>URDU MAJLIS FORUM
 

واپسی   URDU MAJLIS FORUM > ::: مجلسِ مذہب اور نظریات ::: > غیر اسلامی افکار و نظریات > تقابلِ مسالک > مذاہبِ اربعہ


جواب پوسٹ کریں
 
موضوع کے اختیارات ظاہری انداز
پرانا 24-12-11, 07:41 PM   #1
اہل الحدیث
ٹیم لیڈر

 
تاریخ شمولیت: 2009-03-24
قیام: اللہ کی زمین پر
جنس: male
پوسٹس: 3,693
پوائنٹس: 3166
اہل الحدیث اہل الحدیث اہل الحدیث اہل الحدیث اہل الحدیث اہل الحدیث اہل الحدیث اہل الحدیث اہل الحدیث اہل الحدیث اہل الحدیث
مولانا ابو الکلام آزاد رحمہ اللہ اور فقہ حنفی


مولانا ابو الکلام آزاد رحمہ اللہ اور فقہ حنفی
(ازقلم ابوبکر قدوسی)


امام الہند مولانا ابوالکلام آزاد رحمہ اللہ اسلامیان ہند کے ہر گروہ کے نزدیک واجب الاحترام رہے ہیں۔ آپ کا علمی مقام و مرتبہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔ آپ بیسویں صدی کے عظیم مسلم راہنما تھے۔ آپ بیک وقت عالم دین، مذہبی راہنما، مفسر قرآن، ادیب اور صحافی تھے۔ آپ جس میدان میں بھی نکلے صف اول کے شہسوار رہے۔ آپ نے مسلمان قوم کی مدت تک فکری راہنمائی کی۔ اس کے لیے آپ نے مختلف جرائد کا اجرا کیا جن میں نیرنگ عالم ’’المصباح، لسان الصدق، پیام، الہلال اور البلاغ‘‘ شامل ہیں۔ ان میں سے الہلال کو تو خاصی شہرت حاصل ہوئی۔ آپ کی کتب ’’تذکرۃ‘‘ اور ’’غبار خاطر‘‘ کے بلا مبالغہ سیکڑوں ایڈیشن طبع ہو چکے ہیں۔ جب کہ قرآن کریم کی تفسیر ترجمان القرآن اپنے اندر اک جہانِ معنیٰ سموئے ہوئے ہے۔ اور آپ کی نثر اور زبان و بیان، تو اس کے بارے میں حسرت کا یہ کہنا ہی کافی ہے
دیکھی جب سے ابوالکلام کی نثر
نظم حسرت میں کچھ مزا نہ رہا
غرض باہر کی دنیا اور ہے اور ابوالکلام کا جہان اور ہے۔ اردو زبان اور بیان کی سحر آفرینیاں دیکھنی ہوں تو اس طلسم کدے میں نکل جائیے، رشک آتا ہے اس نسل پر جو ابوالکلام کے عہد میں جیتی تھی۔
کتاب ’’حواشی ابوالکلام آزاد‘‘ ہمارے سامنے ہے اس کو سید مسیح الحسن نے مرتب کیا ہے۔ دورانِ مطالعہ اکثر مولانا اپنے تاثرات کتاب کے حاشیہ پر درج کرتے رہتے تھے، سید مسیح الحسن کے ذہن میں اچھوتا خیال آیا اور آپ نے ان حواشی کو الگ سے مرتب کر دیا۔ سید مسیح الحسن ان حواشی کے حوالے سے لکھتے ہیں:
میں اب سے پندرہ سولہ سال پہلے جب اس کتب خانہ کی تنظیم و ترتیب میں مصروف تھا تو باعتبار فرائض ہر کتاب کی ورق گردانی بھی ناگزیر تھی۔ چنانچہ اس دوران مولانا کے ذخیرہ میں ایسی کتابیں نظر سے گزریں جن کے اکثر و بیشتر صفحات کے حواشی پر مولانا نے اپنے ہاتھ سے اصلاحی و تنقیدی عبارت تحریر فرمائی ہے۔ ابتدا میں چونکہ ترتیب و تنظیم کتب کا کام ضروری تھا اس لیے سرسری نظر ڈالتا ہوا گزرتا رہا۔ چند سال تک اپنے فرائض منصبی میں مصروف رہا۔ بعدہ جب کتب خانہ کی جمع شدہ پرانی کتابیں کتابداری کے اصول و ضوابط کے مطابق مرتب و منظم ہو گئیں تو ان مخصوص کتابوں کی طرف رجوع کیا جن پر مولانا نے حواشی تحریر فرمائے ہیں۔ خود بھی سوچا اور کچھ اہل علم اصحاب نے بھی مشورہ دیا کہ مولانا کے ان جواہر ریزوں کو کتابی شکل میں بلحاظ سیاق و سباق ذرہ سلیقہ سے مرتب کر دیا جائے۔ لیکن مصروفیت نے ایک عرصہ تک اس خیال کو التوا میں ڈالے رکھا چونکہ کسی ایسے کتب خانہ کو جس میں ہزارہا کتابیں ایک ڈھیر کی شکل میں پڑی ہوں قواعد کے مطابق ترتیب دے کر قرینے سے آراستہ کرنے میں کتنا وقت لگتا ہے اس کو وہی لوگ سمجھ سکتے ہیں جو کہ کتب خانہ کے مروجہ فن سے واقف ہوں۔
بہرحال اس کام کی نوعیت سے اہل علم اندازہ لگا سکتے ہیں کہ مجھ کو مسلسل دس سال تک محنت شاقہ سے کام کرنا پڑا اور وہ بھی اس طرح کہ اپنے فرائض منصبی کی ادائیگی اور دفتری اوقات کے بعد کتب خانہ کی ہر الماری کے سامنے کھڑے رہ کر ایک ایک کتاب کو بغور دیکھا اور وہ کتابیں نکالیں جن پر مولانا نے کچھ نہ کچھ تحریر فرمایا تھا۔ آزاد بھون سے جامعہ منتقل ہو جانے کے بعد مجھ کو اس کام سے عہدہ برآ ہونے میں بے پناہ دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا اور اس طرح اس کام کو تکمیل کے مدارج تک پہنچانے میں دس گیارہ سال کا طویل عرصہ صرف ہوا۔(حواشی ابوالکلام آزاد رحمہ اللہ ص۱۹)
ان حواشی سے مولانا آزاد کے مذہب کے حوالے سے فکری رجحان کا پتہ چلتا ہے اور خاص طور پر یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ مولانا ’’مقلد اعمیٰ‘‘ نہ تھے۔ مجتہدانہ سوچ اور مقام کے حامل تھے۔ ان حواشی سے ان نظریات کی بھی واضح نفی ہوتی ہے جو ہمارے ہندوستان کے ایک فقہی گروہ نے مولانا کے حوالے سے طے کر رکھے تھے اور مولانا آزاد رحمہ اللہ کو ایک خاص فقہی مسلک کا متبع ثابت کرنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگایا جا رہا تھا۔ یہ شور و غوغا اور ہنگامہ آرائی مولانا کی وفات سے عرصہ بیس برس پہلے تک زوروں پر تھی۔ لیکن حواشی ابوالکلام رحمہ اللہ کے منصہ شہود پر آتے ہی یہ ہنگام ایک گہری خاموشی میں بدل گیا اور مولانا آزاد رحمہ اللہ پر ’’قبضہ کرو تحریک‘‘ دب گئی البتہ اس بات کا افسوس ہے کہ اہل حدیث تحریک میں اب ایسے صاحب نظر افراد نہیں دکھائی دیتے جو ان حواشی کی افادیت کا اندازہ کر سکتے اور ان سے کماحقہ فائدہ اٹھا سکتے۔ آج سے بیس برس پہلے جب میں اپنے لڑکپن سے نکلا ہی تھا تب میں نے اس کتاب کو پڑھا۔ اس کی تاریخی حیثیت اور انکشافات کی اہمیت کے پیش نظر اس کو طبع کرنے کا فیصلہ کیا۔ آج بیس برس بعد دورانِ مطالعہ پھر مولانا آزاد رحمہ اللہ کے یہ حواشی نظر سے گزرے سو یہ آپ کی نذر ہیں۔ ان حواشی میں مولانا کے بعض ایسے نظریات سامنے آئے ہیں جو اس سے پہلے بہت واضح نہ تھے۔
سید سلمان ندوی رحمہ اللہ کی کتاب ’’حیات شبلی‘‘ پر مولانا ابوالکلام آزاد رحمہ اللہ نے بعض مقامات پر جو حواشی لکھے ہیں وہ ایسے عمدہ اور برجستہ ہیں کہ جیسے ایک جملہ نہیں بلکہ علم کا ایک سمندر ہے۔ لیجیے پہلے سید سلمان ندوی رحمہ اللہ کی عبارت ملاحظہ کیجیے اور پھر اس پر مولانا کا تبصرہ پڑھیے:
سید سلمان ندوی لکھتے ہیں:
’’علامہ شبلی نے درسیات کی تکمیل مولانا فاروق ہی سے کر لی تھی، تاہم ان کے ذوقِ علمی نے ان کو دوسرے خرمنوں کی خوشہ چینی پر آمادہ کیا، سب سے پہلے مولانا عبدالحیٔ فرنگی محلی کی شہرت کمال ان کو لکھنؤ لے گئی لیکن کچھ فطری جودتِ طبع اور کچھ فیض فاروقی کی بدولت علامہ نقد و اجتہاد کے خوگر تھے۔ اس لیے زانوئے ادب تہہ کرنے سے پہلے لکھنؤ سے قدم اٹھ گئے اور رامپور کا رخ کیا وہاں مولانا ارشاد حسین کے شرفِ تلمذ پر اکتفا کی۔ علامہ مرحوم کو حضرت مولانا ارشاد حسین کی وسعتِ نظر، اصابت رائے اور مجتہدانہ ژرف نگاہی کا اعتراف ہمیشہ رہا۔ مولانا ارشاد حسین کی نہایت متشدد حنفی تھے۔ مولانا نذیر حسین کی ایثار الحق کے جواب میں انتصار الحق ان ہی نے لکھی ہے۔‘‘
مولانا شبلی نعمانی کے حصولِ تعلیم اور اساتذہ کے انتخاب کے حوالے سے سید سلیمان ندوی کی اس عبارت پر مولانا آزاد رحمہ اللہ کچھ ان الفاظ میں تبصرہ کرتے ہیں:
’’اگر اس زمانہ میں مولوی شبلی کو مجتہدانہ نظر و فکر کی جستجو ہوتی تو مولوی عبدالحیٔ کو ترجیح دیتے جو حنفیت کے مقلدانہ جمود سے باہر آ چکے تھے لیکن انہوں نے مولوی ارشاد حسین کو انتخاب کیا جو مقلد اعمیٰ تھے۔
مولوی نذیر حسین کی کتاب ایثار الحق نہیں ہے۔ معیار الحق ہے۔ مولوی ارشاد حسین کی معلومات کا یہ حال تھا کہ ’’انتصار الحق‘‘ میں ’’بلوغ المرام‘‘ کو شاہ ولی اللہ کی تصنیف بتلاتے ہیں۔ ان کی تعریف میں مجتہدانہ ژرف نگاہی لکھنا کس قدر بے معنیٰ بات ہے۔‘‘

سیرۃ النعمان، جلد۲
حضرت الامام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے حالات زندگی پر مشتمل کتاب ’’سیرۃ النعمان‘‘ جو مولانا شبلی نعمانی کی تصنیف کردہ ہے۔ اس کا ۱۸۹۳ء کا طبع شدہ نسخہ جو مطبع مجتبائی دہلی سے چھپا تھا اس کی جلد نمبر ۲ مولانا کے زیرِ مطالعہ ہے اس پر مولانا کے بعض حواشی ملاحظہ کیجیے:
علامہ شبلی نے مجتہد اور محدث کے فرق پر تفصیلی بحث کی ہے۔ لکھتے ہیں کہ
مجتہدین جس چیز پر فخر کر سکتے ہیں وہ دقت نظر، قوت استنباط استخراج مسائل اور تفریع احکام ہے، لیکن محدثین کے گروہ کے نزدیک یہی باتیں عیب و نقص میں داخل ہیں۔ علامہ ابوجعفر محمد بن جرید طبری قاضی ابو یوسف کے ذکر میں لکھتے ہیں کہ ’’اہل حدیث میں سے ایک گروہ نے ان کی روایت سے اس بنا پر احتراز کیا ہے کہ ان پر رائے غالب تھی اور فروع احکام کی تفریع کرتے تھے۔ ان باتوں کے ساتھ بادشاہ کی صحبت میں رہتے تھے اور منصب قضا پر مامور تھے۔ اگر فروع اور احکام کا استنباط بھی جرم ہے تو بے شبہ امام ابوحنیفہ قاضی ابو یوسف سے زیادہ مجرم نہیں۔‘‘
اب مولانا ابوالکلام آزاد رحمہ اللہ کا تبصرہ ملاحظہ کیجیے کہ کس طرح مولانا نے مقلدین حضرات کے اس گمراہ کن نظریے کا رد کیا ہے کہ جس میں یہ دقتِ نظر اور قوت استنباط کو محض اپنے فقیہانِ حرم کا خاصہ قرار دیتے ہوئے نہیں تھکتے اور محدثین کی تنقیص کرتے ہوئے کسی کو حیا مانع نہیں آتی اور بے تکلفانہ حضرت امام بخاری رحمہ اللہ کو غیر فقیہ قرار دے دیتے ہیں۔
مولانا ابوالکلام آزاد رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
’’مصنف کی یہ پوری بحث یکسر مغالطہ ہے اس سے بڑھ کر کذب علی وجہ الارض کیا ہو سکتا ہے کہ ائمہ حدیث کی نسبت یہ کہا جائے کہ دقت نظر، قوت استنباط، استخراج مسائل رایت و تفکر ان کے نزدیک تقص رہا۔ جس شخص نے صرف تراجم ابواب فقیہ بخاری وغیرہ ہی پر نظر ڈالی ہے وہ کیونکہ اس خیال کا تصور بھی کر سکتا ہے۔ اور پھر جس شخص نے تصنیفاتِ ابن حزم، ابن عقیل، ابن تیمیہ و ابن قیم وغیرہ کو دیکھا ہے تو وہ اس خیال کی تکذیب پر حلف شرعی اٹھا سکتا ہے۔ اصل یہ ہے کہ اس تمام معاملہ کے (یعنی امام ابو حنیفہ اور محدثین فیما بین اسکول) اسباب ہی اور ہیں اور ان کو صاحب حجۃ اللہ نے واشگاف لکھ دیا ہے۔ مؤلف کی اس پر نظر ہے مگر افسوس کہ مغالطہ دینے کی کوشش کی ہے۔ اگر مصنف نے اسی جملہ پر غور کیا ہو تاکہ ’’فروع احکام کی تفریع کرتے تھے۔ تو اصل عقدہ حل ہو جاتا یعنی بنیاد اپنے قرار دادہ یا ائمہ کوفہ کے کلیات پر رکھتے نہ کہ احادیث پر۔‘‘
مولانا شبلی نعمانی حضرت امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے درایت کے چند اصولوں میں سے ایک اصول پر تبصرہ کرتے ہوئے کہتے ہیں:
امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ نے درایت کے چند اصول بنائے تھے، مثلاً جو حدیث عقل قطعی کے مخالف ہو وہ اعتبار کے قابل نہیں۔ یہ وہ قاعدہ ہے جس کو ابن جوزی نے تمام اصول درایت پر مقدم رکھا ہے۔ ابن جوزی چھٹی صدی میں گزرے ہیں۔ اس وقت تک علوم اسلامی اوجِ کمال تک پہنچ گئے تھے۔ اور فلسفیانہ خیالات کا اثر زیادہ عام ہو گیا تھا۔ لیکن امام ابوحنیفہ کے زمانہ تک مذہب میں عقل کا نام لینا ایک جرم عظیم تھا۔‘‘
مولانا ابوالکلام آزاد رحمہ اللہ عقل کے غلام، درایت کے اس اصول کے بارے میں کچھ یوں لکھتے ہیں:
’’جب امام ابو حنیفہ کے زمانہ میں یہ حال تھا تو ظاہر ہے کہ عہد صحابہ میں تو اس سے بھی بڑھ کر جرم ہو گا اور عہد نبوت کا حال تو پوچھنا ہی نہیں چاہیے۔ پس اس سے معلوم ہوا کہ عقل سے بڑھ کر اسلام میں کوئی شے بری نہیں کیونکہ جس قدر عہد نبوت سے بعد ہوتا گیا عقل کا اعتراف بڑھتا گیا۔ تعجب ہے کہ مؤلف نے کیونکر اس جملے کو لکھا اور کیونکہ ایک شخص یہ جملہ زبان سے نکال سکتا ہے جس کو اسلام کے دینِ فطری ہونے کا یقین ہو۔‘‘
مزید مولانا شبلی نعمانی امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے حوالے سے بالکل بے اصل بات لکھتے ہیں:
’’شروع میں عقل کے خلاف کسی حدیث پر جب امام حنیفہ نے بے اعتباری ظاہر کی تو لوگوں نے سخت مخالفت کی۔ اس قسم کی حدیثیں جن میں ناممکن اور محال واقعات بیان کیے گئے ہیں جب امام صاحب کے سامنے پیش کی جائیں تو وہ ان سے انکار کرتے تھے۔‘‘
مولانا آزاد نے اس پر یہ تبصرہ کیا ہے:
’’اس طرح کے انکار کا ایک واقعہ بھی کہیں منقول نہیں۔‘‘
پھر وہی بحث کہ مجتہد اور محدث کی تفریق کرتے ہوئے مولانا شبلی کی عبارت ملاحظہ کیجیے:
’’شریعت کے احکام اور مسائل اور ان کے اسرار و مصالح کے تتبع اور استقراء سے ایسا ذوق حاصل ہو سکتا ہے جس سے یہ تمیز ہو سکے کہ رسول اللہ نے یہ حکم دیا ہو گا یا نہیں لیکن ان اسرار اور مصالح کا تتبع محدث کا فرض نہیں ہے۔ وہ مجتہد کے ساتھ مخصوص ہے۔ اور یہی وجہ ہے کہ جب ان دقیق وجوہ کے لحاظ سے امام ابوحنیفہ نے بعض حدیثوں کو معطل قرار دیا تو ارباب ظاہر نے مخالفت کی۔‘‘
مولانا آزاد رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
’’محدث اور مجتہد کی تفریق خود باطل ہے۔ محدث غیر مجتہد کا وجود نہیں۔ محدثین کا مقصود فقہ و سیرۃ و اجتہاد کے جمع احادیث سے اور کچھ نہ تھا۔‘‘
مولانا شبلی نعمانی نے فقہ کی تاریخ بیان کی ہے اور اس کے بعد فقہ حنفی پر روشنی ڈالتے ہوئے اس بات کی وضاحت کی کہ کیا وجہ تھی کہ عالم عرب میں فقہ حنفی کو رواج نہ ہو سکا اور عرب ممالک کے سوا فقہ حنفی سارے بلادِ اسلامیہ میں پھیل گئی اور وہاں کا مذہب قرار پائی۔ مولانا شبلی نعمانی نے فقہ حنفی کے اس پھیلائو اور عدم پھیلائو پر جو نظریہ پیش کیا ہے پہلے اس کو ملاحظہ کیجیے:
عرب میں ان کے مسائل کو اس لیے رواج نہ ہو سکا کہ مدینہ میں امام مالک اور مکہ میں دوسرے ائمہ ان کے حریف موجود تھے لیکن عرب کے سوا تمام ممالک اسلامی میں فقہ حنفی کو رواج ہوا۔
اب مولانا آزاد رحمہ اللہ نے عالم عرب میں فقہ حنفی کے نہ پھیلنے کا جو ایک جملے میں سبب بیان کیا ہے وہ دریا کو کوزے میں بند کرنے کے مترادف ہے۔ دل چسپ امر یہ ہے کہ یہ جملہ کسی اور کے قلم سے نکلا ہوتا تو ہمارے دوستوں کے ہاتھوں اس کی عزت شاید ہی محفوظ رہتی لیکن مدت تک مولانا آزاد رحمہ اللہ کو اپنا ہم مسلک ثابت کرنے کے بعد ان حواشی کی طباعت پر مولانا آزاد رحمہ اللہ کے معاملے میں مکمل خاموشی اختیار کر لی گئی۔ آئیے دیکھیں مولانا آزاد رحمہ اللہ نے اس تجزیے پر کیا تبصرہ کیا ہے:
’’اصل حقیقت یہ ہے کہ جب تک حکومت عربوں کے ہاتھ میں رہی جو علوم اسلامیہ سے براہ راست واقف ہوتے تھے۔ اس وقت تک فقہ حنفی کو عروج نہیں ہوا۔ جب عربی حکومت کا تنزل شروع ہوا اور ترکوں کا دور شروع ہوا جو محض جاہل و وحشی تھے اس وقت سے فقہ حنفی عموماً سلاطین کا مذہب قرار دیا گیا اور اسی وقت سے تعین و تذہب و تعصب و جدال و خلاف کی بنیاد پڑی۔ مؤلف نے اس حقیقت کو چھپانا چاہا ہے۔‘‘
ہم نہیں کہتے کہ ترک جاہل تھے، وحشی تھے، اس لیے فقہ حنفی میں ان کو کیا کیا سہولتیں ملیں، اور ان کو یہ مذہب اتنا پسند آیا کہ سارے ترک سلاطین نے اس کو اپنا بنا لیا۔ مزید مولانا شبلی لکھتے ہیں:
بعضوں کا خیال ہے اور خاص کر ابن حزم کے کہ حنفی مذہب کو قاضی ابو یوسف کے قاضی القضاۃ ہونے کی وجہ سے عروج ہوا۔ حالانکہ قاضی ابو یوسف کے عروج سے پہلے پچاس سال تک مذہب حنفی فروغ پاتا رہا تھا اور اس دور میں ان کے سینکڑوں شاگرد قضا کے عہدوں پر مامور ہوچکے تھے۔
مولانا آزاد رحمہ اللہ نے قاضی ابو یوسف رحمہ اللہ کے سیکڑوں شاگردوں کے منصبِ قضاء پر فائز ہونے کے اس افسانے پر ایک جملے کا تبصرہ کر کے اس کے عدم حقیقت ہونے پر مہر ثبت کر دی ہے۔ مولانا نے لکھا ہے:
’’اس کا کیا ثبوت ہے؟‘‘
مولانا شبلی کے خیال میں گو حسنِ قبول اور عام اثر کے لیے جو اسباب درکار ہیں وہ بالکل موجود نہ تھے تاہم فقہ حنفی کا تمام ممالک اسلامیہ میں اس وسعت اور ترقی کے ساتھ رواج پانا یقینا اس بات کی دلیل ہے کہ ان کا طریقہ فقہ انسانی ضرورتوں کے لیے نہایت موزوں اور مناسب ہے۔
اس پر مولانا آزاد کا تبصرہ:
’’ظلمات بعضہا فوق بعض‘‘ پہلے فقہ حنفی کی تمام ممالک اسلامیہ میں وسعت ثابت کر دی جائے پھر اس پر تفریعات ہوں۔ شام، مصر، حجاز، یمن، نجد، عراق، اندلس کہیں بھی فقہ حنفی کو مقبولیت نہ ہوئی البتہ عربی خلافت کے خاتمہ کے بعد ترکی عہد میں۔‘‘
مولانا شبلی حضرت امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے بارے میں مبالغہ کی انتہا تک جا پہنچے ہیں کہتے ہیں:
فقہ کے دوسرے حصہ میں جس کا تعلق قانون سے ہے امام ابو حنیفہ تمام مجتہدین سے ممتاز ہیں بلکہ سچ تو یہ ہے کہ اسلام میں کوئی شخص واضع قانون گزرا ہے تو وہ صرف امام ابو حنیفہ ہیں۔ مذہبی لوگوں میں جو اوصاف نہایت قابل قدر سمجھے جاتے ہیں وہ ہیں دنیاوی امور سے علیحدگی کم آمیزیٔ معاملات میں سختی‘ عام واقعات سے بے خبری، غیر مذہب والوں سے تنفر، یہ تمام اوصاف ہیں جو تمدن کے مخالف ہیں۔‘‘
مولانا آزاد نے محدثین کا کیا شاندار دفاع کیا ہے:
’’مؤلف نے کس بے دردی سے تمام ائمہ اسلام کی تحقیر کی ہے۔ علی الخصوص محدثین کی جو تمام امت میں اعقل و افہم گروہ تھا اور حکمت نبوی سے مالا مال۔ اگر یہ گروہ تمدن کا ساتھ نہیں دے سکتا تو اس کے معنی یہ ہیں کہ اسلام کو تمدن سے کوئی تعلق نہیں۔‘‘
شبلی نے ان خصوصیات کا ذکر کیا ہے جن کی وجہ سے
حنفی فقہ کو دوسری فقہوں پر ترجیح ہے۔ ان میں سب سے مقدم اور قابل قدر خصوصیت جو فقہ حنفی کو حاصل ہے وہ مسائل کا اسرار اور مصالح پر مبنی ہونا ہے۔
مولانا آزاد رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
’’یہ محض مؤلف کی اختراع ہے جس کی کوئی اصلیت نہیں۔ ناقابل انکار دلائل سے ثابت کیا جا سکتا ہے کہ فقہ حنفی جس قدر اسرار شریعت کے خلاف ہے کوئی فقہ نہیں۔‘‘
شبلی نے فقہ حنفی کو نہایت آسان اور وسیع قرار دیا ہے، اور لکھا ہے کہ :
سہل ہونے کی بنا پر شعراء اور مصنفین اس کو ضرب المثل کے طور پر ذکر کرتے تھے۔ انوری نے جو ایک فحاش اور بدزبان شاعر تھا اگرچہ برے موقع پر اس کا استعمال کیا ہے اور کہا ہے ^
’’چوں رخصتہائے بوحنیفہ‘‘
تاہم اس سے ثبوت ملتا ہے کہ حنفی فقہ آسان ہے۔ عبادات اور معاملات کا کوئی باب لے لیا جائے۔ امام ابو حنیفہ کے مسائل ایسے آسان اور نرم ہیں جو شریعت سہل کی شان ہے۔

اب اس پر مولانا آزاد رحمہ اللہ کا تبصرہ دیکھیے اور اندازہ کیجیے کہ مولانا آزاد رحمہ اللہ کی نظر میں فقہ حنفی کی بطور قانون کیا حیثیت تھی:
’’صرف چند مسائل کی وجہ سے یہ خیال پیدا ہو گیا ہے ورنہ اس کی کوئی اصلیت نہیں فقہ حنفی کا آسان و سہل ہونا ایک طرف اکثر حالتوں میں تو کوئی متمدن و حیات روست آبادی اس پر عمل کر کے زندہ ہی نہیں رہ سکتی۔
مولانا ابوالکلام آزاد رحمہ اللہ کے حواشی پر مشتمل یہ کتاب ۵۸۰ صفحات پر محیط ہے جس میں عربی، اردو، انگریزی، فارسی کتب پر مولانا کے تبصرے موجود ہیں جو مختلف علوم مثلاً فلسفہ مذہب، ادب، جغرافیہ و تاریخ سے متعلق ہیں۔
اہل الحدیث آف لائن ہے   یہ اقتباس دیں
ان 11 ارکان نے اس مفید پوسٹ کے لیے اہل الحدیث کا شکریہ ادا کیا ہے
پرانا 28-12-11, 02:40 PM   #2
كفايت الله
-: ركن مجلس علماء :-
 
كفايت الله کی نمائندہ تصویر
 
تاریخ شمولیت: 2010-11-09
قیام: ممبئي
جنس: male
پوسٹس: 1,855
پوائنٹس: 1933
كفايت الله كفايت الله كفايت الله كفايت الله كفايت الله كفايت الله كفايت الله كفايت الله كفايت الله كفايت الله كفايت الله
كفايت الله کی طرف بذریعہ Skype  پیغام ارسال کریں
جزاکم ربی خیرا ۔
كفايت الله آف لائن ہے   یہ اقتباس دیں
ان 2 ارکان نے اس مفید پوسٹ کے لیے كفايت الله کا شکریہ ادا کیا ہے
پرانا 05-12-12, 10:34 AM   #3
ندوی
-: ركن مجلس علماء :-
 
تاریخ شمولیت: 2011-11-15
جنس: male
پوسٹس: 49
پوائنٹس: 0
ندوی
اناللہ واناالیہ راجعون
اگریہ واقعتامولاناآزادکے ہی حواشی ہیں تواس سے تصویر کادوسرارخ ضرورسامنے آتاہے لیکن ایسارخ جس میں علم کی آمیزش نہیں ۔
ندوی آف لائن ہے   یہ اقتباس دیں
پرانا 05-12-12, 12:03 PM   #4
سالم فریادی
-: معاون :-
من قال مالا ينبغى سمع ما لا يشتهى
 
تاریخ شمولیت: 2012-11-08
قیام: رياض سعودى عرب
جنس: male
پوسٹس: 19
پوائنٹس: 0
سالم فریادی سالم فریادی سالم فریادی سالم فریادی سالم فریادی سالم فریادی سالم فریادی
اقتباس:
ندوی نے لکھا ہے ۔۔ پیغام کا مشاھدہ کریں
اناللہ واناالیہ راجعون
اگریہ واقعتامولاناآزادکے ہی حواشی ہیں تواس سے تصویر کادوسرارخ ضرورسامنے آتاہے لیکن ایسارخ جس میں علم کی آمیزش نہیں ۔
یعنی آپ کے بقول حنفیت کے خلاف کچھ سنجیدہ اور واقعیت پر مبنی حقائق قلم بند کرنا علم نہیں جھالت ہے؟؟؟؟ - بہتر تو یہ ہوتا کہ آپ ان حواشی کو مولانا آزاد کا حاشیہ نا ہونا ثابت کرتے
اگر مولانا آزاد رحمہ اللہ کے حواشی نہیں تو کس کے ہیں یہ بھی بتادیتے -؟؟؟؟
سالم فریادی آف لائن ہے   یہ اقتباس دیں
جواب پوسٹ کریں

Bookmarks

ٹیگز
حنفی, ابو, ابوالکلام آزاد, الکلام, رحمہ اللہ, آزاد, مولانا, فقہ

موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز

پوسٹ کرنے کے قوانین
You may not post new threads
You may not post replies
You may not post attachments
You may not edit your posts

سمائلز آن ہے
[IMG] کوڈ آن ہے
HTML کوڈ آف ہے

قوانین
فورم منتخب کریں

مشابہ موضوعات
موضوع مصنف فورم جوابات آخری پیغام
مزارات پر ہونے والی خرافات محمد عاصم اسلامی متفرقات 15 25-01-14 01:53 AM
توحید کیا ہے ؟ کیا مسلمان بھی شرک کرسکتے ہیں؟ فاروق مَجلِسُ طُلابِ العِلمِ 35 22-12-13 08:55 AM
ریاض الصالحین باب 51-50 mahajawad1 حدیث - شریعت کا دوسرا اہم ستون 2 18-08-11 05:19 PM
ریاض الصالحین باب 57 سے 64 تک mahajawad1 حدیث - شریعت کا دوسرا اہم ستون 3 17-08-11 09:05 PM
اللہ تعالی کی شریعت کے خلاف فیصلے کرنے کی دنیا وآخرت میں عقوبت وسزا ابوبکرالسلفی اتباعِ قرآن و سنت 0 22-02-11 10:25 AM


فورم کے تمام اوقات GMT +3 کے مطابق . وقت ہے ابھی 09:05 AM


Powered by vBulletin Version 3.8.7
® Copyright ©2000 - 2014, Jelsoft Enterprises Ltd. Urdu Translation by A.REHMAN
User Alert System provided by Advanced User Tagging (Lite) - vBulletin Mods & Addons Copyright © 2014 DragonByte Technologies Ltd.
Contact admin : admin@urduvb.com