحزاب :٥٦)
''رسولa کو پکارنے کو ایسے نہ بناؤ جیسا کہ آپس میں ایک دوسرے کو پکارتے ہو۔''
رسول اللہa کی اطاعت اور ادب ملحوظ خاطر رکھنا اور آپa کی نافرمانی سے بچ کر رہنا چاہیے، اللہ تعالیٰ نے فرمایاہے :
(فَلْیَحْذَرِ الَّذِیْنَ یُخَالِفُونَ عَنْ أَمْرِہِ أَن تُصِیْبَہُمْ فِتْنَة أَوْ یُصِیْبَہُمْ عَذَاب أَلِیْم ) (النور ٦٣)
'' پس چاہیے کہ وہ لوگ ڈر جائیں جو رسو ل ا للہ aکے حکم کی خلاف ورزی کرتے ہیں، کہ انہیں کوئی آزمائش پہنچے، یا دردناک عذاب میں مبتلا کردیے جائیں ۔''
آپ a کے دوستوںسے محبت، جو دشمن ہو اس سے بغض ونفرت، اور جس کام کو آپ a نے پسند کیا، اس پر رضامندی، اور جس سے ناراض ہوئے، اس پر غصہ ادب نبوی میں سے ہے۔
درود شریف پڑھنا:
نبیa کے حقوق اور محبت کے تقاضوں میں سے یہ بھی ہے کہ آپ کا نام لینے، سننے، لکھنے اور پڑھنے کے ساتھ ہی آپa پر درود بھی پڑھا جائے کیوں کہ خود اللہ تعالیٰ اوراس کے فرشتے بھی نبیa پر درود شریف پڑھتے ہیں اور اس کے ساتھ ہی تمام اہلِ ایمان مسلمانوں کو بھی حکم فرمادیا ہے کہ تم بھی نبی اکرمa پر درود پڑھا کرو؛ ارشادِ الٰہی ہے:
(ِنَّ اللّٰہَ وَمَلَآئِکَتَہ یُصَلُّوْنَ عَلَٰی النَّبِیِّ یٰأَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا صَلُّوْا عَلَیْْہِ وَسَلِّمُوْا تَسْلِیْماً ) (النور:٣٦)
''بے شک اللہ اور اُس کے فرشتے پیغمبر پر درود بھیجتے ہیں اے مومنو! تم بھی اُن پر درود و سلام بھیجا کرو ۔''
مقامِ وسیلہ کی دعا کرنا:
وسیلہ جنت کا وہ عالی شان مرتبہ ہے جس کے بارے میں نبیa نے فرمایا ہے کہ وہ آپaکے سوا کسی کے لیے زیبا نہیں۔ ارشادِ نبوی aہے :
'' جس نے آذان سن کر یہ دعاء کی کہ'' اے اللہ ! اس دعوتِ کامل اور قائم ہونے والی نماز کے رب! حضرت محمدa کو مقامِ وسیلہ و فضیلت عطا فرما اور آپ aکو مقامِ محمود پر سرفراز فرماجس کا تو نے آپaسے وعدہ فرمارکھا ہے''، اس کے لیے قیامت کے دن میری شفاعت و سفارش حلال ہوگئی۔ '' 1
! صحیح بخاری ، کتاب الآذان ، باب : الدعاء عند النداء ، حدیث نمبر ٥٩٧۔ ابن حبان کتاب الصلاة ' باب الآذان حدیث نمبر ١٧١٢۔
آپa کی تصدیق کرنا :
آپ a کی بتائی ہوئی دین ودنیا کی وہ تمام باتیں، خواہ ان کا تعلق احکامِ شریعت سے ہے یا پیش آنے والے امورِ مستقبل سے جیسا کہ قیامت کی نشانیاں وغیرہ، اوروہ تمام خفیہ امورجن کی خبر آپ a نے دی ہے ان کی تصدیق کرنا ؛ اور ان پر ایمان رکھنا۔
نصرت اور تعظیم :
کفار سے برتاؤکے وقت غیرتِ ایمانی اورمحبت رسول اللہ a کا عملی ثبوت پیش کرتے ہوئے دشمن کو اس کی حرکات سے باز رکھنا، اور رسول اللہ a کی عزت وناموس کی حفاظت کے لیے اپنا کردار پیش کرنا ؛ تاکہ روزِ محشر ہم بھی جب آپ a کی شفاعت کے طلب گار بن کر جائیں گے تو آپ aکو منہ دکھانے کے قابل ہوں۔ نبی اکرم a کی عزت و احترام اور تعظیم و تکریم کرے اور ہر اس کام سے اجتناب کیا جائے جو اس کے منافی ہے۔ نبی a کی تعظیم و توقیر تین طرح سے ہوگی :
١۔ دل سے تعظیم : یعنی نبیa کے منصبِ نبوت و رسالت اور آپa کے اعلیٰ مقام و مرتبہ کا معترف ہو اور آپ کو دل وجان، دولت و مال اور ہر چیز سے زیادہ محبت کرے۔
٢۔ زبان سے تعظیم و توقیر: یعنی آپa نے اپنی جو صفات خود بیان کی ہیں یا اللہ تعالیٰ نے بیان کی ہیں ان سب کا تذکرہ بغیر افراط وتفریط؛ مبالغہ آمیزی اور غلو و تشدّد کے کیا جائے۔
٣۔ اعضاء سے تعظیم و احترام : آپa کے تمام احکام و اوامر پر اپنے اعضاء جسم کے ساتھ عمل اور دین اسلام کو دیگر تمام ادیان پر غالب کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کی جائے۔ 1
! الصارم المنکی ف الرد علیٰ السبکی،ص:٤٥١۔٤٥٤ ۔
آپa کی نصرت اور توقیر وتعظیم کے واجب ہونے کے دلائل بے شمار ہیں؛ تاہم چند دلائل ذکر کیے جاتے ہیں تاکہ بصیرت کی روشنی میں کیا جانے والا کام اجر وثواب کی زیادتی کا باعث ہو۔
١۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :
( فَالَّذِیْنَ آمَنُوْا بِہ وَعَزَّرُوہ وَنَصَرُوہ وَاتَّبَعُوْا النُّوْرَ الَّذِ أُنْزِلَ مَعَہ أُوْلٰئِکَ ہُمُ الْمُفْلِحُوْنَ) (الاعراف: ١٥٧)
''اور وہ لوگ جو آپ پر ایمان لائے، اور آپ کی عزت کی،اور آپ کی مدد کی اور اس نور کی پیروی کی جو آپ کے ساتھ اتارا گیا ہے وہی لوگ ہیں فلاح پانے والے۔''
٢۔ اور فرمایا:
( وَِذْ أَخَذَ اللّٰہُ مِیْثَاقَ النَّبِیِّیْْنَ لَمَا آتَیْْتُکُمْ مِّنْ کِتَابٍ وَّحِکْمَةٍ ثُمَّ جَآئَ کُمْ رَسُول مُّصَدِّق لِّمَا مَعَکُمْ لَتُؤْمِنُنَّ بِہ وَلَتَنصُرُنَّہ قَالَ أَأَقْرَرْتُمْ وَأَخَذْتُمْ عَلَی ذَلِکُمْ ِصْرِْ قَالُوْا أَقْرَرْنَا قَالَ فَاشْہَدُوْا وَأَنَاْ مَعَکُم مِّنَ الشَّاہِدِیْنَ) (آل عمران:٨١ )
'' اور جب اللہ نے پیغمبروں سے عہد لیا کہ جب میں تم کو کتاب اور دانائی عطا کروں اور پھر تمہارے پاس ایک رسول آجائے جو تمہارے پاس موجود چیز کی تصدیق کرنے والا ہو، تم نے ضرور بالضرور اس پر ایمان لانا ہے، اور اس کی مدد کرنی ہوگی۔ اور پوچھا کہ بھلا تم نے اقرار کیا اور اُس اقرار پر میرا ذمہ لیا ؟؛ انہوں نے کہا : ہم نے اقرار کیا ؛ فرمایا کہ تم (اس عہد و پیمان کے) گواہ رہو اور میں بھی تمہارے ساتھ گواہ ہوں۔''
اس آیت کریمہ میں اگر چہ تمام انبیاء سے رسول اللہa کی نصرت کرنے کاوعدہ لیا گیا، تاہم اس کے یہاں بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ ہم آپaکی امت اور پیرو کار ہونے کی بناپر ہر لحاظ سے بطریق اولیٰ اس چیز کے مکلف و مخاطب ہیں۔یہی وہ انبیاء والا کام ہے جس کے کرنے پر ہمیں فخر کرنا چاہیے۔
دوسری بات …مفسرین کا متفقہ اصول ہے کہ : اعتبار عموم لفظ سے ہوگا نہ کہ کسی خاص سبب سے ۔'' اس لحاظ سے ہم پر یہ واجب ہوجاتا ہے کہ نصرت رسول اللہ aکا حق ادا کرنے کے لیے کسی بھی ممکن قربانی سے دریغ نہ کریں۔''
٣۔ نصرت رسول اللہa کو اللہ تعالیٰ نے اہلِ ایمان مہاجرین وانصار کی ایک اہم ترین صفت کے طور پر بیان کرتے ہوئے ارشادفرمایا:
(لِلْفُقَرَائِ الْمُہَاجِرِیْنَ الَّذِیْنَ أُخْرِجُوْا مِنْ دِیَارِہِمْ وَأَمْوَالِہِمْ یَبْتَغُونَ فَضْلاً مِّنَ اللّٰہِ وَرِضْوَاناً وَّیَنْصُرُوْنَ اللّٰہَ وَرَسُولَہ أُوْلٰئِکَ ہُمُ الصَّادِقُوْنَ) (الحشر:٨)
'' ان مہاجرین فقراء کے لیے جو اپنے گھروں اور اموال سے نکالے گئے ہیں، اور وہ اللہ جل جلالہ کا فضل اور رضا مندی تلاش کرتے ہیں، اور اللہ اور اس کے رسول کی مدد کرتے ہیں، وہی لوگ (اپنے ایمان و عمل میں ) سچے ہیں ۔''
٤۔ اور فرمایا:
(ِلاَّ تَنْصُرُوْہ فَقَدْ نَصَرَہُ اللّٰہُ ِذْ أَخْرَجَہ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا) (التوبہ :٤٠)
'' اگر تم ان کی مدد نہ کروگے تو یقیناً اللہ نے ان کی مدد کی ہے، جب کفار نے انہیں نکال دیا تھا۔''
تمنا ئے دیدمصطفی a:
ہر مؤمن و مسلمان اپنے دل میں اس بات کی تمنا رکھے کہ اسے نبی اکرمa کی زیارت نصیب ہو ؛یہ آپ سے محبت کی علامت بھی ہے اور تقاضا بھی؛آپa نے فرمایا :
'' میری امت کے مجھ سے شدید محبت رکھنے والے لوگوں میں سے کچھ وہ بھی ہیں جو اس بات کی خواہش رکھتے اور تمنا کرتے ہیں کہ انہیں اپنے سارے اہل و عیال اور دولت و مال کے عوض ہی میری زیارت نصیب ہوجائے۔'' 1
مسلم ، کتاب الجنة و صفة نعیمہا و أہلہا ؛ ح:٥١٦٦۔ ابن حبان کتاب أخبارV عن مناقب الصحابة ، ح ٧٣٣٨۔ مسند احمد ١٥٦٥ و الصحیحہ :١٤١٨۔
اس دنیا میں خواب میں آپa کی زیارت نصیب ہو، اور مرنے کے بعد حوض کوثر پر آپ aکا دیدار اورجنت میں آپ a کی رفاقت نصیب ہو۔
احیاء سنت و تعمیل ارشاد :
آپa کے اسوۂ حسنہ کو اپنے سامنے رکھ کر سنت کے احیاء میں کوشاں رہیں۔ تمام مردہ و متروک سنتوں کا احیاء ایک مخلص مسلمان اور سچے محب رسول a کی ذمہ داری ہے۔ یہ بڑے اجر و ثواب والا کام ہے آپ aنے فرمایا:
((ومن أحیاء سنت فقد أحبن، ومن أحبن کان مع ف الجنة.)) 1
! جامع الترمذ ، کتاب الذبائح ، أبواب العلم عن رسول اللہV ،ح :٢٦٧٠۔ المعجم الوسط ، باب العین ؛ ح : ٩٦١٤۔ البانة الکبری لابن بطة باب ذکر الخبار والآثار الت دعتنا لی جمع ہذا الکتاب و تألیفہ، ح: ٥٢۔ سنن ابن ماجہ ٧٦١، صحیح سنن ، حدیث :١٧٣ ۔
'' اور جس نے میری سنت کو زندہ کیا اس نے مجھ سے محبت کی، اور جس نے مجھ سے محبت کی وہ جنت میں میرے ساتھ جنت میں ہوگا ۔''
جس نے نبی کریم aکی سنتوں میں سے کوئی سنت زندہ کی اور لوگوں نے اس پر عمل کیا تو اسے بھی اتنا ہی ثواب ملے گا جتنا کہ اس پر عمل کرنے والے تمام لوگوں کوملے گاجب کہ ان کے اجر و ثواب میں بھی کوئی کمی نہیں کی جائے گی، اور جس نے کوئی بدعت ایجاد کی اور اس پر عمل کیا گیا تو اسے ان پر عمل کرنے والے تمام لوگوں کے جتنا گناہ ہوگا اور ان لوگوں کے گناہ میں بھی کوئی کمی نہیں کی جائے گی۔
حب رسولa کا حکم قرآنِ کریم کی روشنی میں :
آپ a کے حکم کے سامنے سر تسلیم خم کرنا، آپ a کی شریعت کا حکم ماننا، اور آپ a کو قاضی اور حاکم ماننا، اور اس پر راضی رہنا، اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
( لَایَسْتَوِْ الْقَاعِدُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ غَیْْرُ أُوْلِیْ الضَّرَرِ وَ الْمُجَاہِدُونَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ بِأَمْوَالِہِمْ وَأَنْفُسِہِمْ فَضَّلَ اللّٰہُ الْمُجَاہِدِیْنَ بِأَمْوَالِہِمْ وَأَنْفُسِہِمْ عَلَی الْقَاعِدِیْنَ دَرَجَةً وَّکُلاًّ وَّعَدَ اللّٰہُ الْحُسْنٰی وَفَضَّلَ اللّٰہُ الْمُجَاہِدِیْنَ عَلَی الْقَاعِدِیْنَ أَجْراً عَظِیْماً)
(النسائ: ٩٥)
'' نہیں برابر ہو سکتے مومنین میں سے بیٹھے ہوئے بغیر ضرر کے اور اپنی جان اور مال کے ساتھ جہاد کرنے والے۔ اللہگ نے اپنے مال اور جان سے جہاد کرنے والوں کو بیٹھے ہوئے لوگوں پر ایک درجہ فضیلت دی ہے، اور ان میں سے ہر ایک سے اللہ گنے بھلائی کا وعدہ کر رکھا ہے، اور مجاہدین کو اللہگنے بیٹھے ہوئے لوگوں پر اجر عظیم کی فضیلت دی ہے ۔''
جب مختلف لوگ اللہ کی محبت کا دعوی کرنے لگے، توان کے امتحان کے لیے یہ آیت نازل ہوئیں :
(قُلْ ِنْ کُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللّٰہَ فَاتَّبِعُونِْ یُحْبِبْکُمُ اللّٰہُ وَیَغْفِرْ لَکُمْ ذُنُوْبَکُمْ وَاللّٰہُ غَفُور رَّحِیْم) (آل عمران:٣١)
''آپ فرمادیں: اگر تم اللہ سبحانہ و تعالیٰ سے محبت کرتے ہو تو میری پیروی کرو اللہ سبحانہ و تعالیٰ تم سے محبت کریںگے،اور تمہارے گناہ معاف فرمادیں گے، بے شک اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔''
اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی شریعت اور آپa کی رسالت کے مطابق فیصلہ کرنا، اور آپa کی محبت کو باقی ہر چیز کی محبت پر ترجیح دینا ایمان کا حصہ ہی نہیں بلکہ حضرت محمدa کی رسالت کے اقرار اور اس پر ایمان کی یہی حقیقت ہے۔
حدیث سے وجوبِ محبت کے دلائل:
آپ aپر ایمان لانے کی ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ آپ aسے محبت اور دوستی رکھی جائے،آپ a کی تعظیم کی جائے۔ آپa کا فرمان ہے :'' اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے ! تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتا جب تک میں اسے اس کے والدین،اور اولاد سے بڑھ کر محبوب نہ ہوجاؤں۔ '' 1
! بخاری کتاب الیمان ، باب حب رسول اللہ V من الیمان ، ح : ١٤۔
حضرت انس bسے روایت ہے کہ آپ a نے فرمایا :
''تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتا جب تک میں اسے اس کے والدین، اولاد اور تمام لوگوں سے بڑھ کر محبوب نہ ہوجاؤں۔ '' 1
! متفق علیہ ۔بخاری کتاب الیمان ، باب حب رسول اللہV من الیمان ، ح : ١٥۔ مسلم کتاب الیمان ، باب : وجوب محبة رسول اللہ V ، ح: ٧٨۔
ایک بارحضرت عمر bنے آپa سے کہا:یا رسول اللہa ! اللہ کی قسم ! آپa مجھے اپنے نفس کے علاوہ ہر چیز سے بڑھ کر محبوب ہیں ۔''
تو آپ aنے فرمایا:
'' اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے ! تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتا جب تک میں اپنے نفس سے بھی بڑھ کر محبوب نہ ہوجاؤں ۔'' یہ سن کر حضرت عمرbنے کہا : یا رسول ! اب آپ مجھے اپنی جان سے بھی بڑھ کر محبوب ہوگئے ہیں۔''
آپ aنے فرمایا: عمر ! اب ٹھیک ہے۔'' 1
! بخاری ۔ کتاب الیمان والنذور ، باب : کیف کانت یمین النب V ، ح: ٦٢٦٨۔ مستدرک الحاکم : کتاب معرفة الصحابة ، ح: ٥٩٢١۔
قبولیت دعوت کی دلیل:
اللہ سبحانہ و تعالیٰ کافرمان ہے :
(یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُواْ اسْتَجِیْبُوْا لِلّٰہِ وَلِلرَّسُولِ ِذَا دَعَاکُم لِمَا یُحْیِیْکُمْ ) (الانفال:٢٤)
''اے ایمان والو! اللہ اور اس کے رسول کی دعوت قبول کروجب وہ تمہیں ایسی چیز کی طرف دعوت دیں جس سے تمہیں زندگی ملتی ہو۔''
آیت میں اللہ نے دعوت رسول اللہa کو اللہ کی دعوت کے قبول کے ساتھ مشروط اور آپ a کی دعوت کو زندگی سے تعبیر کیا ہے ؛ کیوں کہ اس میں نجات اور بقا ہے۔مراد اسلام کی زندگی ہے، جو کفر کے بعد ملتی ہے۔ اللہ گ نے اس دعوت کے قبول نہ کرنے پر عذاب سے ڈرایا ہے، فرمایا :
(فَِنْ لَّمْ یَسْتَجِیْبُوا لَکَ فَاعْلَمْ أَنَّمَا یَتَّبِعُونَ أَہْوَائَ ہُمْ وَمَنْ أَضَلُّ مِمَّنِ اتَّبَعَ ہَوَاہ بِغَیْْرِ ہُدًی مِّنَ اللّٰہِ ِنَّ اللّٰہَ لَا یَہْدِْ الْقَوْمَ الظَّالِمِیْنَ) (القصص :٥٠)
'' اگر وہ آپa کی دعوت قبول نہ کریں تو جان لیجیے کہ وہ خواہشات نفس کی پیروی کرتے ہیں، اور اس سے بڑھ کر گمراہ کون ہو سکتا ہے جو اللہ کی طرف سے آنے والی ہدایت کو چھوڑ کر اپنی خواہشات کی پیروی کرے۔بے شک اللہ ظالم قوم کو کبھی ہدایت نہیں دیتے ۔''
آپa سے دوستی کی دلیل:
اللہ سبحانہ و تعالیٰ فرماتے ہیں :
(ِنَّمَا وَلِیُّکُمُ اللّٰہُ وَرَسُولُہ وَالَّذِیْنَ آمَنُوْا الَّذِیْنَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلاَةَ وَیُؤْتُوْنَ الزَّکَاةَ وَہُمْ رَاکِعُون٭وَمَنْ یَّتَوَلَّ اللّٰہَ وَرَسُولَہ وَالَّذِیْنَ آمَنُواْ فَِنَّ حِزْبَ اللّٰہِ ہُمُ الْغَالِبُونَ ) (المائدہ:٥٥ـ٥٦)
''بے شک آپ کے دوست ہیں اللہ اور اس کے رسول اور اہل ایمان لوگ، جو نماز قائم کرتے اور زکوٰة اداکرتے اور وہ رکوع کرنے والے ہیں۔جو کوئی دوست رکھے گا اللہ اور اس کے رسول کو، اورایمان والے لوگوں کو، پس بے شک اللہ کی جماعت ہی غالب آنے والی ہے ۔''
اور فرمایا:
( ِنْ تَتُوبَا ِلَی اللّٰہِ فَقَدْ صَغَتْ قُلُوْبُکُمَا وَِنْ تَظَاہَرَا عَلَیْْہِ فَِنَّ اللّٰہَ ہُوَ مَوْلَاہُ وَجِبْرِیْلُ وَصَالِحُ الْمُؤْمِنِیْنَ وَالْمَلَائِکَةُ بَعْدَ ذاَلِکَ ظَہِیْر ) (التحریم:٤)
'' اگر تم دونوں توبہ کرو، یقینا تمہارے دل سخت ہوچکے ہیں، اور اگر تم اس پر چڑہائی کرو تو پس بے شک اللہ ولی ہے اس کا اور جبریل بھی اور نیکوکار مومنین اور اس کے بعد فرشتے بھی مدد کرنے والے ہیں۔''
ہمیں چاہیے کہ غیرت ایمانی کا ثبوت دیتے ہوئے حقوق مصطفی aکے تقاضوں کو ہر ممکن حد تک پورا کریں۔ اور جو کمی رہ جائے اس پر اللہ سے معافی مانگیں۔ وہ بخشنے والا مہربان ہے۔
****
شفیق آف لائن ہے   یہ اقتباس دیں
ان 6 ارکان نے اس مفید پوسٹ کے لیے شفیق کا شکریہ ادا کیا ہے
جواب پوسٹ کریں

Bookmarks

ٹیگز
حقوق, رحمت

موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز

پوسٹ کرنے کے قوانین
You may not post new threads
You may not post replies
You may not post attachments
You may not edit your posts

سمائلز آن ہے
[IMG] کوڈ آن ہے
HTML کوڈ آف ہے

قوانین
فورم منتخب کریں

مشابہ موضوعات
موضوع مصنف فورم جوابات آخری پیغام
میری اپنی بھولی بسری یادیں،!!! میرا بچپن-1 عبدالرحمن سید ادبی مجلس 48 18-12-11 07:31 PM
اسلامی قیادتیں۔۔۔اب یا کبھی نہیں حنیف المسلم اسلامی متفرقات 12 07-07-10 02:34 PM
حضرت شاہ ولی اللہ (رح) اور شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری القلم متفرقات 0 09-03-09 12:46 PM
البریلویہ ۔ بریلویت تاریخ و عقائد (مکمل کتاب) محمد نعیم اردو یونیکوڈ کتب 19 19-05-08 05:57 PM
شب برات كا جشن اور اس كا حكم کارتوس خان اتباعِ قرآن و سنت 1 06-10-07 07:30 AM


فورم کے تمام اوقات GMT +3 کے مطابق . وقت ہے ابھی 10:36 AM


Powered by vBulletin Version 3.8.7
® Copyright ©2000 - 2014, Jelsoft Enterprises Ltd. Urdu Translation by A.REHMAN
User Alert System provided by Advanced User Tagging (Lite) - vBulletin Mods & Addons Copyright © 2014 DragonByte Technologies Ltd.
Contact admin : admin@urduvb.com