>URDU MAJLIS FORUM
 

واپسی   URDU MAJLIS FORUM > ::: مجلسِ حالاتِ حاضرہ ::: > حالاتِ حاضرہ


حالاتِ حاضرہ :: حالاتِ حاضرہ کے متعلق باخبر رہنے کیلیے ایک خاص مجلس ::

موضوع مقفل کیا گیا
 
موضوع کے اختیارات ظاہری انداز
پرانا 25-02-09, 12:53 PM   #1
حافظ اختر علی
-: رکن مکتبہ اسلامیہ :-
 
حافظ اختر علی کی نمائندہ تصویر
 
تاریخ شمولیت: 2008-02-16
قیام: Lahore
جنس: male
پوسٹس: 73
پوائنٹس: 0
حافظ اختر علی
حافظ اختر علی کی طرف بذریعہ MSN  پیغام ارسال کریں حافظ اختر علی کی طرف بذریعہ yahoo پیغام ارسال کریں حافظ اختر علی کی طرف بذریعہ Skype  پیغام ارسال کریں
Hot حب ِ رسول اور اس كے عملى تقاضے

اس جهانِ رنگ و بو ميں شيطان كے حملوں سے بچتے هوئے شريعت ِالٰهيه كے مطابق زندگى گزارنا ايك انتهائى دشوار امر هے- مگر الله ربّ العزت نے اس كو همارے لئے يوں آسان بنا ديا كه ايمان كى محبت كو همارے دلوں ميں جاگزيں كرديا- سورة الحجرات ميں ارشادِ خداوندى هے:
﴿وَلٰكِنَّ اللهَ حَبَّبَ إلَيْكُمُ الِايْمَانَ وَزَيَّنَه فِىْ قُلُوْبِكُمْ وَكَرَّهَ إِلَيْكُمُ الْكُفْرَ وَالْفُسُوْقَ وَالْعِصْيَانَ، اُوْلٰئِكَ هُمُ الرَّاشِدُوْنَ﴾ (آيت نمبر ٧ )
”اور ليكن الله تعالىٰ نے ايمان كو تمهارے لئے محبوب بنا ديا اور اس كو تمهارے دلوں ميں سجا ديا اور كفر، فسق اور نافرمانى كو تمهارے لئے ناپسنديده بنا ديا-يهى لوگ بهلائى پانے والے هيں-“
اس آيت ميں ايمان كى محبت ميں حب ِالٰهى اور حب ِرسول بهى شامل هے-گويا حب ِرسول انعامِ خداوندى هے اورحب ِرسول همارے ايمان كا صرف حصه نهيں بلكه عين ايمان هے- حضرت انس بن مالك سے روايت هے كه رسول الله ﷺ نے فرمايا:
” تم ميں سے كوئى اس وقت تك موٴمن نهيں هوسكتا جب تك كه وه اپنى اولاد، اپنے والدين اور باقى تمام لوگوں سے زياده مجه سے محبت نه كرتا هو-“ (بخارى و مسلم)
سورة الاحزاب ميں الله تعالىٰ نے فرمايا:
﴿اَلنَّبِىُّ اَوْلٰى بِالْمُوٴمِنِيْنَ مِنْ أنْفُسِهِمْ﴾ (آيت نمبر ٦ )
”نبى موٴمنوں كے لئے ان كى اپنى جانوں سے بهى زياده مقدم هيں-“
عبدالله بن هشام روايت كرتے هيں كه
”حضرت عمر آنحضرت سے كهنے لگے: آپ ميرے لئے، ميرى جان كے علاوه هر چيز سے زياده محبوب هيں- آپ نے فرمايا ! اس ذات كى قسم جس كے هاته ميں ميرى جان هے جب تك ميں تمهارے نزديك تمهارى جان سے بهى زياده محبوب نه هوجاؤں تم موٴمن نهيں هوسكتے- سيدنا عمر نے عرض كى: الله كى قسم! اب آپ ميرے نزديك ميرى جان سے بهى زياده عزيز هيں تو آپنے فرمايا: اَب، اے عمر ! (يعنى اب تم صحيح مسلمان هو) (فتح البارى: ١/٥٩)
سورئه توبه ، آيت نمبر ٢٤ ميں ارشادِ الٰهى هے:
﴿قُلْ إنْ كَانَ اٰبَاؤكُمْ وَاَبْنَاءُ كم وَاِخْوَانُكُمْ وَاَزْوَاجُكُمْ وَعَشِيْرَتُكُمْ وَاَمْوَالُنِ اقْتَرَفْتُمُوْهَا وَتِجَارَةٌ تَخْشَوْنَ كَسَادَهَا وَمَسَاكِنُ تَرْضَوْنَهَا اَحَبَّ إلَيْكُمْ مِنَ اللهِ وَرَسُوْلِهِ وَجِهَادٍ فِىْ سَبِيْلِه فَتَرَبَّصُوْا حَتّٰى يَاْتِىَ اللهُ بِاَمْرِهِ ﴾
”(اے نبى! مسلمانوں سے)كهه ديجئے! اگر تمهيں اپنے باپ، اپنے بيٹے، اپنے بهائى، اپنى بيوياں، اپنے كنبے والے اور وه اَموال جو تم نے كمائے هيں اور تجارت جس كے مندا پڑنے سے تم ڈرتے هو اور تمهارے مكان جو تمهيں پسند هيں؛ الله، اس كے رسول اور اس كى راه ميں جهاد كرنے سے زياده محبوب هيں تو انتظار كرو يهاں تك كه الله اپنا حكم لے آئے-“
اس آيت ميں جن رشتوں كا ذكر كيا گيا هے، ان سے انسان كو فطرى لگاؤ هوتا هے-اس لئے انهى چيزوں سے موٴمنوں كے ايمان كا امتحان ليا گيا هے- الله تعالىٰ واضح فرما رهے هيں كه جب الله اور اس كے رسول كى محبت، ماں باپ اور ديگر عزيز و اقارب سے زياده هو تب ايمان كا دعوىٰ صحيح هوسكتا هے- اگر يه رشته دار اور كمائے هوئے مال اور دنيا كى زمين وجائيداد اور تجارت اور پسنديده مكانات خدا اور رسول اور جهاد فى سبيل الله سے زياده محبوب و مرغوب هيں تو خدا كے عذاب كا سامنا كرنے كے لئے تيار رهنا چاهئے-
محبت ايك فطرى كشش كا نام هے، ايك ايسا ميلانِ نفس جو هميشه پسنديده اور مرغوب چيزوں كى جانب هوا كرتا هے- يه محبت اگر قرابت دارى كى بنياد پر هو تو ’طبعى محبت‘كهلاتى هے اور اگر كسى كے جمال وكمال يا احسان كى و جه سے هو تو ’عقلى محبت‘ كهلاتى هے اور اگر يه محبت مذهب كے رشتے كى بنياد پر هو تو ’روحانى محبت‘ يا ’ايمان كى محبت‘ كهلاتى هے-
رسول اللها كے ساته ’محبت ِطبعى‘ بهى هے جيسى اولاد كى محبت باپ سے هوتى هے كيونكه آنحضورا اُمت كے روحانى باپ هيں اور آپ كى ازواجِ مطهرات ’روحانى مائيں‘ جيسا كه سورة الاحزاب ميں فرماياگيا: ﴿وَاَزْوَاجُه اُمَّهَاتُهُمْ﴾ بعض شاذ قراء توں ميں هو أبوهم كا لفظ بهى آيا هے كه نبى كريم تمهارے والد كى جگه پر هيں- تو جس طرح حقيقى باپ سے محبت طبعى هے اسى طرح آپ سے محبت ايك مسلمان كے لئے بالكل فطرى امر هے-
نبى كريم كا ظاهرى وباطنى كمال وجمال
محبت كے اسباب ميں سے ايك سبب كمال بهى هے اور جمال بهى، خواه ظاهرى هو يا باطنى- آپ كا كمال و جمال ظاهرى بهى تها اور باطنى بهى- شكل و صورت ميں بهى آپ سب سے حسين تهے، جيسا كه حضرت جابر  فرماتے هيں :
”كان مثل الشمس والقمر (مسنداحمد:٥/١٠٤ )
آپ كا چهره آفتاب و ماهتاب جيسا تها-“
ربيع بنت معوذ آپ كے بارے ميں فرماتى هيں:
”لورأيت الشمس طالعة (مجمع الزوائد: ٨/٢٨٠)
اگر تم رسول الله كو ديكهتے توايسے سمجهتي جيسے سورج نكل رها هے-“
آپ كے باطنى جمال و كمال كا كيا كهنا، آپ كو الله تعالىٰ نے خاتم النّبيين، سيد المرسلين، امام الاوّلين والآخرين اور رحمته للعالمين بنايا- آپ كے احسانات اُمت پر بے حد و حساب هيں بلكه آپ محسن انسانيت هيں- صاحب ِجمال و كمال كے ساته محبت ركهنا اور محبت كا هونا بهى لازمى امر هے- حضرت خديجته الكبرىٰ آپ كے پاكيزه اخلاق كے بارے ميں فرماتى هيں:
(پهلى وحى كے موقعه پر آپ كى دلجوئى كرتے هوئے فرمايا) ”آپ قرابت داروں سے سلوك كرنے والے، درماندوں اور بے كسوں كو سوارى دينے والے، ناداروں كو سرمايه دينے والے، مهمانوں كى خدمت كرنے والے اور مصيبت زدگان كى اعانت كرنے والے هيں-“ (بخارى :كتاب بدء الوحى حديث، رقم:٣)
تاريخ ميں بهت سے لوگ اپنے كمالات كى وجه سے مشهور هوئے- حاتم طائى، اپنى سخاوت؛ نوشيرواں اپنے عدل و انصاف؛ سقراط و بقراط و افلاطون، اپنى دانائى و حكمت كى بنا پر مرجع خلائق اور لائق محبت تهے- مگر آپ كے جمله كمالات ان سب سے كئى گنا بڑه كر تهے، حتىٰ كه تمام انبيا ميں جو جو خوبياں تهيں، وه تنها آنحضورا كى ذاتِ اقدس ميں تهيں- بقولِ شاعر
حسن يوسف، دم عيسىٰ، يد بيضا دارى آنچه خوباں همه دارند، تو تنها دارى !
رسول الله ﷺ كے ساته سچى محبت كے كچه بديهى تقاضے هيں، جن ميں سے كچه تو ايسے اُمور هيں جنهيں بجا لانا ضرورى هے اوركچه ايسے جن سے اجتناب ضرورى هے- ذيل ميں هم ان سب تقاضوں كو تفصيل سے بيان كرتے هيں :
احترام و تعظيم رسول
ع ”ادب پهلا قرينه هے محبت كے قرينوں ميں-“ حب ِ رسول كا لازمى اور اهم تقاضا احترامِ رسول هے- يه تو ايسى بارگاه هے جهاں حكم عدولى كى تو كيا گنجائش هوتى، يهاں اونچى آواز سے بولنا بهى غارت گر ِايمان هے- سورة الحجرات كى ابتدائى چار آيات ميں آنحضورا كے ادب و احترام كے مختلف پهلو واضح فرمائے گئے هيں :
”اے ايمان والو! الله تعالىٰ اور اس كے رسول سے پيش قدمى نه كرو اور الله سے ڈرتے رهو، بلا شبه الله تعالىٰ سب كچه جانتا هے- اے ايمان والو! اپنى آوازيں نبى كى آواز سے بلند نه كرو اور نه هى ان كے سامنے اس طرح اونچى آواز سے بولو جيسے تم ايك دوسرے سے بولتے هو- ايسا نه هو كه تمهارے اعمال برباد هوجائيں اور تمهيں اس كى خبر بهى نه هو-بلاشبه جو لوگ رسول اللهاكے حضور اپنى آوازيں پست ركهتے هيں، يهى لوگ هيں جن كے دلوں كو الله نے تقوىٰ كے لئے جانچ ليا هے، ان كے لئے بخشش اور اجر عظيم هے- اے نبى! جو لوگ آپ كو حجروں كے باهر سے پكارتے هيں، ان ميں سے اكثر بے عقل هيں- اگر يه لوگ صبر كرتے تا آنكه آپ ان كى طرف خود نكلتے تو يه ان كے حق ميں بهتر تها اور الله بخشنے والا رحم فرمانے والا هے- “ (الحجرات : ١تا٤)
ان آيات كے نزول كے بعد ايك صحابى ثابت بن قيس جن كى آواز قدرتى طور پربلند تهى، ايمان ضائع هوجانے كے ڈر سے گهر ميں محصور هوكربيٹه گئے- آپ نے ان كے بارے ميں دريافت فرمايا اور جب آپ كو اصل صورتحال كا علم هوا تو ان كو پيغام بهجوايا كه ”تم اهل دوزخ سے نهيں بلكه اهل جنت سے هو جب كه اس سے پهلے صحابى سے اس بارے ميں استفسار كيا گياتو انهوں نے يه جواب ديا تها :
”ميرا بُرا حال هے، ميرى آواز هى آنحضورا سے بلند هے، ميرے تو اعمال اِكارت گئے اور ميں تو اهل دوزخ سے هوجاؤں گا-“ (بخارى: كتاب التفسير ؛٤٨٤٦)
صلح حديبيه كے موقع پر جب عروه بن مسعود مكه والوں كى طرف سے سفير بن كر آنحضورا كى خدمت ِاقدس ميں حاضر هوا تها تو واپس جاكر اپنا چشم ديد واقعه بيان كيا جيسا كه صحيح بخارى شريف ميں هے-عروه اپنے ساتهيوں كى طرف لوٹ كر گيا اور كهنے لگا كه
”بهائيو! ميں تو بادشاهوں كے پاس بهى پهنچ چكا هوں- خدا كى قسم! اس نے كسى بادشاه كو ايسا نهيں ديكها كه لوگ اس كى ايسى تعظيم كرتے هوں جيسے محمد كى تعظيم ان كے اصحاب كرتے هيں- خدا كى قسم! اگر وه تهوكتے هيں توان كا تهوك كسى نه كسى صحابى كے هاته پرگرتا هے اور وه اپنے منه اور جسم پر تبركا ًاس كو مل ليتا هے- وه جب كوئى حكم ديتے هيں تو سب لپك كر ان كے حكم كو بجا لاتے هيں، وضو كرتے هيں تو اس كا پانى ان كے لئے باعث بركت ٹههرتا هے اور اس كو لينے كے لئے چهينا جهپٹى كرتے هيں- وه بولتے هيں تو ان كے ساتهيوں كى آوازيں پست هوجاتى هيں- وه ان كى طرف گهور گهور كر، آنكه بهر كر نهيں ديكهتے- “ (بخارى؛ ٢٧٣١،٢٧٣٢)
دربارِ نبوت ميں حاضرى صحابه كرام كے لئے خاص تقريب كا موقع هوتا، صاف ستهرے كپڑے زيب تن كرتے ، بغير طهارت كے آپ كى خدمت ميں حاضر هونا اور مصافحه كرنا گوارا نه هوتا، راستے ميں كبهى ساته هوجاتا تو اپنى سوارى كو آنحضورا كى سوارى سے آگے نه بڑهنے ديتے- غايت ِادب كى بنا پر كسى بهى بات ميں مسابقت گوارا نه تهى- دستر خوان پر هوتے تو جب آپ كهانا شروع نه فرماتے كوئى كهانے ميں هاته نه ڈالتا- اگر آپ مكان كے نچلے حصے ميں قيام پذير هوتے تو يه خيال كه وه رسول اللها كے اوپر چل پهر رهے هيں، انهيں ايك كونے ميں اپنے آپ كو قيد كرنے كے لئے كافى هوتا-
يه تو تها آپ كى زندگى ميں صحابه كرام كا معمول مگر آپ كى وفات كے بعد هم لوگوں كے لئے آپ كى عزت و تكريم كا طريقه يه هے كه هم آپ سے صدقِ دل سے محبت كريں، آپ كے فرمودات پر عمل كريں، اپنى زندگى ميں آپ كو واقعى اپنے لئے اُسوهٴ حسنه سمجهيں-جب حديث پڑهى جارهى هو يا سننے كا موقع هو تو چلانا، شور مچانا منع هے- حديث كى تعظيم رسول الله اكى تعظيم هے-
حب ِ رسول كا حقيقى معيار … اطاعت ِرسول
حب ِرسول كا سب سے اهم تقاضا اطاعت ِرسول هے جيسا كه مندرجه ذيل روايات سے ثابت هوتا هے :
j ايك صحابى خدمت ِاقدس ميں حاضر هوئے اور عرض كى :
” يارسول الله! ميں آپ كو اپنى جان و مال، اهل و عيال سے زياده محبو ب ركهتا هوں، جب ميں اپنے گهر ميں اپنے اهل وعيال كے ساته هوتا هوں اور شوقِ زيارت بے قرار كرتاهے تو دوڑا دوڑا آپ كے پاس آتا هوں، آپ كا ديدار كركے سكون حاصل كرليتا هوں- ليكن جب ميں اپنى اور آپ كى موت كو ياد كرتا هوں تو سوچتا هوں كه آپ تو انبيا كے ساته اعلىٰ ترين درجات ميں هوں گے، ميں جنت ميں گيا بهى تو آپ تك نه پهنچ سكوں گا اور آپ كے ديدار سے محروم رهوں گا- (يه سوچ كر) بے چين هوجاتا هوں اس پر الله تعالىٰ نے سورة النساء كى يه آيت نازل فرمائى: ﴿ وَمَنْ يُّطِعِ اللهَ وَالرَّسُوْلَ فَاُؤلٰئِكَ مَعَ الَّذِيْنَ اَنْعَمَ اللهُ عَلَيْهِمْ مِنَ النَّبِيِّيْنَ وَالصِّدِّيْقِيْنَ وَالشُّهَدَاءِ وَالصَّالِحِيْنَ وَحَسُنَ اُوْلٰئِكَ رَفِيْقًا ﴾ (سورة النساء :٦٩) ”اور جو لوگ الله اور رسول كى اطاعت كريں گے، وه ان لوگوں كے ساته هوں گے جن پر الله تعالىٰ نے انعام فرمايا هے يعنى انبيا، صديقين، شهدا اور صالحين ، كيسے اچهے هيں يه رفيق جو كسى كو ميسر آئيں-“ (المصباح المنير فى تهذيب تفسير ابن كثير:ص٢٤٣)
صحابى كے اظهارِ محبت كے جواب ميں الله نے يه آيت نازل كركے واضح فرما ديا كه اگر تم حب ِرسول ميں سچے هو اور آنحضور كى رفاقت حاصل كرنا چاهتے هو تو رسولِ اكرم ا كى اطاعت و فرمانبردارى اختيار كرو-
حضرت ربيعه بن كعب اسلمى روايت كرتے هيں كه
”(ايك روز) نبى عليه الصلوٰة والسلام نے مجهے مخاطب كركے فرمايا: مانگ لو (جومانگنا چاهتے هو)- ميں نے عرض كيا: ”جنت ميں آپ كى رفاقت كا طلب گار هوں-“ آپ نے فرمايا ”كچه اس كے علاوه بهى ؟“ ميں نے عرض كيا ”بس يهى مطلوب هے-“ تو آپ نے فرمايا ”تو پهر اپنے مطلب كے حصول كيلئے كثرتِ سجود سے ميرى مدد كرو-“ (يعنى ميرے دعا كرنے كے ساته تم نوافل كا بهى اهتمام كرو تو الله تعالىٰ ميرى دعا قبول فرمائے گا)-
(صحيح ابوداود؛ ١١٨٢)
گويا آپ نے واضح فرما دياكه اگر ميرى محبت ميں ميرى رفاقت چاهتے هو تو عمل كرو- يهى حب ِرسول هے اور معيت ِرسول حاصل كرنے كاذريعه بهى-
lحضرت عبدالله بن مغفل بيان كرتے هيں كه ايك شخص نے رسولِ اكرم كى خدمت ميں عرض كيا كه
”يارسول الله ا! مجهے آپ سے محبت هے- آپ نے فرمايا جو كچه كهه رهے هو، سوچ سمجه كر كهو- تو اس نے تين دفعه كها، خدا كى قسم مجهے آپ سے محبت هے- آپ نے فرمايا كه اگر مجهے محبوب ركهتے هو تو پهر فقروفاقه كے لئے تيار هوجاؤ (كه ميرا طريق اميرى نهيں، فقيرى هے) كيونكه جو مجه سے محبت كرتاهے فقروفاقه اس كى طرف اس سے زياده تيزى سے آتا هے جيسى تيزى سے پانى بلندى سے نشيب كى طرف بهتا هے-“ (ترمذى؛٢٣٥٠)
گويا جس كے دل ميں حب ِرسول هے، اسے چاهئے كه آنحضورا كى سنت كى پيروى ميں اپنے اندر سادگى، صبروتحمل، قناعت اور رضا بالقضا كى صفات پيدا كرنے كى سعى كرتا رهے-
فرمانِ رسول الله عليه الصلوٰة والسلام هے :
”من أحب سنتى فقد أحبنى ومن أحبنى كان معي فى الجنة“
”جس نے ميرى سنت سے محبت كى، اس نے مجه سے محبت كى اور جس نے مجه سے محبت كى، وه جنت ميں ميرے ساته هوگا-“ (تاريخ ابن عساكر:٣/١٤٥)
فرمانِ رسول الله عليه والصلوٰة والسلام هے:
”لا يوٴمن أحدكم حتى يكون هواه تبعا لما جئت به“
”تم ميں سے كوئى شخص اس وقت تك موٴمن نهيں هوسكتا جب تك كه اپنى خواهشات كو ميرى لائى هوئى شريعت كے تابع نه كردے-“ (مشكوٰة للالبانى:١٦٧)
يعنى كافر اور موٴمن ميں تميز هى يهى هے كه جو الله كے رسول كى تابعدارى كرے گا وه موٴمن هوگا اور جو رسول اللها كى اطاعت نه كرے گا، وه كافر هوگا جيساكه
حضرت ابوهريره فرماتے هيں كه رسول الله ا نے فرمايا:
كل أمتى يدخلون الجنة إلا من أبٰى قالوا يارسول الله ! ومن يأبى قال: من أطاعنى دخل الجنة ومن عصانى فقد أبٰى (بخارى؛٧٢٨٠)
”ميرى اُمت كا هر شخص جنت ميں داخل هوگا، سوائے اس كے جس نے انكار كيا- صحابه نے پوچها: اے الله كے رسول وه كون شخص هے جس نے (جنت ميں جانے سے) انكار كيا؟ آپ نے فرمايا: جس نے ميرى اطاعت كى، وه جنت ميں داخل هوگا اور جس نے ميرى نافرمانى كى، اس نے انكار كيا-“
قرآنِ مجيد ميں بهى الله تعالىٰ نے بار بار يه بات هميں سمجهائى هے- مثلاً
سورة النساء ميں فرمايا:
﴿وَمَا أرْسَلْنَا مِنْ رَّسُوْلٍ اِلاَّ لِيُطَاعَ بِاِذْنِ اللهِ﴾ ( آيت نمبر ٦٤)
”هم نے رسول بهيجے هى اس لئے هيں كه الله كے حكم سے ان كى اطاعت كى جائے-“
سورة النساء ميں فرمايا:
﴿وَمَنْ يُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاعَ اللهَ﴾ (آيت نمبر ٨٠ )
”جس نے رسول كى اطاعت كى دراصل اس نے الله كى اطاعت كى -“
سورة الاحزاب ميں فرمايا:
﴿لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِىْ رَسُوْلِ اللهِ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِمَنْ كَانَ يَرْجُوْ اللهَ وَالْيَومَ الاٰخِرَ ﴾ (آيت نمبر٢١)
”تم ميں سے جو كوئى الله سے ملاقات اور آخرت كے دن پر ايمان ركهتا هے، اس كے لئے رسول الله كى ذات والا صفات ميں اچها نمونه هے-“
صحابه كرام رضى الله عنهم كى زندگيوں پر نظر ڈاليں تو آنكهيں كهل جاتى هيں كه كيسے انهوں نے حب ِرسول كا حق ادا كيا- آپ عليه الصلوٰة والسلام كى زندگى كا كوئى گوشه ايسا نه تها جسے انهوں نے غور سے نه ديكها هو اور پهر اپنے آپ كو اس كے مطابق ڈهال نه ليا هو- قاضى عياض اپنى كتاب ’الشفاء‘ ميں فرماتے هيں: فقال سفيان المحبة اتباع رسول الله ﷺ
”سفيان ثورى (تابعى) نے فرمايا كه حب ِرسول كا مطلب درحقيقت اتباعِ رسول اللهﷺ هے-“
بے شمار آياتِ قرآنى اور احاديث ِرسول كى روشنى ميں يه بات بالكل واضح هے كه حب رسول ا كا تقاضا يه هے كه زندگى كے تمام معاملات ميں قدم قدم پر آپ كى اطاعت كى جائے- وه محبت جو سنت رسول اللها پر عمل كرنا نه سكهائے محض دهوكه اور فريب هے- وه محبت جو رسول اكرم ﷺ كى اطاعت و پيروى نه سكهائے محض لفاظى اور نفاق هے- وه محبت جو رسول الله ا كى غلامى كے عملى آداب نه سكهائے محض ريا اور دكهاوا هے- وه محبت جو سنت ِرسول كے علم كو سربلند نه كرے محض بولهبى هے-
يه مصطفى برساں خويش را كه ديں همه اوست
اگر به او نه رسيدى تمام بولهبى اوست
قلبى محبت
تكميل ايمان كے لئے رسول الله ا كى صرف ظاهرى اطاعت هى نهيں بلكه قلبى تسليم ورضا بهى ضرورى هے-فرمانِ بارى تعالىٰ هے:
﴿فَلاَ وَرَبِّكَ لاَ يُوٴْمِنُوْنَ حَتّٰى يُحَكِّمُوْكَ فِيْمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ لاَ يَجِدُوْا فِىْ أنْفُسِهِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُوْا تَسْلِيْمًا﴾ (النساء :٦٥)
”نهيں، تمهارے ربّ كى قسم يه كبهى موٴمن نهيں هوسكتے جب تك اپنے باهمى اختلافات ميں آپ كو فيصله كرنے والا نه مان ليں- پهر جو كچه آپ فيصله كريں اس پر اپنے دلوں ميں كوئى تنگى بهى محسوس نه كريں بلكه دل و جان سے اسے تسليم كرليں-“
حضرت حارث بن عبدالله بن اوس كهتے هيں كه
”ميں عمر بن خطاب كے پاس حاضر هوا اور پوچها كه اگر قربانى كے دن طوافِ زيارت كرنے كے بعد عورت حائضه هوجائے تو كيا كرے؟ حضرت عمر نے فرمايا: آخرى عمل بيت الله كا طواف هونا چاهئے- حارث نے كها: رسول اللها نے بهى مجهے يهى فتوىٰ ديا تها- اس پر حضرت عمر نے فرمايا: تيرے هاته ٹوٹ جائيں تو نے مجه سے ايسى بات پوچهى جو رسول اللها سے پوچه چكا تها، تاكه ميں رسول اللها كے خلاف فيصله كروں-“ (صحيح ابوداود؛١٧٦٠)
سنت كا علم هونے كے باوجود مسئله دريافت كرنے پر حضرت عمر كى ناراضگى اس بنا پر تهى كه رسول اللها كے فيصلے كو دلى رضا مندى كے ساته كيوں نهيں تسليم كيا- ايك اور حديث ملاحظه كريں- حضرت عروه بن زبير روايت كرتے هيں كه
”ميرے باپ زبير اور ايك انصارى ميں فره كے مقام پر پانى پر جهگڑا هوا- آپ نے زبير كو كها كه تم اپنے درختوں كو پانى لگا لو- پهر اسے همسائے كے باغ ميں جانے دو- يه سن كر انصارى كهنے لگا :كيوں نهيں، آخر زبير آپ كے پهوپهى زاد جو هوئے (اس لئے آپ نے ان كے حق ميں فيصله كيا هے)… يه سن كر آپ كا رنگ متغير هوگيا اور آپ نے زبير كو كها: زبير! اپنے كهيت كو پانى پلاؤ جب تك پانى منڈيروں پرنه پهنچ جائے، اس كے لئے پانى نه چهوڑو-“ (بخارى؛٤٥٨٥)
يعنى جب انصارى نے آپ كے فيصلے كو تسليم نه كيا تو آپ كو غصه آگيا تو آپ نے انصاف والا حكم جارى فرمايا- جب كه آپ كے پهلے حكم ميں دونوں كى رعايت ملحوظ تهى-
رسول الله ﷺكے حكم كى موجودگى ميں اپنى مرضى يا كسى دوسرے كے حكم پر عمل كرنے كى دين اسلام ميں كوئى گنجائش نهيں-سورة الاحزاب ميں فرمانِ خداوندى هے:
﴿وَمَا كَانَ لِمُوٴْمِنٍ وَّلاَ مُوْمِنَةٍ إذَا قَضَى اللهُ وَرَسُوْلُه أمْرًا أنْ يَّكُوْنَ لَهُمُ الْخِيَرَةُ مِنْ أَمْرِهِمْ وَمَنْ يَّعْصِ اللهَ وَرَسُوْلَه فَقَدْ ضَلَّ ضَلاَلاً مُّبِيْنًا﴾
”كسى موٴمن مرد اور عورت كو يه حق نهيں كه جب الله اور اس كے رسول ا كسى معاملے كا فيصله كرديں تو ان كے اپنے معاملے ميں اختيار باقى ره جائے اور جو كوئى الله ورسول كى نافرمانى كرے، وه صريح گمراهى ميں پڑ گيا-“ (آيت نمبر ٣٦ )
سورة الحشر ، آيت نمبر ٧ ميں ارشادِ الٰهى هے :
﴿ وَمَا اٰتٰكُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْه وَمَا نَهٰكُمْ عَنْه فَانْتَهُوْا وَاتَّقُوْا الله اِنَّ الله شَدِيْدُ الْعِقَابِ﴾ ”جو كچه رسول تمهيں ديں، وه لے لو اور جس چيز سے تمهيں روك ديں، اس سے رك جاؤ اور الله سے ڈر جاؤ، وه شديد عذاب دينے والا هے-“
گويا آپ كا حكم اور عمل هى فيصله كن سند قرار پائے اور اس حكم كو ماننے يا نه ماننے اور اس پر ناگوارى كے احساس يا عدمِ احساس پر هى آدمى كے موٴمن هونے يا نه هونے كا انحصار ٹههرا هے- يه ممكن هى نهيں كه موٴمن الله اور اس كے رسول كے كئے گئے فيصله كے متعلق عدم اطمينان كا شائبه تك دل ميں لائے-آج كے مسلمانوں كواپنا جائزه لينا چاهئے كه وه حب ِرسول كے اس تقاضے كو كس حد تك نباهتے هيں؟
__________________
مسلمان مسلمان کا بھائی ہے،اس پر نہ ظلم کرے،نہ اسے ذلیل کرے،نہ اسے (غیروں کے)حوالے کرے
اورنہ اس کو حقیر سمجھے-اللہ کے بندو آپس میں بھائی بھائی بن جاؤ-

http://www.kitabosunnat.com
حافظ اختر علی آف لائن ہے  
پرانا 25-02-09, 12:54 PM   #2
حافظ اختر علی
-: رکن مکتبہ اسلامیہ :-
 
حافظ اختر علی کی نمائندہ تصویر
 
تاریخ شمولیت: 2008-02-16
قیام: Lahore
جنس: male
پوسٹس: 73
پوائنٹس: 0
حافظ اختر علی
حافظ اختر علی کی طرف بذریعہ MSN  پیغام ارسال کریں حافظ اختر علی کی طرف بذریعہ yahoo پیغام ارسال کریں حافظ اختر علی کی طرف بذریعہ Skype  پیغام ارسال کریں
Hot حب ِ رسول اور اس كے عملى تقاضے

اتباعِ رسول
اتباع اور اطاعت كے معنى ميں يه فرق هے كه اطاعت كا مطلب ديے گئے حكم كى تعميل كرنا هے مگر اتباع كا مطلب پيروى كرنا هے ، چاهے اس كام كاباقاعده حكم ديا گيا هو يا نه ديا گيا هو- گويا يه مقامِ ’خلت‘ هے ، انتهاے محبت هے كه محبو ب كى هر ادا پر قربان هونے كو جى چاهے-
آپ كے صحابه كرام كو حضور سے جو والهانه محبت تهى اسى كا نتيجه تها كه وه هر اس كام كو كرنے كى كوشش كرتے جو حضور نے كيا هوتا- ان كو وهى كهانا پسند هوتا جو آپ كو پسند هوتا- جس مقام پر آپ تشريف فرما هوتے يا نماز پڑه ليتے، وه جگه بهى واجب الاحترام هوجاتى اور اس مقام پر وهى عمل انجام دينا وه اپنى سعادت جانتے ، جيساكه درج ذيل روايات سے واضح هوتا هے:
موسىٰ بن عقبه بيان كرتے هيں كه ميں نے سالم بن عبدالله بن عمر كو ديكهاكه وه دورانِ سفر راستے ميں بعض مقامات تلاش كرتے تهے اور وهاں نماز پڑهتے تهے كيونكه انهوں نے اپنے والد عبدالله كو اور انهوں نے اپنے والد عمر كو وهاں نماز پڑهتے ديكها تها اور عمر وهاں اس لئے نماز پڑهتے تهے كه انهوں نے آنحضور ﷺ كو وهاں نماز پڑهتے ديكها تها- (بخارى:٤٨٣)
حضرت على بن ابى طالب سوارى پر سوار هوئے تو دعاے مسنون پڑهنے كے بعد مسكرانے لگے- كسى نے پوچها: اميرالمومنين! مسكرانے كى كيا و جه هے؟ آپ نے فرمايا كه ميں نے نبى اكرم كو ديكها تها كه آپ نے سوارى پرسوار هوكر اسى طرح دعا پڑهى، پهر آپ مسكرائے تهے- لهٰذا ميں بهى حضور كى اتباع ميں مسكرايا هوں- (ابوداود؛٢٦٠٢)
حضرت انس نے ديكها كه آنحضور عليه الصلوٰة والسلام كو كدو پسند هيں- تو وه بهى كدو پسند كرنے لگے- (مسنداحمد:٣/١٧٧)
ايك بار آپ نے سركے كے بارے ميں فرمايا كه سركه تو اچها سالن هے تو حضرت جابر كهتے هيں كه تب سے مجهے سركے سے محبت هوگئى هے- (دارمى؛٢١٨١)
ايك بار ايك صحابى كے هاته ميں سونے كى انگوٹهى آپ انے ديكهى تو آپ نے اس كے هاته سے اُتار كر دور پهينك دى گويا آپ نے اظهارِ ناراضگى كيا- آپ كے تشريف لے جانے پر كسى نے كها كه اس كو اُٹها لو اور بيچ كر فائده حاصل كرلو (كيونكه حضور ا نے صرف پهننے سے منع فرمايا تها) مگر اس نے كها خدا كى قسم! ميں اسے كبهى نهيں اٹهاؤں گا -كيونكه رسول الله ا نے اسے پهينك ديا هے- (مسلم؛٢٠٩٠)
مسجد ِنبوى ميں خواتين بهى شريك ِجماعت هوتيں مگر ان كے لئے كوئى دروازه مخصوص نه تها-ايك روز آپ نے ايك دروازے كے بارے ميں فرمايا: ”كاش هم يه دروازه عورتوں كے لئے چهوڑ ديتے-“ حضرت عبدالله بن عمر نے اس شدت سے آپ كى اس خواهش كى پابندى كى كه پهر تادمِ مرگ اس دروازه سے مسجد ميں داخل نه هوئے- (……)
كچه صحابه سے بيعت كى شرائط ميں يه نصيحت بهى فرمائى كه ”لوگوں سے كسى چيز كا سوال نه كرنا-“ تو انهوں نے اس شدت سے اس كى پابندى كى كه اگر اونٹنى پر سوار كهيں جارهے هوتے اور هاته سے لگام گر جاتى تو اونٹنى كو بٹها كر خود اپنے هاته سے اس كو اٹهاتے تهے اور كسى آنے جانے والے سے نهيں كهتے تهے كه اٹها كر دے دو- (مسنداحمد:٥/٢٧٧)
’اتباع‘ كا مكمل مفهوم سمجهنے كے لئے اس مثال پر غور كريں :
كوئى گاڑى كسى گاڑى كے تعاقب ميں هے، اب پيچهے والى گاڑى آگے والى گاڑى پر مسلسل نظر ركهے هوئے هے- جهاں وه تيز هوگى، يه بهى تيز هوگى- جدهر وه مڑے گى يه بهى ادهر مڑے گى-جدهر وه آهسته هوگى، يه بهى آهسته هوجائے گى حتىٰ كه جهاں وه رك جائے گى پيچهے والى گاڑى بهى رك جائے گى- يه اتباع هے اور حب ِرسول كا تقاضا صرف اطاعت ِرسول هى نهيں بلكه اتباعِ رسول هے-
يه همارى انتهائى كم نصيبى هے كه هم نے حب ِرسول كو محض ميلاد كى محفل منعقد كرنے اور نعت ِرسول بيان كرنے كى حد تك سمجه ليا اور اطاعت و اتباع رسول سے بالكل تهى دامن هوگئے- اس وقت ضرورت اس بات كى هے كه هم حضور پاك كى حياتِ طيبه كاهر پهلوغور سے پڑهيں، سيكهيں، اُسوئه حسنه پر عمل كا وهى جذبه تازه كريں جو قرونِ اولىٰ ميں تها- انهوں نے سچے جذبے، پكے عزم اور خلوصِ نيت كے ساته حضور عليه الصلوٰة والسلام كى پيروى اختيار كى تو قيصر وكسرىٰ كے خزانے ان كے قدموں ميں تهے-
ائمه كرام اور بزرگوں كى عقيدت ميں غلو:جس طرح الله تعالىٰ كى توحيد اور ربوبيت ميں كسى كو شريك ٹههرانا ممنوع هے، اسى طرح نبى كى رسالت اور آپ كے واجب الاتباع هونے ميں كسى دوسرے انسان كو لانا درست نهيں- نبى كريم ا كا هى يه مقام هے كه آپ معصوم هيں اور غلطى سے الله تعالىٰ نے آپ كو بچا كر ركها هے- يه حيثيت آپ كے كسى اُمتى كو حاصل نهيں- ليكن بعض لوگ ائمه كرام كے احترام ميں اس قدر غلو كرتے هيں كه وه انهيں بهى نبى كى طرح معصوم سمجهنا شروع كرديتے هيں- نبى كريم كا صريح فرمان آنے كے باوجود وه اپنے امام كى بات ماننے پر هى مصر رهتے هيں-
ائمه اربعه يعنى امام مالك، ابوحنيفه، شافعى اور احمد رحمهم الله عنهم كے مدوّن كرده مسائل اور ان كے بيان كرده احكامِ دين و شرع درحقيقت الله كى كتاب اور سنت ِرسول سے هى حاصل كرده هيں- اس و جه سے ان ائمه عظام كے بيان كرده فقه كے مسائل كو اپنانے اور ان پر عمل پيرا هونے ميں كوئى حرج نهيں-ليكن جب انهيں كوئى صريح نص يعنى كوئى آيت يا حديث ِصحيح نه مل سكے تو پهر يه قياس واستنباط كرتے هيں- مگر ايسى صورت ميں ان سب ائمه نے اپنے اپنے شاگردوں پر واضح كرديا كه ”جب حديث ِرسول مل جائے تو همارے اقوال كو چهوڑ دينا-“
بڑى مناسب بات تهى جو انهوں نے فرمائى- مگر ان كے عقيدت مندوں نے ان كى عقيدت ميں ان كے اَقوال كو تو نه چهوڑا اور احاديث ِرسول كو چهوڑ ديا- پهر اسى بنياد پر اپنے الگ الگ مسلك بنا لئے- بے شك يه سب فروعى مسائل هيں جن كى بنياد پر مسالك وجود ميں آئے، مگر اُمت ِمحمديه ميں تو گروه بندى هوگئى جس سے قرآن و حديث نے شدت سے منع فرمايا تها -
ضرورت اس امر كى هے كه حب ِرسول سے سرشار هوكر اپنے نقطه نظر ميں لچك پيدا كى جائے اور حتى المقدوراحاديث ِرسول كو هى اپنى زندگى كے تمام معاملات ميں بنياد بنايا جائے-
آباء پرستى سے اجتناب : اسى طرح اَن پڑه اور جاهل عوام كى كثير تعداد اپنے آباء و اجداد كى تقليد كو هى اپنے لئے كافى سمجهتى هے- حالانكه حب ِرسول كا تقاضا تو يه تها كه آپ كے فرمان كے سامنے هر كسى كى بات هيچ هو اور هر ايسى خاندانى روايت اور معاشرتى چلن، جو كه اسلام سے متصادم هيں، چهوڑ ديئے جائيں اور سنت ِرسول كوجارى و سارى كيا جائے-
سورة لقمان آيت نمبر٢١ ميں ارشادِ خداوندى هے :
”جب انهيں كها جائے كه جو الله نے نازل كيا هے، ا س كى اتباع كرو تو كهتے هيں بلكه هم تو اس كى اتباع كريں گے جس پرهم نے اپنے آباء كو پايا-“
سورة البقره آيت نمبر ١٧٠ ميں فرمايا :
”جب انهيں كها جائے كه اس كى اتباع كرو جو الله نے نازل كيا هے، تو كهتے هيں بلكه هم اسى طريقے كى اتباع كريں گے جس پر هم نے اپنے آباء كو پايا- اگرچه ان كے آباء نه كچه عقل ركهتے هوں اورنه هدايت يافته هوں-“
نيز ايسے لوگوں كے بارے ميں سورة البقره كى آيت ١٧١ ميں فرمايا :
”يه گونگے بهرے اندهے لوگ هيں- يه جانوروں كا ريوڑ هيں، ان كو كچه عقل نهيں-“
حب ِرسول كى صداقت و سچائى كا معيار يه هے كه سنت ِرسول كے علاوه هر طريق كو چهوڑ ديا جائے- بعض لوگ ائمه فقهاء كى تقليد ميں غير مسنون افعال انجام ديتے هيں اور بعض اپنے آباء و اجداد كى لكير كے فقير بنے رهتے هيں- سنت سے دورى كى كوئى بهى صورت هو اس سے اجتناب بهر حال ضرورى هے-
درود … صلوٰة و سلام
حب ِرسول كے اظهار و اثبات كے لئے لازم هے كه جب آنحضور عليه الصلوٰة والسلام كا نام نامى پڑهنے، سننے يا بولنے ميں آئے تو فوراً صلوٰة و سلام ورد زبان هوجائے- خود الله اور اس كے فرشتے بهى آنحضور پر درود بهيجتے هيں-سورة احزاب ميں ارشاد هے:
﴿إنَّ اللهَ وَمَلٰئِكَتَه يُصَلُّوْنَ عَلَى النَّبِىِّ يٰاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا صَلُّوْا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوْا تَسْلِيْمًا ﴾ (آيت نمبر ٥٦ )
”بے شك الله اور اس كے فرشتے نبى پر درود بهيجتے هيں- اے ايمان والو! تم بهى آپ پر درود و سلام بهيجو-“
ابوالعاليه نے كها كه
”الله كى صلوٰة سے مراد يه هے كه الله تعالىٰ فرشتوں كے سامنے آپ كى تعريف فرماتا هے اور فرشتوں كى صلوٰة سے مراد هے كه وه آپ كے حق ميں الله سے دعا كرتے هيں- ابن عباس كهتے هيں كه يصلون كامعنى يه هے كه بركت كى دعا كرتے هيں- “
(بخارى، كتاب التفسير: باب قوله ان الله وملائكته يصلون علىٰ النبى)
حضرت عمر بن خطاب فرماتے هيں: ”جب تك تو اپنے نبى پر درود نه بهيجے، دعا زمين وآسمان كے درميان معلق رهتى هے ، اوپر نهيں چڑهتى-“ (صحيح ترمذى للالبانى؛٤٠٣)
حضرت على فرماتے هيں كه رسول الله ا نے فرمايا:
”وه شخص بڑا بخيل هے جس كے پاس ميرا ذكر هوا اور اس نے مجه پر درود نه بهيجا-“ (مسنداحمد:١/٢٠١)
ايك بار منبر كى سيڑهيوں پر قدم ركهتے هوئے تين بار آپ نے آمين آمين آمين كهاتو صحابه كے استفسار پر آپ نے فر مايا:
”ميرے پاس جبرائيل  آئے تهے- تين كاموں كے نه كرنے والے پر انهوں نے الله كى لعنت بتائى تو ميں نے ا س پر آمين كها-ان باتوں ميں ايك بات يه بهى تهى كه جس مسلمان كے سامنے ميرا نام ليا جائے اور وه مجه پر درود نه پڑهے تو اس پر الله كى لعنت هو- اور ميں نے اس پر آمين كها-“ (مستدرك حاكم:٤/١٥٣ و بخارى)
درود و سلام درحقيقت ايك دعاے رحمت و بركت هے اور اس كى بنياد يه هے كه حضور عليه الصلوٰة والسلام همارے سب سے بڑے محسن هيں جن كے ذريعے ايمان و اسلام كى عظيم نعمت سے هم سرفراز هوئے- اس احسان كا بدله مسلمان كبهى بهى اُتارنهيں سكتے- تاهم اتنا ضرور هونا چاهئے كه اس عظيم هستى كى محبت سے سرشار هوكر ان كے حق ميں دعائے رحمت و بركت كيا كريں-مگر الله كى رحمت كى انتها ديكهئے كه اس عمل كو همارے لئے بهى انتها درجه باعث اجروثواب بنا ديا-
حضرت انس بيان كرتے هيں كه رسول الله ﷺنے فرمايا:
”جو شخص مجه پر ايك مرتبه درود پڑهے گا الله تعالىٰ اس پر دس رحمتيں نازل فرمائے گا اور اس كے دس گناه معاف كرديئے جائيں گے اور دس درجے بلند كئے جائيں گے- “ (مجمع الزوائد:١٠/١٦١)
حضرت عبدالله بن مسعود بيان كرتے هيں، رسول اللها نے فرمايا كه
”قيامت كے دن سب سے زياده ميرے قريب وه شخص هوگا جو مجه پر زياده سے زياده درود پڑهنے والا هوگا-“ (فتح البارى:١١/١٦٧)
درود شريف دراصل ايك مسلمان كا ترانهٴ محبت هے جو وه اپنے محبوب ﷺ كے حضور پيش كرتا هے اورنتيجے ميں اپنے لئے بهى درجات كى بلندى اور گناهوں كى بخشش كى نويد حاصل كرتا هے-
آپ كے حضور درود كا نذرانه پيش كرنے كے لئے يه ضرورى نهيں كه كوئى محفل هى برپا كى جائے يا كوئى خاص وقت هى صرف كيا جائے بلكه يه چلتے پهرتے، اُٹهتے بيٹهتے اور خاص طور پر جب آپ كا نام كا تذكره هو تو فورى ’صلى الله عليه وسلم‘ كے مبارك الفاظ كے ساته يه نذرانه آپ كے حضور پيش كردينا چاهئے كه يهى حب ِرسول كا تقاضا هے-
صحابه كرام اور اهل بيت كى محبت
حب ِرسول كا تقاضا هے كه صحابه كرام اور آپ كے اهل بيت سے بهى محبت هو- كيونكه آپ ا كو ان سے محبت تهى-
صحابه كرام كى فضيلت ميں الله تعالىٰ نے فرمايا:
﴿وَالسَّابِقُوْنَ الاَوَّلُوْنَ مِنَ الْمُهَاجِرِيْنَ وَالاَنْصَارِ وَالَّذِيْنَ اتَّبَعُوْهُمْ بِاِحْسَانٍ رَضِىَ اللهُ عَنْهُمْ وَرَضُوْا عَنْه﴾ (سورة التوبه :١٠٠)
”اور جو مهاجر اور انصار سابق اور مقدم هيں اور جتنے لوگ اخلاص كے ساته ان كے پيرو هيں، الله ان سے راضى هوا اور وه الله سے راضى هوئے-“
سورة الفتح ميں صحابه كرام  كى فضيلت ان الفاظ ميں بيان كى گئى هے:
﴿مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللهِ وَالَّذِيْنَ مَعَه اَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ تَرَاهُمْ رُكَّعًا سُجًّدًا يَبْتَغُوْنَ فَضْلاً مِّنَ اللهِ وَرِضْوَانًا ﴾ (سورة الفتح :٢٩)
”محمد الله كے رسول هيں، اور آپ كے ساتهى كفار پر سخت اور آپس ميں نرم هيں، آپ انهيں ركوع اور سجدے كى حالت ميں ديكهيں گے- يه الله كے فضل اور رضا كے متلاشى هيں “
رسول الله انے فرمايا:
”ميرے ساتهيوں كے بارے ميں الله تعالىٰ كا خو ف كرو- ميرے بعد انهيں نشانه نه بنانا، پس جو ان سے محبت كرے گا وه ميرى محبت كى وجه سے ان سے محبت كرتا هے اور جو ان سے بغض ركهتا هے، وه ميرے بغض كى وجه سے ايسا كرتا هے- جو انهيں ايذا دے گا اس نے مجهے ايذا دى- جس نے مجهے ايذا دى اس نے الله كو ايذا دى اور جس نے الله كو ايذا دى، الله تعالىٰ اس كو پكڑے گا- “ (مسنداحمد:٥/٥٤)
حضرت فاطمه الزهراكے لئے آپ نے فرمايا:
”فاطمه جنتى عورتوں كى سردار هيں-“ (بخارى تعليقا فى مناقب قرابة رسول الله و مسلم؛٦٢٦٤)
حضرت حسن، حسين كے بارے ميں فرمايا:
”اللهم أحبهما، إنى أحبهما“ (بخارى؛٣٧٤٧)
”اے الله! ان سے محبت فرما! ميں بهى ان سے محبت كرتا هوں-“
رسول الله ا كى ازواجِ مطهرات كى عزت و احترام بهى حب ِرسول كا لازمى تقاضا هے بلكه عين منشاے قرآنى هے- سورة الاحزاب آيت نمبر ٦ ميں فرمايا:
﴿وَاَزْوَاجُه اُمَّهَاتُهُمْ﴾ ”آپ كى ازواج موٴمنوں كى مائيں هيں-“
صحابه كرام اور اهل بيت كے ساته عقيدت و محبت كے حوالے سے مسلم امه ميں افراط وتفريط پائى جاتى هے اور اسى بنياد پر اُمت كے دو بڑے فرقے وجود ميں آگئے- اهل سنت اور اهل تشيع- اوّل الذكر اگرچه دونوں كى محبت واحترام كے قائل هيں، مگر تعصب كى بنا پر اهل تشيع يه كهتے هيں كه وه اهل بيت كو ان كا جائز مقام نهيں ديتے- دوسرى طرف اهل تشيع كبار صحابه كرام پر(نعوذ بالله) تبرا بازى كرتے هيں-اسلامى عقائد كى رو سے صحابه كرام، اهل بيت اور ازواجِ مطهرات رضوان الله عليهم اجمعين كے ساته يكساں طور پر محبت و عقيدت ركهنا لازمى هے- اگر اس معاملے ميں فريقين وسعت ِنظر اور وسعت ِقلب سے كام ليں تو حب ِرسول كے نام پر مغائرت دور هوسكتى اور اُمت متحد هوسكتى هے-
{ تابعين كرام، محدثين عظام اور فقهاے كرام كا احترام
هر مسلمان كے دل ميں ان كى محبت هونا بهى ضرورى هے- كيونكه يه وه مقدس هستياں هيں جنهوں نے انتهائى مشقتيں اور تكليفيں اٹها كر دين هم تك پهنچايا- حب ِرسول كا تقاضا هے كه ان سے بهى محبت كى جائے-
قرآنِ پاك ميں ان كا تذكره سورئه توبه ميں كيا گيا هے
﴿وَالَّذِيْنَ اتَّبَعُوْهُمْ بِاِحْسَانٍ رَضِىَ اللهُ …﴾ (آيت نمبر ١٠٠)
”اور وه لوگ جنهوں نے اخلاص كے ساته ان (صحابه كرام) كى پيروى كى هے، الله تعالىٰ ان سے راضى هے اور وه الله سے راضى هيں-“
رسول الله نے فرمايا:
”خيركم قرني ثم الذين يلونهم ثم الذين يلونهم“
”سب سے بهتر ميرا دور هے- پهر ان لوگوں كا جو اس دور كے بعد هيں پهر جو ان سے بعد هيں-“ (بخارى ؛٣٦٥١/ مسلم؛٦٤١٩)
اس حديث ميں تابعين اور تبع تابعين كى فضيلت ثابت هے-
علم كى دنيا ميں حديث كے حوالے سے ان كے كارنامے ايسے عظيم الشان هيں كه اَغيار بهى خراجِ عقيدت پيش كرنے پر مجبور هيں- مشهور مستشرق پروفيسر مارگريته نے كها:
”علم حديث پر مسلمانوں كا فخر كرنا بجا هے-“
مستشرق گولڈزيهر نے محدثين كى خدمات كا اعتراف ان الفاظ ميں كيا :
”محدثين نے دنياے اسلام كے ايك كنارے سے دوسرے كنارے تك، اندلس سے وسط ايشيا تك كى خاك چهانى اور شهر شهر اور گاؤں گاؤں پيدل سفر كيا تاكه حديثيں جمع كريں اور اپنے شاگردوں ميں پهيلائيں- بلا شبه رحال (بهت سفر كرنے والے) اور جوال (بهت زياده گهومنے والے) جيسے اَلقاب كے مستحق يهى لوگ تهے-“
بدعات سے اجتناب
حب ِرسول كا تقاضا هے كه بدعات سے بچ كر صرف اور صرف سنت رسول كے چشمه صافى سے فيض حاصل كيا جائے-
بدعت كى تعريف:هر وه عمل بدعت كهلاتا هے جو ثواب اور نيكى سمجه كر كيا جائے ليكن شريعت ميں اس كى كوئى بنياد ياثبوت نه هو يعنى نه تو رسول الله عليه الصلوٰة والسلام نے خود وه عمل كيا اور نه كسى كو اس كا حكم ديا اور نه هى كسى كو اس كى اجازت دى هو- ايسا عمل الله كے هاں مردود هے- جيسا كه حديث نبوى هے:
”عن عمل عملا ليس عليه أمرنا فهورد“ (بخارى تعليقا: كتاب الاعتصام)
”جو شخص كوئى ايسا عمل كرے جس پر همارا حكم نهيں، وه عمل ردّ هے-“
ايك كام كو كرنے كے جتنے بهى طريقے هوتے هيں، ان ميں سے انسان جو طريقه اپناتا هے گويا وه اس كو پسند كررها هوتا هے يا وه اس كو سب سے بهتر جانتا هے، اسى لئے ترجيح ديتا هے- چنانچه اگر كوئى سنت كے مقابلے ميں بدعت كو اپنالے تو گويا اس نے قولِ رسول كو چهوڑ ديا اور بدعت كو ترجيح دى- يه حب ِرسول كے منافى هے- حق يه هے كه سب سے فائق وسربلندسنت رسول هو اور اس پر عمل كو سعادت سمجها جائے-
دين كو سب سے زياده نقصان پهنچانے والى چيزيں بدعات هيں - اُمت كے اندر اختلاف كى اصل جڑ بهى يهى بدعات هيں- اسلام كا اصل چهره بدعات كى دبيز تهوں ميں چهپ جاتا هے- فرمانِ نبوى هے:
”جب كسى بدعت كو اپنايا جاتا هے تو ايك سنت اُٹه جاتى هے-“ (احمد:٤/١٠٥)
قيامت كے روز بدعتى حوضِ كوثر كے آبِ حيات سے محروم رهيں گے- سهل بن سعد روايت كرتے هيں، رسول الله ا نے فرمايا :
”ميں حوضِ كوثر پر تمهارا پيشرو هوں گا- جو وهاں آئے گا پانى پئے گا، جو ايك بار پى لے گا اسے كبهى پياس نه لگے گى- بعض ايسے لوگ بهى آئيں گے جنهيں ميں پهچانوں گا اور وه بهى مجهے پهچانيں گے- مگر انهيں مجه تك آنے سے روك ديا جائے گا- ميں كهوں گا يه تو ميرے اُمتى هيں- ليكن مجهے بتايا جائے گا: كه (اے محمد! )آپ نهيں جانتے آپ كے بعد انهوں نے كيسى كيسى بدعتيں جارى كيں- پهر ميں كهوں گا: دورى هو، دورى هو ايسے لوگوں كيلئے، جنهوں نے ميرے بعد ميرے دين كو بدل ڈالا-“ (بخارى؛٧٠٥٠)
پس وه عبادت و رياضت جو سنت ِرسول كے مطابق نه هو- صرف ضلالت اور گمراهى هے- وه اذكار و وظائف جو سنت رسول سے ثابت نه هوں بے كار اور لاحاصل هيں- وه محنت ومشقت جو حكم رسول كے مطابق نهيں، وه جهنم كا ايندهن هے-
حضرت انس روايت كرتے هيں كه تين صحابه نے حضرت عائشه سے رسول الله ا كے اعمال و عبادت كے بارے ميں پوچها- جب انهوں نے بتايا تو صحابه نے اپنے لئے اسے كم جانا اور آپس ميں كهنے لگے هميں آپ سے زياده عبادت كرنى چاهئے- ايك نے كها ميں هميشه روزے ركهوں گا اور كبهى روزه ترك نهيں كروں گا-دوسرے نے كها ميں شادى نهيں كروں گا- تيسرے نے كها ميں سارى رات نماز پڑهوں گا- جب رسول الله ا كو اس بارے ميں خبر دى گئى تو آپ نے فرمايا:
”ميں تم سب سے زياده الله سے ڈرنے والا هوں- سب سے زياده پرهيزگار هوں، ليكن ميں روزه ركهتا هوں، ترك بهى كرتا هوں، رات كو قيام بهى كرتا هوں اور آرام بهى كرتا هوں اور عورتوں سے نكاح بهى كئے هيں (ياد ركهو) جس نے ميرى سنت سے منه موڑا، اس كا مجه سے كوئى تعلق نهيں- “ (بخارى:٥٠٦٣)
خلاصه:آخر ميں حب ِرسول كے دعويداروں سے يه بات پهر عرض كرنا هے كه اتباعِ سنت اور اطاعت ِرسول صرف چند عبادات تك محدود نهيں بلكه يه طاعت ِرسول سارى كى سارى زندگى پر محيط هے- نماز كى ادائيگى ميں جس طرح اتباع سنت مطلوب هے اسى طرح اخلاق و كردار ميں بهى اتباع سنت مطلوب هے- جس طرح روزے اور حج كے مسائل ميں اتباع سنت هونى چاهئے- اسى طرح كاروبار اور باهمى لين دين ميں بهى يه مطلوب هے- ايصال ثواب، زيارت قبور، شادى بياه، خوشى و غمى هر موقع پر اتباع سنت ضرورى هے- منكرات كے خلاف جهاد هو يا حقوق الله اور حقوق العباد كى ادائيگى كا معامله هو- سنت رسول هر جگه جارى هونى چاهئے- اے الله! هميں آنحضور ا كى سچى اور عملى محبت نصيب فرما- آمين! ##
مسلم حكامِ وقت كى اطاعت
الله كے فرمان اور آنحضورا كے احكامات كى بنا پر ان كى اطاعت واجب هے- ان كى اطاعت گويا الله و رسول كى اطاعت هے-
سورة نساء آيت نمبر ٥٩ ميں فرمان الٰهى هے:
﴿يٰاَيُّهَا الَّذِيْنَ آمَنُوْا اَطِيْعُوْا اللهَ وَاَطِيْعُوْا الرَّسُوْلَ وَاُوْلِىْ الاَمْرِ مِنْكُمْ﴾
”اے ايمان والو! الله كى اطاعت كرو، رسول كى اطاعت كرو اور اپنے اُمر ا كى بهى اطاعت كرو-“ (اُمراء كى اطاعت الله و رسول كى اطاعت كے ساته مشروط هے)
رسول الله ا نے فرمايا:
”سنو اور اطاعت كرو، چاهے تم پر ناك كٹا حبشى غلام امير بن جائے- “ (مسلم؛ ٤٧٣٩)
نيز آپ نے فرمايا:
”جس نے ميرى اطاعت كى، اس نے الله كى اطاعت كى اور جس نے ميرى نافرمانى كى، اس نے الله كى نافرمانى كى اور جس نے ميرے امير كى تابعدارى كى ا س نے ميرى تابعدارى كى اور جس نے ميرے امير كى نافرمانى كى، اس نے ميرى نافرمانى كى-“ (مسلم:٤٧٢٤)
ليكن امير كى يه اطاعت بهى الله و رسول كى اطاعت كے ساته مشروط هے- كيونكه ارشادِ خداوندى هے :﴿وَلاَ يَعْصِيْنَكَ فِىْ مَعْرُوْفٍ﴾ (سورة الممتحنه:١٢)
”اور وه نيكى ميں تيرى نافرمانى نه كريں-“
رسول الله ﷺ نے فرمايا:
”لاطاعة فى معصية الله …“ (صحيح مسلم: كتاب الامارة؛٣٧٤٢)
”الله كى نافرمانى ميں كسى كى اطاعت نهيں،مخلوق كى اطاعت صرف نيكى ميں هے- “
فرمان رسول الله ﷺهے:
”سننا اور اطاعت كرنا- پسند آئے يا نه آئے- اس وقت تك مسلمانوں پرلازم هے جب تك كه گناه كا حكم نه ديا جائے- اگر گناه اور نافرمانى كا حكم ديا جائے تو پهر سمع و طاعت نهيں- (مسلم؛٤٧٤)
حكامِ وقت كے خلاف خروج و بغاوت حرام هے :
رسول الله عليه الصلوٰة والسلام نے فرمايا:
”جو اپنے امير ميں ناپسنديده بات ديكهے اس پر صبر كرے اس لئے كه جو شخص جماعت سے بالشت بهر بهى دور نكل جائے، وه جاهليت كى موت مرا-“ (مسلم :٤٧٦٧)
فرمانِ رسول الله ﷺ هے:
”سنو اور اطاعت كرو، ان كے فرائض ان كے ذمه اور تمهارے فرائض تمهارے ذمه هيں-“ (يعنى تم اپنے فرض پورا كرتے رهو) (مسلم كتاب الامارة:٤٧٦٠)
آپ نے فرمايا:
”امير كى سنو اور اطاعت كرو- اگرچه وه تمهارى پيٹه پرمارے اور تمهارا مال چهين لے پهر بهى سنو اور اطاعت كرو-“ (مسلم كتاب الاماره:٤٧٦٢)
دراصل امير كے خلاف خروج و بغاوت سے اتحادِ ملت پاره پاره هوجاتا هے- اتحاد، جو مسلم اُمه كى قوت هے، اسے هرحال ميں قائم رهنا چاهئے- حكمرانوں كى زيادتيوں پر الله سے اَجر كا طالب هونا چاهئے-
__________________
مسلمان مسلمان کا بھائی ہے،اس پر نہ ظلم کرے،نہ اسے ذلیل کرے،نہ اسے (غیروں کے)حوالے کرے
اورنہ اس کو حقیر سمجھے-اللہ کے بندو آپس میں بھائی بھائی بن جاؤ-

http://www.kitabosunnat.com
حافظ اختر علی آف لائن ہے  
موضوع مقفل کیا گیا

Bookmarks

ٹیگز
حب, اور, رسول, عملى, تقاضے, ِ, كے

موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز

پوسٹ کرنے کے قوانین
You may not post new threads
You may not post replies
You may not post attachments
You may not edit your posts

سمائلز آن ہے
[IMG] کوڈ آن ہے
HTML کوڈ آف ہے

قوانین
فورم منتخب کریں

مشابہ موضوعات
موضوع مصنف فورم جوابات آخری پیغام
گستاخ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سزا اور اس کا انجام Abu Abdullah سیرتِ اسلامی 3 18-01-12 09:34 AM
قرآن اوربائبل سائنس کی روشنی میں(قسط نمبر 1) اعجاز علی شاہ اسلام اور سائنس 11 21-02-09 02:49 PM
مسجد اقصٰی کی آزادی مسلم امہ کی اولین ذمہ داری کارتوس خان اتباعِ قرآن و سنت 7 05-02-08 01:12 PM
حضرت یزید رحمہ اللہ اور رافضی سازش عُكاشة ماہِ محرم الحرام 0 05-01-08 01:30 AM
شب برات كا جشن اور اس كا حكم رحیق ماہِ شعبان المعظم 9 06-10-07 11:14 PM


فورم کے تمام اوقات GMT +3 کے مطابق . وقت ہے ابھی 05:46 PM


Powered by vBulletin Version 3.8.7
® Copyright ©2000 - 2014, Jelsoft Enterprises Ltd. Urdu Translation by A.REHMAN
User Alert System provided by Advanced User Tagging (Lite) - vBulletin Mods & Addons Copyright © 2014 DragonByte Technologies Ltd.
Contact admin : admin@urduvb.com