>URDU MAJLIS FORUM
 

واپسی   URDU MAJLIS FORUM > ::: مجلسِ تفریح ::: > متفرقات


متفرقات :: جس موضوع کیلئے سیکشن موجود نہیں اسے آپ یہاں پوسٹ کرسکتے ہیں ::

جواب پوسٹ کریں
 
موضوع کے اختیارات ظاہری انداز
پرانا 23-02-09, 11:43 PM   #1
m aslam oad
-: منفرد :-
 
m aslam oad کی نمائندہ تصویر
 
تاریخ شمولیت: 2008-11-14
قیام: کراچی
جنس: male
پوسٹس: 2,402
پوائنٹس: 306
m aslam oad m aslam oad m aslam oad m aslam oad m aslam oad m aslam oad m aslam oad m aslam oad m aslam oad m aslam oad m aslam oad
m aslam oad کی طرف بذریعہ AIM پیغام ارسال کریں
Question سرخ گلاب، ویلنٹائن ڈے اور ہم

جیسے ہی عیسوی کیلنڈر کا دوسرا مہینہ شروع ہوتا ہے موسم بہار کی آمد آمد ہوتی ہے ارض و سمائ کے رنگ محل میں ہر طرف قدرت کی کاریگری دلکش منظر پیش کرتی ہے۔ ہر طرف پھول ہی پھول اور رنگ ہی رنگ نظر آتے ہیں۔ انہی رنگ برنگے پھولوں میں سے ایک سرخ گلاب بھی ہے جو اپنے خالق کی صناعی اور حسن و رعنائی کا دلنشین پیکر ہے۔ ہمیشہ سے پیار و محبت کی علامت کہ اس کے حسن و جمال کو دیکھ کر انسان بے خود سا ہو جاتا ہے۔ اس بے خودی کے عالم میں صحیح اور غلط کی پہچان بھول جاتا ہے۔ گلاب کی خوبصورتی سے لطف تو اٹھاتا ہے لیکن اس کے پیچھے چھپے دست قدرت کو نہیں دیکھ پاتا۔ اسی موسم بہار میں ایک ایسا دن بھی آتا ہے جب صبح سے رات گئے تک پھولوں کا سفر جاری رہتا ہے۔ پوری دنیا میں سرخ گلابوں کا کاروبار اپنے عروج پر ہوتا ہے۔ سرخ گلاب نہ بھی ملے تو دوسرے رنگوں کے گلاب خرید کر چاہنے والوں کو بھجوائے جاتے ہیں۔ جی ہاںٝ 14 فروریٝ ویلنٹائن ڈےٝ
اہل مغرب کے اوباش طبقے کا پسندیدہ تہوار، اور آج ہماری نوجوان نسل بھی اس دن کو ٴٴیوم محبتٴٴ کے طور پر منانے کے لئے اپنی ساری توانائیاں خرچ کر رہی ہے۔ آیئے ذرا دیکھیں کہ ویلنٹائن ڈے کا پس منظر کیا ہے؟
ویلنٹائن ڈے کیا ہے؟ اس کے بارے میں بہت سی روایات ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ اس کا آغاز ایک رومی دیوتا ٴٴلوپرکالیاٴٴ کی صورت میں ہوا۔ قدیم رومی مرد اس تہوار کے موقع پر اپنی دوست لڑکیوں کے نام اپنی آستینوں پر سجا کر چلتے تھے۔ بعض اوقات یہ جوڑے تحائف کا تبادلہ بھی کرتے تھے۔ بعض اس کا تعلق پرندوں کے ایام اختلاط سے ظاہر کرتے ہیں اور بعض اس تہوار کو ٴٴسینٹ ویلنٹائنٴٴ کے نام سے منسوب کرتے ہیں۔ اسے ہر اس فرد کے لئے اہم سمجھا جاتا ہے جو رفیق یا رفیقہ حیات کی تلاش میں ہو۔ سترھویں صدی عیسوی کی ایسی ہی ایک پرامید دوشیزہ کے بارے میں یہ مشہور ہے کہ اس نے رات کو سونے سے پہلے اپنے تکیئے کے ساتھ پانچ پتے ٹانکے۔ اس کا خیال تھا کہ ایسا کرنے سے وہ خواب میں اپنے ہونے والے خاوند کو دیکھ سکے گی بعد میں لوگوں نے اس کی جگہ تحائف اور کارڈز کا سلسلہ شروع کر دیا۔ ٟبحوالہٜ ویلنٹائن ڈے منانا ضروری ہے؟ٞ
Saint Valentine کون تھا؟
17 ویں صدی عیسوی میں روم میں ویلنٹائن نامی ایک پادری تھا جو ایک راہبہ کے عشق میں گرفتار ہو گیا۔ عیسائیت میں راہبوں اور راہبات کے لئے نکاح کرنا ممنوع ہے۔ سینٹ ویلنٹائن نے اپنی معشوقہ کو تسلی دی کہ 14 فروری کا دن ایسا ہے کہ اس روز اگر کوئی راہب یا راہبہ ملاپ کرے تو کوئی گناہ نہیں سمجھا جاتا۔ راہبہ نے اس کی بات پر یقین کر لیا اور جوش عشق میں کلیسا کی روایات کی سنگین خلاف ورزی کرنے کے جرم میں ان دونوں کو قتل کر دیا گیا۔ بعد میں منچلوں نے اس کو ٴٴشہید محبتٴٴ کے درجے پر فائز کرتے ہوئے اس کی یاد میں یہ دن منانا شروع کر دیا۔ یوں اس کا نام ویلنٹائن ڈے مشہور ہو گیا۔
مغربی معاشرے میں محبت کا مفہوم ٴٴجنسی کششٴٴ ہے۔ ویلنٹائن ڈے کی تمام روایات بھی جنسیت سے متعلق ہیں اس لئے مغربی معاشرے کا یہ پسندیدہ تہوار ہے۔ مغرب ذدہ آوارگیوں کے اسیر لوگ پاکستان میں بھی اس کلچر کو فروغ دینا چاہتے ہیں اور اس دن کو منانے کے لئے ہر قسم کے گناہ، اسراف، آوارگی، بے حیائی اور فحاشی کو ہمارے معاشرے میں عام کرنا چاہتے ہیں جس کی تمام تر ذمہ داری ہماری حکومت کے ساتھ ساتھ الیکٹرونک و پرنٹ میڈیا پر عائد ہوتی ہے جن کی ساری توجہ اس فحش اور بے ہودہ تہوار کی پبلسٹی پر مرکوز ہے ٟکسی حد تک ہم سب بھی ذمہ دار ہیںٞ بنا یہ سوچے کہ ایک برائی کو معاشرے میں فروغ دینا تمام برائی کرنے والوں کا گناہ اپنے سر پر لادنا ہے۔
حضرت عمرۮ کا قول ہے ٴٴاللہ کے دشمنوں سے ان کے تہواروں میں ٟہر قسم کی شرکت سے ٞ اجتناب کروٴٴ
اللہ تعالیٰ قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہےٝ
ٴٴاللہ تعالیٰ سرعام برائی کی تشہیر کو پسند نہیں کرتاٴٴ
ٴٴفواحش کے قریب بھی نہ جائو ظاہر ہوں یا پوشیدہٴٴ
کیا ہم نے کبھی یہ سوچاٝ کہ
یہ کیسی محبت ہے جس کی بنیاد ہی بے حیائی پر ہے۔ دوسروں کی نقالی میں ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ ٴٴجو شخص جس قوم کی مشابہت اختیار کرے گا وہ انہیں میں سے ہو گاٴٴ ٟابو دائودٞ
یہ وہ لوگ ہیں جن کو قرآن مغضوب اور الضالین کے نام سے یاد کرتا ہے اور ہم ان کو اپنا آئیڈیل بناتے ہوئے ان کے ہر عمل کی اندھا دھند تقلید کرنے میں لگے ہوئے ہیں صرف اپنے آپ کو Moderate Muslim کہلوانے کے لئے۔ ہماری حکومت اپنے مغربی آقائوں کو خوش کرنے کے لئے کبھی میراتھن ریس کا انعقاد کرواتی ہے تو کبھی حقوق نسواں بل پاس کرتی ہے کبھی ویلنٹائن پارٹیز تو کبھی بسنت۔ اغیار کی پرستش میں ہم اس قدر آگے جا چکے ہیں کہ اپنے دین کی ساری تعلیمات کو پس پشت ڈال دیا ہے اور یہ بھول گئے ہیں کہ کفار و مشرکین کی مشابہت نہ صرف صراط مستقیم سے ہٹا کر گمراہی کی طرف لے جاتی ہے بلکہ رسولۖ کی نافرمانی اور اللہ کے غضب کا باعث بھی بنتی ہے کیونکہ مشاہبت سے مماثلت پیدا ہوتی ہے۔ پھر غیر مسلموں کے رسم و رواج، طور اطوار، رہن سہن، چال ڈھال ان کے تہوار سب اچھا لگنے لگتا ہے اور پیارے نبیۖ کی تعلیمات فراموش کر دی جاتی ہے۔ آج مسلمان اپنے انجام سے بے خبر اپنی شناخت کھو چکا ہے۔ ہنود و یہود کے طریقے اپنا کر فخر محسوس کرتا ہے، روشن خیالی، اعتدال پسندی اور ماڈرن ازم کے نام پر مسلم امہ کو فحاشی و بے حیائی کے گڑھے کے کنارے کھڑا کر دیا گیا ہے۔ جو لوگ اس کے ذمہ دار ہیں وہ اللہ کے اس فرمان کو آنکھیں کھول کر پڑھ لیں ٴٴجو لوگ مسلمانوں میں بے حیائی پھیلانے کے آرزو مند رہتے ہیں ان کے لئے دنیا و آخرت میں درد ناک عذاب ہےٴٴ ٟالنورٞ
ٴٴجو شخص رسول اللہۖ کی مخالفت کرے گا اور اہل ایمان کی راہ چھوڑ کر کسی اور راہ پر چلے گا اس کے بعد کہ ہدایت اس پر واضح ہو چکی، تو ہم اس کو اسی طرف چلائیں گے جدھر وہ پھر گیا اور پھر اسے جہنم میں جھونکیں گے جو بہت برا ٹھکانہ ہےٴٴ۔ ٟالنسائ 115ٞ
محبت کے نام پر فحاشی اور بے حیائی کو فروغ دینے والے اپنے انجام کو بخوبی جان لیںٝ محبت تو وہ پاکیزہ جذبہ ہے جس کا اظہار سب سے پہلے خالق کائنات اپنی مخلوق سے کیا۔ ستر مائوں سے بڑھ کر محبت کرنے والی ہستی کیا اس بات کی حقدار نہیں کہ اس سے محبت کی جائے۔ یہی وہ جذبہ ہے جس کی وجہ سے وہ اپنی مخلوق کو ڈھیل دیئے جاتا ہے کہ شاید اب سدھر جائے لیکن جب کوئی قوم اپنی تمام حدیں پار کر لیتی ہے تو اللہ کے عذاب کی مستحق بن جاتی ہے۔ جس طرح اس کی محبت کی کوئی حد نہیں اسی طرح اس کا عذاب بھی شدید ہوتا ہے۔ محبت وہ ہے جو انسان کو اپنے رب سے ہو، اس کے پیارے حبیبۖ سے ہو کہ محبوب کا محبوب بھی محبوب ہوتا ہے۔
ٴٴ اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو میری پیروی کرو اللہ تم سے محبت کرے گاٴٴٟآل عمران 31ٞ
جس دل میں جنت کے حصول کی لگن ہو پھر وہ اپنا مال اور وقت ویلنٹائن جیسے بے ہودہ اور فحش تہوار پر برباد نہیں کرتا۔ کیونکہ فضول خرچ شیطان کا بھائی ہوتا ہے اور شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے۔ وہ کبھی نہیں چاہے گا کہ جس کی وجہ سے میں راندہ درگاہ ہوا وہ جنت میں داخل ہو جائے اسی لئے تو وہ گمراہ قوموں کے اعمال ہمیں مزین کر کے دکھاتا ہے تاکہ ہم دھوکے میں مبتلا ہو جائیں لیکن ہمیں یہ کبھی نہیں بھولنا چاہئے کہ
ٴٴدنیا کا فائدہ بہت تھوڑا ہے اور آخر اس کے لئے بہتر ہے جو پرہیزگار ہےٴٴ
نبیۖ کی محبت کے دعوے کرتے تو ہماری زبانیں نہیں سوکھتیں لیکن عمل بالکل اس کے برعکس ہے۔
بہت شور سنتے تھے پہلو میں دل کا
جو چیرا تو اک قطرئہ خوں نہ نکلا
اگر ہمیں واقعی اپنے نبیۖ سے اور اس کے طریقے سے محبت ہے تو اس کے لئے ہمیں کچھ کر کے دکھانا ہو گا۔ یہ محبت قربانی مانگتی ہے۔ خواہشات کی، وقت کی، مال و دولت کی اور جان کی اور ہر اس طریقے کی جو اسلام کے خلاف ہو۔
ہمارے پاس اب بھی وقت ہے کہ ہم شیطان کے دھوکے سے باہر آ جائیں کہ ابھی مہلت عمل باقی ہے لیکن اگر یہ ختم ہو گئی تو پھر وہی کاٹنا ہو گا جو آج بو رہے ہیں، پھر یا تو وہ جہنم ہے جس میں اوڑھنا بچھونا آگ کا ہو گا اور کھانے کو تھوہر و زقوم کا درخت اور پینے کوپیپ و خون کے پیالے ہونگے اور یا وہ ابدی جنت ہے جس کی نعمتوں کے بارے میں نہ کسی آنکھ نے دیکھا نہ کسی کان نے سنا۔
فیصلہ ہمارے ہاتھ میں ہے کہ ہم اپنے لئے کیا پسند کرتے ہیں؟
کبھی نہ ختم ہونے والی زندگی کی ابدی راحتیں یا چند روزہ زندگی کی لذتیں۔
اللہ اور اس کے رسولۖ کی محبت یا گمراہ و مغضوب قوموں کے طریقوں سے محبت ۔
حیادار اور اسلامی تعلیمات پر مبنی معاشرے کی تشکیل یا بے حیائی، فحاشی اور بے راہ روی پر مبنی معاشرے کی تشکیل۔
ہمیشہ کی جنت یا عذاب الیم۔
آج پوری دنیا میں مسلمان ذلیل و خوار ہو رہے ہیں۔ کیوںà؟
قرآن کی تعلیمات سے دوری اور نبیۖ کی سیرت کو نہ جاننے کی وجہ سے۔ اگر ہمیں اپنی عظمت رفتہ پھر سے حاصل کرنی ہے تو اپنے اسلاف کے نقش قدم پر چلنا ہو گا نہ کہ حقیقت رائے اور ویلنٹائن کے۔ اور قرآن کو ہاتھ میں لے کر اپنے آپ کو عمل سے مزین کر کے ہر دل پر دستک دینی ہو گی کہ اسلام میں ایسی سطحی اور فحش قسم کی محبتوں اور ان کی یاد میں منائے جانے والے دنوں کی کوئی گنجائش نہیں۔
وہ معزز تھے زمانے میں مسلماں ہو کر
اور تم خوار ہوئے تارک قرآن ہو کر
آخر میں حضرت عمرۮ کا ایک قول کہ ٴٴہم وہ لوگ ہیں جنہیں اللہ نے اسلام کے ساتھ مربوط و منسلک رہنے میں عزت عطا فرمائی ہے۔ اگر ہم نے اسلام کے علاوہ کسی اور مذہب یا تحریک سے اپنی عزت کی راہ ڈھونڈنے کی کوشش کی تو اللہ تعالیٰ ہمیں ذلیل و خوار کر دے گا۔ٴٴ
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں صراط مستقیم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ ٟآمینٞ http://www.jarrarnews.com/index.php?news=47
__________________
اسلام علیکم نوٹ فرمائیں سابقہ نک نیم ali-oad کو m aslam oad میں تبدیل کردیا ہے
m aslam oad آف لائن ہے   یہ اقتباس دیں
ان 9 ارکان نے اس مفید پوسٹ کے لیے m aslam oad کا شکریہ ادا کیا ہے
پرانا 02-02-10, 12:56 PM   #2
ام نور العين
-: ركن مجلس علماء :-
روحی فداک یا رسول اللہ ﷺ
 
ام نور العين کی نمائندہ تصویر
 
تاریخ شمولیت: 2009-03-30
قیام: پاک سرزمین
جنس: female
پوسٹس: 18,140
پوائنٹس: 17248
ام نور العين ام نور العين ام نور العين ام نور العين ام نور العين ام نور العين ام نور العين ام نور العين ام نور العين ام نور العين ام نور العين
جزاکم اللہ خیرا
__________________

روحی فداک یا رسول اللہ ﷺ
********
رحمک اللہ یا اخی عبدالرحمن بن عبدالجبار و غفر لک و اسکنک الفردوس
********
ام نور العين آف لائن ہے   یہ اقتباس دیں
پرانا 02-02-10, 05:10 PM   #3
ابو یاسر
-: ممتاز :-
 
ابو یاسر کی نمائندہ تصویر
 
تاریخ شمولیت: 2009-08-13
قیام: ایم ایچ
جنس: male
پوسٹس: 2,356
پوائنٹس: 921
ابو یاسر ابو یاسر ابو یاسر ابو یاسر ابو یاسر ابو یاسر ابو یاسر ابو یاسر ابو یاسر ابو یاسر ابو یاسر
جزاک اللہ بھائی
__________________



ابو یاسر آف لائن ہے   یہ اقتباس دیں
پرانا 03-02-10, 02:38 PM   #4
بنت واحد
-: ممتاز :-
 
بنت واحد کی نمائندہ تصویر
 
تاریخ شمولیت: 2008-11-25
قیام: pakistan
جنس: female
پوسٹس: 12,008
پوائنٹس: 2779
بنت واحد بنت واحد بنت واحد بنت واحد بنت واحد بنت واحد بنت واحد بنت واحد بنت واحد بنت واحد بنت واحد
جزاک اللہ
__________________
زندگی گزارنے کا صحیح لطف اسی میں ہے کہ آپ کا دل محبت اور دماغ عقل سے بھرا ہو
بنت واحد آف لائن ہے   یہ اقتباس دیں
اس رکن نے اس مفید پوسٹ کے لیے بنت واحد کا شکریہ ادا کیا ہے
پرانا 03-02-10, 03:48 PM   #5
ابومصعب
-: منفرد :-
 
تاریخ شمولیت: 2009-04-11
جنس: male
پوسٹس: 4,064
پوائنٹس: 1664
ابومصعب ابومصعب ابومصعب ابومصعب ابومصعب ابومصعب ابومصعب ابومصعب ابومصعب ابومصعب ابومصعب
السلام علیکم
بہت ہی عمدہ اور مدلل انداز میں‌ اس قبیح فعل پر روشنی ڈالی گئی۔
میرے چند سوالات ہیں۔
آج ہم جس ماحول سے گذر رہے ہیں، پھر کیسے اور کیونکر ہم ہماری جنریشن کو اس قباحت سے محفوظ رکھ سکتے ہیں۔
؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟ ؟؟؟
ہمارے گھروں‌میں‌کیبل کنکشنز۔۔۔جہاں ہم "اجتماعی طور پر "عام و خاص" پروگرامس، سئیرلز،فلمس وغیرہ دیکھتے ہیں۔۔جہاں نامحرم وغیرہ کی قید کے بنا تمام مناظر بے باکی سی فلمادیئے جاتے ہیں‌ذہنی عیاشی کے لئے۔
ہمارا خاندانی نظام کچھ ایسا ہے کہ ہم وہان‌مخلوط رجحانات پر روک نہیں لگاسکتے۔۔۔۔اور کزنز کے درمیان حجاب کو دقیانوسیت سے تعبیر کردیتے ہیں۔یا کچھ بھی تعبیر نہ بھی کریں۔۔کون اسکو غیر اسلام کی روح سے دور سمجھتا ہے؟
ہمارے ایجوکیشنل سسٹم میں‌کہیں‌نہ کہیں مخلوط سسٹم پایا جاتا ہے۔۔۔۔اسکولز میں، یا کالجز میں ، یا اکاڈیمیز میں‌، یا ٹیوشنز میں‌یا۔۔۔۔
ہمارے پرینٹس کو اتنا ٹائم نہیں‌ہے کہ وہ ہماری حرکات و سکنات پر نظر رکھیں کہ ہم کہا‌ں‌جاتے ہیں، کس کے ساتھ جاتے ہیں،کیوں‌جاتے ہیں، اور یہ یہ سب کرتے ہیں تو وہ ہماری اسلامی باونڈریس کے اندر ہیں۔۔۔۔
ہمارے طالبات تو طلبا کے ہاتھوں‌میں موبائل فونز انی ذہن سازی اور اخلاقی تربیت پر نگاہ رکھے بغیر دے دئے گئے ہیں۔۔۔۔
انٹرنیٹ کنیکشنز پر کسی قسم کی کوئی نظر نہیں‌۔
اب کیسے اور کیونکر ہم ایسی اور اس جیسی دوسری قبیح افعال سے ہمارے جنریشن کو محفوظ رکھ سکتےہیں۔۔
کیا یہ سب عام طور پر ہماری سوسائیٹی اور ہمارے خاندانی نظام کا حصہ نہیں‌۔۔۔
؟؟؟؟؟؟؟؟؟
؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟
؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟

آخری مرتبہ ترمیم کی گئی بذریعہ ابومصعب : بوقت 03:51 PM مؤرخہ 03-02-10
ابومصعب آف لائن ہے   یہ اقتباس دیں
اس رکن نے اس مفید پوسٹ کے لیے ابومصعب کا شکریہ ادا کیا ہے
پرانا 13-02-10, 09:51 AM   #6
ابومصعب
-: منفرد :-
 
تاریخ شمولیت: 2009-04-11
جنس: male
پوسٹس: 4,064
پوائنٹس: 1664
ابومصعب ابومصعب ابومصعب ابومصعب ابومصعب ابومصعب ابومصعب ابومصعب ابومصعب ابومصعب ابومصعب
السلام علیکم
ویلینٹائنز ڈے کا منحوس فتنہ ہمارے سروں‌پرہے۔
ہمارے ذمہ داری انفرادی اور اجتماعی طور پر جو بنتی ہے اسکو ادا کرنے کا ہم عہد کریں۔
ہر انڈیویجول اپنے تئیں‌کوشش کرسکتا ہے۔
اپنے فرینڈز کو اسکی تباہی سے آگاہ کریں۔
خوف خدا دلائیں۔
بعد کی زندگی کے تنائج سے آگاہ کریں۔
جیسا کہ ہمیں‌معلوم ہے کہ "دوستی اور دشمنی جس نے اللہ کی لئے کی" اسنے اپنے ایمان کو کامل کرلیا۔
یہ ایک سنہری موقع ہے ، اللہ تعالی ہمیں‌موقع عطا کر رہا ہے کہ "آو اجر و ثواب لوٹ لو"
ہم ہمارے برادران و سسٹران
اپنے دوست و احباب
اپنے عزیز و رشتہ دار
اپنے پڑوس و محلہ
اپنے کالج،اسکو،اکاڈیمیز،سڑک،کا رنرز اور پبلک اسپاٹ پر جہاں جہاں‌ایسی طوفان بدطمیزی دیکھیں، حکمت کے ساتھ جاکر انہیں متبنہ کریں‌کہ یہ کام مسلمانوں‌کے کرنے کے نہیں‌بلکہ یہ حدود اللہ کی خلاف ورزی ہے۔
اپنے وہ قریبی دوست جو اس لعنت میں مبتلا ہیں‌انہیں‌راہ راست پر لانے کا ہمیں‌ایک بہترین موقعہ ملا ہے کہ ہم آگے آئیں۔
ہماری دوستی کی بنیاد صرف خلوص و محبت نہیں‌ہماری رشتہ صرف بلڈ ریلیشنز کو لیکر نہیں‌بنی بلکہ ایسے موقع ہوتے ہیں کہ ہم اپنے ان تمام ریلیشنز کا سارٹ کرلیں‌جہاں‌جہاں‌بے حیائی اور برائیوں‌کی بو آتی ہے۔۔۔انہیں اس موقع سے بتادیں کہ اگر ہمیں اللہ اور اسکے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی خوشنودی چاہتے ہیں تو ہمیں ایسے کبائر سے بچنا چاہیے۔

یہ موقع ہم سے تقاضہ کرتا ہے کہ ہم۔۔۔
ای میلز۔۔۔
ایس ایم ایس کے ذریعہ ویلنٹآئیز ڈے کا فروغ نہ کریں‌بلکہ اسکی تباہی سے دنیا کو آگاہ کریں۔
اللہ ہماری مدد کرے۔۔آمین
ابومصعب آف لائن ہے   یہ اقتباس دیں
اس رکن نے اس مفید پوسٹ کے لیے ابومصعب کا شکریہ ادا کیا ہے
پرانا 13-02-10, 01:48 PM   #7
ابومصعب
-: منفرد :-
 
تاریخ شمولیت: 2009-04-11
جنس: male
پوسٹس: 4,064
پوائنٹس: 1664
ابومصعب ابومصعب ابومصعب ابومصعب ابومصعب ابومصعب ابومصعب ابومصعب ابومصعب ابومصعب ابومصعب
ویلینٹائین پر ایک بہترین مضمون


معاشرتی حالات روزبروز ابتر ہوتے جا رہے ہیں جس کے سبب انسان کی معاشرتی زندگی مسائل و مصائب اور پیچیدگی کا شکار ہو گئی ہے- بے اطمینانی و بے چینی کا عالم یہ ہے کہ معاشرے کے کتنے ہی افراد ایسے ہیں جن کی ذہنی تناو اور مسائل کی وجہ سے راتوں کی نیند اڑ ی ہوئی ہے- بے یقینی کا عالم یہ ہے کہ موجودہ معاشرہ کے افراد کواپنا مستقبل تاریک دکھائی دے رہا ہے- یہ الگ بات ہے کہ مادی اعتبار سے بھلے وہ ترقی کی منزلیں طے کر رہے ہوں کاروبار پھیلا رہے ہوں مکانات کی تعمیر کر رہے ہوں یا بینک بیلنس جمع کر رہے ہوں لیکن ذہنی و قلبی سکون نہ ہونے کی وجہ سے وہ اپنی زندگی سے مایوس دکھائی دیتے ہیں- اس بے اطمینانی اور بے قراری کی سب سے بڑی وجہ معاشرتی برائیاں اور بڑھتے جرائم ہیں-

ہمارے معاشرے میں پے در پے جونت نئی برائیاں داخل ہو رہی ہیں ان کی کمان مغربی اقوام کے ہاتھوں میں ہے- احتیاط کا تقاضہ تو یہ تھا کہ مغرب کی چمک دمک والی تہذیب سے انفرادی زندگی میں بھی اور اجتماعی زندگی میں بھی پرہیز کرنے کی کوشش کی جاتی لیکن تشویشناک بات یہ ہے کہ ہمارے معاشرے کے افراد اس کی طرف تیزی سے بڑھتے دکھائی دے رہے ہیں- چاہے لباس کا معاملہ ہو یاطعام و قیام کا معاملہ، نئی نسل بڑے شوق سے ان کپڑوں کو زیب تن کر رہی ہے، جو مغربی تہذیب کی عکاسی کرتے ہیں- عورتیں مزید دو قدم آگے بڑھ کر عریاں فیشن والے کپڑے پہنتی دکھائی دے رہی ہیں- مکانات کی تعمیر اورکھانے کی چیزوں کے انتخاب میں بھی ہم مغرب کی پسندیدہ چیزوں کا استعمال کرتے ہیں- مرعوبیت کا عالم یہ ہے کہ بعض کھانے جو یہاں کے لوگوں کی صحت کو راس آتے ہیں اور نہ ہی یہاں کے لوگوں کو اچھے لگتے ہیں مگر پھربھی فیشن کے طور پر ان کی طرف نئی نسل بڑھتی ہوئی دکھائی دے رہی ہے- اب تقریبات میں بھی مغربی اقوام کی تقلید کی جار ہی ہے- سادگی کو فرسودہ خیال کرتے ہوئے ہمارے معاشرہ کے افراد زیادہ سے زیادہ تصنع اور خودنمائی سے کام لینے لگے ہیں- جن مواقع اور دنوں کو مغربی تہذیب کے علمبردار مناتے ہیں اب ہمارے معاشرے کے افراد بھی ان مواقع اور ایام کا مناتے دکھائی دے رہے ہیں-

مثلاً یوم ولادت (Birth day) کو منانے کا رواج اب اتنا بڑھ گیا ہے کہ قصبوں، گاؤں اور عام گھروں تک برتھ ڈے پارٹیاں ہونے لگی ہیں، کیک کٹنے لگے ہیں میوزک بجنے لگے ہیں جبکہ چند دہائیاں قبل برتھ ڈے منانے کا کوئی تصور نہ ہندوستانی سماج میں پایا جاتا تھا اور نہ ہی اسلامی معاشرہ میں اس کیلئے کوئی گنجائش موجود ہے- ایسے واقعات نہیں ملتے کہ جن سے یہ پتہ چلتا ہو کہ قرون اولی کے مسلمانوں نے یوم ولادت منایاہو- لیکن اب مسلمانوں میں بھی اس کے بڑھتے رواج کو دیکھ کر ایسا لگتا ہے جیسا کہ ان کے درمیان اس دن کو منانے کا رواج گویا صدیوں پرانا ہو- کچھ اس طرح صورتحال ہمیں نئے سال منانے پر بھی نظر آتی ہے- شمسی کیلنڈر کے مطابق ماہ جنوری سے شروع ہونے والے سال کو مغربی قومیں خوب جوش و عریانیت کے ساتھ مناتی ہیں، افسوس یہ لعنت ہمارے یہاں بھی آ گئی ہے-

ایک اور دن جو ہندوستان میں بڑی گرمجوشی کے ساتھ منایا جانے لگا ہے وہ ویلن ٹائن ڈے ہے، چونکہ ہندوستانی سما ج میں اس دن کو منانے کے پیچھے مغرب کی کوری تقلید ہے- اور اس تقلید میں مسلم معاشرے کے بہت سے افراد بھی پیش پیش نظر آتے ہیں- اس لیے نئی رسم مسلم معاشرہ میں بھی دبے پاؤں داخل ہو رہی ہے- اس دن کو جس انداز سے منایا جاتا ہے اور جس طرح بے حیائی کا مظاہرہ کیا جاتا ہے، اسلامی معاشرہ تو کیا کوئی بھی مہذب سوسائٹی اس کی اجازت نہیں دے سکتی- رپورٹوں کے مطابق ویلن ٹائن ڈے پر شادی شدہ و غیر شادی شدہ جوڑے کھلے عام محبت کا اظہار کرتے ہیں، محبت کی آڑ میں آگے جو کھیل کھیلا جاتا ہے وہ اور زیادہ خطرناک ہے- قیمتی تحفوں اورگلاب کے پھولوں کے تبادلے تو عام سی بات ہے مگر اس موقع پر بہت سے جوڑے تفریح گاہوں کا بھی رخ کرتے ہیں، جہاں شراب نے نشے میں دھت ہو کر ایسی نازیبا حرکتیں کی جاتی ہیں، جنہیں انسانیت کی پیشانی پر کلنک کہا جا سکتا ہے- بلا شک و شبہ کہا جا سکتا ہے کہ ویلن ٹائن ڈے جیسے مواقع معاشرے میں عریانیت اور فحاشیت کو فروغ دیتے ہیں اور اجنبی مردوں و عورتوں کے درمیان رکاوٹوں کو ختم کر کے انہیں ایک دوسرے کے قریب لے جاتے ہیں- ظاہر سی بات ہے اجنبی مردو خواتین چاہے وہ شادی شدہ ہوں یا غیر شادی شدہ جب باہم ملیں گے ایک دوسرے کو محبت کے خطوط لکھیں گے ،محبت کا اظہار کریں گے تو پھران کے درمیان نوبت کہاں تک پہنچ جائے گی- اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اجنبی مرد اور عورت کے درمیان شیطان موجود رہتا ہے اور مختلف حربے استعمال کر کے اس کی غلط بات کی طرف رہنمائی کرتا ہے-

اسلامی تہذیب و معاشرت ایسے دنوں، موقعوں اور تقریبوں کو منانے کی قطعاً اجازت نہیں دیتی جن میں کسی طرح کی بے حیائی ہو اور اجنبی مردوں و عورتوں کے درمیان تعلقات استوار ہوں- اسلام میں حیاء اور پاکیزگی کا نہ صرف تصور پایا جاتا ہے بلکہ حیاء کا پورا نظام موجود ہے، اسلامی تعلیمات کے مطابق عورت کو اس بات کی ہرگز اجازت نہیں کہ وہ غیر مردوں کے روبرو ہو یا وہ بے پردہ ادھر ادھر گھومے- ایسے مردو ں کیلیے بھی اجازت نہیں کہ وہ اجنبی لڑکیوں یا عورتوں کو دیکھیں، بات کرنا اور اظہار محبت کرنا تو دور کی بات ہے- عورتوں کی آواز کو بھی اسلام میں عورت ہی کہا گیا ہے- یعنی جس طرح عورت اپنے جسم کو ڈھانپے اور غیر مردوں کے سامنے نہ آئے اسی طرح وہ اپنی آواز بھی دیگر مردوں کو نہ سنائے- باری تعالی نے ارشاد فرمایا:

’’اور بناو سنگھا ر نہ دیکھاتی پھرو جس طرح پہلے جاہلیت کے دور میں اپنے حسن اور سنگار کی نمائش کرتی تھیں(احزاب: 33)‘‘زینت اور زیوروں کو دیکھانے سے بھی منع کیا گیا ہے فرمایا گیا ’’اور اپنے پاؤں زمین پر اس طرح مارتی ہوئی نہ چلا کریں کہ انکی چھپی ہوئی زینت (زیوروں کی چھنکار سے)لوگوں کو معلوم ہو جائے‘‘(النور:31)

غیرمردوں کے ساتھ اظہار محبت تو کیا لچکدار آواز میں بھی بات کرنے سے منع کیا گیا ہے، اللہ تعالی نے ارشار فرمایا کہ ’’اگر تم برائی سے بچنا چاہتی ہو تو(غیرمردوں سے)دبی زبان میں بات نہ کیا کرو،کہ کوئی دل کا بیمار تم سے آس لگا بیٹھے،بلکہ صاف سیدھی اور کھری کھری بات کرو(الاحزاب)‘‘

گویا حیاء اور پاکیزگی پر اسلام میں خاص توجہ دی گئی ہے- جس کا مطلب ہے کہ ہر وہ عمل جو عورتوں کو بے پردہ کرنے والا ہویا اس کی عفت و عصمت کو غیر محفوظ بنا دینے ولا ہو، وہ اسلام کے نزدیک ناقابل قبول ہے-

اب ویلن ٹائن ڈے کا تجزیہ کر لیا جائے کہ آیا اس دن کا کوئی پہلو اسلامی تعلیمات سے ہم آہنگ ہے؟ہرگز نہیں- غیر شادی شدہ عورتوں کا اظہار محبت کرنا، پھولوں کا پیش کرنا، سیرو تفریح کیلئے ساحلی مقامات پر جانا تفریحی پروگراموں میں حصہ لینا، ایک دوسرے کو گفٹ دینا کارڈوں کے تبادلے کرنا، شرا ب نوشی کرنا، اجنبی مردوں و عورتوں کا ایک دوسرے کے قریب آنا اور عریانیت و فحاشیت کا مظاہرہ کرنا اور زنا کاری کرنا وغیرہ

یہ تمام ہی باتیں اسلام کے منافی ہیں اور شریعت میں ان کیلئے کوئی گنجائش نہیں ہے،مگر افسوسناک بات یہ ہے کہ ویلن ٹائن ڈے کو محض عیسائی، یہودی یا دیگر قومیں ہی ہیں مناتیں بلکہ آہستہ آہستہ ویلن ٹائن ڈے منانے کا رواج مسلمانوں کے درمیان بھی آتا جا رہا ہے- مسلمانوں کی نئی نسل ماحول سے یہ سب کچھ سیکھ رہی ہے اور اسے اپنی زندگی میں لانے پر فخر بھی محسوس کرتی نظر آ رہی ہے- یہ الگ بات ہے کہ یہاں عام لوگوں کے درمیان بھی ویلن ٹائن ڈے کو کارڈوں او پھولوں کے ذریعہ منایا جاتا ہو اورکھلے نہ سہی دبے لفظوں میں اظہار محبت کیا جاتا ہو لیکن جلد یہ صورت حال فحاشیت او ر عریانیت کی شکل اخیتا ر کر لے گی-

مسلم معاشرہ سے اس جیسے تصور کو ختم کردینا اس لیے ضروری ہے کہ یہ مواقع مسائل میں اضافہ کرنے والے ہی اور لوگوں کے سکون کو ختم کر دینے والے ہیں ان مواقع کو منانے کا نقصان مغربی معاشرے میں دیکھا جا سکتا ہے کہ وہ کس حد تک عریانیت کے مسائل سے دوچار ہیں اور کیسے کیسے بدنما جرائم روزبروز وہاں ہوتے رہتے ہیں- اگرچہ لوگ ان دنوں کے منانے کو ترقی وجدت سے جوڑتے ہیں، تاہم یہ انسانیت کی پستی اور انسانیت کے زوال پذیر ہونے کی علامت ہے- معاشر ے کے سبھی ذمہ دار افراد پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اس موقع سے نئی نسل پر دھیان رکھیں- والدین خاص طور پر اپنے نوجوان بچوں پر توجہ دیں کہ کہیں ان میں تو ویلن ٹائن ڈے منانے کا کوئی رواج تو پیدا نہیں ہو رہا- اگر ایسا کچھ نظر آئے تو پیار سے انہیں اس دن کومنانے سے باز آنے کا کہیں اور انہیں بتائیں کہ ہمارے ہاں اس کی کوئی گنجائش نہیں ہے اور یہ انسانی اعتبار سے بھی نامناسب عمل ہے، بلکہ اس دن مسلم والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کو دور مقامات پر بھیجنے سے گریز کریں- اسکولوں، کالجوں و یونیورسٹیوں میں پڑھنے والے بچوں کو والدین ہدایت کر یں کہ وہ دوسروں کی طرح اس دن کو نہ منائیں-

مغرب کی تقلید کے رجحان کو ختم کرنے کی ضرورت ہے- کیونکہ مغربی قوموں کی تقلید کا مطلب ہے تباہی و بربادی - یہ انتہائی محرومی و تشویش کی بات ہے کہ ہمارے معاشرہ کے بہت سے افراد نے اپنے آپ کو ماڈرن ثابت کرنے کیلئے مغربی لباس کو اپنانا، پینٹ شرٹ کو زیب تن کرنا شروع کر دیا ہے- اس کے بعد وہ اور آگے تک چلے گئے- ایسے کپڑوں کے عادی ہوگئے جن سے ستر پوشی کا مقصد حاصل نہیں ہوتا- خاص طور سے صنف نازک بڑی توہین آمیز پوشاکیں پہنتی دکھائی دے رہی ہیں- ایسے عجیب و غریب فیشن والے کپڑے کہ پورا بدن ہی نظر آئے اور ستر پوشی کا مقصد ہی جاتا رہے- ہیجان انگیز لباس کو زیب تن کر کے بسا اوقات انتہائی بھیانک نتیجہ برآمد ہوتا ہے- معاشرہ میں عریاں فیشن کی آمد کے بعد جرائم اور نامناسب وارداتوں میں اضافہ ہوا ہے اور خواتین میں پردے کا چلن کم ہوا ہے جو درحقیقت ان کے تحفظ کے لیے ناگزیر ہے- ضرورت اس بات کی ہے کہ معاشرہ کے افراد معاشرتی سطح پر بیدار ہوں اور اپنے معاشرہ کو برائیوں سے محفوظ رکھنے کے لیے حتی الوسیع کوشش کریں اور اپنے معاشرہ میں ان چیزوں کو نہ داخل ہونے دیں جو آگے چل کر خطرناک ثابت ہو سکتی ہیں-

(بشکریہ روزنامہ اعتماد)

آخری مرتبہ ترمیم کی گئی بذریعہ ابومصعب : بوقت 01:49 PM مؤرخہ 13-02-10
ابومصعب آف لائن ہے   یہ اقتباس دیں
اس رکن نے اس مفید پوسٹ کے لیے ابومصعب کا شکریہ ادا کیا ہے
جواب پوسٹ کریں

Bookmarks

ٹیگز
سرخ, گلاب, ڈے, ویلنٹائن, ویلنٹائن ڈے, valentine, valentine day

موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز

پوسٹ کرنے کے قوانین
You may not post new threads
You may not post replies
You may not post attachments
You may not edit your posts

سمائلز آن ہے
[IMG] کوڈ آن ہے
HTML کوڈ آف ہے

قوانین
فورم منتخب کریں

مشابہ موضوعات
موضوع مصنف فورم جوابات آخری پیغام
اصلی اہل سنت (مکمل رسالہ) محمد نعیم اردو یونیکوڈ کتب 2 05-02-14 01:17 PM
اسلام کے خلاف سازشیں کارتوس خان اتباعِ قرآن و سنت 6 02-09-09 05:15 PM
اسلامی درسگاہوں میں تعلیم قرآن کا جامع اور مؤثر طریقہ Abu Abdullah قرآن - شریعت کا ستونِ اوّل 3 09-08-09 05:36 PM
زنا کی تباہ کاریاں Abu Abdullah اتباعِ قرآن و سنت 3 30-05-09 06:53 AM
حضرت شاہ ولی اللہ (رح) اور شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری القلم متفرقات 0 09-03-09 12:46 PM


فورم کے تمام اوقات GMT +3 کے مطابق . وقت ہے ابھی 11:58 PM


Powered by vBulletin Version 3.8.7
® Copyright ©2000 - 2014, Jelsoft Enterprises Ltd. Urdu Translation by A.REHMAN
User Alert System provided by Advanced User Tagging (Lite) - vBulletin Mods & Addons Copyright © 2014 DragonByte Technologies Ltd.
Contact admin : admin@urduvb.com